مقتدر قوتیں ایک شخص کی خاطر سارے سسٹم کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مقتدر قوتیں ایک شخص کی خاطر سارے سسٹم کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں یکطرفہ اور ٹارگٹڈڈ احتساب ملک کی بنیادوں کو کمزور کریگی،پشاور میں مولانا امان اللہ حقانی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی کرپٹ لوگوں کا ٹولہ ہے لیکن کسی کو بھی اُن کی کرپشن نظر نہیں آرہی ۔آج بھی وہی لوگ جو کرپشن کے الزمات کی زد میں ہیں اور وہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کریں تو کرپشن کے سارے الزامات اُن سے دُھل جائینگے۔پی ٹی آئی ایک ڈرائی کلین بن چکی ہے اور وہاں جانے والے سارے کرپٹ لوگ فرشتے بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج وہ لوگ بھی سیاسی قیادت پر کرپشن کے الزمات لگا رہے ہیں جنہیں خود اپنی جماعت کے بڑے کرپٹ قرار دے چکے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے پی ٹی آئی کی قیادت اپنے گریباں میں جھانکیں ایک اشتہار کیلئے اکرم خان دُرانی اور میرے دفتر کے چکر لگانے والا شخص کس منہ سے اپوزیشن پر کرپشن کے الزامات لگارہا ہے،آج ملک میں ایسی ہوا چلی ہے کہ چور کو فرشتہ اور اصلی سیاسی قیادت کو چور بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کا مقصد اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کرنا تھا لیکن اُن کو لانے والے دو تہائی اکثریت دلانے میں ناکامی کے بعد عدالتوں کے ذریعے اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کی سازش کررہے ہیں،ہم انہیں خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ صوبائی خودمختاری سمیت اٹھارویں آئینی ترمیم سے حاصل تمام حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور سازشیں کرنے والے ناکامی سے دوچار ہونگے۔سیلیکٹڈ وزیر اعظم کو معلوم ہی نہیں کہ نصاب ایک صوبائی معاملہ ہے اور آج کپتان پورے ملک میں ایک نصاب لانے کی باتیں کرہا ہے جو کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ہم عدالت کو بھی بتانا چاہتے ہیں کہ آئین سے بالاتر کوئی ادارہ نہیں تمام ادارے آئین کے تابع ہیں اور پاکستان تب مضبوط ہوگا جب صوبے مضبوط ہونگے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ قرضے کا حجم 2200ارب سے تجاوز کرچکا ہے اور روزاس میں پندرہ ارب کا اضافہ ہورہا ہے،کپتان کے وہ دعوے کہاں گئے کہ اقتدار میں آتے ہیں بھیک کا کچکول توڑ دیگا،آج کپتان نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو بند گلی میں لاکر کھڑا کردیا ہے حکومت کے پاس کوئی تعلیمی ،معاشی اور خارجہ پالیسی نہیں اور پھر بھی کپتان بڑی کامیابی کی دعوے کررہا ہے۔افغان امن مذاکرات کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطے میں امن ہم سب کی خواہش ہیں گزشتہ چار دہائیوں سے بہت خون بہہ چکا ہے اب امن لانے کیلئے اگر سنجیدہ کوششیں ہورہی ہیں تو تمام سیاسی قیادت سمیت مقتدر قوتوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ افغانستان سمیت پورے خطے میں حقیقی امن لایا جاسکے۔پاکستان کی اسٹیبلشمٹ سمیت تمام قوتوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ مذاکرات کی کامیابی تب ہی ممکن ہے کہ اس ممیں افغان حکومت کو ہر صورت میں شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک سنہری موقع ہے اور ہم پاکستان ،افغانستان ،روس ،چین،ہندوستان اور ایران کو درخواست کرینگے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس معاملے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور امن مذاکرات کو کامیاب بنائیں۔اب ہم مزید خون بہتا نہیں دیکھ سکتے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ مقتدر قوتوں کو جنیوا مذاکرات کا وقت نہیں بھولنا چاہیے جب ڈاکٹر نجیب نے صدق دل سے اقتدار چھوڑ کر مذاکرات کی کوشش کی تھی لیکن دوسرے فریق کے عدم موجودگی کی وجہ سے وہ سارا عمل ناکامی سے دوچار ہوگیا اور ڈاکٹر نجیب کو شہید کرنے کے بعد ایک نہ ختم ہونے والی خون ریزی کا آغاز ہوگیا جو اب تک جاری ہے۔ اب کے بار بھی اگر ایک فریق کے ساتھ مذاکرات ہونگے اور دوسرے قریق کو اعتماد میں نہیں لیا جائیگا تو مذاکرات کا یہ عمل ناکامی سے دوچار ہوگا اور جنیوا مذاکرات کے ناکامی کے بعد والا تاریخ دوبارہ دہرائی جائیگی جس کے ہم کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتے۔میان افتخار حسین نے کہا کہ کل کے پر امن پاکستان کیلئے ساری سیاسی قیادت کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ اپنی آئندہ نسل کو ایک پر امن اور خوشحال پاکستان دے سکیں۔

Facebook Comments