March-2015

 

مورخہ 29مارچ بروز اتوار
یمن میں فوج بھیجنے کا خمیازہ بلوچستان کے عوام بھگتیں گے، اسفندیار ولی خان
1980ء کی دہائی میں پرائی جنگ میں کودنے کے خطرناک نتائج آج تک سارے پختون بھگت رہے ہیں ، اے این پی کسی بھی ایسے فیصلے کی مخالفت کرے گی
مہذب قومیں تاریخ سے سبق سیکھتی ہیں لیکن پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے دوبارہ وہی غلطیاں دہرائی جارہی ہیں
بدقسمتی سے فرد واحد پوری قوم کے فیصلے کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مرکزی حکومت اے پی سی بلائے تا کہ تمام سیاسی جماعتیں کسی ایک نکتے پر متفق ہو سکیں
سہ فریقی اتحاد کا حصہ بننا وقت کی اہم ضرورت تھی ، مرکزی حکومت فاٹا کے عوام کو لوکل باڈیز سسٹم میں شامل کرکے وہاں بلدیاتی الیکشن کا اعلان کرے
صولت مرزا کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم لگائے جانے والے الزامات انتہائی سنگین ہیں ، شفاف تحقیقات کیلئے اعلی ٰ سطح کی جے ٹی آئی تشکیل دی جائے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات ہی دونوں ممالک کے بہتر مفاد میں ہیں ، بلور ہاؤس پشاور میں صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ افغان جنگ میں کودنے کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں جبکہ یمن میں فوج بھیجنے کا خمیازہ بلوچستان کے عوام بھگتیں گے۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے بلور ہاؤس پشاور میں اے این پی صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور ، مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی قائمقام صدر سید عاقل شاہ ، ، صوبائی قائمقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان، صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک سمیت دیگر مرکزی و صوبائی قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ 1980ء کی دہائی میں پرائی جنگ میں کودنے کے خطرناک نتائج آج تک سارے پختون بھگت رہے ہیں جبکہ ایران اور سعودی عرب کی جنگ میں کودنے کا خمیازہ بلوچستان کو بھگتنا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ مہذب قومیں تاریخ سے سبق سیکھتی ہیں لیکن پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے دوبارہ وہی غلطیاں دہرائی جارہی ہیں ، عوامی یشنل پارٹی کسی بھی صورت دوسروں کی جنگ کا حصہ بننے کی قطعی طور پر مخالفت کرے گی ،انہوں نے کہا کہ یمن میں پرائی جنگ کا حصہ بننا ملک کیلئے خطرناک ہے اور بدقسمتی سے فرد واحد پوری قوم کے فیصلے کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مرکزی حکومت اے پی سی بلائے تا کہ تمام سیاسی جماعتیں کسی ایک نکتے پر متفق ہو سکیں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی یمن میں فوج بھیجنے کی ہر صورت مخالفت کرے گی۔انہوں نے آئندہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کہا کہ اے این پی بلدیاتی الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی ، انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد کا حصہ بننا وقت کی اہم ضرورت تھی ، اسفندیار ولی خان نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے عوام کو لوکل باڈیز سسٹم میں شامل کرکے وہاں بلدیاتی الیکشن کا اعلان کیا جائے ، انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ویلج کونسل کے انتخابی نتائج کیلئے دس روز کی مہلت کہاں کا انصاف ہے ، انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے دعویداروں کی نیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ضلع کونسل کے ناظم کو کسی بھی وقت فارغ کرنے کا اختیار وزیر اعلیٰ کو دے دیا ہے ،تاہم انہوں نے کہا کہ کپتان کی جانب سے صوبے میں غیر جماعتی بلدیاتی الیکشن کے مطالبے سے ایوب خان اور ضیاء الحق دور کی یاد تازہ کر دی ہے، کراچی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ صولت مرزا کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم اس کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات انتہائی سنگین ہیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئے اور اس کیلئے اعلی ٰ سطح کی جے ٹی آئی تشکیل دی جائے ، انہوں نے کہا کہ الزامات کی شفاف تحقیقات تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ خود ایم کیو ایم کے حق میں بھی بہتر ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کا فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا گیا ، ایک سوال کے جواب میں اسفندیا ر ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی عسکری ونگ نہیں تاہم اگر کوئی بھی شخص دہشت گردی کی کاروائی میں ملوظ ہوا تو اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، اسفندیا ولی خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ بونوں مما لک کے درمیان رابطے مزید مضبوط اور تسلسل کے ساتھ ہونے چاہیءں اور یہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت برائے نام ہے اور اس کی کوئی پالیسی نظر نہیں آتی ، اسفندیار ولی خان نے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی عمراں خان اور عارف علوی کی ٹیپ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اب قوم کو حقیقت جان لینی چاہئے کہ دھرنے کے دوران کئے جانے والے دعوے کس حد تک درست تھے ، انہوں نے کہا کہ کپتان نے تین ماہ تک قوم کا وقت ضائع کیا اور پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ،انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک غیر سیاسی انسان ہے اور سینیٹ کے الیکشن میں ان کے سیای تضاد کا پول بھی کھل کر سامنے آگیا ہے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دور میں جتنے ترقیاتی کام کئے ان کی مثال ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

مورخہ : 24.3.2015 بروز منگل

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع کوہاٹ کی خالی نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہو گیا ، جس کے نتیجے میں مسعود خلیل ایڈوکیٹ کو جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا گیا ، اے این پی کوہاٹ کی خالی ہونے والی نشستوں کیلئے انتخابات باچا خان مرکز پشاورمیں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان کی زیر نگرانی پرامن ماحول اور جمہوری انداز میں مکمل ہوئے ، انتخابی عمل کے نتیجے میں مسعود خلیل ایڈوکیٹ جنرل سیکرٹری ،امتیاز خان بنگش سینئر نائب صدر ، سید محمد خان جائنٹ سیکرٹری اول ،رشید احمد سادات جائنٹ سیکرٹری دوم،اجمل خان نائب صدر اول جبکہ محمد طاہر خان بنگش کو نائب صدر سوم منتخب کر لیا گیا ۔اس موقع پر پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے نو منتخب ممبران کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ یو سی کی سطح سے لے کرمرکز تک الیکشن میرٹ کی بنیاد پر کرائے ہیں ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ نو منتخب ممبران پارٹی کی مزید فعالیت اور ترقی کیلئے کام کریں گے اور باچا خان بابا اور خان وبدالولی خان کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ کارکن اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق بر قرار رکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان نے قوم میں بیداری ،تعلیم اور شعور کی بیداری اور جمہوریت کے استحکام کے لئے عملی جد وجہد کی ہے۔ان کی زندگی اور جد وجہدکو تاریخ میں سنہری خروف سے لکھا جائے گا ۔اگر باچا خان اور ولی خان کی کہی ہوئی باتیں مان لی جاتیں تو آج پختونوں کا اتنا خون نہ بہتا۔انہوں نے کہا کہ آج ساری دنیا مذہبی اور سیاسی جماعتیں اے این پی کی پالیسیوں کی تقلید کر نے لگی ہیں جو کہ اے این پی کی جیت ہے، انہوں نے نو منتخب ممبران پر بھی زور دیا کہ وہ پارٹی کو کوہاٹ میں مزید فعال کرنے کیلئے دن رات محنت کریں۔

مورخہ11مارچ 2015بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے صوابی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران سیکورٹی اہلکار کی شہادت اور بیشتر پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلافجام شہادت نوش کرنے والوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی انہوں نے کہا کہ قوم کو ایسے بہادر جوانوں پر فخر ہے اور دہشت گردوں کی مذموم کاوائیون سے دہشت گردی کے خلاف عزم متزلزل نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے شہید اہلکار کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ،دریں اثنا ء امیر حیدر ہوتی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ صوابی کے مصروف ترین علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی صوبائی حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیکورٹی کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے ، اور عام شہری کی زندگی کسی طور محفوظ نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں فوری اقدامات کرے اور صوبے سے دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے۔

مورخہ11مارچ 2015بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کیصوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈکے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبے کے حقوق کیلئے حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت این ایف سی اجلاس کے بائیکاٹ کی غلطی نہ کرے کیونکہ صوبے کے مسائل کے حوالے سے سولو فلائیٹ سے کام نہیں چلے گا ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے سے ہی معاشی اور اقتصادی طور پر بحران کا شکار ہے اور بے شمار مسائل کا سامنا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ صوبے کے عوام کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گا،سردار حسین بابک نے تجویز پیش کی صوبے کے مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کا جرگہ بلانا چاہئے ، تاہم انہوں نے کہا کہ سپیکر کی سربراہی میں پہلے ہی سے صوبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے تما سیاسی جماعتوں کے پالیمانی لیڈرز کا جرگہ تشکیل پایا ہے ، لیکن صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے اس جرگہ کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہو سکا ،انہون نے کہا کہ دھمکیوں اور احتجاج سے صوبے کے مسائل ھل نہیں ہو نگے بلکہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو تمام سیاسی جما عتوں کو اعتماد میں لینا چاہئے ،اور بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

مورخہ : 10.3.2015 بروز منگل

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اسلام آباد سے پشاور پہنچتے ہی ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ رضاربانی صاحب پر حکومت اور اپوزیشن کا اعتماد کرنا جمہوریت کے استحکام کیلئے ایک مثبت قدم ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین کے سلسلے میں سب سے پہلے جب زرداری صاحب نے اسفندیار ولی خان سے رابطہ کیا تو اسفندیار ولی خان نے زرداری صاحب کو رضا ربانی کا نام تجویز کیا۔ اس کے بعدعوامی نیشنل پارٹی کے وفد نے اسفندیار ولی خان کی ہدایت پراسلام آباد میں حاجی غلام احمد بلور صاحب کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ ن کے وفد سے ملاقات کی جس میں اے این پی کی طرف سے حاجی غلام احمد بلور صاحب ’ میاں افتخار حسین ’ شاہی سید باچا ’ زاہد خان اور الیاس بلور جبکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے سعد رفیق اور پرویز رشید نے نمائندگی کی۔ اے این پی نے اُن کو بھی یہی تجویز دی کہ افہام و تفہیم سے اگر فیصلے ہوں تو یہ زیادہ مناسب ہیں۔ جبکہ اسی رات زرداری صاحب نے تمام سیاسی پارٹیوں کا اجلاس بلایا جس میں اسفندیار ولی خان اور حاجی غلام احمد بلور اور میاں افتخارحسین نے شرکت کی۔ وہاں اسفندیار ولی خان نے چئیرمین شپ کیلئے رضا ربانی کے نام کی تجویز پیش کی اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے بلوچستان کو نمائندگی دینے کی تجویز پیش کی اور اس پر کافی بحث و مباحثہ کرنے کے بعد اس تجویز کو منظور کیا گیا۔ اگلی صبح وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کی دعوت پر اسفندیار ولی خان کی وزیر اعظم سے ون ٹو ون ملاقات ہوئی جس میں موجودہ صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ اسفندیار ولی خان نے نواز شریف صاحب سے یہی کہا کہ چونکہ میری ہی تجویز پر پیپلز پارٹی اور اپوزیشن سمیت تمام پارٹیوں نے رضا ربانی کے نام پررضا مندی کا اظہار کیا اور رات کو ہم نے اس فیصلے کا اعلان بھی کیا۔اُنہوں نے تمام حقیقی صورتحال سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا جس کے بعد نواز شریف نے تمام پارٹیوں کو ڈیڑھ بجے دن کھانے کی دعوت دی تھی جس میں اسفندیارولی خان، حاجی غلام احمد بلور اور میاں افتخار حسین نے شرکت کی۔اجلاس میں نواز شریف نے تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو اعتماد میں لیتے ہوئے اظہار خیال کیا اور اُس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میری کوشش تھی کہ متفقہ طور پر ایک اُمیدوار کو سامنے لایا جا سکے کیونکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے رضا ربانی کا اعلان ہو چکا ہے۔ اچھا ہوتا کہ اس کا ہم سے پہلے مشورہ کیا جاتا لیکن اس کے باوجود بھی ہم رضا ربانی کے نام کی تائیدکرتے ہیں اور اس کو متفقہ طور پر چئیرمین بنانے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔ نواز شریف نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا اور جمہوریت کی بقاء کیلئے ایسے ہی جذبے کی ضرورت ہے۔

میاں افتخار حسین نے زرداری صاحب کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ تمام اپوزیشن کو اکٹھا کرکے متفقہ طور پر اُمیدوار کو سامنے لاکر ایک منجھے ہوئے تجربہ کار سیاستدان کا کردار ادا کیا اور میاں نواز شریف نے ایک سلیقہ مند ، منجھے ہوئے اور باوقار سیاستدان کے طور پر خوش اسلوبی سے مسئلے کو حل کرنے کیلئے رضا ربانی صاحب کا انتخاب کیا۔ جس کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے بامقصد اپوزیشن اور حکومت کا یہی کردار ہوتا ہے جبکہ موجودہ صورتحال میں اسفندیار ولی خان نے کلیدی کردار ادا کیا اور متفقہ فیصلہ تمام سیاسی قائدین کی بصیرت کا ثبوت ہے۔ اگر یہی جذبہ برقرار رہا اور تمام فیصلے افہام و تفہیم سے ہوتے رہے تو وطن عزیز میں جمہوریت کو تقویت ملے گی۔

مورخہ10مارچ 2015بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی نے صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے ، اور مستقبل میں عوام پی ٹی آئی کا صفایا کر دیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں مختلف علاقوں سے آنے والے این پی کے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر اے این پی کوہاٹ کی ضلعی کابینہ نے ضلعی صدر جاوید خٹک کی قیادت میں امیر حیدر خان ہوتی سے ملاقات کی ، وفد نے تنظیمی امور کے حوالے سے اپنے مسائل سے صوبائی صدر کو آگاہ کیا اور مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں ، امیر حیدر خان ہوتی نے وفد کو ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا تمام مسائل کے حل کیلئے عنقریب ضلعی کونسل کا اجلاس طلب کیا جائیگا۔امیر حیدر ہوتی نے ہدایت کی کہ ضلع میں پارٹی کو مزید منظم اور فعال بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں ،ہنگو سے سابق ایم این اے پیر حیدر علی کی قیادت میں آنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت کے پانچ سال کے دوران ہنگو کیلئے انقلابی اقدامات کئے تاہم بدقسمتی سے صوبائی حکومت نے عوامی مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے، ہنگو کے وفد نے امیر حیدر ہوتی کو دورے کی دعوت بھی ، صوبائی صدر نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ عنقریب علاقے کا دورہ کریں گے، انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی تمام ذمہ داری تحریک انصاف کی حکومت پر عائد ہوتی ہے ، امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ عوام اپنے مینڈیٹ کی توہین کرنے پر پی ٹی آئی کو کبھی معاف نہیں کریں گے اور وہ مستقبل میں ان حکمرانوں کا صوبے سے بوریا بستر گول کر دیں گے۔ امیرحیدرخان ہوتی کاکہنا تھاکہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود عوام کی خدمت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں ،پی ٹی آئی نے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر عوام کو ورغلا یا ہے اورگذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کا شکارہے، اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ باچاخان نے اس دھرتی اورپختون قوم کو مسائل سے نکالنے کے لئے جس تحریک کا آغازکیا وہ منزل بھی اب دور نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار اوراسمبلیوں کی سیٹوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا مقصود ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈوکیٹ اور سالار اعلیٰ محمد رسول خان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

مورخہ9 مارچ 2015بروز پیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور ملگری ڈاکٹران کے کوآرڈینیٹر میاں افتخار حسین ، ملگری ڈاکٹر ان کے مرکزی صدر ڈاکٹر سعید الرحمٰن اور ڈاکٹر لیاقت نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے پینل میں ہونے والے الیکشن میں ملگری ڈاکٹران کے ڈاکٹر قاضی امجد اور ڈاکٹر محمد رضوان کی کامیابی پر انہیں دلی مبارکباد پیش کی ہے اور اسے ملگری ڈاکٹران کیلئے نیک شگون قرار دیا ہے ، اپنے تہنیتی بیان میں میاں افتخار حسین نے نو منتخب صدور کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ نو منتخب ممبران ڈاکٹر برادری کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے، انہوں نے کہا کہ اب یہ ان کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے کہ ڈاکٹر برادری کے حقوق کا تحفظ کریں اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار انسانیت کی خدمت کیلئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جذبے کے ساتھ کام کریں۔میاں افتخار حسین نے انہیں یقین دلایا کہ اے این پی ڈاکٹر برادری کے سروس سٹرکچر سمیت تمام ایشوز اور مسائل کے حل کیلئے بھرپور کوششیں جاری رکھے گی اور ان مسائل کے حل کی خاطر پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائے گی ۔

مورخہ 09 مارچ 2015 ء بروز پیر

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سینٹ کے الیکشن میں عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہے‘ پہلی بات تو یہ کہ انصاف والوں نے بیلٹ پیپر کے تقدس کو پامال کیا اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے شائع خبر میں انکشاف کیا ہے کہ ہم نے ن لیگ کو سینٹ کے الیکشن میں ووٹ دئیے اور سینٹ کے ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر مسلم لیگ ن کا امیدوار تحریک انصاف کے ووٹوں سے کامیاب ہوا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پنجاب میں سینٹ الیکشن کا بائیکاٹ بھی مسلم لیگ ن کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا تھا‘ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے نورا کشتی کی سیاست شروع کی ہوئی ہے جن سے ان کے قول و فعل کا تضاد کھل کر سامنے آ گیا ہے اور آنیوالے بلدیاتی الیکشن میں ان دونوں پارٹیوں کو عوام بری طرح مسترد کر دیں گے‘ تحریک انصاف نے اس صوبے کے عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتیاں کی ہے پچھلے دو سالوں میں 80 فیصد فنڈز جو اس صوبے کو ملنے تھے وہ لیپس ہو گئے ہیں‘ ترقیاتی کام رکے پڑے ہیں‘ مفتی محمود فلائی اوور کی تعمیر ابھی تک التواء کا شکار ہے‘ پشاور شہر میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں حکومت بری طرح ناکام ہے‘ ان تمام باتوں کے باوجود تحریک انصاف کے چیئرمین بڑے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں کہ ہم نے خیبر پختونخوا میں ایک مثالی حکومت قائم کی ہوئی ہے لیکن اس صوبے کے عوام کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ اسمبلی توڑنے کے احتیارات عمران خان کے پاس ہے یا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے پاس؟ سینٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا تحریک انصاف کے چیئرمین نے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ اور عمران خان کے بیانات میں تضاد ہے‘ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین بنی گالہ میں بیٹھ کر خیبر پختونخوا کے حکومت کو کنٹرول کرتا ہے جو اس صوبے کے عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

مورخہ6 مارچ 2015بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی ہمیشہ سے خواتین اور مردوں کی برابری پر یقین رکھتی ہے اور خواتین کوعملی سیاست میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار کرنے کا سہرا فخر افغان باچاخانؒ کے سر ہے جنہوں نے خدائی خدمتگار تحریک کے ذریعے خواتین کو میدان عمل میں نکلنے کی تعلیم دی ‘ عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے اپنے پیغام میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں خواتین کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے ‘ خواتین کو حقو ق دئیے بغیر کوئی بھی معاشرہ اور ملک ترقی نہیں کر سکتا ‘ عوامی نیشنل پارٹی شروع دن سے ہی صنفی امتیاز کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے ‘ انہوں نے کہا کہ خواتین کو جدید خطوط پر معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کیلئے ابھی بہت سے اقدامات اٹھانے باقی ہیں جس کیلئے بھرپور جدوجہد کی ضرورت ہے اور اے این پی اس جدوجہد میں فعال کردار ادا کرے گی،انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے حقوق کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں تو نہ صرف ترقی کی راہیں کھلیں گی بلکہ ایک مثالی معاشرہ کی تشکیل بھی ممکن ہو سکے گی ‘ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں ‘ اور یہی وجہ ہے کہ خواتین نے ہر دو ر میں اے این پی پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے ‘انہوں نے کہاکہ پختون خواتین نے ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کی ہے جو تاریخ کا انمٹ باب ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو حقوق دیئے بغیر کوئی بھی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔

مورخہ6 مارچ 2015بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ خواتین کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیا بھر میں رہنے والی تمام خواتین کو معاشرے میں ان کا جائز مقام دلانے کی کوشش کرنا ہے تا کہ وہ بھی برابری کی بنیاد پر باعزت زندگی گزار سکیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی کی صوبائی جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک کی قیادت میں آنے والے خواتین کے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر اور خصوصی طور پر تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں خواتین اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس کا کوئی الگ خواتین ونگ نہیں بلکہ بنیادی تنظیم سے لے کر مرکزی تنظیم اور اداروں میں بھی خواتین کو کثیر تعداد میں شریک کیا گیا ہے اور پارلیمانی سیاست میں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی مناسب حصہ دیا گیا ہے جبکہ بلدیاتی الیکشن میں بھی ان کو بھرپور توجہ دی گئی ہے اور آئندہ بھی دی جائے گی کیونکہ یہ سوچ ہمیں باچا خان بابا اور ولی خان بابا سے ورثے میں ملی ہے ، انہوں نے کہا کہ خواتین صدیوں سے روایتوں کی چکی میں پس رہی ہیں اور رسم و رواج کی زنجیروں میں بندھی اب بھی اپنی شناخت کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، انہوں نے کہا کہ 1977میں اقوام متحدہ نے پہلی بار باقاعدہ طور پر خواتین کے حقوق اور ان کا یوم منانے کیلئے 8مارچ کا دن مخصوص کیا جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال اس دن کیلئے خاص موضوع کا انتخاب کیا جاتا رہا ہے ،اس سلسے میں 2015کیلئے موضوع ’’ بیجنگ ڈیکلیریشن پر عمل درآمد ‘‘ خواتین کے استحکام کے اقدام اور لائحہ عمل کی ترتیب ہے ، جبکہ اقوام متحدہ 2017میں عالمی یوم خواتین کی صدی منانے کا اعلان کر چکا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمیں اس مقولہ کو غلط ثابت کر نا ہو گا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے اور اپنی منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرنا ہو گا ، انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے حقوق سے مکمل آگاہی کی ضرورت ہے کیونکہ لاعلمی کی وجہ سے ان کے حقوق غصب کئے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے آپ پر اعتماد کرنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ کوئی بھی ان کے حقوق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے ،انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک دن ہی نہیں بلکہ معاشرے کو اعلیٰ مقام تک پہنچانے کیلئے ہمیں سال بھر خواتین کے حقوق دلانے کی ضرورت ہے تا کہ ایک ترقی یافتہ جدید اور برابری کی بنیاد پر معاشرے کا قیام جلد سے جلد ممکن ہو سکے۔\\

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور صوبائی قائد ین کا سلیم جدون اور شاہ سوار خان سے اظہار تعزیت ۔
کراچی۔09مارچ 2015ء ؁ ( )
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان،صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید ،جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے پارٹی کے صوبائی نائب صدر سلیم خان جدون کے چھوٹے بھائی حکیم خان جدون کے انتقال اور پارٹی کے دیرینہ ممبر اور پشتو گلور کار شاہ سوار خان کے والد مسکین خان ایڈووکیٹ کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے ،پارٹی کے قائد اور صوبائی صدر و جنرل سیکریٹری نے اپنے علیحدہ علیحدہ تعزیتی بیانات میں کہا ہے کہ پوری پارٹی سلیم خان جدون اور شاہ سوار خان سے دلی تعزیت کرتی ہے اور پسماندگان کے غم میں برابر کی شریک ہے مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہے۔

کراچی ۔پیر 09 مارچ 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ حکومت نے فاٹا کے سینٹرز کے انتخابی عمل کو متنازعہ بنا کر قبائلی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ الیکشن کمیشن نے حکومت کے متنازعہ آرڈیننس پر فاٹا کے سینٹ الیکشن نہ کروا کر حکومت کی مدد کی ہے۔حکومت کی جانب سے فاٹا کے سینیٹ الیکشن کے متعلق جاری کردہ آرڈیننس بددیانتی اور اپنے نمائندے منتخب کروانے کی کوشش ہے۔ کسی صورت بددیانتی پر مبنی قانون تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔الیکشن کمیشن فاٹا کے سینٹ انتخابات12 مارچ سے قبل پُرانے طریقہ کار کے مطابق کروا کر الیکشن کمیشن کے متعلق قوم کے ذہن میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات ختم کرے۔

مورخہ : 6.3.2015 بروز جمعہ
پریس ریلیز

پشاور ( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ سینٹ انتخابات میں اے این پی نے آصف علی زرداری سے کیا ہوا وعدہ نبھاکر دکھایا ،وزیراعلیٰ پارٹی ممبران کے ووٹ خود چیک کرکے نمبر ڈالتے رہے ،اپنے ممبران پر شک کرنے والے عوام کی خاک خدمت کریں گے ،ہماری منزل اقتدار نہیں بلکہ پختون قوم کی باہمی اتحاد اوران میں سیاسی بیداری پید اکرناہے،پی ٹی آئی کے اقتدا رمیں آنے کے بعد صوبے میں ترقی کا پہیہ جام ہوگیاہے،مساجد اور مدارس کی خدمت کرنے کے جرم میں ہر سزا بھگتنے کو تیارہوں موقع ملا تو اللہ تعالیٰ کے گھروں کی خدمت آئندہ بھی کرتارہوں گا وہ جمعہ کی شام کاٹلنگ روڈ باچاکلے میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں پیپلز پارٹی ،جے یو آئی اور دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ رہنما مرادعلی،ریاض امیتازعلی ،حسن خان ،نوررحمان اورحبیب الرحمان نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا پارٹی کے صوبائی صدر نے انہیں ٹوپیاں پہنائیں اور مبارک باددی اجتماع سے اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار اور جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اصولی سیاست کے دعویدار وں کے اصول سینٹ انتخابات میں پوری دنیا نے دیکھ لیے انہوں نے کہاکہ دوسری پارٹیوں پر الزامات لگانے والے عمران خان نے اپنی پارٹی سرمایہ داروں کے ہاں گروی رکھ لی،ٹکٹ سرمایہ داروں اور نوواردوں کو ملے جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کا کوئی پرسان حال نہیں، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ سینٹ الیکشن میں تبدیلی والے آخری وقت تک اپنے ممبران کی چوکیداری میں مصروف رہے جوپارٹی اپنے ممبران پر شکی ہووہ عوام کی خاک خدمت کرسکے گی انہوں نے کہاکہ اے این پی نے کسی سرمایہ دار کو ٹکٹ دیا اورنہ ہی کسی ممبر پر شک کیا انہوں نے اپنے اتحادیوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ سینٹ انتخابات میں سیاسی اختلافات کے باوجود آصف علی زرداری سے جو وعدہ کیاتھا اس وعدے کو نبھا کر دکھایا اورپیپلز پارٹی کے امیدوار حاجی خان زادہ خان کو کامیابی دلائی انہوں نے کہاکہ سرخ جھنڈے نے کبھی بھی بے وفائی نہیں کی پختون جس سے وعدہ کرتاہے وہ پوراکر دکھاتاہے امیرحیدرخان ہوتی نے پی ٹی آئی کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنے والوں نے کونسی تبدیلی لے کر دکھائی ،بجلی کے بل کم ہوئے یا مہنگائی میں کمی آئی، نوجوانوں کو روزگارملا یا میرٹ کی بالادستی قائم ہوئی انہوں نے کہاکہ عوام نے عمران خان کی شادی خانہ آبادی کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں دیکھی اوراس تبدیلی لانے میں خیبرپختون خوا کے وزیرتعلیم کابڑا ہاتھ ہے جس نے کپتان کے لئے رشتہ ڈھونڈ نکالا انہوں نے کہاکہ ان کے دور حکومت میں چھ ہزار سے زیادہ مساجد اور مدارس تعمیر کئے گئے موجودہ حکومت جتنی چاہے تحقیقات کرلے وہ ہر سزا کے لئے تیارہیں تاہم اگر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ موقع دیا تو دوبارہ اللہ کے گھروں اورمدارس کی خدمت کرتارہوں گا انہوں نے کہاکہ موجود ہ حکمران کے ہاتھ کس نے روکے ہیں وہ بھی اللہ کے گھروں کی خدمت کے لئے آگے بڑھیں امیرحیدرخان ہوتی کاکہناتھاکہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلے سال ہم نے مردان میں یونیورسٹی تعمیر کی جبکہ موجودہ وزیرتعلیم نے اپنے حلقہ پی کے 30میں ایک پرائمری سکول تک تعمیر نہیں کیا اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ان کے دور حکومت میں ڈیر ہ سے چترال تک ترقی کا دوردورہ تھا تعلیمی ادارے ،سڑکیں اور ہسپتال بن رہے تھے جبکہ موجودہ حکومت جب سے اقتدا رمیں آئی ہے ترقی کاپہیہ جام ہوکر رہ گیاہے ۔امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختونوں کے مسائل باہمی اتحاد اور اتفاق میں ہے سرخ جھنڈا ہی ان کا مستقبل سنوار سکتاہے وقت آگیاہے کہ ڈیرہ سے چترال تک پختونوں کو سرخ جھنڈا تلے اکٹھا کیاجائے ۔

مورخہ 6.3.2015 بروز جمعہ
( پریس ریلیز )

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی کی کامیابی پر اے این پی کے تمام صوبائی ممبران اور پارٹی کے ورکروں کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ اے این پی نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سیاست میں پیسے کے اثر کو دفن کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں مختلف علاقوں سے مبارکباد کیلئے آنے والے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے فیصلے کے مطابق پہلا ووٹ صحیح طور پر استعمال کیا جس پر ہم اپنے ممبران صوبائی اسمبلی کی جتنی بھی تعریف کریں وہ کم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر عجیب و غریب اور افراتفری کی صورتحال نظر آئی جس میں دیگر پارٹیاں اپنے ممبران کی منت سماجت اور طاقت کے بل بوتے پر ووٹ ڈالنے کیلئے بلا رہے تھے۔ تاہم ان حالات میں اے این پی کے ممبران اسمبلی نے نظم و ضبط کامظاہرہ کرتے ہوئے مثالی کردار ادا کیا۔ اور ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے اپنی سیاسی زندگی میں اتنی خوشی اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی جتنی اپنے ممبران اسمبلی کے کردار اور نظم و ضبط کو دیکھ کر محسوس ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے ممبران نے جنرل، ٹیکنو کریٹ اور اقلیتی سیٹ کیلئے اپنے اُمید واروں کو پورے ووٹ پول کیے جبکہ اقلیتی اُمیدوار امر جیت ملہوترا کے حصے میں پانچ کی بجائے چھ ووٹ آئے جو ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیکنڈ ووٹ کیلئے جن سیاسی جماعتوں کیساتھ اے این پی کی مفاہمت ہوئی تھی پارٹی ممبران نے اُن کے حق میں پوری دیانتداری کیساتھ ووٹ استعمال کیے۔ جس کی بنیاد پر خواتین نشست کیلئے ووٹ اے این پی کے حصے میں آئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کیے اور اپنی رائے کا اظہار اُن کے سامنے کھل کر کیا۔ کیونکہ ہماری پالیسی واضح اور دو ٹوک تھی اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک اُصول پسند جماعت ہے۔ اور سینیٹ انتخابات کے موقع پر پارٹی ممبران اُنہی اُصولوں پر کاربند رہے جس کی گواہی اس موقع پر موجود لوگ دیتے رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان سے ہمیں جو اُصول سیاست اور مثالی کردار وراثت میں ملا ہے ہم اُس پر ناز اور فخر کرتے ہیں۔ اور ہم مثالی کردار کو ادا کرنے کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھیں گے۔ میاں افتخار حسین نے حکومت کی جانب سے ووٹوں کی جگہ سادہ کاغذ بیلٹ بکس میں ڈالنے کے طریقہ کار کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ اسمبلی کی تاریخ میں آج تک ایسا واقعہ نہیں دُہرایا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن چار گھنٹے تاخیر کا شکار ہوا جس پر اپوزیشن جماعتوں نے اعتراض بھی اُٹھایا تاہم اپوزیشن کے احتجاج واپس لینے کے بعد حکومتی خواہش پر پولنگ کا وقت بڑھا دیا گیا۔ اُنہوں نے اے این پی کے ممبران اسمبلی کو اضافی وقت کے دوران بھی پر امن رہنے اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

مورخہ6 مارچ 2015بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے خدائی خدمت گار خان عبدا لغفار خان کے صاحبزادے عبد ا لبہار خان کے انتقالن پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرتریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مرحوم پارٹی کا قیمتی سرمایہ تھے اور ان کی عفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکے گا، دریں اثناء پارٹی رہنماؤں نے اے این پی یو اے ای کے صدر محفوظ جان کی والدہ کے انتقال پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور اسے لواحقین کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے ، انہوں نے محفوظ جان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے پارٹی رہنماؤں نے مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل کیلئے دعا بھی کی ۔

مورخہ6 مارچ 2015بروز جمعہ
عبدالبہار خان عرف خان استاد انتقال کر گئے
پشاور ( پ ر ) کرک کے نامور خدائی خدمت گار خان عبدالغفار خان مرحوم کے صاحبزادے عبدالبہار خان عرف خان استاد بقضائے الٰہی انتقال کر گئے ان کی نماز جنازہ آج بروز جمعہ تخت نصرتی چھتہ بانڈہ میں ادا کی گئی اور انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا ، مرحوم فرید خٹک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، وقار خٹک ایگریکلچر یونیورسٹی ، غیور خٹک محکمہ سوئی گیس اور افتخار ایڈوکیٹ کے والد تھے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کرک کے سابق صدر فاروق ایڈوکیٹ کے چچا زاد بھائی تھے۔

مورخہ6 مارچ 2015بروز جمعہ

محفوظ جان کی والدہ انتقال کر گئیں
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی (یو کے) کے صدر محفوظ جان کی والدہ ماجدہ بقضائے الٰہی انتقال کر گئی ہیں ، ان کی نماز جنازہ بروز جمعہ ان کے آبائی گاؤں ڈھب ناگمان چارسدہ میں ادا کی گئی اور انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ، مرحومہ کی رسم قل گاؤں ڈھب ناگمان چارسدہ میں کل بروز ہفتہ ادا کی جائیگی۔

مورخہ6 مارچ 2015بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی نو منتخب سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی پر پارٹی کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ سینیٹ میں صوبے کے مسائل سنجیدگی سے اٹھاؤں گی ، سینیٹر منتخب ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ستارہ ایاز نے کہا کہ مجھ جیسی ایک عام رکن کو سینیٹر منتخب کرانے پر پارٹی کی تہہ دل سے ممنون ہوں ، انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں ایک طرف ہارس ٹریڈنگ کی افواہیں گشت کرتی رہیں تو دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی نے سیاست میں پیسے کی مداخلت کو روکتے ہوئے ایک ادنیٰ کارکن کو سینیٹ کے ایوان میں پہنچا کر پارٹی کے تاریخی تسلسل کو برقرار رکھا ، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پہلے کی طرح اب بھی صوبے کے عوام کی خدمت جاری رکھوں گی اور سینیٹ کے فورم پر صوبے کے عوام کی حقیقی نمائندگی کا حق ادا کرنے کیلئے دلجمعی سے کام کروں گی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ اپنے کارکنوں کو اہمیت دی ہے اور ان کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ذمہ داریاں بھی دی ہیں۔

مورخہ : 3.3.2015 بروز منگل
( پریس ریلیز )

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ گیت کو قتل نہ کریں اس ٹاپک سے شاید دُنیا روشناس نہ ہو لیکن خیبر پختونخوا کی سرزمین اس سے بخوبی آگاہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے آرکائیوز ہال میں موسیقی کے عالمی دن کے حوالے سے کیا جہاں پر وہ مہمان خصوصی تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں بہت سارے گلوکاروں کو قتل کیا گیا ، مارا پیٹا گیا ، ہراساں کیا گیا اور اُن کو فن کی سزا دی گئی لہٰذا جب گیت گانے والا قتل کیا جائے یا فن سے محروم کیا جائے تو اسی کا نام گیت کو قتل کرنا ہے، گزشتہ کئی سالوں سے سے گیت کو قتل ہوتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے چونکہ آج موسیقی اور گیت کی آزادی کا دن ہے اور یہی ہماری اس دھرتی کی ضرورت ہے کہ ہم پیار محبت اور امن کے گیت گاتے رہیں، اس کو پروموٹ کرتے رہیں اور اپنے آباؤ اجداد کی ثقافت کو زندہ کریں۔ جس طریقے سے ہماری روایت ہے کہ حجروں میں بوڑھے ، بچے اور جوان سب مل کر اپنی تاریخی ثقافتی اور رومانی داستانیں اور گیت گایا کرتے تھے اور اس طریقے سے گھروں میں منگنی ، شادی بیاہ اور خوشی کے موقعوں پر ہماری خواتین علاقائی گیات ، خوشی کے نغمے، رومانی داستانیں اور جوانوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنے والے گیت ڈفلی ، ڈھولک ، طبل اور مٹکے کے ساتھ گایا کرتے تھے۔ لہٰذا آج پھر اس کی ضرورت ہے کہ اُن جیسی پاکیزگی ، شجاعت ، بہادری اور اپنی سرزمین پر مرمٹنے والی ثقافت کو زندہ کریں اور اُس کو زندہ رکھنے کیلئے ہماری ثقافت میں گیت کو بڑا مقام حاصل ہے۔لہٰذا اسکی یاد کو پھر سے تازہ کریں۔
میاں افتخار حسین نے پروگرام منعقد کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور خواتین اور مرد فنکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ جس طریقے سے دُنیا بھر میں آج موسیقی کے حوالے سے آزادی کا دن منایا جاتا ہے ہم بھی آتھنڑ ، خٹک ڈانس اپنی تاریخی اور رومانی داستانوں کو پھر سے زندہ کرنے فن اور فنکاروں کو عزت دینے کی سعی کریں تاکہ ہم بھی دُنیا بھر میں ایک زندہ قوم کے نام سے جانیں جائیں۔موسیقی کے حوالے سے منعقدہ اس پروگرام سے جمیلہ گیلانی ، ثناء اعجاز اور روم نے بھی خطاب کیا۔

کراچی؍03 مارچ 2015ء ؁
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ کراچی کا امن ہر مرکزی حکومت کے لیے کڑا امتحان رہا ہے شہر کا امن ملکی معیشت کے لیے ٹرمپ کارڈ کی حیثیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے ہر مرکزی حکومت درست اقداما اٹھانے سے قاصر رہی ہے ،کراچی کی بد امنی کی ایک بڑی وجہ سیاسی مصلحت پسندی ہے شہر میں رونماء ہونے والے اکثر دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے میں سیاسی مصلحتیں حائل ہیں،سیاسی بھرتیوں نے شہری اداروں کا تباہی سے دوچار کردیا ہے شاید ہی کوئی شہری ادارہ عوامی مسائل کے حل کے قابل رہا ہو،باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر نے مذید کہا کہ عسکری قیادت کی جانب سے کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم خوش آئند ہے ،جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ہمارے ضلعی و علاقائی رہنماء شہید ہوچکے ہیں،کئی رہنماؤں پر حملے ہوچکے ہیں پارٹی ذمہ داران کو پارٹی چھوڑنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی ہیں تمام تر تحفظات کے باوجود جاری ٹارگٹڈ آپریشن کی حمایت کرتے ہیں کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کی جانب سے جس قسم کے عزم کا اظہار کیا جارہا ہے ا س سے شہر کی طویل بد امنی کے خاتمے کی امید نظر آرہی ہے ،ہمارا مطالبہ ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے ،انہوں نے مذید کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی تحقیقات پر پوری قوم کی نظریں مرکوز ہیں کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کے حالیہ بیانات سے کراچی کے شہریوں کو بہت امیدیں وابستہ ہوگئی ہیںیہ تحقیقاتی اداروں کی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک ٹیسٹ کیس ہے ڈھائی سو سے زائد محنت کشوں کو زندہ جلانے الوں کو سزا کراچی کے امن کی کنجی ثابت ہوسکتی ہے ۔

مورخہ : 3.3.2015 بروز منگل
خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان اورافغانستان کو مشترکہ اقدامات کرنا ہونگے، امیر حیدر خان ہوتی
قبائلی عوام ترقی کے لفظ سے بھی نا آشنا ہیں اور ان کی حالت بدلنے کیلئے قبائلی علاقوں میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں
گوادر کاشغر روٹ میں تبدیلی برداشت نہیں کی جائیگی،وکلاء برادری نے مشرف کے آمرانہ دور میں جمہوریت کی بحالی کیلئے لازوال قربانیاں دیں
سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کی جائے ، ڈسٹرکٹ بار پشاور میں ملگری وکیلان ڈسٹرکٹ پشاور کی حلف برداری تقریب سے خطاب
پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ گوادر کاشغر روٹ میں تبدیلی کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ڈسٹرکٹ بار پشاور میں ملگری وکیلان پشاور ڈسٹرکٹ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری فنانس ارباب طاہر خان خلیل ، صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، سید عاقل شاہ ، خوشدل خان ایڈووکیٹ اور عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جبکہ پشاور کے 60 وکلاء نے اس موقع پر ملگری وکیلان تنظیم میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کر کے دکھائے جن میں صوبے کا نام ، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے مسائل پر اپنا اختیار سر فہرست ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خاتمے میں بنیادی کردار تعلیم کا ہے جس کیلئے ہم نے اپنی حکومت کے دوران بے شمارتعلیمی ادارے قائم کئے جبکہ بجلی پیدا کرنے کے پانچ چھوٹے منصوبے بھی شروع کیے گئے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اب حکومت کو چاہیے کہ ان منصوبوں کو مکمل کرے اور اس قسم کے مزید منصوبے شروع کر کے صوبے کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی ، ملکی اداروں کے استحکام اور آئین کی بالادستی کیلئے جو تحریک چلائی اس کے نتیجے میں پرویز مشرف کی آمریت کا خاتمہ ہوا جبکہ ملاکنڈ میں دہشتگردی اور بنیاد پرستی کے خاتمے کیلئے وکلاء برادری نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جبکہ قبائلی عوام کے بنیادی حقوق اور اُن کا اعتماد حاصل کرنا بھی ہمارا بنیادی فرض ہے۔ اُنہوں نے افغان جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں روس کا اثرو رسوخ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا تھا جس کی وجہ سے دو سپرپاور کے مفادات کی جنگ ہمارے خطے میں داخل ہوئی اور بدقسمتی سے اُس وقت کے ہمارے حکمرانوں نے اس جنگ میں پاکستان کو بھی دھکیل دیا۔ ہمارے حکمرانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ افغانستان کے بعد قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کی جنگ کو روکنے کیلئے اقدامات نہ کر سکے جس کی وجہ سے آج ملک سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان اورافغانستان کو مل کر اقدامات کرنا ہونگے۔ جبکہ اس میں بھارت اور چین کو بھی بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قبائلی عوام ترقی کے لفظ سے بھی نا آشنا ہیں اور ان کی حالت بدلنے کیلئے قبائلی علاقوں میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ان تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے کیونکہ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ اے پی سی میں جو اقدامات تجویز پیش کیے گئے تھے اُس کیلئے پختون قوم نے بڑی قربانی دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے بنیادی مسائل پر ہمارا مؤقف ایک ہے اور اُمید ظاہر کرتے ہیں کہ پانچ مارچ کو ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں بھی صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما صوبے کی روایات کو برقرار رکھیں گے اور ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اپنی پارٹیوں کے اُمیدواروں کی حمایت کرینگے۔اس موقع پر ملگری وکیلان کے صدر ارباب عارف اور ڈسٹرکٹ بار کے صدر رضاء اللہ خان نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ2مارچ 2015بروز پیر
جماعت اسلامی نے زندگی بھر سہاروں کی بنیاد پر سیاست کی ہے ، سردار حسین بابک
ایک ضلع تک محدود پارٹی کو اے این پی کے خلاف نا زیبا زبان استعمال کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے
دہشت اور وحشت کی وکالت کرنے والی جماعت مقبول نہیں بلکہ یہ عوام کی سب سے ناپسندیدہ جماعت ہے
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پانچ سال تک الیکشن کا بائیکات کرنے کے باوجود ایک ضلع تک محدود پارٹی کو اے این پی کے خلاف نا زیبا زبان استعمال کرنا زیب نہیں دیتا ، جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم کی جانب سے اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صرف ایک ضلع تک محدود پارٹی کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جماعت اسلامی نے ساری زندگی عوام کے دلوں پر نہیں بلکہ سہاروں کی بنیاد پر سیاست کی ہے اور زندگی بھر دہشت اور وحشت کی وکالت کرنے والی جماعت کبھی عوام میں مقبول نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ تنگ نظری اور انتہا پسند سوچ نے اس جماعت کو محدود سے محدودتر کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روس اور امریکہ کی جنگ میں امریکی ایما پر جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ لگانے والی جماعت کون سے اسلام کی جنگ لڑ رہی ہے سردار حسین بابک نے کہا کہ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت نے اس خطے میں شدت پسندی کو تقویت دی ہے اور اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے سروں کے نذرانے دے کر دہشت گردی کی نہ صرف مخالفت کی ہے بلکہ ملک وقوم کی خاطر کھلے عام اس کے خلاف مزاحمت بھی کی ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ذمہ داروں کو اے این پی کے خلاف غیر شائستہ الفاظ سے اجتناب کرنا چاہئے،اور سیاست میں شا ئستگی کو اپنا شعار بنانا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں بندوق کی نوک پر اکثریت چھیننے والوں کی خاص مہربانی کے باوجود جماعت اسلامی اکثریت حاصل نہیں کر سکی جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی عوام کی سب سے ناپسندیدہ جماعت ہے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو دوسروں کو برا بھلا کہہ کر اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے اپنی سیاست پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

کراچی ۔02مارچ 2015ء ؁
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ شہر میں مستقل فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیا جائے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والوں کی ٹارگٹ کلنگ فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے سازش ہے پولیس کی متعدد فرانزک رپورٹس بھی رکارڈ پر موجود ہیں کہ ایک اسلحہ سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے متعدد بار گرفتاریوں کے دعوؤں کے باوجود فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ مستقل جاری ہے ،مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والوں کی ٹارگٹ کلنگ مستقل جاری ہے دو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کی ٹارگٹ کو ایک دوسرے کا ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،کسی بڑے سانحہ کے رونماء ہونے سے قبل ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو گرفتار کیا جائے ، باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ انتہاء پسندی کی مخالفت کی سزا ہم سے زیادہ کسی نے کاٹی دہشت گردی کا نشانہ صرف اور صرف عوامی نیشنل پارٹی کو بنایا گیا،ضلع غربی میں جو کچھ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ہوا اس کی مثال ملکی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی اس ضلع میں ہماری تقریباً تمام سرکردہ قیادت کو ختم یا شہر چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا ہے لوگ کھلم کھلا بڑے بڑے پروگرام منعقد کررہے ہیں اور ہم چاردیواری کے اندر چھوٹی میٹنگ بھی نہیں کرسکتے ،2013 کے عام انتخابات سے قبل تین جماعتوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی مگر عملا صرف اے این پی کو نشانہ بنایا گیاایک طویل عرصے سے ہم پر غیر اعلانیہ پابند عائد ہے شہر میں عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کو جرم بنادیا گیا ہے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہمارے دو رہنماؤں پر حملے کیے گئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاعات دیتے دیتے تھک چکے ہیں ہم وہ بد قسمت جماعت ہیں جس کے کئی سرکردہ رہنماء بزور جبر شہر و ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں تحفظ کے لیے ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے

کراچی۔02مارچ 2015( )
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ پولیس میں شامل چند کالی بھیڑیں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں ہم امن پسند لوگ ہیں ملکی آئین و قانون اور بین الاقوامی اصول کے تحت زندگی بسر کرنے کا حق دیا جائے پختونوں کوئی مفتوحہ قوم ہر گز نہیں ہیں،محنت مزدوری کرنے والوں کو چند پیسوں کے لیے گرفتار یوں کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے ،ہم لاوارث نہیں ہیں کہ جس جب جی چاہے جیسا چاہے سلوک کرے ، پر امن لوگ ہیں عاجزی و انکساری اور جمہوری انداز میں خبر دار کرتے ہیں ہمارے لوگوں کو بے جا تنگ نہ کیا جائے ،پختون تاجروں کو پیسہ بنانے کی مشین نہ سمجھا جائے ، رزق حلال کے لیے سرگرداں پختونوں کو شناختی کارڈ کے نام پر ان کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے ،جرائم پیشہ افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سہراب گوٹھ کے علاقے ایوب گوٹھ میں وارڈ کے کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی طور اپنی قومی اہداف سے رو گردانی نہیں کرے گی،اپنے اسلاف کے فکر و فلسفے اور افکار کی روشنی میں قومی تحریک کے قافلے کو منزل کی جانب رواں دواں رکھیں گے ،اسمبلیوں میں نمائندگی نہ ہونے کے باوجود پہلے بھی وقت کے فرعونوں کو لگام دی ہے اور آئندہ بھی دیں گے کارکنان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور صوبائی صدر کی ہدایات کا انتظار کریں ،آنے والا وقت باچا خان بابا کے پیروکاروں کا ہے ،اس موقع پر صوبائی کلچرل سیکریٹری نور اللہ اچکزئی ،صوبائی نائب صدر سائیں علاؤالدین آغا،ضلعی جنرل سیکریٹری زور طلب خان بونیری ،ضلعی قائم مقام صدر انور زیب اور وارڈ کے قائم مقام صدر علی بابانے بھی خطاب کیا ۔

کراچی۔01مارچ 2015( )
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ پولیس میں شامل چند کالی بھیڑیں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں ہم امن پسند لوگ ہیں ملکی آئین و قانون اور بین الاقوامی اصول کے تحت زندگی بسر کرنے کا حق دیا جائے پختونوں کوئی مفتوحہ قوم ہر گز نہیں ہیں،محنت مزدوری کرنے والوں کو چند پیسوں کے لیے گرفتار یوں کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے ،ہم لاوارث نہیں ہیں کہ جس جب جی چاہے جیسا چاہے سلوک کرے ، پر امن لوگ ہیں عاجزی و انکساری اور جمہوری انداز میں خبر دار کرتے ہیں ہمارے لوگوں کو بے جا تنگ نہ کیا جائے ،پختون تاجروں کو پیسہ بنانے کی مشین نہ سمجھا جائے ، رزق حلال کے لیے سرگرداں پختونوں کو شناختی کارڈ کے نام پر ان کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے ،جرائم پیشہ افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سہراب گوٹھ کے علاقے ایوب گوٹھ میں وارڈ کے کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی طور اپنی قومی اہداف سے رو گردانی نہیں کرے گی،اپنے اسلاف کے فکر و فلسفے اور افکار کی روشنی میں قومی تحریک کے قافلے کو منزل کی جانب رواں دواں رکھیں گے ،اسمبلیوں میں نمائندگی نہ ہونے کے باوجود پہلے بھی وقت کے فرعونوں کو لگام دی ہے اور آئندہ بھی دیں گے کارکنان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور صوبائی صدر کی ہدایات کا انتظار کریں ،آنے والا وقت باچا خان بابا کے پیروکاروں کا ہے ،اس موقع پر صوبائی کلچرل سیکریٹری نور اللہ اچکزئی ،ضلعی جنرل سیکریٹری زور طلب خان بونیری ،ضلعی قائم مقام صدر انور زیب اور وارڈ کے قائم مقام صدر علی بابانے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ یکم مارچ 2015بروز اتوار
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تا کہ ملک سے دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کر تے ہوئے کیا ، اس موقع پر اے این پی سیالکوٹ کے صدر میر عالم اے این پی پنجاب کے صدر منظور اور جنرل سیکرٹری جہانگیر سمیت مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر بھی موجود تھیں ،جبکہ بارش کے باوجود کارکنوں نے کثیر تعداد میں کنونشن میں شرکت کی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہئے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق آپریشن ہوا چاہئے اانہوں نے ایک بار اپنا مؤقف دہرایا کہ دہشت گردوں کے اصل استاد پنجاب میں ہیں جو وردیاں بدل بدل کر سیکورٹی فورسز اور عوام پر حملے کر رہے ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور اس ناسور کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے اتفاق اور اتحاد کی فضا بن رہی ہے جسے ہر صورت برقرار رکھنا چاہییانہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ہماری اپنی جنگ ہے اوریہ پاکستان کی بقاکی جنگ ہے اس لئے تمام پارٹیوں اورحکومت کو باہمی اتحاد واتفاق کا مظاہر ہ کرناہوگا انہوں نے کہاکہ اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامناہے اگر ہمارے بزرگوں کی بات مان لی جاتی تو اس قدر بھاری قیمت ادا نہ کرناپڑتی،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ادھر ادھر کی باتیں چھوڑ کر دہشت گردی کے خلاف ایک نکتے پر متفق ہو نا پڑے گا کیونکہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ، اور اس ناسور کے خاتمے کیلئے ایکشن کا وقت آ چکا ہے،نہوں نے کہا کہ دہشتگردی اب ایک بین الاقوامی ، ملکی اور علاقائی شکل اختیار کر چکی ہے لہٰذا ہمیں ریاستی طورپر دیگر ممالک بالخصوص افغانستان کیساتھ ایک صفحے پر ہو کر ایک فیصلہ کن جنگ لڑنی چاہیے تاکہ ہمارا معاشرہ اور آنے والی نسل دہشتگردی کے سنگین خطرات اور نقصانات سے بچ سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو نیشنل ایکشن پلان کے مطابق تمام وہ اقدامات اُٹھانے ہونگے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ ہ جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ اچھے اور برے دہشتگرد کا فرق دراصل دہشتگردی کو دوام بخشتی رہی ہے اور ملک مزید ایسی غیر منطقی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا ، انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پنجاب میں بسنے والے پختونوں کو تعلیم سمیت دیگر بیشتر مسائل اور شناختی کارڈز کی تجدید کے عمل میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے جو کسی صورت قابل برداشت نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ پختون پنجاب میں ایک عرصہ سے مقیم ہیں اور ان کے گھر بار جائیدادیں اور کاروبار وہاں پر ہیں جبکہ ایک کثیر زرمبادلہ بھی حکومت کو ادا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا بھائی ہونے کے ناطے ان تمام مسائل کے حل کیلئے فوری طور پر اقدامات کرے تا کہ وہاں بسنے والے پختونوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے،انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ اے این پی کے زیر اہتمام بلوچستان اور سندھ کی طرح پنجاب بھر میں بھی ورکرز کنونشن منعقد کئے جائیں گے اور باچا خان بابا کے فلسفے اور پیغام کو گھر گھر پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ آنے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے بھرپور تیاری کریں ۔

مورخہ : 01.03.2015 بروز اتوار
( پریس ریلیز )

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی خواتین رہنماؤں کا اجلاس باچا خان مرکز میں منعقد ہوا ۔ جس میں 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کو منانے کے حوالے سے اہم اُمور پر تفصیلی غورو حوض ہوا اور اس سلسلے میں اہم فیصلے کیے گئے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 8 مارچ کو اے این پی کے زیر اہتمامخواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا جائیگا جس میں تمام مکتبہ فکر کی خواتین سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی مدعو کیا جائیگا۔ اجلاس میں ستارہ ایاز ، شگفتہ ملک ، منور فرمان ، زبیدہ احسان ، جمیلہ گیلانی ، ڈاکٹر تسلیم اور پروین گل نے بھی شرکت کی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on March 9, 2015 at 10:41 am