Jan-2015

 

کراچی؍30جنوری2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے شکار پور امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہاء پسندی کے عفریت نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،فرقہ واریت نے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کردی ہیں،ملک کو بچانے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم ایک مرتبہ پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی ایکشن پلان فی الفور عمل در آمد کیا جائے عوامی نیشنل پارٹی سندھ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے صبر جمیل اور زخمیوں کی فوری صحت یابی کے لیے دعا گو ہے ۔

تاریخ: 30-01-2015 بروز: جمعہ

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان نے آج اسلامیہ کالج یونیوسٹی کے چیف پراکٹر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ان کو طلباء وطالبات کے درپیش مسائل سے آگا ہ کیا۔ان سے کہا گیا کہ طلباء کے ساتھ گیٹ نمبر ۲ پر سیکیورٹی کے حوالے سے جو بے عزتی کا سلسلہ چل رہا ہے برائے مہربانی اس کو جلد از جلد روک دیا جائے کیونکہ اس سے طلباء کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ جبکہ کافی شاپ گیٹ اور تورنگزئی گیٹ پر داخل ہوتے وقت طلباء کے سٹوڈنٹ کارڈ چیک کر کے ان کو اجازت آسانی سے دی جاتی ہے۔اور گیٹ نمبر ۲ پر سٹوڈنٹ کارڈ چیک کرنے کے بعد ہر ایک کی غیر ضروری تلاشی لی جاتی ہے۔جو کہ تعلیمی ادارے میں طالب علم کے ہتک عزت ہے۔ اس لئے اس غیر ضروری تلاشی کا کوئی حل نکالا جائے۔چیف پراکٹر نے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی کو یقین دہانی کرائی کہ ان شاء اللہ پیر کے دن سے یہ سلسلہ ختم ہو ا ہو گا۔اس لئے ہمیں بھی طالب علم کی عزت کا خیال رہتا ہے۔
اس پر پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن اعوان نے انتظامیہ اور بالخصوص چیف پراکٹر کا شکریہ ادا کیا اور ماضی کے طرح انہیں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طرف سے تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی۔

مورخہ :30.1.2015 بروز جمعہ

( پریس ریلیز )

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان ، صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے شکار پور لکھی در امام بارگاہ میں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر انتہائی دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے مذمتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ بے گناہ انسانوں کی جانیں لینا انسانیت سوز فعل ہے جس کی اجازت دُنیا کاکوئی مذہب نہیں دیتا۔ اُنہوں نے کہا کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں دھماکے کرنے والے اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ پارٹی رہنماؤں نے واقعے میں شہید ہونے والوں کیلئے دُعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دُعا کی۔

کراچی ۔28 جنوری 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ شہر کی موجودہ صور تحال کسی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتی ،کراچی کے شہری انتہائی غیر یقینی صورت حال میں زندگی گزار رہے ہیں پولیس ،رینجرز اہلکار،سیاسی کارکنان ،ڈاکٹرز، وکلاء،اساتذہ اور علماء کرام سمیت دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو چن چن کر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے سیاسی مصلحتوں سے کبھی بھی شہر میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے موجودہ صوبائی حکومت مناسب انداز میں فیصلے نہیں کررہی ہے شہر کو انتہائی غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی فیصلے کرنا ہوں گے ،روشنیوں کا شہر مسائل و مصائب کا جنگل کی شکل اختیار کرچکا ہے، شہر میں قیام امن کے لیے مصلحتوں کو خیرباد کہنا ہوگاباچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اورپختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ کل غریب کا چولھا نہیں جلے گامظلوم کو انصاف دینا ارباب اختیار کے اولین فرائض میں شامل ہے افہام و تفہیم سے معاملات کو حل کرنا ہوگا ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سالار اعلیٰ محمد رسول خان نے ضلع لوئر دیر کیلئے فرمان خان رباط کو ضلعی سالار اور اجمل وردگ کو ڈپٹی سالار نامزد کر دیا ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے جاری کر دیا گیاہے۔ اس موقع پر اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی صدر حیدر خان ہوتی ،صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، صوبائی ترجمان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک ، ضلعی صدر حسین شاہ یوسفزئی اور ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عنایت اللہ نے نو منتخب سالار اور ڈپٹی سالار کو مبارکباد دی۔
سالار اعلیٰ نے نامزد ضلعی سالار اور ڈپٹی سالار کو ہدایت جاری کی کہ وہ ضلع کا دورہ کریں اور ضلع میں ننگیالے پختون کی تنظیم کو مزید فعال بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

پختون ایس ایف کے وفد نے رہبر تحریک خا ن عبدالولی خان کے مزار پر حاضری دی۔

پشاور ( پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان ، سینئر نائب صدر شیر اللہ وزیر ، جنرل سیکرٹری یاسر یوسفزئے ، سابقہ صوبائی صدر تاج وزیر ، سابق صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر نے رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کے مزار پر حاضر ی دی۔ صوبائی صدر نے مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھائی اور ولی خان بابا کی خدمات ، اُن کی جدو جہد اور پختون قوم کی بقاء کیلئے اُس کی لازوال قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وفد نے مزار پر ولی خان باباکے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کی اور مغفرت کی دُعا کی۔

مورخہ : 27.1.2015 بروز منگل

ملک سعد شہید کی قربانھی رائیگاں نہیں جائیگی ’’ سردار حسین بابک ‘‘

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان نے ملک سعدشہید کی برسی کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ ملک سعد اور اُن جیسے ہزاروں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا دہشتگردی کے خلاف قربانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ ساری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کی دلیرانہ قربانی کو نہ صرف یاد رکھیں گے بلکہ وطن کی خاطر اُن کی قربانی کی تقلید کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی اس لہر نے اس خطے کے بہادر اور جوانمرد سیکیورٹی اہلکار وں کی شہادتیں اس خطے میں امن کے قیام کی ضامن ہیں۔ ملک سعد اور اُن جیسے نڈر سیکیورٹی فورسز کے افسران قوم کیلئے مشعل راہ ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج دہشتگردی دم توڑ رہی ہے اور لوگوں کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔ ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دینے والے اگرچہ ہم میں موجود نہیں ہیں۔تاہم اُن کے جذبے اور وطن سے محبت قیامت تک زندہ و تابندہ رہیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ اتفاق رائے اور اتفاق و اتحاد سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔ لہٰذا تمام حکومتوں اور مذہبی و سیاسی قوتوں کو اولین ترجیح اپنی جنگ کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مصلحتوں سے نکلنے کا وقت آگیاہے اور اگر اب بھی کوئی حکومت اور کوئی جماعت مصلحتوں میں پھنس گئی تو ملک و قوم کی خاطر شہادتیں دینے والے اور قوم اُنہیں معاف نہیں کریگی۔

ہم کسی طور شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو نہ رکوانا چاہتے ہیں نہ ہی شہر کو پولیس اسٹیٹ بنانے کی اجازت دے سکتے ہیں۔جنرل سیکریٹری اے این پی سندھ کا حضرت باچا خان اور خان عبدالولی خان کی برسری کے اجتماع سے خطاب
کراچی ۔27 جنوری 2015ء ؁
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ اپنے عظیم اسلاف کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی برسی کے موقعے پر گلی گلی میں اجتماعات منعقد کررہے ہیں،حضرت باچا خان اور خان عبدالولی خان کی بات نہ مان کر اقتتدار والوں قوم کے ساتھ ظلم عظیم کیا،افسوس کہ اتنی عظیم شخصیات کی قدر نہیں کی گئی اگر ان کی باتیں مان لی جاتی تو ملک کے ساتھ خظے کی صورت حال بہت بہتر ہوتی، خان عبدالولی خان کو غدار کہنے والے آج ان کی قبر پر جاکر اپنی غلطی تسلیم کریں،شاید حضرت باچا خان اور خان عبدالولی خان جیسے عظیم لیڈر دوبارہ اس خظے کو نہ مل سکیں سادگی اور سچائی کے پیکر مرتے دم تک قوم کی ترقی و خوش حالی کے لیے سرگرداں رہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع شرقی کے علاقے ڈالمیا میں حضرت باچا خان اور خان عبدالولی خان کے حوالے سے کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے مذید کہا کہ شہرمیں سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار ہمارے رہنماؤں، کارکنوں اور ہمدردوں کے گھر میں کود کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہے ہیں ایک طرف ہمیں دہشت گرد کھلم کھلا نشانہ بنارہے ہیں ،رہنماؤں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور دوسری طرف بے لگام نامعلوم اہلکار چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہے ہیں ایسے مٹھی بھر پولیس اہلکار محکمے کی بدنامی اور شہید پولیس اہلکاروں کے مقدس خون کو داغدار کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں ہم کسی طور شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو نہ رکوانا چاہتے ہیں نہ ہی پولیس کا مورال کو گرانا چاہتے ہیں اور نا ہی شہر کو پولیس اسٹیٹ بنانے کی اجازت دے سکتے ہیں انہوں نے مذید کہا کہ قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل در آمد کیا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو پورے ملک میں پھیلایا جائے ،اس موقع پر صوبائی نائب صدر ثواب زرین،ضلعی صدر فہیم جان ،وارڈ صدر سلیم داد اور جنرل سیکریٹری فائق خان نے بھی خطاب کیا ۔

باچا خان کی 27 ویں اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی9 ویں برسی کے حوالے سے منعقدہ اجتماع سے خطاب
کراچی ۔26 جنوری 2015
عوامی نیشنل پاٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ رہے ایک مرتبہ پھر عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کی جیت ہوئی ہے افسوس کہ اس جیت کے لیے قربانی اتنی بڑی دینی پڑی ہے کہ ہم خوشیاں بھی نہیں مناسکتے ہیں ہمارے عظیم اسلاف پر الزامات لگانے والے تاریخ میں گمنام ہوچکے ہیں،جوں جوں وقت گزرے گا ہمارے عظیم اسلاف کے افکار سے دنیا روشناس ہوتی جائے گی انتہائی دکھ اور رنج کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنی عظیم شخصیات کی قدر نہیں کی گئی اگر حضرت باچا خان اور خان عبدالولی خان کی قدر کی جاتی تو ملک کی یہ حالت نہ ہوتی قومی نابرابری کے خاتمے سے لیکر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک وقت گزرنے کے بعد ہمارے موقف کی تائید کی گئی ہے یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ شخصیات سے محروم ہونے کے بعد ہم ان کی قدر کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نے پٹیل پاڑ ہ میں رئیس الاحرار حضرت باچا خان کی 27 ویں اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی9 ویں برسی کے حوالے سے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایاجائے۔ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن بلا تفریق پورے ملک میں ہونا چاہیے اگر نیشنل ایکشن پلان کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کی گئی تو سانحہ پشاور سے بھی بڑا واقعہ رْونما ہو سکتا ہے،انہوں نے مذید کہا کہ کوئی ہمارے بارے میں کسی کی قسم کی خوش فہمی میں نہ رہے اپنے لیڈر سینیٹر شاہی سید کے ایک اعلان پر دمادم مست قلندر کردیں گے ،شہر کے گلی کوچے ہمارے رہنماؤں کے خون سے سرخ رہنماؤں و کارکنان کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں، خدارا اب ہمارے گریبانوں سے ہاتھ کھینچ لیا جائے ،اس موقع پر صوبائی سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک ،کلچرل سیکریٹری نور اللہ اچکزئی ،ضلعی صدر فہیم جان ،نائب صدر انورزیب اوروارڈ صدر شیر عالم خان نے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ : 26.1.2015 بروز پیر
سانحی پشاور کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، اسفندیار ولی خان
دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد یقینی نہ بنایا گیا تو سانحہ پشاور سے بڑا واقعہ رونما ہو سکتا ہے،
افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا، ولی باغ میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کے موقع پر خطاب
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے آرمی پبلک سکول سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایاجائے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ولی باغ چارسدہ میں باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے سکول کی سیکیورٹی فوج کی ذمہ داری قرار دی تھی۔ اسفند یار ولی خان نے کہا کہ دہشتگرد شہر کے راستے استعمال کرتے ہوئے سکول تک پہنچے۔ لہٰذا شہر کی سیکیورٹی صوبائی حکومت کی ذمہ تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ کپتان خان نے بچوں کے چہلم کا بھی انتظار نہ کیا اور شادی رچا لی پھر ہنی مون کے بعد پوائنٹ سکورنگ کیلئے سکول جا پہنچے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر سیاسی انسان ہیں اس لئے وہ سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں،اسفندیار ولی خان نے باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی سیاسی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب افغانستان کا جہاد شروع ہوا تو باچا خان بابا نے اس نام نہاد جہاد کی مخالفت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اُس وقت کہہ دیا تھا کہ اگر تم کسی کے گھر پتھر پھینکو گے تو وہاں سے پھول نہیں پتھر ہی آئیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب ہم نے اپنے دور اقتدار میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے تو ہمیں امریکہ ، روس اور انڈیا کا ایجنٹ کہا گیا۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ آج تمام سیاسی ، مذہبی جماعتیں عوامی نیشنل پارٹی کی پالیسیوں کی تقلید کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد صوبائی خود مختاری کا حصول صوبے کا نام اور پختون دھرتی پر پختونوں کے حقوق کی جنگ جیتنے کا سہرا عوامی نیشنل پارٹی کے سر ہے۔ اُنہوں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ افغان صدر اشرف غنی کا رویہ انتہائی لچکدار ہے۔ اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس لچکدار رویے سے فائدہ اُٹھائے ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ جب تک پاکستان اور افغانستان مشترکہ طور پر دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں لڑیں گے تب تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان میں قیام امن دیوانے کا خواب ثابت ہو گا۔ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن بلا تفریق پورے ملک میں ہونا چاہیے اُنہوں نے اس سلسلے میں نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کی گئی تو سانحہ پشاور سے بھی بڑا واقعہ رُونما ہو سکتا ہے۔ کاشغر گوادر روٹ کی تبدیلی کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے اس روٹ میں تبدیلی کی تو عوامی نیشنل پارٹی بھرپورطریقے سے احتجاجی تحریک چلائے گی۔ وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی حالات زار کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ امن کی خاطر گھر بار چھوڑنے والے بے یارو مدد گار بیٹھے ہیں۔ جبکہ صوبے اور مرکز میں الزامات کی جنگ جاری ہے ۔ اُنہوں نے آئی ڈی پیز کی فوراً واپسی اور بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے دہشتگردی کے خلاف ایکشن پلان پر عمل درآمد ، کاشغر گوادر روٹ کی تبدیلی کے خلاف اور گستاخانہ خاکے شائع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے متعلق قراردادیں پیش کیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قبل ازیں اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے سیاسی عہد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پختون سرزمین کو باچا خان بابا کی صورت میں ایک ایسے عظیم شخص کو جنم دینے کا اعزاز حاصل ہے جو درویش بھی اور اپنے زمانے کے دانا بھی تھے جنہوں نے اپنی سرزمین سے حد درجہ محبت کی اور اس کی پاداش میں تمام عمر تکالیف اور اذیتیں برداشت کیں۔اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اپنی زندگی کے آخری وقت تک امن ، عدم تشدد ، آزادی ، انصاف اور رواداری کی عظیم اقدار کو فروغ دینے کا عہد برقرار رکھ کر ایک عظیم انسان ہونے کا ثبوت دیا۔

مورخہ23جنوری2015بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کرک اور بونیر میں ہونے والے ٹریفک حادثات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان واقعات میں 10قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ ناگہانی آفات کے آگے انسان بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ، انہوں نے غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے مرحومین کیلئے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی ۔

مورخہ : 22.1.2015 بروز جمعرات

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کاشغر گوادر تجارتی راہداری کے منصوبے کا آغاز پندرہ سال پہلے ہوا تھا مگر آج تک آپریشنل نہ ہوسکا اس لیے چین کی خواہش ہے کہ اس منصوبے پر جلد از جلد کام مکمل کیا جائے اس مقصد کیلئے چین نے کاشغر سے گواردر تک رسائی حاصل کرنے کیلئے مختصر ترین روٹ تجویز کیا وہ موجودہ شاہراہ قراقرم سے ایبٹ آباد ، حسن ابدال ، میانوالی ، ڈی آئی خان ، ژوب اور کوئٹہ سے گوادر جبکہ اس سڑک پر جگہ جگہ صنعتی بستیاں قائم ہو نگی۔اُنہوں نے کہا کہ اس منصوبہ سے پاکستان اور خاص کر فاٹا خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی تقدیر بدل جائے گئی۔ یہ علاقے تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن جائینگے۔ مگر وفاقی حکومت نے فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر اس روٹ کو تبدیل کیا۔ اور اب کاشغر سے برہان ، اسلام آباد لاہور موٹر وے کے راستے کراچی گوادر لے جانا چاہتی ہے۔جو سراسر ناانصافی اور یکطرفہ فیصلہ ہے کیونکہ یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ پوری اقتصادی کوریڈور ہے۔جس سے خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں کو ترقی کے مواقع مل جائینگے۔ اس منصوبہ سے خیبر پختونخوا اور اس کے پسماندہ علاقے جنوبی اضلاع کی قسمت بدل سکتی ہے۔ لہٰذا انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ زیادہ قابل عمل اور چین کی خواہش کے مطابق مغربی روٹ پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر اس بدترین ناانصافی کے خلاف آواز اُٹھانا ہمارا حق ہے اور صوبہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ہم اس نا انصافی کے خلاف مؤثر جدوجہد کرینگے۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کو بتانا چاہتے ہیں اگر ملک کے دیگر میگا پراجیکٹس کیلئے روپے (فنڈز) ہیں تو صرف اس منصوبہ کیلئے فنڈز کی کمی کیوں آڑے آرہی ہے لہٰذا یہ خیبر پختونخوا کے حقوق کے خلاف سازش ہے۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ پہلے بھی کافی نا انصافی ہوئی ہے جبکہ یہ منصوبہ گوادر بندرگاہ بلوچستان میں واقع ہے۔ روٹ کی تبدیلی سے بلوچستان کو فائدہ سے محروم کیا جا رہا ہے جو فیڈریشن اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ وفاقی حکومت آخر کیوں پختونوں اور بلوچوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر آسان اور قدرتی راستے کی بجائے غیر قدرتی اور مشکل راستے پر اصرار کررہا ہے لہٰذا عوامی نیشنل پارٹی اس قسم کی نا انصافی اور آئین و فیڈریشن کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی اور اس کیلئے مؤثر اور بروقت اقدامات اُٹھائے جائینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس نا انصافی کا راستہ روکنے کیلئے پنجاب اور سندھ بھی پختونوں اور بلوچوں کا ساتھ دیں تاکہ ملک کی یکجہتی بھی برقرار رہے اور انصاف کے تقاضے بھی پورے ہو سکیں۔

مورخہ : 21 جنوری 2015 بروز بدھ

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کے عوام تمام ترقیاتی منصوبے فوری طور پر روک کر ان کے فنڈز سکولوں کی سیکیورٹی پر خرچ کیے جائیں ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پشاور میں عام پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (ایپٹا) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد ہر شخص خوف اور دہشت کا شکار ہے تاہم ایسے واقعات کی روک تھام اور دہشتگردی کے خلاف سیاسی ، عسکری قیادت اور پوری قوم کے درمیان اتحاد اور اتفاق خوش آئند ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک مائنڈ سیٹ ملک میں نوجوان نسل پر تعلیم کے دروازے بند اور اندھیروں کا راج چاہتا ہے لہٰذا اب یہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ باہمی اتفاق سے اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینا ہوگی۔ اُنہوں نے سکولوں میں اساتذہ کو اسلحہ پاس رکھنے کے فیصلے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ ہم نوجوان نسل کو دہشتگردی اور اسلحے سے دور رکھنے کیلئے سکول بھیجتے ہیں لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ ان بچوں کو اسلحے کے سائے میں تعلیم دی جائے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ ہمارے دور میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے تو ہمارے سیاسی مخالفین ہمیں آڑے ہاتھوں لیتے رہے۔ تاہم اُنہوں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اب تمام سیاسی ، مذہبی جماعتیں دہشتگردی کے خلاف اے این پی کی پالیسیوں کی تقلید کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کیلئے فیصلے کا وقت آپہنچا ہے۔ اور موجودہ صورت حال میں حکومت کو سخت فیصلے کرنا ہونگے۔ اُنہوں نے اپنے دور حکومت میں تعلیمی اداروں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کی تعمیر کے دور رس اثرات جلد عوام کو منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے تعلیمی اداروں میں مانیٹرنگ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہر صورت یہ ایک اچھا اقدام ہے تاہم اس میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

مورخہ : 21جنوری 2015 بروز بدھ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور اور سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کا ایک مشترکہ اجلاس باچا خان مرکز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی ،جنرل سیکرٹری سرتاج خان اور ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان اور جنرل سیکرٹری گلزار خان ، نائب صدر سردار زیب ضلع پشاور ، جائنٹ سکرٹری عزیز غفارنے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 23 جنوری کو فخر افغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی برسی باچا خان مرکز میں بوقت 2 بجے عقیدت و احترام سے منائی جائیگی جس کیلئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔ اس مقصد کیلئے ضلعی سطح پر مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ دونوں عظیم لیڈر تھے اور فخر افغان باچا خان بابا نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی شمع روشن کی جس پر ہمیں فخر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے جو باتیں آج سے کئی سال پہلے کی تھیں آج وہ نہ صرف سچ ثابت ہو رہی ہیں بلکہ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور حکومتیں ان کی تقلید کر رہی ہیں۔ باچا خان حقیقی معنوں میں عوامی رہنما تھے۔ اجلاس کے آخر میں اُنہوں نے کارکنوں سے اپیل کی برسی میں جوق در جوق شرکت کریں۔

مورخہ : 21 جنوری 2015بروز بدھ

پشاور ( پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پختونخوا کے زیر اہتمام 20 جنوری کو جلال آباد افغانستان میں فخر افغان باچا خان بابا کی 27 ویں برسی پی ایس ایف کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان کی زیر صدارت انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔
گزشتہ روز پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک 80 رُکنی وفد نے صوبائی صدر پی ایس ایف سردار فخر عالم خان کی سربراہی میں باچا خان بابا کے مزار پر حاضری دی اور اُن کے مزار پر پھولوں کی چاردر چڑھائی ۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ارباب محمد طاہر خان خلیل ، ننگرہار کے سرکاری اہلکار اور مقامی لوگوں کے ہمراہ کثیر تعداد میں استقبال کیلئے موجود تھے۔ اے این پی کے رہنما ارباب محمد طاہر خان خلیل نے پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان کی جانب سے باچا خان بابا کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔برسی کی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ برسی کی تقریب سے اے این پی کے رہنما ارباب محمد ظاہر خان خلیل اور پی ایس ایف کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جلال آباد میں باچا خان کی تدفین کا مقصد یہی تھا کہ لراور بر پختون ایک ہیں اور پختونوں کے اتحاد و اتفاق اور یگانگت کی علامت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم اپنی دھرتی پر امن چاہتے ہیں اور جب تک قیام امن کا مسئلہ حل نہ ہو اُس وقت تک کوئی بھی مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے لر اور بر پختون انقلاب کے شروع میں جن باتوں کی نشاندہی کی تھی آج وہ ایک ایک بات سچ ثابت ہو رہی ہے اور اُن کی سوچ ، فکر ، فلسفے اور سیاست کے اُن کے دُشمن بھی معترف ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہمارے بزرگوں کی بات مان لی جاتی تو آج ہم دہشتگردی جیسے خطرناک اور موذی مرض کی گرفت میں نہ ہوتے۔اُنہوں نے کہا کہ اس خطے میں قیام امن کیلئے اسفندیارولی خان کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں۔

مورخہ20جنوری2015بروز منگل

باچا خان بابا کے اُصولوں پر عمل کرنے میں ملک و قوم کی ترقی پنہاں ہے ’’ سردار حسین بابک ‘‘
باچا خان بابا حقیقی معنوں میں عوامی رہنما اور اپنی زندگی میں قوم کو بیدار کرنے کیلئے ایک عملی مثال تھے۔

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ فخر افغان باچا خان بابا نے ساری عمر تعلیم کے فروغ اور قوم کی خوشحالی آبادی کیلئے عملی جدوجہد کی ہے۔ باچا خان بابا کی 27 ویں برسی کے موقع پر اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ باچا خان سادگی اور خاکساری کا عملی نمونہ تھے۔ اُنہوں نے تعلیم عام کرنے اور شعور بیدار کرنے کیلئے بے پناہ صعوبتیں برداشت کیں۔ جنگ عظیم کے مجاہد نے قربانیوں کی ایک لازوال تاریخ رقم کی ہے۔ اپنی قوم میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے اور تشدد سے نفرت اور عدم تشدد سے محبت سماجی برائیوں اور خودداری پیدا کرنے کیلئے نہ صرف خود بلکہ خدائی خدمتگار تحریک کے ہر کارکن کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کر رکھا تھا۔ اپنی زندگی میں قوم کوبیدار کرنے کیلئے ایک عملی مثال تھے۔ اُنہوں نے جو باتیں آج سے کئی سال پہلے کی تھیں آج وہ نہ صرف سچ ثابت ہو رہی ہیں بلکہ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور حکومتیں ان کی تقلید کر رہی ہیں۔ باچا خان حقیقی معنوں میں عوامی رہنما تھے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ جمہوریت اُصولوں پر یقین رکھنے والی اس عظیم ہستی نے زندگی کا ہر لمحہ قوم کی فلاح و بہبود کیلئے صرف کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج جسمانی طور پر موجود نہ ہوتے ہوئے بھی ان کی اُصول پرستی ، دور اندیشی ، وسیع النظری اور قومی فکر زندہ و تابندہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کی برسی کے موقع پر ہم سب کو تجدید عہد کرنا چاہیے کہ ان کی جدوجہد کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک و قوم کی بے لوث خدمت جاری رکھیں گے اور اس میں ملک و قوم کی بہتری مضمر ہے۔

کراچی ۔20 جنوری 2015ء
رئیں الاحرار حضرت باچا خان بابا کی 27 ویں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی 9 ویں برسی کے سلسلے محمد خان گوٹھ سہراب گوٹھ میں ورکرز کنونشن منعقد کیا گیا اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور اس ناسور کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے اتفاق اور اتحاد کی فضا بن رہی ہے جسے ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو نیشنل ایکشن پلان کے مطابق تمام وہ اقدامات اْٹھانے ہونگے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اْکھاڑا جا سکے، اچھے اور برے دہشتگرد کا فرق دراصل دہشتگردی کو دوام بخشتی رہی ہے اور ملک مزید ایسی غیر منطقی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا ،باچا خان اور خان عبدالولی خان کی ملک میں جمہوریت کے قیام و تسلسل ،صوبائی خودمختاری دینے ،قومی نا برابری کا خاتمہ اور پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات جیسی باتیں مان لی جاتی تو پاکستان کبھی دولخت نہیں ہوتا، ہمارے اسلاف کے مسلسل منع کرنے کے باوجود سرد جنگ میں آنکھیں بند کرکے کودنے ا ور اسٹریٹیجک ڈپتھ (strategic depth) کے نام پر پڑوسی ملک کو اپنا پانچوں صوبہ بنانے جیسی فاش غلطیاں نا کرتے تو ہمیں اتنے سنگین حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا،اگر ماضی میں شب خون مارنے والے آمروں اور جمہوری حکمرانوں کی پالیساں بنانے والوں میں ذرا سی بھی شرم ہے تو باچا خان اور ولی خان کی قبروں پر جاکر اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور پوری قوم سے معافی مانگیں ، گڈ اور بیڈ کا خاتمہ ،افغان پالیسی کی تبدیلی ،دفاعی و سیاسی قیادت کا انتہاء پسندی کے خلاف متحد ہونا اے این پی کے دیرینہ موقف کی جیت ہے افسوس کے اتنی بھاری قیمت ادا کی گئی کے ہم جشن بھی نہیں منا سکتے انہوں نے مذید کہا کہ شہر میں ایک طویل عرصے سے عوامی نیشنل پارٹی پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے،ایک ہی ضلع کے تین ضلعی صدور ،ایک جنرل سیکریٹری کی شہادت ،اسی ضلع سے تعلق رکھنے والے صوبائی جنرل سیکریٹری پر دو مرتبہ بم حملہ ،ستر سے زائد پارٹی ذمہ داران و کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ، پارٹی ذمہ داران کی املاک پر چالیس سے زائد بم حملے ،مسلسل دھمکیوں سے درجنوں اہم رہنماؤں و کارکنان کا شہر اور ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا ،یہ تمام واقعات ریاستی اداروں کی آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود کیا اقدامات اٹھائے گئے ؟ حکومت اور ریاستی اداروں نے آج تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں ملک کے کسی ضلع میں کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اتنا بد ترین ظلم نہیں ہوا جیسا ضلع غربی میں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ کیا گیا ہے اس موقع پر صوبائی نائب صدر سائیں علاؤالدین آغا، کلچرل سیکریٹری نور اللہ اچکزئی ،ضلعی صدر فہیم جان جنرل سیکریٹری زور طلب خان بونیری اور وارڈ صدر عمر باچہ نے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ20جنوری2015بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ملگری ڈاکٹران کے سینئر رہنما ڈاکٹر غلام رسول کے والدکے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکر ٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے ڈاکٹر غلام رسول سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں اور اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ،انہوں نے مرحوم کیلئے مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی ۔

مورخہ20جنوری2015بروز منگل

اے این پی سانحہ پشاور کے شہداء کا چہلم 25جنوری کو منائے گی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کا چہلم 25جنوری کو دن گیارہ بجے باچا خان مرکز پشاور میں انتہائی عقیدت و احترام سے منائے گی اس سلسلے میں شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کی جائے گی جبکہ بعد ازاں اسی روز اے این پی کا ایک وفد آرمی پبلک سکول میں جائے وقوعہ پر شہداء کی یاد میں پھولوں کی چادریں بھی چڑھائے گا ۔

مورخہ20جنوری2015بروز منگل

پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے لاہور پریس کلب میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ فخر افغان بابا باچا خان اور ولی خان بابا کی فکر ہی دراصل عدم تشدد، ملک دوستی اور عوام دوستی پر مبنی تھی اور ان کی سوچ کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی ، تقریب میں پاکستان ورکرز پارٹی کے عابد حسن منٹو ، تحریک استقلال کے منظور احمد، پیپلز پارٹی کے نوید احمد ، اے این پی کے سابق مرکزی جنرل سیکرٹری احسان وائیں کے علاوہ خواتین ، پارٹی کارکنوں اور عقیدت مندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ آج سے تیس برس پہلے باچا خان اور ولی خان بابا مسلسل ملک اور قوم کو آنے والی تباہی اور نقصانات سے آگاہ کرتے رہے اور عوامی نیشنل پارٹی نے مسلسل آواز اُٹھائی کہ پرائی جنگوں اور پراکسی وارز سے اجتناب کرنا چاہیے اور بین الاقوامی اور علاقائی کشمکشوں سے ایک طرف ہو کر اپنی عوام اورملک پر توجہ دینا چاہیے تو ہمیں صرف غداری کے الزامات ملے ۔ آج بدقسمتی سے یہ جنگ ہماری ہے ہوگئی اور ہمیں اس کو لڑنا ہوگا۔ولی خان بابا نے بارہا کہا کہ دوسروں کے گھروں میں بم پھینکنے کے جواب میں ہمیں پھولوں کے گلدستوں کی توقع نہیں کرنی چاہیے لیکن قومی بیانیے میں ہماری اور اس دھرتی کی حقیقی سیاسی آواز کو مسلسل دبانے کی کوشش کی جاتی رہی،۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی اب ایک بین الاقوامی ، ملکی اور علاقائی شکل اختیار کر چکی ہے لہٰذا ہمیں ریاستی طورپر دیگر ممالک بالخصوص افغانستان کیساتھ ایک صفحے پر ہو کر ایک فیصلہ کن جنگ لڑنی چاہیے تاکہ ہمارا معاشرہ اور آنے والی نسل دہشتگردی کے سنگین خطرات اور نقصانات سے بچ سکیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور اس ناسور کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے اتفاق اور اتحاد کی فضا بن رہی ہے جسے ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو نیشنل ایکشن پلان کے مطابق تمام وہ اقدامات اُٹھانے ہونگے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ ہ جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ اچھے اور برے دہشتگرد کا فرق دراصل دہشتگردی کو دوام بخشتی رہی ہے اور ملک مزید ایسی غیر منطقی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہی ہوتا ہے اور کوئی بھی سابقہ یا لاحقہ اس کے معنی تبدیل نہیں کرسکتے اور اگر ریاستی اور حکومتی سطح پر اس سوچ میں تبدیلی آ چکی ہے کہ اچھے اور برے طالب یا دہشتگرد کی تفریق کے بغیر ایک جامع کارروائی ہونی چاہیے تو یہ نہایت خوش آئند ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی صرف فاٹا یا پختونخوا کے کچھ حصوں میں آپریشنز سے ختم نہیں ہو گی بلکہ پورے ملک میں اور بالخصوص پنجاب میں دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورکس ، اُن کے رابطہ کاروں اور سلیپر سیلز کو ایک جامع آپریشن سے ایک ساتھ ٹارگٹ کرنا ہوگا۔تاکہ دہشتگردوں کی قوت اور نظم ٹوٹ سکے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ آرمی بپلک سکول پشاور کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کی جو فضا قائم ہو چکی ہے اگر سیاسی و عسکری قیادت اور پوری قوم اس وقت پس و پیش سے کام لے کر دہشتگردی کے خاتمے میں ناکام رہے تو قومی تاریخ کے کٹہرے میں ہم مجرم ٹھہریں گے۔

مورخہ 19.1.2015 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) فخر افغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی برسی کی تقریب لاہور پریس کلب میں اے این پی پنجاب کے صدر منظور احمد کی زیرصدارت انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جنرل سیکرٹری جہانگیر خان نے ادا کیے۔ برسی کی تقریب میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں پاکستان ورکرز پارٹی کے عابد حسین ، تحریک استقلال کے منظور ، پیپلز پارٹی سے نوید احمد ، اے این پی سابق مرکزی جنرل سیکرٹری احسان وائین کے علاوہ خواتین ، پارٹی کارکنوں اور عقیدت مندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور اس ناسور کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے اتفاق اور اتحاد کی فضا بن رہی ہے جسے ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو نیشنل ایکشن پلان کے مطابق تمام وہ اقدامات اُٹھانے ہونگے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ ہ جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ اچھے اور برے دہشتگرد کا فرق دراصل دہشتگردی کو دوام بخشتی رہی ہے اور ملک مزید ایسی غیر منطقی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہی ہوتا ہے اور کوئی بھی سابقہ یا لاحقہ اس کے معنی تبدیل نہیں کرسکتے اور اگر ریاستی اور حکومتی سطح پر اس سوچ میں تبدیلی آ چکی ہے کہ اچھے اور برے طالب یا دہشتگرد کی تفریق کے بغیر ایک جامع کارروائی ہونی چاہیے تو یہ نہایت خوش آئند ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی صرف فاٹا یا پختونخوا کے کچھ حصوں میں آپریشنز سے ختم نہیں ہو گی بلکہ پورے ملک میں اور بالخصوص پنجاب میں دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورکس ، اُن کے رابطہ کاروں اور سلیپر سیلز کو ایک جامع آپریشن سے ایک ساتھ ٹارگٹ کرنا ہوگا۔تاکہ دہشتگردوں کی قوت اور نظم ٹوٹ سکے۔
اُنہوں نے کہا کہ آج سے چالیس برس پہلے باچا خان اور ولی خان بابا مسلسل ملک اور قوم کو آنے والی تباہی اور نقصانات سے آگاہ کرتے رہے اور عوامی نیشنل پارٹی نے مسلسل آواز اُٹھائی کہ پرائی جنگوں اور پراکسی وارز سے اجتناب کرنا چاہیے اور بین الاقوامی اور علاقائی کشمکشوں سے ایک طرف ہو کر اپنی عوام اورملک پر توجہ دینا چاہیے تو ہمیں صرف غداری کے الزامات ملے ۔ ولی خان بابا نے بارہا کہا کہ دوسروں کے گھروں میں بم پھینکنے کے جواب میں ہمیں پھولوں کے گلدستوں کی توقع نہیں کرنی چاہیے لیکن قومی بیانیے میں ہماری اور اس دھرتی کی حقیقی سیاسی آواز کو مسلسل دبانے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن آج تاریخ نے ثابت کر دیا کہ فخر افغان بابا باچا خان اور ولی خان بابا کی فکر ہی دراصل ملک دوستی اور عوام دوستی پر مبنی تھی۔ اور آج موجودہ حالات میں جو فضا بنی ہوئی ہے وہ ہماری سوچ کی عکاسی کرتی ہے لیکن افسوس کہ اس حقیقت پر آنے کیلئے ہمیں ہزاروں پختونوں اور پاکستانیوں کی قربانی دینی پڑی۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی اب ایک علاقائی شکل اختیار کر چکی ہے لہٰذا ہمیں ریاستی طورپر دیگر ممالک بالخصوص افغانستان کیساتھ ایک صفحے پر ہو کر ایک فیصلہ کن جنگ لڑنی چاہیے تاکہ ہمارا معاشرہ اور آنے والی نسل دہشتگردی کے سنگین خطرات اور نقصانات سے بچ سکیں۔

مورخہ : 19.1.2015 بروز پیر

پشاور (پ ر) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ کی زیر قیادت ہزارہ ڈویژن کا دورہ کیا۔ اور ضلع ہریپور اور بٹگرام میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی منعقدہ پروگراموں میں شرکت کی۔ صوبائی سینئر نائب صدر گلزار خان ، صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری اور سیکرٹری مالیات بشیر خان اُن کے ہمراہ تھے۔ ہریپور میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما فیاض خان کی رہائش گاہ پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ضلعی صدر احسن علی کی زیر صدارت اجلاس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر ارم فاطمہ اور ضلعی صدر شوکت مشوانی اور نیشنل یوتھ کے ممبران اور عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن اور بالخصوص ہریپور پختونخوا کا ایک اہم حصہ ہے۔ اور ہزارہ کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو اپنے بہتر سیاسی اور معاشی مستقبل کیلئے اے این پی ہی کے پرچم تلے متحد ہو نا ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ آج پورا ملک دہشتگردی کی آفت سے نجات کیلئے باچا خان بابا اور اے این پی کے مؤقف اور پالیسی کو ایک جامع حل تصور کرتی ہے جو پختون قومی تحریک کی سیاسی ویژن اور دانش کا ثبوت ہے۔ تقریب کے آخر میں سانحہ پشاور کے معصوم شہداء کو خراج عقیدت اوراُن کی یاد موم بتیاں روشن کی گئیں۔ اجلاس سے نیشنل یوتھ کے ضلعی صدر احسن علی، ارم فاطمہ ، شوکت مشوانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ صوبائی کابینہ نے بعد میں ضلع بٹگرام کا ضلعی دورہ کیا۔ اے این پی کے ضلعی سیکرٹریٹ میں ضلع بٹگرام کی ضلعی کابینہ کے انتخاب کیلئے الیکشن کا انعقاد کیاگیا اور نتائج کے مطابق ولی خان صدر اور نیاز الحق جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے۔ نتائج کے بعد اجلاس سے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ ، گلزار خان اور حسن بونیری اے این پی کے ضلعی صدر ایاز خان اور دیگر نے خطاب کیا اور منتخب کابینہ کو مبارکباد دی۔ مقررین نے کہا کہ ضلع بٹگرام کی ترقی کیلئے اے این پی نے پچھلے دور حکومت میں ٹھوس اقدامات اُٹھائے اور ضلع میں غربت کے خاتمے اور دیگر مسائل کا حل اے این پی اپنا فرض اولین سمجھتی ہے۔

مورخہ 19.1.2015 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی برسی کی تقریبات صوبے کے تمام اضلاع اور قبائلی علاقہ جات میں درج ذیل تاریخوں کے مطابق ہونگے۔ اے این پی کے صوبائی ترجمان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک کے مطابق برسی کا مرکزی پروگرام 26 جنوری کو ولی باغ چارسدہ میں منعقد ہوگا۔ جس میں صوبائی کونسل کے تمام ارکان ، مرکزی اور صوبائی قائدین شرکت کرینگے۔
باچا خان بابا اور عبدالولی خان بابا برسی شیڈول
پشاور
23 جنوری
2 بجے دوپہر
باچا خان مرکز

سٹی ڈسٹرکٹ پشاور
23 جنوری
2 بجے دوپہر
باچا خان مرکز

چارسدہ
24 جنوری
11 بجے صبح
مردان روڈ

مردان
20 جنو ری
10 بجے صبح
عباس ثانی حجرہ ضلعی دفتر مردان

صوابی
25 جنوری
10 بجے صبح
گل زمین شاہ حجرہ

بونیر
25 جنوری
10 بجے صبح
محمد کریم بابک صاحب حجرہ

نوشہرہ
24 جنوری
2 بجے دوپہر
کلیم آباد شاہد خٹک حجرہ

ملاکنڈ
22 جنوری
2 بجے دوپہر
ضلعی دفتر بٹ خیلہ ملاکنڈ

دیر پائین
24 جنوری
11 بجے صبح
تیمرہ گرہ

دیر بالا
25 جنوری
10 بجے صبح
باچا خان سکول

سوات
25 جنوری
2 بجے دوپہر
خپل کور ماڈل سکول مینگورہ

چترال
22 جنوری
10 بجے صبح
ٹاؤن ہال

بٹگرام
24 جنوری
11 بجے صبح
بٹگرام مین بازار منیر پولیس سٹیشن

مانسہرہ
25 جنوری
2 بجے دوپہر
ٹاؤن کمیٹی ہال مانسہرہ

ایبٹ آباد
24 جنوری
3 بجے دوپہر
راملینا ہوٹل

ہریپور
25 جنوری
3 بجے دوپہر

کوہاٹ
24 جنوری
2 بجے دوپہر
باچا خان لائبریری کوہاٹ

ہنگو
25 جنوری
11 بجے صبح
قاضی پمپ ہنگو

کرک
22 جنوری
10 بجے صبح
ضلعی سیکرٹریٹ اے این پی

بنوں
24 جنوری
10 بجے صبح
باز محمد خان رہائش سٹی بنوں

لکی مروت
24 جنوری
10 بجے صبح
سرائے نورنگ

ٹانک
20 جنوری
10 بجے صبح
ضلعی دفتر اے این پی

ڈیرہ اسماعیل خان
23 جنوری
2 بجے دوپہر
ڈسٹرکٹ کچہری بار روم ہال
24
تورغر
24 جنوری
11 بجے صبح
سب ڈویژن کنڈر تورغر پلوسہ

چارسدہ (صوبائی پروگرام) 26 جنوری 10 بجے صبح ولی باغ چارسدہ

مورخہ 19 جنوری 2015ء بروز پیر

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ باچا خان جنگ آزادی کے ہیرو اور پختون قوم کے عظیم سپوت تھے‘ 23 جنوری بروز جمعتہ المبارک کو بوقت 02:00 بجے فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی سٹی ڈسٹرکٹ اور ڈسٹرکٹ پشاور کے زیر اہتمام باچا خان مرکز میں منائی جائے گی‘ انہوں نے کہا کہ باچا خان کے عدم تشدد فلسفہ پر عمل کیا جاتا تو آج یہ خطہ عدم تحفظ کا شکار نہ ہوتا‘ پاکستان اور افغانستان آج تباہی کے دہانے پر نہ کھڑے ہوتے‘ ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ برصغیر کی آزادی میں جن لوگوں نے اہم رول پلے کیا ہے ان کے کردار کو فراموش کر دیا گیا ہے اور ایسے کرداروں کو نمایاں کیا گیا ہے جو فرنگیوں کے کاسہ لیس تھے باچا خان نے برصغیر کی آزادی میں جو نمایاں کردار ادا کیا تھا پاکستان بننے کے بعد ان کی فہم و فراست اور سیاسی بصیرت سے حکمران کچھ بھی حاصل کرنے سے ناکام رہے اور اس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑا‘ باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک نے جنگ آزادی میں اہم رول پلے کیا لیکن آزادی ملنے کے بعد باچا خان جیسی اہم قیادت کو فراموش کر دینا ایک قومی المیہ سے کم نہ تھا اور آزادی کے بعد ملک کی خارجہ اور داخلی پالیسی ملک کی حقیقی قیادت کے پاس نہ رہ سکی جس کی بہت بڑی قیمت قوم کو ادا کرنا پڑی‘ انہوں نے کہا کہ آج خرابی بسیار کے بعد عسکری قیادت اور سیاسی قیادت فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی پیشنگوئیوں کے حوالے سے کسی بھی ابہام میں مبتلا نہیں ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایک پیج پر متفق ہے یہ باچا خان اور عبدالولی خان کی سیاست فتح کا منہ بولنا ثبوت ہے‘ آخر میں ملک غلام مصطفی نے عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت کہ23 جنوری کو ان اہم شخصیات کی برسی نہایت احترام و عقیدت کیساتھ منائی جائیگی لہٰذا ان عظیم رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے باچا خان مرکز میں اپنی بروقت حاضری یقینی بنائیں۔

مورخہ: 19/01/2015
پریس ریلیز
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے خان عبدالغفار خان کی برسی کی تقریب جلال آباد میں باچا خان بابا کے مزار پر منانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں پختون ایس ایف کا نمائندہ وفد صوبائی صدر سردار فخر عالم کی قیادت میں باچا خان بابا کے مزار پر حاضری دے گا ،وفد کے دیگر ارکان میں صوبائی کابینہ کے دیگر ممبران سمیت تمام ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریز بھی شامل ہوں گے ، برسی کے موقع پر مزار پر اکابرین کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا جائے گا ،اور پختون قوم کیلئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، سردار فخر عالم نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ باچا خان کی برسی جلال آباد میں باچا خان کے مزار پر منانے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے ۔

باچا خان ایک عظیم پختون رہنما
بطل حریت خان عبدالغفار خان 1880 ء میں اتمانزئی(چارسدہ) کے مردم خیز سرسبز و شاداب خطے میں بہرام خان کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کاندانی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ انڈین آرمی میں شمولیت پر رضامند ہوئے۔ لیکن ایک انگریزفوجی آفسر نے ایک مقامی فوجی سے نہایت ہتک آمیز سلوک کیا اس ناروا روئیے سے دلبرداشتہ ہو کر اُنہوں نے انڈین آرمی میں شمولیت کا ارادہ ترک کر دیا۔ بعد میں اُن کو اعلیٰ تعلیم کیلئے لندن بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اُن کے برے بھائی ڈاکٹری کی تعلیم کیلئے بیرون ملک گئے تھے اس لیے والدہ نے دوسرے بیٹے کو لندن جانے سے منع کر دیا۔ ان دونوں فیصلوں نے اُن کی زندگی پر دوررس نتائج مرتب کیے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک بہت بڑا کام لینا تھا اس لیے نہ اُنہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور نہ وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے لندن گئے۔ ان حالات میں وہ ارد گرد رونما ہونے والے واقعات کا جائزہ لیتے رہے۔ ان کی سوچ کا محور یہ تھا کہ انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی کوششیں کیوں کامیاب نہیں ہوتی ہیں۔ بالآخر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ پختون قوم متشددانہ ذہنیت کے لوگوں پر مشتمل ہے اور انگریز جیسی جابر قوم سے پر تشدد تحریکوں سے آزادی حاصل کرنا محال ہے اس لیے اُنہوں نے سماجی سدھار کا راستہ اپنایا۔ اپنی کرشماتی شخصیت اور دلنشین انداز بیان سے پختونوں کو خدائی خدمتگار تحریک کے جھنڈے تلے جمع کیا۔ صوبے کے ہر گوشے میں عدم تشدد اور سماجی سدھار کا پیگام پہنچایا لوگ جوق درجوق ان کے جلسوں میں جمع ہوتے تھے۔ خدائی خدمتگار تحریک اور عدم تشدد کے فلسفے کی وضاحت کرتے ہوئے اُنہوں نے ایک موقع پر فرمایا میں آپ کو ایک ایسا ہتھیار دے رہا ہوں کہ فوج اور پولیس آپ کے مقابل کھڑے نہیں ہو سکتے۔ یہ ہتھیار ہمارے پیغمبرﷺ نے بھی استعمال کیا۔ لیکن آپ اس ہتھیار کی حکمت سے بے خبر ہیں۔ یہ ہتھیار صبر ، استقامت ، عدم تشدد اور سچائی کی ہتھیار ہے۔ دُنیا کی کوئی طاقت اس کے سامنے نہیں تھہر سکتی۔ پختون دیوانہ وار اس تحریک میں شامل ہوتے گئے کم و بیش دو لاکھ افراد اس تحریک کے سرفروش اور جانباز سپاہی بن گئے انگریزوں کو خطرہ محسوس ہوا۔ اُنہوں نے اس تحریک کو کچلنے کیلئے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور آپ کے ساتھیوں کو جیل میں ڈالنا شروع کیا۔ ان حالات میں وہ مجبور ہو گئے اور 1935 کے لگ بھگ انڈیان نیشنل کانگریس سے اتحاد کر لیا۔ یہ اتحاد 1947 تک قائم رہا جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اُنہوں نے 23 فروری 1948 میں پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے رکن کے طور پر حلف اُٹھایا اور تقسم ہند سے پہلے کے واقعات کو بھلادیا۔ لیکن بدقسمتی سے اس وقت اقتدار میں ایسے افراد تھے جنہوں نے ان کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد کافی عرصہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ باچا خان ایک ہمہ جہت اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ آپ خواتین کے حقوق کے علمبردار اور عدم تشدد کے فلسفے کے پیروکار تھے وہ اس معاشرے میں ہیرو بن گئے۔ جس میں تشدد کا زہر پھیل چکا تھا۔ لیکن اُنہوں نے ان لوگوں کو عدم تشدد کا درس دیا۔ اور اکثر پختونوں نے ان کی آواز پر لبیک کہا۔ آپ پختونوں کی جملہ خرابیوں کی جڑ تعلیم کی عدم موجودگی قراردیتے تھے اس کیلئے اُنہوں نے قومی سکولوں کا جال بچھا دیا۔ یہ کام حکومتیں نہیں کر سکتی تھیں۔ لیکن آپ نے خدائی خدمتگاروں کے تعاون سے یہ ناقابل یقین کارنامہ سرانجام دیا۔ 1980 ء کی دہائی میں جب افغانستان میں اقتدار کیلئے رسہ کشی شروع ہوئی تو اُنہوں نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ یہ امریکہ اور روس کی لڑائی ہے اور پختون اس میں مینڈکوں کی طرح کچلے جا رہے ہیں لیکن ان کی یہ آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی اور اب دُنیا نے اسی نظرئیے کی صداقت کو مان لیا اور ہم پختون بالخصوص اور پاکستان بالعموم اس جنگ کے برے اثرات کی لپیت میں ہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ خون، بارود اور لوہے کا یہ کھیل کب تک جاری رہے گا۔ پختونوں کا یہ عظیم رہنما 20 جنوری1988 کو اس دار فانی سے کوچ کر گیا اور مورخہ 20 جنوری تا 26 جنوری تمام خیبر پختونخوا میں ان کی 27 برسی منا رہے ہیں۔

مورخہ18جنوری2015بروز اتوار
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے ویڈیو جرنلسٹس کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے رضوان شیخ کو صدر اور ذکاء اللہ کو جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے ، اے این پی سیکرتریٹ سے جاری ایک تہنیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے نو منتخب صدر اور ان کی تمام کابینہ کو عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ نو منتخب کابینہ صحافی برادری کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھے گی ،انہوں نے کہا کہ صحافی برادری نے اپنی مشکلات کے ازالے اور مسائل کے حل کیلئے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے تاہم اب یہ ان کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے کہ صحافیوں کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جائے تاکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ امور پہلے سے بھی بہتر انداز میں انجام دے سکیں ۔

مورخہ18جنوری2015بروز اتوار
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے اے این پی شیر گڑھ کے سرگرم کارکن اسماعیل سالار کی والدہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ،پارٹی رہنماؤں نے اسماعیل سالار سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں ، انہوں نے مرحومہ کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کیلئے دعا بھی کی ۔

مورخہ 17.1.2015 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کو دہشتگردی کے خلاف اور امن کے قیام کے سلسلے میں ایوارڈ سے نوازا جائیگا۔ ایوارڈ کی یہ تقریب کل بروز اتورار لاہور میں منعقد ہوگی جس میں انسانی حقوق کے چیئرمین اور ممتاز قانون دان ایس ایم ظفرجیوری کے فیصلے کے مطابق اے این پی کے مرکزی جنرل سکرٹری میاں افتخار حسین کو ایوارڈ دینگے۔

مورخہ : 17.1.2015 بروز ہفتہ

پشاور : ( پ ر ) پشاور شہر کے مصروف ترین بازار گھنٹہ گھر بازار میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران گزشتہ روز کرین کے نیچے دب کر جاں بحق ہونے والے تین مزدوروں کے احتجاج کے سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ میں حاجی غلام احمد بلور ، بیرسٹر ہارون احمد بلور ، سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی ، جنرل سیکرٹری سرتاج خان کے علاوہ وارڈوں اور تنظیموں کے عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اُنہوں نے اس المناک واقعے کی شدید الفاظ میں مزمت کی اور جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں حکومت کی ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے لیکن حکومت اپنے فرائض منصبی سے مکمل طور پر غافل ہے اور عوام کو تحفظ دینے کی بجائے اُن کو مروا رہی ہے۔
اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور اُن کو قرار واقعی سزا دیکر اُن کو اُنکے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

مورخہ : 16 جنوری 2015 بروز جمعۃ المبارک

پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ کپتان ملک وقوم پر رحم کریں یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ پاکستان کی بقاء کے لئے باہمی اتحاد اوراتفاق کا ہے ،ظالم کو ظالم کہنے اور مظلوم کا ساتھ دینے پراے این پی کو کبھی غدار کہاگیا تو کھبی پختونوں کے سروں کاسودا کرنے کے الزاما ت برداشت کرنا پڑے وزیراعلیٰ نے شہداء کے خاندانوں کے زخموں پر مرہم کی بجائے نمک پاشی کی، اس دفعہ بکسے رکھے گئے تو پختون قوم تبدیلی کے دعویداروں سے حساب کتاب برابر کردیں گے وہ یونین کونسل بغدادہ مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطا ب کررہے تھے جس میں اخترخان ،مشتاق ،امتیاز خان اورنعیم خان نے مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکراپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی سے مستعفی ہوکرعوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیاپارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اور جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان،مفید خان اور ملک الیاس نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے نئے شامل ہونے والے افراد کو ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارک باددی انہوں نے کہاکہ جب شمالی وزیرستان کے آئی پی ڈیز آئے تو کپتان کنٹینر پر چڑھ گئے جب سکول کا واقعہ پیش آیا تو عمران خان نے احتجاج کی کال دے دی انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز عمران خان کے دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے شہداء کے خاندانوں کے زخموں پر مرہم کی بجائے نمک کی اورشہدا ء کے خاندانوں کو غیر شائستہ اور نازیبا الفاظ استعمال کئے انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات احتجاجی سیاست کی متحمل نہیں حالات کاتقاضاہے کہ تمام جماعتیں دہشت گردی اورانسانیت کے دشمنوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے موقف کو پہلے تسلیم کیاجاتا توہمیں اس قدر بڑی قیمت نہ چکانا ہوتی انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف اصولی موقف پر مخالفین نے ہم پرکبھی غدار تو کبھی امریکہ کے حلیف اور پختونوں کے سروں کا سودا کرنے کے الزاما ت لگاتے رہے امیرحیدرخان ہوتی نے کپتان لاہور اور اسلام آباد کی کرسی کی جنگ چھوڑ دیں اوریہ وقت پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اوراس میں تمام پارٹیوں کو ایک پیج پر جمع ہونا ہوگا اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ہم نہ اسلام آباد اورہی لاہور کا اقتدارچاہتے ہیں ہمار ا مقصد پختون قوم کی خدمت ہے اوراس مقصد کے لئے چترال سے ڈیر ہ اسماعیل خان تک پختونوں کو سرخ تلے جھنڈے اکھٹا کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ ان پر سیاسی مخالفین الزامات لگاتے رہے کہ تمام صوبے کا فنڈ مردان کو منتقل کیا ہے لیکن انہوں نے کبھی کسی دوسرے ضلع کا حق نہیں چھینا بلکہ مردان کو اس کا حق دے کر 65سالہ محرومیوں کا ازالہ کیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مردان کو روشنیوں کا شہر بنادیاہے انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے جھوٹے دعویداروں کی یہ حالت ہے کہ اس حلقے کے منتخب رکن جو صوبائی وزیر تعلیم بھی ہیں لیکن گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک پرائمری سکول میں کمرہ تک تعمیر نہیں کیا ہم نے اقتدار کے پہلے سال مردان میں یونیورسٹی قائم کی اورعوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا انہوں نے کہاکہ عمران خان اب تبدیلی کے نعرے لگارہے ہیں جبکہ اے این پی نے پانچ سال قبل صوبے میں خیبرپختون خوا میں تبدیلی لاکر دکھائی اورصوبے کو نام کے شناخت ،این ایف سی ایوارڈ سمیت مرکز سے وہ تمام مراعات لی ہیں جو گذشتہ ساٹھ سالوں میں کسی بھی صوبائی حکومت نے حاصل نہیں کئے تھے انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان لے کر 2008تک خیبرپختون خوا میں صرف نو یونیورسٹیاں تھی اے این پی کے دور اقتدار کے پانچ سال میں ہم نے9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔

کراچی ۔16 جنوری 2015ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ 16 دسمبر 2014 ملکی تاریخ کا انتہائی کرب ناک دن ہے وحشی درندوں نے معصوم بچوں کو خو ن میں نہلاادیا تھا،قوم کے دل پر اتنا بھیانک وار آج تک کسی نے نہیں کیا، اگر ہم بحیثیت قوم متحد نا ہوئے تو اس سے بھیانک واقعات ہمارا مقدر ہوں گے،ننھے شہیدوں کے والدین کی دلجوئی انتہائی مشکل ہے مگر دہشت گردوں کو عبرت ناک سزا دیکر کسی حد تک ان کے والدین کا درد کم کیا جاسکتا ہے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے یہ بلا ہرگز نہیں ٹلے گی ،سانحہ پشاور کے ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ سانحہ پشاور نے خاصی حد تک قومی اور سیاسی سوچ کو بدل دیا ہے مگر قومی اتفاق کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے قوم کے ہر فرد کو پنا کردار ادا کرنا ہوگاتبھی دہشت گردی کے اس عفریت سے ہماری جان چھوٹے گی واقعے میں ملوث دہشت گرد اور ا ن کے خیر خواہ خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے،اگر اس سانحے کو سیاست کی نذر کردیا گیا تو روز محشر معصوم شہیدوں کا گریبان ہم سب کے گریبانوں پر ہوگا،ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سرزمین وطن کو دہشت گردوں اور ان کے خیر خواہوں کے ناپاک وجود سے پاک کریں گے عوام آئندہ ووٹ دینے سے پہلے دہشت گردی کے خلاف موقف کو مد نظر رکھنا ہوگادہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری قومی جنگ ہے جس میں سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔

کراچی ۔16جنوری 2015

عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید کی فرانسیسی سفارت خانے کے باہر مظاہرے کے موقع پر گولیاں لگنے سے غیر ملکی نیوز ایجنسی کے فوٹو گرافر آ صف حسن اور نجی ٹیلی ویژن کے کیمران مین عدیل کے زخمی ہونے پر اظہار افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔

کراچی ۔16 جنوری 2015ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ 16 دسمبر 2014 ملکی تاریخ کا انتہائی کرب ناک دن ہے وحشی درندوں نے معصوم بچوں کو خو ن میں نہلاادیا تھا،قوم کے دل پر اتنا بھیانک وار آج تک کسی نے نہیں کیا، اگر ہم بحیثیت قوم متحد نا ہوئے تو اس سے بھیانک واقعات ہمارا مقدر ہوں گے،ننھے شہیدوں کے والدین کی دلجوئی انتہائی مشکل ہے مگر دہشت گردوں کو عبرت ناک سزا دیکر کسی حد تک ان کے والدین کا درد کم کیا جاسکتا ہے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے یہ بلا ہرگز نہیں ٹلے گی ،سانحہ پشاور کے ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ سانحہ پشاور نے خاصی حد تک قومی اور سیاسی سوچ کو بدل دیا ہے مگر قومی اتفاق کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے قوم کے ہر فرد کو پنا کردار ادا کرنا ہوگاتبھی دہشت گردی کے اس عفریت سے ہماری جان چھوٹے گی واقعے میں ملوث دہشت گرد اور ا ن کے خیر خواہ خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے،اگر اس سانحے کو سیاست کی نذر کردیا گیا تو روز محشر معصوم شہیدوں کا گریبان ہم سب کے گریبانوں پر ہوگا،ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سرزمین وطن کو دہشت گردوں اور ان کے خیر خواہوں کے ناپاک وجود سے پاک کریں گے عوام آئندہ ووٹ دینے سے پہلے دہشت گردی کے خلاف موقف کو مد نظر رکھنا ہوگادہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری قومی جنگ ہے جس میں سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔

مورخہ : 16 جنوری 2015 بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے فوجی عدالتوں کو تسلیم کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچا خان مرکز میں باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی برسی کے حوالے سے منعقدہ اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے طویل عرصہ قبل کہا تھا کہ اچھے برے طالبان کے درمیان تمیز نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن کسی نے اُس وقت ہماری بات تسلیم نہ کی ۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ آج تمام عسکری اور سیاسی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ اچھے اور برے طالبان کے درمیان تمیز ختم کر دی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگرد صرف وزیرستان بشمول صوبہ خیبر پختونخوا میں نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان میں موجود ہیں۔ تاہم اپریشن بلاتفریق پنجاب سمیت ملک بھر میں ہونا چاہیے اُنہوں نے کہا کہ پنجاب کا دہشتگرد ایجوکیٹڈ ہے اور وہ وردیاں بدل بدل کر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب میں موجود دہشتگردوں کے اُستادوں کا پہلے خاتمہ ہونا چاہیے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی مدارس کے خلاف نہیں بلکہ اُس کے غلط استعمال کے خلاف ہیں۔ جبکہ 1985 میں ولی خان بابا نے مدارس کا آڈٹ کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن اور آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ دہشتگردی کو سپورٹ کرنے والے مدارس کا قلعہ قمع کیا جاسکے۔ ملک کی خارجہ پالیسی کے بارے میں میاں افتخار حسین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضیاء الحق کی خارجہ پالیسی سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے لہٰذا اس پالیسی پر نظر ثانی کر کے اسے ازسر نو تشکیل دیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی حکومت کے دوران دہشتگردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ تسلیم کیا تھا۔ لیکن اُس وقت مخالفین نے ہمارے گریبانوں میں ہاتھ ڈالا لیکن آج وہی مخالفین اے این پی کی پالیسیوں کی تقلید کر رہے ہیں۔
اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی اور جنرل سیکرٹری سرتاج خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی برسی 23 جنوری کوباچا خان مرکز پشاور میں انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائیگی۔ اُنہوں نے تمام تنظیموں سے برسی کی تقریب سے شرکت کی استدعا کی۔اجلاس کے آخر میں فرانسیسی اخبار میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے خلاف ایک مذمتی قرار داد بھی پیش کی گئی جس کی تمام شرکاء نے متفقہ طور پر حمایت کی۔

مورخہ : 15.1.2015 بروز جمعرات

پشاور( پ ر ) اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی خان نے کہاہے کہ ملک بچانے کے لئے غیر معمولی فیصلے کرنا وقت کی ضرورت ہے اوراس کے لئے ہمیں تلخ گھونٹ پینے ہوں گے عمران خان کے خلاف احتجاج مکافات عمل ہے اے این پی کو ملوث کرنا بدنیتی ہے، تین ماہ تک احتجاجی دھرنے دینے والے کپتان ایک گھنٹے کا احتجاج برداشت نہ کرسکے 21ویں ترمیم کے آخری وقت تک خلاف تھے ،ملک بچانے کے لئے تلخ فیصلے کاساتھ دیا ،معصوم بچوں کے خون کے بعد بھی بیداری نہ آئی تو یہ بدقسمتی ہوگی وہ مردان میں صمد خان ہوتی کی والدہ کے وفات پر تعزیت اورفاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے اے این پی خیبرپختون خوا کے صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ،احمدبہادرخان ایم پی اے ،حمایت اللہ مایار ،لطیف الرحمان ،جاوید یوسفزئی بھی اس موقع پر موجود تھے اسفندیارلی خان نے کہاکہ آرمی پبلک سکول پر حملے کی ذمہ داری کپتان فوج پر ڈالنا چاہتے ہیں لیکن میں کپتان سے پوچھنا چاہتاہوں کہ دہشت گردسکول میں پیراشوٹ کے ذریعے داخل ہوئے یا اس سرزمین کو استعمال کرکے داخل ہوئے تھے اس کے لئے میں کس کو ذمہ دار ٹھہراؤں جنرل راحیل شریف کو یا وزیراعلیٰ پرویزخٹک کو، اے این پی کے سربراہ نے کہاکہ عمران خان ڈی چوک میں تین ماہ تک دھرنا دے کر لوگوں کو گالیاں دیتے رہے لیکن خود ایک گھنٹہ کی احتجاج برداشت نہیں کرسکتے انہوں نے کہاکہ احتجاج کے دوران شہیدوں کے لواحقین اورخواتین کو وزیراعلیٰ اور سپیکر نے ننگی گالیاں دیں اور پختون روایات کا مذاق اڑایا گیا انہوں نے کہاکہ کپتان کے خلاف احتجاج کا الزام اے این پی پر لگایاجارہاہے لیکن اگر اے این پی احتجاج کرتی تواس کی قیادت امیرحیدرہوتی اور میاں افتخار کرتے اور پھر حالات ایسے نہ ہوتے انہوں نے کہاکہ کون بدبخت ہوگا کہ وہ معصوم شہیدوں کے خون پر سیاست کرے گا انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اکسیویں ترمیم پر تمام پارٹیوں کوترمیمی مسودہ فراہم کیاگیا اجلاس میں تمام پارٹیاں اکسیویں ترمیم پر متفق تھیں لیکن اب مذہبی جماعتیں باہر آکر واویلا کرنے لگی ہیں ہم بھی آخری وقت تک ترمیم کے خلاف تھے لیکن فوج آئینی تحفظ مانگ رہی تھی اورہم نے ٹوٹے دل سے ترمیم کا ساتھ دیا انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ہماری اپنی جنگ ہے اوریہ پاکستان کی بقاکی جنگ ہے اس لئے تمام پارٹیوں اورحکومت کو باہمی اتحاد واتفاق کا مظاہر ہ کرناہوگا انہوں نے کہاکہ اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامناہے اگر ہمارے بزرگوں کی بات مان لی جاتی تو اس قدر بھاری قیمت ادا نہ کرناپڑتی انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کو جڑ اکھاڑنے کے لئے پاکستان اورافغانستان کے د رمیان اعتمادکی فضا قائم ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کو ریاستی سطح پر اس کے خلاف مربوط کوششیں جاری رکھناہونگی ۔

مورخہ15جنوری2015بروز جمعرات
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کی خواتین نائب صدور اور جائنٹ سیکرٹریز کے ایک وفد نے پاکستان میں افغانستان کے سفیر جانان موسیٰ زئی سے ملاقات کی ہے ، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور زیر غور آئے ، افغان سفیر نے امن کیلئے اے این پی کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا اور امن مشن میں خواتین کے کردار کے حوالے سے وفد کی اراکین کو افغانستان کے دورے کی دعوت دی دورے کے دوران خواتین کا وفد افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر عبداللہ عبداللہ سمیت افغان خواتین پارلیمنٹیرینز اور دیگر سیاسی قائدین سے بھی ملاقات کرے گا ،اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ملکوں کی خواتین تعلیم اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق باہمی تعلقات کو فروغ دیں گی۔اور خطے میں امن کے قیام کیلئے کوششوں کو فروغ دیا جائے گا۔

مورخہ : 14.1.2015 بروز بدھ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ پختون دہشتگردی کے خلاف آپس میں متحد ہو جائیں اور عمران خان تختہ لاہور اور تختہ اسلام آباد کی حکمرانی کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ڈینز کمپلیکس پشاور میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں حاجی جہانزیب ، حاجی مشتاق ، حاجی نثار خان ، حاجی عبداللہ ، حاجی مطہر علی ، بشیر خان اور جمشید خان سمیت درجنوں افراد نے مختلف سیاسی پارٹیوں سے مستعفی ہو کر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
امیر حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کا آغاز روس امریکہ جنگ کے دوران ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین باچا خان بابا اور ولی خان بابا نے اُسی وقت یہ کہہ دیا تھا کہ اس جنگ کا حصہ بننے سے گریز کیا جائے ورنہ یہ آگ ہمارے گھروں میں داخل ہو جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر اس وقت ہمارے اکابرین کی بات مان لی جاتی تو آج پختونوں کا خون نہ بہتا۔ اُنہوں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ آج پوری دُنیا اور خاص طور پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں عوامی نیشنل پارٹی کی پالیسیوں کی تقلید کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان شہیدوں کے خون پر سیاست نہ کریں بلکہ یہ ظلم اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہونے اور آواز بلند کرنے کا وقت ہے۔ امیر حیدر ہوتی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کاتفصیلی ذکر کیا اور کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر صوبے کی ساٹھ سالہ سیاسی تاریخ میں 46 گرلز کالجز اور 9 سرکاری یونیورسٹیاں بنائیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے صرف پانچ سال میں خواتین کیلئے 46 کالجز اور 9 سرکاری یونیورسٹیاں بنائیں۔ اُنہوں نے باچا خان روزگار سکیم اور سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کے علاج کیلئے ادویات کی مفت فراہمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ عمران خان کے کینسر ہسپتال کیلئے بھی زمین کی مفت فراہمی کا سہرا بھی عوامی نیشنل پارٹی کے سر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں اٹھارویں ترمیم کی شناخت حاصل کی۔ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سیاسی مخالفین نے گزشتہ ایک سال کے دوران عوام کو یہ تاثر دیا کہ عوامی نیشنل پارٹی سیاست سے باہر ہو گئی ہے تاہم ہم نے ریکارڈ فارم سازی اور ورکرز کنونشن کے بعد ثابت کر دیا ہے کہ اے این پی صوبے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف بننے والی یکجہتی کی فضا خراب نہیں ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاسی عسکری قیادت دہشتگردی کے خلاف ایک پیج پر متفق ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کا وقت آچکا ہے۔ اُنہوں نے عمران خان کی پشاور آمد کے موقع پر ہونے والی بدنظمی کا ذکر کیا اور کہا کہ سیاسی جماعت کے رہنما کو شہید بچوں کے والدین کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک زیب نہیں دیتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بدنظمی کا الزام اے این پی پر لگانا کسی صورت درست نہیں کیونکہ اے این پی سیاست میں اخلاقیات کی قائل ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے اور شہداء کے خون پر سیاست نہ چمکائے۔ اُنہوں نے سانحے پشاور کے پانچ ملزمان کی افغانستان سے گرفتاری پر افغان حکومت کو مبارکباد پیش کی۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن صرف صوبہ پختونخوا میں نہیں بلکہ پنجاب سمیت پورے پنجاب میں بلا تفریق ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے اصل اُستاذ پنجاب میں ہیں۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور اب کسی بھی میدان میں کلین سویپ کرینگے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی قائمقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی دہشتگردوں کے آگے جھکنے والی جماعت نہیں ہے۔ ہمیں پانچ دن میں حکومت چھوڑنے کا کہا گیا۔لیکن ہم نے دہشتگردوں کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پشاور واقعے پر پوری قوم رنجیدہ ہے اور ان کے والدین کا دُکھ بانٹنے کی بجائے صوبائی حکومت نے اُن کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک کیا جو کہ انتہائی غیر اخلاقی رویہ ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے عمران خان کی آمد پر ہونے والی بد نظمی کا الزام اے این پی پر لگائے جانے کی مذمت کی اور اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی اخلاقیات کی قائل ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ترجمان پختونوں کے اقدار سے واقف ہی نہیں ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ الزامات کی بجائے شہداء کے لواحقین کے دُکھ میں شامل ہو جائیں۔ وزیر اعظم نے پنجابی ہونے کے ناطے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی کمانڈ خود سنبھالنے کا اعلان کیا۔ لہٰذا صوبے کا وزیر اعلیٰ کو بھی چاہیے کہ وہ پختون ہونے کے ناطے صوبے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کی کمانڈ خود سنبھالیں۔ اس موقع پر عالمگیر خان اور ملک نسیم نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ : 14.1.2015 بروز بدھ

سلام آباد، افغان قیادت پاکستان کے خدشات کے ازالہ کے لئے اقدامات اٹھا نے کے لئے تیار ہے، سنیٹر افراسیاب خٹک

اسلام آباد، پاکستان اور افغانستان کی سیاسی قیادت نے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ملکر مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیاہے اور اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لئے استعمال نہ ہونے، دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے فوری اور مسلسل اقدامات کرنے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ایک دوسرے کو مکمل مدد اور تعاون کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔

قومی راہنماوں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ افتاب خان شیرپاو کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء افراسیاب خٹک نے بھی افغان صدر اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور دیگر افغان قیادت سے علیحدہ علیحدہ ملاقا توں میں یہ فیصلہ کیا ۔

اس سلسلے میں بدھ کو سینیٹر افرسیاب خٹک نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ انہوں نے وزیراعظم کے مشیرخارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں انہوں نے سرتاج عزیز کو بتایاکہ افغان قیادت پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی دل سے حامی ہے اور پاکستان کے خدشات کے ازالہ کے لئے اقدامات اٹھا نے کے لئے تیار ہے اس کے ساتھ پاکستان سے توقع کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان بھی دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لئے بامقصد اقدامات اٹھائے گی ۔سینیٹر افراسیاب خٹک نے بتایا کہ انہوں نے حکومت پاکستان کو مشورہ دیاہے کہ افغانصدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان میں ہونے والے مشترکہ فیصلوں پر عملدرآمد تیز کیاجائے ۔ انہوں نے افغانستان میں پاکستان کے سفارتی پروفائل کو بلند کرنے پر بھی زور دیا تاکہ دونوں ممالک کی سیاسی اور ریاست کے درمیان مضبوط روابط ہو ں اور مستقبل کےحل بارے مفاہمت میں اضافہ ہو ۔افراسیاب خٹک نے کہاکہ حکومت پاکستان کی توجہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں موجود مسائل کیطرف دلاتے ہوئے انکے حل کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے کہاکہ افغان مہاجرین کے معاملے پر حکومت افغانستان کو اعتماد میں لے ۔

اس موقع پر سرتاج عزیز نے یقین دلایا کہ حکومت پاکستان افغان حکومت کے ساتھ ملکر دہشتگردی کے خطرے کے مقابلے کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے پہلی مرتبہ دونوں ممالک میں گہرے سیاسی روابط موجود ہیں اور دونوں ممالک کی عسکری قیادت نے بھی ایک دوسرے کو حساس معاملات پر اعتماد میں لیا ہے ۔ جس کے نتائج وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آرہے ہیں ۔

واضح رہے کہ سینیٹر افراسیاب خٹک نے اس سے قبل پارٹی صدر اسفند یار ولی اور دیگر قیادت کو اپنے حالیہ دورہ قابل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور افغان اعلی قیادت کا پیغام اسفند یار ولی کو دیا ۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیاکہ خطے کے سارے شراکتداروں کو یہ احساس ہو گیاہے کہ دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے مشترکہ طور پرہی نمٹا جا سکتاہے یہ وہ حقیقت ہے جس پر اے این پی عرصہ دراز سے زور دے رہی ہے ۔

مورخہ : 14.1.2015 بروز بدھ
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے ظاہر شاہ خان اوچ کو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا رکن نامزد کیا ہے۔ اے این پی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان کے مطابق پارٹی قائد نے گزشتہ روز ظاہر شاہ خان اوچ کو پارٹی کے اعلیٰ ادارے مرکزی مجلس عاملہ کا رکن نامزد کیا اور اس کی نامزدگی کا نوٹیفیکیشن پارٹی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے جاری کیاگیا۔

مورخہ : 14.1.2015 بروز بدھ

عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی ، صوبائی قائمقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک اور سید جعفر شاہ ایم پی اے نے اے این پی ضلع سوات پی کے 85 شاہگرام مدین کے پارٹی سرگرم کارکن حاجی سید کمین شاہ کی وفات پر گہرے غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ باچا خان مرکز پشاور سے اُنہوں نے اپنے مشترکہ جاریکردہ تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ مرحوم اے این پی کے ایک سرگرم اور فعال کارکن تھے اور پارٹی کیلئے اُن کی اور اُن کے خاندان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ وہ پارٹی کا ایک قیمتی اثاثہ تھے اور اُن کے جانے سے پارٹی ایک مخلص ، وفادار ، ایماندار اور دیانتدار پارٹی کارکن سے محروم ہو گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی اُن کی جدائی پر اُن کے خاندان سے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے اور مغموم خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔

مورخہ13جنوری2015بروز منگل
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی نے فخر افغان عبدالغفار خان اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی برسی کی تقاریب اضلاع کی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں برسی کی تقاریبصوبے کے تمام اضلاع اور قبائلی علاقہ جات میں20جنوری سے 26جنوری 2015ء تک انتہائی عقیدت و احترام سے منعقد کی جائیں گی ، اس بات کا فیصلہ اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا اور اس سلسلے میں تمام اضلاع اور قبائلی علاقہ جات کے عہدیداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں برسی کی تقاریب کے انعقاد کیلئے مؤثر انتظامات کئے جائیں۔

مورخہ11جنوری2015بروز اتوار
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی ظلم کی سیاہ رات کے خاتمے کیلئے اپنی آئینی قانونی اور اخلاقی ذمہداریاں پوری کرے گی اور انشاء اللہ امن کا سورج جلد طلوع ہو گا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور مین منعقدہ اے این پی کے شہید رہنما میاں مشتاق اور ان کے ساتھی گل رحمان و ندیم خان کی پہلی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ، پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر غلام احمد بلور ، مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنما اور کارکنوں کی کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ظلم کے خلاف پوری قوم کو اکٹھا ہو نا ہو گا جبکہ ظلم کا ساتھ دینے والوں سے قوم خود حساب لے گی ،انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات میں جو ظلم اے این پی کے ساتھ ہوا وہ کسی اور جماعت کے ساتھ ہوا ہوتا تو وہ کب کا میدان چھوڑ کر بھاگ کئی ہوتی ، امیر حیدر خان ہوتی نے شہید میاں مشتاق کی ہمت بہادری اور شجاعت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور پارٹی کیلئے ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کاوائیوں سے اے این پی کے ہر کارکن کا عزم اور حوصلہ دن بدن جوان ہوتا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے مذموم مقاصد سے ہمارے ھوصلے پست نہیں ہو سکتے ، ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے 18جنوری سے دوبارہ احتجاج کا اعلان کیا ہے وہ نامناسب ہے یہ وقت سیاست چمکانے یا مظاہروں کا نہیں بلکہ اتحاد و اتفاق کا ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان قوم پر ترس کھاتے ہوئے احتجاج کا اعلان مؤخر کرین اور حکومت کو چاہئے کہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے،ھاجی غلام احمد بلور نے اپنے خطاب میں شہید میاں مشتاق کو کراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکہ کی جنگ کہنے والے آج اے این پی کی پالیسیوں کی تقلید کر رہے ہیں اور تمام جماعتین اسے اپنی جنگ کہنے لگی ہیں انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان کی باتیں مان لی جاتیں تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان کے پیروکاروں نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور ان کے خلاف کام کرنے والے ہمیشہ نیست و نابود ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اے این پی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے اب تک 30کارکن تارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے آج تک ان شہیدون کے قاتلون کو نہین پکڑا ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے شہدا کے کوان کا حساب لیں گے اور کسی بھی ظلم پر مزید خاموش نہیں رہیں گے، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر کارکنوں کی تارگٹ کلنگ نہ رکی تو وزیر اعلیٰ ہاؤس یا گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا ،فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق سے متعلق انہوں نے کہا کہ اے این پی آنکھیں بند کر کے فیصلے نہیں کرتی ان عدالتوں کے قیام سے متعلق اے این پی وہ آخری سیاسی جماعت تھی جس نے ان کے قیام کی حمایت کی ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو بھی اقدامات ہوئے ان کی حمایت کریں گے ،انہوں نے خاص طور پر کارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں اپنی پالیسی وضع کرے جبکہ مدارس کی فنڈ ریزنگ کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہئن، سردار حسین بابک نے خطاب کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اے این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے پانچ سالہ دور اقتدار میں دہشت گرد ہمارے گلے کاٹتے رہے جبکہ ان کے ہمدرد ہمارے گریبانوں میں ہاتھ ڈالتے رہے انہوں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کمان وزیر اعظم نے خود سنبھالی ہے تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کمان بھی وزیر اعلیٰ کو کود سنبھالنی چاہئے انہون نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جو قربانیان اے این پی نے دی ہین تاریخ مین ان کی مثال نہیں ملتی ، اے این پی کے رہنما ثاقب چمکنی ،عالمگیر خان اور اے این پی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ۔

ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ انتہائی شرم ناک فعل ہے ایسے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے عبرت ناک سزا دی جائے۔
بہت عرصے سے شہر میں فرقہ ورانہ تضادات کو ابھارنے کی کوشش کی جارہی ہے ارباب اختیار ایسے واقعات کو بھر پور نوٹس لیں۔صدر اے این پی سندھ
کراچی؍11جنوری2015( )
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی تھنک ٹینک کا ہنگامی اجلاس مردان ہاؤس میں سینیٹر شاہی سید کی قیادت میں منعقد ہوا،اجلاس کے آغاز میں غربی کے شہید صدر حاجی سیف اللہ آفریدی کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی،اجلاس کے بعد سینیٹر شاہی سید کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع غربی میں پارٹی رہنماؤں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے موجودہ حالات کے تناظر میں پارٹی رہنماؤں کو احتیاط سے کام لیں اور اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں ،وفاقی و صوبائی حکومت اور ریاستی اداروں سے پا رٹی رہنماؤں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں،سیاسی بنیادوں پر تعیناتی سے پولیس مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ثابت ہورہی ہے ،سیاسی مداخلت نے پولیس کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے ،جنگی بنیادوں پر پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں،پولیس میں بھرتی کے لیے شفاف نظام مرتب کیا جائے اور اہل اور ایماندار افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جائے،لندن اور نیو یارک کے طرز پر کراچی پولیس کو جدید سہولتوں سے لیس کیا جائے اور پولیس میں سیاسی مدا خلت کو بد ترین جرم قرار دیا جائے احتجاج سب کا بنیادی جمہوری حق ہے مگر عوام کی مشکلات میں اضافہ بننے والے اقدامات سے گریز کیا جائے ، ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ انتہائی شرم ناک فعل ہے ایسے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے عبرت ناک سزا دی جائے،بہت عرصے سے شہر میں فرقہ ورانہ تضادات کو ابھارنے کی کوشش کی جارہی ہے ارباب اختیار ایسے واقعات کو بھر پور نوٹس لیں،لنک روڈ پر ہونے والاہولناک حادثے کی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اہم قومی شاہراہوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور نیشنل ہائی وے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی شرم ناک حد تک خراب ہے بد ترین واقعات کے رونماء ہونے کے بعد چند دن تک بیان بازی کی جاتی ہے اور پھر اس واقعے کو فراموش کرکے آئندہ دوسرے واقعات کے رونماء ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے جب تک غفلت کے مرتکب افراد کو سزائیں نہیں دی جائیں گی ایسے ہولناک حادثات ہوتے رہیں گے ۔

کراچی ۔11 جنوری 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے قائد اسفند یار ولی خان ،سینٹر شاہی سید ،صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے اے این پی ضلع ملیر بھینس کالونی وارڈ کے سابقہ صدر اور ضلعی مجلس عاملہ کے ممبر گل محمد خان اچکزئی کے والد کے محمد غوث اچکزئی کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رنج کی اس گھڑی میں پوری پارٹی گل محمد خان کے غم میں برابر کی شریک ہے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہے ۔

مورخہ11جنوری2015بروز اتوار

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈرو ترجمان سردار حسین بابک نے ایگزیکٹو کمیٹی خیبر پختونخوا با رکونسل کے انتخابات میں شاہ حسین کو چیئرمین اور احمد فاروق کو وائس چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے اے این پی سیکر ٹریٹ سے جاری ایک تہنیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے نو منتخب چیئرمین اوروائس چیئرمین کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ نو منتخب ممبران وکلاء برادری کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے، انہوں نے کہا کہ اب یہ ان کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے کہ وکلاء برادری کے حقوق کا تحفظ کریں اور حق سچ اور انصاف کی بالادستی کیلئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جذبے کے ساتھ کام کریں۔

مورخہ11جنوری2015بروز اتوار
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے مرکزی حکومت کی توجہ یو اے ای میں مقیم پختونوں کے مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پختون قومی ائر لائن اور پاکستانی سفارت خانے کی عدم دلچسپی کے باعث گو ناگوں مسائل سے دوچار ہیں ، یہ بات انہوں نے یو اے ای کے مختصر دورے کے بعد وطن واپس پہنچنے پر اینے ایک بیان میں کہی ، انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم افراد پاکستان کیلئے زرمبادلہ کما کر ملک کی جڑیں مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا ان کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بھی فوری اقدامات کئے جانے چاہئیں، سردار حسین بابک نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بیرون ملک مقیم افراد کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات کئے جانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی سفارت خانے کو بھی ہدایات جاری کی جاتیں کہ ان مسائل کیلئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کئے جائیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے ، انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کا زیادہ انحصار بیرونی ممالک سے آنے والے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں تاہم حکومت کی جانب سے بیرون ملک مقیم افراد کے مسائل پر توجہ نہ دینا ملک کیلئے نقصان دہ ہے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمی سے یو اے ای میں مقیم پختونوں کو شناختی کارڈز و پاسپورٹ کی تجدید کرانے میں دشواریوں کا سامنا ہے لہٰذا ان کے مسائل کے حل کیلئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کئے جائیں اور سفارتخانوں کے ذریعے ان کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جانا چاہئے۔

مورخہ : 09.01.2015 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان کی خصوصی ہدایات پر پارٹی کے رہنما سینیٹر افراسیاب خٹک نے کابل میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ون ٹو ون ملاقات کی ہے۔ملاقات 45 منٹ تک جاری رہی جس میں سینیٹر افراسیاب خٹک نے افغان صدر اشرف غنی کو اسفندیار ولی خان کا خصوصی پیغام پہنچایا ملاقات کے دوران خطے میں دہشتگردی کو شکست دینے اور قیام امن کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی اشتراک کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ سینیٹر افراسیاب خٹک نے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے افغان صدر کی امن کیلئے واضح پالیسی پر اُن کی تعریف کی جبکہ افغان صدر اشرف غنی نے قیام امن کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ پارٹی رہنما نے پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ممتاز افغانیوں کے ایک تیس رُکنی وفد سے بھی ملاقات کی جبکہ افغان نائب صدر عبداللہ عبداللہ سے اُن کی ملاقات آج شام کو ہوگی۔ یاد رہے کہ گزشتہ رات اُنہوں نے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات کی تھی جنہوں نے اُن کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔

ادارے ہمیں ہمارا قاتل بتائیں۔صوبائی جنرل سیکریٹری کا کلفٹن میں وارڈ کی افتتاحی اور سینکڑوں افراد کی پارٹی میں شمولیت کے اجتماعات سے خطاب
کراچی ۔07 جنوری 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ کراچی خاص طور پر ضلع غربی میں اے این پی کی سیاست کو ناقابل معافی جرم بنادیا گیا ہے ایک ہی ضلع کی تین صدور ،ایک جنرل سیکریٹری کو شہید دوسرے کو زخمی ،ایک نائب صدر ،سو سے زائد پارٹی ذمہ داران و کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ ،رہنماؤں کی املاک پر درجنوں بم حملے ،روزانہ کی بنیاد پر پارٹی ذمہ داران کو فون پر دھمکیاں ، اسی ضلع سے تعلق رکھنے والے سابقہ صوبائی جنرل سیکریٹری پر دو بم حملے ، مسلسل دھمکیوں سے تنگ آکر کئی سرکردہ ارکان شہر اور ملک چھوڑ چکے ہیں اتنا ظلم و ستم شاید ہی ملک کے کسی ضلع میں کسی سیاسی قوت کے ساتھ ہو جو عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ہوا ،خاص طور پر ہمیں ضلع غربی میں بزور طاقت کچلا جارہا ہے ادارے ہمیں ہمارا قاتل بتائیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع جنوبی کے گزری کلفٹن وارڈ کے افتتاح کے موقع خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑپھینکے کے لئے ہمیں اپنے بچوں کو علم کے ہتھیار سے لیس کرناہوگا ،انسانیت کے دشمنوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کا وقت آگیاہے ، دہشت گردوں نے پشاور میں معصوم طالب علم بچوں کو نشانہ بنایا جن کا ہتھیارقلم تھا ہمیں علم کی روشنی کوچارسو پھیلا کر انسانیت کے دشمنوں کو واضح پیغام دینا ہوگا موجودہ حالات میں تمام سیاسی قیادت پر فرض ہے کہ دہشت گردوں کو نظریاتی محاذ پر شکست سے دوچار کیاجائے انسانیت کے دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کا وقت آگیاہے دہشت گردی کے خاتمے سے خوشحالی کا سفر شروع ہوگا کیونکہ نوجوان لکھ پڑ ھ کر قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں، یہ بات خوش آئند ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور اس ناسور کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تاہم اْنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر ایسے اقدامات کرنا ہونگے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اْکھاڑ پھینکا جا سکے۔ اس وقت ہمیں بحیثیت قوم جن مسائل اور مصائب کا سامناہے اس کا واحد حل ان کے باہمی اتحاد اوراتفاق میں ہے۔حضرت باچا خان بابا کا فلسفہ صرف اور صرف انسانی خدمت ہے نو منتخب تنظیمی عہدیداراپارٹی افکار کو مشعل راہ اپنائیں اس مو قع پر ضلعی صدر عبدالقیوم سالارزئی ،صوبائی نائب صدر سائیں علاؤدین آغا،سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر سید حنیف شاہ آغاسمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ،ا س موقع پر عامر خان خلجی کو صدر ،محمد حنیف اچکزئی سینئر نائب صدر محمد اساعیل جنرل سیکریٹری ،محمد حسن سینئر نائب صدر نائب صدور میں وقاص خان،عبدالحمید،ارسلان خان،غلام رسول،کلیم اللہ ،جوائنٹ سیکریٹریز میں زاہد خان،حفیظ اللہ،فخرالدین،مرسلین،محمد اللہ ،ارشد خان سیکریٹری اطلاعات،حاجی محمد سیکریٹری فنانس ،حکیم خان سیکریٹری لیبر،سید محمد سیکریٹری ثقافت،محمد شاہ سالار منتخب ہوئے ،صوبائی جنرل سیکریٹری یونس بونیری نے منتخب کابینہ کے ارکان کو روایتی سرخ ٹوپیاں پہنائیں۔

مورخہ7جنوری2015بروز بدھ
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے ایک 8رکنی وفد نے سینیٹر حاجی عدیل کی سربراہی میں چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی ہے ، وفد کے ارکان میں سینیٹر افراسیاب خٹک ، سینیٹر شاہی سید ، سینیٹر امر جیت ملہوترا، سینیٹر باز محمد خان ، سینیٹر زاہد خان ، مرکزی خاتون نائب صدر بشریٰ گوہر اور داؤد خان شامل تھے، وفد نے چیف الیکشن کمشنر کو ان کی تعناتی پر مبارکباد پیش کی اورانتخابات 2013ء میں اے این پی چرائے گئے مینڈیٹ کے حوالے سے پارٹی کے تحفظات سے آگاہ کیا ، انہوں نے کہا کہ پارٹی نے سابق الیکشن کمشنر کو اے این پی کو درپیش خطرات اور الیکشن کے عمل پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا اور انہیں دیر میں پکڑے گئے 90ہزار جعلی ووٹوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تھا تاہم الیکشن کمیشن ان شکایات پر کوئی مناسب قدم اٹھانے میں یکسر ناکام رہا ، وفد کے ارکان نے اس موقع پر سابق الیکشن کمشنر کو لکھے گئے تمام خطوط کی کاپیاں بھی فراہم کیں ، اے این پی کے وفد نے اس موقع پر انتخابی اصلاحات کے بارے میں اپنی تجاویز سے بھی چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا اور پارٹی کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کردہ رٹ کے بارے میں بھی بتایا جس میں صوبائی لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو چیلنج کیا گیا ہے۔

 مورخہ : 06.01.2015 بروز منگل

پشاور( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑپھینکے کے لئے ہمیں اپنے بچوں کو علم کے ہتھیار سے لیس کرناہوگا ،انسانیت کے دشمنوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کا وقت آگیاہے ،اقتدار میں آکر مردان میں ویمن یونیورسٹی کے قیام کا خواب پورا کریں گے وہ اپنے حلقہ نیابت کے علاقہ کس کورونہ میں 6کروڑ 70لاکھ کی لاگت سے تعمیر ہونے والا گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول اور 5کروڑ 30لاکھ کی لاگت سے مکمل ہونے والا گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول کے افتتاح کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ،تقریب سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،صوبائی کونسل کے رکن محمد جاوید یوسفزئی ،یوسی کس کورونہ کے صدر ظفرعلی ، یوسی ڈاگئی کے صدر بختیار علی اور عبدالدیان چیئرمین نے بھی خطاب کیااور عوام کے دیرینہ مطالبہ پوراکرنے پر سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی کا شکریہ اداکیا اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ دہشت گردوں نے پشاور میں معصوم طالب علم بچوں کو نشانہ بنایا جن کا ہتھیارقلم تھا ہمیں علم کی روشنی کوچارسو پھیلا کر انسانیت کے دشمنوں کا پیغام دینا ہوگا کہ ہم اپنی نسل کو بندوق نہیں علم کے ہتھیار سے لیس کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ انہیں اطمینان ہے کہ ایک ایسے ماحول میں ان کے حلقہ نیابت میں دواعلیٰ تعلیمی ادارے مکمل ہوگئے ہیں جب دہشت گرد ہمارے بچوں کو علم سے دوررکھنا چاہتے ہیں لیکن ان درندوں کو معلوم ہونا چاہے کہ پوری قوم جاگ اٹھی ہے اوران کے ناپاک ارادوں کو جان گئے ہیں انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی قیادت پر فرض ہے کہ وہ دہشت گردوں کو نظریاتی محاذ پر شکست سے دوچار کیاجائے انہوں نے کہاکہ انسانیت کے دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کا وقت آگیاہے دہشت گردی کے خاتمے سے خوشحالی کا سفر شروع ہوگا کیونکہ نوجوان لکھ پڑ ھ کر قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مردان کو ایجوکیشن سٹی بنانے کاعمل ان کے دورحکومت میں شروع کیاگیاہے انہوں نے مکمل ہونے والے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ منصوے ہر لحاظ سے جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے دونوں سکولوں میں امتحانی ہالوں ،لیبارٹیاں اورتعداد کے مطابق کمرے تعمیر کئے گئے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے تحریک انصاف پر کڑی نکتہ چینی کی اورکہاکہ تبدیلی کے جھوٹے دعویداروں کی یہ حالت ہے کہ مردان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر تعلیم گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک پرائمری سکول میں کمرہ تک تعمیر نہیں کیا ہم نے اقتدار کے پہلے سال مردان میں یونیورسٹی قائم کی اورعوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیااب ے این پی اقتدار میں آکر پہلے ہی سال مردان میں ویمن یونیورسٹی بنائے گی تاکہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی مرضی کے مطابق تعلیم کے مواقع میسرہوسکے انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان لے کر 2008تک خیبرپختون خوا میں صرف نو یونیورسٹیاں تھی اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دور میں9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار نہیں بلکہ پختون قوم کو متحد کرنا ہے اوراس مقصد کے لئے گاؤں گاؤں اور گھر گھر جاکر پختونوں کو جرگے شروع کئے ہیں کیونکہ اس وقت پختون قوم کو جن مسائل اور مصائب کا سامناہے اس کا واحد حل ان کے باہمی اتحاد اوراتفاق میں ہے ۔

مورخہ : 06.01.2015 بروز منگل

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے باچا خان بابا کے نظریاتی پیروکار کی حیثیت سے طلباء کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اور اگر اس کے علاوہ کوئی دوسری تنظیم آزاد پی ایس ایف یا کسی اور نام سے تعلیمی اداروں میں اپنے مفادات کے حصول کی خاطر عوامی نیشنل پارٹی اور اس کی قیادت کا نام استعمال کر رہے ہیں تو ایسی تنظیموں کا عوامی نیشنل پارٹی سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادت کیلئے عوامی نیشنل پارٹی اور اے این پی کی قیادت کا نام استعمال کرے۔ اُن کو یاد دلاتے ہیں کہ آئندہ کیلئے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اجتناب کریں۔ اگر کوئی غلط فہمی کی بنیاد پر اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اُن طلباء کیلئے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے دروازے کھلے ہیں۔
میاں افتخار حسین نے بلوچستان میں ہونے والے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے انتخابات کے نتیجے میں نومنتخب صدر ملک انعام کاکڑ ، جنرل سیکرٹری اخلاق بازئی اور دیگر کابینہ کو مبارکباد دی اور توقع ظاہر کی ہے کہ نومنتخب کابینہ پی ایس ایف کو مزید فعال بنائیں گے۔

مورخہ : 06.01.2015 بروز منگل

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کی زیر قیادت ہنگو ابراہیم زئی میں شہید اعتزاز حسن کی پہلی برسی کی تقریب منعقد کی گئی۔اُنہوں نے کہا ہے کہ امن کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ شہید اعتزاز حسن نے سینکڑوں انسانی جانیں بچاتے ہوئے جو قربانی دی ہے وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور اس ناسور کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر ایسے اقدامات کرنا ہونگے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جا سکے۔ میاں افتخار حسین نے پوری قوم سے اپیل کی کہ ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر دھرتی پر قیام امن کیلئے متحد ہو جائیں۔ اُنہوں نے شہید اعتزاز حسن کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ جب تک قوم ایسا جذبہ موجود ہے تب تک دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

مورخہ : 06.01.2015 بروز منگل

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے سینئر نائب صدر گلزار خان اور جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا شہید اعتزاز حسن کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی۔ ہنگو میں خود کش حملہ آور کو روک کر قیمتی انسانی جانیں بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہید اعتزاز حسن کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں اُنہوں نے کہا کہ شہید کی قربانی کو فراموش کیا جانا لمحہ فکریہ ہے اور یہ انتہائی اور دُکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ اس شہید کو برسی کے موقع پر کسی نے یاد کرنے کی زحمت تک گوارا نہ کی جو کہ دہشتگردوں کے حوصلوں کو بلند کرنے کیلئے کافی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسمبلی فلور پرشہید اعتزاز حسن کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا اور سرکاری سطح پر اس شہید کی برسی منانے کے انتظامات کیے جاتے۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن پختون سرزمین کے اس شہید کو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ہمیشہ یاد رکھے گی۔

مورخہ6جنوری2015بروز منگل
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اپنی علالت کے باعث افغانستان کے دورے پر نہیں جائیں گے۔

کراچی ۔05 جنوری 2015
عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے گزشتہ اتوار کی شام کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں آفریدی چو ک پرنا x-10 بس اسٹاپ کے قریب مکی مسجد میں نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد نکلنے والے عوامی نیشنل پارٹی ضلع غربی کے صدر حاجی سیف اللہ آفریدی کو دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کیا گیا ، حاجی سیف اللہ آفریدی کو سر میں دو گولیاں (ایک گولی ماتھے اور ایک گولی دائیں آنکھ) ماری گئیں واقعے کی اطلاع ملتے ہی اے این پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری سمیت کارکنان کی بڑی تعداد سول اسپتال پہنچ گئی مقتول ٹرانسپورٹر تھے مقتول نے پسماندگان میں تین بیٹے ایک بیٹی اور ایک بیوہ شامل ہیں مرحوم کا آبائی تعلق بابری بانڈہ کوہاٹ خیبر پختون خوا ہے ،اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام رہنماؤں و کارکنان کے قاتلوں سے بخوبی واقف ہے،ْ عید میلادالنبی ﷺ کے احترام میں ہم نے کسی قسم کے احتجاج سے گریز کیا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیے گئے واضح شواہد کی بناء پر 72 گھنٹوں کا وقت دیا ہے ۔ جب چاہیں شہر کے ہوائی ،بحری اور زمینی راستے منقطع کرسکتے ہیں دہشت گرد سن لیں روشنی کا راستہ روکنا کسی طور ممکن نہیں ہے۔ کراچی کی پشتون اکثریتی آبادیوں کو فرقہ پرستوں کی آماجگاہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس گھناؤنی سازش کی راہ میں حائل قوت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،مرکزی حکومت کی نظر میں صرف اور صرف لاہور ہی پاکستان ہے سندھ حکومت کی ترجیحات میں کبھی بھی کراچی کا امن شامل نہیں رہا ہے اپنے عمل سے خود کو عدم تشدد کا علمبردار ثابت کررہے ہیں ہمیں تحفظ کون دے گا ؟خدارا حکومت خواب غفلت سے جاگے ۔

مذہبی شدت پسندوں کا نشانہ صرف اور صرف عوامی نیشنل پارٹی ہے۔صدر اے این پی سندھ
کراچی ۔05 جنوری 2015
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے اتحاد ٹاؤن میں ضلع غربی صدر سیف اللہ آفریدی کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ کوئی نامعلوم نہیں ہےْ عید میلادالنبی ﷺ کے احترام میں ہم نے کسی قسم کے احتجاج سے گریز کیا ہے، جب چاہیں شہر کے ہوائی ،بحری اور زمینی راستے منقطع کرسکتے ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واقعے کے حوالے سے بہت کچھ معلوم ہوچکا ہے تمام ریاستی ادارے اور ایجنسیاں ہمارے رہنماؤں و کارکنان کے قاتلوں بارے میں تمام تفصیلات دے چکے ہیں دیے گئے واضح شواہد کی بناء پر ریاستی اداروں کو 72 گھنٹوں کا وقت دیا ہے ہم نے حاجی سیف اللہ آفریدی شہید کے قاتلوں کی تمام تفصیلات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دے چکے ہیں کراچی کی پشتون اکثریتی آبادیوں کو فرقہ پرستوں کی آماجگاہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس گھناؤنی سازش کی راہ میں حائل قوت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ایک طرف ہمارا خون بھی بہایا جارہا ہے اور دوسری طرف روزانہ کی بنیاد پر لوگ عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں دہشت گرد سن لیں روشنی کا راستہ روکنا کسی طور ممکن نہیں ہے ہمارے اکثر رہنماؤں کو نماز کی ادائیگی کے بعد مساجد کے باہر شہید کیا گیا ،عوام فیصلہ کرلیں نمازی کو گولیوں کا نشانہ بنانے والے کو کیا کہا جائے ؟انہوں نے مذید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام عسکری و سیاسی قیادت اور حکومت کے مشترکہ فیصلوں کے باوجود سیف اللہ آفریدی کی ٹارگٹ کلنگ انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے سیف اللہ آفریدی کا قتل تمام عسکری و سیاسی قیادت اور حکومت کے مشترکہ فیصلوں کو چیلینج کردیا ہے ضلع غربی کے تیسرے صدر کو شہید کیا گیا ہے اس سے پہلے اس ضلع کے ہمارے100 سے سرکردہ رہنماؤں و کارکنان کو شہیداور ہمارے رہنماؤں کی املاک پر درجنوں بم حملے کیے جاچکے ہیں مذہبی شدت پسندوں کا نشانہ صرف اور صرف عوامی نیشنل پارٹی ہے سیف اللہ آفریدی کی ٹارگٹ کلنگ پارٹی کے لیے انتہائی سنگین نقصان ہے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہیں۔

کراچی ۔05 جنوری 2015ء ؁
عوامی نیشنل پارٹی سندھ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اے این پی ضلع غربی کے صدر شہید سیف اللہ آفریدی کی نما ز جنازہ کوہاٹ کے علاقے بابری بانڈہ میں ادا کردی گئی،نماز جنازہ کے بعد مرحوم کی تدفین کردی گئی ،اس موقع پر پارٹی رہنماؤں اور علاقہ معززین کی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

مورخہ : 5.1.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی ، سینئر نائب صدرمحمد داؤد ، جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان اور سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری جواد علی خان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی ایسٹ کے قائمقام صدر اور پی ایس 90 کے سابق اُمید وار سیف اللہ کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے مرکزی اور سندھ کی صوبائی حکومت سے عوامی نیشنل پارٹی کے ہر کارکن اور تمام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کا پر زور مطالبہ کیا ہے کیونکہ قوم و ملک کو تحفظ دینا ہی حکومت کا کام ہوتا ہے۔ اُنہوں نے تمام تعلیمی اداروں کی بندش پرغم و غصہ کا اظہار کیا کیونکہ تعلیمی اداروں کو بند کرنا دہشتگردی کو شکست دینا نہیں ہے بلکہ دہشتگرد تو یہی چاہتے ہیں کہ تمام طلبہ اور طالبات تعلیم سے دور رہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ تمام تعلیمی اداروں کو سیکیورٹی فراہم کر کے جلد از جلد کھول دیا جائے تاکہ طلباء اور طالبات کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ جائے ۔

مورخہ 5جنوری 2015ء بروز پیر

پشاور ( پ ر )پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی مزید بندش سے دہشت گردوں کے مقاصد کی تکمیل ہو رہی ہے، اپنے ایک تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد دراصل ہمارے بچوں پر علم کے دروازے بند کرنا چاہتے تھے اور اپنے ان مذموم مقاصد کی خاطر انہوں نے تعلیمی اداروں پر حملے کئے اور ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بھی بنایا ، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی ادارے فوری طور پر کھولنے کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ جائے ،انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف قوم سینہ سپر رہے گی ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں عوامی نیشنل پارٹی نے دی ہیں اور آئندہ بھی ہر قسم کی قربانی کیلئے ہر دم تیار ہیں، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلباء کو ذہنی دباؤ سے نجات دلانے کیلئے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا جائے اور ان تمام تعلیمی اداروں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کئے جانے کے ساتھ ساتھ وہاں سیکورٹی کیمرے نصب کر کے انہیں خصوصی فنڈز مہیا کئے جائیں بصورت دیگر پختون ایس ایف تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف صوبہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کرے گی۔

مورخہ5جنوری2015بروز پیر
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اے این پی کراچی بلدیہ ٹاؤن کے صدر سیف اللہ آفریدی کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ا سے غیر انسانی فعل قرار دیا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی جانیں لینے والوں کے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں،تاہم امن کی خاطرجام شہادت نوش کرنے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی انہوں نے شہید کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیف اللہ شہید عوامی نیشنل پارٹی کا قیمتی سرمایہ تھے پارٹی کیلئے ان کی خدمات اور امن کیلئے ان کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے عید میلادالنبی کے احترام میں خاموشی اختیار کئے رکھی تاہم اب ہم مسلسل اے این پی سندھ سے رابطے میں ہیں اور شہید سیف اللہ آفریدی کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ایک مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے امن کی کوششوں کی بھاری قیمت چکائی ہے اور جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ،لیکن ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا ۔

مورخہ5جنوری2015بروز پیر

پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ اے پی سی میں حکومت کو واضح مینڈیٹ ملاہے اب مرکزی اورصوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے ظالموں کے خلاف کھل کر میدان میں نکلیں،دوکشتیوں کے سوار وں کوظلم کے خلاف یا ظالموں کی صف میں کھڑے ہونے میں سے ایک کا انتخاب کرناہوگا،ہم اس مٹی کے رکھوالے ہیں امن کی خاطر ساڑھے آٹھ سو کارکنوں کی قربانی دی ہے ، وہ یونین کونسل بجلی گھر کے علاقہ فضل کالونی بائی پاس روڈ میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطا ب کررہے تھے جس میں حاجی چمنے خان اورعزیز اللہ خان نے جے یو آئی (ف ) سے جبکہ ڈاکٹر افتخار ،جواد خان،محمد زمان خان اورواجد خان نے اپنے خاندانوں اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفی ہوکر ے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا اجتماع سے رکن اسمبلی احمد بہادرخان اورانجینئر حضرت نواز نے بھی خطاب کیا جبکہ پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار،ارشد خان اور نیشنل یوتھ کے ضلعی صدر حارث خان بھی موجودتھے امیرحیدرخان ہوتی نے نئے شامل ہونے والے افراد کو ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارک باددی اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھنے والوں کو اب کھل کر فیصلہ کرنا ہوگا انہیں ظلم کے خلاف میدان میں نکلنا ہوگا اوریاپھر ظالموں کی صف میں کھڑاہونا ہوگاانہوں نے کہاکہ وطن کے دشمنوں کی سازشوں سے ہماری مساجد ،جنازگاہیں ،بازار اورتعلیمی ادارے محفوظ نہیں اے این پی کی دور حکومت میں ہم جب ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے لگے اور ان کے خلاف آواز اٹھائی تومیدان میں ہم اکیلے تھے مخالفین ہم پر کھبی اقتدار،کبھی پختونوں کے سروں کاسودا کرنے توکھبی غداری کے الزاما ت لگاتے رہے آج وقت نے ثابت کردیا کہ انسانیت کے دشمنوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پرائی نہیں بلکہ ہماری اپنی جنگ ہے انہوں نے کہاکہ پشاور کے عظیم سانحے کے بعد تمام دنیا او رپاکستان کی سیاسی جماعتوں نے ہمارے موقف کی تائید کی پہلے ہم معصوم شہریوں کی جان لینے والوں کے خلاف جہاد میں اکیلے تھے اب پوری قوم دہشت گردوں سے نفرت کرنے لگی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے باعث ہماری لیڈر شپ اورکارکنوں کو دھمکیاں دی گئیں اورہم اپنی انتخابی مہم بھی نہ چلاسکے دوسرے امیدوار جلسوں میں مصروف تھے اورہم اپنے شہید کارکنوں کے لاشیں اٹھاتے رہے لیکن میدان سے نہیں بھاگے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ موجودہ آزمائش میں قوم سرخروہوگی ظلم اورظالم کو شکست اورامن کو کامیابی ملے گی امیرحیدرخان ہوتی نے اپنے خطاب میں تحریک انصاف پر کڑی نکتہ چینی کی اورکہاکہ پختونوں کا مینڈیٹ چوری کرلیاگیاہے لیکن اب پختون بیدار ہوچکے ہیں اوروہ جان چکے ہیں کہ انہیں تبدیلی کے نام پر دھوکہ دیاگیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عوام نے مردان کی گیارہ نشستوں میں سات نشستیں پی ٹی آئی کو دی ہیں تاہم صوبائی حکومت نے یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کا کوئی خیال نہیں رکھا گذشتہ ڈیڑھ سال میں مردان کی ترقی کے لئے کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیاگیا ہم نے حکومت سنبھالنے کے پہلے سال یونیورسٹی قائم کی موجودہ حکومت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کو کاٹ کر دیگراضلاع میں مننتقل کررہے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار کی کرسی نہیں بلکہ ہمار ا مقصد پختون قوم کی خدمت ہے اوراس کے لئے چترال سے ڈیر ہ اسماعیل خان تک پختونوں کو سرخ تلے جھنڈے اکھٹا کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے۔قبل ازیں سابق وزیراعلیٰ کا جلسہ گاہ پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیاگیا کارکنوں اے این پی ،باچاخان ،خان عبدالولی خان اور امیرحیدرخان ہوتی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔

زندہ قومیں ہمیشہ اپنے اسلاف کو یاد رکھتی ہیں اور اُن کی سیاسی اور سماجی جدو جہد قوم کیلئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔ (حسن بونیری)

پشاور ( پ ر) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے کہا ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کو نہیں بھولتے یہ بات اُنہوں نے نوجوانوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران صنوبر حسین کاکاجی کی 52 ویں برسی کے موقع پر کہی۔ حسن بونیری نے مزید کہا کہ پختون تاریخ میں صنوبر حسین کاکا جی مذاحمتی ادب اور سیاست کا سرخیل ہے اُن کی قربانیاں رہتی دُنیا تک یاد رکھی جائینگی۔ آج خطے کے حالات ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو کاکاجی کے افکار سے روشناس کریں۔ اُن کی زندگی اور جدوجہد پر سیمینار منعقد کر کے نوجوان نسل کو اپنی اسلاف کی قربانیوں سے باخبر رکھیں ۔ آج سے ساٹھ سال پہلے کاکا جی نے نوجوانوں کیلئے جمعیت نوجوانان پختونخوا کے نام سے تنظیم قایم کی تھی اور کاکا جی کی سیاسی جدوجہد اُن کے مذاحمتی لٹریچر آج بھی نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر گلزار خان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کل بروز اتوار پشاور پریس کلب میں منعقدہ صنوبر حسین کاکا جی کی یاد میں ہونے والے سیمینار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔

مورخہ : 3.1.2015 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کا ایک بھرپور اجلاس ضلعی صدر ملک نسیم خان کی زیر صدارت باچا خان مرکز پشارو میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ،مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان ، صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈووکیٹ ،صوبائی نائب صدرشگفتہ ملک ، ضلع جنرل سیکرٹری گلزار خان ، ضلعی کابینہ ، یونین کونسل کے صدور اور جنرل سیکرٹریز اور پارٹی کارکنوں نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس سے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے بہت بڑی قربانی دینے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے موقف کو آج پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں نے تسلیم کر لیا ہے۔ لیکن دیر آئے درست آئے پر عمل کرتے ہوئے آج ملکی پالیسیاں جس ڈگر پر چل پڑی ہیں اُس کی کامیابی کیلئے ہم سب کو مل کر اُس کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنی ہو گی۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے دلخراش واقعے کے فوراً بعد وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا پشاور آنا ، تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دینا ایک اچھا اور موثر اقدام تھا اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس دعوت کو قبول کرنا وقت کا تقاضہ تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایکشن پلان تیار کرنا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ فوجی عدالتوں کو اختیار دینے کا فیصلہ تمام پیکجز کا ایک جز ہے یعنی اس پیکج میں گُڈ اور بیڈ کا چکر چھوڑنا ، آئی ڈی پیز کو جلد از جلد پرامن اور باعزت طریقے سے اپنے علاقوں کو بھجوانا ، کالعدم تنظمیں نام بدل بدل کر آئندہ کیلئے اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھیں گے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اور دہشتگردی کے حق میں لٹریچر پر پابندی لگائی جائیگی۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشتگردوں کو بطور ہیرو پیش نہیں کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ آج پوری قوم دہشتگردی کے خلاف امن کیلئے ایک ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو اپنے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ دہشتگرد اور دہشتگردی جہاں بھی ہوں بلا امتیاز اُس کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔ اور ساتھ ساتھ آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں بے گھر قبائلیوں کے مسائل ، مشکلات کوترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور حالات کی بہتری کی صورت میں ان غیرت مند قبائل کی اپنے گھروں میں باعزت واپسی کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں گیارہ جنوری 2015 کو باچا خان مرکز میں پارٹی رہنمامیاں مشتاق شہید کی پہلی برسی عقیدت و احترام کیساتھ منانے کے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی ۔
(1) 14 جنوری کو پرویز خان ، مشتاق خان اور اُن کے ساتھیوں کی شمولیتی پروگرام کو آخری شکل دی گئی (2) 23 جنوری کو فخر افغان باچا خان بابا کی 28 ویں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان 8 ویں برسی پشاور میں عقیدت و احترام سے منائی جائیگی۔ اجلاس میں اس مقصد کیلئے ضلعی سطح دو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جو یونین کونسل سطح پر پارٹی کے تنظیمی اجلاس منعقد کرے گی۔ تاکہ تمام ورکروں کی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پہلی کمیٹی ضلعی صدر ملک نسیم کی قیادت میں اور دوسری کمیٹی ضلعی جنرل سیکرٹری گلزار خان کی قیادت میں کام کرے گی۔ اجلاس میں ضلع پشاور میں عظیم الشان ورکرز کنونشن کی کامیابی پر ضلعی تنظیم اور ماتحت تنظیموں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔اجلاس سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان ، خوشدل خان ایڈووکیٹ ، ضلعی صدر ملک نسیم ، صوبائی نائب صدر شگفتہ ملک اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مورخہ :3.1.2015 بروز ہفتہ

تعلیمی اداروں کی بندش سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

پشاور ( پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی فنانس سیکرٹری بلال نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو جلد از جلد کھول دیا جائے اور سیکیورٹی کیلئے بہتر بندوبست کیا جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگرد بھی یہی چاہتے ہیں کہ تعلیمی ادارے بند رہیں اور طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو جائے۔ لہٰذا حکومت تعلیمی اداروں کو کھول کر سیکیورٹی کا بہتر بندوبست کریں تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ ہوں ۔ اُنہوں نے کہا کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن حکومت کیساتھ ہر قسم کا تعاون جاری رکھے گی۔

مورخہ : 2.1.2015 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کا ایک بھرپور اجلاس ضلعی صدر ملک نسیم خان کی زیر صدارت باچا خان مرکز پشارو میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ،مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان ، صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈووکیٹ ،صوبائی نائب صدرشگفتہ ملک ، ضلع جنرل سیکرٹری گلزار خان ، ضلعی کابینہ ، یونین کونسل کے صدور اور جنرل سیکرٹریز اور پارٹی کارکنوں نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس سے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے بہت بڑی قربانی دینے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے موقف کو آج پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں نے تسلیم کر لیا ہے۔ لیکن دیر آئے درست آئے پر عمل کرتے ہوئے آج ملکی پالیسیاں جس ڈگر پر چل پڑی ہیں اُس کی کامیابی کیلئے ہم سب کو مل کر اُس کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنی ہو گی۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے دلخراش واقعے کے فوراً بعد وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا پشاور آنا ، تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دینا ایک اچھا اور موثر اقدام تھا اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس دعوت کو قبول کرنا وقت کا تقاضہ تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایکشن پلان تیار کرنا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ فوجی عدالتوں کو اختیار دینے کا فیصلہ تمام پیکجز کا ایک جز ہے یعنی اس پیکج میں گُڈ اور بیڈ کا چکر چھوڑنا ، آئی ڈی پیز کو جلد از جلد پرامن اور باعزت طریقے سے اپنے علاقوں کو بھجوانا ، کالعدم تنظمیں نام بدل بدل کر آئندہ کیلئے اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھیں گے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اور دہشتگردی کے حق میں لٹریچر پر پابندی لگائی جائیگی۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشتگردوں کو بطور ہیرو پیش نہیں کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ آج پوری قوم دہشتگردی کے خلاف امن کیلئے ایک ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو اپنے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ دہشتگرد اور دہشتگردی جہاں بھی ہوں بلا امتیاز اُس کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔ اور ساتھ ساتھ آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں بے گھر قبائلیوں کے مسائل ، مشکلات کوترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور حالات کی بہتری کی صورت میں ان غیرت مند قبائل کی اپنے گھروں میں باعزت واپسی کو یقینی بنائیں۔

مورخہ : 2.1.2015 بروز جمعۃ المبارک

پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے قومی مجر م ہیں اور ان سے آہنی ہاتھ سے نمٹنا وقت کا تقاضاہے ،دہشت گردوں کے خلاف کھلے اعلان جنگ پر اے این پی کو کبھی غدار کہاگیا تو کھبی پختونوں کے سروں کاسودا کرنے کے الزاما ت برداشت کرنا پڑے لیکن ہمارے دوٹوک موقف نے واضح کردیاہے کہ انسانیت کے دشمنوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پرائی نہیں بلکہ اپنی بقا کی جنگ ہے ،سانحہ پشاور کا تقاضاہے کہ پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف اکٹھی ہوجائے کپتان عمران نیازی ہوسکتے ہیں ’’خان ‘‘ کبھی نہیں بن سکتے ،پختونوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے مینڈیٹ لینے والوں سے اختیارات واپس خیبرپختون خوالا کر دم لیں گے وہ یونین کونسل مردان رورل کے علاقہ نستہ روڈ گلی باغ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطا ب کررہے تھے جس میں شاہ جہان خان ،اشفاق خان ،اکرام خان ،آیاز خان نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی سے مستعفی ہوکرعوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیااس موقع پر یونین کونسل کے صدرحاجی محبت خان،جنرل سیکرٹری نوشیر خان ،مرکزی کونسل کے رکن ریاض خان اور پختون ایس ایف کے رہنما کاشف مہمند نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے نئے شامل ہونے والے افراد کو ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارک باددی انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف آج ہمارے موقف کی پوری دنیا اورپاکستان کی تمام لیڈرشپ تائید کررہی ہے جو ہمارے لئے باعث اطمینا ن ہے تاہم اگر موجودہ سیاسی قیادت سات سال قبل انسان دشمن قوتوں کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوتی تو ہمیں اس قدر بڑی قیمت نہ چکانا پڑتی۔ انہوں نے کہاکہ مساجد ،جنازگاہوں ،تعلیمی اداروں اورپاک فوج پر حملے کرنے والوں کے خلاف اے این پی کا موقف کھلی کتاب کی مانند ہے اورماضی میں ہمارے اس موقف پر مخالفین نے کبھی ہمیں غدار تو کبھی امریکہ کے حلیف اور پختونوں کے سروں کا سودا کرنے کے الزاما ت لگاتے رہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ کپتان کو وہ بڑے لیڈر سمجھتے ہیں وہ عمران نیازی ہوسکتے ہیں لیکن تاہم ان کو کبھی بھی خان تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ بقول امیرحیدرخان ہوتی انہوں نے پختونوں کو دھوکہ دیا ہے اورپختون قوم تحریک انصاف کے جعلی تبدیلی سے خیبرپختون خوا کو آزاد کراکر دم لے گی انہوں نے کہاکہ کپتان وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اس چکر میں پختون خوا کے عوام کو بھول چکے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ہم نہ اسلام آباد اورنہ ہی لاہور کا اقتدارچاہتے ہیں ہمار ا مقصد پختون قوم کی خدمت ہے اوراس مقصد کے لئے چترال سے ڈیر ہ اسماعیل خان تک پختونوں کو سرخ تلے جھنڈے اکھٹا کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ ان پر سیاسی مخالفین الزامات لگاتے رہے کہ تمام صوبے کا فنڈ مردان کو منتقل کیا ہے لیکن انہوں نے کبھی کسی دوسرے ضلع کا حق نہیں چھینا بلکہ مردان کو اس کا حق دے کر 65سالہ محرومیوں کا ازالہ کیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مردان کو روشنیوں کا شہر بنادیاہے انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے جھوٹے دعویداروں کی یہ حالت ہے کہ اس حلقے کے منتخب رکن جو صوبائی وزیر تعلیم بھی ہیں لیکن گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک پرائمری سکول میں کمرہ تک تعمیر نہیں کیا ہم نے اقتدار کے پہلے سال مردان میں یونیورسٹی قائم کی اورعوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا انہوں نے کہاکہ عمران خان اب تبدیلی کے نعرے لگارہے ہیں جبکہ اے این پی نے پانچ سال قبل صوبے میں خیبرپختون خوا میں تبدیلی لاکر دکھائی اورصوبے کو نام کے شناخت ،این ایف سی ایوارڈ سمیت مرکز سے وہ تمام مراعات لی ہیں جو گذشتہ ساٹھ سالوں میں کسی بھی صوبائی حکومت نے حاصل نہیں کئے تھے انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان لے کر 2008تک خیبرپختون خوا میں صرف نو یونیورسٹیاں تھی اے این پی کے دور اقتدار کے پانچ سال میں ہم نے9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ انہوں نے پانچ سال تک صوبے کی یکساں خدمت کی اب پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے گاؤں گاؤں اور گھر گھر جاکر پختونوں کو جرگوں کے ذریعے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا کروں گا۔

مورخہ 2جنوری 2015ء بروز جمعہ

یونیورسٹی کے ہاسٹلوں کے اوپر مورچے اور ہاسٹلو ں کے اندر پولیس چوکی بنانے کی اجازات نہیں دینگے۔ (سر دار فخر عالم خان )
پشاور(پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے کہا ہے۔ کہ سانحہ پشاور آرمی پبلک سکول کے حملے کے بعد پشاور میں امن و امن کی ابتر صورت حال میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن یونیورسٹی کیمپس میں یو نیورسٹی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اور آئندہ بھی ہر قسم کی تعاون کے لیے تیارہے۔ لیکن اب یو نیورسٹی انتطامیہ نے یو نیورسٹی کے اندر اور خصو صا ہا سٹلوں میں انتہائی خوف کا ماحول پیدا کر رکھا ہے اور ہاسٹلوں کے اوپر مورچے اور اندر پولیس چوکیاں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جوکہ طلبا پر انتہائی خطرناک تاثر پیدا کر تا ہے۔ اور یہ خو د بہ خود دہشت گردی کو دعو ت دینا ہے ۔ اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اس فیصلے کی بھر پور مخالفت کر یگی۔ لہذا یونیورسٹی کے اندر اور باہر جانے والے تمام راستوں کی مکمل نگرانی کی جائے۔ اور اس پر سکیورٹی سخت کی جائے۔ اور ؂ انٹری گیٹ پر خفیہ کمیرے نصب کئے جائیں۔ جبکہ ہاسٹلوں کے اندر پولیس چوکیوں کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ اور یونیورسٹی کے پر امن ماحول کو خراب نہ کیا جائے۔ یو نیورسٹی طلبا تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہے۔ لہذا اس کو ہم پولیس سٹیٹ نہیں بننے دینگے۔

مورخہ : 2.1.2015 بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے مرکزی و پنجاب کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب میں بسنے والے پختونوں کے شناختی کارڈ کی تجدید کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے ۔ باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں ایک ہزار سے زائد پختون تاحال شناختی کارڈ سے محروم ہیں جس کے باعث موجودہ حالات میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران سرچ آپریشنز میں افغانستان میں مشکلات درپیش ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ 1947 سے پنجاب میں آباد پختونوں کو شناختی کارڈ جاری نہ کرنا لمحہ فکریہ ہے کیونکہ وہاں پر رہنے والے پختونوں کے گھر بار اور جائیدادیں پنجاب میں موجود ہیں لہٰذا انہیں حیلے بہانوں سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا ۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والا ہر شہری اس ملک کا شہری ہے اور وہ قانونی طور پر کسی بھی صوبے میں رہ سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جس طرح ملک کے چاروں صوبوں میں پنجابی بھائیوں کو شناختی کارڈ کے حصول میں مشکلات پیش نہیں آتیں اسی طرح پختونوں کیلئے بھی برابری کی بنیاد پر شناختی کارڈوں کا اجراء اور تجدید کا عمل یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب میں بسنے والے پختون کئی نسلوں سے وہاں آباد ہیں اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے پنجاب کی صوبائی حکومت سے کہا کہ پختونوں کیساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر نظر ثانی کرے۔

مورخہ یکم جنوری 2015 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر) آرمی پبلک سکول کے شہداء کی یاد میں جماعت اسلامی کی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی شروع ہی سے دہشتگردوں کے نشانے پر ہے۔ ہماری صوبائی حکومت کے ختم ہو نے کے بعد اب تک ہمارے تقریباً 30 ساتھیوں کو شہید کیا گیا لیکن کسی نے ہمارا نہ پوچھا۔ہم نے اپنے دور حکومت میں دہشتگردی کے خلاف جو وضع پالیسی اپنائی تھی اگر اُسی کو ہی اپنایا جاتا تو آج پشاور میں آرمی پبلک سکول کا اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ ہماری ترجیحات میں سب سے پہلے ہونا چاہیے آج ہم یہاں پر مختلف سیاسی پارٹیاں اس کانفرنس میں شامل ہیں ہر ایک کا ماضی سب کو معلوم ہے ہر پارٹی کی سوچ اور نظریہ بھی سب کو معلوم ہے لیکن آج ہم یہاں ماضی کی اُن باتوں کو نہیں دہرائیں گے جس سے ہماری یکجہتی میں فرق آئے ۔ اگر جذبات میں آگئے تو شاید موجودہ صورتحال کیلئے جس سنجیدگی کی ضرورت ہے وہ برقرار نہ رکھ سکیں۔لہٰذا آج ہمیں ہوش،حواس اور سنجیدگی کیساتھ دہشتگردی کے خلاف اجتماعی مؤقف کی تائید میں آگے بڑھنا چاہیے۔
میاں افتخارحسین نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے دلخراش واقعے نے ہماری سیاسی قیادت ، عسکری قیادت ، مرکزی ، صوبائی حکومت اور قوم کو متحد کر دیا ہے۔ ہمارے خیبر پختونخواہ میں دہشتگردی کے بہت بڑے برے واقعات ہوئے ہیں لیکن کبھی بھی کسی نے ہمارے ساتھ یکجہتی کااس طرح اظہار نہیں کیا۔ آج دہشتگردی کے اس بدترین واقعے کے بعد نہ صرف پاکستان بھر نے بلکہ دُنیا بھر نے ہمارا ساتھ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان نے جاری دھرنے کو ترک کیا جس سے قوم میں قومی یکجہتی کی فضا قائم ہوئی ۔اور اسی واقعے کے فوراً بعد وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا پشاور آنا ، تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دینا ایک اچھا اور مؤثر قدم تھا۔ اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اس دعوت کو قبول کرنا وقت کا اہم تقاضہ تھا۔وزیر اعظم صاحب کا خود دہشتگردی کے خلاف سرپرستی کرنا اور ایکشن پلان تیار کرنا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ فوجی عدالتوں کو اختیار دینے کا فیصلہ تمام پیکجز کا ایک جز ہے یعنی اس پیکج میں گُڈ اور بیڈ کا چکر چھوڑنا ، آئی ڈی پیز کو جلد از جلد پرامن اور باعزت طریقے سے اپنے علاقوں کو بھجوانا ، کالعدم تنظمیں نام بدل بدل کر آئندہ کیلئے اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھیں گے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اور دہشتگردی کے حق میں لٹریچر پر پابندی لگائی جائیگی۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشتگردوں کو بطور ہیرو پیش نہیں کیا جائیگا۔ غیر رجسٹرڈ مدرسوں کو ریگولرائز کیا جائیگا اور ان کے فنڈز کا آڈٹ کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پورے ملک میں کارروائی کی جائیگی بشمول پنجاب کیونکہ منظم دہشتگرد اور کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کا ٹھکانہ پنجاب میں ہے۔ لہٰذا وہاں پر آپریشن اور کارروائی کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام پیکج کو مد نظر رکھ کر اگر دوسال کی مدت کے لیے دہشتگردی کے خلاف فوج کو اختیار دیا جائے جس پر تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہوں تو یہ تلخ فیصلہ دہشتگردی کے خلاف کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی تجویز ہے کہ 1952 آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے تاکہ فوجی عدالتوں سے دہشتگردوں کو سزائیں دی جاسکیں۔ لہٰذا عوامی نیشنل پارٹی مرکزی اور صوبائی حکومت کو کسی طور کمزور نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اگر یہ کمزور ہو گئے تو دہشتگرد مضبوط ہو جائینگے۔اور ہم دہشتگردوں کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس لیے جماعت اسلامی نے امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو امن کانفرنس منعقد کی ہے یہ ایک اچھا فیصلہ ہے ۔ یہ فضا اُس وقت تک برقرار رکھنی چاہیے جب تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور مکمل امن قائم نہیں ہوتا۔

مورخہ یکم جنوری2015بروز جمعرات
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پشاورپریس کلب کے انتخابات میں سید بخار شاہ کو صدر فدا عدیل کو جنرل سیکرٹری اور دیگر نومنتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی ہے، اپنے ایک تہنیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہنو منتخب کابینہ کا انتخاب غیر جانبدارانہ صحافت کے تسلسل کیلئے نیک شگون ہے، انہوں نے کہا کہ پریس کلب کی نئی کابینہ کے انتخاب سے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی صاف شفاف صحافت کو استحکام ملے گا ۔، انہوں نے امید ظاہر کی کہ منتخب صدر اور ان کی کابینہ اپنے فرائض پہلے سے بہتر انداز میں بحسن و خوبی انجام دیتے رہیں گے اور صحافی برادری کی جانب سے اپنے اوپر کئے جانے والے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

مورخہ یکم جنوری2015بروز جمعرات
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی سٹی کے صدر ملک غلام مصطفی نے پشاور پریس کلب کے نومنتخب صدر سید بخار شاہ ، جنرل سیکرٹری فدا عدیل اور دیگر کابینہ کو مبارک باد پیش کی ہے ، ایک تہنیتی بیان میں انہوں نے نو منتخب صدر اور ان کی تمام کابینہ کو عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہنو منتخب کابینہ صحافی برادری کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے ،انہوں نے کہا کہ صحافی برادری نے اپنی مشکلات کے ازالے اور مسائل کے حل کیلئے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے تاہم اب یہ ان کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے کہ صحافیوں کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جائے تاکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ امور پہلے سے بھی بہتر انداز میں انجام دے سکیں ۔

مورخہ یکم جنوری2015بروز جمعرات
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پشاورپریس کلب کے انتخابات میں سید بخار شاہ کو صدر فدا عدیل کو جنرل سیکرٹری اور دیگر نومنتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی ہے، اپنے ایک تہنیتی بیان میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ سید بخار شاہ اور ان کی کابینہ کا انتخاب جمہوریت کے شفاف تسلسل کیلئے نیک شگون ہے، انہوں نے کہا کہ پریس کلب کی نئی کابینہ کے انتخاب سے صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ صحافت کو استحکام ملے گا ۔، انہوں نے امید کا اظہار کیا ہے کہ منتخب صدر اور ان کی کابینہ اپنے فرائض پہلے سے بہتر انداز میں بحسن و خوبی انجام دیتے رہیں گے اور صحافی برادری کی جانب سے اپنے اوپر کئے جانے والے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']