Feb-2015

 

مورخہ 19 فروری 2015بروز جمعرات
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پاک چین راہداری منصوبے کی منظوری کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخصوص مفادات کے تحفظ کیلئے چھوٹے صوبوں کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی نے اس سلسلے میں اے پی سی طلب کی تھی اور اس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ گوادر کاشغر منصوبے کو اس کے اصل روٹ پر تعمیر کیا جائے اور اس منصوبے کا روٹ تبدیل کرنے کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت کی جائے گی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چھوٹے صوبوں کے مفادات کو روند کر ان کے احساس محرومی میں مزید اضافہ کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت کے اس جھوٹ کا بھی پول کھل کر سامنے آگیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گوادر کاشغر منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ، انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب کی ترقی سے نالاں نہیں تاہم اس کیلئے چھوٹے صوبوں کی قربانی دینا کسی صورت قبول نہیں ،انہوں نے کہا کہ پاک چین راہداری منصوبہ صرف روٹ نہیں بلکہ ایک پراجیکٹ ہے جس میں سڑک کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن ، انڈسٹریل زون، اور دیگر سہولیات شامل ہیں لہٰذا پراجیکٹ کو مکمل ختم کیا گیا ہے اور صرف سڑک صوبے کو دینا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں اس روٹ کے حوالے سے کیا جانے والا فیصلہ کسی صورت درست نہیں اور اے این پی حکومت کے اس آمرنہ فیصلے کے خلاف جلد اپنی حکمت عملی تیار کرے گی اور اس منصوبے کو اس کے اصل روٹ پر بحال کرایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی چینی سفیر سے اہم مسئلے پر بات چیت کر چکے ہیں تاہم اب چین کو بھی چاہئے کہ یہ منصوبہ دراصل چھوٹے صوبوں کی معیشت کی بہتری کیلئے ہے لہٰذا اس پر من وعن عمل ہونا چاہیئے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرکزی حکومت نے غلط بیانی سے کام لیا اور فنڈز ملنے کے بعد اب منصوبے سے ریلوے لائن ، انڈسٹریل زون اور دیگر پروجیکٹ پنجاب منتقل کر دئے گئے ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے مفادات اور حقوق غصب کئے گئے تو اس کے خوفناک نتائج برآمد ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوگی ، انہوں نے سقوط ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دراصل یہ المناک سانحہ حقوق غصب کرنے کی ہی وجہ سے وقوع پذیر ہوا تھا ، انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کئے جانے والے منصوبے کے حوالے سے فیصلے کو دراصل پنجاب اور چھوٹے صوبوں کے درمیان جنگ چھیڑنے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کو اصل میں جنوبی پنجاب سے بھی کوئی دلی لگاؤ نہیں ہے منصوبے کی تبدیلی جنوبی پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا معاشی قتل ہے جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے کے حوالے سے پورے پاکستان کے مفادات میں فیصلہ ہونا چاہیئے، میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور اپنے ذاتی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا تو ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے خلاف بننے والی یک جہتی کی فضا کو بھی نقصان کا خدشہ ہے ،انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم پاکستان نیشنل ایکشن پلان کو بھول چکے ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردوں نے پھر سے اپنی مذموم کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے لیکن حکومت کو اس میں ذرہ برابر بھی دلچسپی نہیں ہے ،جبکہ ایکشن پلان پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ، انہوں نے ایک بار پھر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ چھوٹے صوبوں اور جنوبی پنجاب کے خلاف سازش سے باز رہے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی اور پاک چین راہداری منصوبے کو اس کے اصل روٹ پر بحال نہ کیا تو اے این پی اس کے خلاف اپنی حکمت عملی تیا ر کرے گی اور اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

مورخہ : 23.2.2015 بروز پیر

تحریک انصاف اپنے دعوؤں اورپالیسوں سے ہر موقع پر یوٹرن لے رہی ہے، حیدر خان ہوتی

پشاور(پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ تحریک انصاف نے اپنے مشکوک افراد کو ’’ سیاسی نزلہ وزکام اوربخار‘‘ سے بچانے کے لئے سینٹ ٹکٹ سرمایہ داروں کو دیئے ہیں ہماری پارٹی سینٹ انتخابات میں صوبے کی سیاست کو بدنامی سے بچانے اورہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار لانے کے لئے تیارہے، بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف سے اتحاد ناممکن ہے ،پختوں کو دھوکہ دینے والوں کو نچلی سطح پر ناک آؤٹ کریں گے بلدیاتی امیدواروں کے چناؤ کے اختیارات پارٹی ورکروں کے پاس ہوں گے،انتخابات عدلیہ کے زیر نگرانی جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں اور ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال کے پیش نظر الیکشن کمیشن کو اقدامات اٹھانے چاہیں ،بلدیاتی میدان لگنے سے قبل سہ فریقی اتحاد کے پلیٹ فارم کو متحرک کیاجائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اے این پی ضلع مردان کے 75 یونین کونسلوں کے صدور اورجنرل سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اورجنرل سیکرٹری لطیف الرحمان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا رکن اسمبلی احمد بہادر خان اورمعروف خدائی خدمت گار ڈاکٹر محمد یوسف یوسفزئی کے علاوہ ملگری وکیلان،ملگری ڈاکٹران ،ملگری استاذان،ملگری تاجران ،ملگری بابوگان اورنیشنل یوتھ کے عہدیداربھی موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ تحریک انصاف اپنے دعوؤں اورپالیسوں سے ہر موقع پر یوٹرن لے رہی ہے کپتان صاحب کہتے رہے کہ اے این پی سرمایہ داروں کی پارٹی ہے اور ٹکٹ بھی پیسے والوں دے رہی ہے لیکن خودسینٹ انتخابات میں اپنے اصولوں کی نفی کرتے ہوئے عمران خان نے محسن عزیز اور لیاقت ترکئی جیسے لوگوں کو ٹکٹ فراہم کئے جن کا تحریک انصاف سے دور تک کا تعلق نہیں بلکہ خان صاحب نے ایسا کرکے اپنے ممبران اسمبلی کو سیاسی نزلے وزکام اوربخار سے بچانے کے لئے اقدامات کئے ہیں انہوں نے کہاکہ کپتان صاحب وضاحت کریں کہ تبدیلی اورمیرٹ کی دعویدار جماعت نے کیونکرخواتین کی نشست پرملک سعد شہید کی اہلیہ اوررابعہ بصری جیسی دیرینہ کارکنوں کو نظر انداز کرکے آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری کی اہلیہ کو ٹکٹ تمھا دیا ہے انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کرانے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکٹھایا جبکہ خیبرپختون خوا میں حکومت میں ہوتے ہوئے خود ہی اپنے اصولوں کی پائمالی کی اور ویلج کونسلوں کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ کیا انہوں نے کہاکہ سینٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے حکومت کی اتحادی جماعتیں چیخ چیخ کر رونا رورہی ہے جبکہ خود کپتان صاحب بھی کہہ رہے ہیں کہ منڈی میں سودے کا بھاؤ دوکڑور سے تجاوز کرگیاہے انہوں نے کہاکہ اے این پی ضمیر فروشوں کا راستہ روکنے اور صوبے کی سیاست کو بدنامی سے بچانے کے لئے حکومت اور اپوزیشن سے مل کر مشترکہ امیدوار لانے کے لئے تیار ہے تاہم انہوں نے کہاکہ بلدیاتی سطح پر پی ٹی آئی سے اتحاد ممکن نہیں بقول امیرحیدرخان ہوتی پی ٹی آئی نے تبدیلی ،میرٹ اور انصاف کے نام پر پختونوں کو دھوکہ دے کر مینڈیٹ چوری کیا ہے اوریہ مینڈیٹ نچلی سطح پر ان سے چھین کر دم لیں گے انہوں نے کہاکہ بلدیاتی امیدواروں کے چناؤ کے اختیارات مقامی عہدیداروں اورکارکنوں کے پاس ہیں وہ مضبوط امیدوار کے چناؤ کے لئے ضلعی کابینہ کے ساتھ مشاورت سے معاملات طے کریں انہوں نے کہاکہ سہ فریقی اتحاد کے پلیٹ فارم کو مضبوط کرکے مشترکہ انتخابات لڑنے کے لئے لائحہ عمل طے کیاجائے گادریں اثناء اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے بلدیاتی انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں جماعتی بنیادوں پر کرانے اور انتخابات کے پیش نظر ترقیاتی فنڈز روکنے اور پوسٹنگ ٹرانسفر پر پاپندی کا بھی مطالبہ کیاگیا ۔

مورخہ23فروری 2015ء بروز پیر

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی انتخابات ملتوی کر دیئے گئے
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی مرکزی کابینہ کیلئے انتخابات ملتوی کر دیئے گئے ، تفصیلات کے مطابق پختون سٹوڈنٹس فیدریشن کی مرکزی الیکشن کمیٹی اور مرکزی مجلس عاملہ کا ایک مشترکہ اجلاس زیر صدارت پختون ایس ایف کے صوبائی صدر اور قائمقام چیئرمین مرکزی الیکشن کمیٹی سردار فخر عالم منعقد ہوا ، جس میں آج ہونے والے پختون ایس ایف کے مرکزی الیکشن کا جائزہ لیا گیا تاہم پنجاب اور سندھ کے تنظیمی ڈھانچے نامکمل ہونے کے باعث الیکشن ملتوی کر دیئے گئے ۔ اس موقع پر سردار فخر عالم خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور پختون ایس ایف کے مرکزی ایڈوائزر اسفندیار ولی خان سے اپیل کی کہ سندھ اور پنجاب میں پختون ایس ایف کی تنظیم سازی مکمل کرنے کیلئے جلد از جلدمرکزی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی جائے ۔اور ان کی تشکیل کا عمل مکمل ہونے کے بعد مرکزی الیکشن کیلئے نئی تاریخ کا اعلان کیا جائیگا۔

مورخہ 23 فروری 2015ء بروز پیر

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے زیر اہتمام پشاور شہریوں کے باسیوں کی محکمہ نادرا کی طرف سے قومی شناختی کارڈ کی بے جا اور غیر ضروری بندش کیخلاف ضلعی صدر ملک غلام مصطفی کی قیادت میں احتجاجی جلوس لاہوری گیٹ سے نکالا گیا جو بلال ٹاؤن میں نادرا آفس کے سامنے اختتام پذیر ہوا‘ احتجاجی مظاہرے میں اے این پی کے صوبائی نائب صدر ہارون بلور‘ ضلعی صدر ملک غلام مصطفی‘ جنرل سیکرٹری سرتاج خان‘ سینئر نائب صدر نیاز محمد مومند‘ دیگر کابینہ اراکین اور وارڈز صدور و جنرل سیکرٹرز کے علاوہ پارٹی ورکروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی‘ احتجاجی مظاہرہ کے شرکاء نے کہا کہ ہم نادرا کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے تمام لوگ جن کو قومی شناختی کارڈ کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہے جو کئی مہینوں اور سالوں سے شناختی کارڈ کی بندش کا شکار ہے اور نادرا کے دفاتر کا چکر لگا لگا کر عاجز آ چکے ہیں لیکن نادرا کے عملے کا رویہ ان لوگوں کے ساتھ نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ ایسا ہے کہ یہ لوگ اس ملک (پاکستان) کے شہری ہی نہیں ہیں‘ ووٹر لسٹوں میں ان لوگوں کے نام موجود ہے یہ لوگ اپنا سابقہ شناختی کارڈ کے ثبوت نادرا کے عملے کو کئی بار فراہم کر چکے ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود انہیں شناختی کارڈ جاری نہیں کئے جا رہے ہیں جو سراسر زیادتی ہے‘ یہ لوگ غریب ضروری ہیں لیکن ایسے رویے کے حقدار نہیں ہیں جیسا ان لوگوں کے ساتھ نادرا والوں نے رواں رکھا ہوا ہے‘ عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور آج یہ مظاہرہ کر کے نادرا کے اعلیٰ حکام کو یہ یاد دہانی کروانا مناسب سمجھتی ہے کہ ایسے مجبور اور لاچار لوگوں کی مدد کرے تاکہ انصاف کے حوالے سے جو بلند و بانگ دعوے کئے جا رہے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی شناختی کارڈ کے حصول میں انصاف کے تقاضے پورے کرے اور نادرا دفاتر میں ایک خصوصی سیل بنا کر ان لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔

مورخہ 22 فروری 2015بروز اتوار

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے بلوچستان کے علاقے لورا لائی میں کوئلے کی کان میں دم گھٹنے سے جاں بحق ہونے والے شانگلہ کے مزدوروں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور غم کی اس گھڑی میں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں ، تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ریسیکیو کیلئے کی جانے والی کوششوں میں تاخیر کے باعث اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا جس کیلئے ذمہ داروں سے باز پرس ہونی چاہئے۔انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لوحقین کیلئے جلد از جلد معاوضوں کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔

مورخہ 22 فروری 2015بروز اتوار

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کی عائشہ حسن کو خیبر پختونخوا کی صوبائی کونسل کا ممبرنامزد کر دیا ہے،اور اس سلسلے میں باچا خان مرکز پشاور سے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

مورخہ : 21.2.2015 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن نے باچا خان مرکز پشاور میں عالمی مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری فخر الدین خان ، این وائی کی صوبائی نائب صدر پلوشہ بشیر مٹہ ،این وائی او ضلع پشاور اور سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدور عادل ماشوال اور سعید خان سمیت این وائی کے کئی کارکنوں نے شرکت کی۔

مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ مادری زبانوں سے متعلق ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کے تمام قدیم اور جدید دور کے ماہرین تعلیم ، دانشور ، فلاسفر اس بات پر متفق ہیں کہ معصوم بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا ضروری ہے۔ کیونکہ دُنیا بھر میں ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی اور سائنسی استعدادکا راز اسی حقیقت میں مضمر ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے دن کے طور پر منانا ایک اچھی روایت ہے تاہم اب اس سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے اور اسے ایک تحریک کی شکل دینا ضروری ہو چکا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں تک پشتو زبان کا تعلق ہے دُنیا بھر میں رہنے والے لاکھوں پختونوں اور پاکستان میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے۔ اُنہوں نے اس موقع پر یوتھ کو ہدایت کی کہ وہ پشتو لکھیں ، پشتو بولیں حتیٰ کہ خط و کتابت بھی پشتو میں کریں۔
این وائی او کے مرکزی جنرل سیکرٹری فخر الدین خان نے پشتو زبان کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو پشتو زبان سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور ہماری ترقی کا راز پشتو زبان میں جدید تعلیم میں مضمر ہے ہمیں باقی شعبوں کے ساتھ ساتھ پشتو زبان کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہیے اور این وائی او پشتو زبان کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

مورخہ :21.2.2015 بروز ہفتہ

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن خیبر پختونخوا کیلئے سنٹرل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔

پشاور ( پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان نے پختون ایس ایف کی پانچ رکنی سنٹرل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق سنٹرل کمیٹی میں وسیم خٹک ، فراد مہمند ، سردار خان ، کاشف میر اور ساجد علی شامل ہیں ۔ سنٹرل کمیٹی کے ممبران مرکزی ایڈوائزر اسفندیار ولی خان کی ہدایات کے مطابق 23 فروری کو باچا خان مرکز میں منعقد ہونے والے مرکزی الیکشن میں حصہ لینگے۔

مورخہ :20.2.2015 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ سینٹ انتخابات تبدیلی والوں کے لئے اصل امتحان ثابت ہوگاان کے36ممبران مشکو ک بتائے جارہے ہیں ،سینٹ سیٹ کے لئے لیاقت ترکئی کی اپنی بنائی ہوئی پارٹی کو چھوڑناعجیب وغریب سیاست ہے ،جماعت اسلامی کے مرکزی امیر کو معلوم ہوناچاہئے کہ ہمارے ممبران ضمیر اورپارٹی امیدوار کو ووٹ دیں گے اے این پی انتخابات ہارجائے گی لیکن سیاست جیت جائے گی ، تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والوں نے پختونوں کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے ،پختون قوم کی بقا سرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہونے میں ہے وہ یونین کونسل ڈاگئی میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں اقبال خان ،تیمورشاہ،اشفاق خان،عمرخان،خورشید خان ،عطاء اللہ اور محمد سید نے اپنی پارٹیوں سے مستعفی ہوکر سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا پارٹی کے صوبائی صدر نے انہیں سرخ پارٹی ٹوپیاں پہنائیں اورمبارک بادی اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ایڈوکیٹ اورجنرل سیکرٹری لطیف الرحمان نے بھی خطاب کیا رکن اسمبلی احمد بہادرخان ،این وائی او کے صدر حارث خان ،شاہ نوازخان ،عبدالعزیزخان اور کاشف مہمند سمیت پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ لیاقت ترکئی کہتے رہے کہ اے این پی نے صوابی کے لئے کچھ نہیں کیا اور جمہوری اتحاد کے نام سے پارٹی بناکر عوام کی خدمت کا دعویٰ کیا لیکن عوامی خدمت کے دعویدار نے سینٹ کی سیٹ کے لئے اپنی بنائی ہوئی پارٹی کو خیر باد کہا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ جماعت اسلامی کے امیر کو معلوم ہونا چاہے کہ ہم نے سینٹ انتخابات کے لئے جتنے بھی امیدوار اتارے ہیں ان سب کو پارٹی ووٹ ملے گا ہمارے ممبران ضمیر کا سودانہیں کریں گے اورپانچ کے پانچ ووٹ ہمارے ہر امیدوار کو ملیں گے ہم الیکشن ہارجائیں گے لیکن ہماری پارٹی سیاست جیت جائے گی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہمارے دور میں دوبار سینٹ کے انتخابات ہوئے لیکن ہمارے 63ممبران میں سے کسی نے بھی پارٹی کے خلاف ووٹ استعمال نہیں کیا جبکہ میڈیا رپورٹس آرہی ہیں کہ پی ٹی آئی کے 56ممبران میں سے عمران خان کو 36پر شک ہیں انہوں نے کہاکہ انتخابات کے لئے لگی منڈی میں سود ا روز بروز مہنگا ہوتاجارہاہے اور پیسوں کے بل بوتے پر ضمیر وں کے سودے شروع ہوگئے ہیں انہوں نے کہاکہ تبدیلی والے اس میدان میں عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے ا میرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ تبدیلی کے نام پر پختونوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اورپختون قوم تحریک انصاف کی جعلی تبدیلی سے خیبرپختون خوا کو آزاد کراکر دم لے گی انہوں نے کہاکہ کپتان وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اس چکر میں پختون خوا کے عوام کو بھول چکے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ہم نہ اسلام آباد اورہی لاہور کا اقتدارچاہتے ہیں ہمار ا مقصد پختون قوم کی خدمت ہے اوراس مقصد کے لئے چترال سے ڈیر ہ اسماعیل خان تک پختونوں کو سرخ تلے جھنڈے اکھٹا کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے دور میں لاکھوں متاثرین آئے لیکن حکومت نے عوام سے مل کر ان کو سنبھالا دیا جبکہ شمالی وزیرستان کے چند لاکھ متاثرین آئے تو عمران خان کنٹینر پر چڑھ گئے سیلاب آیا یہاں لوگوں کے جنازے اٹھ رہے تھے اورصوبے کے وزیراعلیٰ اسی رات کنٹینر پر ناچ رہے تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ ان پر سیاسی مخالفین الزامات لگاتے رہے کہ تمام صوبے کا فنڈ مردان کو منتقل کیا ہے لیکن انہوں نے کبھی کسی دوسرے ضلع کا حق نہیں چھینا بلکہ مردان کو اس کا حق دے کر 65سالہ محرومیوں کا ازالہ کیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مردان کو روشنیوں کا شہر بنادیاہے انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے جھوٹے دعویداروں کی یہ حالت ہے کہ مردان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر تعلیم نے گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک پرائمری سکول میں کمرہ تک تعمیر نہیں کیا ہم نے اقتدار کے پہلے سال مردان میں یونیورسٹی قائم کی اورعوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیاانہوں نے کہاکہ قیام پاکستان لے کر 2008تک خیبرپختون خوا میں صرف نو یونیورسٹیاں تھی اے این پی کے دور اقتدار کے پانچ سال میں ہم نے9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔

مورخہ :20.2.2015 بروز جمعہ

پشاور( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی اور سابق وفاقی وزیر نواب زادہ خواجہ محمد خان ہوتی کے درمیان راضی نامہ ہوگیا دونوں نے خاندانی رنجش کو بھلاکر ہوتی ہاؤس میں گلے لگادیئے اس سلسلے میں ذرائع نے دونوں بڑوں کے درمیان ملاقات کی تصدیق کردی خواجہ محمد خان ہوتی کا اے این پی کے ساتھ 2008 کے آواخر میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے بعد اس نے پارٹی سے راہیں الگ کرکے نہ صرف وفاقی وزارت سے مستعفی ہوگئے بلکہ پارٹی کی بنیادی رکنیت بھی چھوڑدی تھی اے این پی کے مرکزی کونسل کے رکن حاجی عطاء اللہ جو راضی نامے میں موجودتھے کاکہناتھاکہ یہ راضی نامہ دونوں بڑوں کے درمیان خاندانی رنجش کے خاتمے کے حوالے سے تھا خواجہ ہوتی کے اکلوتے صاحبزادے عمر فاروق ہوتی نے گذشتہ روز امیرحیدرخان ہوتی کے ساتھ ملاقات کی تھی جس کے بعد پختون روایات کو برقراررکھتے ہوئے وہ جمعہ کی شام نواب زادہ خواجہ محمد خان ہوتی کی رہائش گاہ گئے اوران سے ملاقات کرکے آپس کے تمام گلے شکوے دور کئے ذرائع کاکہناہے کہ دس ماہ سے دونوں خاندانوں کے درمیان راضی نامہ کے حوالے سے روابط جاری تھے جو آج دونوں بڑوں کے ایک دوسرے کو گلے لگانے پر منتج ہوگئے قبل ازیں نواب زادہ عمر فاروق ہوتی نے اپنی رہائش گاہ پر سابق وزیراعلیٰ کا استقبال کیا امیرحیدرخان ہوتی نے دوگھنٹوں سے زیادہ وقت ہوتی ہاؤس میں گزار اجہاں ان کی تواضع پرتکلف چائے سے کی گئی دریں اثناء امیرحیدرخان ہوتی اور نواب زادہ خواجہ محمد خان ہوتی کی ملاقات کی خبر پورے صوبے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی سیاسی حلقے دونوں بڑوں کے خاندانی رنجش کے خاتمے کو مستقبل کی سیاسی صف بندی میں اہم قراردیاجارہاہے خواجہ ہوتی کے ذرائع بھی راضی نامے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ امیرحیدرخان ہوتی رشتہ داری کے باعث خواجہ ہوتی کے چھوٹے ہیں اور پختون روایات کے مطابق چھوٹے بڑوں کے پاس عزت اوراحترام کے طورپر جاتے ہیں اے این پی کے ذرائع نے کہاکہ امیرحیدرخان ہوتی اورخواجہ ہوتی کے سیاسی نقطہ نظر الگ الگ ہیں تاہم آج کی ملاقات کا مقصد دونوں کے خاندانوں رنجشوں کے ختم کرنے کے حوالے سے تھی جو کامیاب رہی یادرہے کہ چند دن قبل سابق گورنر عبدالغفورخان ہوتی کے صاحبزادے اور خواجہ ہوتی کے چچازاد بھائی نواب زادہ اورنگ زیب ہوتی نے تحریک انصاف چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس کے بعد امیرحیدرہوتی او رخواجہ ہوتی کے اختلافات کے خاتمے کے لئے جاری کوششیں تیز تر ہوگئی اس راضی نامے کے بعد صوبے اور بالخصوص مردان کی سیاست میں درجہ حرارت بڑھ گئی ہے ۔

مورخہ :20.2.2015 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مادری زبان تہذیب و تمدن اورکلچر و ثقافت کا خزانہ ہے۔ اور مادری زبان کی بدولت ہی انسان کا اپنی ثقافت اور تہذیب و تمدن سے اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے۔مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ مادری زبانوں سے متعلق ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کے تمام قدیم اور جدید دور کے ماہرین تعلیم ، دانشور ، فلاسفر اس بات پر متفق ہیں کہ معصوم بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا ضروری ہے۔ کیونکہ دُنیا بھر میں ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی اور سائنسی استعدادکا راز اسی حقیقت میں مضمر ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے دن کے طور پر منانا ایک اچھی روایت ہے تاہم اب اس سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے اور اسے ایک تحریک کی شکل دینا ضروری ہو چکا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں تک پشتو زبان کا تعلق ہے دُنیا بھر میں رہنے والے لاکھوں پختونوں اور پاکستان میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے۔ جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی درجنوں نشریاتی اداروں سے اس زبان میں پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ اُنہوں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ہر دور حکومت میں اس ہزاروں سال پرانی زبان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا۔ البتہ اسی کی دہائی میں اُس وقت کی صوبائی حکومت نے پشتو کو پرائمری درجوں میں ذریعہ تعلیم قرار دیااور اُن علاقوں میں جہاں پشتو مادری زبان تھی ابتدائی جماعتوں کیلئے پشتو میں نصاب تیار کیا لیکن ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے حامل سکول منتظمین نے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ مادری زبانوں کی ترویج کیلئے ایک تحریک بنائی جائے اور اقوام متحدہ کے ذیلی امدادی ادارے مثلاً یونیسکو ، یونیسف وغیرہ متعلقہ حکومتوں کو مجبور کریں کہ مادری زبانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دی جائے۔ اُنہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اس تحریک کی سرگرمیاں تعلیمی اداروں تک پھیلائی جائیں اور ٹی وی و اخبارات کے اشتہارات میں مادری زبانوں کا مناسب کوٹہ دیا جائے۔

مورخہ 19 فروری 2015بروز جمعرات

عوامی نیشنل پارٹی کا صوبائی وزیر مشتاق غنی سے اظہار تعزیت
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی کے بھانجے سردار قیصر لطیف کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ اے این پی غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کیلئے بھی دعا کی۔

مورخہ 19 فروری 2015بروز جمعرات

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ضلع پشاور کے ارباب بختیار ، خان صاحب اور محمد صدیق کو صوبائی کونسل کے ارکان نامزد کر دیا ہے،

کراچی؍17 فروری 2015ء
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید کی لاہور پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ کے باہر ہونے والے خودکش بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد اپنی گھناؤنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،انتہاء پسندانہ سوچ کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو یک آواز ہونا پڑے گاباچا خان مرکز سے جاری کردہ مذمتی بیان میں دونوں رہنماؤں نے مذید کہا کہ اے این پی شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے ۔

مورخہ 16.2.2015 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی ترجمان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اے این پی ہریپور کے رہنما اختر حسین شاہ کے انتقال پرگہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اُن کی مغفرت کیلئے دُعا کی ہے اور اُن کے لواحقین کیساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ اے این پی ہریپور ایک دیرینہ کارکن سے محروم ہو گئی ہے۔ مرحوم اختر حسین شاہ کی پارٹی کیلئے خدمات مرتے دم تک یاد رکھی جائیں گی۔

مورخہ 16.2.2015 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ جنوبی اضلاع میں اے این پی ایک مضبوط قوت بن کر اُبھرے گی اور وہ دن دور نہیں جب صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کی دوبارہ حکومت ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار اُ نہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی جنوبی اضلاع کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک ، خورشید خان ، حُسینی صاحب ، مسرت شفیع اور خورشید بیگم بھی موجود تھیں۔ اجلاس میں جنوبی اضلاع کے صدور نے اپنے اپنے اضلاع کی کارگزاری رپورٹ پیش کی جبکہ تنظیمی اُمور اور موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کو تجاویز اور اضلاع کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا جس پر اُنہوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور تمام تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تنظیمی سرگرمیوں میں تیزی لائیں،جبکہ کارکنوں اور عوام سے رابطوں میں تیزی اور پارٹی کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی بھی ہدایت کی۔ امیر حیدر خان ہوتی نے تنظیمی عہدیداروں سے کہا کہ وہ بہت جلد جنوبی اضلاع کا تفصیلی دورہ کرینگے ۔ اُنہوں نے کہا کہ تنظیمیں باقاعدگی سے اجلاس کا انعقاد کریں اور تنظیمیں اور کارکن آپس میں رابطے اور مشاورت کا رشتہ مزید مضبوط بنائیں۔

کراچی ۔16فروری 2015

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری فاروق بنگش کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ،دکھ اور رنج کی اس گھڑی میں پوری پارٹی فاروق بنگش کے غم میں برابر کی شریک ہے ،باچا خان مرکز سے جاری کردہ تعزیتی بیان میں دونوں رہنماؤں نے مذید کہا کہ پوری پارٹی مرحومہ کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہے ۔

کراچی؍ 15 فروری 2015ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ مصلحتوں کا انبار شہر کی بد امنی کی بڑی وجہ ہے، شہرکو ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو قیام امن کے لیے مصلحتوں اور سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر سوچے ،ہزاروں انسانوں کے قتل کے باوجود آج تک نا قاتلوں کو سزا دینا تو درکنا کوئی ذمہ داران کے لیے لب کشائی کرنے کو تیار نہیں،سیاست میں مصلحت اور مفاہمت کوئی بری بات نہیں مگر انسانی جانوں پر مصلحت ظلم عظیم ہے ۔گزشتہ چند برس میں دس ہزار زائد شہری بد امنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں،صرف الزامات بد امنی کی بیماری کی دوا نہیں ہے، نشتر پارک،بارہ مئی،بولٹن مارکیٹ،عاشورہ،عباس ٹاؤن ،طاہر پلازہ ،محبت سندھ ریلی اور بلدیہ ٹاؤن جیسے سانحات کے ذمہ داران کے ذمہ داران کو منظر عام پر لانا ریاستی داروں کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہے ،ان خیالات کا اظہارا نہوں نے مردان ہاؤس میں مختلف پارٹی وفود سے ملاقات کے دوران کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ صرف اجلاسوں میں شرکت کرنے سے کراچی کا مسئلہ حل نہیں ہوگافیصلے ہوچکے ہیں اب عمل کا وقت ہے،اگر وزیر اعظم سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا تہیہ کرلیں تو ڈھائی سو زائد انسانوں کو زندہ جلانے والوں کوکیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے ،انہوں نے مذید کہا کہ قانون نافذ کرنے والوں اداروں اور ارباب اختیار سے پوچھنا ہوگا کہ کیوں نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ؟پے درپے دہشت گردی کے واقعات کے باوجود کیوں سبق حاصل نہیں کیا جارہا ہے ،صوبائی حکومت کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔

کراچی؍ 13 فروری 2015ء

 عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے امام بارگاہ مسجد،حیات آباد،پشاور میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر قوم میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے،مذہبی انتہاء پسندی ملکی سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرہ ہے ،مٹھی بھر دہشت گرد فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو سبو تاژ کرنا چاہتے ہیں،دہشت گردی چاہے کسی بھی شکل میں ہو اس کی بھر مذمت کرتے ہیں، اداروں اور ارباب اختیار کو اعلانات سے زیادہ اقدامات پر دھیان دینا ہوگا، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے بھرپور اقدامات کرنا ہونگے۔ انہوں نے مذید کہا کہ قوم حالت جنگ میں ہے دہشتگردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے باہم اتحاد و اتفاق کا مظاہر ہ کرنا ہوگا۔سینیٹر شاہی سید نے مطالبہ کیا کہ معصوم شہریوں کو خاک و خون میں نہلانے والے درندہ صفت دہشتگردوں کی گرفتار کرکے عبرتناک سزا دی جائے انہوں نے دھماکہ میں جاں بحق ہونے والوں کی درجات کی بلندی اور زخمیوں کے جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔

مورخہ15فروری2015ء
ملک میں جاری خونریزی اور تباہی مقتدر قوتوں کی غلط پالیوسیوں کا شاخسانہ ہے ،سنگین خان ایڈوکیٹ
پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ غیر مقتدر قوتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک اور باالخصوص فاٹا اور پختونخوا بارود کے ڈیر بن چکاہے،اور عوام کے جان و مال کہیں بھی محفوظ نہیں ، پشاور میں امامیہ مسجد اور آرمی پبلک سکول سانحات اور پچھلی دہائی سے جاری خونریزی انہی غیر دانشمندانہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، جنرل مشرف کی برطانوی اخبار گارڈین کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کے اپنے دور حکومت میں طالبان اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی ریاستی سرپرستی کے اعتراف پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ ملک کی حکومت اور مقتدر حلقوں کو ایسی پالیسیوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کی اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے خطرات سے بھی آگاہ کرتے رہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی کی اس عوام دوست اور وطن دوست آواز کو نہ صرف قومی بیانئے سے بلیک آؤٹ کرنے کی بھرپور کوشش ہوتی رہی یہاں تک کہ انہی قوتوں کے ماؤتھ پیس نے عوامی نیشنل پارٹی پر غداری کے الزامات لگائے اور ہمارے رہنماؤں کی کردار کشی سے بھی نہیں ہچکچائے آج افسوس کا مقام ہے کہ مشرف جیسے لوگ اپنے ان کرتوتوں کا برملا اعتراف تو کر رہے ہین لیکن ان کی غیر منطقی اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کے نتیجے میں آنے والی تباہیوں ہزاروں بے گناہ پختونوں اور پاکستانیوں کے ناجائز قتل عام فاٹا اور پختونخوا میں سیاسی معاشی ثقافتی تباہی پر ان کا ضمیر نہیں جاگا انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم اور ریاستی ادارے اے این پی کے ویژن کے مطابق نیشنل ایکشن پلان مرتب کر چکی ہے جس کو بھرپور عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہے لہٰذا ملک کے اداروں اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کو اس پر وقت ضائع کئے بغیر عمل کرنا چاہیئے تا کہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔

مورخہ15فروری2015ء
ملک میں جاری خونریزی اور تباہی مقتدر قوتوں کی غلط پالیوسیوں کا شاخسانہ ہے ،سنگین خان ایڈوکیٹ
پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ غیر مقتدر قوتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک اور باالخصوص فاٹا اور پختونخوا بارود کے ڈیر بن چکاہے،اور عوام کے جان و مال کہیں بھی محفوظ نہیں ، پشاور میں امامیہ مسجد اور آرمی پبلک سکول سانحات اور پچھلی دہائی سے جاری خونریزی انہی غیر دانشمندانہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، جنرل مشرف کی برطانوی اخبار گارڈین کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کے اپنے دور حکومت میں طالبان اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی ریاستی سرپرستی کے اعتراف پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ ملک کی حکومت اور مقتدر حلقوں کو ایسی پالیسیوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کی اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے خطرات سے بھی آگاہ کرتے رہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی کی اس عوام دوست اور وطن دوست آواز کو نہ صرف قومی بیانئے سے بلیک آؤٹ کرنے کی بھرپور کوشش ہوتی رہی یہاں تک کہ انہی قوتوں کے ماؤتھ پیس نے عوامی نیشنل پارٹی پر غداری کے الزامات لگائے اور ہمارے رہنماؤں کی کردار کشی سے بھی نہیں ہچکچائے آج افسوس کا مقام ہے کہ مشرف جیسے لوگ اپنے ان کرتوتوں کا برملا اعتراف تو کر رہے ہین لیکن ان کی غیر منطقی اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کے نتیجے میں آنے والی تباہیوں ہزاروں بے گناہ پختونوں اور پاکستانیوں کے ناجائز قتل عام فاٹا اور پختونخوا میں سیاسی معاشی ثقافتی تباہی پر ان کا ضمیر نہیں جاگا انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم اور ریاستی ادارے اے این پی کے ویژن کے مطابق نیشنل ایکشن پلان مرتب کر چکی ہے جس کو بھرپور عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہے لہٰذا ملک کے اداروں اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کو اس پر وقت ضائع کئے بغیر عمل کرنا چاہیئے تا کہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔

مورخہ15فروری2015ء
امامیہ مسجد کا سانحہ حکومت اور ریاستی اداروں کی شدید ناکامی ہے۔خوشحال خٹک
پشاور ( پ ر)نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خٹک نے حیات آباد پشاور میں بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد پشاور شہر کو ایک بار پھر خون سے نہلایا گیا جو حکومت اور ریاستی اداروں کی شدید ناکامی کی غماز ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پشاور سانحے کے بعد ریاستی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر فوری عمل اور اقدامات اس قسم کے سانحات سے بچنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک وہ احساس ذمہ داری اور جذبہ عمل حکومتی سطح پر نظر نہیں آرہا جو پشاور سانحے کے بعدواضح نظر آنا چاہیے تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ شکارپور کے بعد پشاور کا سانحہ ایک ہی پلان اور سوچ کی غماز ہے اور اس طرح کا پیٹرن ریاست اور حکومت دونوں پر سوالیہ نشان لگاتی ہے کیونکہ ملک میں کسی بھی ایک مسلک اور مذہبی فرقہ کے پیروکاروں کا مسلسل دہشتگردی کا نشانہ بننا اور حکومت اور ریاستی اداروں کا عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کافی تشویشناک ہے۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن مرکزی اور صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ نیشل ایکشن پلان کے عین مطابق تمام فرقہ وارانہ عسکری تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائی کر کے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس غم کے موقع پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن تمام غمزدہ خاندانوں کے درد میں برابر کے شریک ہیں اور ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن اپنے قائد محترم اسفندیار ولی خان کی ہدایت کے مطابق اتحاد علماء کونسل کی اعلان کردہ تین روزہ سوگ میں برابر کی شریک رہے گی۔

مورخہ 15 فروری 2015بروز اتوار

عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا تھا۔یہ بات اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سر دار حسین بابک نے موضع طوہ آمازی میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ اے این پی عوامی پارٹی ہونے کے ناطے نہ صرف عوامی مسائل سے اگاہ ہے بلکہ مسائل کے حل کے لئے منصوبہ بندی اور عوام دوست پالیساں رکھتی ہے۔اس مو قع پر گاؤں کے سر کر دہ خاندانوں کا جھانزیب کاکا،شمشو کاکا ،عمر خان اور افسر خان کی سر براہی میں پورے گاؤں نے مسلم لیگ ن ،قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ شمولیتی تقریب سے نور زادہ، فرید الحق ،بختی زادہ اور طوطا خان نے بھی خطاب کیا۔سر دار بابک نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے آنے کے بعد دہشت گر دی کے خاتمے کی آمید پیدا ہو گئی ہے اور ساری قوم کی نظریں دہشت گر دی کے خاتمے پر مر کوز ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گر دی نے ملک اورخصوصاٌ صوبے کو تباہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی روایت انتہائی خطر ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست سے پیسے کا عمل دخل ختم کر نا سب کی ذمہ داری ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کر نی چاہیئے۔پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ عوام مر کزی اور صوبائی حکومتوں سے بیزار ہوچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی نظریں اور توقعات اے این پی سے وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پختون دہشت گر دی کے خلاف بے پناہ قر بانیاں دے کر پاکستان کی سالیمت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔لہذا حکومت پاکستان ،صوبائی حکومتیں اور حکومت آزاد کشمیر کو پختونوں کو تخفظ دینے کے لئے عملی اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان دہشت گر دی کے خلاف لڑنیوالی جنگ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر یں اور تمام حکومتیں غیر ضروری سر گر میوں میں وقت ضائع کئے بغیر دہشت گر دی سے نمٹنے کے لئے چوکس ہو جائیں ورنہ آیندہ نسلیں انہیں معاف نہیں کر یں گی۔اس مو قع پر اے این پی کے سر کر دہ راہنماؤں کے علاوہ عمائدین علاقہ اور کارکنوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

مورخہ : 14.2.2015 بروز ہفتہ

پریس ریلیز
نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل نہ صرف حکومتوں کی ترجیح ہونی چاہیے بلکہ ایسا نظر بھی آنا چاہیے ’’ میاں افتخار حسین ‘‘

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے امامیہ مسجد حیات آباد کا دورہ کیا اور بم دھماکوں کے متاثرین کیلئے ریسکیو انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس دلخراش واقعے پر شدید غم اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اُنہوں نے اہل تشیع برادری کیساتھ دلی ہمدردی اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پشاور آرمی پبلک سکول سانحے کے بعد پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہوئی ، تمام سیاسی جماعتوں حکومتوں اور ریاستی اداروں نے نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا ایک واضح ارادہ ظاہر کیا نتیجتاً دہشتگردوں کو احساس ہوا کہ ریاست اور پوری قوم اُنہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا ارادہ کر چکی ہے اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دہشتگرد ایک سٹریجٹی کے طور پر جارحانہ دفاع کی شکل میں حملے کر رہے ہیں اور شکار پور اور پشاورکے سانحے سے ایسا نظر آرہا ہے کہ دہشتگرد فرقہ ورانہ نفرت اور تشدد کے ذریعے عوامی یکجہتی اور اتفاق کو خراب کرنے کے درپے ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کوسمجھنا چاہیے کہ دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ ہے اورد ہشتگردی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عوامی اعتماد اس جنگ کا لازمی اور پہلا جز ہے جسے ہر صورت بحال رکھنا تمام ریاستی اداروں اور باالخصوص مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی فریضہ اولین ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ چند ہفتے گزر جانے کے بعد دہشتگردی کے واقعات کو روکنے میں ناکامی اور حکومتی غفلت نیشنل ایکشن پلان پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہی ہے جو تشویشناک ہے۔ آرمی پبلک سکول کے متاثرین حکومتی اقدامات سے مایوس ہے کیونکہ نہ تو اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے وعدے کو پورا کیا گیا اور نہ ہی عوام اور باالخصوص متاثرہ خاندانوں کو اس بارے کی گئی انکوائریز اور سامنے آنے والے حقائق سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ جن زخمی بچوں کو علاج کیلئے آغا خان ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا وہ بھی التواء کا شکار ہے اور حکومت فنڈز کے بندوبست میں سرخ فیتے والا چکر چلا رہی ہے جو قابل افسوس ہے کیونکہ ان معصوم زخمی بچوں کا ایمرجنسی کی بنیاد پر صحیح علاج حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس بارے میں فنڈز کے انتظامات کے حیلے بہانے مضحکہ خیز ہے۔یہ سارے عوامل عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے لہٰذا حکومتوں کو احساس ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت سینیٹ کے الیکشن کی تیاریوں میں ضرورت سے زیادہ مصروف نظر آرہی ہے جو اچھا تاثر قائم نہیں کر رہی اور شاید دہشتگردوں کو احساس ہو رہا ہے کہ حکومت کی توجہ کسی اور طرف ہو رہی ہے تو موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کیوں نہ دہشتگردی کے خلاف قائم سیاسی فضا اور عوامی اعتماد کو کچل ڈالیں۔ اس وقت میں حکومتیں روزمرہ کے اُمور اور مسائل اپنی جگہ ڈیل کر رہے ہوں گے لیکن دہشتگردی کے خلاف جنگ اور نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نہ صرف اولین ترجیح ہونی چاہیے بلکہ ایسا نظر بھی آنا چاہیے۔ موجودہ مخدوش حالات میں ہر وقت لیکن بالخصوص جمعے کے دن تمام مساجد اور امام بارگاہوں کو ایک جامع سیکیورٹی پلان کے تحت حفاظت فراہم کرنی چاہیے تاکہ اس قسم کے سانحات کی روک تھام ہو سکے کیونکہ آرمی پبلک سکول کی طرح مسجد امامیہ حیات آباد کا سانحہ بھی سیکیورٹی لیپس کا نتیجہ ہے کیونکہ یہاں صاف نظر آرہا ہے کہ اس حملے میں مسجد کے قریب زیر تعمیر بلڈنگ کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ مسجد یا امام بارگاہ کے دروازے پر دو پولیس اہلکار تعینات کرنا کافی نہیں ہوتا اور صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو اس بارے میں جامع سیکیورٹی پلانزاور مناسب انتظامات ترتیب دینے چاہئیں تاکہ لوگوں کی زندگی محفوظ ہو سکے۔

مورخہ 14.2.2015 بروز ہفتہ
پریس ریلیز

پشاور ( پ ر) سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی تیاریاں صوبے میں سیاسی ساکھ کے نقصان کا باعث بنے گی۔ یہ بات عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے گاؤں مغدرہ اور نوگرام میں شمولیتی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے سرکردہ خاندانوں کے محمد طاہر شاہ ، زرد علی ، محمد سعید ، قمرزیب ، ذرغون شاہ ، دولت سید اور گل خان کی سربراہی میں خاندانوں اور ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں جس طرح ہارس ٹریڈنگ کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں تمام سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ خریدوفروخت کے اس کاروبار کی سختی سے حوصلہ شکنی کریں اور سیاست کو کاروبار بنانے سے بچائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اپنی تاریخی سیاسی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہر ممکن کوشش کرے گی کہ سیاست میں پیسے کے اثر کو بیدخل کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیاست اور سیاسی جماعتوں کو بدنامی سے بچائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کی روایات آنے سے سیاسی ورکروں پر سیاست کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ماضی سے سبق سیکھ لینا چاہیے۔سیاسی جماعتیں سیاسی نظام کو مستحکم بنانے کیلئے سیاسی فیصلے کریں۔اس موقع پر اے این پی کے ضلعی صدر محمد کریم بابک ، اے این پی کے سابق اُمیدوار قومی اسمبلی حاجی رؤف خان اور ضلعی سینئر نائب صدر رحیم زادہ بونیری نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ : 14.2.2015 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر)نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خٹک نے حیات آباد پشاور میں بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد پشاور شہر کو ایک بار پھر خون سے نہلایا گیا جو حکومت اور ریاستی اداروں کی شدید ناکامی کی غماز ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پشاور سانحے کے بعد ریاستی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر فوری عمل اور اقدامات اس قسم کے سانحات سے بچنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک وہ احساس ذمہ داری اور جذبہ عمل حکومتی سطح پر نظر نہیں آرہا جو پشاور سانحے کے بعدواضح نظر آنا چاہیے تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ شکارپور کے بعد پشاور کا سانحہ ایک ہی پلان اور سوچ کی غماز ہے اور اس طرح کا پیٹرن ریاست اور حکومت دونوں پر سوالیہ نشان لگاتی ہے کیونکہ ملک میں کسی بھی ایک مسلک اور مذہبی فرقہ کے پیروکاروں کا مسلسل دہشتگردی کا نشانہ بننا اور حکومت اور ریاستی اداروں کا عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کافی تشویشناک ہے۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن مرکزی اور صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ نیشل ایکشن پلان کے عین مطابق تمام فرقہ وارانہ عسکری تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائی کر کے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس غم کے موقع پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن تمام غمزدہ خاندانوں کے درد میں برابر کے شریک ہیں اور ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن اپنے قائد محترم اسفندیار ولی خان کی ہدایت کے مطابق اتحاد علماء کونسل کی اعلان کردہ تین روزہ سوگ میں برابر کی شریک رہے گی۔

مورخہ 13.2.2015 بروز جمعہ
پریس ریلیز

پشاور ( پ ر) سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی تیاریاں صوبے میں سیاسی ساکھ کے نقصان کا باعث بنے گی۔ یہ بات عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے گاؤں مغدرہ اور نوگرام میں شمولیتی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے سرکردہ خاندانوں کے محمد طاہر شاہ ، زرد علی ، محمد سعید ، قمرزیب ، ذرغون شاہ ، دولت سید اور گل خان کی سربراہی میں خاندانوں اور ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں جس طرح ہارس ٹریڈنگ کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں تمام سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ خریدوفروخت کے اس کاروبار کی سختی سے حوصلہ شکنی کریں اور سیاست کو کاروبار بنانے سے بچائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اپنی تاریخی سیاسی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہر ممکن کوشش کرے گی کہ سیاست میں پیسے کے اثر کو بیدخل کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیاست اور سیاسی جماعتوں کو بدنامی سے بچائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کی روایات آنے سے سیاسی ورکروں پر سیاست کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ماضی سے سبق سیکھ لینا چاہیے۔سیاسی جماعتیں سیاسی نظام کو مستحکم بنانے کیلئے سیاسی فیصلے کریں۔اس موقع پر اے این پی کے ضلعی صدر محمد کریم بابک ، اے این پی کے سابق اُمیدوار قومی اسمبلی حاجی رؤف خان اور ضلعی سینئر نائب صدر رحیم زادہ بونیری نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ : 13.2.2015 بروز جمعہ

پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ سینٹ انتخابات کے لئے اپوزیشن اتحادبنانے کے لئے کوشاں ہے تاکہ مشترکہ امیدوار سامنے لائے جاسکیں’’منڈیوں‘‘ میں تبدیلی والے بے نقاب ہوجائیں گے، کپتان دوکروڑ کی بولی کی بات کرتے ہیں تو جن ممبران پر شک ہے اس کی فہرست بھی جاری کیاجائے’’ بولی‘‘ میں اے این پی کے تمام ممبران صاف ستھرے نکلیں گے وہ میروس کلے میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے ضلعی سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،افتخار خان ،عبدالصمد میروس اوردیگر نے بھی خطاب کیا اجتماع میں راویل بابو،مہران خان ،ملک اعظم اورملک نعیم نے اپنے خاندانوں اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی اورپیپلزپارٹی سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے نئے شامل ہونے والوں کوسرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارک باد دیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ان کے دور حکومت میں سینٹ کے دوبار انتخابات ہوئے لیکن ہمارے ممبران کے حوصلے اورایمان مضبوط تھے ہمارے غریب رکن اسمبلی کو کسی نے کروڑوں میں نہیں خریدا اب کے بار منڈیاں لگ گئی ہیں تو عمران خان خود کہتے پھررہے ہیں کہ بولی دوکروڑ لگی ہیں انہوں نے کہاکہ کپتان اپنی بات کی وضاحت کریں اوران ممبران کی فہرست کو جاری کیاجائے جو ضمیر کے سودا کے لئے رابطوں میں ہیں انہوں نے کہاکہ خیبرپختون خوااسمبلی میں اے این پی کے پانچ ممبران ہیں اورانشاء اللہ پانچوں کے پانچوں انتخابات میں صاف ستھرے نکلیں گے البتہ تبدیلی والے بے نقاب ہوجائیں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے لئے کوششیں شروع کردی گئی ہیں تاکہ مشترکہ امیدواروں کو میدان میں اتار جاسکے انہوں نے کہاکہ میرٹ کی دعویدار صوبائی حکومت کے اراکین خود اسمبلی میں چیخ رہے ہیں کہ جیل خانہ جات میں سات سو نوکریاں فروخت ہوئی ہیں اور محکمہ صحت میں نوکریوں کے عوض پیسے لئے گئے ہیں حکومت کو اس تمام صورتحال کی وضاحت کرنی چاہئے انہوں نے کہاکہ ڈیڑھ سال میں حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اراکین پٹواریوں کی جیبیں ٹٹول رہے ہیں اور منصوبوں کی تکمیل کے سرٹیفیکٹوں کی قیمت وصول کی جارہی ہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر پختونوں کو دھوکہ دیاگیاہے اوران کے مینڈیٹ کو چوری کرلیاگیاہے انہوں نے کہاکہ عوام نے جھوٹے دعویداروں کی تبدیلی دیکھ لی ہے جس دن پختونوں پر آزمائش آئی تو عمران خان کنٹینر پر چڑھ گئے انہوں نے کہاکہ اگر کنٹینروں پر انقلاب آتا تو کراچی میں کب کا انقلاب برپا ہوتا جہاں کب سے ہزاروں کنٹینر کھڑے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ جس رات طوفانی بارشوں نے پشاور میں تباہی مچائی تو صوبے کے وزیراعلیٰ کنٹینر پر ناچ رہے تھے اورمتاثرہ خاندانوں کی خبر گیری تک نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری بہادر پولیس فورس اورعوام نے بیش بہاقربانیاں پیش کیں ہم نے اپنے دور میں وطن پر جان نچھاور کرنے والوں کے جنازوں کو کندھا دیا جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ کسی شہید کے جنازے میں گئے اورنہ ہی ان کے خاندانوں کو حوصلہ دیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ جن لوگوں نے پختون نوجوانوں کو گمراہ کیا لیکن اس بار بکسے رکھے گئے تو پختون قوم بنی گالہ سے اختیارات واپس لاکر دم لیں گے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ہم نہ اسلام آباد اورہی لاہور کا اقتدارچاہتے ہیں ہمار ا مقصد پختون قوم کی خدمت ہے اوراس مقصد کے لئے چترال سے ڈیر ہ اسماعیل خان تک پختونوں کو سرخ تلے جھنڈے اکھٹا کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ ان پر سیاسی مخالفین الزامات لگاتے رہے کہ تمام صوبے کا فنڈ مردان کو منتقل کیا ہے لیکن انہوں نے کبھی کسی دوسرے ضلع کا حق نہیں چھینا بلکہ مردان کو اس کا حق دے کر 65سالہ محرومیوں کا ازالہ کیاہے اگر یہ گناہ ہے تو وزیراعلیٰ بن کر یہ گناہ آئندہ بھی کرتارہوں گا انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے جھوٹے دعویداروں کی یہ حالت ہے کہ اس حلقے کے منتخب رکن جو صوبائی وزیر تعلیم بھی ہیں لیکن گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک پرائمری سکول میں کمرہ تک تعمیر نہیں کیا ہم نے اقتدار کے پہلے سال مردان میں یونیورسٹی قائم کی اورعوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان لے کر 2008تک خیبرپختون خوا میں صرف نو یونیورسٹیاں تھی اے این پی کے دور اقتدار کے پانچ سال میں ہم نے9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔

مورخہ 13.2.2015 بروز جمعہ

پریس ریلیز

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک نے آنے والے سینیٹ کے الیکشن کیلئے صوبائی الیکشن کے دفتر میں ٹیکنو کریٹ کی سیٹ کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے۔ یاد رہے کہ سینیٹر افراسیاب خٹک نے بحیثیت سینیٹر اٹھارویں ترمیم اکیسویں آئینی ترمیم ایکشن پلان کیلئے تجویز کردہ بیس نقاط اہم قانون سازی اورپارلیمنٹ کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ ملک میں جمہوریت کی بالا دستی اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور اُنہیں قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کی سنجیدہ سیاسی قیادت افراسیاب خٹک کی ایوان بالا میں موجودگی کو اہمیت دیتی ہے۔

پختون ایف ایس اس سال انٹر نیشنل ویلنٹائن ڈے شہدائے آرمی پبلک سکول کے یادگار پر منائے گی
مقرب خان بونیری
پختون ایس ایف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات مقرب خان بونیری نے واضح کیا ہے کہ پختون ولی کے دائرہ میں ویلنٹائن ڈے کو منانے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال ویلنٹائن ڈے شہدائے APS کے نام کر دیا ہے۔
اس سلسلہ میں PSF کی طرف سے 14فروری کو دن 12بجے شہداء آرمی پبلک سکول کے یادگارپر حاضری دیں گے ۔ اُن کی یادگار پر پھولوں کے گلدستے پیش کریں گے اور اس موقع پر شہدائے وطن کے یاد اور انسانیت کے احترام میں شمعیں روشن کریں گے۔ تا کہ اس دن پر انٹرنیشنل کمیونٹی کے ساتھ پیار و محبت کے پیغام میں شریک ہو کر فخر افغان باچا خان کے فلسفۂ عدم تشدد کا پیغام دیا جاسکے۔
مقرب خان بونیری نے کہا کہ گذشتہ سال 14فروری کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر PSF کے زیرِ اہتمام منعقدہ پُر امن تقریبات پر مذہبی انتہا پسندتنظیموں نے پشاور یونیورسٹی میں پُر تشدد حملہ کیا تھا ، جس پر گزشتہ سال یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں مذہبی انتہا پسندی کو مسترد کرکے ہر سال ویلنٹائن ڈے منانے کی روایت برقرار رکھی جائے گی۔ تا کہ پیار و محبت اور عدم تشدد کا پیغا م دیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں صوبائی صدر سردار فخر عالم نے پختونخوا کے تمام یونیورسٹیز میں تنظیموں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ شہدائے وطن کے یاد میں پرُامن تقریبات کا انعقاد کریں۔

مورخہ13فروری2015بروز جمعہ
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان ، صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے حیات آباد پشاور میں مسجد پر بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس واقعے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے مذمتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ نہتے عوام اور خصوصاًً نمازیوں پر حملے بزدلانہ اقدام اور یزیدیت کی انتہا ہے، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اے پی ایس کے اندہناک واقعے کے بعد صوبائی حکومت کو سیکورٹی فول پروف بنانی چاہئے تھی لیکن حکمرانوں نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے دہشت گردی کے خلاف عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا ، انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنا انسانیت سوز فعل ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے،اسفندیار ولی خان نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ زخمیوں کی ضروریات کا خیال رکھیں اور جہاں بھی خون کی ضرورت ہو انہیں فوری طور پر خان کے عطیات دیئے جائیں۔

مورخہ : 11.2.2015 بروز بدھ

پشاور ( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے پاکستان میں چین کے سفیر کو خط لکھا ہے اور اُن سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملاقات خواہش کا اظہار کیا ہے۔سینیٹر حاجی محمد عدیل نے خط میں چین کے تعاون سے تعمیر کی جانے والی پنجاب تا گوادرشاہراہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مذکورہ شاہراہ ہماری معاشی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس شاہراہ کے روٹ کے حوالے سے جو بے چینی صوبہ خیبر پختونخوا ، فاٹا ، بلوچستان اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں پیدا ہوئی ہے اُس پربھی بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اس شاہراہ کی تعمیر سے پاکستان اور چین کے درمیان برادرانہ تعلقات پر بھی اچھے اثرات مرتب ہونگے تاہم سینیٹر حاجی محمد عدیل نے خط میں بھی اس بات کا ذکر کیا کہ اس شاہراہ کے روٹ میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے اور ملک کے پسماندہ علاقوں سے اس کو گزارا جائے۔

ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شاہ کلام محسود ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے انصاف کے منتظر ہیں۔
کراچی ۔10 فروری 2015ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان نے کہا ہے کہ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن اے این پی کی سیاسی نرسری ہے، حالات و واقعات کی روشنی میں پختون ایس ایف کی سیاسی رہنمائی جاری رکھیں گے ،اس وقت پارٹی کی مرکزی قیادت سے لیکر تما م چوٹی کی قیادت پختون ایس ایف سے فارغ التحصیل ہے،پختون ایس ایف کی لیڈر شپ نے ہی مستقبل کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے ،ہم ملک کی واحد سیاسی قوت ہیں جو فیصلہ سازی میں طلباء قیادت کو بھی شریک کرتے ہیں،بحیثیت قوم ہمیں شہر میں لاتعداد مسائل کا سامنا ہے ،مختلف ادوار میں مختلف اشکال میں ہماری جانی اور معاشی قتل عام جاری ہے،اپنی سیاست سے باخبر نوجوان ہی قومی تحریک کو آگے لیکر جاسکتا ہے،دو ر حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھنے والا نوجوان قوم کو مشکلات کے بھنور سے نکال سکتا ہے ، پختون ایس ایف کا نوجوان جتنا زیادہ تعلیمی میدان میں سرگرم ہوگا کل وہ اتنے ہی موثر انداز میں قوم کی رہنمائی کرسکے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے داؤد یونیورسٹی میں پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع شرقی کے صدر شاہ کلام محسود کی پہلی برسی کے موقع کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شاہ کلام محسود ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے انصاف کے منتظر ہیں ایف آئی آر کے اندراج کے باوجود اب تک ذمہ داران کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ،اس موقع پر شریک کارکنان نے متفقہ قرارداد پاس کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ شاہ کلام محسود کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اس موقع پر صوبائی سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک ایڈووکیٹ،کلچرل سیکریٹری نور اللہ اچکزئی اور ،پختون ایس ایف کے صوبائی صدر رضا خان جدون نے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ10فروری 2015ء بروز منگل

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صوبائی کابینہ کا اجلاس تنظیم کے صوبائی صدر سردار فخر عالم کی زیر صدارت باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا ،پختون ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان بھی اس موقع پر موجود تھے ،اجلاس میں تنظیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کیا گیا ، ایمل ولی خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پختون ایس ایف تعلیمی اداروں میں پرامن تعلیمی ماحول برقرار رکھنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے ،اور فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک عبدالولی خان کی سوچ اور فکر کو عام کریں ، انہوں نے صوبائی کابینہ کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد تمام اضلاع میں کنونشنز کا کا انعقاد کریں ،اجلاس میں کاشغر گوادر روٹ کے حوالے سے متفقہ طور پر قرارداد پیش کی گئی اور روٹ کی تبدیلی کے خلاف پرامن احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ،اس موقع پر گوادر کاشغر روٹ کی تبدیلی کو پختون دشمن قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اسے کسی صورت تبدیل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مورخہ : 9.2.2015 بروز پیر

عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کا ایک خصوسی اجلاس لاہور میں صوبائی صدر منظور احمد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی تنظیمی اُمور ، فعالیت اور دیگر اہم اُمور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر پارٹی کیطرف سے سید ولی شاہ کو شوکاز نوٹس کے جواب کا بغور جائزہ لیا گیا اور کابینہ نے اُس کے جواب کو تسلی بخش قرار دیکر متفقہ طور پر اس کی پارٹی بنیادی رکنیت بحال کر دی۔ اور اس کو پارٹی کی فعالیت کیلئے پھر سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

اجلاس میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں پارٹی ورکرز کنونشن کا انعقاد کا اعلان بھی کیا گیا اس کیلئے شیڈول جاری کر دیا گیا کہ پنجاب کہ ہر ضلع میں ہر جمعہ کے دن پارٹی ورکرز کنونشن منعقد ہوگا جس میں پارٹی کے مرکزی قائدین خصوصی طور پر شرکت کرینگے۔

مورخہ : 9.2.2015 بروز پیر

نیشنل ایکشن پلان پر باقاعدہ عمل بھی سست روی کا شکار ہے ’’ میاں افتخار حسین‘‘
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تبدیلی کی دعویدار صوبائی حکومت عوام کے بنیادی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے عوامی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے آج باچا خان مرکز پشاور میں اپنے حلقہ نیابت کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور باالخصوص صوبائی حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عوام کے روزمرہ مسائل ، تعلیم ، صحت ، روزگار اور مہنگائی جیسے مسائل کا خاتمہ کرے لیکن موجودہ صورتحال میں جبکہ ملک اور بالخصوص یہ صوبہ دہشتگردی اور لاقانونیت کی آگ میں جل رہا ہے حکومتوں پر غیر معمولی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ جرأت ، دلیری اور مستقل مزاجی کے ساتھ ان بحرانوں سے معاشرے کو نکالے جس لیے سیاسی بسیرت اور ویژن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ حکومتوں نے کافی وقت ضائع کیا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر باقاعدہ عمل بھی سست روی کا شکار ہے اور حکومتوں اور ریاستی اداروں کو مزید وقت ضائع کیے بغیر قوم کے ساتھ کیے گئے وعدوں جو اس پالیسی کی صورت میں موجود ہے پر بھرپور طریقے سے فوری اقدامات اُٹھائے تاکہ دہشتگردی کا قلع قمع ہو سکے کیونکہ بدامنی اور دہشتگردی کے شکار عوام کبھی بھی معاشی آسودگی اور دیگر ضروریات زندگی کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونخوا اور فاٹا بشمول بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں کی بہ نسبت کافی پسماندہ رہا ہے اور ترقی کے عمل میں ملکی سطح پر ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے اور آج بھی موجودہ مرکزی حکومت اس آدھے سے زیادہ علاقے کی ترقی کی سب سے بڑے منصوبے گوادر کاشغر کو تبدیل کرنے کے پیچھے ہیں لیکن عوامی نیشنل پارٹی اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔ اور اس کی بھرپور مزاحمت کی جائیگی۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری کو وفد کے شرکاء نے اپنے حلقے کے مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

مورخہ : 9.2.2015 بروز پیر

ہزارہ ڈویژن میں عوامی نیشنل پارٹی ایک مضبوط قوت کے طور پر اُبھرے گی۔ یہ بات اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ہریپور میں ہزارہ ڈویژن کے ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں ہزارہ ڈویژن کے پسماندگی ختم کرنے کیلئے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں صوبے کے تمام حصوں کو بلا تفریق ترقی یافتہ بنانے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدمات اُٹھائے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں ورکز کنونشن منعقد کرینگے اور باچا خان اور ولی خان کا پیغام کونے کونے تک پہنچائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے عوام دوست اور تعلیم دوست پالیسیوں کو آج تقویت مل رہی ہے اور ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اے این پی کی پالیسیوں کی تقلید کرنے لگی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کو جڑ سے اُکھاڑنے کیلئے تعلیم کی شمع روشن کرنے کیلئے صوبے میں یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کا جال بچھایا تاککہ صوبے کے بچے تعلیم کے زیور سے منور ہوں۔ اُنہوں نے اس موقع پر تمام سیکیورٹی فورسز اور صوبے میں پولیس فورس کا دہشتگردی کے خلاف کردار کو سراہا۔
اس موقع پر ایمل ولی خان اور سردار حسین بابک کے علاوہ حاجی نمروز خان اور ارم فاطمہ بھی موجود تھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن میں اے این پی کے اُبھرتے ہوئے گراف اور عوام کی طرف سے پارٹی کو پذیرائی نیک شگون ہے۔

مورخہ : 9.2.2015 بروز پیر

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے گوادر کاشغر شاہرہ کی مجوزہ تبدیلی کے منصوبے کے خلاف 17 فروری کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک متفقہ سیاسی لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ کانفرنس کے انعقاد کیلئے پارٹی کی ذیلی تنظیم نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کو انتظامات کیلئے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی ، میر حاصل بزنجو ، آفتاب احمد خان شیر پاؤ اور اسلامی جمعیت علماء سے رابطے قائم کیے ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ باقاعدہ رابطے جاری ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ گوادر کاشغر شاہرہ اور ٹریڈ کوریڈور پختونخوا فاٹا اور بلوچستان کیلئے انتہائی اہم مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان کے دیگر صوبوں کی بہ نسبت یہ علاقے انفراسٹرکچر ، صنعت کاری اور کارروبار و روزگار کے لحاظ سے نہ صرف کافی پیچھے ہیں بلکہ ان علاقوں کوملک کے دیگر صوبوں کے برابر لانے کیلئے ریاستی سطح پر مناسب پالیسی سازی کے عمل سے بھی محروم رہی ہے۔ اس منصوبے میں مجوزہ تبدیلی پختونوں اور بلوچوں کو مزید کئی سو سال پیچھے دھکیلنے کی مترادف ہے۔ جس کی بھرپور مزاحمت کی جائینگی۔ واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان صاحب نے 25 جنوری کو باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی برسی کے موقع پر شاہراہ کی مجوزہ تبدیلی کے منصوبے کو کالا باغ ڈیم سے بھی بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف باقاعدہ سیاسی مزاحمت کا عندیہ دیا تھا۔

کراچی ۔پیر 09فروری 2015ء ؁
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے کراچی کی حالیہ صورت حال کے حوالے سے پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور 12 مئی بد ترین واقعات ہیں پوری دنیا واقف ہے کہ سانحہ 12 مئی کے ذمہ داران کون ہیں،پورا دن قتل و غارت گری کو کیمرے کی آنکھ نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا ہے ،12 مئی کا واقعہ سیکیورٹی اداروں کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہے جب چاہیں ذمہ داران کے چہروں سے نقاب ہٹاسکتے ہیں12 مئی کو آزاد عدلیہ کے لیے سب سے زیادہ 21 شہید عوامی نیشنل پارٹی نے دیے ،اے این پی کوسانحہ 12 مئی کے ذمہ دار ٹہرانہ آسمان کی جانب تھوکنے کے مترادف ہے ،گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تین مرتبہ اے این پی پر سانحہ 12 مئی کے حوالے سے الزامات کی پس پردہ وجوہات گزشتہ رات رینجرز کی گرفتاری کے اعلان کے بعد سب کے سامنے آگئی ہیں،عوامی نیشنل پارٹی سانحہ 12 مئی کے ذمہ داران کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہے اس حوالے سے ہم نے اپنی آواز تمام اداروں تک پہنچاچکے ہیں سانحہ 12 مئی کے شہداء کا خون آزاد عدلیہ پر قرض ہے ، سانحہ 12 مئی کے ذمہ داران کو بے نقاب کرنے کی ذمہ داری ریاستی داروں پر عائد ہوتی ہے،باچا خان مرکز سے جاری کردہ پالیسی بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے حوالے سے جی آئی ٹی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد متاثرہ خاندانوں کے زخم تازہ ہوگئے ہیں اور رپورٹ کے انکشافات نے ہر شہری کو ہلاکر رکھ دیا ہے اس دردناک سانحہ کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا رپورٹ تیار کرنے والے اداروں اور مرکزی حکومت کا اولین فرض بن چکا ہے ،اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ صوبائی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین کو معاوضہ دیکر اس کی ذمہ داریاں پوری ہوگئی ہیں،سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانے والے عذاب الٰہی سے کسی صورت نہیں بچ سکیں گے ،جے آئی ٹی رپورٹ کی گونج کے ساتھ ہی معطل رابطوں میں بحالی، سندھ حکومت میں شمولیت کی بازگشت صاحب فہم عوام کے سمجھنے کے لیے کافی ہے ،اب رپورٹ تیار کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بن چکی ہے کہ وہ گرفتار ملزم کے انکشافات کی روشنی میں واقعے میں ملوث ملک میں موجود کرداروں کو گرفتار کرے اور بیرون ملک فرار دہشت گردوں کو انٹر پول کے ذریعے گرفتار کروائے، اے این پی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلائے ،جب تک سانحہ 12 مئی اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن،سانحہ عاشورہ ،سانحہ نشتر پارک اور سانحہ طاہر پلازہ اور سانحہ محبت سندھ ریلی کے ذمہ داران کو سزا نہیں دی جاتی شہر میں کسی طور امن کا قیام ممکن نہیں ہے،دہشت گردوں میں امتیاز برتنا انتہائی افسوس ناک ہے ،سزائے موت یافتہ دہشت گردوں کو بلا امتیار تختہ دار پر لٹکایا جائے ،شہر میں بلا تفریق آپریشن کا اولین مطالبہ عوامی نیشنل پارٹی کا تھا ،سیاسی قوتوں کے درمیان بیان بازی ،ٹکراؤ اور تصادم کی کیفیت پیدا کرکے ٹارگٹڈ آپریشن کو رکوانے کی سازش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،تحفظات کے باوجود ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھنے کے حامی ہیں،چاہتے ہیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے ، بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ ہم سیاست میں شائستگی اور برداشت کے قائل ہیں حالیہ دنوں میں بیانات میں جو زبان استعمال کی گئی ہے عوامی نیشنل پارٹی اس کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہے ، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے پارٹی رہنماؤں کو اس حوالے ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں شرکت کرنے اور بیان جاری کرنے سے روک دیا ہے ۔

مورخہ8فروری 2015ء بروز اتوار
پریس ریلیز
پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع نوشہرہ کے زیر اہتمام اے این پی کے سابق مرکزی صدر ، نامور انقلابی شاعر اجمل خٹک بابا کی برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی ، پختون ایس ایف ضلع نوشہرہ کے صدر عابد کی زیر صدارت منعقد ہونے والی تقریب میں تنظیم کے صوبائی صدر سردار فخر عالم اور اجمل خٹک کے بیٹے ایمل خٹک نے خصوصی طور پر شرکت کی ، پختون ایس ایف کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجمل خٹک بابا نے ساری عمر پارٹی اور پخون قوم کیلئے جدوجہد کی ، انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک ایک عظیم لیڈر تھے اور پارٹی کیلئے انہوں نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں ، انہوں نے اجمل خٹک کے خدمات کو سراہا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا ، تقریب کے بعد پختون ایس ایف کے وفد نے اجمل خٹک کے مزار پر حاضری دی اور مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی جبکہ ان کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی بھی کی گئی ۔

مورخہ : 7.2.2015 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے کہا ہے کہ گوادر کاشغر کورڈور منصوبہ میں تبدیلی پختونوں کیساتھ مذاق ہے۔ اگر پرانے نقشے سے اس کو بنایا جائے تو یہ پختونوں کے روشن مستقبل کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس منصوبے کو پرانے روٹ پر بنانے سے نہ صرف پختون علاقوں میں معاشی سرگرمیاں شروع ہونگی بلکہ افغانستان اور سنٹرل ایشیاء ممالک کی قدرتی وسائل سے استفادہ بھی زیادہ سے زیادہ ہوگا۔یہ علاقے پختونخوا اور بلوچستان جو اس کورڈور سے مستفید ہونگے معاشی سرگرمیاں شروع ہونے سے یہاں پر امن آئے گا۔ واضح رہے کہ پختونخوا افغانستا ن اور بلوچستان کے علاقوں میں پہلے سے بیروزگاری کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اس اہم منصبہ کے روٹ میں تبدیلی کے خلاف اے این پی کے پارلیمانی لیڈروں نے پختونخوا اسمبلی اور سینٹ میں جو جرأت مندانہ کردار ادا کیا تاریخ میں اس کو سنہرے حروف سے یاد کیا جائیگا۔ ان کی آواز بلند کرنے سے صوبائی اسمبلی میں ساری سیاسی پارٹیوں نے اس پر لبیک کہا۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ہر سطح پر قوم کو شعوری طور پر اس اہم منصوبے میں تبدیلی کے خلاف جگائے گی اور ہم اپنے قائدین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ اے این پی نے اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں پختون اور مظلوم قوموں کی نمائندہ جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اور انشاء اللہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نوجوان پارٹی قیادت کو باور کراتے ہیں کہ ہم ہر فورم پر اُن کی آواز پر لبیک کہیں گے اور پارٹی کے ہر اول دستے کا کردار ادا کرینگے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پختون نوجوان اپنے جغرافیائی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہر آنے والی تبدیلی پر نظر رکھیں۔

مورخہ : 7.2.2015 بروز ہفتہ
پریس ریلیز

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پشتو کے ممتاز شاعر ، ادیب ، مفکر اور صحافی اجمل خٹک کی پانچویں برسی کے موقع پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی عہدیداروں کے ایک اعلیٰ سطح کے خصوصی اجلاس سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اجمل خٹک صاحب نے سکول کے زمانے سے برٹش راج کے خلاف تحریک چلانے میں حصہ لیا ۔ ہندوستان چھوڑو تحریک میں بھی حصہ لیا۔ آٹھویں جماعت پاس کر کے ملازمت اختیار کی اور اس دوران تعلیم بھی حاصل کرتا رہا ۔ میٹرک کر کے اس کے بعد فائن آرٹس کی ڈگری حاصل کی اور پھر فارسی میں پشاور یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد اُنہوں نے مختلف اخبارات میں ادبی خدمات سرانجام دئیے۔ انجام اخبار ، بانگ حرم ، شہباز اخبار ، رہبر اور ریڈیو پاکستان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اور ابتداء سے خدائی خدمتگار تحریک میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری رہے اور لیاقت باغ میں یو ڈی ایف کے جلسے میں جو گولیاں برسائی گئی تھیں اُس کے بعد افغانستان میں پندرہ سال جلاوطنی گزاری۔ پاکستان واپس آکر اے این پی کے پلیٹ فارم سے سیاست میں فعال کردار ادا کیا اور اُس کے مرکزی صدر بنے ۔ اُنہوں نے سیاست کے ساتھ ساتھ ادبی میدان میں بھی گراں قدر خدمات بھی انجام دیں جن میں سر فہرست کتابیں ، دغیرت چغہ ، د وخت چغہ ، باتور ، گل او پرہر ، گلونہ او تکلونہ ، د زہ پاگل اوم ، کچکول ، سرے غونچے ، د ژوند چغہ ، ژوند او فن ، دُردانہ (ڈرامہ) ، انتقام (ڈرامہ) ، ٹکرے ، لمبے ، لوخڑے ، د سپوگمئی جام ، فشار اور ضدی(ناول) اس کے علاوہ اُردُو میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ پشتو ادب کے پچیس سال پاکستان میں قومی جمہوری تحریک اور جلاوطنی کی شاعری اُن کے ادبی اثاثے ہیں۔2006 میں اُن کوستارہ امتیاز ملا جو اُنہوں نے واپس کر دیا۔ تمام لوگوں کو اور خصوصاً نوجوانوں کو اجمل خٹک صاحب کی زندگی سے سیکھنا چاہیے کہ معاشی تنگدستی کے باوجود اجمل خٹک صاحب نے قومی خدمات کے حوالے سے ایک مثالی کردار ادا کیا۔ اور نہ صرف پختونوں اور پاکستان میں بلکہ ساری دُنیا میں نام کمایا۔یعنی کمٹنمنٹ ایمانداری ، خلوص ، محنت اور جفا کشی اجمل خٹک صاحب کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور وہ تاریخ کا درخشندہ ستارہ ہے۔ اُنہوں نے اس موقع پر جوانوں کو خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اجمل خٹک صاحب کی ساری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے اور جوانوں کو اُن کی زندگی کے نشیب و فراز سے روشنی حاصل کرنی چاہیے یعنی غربت ، مفلسی ، تنگدستی کبھی اُس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنی۔ اور نہ دولت اُس کی کبھی کمزوری رہی بلکہ ترقی پسند ، قوم پرست اور عدم تشدد کے شعوری سپہ سالار بن کر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اور شہرت کی اُن بلندیوں کو چھوا جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہیں۔ اس موقع پر این وائی کے مرکزی صدر خوشحال خان خٹک ، سینئر نائب صدر سلیمان مندڑ ، مرکزی جنرل سیکرٹری فخرالدین اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان محسن داوڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مورخہ6فروری 2015بروز جمعہ
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے اے این پیکے رہنما انجینئر محسن علی خان کی والدہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ،پارٹی رہنماؤں نے پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں ، انہوں نے مرحومہ کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کیلئے دعا بھی کی ۔دریں اثناء صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے اے این پی پی کے91اپر دیر کے سابق صدر امور حبیب کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ مرحوم کی پارٹی کیلئے گرانقدر خدمات ناقابل فراموش ہیں اور ان کی وفات سی پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی۔

مورخہ 6 فروری 2015بروز جمعہ

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے سینیٹ انتخابات کیلئے پارٹی امیدواروں سے مورخہ 7،8 اور9فروری 2015کو درخواستیں طلب کر لی ہیں ، پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک کے مطابق خواہشمند امیدوار سینیٹ انتخابات کے ٹکٹ کے حصول کیلئے درخواستیں بمع فیس باچا خان مرکز میں م متذکرہ بالاتاریخوں میں جمع کرا سکتے ہیں۔

مورخہ 4 فروری 2015بروز بدھ

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وزیر اعلیٰ پختونخوا پرویز خٹک اور پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اضلاع و تحصیل کی سطح پر جماعتی جبکہ ویلج کونسل اور یو سی میں غیر جماعتی الیکشن کرانے کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اے این پی اس قسم کی کسی بھی کوشش کی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالت جائے گی ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ اپنی حکومت اور اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ وہ غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرا کے جیتنے والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جوبدترین دھاندلی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی دھاندلی کے اس طریقہ کار کی بھرپور مخالفت کرے گی ، میاں افتخار حسین نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلدیاتی الیکشن مکمل طور پر سیاسی بنیاوں پر ہونے چاہئیں بصورت دیگر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پی ٹی آیء کے چیئر مین عمران خان واویلا مچا رہے ہیں کہ میرے ساتھ پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے جبکہ اب وہ خود بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کی بنیاد رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ان انتخابات کے نتیجے میں جیتنے والوں کو ساتھ ملانے کی سازشوں میں مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ جس طرح عام انتخابات میں خیبر پختونخوا میں اے این پی کا مینڈیٹ چرایا گیا تھا لیکن عمران خان اس چوری کو ماننے سے انکاری ہیں اسی طرج بلدیا الیکشن کا مینڈیٹ بھی چرانے کی سازش ہو رہی ہیجو کہ پری پول رگنگ کی تیاری ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اے این پی اس کی قطعی اجازت نہیں دے گی، انہوں نے کہا کہ اے این پی حکومت کے اس فیصلے کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اس کا ہر ممکن راستہ روکا جائے گا۔انہوں نے الیکش کمیشن سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی الیکشن مکمل طور پر سیاسی بنیادوں پر کرائے جائیں ۔

اے این پی غیر جماعتی بلدیاتی الیکشن کرانے کی بھرپور مخالفت کرے گی ’’ میاں افتخار حسین ‘‘

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وزیر اعلیٰ پختونخوا پرویز خٹک اور پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اضلاع و تحصیل کی سطح پر جماعتی جبکہ ویلج کونسل اور یو سی میں غیر جماعتی الیکشن کرانے کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اے این پی اس قسم کی کسی بھی کوشش کی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالت جائے گی ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ اپنی حکومت اور اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ وہ غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرا کے جیتنے والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جوبدترین دھاندلی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی دھاندلی کے اس طریقہ کار کی بھرپور مخالفت کرے گی ، میاں افتخار حسین نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلدیاتی الیکشن مکمل طور پر سیاسی بنیاوں پر ہونے چاہئیں بصورت دیگر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اے این پی حکومت کے اس فیصلے کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اس کا ہر ممکن راستہ روکا جائے گا۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی الیکشن مکمل طور پر سیاسی بنیادوں پر کرائے جائیں ۔

مورخہ 4 فروری 2015بروز بدھ

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان اور جنرل سیکرٹری گلزار حسین نے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبرکی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اور ان کی دیگر کابینہ نے اپنے عہدوں سے استعفےٰ دے دئے ہیں انہوں نے کہا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے وہ پارٹی کی منتخب تنظیم ہے اور وہ پارٹی کے مفاد اور پارٹی کی مضبوطی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ میڈیا اس قسم کی خبریں شائع کرنے سے پہلے حقائق ضرور جانے اور اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

مورخہ 4 فروری 2015بروز بدھ

اے این پی غیر جماعتی بلدیاتی الیکشن کرانے کی بھرپور مخالفت کرے گی ’’ میاں افتخار حسین ‘‘

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وزیر اعلیٰ پختونخوا پرویز خٹک اور پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اضلاع و تحصیل کی سطح پر جماعتی جبکہ ویلج کونسل اور یو سی میں غیر جماعتی الیکشن کرانے کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اے این پی اس قسم کی کسی بھی کوشش کی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالت جائے گی ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ اپنی حکومت اور اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ وہ غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرا کے جیتنے والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جوبدترین دھاندلی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی دھاندلی کے اس طریقہ کار کی بھرپور مخالفت کرے گی ، میاں افتخار حسین نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلدیاتی الیکشن مکمل طور پر سیاسی بنیاوں پر ہونے چاہئیں بصورت دیگر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اے این پی حکومت کے اس فیصلے کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اس کا ہر ممکن راستہ روکا جائے گا۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی الیکشن مکمل طور پر سیاسی بنیادوں پر کرائے جائیں ۔

مورخہ : 4.2.2015 بروز بدھ

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی کابینہ کا دوسرا اجلاس باچا خان مرکز میں منعقد ہوگا ’’ سردار فخر عالم ‘‘

پشاور ( پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان کی زیر صدارت پی ایس ایف پختونخوا کابینہ کا اجلاس مورخہ 10 فروری بروز منگل بوقت صبح 10 بجے باچا خان مرکز میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں پختون ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان خصوصی شرکت کرینگے۔ کابینہ کے تمام اراکین اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں ، اجلاس میں تنظیمی اُمور اور آئندہ لائحہ عمل کو زیر بحث لایا جائیگا۔

مورخہ 4 فروری 2015بروز بدھ

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور میں کنویں کی چھت گرنے سے معصوم طالبات کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ناگہانی آفات اللہ تعالیٰ کی جانب سے امتحان ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے آگے بے بس ہے ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور وہ دکھ کی اس گھڑی میں خود کو تنہا نہ سمجھیں ، پارٹی رہنماؤں نے مرحومیں کی مغفرت اور زخمی ہونے والے بچوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔

مورخہ : 3.2.2015 بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ چاولی ایبڈر کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کے ایشو پر عوامی نیشنل پارٹی کا ایک واضح مؤقف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آزادی اظہار کی آڑ میں مسلمانوں یا کسی بھی مذہب اور اس کے پیروکاروں کی دل آزاری قطعی طور پر ناقابل قبول رویہ ہے جس کی ہر صورت میں حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تاکہ دُنیا بھر میں برداشت اور رواداری کی فضا قائم ہو اور مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے عقیدوں اور معاشروں کے درمیان دوستانہ فضا قائم رہے۔ حاجی غلام احمد بلور کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ یہ اُن کی اپنی ذاتی رائے ہے اور کسی صورت پارٹی پالیسی کی ترجمانی نہیں کرتا۔ عوامی نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ سزا اور جزا کا اختیار صرف اور صرف ریاست کو حاصل ہوتا ہے اور کوئی بھی فرد اپنے آپ کو یہ اتھارٹی نہیں دے سکتا کہ کسی کو سزا یا جزا دے۔

مورخہ 2 فروری 2015بروز پیر

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی باجوڑ ایجنسی کے انتخابات میں عطاء اللہ خان صدر جبکہ گل افضل جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے، عوامی نیشنل پارٹی باجوڑ ایجنسی کے انتخابات پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک کی زیر نگرانی انتہائی پرامن ماحول میں منعقد ہوئے ، انتخابات کے نتیجے میں عطاء اللہ خان صدر اور گل افضل جنرل سیکرٹری منتخب کر لئے گئے ، جبکہ دیگر کابینہ میں سینئر نائب صدر زین العابدین ، نائب صدر اول ڈاکٹر جان بخت نائب صدر دوم خان زمین ، نائب صدر سوم خان بہادر سلارزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری شیر اکبر ، جائنٹ سیکرٹری عبدالقہار جائنٹ سیکرٹری دوم میر حسن شاہ ، جائنٹ سیکرٹری سوم زید اللہ چن لئے گئے ، اسی طرح سیکرٹری ثقافت عجب خان ، سیکرٹری اطلاعات شاہ نصیر خان اور زرولی خان کو فنانس سیکرٹری منتخب کر لیا گیا ، ایمل ولی خان اور سردار حسین بابک نے کامیابی پر صدر ، جنرل سیکرٹری اور ان کی تمام کابینہ کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ تنظیم مستقبل میں پارٹی کو مزید مضبوط اور فعال بنانے اور پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچانے کیلئے اپنی پوری لگن سے خدمات انجام دیتے رہیں گے، انہوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے گراف مین دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں ہم نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے اور 2008ء کے الیکشن میں عوام سے کئے گئے تمام وعدے اپنے دور اقتدار میں پورے کر کے دکھائے ، پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ اب اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ عوامی حقوق کیلئے جنگ لڑیں گے ، انہوں نے کہا کہ آنے والا دور عوامی نیشنل پارٹی کا ہے ۔

قیام امن کے لیے غیر معمولی فیصلے کرنا ناگزیر ہوچکا ہے ۔صدر اے این پی سندھ
کراچی ۔01 فروری 2015ء ؁
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگ چکے ہیں اور پینے کا پانی نایاب ہوچکا ہے سیورج کی خراب صورت حال نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے اورامن وامان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہوچکی ہے صوبائی حکومت اور شہری اداروں کا وجود کراچی میں کہیں بھی نظر نہیں آرہا ہے ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے آئے روز کے نت نئے مسائل شہریوں کی قسمت بن چکے ہیں،باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذ ید کہا ہے کہ شہر کی موجودہ صورت حال الزام تراشیوں اور محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہوسکتی شہر کی مسلسل بد امنی کی اہم وجہ مصلحتوں کا انبار ہے ہم اپیل کرتے ہیں کہ ڈی جی رینجرز اور کور کمانڈر قیام امن کے لیے بھر پور کردار ادا کریں جس انداز سے معاملات کو چلایا جارہا ہے اس طریقے سے کبھی بھی امن نہیں آئے گاکراچی میں قیام امن کے لیے وزیر اعظم کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب شہر کے مسائل سے زیادہ وسائل پر زیادہ نظر رکھی جائے گی تو حالات کیسے بہتر ہوسکتے ہیں؟سب کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،انہوں نے مذید کہا کہ کراچی کو انتہائی غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور لہٰذا قیام امن کے لیے غیر معمولی فیصلے کرنا ناگزیر ہوچکا ہے ۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on February 2, 2015 at 9:47 am