June-2015

 

مورخہ 25جون 2015ء بروز جمعرات
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی محمد عدیل جو کہ صوبہ پختونخوا کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں، اُنہوں نے اپنے ایک اخباری بیان میں وزارت بجلی اور پانی کی جانب سے شائع شدہ ایک فل پیج اشتہار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اشتہار پر وفاقی حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں جو کہ عوام کے ٹیکس سے جمع ہوتے ہیں، یہ اشتہار ایک پریس کانفرنس کی صورت میں بھی جاری کیا جا سکتا تھا۔ اشتہار کا مفہوم یہ ہے کہ بجلی نہ تو مفت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی مفت تقسیم کی جا سکتی ہے۔ حاجی محمد عدیل نے کہا کہ ہم بھی یہی کہتے ہیں ، اے این پی بھی یہی کہتی ہے اور اس صوبے پر حکومت اے این پی کی تھی یا جمعیت علمائے اسلام کی تھی یا آج پیپلز پارٹی یا جماعت اسلامی کی ہے وہ سب بھی یہی کہتے ہیں ککہ بجلی نہ تو مفت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی مفت تقسیم کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے پختونخوا میں جو بجلی پیدا ہوتی اس کی مقدار چار ہزار سے پانچ ہزار میگاواٹ کم و بیش ہے، اُسے واپڈا حکومت کا ادارہ اور خود وفاقی حکومتیں مفت لیتی ہیں اور نہ ہی اُس کے واجبات کی ادائیگی کرتے ہیں اور یہ چوری ، ڈاکہ بلکہ سینہ زوری گزشتہ کئی عشروں سے جاری ہے۔ وفاقی حکومت اور اس کی بجلی کی قیمت جو کہ اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق موجودہ سالوں میں تقریباً 45 ارب روپے سالانہ بنتا ہے جو ہمیں نہیں دیا جا رہا ۔ ماضی میں ایک ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق جو کہ دس ارب روپے 2005 ء تک بنتے تھے وہ بھی دینے سے واپڈا انکاری تھا۔ چونکہ زرداری صاحب کی حکومت نے اور اے این پی نینشل فنانس کمیشن جس کا میں ممبرتھا وفاق کو مجبور کیا کہ وہ پانچ قسطوں میں ادائیگی کرے۔ جس کی آخری قسط اس سال 30 جون تک مل چکی ہو گی۔ لیکن 2005 سے لیکر 2015 تک گزشتہ دس سالوں میں ہماری بجلی جو کہ پانی سے پیدا کی جاتی ہے اور جس کی کاسٹ آج مہنگائی کے دور میں بھی 1.25 پیسے آ رہی ہے اُس کے منافع کی رقم آئین کے مطابق صوبے کا حق بنتا ہے جو کہ صوبہ پختونخوا کو نہیں دیا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 1990-91 سے ہمیں چھ ارب روپے پر ٹرخایہ جا رہا ہے جبکہ ہمارے مقابلے میں پنجاب دسواں حصہ بھی پیدا نہیں کر رہا ہے اور اُسے اس کی مد میں باقاعدگی کے ساتھ پانچ ارب روپے سالانہ دیا جا رہا ہے۔ یہ کھلم کھلا چوری ہے اور اس کے اوپر سینہ زوری یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں نے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہم جس قدر بجلی پیدا کرتے ہیں اُس کا نصف وفاق لے جائے اور باقی نصف ہمیں دیا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارا یہ مطالبہ بھی پورا نہیں ہورہا ہے اور ہمیں بمشکل 1300 میگا واٹ بجلی دی جا رہی ہے اگر ہمارا مطالبہ پورا کیا جائے اور ہمیں اپنی پیدا کردہ بجلی کا نصف دے دیا جائے تو پختونخوا میں لوڈ شیڈنگ بالکل نہ ہو۔ لیکن بدقسمتی سے صوبہ پختونخوا کو نہ منافع کی رقم مل رہی ہے اور نہ ہمیں اپنی بجلی کے خود استعمال کرنے کا حق دیا جا رہا ہے، اُلٹا ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ایک بوسیدہ ڈسٹریبویشن سسٹم رکھنے والے ادارے صوبائی حکومت لے لیں جو کہ اپنی ناکامیوں اور وفاقی حکومت اور واپڈا کی وجہ سے اربوں روپے مقروض ہو چکا ہے۔ اُس سے جان چھڑائی جا رہی ہے۔ ہمارے مختلف اداروں صوبائی اسمبلی میں کئی بار یہ قراداد پاس ہوچکی ہے کہ جنریشن اور ڈسٹریبویشن دونوں ہمارے صوبے کے حوالے کیے جائے اور ہمارے بقایا اربوں روپے وفاق ہمیں دے۔ جس کی گارنٹی وفاقی صدر اسحاق خان نے 1990 میں اپنے صدارتی حکم نامے میں ہمیں دی تھی۔ بدقسمتی سے موجودہ صوبائی حکومت غیر ضروری مسائل میں اُلجھی ہوئی ہے اور اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور نہیں کر رہی اور وفاقی حکومت کی میٹنگ میں جھوٹے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے اپنے مطالبے میں کمی کرتے ہوئے 17 ارب تک آگئی ہے۔ جو اے جی این قاضی فارمولے سپریم کورٹ کے فیصلے اور کونسل آف کومینیٹر کے ماضی میں کئی بار دئیے ہوئے فیصلوں کی روح کے خلاف ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت بجلی بجائے کروڑوں روپے اشتہاروں پر خرچ کرنے کے یہ رقم پختونخوا حکومت کو دے تاکہ بجلی کے واجبات میں تھوڑی سی کمی آسکے۔

مورخہ 25جون 2015ء بروز جمعرات
پشاور ( پ ر )اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے صوبائی اسمبلی کو رائٹ ٹو انفارمیشن آر ٹی آئی کے دائرے سے نکالنے پر صوبائی حکومت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا صوبائی اسمبلی مقدس گائے ہے؟ صوبائی اسمبلی میں سپیکر کی صوابدیدی اختیارات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کسی ضابطے ، قانون ، اخلاقیات کی پروا کیے بغیر اپنے منظور نظر لوگوں کو باآسانی بھرتی کر سکتا ہے‘شوکاز نوٹس دے سکتا ہے ، انکوائری کر سکتا ہے اور یہاں تک کہ برخواست بھی کر سکتا ہے یعنی سیاہ اور سفید کامالک ہوتا اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اپوزیشن کو نظر انداز کر کے حکومت کو خوب نوازا جاتا ہے جبکہ صوبے کے تمام محکموں اور حکومت کے حوالے سے تمام تر بزنس اسمبلی سے ہو کر گزرتا ہے اگر اسمبلی مستثنیٰ قرار دی جائے تو پھر آر ٹی آئی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی کسی محکمے کی معلومات حاصل کرے گا تو جواباً عرض کیا جائیگا کہ اسمبلی میں اس کے حوالے سے سوال کیا گیا ہے لہٰذا ہم معلومات دینے سے قاصر ہیں اور اس بہانے تمام محکموں کو چھٹکارا مل جائیگا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ جب میں وزیر اطلاعات تھا تو ملکی اور بین الاقوامی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندے مجھ سے اکثر یہ سوال کیا کرتے تھے کہ آر ٹی آئی ایکٹ کا کیا بنا۔ لہٰذا امن و امان اور دہشتگردی کے پریشر کے باوجود ہم نے آر ٹی آئی ایکٹ کو بھرپور توجہ دی۔ ہم نے ایکٹ یتار کیا پھر اس کے بعد کیبینٹ میں لیکر گئے وہاں سے پاس کروایا۔ بہت سارے لوگوں کے تحفظات کے باوجود ہم اسمبلی کے ایجنڈے پر لیکر آئے ، وہ آخری ایجنٹ اسملبی میں آنے سے قبل ہماری حکومت کی مدت پوری ہوگئی اور بنی بنائی آر ٹی آئی ایکٹ موجودہ حکومت کے حوالے کر دی اور من و عن اس کو اسمبلی میں پاس کرایا گیا یعنی موجودہ حکومت کو اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ اس میں اسمبلی بھی شامل ہے۔ اس لیے آج ان کو اسمبلی مستثنیٰ قرار دینے کی ضرورت پیش آئی۔ اے این پی حکومت کے تیار کردہ ایکٹ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پی ٹی آئی نے اپنا خوب چرچا کیا مگر آخر کار بلی تھیلے سے باہر نکل آئی اور 23 جون کو اسمبلی سے پاس ہونے والے ترمیمی بل کے تحت اسمبلی اب اُن سرکاری اداروں کی فہرست میں شامل نہیں رہی۔ جہاں جہاں آر ٹی آئی قانون کے تحت معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اسمبلی کو مستثنیٰ قرار دینا نہایت قابل مذمت ہے اس پر ستم ظریفی یہ کہ بل کا حتمی مسودہ جیسے ووٹنگ کیلئے پیش کیا گیا کسی کو بھی فراہم نہیں کیا گیا تھا اور آخر میں اسمبلی کو مستثنیٰ قرار دینے کا اضافہ کیا گیا۔ یعنی اسمبلی کے ممبران کی آنکھوں میں دھول جھونک کر چوری چھپے مجرمانہ انداز میں یہ کام کیا گیا۔ یہاں تو صرف اسمبلی کی بات ہے پنجاب میں ہائی کورٹ بھی آر ٹی آئی کے زمرے میں آتا ہے۔ شفافیت کے دعویدار اور کرپشن کا خامتہ کرنے والے اس طرح کے اقدامات اُٹھا رہے ہیں جو مفاد عامہ کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی چیز عوام سے پوشیدہ نہیں ہونی چاہیے مگر موجودہ حکومت ہاتھی کا دانت کھانے اور دکھانے کے اور کے مصداق سے کام کر رہی ہے۔ ہر روز تباہی و بربادی کا سامان لانے میں اپنی قوت صرف کرتے ہیں۔ آر ٹی آئی میں صوبائی اسمبلی کو فی الفور شامل کیا جائے اور حکومت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے بازآئے۔

کراچی۔ جمعرات 25جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ کراچی کی عوام کوسیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نہیں بلکہ مسائل سے چھٹکارے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے ملک کا معاشی حب جس قسم کی توجہ کا مستحق تھا اس سے وہ اب تک محروم ہے ہزاروں شہریو ں کی جان سے ہاتھ دھونے کے باوجود مرکزی و صوبائی حکومتیں اپنی جان چھڑانے کے لیے بیان بازی میں مصروف ہیں شدید گرمی سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور مرکزی و صوبائی حکومتیں ذمہ دارایاں ایک دوسرے پر ڈال کر اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہیں کراچی کے مسائل کا حل کبھی بھی صوبائی حکومت کی ترجیح نہیں رہا ہے ایک طویل عرصے سے کراچی میں پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے جس کا ارباب اختیار کوئی مناسب جواب دینے سے یکسر قاصر ہیں کراچی کی عوام کو شدید گرمی،پانی کی شدید قلت ،بدترین لوڈ شیڈنگ اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کی عدم توجہ کا بیک وقت سامنا ہے دکھ و مسائل جھیلنا ہی کراچی کے شہریوں کا مقدر بن چکا ہے اب بھی وقت ہے شہر یوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں شہریوں میں احساس محرومی کے خاتمے کے اور مشکلات کی کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

مورخہ 25جون 2015ء بروز جمعرات
دھاندلی ثابت ہونے کے بعد حکومت کو اقتدار میں رہے کا حق نہیں ، سردار حسین بابک
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سر دار حسین بابک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے مبینہ دھاندلی اور بد انتظامی کے ثبوت آنے کے بعد صوبائی حکومت کے اقتدار میں رہنے کا اخلاقی جواز نہیں بنتا ،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف 365پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن کا اعلان اس کی واضح مثال ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات بدترین دھاندلی اور بد انتظامی ہوئی ہے جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا میں دھاندلی کے حوالے سے کوئی کیس سامنے آیا تو دوبارہ الیکشن کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب عمران قوم کو بتائیں کہ کیا وہ اب حکومت چھوڑنے اور دوبارہ انتخابات کیلئے تیار ہیں یا نہیں ،انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کا رول مکمل ختم کر دیا گیا تھا جبکہ حکومتی مداخلت اور اور اثر اندازی کے باعث الیکشن کمیشن کو بلا اختیار کر دیا گیا تھا ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ ڈی آر اوز اور آر اوز کو کھلے عام دھمکیاں دے کر نہ صرف الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں کیں ؂بلکہ الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہو نے کی کوشش کر تے رہے، انہوں نے کہا کہ اب چیف الیکشن کمشنر کے مختصر فیصلے کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ تبدیلی لانے کے دعویدار انصاف اور شفافیت پر کتنا یقین رکھتے ہیں اور اب ساری قوم کو معلوم ہونا چاہئے کہ تبدیلی لانے والے کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں اور اب انہیں صاف نظر آ رہا ہے کہ ان کی حیثیت اب عوام میں نہیں رہی لہٰذا حکومتی ذرائع اور وسائل کے ذریعے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکی ڈالنے کی ٹھان رکھی تھی۔

مورخہ 24جون 2015ء بروز بدھ
ای پی آئی گاوی پراجیکٹ کے برطرف ملازمین کا بنی گالہ میں احتجاج افسوسناک ہے ۔ ایمل ولی خان
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے ای پی آئی گاوی پراجیکٹ کے برطرف ملازمیں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمین کا شدید گرمی اور رمضان کے مہینے میں بنی گالہ میں احتجاج کرناانتہائی افسوسناک ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انصاف کے نعرے لگانے والے آئے روز سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر رہے ہیں جبکہ بنی گالہ میں احتجاج کرنے والے تحریک انصاف یا حکومت کے کسی بھی نمائندے کا مذاکرات نہ کرنا اور ان کے مسائل نہ سننا انتہائی نامناسب ہیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں کو روزگار دیں گے تاہم وہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں تمام محکموں سے سرکاری ملازمین کو نکالنا سرکاری ملازمین کی تذلیل کرنا اور انہیں گالیاں دینا موجودہ حکومت کا طریقہ واردات ہے ، انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے اس دور میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بے روزگاری پر قابو پانے کیلئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں اور مہنگائی میں کمی لانے کیلئے اقدامات کریں ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے دور میں سپیشل پولیس فورس نے ملک و قوم کے دفاع کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں حکومت کا بجٹ میں سپیشل پولیس فورس کی مستقلی کے احکامات نہ کرنا زیادتی ہے ، سپیشل پولیس فورس کی کارکردگی اور قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت انہیں فوری طور پر مستقل کرے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مرکزی حکومت صوبے کے حقوق سلب کر رہی ہے ۔

مورخہ 24جون 2015ء بروز بدھ
پشاور ( پ ر )اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کراچی میں تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد کی وفات پر رنج و غم اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ شدید گرمی میں مسلسل لوڈ شیڈنگ اور اس کے نتیجے میں کراچی میں تقریباً ایک ہزار اموات کا واقع ہونا حکومت کی سنگین بے حسی کا نتیجہ ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کی کوششوں میں لگی ہوئیں ہیں۔ساتھ میں کراچی الیکٹرک کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ حقیقت حال تو یہ ہے کہ مرکزی صوبائی حکومت اور کراچی الیکٹرک کمپنی تینوں غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سندھ اور کراچی میں تاریخ کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ یہی صورتحال خیبر پختونخوا میں بھی برقرار ہے اور صوبے کی تاریخ میں اتنی لمبی لوڈ شیڈنگ یعنی اس رمضان کے مہینے میں اتنا طویل دورانیہ کہ آخر کار عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ احتجاج نے گھیراؤ جلاؤ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ مسئلے کے حل کی بجائے دھمکی دیتے ہیں کہ واپڈا ہاؤس پشاور اور بجلی تنصیبات کو نیست و نابود کر دینگے، یعنی آگ پر تیل ڈالنا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں مل بیٹھ کر اس بحران سے نمٹنے کیلئے کوئی منصوبہ بندی کرے اور عوام کو اس قیامت خیز صورتحال سے نکالیں۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو عوام انتہائی اقدام اُٹھانے پر مجبور ہونگے اور اے این پی بھی عوام کا بھرپور ساتھ دے گی کیونکہ مزید یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کراچی میں رمضان المبارک اور بدترین گرمی کے دوران پانی کی شدید قلت ہے ۔ حکومت چاہے تو اس پر فی الفور قابو پاسکتی ہے، اگر وہ اس کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھائیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس دوران جتنے لوگ مر گئے ہیں اُن کے لواحقین کو کمپنسیشن دی جائے، اورمتاثرہ لوگوں کا علاج و معالجے کا بندوبست کیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ بجلی کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے جبکہ لوڈ مینجمنٹ کر کے اس کا حل نکالا جا سکتا ہے، شہریوں کیلئے ہیٹ سٹروکس سینٹرز بنائے جائیں۔ حکومت کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اس مصیبت کی گھڑی میں عوام کا ساتھ دینے کیلئے دفتروں سے نکل کر مرنے والوں کے لواحقین کے پاس جائیں اور متاثرہ افراد کیلئے ہسپتالوں کارخ کریں اور طبی سہولیات کا جائزہ لیں اور انتظامات کی نگرانی کرے، ان مصیبت کے گھڑیوں میں عوام کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔

مورخہ 24جون 2015ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پارٹی کی مرکزی خاتون نائب صدر بشریٰ گوہر کو پارٹی کے سوشل میڈیا افیئرز کا انچارج مقرر کر دیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ فور طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال کر کام شروع کریں ۔

مورخہ 24جون 2015ء بروز بدھ
اسمبلی کو بائی پاس کر کے بلوں میں ترامیم کرنے کے حکومتی اقدامات افسوسناک ہیں ۔ سردار حسین بابک
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے معلومات تک رسائی کے بل میں ترمیم کر کے صوبائی اسمبلی کو مبرا کر نے کے حکومتی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے ، پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر وترجمان سردار حسین بابک نے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن کے بائیکات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معلومات تک رسائی کے بل سے صوبائی اسمبلی کو مبرا کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ، انہوں نے کہا کہ نظام میں شفافیت لانے والے اور کرپشن کے خاتمے کے دعویدار اس طرح کے اقدامات اٹھا رہے ہیں جو مفاد عامہ کے خلاف ہیں ،انہوں نے کہا کہ عوام کو سب کچھ معلوم ہونا چاہئے جبکہ حکومت کے اس اقدام سے اس کی بد نیتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ صوبائی بجٹ وزیر اعلیٰ کے منظور نظر وزراء اور ارکان اسمبلی کیلئے بنایا گیا ہے اور صوبے کے چند حصوں کے علاوہ باقی صوبے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے ،سردار بابک نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ صوبے میں پچھلے 2سال سے حکومت کی طرف سے لگائی گئی تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود تعلیمی بجٹ میں کمی کی گئی ہے جو نقصان دہ اور افسوس ناک ہے ، انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تعداد کے لحاظ سے بیشتر چھوٹے چھوٹے منصوبے شروع کئے گئے ہیں تاہم ان کیلئے مختص رقم انتہائی قلیل رکھی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں 350بجلی کے ڈیم بنانے کا شوشہ چھوڑنے والے وضاحت کریں کہ اس سے کتنے میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی صوبے میں بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کیلئے مختص رقم نہ ہونے کے برابر ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بے شمار مواقع ہیں لہٰذا مرکزی و صوبائی حکومتوں کو ان قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے اے این پی کے دور کے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے آگے آنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے صوبے صوبے کے وسائل کو غیر منصفانہ طور پر تقسیم کرنے سے صوبے کے حقوق کی جنگ مرکز کے سامنے کمزور پڑ جائے گی ، جس کی تمام ذمہ داری صوبائی حکومت پر آئے گی ، انہوں نے وزیر اعلیٰ کے بیان پر رد عمل کا ظہار کیا اور کہا کہ اپوزیشن بھاگنے والی نہیں اور صوبائی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور بلدیاتی الیکشن میں بد انتظامی اور بدترین دھاندلی پر بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے ، انہوں نے حکومتی پارٹی کی طرف سے اسمبلی میں عددی اکثریت کی بنیاد پر بلوں کو بلڈوز کر کے پاس کرنا اور موجودہ قوانین میں موقع پا کر ترامیم کرنا جمہوری اور پارلیمانی اصولوں کے خلاف ہے ۔

مورخہ 23جون 2015ء بروز منگل
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے کراچی میں پڑنے والی شدید گرمی اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے جس کے سبب تاحال سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 475 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک ہزار سے زائد لوگ جان بحق ہو چکے ہیں اگر آج مصنوعی بارش کی بات کی جاتی ہے تو محکمہ موسمیات نے پہلے آگاہ کیا تھا تو کتنا اچھا ہوتااگر حکومت اتنی قیمتی جانوں کے ضیاع سے پہلے اس کا بندوبست کر لیتی۔اُنہوں نے گرمی کی وجہ سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر سخت افسوس کا اظہار کیااور کہا کہ بجلی کا موجودہ بحران مصنوعی کیفیت کا ہے جو کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ بجلی کی کل پیداوار 24 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ 18 ہزار میگاواٹ صرف ہو رہی ہے۔ لہٰذا بجلی کی کمی کی نہیں بلکہ اُس کے لوڈ مینجمنٹ کا مسئلہ ہے۔ کراچی الیکٹرک کمپنی کو پرائیوٹائز کر کے حکومت نے بڑی غلطی کی ہے کیونکہ نجکاری کا مقصد کسی ادارے کی کارکردگی بہتر بنانا ہوتا ہے۔ اگر کراچی الیکٹرک کمپنی کی کارکردگی ناقص ہے تو حکومت فوراً اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد کراچی الیکٹرک کمپنی نے موجودہ copper تاروں کو ہٹا کرفروخت کیے اور اربوں روپے کمائے لیکن اس کے بدلے دوبارہ سلور کی بوسیدہ تاریں لگوائیں جن میں سے بجلی ٹھیک طرح سے پاس نہیں ہو پاتی اور جو کہ لوڈ بھی برداشت نہیں کر سکتیں، یعنی خود پیسہ کمایا اور سسٹم کو تباہ کر دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ان تمام حقائق کو دیکھ کر بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ان تمام اموات کی ذمہ دار حکومت وقت ، واپڈا اور کراچی الیکٹرک کمپنی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ فلموں کے ولن کی طرح بڑھکے مار رہے ہیں یہاں لوگوں پر قیامت ڈھا رہی ہے اور وزیراعلیٰ احتجاج کی دھمکی دے رہے ہیں، اور واپڈا کے گھیراؤ اور جلاؤ کی بات کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کا غصہ صوبائی حکومت کے بجائے مرکزی حکومت پر آجائے ۔ لہٰذا پختونخوا میں لوڈ مینجمنٹ کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دوسال پورے ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت نے ابھی تک کوئی نیا بجلی کا منصوبہ شروع نہیں کیا اور نہ ہی انفراسٹراکچر تبدیل کیا ہے اور نہ ہی لوڈ مینجمنٹ کیلئے کوئی خاص بندوبست کیا ہے۔ لہٰذا پختونخوا حکومت بھی اُتنی ہی ذمہ دار ہے جتنی کہ سندھ اور مرکزی حکومت ذمہ دار ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی ضرورت تب پوری ہو گی جب پورے پرانے انفراسٹرکچر کو تبدیل کیا جائے، جب تک انفراسٹراکچر تبدیل نہیں ہو گا تب تک بجلی کے مسائل جوں کے توں رہیں گے، لہٰذا سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ ناکارہ انفراسٹرکچر کو ایمر جنسی بنیادوں پر پورے ملک میں تبدیل کیا جائے تاکہ بجلی کا لوڈ بھی برداشت کر سکے اور بجلی کا لینڈ لاسز نہ ہو۔
اُنہوں نے کہا کہ پختونخوا کے وزیر اعلیٰ جذباتی اور سطحی بیانات کے ذریعے اپنے آپ کو عوام کے غضب سے نہیں بچا سکتا۔ لہٰذا جتنی نفرت بجلی کے حوالے سے واپڈا اور مرکز سے ہے اُتنا ہی صوبائی حکومت سے بھی عوام کا اعتماد اُٹھ چکا ہے۔لہٰذا فوری طور پر ایسے اقدامات اُٹھائیں جائیں کے ملک بھر میں کراچی جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہو سکیں۔

کراچی۔23 جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ شدید ترین گرمی میں عوام کی مشکلات میں کمی کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایاگیاحکومتیں صرف اعلانات یا بیانات نہیں بلکہ اقدامات کرتی ہیں مینڈیٹ کا حق جتانے والے حق حکمرانی بھی ادا کریں ارباب اختیار اپنے پر سکون محلوں میں عوام کی چیخ و پکار سننے سے قاصر ہیں شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سرکاری اور میڈیا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے رمضان المبارک میں بد ترین گرمی کے دوران بھی شہر میں پانی کی فراہمی کے لیے کوئی سنجیدہ اقدانات نہیں اٹھائے گئے افسوس کہ دوکروڑ سے زائد شہریوں کی کوئی چیخ و پکار سننے والا نہیں ہے نا کوئی ان کی حالت پر ترس کھانے والا ہے نا ہی کوئی ان کے زخموں پر مرہم لگانے والا ،باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے ترجمان نے مذید کہا کہ غیر معمولی گرمی کے ختم ہونے تک کے الیکٹرک شہر میں بلا تعطل بجلی فراہم کرے شدید گرمی سے متاثر شہریوں کے لیے ہیٹ اسٹروکس سینٹرز بنائیں جائیں جہاں طبی عملے کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں صوبائی وزرا خود سرکاری اسپتالوں میں جاکر گرمی سے متاثرہ مریضوں کی طبی امداد کی نگرانی کریں۔

مورخہ 23جون 2015ء بروز منگل

حکمرانوں کو عوامی مسائل کا کوئی ادراک نہیں ، ایمل ولی خان
حکومت اپنی تمام توجہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر مرکوز رکھے اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے
جو لوگ اے این پی کے سابق دور حکومت کو لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار ٹہراتے تھے آج عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں
مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے مسئلے کے حل پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں ۔

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے ناروا لوڈ شیڈنگ پر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں کو عوامی مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہے ،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ رمضان کے مبارک مہینے اور انتہائی سخت گرمی میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی تمام توجہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر مرکوز رکھے اور عوام کے مسائل کے حل میں پوری سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھائے ، انہوں نے کہا کہ جو لوگ اے این پی کے سابق دور حکومت کو لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار ٹہراتے اور جلسوں میں گالیاں اور مسجدوں میں بد دعائیں دیتے تھے وہ آج اقتدار میں ہیں اور اب وہ قوم کو بتائیں کہ وہ کیوں اس مسئلے سے آنکھیں چرا رہے ہیں ، ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے سابق دور میں آسمان سر پر اٹھانے اور پارٹی کو الزام دینے والے آج عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں ،انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے اس مسئلے پر توجہ دیں ورنہ عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اپنے حق کیلئے احتجاج کرنے والوں کے خلاف بے جا ایف آئی آر کٹوائی جاتی ہیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے جو کسی بھی صورت جمہوری رویہ نہیں ہے ،انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے جلسے و احتجاج ضرور کریں تاہم قومی املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے اور عدم تشدد کے فلسفے کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ،انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کو آپس میں مکل بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کئے بروقت عملی اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہیءں۔

مورخہ 23جون 2015ء بروز منگل
بجٹ میں سرکاری ملازمین کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا گیا ،سردار حسین بابک
تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کے تناسب سے کیا جانا چاہئے، مختلف اشیاء پر ٹیکس عوام کے ساتھ زیادتی ہے ،
انصاف کے نعرے لگانے والے صوبے کے وسائل کو سیاسی رشوت اور اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم کر رہے ہیں
اپوزیشن ارکان کے علاقوں کو وسائل سے محروم رکھنا سیاسی انتقام ہے جو کہ صوبے کے مفاد میں نہیں ہے ،
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے ساتھ مذاق کیا ہے اور بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کے تناسب سے کیا جانا چاہئے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خسارے کے بجٹ کو متوازن قرار دے رہی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے ، انہوں نے کہا کہ بجٹ کا خسارہ مرکزی حکومت کی طرف سے پورے پیسے نہ ملنا ، بیرونی ممالک سے متوقع گرانٹ کا نہ آنا اور صوبے کے اپنے محاصل میں کافی کمی صوبائی حکومت کی نا اہلی کا کھلا ثبوت ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں مختلف اشیاء پر ٹیکس لاگو کرنا صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے ، جبکہ پچھلے بجٹ کا استعمال نہ ہونا بھی صوبے کے مسائل میں اضافے کا ایک سبب ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کے تیسرے بجٹ میں بھی صوبے کیلئے کسی بڑے میگا پراجیکٹ کا نہ ہونا بھی حکومتی نا اہلی ہے ، انصاف کے نعرے لگانے والے صوبے کے وسائل کو سیاسی رشوت اور اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم کر رہے ہیں جو کہ پسماندہ علاقوں کے ساتھ زیادتی ہے اور صوبے کے ان علاقوں جہاں سے اپوزیشن کے ممبران منتخب ہوئے ہیں انہیں ان کا حصہ نہ دینا اور وسائل سے محروم رکھنا سیاسی انتقام ہے جو کہ صوبے کے مفاد میں نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہتعلیم کے بجٹ میں کمی انتہائی افسوسناک ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تعلیم کے بجٹ میں کمی کیسی تعلیمی ایمرجنسی ہے ، انہوں نے کہا کہ تعداد کے لحاظ سے زیادہ زیادہ منصوبے شروع کرنا اور اپنے ممبران کو سیاسی رشوت کے طور پر راضی اور مطمئین رکھنا اور ان منصوبوں کیلئے بجٹ میں 5سے 10 فیصد رقم رکھنا صوبے کے عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے مسائل کا ادراک نہ رکھتے ہوئے بچگانہ طریقوں پر اتر آئی ہے ۔
جاریکردہ
اے این پی سیکرٹریٹ
باچا خان مرکز پشاور

مورخہ 22جون 2015ء بروز پیر
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے بنوں میں آئی ڈی پیز پر فائرنگ اور شیلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں بے گناہ معصوم افراد کی شہادت اور کئی افراد کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک مذمتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ کیمپ میں ہونے والی بد نظمی حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے پیدا ہوئی ۔ اُنہوں نے کہا کہ ماہ صیام میں آئی ڈی پیز کو مناسب سہولیات کی فراہمی حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے متاثرین کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اور اُنہیں کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں جس میں بے گناہ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔اُنہوں نے متاثرین پر فائرنگ اور شیلینگ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس قسم کے واقعات سے آئی ڈی پیز میں مزید اشتعال پیدا ہوگاجو کسی بھی صورت صوبے کے مفاد میں نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرین کے حوالے سے سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔اُنہوں نے کہا کہ ملک میں امن کے قیام کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور انہیں مرکزی وصوبائی حکومتوں نے یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔
میاں افتخار حسین نے شدید گرمی و ماہ صیام میں شہریوں پر بجلی کی بندش کو غیر انسانی فعل قرار دیا ہے، اُنہوں نے کہا کہ بدترین لوڈشیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے جبکہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ، انہوں نے کہا کہ عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے حال ہو چکے ہیں تاہم سحری و افظاری میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے وعدے بھی ہوا ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو رمضان کے بابرکت مہینے میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ توانائیاں صرف کرنی چاہئے تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں

راچی۔22 جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ کراچی کی صورت حال کسی بڑے انسانی سانحہ کو جنم دے سکتی ہے شدید گرمی کی وجہ سے سینکڑوں شہریوں کی اموات کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ اقدام نظر نہیں آرہا ہے شہر کا بڑا حصہ پانی سے محروم ہے تھاہی اب بجلی سے بھی محروم ہوچکا ہےْ کراچی کی عوام کی مشکلات ناقابل بیان ہیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی آخر کس مرض کی دوا ہے ؟خدارا ملک کو ستر فیصد سے زائد ریوینو دینے والے شہر کو لاوارث نا سمجھا جائے مسائل میں گھرے شہریوں کی داد رسی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں سینکڑوں ہلاکتوں کے باوجود مرکزی و صوبائی حکومتوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگی گرمی سے نڈھال شہریوں کی داد رسی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں کے ای ایس سی کی نجکاری کے وقت ہم نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا آج وہ سب سچ ثابت ہوئے افسوس کے ای ایس سی کو پرائیویٹ ٹائز کرتے وقت ہمارے خدشات کو نظر انداز کیا گیا کے الیکٹرک ریاست کے اندر ایک ریاست بن چکا ہے جس کے آگے وفاقی حکومت بھی بے بس نظر آتی ہے ۔

مورخہ 22جون 2015ء بروز پیر
وزیرستان آئی ڈی پیز کا کوئی پرسان حال نہیں ، ہلاکتیں قابل افسوس ہیں سردار حسین بابک
قبائلی علاقوں سے لاکھوں پختونوں نے ملک و قوم کی خاطرگھر بار چھوڑ کر قربانی کی بڑی مثال قائم کر دی ہے
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں نے وزیرستان کے بے گھر لاکھوں افراد کو بے سروسامانی کی حالت میں اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیا ہے اپنے ایک بیان میں سردار حسین بابک نے متاثرین کے کیمپوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں پختونوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنا گھر بار چھوڑ کر سخت گرمی اور رمضان کے مہینے میں کیمپوں میں رہائش پزیر ہیں ، لیکن مرکزی و صوبائی حکومتیں ان سے بے خبر ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ، انہوں نے کہا کہ یہ دونوں حکومتوں کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک کی خاطر عظیم قربانیاں دینے والوں کی خدمت اور مدد کریں ، انہوں نے کہا کہ وطن کی خاطر گھر بار چھوڑنا بہت بڑی قربانی ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح سیکورٹی فورسز نے ملک وقوم کی خاطر قربانیاں دیں اوردے رہی ہیں اسی طرح قبائلی علاقہ جات میں لاکھوں پختونوں نے قربانی کی بڑی مثال قائم کر دی ہے ، انہوں نے میدیا سے بھی درخواست کی کہ وہ ان لاکھوں پختونوں کی قربانیوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کی کوریج کو یقینی بنائیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک رمضان کے با برکت مہینے میں قبائلی علاقوں کے متاثرین کے مسائل اور ضروریات کو پوری طرح حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں ، انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز بھی ان مظلوموں پر لاٹھی چارج اور جبر جیسے اقدامات سے گریز کرے۔

مورخہ 22جون 2015ء بروز پیر

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیا ر ولی خان نے کابل میں افغان پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں کئی افراد کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک مذمتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کسی بھی ملک کا سپریم ادارہ ہوتا ہے اور افغان پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کا حملہ افغانستان کی سالمیت بقاء اور وقار پر حملہ ہے اور یہ کسی بھی ملک میں دہشت گردی کی آخری حد کو ٰاد کرنا ہے لہذا افغانستان میں اس نوعیت کی دہشت گردی لازمی طور پر پاکستان کے امن پر اثر انداز ہو گی جبکہ پاکستان میں امن افغانستان میں امن سے مشروط ہے ، انہوں نے کہا کہ یہی وہ وقت ہے کہ افغانستان اور پاکستان مل کر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فی لافور سنجیدہ اقدامات اٹھائیں اور خطے کے امن کیلئے اپنا تاریخی کردار ادا کریں کیونکہ مزید تاخیر تباہی اور بربادی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں اس موقع پر افغان حکومت کو دہشت گردی کے اس واقعے کو ناکام بنانے اور دہشت گردوں سے نمٹنے پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس موقع پر افغانستان اور ان کی حکومت اور عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان کی تمام امن پسند قوتیں اور خصوصاً عوامی نیشنل پارٹی اس میں سر فہرست ہیں ۔ اسفندیار ولی خان نے کہاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے ٹھوس اقدامات کر نے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں افغانستان کے ساتھ ہیں، اور ایسے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔

مورخہ 21جون 2015ء بروز اتوار
گرمی اور ماہ صیام میں عوام کو اذیت دینا انتہائی شرمناک فعل ہے، سردار حسین بابک
مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے حال ہو چکے ہیں
لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ توانائیاں صرف کی جائیں تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں۔
صوبائی حکومت اے این پی کے شروع کردہ بجلی کے تمام منصوبوں پر بلاتعطل کام جاری رکھے تا کہ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے رمضان المبارک کے مہینے میں ناروا لوڈشیڈنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ، پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ انتہائی سخت گرمی اور رمضان کے مہینے عام لوگوں کو اذیت میں رکھنا انتہائی شرمناک فعل ہے جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے حال ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں تنقید کرنے والے اور اسے گالیاں دینے والے آج صوبے اور مرکز میں حکومتوں میں بیٹھے ہیں لہٰذا وہ قوم کو بتائیں کہ کسی پر تنقید کرنا اور کسی کو گالیاں دینا انتہائی آسان ہے لیکن درپیش مسئلے کو حل کرنا کتنا مشکل ہے یہ صاحب اقتدار لوگ ہی بتا سکتے ہیں ،
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو رمضان کے بابرکت مہینے میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ توانائیاں صرف کرنی چاہئے تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں انہوں نے کہا کہ مرکز کو اپنی تمام تر توجہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور بجلی کی فراہمی پر دینی چاہیے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مسئلے کو مزید الجھانے کی بجائے اسے حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ،اور غریب اور پسے ہوئے لوگوں کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافے سے اجتناب کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بھی اے این پی کے شروع کردہ بجلی کے تمام منصوبوں پر بلاتعطل کام جاری رکھنا چاہیے ،تا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر دونوں حکومتیں ایکدوسرے پر تنقید اور اک دوسرے کو ذلیل کرنے کی بجائے مسئلے کے حل کیلئے ایکدوسرے کا ساتھ دیں تو عوام کو سہولیات ملنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

کراچی ۔ ہفتہ20 جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ انتہائی شدید گرمی میں کے الیکٹرک نے روزہ داران کا جینا محال کردیا ہے گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ روز کا معمول بن چکی ہے چند گھنٹوں کے لیے بجلی آنے کے بعد کم وولٹیج نے بھی شہریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی کے الیکٹرک کی جانب سے سحر و افطار میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا اعلان صرف اعلان ہی ثابت ہواکے الیکٹرک عوام کے ساتھ انتہائی سنگین مذاق بند کرے کے الیکٹرک کا کام صرف شہریوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنا رہ گیا ہے شدید گرمی میں روزہ داروں کو سڑک پر آنے کے لیے مجبور کرنا انتہائی افسوس ناک ہے بلبلاتے شہرے کے الیکٹرک کی بد ترین کارکردگی سے تنگ آچکے ہیں کے الیکٹرک کا ہدف مختلف طریقوں سے عوام کی جیبوں پر ڈاکے مارنا ہی رہ گیا ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے جنرل سیکریٹری نے مذید کہا کہ رمضان المبارک کے لیے پہلے سے متبادل ذرائع سے بجلی کا انتظام کرنا چاہیے تھا گیس پریشر کی کمی اور لائن فالٹس کے نام پر انتہائی شدید گرمی میں شہریوں پر طویل غیر اعلانیہ لودشیڈنگ کے پہاڑ گرائے جارہے ہیں کے الیکٹرک انتظامیہ اپنا طرز عمل ٹھیک کرے ماہ مبارک میں روزہ داران کی مشکلات میں اضافے کے بجائے کمی کا سبب بنیں اور ارباب اختیار کے الیکٹرک انتظامیہ کو شہریوں میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا پابند کریں۔

مورخہ : 20 جون 2015ء بروز ہفتہ

پشاور (پ ر ) وزیر اعلیٰ کی طرف سے ڈی آر اوز اور آر اوز کو دھمکیاں دینے کا الیکشن کمیشن فوری پر نوٹس لیں۔ اے این پی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے وزیر اعلیٰ پختونخوا کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے ڈی آر اوز اور آر اوز کا الیکشن کے دن کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو رپورٹ بھیجنے پر دھمکی دینا صریحاً الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ظاہر ہو گیا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی کا الزام وزیرا علیٰ نے خود سچ ثابت کر دیا ہے اور ساری دُنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں کس حد تک اور کس طرح صوبائی حکومت نے مداخلت کی ہے اور الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کس قانون اور قاعدے کے تحت ڈی آر اوز اور آر اوز پر مقدمہ درج کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو پریشرآئز کرنا اور جس طرح بلدیاتی انتخابات میں انتظامیہ کو حکومتی پارٹی کیلئے استعمال میں لانا، اب اسی طرح ہی وزیر اعلیٰ پختونخوا انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو صوبائی حکومت کے حق میں رپورٹس دے دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کا کھلے عام صوبے کی انتظامیہ کو دھمکیاں دینا اُن کو پریشر آئز کرنا اپنے اختیارات کے ناجائزاستعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور حکومتی مداخلت اور اثراندازی کو کھل کر روکنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ثابت ہو گیا ہے کہ آج اگر سارے صوبے کے عوام سراپا احتجاج ہیں تو واقعی صوبائی حکومت نے سرکاری وسائل کے ذریعے الیکشن جیتنے اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کیطرف سے سرکاری ملازمین کو دھمکانا اور پریشر آئز کرنا قطعی طور پر نامناسب ہے۔

روزہ داران ماہ صیام میں ملک کی سلامتی و ترقی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔اسفند یار ولی خان ،سینیٹر شاہی سید
کراچی۔18 جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے تمام اہلیان وطن کو رمضان المبارک کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مہینہ ہے ماہ مبارک تمام تر کالیف اور مشکلات کو رضا ئے الٰہی کی خاطر برداشت کرنے کا سبق دیتا ہے روزوں کی روح بنیادی روح کو سمجھنا مومن کا اصل امتحان ہے روزہ داران ماہ صیام میں ملک کی سلامتی و ترقی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں گراں فروشی عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے برکتوں اور رحمتوں کی بارش میں ناجائز منافع خوری سے گریز کیا جائے ۔

مورخہ : 18 جون 2015 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ضلع دیر اپر کے نوید انجم اور ارشاد خان کی پارٹی نظم و نسق کی خلاف ورزی اور پارٹی مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے دونوں کو شو کاز نوٹس جاری دئیے ۔ اے این پی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک کے مطابق ضلع دیر اپر کے نوید انجم اور ارشاد خان کے بارے میں کافی عرصے سے پارٹی مفاد اور نظم و ضبط کے خلاف رپورٹیں آئی ہیں۔ شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ارکان اپنی پوزیشن واضح کر دیں اور تفصیل فراہم کریں کہ وہ کیوں پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں۔
امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی نظم و ضبط پر عمل اور یقین رکھنے والی جماعت ہے۔ لہٰذا سزا اور جزا کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے کسی مصلحت کے شکار نہیں رہیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق ہم سب پابند ہیں کہ وہ پارٹی کے فروغ اور ترقی کیلئے آئینی دائروں میں رہتے ہوئے کام کریں۔ سردار حسین بابک کے مطابق صوبائی صدر نے پارٹی کے دو ارکان کو شوکاز نوٹس پارٹی آئین کے تیسرے باب کے شق (27) (ا) کے تحت جاری کر دیا ہے۔

مورخہ : 18 جون 2015 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کو طعنے دینے والے اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں اے این پی نے دی ہیں۔ ہم نے اپنے کارکنوں اور عہدیداروں کے جنازے اُٹھائے ہیں ہم نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے دیکر پاکستان کے بقاء کی جنگ لڑی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں احتجاج سے صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کی شکار ہے لوگ جانتے ہیں کہ دہشتگردوں کی حمایت اور مخالفت میں کون رہا ہے، لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ دہشتگردوں نے کس کو اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا اور لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ دہشتگردی کی بیخ کنی اور خاتمے کیلئے کون مرد میدان میں نکل آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے جلسوں میں اپنے شہیدوں کے جنازے اُٹھائے ہیں اور تحریک انصاف کے جلسے میں اگر ایک پٹاخہ بھی پھٹ پڑتا ہے تو تب جا کر انقلابیوں سے پوچھیں گے کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنا کتنا مشکل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اس طرح کے بیانات دینے سے دریغ کرنا چاہیے ورنہ پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دینا خوب جانتے ہیں۔ صوبائی حکومت اگر ایک طرف سیاسی انتقام پر اُتر آئی ہے تو دوسری طرف بوکھلاہٹ کی وجہ سے بے سروپا الزامات پر اُتر آئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس حکومت میں تو سارے وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں بہت ساری پارٹیاں بدلی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کو ختم کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

مورخہ : 17 جون 2015 بروز بدھ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے گزشتہ روز پشاور میں ہونے والے کامیاب احتجاجی جلسہ پر سہ فریقی اتحاد کے مرکزی اور صوبائی قائدین اور سہ فریقی اتحاد کے کارکنوں اور خصوصاً اے این پی کے کارکنوں اور عہدیداروں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے جلسہ میں کثیر تعداد میں شرکت کرکے جلسہ کو چارچاند لگایا۔ اُنہوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اس جلسہ کی کامیابی کیلئے دن رات کوشش کی اور وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو گئے۔ اُنہوں اس موقع پر سہ فریقی اتحاد کے قائدین کی کاوشوں کو سراہا۔
صوبائی حکومت نے اپنی طاقت اور اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے بلدیاتی انتخابات میں تاریخی دھاندلی کی ہے اور الیکشن کے بعد نتائج روک کر اپنے نمائندوں کو کامیابی دلوائی اور ابھی تک نتائج تبدیل کرنے میں مصروف ہیں اوراصل مینڈیٹ کو چرا کر جمہوری روایات اور صاف و شفاف الیکشن کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد کا احتجاجی جلسہ کی صورت میں مضبوط ترین قوت مظاہرے سے حکومت کی آنکھیں کھل جانی چائیں اور نوشتہ دیوار پڑھ کر ازخوداخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اُنہوں نے ایک بار پھر سہ فریقی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے قائدین اور ورکروں کو کامیاب احتجاجی جلسے پر خراج تحسین پیش کیا اُنہوں نے کہا کہ اس احتجاجی پروگرام کو دوام بخشنے کیلئے اسی جوش و جذبے کی اشد ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے سہ فریقی اتحاد کے ساتھیوں سے توقع ہے کہ وہ کسی بھی وقت احتجاج کرنے کیلئے کمر بستہ رہیں گے اور ایک ہی آواز پر لبیک کہیں گے۔

کراچی۔ بدھ 17 جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ تمام تر درپیش خطرات کے باوجود میدان عمل میں ہیں مشکلات سے کسی صورت گھبرانے والے نہیں ہیں کارکنان کسی صورت نا گھبرائیں کٹھن تاریک شب ختم ہونے کو ہے ہر صورت میں کراچی آپریشن جاری رہنا چاہیے یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ ماضی میں شہر میں کوئی آپریشن مکمل کرکے ختم نہیں کیا گیا اور ہر آپریشن ادھورا چھوڑا گیاجس کی وجہ سے شہر میں بد امنی کے تاریک سائے مذید گہرے ہوئے جاری آپریشن کو منطقی انجام تک جاری و ساری رکھا جائے جن مشکلات وخطرات کا ہم نے سامنا کیا ہے کوئی دوسری سیاسی جماعت اس کی ایک جھلک بھی برداشت نہیں کرسکتی محاذ آرائی اور تصادم سے گریز کیا جائے ہمیں اپنے اداروں پر بھروسہ کرنا ہوگاان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع شرقی کے علاقے پہلوان گوٹھ میں وارڈ آفس کے افتتاح اور پارٹی عہدیدار کی تیسری برسی کے موقعے پر کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مذید کہا کہ کراچی کے مسائل سے صوبائی حکومت کی دلچسپی کا اندازہ تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ملیر 15اور ملیر ہالٹ کے فلائی اورز کی عدم تعمیر سے لگایا جاسکتا ہے گزشتہ ایک ہفتے سے شام کے اوقات میں شاہراہ فیصل سمیت دیگر اہم شاہراہوں پر بد ترین ٹریفک جام معمول بن چکا ہے اور ارباب اختیار مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں وزیر اعلیٰ سندھ کے کو آرڈینیٹر کی جانب سے صوبائی محکموں میں کرپشن کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے اس موقع پر ضلعی صدر فہیم جان سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ : 17 جون 2015 بروز بدھ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پشاور کا احتجاجی جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں اُنہوں نے کامیاب ترین جلسہ کے انعقاد پر سہ فریقی اتحاد کے رہنماؤں ، کارکنوں اور خصوصاً اسفندیارولی خان، مولانا فضل الرحمان اور راجہ پرویز اشرف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اُنہوں نے احتجاجی جلسہ میں اپنی تقاریر کے ذریعے ہماری رہنمائی فرمائی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ جب تک اللہ کی مہربانی، ہمارے قائدین کی رہنمائی اور عوام کی حمایت ہمیں حاصل ہو تو موجودہ حکومت کی رات کی نینداور دن کا چین حرام کر دینگے اور کہا حکومت کے خاتمے تک سہ فریقی اتحاد قائم رہے گا ۔اُنہوں نے کہا کہ پشاور کے جلسے نے حکومت کے اوسان خطا کر دیے ہیں اور یہ تحریک حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا احتجاج ہر صورت جاری رہے گا کیونکہ ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم عوام کی عدالت میں ہیں اور جب تک حکومت رضاکارانہ طور پر مستعفی نہیں ہوتی ہمارا احتجاج بدستور جاری رہے گا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ پشاور کے جلسے نے ثابت کر دیا ہے کہ سہ فریقی اتحاد ایک مضبوط ترین قوت ہے اور اب حکومت کومستعفی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

کراچی۔16 جون 2015ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ بڑے ناموں سے قطعہ نظر قومی دولت لوٹنے والوں اور شہر کا امن تباہ کرنے والوں کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائے رینجرز کی کاروائیوں کے بعد امید پیدا ہوگئی ہے کہ کئی دہائیوں سے بد امنی کے شکار شہر کو اب امن و سکون ملنے کو ہے کب، کہاں، کیسے اور کس نے چائنا کٹنگ کی سب واقف ہیں چائنا کٹنگ کے بے تاج بادشاہوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے چائنا کٹنگ شہری اداروں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے چائنا کٹنگ میں بلڈرز،شہری ادارے اور کئی شخصیات ملوث ہیں کراچی میں رینجرز کی جاری کاروائیاں دو کروڑ سے زائد آبادی کے شہریوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے تمام مافیاز کے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک کاروائیاں جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں عوامی مینڈیٹ کا احترام لازمی مگر حق حکمرانی کی ادائیگی بھی ضروری ہے کون قبضہ مافیا ہے اب نقاب اٹھنے کو ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر نے مذید کہا کہ
کراچی کے مسائل سے صوبائی حکومت کی دلچسپی کا اندازہ تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ملیر 15اور ملیر ہالٹ کے فلائی اورز کی عدم تعمیر سے لگایا جاسکتا ہے
گزشتہ ایک ہفتے سے شام کے اوقات میں شاہراہ فیصل سمیت دیگر اہم شاہراہوں پر بد ترین ٹریفک جام معمول بن چکا ہے

مورخہ : 13.6.2015 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین نے صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی ، بدنظمی اور امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔ لہٰذا اسی حکومت کے ذمہ داران کسی صورت بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی استحقاق نہیں رکھتے۔ وہ آج باچا خان مرکز میں ضلع پشاور کے ورکرز میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیاں بشمول پی ٹی آئی اور وزیر اعلیٰ یہ حقیقت تسلیم کر چکے ہیں الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں یہ ڈھونگ رچانا کہ دوبارہ الیکشن کرواتے ہیں ایک غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دار پوزیشن ہے۔ صوبائی حکومت صاف اور شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے کمیشن کو پوری مدد اور مشینری فراہم کرنے کی پابند ہے اور امن و امان کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف صوبائی حکومت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی صوبائی حکومت کو مرحلہ وار انتخابات کروانے کا مشورہ دیا تھاجو صوبائی حکومت نے نہیں مانا۔ بلدیاتی نظام کا غیر مناسب قانون خود صوبائی حکومت نے بنایا۔ حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کی بجائے صوبائی حکومت نے کی۔ الیکشن کے دن کم از کم 29 لوگوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں لہٰذا الیکشن کمیشن کو مورود الزام ٹھہرانے کی بجائے صوبائی حکومت کو اپنی سینہ زوری اور ناکامی کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارا یہ مطالبہ جمہوری روایات اور آئینی اقدار کی عین مطابق ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور سہ فریقی اتحاد سیاست میں مکالمے اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔ لہٰذا احتجاجی تحریک کے جاری ہوتے ہوئے ابھی ہم مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کرینگے۔ لیکن جہاں تک عمران خان دوبارہ الیکشن کروانے کی بات ہے تو اس حکومت کے ہوتے ہوئے کسی بھی طور پر یہ آپشن قبول نہیں کیا جائیگا۔ اُنہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے ورکرز کی کثیر تعداد میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان کا یہی جذبہ 16 جون کے احتجاجی جلسے کو ایک تاریخی جلسہ ثابت کریگی۔ اُنہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ جلسے کیلئے بھرپور تیاری کریں تاکہ پختونخوا کے عوام کی چوری شدہ مینڈیٹ پر ایک مؤثر جمہوریت احتجاج ریکارڈ ہو۔

مورخہ 16جون 2015ء بروزمنگل

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے صوبے کے تمام اضلاع کی پارٹی تنظیموں کو بلدیاتی الیکشن میں سنگین غلطیوں کے مرتکب اور پارٹی فیصلوں کے خلاف حصہ لینے والوں کی فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں ،اور کہا ہے کہ یہ فہرستیں جلد از جلد صوبائی صدر کو ارسال کی جائیں ، اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک کے مطابق امیر حیدر ہوتی نے پارٹی میں جزا اور سزا کے عمل کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام ضلعی تنظیموں کو ایسے تمام افراد جنہوں نے پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی اور پارٹی مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لیا ہو کی نشاندہی کریں اور صوبائی کابینہ کیس ٹو کیس ان تمام سفارشات پر عمل کرنے اور فیصلہ کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دے گی ۔انہوں نے کہا کہ اے این پی ایک منظم سیاسی جماعت ہے لہٰذا پارٹی پالیسیوں اور فیصلوں کو عمل جامہ پہنانے کیلئے جزا و سزا کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا ،انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں پارٹی کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اگر صوبائی حکومت کی طرف سے دھاندلی نہ ہوتی تو اس سے بھی زیادہ بہتر نتائج آنے کی توقع تھی ،انہوں نے تمام ضلعی عہدیداروں کو کہا کہ وہ پارٹی کے عظیم تر مفاد میں خلاف ورزی کرنے والوں کے نام بغیر پسند نا پسند کے اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کیلئے ارسال کریں ۔

مورخہ : 15 جون 2015 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کے زیر صدارت اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کل بروز منگل سوئیکارنو چوک میں بوقت 6.00 بجے ہونے والے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ سہ فریقی اتحاد کے صدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام ساتھیوں کوجلسہ گاہ میں بروقت پہنچنے اور چاق و چوبند رہنے کی تاکید کی ہے اور کہا کہ جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے بھرپور کوشش کریں اور جلسے میں کثیر تعداد میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ اس دوران وہ انتظامیہ اور سہ فریقی اتحاد کے تمام ساتھیوں سے بھی رابطے میں رہے۔

کراچی۔15 جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہر دہشت گرد کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی رینجرز کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے کچھ حصہ سرپرائزنگ تھازیادہ حصہ مگر اکثر حصے سے تمام شہری بخوبی واقف ہیں جن جرائم کا ڈی جی رینجرز کی بریفنگ میں ذکر کیا گیا ہے اس سے کسی طور انکار نہیں کیا جاسکتا ہے مگر ذمہ داران کے متعلق سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں مجرموں کا تعلق چاہے ہماری جماعت سے ہی کیوں نہ ہو کیفر کردار تک پہنچایا جائے خاص طور پر گزشتہ کچھ عرصے سے کراچی ہر قسم کی مافیاز کی آماجگاہ بن چکا ہے جن انداز سے معاملات کو چلایا جارہا ہے وہ مناسب نہیں ہے سیاسی اقربا پروری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کو وقت آچکا ہے سب سے پہلے بحیثیت سیاسی جماعت ہم خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش کرتے ہیں مجرموں اور ان کے سرپرستوں کو عبرت ناک سزا دی جائے ادارے ہمارے ہیں ہمیں ان کی سپورٹ کرنی چاہیے شہر میں جاری ہولناک جرائم سے عوام کی جان چھڑائی جائے چاہے معاشی دہشت گردی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائے ۔

مورخہ : 15 جون 2015 ء بروز پیر

پریس ریلیز

پشاور ( پ ر) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خان خٹک نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے حوالے سے جاریکردہ اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ چھ مہینے گزرنے کے باوجود حکومت سانحہ آرمی پبلک سکول کے ذمہ داران کا تعین نہ کر سکی جو کہ ان کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں سے سب سے بدترین واقعہ تھا جس کے بعد وفاقی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کا اعلان کیا تھا۔ لیکن آج چھ مہینے گزرنے کے باوجود حکومت نہ تو 16 دسمبر کو ہونے والے سانحہ آرمی پبلک سکول کے ذمہ داران کا تعین کر سکی ہے اور نہ ہی نیشنل ایکشن پلان پر کوئی خاطر خواہ عمل درآمد کروا سکی ہے۔ تبدیلی کے نام پر بننے والی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پہلے ان بچوں کو تحفظ فراہم نہ کر سکی اور اب چھ مہینے گزرنے کے باوجود بھی سانحہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی جو کہ ان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے طلباء کے لواحقین چھ مہینے گزرنے کے باوجود انصاف کے حصول میں ناکام رہے ہیں۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے اور شہید ہونے والے طلباء کے لواحقین کو فوری انصاف دلایا جائے۔

مورخہ : 12.6.2015 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر) پختون ایس ایف اسلام آباد راولپنڈی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری ندیم سرور اور اُردُو یونیورسٹی کے صدر جواد خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیڈرل اُردُو یونیورسٹی اسلام آباد کے واقعے کو غلط رنگ دے کر طلباء تنظیموں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی میں انتظامی افسران اور اہلکاروں کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے یونیورسٹی میں طلباء کے درمیان معمولی جھگڑے کو ایشو بنا کر طلباء کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جو یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی کوش ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں طلباء تنظیموں نے معاملے کو موقع پر ختم کرنے کی کوشش کی اور اسی حوالے سے انتظامیہ کو بھی اعتماد میں لیا گیا ۔ طلباء تنظیموں نے ایک دوسرے کے خلاف رپورٹ درج نہیں کی تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے معمولی مسئلے پر طلباء کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے ان پر سنگین الزامات عائد کیے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ پختون ایس ایف کے رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات جلد از جلد واپس لیے جائیں بصورت دیگر مرکزی سطح پر احتجاج کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ طلباء کے حقوق کیلئے پختون ایس ایف کی جدوجہد جاری رہے گی۔ اور یونیورسٹی کی ترقی کیلئے انتظامیہ کے ہر اچھے اقدام کی حمایت کرینگے۔

مورخہ : 12.6.2015 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کی نائب صدر بشریٰ گوہر کی سربراہی میں آج اے این پی کے وفد نے مرکزی حکومت کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ اے این پی کے وفد میں سینیٹر الیاس احمد بلور ، زاہد خان ، افراسیاب خٹک اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خان اور سینئر نائب صدر سلمان مندڑ شامل تھے۔ جبکہ حکومتی وفد میں مرکزی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات پرویز رشید اور سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا شامل تھے اس موقع پر NHA کے چیئرمین بھی موجود تھے۔ اے این پی کے وفد نے حال ہی میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں پاک چین تجارتی راہداری کے اصلی روٹ یعنی مغربی روٹ کیلئے مختص ہونے والی رقم پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور سوال اُٹھایا کہ موجودہ بجٹ میں ترجیحات کی بنیاد پر حکومت آل پارٹیز کانفرنس میں وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے کیے گئے اعلانات پر کیسے عمل درآمد کر سکتی ہے اور اس صورت حال سے پاک چین اقتصادی راہدری کے بارے خیبر پختونخوا ، فاٹا اور بلوچستان کے عوام میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مرکزی حکومت دسمبر 2016 تک اقتصادی راہداری کی مغربی روٹ کو مکمل کرنے کے وعدے کی پابندی کرے گی اور مجوزہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی روشنی میں صنعتی زون اور توانائی کے منصوبوں کیلئے مقامات کا تعین کرے گی۔
اے این پی کے وفد نے بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا وہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی تکمیل اور صنعتوں اور توانائی کے منصوبوں کو راہداری میں شامل کرنے کیلئے قابل عمل منصوبہ تیار کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ وزیرا عظم نواز شریف اور آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگی جس کے بعد اے این پی کو عوام کے پاس جانے کا حق ہوگا۔ وفاقی وزیر نے اے این پی کے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اگلے ہفتے انجنیئروں اور دیگر ماہرین کی موجودگی میں اقتصادی راہداری کے اصلی روٹ کی تعمیر کے بارے میں مزید تفصیلات سے اے این پی کے وفد کو آگاہ کرینگے۔

مورخہ : 12 جون 2015ء بروز جمعہ

پشاور( پ ر ) اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہاہے کہ سیکورٹی اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے قومی مجر م ہیں اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گزشتہ روز دھماکے میں زخمی ہونے والے ایف آر پی کمانڈنٹ ملک طارق اور ان کے زخمی ہونے والے ڈرائیور کی عیادت اورواقعے میں شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کے بعد کیا، جبکہ ملک طارق کے حوصلے کو مزید بلند پایا ،میاں افتخار حسین نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں نے قیام امن کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اور ہم ان قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑی ہے ،انہوں نے ایک بار پھر مؤقف واضح کیا کہ انسانیت کے دشمنوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پرائی نہیں بلکہ اپنی بقا کی جنگ ہے ،اُنہوں نے کہا ہے کہ پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحدہو چکی ہے۔ اُنہو ں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور یہ آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف اے این پی کا موقف کھلی کتاب کی مانند ہے اورماضی میں ہمارے اس موقف پر مخالفین نے کبھی ہمیں غدار تو کبھی امریکہ کے حلیف اور پختونوں کے سروں کا سودا کرنے کے الزامات لگاتے رہے ۔ اُنہوں نے دھماکے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی اور شہداء کی مغفر کیلئے دُعا کی۔

مورخہ 12جون 2015ء بروزجمعہ

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے قلعہ عبداللہ کی چیئرمین شپ کیلئے ملک محمد عثمان کو ان کی کامیابی پر دل مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے ، اے این پی سیکر ٹریٹ سے جاری اپنے ایک تہنیتی بیان میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ اے این پی نے قلعہ عبداللہ کی چیئر مین شپ اور حرم زئی ٹاؤن میں کامیابی حاصل کر کے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں اے این پی کا گراف دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ بہت جلد اے این پی بلوچستان میں مضبوط قوت بن کر ابھرے گی ،انہوں نے کہا کہ قلعہ عبداللہ اور حرم زئی ٹاؤن میں کامیابی دراصل اے این پی کی مثبت پالیسیوں کی فتح ہے ، انہوں نے بلوچستان پارٹی کی قیادت اور ورکروں کے فعال کردار اور انتھک کوششوں کو سراہا اور پارٹی کی جیت پر دل کی اتھاہ گہرایؤں سے ان کو مبارکباد پیش کی ہے ۔

مورخہ12جون2015ء بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر فخر عالم خان، جنرل سیکرٹری یاسر احمد خان یوسفزئی اور صوبائی ترجمان مقرب خان بونیری نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہزارہ ڈویژن میں قومیت کے نام پر تعصب نہ پھیلایا جائے پچھلے ایک دہائی سے ہزارہ ڈویژن میں پختون طلباء کو م تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے پشاور سمیت صوبہ کے دیگر اضلاع کی جامعات میں مقیم تمام اقوام کے طلباء کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کیا جس کی تاریخ گواہ ہے کیونکہ یہی ہمارا منشور ہے گزشتہ روز ہزارہ یونیورسٹی میں انتظامیہ کے معاملات میں مقامی افراد نے مداخلت کرکے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء کو تشدد کا نشانہ بنا کرمطالبات کے حق میں نکالی گئی پُر امن ریلی پر فائرنگ کر دی اُنہوں نے کہا کہ مگر ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہزارہ ڈویژن میں دیگر اضلاع کے پختون طلباء کو طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی ہیں اگر یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تواس کے سنگین نتائج بر آمد ہوں گے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی ترجمان مقرب خان بونیری کے مطابق یہ واقع پختون طلباء کیساتھ ذاتی بنیاد کیا گیا اور عرصہ دراز سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے جس کی ذمہ داری ہزارہ یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہو تی جس نے عرصہ دراز سے یونیورسٹی انتظایہ اور طلباء کے مابین مسئلے میں مقامی افراد کی دخل اندازی نہیں رکی جو آج معمول بن کر پختون طلباء پر یونیورسٹی میں اسلحہ اور ہینڈ گرنیڈ تک کا استعمال کیا گیا یونیورسٹی انتظامیہ جانبداری کا کردار ادا کرکے ظالم کی بجائے مظلوم کے خلاف مقدمہ درج کروا رہی ہے جس کی ہم بھر پور مزمت کرتے ہیں ۔

مورخہ 11 جون 2015 ء بروز جمعرات
( پریس ریلیز )

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے قلعہ عبداللہ کے چیئرمین شپ کی جیت پر عثمان اچکزئی اور اے این پی بلوچستان کو مبارکباد دی ہے۔ اے این پی کے رہنماؤں نے باچا خان مرکز پشاور سے اپنے مشترکہ جاریکردہ تہنیتی بیان میں کہا ہے کہ اے این پی قلعہ عبداللہ کے چیئرمین شپ اور حرم زئی ٹاؤن پر شاہ جہان کی کامیابی نے نشست جیت کر ثابت کر دیا ہے کہ اے این پی کا گراف روز بروز بلوچستان کے عوام میں بلند ہو رہا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک دن اے این پی بلوچستان میں ایک مضبوط قوت بن کر اُبھرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ قلعہ عبداللہ کے چیئرمین شپ اور حرم زئی ٹاؤن کی جیت اے این پی کی مثبت اور انسان دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔اُنہوں نے بلوچستان پارٹی کی قیادت اور ورکروں کے فعالی کردار اور انتھک کوششوں کو سراہا اور پارٹی کی جیت پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان کو مبارکباد پیش کی ہے۔

مورخہ 11 جون 2015 ء بروز جمعرات
( پریس ریلیز )

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جمہوریت میں مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے اور اگر حکومت نے مذاکرات کی سنجیدہ دعوت دی تو اس پر غور ضرور کرینگے۔ اے این پی کے مرکزی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز میں سہ فریقی اتحاد کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کا احتجاج پر امن تھا اور صوبہ بھر سے کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جس واقعہ کو جواز بنا کر اُن کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہتی تھی پولیس نے اس عکس بندی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومتی مؤقف کو مسترد کر دیا۔ میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ سہ فریقی اتحاد کا جلسہ 16 جون کو سوئیکارنو چوک میں ہوگا جس میں اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان اور جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان سمیت پی پی پی کے قائدین بھی شرکت کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں 15 جون کو بجٹ اجلاس میں بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائینگی جس کیلئے (ن) لیگ اور قومی وطن پارٹی سے بھی رابطے کر رہے ہیں۔

مورخہ 11جون 2015ء بروزجمعرات

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کیصوبائی رہنما اور سابق ایم پی اے مختیار علی خان ایڈوکیٹ کے چچا پروفیسر بختیار بقضائے الٰہی انتقال کر گئے ہیں ، مرحوم کی نماز جنازہ کل شام یار حسین صوابی میں ادا کی گئی جبکہ بعد ازاں انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا ۔ دریں اثنا عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ، مختیار علی ایڈوکیٹ اور غمزدہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کیلئے دعا بھی کی ۔

مورخہ 11جون 2015ء بروزجمعرات

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور حیات آباد میں ایف سی کی گاڑی پر بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں ایک راہگیر کے شہید اور ایف آر پی کے ڈپٹی کمانڈنٹ سمیت اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں پر حملے اور نہتے اور معصوم انسانوں کی جانیں والے دہشتگرد کسی طور انسان کہلانے کے لائق نہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کسی نظریے اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور ان کے مکروہ چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت فی الفور قاتلوں کو گرفتار کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے ، انہوں نے غمزدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے شہداء کی مغفرت کیلئے بھی دعا کی ۔

مورخہ 10 جون 2015 ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) سہ فریقی اتحاد کے صدر اور اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ہڑتال کو نوے فیصد کامیاب قرار دیتے ہوئے 16 جون کو پشاور میں ایک بڑے جلسے کی کال دے دی۔ باچا خان مرکز پشاور میں سہ فریقی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت نے راتوں رات پولیس کے ذریعے تاجر برادری پر دباؤ ڈالا اور اُنہیں تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہوئے کاروبار کھولنے پر مجبور کیا جبکہ اپوزیشن کیساتھ نمٹنے کیلئے بھی حکمت عملی وضع کی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد کے کارکن مکمل طور پر پر امن رہے تاہم چند مقامات پر پی ٹی آئی کے منظور نظر دکانداروں نے جلوس کو اشتعال دلانے کی کوشش کی جس دوران ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی اور اس دوران اے این پی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ارباب محمد طاہر خلیل زخمی ہو گئے۔جبکہ اس موقع پر پولیس کے اہلکاروں کو کیمرے دے کر ناخوشگوار واقعات کا فوٹیج بنانے کا کہا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر میرے اور غلام علی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی بات واضح نہیں ہو سکی۔
اُنہوں نے سہ فریقی اتحاد کے تمام کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیاجنہوں نے پر امن احتجاج میں حصہ لیاتاہم اُنہوں نے حکومتی روئے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جس میں جرگے کے بعد اپوزیشن کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی ناکام کوشش کی۔ میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا احتجاج ہر صورت جاری رہے گا کیونکہ ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ 16 جون کو ہونے والے جلسے میں سہ فریقی اتحاد کے تمام مرکزی قائدین بھی شرکت کرینگے۔بلدیاتی ایکٹ کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ انٹر نیٹ کا ہیرو صوبے میں زیرو ثابت ہوا اور دوسرے ملکوں سے نظام چوری کر کے صوبے پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی جو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ثابت ہوا۔اُنہوں نے کہ بلدیاتی ایکٹ میں موجود خامیاں دور کی جائیں اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ حکومتی بیانات کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ اگر عوامی نیشنل پارٹی نے بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کی ہے تو پھر حکومت کہاں تھی جبکہ وزیر اعلیٰ کے بھائی نے بیلٹ بکس ہی غائب کر دئیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم عوام کی عدالت میں ہیں اور جب تک حکومت رضاکارانہ طور پر مستعفی نہیں ہوتی ہمارا احتجاج بدستور جاری رہے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کے ذریعے از سر نو انتخابات کرائے جائیں۔

مورخہ : 9.6.2015 بروز منگل

پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کا اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت سعید خان منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کی پوری کابینہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج ہونے والے احتجاج میں بھر پور حصہ لینگے اور اس احتجاج کو کامیاب بنائیں گے۔ اجلاس سے مامون الرشید جنرل سیکرٹری ، شہزاد گل جائنٹ سیکرٹری ، عثمان معیار نائب صدر اور محمد یونس انفارمیشن سیکرٹری نے خطاب کیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور ہوئی کہ ہم عدم تشدد کے پیرو کار ہیں اور اپنے لیڈر کے کہنے پر آج پُر امن احتجاج کرینگے اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کی گئی دھاندلی کے خلاف این وائی او سڑکوں پر نکلے گی۔

مورخہ : 9.6.2015 بروز منگل

پشاور ( پ ر )ملگری اُستاذان صوبہ پختونخوا کی صوبائی کایبنہ کے علاوہ ضلع صدور کا ایک اہم اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت امجد علی ترکئی منعقد ہوا۔ جس میں صوبائی کوآرڈینیٹر ملگری اُستاذان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک ، جنرل سیکرٹری وارث خان خلیل ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبدالقیوم خان، سرپرست اعلیٰ اسلام الدین خان ، جائنٹ سیکرٹری عثمان خان منگڑ، وزیر محمد خان نائب صدر نے شرکت کی۔ جس میں الیکشن کے حوالہ سے اساتذہ کرام کی خدمات کو سراہا گیا۔ الیکشن کے دوران اساتذہ و دیگر ملازمین شہید ہوئے اُنہیں شہداء پیکج دیا جائے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ اساتذہ کرام کی اسی طرح تذلیل ناقابل برداشت ہوگی۔ ضلعی صدر ہریپور اختر زار خان کے مطالبہ پر برما کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ اجلاس میں حکومت وقت سے مطالبہ کیا گیا کہ NIS کے ٹھیکیداری نظام کو ختم کیا جائے۔ ٹائم سکیل ، ٹیچر سن کوٹہ ، EEF اور ڈیز پرسن کوٹہ پر تفصیلی بحث ہوئی۔

مورخہ : 8 جون 2015 ء بروز پیر

پشاور ( پ ر ) مرکزی تنظیم تاجران خیبر پختونخوا کے علیم جان گروپ اور شرافت علی گروپ نے سہ فریقی اتحاد کی کال پر 10 جون کو ہونے والی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین کی سربراہی میں جمیعت علماء اسلام پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات عبدالجلیل جان ، سابقہ سینیٹر حاجی غلام علی خان اور اے این پی پشاور سٹی ڈسٹرکٹ کے جنرل سیکرٹری سرتاج خان نے علیم جان اور شرافت علی گروپس سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر دونوں گروپس کے سربراہوں نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کے سہ فریقی اتحاد کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا متفقہ طور پر اعلان کر دیا ہے۔ اس موقع پر دونوں گروپو ں سے ملک مہر الہٰی ، محمد شوکت ، مجیب الرحمان ، کفایت اللہ درانی ، شوکت اللہ ہمدرد اور میاں محمد اختر بھی موجود تھے۔
اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور اُن کی شرکت اور حمایت کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے صوبہ پختونخوا کی تمام پارٹی تنظیموں اور ساتھیوں سے کہا ہے کہ وہ مقامی سطح پر تاجر برادری سے رابطہ کریں اور اُن کو 10 جون کو سہ فریقی اتحاد کے زیر اہتمام شٹر ڈاؤن ہڑتال میں شرکت کی دعوت دے۔

مورخہ 8 جون 2015ء بروزپیر
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے صوبے کی تما م تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ سہ فریقی اتحاد کی طرف سے 10جون کو ہونے والی ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات کام کریں ،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کی ہدایت کے مطابق 30مئی کی تاریخ ساز دھنادلی کے خلاف احتجاج کو کامیاب بنانے کیلیء تمام ضلعی تنظیمیں ، یو سی تنظیمیں اور منتخب نمائندے اور پارٹی کے سابق سینیٹرز ، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی مضبوط اور منظم طریقے سے عوام کے ساتھ اپنی شرکت یقینی بنائیں ،انہوں نے کہا کہ دھنادلی کا واویلہ کرنے والے عمران خان نے صوبائی حکومت کے ذریعے وہ تاریخی دھنادلی کی ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، انہوں نے کہا کہ 11مئی 2013کو حکیم اللہ محسود کی اشیر باد سے صوبائی حکومت بنائی اور 30مئی 2015 کو صوبائی حکومت کی انتظامیہ کے توسط سے عوام کی رائے پر ڈاکہ ڈالا ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور صوبے کے عوام نے پی ٹی آئی کو بری طرح مسترد کر دیا ہے لیکن سرکاری مشنری اور حکومتی ذرائع کے ذریعے بلدیاتی الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام عمران خان اور ان کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو جمہوریت پر شب خون مارنے پر کبھی معاف نہیں کرے گی ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر الزامات لگانے والے عمران خان پرویز خٹک کے ساتھ کب حساب کتاب کریں گے۔

مورخہ : 8 جون 2015 ء پیر
پریس ریلیز

پشاور( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ سہ فریقی اتحاد حکومتی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گی ، کانفرنس ہماری کل(بدھ) سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش ہے ،عمران خان کی دوبارہ الیکشن کرانے کی باتیں مگر مچھ کے آنسو ہیں ،صوبائی حکومت مستعفی ہوجائیں،وہ باغیچہ ڈھیری مردان میں تحصیل کونسل کے آزاد ممبر نصراللہ خان کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے امیرحیدرخان ہوتی نے شامل ہونے والے تحصیل کونسلرکو پارٹی ٹوپی پہنائی اورانہیں مبارک باددی تقریب سے اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار نے بھی خطاب کیا اورکہاکہ نصراللہ خان کی شمولیت کے بعد تحصیل مردان میں ان کے ممبران کی تعداد 10ہوگئی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ 2013کے عام انتخابات نگران میں ہوئے تھے لیکن عمران خان مبینہ دھاندلی پر میاں نوازشریف اوران کی حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ کہ تحریک انصاف جو دھاندلی کے خلاف بڑے بڑے دعوے کررہی تھی بلدیاتی میں ان کے دعوے اوروعدے دھرے کے دھرے رہ گئے بد انتظامی اور دھاندلی کے لحاظ سے بلدیاتی انتخابات خیبر پختونخوا کی تاریخ کے بدترین انتخابات تھے جس میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے انہوں نے کہاکہ سہ فریقی اتحاد کے مشران اس کے خلاف ہر محاذ پر آواز اُٹھائے گی اورآج منگل کے روز حکومتی آل پارٹیز کانفرنس میں سہ فریقی اتحاد میں شامل جماعتیں شرکت نہیں کریں گی کیونکہ یہ کانفرنس ہماری کل بدھ سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش ہے انہوں نے کہاکہ ہم اپوزیشن کے دیگر جماعتوں سے بھی رابطے میں ہیں اوران کو ایک پیج پر لانے کے لئے کوشاں ہیں انہوں نے کہاکہ خیبرپختون خوا میں بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں کی براہ راست نگرانی میں ہوئے ہیں اورصوبائی حکومت کی طرف سے تمام ذمہ داریاں الیکشن کمیشن پر ڈالنا راہ فراراختیار کرنے کے مترادف ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں منظم دھاندلی کے بعد پی ٹی آئی کو حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں رہاکیونکہ جو لوگ خود دھاندلی کے خلاف کئی ماہ احتجاج کرتے رہے اب ان کی سرپرستی میں منظم دھاندلی ہوئی ہے جس کا اعتراف خود عمران خان اور صوبائی وزیراعلیٰ کرچکے ہیں انہوں نے انتخابات میں امن امان کی خراب صورت حال کی یہ حالت رہی کہ اس میں کئی شہروں میں جانی نقصانات بھی ہوئے ہیں حالانکہ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے جس میں حکومت ناکام رہی ہے اے این پی کے صوبائی صدر نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی طرف سے دوبارہ بلدیاتی انتخابات کو سیاسی واویلا قراردیا اور کہاکہ اپوزیشن جماعتیں موجودہ حکومت سے استعفیٰ اورنگران حکومت کی سرپرستی میں بلدیاتی اورعام انتخابات کا مطالبہ کرتی ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ عمران خان پورے ملک میں گھوم پھرکر خیبرپختون خوا میں شفاف اور آزادانہ بلدیاتی انتخابات کرنے کے دعوے کرتے رہے لیکن ان انتخابات میں تبدیلی والوں کا اصل چہرہ پوری دنیا نے دیکھ لیاہے انہوں نے کہاکہ سہ فریقی اتحاد دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں ہے اورتمام اپوزیشن کو ایک پیج پر لانے کے لئے کوشاں ہے ۔

مورخہ 8 جون 2015ء بروزپیر

پشاور ( پ ر ) سہ فریقی اتحاد کے صدر اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بلایا جانے والا اجلاس بد نیتی پر مبنی اور ہڑتال کو سبو تاژ کرنے کی سازش ہے اور سہ فریقی اتحاد اس میں شرکت نہیں کرے گا ، 10جون کو شٹر ڈاؤن جرور ہو گا اور یہ تحریک حکومت کی رخصتی تک جاری رہے گی ۔ باچا خان مرکز پشاور میں سہ فریقی اتحاد کے ایک اہم اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں پریس بریفنگ دیتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ10جون کو ہونے والی ہڑتال کیلئے تاجروں کے ساتھ رابطوں کی غرض سے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اس حوالے سے اپنا کام مکمل کرے گی اور تاجر برادری کی تمام تنظیموں سے رابطے کئے جائیں گے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تاجر برادی دھاندلی کے خلاف ہمارا ساتھ دے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی افادیت کھو چکی ہے اور اس نے ہماری تحریک کے خوف سے آج کا اجلاس طلب کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سہ فریقی اتحاد کے زیر اہتمام ہڑتال کو بہر صورت کامیاب کیا جائے گا ،اور تمام حلقوں میں جلسے جلوس منعقد کئے جائیں گے ،انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کیلئے راستوں پر کارکنوں کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں حکومت نے زکوٰۃ کی رقم سمیت کروڑوں کے فنڈز لٹائے گئے ، جبکہ وزیر اعلیٰ کا بھائی رات 12بجے تک پولنگ کراتا رہا ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ تیسری بار ان سے بجٹ لیپس ہو چکا ہے اب دھاندلی کے بعد ان کی افادیت ختم ہو چکی ہے ،انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے حوالے سے عمران کا دعویٰ بھی جھوٹا تھا لہٰذا اب حکومت کو رضاکارانہ طور پر مستعفٰی ہو جانا چاہئے اور ان کے جانے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا ،انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں باقی سیاسی جماعتیں بھی رابطے میں ہیں اور جلد ہی اس سلسلے میں لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ دھاندلی صرف یہ نہیں کہ بیلٹ بکس چرائے گئے بلکہ الیکشن نتائج کو روکنا اور آزاد امیدواروں کو دھمکیاں دے کر اپنے ساتھ ملانا بھی دھاندلی ہے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جس پولیس پر ۃم فخر کرتے رہے وہ بھی الیکشن میں دھاندلی میں مصروف رہی اور اس کے ساتھ ساتھ ڈی سی اور اور تمام سرکاری ملازمیں نے اس دھنادلی میں اپنا کردار ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنا قبلہ درست کریں ،پنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھ پر جھوٹی ایف آئی آر کٹوائی گئی اور اب مقتول لڑکے کے والد پر بیان بدلنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ میں بھی اسی طرح راتوں رات ایف آئی آر ربدیل کر دی گئی جو پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت میں ہونے لگا ہے ،خصوصی نشستوں کیلئے مانگے گئے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والا نوٹیفیکیشن جھوٹ پر مبنی ہے اور خصوصی نشستوں کیلئے ابھی تک نام مانگے جا رہے ہیں ، میاں افتخار حسین نے سہ فریقی اتحاد کے تمام کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ہڑتال کامیاب بنانے کیلئے اپنی ذمہداریوں پوری کریں ۔

مورخہ 7 جون 2015ء بروزاتوار

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین نے سہ فریقی اتحاد کی تمام تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلدیاتی الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف 10جون کی ہڑتال کے حوالے سے اپنے متعلقہ حلقوں میں اجلاسوں کا انعقاد کریں اور اس سلسلے میں اپنی تیاری مکمل کر لیں ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد کی تمام تنظیمیں ہڑتال کے حوالے سے تاجر اور ٹرانسپورٹ برادری کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں تا کہ 10جون کو ہونے والے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر مستعفٰی ہو جائے اور از سرنو انتخابات کیلئے نگران سیٹ اپ بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی رخصتی تک یہ تحریک چلتی رہے گی اور اس کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا ۔

مورخہ :6 جون 2015 ء بروز ہفتہ
( پریس ریلیز )

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی بونیر میں اے این پی کے رہنما اور سابق ضلع ناظم حاجی رؤف خان کی رہائش گاہ گئے اور اُن کی والدہ کی وفات پر اُن سے تعزیت کی۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے مرحومہ کے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ سابق وزیر اعلیٰ کچھ دیر غمزدہ خاندان کیساتھ رہے اور مرحومہ کے لواحقین کیلئے صبر عطا کرنے کی بھی دُعا کی۔

مورخہ : 5 جون 2015 بروز جمعہ

پریس ریلیز

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی سہ فریقی اتحاد ضلع پشاور کا ایک اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں مولانا خیر البشر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں جے یو آئی کے سینیٹر حاجی غلام علی ، مولانا امان اللہ حقانی ، اے این پی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان ، جنرل سیکرٹری گلزار حسین اور سٹی ڈسٹرکٹ کے جنرل سیکرٹری سرتاج خان کے علاوہ دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں بلدیاتی الیکشن پر غورو حوض کیا گیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ تحریک انصاف کی حکومت جو ہمیشہ انصاف کی باتیں کرتے ہیں اس الیکشن میں نا انصافی کی انتہا کر دی۔ بد انتظامی اور دھاندلی کے لحاظ سے یہ بلدیاتی انتخابات خیبر پختونخوا کی تاریخ کے بدترین انتخابات تھے جس میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے۔ ابھی تک نتائج میں ردوبدل کیا جا رہا ہے اور اپنے لوگوں کو کامیاب کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ سہ فریقی اتحاد کے مشران اس کے خلاف ہر محاذ پر آواز اُٹھائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا بھی دینگے۔ اجلاس میں ضلع پشاور میں ڈسٹرکٹ چیئرمین کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیاکہ آج مورخہ 6 جون کو ہونے والے سہ فریقی اتحاد کے صوبائی اجلاس میں جو بھی فیصلہ ہوگا اُس پر من و عن عمل کیا جائیگا۔

مورخہ : 5 جون 2015ء بروز جمعہ

پریس ریلیز

پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی اور صوبائی کابینہ کا مشترکہ اجلاس باچا کان مرکز میں زیر صدارت مرکزی صدر خوشحال خان خٹک منعقد ہوا۔ اجلاس میں بلدیاتی الیکشن میں اے این پی کی شاندار کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا گیا اور مشکل حالات میں الیکشن مہم چلانے اور عوام کو سرخ جھنڈے تلے جمع کرنے پر پارٹی قائدین اور بالخصوص صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کو خراج تحسین اور مبارکباد پیش کی گئی۔ اجلاس میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی اضلاع کی تنظیموں اور ورکرز کی بھرپور کردار کو سراہا گیا اور الیکشن میں یوتھ کے کامیاب اُمیدواروں کو مبارکباد پیش کی گئی۔
اجلاس میں بلدیاتی الیکشن کے غیر مناسب انتظام اور قانون کے عین مطابق انعقاد میں صوبائی حکومت کی یکسر ناکامی اور الیکشن کے عمل پر اثر انداز ہونے اور منظم دھاندلی کرنے کی بھرپور مذمت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن پارٹی پالیسی کے مطابق صوبائی حکومت کے احتساب کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔
اجلاس میں اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین پر پی ٹی آئی کے غنڈوں کے شرمناک حملے اور اُن پر قتل کے جھوٹے مقدمے کے اندراج کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل یوتھ کے نوجوان منظم اندازمیں میرٹ ، انصاف اور قانون کی بالادستی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیکر برسراقتدار آنے والے سیاسی نوواردوں کا اصل چہرہ اور عزائم عوام کے سامنے لائے ۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ میاں افتخار حسین پر حملے اور اُن پر جھوٹے مقدمے کے اندراج کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس میں شامل عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن صوبے اور مرکز کی سطح پر جلد کنونشن کا انعقاد کریگی اور اضلاع اور یونین کونسلز کی سطح پر کنونشن کیلئے جلد از جلد بھرپور تیاریاں شروع کرینگے۔

مورخہ 4.6.2015 بروز جمعرات

پریس ریلیز

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق ضلعی ناظم بونیر رؤف خان اور نثار خان کی والدہ ماجدہ انتقال کر گئی ہیں اُن کا جنازہ آج بروز جمعہ بوقت صبح دس بجے کڑپہ بونیر میں ادا کیا جائیگا۔ دریں اثناء اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے رؤف خان کی والدہ کی وفات پر تعزیت اورگہرے رنج و غم کا اظہارکیا اور مرحومہ کیلئے فاتحہ خوانی کی اور دُعا کی اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوار رحمت جگہ عطا فرمائے۔

مورخہ : 6.4.2015 بروز جمعرات
پریس ریلیز

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ شمس القمر اندیش پختون قوم کا روشن ستارہ تھے اور وہ اپنی فکر ، قلم اور جدوجہد کی وجہ سے پختون قوم میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پشاور یونیورسٹی میں شمس القمر اندیش کی یاد میں منعقدہ تقریب سے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ شمس القمر اندیش ایک ترقی پسند شاعر تھے اور اپنی قلم اور شاعری کے ذریعے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ شمس القمر اندیش نے ہر دور میں جابر اور ظالم حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کیاور پشتون قوم کو ادب اور قلم کے ذریعے بیدار کرنے کی بھرپور کوشش کی جو تاریخ کا حصہ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ شمس القمر اندیش نے 1935 میں مردان کے علاقہ مایار میں خدائی خدمتگار محمد عمر خان کے گھرانے میں پیدا ہوئے ، پنجاب یونیورسٹی سے 968میں بی اے کرنے کے بعد مردان ہی میں ایک میڈیکل سٹور بھی چلایا ۔ اُن کے والد محمد عمر خان باچا خان بابا کے بہت قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور شروع ہی سے خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ رہے ۔ وہ ہر ہفتے اپنے گھر پختون رسالہ لاتے تھے جس کو شمس القمر بغور پرھتے تھے جس کی وجہ سے اُنہوں نے پشتو شاعری میں دلچسپی لینا شروع کی اور طالب علمی کے زمانے ہی سے شاعری شروع کی تھی اورشاعری کی وجہ سے مختلف سکولوں میں ہونے والے مقابلوں میں کئی بار انعامات بھی جیتے۔ شمس القمر اندیش بھی خدائی خدمتگار تحریک سے بہت متاثرہوئے اور مرتے دم تک اس تحریک سے نہ صرف منسلک رہے بلکہ اس تحریک کیلئے بیش بہا قربانیاں بھی دیں ۔ اُنہوں نے اپنے ادب ، شاعری ، قلم اور فکر کے ذریعے پختون قوم میں قومی شعور اُجاگر کیا۔اُنہوں نے اپنی غزلوں کو بھی سیاسی اور رومانیت کا رنگ دیا اور ان ہی کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ اندیش صاحب انتہائی خوددار اور ضمیر پرست انسان تھے اور اپنی فکری اور ادبی سوچ کے عین مطابق سٹیٹس کے خلاف رہے اور ہمیشہ حکومتی انعامات ، القابات اور ایوارڈز کو ٹھکراتے رہے اوراپنی فقر اور خودداری کا بھرم رکھنے کو ہمیشہ اپنا افتخار سمجھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اندیش صاحب ہماری نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہیں اور اُن کے افکار اور خیالات سے روشناس ہو کر ہماری نوجوان نسل ایک شاندار قومی زندگی اور اچھا معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ تقریب کے آخر میں میاں صاحب نے تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

مورخہ : 6.4.2015 بروز جمعرات
پریس ریلیز

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ شمس القمر اندیش پختون قوم کا روشن ستارہ تھے اور وہ اپنی فکر ، قلم اور جدوجہد کی وجہ سے پختون قوم میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پشاور یونیورسٹی میں شمس القمر اندیش کی یاد میں منعقدہ تقریب سے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ شمس القمر اندیش ایک ترقی پسند شاعر تھے اور اپنی قلم اور شاعری کے ذریعے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ شمس القمر اندیش نے ہر دور میں جابر اور ظالم حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کیاور پشتون قوم کو ادب اور قلم کے ذریعے بیدار کرنے کی بھرپور کوشش کی جو تاریخ کا حصہ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ شمس القمر اندیش نے 1935 میں مردان کے علاقہ مایار میں خدائی خدمتگار محمد عمر خان کے گھرانے میں پیدا ہوئے ، پنجاب یونیورسٹی سے 968میں بی اے کرنے کے بعد مردان ہی میں ایک میڈیکل سٹور بھی چلایا ۔ اُن کے والد محمد عمر خان باچا خان بابا کے بہت قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور شروع ہی سے خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ رہے ۔ وہ ہر ہفتے اپنے گھر پختون رسالہ لاتے تھے جس کو شمس القمر بغور پرھتے تھے جس کی وجہ سے اُنہوں نے پشتو شاعری میں دلچسپی لینا شروع کی اور طالب علمی کے زمانے ہی سے شاعری شروع کی تھی اورشاعری کی وجہ سے مختلف سکولوں میں ہونے والے مقابلوں میں کئی بار انعامات بھی جیتے۔ شمس القمر اندیش بھی خدائی خدمتگار تحریک سے بہت متاثرہوئے اور مرتے دم تک اس تحریک سے نہ صرف منسلک رہے بلکہ اس تحریک کیلئے بیش بہا قربانیاں بھی دیں ۔ اُنہوں نے اپنے ادب ، شاعری ، قلم اور فکر کے ذریعے پختون قوم میں قومی شعور اُجاگر کیا۔اُنہوں نے اپنی غزلوں کو بھی سیاسی اور رومانیت کا رنگ دیا اور ان ہی کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ اندیش صاحب انتہائی خوددار اور ضمیر پرست انسان تھے اور اپنی فکری اور ادبی سوچ کے عین مطابق سٹیٹس کے خلاف رہے اور ہمیشہ حکومتی انعامات ، القابات اور ایوارڈز کو ٹھکراتے رہے اوراپنی فقر اور خودداری کا بھرم رکھنے کو ہمیشہ اپنا افتخار سمجھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اندیش صاحب ہماری نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہیں اور اُن کے افکار اور خیالات سے روشناس ہو کر ہماری نوجوان نسل ایک شاندار قومی زندگی اور اچھا معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ تقریب کے آخر میں میاں صاحب نے تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

مورخہ 4 جون 2015ء بروزجمعرات

پشاور ( پ ر )تحصیل کونسل ہریپور سے نو منتخب آزاد رکن افتخار عباسی عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہو گئے، انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک کی موجودگی میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ، سردار حسین بابک نے انہیں اس موقع پر سرخ ٹوپی پہنائی اور انہیں پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے مبارکباد پیش کی ، تحصیل کونسل توفقیاں سے منتخب ہونے والے آزاد ممبر افتخار عباسی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کہ علاقے کی خدمت اور ہری پور میں پارٹی کو مظبوط اور منظم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے ، اس موقع پر سردار حسین بابک نے افتخار عباسی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں ہری پور میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ہیں اور علاقے کی پسماندگی دور کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے،انہوں نے توقع ظاہر کی کہ افتخار عباسی اور دیگر ساتھی پارٹی کا پیغام ضلع کے کونے کونے تک پہنچائیں گے اور پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے دن رات محنت کریں گے ۔

مورخہ : 3.6.2015 بروز بدھ
پریس ریلیز

پشاور( پ ر ) مرکزی حکومت کی طرف آل گورنمنٹ ایمپلائز کو آرڈینیشن کے ملازمین قابل مذمت ہیں ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے اسلام آباد میں اپنے مطالبات اور حقوق کیلئے احتجاج کرنے والے ملازمین کی گرفتاری افسوسناک ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملازمین کو اپنے حقوق اور مطالبات کیلئے احتجاج ان کا جمہوری حق ہے۔ لہٰذا ان کو فوری رہائی دے دی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ (AGECC) کے ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافے اور ایڈ ہاک ریلیف کو تنخواہوں میں ضم کرنے کیلئے احتجاج کر رہے ہیں جو کہ ان کا حق ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو مذاکرات اور سیاست کا راستہ اپنانا چاہیے نہ کہ آمرانہ حکومتوں کے طریقہ کار کو۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مہنگائی کے دور میں شرکاری ملازمین مشکل سے گزار ا کر رہے ہیں ۔ لہٰذا ان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں اور ان کو فوری رہا کیے جائیں۔

مورخہ 3جون 2015ء بروزبدھ

اے این پی سویڈن کی میاں افتخار حسین کی گرفتاری کی مذمت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی سویڈن کے جنرل سیکرٹری مسعود باچہ نے اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور ان کے خلاف ایف آئی آر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاسی انتقام پر اُتر آئی ہے جبکہ اے این پی کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم عدم تشدد کے علمبردار ہیں۔ اے این پی سویڈن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ میاں افتخار حسین کا شمار اُن رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی بھر عدم تشدد پر عمل پیرا ہو کر سیاست کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میاں افتخار حسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا اور ان کی گرفتاری صوبائی حکومت کی جانب سے اپنی ناکامی چھپانے اور اپنے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کی بدترین مثال ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے بلدیاتی انتخابات میں کود بدانتظامی کا اعتراف کیا ہے باوجود اس کے کہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات میں ہر قسم کے حربے استعمال کرتی رہی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ہوتا رہا جبکہ عوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی آخری حد تک کوشش کی گئی۔ اُنہوں نے کہا میاں افتخار حسین جیسے شریف النفس سیاستدان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے سے ان کی چھوٹی ذہنیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

مورخہ 2 جون 2015ء بروزمنگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر حاجی محمدعدیل کا سی ایم ایچ میں کامیاب آپریشن مکمل ہو گیا ہے ۔ اور اب وہ روبصحتیاب ہو رہے ہیں ۔
حاجی محمد عدیل سے کہا ہے کہ وہ عنقریب مکمل صحتیابی کے بعد گھر منتقل ہو جائیں گے۔

مورخہ 3 جون 2015ء بروزبدھ
پریس ریلیز
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی حکومت سے فوری مستعفٰی ہو نے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کے اعتراف کے بعد تحریک انصاف کو صوبے میں حکومت کا کوئی حق نہیں ہے ، بلور ہاؤس پشاور میں اے این پی کے تھنک ٹینک اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ چوروں نے خود چوری کا اعتراف کر لیا ہے اور اب ان کی نگرانی میں بلدیاتی الیکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دھا ندلی کے اعتراف کے بعد فوری مستعفٰی ہو اور نیاقائمقام سیٹ اپ بنایا جائے جس کے بعد صوبائی اسمبلی کے انتخابات اور بعد ازاں بلدیاتی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کپتان پنجاب میں دھاندلی کی ذمہداری نواز شریف اور دوسروں پر ڈالتے ہیں لیکن اب یہاں الیکشن کمیشن کو ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں ہونے والی بدنظمی کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ لاء اینڈ آرڈر حکومتی ذمہ داری ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ایک پولنگ سٹیشن میں جوان لڑکی کو جس بیدردی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ پختون روایات کے خلاف ہے اور اس سے تبدیلی والوں کا چہرہ کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی والے دودھ کے پروانے ہیں انہوں نے کپتان پر واضح کیا کہ میاں افتخار حسین کے خلاف کی گئی کاروائی کا بدلہ سود سمیت وصول کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میاں افتخار حسین کا زندہ بچ جانا بھی کسی معجزے سے کم نہیں کیونکہ 5ہزار افراد صرف 6افراد پر حملہ کرنے کیلئے موجود تھے ، انہوں نے واقعے میں مرنے والے نوجوان کے والد کا شکریہ ادا کیا جس نے وقوعہ اور عدالت میں میاں افتخار حسین کی بے گناہی کی گواہی دی۔ تاہم اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مقتول کے والد پر بیان بدلنے کیلئے سرکاری طور پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر پارٹیاں بدلنے والے شخص کو عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی ۔ اُنہوں نے کہا کہ 2008 میں تحریک انصاف کا بہاؤ دیکھنے کے بعد وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور تاحال اپنے اقرباء کو نوازنے میں مصروف ہیں ۔ اسفند یارولی خان نے کہا کہ پولیس کی جانب سے میاں افتخار حسین کو حفاظتی حصار میں لینے کا بیان مضحکہ خیز ہے کیونکہ جس شخص کی جان بچائی جا رہی تھی اُسے ہتھکڑیاں لگا کر کھینچنے سے حکومتی نیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ دھرنوں اور دوبارہ بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ کے حوالے سے پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور ان سے متعلق فیصلہ باہمی رضامندی سے کیا جائیگا۔تاہم اُنہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کے ہوتے ہوئے فری اینڈ فئیر الیکشن کسی صورت ممکن نہیں چاہے وہ آرمی کی زیر نگرانی ہی کیوں نہ ہوں۔ اُنہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے تمام کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مصائب اور مشکلات کے باوجود بلدیاتی الیکشن میں اپنے فرائض سر انجام دئیے اور یہ ثابت کیا کہ پارٹی کے خلاف ہرزہ سرائیوں میں کوئی حقیقت نہیں اور اے این پی اب بھی صوبے کی مضبوط اور منظم جماعت ہے۔

مورخہ 2 جون 2015ء بروزمنگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے ایبٹ اباد میں انتخابی کشیدگی کے دوران تین افراد کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے فسادات پھیلانے کی سازش قرار دیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ حکومت دھاندلی الیکشن کے بعد اب انتخابی بدنظمی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ نہتے عوام پر گولیاں چلانا شرمناک فعل ہے ، اور اے این پی اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی کشیدگی ٹکم کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے ، پارٹی رہنماؤں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی ۔

مورخہ 2 جون 2015ء بروزمنگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ میاں افتخار حسین کی رہائی نے ثابت کر دیا ہے کہ صوبائی حکومت سیاسی انتقام پر یقین رکھتی ہے ، اور عدالت میں بے گناہی بھی ثابت ہو چکی ہے ، میاں افتخار حسین کی رہائی کے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ عدالت سے انصاف ملنے کے بعد حکومت کی بدنیتی اور سیاسی انتقام کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات میں بدترین دھاندلی کو چھپانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت اے این پی کے سینئر رہنما کو قتل کرنا چاہتی تھی تاہم وہاں موجود عوام اور پولیس اہلکاروں نے ان کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ پی ٹی آئی نے صوبائی حکومت کو سیاسی بنا دیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت قوم کو بتائے کہ اے این پی کے سینئر رہنما کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کیوں کاٹی گئی ،صوبائی حکومت سیاسی انتقام اور ذاتیات پر اترنے سے اجتناب کرے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی روایات کو ملحوط خاطر رکھتے ہوئے سیاست میں ذاتیات کے عنصر سے گریز کرے کیونکہ یہی پالیسی صوبے کے مفاد میں ہے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ وقت نے ہماری بے گناہی ثابت کر دی ہے عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک قوم سے معافی مانگیں جبکہ اے این پی کے کارکنوں نے ثابت کر دیا کہ ان کے سینئر رہنما کو سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے باوجود انہوں نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا اور ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا ،انہوں نے کہا کہ عدم تشدد کے پیروکاروں نے ثابت کر دیا ہے کہ اے این پی عدم تشدد پر یقین رکھنے والی ایک منظم جماعت ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی سیاست میں اے این پی کی پالیسیوں کی تقلید کرنی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اے این پی صوبے کی مضبوط قوت ہے اسی لئے اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کو پریشان کیا جا رہا ہے ۔لیکن حکومت کو یاد رکھنا چاہئے کہ باچا خان کے پیروکاروں پر ہر دور میں ظلم کیا گیا جبکہ اسی صوبے کے ایک سابق وزیر اعلیٰ نصر اللہ خٹک اور قیوم خان نے بھی ظلم کی انتہا کر دی تھی لیکن آج ان کا نام لینے والا بھی نہیں ، سردار حسین بابک نے آخر میں کارکنوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور ہر قسم کی بد نظمی اور ہلڑ بازی سے گریز کرتے ہوئے عدالت میں آکر اپنی حاضری یقینی بنائی ۔

مورخہ :یکم جون 2015 ء بروز پیر
( پریس ریلیز )

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں ضلع کونسل کی115 اور تحصیل کونسل کی 95 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔ اے این پی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ باوجود بدترین دھاندلی کے اتنی بڑی تعداد میں اے این پی کے اُمیدواروں کی جیت پارٹی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ذرائع، سرکاری وسائل اور مشینری کے باوجود اے این پی کے کارکنوں نے انتھک محنت کی ہے جو کہ قابل قدر ہے۔ سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ چارسدہ میں ضلع کونسل کی 16 اور تحصیل کونسل کی 14 ، پشاور میں ضلع کونسل کی 8 اور تحصیل کونسل کی 5 ، نوشہرہ میں ضلع کونسل کی 9 اور تحصیل کونسل کی 4 ، صوابی میں ضلع کونسل کی 20 اور تحصیل کونسل کی 14 ، مردان میں ضلع کونسل کی 21 اور تحصیل کونسل کی 14 ، بونیر میں ضلع کونسل کی 8 اور تحصیل کونسل کی 10 ، سوات میں ضلع کونسل کی 8 اور تحصیل کونسل کی 11، شانگلہ میں ضلع کونسل کی 5 اور تحصیل کونسل کی 4 ، ملاکنڈ میں ضلع کونسل کی 2 اور تحصیل کونسل کی 2 ، دیر لوئر میں ضلع کونسل کی 5 ، تحصیل کونسل کی 2 ، ہریپور میں ضلع کونسل کی 1 ، تورغر میں ضلع کونسل کی 5 اور تحصیل کونسل کی 4 ، کرک میں ضلع کونسل کی 1 اور تحصیل کونسل کی 4، کوہاٹ میں تحصیل کونسل کی 2 اور ہنگو میں ضلع کونسل کی 2 اور تحصیل کونسل کی 2 نشستیں حاصل کیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اُڑا دی ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اُنہوں نے کہا مرکز میں دھاندلی کا الزام نواز شریف پر لگانے والے عمران خان صوبے میں بدترین دھاندلی کا الزام پرویز خٹک پر لگائیں گے؟

کراچی۔پیر 01 جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچاخان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق گزشتہ رات ناظم آباد کے علاقے پاپوش نگر میں فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے اے این پی پاپوش نگر وارڈ کے جنرل سیکریٹری سدھیر احمد ،ان کے بھائی وزیر احمد اور بہنوئی محمد نزیر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی،نماز جنازہ میں اے این پی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری سمیت پارٹی کی مرکزی ،صوبائی اور ضلعی رہنماؤں سمیت کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،تینوں میتوں کی تدفین پاپوش نگر قبرستان میں کی گئی
اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا کہ قانون کے مطابق واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کر وادی ہے پولیس نے بھی کچھ گرفتاریاں کی ہیں مگر اب بھی مرکزی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انتہائی سنگین واقعے میں ملوث ملزم کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے ہر صورت میں سدھیر احمد کے پسماندگان کے ساتھ انصاف کیا جائے

کراچی۔پیر 01 جون 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ میاں افتخار حسین حضرت باچا خان بابا کے سچے پیروکار ہیں فلسفہ عدم تشدد کا علمبردار کسی کی جان لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا جن قوتوں نے بھی باچا خان بابا کے پیروکار کی بے توقیری کرنے کی کوشش کی تاریخ سے اس کا نام و نشان مٹ گیا ہے قوم کے معماروں کا مستقبل روشن کرنے خاطر اپنے تن من دھن کی بازی لگانے والا کس طرح کسی کے جگر گوشے کی جان لے سکتا ہے قومی اداروں کے موقف ،تمام سیاسی جماعتوں کے بیانات، فافن کی رپورٹس کے باوجود اپنی نا اہلی تسلیم کرنے کے بجائے کپتان صاحب مسلسل ہٹ دھرمی کررہے ہیں میاں افتخار حسین کی گرفتاری کے حوالے سے کپتان صاحب ،وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور آئی جی خیبر پختون خوا کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہے ایک بلدیاتی الیکشن کے انعقاد نے نیا پاکستان بنانے والوں کا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے کپتان صاحب کے علاوہ ملک کی تمام سیاسی قیادت میاں افتخار حسین کی گرفتاری کے خلاف یک آواز ہے خیبر پختون خوا پو لیس کو غیر سیاسی کرنے کے دعوؤں کا عملی نمونہ گزشتہ چند روز میں پوری قوم نے دیکھ لیا ہے ایسا بلدیاتی لیکشن جسے حکومتی اتحاد ی بھی تسلیم نا کریں سونامی خان کو بہت بہت مبارک ہو

مورخہ یکم جون 2015ء بروزپیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ضلع مردان نے سابق صوبائی وزیر اور پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور انتخابی دھاندلیوں کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اورحکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی، اے این پی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار کی قیادت میں سینکڑوں کارکن پریس کلب مردان کے سامنے جمع ہوگئے ان کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر میاں افتخار کی گرفتاری اور بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے نعرے درج تھے مظاہرین نے شمسی روڈ پر احتجاجی ریلی نکالی اور حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی بعدازاں پریس کلب کے سامنے جلسہ منعقد کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے حمایت اللہ مایار ،عباس ثانی ،حاجی سبزعلی خان اوردیگر نے کہاکہ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری کو صوبائی حکومت نے بے گناہ گرفتار کرکے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا انہوں نے کہاکہ میاں افتخار امن کی جیتی جاگتی تصویر ہے مقررین کاکہناتھاکہ کہ صاف شفاف انتخابات کے دعویداروں نے قوم کے سامنے جھوٹ بولا بلدیاتی انتخابات میں کھلے عام دھاندلی ہوئی اور مخالف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو جان بوجھ کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا انہوں نے انتخابات سے تبدیلی کے نعرے لگانے والوں کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیاہے ۔

مورخہ یکم جون 2015ء بروزپیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ( یو کے ) کے مرکزی صدر محفوظ جان نے کہا ہے کہ میاں افتخار حسین کی گرفتاری ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے جبکہ جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے سے ان کی کردار کشی کی جارہی ہے ،اے این پی ( یو کے ) کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محفوظ جان نے کہا کہ میاں افتخار حسین وہ عظیم انسان ہیں جن کا اکلوتا بیٹا گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا گیا ،اور انہوں نے میت کے سرہانے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ میرا بیٹا قوم کیلئے جان قربان کر گیا ہے اور اس قوم کا ہر بیٹا میرا بیٹا ہے ، انہوں نے کہا کہ اس میاں افتخار حسین نے نہ قانون ہاتھ میں لیا اور نہ ہی توڑ پھوڑ کی بلکہ انہوں نے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا ، ایسا عظیم انسان کسی کے قتل میں کیسے ملوث ہو سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ سیاسی میدان کے بونے یہ مت بھولیں کہ اقتدار کے جس نشے میں وہ آج ہیں وہ اقتدار کل نہیں رہے گا ،اس لئے وہ اتنا ظلم کریں جتنا وہ کل برداشت کر سکیں ،انہوں نے مرکزی حکومت اور دیگر ادارون سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور میاں افتخار حسین کی رہائی کے فوری احکامات جاری کریں ،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری جاوید اخونزادہ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے اور میاں افتخار حسین کی فوری رہائی کے احکامات جاری کریں ، اجلاس سے مرکزی تنظیم کے سینئر نائب صدرور جمشید بنگش ، مقصود انور ،عبداللہ خان ، مشال خان ،جنید خٹک اور دیگر رہنماؤں نے بھی اپنے خطاب میں واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اس ظلم اور نا انصافی کے خلاف ملک گیر تحریک چلائے گی اور ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on June 1, 2015 at 12:13 pm