April-2015

 

مورخہ : 21.4.2015 بروز منگل

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سائبر کرائمز اور باالخصوص سائبر سپیس کا دہشتگردی کے استعمال میں روک تھام کیلئے حکومت کو بین الاقوامی اُصول اور معیار کے مطابق قانون سازی کرنی چاہیے ۔ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی مجوزہ انسداد الیکٹرانک کرائمز بل 2015 پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پیش کیے جانے بل میں بیشتر نقائص موجود ہیں اور بل کے اکثر مندرجات بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ مجوزہ بل میں ایسے مبہم الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو الیکٹرانک اور سائبر جرائم کی روک تھام کی بجائے عوام کی اظہار رائے و فکر پر قدغن لگانے کے مترادف ہے ۔ ایسے قوانین سیکیورٹی ایجنسیز کو لا محدود اختیارات فراہم کرتی ہے جس میں لوگوں کی جائز رائے زنی اور اختلاف رائے کو کچلنے کا زیادہ احتمال ہوتا ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایک ناقابل قبول تصور ہے۔ مجوزہ بل کی تیاری میں سول سوسائٹی اور دیگر سٹیک ہولڈرز کیساتھ معانی خیز مشاورت ہونی چاہیے تھی ۔ پوری دُنیا میں الیکٹرانک اور سائبر جرائم کیلئے قوانین موجود ہیں اور اُن سے استفادہ کرتے ہوئے ایک ایسا قانون وضع ہونا چاہیے جونہ صرف عوام کے بنیادی حقوق کیساتھ ہم آہنگ ہو بلکہ جس سے جرائم کا مؤثر سد باب ممکن ہوسکے۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہماری نئی نسل انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے سماجی اور سیاسی طور پر کافی متحرک ہے اور مجوزہ قانون اس حوالے سے کافی تشویشناک ہے کیونکہ اس میں موجود خرابیاں اور نقائص معصوم لوگوں کو بے جا طور پر ہراساں کرنے کیلئے استعمال ہو گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشتگردی سے نجات کیلئے درپیش چیلنج اور وضع کردہ نیشنل ایکشن پلان یہ تقاضہ کرتی ہے کہ حکومت سنجیدگی کیساتھ منظم جرائم کو روکنے کیلئے جدید تقاضوں کا لحاظ کرتے ہوئے قانون سازی اور اقدامات کرے اور خاص طور پر عوام کی بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس طرح کے مارشل لائی قوانین جو عوام کی آزادی رائے و اظہار پر قدغن لگائے کسی صورت مددگار ثابت نہیں ہو سکتی۔

مورخہ : 21.4.2015 بروز منگل

پریس ریلیز

پشاور ( پ ر ) پاکستان میں افغانستان کے سفیر جانان موسیٰ زئی اور قونصل جنرل ابراہیم خلیل نے منگل کے روز سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی سے ان کے والد سینیٹر محمد اعظم خان ہوتی کی وفات پر تعزیت کے لئے ہوتی ہاؤس مردان گئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیاورلی خان بھی اس موقع پر موجودتھے افغان رہنماؤں نے مرحوم محمد اعظم ہوتی کی اچانک وفات پر انتہائی دکھ درد اور غم کا اظہا رکیا اورمرحوم کی بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی کی افغان سفیر جانان موسیٰ زئی نے کہاکہ اعظم ہوتی کی وفات سے نہ صر ف پاکستان بلکہ افغانستان کے پختون ایک عظیم لیڈر سے محروم ہوچکے ہیں اور اس غم میں افغانستان کی حکومت اورعوام دونوں ہوتی خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں انہوں نے کہاکہ اعظم خان ہوتی پختون قوم پرست لیڈر تھے افغان جنگ کے حوالے سے ان کا اصولی موقف رہااورآخری دم تک پختون قوم کے حقوق کے لئے جدوجہد کی مرحوم کے افغان لیڈرشپ سے قریبی مراسم تھے اورپختون قوم کے لئے جیلوں اور جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں انہوں نے کہا کہ مرحوم کی خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی ۔

مورخہ :20.4.2015 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) آج عوامی نیشنل پارٹی کے ایک وفد نے جس میں پارٹی کی نائب صدر بشریٰ گوہر اور مرکزی کمیٹی کے ممبر افراسیاب خٹک نے پاکستان کے دوسرے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی چن پنگ سے ملاقات کی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے اپنی پارٹی کیطرف سے عوامی جمہوریہ چین کے صدر کو خوش آمدید کہا اور پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر خوشی کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے پاک چین معاشی راہداری کی تعمیر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اس میں پاکستان کے پسماندہ اور دہشتگردی کا شکار ہونے والے پشتون بیلٹ کو توجہ دی جائیگی جس سے اس علاقے میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کو شکست دینا ممکن ہوگا اور خطے میں استحکام قائم ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈروں نے افغانستان میں امن کے قیام میں چین کے کردار کو سراہا۔ چین کے صدر نے اس مختصر ملاقات میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کو یقین دلایا کہ چین خطے میں امن ، اقتصادی ترقی اور استحکام میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔

مورخہ 21 اپریل2015ء بروز منگل
عوامی نیشنل پارٹی بلدیاتی انتخابات میں کلین سویپ کرے گی،سردار حسین بابک
تحریک انصاف کو اس بار الیکشن جیتنے کیلئے کوئی حکیم اللہ محسود نہیں ملے گا، اے این پی کی جڑیں عوام میں ہیں
دن میں بلدیاتی انتخابات کا نعرہ لگانے والے دوسال میں بھی الیکشن نہیں کرانا چاہتے تھے، صوبائی ترجمان کا ردعمل
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی بلدیاتی انتخابات میں کلین سویپ کرے گی ، اے این پی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو اس بار الیکشن جیتنے کیلئے کوئی حکیم اللہ محسود نہیں ملے گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی ایک عوامی پارٹی ہے جس کی جڑیں عوام میں ہیں ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جنرل الیکشن 2013ء والا ماحول نہیں ملے گا ،انہوں نے کہا کہ 90دن میں بلدیاتی انتخابات کا نعرہ لگانے والے دوسال میں بھی الیکشن نہیں کرانا چاہتے تھے لیکن سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باعث وہ الیکشن کرانے پر مجبور ہو گئے ہیں ،سردار حسین بابک نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے اور حکومتی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے ایک سال سے اے این پی نے بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کیلئے رٹ پٹیشن جمع کرائی ہے اور ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں حاضری سے کترا رہے ہیں جس کی وجہ سے فیصلے میں تاخیر ہو رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کو ماضی میں عوام کے ذریعے نہیں بندوق کی نوک پر مینڈیٹ چرایا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اب کوئی اور حکیم اللہ محسود پیدا ہو گا تب ہی یہ الیکشن جیت سکتے ہیں اور ضرب عضب کی موجودگی اور مسلسل کامیابی سے تحریک انصاف سیاسی سہاروں کی سوچ چھوڑ دے انہوں نے کہا کہ حکومت کو اے این پی کی نہیں اپنی فکر کرنی چاہئے۔

مورخہ 20 اپریل2015ء بروز پیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پی کے 95دیر لوئر کے ضمنی الیکشن میں سرکاری مشنری کے استعمال کو روکنے میں ناکام ہو چکا ہے لہٰذا عوام پختونوں کی ترقی کا سفر جاری رکھنے کیلئے اپنا قیمتی ووٹ اے این پی کو دیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بونیر میں یو سی کوگا اور یو سی ناواگئی میں الگ الگ شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر صد بر کاکا ، دلبر کاکا ،شیر اسلم خان ، محمد افضل ، رحیم خان اور لقمان حکیم کی قیادت میں متعدد خاندانوں نے سینکڑوں افراد کے ہمراہ اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،سردار حسین بابک نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں شمولیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں عوام کی جوق در جوق شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام پی ٹی آئی کی حکومت سے نالاں ہیں جنہوں نے صوبے کے عوام کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ پی کے95 میں صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کو چھپانے کیلئے دھاندلی کے منصوبے تیار کر لئے گئے ہیں اور حکومتی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کی طرف سے دائر درخواست کے باوجود حکومتی وسائل اور مشنری کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بن بیٹھا ہے ۔سردار حسین بابک نے متنبہ کیا کہ اگر الیکشن کمیشن مزید خاموش تماشائی بنا رہا تو عوامی نیشنل پارٹی راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت انتخابات کو مؤخر کرنے کیلئے حیلے بہانے ڈھونڈ رہی ہے تاہم اس قسم کے ہتھکنڈے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ، انہوں نے عوام سے اپیل کی آنے والے بلدیاتی انتخابات میں اپنا قیمتی ووٹ اے این پی کے نامزد امیدواروں کو دیں تا کہ ہم پختونوں کی ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رکھا جا سکے اور پختون قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے ۔اس موقع پر اجتماع سے جاوید خان،نصیب خان،شیبر خان ،امیر سلطان خان اور اشتر خان نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ 19 اپریل2015ء بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے بلدیاتی الیکشن میں جے یوآئی نے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا ، اورکہا کہ الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔اس بات کا اعلان جے یوآئی ڈسٹرکٹ پشاور کے امیر مولانا خیر البشر اور اے این پی کے رہنما سید عاقل شاہ نے ایک مقامی ہوٹل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی سٹی کے صدر ملک غلام مصطفی اور جے یو آئی کے بیشتر ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے ، انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتی ہے ، اور کہا کہ اے این پی کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی ، انہوں نے تمام حلقوں میں انتخابی مہم کے دوران حکومتی مشنری کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت الیکشن سے قبل پری پول رگنگ میں مصروف ہو چکی ہے اورآئین کو پامال کیا جا رہا ہے انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ تمام حلقوں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا نوٹس لیا جائے اور سرکاری طور پر سیاسی رشوت کے استعمال کو روکا جائے ، انہوں نے کہا کہ حکومتی وزراء اور ایم پی ایز کی جانب سے عوامی رائے کو زبر دستی تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ کنٹونمنٹ بورڈ سمیت تمام بلدیاتی الیکشن عدلیہ کی نگرانی مین کرائے جائیں کیونکہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں اور وہ دھاندلی کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پری پول رگنگ کا نوٹس لیتے ہوئے حکومتی وزراء اور ایم پی ایز کو فوری طور پر غیر آئینی ترقیاتی کاموں سے روکے کیونکہ ان دنوں ترقیاتی کام الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں ہیں جو کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔

مورخہ : 18.4.2015 بروز ہفتہ

پریس ریلیز

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے آج بونیر میں نینشل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری کی رہائش گاہ گئے اور اُن سے اُن کے دادا کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی اور غمزدہ خاندان کیساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیداران اورکارکنان سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کاشغر گوادر ٹریڈ کوریڈار کے تبدیلی کی بھرپور مزاحمت کرے گی اور چھوٹے صوبوں کو ترقیاتی عمل میں پیچھے رکھنے کی ہر حکومتی پالیسی کے خلاف آواز اُٹھائے گی۔ اُنہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے بھرپور تیاریاں شروع کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ صوبائی حکومت پری پول ریگنگ کی بھرپور تیاری کر چکی ہے اور عدلیہ کی بجائے انتظامیہ کے ذریعے انتخابات کا انعقاد اسی سازش کا حصہ ہے ۔ الیکشن کمیشن کو اس کا بروقت نوٹس لینا چاہیے کیونکہ صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کا ہی بنیادی آئینی فریضہ ہے۔عوامی نیشنل پارٹی پہلے ہی مطالبہ کر چکی ہے کہ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کی صاف اور شفاف انعقاد کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور صوبائی حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کا بروقت جائزہ لیں۔ اُنہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ کڑے وقت کا سامنا کیا ہے اور ہر مشکل میں عوامی قوت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور ہر حالت میں عوام کی جمہوری حق کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ اور سینئر نائب صدر گلزار خان اُن کے ہمراہ تھے۔

مورخہ : 18.4.2015 بروز ہفتہ

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ارباب محمد طاہر خان خلیل نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں سہ فریقی اتحاد کی کامیابی یقینی ہے اُنہوں نے کہا کہ حکومتی اُمیدوار حکومت کی غیر تسلی بخش اور مایوس کن کارکردگی کی بنیاد پر دندان شکن شکست سے دوچار ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے یونین کونسل یونیورسٹی ٹاؤن میں ملک ستار خان کے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کے موقع پر کیا اس موقع پر حیات آباد کے صدر چنگیز خان ، اقبال خلیل ، یونین کونسل شاہین ٹاؤن کے صدر حیات خان ، سفید ڈھیری کے جنرل سیکرٹری اظہار خان اور مشتاق خان سمیت اے این پی کے سینکڑوں کارکن اور عہدیدار موجود تھے۔ اُنہوں نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والے افراد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اے این پی ہر مشکل گھڑی میں آپکے شانہ بشانہ رہے گی۔ اور آپ کے علاقے کے لوگوں کے تمام مسائل اور مشکلات ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن مہم کے دوران حکومت اپنے اُمیدواروں کیلئے بے دریغ حکومتی وسائل استعمال کر رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود سہ فریقی اتحاد بلدیاتی الیکشن میں حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دے گی اور سہ فریقی اتحاد کے ہاتھوں تحریک انصاف کی یہ اولین شکست ہوگی۔ ارباب طاہر نے کہا کہ ملک ستار خان یونین کونسل یونیورسٹی ٹاؤن سے اے این پی کے جنرل کونسلر کے اُمیدوار ہونگے۔

اپریل 2015
پریس ریلیز

پشاور( پ ر ) افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی کو فون کرکے ان کے والد سینیٹر محمد اعظم خان ہوتی کی وفات پر ان سے تعزیت کی اور ا عظم ہوتی کے وفات پر گہرے دکھ درد کااظہا رکیا حامد کرزئی نے کہاکہ اعظم ہوتی کی ناگہانی وفات سے نہ صر ف پاکستان بلکہ افغانستان کے پختون ایک عظیم لیڈر سے محروم ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ محمد اعظم خان ہوتی نے ہمیشہ پختون قوم کے حقوق کی جنگ لڑی ہے جیلوں اور جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے اصولی موقف پر کبھی سودابازی نہیں کی انہوں نے کہاکہ اعظم ہوتی کے وفات پر پوری افغان قوم ہوتی خاندان کے غم میں شریک ہیں اورا ن کی خدمات دیر تک یادرکھی جائیں گی ۔

مورخہ : 18.4.2015 بروز ہفتہ

پریس ریلیز

پشاور( پ ر ) خیبرپختون خو اکے گورنر سردار مہتاب احمدخان عباسی نے ہفتہ کے روز مردان کا مختصر دورہ کیا گورنر ہوتی ہاؤس گئے اورسابق سینیٹر محمد اعظم خان ہوتی کی وفات پر ان کے بیٹے امیرحیدرخان ہوتی سے تعزیت کی اوراے این پی کے مرحوم مرکزی رہنما کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گورنر کچھ دیر وہاں موجودرہے انہوں نے اعظم ہوتی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ مرحوم ایک نڈر اور بااصول سیاستدان تھے اور وہ آخری وقت تک پختون قوم کی خدمت کے لئے کوشاں رہے انہوں نے کہاکہ مرحوم اعظم ہوتی کی جمہوریت کے لئے خدمات کو آخری وقت تک یادرکھاجائے گا ۔

مورخہ : 18.4.2015 بروز ہفتہ

پشاور( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی کے والد سینیٹرمحمد اعظم خان ہوتی کے وفات پر چوتھے روزبھی مختلف شخصیات نے ہوتی ہاؤس آکر سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی سے تعزیت کی اور بزرگ سیاستدان کی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاسینیٹر محمد اعظم خان ہوتی جو گذشتہ روز طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملے تھے ان کی وفات کے چوتھے روز بھی تعزیت کرنے والوں کا تانتا باندھا رہا قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی،عنایت اللہ خان صوبائی وزیربلدیات،قومی اسمبلی کے ارکان صاحبزادہ طارق اللہ ،مجاہد خان،سراج خان ، عثمان ترکئی ،میاں جعفرشاہ ،بخت بیدار خان ،جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق ،بیرسٹر مسعود کوثر ،سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ طارق پرویز ،سابق صوبائی وزراء عبدالسبحان خان ،ہدایت اللہ خان ،سید قلب الحسن،افراسیاب خٹک،مولانا فضل علی حقانی،سابق سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی، جنرل نادر، آئی جی ناصر خان درانی اورجماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر ابراہیم اورآئی جی نے ہوتی ہاؤس آکر اے این پی کے مرکزی رہنما محمد اعظم ہوتی کی وفات پر گہرے دکھ درد کا اظہا رکرتے ہوئے ان کی سیاسی اور سماجی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اورکہاکہ مرحوم ایک نڈر لیڈر تھے اوران کی کمی مدتوں محسوس کی جائے گی ان رہنماؤں نے کہاکہ مرحوم سینیٹر نے اپنی تمام زندگی جمہوریت اورپختون قوم کے حقوق کے لئے وقف کررکھی تھی جیلوں اور جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے اصولوں پر کھبی سودابازی نہیں کی ۔

کراچی ۔جمعتہ المبارک 17 اپریل 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ اے این پی خدائی خدمت گار تحریک کا تسلسل ہے ہم اقتدار کے بجائے اقدار کی سیاست کرتے ہیں،باچا خان بابا کاکے افکار آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں پر آسائش ٹھنڈے کمروں کے بجائے عوامی مسائل کا حل ہماری ترجیح ہے پورے سال عوام میں رہنے والوں کو ہی عوامی مسائل کا ادراک ہوسکتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع جنوبی کے علاقے پاک جمہوریہ کالونی(کالا پل) کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ نمبر تین میں پارٹی کی جانب سے کونسلر کے امیدوار ظفر مشوانی کی انتخابی کارنر میٹنگ اور انتخابی دفتر کے افتتاح کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ ظفر مشوانی جیت اور ہار سے قطع نظر عوام کے درمیان موجود رہ کران کی خدمت جاری رکھیں گے اس مو قع پر ظفر مشوانی ، صوبائی سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک ،صوبائی کلچرل سیکریٹری نور اللہ اچکزئی اور ضلعی صدر نور اللہ اچکزئی نے بھی خطاب کیا
مورخہ : 17.4.2015 بروز جمعہ
پریس ریلیزپشاور ( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی کے والد، سینٹر اعظم خان ہوتی کی رسم قل ادا کردی گئی رسم قل میں خیبرپختون خوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک،مولانا فضل الرحمان ،سراج الحق،سابق چیئرمین سینٹ وسیم سجاد سمیت سیاسی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک رہے ،افغانستان کے صدر اشرف غنی نے امیرحیدرخان ہوتی کو فون کرکے ان سے ان کے والد کی وفات پر تعزیت کی ،ننگیالے پختون کے چاق وچوبنددستے نے قبر پر سلامی دی امیرحیدرخان ہوتی نے پھول چڑھائے تفصیلات کے مطابق سینٹر محمد اعظم خان ہوتی کی رسم قل جمعہ کے روز ہوتی ہاؤس مردان میں اداکر دی گئی رسم قل کے موقع پر ملک بھر کی سیاسی شخصیات کے آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ہوتی ہاؤس میں خصوصی قرآن خوانی کی گئی خیبرپختون خواکے وزیراعلیٰ پرویز خان خٹک نے ہوتی ہاؤس آکر محمد اعظم ہوتی کے انتقال پر ان کے بیٹے امیرحیدرخان ہوتی سے تعزیت اورفاتحہ خوانی کی جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق،جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ،سابق گورنر بیرسٹر مسعود کوثر،آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) احسان الحق،اراکین اسمبلی محمد علی شاہ باچہ،گلزارخان ،احمد بہادرخان ،گوہر باچا،یاسین خلیل،زاہد درانی ،مجاہد خان ،ڈاکٹر حیدرعلی ،سینیٹر شاہی سید ،سینیٹر محسن عزیز،سابق ورزاء فضل ربانی ،حافظ اخترعلی ،خواجہ محمد خان ہوتی ،اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ،سابق صدرآصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر،پی پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری انجینئر ہمایون خان ، انتخاب چمکنی،ملک طہماش،سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی،پشاور چیمبر کے صدر افغان عزیز،ارباب ظاہر سابق آجی جی عباس خان،انجینئر نگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر امتیازگیلانی اورعبدالولی خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹراحسان علی نے ہوتی ہاؤس میں اعظم ہوتی کی رسم قل میں شرکت کی اور امیرحیدرخان ہوتی سے تعزیت کا اظہار کیا اے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی نے والد کی قبر پر پھول چڑھائے اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اورننگیالے پختون کے چاق وچوبند دستے نے ضلعی سالار ملک آمان کی قیادت میں اعظم ہوتی کے قبر کو سلامی دی اور پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی دریں اثناء افغان صدر اشرف غنی نے امیر حیدرخان ہوتی سے فون پر تعزیت کی اورا عظم ہوتی کے وفات پر گہرے دکھ درد کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ اعظم ہوتی کے وفات سے پختون ایک نڈر لیڈر سے محروم ہوگئے ہیں انہوں نے کہاکہ مرحوم سینیٹر نے اپنی تمام زندگی جمہوریت اورپختون قوم کے حقوق کے لئے وقف کررکھی تھی جیلوں اور جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں اشرف غنی نے کہاکہ اعظم ہوتی کے وفات پر پوری افغان قوم ہوتی خاندان کے غم میں شریک ہیں افعانستان کے پاکستان میں سفیر جانان موسیٰ زئی نے بھی امیرحیدرہوتی کو فون کر کے ان سے والد کے وفات پر تعزیت کااظہار کیا ۔

مورخہ : 16.4.2015 بروز جمعرات
پریس ریلیز

پشاور( پ ر ) سابق وفاقی وزیر سینیٹرمحمد اعظم خان ہوتی کی وفات پر تعزیت اورفاتحہ خوانی کے لئے دوسرے روزہوتی ہاؤس مردان میں اہم سیاسی لیڈروں اور اعلیٰ سرکاری حکام کی آمد کا سلسلہ جاری رہا،قبر پر پھولوں کے چادر چڑھائے گئے ملالہ یوسفزئی سمیت کئی رہنماؤں کے امیرحیدرخان ہوتی سے بذریعہ فون تعزیت کرکے مرحوم لیڈر کو ان کی ملک وقوم کے لئے خدمات پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کردی گئی تفصیلات کے مطابق جمعرات کو دوسرے روز سینیٹر محمد اعظم خان ہوتی کی وفات پر تعزیت کرنے والوں کو تانتا باندھارہا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید ،پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وفاقی وزیر قمر الزما ن کائرہ ، صوبائی صدر حاجی خان زادہ خان،وفاقی وزیر سکندرحیات بھوسن ، صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان ،وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیرمقام ،قومی وطن کے پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیرپاؤ ،صوبائی صدرسکندرشیرپاؤ،اراکین اسمبلی عبید مایار،بابر سلیم ،جمشید مہمند،ملک ریاض ،عبدالرحمان کانجو،سردارحسین بابک، احمد بہادر خان ،گوہر علی باچا،سید جعفرشاہ،صاحبزادہ یعقوب ،سردار اورنگ زیب ملوٹھا،سینٹر نثارمحمدملاکنڈ،سابق گورنر کمانڈر خلیل،اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان ،مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ،سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور، عباس سرفراز،ظاہر شاہ،نواب زادہ محمود زیب خان،لیاقت شباب،سابق سینٹرز عبدالنبی بنگش،امرجیت ملوتھرا،نصراللہ ڈانڈلا،ایرانی قونصل جنرل سعید زینتی نے سابق وزیرا علیٰ امیرحیدرخان ہوتی سے ان کے والد اعظم خان ہوتی کی وفات پر تعزیت کی اور اعظم خان ہوتی کی بلنددرجات کی دعا مانگی ان سیاسی زعماء کا کہناتھاکہ اعظم ہوتی نے ملک جمہوریت کے استحکام مرتے دم تک کوشاں رہے وہ ایک اصولی سیاستدان تھے اوراپنے موقف پر ہمیشہ ڈٹے رہے ان کی ملک وقوم کے لئے خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی دریں اثناء عالمی امن ایوارڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی اوران کے والد ضیاء الدین یوسفزئی ،سابق وزیر خارجہ خورشید احمد قصوری ،انقلابی شاعر حبیب جالب کے بیٹے شارق جالب نے امیرحیدرخان ہوتی کو فون کرکے ان سے ان کے والد کی وفات پر تعزیت کی ۔

مورخہ : 15.4.2015 بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) وزیراعظم میاں نوازشریف نے سینیٹر اعظم خان ہوتی کے وفات پرگہرے دکھ درد کااظہا رکرتے ہوئے ان کے بیٹے سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی کو فون کرکے ان سے تعزیت کی قومی اسمبلی کے سپیکر آیاز صادق ،گورنر پنجاب ،سپیکر خیبرپختون خوا اسمبلی اسد قیصر ،سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے بھی امیرحیدرخان ہوتی کو فون کرکے ان سے ان کے والد کی وفات پر تعزیت کی ۔اس سے پہلے اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی خان، سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی ،مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفرالحق ،مرکزی سیکرٹری جنرل ظفراقبال جھگڑا ،غلام احمد بلور، الیاس بلور، بیگم نسیم ولی خان ،فرید طوفان،خواجہ محمد خان ہوتی سمیت اعلیٰ سول حکام ہوتی ہاؤس گئے اور اعظم ہوتی کے وفات پر امیرحیدرخان ہوتی سے تعزیت کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی کی ۔اعظم ہوتی مرحوم کی رسم قل کل بروزجمعہ ہوتی ہاؤس مردان میں اداکی جائے گی ۔

مورخہ 15 اپریل2015ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی کے والد، سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر محمد اعظم خان ہوتی بقضائے الٰہی انتقال کر گئے ہیں ،مرحوم کی نماز جنازہ آج سہ پہر 4بجے ان کی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں ادا کی جائے گی اور بعد ازاں انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

مورخہ 14 اپریل2015ء بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے جوڈیشل کمیشن کے احکامات کے مطابق فریق بننے کیلئے اسلام آباد میں جوڈیشل کمیشن کے پاس اپنی درخواست دائر کی۔ درخواست اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کی طرف سے دائر کی گئی۔ اس موقع پر اے این پی کی کمیٹی کے چیئرمین عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ اور مرکزی سیکرٹری انفارمیشن زاہد خان بھی موجود تھے۔
سپریم کورٹ سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی دھاندلی کے بارے میں الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا تھا اور اس وقت بھی دھاندلی کے بارے میں تحریری طور پر الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا تھا جب اسفندیار ولی خان کو دھمکیاں مل رہی تھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ الیکشن 2013 کے دوران ہماری پارٹی کو بہت دھمکیاں مل رہی تھیں اور ہماری پارٹی کے درجنوں ساتھی شہید ہوئے اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی بھی ہوئے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ ہماری پارٹی کے نامزد اُمیدوار دھمکیوں کی وجہ سے الیکشن مہم نہیں چلا سکے اور بعض مقامات پر تو ہمارے اُمیدواروں کو اُن کی جانوں کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے گھروں سے بھی نہیں نکل سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ واحد اے این پی کو ٹارگٹ کرنا اور الیکشن کیلئے مہم چلانے سے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے روکنا ، ڈرانا اور دھمکانا دھاندلی نہیں تو اور کیا ہے۔ 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں وہ تمام شواہد موجود ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ چونکہ جوڈیشل کمیشن نے فیصلہ کیا کہ دھاندلی کے حوالے سے تمام شواہد اکٹھے کیے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک اے این پی کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں اور تازہ ترین صورت حال کے مطابق اے این پی کیطرف سے بنائے جانے والی جوڈیشل کمیٹی کے سربراہ اور اے این پی کے رہنما عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے گھر کو ریموٹ کنٹرول بم سے اُڑانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اُنہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو جبراً الیکشن میں ہرانے اور دھاندلی کرنے کیلئے اے این پی کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور اب جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات کی جو بات کی ہے اے این پی اس میں فریق بن کر شواہد پیش کر رہی ہے تو اب یہ قوتیں ہمیں اس مرحلے سے دور رکھنا چاہتی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ الیکشن 2013 میں دھاندلی کے باوجود ہم نے جمہوریت کی خاطر نتائج تسلیم کر لیے لیکن ہم ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم نتائج تو تسلیم کرتے ہیں لیکن ہمارے تحفظات بھی ہیں اور الیکشن میں ہر قسم دھاندلی کی تحقیقات کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ دھاندلی کے حوالے تحقیقات میں اے این پی فریق بن کر جو ڈیشل کمیشن کے پاس اپنی درخواست دائر کی ہے اور کل صبح دھاندلی کے حوالے سے تمام شواہد اور تفصیلات کی کاپیاں جمع کریں گے۔

مورخہ 13 اپریل2015ء بروز پیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری امور خارجہ بشیر احمد مٹہ نے یمن میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والی ہمہ گیر تباہی پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک خصوصاًً مسلمان ممالک ،کو چاہئے کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے اور یمن میں امن کے قیام کیلئے ہر سطح پر فوری اور بھرپور کوششیں کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو اس سے جاری افسوسناک تباہی کے علاوہ اس کے شعلوں کے مزید پھیلنے کا خطرہ بھی موجود رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ پاکستان ،ترکی، انڈونیشیا اور دیگر اسلامی ممالک آپس میں فوری مشورے کر کے اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس کے فورمز کو امن کے قیام کیلئے فعال کریں اور امن کی راہ میں عملی کام کا، وقت ضائع کئے بغیر، آغاز کریں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح ہر حال میں امن ہونا چاہئے کیونکہ ماضی قریب میں پرائی جنگ میں کودنے اور اس کے نتائج جھیلنے کا اس کا اپنا تجربہ، اس کے اندرونی امینتی غیر تسلی بخش حالات، اور اس کے محدود مالی و عسکری وسائل سب اس کے متقاضی ہیں کہ پاکستان بیرونی جنگوں میں الجھنے سے اجتناب برتے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ میں بحیثیت ایک مسلمان اور امن پسند ملک ایک صلح جو اور تعمیری کردار ادا کرے ،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی حکومت یمن کی صورتحال کے بارے میں اپنا واضح مؤقف دنیا کے سامنے احسن طریقے سے پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ پارلیمنٹ نے جو مناسب قرارداد حکومت کے ہاتھوں میں تھما دی حکومت نے اسے پوری وضاحت سے پیش کرنے میں کوئی قابل رشک اہلیت نہیں دکھائی ، سیدھے لفظوں میں حکومت کی وزارت خارجہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔ شاید ایک وجہ یہ ہو کہ ملک کا کوئی وزیر خارجہ نہیں اور خارجہ امور جیسے اہم موضوع پر اکثر و بیشتر کابینہ کے غیر متعلقہ ایسے وزیر بیانات دیتے ہیں جن کا علم اور تجربہ خارجہ امور میں بالکل نہیں ، کیا یہ عجیب نہیں کہ 20کروڑ آبادی کا ملک وزیر خارجہ کے بغیر چل رہا ہے اور ملک کے اعلیٰ حکمرانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

کراچی ۔اتوار 12 اپریل 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن میں دھاندلیوں کے ثبوت پیش کرنے کے حوالے سے اے این پی سندھ کے اہم رہنماؤں کا اجلاس مردان ہاؤس میں صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید کی قیادت میں منعقد ہوا اجلاس میں دھاندلی وں کے حوالے سے حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت صوبائی صدر کے حوالے کردیے گئے جسے وہ مرکزی پارٹی کے حوالے کریں گے ،اجلاس کے بعد سینیٹر شاہی سید کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ الیکشن مہم کے دوران رہنماؤں کو دھمکیاں ملنے والے فون نمبرز کی لسٹ بھی مرکزی پارٹی کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے حوالے کریں گے ،اے این پی رہنماؤں پر بموں کی بارش کی گئی ،الیکشن والے دن لوگ ووٹ گن رہے تھے ہم لاشیں گن رہے تھے ،الیکشن والے دن لوگ ووٹ مانگ رہے تھے ہم اپنے زخمیوں کے لیے خون مانگ رہے تھے ،ہمارے لیے الیکشن کے ریفری حکیم اللہ محسود تھے،انتخابی مہم کے دوران اے این پی کے امیدواران پر گھروں سے نکلنے پر پابندی لگادی گئی تھی،الیکشن مہم کے دوران انتخابی مہم چلانے والے کئی رہنماء آج تک شہر و ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں،پارٹی پرچم والے گھروں پر انتہاء پسند دہشت گرد سر عام جاکر دھمکیاں دیتے رہے اے این پی کے ووٹر کو شہر چھوڑنے پرمجبور کیا گیا۔

مورخہ 12 اپریل2015ء بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) جوڈیشل کمیشن کیلئے دھاندلی کی تحقیقات کیلئے بنائی جانے والی عوامی نیشنل پارٹی کی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے سربراہ عبد الطیف آفریدی کی زیرصدارت باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا ، اجلاس مین کمیٹی کے دیگر ممبران میاں افتخار حسین ، افراسیاب خٹک ، بشریٰ گوہر اور زاہد خان نے شرکت کی ، اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کو فراہم کئے جانے والے دھاندلی کے ثبوتوں کے حوالے سے اہم امور زیر غور آئے ، اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی تمام اضلاع میں ہونے والی دھاندلیوں کے حوالے سے اہم شواہد اکٹھے کئے جائیں گے ، اجلاس کے آکر میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ملک بھر میں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھیوں کو ہدایات جاری کیں کہ دھاندلی کے حوالے سے تمام ثبوت اکٹھے کئے جائین اور انہیں کل مورخہ 13اپریل2015ء بروز پیر رات گئے تک پارٹی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز میں جمع کرایا جائے ۔

مورخہ 12 اپریل2015ء بروز اتوار
جوڈیشل کمیشن اے این پی کے امیدواروں ، کارکنوں پر حملوں کا نوتس لے ،امیر حیدر خان ہوتی
باچا خان مرکز میں سینیٹر اورنگزیب کے بھائی شاہد خان، فرمان علی ، اور دیگر کی سربراہی میں ہزاروں افراد کی اے این میں شمولیت کا اعلان
تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے عوامی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور صوبے کے عوام اب انہیں ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں
اے این پی کو سیاسی میدان سے آؤٹ کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ، لیکن ایسا کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں
جبر اور تشدد کے ذریعے باچا خان کی تحریک کو کمزور کرنے والے جان لیں کہ ہم نے میدان سے بھاگنا نہٰن مقابلہ کرنا سیکھا ہے ،
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی 2013کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کے ثبوت جوڈیشل کمیشن میں پیش کرے گی ، اور اس حوالے سے کام تیز کر دیا گیا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں ایک شمولیتی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، جس میں ہنگو کے سینیٹر اورنگزیب کے بھائی سمیت مختلف سرکردہ خاندانوں نے اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ہمراہ اے این پی میں شمولیت اختیار کر لی ، ان میں سید حسینی سابق امیدوار ہنگو،شیر نواز ، عادل بادشاہ ، حاجی زر محمد ،ملک ملتان، ملک معروف خان ، ملک عید بادشاہ ،ملک زر بات خان ، ملک اسماعیل سمیر دیگر افراد شامل ہیں ، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ عوامی مفادات اور حقوق کا تحفظ کیا ہے ، اور عوام کی پارٹی میں جوق در جوق شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے ،انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے عوامی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ کر دیا ہے اور صوبے کے عوام اب انہیں ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ بھی تحریک انصاف سے نالاں ہیں اور وہ اے این پی کو ہی اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں ،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن انتخابی مہم کے دوران اے این پی کے امیدواروں رہنماؤں اور کارکنوں پر حملون کا نوٹس لے ، انہوں نے کہا کہ باقی لوگ انتخابی مہم اور ووٹ پول کرنے میں مصروف تھے جبکہ ہم اپنے کارکنوں کے جنازے اٹھا رہے تھے ،انہوں نے کہاکہ اے این پی کو سیاسی میدان سے آؤٹ کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ، لیکن جبر اور تشدد سے باچا خان کی تحریک کو ختم کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ، صوبائی صدر نے کہا کہ اے این پی پہلے سے زیادہ مضبوط قوت کے طور پر سامنے آئی ہے ، اور لوگوں کی روزانہ کی بنیاد پر پارٹی میں شمولیت اے این پی کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کو ٹارگٹ کرنے والے یہ سوچ رہے تھے کہ باچا خان کے سپاہی ڈر جائیں گے لیکن بابا کے سپاہی کل بھی میدان میں تھے اور آج بھی میدان میں مزید متحرک ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی شیہدوں کی پارٹی ہے ،اور اسے ختم کرنے کا خواب دیکھنے والے خود ختم ہو جائیں گے۔بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کا سوچ رہی ہے تاہم اسے ناکامی کے سوا کچھ نہین ملے گا ۔انہون نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں ھکومتی جماعتوں کو شکست سے دوچار کریں گے ،اور اے ان پی کے امیدواروں کی جیت کو یقینی بنانے کیلئے کارکن رابطوں کو مزید تیز کریں ،

مورخہ : 11.4.2015 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ضلع مردان کی خصوصی کمیٹی کا بلدیاتی اُمیدواروں کی پوزیشن چانچنے کے لئے انٹرویوز کا انعقاد ، عوامی نیشنل پارٹی کی 8رکنی خصوصی کمیٹی کا بلدیاتی الیکشن کے خواہش مند اُمیدوارں کی سیاسی سماجی اور شخصی پوزیشن جانچنے کے لئے انٹرویو ز کا اجتماع ہوا تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بلدیاتی الیکشن کے لیے انتخابات میں ٹکٹ کے لئے موزوں ترین امیدواورں کے تلاش کے لئے 8رکنی کمیٹی دو ٹیمو ں پر تشکیل دی گئی کمیٹی کے چیئر مین لطیف الرحمان جبکہ وائس چیرمین منیر خان تھے جبکہ اراکین میں فاروق خان، جمال باچہ، جہانزیب خان ، پیر جبار ، عباس سانی، امیر خان ، سید عالم بابا شامل تھے، کمیٹی ممبران نے ضلعی بھر کے 75 یونین کونسل ضلع کونسلر اور تحصیل کونسلر کی نشستوں پر درخواست دینے والے خواہش مند اُمیدواروں کے انٹرویو کیے جسمیں اُمیدواروں کی سیاسی بصیرت ، سماجی کارگردگی اور عوام میں مقبولیت اور پارٹی سے ان کے اور ان کے خاندان کی وابستگی کا جائزہ لیا گیا، الیکشن کمیٹی کے چیئرمین لطیف الرحمان نے جب کئی اُمیداورں سے کلمہ طیبہ ، دعا قنوت ، اور نماز میں فرائص کے متعلق سوالات کئے تو زیادہ تر اُمیدوار لا جواب رہے اور چیئر مین کا منہ تکتے رہے عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی دفتر میں منعقدہ انٹرویو کے دوران اُمیداوروں اوراس کے سپورٹروں کا سیاسی جرگہ جاری رہا، اس دوران باڑی چم سے نامزد اُمیدوار حاجی عطااللہ نے اپنے مد مقابل اُمیدوار عباس ثانی کو جرگے کے زریعے درخواست واپس لینے پر مجبور کیا جبکہ اے این پی کے ضلعی سیکرٹری فنانس منیر خان کے صاحبزادے ہمایون خان اور یوسی چک ہوتی کے سابق ناظم حاجی عبدالعزیر کے مقابلے میں کسی بھی اُمیدوار نے درخواست جمع نہیں کی ۔

مورخہ : 11.4.2015 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ ان کی پارٹی انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے بہت جلد جوڈیشل کمیشن میں ثبوتوں کے ساتھ پیش ہوگی ،سعودی عرب کی سلامتی کوخطرہ لاحق ہوا تو صرف ہماری افواج نہیں بلکہ ہر پاکستانی مقدس سرزمین کی حفاظت کرے گا ،بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ،منظم دھاندلی کا خدشہ ہے عدلیہ کی نگرانی میں انتخابات کروائے جائیں ،احتساب کمیشن کو اپوزیشن کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیاجارہاہے وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں میڈیاکے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے پارٹی کے صوبائی کونسل کے اراکین محمد جاویدیوسفزئی،عبدالعزیزخان اورسیکرٹری اطلاعات روزمحمد خان بھی اس موقع پر موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ یمن کا مسئلہ انتہائی حساس ہے اوربشمول اے این پی تمام سیاسی پارٹیوں کا واضح موقف ہے کہ پاکستان اس مسئلے میں فریق نہیں بلکہ ثالث بنے مسلمہ امہ کے ذریعے سفارتی کوششوں کو تیز کیاجائے پہلے سیز فائر ہو اور پھرامن کے لئے کوششیں شروع کئے جانی چاہئے وزیراعظم نے وعدہ کیاہے کہ پارلیمنٹ کی قرارداد پر من وعمل ہوگا انہوں نے کہاکہ وہ تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی پر خوش ہیں تاہم عمران خان کوا ب اپنے انداز سیاست پر نظرثانی کرنا ہوگی جس پارلیمنٹ میں واپس آئے ہیں اسے اب جعلی اوربرابھلا کہنا مناسب رویہ نہیں ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اے این پی جوڈیشل کمیشن کے سامنے انتخابی دھاندلیوں کی ثبوت لے کر جلد پیش ہوگی اور اس حوالے سے باقاعدہ ہوم ورک شروع کردیاگیاہے انہوں نے کہاکہ عام انتخابات میں ہمارے امیدواروں کو دیوار سے لگایاگیااور ہمارے کارکنوں کو ٹارگٹ کیاگیا امیرحیدرخان ہوتی نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں سرکاری آراوز لگادیئے گئے ہیں اورہمیں خدشہ ہے کہ یہ آر اوز حکومتی دباؤ میں آکر صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں بناسکتے انہوں نے کہاکہ ہمیں حکومت کی نیت پر شک ہے دس دن تک نتائج روکے رکھنا اور نچلی سطح پر غیر جماعتی انتخابات کروانا ایسے ہتھیار ہیں جو حکومت اپنے حق میں استعمال کرے گی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ انہیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ قومی احتساب کمیشن کو حرکت میں لاکر اپوزیشن جماعتوں پر دباؤ بڑھایاجائے گا تاہم انہوں نے کہاکہ حکومت جمہوری رویہ اپنا اس قسم کے غیر اخلاقی اور غیر جمہوری طریقوں سے گریز کیاجائے انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے احتساب کے نام پر سیاسی پارٹیوں کو بنایاگیااورتوڑا گیاہے کچھ مخصوص گروپ کو مضبوط اور کچھ مخصوص گروپ کو کمزور بنایاگیاانہوں نے امیدظاہر کی کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران سیاسی پارٹیوں کو ٹارگٹ نہیں کیاجائے گابلکہ حکومتی اتحادمیدان میں اتر کرہمارا مقابلہ کرے گا انہوں نے سہ فریقی اتحاد کے حوالے سے بتایاکہ سہ فریقی اتحاد مضبوط ہے تاہم بلدیاتی انتخابات میں ہزاروں نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں ان انتخابات میں برادریوں اورذات پات کا اثر ہوتاہے اور حکومتی اتحاد سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو مشکلات ہوں گی ہم آخری حد تک سہ فریقی اتحاد کو مضبوط کرناچاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے ہمارا موقف تھا کہ یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے اوراس میں حکومت کی مداخلت زیادہ تھی لیکن ہم ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اوراس حوالے سے اپنے وکلاء سے مشورہ کریں گے انہوں نے مطالبہ کیاکہ انتخابات عدلیہ کے زیر انتظام کروائے جائیں اور ویلج اور نائبر ہوڈ کونسلوں میں بھی سیاسی بنیادوں پر انتخابات کروائے جائیں دریں اثناء اے این پی کے صوبائی صدر برطانیہ کے نجی دورے کے بعداپنے حجرے میں حلقہ نیابت کے لوگوں اور کارکنوں کے مختلف وفود سے ملے اوران کے مسائل اورمشکلات سنیں ۔

مورخہ : 9.4.2015 بروز جمعرات
پریس ریلیز

پشاور ( پ ر) دھاندلی کی تحقیقات کیلئے بنائے جانے والی جوڈیشل کمیشن نے تمام سیاسی پارٹیوں سے 2013 کے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے اپنے تحریری بیانات طلب کیے ہیں۔ جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کیطرف سے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے دھاندلی کے حوالے سے مؤقف تیار کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے سربراہ عبدالطیف آفریدی ہونگے جبکہ دیگر ممبران میں افراسیاب خٹک ، میاں افتخار حسین ، بشریٰ گوہر اور زاہد خان شامل ہیں۔ یہ کمیٹی 2013 کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلیوں کے حوالے سے اپنا مؤقف تیار کرے گی جو جوڈیشل کمیشن کو پیش کیا جائیگا۔

مورخہ 9 اپریل2015ء بروز جمعرات
عوامی نیشنل پارٹی کا فاٹا میں بلدیاتی انتخابات جلد از جلد کرانے کا مطالبہ
پورے ملک میں عوامی مسائل کے حل کیلئے بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں تو فاٹا کے عوام کو اس کے ثمرات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے
باجوڑ کے عوام میں سیاسی شعور بیدا رہو چکا ہے ، اور وہ اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے تمام اختلافات سے بالاتر ایک پیج پر متفق ہیں
فاٹا سے منتخب ہونے والا ایم این اے پورے ملک کیلئے قانون سازی کا اختیار رکھتا ہے لیکن اسے اپنے علاقے کیلئے قانون سازی کا اختیار نہیں ہے
قبائلی علاقوں میں جوڈیشری اور ایگزیکٹو کو الگ کرنا ہوگا تا کہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں، وزیرستان سمیت تمام آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی یقینی بنائی جائے
اے این پی کے سابق دور حکومت میں اس سلسلے میں کافی اصلاحات کی گئیں لیکن بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،جرگہ سے خطاب اورپریس بریفنگ
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی فاٹا میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائل عوام کے مسائل کے حل کیلئے گراس روٹ لیول تک اختیارات کی منتقلی وقت کا اہم تقاضا ہے ، باچا خان مرکز پشاور میں باجوڑ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام منعقدہ جرگہ سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ فاٹا کے عوام گو نا گوں مسائل سے دوچار ہیں اور ان کے مسائل کا واحد حل بلدیاتی انتخابات ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر پورے ملک میں عوامی مسائل کے حل کیلئے بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں تو فاٹا کے عوام کو اس کے ثمرات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا صوبے کی سات سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ فاٹا کے بنیادی مسائل حل کئے جائیں تاہم اس سلسلے میں قانون سازی اور اصلاحات کے عمل پر کام کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ تمام سٹیک ہولڈرز کو بھی اس حوالے سے کام کرنا ہوگا ، انہوں نے کہا کہ فاٹا میں عرصہ دراز سے رائج کالے قانون ایف سی آر کا خاتمہ ہونا چاہئے اور قبائلی عوام کے فیصلوں کا اختیار فرد واحد کی بجائے خود قبائلیوں کے پاس ہو ، امیر حیدر خان ہوتی نے جرگہ میں بڑی تعداد میں عوامی نمائندوں کی شرکت پر انہیں کراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ باجوڑ کے عوام میں سیاسی شعور بیدا رہو چکا ہے ، اور وہ اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے تمام اختلافات سے بالاتر ایک پیج پر متفق ہیں ، امیر حیدر ہوتی نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ فاٹا سے منتخب ہونے والا ایم این اے پورے ملک کیلئے قانون سازی کا اختیار رکھتا ہے لیکن اسے اپنے علاقے کیلئے قانون سازی کا اختیار نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جوڈیشری اور ایگزیکٹو کو الگ کرنا ہوگا تا کہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان سمیت تمام آئی ڈی پیز کی جلد از جلد واپسی ممکن بنائی جائے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تا کہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کا آغاز کر سکیں ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی کے سابق دور حکومت میں اس سلسلے میں کافی اصلاحات کی گئیں لیکن بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ،فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ اختیار قبائلی عوام کے ہونا چاہئے کہ وہ خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا اپنا الگ یونٹ بنانا چاہتے ہیں ، قبائلی علاقوں میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو قبائلی عوام کی سپورٹ حاصل ہونی چاہئے ورنہ ان کوششوں میں کامیابی حاصل نہین ہو گی ، سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاک افغان تعلقات اہم موڑ پر ہیں اور قبائلی عوام کے مستقبل پر اس کے دورس اثرات مرتب ہونگے ، انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی جو فضا قائم ہوئی ہے اسے برقرار رکھا جانا چاہئے کیونکہ اعتماد کے فقدان سے نقصان دونوں ممالک کے عوام اور خصوصاًً پختونوں کا ہو گا ،آرٹیکل 247میں ترمیم کیلئے سیا سی جماعتوں کے ساتھ ساتھ دیگر سٹیک ہولڈرز کو بھی توجہ دینا ہو گی ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی قبائلی علاقوں کی پیداوار نہیں بلکہ یہ ملک کی غلط پالیسیوں کے باعث ان پر مسلط کی گئی ہے ۔

مورخہ : 8.4.2015 بروز بدھ
پریس ریلیز

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کل بروز جمعرات صبح دس بجے باچا خان مرکز میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں قبائلی علاقوں کے مسائل پر تفصیلی بحث کی جائے گی ، قبائلی جرگہ میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی زعماء اپنے خیالات کا اظہار کرینگے۔
اے این پی کے صوبائی صدر بعدازاں دوپہر ایک بجے پریس کانفرنس سے بھی خطاب کرینگے۔

مورخہ : 8.4.2015 بروز بدھ
پریس ریلیز

پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے برطانیہ کے13روزہ نجی دورے کے بعد واپس پاکستان پہنچ گئے ہیں وہ ان دنوں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہیں اور ہفتہ 11اپریل کو اپنے حجرے ہوتی ہاؤس مردان میں اپنے حلقہ نیابت کے لوگوں اورکارکنوں سے ملیں گے ۔

کراچی ۔منگل 07 اپریل 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ اسی کی دہائی کے آخر سالوں سے لیکر اب تک روشنیوں کا شہر مسلسل بد امنی کا شکار ہے دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا اسلحہ ہو جو کراچی میں موجود نہ ہوبد قسمتی سے معاشی شہ رگ کے امن کے بارے میں بھی صرف نظر سے کام لیا گیا کراچی کی بد امنی ملکی معیشت کے عدم توازن کا بڑا سبب ہے جدید طرز کے جرائم شہر کی پہچان بن چکے ہیں کراچی ملک کا واحد شہر ہے جہاں شہری مذہبی فرائض بھی اپنی مرضی سے ادا نہیں کرسکتے،باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ موجودہ آپریشن پہلا آپریشن ہے جس میں تمام سیاسی قوتیں،مرکزی و صوبائی حکومتیں اور اعلیٰ عسکری قیادت یک آواز ہیں جب تک شہری خود آگے بڑھ کر ریاستی اداروں کا ساتھ نہیں دیں گے کاروائیوں کے بہتر نتائج نہیں آئیں گے شہر میں قیام امن کے لیے نامعلوم دہشت گردوں اور ان کے ماسٹر مائنڈ کو بے نقاب کرنا ہوگا۔

مورخہ 8 اپریل2015ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ( یو کے ) کے انتخابات مکمل ہو گئے ،اس سلسلے میں اے این پی یو کے کا جنرل ورکرزکا ایک اجلاس زیر صدارت آرگنائزر محفوظ جان منعقد ہوا اجلاس میں اتفاق رائے سے آئندہ چار سال کیلئے اے این پی یو کے کی کابینہ منتخب کر لی گئی ،جس کے نتیجے میں محفوظ جان صدر ، جمشیدخان بنگش سینئر نائب صدر اول ،مقصود انور سینئر نائب صدر دوم ،خالد خان بنگش نائب صدر اول ،مفتی عباس نائب صدر دوم ،کشور خان نائب صدر سوم جاوید اخونزادہ جنرل سیکرٹری سید مسرت شاہ ڈپٹی جنرل سیکرٹری ،اجمل خان جائنٹ سیکرٹری اول ، عارف خان جائنٹ سیکرٹری دوم ،نصیر خان جائنٹ سیکرٹری سوم ،سراج خان سیکرٹری اطلاعات اور عبداللہ خان فنانس سیکرٹری منتخب ہو گئے ،نو منتخب کابینہ نے ملی قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور پارٹی کی مزید فعالیت میں کلیدی کردار ادا کرنے کا عزم کیا ،انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان بابا کی تعلیمات اور پارٹی کا آئین اور منشور ہر پختون تک پہنچائیں گے۔

مورخہ : 8اپریل 2015ء بروزبدھ

پشاور( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صوبائی کابینہ کا اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت صوبائی صدر سردار فخر عالم منعقد ہوا ، اجلاس میں صوبے میں تنظیمی امور اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بحث کی گئی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا ،صوبائی صدر نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پختون ایس ایف تمام اضلاع میں طلباء کنونشن اور باچا خان ٹیلنٹ ایوارڈ کی تقریبات منعقد کرے گی اور اس سلسلے میں15اپریل کو بونیر ، 20اپریل کو کوہاٹ جبکہ 22اپریل کو سوات میں کنونشن منعقد کئے جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ پختون ایس ایف بلدیاتی الیکشن میں پارٹی پالیسی کے مطابق بھرپور حصہ لے گی اور الیکشن کے حوالے سے اپنی تمام ذمہ داریاں بھی پوری کرے گی ،انہوں نے طلباء کو ہدایت کی کہ پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچانے کے ساتھ ساتھ الیکشن کی تیاریوں کا بھی آغاز کریں ۔سردار فخر عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں بے جا سیاسی مداخلت کی جارہی ہے جس سے تعلیمی اداروں کا ماحول خراب اور طلباء کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں میں مداخلت بند کرے بصورت دیگر اس کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر دی جائے گی ۔

مورخہ 8 اپریل2015ء بروز بدھ

الیکشن کمیشن دیر لوئر کے ضمنی الیکشن میں سرکاری مشنری کے استعمال کا نوٹس لے
صوبائی وزراء اور ایم پی ایز عوامی رائے عامہ زبر دستی تبدیل کر رہے ہیں ، سردار حسین بابک کی الیکشن کمیشن کو درخواست
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے صوبائی الیکشن کمشنر کو پی کے 95دیر لوئر میں سرکاری مشنری کے استعمال اور صوبائی وزراء کی جانب سے الیکشن مہم اور حلقے میں اعلانات کے خلاف درخواست جمع کرا دی ہے ، اے این پی رہنما نے درخواست میں صوبائی الیکشن کمشنر سے گزارش کی ہے کہ حلقہ پی کے 95دیر لوئر کے ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ سرکاری وسائل کے ذریعے الیکشن پر اثر انداز ہونے سے باز رہے ،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو فوری طور پر حکومت کو الیکشن مہم پر اثرات کے خلاف ایکشن لینا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ حکومتی پارٹی کے وزراء اور ایم پی ایز حلقے میں جا کر الیکشن مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اور سرکاری اعلانات کر رہے ہیں جو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے جبکہ حکومتی وسائل سے رائے عامہ کو زبر دستی تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن انتخابات کو صاف شفاف بنانے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے گا۔

مورخہ : 7.4.2015 بروز منگل
( پریس ریلیز )

پشاور ( پ ر) انتخابات میں ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ کر ہمارے مخالفین کو تمام سہولیات دیکر کھلا چھوڑا گیا۔ ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کوہ دامان ادیزئی میں شمولیتی تقریب کے موقع پر کیاجس میں امان اللہ خان سابقہ نائب صدرمسلم لیگ (ن)پی کے 10 نے اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت مسلم لیگ (ن) سے مستعفی ہوکر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر ارباب محمد طاہر خان خلیل ، سردار حسین بابک ، خوشدل خان ایڈووکیٹ ، ملک نسیم خان ، مختیار خان ایڈووکیٹ اور گلزار حسین بھی موجود تھے۔
میاں افتخار حسین نے امان اللہ خان اور اُن کے ساتھیوں کو عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ اپنے ملک میں امن اور ترقی کیلئے قربانی دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے ذریعے پختونوں کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے، تحریک انصاف نے آنے والے بلدیاتی انتخابات میں غلط حلقہ بندی کر کے دھاندلی کی ہے۔ حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے صوبائی حکومت کا نہیں۔ اُمید ہے کہ پشاور ہائیکورٹ جلد از جلد عوامی نیشنل پارٹی کی رٹ پر فیصلہ کر دیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان جنگ میں دخل اندازی کر کے آج تک ہم اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور دوبارہ یہی غلطی کر کے یمن جنگ میں فوج نہیں بھیجنی چاہیے۔
امان اللہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پختونوں کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں کوئی جگہ نہیں۔ نواز شریف کا ایجنڈہ تخت لاہور ہے اور پختونوں کے مسائل کے حل کا اُن کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان نے کہا کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی پورے صوبے میں کامیابی حاصل کر کے کلین سویپ کرے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری فنانس خوشد ل خان نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ بھی کی اور پورے صوبے میں ترقیاتی کاموں کا جال بھی بچھایاہے۔
آخر میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ہے، ہماری سیاست کا مقصد پختونوں کی ترقی اور خوشحالی ہے ملک میں حالیہ دہشتگردی ہماری غلط خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے ، دہشتگردوں کو پشاور میں دفتر دینے والے عمران خان آج قوم کو جواب دیں۔

مورخہ : 7.4.2015 بروز منگل
( پریس ریلیز )

پشاور ( پ ر) انتخابات میں ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ کر ہمارے مخالفین کو تمام سہولیات دیکر کھلا چھوڑا گیا۔ ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کوہ دامان ادیزئی میں شمولیتی تقریب کے موقع پر کیاجس میں امان اللہ خان سابقہ نائب صدرمسلم لیگ (ن)پی کے 10 نے اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت مسلم لیگ (ن) سے مستعفی ہوکر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر ارباب محمد طاہر خان خلیل ، سردار حسین بابک ، خوشدل خان ایڈووکیٹ ، ملک نسیم خان ، مختیار خان ایڈووکیٹ اور گلزار حسین بھی موجود تھے۔
میاں افتخار حسین نے امان اللہ خان اور اُن کے ساتھیوں کو عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ اپنے ملک میں امن اور ترقی کیلئے قربانی دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے ذریعے پختونوں کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے، تحریک انصاف نے آنے والے بلدیاتی انتخابات میں غلط حلقہ بندی کر کے دھاندلی کی ہے۔ حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے صوبائی حکومت کا نہیں۔ اُمید ہے کہ پشاور ہائیکورٹ جلد از جلد عوامی نیشنل پارٹی کی رٹ پر فیصلہ کر دیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان جنگ میں دخل اندازی کر کے آج تک ہم اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور دوبارہ یہی غلطی کر کے یمن جنگ میں فوج نہیں بھیجنی چاہیے۔
امان اللہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پختونوں کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں کوئی جگہ نہیں۔ نواز شریف کا ایجنڈہ تخت لاہور ہے اور پختونوں کے مسائل کے حل کا اُن کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان نے کہا کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی پورے صوبے میں کامیابی حاصل کر کے کلین سویپ کرے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری فنانس خوشد ل خان نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ بھی کی اور پورے صوبے میں ترقیاتی کاموں کا جال بھی بچھایاہے۔
آخر میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ہے، ہماری سیاست کا مقصد پختونوں کی ترقی اور خوشحالی ہے ملک میں حالیہ دہشتگردی ہماری غلط خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے ، دہشتگردوں کو پشاور میں دفتر دینے والے عمران خان آج قوم کو جواب دیں۔

مورخہ 6 اپریل2015ء

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں سہ فریقی اتحاد کی کامیابی یقینی ہے اور صوبے کی ترقی کیلئے یہ کامیابی سنگ میل ثابت ہو گی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی پبی نوشہرہ کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اجلاس میں سہ فریقی اتحاد بارے اہم امور زیر غور ؤئے اور اے ین پی کی مثبت پالیسی اور مثالی کردار پر روشنی ڈالی گئی ، میاں افتخار حسین نے اجلاس میں شرکت کرنے پر شرکا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ، انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ فتح کا سورج سہ فریقی اتحاد کے حق میں طلوع ہو گا ، میاں افتخا ر حسین نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو عوام کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اپنی انسان دوست اور مثبت پالیسیوں کے باعث پارٹی کی مقبولیت کا گراف دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد میں شامل جماعتیں بلدیاتی الیکشن میں کلین سویپ کریں گی اور یہ اتحاد مستقبل میں بھی برقرار رہے گا ، اس موقع پر ملک جمعہ خان اور تحصیل الیکشن انچارج زر علی خان نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ6اپریل 2015ء ء بروز پیر
پریس ریلیز
پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے پختون ایس ایف کی صوبائی کابینہ کا اجلاس بروز بدھ مورخہ 8اپریل کو دن گیارہ بجے باچا خان مرکز پشاور میں طلب کر لیا ہے ۔ اجلاس میں تنظیمی امور سمیت آئندہ بلدیاتی الیکشن میں پی ایس ایف کے کردار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم امور زیر غور آئیں گے ، جبکہ مختلف اضلاع میں ہونے والے طلباء ورکرز کنونشن کے حوالے سے بھی بحث کی جائیگی ، صوبائی صدر نے کابینہ کے تما م عہدیداروں کو اجلاس میں بروقت شرکت کی ہدایت کی ہے ۔

کراچی ۔جمعتہ المبارک 03 اپریل 2015
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ کارکنا ن ہمت نہ ہاریں ظلم کی سیاہ رات کے تاریک سائے ختم ہونے کو ہیں بد ترین حالات میں بھی ثابت قدم رہنے پر کراچی خاص طور پر ضلع ویسٹ کے کارکنان کو سلام پیش کرتا ہوں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان کو خون میں نہلانے والے انتہاء پسند دہشت گرد اپنے انجام کے قریب ہیں، ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا ہے کہ بد ترین ظلم وجبر کا کا مقابلہ کرنا صرف باچا خان بابا کے پیروکاروں کا وطیرہ ہے ،پوری دنیا گواہ رہے ایک مرتبہ پھر باچا خان بابا اور خان عبد اولی خان کی سیاست کی جیت ہوئی ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان ہاؤس میں سندھ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ کاشغر گواد ر اقتصادی راہداری صرف ایک شاہراہ نہیں بلکہ بجلی کے منصوبوں ، بڑے اقتصادی زونوں،ریلوے لائنوں کا مجموعہ ہے ، سازشی عناصر کو خبر دار کرتا ہوں کہ اگر کاشغر گوادر روٹ کو تبدیل کیا گیا تو کالا باغ ڈیم سے بھی زیادہ شدید مذاحمت کریں گے،انہوں نے مذید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دینے سے گریز نہیں کروں گا، دوسروں کے گھروں میں پتھر پھینک کر وہاں سے پھول آنے کی توقع رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں بلوچستان کے حالات پہلے ہی ٹھیک نہیں ہیں ہوش کے ناخن لیے جائیں صوبائی تنظیم اور کارکنان کو سختی ہدایت کرتا ہوں کہ شہر کے موجودہ حالات کے تناظر میں کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کیا جائے ،اس موقع پر صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید اور جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ : 2.4.2015 بروز جمعرات

عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک کا ایک روزہ دورہ بونیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے پارٹی کے سینئر رہنما محمد ایوب خان ڈاگئی کے بھائی کی وفات پر فاتحہ خوانی کی، کچھ دیر غمزدہ خاندان کے ساتھ گزارا ، بعد میں اے این پی کے رہنماؤں نے پارٹی رہنماپیر زادہ کے ظہرانے میں شرکت اور پارٹی تنظیمی عہدیداروں اور کارکنوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر ایمل ولی خان اور سردار حسین بابک نے کہا کہ کارکنوں کو بھرپور طریقے سے بلدیاتی انتخابات کی تیاری کرنی چاہیے اور عوامی رابطہ مہم کو مزید مربوط اور تیز بنانا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت پی کے 95 لوئر دیر میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ وزراء انتخابی مہم چلا رہے ہیں جو کہ الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن وزراء اور حکومتی اہلکاروں کا انتخابی مہم میں حصہ لینے اور سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کا نوٹس لیں ورنہ اے این پی راست اقدام پر مجبور ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل کے ذریعے اے این پی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

مورخہ یکم اپریل2015ء
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات عدلیہ کی زیر نگرانی کرائے جائیں کیونکہ الیکشن سے قبل پری پول رگنگ کا آغا ز کر دیا گیا ہے اور اے این پی اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی ۔وہ باچا خان مرکز پشاور میں سہ فریقی اتحاد کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ، جے یو آئی ( ف ) اور پیپلز پارٹی کے قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی منافقت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور سہ فریقی اتحاد کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائینگی ، انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد آنے والے جنرل الیکشن میں بھی کامیابی کی طرف ایک قدم ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ حکومتی ارکان کے بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ بلدیاتی الیکشن سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئے ورنہ صوبائی حکومت اس کیلئے سنجیدہ نہیں تھی، انہوں نے کہا حکومتی نیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک طرح کے جبکہ اس صوبے میں مختلف طرز پر الیکشن کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی سہ فریقی اتحاد بھرپور مخالفت کرے گا ، انہوں نے کہا کہ نیبر ہوڈ اور ویلج کونسل میں غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرانے کے حکم سے حکومت کے دھاندلی کے ارادے کھل کر سامنے آگئے ہیں ،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس غیر آئینی اقدام کو اے این پی نے عدالت میں چیلنج کیا ہوا ہے اور امید ہے کہ عدلیہ اس سلسلے میں جمہوریت کی بقا کی خاطر جلد از جلد فیصلہ سنا ئے گی ، میاں افتخار حسین نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ آئین کی توہین کرنے کا نوٹس لے اور تمام بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر پر بھی پابندی لگانے کیلئے اقدامات کئے جائیں کیونکہ سرکاری وسائل اور سرکاری ملازمین کو دھاندلی کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سے گزشتہ بجٹ بھی لیپس ہوا اور اب سرکاری فنڈز کے غیر قانونی استعمال سے70فیصد بجٹ لیپس ہو چکا ہے ، میاں افتخا ر حسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اپنے ہی حلقے نوشہرہ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے زیادہ آبادی والے علاقے میں ایک جبکہ کم آبادی والے علاقے میں 6ویلج کونسل قائم کر دی گئی ہیں ، انہوں نے کہا سہ فریقی اتحاد بلدیا تی الیکشن کے بعد جنرل الیکشن میں بھی کامیابی حاصل کرے گا اور پختونوں کے حقوق غصب کرنے والوں کو بھاگنے نہیں دینگے ، انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ دھاندلی کا راستہ روکنے کیلئے بلدیاتی الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں کرائے جائیں ، انہوں نے کہا کہ لوکل باڈی سسٹم سے ضیاء دور کی ارکان اسمبلی کیلئے سیاسی رشوت کا بھی خاتمہ ہو گا کیونکہ ارکان اسمبلی کا کام قانون سازی کرنا ہے گلیاں بنانا نہیں ، انہوں نے کہا کہ کپتان کے قول و فعل میں تضاد ہے اور نئے خیبر پختونخوا کے نام پر ایسے اقدامات کئے جاہے ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں ،انہوں نے کہا کہ عمران اور علوی ٹیپ سکینڈل سے دھرنے کا مقصد کھل کر سامنے آ چکا ہے ، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اے این پی اور خصوصاًً سہ فریقی اتحاد کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور جواب طاقت کے ذریعے دیا جائے گا

عوامی نیشنل پارٹی پختونخواصوبائی ورکنگ کمیٹی نے اتفاق رائے سے درج ذیل قراردادوں کی منظوری دے دی۔

قرارداد نمبر1
عوامی نیشنل پارٹی ورکنگ کمیٹی کا یہ اجلاس اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ اگرچہ آئین کے مطابق ملک کا نظام وفاقی اور جمہوری ہے لیکن موجودہ وفاقی حکومت عملاً وفاقیت کی نفی کرتے ہوئے ملک کو وحدانی طرز پر چلا رہی ہے جس کا ثبوت وفاق میں صوبائی محکموں یعنی تعلیم ، صحت کی وزارتوں کی احیاء ہے اور مشترکہ مفادات کونسل جس کا اجلاس آئین کے مطابق نوے (90) دنوں میں ہونا چاہیے وہ اجلاس کئی سو دنوں کے بعد ہوا ہے۔ جو آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس طرح موجودہ حکومت کا معاشی ترقی کیلئے سارا فوکس پنجاب پر ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عملاً وزیر خارجہ کے طور پر کام کرتے ہوئے بیرونی ملکوں سے پیسے اور دیگر فوائد پنجاب کیلئے حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کی نا اہل صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے مفادات محفوظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی صوبائی ورکنگ کمیتی کا اجلاس اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان کے بے سرو سامان ، بے گھر پختونوں کو بحالی کے کام میں مدد دینے کی بجائے ملک کے ساتھ اُن کی وفاداری پر کھلے شک کا اظہار کرتے ہوئے ان سے وفاداری کا حلف لے رہی ہے ۔ کیا اس طرح وفاداری کا حلف ملک کے دوسرے باشندوں سے بھی لیا جا رہا ہے یا اس کام کیلئے ان لوگوں کو چنا جا رہا ہے جنہوں نے ملک اور امن کی خاطر ہر قسم کی بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ دُنیا کے دیگر ممالک اور اقوام کے ساتھ پر امن بقائے باہمی اور عدم مداخلت کی بنیاد پر صحت مند تعلقات کی حامی رہی ہے اس اُصول کی روشنی میں عوامی نیشنل پارٹی مشرق وسطیٰ اور خصوصاً یمن میں موجودہ بحران مذاکرات کے ذریعے پر امن حل چاہتی ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے OIC اور اقوام متحدہ کے فورم پر آواز اُٹھانے اور اس تناظر میں فوجی مداخلت کی پالیسی پاکستان کیلئے ہولناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اے این پی تمام پارٹیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ دوسرے مسلمانوں کا خون بہنے کی حمایت سے گریز کریں۔

قرار داد نمبر2
عوامی نیشنل پارٹی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات آئین کی روشنی میں سیاسی پارٹیوں کی بنیاد پر منعقد کرنا چاہیءں اور تمام صوبوں کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں بھی بلدیاتی انتخابات منعقد کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہاں پر موجود سیاسی خلاء کو پر کیا جاسکے اور قبائلی پشتون کو بھی وہی بنیادی حقوق حاصل ہو سکیں جو آئین کے مطابق ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی ورکنگ کمیٹی کا یہ اجلاس الیکشن کمیشن پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے ریاستی اور سرکاری وسائل کے استعمال سے روکا جائے کیونکہ حکمران پارٹیاں حکومت ذرائع کے ذریعے رائے عامہ کو اپنی طرف راغب کرنے کی ناجائز کوشش کر رہے ہیں۔

قرار داد نمبر3
عوامی نیشنل پارٹی ورکنگ کمیٹی کا یہ اجلاس اس بات پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کی مسلسل مطالبوں کے باوجود وفاق حکومت کاشغر گوادر تجارتی شارع کے بنیادی نقشے کو تبدیل کرتے ہوئے اُسے پنجاب سے گزارنے پر مؤثر ہے۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبائی اسمبلیوں کے متفقہ قراردادوں کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور فاٹا کے پسماندہ علاقوں کو قصداًعمداً معاشی ترقی سے محروم رکھ کر وفاق کی جڑیں کھوکھلی کی جا رہی ہیں۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ وفاقی حکومت ضد چھوڑ کر کاشغر گوادر کے اصلی اور کم فاصلے کے راستے کے منصوبے کو اپنائے۔

قرار داد نمبر4
عوامی نیشنل پارٹی کمیٹی کا یہ اجلاس اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں آل پارٹیز کانفرنس کی طرف سے منظور شدہ دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے بلکہ اخبارات میں اس طرح کی خبریں چھپی ہیں کہ 20 نقاطی نیشنل ایکشن پلان کے بعض نقاط کو یکطرفہ طور پر حکومت نے ختم کیا ہے۔ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملک کے عواس کو دہشتگردی سے نجات دلانے کیلئے نیشنل پالان کی تمام تر نقاط پر فوری اور مؤثر عمل درآمد کیا جائے۔

قرار داد نمبر5
عوامی نیشنل پارٹی ورکنگ کمیٹی کا یہ اجلاس بجلی کی موجودہ ناروا اور ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے عوام کو ریلیف ترامیم فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اجلاس حکومت کو یاد دلانا چاہتا ہے کہ انتخابات سے پہلے موجودہ حکومت نے بجلی کے بحران کو چند مہینوں میں حل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن دو سال گزرنے کے باوجود بحران بڑھ گیا۔ اے این پی کی حکومت نے خیبر پختون خوا میں پن بجلی پیدا کرنے کے جن منصوبوں کا اعلان کرکے ان پر کام شروع کیا تھا موجودہ حکومت نے گلستان کے منصوبے پر کام بند کر کے صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم کیا ہے یہ اجلاس پن بجلی کے تمام منصوبوں پر فوری عوام پر کام تیز کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

کراچی۔بدھ 01 اپریل 2015ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اے این پی کے قائد اسفند یار ولی خان نے پارٹی کے صوبائی تھنک ٹینک کا اجلاس کل بروز جمعرات سہ پہر کو مردان ہاؤس میں طلب کرلیا ہے ، اجلاس میں صوبے خاص طور پر شہر کی سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے گا ،اجلاس کے بعد اسفند یار ولی خان شام چار بجکر تیس منٹ پر پریس کانفرنس کریں گے ۔

مورخہ یکم اپریل2015ء
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات عدلیہ کی زیر نگرانی کرائے جائیں کیونکہ الیکشن سے قبل پری پول رگنگ کا آغا ز کر دیا گیا ہے اور اے این پی اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی ۔وہ باچا خان مرکز پشاور میں سہ فریقی اتحاد کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ، جے یو آئی ( ف ) اور پیپلز پارٹی کے قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی منافقت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور سہ فریقی اتحاد کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائینگی ، انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد آنے والے جنرل الیکشن میں بھی کامیابی کی طرف ایک قدم ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ حکومتی ارکان کے بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ بلدیاتی الیکشن سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئے ورنہ صوبائی حکومت اس کیلئے سنجیدہ نہیں تھی، انہوں نے کہا حکومتی نیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک طرح کے جبکہ اس صوبے میں مختلف طرز پر الیکشن کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی سہ فریقی اتحاد بھرپور مخالفت کرے گا ، انہوں نے کہا کہ نیبر ہوڈ اور ویلج کونسل میں غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرانے کے حکم سے حکومت کے دھاندلی کے ارادے کھل کر سامنے آگئے ہیں ،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس غیر آئینی اقدام کو اے این پی نے عدالت میں چیلنج کیا ہوا ہے اور امید ہے کہ عدلیہ اس سلسلے میں جمہوریت کی بقا کی خاطر جلد از جلد فیصلہ سنا ئے گی ، میاں افتخار حسین نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ آئین کی توہین کرنے کا نوٹس لے اور تمام بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر پر بھی پابندی لگانے کیلئے اقدامات کئے جائیں کیونکہ سرکاری وسائل اور سرکاری ملازمین کو دھاندلی کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سے گزشتہ بجٹ بھی لیپس ہوا اور اب سرکاری فنڈز کے غیر قانونی استعمال سے70فیصد بجٹ لیپس ہو چکا ہے ، میاں افتخا ر حسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اپنے ہی حلقے نوشہرہ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے زیادہ آبادی والے علاقے میں ایک جبکہ کم آبادی والے علاقے میں 6ویلج کونسل قائم کر دی گئی ہیں ، انہوں نے کہا سہ فریقی اتحاد بلدیا تی کے بعد جنرل الیکشن میں بھی کامیابی حاصل کرے گا اور پختونوں کے حقوق غصب کرنے والوں کو بھاگنے نہیں دینگے ، انہوں نے ایک پھر مطالبہ کیا کہ دھاندلی کا راستہ روکنے کیلئے بلدیاتی الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں کرائے جائیں ، انہوں نے کہا کہ لوکل باڈی سسٹم سے ضیا دور کی ارکان اسمبلی کیلئے سیاسی رشوت کا بھی خاتمہ ہو گا کیونکہ ارکان اسمبلی کا کام قانون سازی کرنا ہے گلیاں بنانا نہیں ، انہوں نے کہا کہ کپتان کے قول و فعل میں تضاد ہے اور نئے خیبر پختونخوا کے نام پر ایسے اقدامات کئے جاہے ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں ،انہوں نے کہا کہ عمران اور علوی ٹیپ سکینڈل سے دھرنے کا مقصد کھل کر سامنے آ چکا ہے ، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اے این پی اور خصوصاًً سہ فریقی اتحاد کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور جواب طاقت کے ذریعے دیا جائے گا ،

مورخہ یکم اپریل2015ء
پشاور ( پ ر ) سہ فریقی اتحاد ڈسٹرکٹ پشاور کا ایک تنظیمی اجلاس باچا خان مرکز پشاور مین منعقد ہوا ، جس میں آئندہ بلدیا تی انتخابات کے حوالے سے اہم امور پر غور و خوض کیا گیا ، اس موقع پر سہ فریقی اتحاد ڈسٹرکٹ پشاور کیلئے مولانا خیر البشر کو صدر ،ملک نسیم خان جنرل سیکرٹری ، ملک طہماش سینئر نائب صدر اور غضنفر علی کو سیکرٹری اطلاعات نامزد کر لیا گیا ، اے این پی سے گلزار حسین ،دلاور خان ، منیر خان مہمند ، عزیز غفار خان ، جے یو آئی کے محمد عاصم حاجی ابراہیم ، حاجی ایوب مہمند اور پیپلز پارٹی سے ملک طہماش خان اور غضنفر علی نے اس موقع پر اجلاس میں شرکت کی ، اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ 6اپریل تک الیکشن میں حصہ لینے کے خواہشمند اپنی ضلعی تنظیموں میں ناموں کا اندراج کرائیں گے تا کہ انہیں صوبے کے حوالے کیا جاسکے

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']