Oct.2015

 

مورخہ : 31.10.2015 بروزہفتہ

حکومت متاثرین زلزلہ کے علاج اور بحالی کو فوری طور پر یقینی بنائیں ’’ امیر حیدر خان ہوتی ‘‘
مسلسل سانحات نے صوبے اور فاٹا کے عوام کو ذہنی ، معاشی اور معاشرتی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک کا دورہ بونیر کے دوران زخمیوں کی عیادت اور شہید شمس الزمان کے ورثاء سے ملاقات

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی زلزلہ زدگان کی مکمل صحت یابی اور بحالی تک متاثرین کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان کو تنہا نہیں چھوڑے گی کیونکہ عوام کو آزمائش ، تکلیف اور بحران میں تنہا چھوڑنا اے این پی کا شیوہ نہیں ہے، تاہم حکومت اپنے فرائض میں غفلت نہ برتیں ، ہفتہ کے روز ڈگر ہسپتال بونیر میں زلزلہ سے زخمی ہونیوالوں کی عیادت اور اس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کا راستہ روکنا مشکل ہوتا ہے تاہم بہتر حکومتی سرپرستی امداد اور اقدامات سے نقصانات کی شرح اور شدت کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے زخمیوں اور متاثرین کی صحت یابی اور بحالی کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر کسی قسم کی غفلت یا سست روی کی بجائے ان کے دُکھوں کا مداوا کریں اور نقصانات کا درست اور فوری تخمینہ لگا کر بحالی اور امدادی کاموں کو یقینی بنائیں کیونکہ ہزاروں متاثرین اب بھی امداد اور علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو دہشتگردی ، پسماندگی سیلاب کی تباہ کاریوں اور اب زلزلہ کے اثرات نے ذہنی ، معاشی اور معاشرتی طور پر مفلوج اور بدحال کرکے رکھ دیا ہے۔ اے این پی ہر مشکل گھڑی میں سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر اپنے عوام کے ساتھ کھڑی رہی اور اب کے بار اس آزمائش میں بھی متاثرین کے شانہ بشانہ رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی نے تمام اضلاع اور فاٹا کے عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زخمیوں کی عیادت ،مدد اور بحالی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی تمام توجہ اس آفت سے نمٹنے پر مرکوز رکھیں۔
دریں اثناء امیر حیدر خان ہوتی ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور ضلعی قائدین چغر زئی میں شہید شمس الزمان کی رہائش گاہ پر گئے جو کہ اسفندیار ولی خان پر کرائے گئے حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ پارٹی لیڈروں نے اس موقع پر شہید کے ورثاء سے ملاقات کر کے مرحوم کی خدمات اور قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔

مورخہ 31 اکتو بر2015ء بروزہفتہ

این وائی او کے زیر اہتمام مرکزی اور صوبائی کنونشن 8 نومبرکو منعقد ہو گا ۔پلوشہ بشیرمٹہ
پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خانسمیت دیگر قائدین خصوصی شرکت کریں گے ۔
نوجوان کسی بھی قوم کے مستقبل کے معمار اور ملک کاسرمایہ ہوتے ہیں۔

پشاور( پریس ریلیز) نیشنل یو تھ ارگنائزیشن (اے این پی )کے زیر اہتمام مرکزی اور صوبائی کنونشن 8 نومبر 2015ء بروزاتوار بوقت 1 بجے عوامی نیشنل پارٹی کے سیکر ٹریٹ باچا خان مرکز پشاور مین منعقد ہو گا ۔ تقریب میں پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان اور دیگر قائدین خصوصی شرکت کریں گے ۔باچا خان مرکز پشاورسے جاری اپنے ایک بیان میں این وائی او پختونخوا کی نائب صدر پلوشہ بشیر مٹہ نے کہا ہے کہ صوبائی اور مرکز ی سطح پر اس کنونشن کی زور وشور سے جاری ہیں ۔ انہوں نے تمام بہن بھائیو ں سے کہا کہ اس کنونشن کو یا دگار اور کامیاب بنانے کے لئے کو ئی کثر نہ چھوڑیں انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کے مستقبل کے معماراور ملک کاسرمایہ ہوتے ہیں اور ان میں سیاسی شعور کی بیداری وقت کی آہم ضرورت ہے اور ان کے ساتھ ساتھ ہماری خواتین کا بھی عملی سیاست میں کلیدی کردار نہایت ضروری ہیں ۔انہوں نے تمام بہن بھائیو ں سے کہا کہ نیشنل یو تھ ارگنائزیشن کے اس تقریب میں بھرپور شرکت کر کے کنونشن کو یا دگار اور کامیاب بنائیں ۔

مورخہ : 30.10.2015 بروز جمعہ

اے این پی کے رہنما اور کارکن عمران خان کے نجی معاملے پر رائے زنی سے گریز کریں’’ اسفندیار ولی خان‘‘
پشتون روایات کسی کے نجی معاملات میں دخل دینے یا رائے زنی کی اجازت نہیں دیتیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے تمام پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ریحام کے باہمی تعلقات یا کشیدگی کے معاملے پر کسی بھی قسم کی رائے زنی اور اظہار خیال سے گریز کریں۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ پشتون روایات کے مطابق ہمیں دوسروں کی نجی اور فیملی معاملات میں کسی قسم کا دخل نہیں دینا چاہیے چونکہ یہ ایشو ان کا ذاتی معاملہ ہے اس لیے کسی قسم کی رائے زنی سے گریز کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری روایات ہمیں کسی کی نجی زندگی اور معاملات میں دخل کی اجازت نہیں دیتی ہے اس لیے ایسے کسی کے بارے میں بھی اظہار خیال سے گریز کا راستہ اپنایا جائے۔

مورخہ 30 اکتو بر2015ء بروز جمعہ

زلزلے سے متا ثرہ بے شمارعلاقے امدادی کا رروائیوں سے اب بھی محروم ہیں۔سردار حسین بابک
ہزاروں متا ثرین کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں‘امدادی کارروائیا ں سست روی کا شکار ہیں
ملا کنڈ ڈویڑن ناقابل یقین حد تک زلزلے متاثر ہو ا ہے ‘بونیر میں شمولیتی تقریب سے خطاب
پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے خصو صا ملا کنڈ ڈویڑن میں زلزلے سے ہو نے والے جانی اور مالی نقصانات بتائی جانے والی تفصیلات سے کئی گنا زیادہ ہیں اور ہزاروں متا ثرین نہ صرف علاج کی سہولتوں سے محروم ہیں بلکہ ہزاروں مکانات کی تباہی کے باعث کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اب کی بار 2015 ء4 کی غلطیاں پھر دہرائی جا رہی ہیں اور متاثرین کی امداد اور بحالی میں غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے گاؤں کلاں بونیر میں حبیب الر حمان ‘فضل الر حمان ‘اور ان کے دو سو ساتھیوں کی اے این پی میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لا تعداد زخمی اب بھی بنیادی معالجے سے محروم جبکہ ہزاروں ایسے ہیں جن کو سردی کے باوجود چھت کی سہولت میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مالی نقصانات کا فوری اور درست تخمینہ لگا کر متا ثرین کی داد رسی کی جائے حکومت ان علاقوں کو اداہ جاتی رسائی یقینی بنائے جہاں پر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں متا ثرین سردی کے اس موسم میں شدید مشکلات اور کرب کے حالات سے دوچار ہیں تاہم حکومت کی امدادی کارروائیا ں نہ صرف سست روی کا شکار ہیں بلکہ بیشمار علاقے کلی طور اب بھی ابتدائی امداد سے محروم ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس مسلئے کے حل پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کریں اور ہنگامی بنیاد پر ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کامتا ثرہ اضلاع کابروقت دورہ نہ کرنا افسوس ناک ہے صابے کے چیف ایگزیکٹیو کو اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کے متاثرہ عوام اور علاقوں کی بر وقت امداد اور داد رسی کو یقینی بنا نا چاہیے۔

مورخہ 30 اکتو بر2015ء بروز جمعہ
سیاست سے بالاتر متاثرین کی بحالی کے لئے تمام سرکاری وسائل بروئے کار لائے جائیں، امیر حیدر خان ہوتی
لوگوں نے تحریک انصاف کی تبدیلی دیکھ لی ہے ڈھائی سال گزرگئے اب تک صوبے میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیاگیا
عمران خان الف سے ے تک پنجاب کی سیاست کررہے ہیں اور ان کی سیاست تضادات کاشکارہے پختون مقاصد جان گئے ہیں،
غریب عوام فاقوں پر مجبورہوچکے ہیں وزیراعلیٰ کے پاس اختیارات نہیں صوبے کے خزانے کی چابیاں بنی گالہ میں پڑی ہیں

پشاور( پ۔ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ عمران خان نے سیاسی ڈرائی کلینر کی دکان کھول رکھی ہے جہاں ان کا ساتھ دینے والوں کو کلین چٹ جاری کی جاتی ہے جبکہ مخالفین پر چور اورلٹیروں کے الزامات لگائے جاتے ہیں،زلزلہ متاثرین کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ،اے این پی کی منزل اقتدار نہیں بلکہ پختون قوم کی یکجہتی اورانہیں مسائل کے گرداب سے نکالناہے ووہ جمعہ کے روز مردان کے علاقہ چمتار شریف آباد میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس کی صدارت سابق ناظم حاجی زیارت خان نے کی اس موقع پرتحریک انصاف کے یوتھ کونسلر احسان علی کشمیری ،گلاب میربابا اورلیاقت علی نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت مستعفی ہوکراے این میں شمولیت کا اعلان کیا پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،شاہ نواز خان ،ڈسٹرکٹ ممبر حاجی شوکت علی ،ناظم نیازعلی اورنائب ناظم آیاز خان بھی موجودتھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان کی سیاست تضادات کی شکارہے کل تک کنٹینرپر کھڑے ہوکر جن پارٹیوں پرکرپشن کے الزامات لگارہے تھے آج صوبائی حکومت کو بچانے کے لئے ان کو کلین چٹ دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان او رنوازشریف کے درمیان وزارت عظمیٰ کی کرسی کے لئے جنگ ہورہی ہے اوراس میں پختون خوا اور پختونوں کا کوئی خیر نہیں امیرحیدرخان ہوتی نے حالیہ زلزلے کے متاثرین کی بھرپور مدد پر زور دیتے ہوئے کہاکہ مشکل کی گھڑی میں اے این پی متاثرین کے ساتھ ہے انہوں نے کہاکہ چترال،شانگلہ اوردیر سمیت دورآفتادہ پہاڑی علاقوں میں ہزاروں متاثرین بے یارومددگار پڑے ہیں اورحکومت کو چاہئے کہ وہ سیاست سے بالاتران متاثرین کی بحالی کے لئے تمام سرکاری وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے کہاکہ لوگوں نے تحریک انصاف کی تبدیلی دیکھی ہے ڈھائی سال ہوگئے اب تک صوبے میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیاگیا وزیراعلیٰ ہمارے دور حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر تختیاں لگارہے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ عمران خان الف سے ے تک پنجاب کی سیاست کررہے ہیں پختون ان کے مقاصد جان گئے ہیں انہوں نے کہاکہ 2013کا تاریخ کے واحد انتخابات تھے جس میں بزرگوں اورنوجوانوں کی رائے الگ الگ تھی تحریک انصاف نے روزگار، انصاف اورمیرٹ کے نام پر نوجوان کو دھوکہ دیا اب نوجوان جان گئے ہیں کہ عمران خان کی نظریں صرف اور صرف وزارت عظمیٰ پر لگی ہوئی ہیں اوران کی باتوں اور دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرلیں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ترقی کا پہیہ جام کردیاگیاہے نوجوان روزگار کو ترس رہے ہیں اور غریب عوام فاقوں پر مجبورہوچکے ہیں وزیراعلیٰ کے پاس اختیارات نہیں صوبے کے خزانے کی چابیاں بنی گالہ میں پڑی ہیں انہوں نے کہاکہ وہ پختون قوم کے باہمی اتفاق اوریکجہتی کے لئے میدان میں نکلے ہیں یہ ان کی زندگی کا مقصد اورارمان ہے کہ ڈیر ہ اسماعیل سے چترال تک پختون کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیاجاسکے سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اے این پی دوبارہ اقتدارمیں آکر عوام کی احساس محرومیاں ختم کردیں گی اور ترقی کاپہیہ جہاں سے رکا تھا وہیں سے دوبارہ چلے گا اورپورے ملک میں خیبرپختون خو ا کو ماڈل صوبہ بناکر ثابت کریں گے کہ اے این پی ہی پختونوں کے مصائب اور مسائل سے نجات دہندہ پارٹی ہے قبل ازیں اجتماع میں ملک بھر میں زلزلے کے نتیجے میں جان بحق ہونے والوں کی ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعامانگی گئی اورمتاثرہ خاندانوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیاگیا ۔

مورخہ : 29.10.2015 بروزجمعرات

وزراء اور ممبران اسمبلی ٹاک شوز کی بجائے متاثرین کی عملی مدد کر یں۔ زاہد خان
غلط بیا نی موجودہ حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے جبکہ نتائج عوام بھگت رہے ہیں

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے کہا ہے کہ زلزلے کے جانی اور مالی نقصانات حکومتی معلومات سے کہیں زیادہ ہیں اور متعلقہ ادارے نقصانات کی درست نشان دہی میں حسب معمول غفلت سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم تنقید سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاکہ اس سانحے سے مشترکہ کوششوں کے ذریعے نمٹا جائے ۔تاہم عوامی شکایات اور ادارہ جا تی سستی سے پیداشدہ بے چینی سے لا تعلق نہیں رہ سکتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی نے پہلے روز اعلان کیا تھا کہ صوبے کو دوسرے تو ایک طرف وفاقی حکومت سے بھی امداد لینے کی ضرورت نہیں تا ہم ان کے اہم وزیر عالمی اداروں سے مدد کی اپیل کر رہے رہے ہیں اور انہو ں نے خود اعتراف کیا ہے کہ صورتحال سے نمٹنا اکیلے صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خوش فہمی اور غلط بیا نی موجودہ حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے تاہم اس کے نتائج صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں متاثرین اب بھی بنیادی امداد اورسہولتوں سے محروم ہیں اور حکمرانوں تک ان کی رسائی نہیں ہو رہی چترال اور دیگر علاقوں کے سیلاب اور دیگر تباہ کاریوں کے دوران بھی حکومت نے ایسا ہی طرز عمل اپنایا ہوا تھا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے نقصانات کی تلافی اور فوری امداد کی کوششیں تیز کی جائیں اور وزراء ‘ممبران اسمبلی ٹاک شوز کی بجائے عوام کی عملی مدد کریں ۔

مورخہ 29 اکتو بر2015ء بروز جمعرات

بلاول کے ساتھ نا مناسب روئیے پر ہارون بشیر بلور کی مذمت
پی ٹی آئی کے کارکنو ں نے مہمان نوازی کی ہماری روایات کی دھجیاں اڑائی ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے ورکروں کی اس شر انگیز حرکت کی جتنی مذمت کی جا ئے کم ہے

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے اپنے ایک مذمتی بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چےئر مین بلاول بھٹو زرداری سے لیڈی ریڈنگ ہسپتا ل پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے ورکروں کے نامناسب اور ہتک آمیز سلوک کی شدید مذمت کی ہے ۔باچا خان مرکز سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ورکروں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چےئر مین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ناروا سلوک سے پختونوں کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں اور انہوں نے پختونوں کی مہمان نوازی کی روایات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو مہمان تھے اور اتنی دور سے وہ زلزلہ سے زخمی ہونے والے مریضوں کی عیادت کے لئے آئے تھے مگر افسوس پاکستان تحریک انصاف کے ناعاقبت اندیش ورکروں نے ہماری مہمان نوازی کی روایت کی پاسداری بھی نہیں کی۔اپنے بیان میں صوبائی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکروں کی اس شر انگیز حرکت کی جتنی مذمت کی جا ئے وہ کم ہو گی۔

مورخہ 29 اکتو بر2015ء بروز جمعرات
ملک کو درپیش خطرات ، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر کے قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے، اسفندیار ولی خان
افواج پاکستان دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشن کر رہی ہیں اور پاکستان کی دونوں اطراف کی سرحدیں غیر محفوظ ہیں
آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں اپنا گھر بار چھوڑنے والے قبائل کے مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے عمران خان نے دھرنا دیا
آئی ڈی پیز کے مخدوش حالات پر توجہ نہ دی گئی تو پھر گڑبڑ کا امکان ہے، سیاسی قوتوں کے بارے میں منفی تاثر پھیلایا جا رہا ہے

اسلام آباد ( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے ایک طرف افواج پاکستان ملک کی حفاظت اور استحکام کیلئے دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشن کر رہی ہیں اور پاکستان کی دونوں اطراف کی سرحدیں غیر محفوظ ہیں ہندوستان اندرونی مداخلت کے علاوہ بیرونی جارحیت کر رہا ہے ان حالات میں پاکستانی قوم میں مکمل یکجہتی کی جتنی آج ضرورت ہے پہلے نہ تھی۔ اے این پی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان نے پارٹی صدر اسفند یار ولی خان کا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ملک و قوم کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑنے والے حب الوطن پاکستانی قبائل کے مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے عمران خان نے دھرنا دیا اور وفاقی حکومت بھی ملک مفاد کی بجائے موجودہ گھمبیر صورتحال میں ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے ۔اسفند یار ولی خان نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ گھمبیر صورتحال ملک کو درپیش خطرات اور اندرونی خلفشار سے نپٹنے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر کے بھر پور بحث کے ذریعے قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے آئی ڈی پیز کے مسائل کے حوالے سے اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ اگر آئی ڈی پیز کے مخدوش حالات پر توجہ نہ دی گئی تو پر امن علاقہ ایک بار پھر گڑبڑ ہونے کا امکان ہے ۔اسفند یار ولی خان کے بیان کے مطابق ملک و قوم کی خاطر دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تین بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنی قیادت اور کارکنوں کی بیشمار قربانیوں کی وجہ سے دہشت گرد اب رائے فرار اختیار کر رہے ہیں لیکن یہ بات افسوس ناک ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنیوالی سیاسی قوتوں کے بارے میں منفی تاثر پھیلایا جا رہا ہے جو کسی بھی طرح ملک و قوم کے حق میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے اکابرین و قائدین نے دوسرے ممالک میں سیاسی مداخلت اور اپنے ملک کی سر زمین کو دوسروں کیخلاف استعمال کرنے کی ہمیشہ مخالفت کی اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان غیر جانبدار ملک کا کردار ادا کرے ۔ اسفند یار ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کرپشن اور دہشت گردی کیخلاف اپنے قیام سے ہی کھڑی ہے لیکن کرپشن اور دہشت گردی کو الگ الگ کیا جائے اور دہشت گرد افراد کی وجہ سے سیاسی قوتوں کو بدنام نہ کیا جائے ۔

مورخہ 29 اکتو بر2015ء بروز جمعرات

اے این پی باجوڑ کی زلزلہ متاثرین کیلئے خدمات قابل ستائش ہیں ، سردار حسین بابک
پارٹی کی ذیلی تنظیموں کے کارکنان اور عہدیدار بھی باجوڑ کی تمام تحصیلوں میں امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی باجوڑ اور پارٹی کی ذیلی تنظیموں کے کارکنان اور عہدیدارباجوڑ کی تمام تحصیلوں میں امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ،اور زلزلے کے دن سے اب تک پارٹی رہنماؤں اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں نے تمام تحصیلوں اور ارد گرد کے مختلف گاؤں کا تفصیلی دورہ کر کے اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کی امداد، خوراک اور خیموں کی فراہمی اور ریسکیو سمیت دیگر امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں ، اے این پی باجوڑ کے رہنماؤں گل افضل خان ، شاہ نصیر، ملنگ جان ،وزیر اعظم ،عطاء اللہ خان اور پختون خان سمیت تمام رہنماؤں نے مختلف امدادی سرگرمیوں کیلئے ٹیموں کی رہنمائی کی اور فرداً فرداً تمام خاندانوں سے ان کے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ،اور تاحال علاقے میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں ۔
دریں اثناء اے این پی کے صوبائی جنرل سیکر ٹری سردار حسین بابک نے اے این پی باجوڑ اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنوں کی کاوشوں اور امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اے این پی خدائی خدمت گار تحریک کا تسلسل جماعت ہے اور باچا خان بابا کے فلسفہ سیاست پر پوری طرح عمل پیرا ہے ، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غریب اور متاثرین کی بے لوث خدمت کا عمل جاری رکھیں گے۔

مورخہ : 28.10.2015 بروز بدھ

امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک کا خوشدل خان سے اظہار تعزیت
اے این پی کے قائدین نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے پارٹی کے صوبائی سیکرٹری فنانس اور سابق ڈپٹی سپیکر خوشدل خان کے کزن ریاض کے انتقال پر اُن سے تعزیت کرتے ہوئے دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، دونوں قائدین نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے دُعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ جاکناں برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔

مورخہ : 28.10.2015 بروز بدھ

متاثرین کے علاج معالجے اور تباہ شدہ مکانات کیلئے اعلان کردہ پیکج انتہائی کم ہے ’’ غلام احمد بلور‘‘
دور دراز کے سینکڑوں متاثرین اب بھی ابتدائی امداد سے محروم ہیں،علاج کی فراہمی کی شکایات بھی عام ہیں۔
صوبائی حکومت کاریڈور ایشو پر اپنی پوزیشن واضح کریں، بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل نہیں کیے جا رہے۔

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور رکن اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ دور دراز کے متعدد علاقوں کے زلزلہ متاثرین بوجوہ اب بھی ابتدائی امداد ، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جبکہ حکومت نے بدترین زلزلہ کا شکار بننے والے متاثرین کی امداد اور بحالی کیلئے جو رقم مختص کی ہے وہ نقصانات کے حجم اور شدت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امدادی کارروائیوں کو تیز اور مربوط بنا کر امدادی رقم میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور امدادی سرگرمیوں کو فعال اور تیز کیا جائے۔
بلور ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اب کے بار بھی حسب روایت صوبائی حکومت نے وہ فعالیت اور کارکردگی نہیں دکھائی جس کی زلزلے کے بعد عوام اور متاثرین کو ضرورت تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ دور دراز پسماندہ اور ناقابل رسائی علاقوں میں اب بھی سینکڑوں متاثرین امداد اور علاج کے منتظر ہیں اور تین دن گزرنے کے باوجود حکومتی اداروں نے اب تک رسائی کو ممکن نہیں بنایا، دوسری طرف علاج کی سہولیات کی عدم فراہمی کی شکایات بھی بہت عام ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مکانات کی تعمیر اور متاثرین کے علاج وغیرہ کیلئے جو رقم مختص کی گئی ہے وہ انتہائی کم ہے اور اس سے متاثرین کی بحالی سرے سے ممکن ہی نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس میں مناسب اضافہ کیا جائے ا ور امداد کی فوری اور آسان فراہمی کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے ساتھ اس قسم کے سانحات کے بعد ہر دور میں زیادتی ہوتی آئی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ پشتون پاکستان کے اندر تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ اُنہوں نے کاریڈور کے ایشو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ابہام دور کرنے میں ناکام رہی ہے اور ایک ایسے شخص کو اس منصوبے کا انچارج بنایا گیا ہے جو کہ پنجابی زیادہ اور پاکستانی کم ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس اہم معاملے کو وفاقی حکومت کیساتھ اُٹھائیں اور اس پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔
حاجی غلام احمد بلور نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے نہ چاہتے ہوئے صوبے میں بلدیاتی انتخابات تو کروائیں ہیں تاہم اتنا عرصہ گزرنے کے باوجودمنتخب نمائندوں کو اختیارات کی منتقلی اور فنڈز کی فراہمی سے گریز کر رہی ہے جس کے باعث اس نظام کا مستقبل سوالیہ نشان بن چکا ہے اور منتخب نمائندوں کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مورخہ : 27.10.2015 بروز منگل

حیدر خان ہوتی ، سردار حسین بابک اور ڈاکٹر سعید الرحمان کی ڈاکٹر کلیم کے والد کی وفات پر اظہار تعزیت

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اورملگری ڈاکٹران کے صدر ڈاکٹر سعید الرحمان نے ملگری ڈاکٹران کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر کلیم کے والد محترم کی وفات پر متاثرہ خاندان سے دلی افسوس اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ثواب اور خاندان کیلئے صبر کی دُعا کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ اے این پی دُکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کیساتھ کھڑی ہے۔ ڈاکٹر کلیم کے والد کا منگل کے روز انتقال ہوا اُن کو آج صبح گیارہ بجے آلہ ڈھنڈ ڈیری بٹ خیلہ میں سپرد خاک کیا جائیگا۔

مورخہ 27 اکتو بر2015ء بروز منگل

اے این پی آزمائش کی اس گھڑی میں سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر متاثرین کیساتھ کھڑی ہوگی ’’ ہارون بلور‘‘
پارٹی عہدیدار اور کارکن مرکزی اور صوبائی قیادت کی ہدایت پر متاثرین کی ہر ممکن مدد جاری رکھیں

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ اے این پی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان اور دیگر عہدیداروں کی ہدایات کے مطابق پارٹی کے صوبائی ، ضلعی اور مقامی عہدیداروں نے منگل کے روز صوبے کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں متاثترین زلزلہ سے رابطے کر کے زخمیوں کی عیادت کی اور اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ اس قسم کے سانحات میں اے این پی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر اپنا کردار ادا کرتی آئی ہے کیونکہ آزمائش کے وقت اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اے این پی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کی ہدایات کے مطابق صوبہ بھر میں مختلف ہسپتالوں کے دورے کر کے زخمیوں کی عیادت کی ، خون کے عطیات دئیے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے کام میں اے این پی کے رہنما ، عہدیدار اور کارکن آخری دم تک اپنا فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔

متاثرین زلزلہ کی امداد ، علاج اور بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کی جائیں ’’ سردار حسین بابک ‘‘
ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ میکنیزم کے ذریعے متاثرین کی مدد کریں
متاثرین کی بحالی کیلئے قومی وسائل کا مناسب حصہ مختص کیا جائے ، اے این پی متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے زلزلہ زدگان کی امداد ، مریضوں کے بہتر معالجے اور تعمیر نو کی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرین کو مزید مشکلات اور آزمائشوں سے بچایا جا سکے اور قومی اتفاق رائے سے ان کی امداد اور بحالی کواس انداز میں آگے بڑھایا جائے کہ ان کے دُکھوں اور نقصانات کا ازالہ ہو۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ جانی اور مالی نقصانات کا درست ، فوری اندازہ، تخمینہ لگایا جائے اور اس مقصد کیلئے متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارے ایک مشترکہ میکنیزم کے لیے اپنی کو آرڈی نیشن کو فعال بنائیں۔ مریضوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ان کے بہتر علاج کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور دور دراز کے متاثرین کی امداد ، علاج اور بحالی کیلئے ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے کیونکہ اب بھی سینکڑوں افراد بوجوہ امداد اور علاج سے محروم ہیں جبکہ ہزاروں ایسے ہیں جو کہ سردی کے اس موسم میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ ایسے متاثرین کو علاج کی فراہمی پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ اپنے مکانات سے محروم ہو گئے ہیں ان کی بحالی میں تاخیر نہ کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر ہونیوالی اس جانی اور مالی تباہی سے نمٹنے کیلئے حکومتی اداروں کے علاوہ سماجی تنظیموں اور عالمی امدادی اداروں کو بھی آگے آنا چاہیے کیونکہ نقصانات کا تخمینہ ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ ہے۔
سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ 2005 کے زلزلے کے ہزاروں متاثرین اب بھی امداد اور بحالی کے منتظر ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سانحے کی غلطیوں اور کمزوریوں سے سبق لیتے ہوئے حالیہ سانحے سے ہنگامی طور پر نمٹاجائے۔ اُنہوں نے متاثرین کی بحالی کیلئے مناسب مالی امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وسائل میں سے ایک بڑا حصہ بحالی اور تعمیر نو کیلئے مختص کیا جائے اور اس کام میں کسی قسم کی تاخیر سے گریز کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی سیاسی امتیاز یا وابستگی کے بغیر اپنا فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔

حیدر خان ہوتی ، سردار حسین بابک اور ڈاکٹر سعید الرحمان کی ڈاکٹر کلیم کے والد کی وفات پر اظہار تعزیت

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اورملگری ڈاکٹران کے صدر ڈاکٹر سعید الرحمان نے ملگری ڈاکٹران کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر کلیم کے والد محترم کی وفات پر متاثرہ خاندان سے دلی افسوس اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ثواب اور خاندان کیلئے صبر کی دُعا کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ اے این پی دُکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کیساتھ کھڑی ہے۔ ڈاکٹر کلیم کے والد کا منگل کے روز انتقال ہوا اُن کو آج صبح گیارہ بجے آلہ ڈھنڈ ڈیری بٹ خیلہ میں سپرد خاک کیا جائیگا۔

زلزلہ متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے، امیر حیدر خان ہوتی
اے این پی ساری قوم کے دکھ میں برابر کی شریک ہے، قدرتی آفات ہم سب کیلئے بڑا امتحان ہے
مصیبت کی اس گھڑی میں سب نے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے
پارٹی کارکنان امدادی کام تسلسل سے جاری رکھیں، لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کیصوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے اور متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں ہولناک زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے ، امیر حیدر خان ہوتی نے ہسپتال میں تمام زخمیوں سے فرداً فرداً ملاقات کی اور ان کی لواحقین سے ان کی خیریت دریافت کی انہوں نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی مالی امداد کا بھی مطالبہ کیا ، صوبائی صدر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ قدرتی آفات ہم سب کیلئے بڑا امتحان ہے اور ہم سب کو انسانیت کے رشتے کے ناطے اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی ہر ممکن خدمت اور امداد کیلئے تیار رہنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ حالیہ زلزلے سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں جس پر نہ صرف دکھ اور افسوس ہے بلکہ اے این پی ساری قوم کے دکھ میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سہ پہر سے خیبر پختونخوا ، قبائلی علاقہ جات سمیت تمام اضلاع میں پارٹی کے عہدیدار ، بلدیاتی کونسلوں کے ممبران اور سابق ممبران پارلیمنٹ اپنے اپنے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور میں خود صوبائی صدر کی حیثیت سے متاثرہ علاقوں میں پارٹی کے ذمہ داروں کے ساتھ رابطے میں ہوں اور وقتاً فوقتاً معلومات لے رہا ہوں ، انہوں نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اے این پی امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے ، امیر حیدر خان ہوتی نے اپنی پارٹی کی تمام تنظیموں اور کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس تکلیف دہ گھڑی میں وہ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ امدادی کام جاری رکھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان اور عہدیدار امدادی کام مسلسل جاری رکھیں اور ہر ایک متاثرہ گھر تک پہنچنے کی کوشش کریں اور جہاں تک ممکن ہو سکے متاثرین کی امداد جاری رکھیں انہوں نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں سب نے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے ،تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امتحان میں ہم سب سرخرو ہو سکیں ، انہوں نے کہا کہ متاثرین کے دکھ درد میں شریک ہو کر انسانیت کا پیغام دینا چاہئے ۔

مورخہ : 26.10.2015 بروز پیر

اے این پی کے رہنماؤں سردار حسین بابک ، ارباب محمد طاہر ، سرتاج خان اور دیگر کا دورہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال
صوبہ پختونخوا اور فاٹا کے جانی اور مالی نقصان کی شرح سب سے زیادہ ہے ’’ سردار حسین بابک ‘‘
تمام سیاسی ، حکومتی ، فلاحی اور سماجی ادارے امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
اے این پی کے ضلعی ناظم مردان حمایت اللہ مایار ، ضلعی ناظم صوابی امیر رحمان اور دیگر عہدیداروں نے بھی اپنے علاقوں میں زخمیوں کی عیادت کی۔

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک ، مرکزی سیکرٹری فنانس ارباب محمد طاہر خان، سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے جنرل سیکرٹری سرتاج خان اور متعدد دیگر پارٹی عہدیداروں نے خوفناک زلزلے کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے زخمیوں اور متاثرین کے ساتھ پارٹی کی جانب سے یکجہتی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کو پارٹی کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اے این پی کے لیڈروں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں متعدد زخمیوں کی مزاج پرسی کی، ان کے رشتہ داروں سے اظہار افسوس کیا اور ڈاکٹروں سے زخمیوں کی تفصیلات معلوم کیں۔ اُنہوں نے اس موقع پر متاثرین کو یقین دلایا کہ آزمائش اور تکلیف کے اس وقت میں اے این پی کے رہنما اور اس کے کارکن متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور پارٹی کی سطح پر ہر ممکن مدد فراہم کی جائیگی۔ سردار حسین بابک نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی امتیاز اور وابستگی کے بغیر اے این پی صوبے اور ملک کے متاثرین کے ساتھ کھڑی رہے گی اور متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا پارٹی نے اپنے عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت جاری کی ہیں کہ وہ زخمیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں اور امدادی کاموں میں بھی بھر پور حصہ لیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کا ہاتھ بٹانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور ان علاقوں کے جانی اور مالی نقصان کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے اس لیے وفاقی ، صوبائی حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کے علاوہ تمام سیاسی ، سماجی اور عوامی حلقوں اور تنظیموں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں سیاست سے بالا تر ہو کر عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
دریں اثناء اے این پی کے رہنما اور ناظم مردان حمایت اللہ مایار ، ضلعی صدر ، ناظم صوابی امیر رحمان اور دیگر علاقوں کے پارٹی عہدیداروں نے ہسپتالوں کے دورے کیے جائیں اور متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا۔

مورخہ : 26.10.2015 بروز پیر

ہارون بشیر بلور کا ہولناک زلزلہ سے ہونے والی تباہی پراظہار رنج و غم
پارٹی کی تمام ضلعی و ذیلی تنظیمیں امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کی حصہ لیں
متعلقہ حکام زخمیوں کو علاج معالجے کی تمام تر طبی سہولیات بہم پنچائیں۔

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے ملک بھر میں آنے والے ہولناک زلزلہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر انتہائی دُکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے بالخصوص خیبر پختونخوا کے مختلف دیہی اور شہری علاقوں میں ہونے والے جانی نقصان پر لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ اُنہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دُعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زخمیوں کو طبی سہولیات بہم پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں ۔ صوبائی سیکرٹری اطلاعات نے پارٹی کی تمام ضلعی و ذیلی تنظیموں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہولناک زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والی امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اُنہوں نے تمام جاں بحق افراد کے غمزدہ لواحقین کیلئے صبر و تحمل اور مرحومین کی مغفرت کیلئے دُعا کی ہے۔

مورخہ 26 اکتو بر2015ء بروز پیر

زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں ،سردار حسین بابک
غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ، بونیر کیمتاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے خیبر پختونخوا میں ہولناک زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے صوبہ بھر اور خصوصاً بونیر میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کی اور کہا کہ اے این پی غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور غم کی اس گھڑی میں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں انہوں نے ضلعی تنظیم کو ہدایت کی کہ زلزلے سے متاثرین ہونے والوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں اور امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں سردار حسین بابک نے جاں بحق ہونے والوں کیلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے بہترین علاج معالجے پر خصوصی توجہ دی جائے ۔

مورخہ : 26.10.2015 بروز پیر

امیر حیدر خان ہوتی کا زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پراظہار رنج و غم
قدرتی آفات اللہ کا جانب سے امتحان ہوتے ہیں جس کے سامنے انسان بے بس ہے
پارٹی کی تمام ضلعی و ذیلی تنظیمیں امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے صوبہ پختونخوا سمیت ملک بھر میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دلی رنج و غم اور دُکھ کا اظہار کیا ہے، زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے صبرو جمیل کی دُعا کی ہے ۔ اُنہوں نے زلزلے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دُعا کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور اُنہیں ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اُنہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ قدرتی آفات اللہ کی جانب سے امتحان ہوتے ہیں جس کے سامنے انسان بے بس ہوتا ہے۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے پارٹی کی ضلعی اور ذیلی تنظیموں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں متحرک ہو جائیں اور امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چرھ کر حصہ لیں۔

مورخہ 26 اکتو بر2015ء بروز پیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں آنے والے ہولناک زلزلہ کے نتیجے میں ہونے والی جانی و مالی نقصانات پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے تعزیتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ قدرتی آفات اللہ تعالیٰ کی جانب سے امتحان ہے اور انسان مشیت ایزدی کے سامنے بے بس ہے ، انہوں نے تمام غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے انہوں نے تمام صوبائی تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں متاثرین کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور امدادی سرگرمیاں فوری طور پر شروع کی جائیں ، انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کی امداد کیلئے فوری طور پر مؤثر اقدامات کئے جائیں اور ہسپتالوں میں زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔اسفندیار ولی خان نے جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی ۔

مورخہ : 21.10.2015 بروز بدھ
پی ٹی آئی کی طرح گالی گلوچ اور انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے مگر وقت آنے پر سود سمیت حساب لیا جائیگا ’’ اسفندیار ولی خان ‘‘
جس حکومت کو پرویز خٹک گالیاں دے رہے ہیں ساڑھے چار سال تک موصوف اس حکومت میں خود بھی وزیر رہے۔
کالاباغ ڈیم اور کاریڈور کے ایشوز پر آئینی اور قانونی طریقے سے ہمارے مفادات کا خیال رکھا جائے۔
دہشتگردی اور افغان مسئلے کا حل دوشریفوں کے ہاتھ میں ہے ، کابل اور اسلام آباد آپس میں بیٹھ کر بات کریں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے ملک اور صوبے میں گالی گلوچ ، الزامات اور انتقامی سیاست کے کلچر کوفروغ دیا ہے تاہم عمران خان اور ان کی حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آج وہ جو کچھ کر رہے ہیں وقت آنے پر اس کا سود سمیت حساب چکایا جائیگا جبکہ اے این پی کی رہنما سینیٹر ستارہ ایاز کو پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے نہیں دیں گے بلکہ قانونی ، آئینی اور سیاسی طریقے سے ان کا دفاع کریں گے۔
نجی ٹیلیویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہم تحریک انصاف کی طرح مخالفین کو گالیوں ، الزامات اور انتقامی سیاست کا نشانہ بنانے کے طریقوں پر یقین نہیں رکھتے ہم سیاسی لوگ ہیں اور ایشوز کی بیناد پر اتفاق رائے یا اختلاف رائے کا حق استعمال کرتے آئے ہیں تاہم اپنے ہی وزراء اور ممبران اسمبلی کی جانب سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنیوالی تحریک انصاف اور اس کی حکومت نے صوبے کی پولیٹیکل کلچر کو تباہ کر دیا ہے ۔ حالانکہ جس حکومت کو پرویز خٹک کرپٹ قراردینے پر تلے ہوئے ہیں اس حکومت میں موصوف ساڑھے چار سال تک خود بھی وزیر رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی ایسی پارٹی رہی ہو جس کا پرویز خٹک حصہ نہیں رہے ہوں۔ ایسے شخص سے سنجیدگی اور صوبے کی خدمت کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے جس نے اپنی منصب کی پرواہ کیے بغیر کنٹینر پر کھڑے ہو کر ناچ کے ذریعے ہمارے صوبے کی نمائندگی کی ہو۔ کم از کم ان کو اپنی کرسی اور ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور اس کی حکومت کو دوسروں کے علاوہ اپنے وزراء اور ممبران اسمبلی کی جانب سے بدترین کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے اور اس سلسلے میں دوسروں کے علاوہ ایک گرفتار وزیر کی مثال دی جاسکتی ہے جس نے فلور آف دی ہاؤس وزیر اعلیٰ تو کرپٹ اور نااہل قرار دیا۔ تحرک انصاف کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس انتقامی سیاست کا اُنہوں نے آغاز کیا ہے وقت آنے پر اس کا سود سمیت حساب لیا جائیگا۔
کالا باغ ڈیم پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ تین صوبے اتفاق رائے سے یہ منصوبہ مسترد کر چکے ہیں۔ اس لیے صرف ایک صوبے کیلئے تین صوبوں کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم دلائل اور اسباب کی بنیاد پر اس کی مخالفت کر رہے ہیں تاہم یہ بھی بتانا چاہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے لیے آئینی قانونی راستے بند کیے گئے تو ہم مجبوراً غیر جمہوری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے تاہم اسکے نتائج پاکستان کو بھگتنے پڑیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کالاباغ ڈیم ہی واحد آپشن ہے یا دیگر منصوبوں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے؟ واپڈا اور دیگر متعلقہ ادارے اور ماہرین متعدد بار خود کہہ چکے ہیں کہ اس سے وادی پشاور کو شدید نقصان پہنچے گا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ اس منصوبے کی مخالفت میں پہلی بریفنگ جنرل فضل حق مرحوم نے دی تھی۔
پاک چائنا اکنامک کاریڈور پر واضح انداز میں بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مغربی روٹ پر کام کا آغاز نہ صرف پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں ملک کے مفاد میں ہے بلکہ سنٹرل ایشیا تک جانے کا بھی یہ محفوظ اور آسان ذریعہ ہے ۔ تاہم وزیر اعظم اے پی سی میں اپنے اعلان کردہ فیصلے سے مکر گئے ہیں اور اعلان کے برعکس مشرقی روٹ پر کام جاری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ چین اس منصوبے پر اتنی بڑی سرمایہ کاری اس لیے بھی کر رہا ہے کہ اس کے سرحدی علاقوں میں موجودانتہاپسندی کا راستہ روکا جائے تاہم یہاں پر انتہا پسندی کے شکار علاقوں اور خیبر پختونخوا کو ہمارے حکمران اس تناظر میں نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
دہشتگردی اور افغانستان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مل کر خود ہی اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اشرف غنی کے ساتھ بنی انڈرسٹینڈنگ کیوںآگے نہ بڑھ سکی اور غلط فہمیوں میں مزید اضافہ کیوں ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل واشنگٹن کے پاس نہیں بلکہ کابل اور اسلام آباد کے پاس ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اصل اختیار دو شریفوں یعنی نواز شریف اور راحیل شریف کے پاس ہے اس لیے وہ آگے بڑھیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر افغان طالبان مذاکرات اور امن میں سنجیدہ ہوتے تو سیز فائر کا اعلان کرتے مگر اُنہوں نے اُلٹا حملے تیز کیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان نیک نیتی کا مظاہرہ کرکے اپنی غلط فہمیاں اور دوریاں ختم کریں۔
پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جب تک شہ رگ اور اٹوٹ رنگ جیسے نعروں اور دعوؤں کو الماری میں بند نہیں کیا جاتا کشیدگی اسی طرح برقرار رہے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کہ ان نعروں کی بجائے مہذب ممالک کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے اور کشیدگی ، مسائل کو بات چیت اور برداشت کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی اپنائی جائے۔

مورخہ : 21.10.2015 بروز بدھ

ڈینگی نے صوبے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر حکومت کوئی نوٹس نہیں لے رہی ’’ ارباب طاہر خان‘‘
حکومت کی لاتعلقی اور نااہلی نے تبدیلی اور گڈ گورننس کے دعوؤں کو پھر سے جھوٹا ثابت کر دیا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ارباب محمد طاہر خان خلیل نے کہا ہے کہ پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں کو ڈینگی وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تاہم تبدیلی کی دعویدار صوبائی حکومت نے اس سنگین مسئلے سے مکمل لاتعلقی اختیار کی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مریضوں اور اموات کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی جا رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ ڈینگی ، کانگو اور دیگر خطرناک بیماریوں کے باعث ہزاروں افراد متاثر ہو گئے ہیں اور حکومت کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کے باعث بعض امراض نے صوبے میں ڈال دئیے ہیں اور مریضوں کی تعداد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو گیا تاہم صحت میں مثالی اصلاحات کی دعویدار صوبائی حکومت نہ تو اس صورتحال کا کوئی نوٹس لے رہی ہے اور نہ ہی اس سے بچانے کیلئے کوئی اقدام اُٹھایا جا رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ تہکال اور تپہ خلیل میں روزانہ درجنوں کے حساب سے لوگ ڈینگی کا شکار ہو رہے ہیں اور اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ متعلقہ ہسپتالوں کے وارڈز مریضوں سے بھرے پڑے ہیں مگر نہ تو ان کو سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی دیگر شہریوں کو بچانے کیلئے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نام و نہاد صحت اصلاحات کے دعوؤں کو دیگر اعلانات کی طرح جھوٹا ثابت کر دیا ہے اور یہ بات پھر سے ثابت ہو گئی ہے کہ تبدیلی اور گڈ گورننس کے دعوؤں کا حقیقت اور زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام توجہ اپنے اندرونی اختلافات اور مخالفین کو ہراساں کرنے پر مرکوز ہے اور صوبے کا عملاً کوئی پرسان حال نہیں ہے اگر حکومت نے اپنے رویے تبدیل نہیں کیے تو عوام مزاحمت پر اُتر آئیں گے اور نتائج کی ذمہ داری نااہل حکومت پر عائد ہوگی۔

مورخہ : 21.10.2015 بروز بدھ
احتساب کمیشن بارے چیف جسٹس کے ریمارکس سے صوبائی حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہیے’ امیر حیدر خان ہوتی‘
اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں تاہم ہمارے اسلاف کا عدم تشدد کا فلسفہ ہمارے لیے مقدم ہے۔
پرویز خٹک متنازعہ ایشو پر کبھی ہاں اور کبھی ناں کی گردان سے خود کو نکالیں ‘ آدھا تیتر آدھا بٹیر نہ بنیں۔
بھارت میں اصل حکمرانی شیو سینا کی ہے نریندر مودی کی مثال ڈمی کی سی ہے‘ بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔
احتساب کمیشن صوبائی حکومت کا آلۂ کار ہے ‘ ضیاء اللہ آفریدی اور سیکرٹری معدنیات کے بیانات ریکارڈ پر ہیں’’تقریب سے خطاب‘‘

پشاور( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے صوبائی احتساب کمیشن کو انتقام کمیشن قراردیتے ہوئے کہاہے کہ احتساب کمیشن شریف شہریوں کی پگڑیاں اچھالنے اورسیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائی کے لئے بنایاگیاہے اور اس حوالے سے چیف جسٹس کے ریمارکس سے صوبائی حکومت کی آنکھیں کھلنی چاہئے وہ مردان میں ملز بائی پاس روڈ پر سلاطین شادی ہال کی تقریب کے افتتاح کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی خطاب اور بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے پارٹی کے صوبائی رہنما محمد جاوید یوسفزئی ،شاہ نواز خان، عباس ثانی اور لطیف الرحمان کے علاوہ خیبرپختون چیمبر آف کامرس کے صدر ذوالفقاارعلی خان اورتقریب کے میزبان محمد اسماعیل نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ احتساب کمیشن کے حوالے سے چیف جسٹس کے ریمارکس سے صوبائی حکومت کی آنکھیں کھلنی چاہئے جس میں چیف جسٹس نے کہاتھاکہ نیب اور انٹی کرپشن کی موجودگی میں بظاہر یہ متوازی قانون بنایاگیاہے انہوں نے کہاکہ اس قانون سے منافرت بڑھے گی اور اسے سیاسی مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیاجارہاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ معزول وزیر ضیاء اللہ آفریدی اور سیکرٹری معدنیات کے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں کہ صوبائی حکومت احتساب کے معاملات پر اثرانداز ہورہی ہے اور پشاورہائی کورٹ کی طرف سے سینیٹر ستارہ آیاز کو ریلیف دینے سے اس موقف کی تائید ہوتی ہے سابق وزیراعلیٰ نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کبھی ہاں اورکھبی ناں کرتے ہیں لاہور میں بیٹھ کر کالاباغ کے حق میں اور پشاور میں بیٹھ کر کچھ اور کہہ جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ کالاباغ ڈیم مردہ گھوڑا ہے اوراس متنازعہ منصوبے میں جان ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ا ے این پی خاموش نہیں رہے گی اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائے گا اے این پی کے صوبائی صدر نے پاک افغان تعلقات کے حوالے سے کہاکہ اشرف غنی کے بطورافغان صدر انتخاب کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار پیدا ہوگئے تھے تاہم بعض معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کا فقدان ہے جس سے دونوں ملکوں اور عوام کے مابین دوریاں پیدا ہورہی ہیں جس کا فائدہ انتہا پسندوں اوردہشت گردوں کو ہوگا جو اپنا ایجنڈا مسلط کرناچاہتے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے بتایاکہ بھارت میں اصل حکمرانی شیو سینا کی ہے اور مودی حکومت نے اسے کھلی چھٹی دے رکھی ہے وہاں اقلتیں محفوظ نہیں اورمسلمانوں اورسکھوں کو چھوٹے چھوٹے مسائل پر نشانہ بنایاجارہاہے انہوں نے کہاکہ جس طرح طالبان کی کاروائی قابل مذمت ہیں تو بھارت میں شیوسینا جیسے انتہا پسندانہ کاروائی کی بھی مذمت کی جانی چاہئے قبل ازیں سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے28کنال اراضی پر محیط جدید سہولیات سے آراستہ شادی ہال کا فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کیا انہوں نے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ ان کے دور میں شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کے باعث مردان ایک جدید شہر میں تبدیل ہوگیاہے اوراس کے آثار شادی ہالوں اورجدید شاپنگ مالوں کی صورت میں دکھائی دینے لگے ہیں انہوں نے مردان کی ترقی کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں کو باہمی اتفاق واتحاد کا مظاہر ہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اپنے آبائی شہر کی ترقی میں ہمیں اپنا اپنا سیاسی ایجنڈا ایک طرف رکھنا چاہئے اور مردان شہر کی تعمیروترقی کے لئے سیاست سے بالاتر ہوکر مل جل کر کوششیں کرنی چاہئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مردان میں بچوں کاجدید ہسپتال تعمیر کے آخری مراحل میں ہے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے منصوبے مکمل ہونے سے مریضوں کے ریفر ہونے کا سلسلہ بند ہوجائے گا اوروہ تمام سہولیات جو لیڈی ریڈنگ اور شیرپاؤ ہسپتالوں میں میسرہیں وہ تمام کی تمام سہولیات ڈسٹرکٹ ہسپتال میں مہیاہوں گی۔

مورخہ : 21.10.2015 بروز بدھ

تعلیمی شعبہ کو سروس سٹرکچر کا تحفہ دیکر معاشرے میں اساتذہ کو تکریم دی ’’ سردار حسین بابک ‘‘
ہمارے اقدامات سے تجربہ کار اور کوالیفائیڈ اساتذہ کو محکمانہ طرقی کے بہتر مواقع میسر آگئے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اپنے دور حکومت میں تعلیمی شعبہ کوسروس سٹرکچر کا تاریخی تحفہ کر معاشرے میں اساتذہ کے مقام کو جو تکریم دی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ‘ان خیالات کا اظہار انہوں نے با چا خان مرکز اسا تذہ کے نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے مڈل و ہائر سیکنڈری سکولوں میں سروس سٹرکچر جیسے فقید المثال اقدام سے نہ صرف اساتذہ کی کمی پوری ہوئی بلکہ محکمہ میں پہلے سے موجود تجربہ کار اور کوالیفائڈ اساتذہ کو محکمانہ ترقی کے بہتر مواقع بھی میسر آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ سروس سٹرکچر جیسے تاریخی فیصلے سے سکولز میں ان رولمنٹ و طلباؤ طالبات کے دا خلوں میںآسا نی کے ساتھ ساتھ بہترین درس و تدریس کے مواقع پیدا کئے ۔ اُنہوں نے کہا کہ سکولز میں اساتذہ کی کمی پوری ہو جانے سے طلباء و طالبات کا وقت ضائع ہونے سے بچ جائیگا اور بہترین نتائج سامنے آنے کے روشن امکانات پیدا ہو گئے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سروس سٹرکچر کے نہ ہونے سے صوبے کے تمام سکولز میں اساتذہ کی مسلسل فقدان چلا آرہا تھا لیکن اب صورت حال مختلف اور نہایت حوصلہ افزاء ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ سروس سٹرکچر جیسے فقیہ المثال اقدار سے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت و افادیت سے عام لوگ بھی بہرہ ور ہو گئے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے صوبے میں نامساعد حالات کے باوجود معیار تعلیم بڑھنے کے قومی امکانات پیدا ہو گئے ۔

مورخہ : 21.10.2015 بروز بدھ

ستارہ ایاز کے خلاف یکطرفہ کارروائیوں نے احتساب کمیشن کی ساکھ کو تباہ کر دیا ہے ’’ ڈاکٹر تسلیم‘‘
حکمرانوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ان کی نظر میں خواتین کی عزت اور وقار کی کوئی اہمیت نہیں ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی صوابی کی رہنما ڈاکٹر تسلیم نے احتساب کمیشن کی جانب سے سینیٹر ستارہ ایاز کے خلاف منفی ہتھکنڈوں اور انتقامی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری روایات اور ثقافت سے بے خبر حکمرانوں کو دوسروں پر کیچڑ اُچھالنے سے قبل اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا چاہیے۔ ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے دوسرے لیڈروں کی طرح ستارہ ایاز نے اپنے علاقے اور صوبے کیلئے شاندار خدمات سرانجام دیں اور اپنی وزارت کے دوران اُنہوں نے اپنے فرائض نامساعد حالات اور خطرات کے باوجود بخوبی نبھائے تاہم حکمران ٹولے نے سیاسی عداوت کی بنیاد پر ایک معزز اور بہادر خاتون کی کردار کشی کا راستہ اپنا کر اپنی اوقات اور طرز عمل سے ثابت کیا کہ ان کی نظر میں خواتین کی عزت اور وقار کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ستارہ ایاز کے خلاف یکطرفہ کارروائی نے حکمران ٹولے کی کم ظرفی نے حکومت اور کمیشن کی ساکھ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور عوام جان چکے ہیں کہ احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا۔

مورخہ : 21.10.2015 بروز بدھ

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کوئتہ میں مزدوروں کی بس کو دہشتگرد کارروائی کا نشانہ بنانے کے افسوسناک واقعے پر تشویش اور دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے تمام ریاستی اداروں ، سیاسی قوتوں اور عوام کو اپنی کوششیں تیز کرنی ہوں گی تاکہ امن کے قیام کو ممکن بنا کر ملک اور معاشرے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کوئٹہ کے واقعے پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اب بھی دہشتگردوں سے خطرات لاحق ہیں اور اس سلسلے نے ملک کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنادیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے دہشتگردی کی مزاحمت میں تاریخی قربانیاں دے رکھی ہیں اور یہ مزاحمت اب بھی جاری ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے مینڈیٹ کے تحت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ریاستی ، سیاسی اور عوامی کوششوں میں مزید تیزی لائی جائے اور اس ایشو پر کسی قسم کی مفاہمت کو خاطر میں لائے بغیر ٹھوس اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بات پر اب کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ دہشتگرد اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے ان کا خاتمہ پاکستان کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امیر حیدر خان ہوتی کا لیلونئی ٹریفک حادثے پر اظہار افسوس

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے لیلونئی میں ٹریفک حادثہ کے نتیجے میں چھ افراد کے جانی نقصان پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے ایصال ثواب دُعا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں اُنہوں نے اے این پی کی جانب سے حادثہ کے متاثرین اور ان کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا ہے اور کہا ہے کہ اے این پی دُکھ اورتکلیف کے اس مرحلے میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور اس دُکھ میں برابر کی شریک ہے۔

سینٹر شاہی سید کی قیادت میں عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی چیف منسٹر ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کی
کراچی ۔سینٹر شاہی سید کی قیادت میں عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی چیف منسٹر ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کی ،ملاقات میں باچا خان جنرل اسپتال کے تعمیراتی کام میں سست، روی،شہداء کے لیے حکومتی فنڈ کے اجراء میں تاخیر اور پارٹی رہنماؤں کی سیکورٹی کے حوالے سے خدشات پر وزیر اعلیٰ کی توجہ دلائی گئی جس پر سید قائم علی شاہ نے فی الفور احکامات جاری کیے اور شکایات کے ازالے کے لیے اے این پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی راشد ربانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ۔

مورخہ : 20.10.2015 بروز منگل

پشاور پریس کلب کے سامنے اے این پی کی قیادت اور کارکنوں کا صوبائی حکومت کے خلاف مظاہرہ ، نعرہ بازی

مظاہرے میں کارکنوں کے علاوہ سردار حسین بابک ، سید عاقل شاہ ، ہارون بشیر بلور ، عمران آفریدی ، جمیلہ گیلانی ، یاسمین ضیاء اور شگفتہ ملک بھی شریک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں نے سینیٹر ستارہ ایاز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر صوبائی احتساب کمیشن اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ منگل کے روز صوبہ بھر سے آئے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے سینیٹر ستارہ ایاز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر صوبائی احتساب کمیشن اور پی ٹی آئی حکومت کے خلاف احتجای مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے صوبہ پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صوبائی احتساب کمیشن کا قبلہ درست کیا جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی صوبائی احتساب کمیشن بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کسی کی پگڑی اُچھالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ سینیٹر ستارہ ایاز پر من گھڑت الزام لگا کر ذاتی عناد کو سرکاری چغہ پہنایا گیا ہے اور کمیشن کو ذاتی انتقامی کارروائیوں کیلئے کھلی چھوٹ دے کر ثابت کر دیا گیا ہے کہ اب عمرانی کمیشن میں ڈھال دیا گیا ہے۔ مظاہرین نے پی ٹی آئی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ احتساب کمیشن کو ذاتی انتقام کیلئے استعمال نہ کیا جائے بصورت دیگر اس کے نتائج ان کے حق میں کوئی اچھے نہیں ہونگے۔ مظاہرے میں دوسروں کے علاوہ سردار حسین بابک ، ستارہ ایاز ، سید عاقل شاہ ، عمران آفریدی ، ہارون بشیر بلور ، جمیلہ گیلانی ، شگفتہ ملک ، ملک غلام مصطفی ، یاسمین ضیاء اور دیگر اہم عہدیدار بھی شریک ہوئے۔

مورخہ : 20.10.2015 بروز منگل

عمران خان اور آفتاب شیر پاؤ اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے ’’ زاہد خان ‘‘
شراکت اقتدار کے فارمولے اور فیصلے سے دونوں فریقین کے چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزیترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کا دوبارہ حصہ بننے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ آفتاب خان شیر پاؤ اور ان کے ساتھی اقتدار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے جبکہ عمران خان کی تبدیلی اور اُصول پرستی کا نعرہ بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ فریقین نے ماضی میں ایک دوسرے پر کرپشن اور بد عہدی کے بدترین الزامات لگائے تاہم اب دونوں تمام وعدوں اور دعوؤں کے برعکس صوبے میں اقتدار کی شراکت پر پھر سے متفق ہو گئے ہیں اور دونوں نے اپنی اپنی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے اور دونوں نے ثابت کیا ہے کہ حصول اقتدار ہی ان کا ہدف اور مقصد ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بعض لوگ اقتدار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے اور قومی وطن پارٹی کے قائدین نے اپنی وہی روایت دہرائی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شاید آفتاب شیر پاؤ عمران خان کے وہ کلمات بھول چکے ہیں جو کہ اُنہوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر ان کے بارے میں کیے تھے جبکہ ان کے وزراء کو کرپشن کے چارجز میں بے دخلی کا واقع بھی موصوف بھول چکے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان کی تبدیلی کے دعوے اور یوٹرن لینے کی عادت بھی اس فیصلے سے سب پر عیاں ہو چکی ہے اور یہ بات سب پر واضح ہو گئی ہے کہ فریقین کیلئے اقتدار سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں۔

مورخہ : 20.10.2015 بروز منگل
احتساب کمیشن کو سیاسی انتقام ، کردار کشی اور منفی کارروائیوں ، مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ’’ اے این پی ‘‘
عمران خان اور پرویز خٹک نے سیاسی قائدین ، معززین اور اعلیٰ افسران کی تذلیل کا ٹاسک احتساب کمیشن کو دے رکھا ہے ’’ سردار بابک‘‘
میں عمرانی ٹولے کو چیلنج کرتی ہوں کہ میرے خلاف لگائے گئے الزامات اب ثابت کریں، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ’’ سینیٹر ستارہ ایاز

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے احتساب کمیشن کے ڈھانچے اور طریقہ کار کو غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے پارٹی کی خاتون رہنما سینیٹر ستارہ ایاز کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ احتساب کمیشن کے ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا اور کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ اے این پی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنائیں۔
پشاور پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور سینیٹر ستارہ ایاز نے عمران خان ، پرویز خٹک اور احتساب کمیشن کی پالیسیوں اور طریقہ کار کو انتقام پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور ان کے ٹولے نے سیاسی قائدین ، باعزت لوگوں اور سرکاری افسران کی تذلیل ، بلیک میلنگ اور منفی حربوں کا ٹاسک نام و نہاد احتساب کمیشن کو دے رکھا ہے تاہم اے این پی ان ہتھکنڈوں سے کبھی مرعوب نہیں ہو گی اور حسب سابق میدان میں ڈٹی رہے گی۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ سینیٹر ستارہ ایاز اور ان کے خاندان کو کئی ماہ سے نہ صرف یہ کہ نام و نہاد ، جھوٹے الزامات کی آڑ میں ہراساں کیا جا تا رہا بلکہ اس مقصد کیلئے قانون کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے غیر اخلاقی طریقے بھی استعمال کیے گئے۔ دھمکیوں ، غیر اخلاقی رویوں اور منفی یکطرفہ کارروائیوں پر مبنی اس طریقہ کار کے دوران باعزت اور باوقار لوگوں کی پگڑیاں اُچھالی جا رہی ہیں اور حالیہ واقعات سے ہمارا یہ موقف ایک بار پھر درست ثابت ہو گیا ہے کہ احتساب کمیشن کو محض سیاسی انتقام اور کردار کشی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنے رویے کے لحاظ سے پی ٹی آئی ایک سسٹر آرگنائزر کے طور پر تحریک طالبان کی وہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے جو کہ طالبان نے اے این پی کے بارے میں اختیار کی تھی۔ ہم ٹی ٹی پی جیسی قوت کے سامنے نہیں جھکے تو پرویزی کمیشن اور ان کے کارندوں کی کیا اوقات ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ستارہ ایاز کے معاملے میں صوبائی حکومت نے پشتون اور مشرقی روایات کی دھجیاں اُڑائیں اور ہراساں کرنے کیلئے انتہائی منفی ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ ستارہ عمران کی والدہ ، بہن اور چھوٹے بچے تک کو پرویزی اہلکاروں کی جانب سے کئی ماہ تک ہراساں کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن کا قیام اور قانونی حیثیت بذات خود انتہائی مشکوک اور غیر آئینی ہے اور حکمران ٹولے کے ایک وزیر سمیت متعدد اسمبلی فلور پر خود اس ادارے کو سیاسی انتقام کا ذریعہ قرار دیتے آئے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اور اے این پی کی رہنما سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ میں عمران خان اور ان کے ٹولے کو واضح پیغام دینا چاہتی ہوں کہ اُنہوں نے ہماری روایات اور غیرت کو جس بھونڈے طریقے سے للکارا ہے اس کا نہ صرف یہ کہ ڈٹ کر جواب دیا جائیگا بلکہ احتساب کے نام پر رچائے گئے اس ڈرامے کو اب وہ اور ان کی پارٹی منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو سایسی انتقام ، میڈیا ٹرائیل اور منفی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا گیا جس پر حکمران ٹولے کو شرم آنی چاہیے اور ان کو اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنے اعمال اور اخلاقی اقدار کا خود جائزہ لینا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن نے عمران خان اور پرویز خٹک کے کہنے پر ذاتی عناد اور شکایات پر مبنی ایک معاملے کو میرے اور میری پارٹی کی کردار کشی کیلئے استعمال کر کے ایک بدترین مثال قائم کی ہے۔ جس طریقے سے کچھ ثابت کیے بغیر اس معاملے کو میرے اور میری پارٹی کے خلاف استعمال کیا گیا اس کا عمرانی ٹولے سے حساب لیا جائیگا اور اس مقصد کیلئے سیاسی جدوجہد کے علاوہ تمام درکار قانونی راستے بھی اپنائے جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ان کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ثبوت واقعی موجود ہیں تو میں اُن کو چیلنج کرتی ہوں ککہ وہ عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ سب کو اصل صورتحال کا علم ہو سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کی سابقہ وزارت کے تقریباً دس لوگوں کو محض اس مقصد کیلئے گرفتار کر کے دبایا گیا کہ اگر میرے خلاف ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ کمیشن کو مہیا کیے جائیں ییہ کھلی غنڈہ گردی، بلیک میلنگ اور سیاسی انتقام نہیں تو اور کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ میں احتساب کمیشن اور صوبائی حکومت اور عمران خان کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ ثبوتوں اور اثاثوں کی بنیاد پر وہ الزامات سچ کر کے دکھائیں جو اُنہوں نے میرے اُوپر لگائے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ احتساب کمیشن کے الزامات کو کھلی طور پر مسترد کرتی ہے اور اس پر ان سمیت کی کسی کو اعتبار نہیں ہے اور وہ سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر اس معاملے کو چیلنج کر کے اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی جب تک عمرانی ٹولے اور احتساب کمیشن کو بے نقاب نہیں کرتی۔
اس موقع پر اے این پی اور ذیلی تنظیموں کے علاوہ پارٹی کے اہم رہنما سید عاقل شاہ ، ہارون بشیر بلور ، عمران آفریدی ، جمیلہ گیلانی ، یاسمین ضیاء ، شگفتہ ملک ، ملک نسیم ، ملک غلام مصطفی ، منور سلطانہ اور اے این پی صوابی کے عہدیدار بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

مورخہ20اکتوبر2015ء بروز منگل

پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشنخیبر پختونخوا کا اجلاس زیر صدارت صوبائی صدر سردار فخر عالم خان ولی باغ چارسدہ میں منعقد ہوا ، جس میں ایڈوائزر ایمل ولی خان ، مرکزی چیئرمین امتیاز وزیر سمیت صوبائی کابینہ کے عہدیداروں نے شرکت کی اجلاس میں تنظیمی امور کے حوالے سے اہم فیصلے بھی کئے گئے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں پختون ایس ایف کے کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ پختون ایس ایف صوبے میں فعال اور منظم ہے اور تمام تعلیمی اداروں میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، مرکزی چیئرمین امتیاز وزیر ،صوبائی صدر سردار فخر عالم خان ، جنرل سیکرٹری یاسر یوسفزئی اور دیگر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پختون ایس ایف ملی قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت میں متحد ہے اور طلباء کے حقوق کیلئے اس کی جدوجہد جاری رہے گی ، اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس 4نومبر بروز منگل صبح 10بجے با چا خان مرکز میں منعقد ہو گا جس میں تمام اضلاع اور یونیورسٹیز کے صدور و جنرل سیکرٹریز شرکت کریں گے ۔

مورخہ 20 اکتو بر2015ء بروز منگل

اے این پی کی خواتین ہر سازش کا مقابلہ کریں گی۔ منور فرمان
تحریک انصاف کی حکومت احتساب کمیشن کو سیاسی مخالفین کے خلاف اور ذاتی مفادات کیلئے استعمال کر رہی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی سابق ایم پی اے اور نائب صدر پشاور سٹی ڈسٹرکٹ منور فرمان نے ستارہ ایاز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر صوبائی حکومت اور احتساب کمیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت احتساب کمیشن کو اپنے ذاتی مفادات اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ستارہ ایاز کی طرف سے صوبے کے خواتین کیلئے تاریخی اقدامات کئے ہیں اور انہوں نے آئی ڈی پیز کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے جبکہ خصوصی افراد کیلئے بین الاقوامی سطح پر کئے جانے والے اقدامات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں تاہم موجودہ صوبائی حکومت اور اس کے آلہ کار احتساب کمیشن نے حیا عزت اور انصاف کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور صوبے کی بہادر بیٹی پر بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگا کر انہیں بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کی خواتین بھی ستارہ ایاز کیلئے میدان میں نکلیں گی اور ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

مورخہ 20 اکتو بر2015ء بروز منگل

بے گناہ انسانوں کی جانیں لینے والے مسلمان کہلانے کے لائق نہیں، ہارون بشیر بلور
اے این پی کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتی ہے بلوچستان حکومت وحشیانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں بے گناہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ بے گناہ انسانوں کی جانیں لینے والے کسی طورمسلمان کہلانے کے لائق نہیں ، انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی اس وحشیانہ کارروائی کی مذمت کرتی ہے اور بلوچستان حکومت واقعے میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچائے ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اب ایک بین الاقوامی ، ملکی اور علاقائی شکل اختیار کر چکی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور اس ناسور کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے اتفاق اور اتحاد کی فضا بن رہی ہے جسے ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے۔انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی ۔

مورخہ : 19.10.2015 بروز پیر

صوبے میں کلچر پالیسی نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں ہے ’’ امیر حیدر خان ہوتی ‘‘
پختونخوا کے فنکار ، گلوکار اور شاعر دیگر سہولیات کے علاوہ علاج معالجے سے بھی محروم ہیں
صوبے کی نمائندگی کرنے والے حلقوں کو عدم تحفظ اور مالی بدحالی کا سامنا ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے صوبائی حکومت کی دیگر پالیسیوں کی طرح کلچر پالیسی کو بھی انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی فنکار برادری کو شدید دُشواریوں کے علاوہ صحت جیسی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کا بھی سامنا ہے تاہم متعلقہ حکومتی ادارے اس سلسلے میں کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھا رہی اور صوبے کے فنکار دیگر حقوق تو ایک طرف علاج معالجے کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے پشتو کی نامور گلوکارہ وگمہ اور بعض دیگر فنکاروں کی حالت زار پر دُکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وگمہ سے اظہار یکجہتی کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وگمہ سمیت ان تمام فنکاروں ، گلوکاروں اور شاعروں کی بحالی صحت اور مالی امداد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے جن کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد علاج جیسی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں جہاں ایک طرف نشتر ہال اور دیگر اداروں کی فنی اور ثقافتی سرگرمیوں کیلئے کھول دیا تھا وہاں ان فنکاروں ، گلوکاروں اور شاعروں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو اعزازات اور مالی معاونت سے بھی نوازا۔ تاکہ ان حلقوں کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی ہو جو کہ صوبے اور خطے کی ثقافتی نمائندگی کا حق ادا کرتے آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد دیگر حلقوں کی طرح یہ اہم اور حساس طبقہ بھی بدترین عدم تحفظ اور مالی بدحالی کا شکار ہے تاہم متعلقہ اداروں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور فنکاروں کا احساس محرومی اب بدترین بددلی میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ لگ یہی رہا ہے کہ صوبے میں کلچر پالیسی نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔

مورخہ 19 اکتو بر2015ء بروز پیر

کالاباغ ڈیم کی تعمیر شیخ چلی کا خواب ہے جو پورا نہیں ہوگا ، ایوب خان
حکمران پختونوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ،سازشوں کو ناکام بنائیں گے
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے عوام کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا ، شمولیتی جلسہ سے خطاب

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر و سابق صوبائی وزیر ایوب خان اشاڑے نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کی موجودگی میں کوئی مائی کا لعل کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں کر سکتا ، کالاباغ ڈیم بنانا شیخ چلی کا خواب ہے جو کبھی بھی پورا نہیں ہو گا ، عوامی نیشنل پارٹی کالا باغ ڈیم کے نقصانات بارے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے مہم چلائے گی پنجاب کو خوش کرنے اور تینوں صوبوں کو پانی میں غرق کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی ، حکمران پختون قوم کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ،پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے مایوسیوں کے سوا عوام کیلئے کچھ نہیں کیا سوات کی ترقی کیلئے عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ، سیاسی مخالفین اے این پی کی ترقیاتی کاموں پر تختیاں لگا کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقہ مشکومئی میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بخت ضمیر خان ، شہزادہ ، فرید خان ، حسین گل ، بہری روم ، محمد ہارون ، شمس الحق ، احسان اللہ نے اپنے خاندان و سینکڑوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، اس سے قبل اے این پی کے رہنما عدالت خان آف چار باغ ، شعیب خان ، مہمد طاہر خان نے بھی خطاب کیا ایوب خان اشاڑے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کا ایک کا رکن بھی زندہ ہوں تو یہ سازشیں کا میاب نہیں ہو نگے ،پی ٹی آئی کے صوبا ئی حکومت نے ناکامیوں کے علاوہ صوبے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا سوات کی ترقی کے لئے اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں جو کچھ کیا ہے وہ ایک ریکا رڈ ہے سیاسی مخالفین اے این پی کے ترقیا تی کا موں کو تختیاں لگا کر عوام کو دھو کہ دئے رہے ہیں عوام کا اعتما د پی ٹی آئی پر ختم ہوا ہے حلقہ پی کے چھیاسی کو دوبا رہ اے این پی کا گڑ ہ بنا کر دم لینگے انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے چھیاسی میں عوام کا پی ٹی آئی پر اعتما د ختم ہوا ہے اور لو گ ایک دفعہ پھر اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں جو لا ئق تحسین ہے محمدایو ب خان نے شامل ہو نے والے ساتھیوں کا شکر یہ ادا کیا اور اپنے طرف سے ہر قسم تعاون کی یقین دہا نی کر ائیں

مورخہ 19 اکتو بر2015ء بروز پیر

صوبائی حکومت نے اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ ارباب طاہر خان
پختون روایات کے منافی حکومت اب انتقام کی آگ میں خواتین کو ہراساں کرنے پر تل گئی ہے
اے این پی کے کارکن گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں ، حکومت اپنے لئے مشکلات میں اضافہ نہ کرے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل نے صوبائی حکومت کی جانب سے سینیٹر ستارہ ایاز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے پختون روایات کے منافی قرار دیا ہے اپنے ایک بیان میں ارباب محمد طاہر خان خلیل نے کہا کہ ستارہ ایاز نے خواتین کے حقوق کیلئے جو قربانیاں دیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور حکومت اسی کا بدلہ لینے کیلئے ان کے خلاف انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے پختون روایات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اب اخلاقی اقدار کا جنازہ نکالتے ہوئے خواتین پر ہاتھ ڈال رہی ہے ، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے اپنے آلہ کار احتساب کمیشن کو لگام نہ دی تو اے این پی کا ہر ورکر میدان میں ہو گا اور اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی ، ارباب طاہر خان نے مزید کہا کہ ہم گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں تاہم ہم عدم تشدد کے فلسفے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سب کام چھوڑ کر سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے میں مصروف ہے جو اسے مہنگا بھی پڑ سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اوچھے اور مذموم عزائم سے باز رہے ورنہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔

مورخہ 19 اکتو بر2015ء بروز پیر

حکومت اتنی ہی زیادتی کرے جتنی کل برداشت کر سکے۔ ہارون بشیر بلور
ہمارے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنے والے اپنے مذموم عزائم پر نظر ثانی کر لیں ، ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ۔
تحریک طالبان کمزور پڑی توعورتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ،تحریک انصاف بھی اسی کے راستے پر چل رہی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اے این پی کے خلاف انتقامی کاروائی کا شوق پورا کر لے لیکن وہ اتنی ہی زیادتی کرے جتنی کل برداشت کر سکے ، سینیٹر ستارہ ایاز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے خلاف اپنے رد عمل میں انہوں نے کہا کہ ہمارے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنے والے ایک بار اپنے مذموم عزائم پر نظر ثانی کریں کیونکہ ہمارے مخالفین کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ، انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں اور اگر کسی کے خلاف بھی ثبوت ہیں تو پیش کئے جائیں ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ احتساب کمیشن بدقسمتی سے صوبائی حکومت کا آلہ کار بنا ہوا ہے اور اب یہ لوگ ذاتیات پر اتر آئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ جب تحریک طالبان کمزور پڑ گئی تھی تو انہوں نے عورتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا اسی طرح اب تحریک انصاف بھی آخری سانسیں لے رہی ہے اور اس نے عورتوں پر ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا ہے اور انہیں ہراساں کرنا اور انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا نا شروع کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن کے سیاسی انتقام اور تذلیل آمیز طریقہ کار کے خلاف آخری حد تک جائیں گے ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے علمبردار ہیں اور سیاست میں بھی عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں لہٰذا حکومت ہمیں مجبور نہ کرے ، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ہمارے گریبانوں میں ہاتھ ڈالا گیا تو حکومت کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں تمام کام پس پشت ڈال دیئے گئے ہیں ،اور حکومت نے اپنی تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کے خلاف کاروائی پر مرکوز کر رکھی ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی کو دیوار سے لگانے کی مذموم کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہونگی ۔

مورخہ 18 اکتو بر2015ء بروز اتوار
اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہونگی، سردار حسین بابک
سینیٹرستارہ ایاز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا قابل مذمت ہے ، احتساب کمیشن کے پاس اگر ثبوت ہیں تو سامنے لائے ۔
اے این پی کا ہر ورکر احتساب کیلئے تیار ہے اورپارٹی کو بدنام کرنے کی سوچ رکھنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی،
ڈنکے کی چوٹ پر حکومت کے مذموم عزائم ناکام بنائیں گے، احتساب کمیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،
میڈیا ٹرائل کے ذریعے لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کی اجازت کسی صورت نہیں دینگے،حکومتی ہتھکنڈے ہمارا راستہ نہیں روک سکتے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اے این پی کی سینیٹر ستارہ ایاز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمارا راستہ نہیں روکا جا سکتا ،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ احتساب کمیشن کے پاس ثبوت ہوں تو سامنے لائیں تاہم میڈیا ٹرائل کے ذریعے لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کی اجازت کسی صورت نہیں دینگے ،انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ستارہ ایاز اور ان کے سارے خاندان کو ذہنی اذیت دی گئی ان کے خاندان کے تمام افراد اور ان کے بچوں کو ہراساں کیا گیا ہے یہ احتساب کا کون سا طریقہ ہے،انہوں نے کہا کہ دنیا پر یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ اس احتساب کمیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی کا ہر ورکر احتساب کیلئے تیار ہے اور اے این پی کو بدنام کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ، سردار حسین بابک نے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ الیکشن 2013ء میں بندوق کی نوک پر اے این پی کو اسمبلی سے باہر رکھ کر اور اسے بدنام کر کے عوام سے جدا کر دیا جائے گا لیکن یہ ان کی خام خیالی تھی کیونکہ اے این پی کی جڑیں عوام میں ہیں اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہونگی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی عوام کے دلوں پر راج کرتی ہے لہٰذا میڈیا ٹرائل جیسے ہتھکنڈوں سے پارٹی کو عوام سے دور نہیں کیا جا سکتا ، انہوں نے مزید کہا کہ ڈنکے کی چوٹ پر حکومت کے مذموم عزائم ناکام بنائیں گے اے این پی اس ملک کی مضبوط اور منظم قوت ہے لہٰذا ان لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ ہم نے کبھی دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تو پھر یہ ٹولہ کیا چیز ہے انہوں نے کہا کہ مخصوص ٹولہ اپنے کرتوتوں میں بری طرح ناکام ہو گا ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ آج یہ لوگ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ہم برداشت کرنے کو تیا ہیں تاہم انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ کل جب ہم اقتدار میں ہونگے تو کیا وہ یہ سب کچھ برادشت کر پائیں گے ؟انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت احتساب کمیشن کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف اور سرکاری ملازمین کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ایک سال پہلے اسمبلی نے احتساب ایکٹ پاس کیا لیکن ان لوگوں نے پہلے سے احتساب کمیشن بنا ڈالا اس کا نوٹیفیکیشن بھی ایک سال بعد جاری کیا گیا لہٰذا اس احتساب کمیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جبکہ ڈی جی احتساب کمیشن کی مرضی ہے کہ جس کو چاہے بدنام کرنے کی کوشش کرے اور جسے چاہے گرفتار کروا لے ، کیونکہ ان کے خیال میں یہ شہر ناپرسان ہے اور یہاں کوئی کسی سے پوچھنے والا نہیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی ہر قسم کی زیادتی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

ورخہ : 16.10.2015 بروز جمعہ
اگر دوسروں کے منصوبوں پر تختیاں لگانا تبدیلی ہے تو صوبے میں واقعی تبدیلی آگئی ہے ’’ امیر حیدر خان ہوتی ‘‘
کالاباغ ڈیم کا ایشو عمران خان اور شہباز شریف نے پنجاب کے مخصوص حالات کے تناظر میں اُٹھایا ہے اسے کسی بھی صورت تعمیر نہیں ہونے دینگے۔
صوبائی حکومت ضلعی حکومتوں اور ناظمین کو جان بوجھ کر اختیارات منتقل نہیں کر رہی ’’ سردار حسین بابک ‘‘
باچا خان مرکز میں ارباب ایوب جان مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد، مرحوم لیڈر کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اگر ہمارے شروع کردہ ترقیاتی منصوبوں پر اپنے بورڈز لگانا اور ان کا افتتاح کرنا تبدیلی ہے تو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت یہ کام بہت اچھے طریقے سے سر انجام دے رہی ہے تاہم شرم کی بات یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے کئی برس گزرنے کے باوجود تبدیلی والی سرکار صوبے میں اپنے طور پر کوئی ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہ کر سکی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبہ ترقی کی بجائے پسماندگی کی راہ پر گامزن ہے۔ وہ جمعہ کے روز باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے مرحوم لیڈر اور سابق صوبائی وزیر ارباب ایوب جان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس سے دوسروں کے علاوہ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، ضلعی صدر ملک نسیم خان اور ارباب ایوب جان کے سیاسی جانشین ارباب عثمان نے بھی خطاب کیا۔ تعزیتی ریفرنس میں صوبہ بھر سے آئے ہوئے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ مقررین نے مرحوم ارباب ایوب جان کی سیاست ، خدمت اور کردار کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی موت کو صوبے کیلئے بڑا نقصان قرار دے دیا۔
صدارتی خطاب میں حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ الیکشن سے پہلے اور اس کے دوران جس طریقے سے ہمارے گرد گھیرا تنگ کر کے ہمیں دیوار سے لگایا گیا، اُس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے باوجود ہم میدان میں ڈٹے رہے اور صوبے کے حقوق اور مفادات کیلئے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مؤثر آواز اُٹھاتے رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی انہی حالات سے فائدہ اُٹھاتے اتفاقاً تو حکومت میں آگئی تاہم بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ اس پارٹی کی حکومت نے صوبے اور عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ آج تک جتنے بھی منصوبوں پر اپنے بورڈز لگائے گئے ہیں ان میں زیادہ تر اے این پی کے دور حکومت میں شروع کرائے گئے تھے۔ اگر دوسروں کے منصوبوں پر تختیاں لگانا ہی تبدیلی ہے تو یہ تبدیلی پی ٹی آئی کو مبارک ہو تاہم وقت آنے پر عوام خود ان سے پوچھیں گے کہ ان کے تبدیلی کے دعوے کہاں گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم ٹھوس شواہد اور حقائق کی بنیاد پر صوبے کی تباہی کا منصوبہ ہے اور جو لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں وہ صوبے کے علاوہ وفاق پاکستان کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہم پھر سے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی صورت اس ڈیم کو بننے نہیں دینگے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے جو منصوبے ہم نے اپنے دور میں شروع کرائے تھے ان پر کام تیز کر کے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا ایشو شہباز شریف اور عمران خان نے پنجاب کے مخصوص حالات سے فائدہ اُٹھانے کیلئے اُٹھایا ہے تاہم اس سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ ارباب ایوب جان صوبے کی سیاست کے درخشندہ اور مثالی کردار تھے اور اے این پی کی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے۔ ان کی خلاء کو پورا نہیں کیا جا سکتا تاہم ان سمیت دیگر لیڈروں کے افکار کو ہم آگے بڑھائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی ناکام پالیسیوں ، غیر سنجیدگی اور نا اہلی کے باعث صوبے کے عوام کو بری طرح مایوس کر دیا ہے۔ جس بلدیاتی نظام پر یہ لوگ فخر کیا کرتے تھے اُس نظام کو موجودہ حکومت اختیارات منتقل نہیں کر رہی اور اس میں ہچکچاہٹ سے کام لے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ قربانیوں اور خدمات سے بھری پڑی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی نہ صرف اس خطے کی مقبول ترین عوامی قوت ہے بلکہ اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری پارٹیوں کے کارکنوں کی بری تعداد بھی روزانہ کی بنیاد پر پارٹی میں شامل ہو رہی ہے۔

مورخہ : 17.10.2015 بروز ہفتہ

اے این پی کی صوبائی اضلاع کیلئے قائم کردہ کمیٹی جنوبی اضلاع کا دورہ کرے گی
چیئرمین عمران آفریدی کی قیادت میں کمیٹی 26 تا دو نومبر تک پارٹی کی فعالیت کیلئے سرگرم رہے گی۔

پشاور ( پریس ریلیز) اے این پی کاصوبائی اضلاع کے صوبائی کابینہ کے عہدیداروں پر مشتمل تشکیل کردہ کمیٹی کے چیر مین عمران آفریدی کی سربراہی میں 26 اکتوبر سے جنوبی اضلاع میں پارٹی کو فعال اور مضبوط بنانے کے لئے دورہ شروع کریں گے ۔اس دورے میں ان کے ساتھ کمیٹی کے سیکرٹری محمد ایوب اشاڑی ‘ خورشید خٹک اور پرویز خان ایڈووکیٹ شامل ہو ں گے ۔باچا خان مرکز پشاورسے جا ری ایک بیان کے مطابق 26 اکتوبر ٹانک‘ 27اکتوبرڈی آئی خان ‘ 28 اکتوبرلکی مروت 29 اکتوبربنوں ‘ 30 اکتوبرکرک ‘یکم نومبر ہنگو اور دونومبر کو کوہاٹ کا دورہ کریں گے پارٹی کی کمیٹی نے تمام ضلعی تنظیموں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مذکورہ تاریخوں پراپنے ضلاع کے ضلع کونسل کے اجلاس طلب کریں اور ساتھ ہی متعلقہ ضلع میں پارٹی کے سابقہ ممبران اسمبلی اور صاحب الرائے مشران گزشتہ جنرل الیکشن کے قومی اور صوبائی اُمیدواران ، بلدیاتی الیکشن کے تمام منتخب اُمیدواراور نامزد اُمیدواران سمیت تمام کارکنوں کو مدعو کریں تاکہ پارٹی ہدایت کی روشنی میں متعلقہ اضلاع میں پارٹی کو درپیش مسائل ، کارکنان کے تحفظات اور پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے تجاویز سمیت دیگر مسائل پر تفصیلی بحث اور آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دے دیا جائیگا۔ یہ کمیٹی متعلقہ اضلاع میں پارٹی اختلافات کو ختم کرنے ، ناراض کارکنوں کو منانے اور بلدیاتی اور دیگر انتخابات میں نافرمانی کرنے والوں کی رپورٹ بھی مرتب کرے گی اور صوبائی صدرامیر حیدر خان ہوتی کو متعلقہ اضلاع کی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس دورے کے دوران متعلقہ اضلاع کی تنظیموں کی کارکردگی کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔

مورخہ : 15.10.2015 بروز جمعرات

صوبے کو ملنے والے حقوق اور اختیارات کسی نے تحفے میں نہیں دیئے’’ سردار حسین بابک ‘‘
اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، فیڈریشن صوبوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔
صوبے کے حکمران اتحاد کی آئینی ذمہ داری ہے کہ صوبے کے مفادات کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

پشاور : ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم ، این ایف سی ایوارڈ اور دیگر آئینی اختیارات کے تحت صوبے کو ملنے والے حقوق پر کسی کو سودے بازی یا مصلحت کرنے نہیں دینگے اور صوبے کے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائیگا۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ آج صوبے کو جو آئینی حقوق حاصل ہیں ان کے حصول کیلئے اے این پی نے نہ صرف یہ کہ طویل جدوجہد کی ہے بلکہ تاریخی قربانیاں بھی دی ہیں ۔ یہ سب کچھ صوبے کو کسی نے تحفے میں نہیں دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک اور فیڈریشن کا مفاد اس میں ہے کہ چھوٹے صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے اور اٹھارویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ بعض حلقوں کی جانب سے ایسی کوششیں قابل تشویش اور ناقابل برداشت ہیں جن کے ذریعے صوبے کے اجتماعی مفادات کو زک پہنچے کا خدشہ ہو۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ صوبے کے حکمران اتحاد کی سیاسی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کے مفادات کا تحفظ کریں اور بنیادی معاملات پر صوبے کی اجتماعی رائے کا خیال رکھیں، بصورت دیگر عوام ان کا محاسبہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اُنہوں نے کالا باغ ڈیم پر وزیر اعلیٰ سندھ اور بعض دیگر لیڈروں کے واضح بیانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور متعلقہ اداروں کو فیڈریشن کی روح کے مطابق صوبوں کے حقوق اور مفادات کا خیال رکھنا چاہیے اور ایسی کوششوں یا بیانات سے گریز کرنا چاہیے جن کے نتیجے میں صوبوں اور عوام کے درمیان کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوسکتاہو۔ اس قسم کے رویوں کے نتائج ہم ماضی میں بھگت چکے ہیں اور ملک مزید کشیدگی یا باہمی فاصلوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ اے این پی اس صوبے کی نمائندہ قوت ہے اور ہم بہر صورت اس خطے کے امن ، خوشحال اور استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

مورخہ : 15.10.2015 بروز جمعرات

فاٹاسیاسی اتحاد کا 29ا اکتوبر کو پارلیمنٹ ہا ؤس کے سامنے سامنے مظاہرے کا اعلان
26 اور 27 اکتوبر کو پارلیمنٹرین سے مشاورت اور ملاقاتیں کرنے کے لئے دو کمیٹیاں تشکیل
فاٹا کو صوبہ میں ضم کرنے کے بل کو یقینی بنایا جا ئے ‘ لطیف آفریدی کا باچا خان مرکز میں اجلاس سے خطاب

پشاور (پریس ریلیز) آل پارٹیز فاٹا الائنس کے زیر اہتمام 29 اکتوبر کوپارلیمنٹ ہا ؤس اسلام آباد کے سامنے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حق میں ایک مظاہرہ کیا جائے گا جس میں آل پارٹیز فاٹا الائنس کے نمائندہ لیڈر وں کے علاوہ اتحاد میں شامل سیاسی پارٹیوں کے ہزاروں کارکن شریک ہوں گے اس سلسلے میں آل پارٹیز فاٹا الائنس کاایک اہم اجلاس عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالطیف آفریدی کی زیر صدارت باچا خان مرکز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں الائنس شامل جماعت اسلامی سے زرنور آفریدی ، ہارون آفریدی ، پیپلز پارٹی کے اخونزادہ چٹان ، اورنگزیب آفریدی ، قومی وطن پارٹی کے ظاہر شاہ ایڈووکیٹ حیان، پی ایم ایل (ق) کے آفتاب اور پی ٹی آئی فاٹا کے شاہد شنواری اور گل داد سمیت قبائل مشر وصال وزیر لالہ نے شرکت کی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالطیف آفریدی نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے بارے میں بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس بل پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں اجلاس میں کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے ان فیصلوں کے مطابق فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے حوالے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں جو سیاسی پارٹیوں سے رابطے کا کام کریں گی۔ عبدالطیف آفریدی نے یہ ہدایت بھی کی کہ 26 اور 27 اکتوبر کو فاٹا پارلیمنٹرین سے میٹنگ کی جائے اور 29 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کو ایک عالمگیر احتجاج بنایا جائے اس سلسلے میں اُنہوں نے فاٹا پارلیمنٹرینز کو ہدایت کی کہ ہر پارلیمنٹرین ایک ایک ہزار افراد بمعہ پارٹی جھنڈے کے احتجاج میں اپنی شرکت کو یقینی بنائے۔ فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے والے بل پر عمل درآمد کرانے اور سیاسی پارٹیوں سے رابطے کیلئے جو کمیٹیاں تشکیل دی ان میں پہلی کمیٹی میں عبدالطیف آفریدی ، ہارون رشید ، سینیٹر عبدالرشید ، اعجاز ایڈووکیٹ ، اخونزادہ چٹان اور عمران آفریدی شامل ہیں ، وہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں گے جبکہ دوسری کمیٹی میں ظاہر شاہ ، زرنور آفریدی ، اعجاز وکیل ، نثار مومند پاکستان مسلم لیگ کی صوبائی اور فاٹا قیادت سے ملاقات کریں گے۔ اجلاس میں شامل تمام سیاسی پارٹیوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما کے فیصلوں و تجاویز پر اتفاق کیا۔پولیٹکل الائنس فاٹا کے صدر اخونزادہ چٹان اور جنرل سیکرٹری ظاہر شاہ ایڈووکیٹ سمیت آل پارٹیز فاٹا الائنس کے پریس سیکرٹری نثار مومند نے اپنے الگ الگ خطاب میں عبدالطیف آفریدی کے فیصلوں کو سراہا اور اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مورخہ : 14.10.2015 بروز بدھ

اے این پی کو مزید مستحکم اور فعال بنانے کیلئے چار کمیٹیوں کی تشکیل
پشاور کیلئے ایمل ولی خان، ہارون بلور اورخوشدل خان جبکہ جنوبی اضلاع کیلئے ایوب اشاڑے ، عمران خان آفریدی ، خورشید خٹک اور پرویز خان شامل
ملاکنڈ ڈویژن کی کمیٹی سردار حسین بابک ، حسین علی شاہ ، جاوید خان یوسفزئی اور نثار خان پر مشتمل
ہزارہ کیلئے سید عاقل شاہ ، حاجی نمروز خان اور شاہد رضا شامل ، کمیٹیاں پارٹی کی ترقی کیلئے مزید اقدامات اُٹھائیں گی۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی کو مزید فعال بنانے کیلئے خیبر پختونخوا کیلئے پارٹی رہنماؤں پر مشتمل چار کمیٹیوں کے قیام کا اعلان کر دیا ہے جو کہ پورے صوبے کا دورہ کریں گی۔ کمیٹیوں میں جو افراد شامل ہیں ان میں وادئ پشاور کیلئے کمیٹی کے ارکان میں ایمل ولی خان ،ہارون بشیر بلور ، خوشدل خان ایڈوکیٹ ، جنوبی اضلاع کیلئے محمد ایوب خان اشاڑے ، عمران خان آفریدی ، خورشید خٹک ، پرویز خان ، ہزارہ کیلئے سید عاقل شاہ ، شاہد رضا ، حاجی نمروز خان ، ملاکنڈ ڈویژن کیلئے سردار حسین بابک ، حسین علی شاہ حسینی ، جاوید خان یوسفزئی اور نثار خان شامل ہیں۔ یہ کمیٹیاں اپنے اپنے ڈویژن کے متعلقہ اضلاع کا دورہ کریں گی۔ جس کے دوران کارکنوں کی شکایات سنی جائیں گی، پارٹی کی تنظیموں کو فعال بنائیں گی۔ اس کے علاوہ شمولیتی پروگراموں میں شرکت کریں گی اور پارٹی کو منظم بنانے اور ترقی دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھائیں گی۔
فیصلے کے مطابق یہ کمیٹیاں جلد تمام اضلاع کا دورہ کریں گی اور اضلاع کے اندر پارٹی اختلافات ختم کرنے کیلئے بھی اقدامات کریں گی۔ کمیٹیوں کی تشکیل اور مجوزہ دوروں کا مقصد مذکورہ مقاصد کے حصول کے علاوہ صوبہ بھر میں پارٹی کی سرگرمیوں اور فعالیت میں اضافے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

مورخہ : 14.10.2015 بروز بدھ
کالا باغ ڈیم ، کاریڈور ، دہشتگردی اور فاٹا سے متعلق ایشوز پر پشتونوں کے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائیگا۔’’ اسفندیار ولی خان ‘‘
اکنامک کاریڈور پر نواز شریف اور بعض دیگر حلقے پنجاب کے مفادات پر مبنی پالیسی پر گامزن ہیں۔
کالا باغ کے معاملے پر ہم ماضی کی طرح اُصولوں پر مبنی مؤقف کے تناظر میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
ہمیں ایک بار پھر پیغام دیا جا رہا ہے جیسے پنجاب پاکستان کا اور پاکستان پنجاب کے مفادات کا نام ہے۔
پر امن افغانستان درحقیقت پاکستان کی بھی بنیادی ضرورت ہے۔ وہ دور گزر چکا جب کابل میں طالبان وغیرہ تخت پر بٹھائے جاتے تھے۔
فاٹا کے معاملات سے الگ نہیں رہ سکتے ، فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے مین سٹریم پالیٹیکس میں لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح اور ضرورت کے مطابق عمل کرنا لازمی ہے، باچا خان مرکز میں پارٹی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم ، پاک چائنا کاریڈور ، افغانستان کے امن ، دہشتگردی اور فاٹا کے اصلاحات جیسے بنیادی ایشوز پر اے این پی کی پالیسی بالکل واضح اور اٹل ہے اور ان معاملات پر پشتونوں اور صوبے کے مفادات کا ہر صورت اور ہر قیمت پر تحفظ کیا جائیگا۔
باچا خان مرکز میں اے این پی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اہم اجلاس سے اپنے تفصیلی خطاب میں اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کے علاوہ اندرونی طور پر بہت سے خطرات لاحق ہیں اور ملک واقعتاً بہت پیچیدہ اور نازک دور سے گزر رہا ہے تاہم بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور بعض ادارے اب بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خواہش مند ہیں اور کاریڈور کے ایشو پر بھی نوازشریف سمیت بہت سے حلقے صرف پنجاب کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ماضی کے بہت سے طاقتور اور بااختیار حکمران نہ بنا سکے تو موجودہ حکمرانوں کی کیا اوقات ہے کہ اس کی تعمیر کی جرأت کریں ۔ اگر کسی نے ایسی کوئی جرأت کی تو ہم صوبے کے مفاد میں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔کاریڈور کے ایشو پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عمران خان کی طرح وزیر اعظم نوازشریف بھی اپنی پالیسیوں اور اعلانات پر یوٹرن لینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ اور ان کے وزراء اے پی سی کے اس متفقہ فیصلے کی روگردانی کر رہے ہیں جس کے مطابق کاریڈور کے مغربی روٹ پر کام کا آغاز ہونا تھا اورجس سے صوبہ پختونخوا کے مفادات کا تحفظ ممکن ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں ایک بار یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پنجاب ہی پاکستان اور پاکستان ہی پنجاب ہے۔ اگر یہ رویہ تبدیل نہیں کیا گیا اور مخصوص ذہنیت کے ذریعے پاکستان کو چلایا جاتا رہا تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج اور اثرات مرتب ہونگے۔ پاکستان ایسی غلطیوں کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔
اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کے امن سے پاکستان اور خطے کا امن اور استحکام مشروط ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی آمد کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کا جو ماحول بن گیا تھا بوجوہ وہ قائم نہ رہ سکا۔ لگ یہ رہا ہے کہ بعض حلقے اب بھی پرانی روش اور پالیسیوں پر چل رہے ہیں تاہم یہ بات واضح کرنا بہت لازمی ہے کہ اگر افغانستان کیلئے امن لازمی ہے تو پاکستان کو امن کی دُگنی ضرورت ہے۔ اے این پی کے سربراہ نے مزید بتایا کہ وہ دور گزر چکا ہے جب طالبان یا ایسے دیگر عناصر کو کابل کے تخت پر بٹھایا جا رہا تھا۔ آج کا افغانستان اور موجودہ حالات بہت بدل چکے ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کا رویہ ترک کر کے امن کیلئے خلوص نیت سے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
صوبے کے حالات اور گورننس پر تشویش کا اظہار کرتے وہئے اُنہوں نے کہا کہ عمران خان نے بنی گالہ میں ایک ایسی مشین لگا رکھی ہے جس سے وہ جس کو بھی چاہیں دھو ڈالیں اس کی تازہ مثال قومی وطن پارٹی کو کرپشن کے سنگین الزامات کے ذریعے علٰحیدگی کے بعد اب پھر سے حکومت کا حصہ بنانے کا فیصلہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان کی نفسیات یہ بن گئی ہیں کہ وہ جس بھی حلقے سے ہار جائیں وہ وہاں دھاندلی کا شور مچا دیتے ہیں تاہم جس حلقے سے ان کے اُمیدوار کامیاب ہوں وہ الیکشن شفاف ہوتے ہیں۔
فاٹا کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہم فاٹا میں وسیع ترین سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے حامی ہیں اور ہمارا روز اول سے مؤقف رہا ہے کہ اس کو صوبے کا حصہ بنایا جائے اور فاٹا کو مین سٹریم پالیٹکس کا حصہ بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا ہم ابھی تک انگریز دور کی کھینچی گئی تقسیم در تقسیم کی لکیروں کے اثرات اور نتائج بھگت رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام پشتونوں کے وسیع تر مفادات کے تناظر میں ان کے اتحاد اور قربت کے امکانات کو عملی بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے اے این پی اس خطے کی مائندہ پارٹی کے طور پر اپنا مؤثر اور واضح کردار ادا کرتی رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح اور ضرورت کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ، افغانستان اور پورے خطے سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے اور درپیش خطرات کا کاتمہ بھی یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم تشدد ، جنگ اور منفی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ سیاسی جدو جہد کے داعی ہیں تاہم اپنے عوام کے حقوق پر کسی قسم کی سودے بازی ہونے نہیں دینگے اور اس بات کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے کہ اس خطے کی نمائندگی کا اپنا سیاسی کردار بخوبی نبھا سکے۔

بجلی گھروں کی تعمیر پرائیویٹ سیکٹر کو سونپنے سے صوبہ بجلی کے خالص منافع سے محروم ہو جائے گا ، امیر حیدر خان ہوتی

مرکزی و صوبائی حکومتیں آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی اور بحالی کیلئے ہنگامی طور پر اقدامات کریں

عمران خان اپنے وعدوں کے مطابق ترقیاتی فنڈز ضلعی حکومتوں کو منتقل کریں ، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے تاہم دونوں ممالک کی حکومتوں اور ریاستی اداروں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہئے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور مین صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ افغانستان مین انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کے ساتھ تعلقات کا آغاز خوشگوار انداز میں ہوا تاہم بعد ازاں بعض پالیسیوں کی وجہ سے دونوں ممالک میں اعتماد کا فقدان بڑھنے لگا ، انہوں نے کہا کہ پاک افغان حکومتوں کو مل کر تمام مسائل کا متفقہ حل تلاش کرنا چاہئے ، انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کالاباغ ڈیم پختونوں کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے تاہم اس مسئلے کو دوبارہ چھیڑا جا رہا ہے جس سے قومی یک جہتی کی بننے والی فضاء کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ، صوبائی صدر نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اے این پی کا مؤقف واضح ہے اور جب تک باچا خان بابا کا ایک پیروکار بھی زندہ ہے کالاباغ ڈیم کسی صورت نہیں بننے دینگے ،انہوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے اس قسم کے ایشو اٹھا کر اتفاق رائے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ،انہوں نے کہا کہ ملک کے تین صوبے جسے اپنی اسمبلیوں میں مسترد کر چکے ہیں اس مسئلے کو اٹھا کر کیا فائدہ حاصل کیا جانا مقصود ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن پنجاب کو خوش کرنے کیلئے اپنا صوبہ تباہ نہیں کر سکتے ،پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کے حوالے سے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ وزیر اعظم نے اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کا اعلان کیا تھا تاہم وہ اس اعلان سے مکر گئے اور مغربی روٹ کی بجائے اب مشرقی روٹ پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ مشرقی اور مغری روٹ پر ہونے والے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا جائے گا اور جہاں بھی اس میں کوئی خامی نظر آئی اس کے خلاف ہم آواز اٹھائیں گے ، انہوں نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ صوبے میں بجلی گھر بنانے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لایا جا رہا ہے جبکہ صوبے کے پاس ان بجلی گھروں کی تعمیر کیلئے فنڈز بھی موجود ہیں انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے کہ پبلک سیکٹر کو فائدہ پہنچانے کی بجائے پرائیویٹ بزنس مین کو کیوں نوازا جا رہا ہے حالانکہ ان اقدامات سے صوبہ بجلی کے خالص منافع سے بھی محروم ہو جائے گا اور اس کے فوائد عوام تک بھی نہیں پہنچ پائیں گے ، امیر حیدر ہوتی نیصوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کر کے یہ منصوبے پبلک سیکٹر کے زیر انتظام مکمل کئے جائیں ، فاٹا اور آئی ڈی پیز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فاٹامیں انتظامی اصلاحات ہونی چاہئیں اور فاٹا کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کو کرنا چاہئے ، انہوں نے فاٹا کے ارکان اسمبلی کی جانب سے اسمبلی میں بل پیش کرنے پر انہیں خراج تھسین پیش کیا اور کہا کہ اے این پی پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر اس بل کی مکمل حمایت کرتی ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی کبھی بھی ایسے عناصر کی حمایت نہیں کرے گی جو بلواسطہ یا بلا واسطہ دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہے ہوں تاہم انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کو مل کر آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی کی بحالی کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں اور جن لوگوں کے کاروبار اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے ان کو مکمل سپورٹ کیا جائے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ کسان پیکج خیبر پختونخوا میں فی الفور نافذ کیا جائے کیونکہ یہاں بلدیاتی الیکشن ہو چکے ہیں اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کسان پیکج الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیںآتا ، صوبائی صدر نے مزید کہا کہ چترال میں سیلاب متاثرین کے مسائل جو ں کے توں ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیلاب متاثرین کے مسائل جلد حل کئے جائیں، پارٹی کے ھوالے سے انہوں نے اپنا مؤقف دہرایا کہ پارٹی میں جزا و سزا کا عمل جاری رہے گا اور بلدیاتی الیکشن میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کیلئے صوبے کو چار زونز پشاور ویلی ، جنوبی اضلاع ، ملاکنڈ زون اور ہزارہ زون میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں صوبائی کابینہ کے ممبران پر مشتمل چار کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں ، جو ان علاقوں کا دورہ کریں گی اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں مرکزی قائدین پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے گی جو مختلف علاقوں کا دورہ کر کے پارٹی پیغام گھر گھر پہنچائیں گی،ایک سوال کے جواب مین انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ترقیاتی فنڈز ایم پی ایز سے لے کر ضلعی حکومتوں کو منتقل کرنے کے دعوے کہاں گئے ، انہوں نے کہا کہ لگتا ہے ایم پی ایز ترقیاتی فنڈز سے دستبردار ہونے کو تیار ہی نہیں جبکہ بلدیاتی الیکشن ہو چکے ہیں اور صوبہ بھر میں ضلعی حکومتیں بھی بن چکی ہیں ،انہوں نے کہا کہ کپتان اس سلسلے میں اپنے وعدے پورے کریں اور ترقیاتی فنڈز ضلعی حکومتوں کو منتقل کئے جائیں

اکتوبر ۱۲

اضلاع کے پاس کسی کارکن کی رکنیت معطل کرنے کا آئینی اختیار نہیں ، سردار حسین بابک
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن اور اس کے علاوہ پارٹی پالیسیوں اور آئینی خلاف ورزی کرنے والوں کی رپورٹس صوبے کو ارسال کرنے کیلئے کہا گیا ہے لہٰذا اضلاع جلد از جلد اپنی رپورٹس صوبائی تنظیم کے حوالے کر دیں ، انہوں نے بعض اخبارات میں پارٹی کارکنوں کو نکالنے اور ان کی رکنیت معطل کرنے کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اضلاع کے پاس کسی کارکن کی رکنیت معطل کرنے اور پارٹی سے نکالنے کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس طرح کے اخباری بیانات سے گریز کریں اور اس طرح کے بیانات جاری کرنے سے اجتناب کریں ، انہوں نے کہا کہ اضلاع صوبے کو اپنی رپورٹ بھیجیں گے اور صوبائی تنظیم شکایت کنندہ اور جس کے خلاف شکایت ہو گی دونوں کو سننے کا پورا موقع دے گی اور پارٹی کے عظیم تر مفاد میں نظم و ضبط کو قائم رکھتے ہوئے بغیر پسند و نا پسند کے آئین کے تحت سزا و جزا کا عمل جاری رکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ کارکن پارٹی کا اثاثہ ہیں تاہم آئین اور نظم و ضبط پر عمل کرنا سب پر لازم ہے ، سردار بابک نے کہا کہ پارٹی کو مضبوط بنانے اور عوامی رابطوں کو تیز کرنے کیلئے تمام تنظیموں کو رابطہ عوام مہم تیز کرنی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی ایک مضبوط اور منظم سیاسی جماعت ہے لہٰذا نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور اس کی پابندی سب پر فرض ہے۔

ارباب محمد عثمان عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی مجلس عا ملہ کے ممبر نامزد

پشاور (پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی امیر حیدر خان ہوتی نے اے این پی کے سابق صوبائی وزیر اور سینئر رہنما مرحوم ارباب ایوب جان کے صاحبزادے ارباب محمد عثمان کو عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی مجلس عا ملہ کا ممبر نامزد کر دیا ہے ۔اوران کی نامزدگی کا باقاعدہ نوٹی فیکیشن بھی اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان خان مرکز پشاورسے جاری کر دیا ہے ۔

عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس 14اکتوبر کو طلب کر لیا گیا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس مورخہ14اکتوبر2015ء بروز بدھ صبح دس بجے باچا خان مرکز پشاور میں طلب کر لیا ہے ، اجلاس میں تنظیمی امور اور کارگزاری رپورٹ سمیت موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی بحث کی جائیگی ۔پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے تمام ممبران کو اجلاس میں بروقت شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

پختون ایس ایف کی تمام تنظیمیں معمول کے مطابق بحال ہیں ’’ ایمل ولی خان ‘‘
جلد نئی فارم سازی کا اعلان کیا جائیگا، رکنیت سازی فارم باچا خان مرکز سے تقسیم کیے جائیں گے

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور پختون ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پختون ایس ایف کی تمام تنظیمیں معمول کے مطابق بحال ہیں۔ پختون ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ بدستور اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ پختون ایس ایف کی نئی فارم سازی کا عمل تاحال شروع نہیں ہوا ہے اور بہت جلد نئی فارم سازی کا اعلان کیا جائیگا اور عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے رکنیت سازی فارم تقسیم کیے جائیں گے۔ اُنہوں نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائیگی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']