قوم کو احتساب کی لال بتی کے پیچھے لگا کر اربوں کے قرضے حاصل کر لئے گئے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ قوم کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ،کپتان نے پانچ ماہ میں ابھی تک صرف تقریباً اڑھائی ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے اور مستقبل میں صرف قرضوں پر انحصار کر کے ملک کو چلانے کی پلاننگ کی جا رہی ہے، ولی باغ میں ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سٹیٹ بنک کی حالیہ رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 1334ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل کئے گئے جبکہ 906ارب روپے کے ملکی قرضے حاصل کر کے مشینری چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ جس رفتار سے قرضے لئے جا رہے ہیں اس سے مستقبل میں قوم پر بھوک و ننگ کے سائے منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں ، ایمل ولی خان نے کہا کہ ناتجربہ کارٹیم نے ملک کی معیشت کا حلیہ بگاڑ دیا ہے،کپتان اتنی مہارت اور تیزی سے قرضے لے رہا ہے کہ اس کے جواب میں سٹیٹ بنک کو مجبوراً انکشاف کرنا پڑا ،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مسلط کرنے والے ششدر ہیں کہ عمران خان جو جس مقصد کیلئے لایا گیا وہ مقصد حاصل نہیں ہو رہا جبکہ اس کے برعکس معیشت بھی گھٹنوں کے بل آ گری ہے،انہوں نے کہا کہ نوکری کرنے والے صرف ’’یس سر‘] اور ’’نو سر‘‘ کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے اور یہ بات مقتدر قوتوں کو معلوم ہو جانی چاہئے،انہوں نے کہا کہ قوم کو احتساب کی لال بتی کے پیچھے لگا کر کپتان اپنے اللوں تللوں کیلئے اربوں روپے ڈکار رہا ہے جس کا اسے حساب دینا ہو گا، ایمل خان نے کہا کہ احتساب کے نام پر گھناؤنا کھیل جاری ہے عمران میں ہمت ہے تو سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ اداروں پر بھی ہاتھ ڈالے اور انہیں احتساب نیٹ میں لائے ، اگر کوئی ادارہ کہتا ہے کہ اس کے ہاں احتساب کا اپنا طریقہ کار موجود ہے تو پھر پارلیمنٹ میں بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں سیاستدانوں کا احتساب کر سکتی ہیں جس کے بعد نیب کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہتی، انہوں نے کہا کہ نیب انتقامی کاروائیوں کے بعد متنازعہ ہو چکا ہے اور حکمران اس ادارے کو بطور ہتھیار سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی بلا امتیاز احتساب کے حق میں ہے اور شفاف و غیر جانبدارانہ احتساب کا عمل وزیر اعظم اور اس کے اہل خانہ سے شروع کیا جانا چاہئے۔

Facebook Comments