Dec-2014

 
مورخہ 31دسمبر2014ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ عوام کے حقوق کے تحفظ کواولیں ترجیح دی ہے اور پارٹی کے تمام فیصلے باہم مشاورت اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کئے جاتے ہیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں ضلع شانگلہ اور ضلع کوہاٹ کے تنظیمی عہدیدارون اور صاحب الرائے مشران کے الگ الگ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک سمیت دونوں اضلاع کے تنظیمی عہدیداروں اور عمائدین کی کثیر تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی ، امیر حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ پارٹی پیغام کو گھر گھر پہنچانا ، گراس روٹ لیول تک پارٹی کو مضبوط بنانا،اور عوامی رابطوں میں تیزی لانے کیلئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں گی،تاہم پارٹی تنظیمیں اپنی تنظیمی ذمہ داریاں بحسن خوبی انجام دینے میں کوئی کوتاہی نہ برتیں ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک تنظیمی تحریک ہے اور جمہوری روایات مین اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ عوامی حقوق کو مقدم رکھا ہے جس کی وجہ سے آج لوگ جوق در جوق اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ،اس موقع پر ضلع شانگلہ اور کوہاٹ کے تنظیمی عہدیداروں کے درمیان بعض غلط فہمیاں بھی دور کر دی گئیں اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ ناراض کارکنوں کو منانے اور پارٹی میں نئے شامل ہونے والے افراد کے طرز عمل پر توجہ دیں ،

مورخہ 31دسمبر2014ء بروز بدھ
( پریس ریلیز )
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما عبدالطیف آفریدی نے پشاور میں 16دسمبر کے سانحے کے خلاف احتجاج اور اس اندوہناک سانحے کی مذمت کرنے والے سول سوسائٹی، تاجروں اور وکلاء کے درجنوں نمائندوں کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ،اور صوبائی حکومت سے ان کی فوری عہائی کا مطالبہ کیا ہے ، اپنے ایک بیام مین عبدالطیف آفریدی نے کہا کہ جمہوری دور مین سول سوسائٹی کے افراد کے ساتھ اس قسم کا بے رحمانہ سلوک اور ان کی گرفتاری ایک شرمناک واقعہ ہے ، انہوں نے کہا کہ اس ملک میں عجیب نطام رائج ہے کہ ایک پارٹی کو چار ماہ کیلئے پاکستان کا دارلحکومت بند کرنے کیلئے کھلی چھٹی دے دی گئی تھی جبکہ دوسری جانب پختون سرزمین پر سول سوسائٹی کے افراد کو بھی اپنے معصوم بچوں کے بے رحمانہ قتل کے خلاف احتجاج نہیں کرنے دیا جا رہا ،انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق اور دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرنے والے ان افرادکو فوری رہا کیا جائے۔

مورخہ 31دسمبر2014ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے سول سوسائٹی کے ارکان کی طرف سے پرامن احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سول سوسائٹی کے ارکان کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے مترادف ہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے چار ماہ سارے ملک میں ڈرامہ رچا رکھا تھا جسے قوم نے نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کیا لیکن آج صوبے کے عوام آرمی پبلک سکول کے عظیم سانحے کے غم میں ڈوبے ہوئے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اور امن کے حق میں آواز اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ قومی یک جہتی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو اپنے اس اقدام اور رویے پر ان شہداء اور قوم سے معافی مانگنی چاہئے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعظم نے سارے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کمان خود سنبھالی ہے تو آئینی اور اخلاقی طور پر وزیر اعلیٰ کو صوبے کا چیف ایزیگزیکٹو ہونے کے ناطے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کمان خود سنبھالنی چاہئے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی غفلت اور بزدلی کو چھپانے کیلئے عوام کے احساسات اور جذبات سے کھیلنے کی روش پر عمل پیرا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سول سو سائٹی کے گرفتار ارکان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف بننے والی یک جہتی کی فضا کو برقرار رکھنا چاہئے

مورخہ 30دسمبر 2014ء بروز منگلپشاور(پ ر )پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے کہا ہے کہ تبدیلی اور تعلیمی انقلاب کی دعوے دار صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں مختلف تعلیمی بورڈوں کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کا ایک طالمانہ فیصلہ کیا ہے جو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت لوگوں کو تعلیمی سہولیات دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اس کے برعکس جو سہولیات پہلے سے میسر تھیں وہ بھی اچھینی جا رہی ہیں اور طلباء طالبات کے لیے انتہائی مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلہ غیر دانشمندنہ اور طلباء کے ساتھ سراسر زیادتی کا باعث ہے ۔ اس سے ایک طرف والدین کے جیبوں پر بوجھ بڑھ جائیگا۔ اور دوسرا طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن صوبہ بھر میں ایک منظم اور مضبوط قوت ہے اور طلباء کی حقوق کے لیے آواز بلند کریگی ۔ انہوں نے صوبہ بھر کے کالجوں کی تنظیموں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک شروع کریں۔ اور اگرحکومت نے ظالمانہ فیصلے واپس نہیں لیے تو بہت جلد وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرینگے ۔ اور تمام بورڈوں کو تالا لگائیے جائینگے ۔

کراچی ۔28دسمبر 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے پرانا حاجی کیمپ ٹمبر مارکیٹ میں ہونے والی آتش زدگی پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
کروڑوں روپے کے مالی نقصان اور درجنوں گھروں کا چھت سے محروم ہونا انتہائی دردناک واقعہ ہے انسانی واقعے پر افسوس کرنے کے بجائے اتنا ضرور کہوں گا کہ کراچی شہر اور اس کے باسی صرف اللہ تعالیٰ کے آسرے پے ہیں،دو کروڑ سے زائد آبادی کے حامل شہر کے سیاست زدہ ادارے اس قسم کے حادثات سے نمٹنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہیں ،تمام شہری ادارے سیاست زدہ ہوچکے ہیں شہری ادارے قدرتی آفات اور سنگین قسم کے حادثات سے نمٹنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہیں ملکی معیشت میں70 فیصد سے زائدحصے دار شہر کا کوئی والی وارث نہیں،ہمیں شہری اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے افسوس کے ماضی کے انتہائی سنگین واقعات کے باوجود ہم کچھ بھی سیکھنے کو تیار نہیں باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور شہری اداروں میں گھوسٹ ملازمین ،سیاست سے پاک کیا جائے اور دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی طرح کراچی کو اس قسم کے حادثات سے نمٹنے کے لیے مشینری اور وسائل مہیا کیے جائیں۔

 

مورخہ28دسمبر2014ء بروز اتوار

پشاور(پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ننھے بچوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی اور انکی یہ قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائینگی۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ پشاور کی یاد میں منعقدہ ملگری ڈاکٹران کے ایک لویہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کئے جانے والے اقدامات سے جو اعتماد کی فضاء قائم ہو چکی ہے اسے کسی صورت خراب نہیں ہونا چاہیئے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد اور اتفاق ، عسکری قیادت کا عزم اور مرکزی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے عوام میں امن کی اُمید پیدا ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا ایکا نصف فتح ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج تمام لوگ عوامی نیشنل پارٹی کی تقلید کر رہے ہیں اور اس بات پر متفق ہے کہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے اور اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں پورے پیکج کا ایک جز ہے یعنی پاکستان اور افغانستان کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاروائی کرنا اچھے اور برے دہشت گردوں کے فرق کو مٹانا، کالعدم تنظیموں کی دوبارہ فعالیت پر نظر رکھنا،  پنجاب سمیت ملک بھر میں جہاں بھی دہشت گرد ہو ان کے خلاف کاروائی کرنا، دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی قیادت وزیر اعظم نواز شریف کا کرنا یعنی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان کی جنگ تسلیم کرنا تمام فیصلوں کی گارنٹی عسکری قیادت سیاسی قیادت مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہو گی ۔ آئی ڈی پیز کو ترجیحی بنیادوں پر با عزت طریقے سے واپس بھیجنا اور ان کی بحالی دہشت گردی کے خاتمے اور امن کو ترجیح دینا ور بہت سارے عوامل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں دو سال کی محدود مدت کیلئے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلانے کا اختیار نیک نیتی پر مبنی ہے۔ اور اس کو جس جذبے کے تحت تسلیم کیا گیا ہے ذمہ داروں سے توقع کی جاتی ہے کہ اس پر ہر صورت میں عمل کیا جائے گا۔میاں افتخار حسین نے آخر میں ملگری ڈاکٹران کی نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دی ۔

مورخہ28دسمبر2014ء بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) ملگری ڈاکٹران خیبر پختونخوا کی کابینہ کے انتخابات جمہوری طریقے سے باچا خان مرکز پشاور مین منعقد ہوئے۔ جن کے مطابق داکٹر سعید الرحمان صدر اور ڈاکٹر حمید بنگش جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے۔ جبکہ دیگر کابینہ میں سینئر نائب صدر ڈاکٹر ثنا ء اللہ بنگش، نائب صدر ڈاکٹر نادر خان،  فیمیل نائب صدر ڈاکٹر ثنا نعیم،  ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر کلیم اللہ، فنانس سیکرٹری ڈاکٹر سیف اللہ خلیل ، سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر عطاء الرحمان، سوشل ویلفیئر سیکرٹری ڈاکٹر جمیل احمد جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی میں ڈاکٹر غریب نواز، ڈاکٹر ایوب نواز،  ڈاکٹر لیاقت علی، ڈاکٹر پروفیسر عارف ڈاکٹر محمد اعظم خان اور ڈاکٹر قاضی امجد کو منتخب کر لیا گیا ۔ اس موقع پر نو منتخب کابینہ نے آرمی پبلک سکول کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی اور سکول کے زندہ بچ جانے والے طلباء کی نفسیاتی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات پر زور دیا۔ کابینہ نے حکومت سے اپیل کی کہ18 ویں ترمیم کے بعد صوبے کیلئے جانع ہیلتھ پالیسی کا اعلان کیا جائے۔ جبکہ کنٹریکٹ و ایڈہاک ڈاکٹروں کی مستقلی کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس جلد بلایا جائے اور اسمبلی ایکٹ کے ذریعے انہیں مستقل کیا جائے ۔آئی بی پی کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے انفراسٹکچر ، میڈیکل آلات اور ہیومن ریسورس کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کر کے پالیسی مرتب کی جائے ، اور ڈاکٹروں کی سیکورٹی کیلئے جامع پلان ترتیب دیا جائے ۔

مورخہ 28.12.2014بروز اتوار

پشاور ( پ ر )نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی صوبائی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا ، اجلاس میں نظامت کے فرائض صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے انجام دیئے ، صوبائی کابینہ کے سامنے سالانہ رپورٹ پیش کی گئی ،اجلاس مین این وائی او کی امن ریلی کے کامیاب انعقاد اور اس میں سٹی ڈسٹرکٹ پشاور ، ڈسٹرکٹ پشاور اور صوبہ بھر سے یوتھ کے نوجوانوں کی شرکت کو خوش آئند قرار دیا گیا ، اجلاس میں مختلف امور پر بحث کے ساتھ ساتھ آئندہ سال کیلئے پروگراموں کے شیڈول اور مارچ میں صوبائی کنونشن سمیت اضلاع کی سطح پر بھی کنونشنز کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ، جس میں گلزار خان کو کمیٹی کا چیئرمین جبکہ بہرام خان ایڈوکیٹ ، حسن بونیری ، اعجاز باچہ اور پلوشہ بشیر مٹہ ، فیض ابرار کو ممبران مقرر کیا گیا ،یوتھ میں خواتین کی شمولیت کو زیادہ سے زیادہ بنانے کیلئے پلوشہ بشیر مٹہ صوبائی نائب صدر کو ہدایت کی گئی کہ وہ صوبہ بھر کے اضلاع میں ضلعی صدور سے رابطہ کر کے خواتین ممبران کی سیاسی عمل میں شرکت یقینی بنائیں۔

تمام پارلیمانی جماعتوں کے مشترکہ اعلامیہ کے بعد اے این پی سے زیادہ کسی کو دلی تسکین نہیں ہوسکتی ۔صدر اے این پی سندھ
کراچی ۔27دسمبر 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صوبائی تھنک ٹینک کا اجلاس مردان ہاؤس میں صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید کی سربراہی میں منعقد ہوااجلاس کے بعد سینیٹر شاہی سید کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک فیصلہ کن گھڑی میں داخل ہوچکا ہے قوم کسی بھی قسم کے انتشار کی متحمل نہیں ہوسکتی،ریاست ٹھوس اقدامات سے اپنی موجودگی کا احساس دلائے تمام پارلیمانی سیاسی و مذہبی قیادت نے اپنا مکمل مینڈیٹ حکومت اور ریاست کو دیدیا ہے ،تاریخ نے ایک مرتبہ پھر ہمارے موقف کو درست تسلیم کیاہمارے شہیدوں کی صداقت اور قربانی کو آج پوری قومی قیادت نے تسلیم کیامگر افسوس کہ اس میں کافی دیر لگادی گئی،تمام پارلیمانی جماعتوں کے مشترکہ اعلامیہ کے بعد اے این پی سے زیادہ کسی کو دلی تسکین نہیں ہوسکتی ،باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ میں مذید کہا گیا ہے کہ بحیثیت سیاسی جماعت اے این پی دہشت گردی و انتہاء پسندی کا سب سے زیادہ شکار رہی ہے ،دہشت گردوں کے خلا ف بھر پور کاروائی سب سے پہلے ہمارا مطالبہ تھامگر بے گناہ افراد خاص طورپر بے گناہ پختونوں کو گرفتار کیا جارہاہے،عوامی نیشنل پارٹی کھلم کھلا یہ اعلان کرتی ہے کہ اگر بے گناہوں کی گرفتاری کا عمل نا روکا گیا تو پھر ہم بھر پور احتجاج کریں گے ،سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ خطرات عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں و کارکنان کے سروں پر منڈ لارہے ہیں،تمام تر حالات کے باوجود قومی جدوجہد سے کسی طور دستبردار نہیں ہوں گے ،تمام اداروں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کے قاتلوں کو گرفتار کرکے اصل ماسٹر مائنڈ کو بے نقاب کیا جائے اور رہنماؤں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالف ہے جب تک ہمارا ایک بھی کارکن زندہ ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت سندھ کو تقسیم نہیں کرسکتی۔
پولیس نے دہشت گردوں کی آڑ میں بے گناہ پختونوں کی پکڑ دھکڑ شروع کررکھی ہے بے گناہوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔اے این پی سندھ کے جنرل سیکریٹری کا حیدر آباد میں ضلعی کونسل کے اجلاس سے خطاب
حیدر آباد۔27دسمبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی حیدر آباد کے ضلعی کونسل کا اجلاس پارٹی کے ضلعی دفتر پر صدر جاوید خان کی صدارت میں منعقد ہوا ،اجلا س میں تمام وارڈوں کے صدور نے اپنی تنظیمی کارکردگی پیش کیِ ،اجلاس میں سانحہ پشاور سمیت دہشت گردی،و انتہاء پسندی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے تمام پارٹی کارکنان و رہنماؤں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی ، اس مو قع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے امید پیدا ہو چکی ہے کہ ظلم کی سیاہ شب اب ڈھلنے والی ہے دہشتگردی کے مسئلے پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد اور اتفاق ، عسکری قیادت کا عزم اور مرکزی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے عوام میں امن کی اْمید پیدا ہوئی ہے،ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے کہ امریکی ایماء پرپختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج تمام لوگ عوامی نیشنل پارٹی کی تقلید کر رہے ہیں اور سب اس بات پر متفق ہے کہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے اور اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اگر ہمارے اکابرین کی یہی بات پہلے مان لی جاتی تو آج ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔حکومت کو تمام تر مصروفیات ختم کر کے دہشتگردی کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام سکون کی نیند سو سکیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے یکجہتی کی فضا کو برقرار رکھنے کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی تمام برادر ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتی ہے کیونکہ عدم اعتماد کی فضا ختم کیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں،انہوں نے مذید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالف ہے سندھ دھرتی صدیوں سے ایک قومی وحدت ہے جب تک عوامی نیشنل پارٹی کا ایک بھی کارکن زندہ ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت سندھ کو تقسیم نہیں کرسکتی انہوں نے مذید کہا کہ بنیادی سہولتوں کے حوالے سے حیدر آباد شہر کی صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے عوامی نیشنل پارٹی نہ پہلے کبھی دہشت گردی کی حمایت کی ہے نہ آئندہ کرے گی پولیس نے دہشت گردوں کی آڑ میں بے گناہ پختونوں کی پکڑ دھکڑ شروع کررکھی ہے بے گناہ پختونوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے ، کسی بھی کارکن سے زیادتی کی صورت میں سب سے آگے بڑھ کر احتجاج کروں گا،کارکنان اپنے اندر اتحاد و اتفاق پیدا کریں کوئی ظالم آپ کو میلی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرسکتا،اس موقع پر مرکزی نائب صدر لالہ اورنگ زیب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ترین ضرورت ہے افسوس کہ چند مٹھی بھر سازشی عناصر نفاق کا بیج بونے میں مصروف ہیں کارکنان کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ناراض ساتھیوں کو منائیں ،پارٹی ذمہ داران حضرت باچا خان بابا اور خان عبدالولی خان کی برسی کی تیاریاں شروع کردیں،حیدر آباد کے ضلعی صدر جاوید خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے آج کا کونسل اجلاس اس کا واضح ثبوت ہیں کارکنان سازشی عناصر سے بخوبی واقف ہیں اس موقع پر ضلعی جنرل سیکریٹری سید محمد امین اور سیکریٹری اطلاعات ماجد خان اور صوبائی سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک نے بھی خطاب کیا۔مورخہ 26.12.2014بروز جمعہپشاور (پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار ھسین بابک نے پشاور میں آئی ڈی پیز پر ہونے والے لاٹھی چارج کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی بزدلی قرار دیا ہے ، اپنے ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ ملک و قوم کی خاطر اپنے گھر بار چھورنے والے لاکھوں افراد کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنا زیادتی ہے اور مرکزی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے ان بے گھر افراد کے دل و دماغ کو جیتنا ہو گا۔انہوں نے صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہین بلکہ اس سے قبل بھی حکومت اپنے حقوق کیلئے مظاہرہ کرنے والے آئی ڈی پیز پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کر چکی ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کی ناکام ترین حکومت صرف اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ایسا کر رہی ہے جس کے خوفناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں ، انہوں نے مرکزی و صوبائی حکومتوں سے کہا کہ وہ نہ صرف ملکی سطح پر دہشت گردی کے خلاف سازگارفضا برقرار رکھنے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان لاکھوں بے دخل ہونے والے پختونوں کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھیں اور یہی ان لاکھوں پختونوں کے دلو دماغ جیتنے کا یہی موزوں موقع ہے انہوں نے کہا کہ پختونوں نے دہشت گردی کے خلاف پہلے ہی بہت نقصان اٹھایا ہے۔

مورخہ25دسمبر2014ء بروز جمعراتپشاور(پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے امید پیدا ہو چکی ہے کہ ظلم کی اندھیری رات ڈھلنے کو ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اے این پی ولی سے ارباب بختیار احمد ، حاجی خان صاحب اُرمڑ نے اپنے درجنوں ساتھیوں جبکہ مسلم لیگ (ن) سے شاہ فات ، جے یو آئی سے عالم زیب خان اور قومی وطن پارٹی سے داؤد خان نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سردار حسین بابک نے نئے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور اُنہیں پارٹی میں شمولیت پر مبارکباد دی۔ اپنے خطاب میں سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد اور اتفاق ، عسکری قیادت کا عزم اور مرکزی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے عوام میں امن کی اُمید پیدا ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا ایکا نصف فتح ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے کہ امریکی ایماء پرپختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج تمام لوگ عوامی نیشنل پارٹی کی تقلید کر رہے ہیں اور اس بات پر متفق ہے کہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے اور اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہمارے اکابرین کی یہی بات پہلے مان لی جاتی تو آج ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ اُنہوں نے عمران خان اور نواز شریف کے درمیان صلح کو خوش آئند قرار دیا تاہم اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ عمران خان کو یہ سیاسی ادراک تین سو لاشیں اُٹھانے کے بعد آیا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومتوں کو تمام تر مصروفیات ختم کر کے دہشتگردی کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام سکون کی نیند سو سکیں۔ اُنہوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے حجروں اور مساجد میں شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا اہتمام کریں۔ سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکمران سیاسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ جبکہ سپیکر صوبائی اسمبلی کو اتنے بڑے سانحہ کے بعد فوری طور پر صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہیے تھا۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی ٹیکنیکل کمیٹی کو بھی ہدف تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ سانحہ کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے یکجہتی کی فضا کو برقرار رکھنے کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی ہے۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ ملک سے ضیاء دور کی پالیسیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے پاک افغان تعلقات میں مثبت تبدیلی کو بھی خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس سے دہشتگردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی تمام برادر ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتی ہے کیونکہ عدم اعتماد کی فضا ختم کیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اداروں پر مکمل اعتماد ہے ۔
مورخہ 18دسمبر2014ء بروزجمعرات
سانحہ پشاور پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ’’ حاجی غلام احمد بلور‘‘
مذہب کے نام پر ہونے والی یہ دہشتگردی جہاد نہیں فساد ہے ’’ ایمل ولی خان ‘‘
اے این پی اپنی دھرتی پر امن کیلئے عوام کیساتھ کھڑی ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی ’’ سردار حسین بابک‘‘پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ سانحہ پشاور پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں سانحہ پشاور کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم دُنیا سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آخر پختونوں نے ایسا کیا قصور کیا ہے جس کی اُنہیں اتنی بڑی سزا دی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نواز شریف کی طرف سے کمیٹی بنانے کا اعلان مضحکہ خیز ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف فوری طور پر اقدامات کا اعلان کیا جانا چاہیے تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہمارے اکابرین کی بات مان لی جاتی تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ پاکستان میں امن افغانستان کے قیام امن سے مشروط ہے ۔ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتاپاکستان میں دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اپنی خارجہ پالیسیاں واضح کرنی چاہئیں تاکہ دہشتگردی کے ناسور سے چھٹکارا پایا جا سکے۔عمران خان کے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کپتان نے نواز شریف کے ساتھ مک مکا کر کے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور پختون قوم کو ایک بار پھر دھوکہ دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اپنے دوست اور دُشمن میں پہچان نہیں کر سکتے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کو سلام پیش کیا اور کہا کہ مذہب کے نام پر ہونے والی یہ دہشتگردی جہاد نہیں فساد ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسفند یار ولی خان نے بہت پہلے یہ بات کہہ دی تھی کہ اچھے اور برے طالبان کی تمیز نہیں ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے جبکہ آج بھی مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹنے والے خواب غفلت میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے اصل محرکات سامنے لائے جائیں اور پھانسی کی سزا کے اعلان پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس انسانیت سوز واقعے اور بربریت کے خلاف اظہار یکجہتی کرنے پر پوری دُنیا کے مشکور ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کا واحد حل باہمی اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اپنی دھرتی پر امن کیلئے عوام کیساتھ کھڑی ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ اس موقع پر اے این پی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم اور سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفیٰ نے بھی خطاب کیا۔مورخہ 18دسمبر2014ء بروزجمعرات
مرکزی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی ازسر نو وضع کرنی ہوگی اور اس پر قوم کو بھی اعتماد میں لینا ہو گا ’ میاں افتخار حسین‘
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں کا اجلاس بلانے کی تعریف کی ہے اور اسے ملکی مفاد میں نیک شگون قرار دیا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی ازسر نو وضع کرنی ہوگی اور اس پر قوم کو بھی اعتماد میں لینا ہو گا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے سانحہ پشاور کے شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کے موقع پرکیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جانے والی جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری قبول کرے جبکہ صوبائی حکومت بھی قوم کے سامنے اعلان کرے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں مرکزی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، انہوں نے کہا کہ جب تک سب اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نہیں نبھائیں گے تب تک دہشت گردوں کے خلاف کامیابی ممکن نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ اس ناسور سے جان چھڑانے کیلئے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ دنیا کے کسی معاشرے میں بچوں کو جنگ کا ایندھن نہیں بنایا جاتا لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر اب ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی کے بارے میں کسی ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہے جبکہ قوم سے بھی اس سلسلے میں اپیل کی جانی چاہئے اور اس نازک مرحلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا ہو گا۔ انہوں نے ایک بار بھر تمام سیاستدانوں سے اپیل کی کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس دھرتی پر قیام امن کیلئے متحد ہو جائیں ۔مورخہ : 18.12.2014 بروز جمعراتپشاور( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر اورسابق وزریراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے عمران خان کی طرف سے دھرنے کے خاتمے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے موجودہ صورتحال میں دانشمندانہ فیصلہ قراردیاہے اورکہاہے کہ قومی کانفرنس کے فیصلوں پر من وعن عمل درآمد کیاجائے، اب تمام سیاسی پارٹیوں ،دینی جماعتوں اور تمام اداروں کو ایک پیج پر ہوناچاہئے وہ اے این پی ضلع مردان کے دفتر میں سانحہ پشاور کے شہیدوں کی ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اورفاتحہ خوانی کے موقع پرمنعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے تھے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،حاجی محمد جاوید یوسفزئی ،عباس ثانی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیاامیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ کلیوں جیسے بچوں کو دہشت گردوں نے مسل کر ظلم اوربربریت کی انتہاکردی ہے اورپوری انسانیت اس اندوہناک واقعے پر رنج وعالم سے دوچار ہے انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور دین نہیں ہوتا امیرحیدرخان ہوتی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے احتجاجی دھرنے کے خاتمے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہاکہ فیصلہ اگر دیر سے کیاگیا تاہم موجودہ صورتحال میں یہ فیصلہ دانشمندانہ ہے انہوں نے کہاکہ اے این پی کا شروع سے ہی موقف رہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ پرائی نہیں بلکہ ہماری اپنی بقاکی جنگ ہے تاہم انہیں خوشی ہوئی ہے کہ قومی کانفرنس نے اپنے اعلامیہ میں اے این پی کے موقف کی تائیدکرتے ہوئے اسے اپنی جنگ قراردیاہے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف سے اچھے برے کے تمیز کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے اعلان سے دہشت گردوں کو مایوسی ہوگی اوران کی کمر ٹوٹ جائے گی انہوں نے کہاکہ یہ وقت اور حالات کا تقاضاہے کہ قوم کے نہتے اور معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف کھلا اعلان جنگ کیا جائے انہوں نے کہاکہ عمران خان کی لچک کے بعد اب بال مرکزی حکومت کے کورٹ میں ہے اورانتخابی دھاندلیوں کے لئے فوری طورپر جوڈیشنل کمیشن بنایاجائے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کو بھی انتخابی دھاندلیوں کی شکایت ہے ہم عمران خان کے موقف کے ساتھ ہیں تاہم ان کے طریقہ کار سے اختلاف تھا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی نے شروع دن سے عمران خان پر واضح کردیاتھا کہ احتجاج اوردھرنوں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کیاجائے کیونکہ موجودہ صورتحال میں ملک احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا اور ملک میں جمہوریت کی بقاء کے لئے ہمیں اپنی انا اور ضد ایک طرف رکھنا ہوگی انہوں نے کہاکہ سانحہ پشاور کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں کا ایک میز پر بیٹھنا نیک شگون ہے اوراتفاق واتحاد کی فضا کو برقراررکھنے کے لئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت تمام اداروں کو ایک پیج پر ہونا چاہئے دریں اثناء اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے طالب علم ثاقب غنی،کاٹلنگ سے تعلق رکھنے والے فسٹ ائیر کے طالب علم کاشف شہید ، لونڈخوڑ کے رہائشی کلاس نہم کے طالب علم ذیشان ،نستہ گلی باغ کے رہائشی عدنان ،طورو قیوم آباد کے رہائشی طالب علم محمدعلی اور سکول کی ٹیچر صائمہ شہیدکے گھر گئے اوران کے والدین اوررشتہ داروں سے تعزیت کااظہار کیا اورشہیدوں کے بلند درجات کے لئے دعا کی اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ان کے پاس اس سانحے کی مذمت کے لئے الفاظ نہیں معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے انسان نہیں بلکہ وحشی درندے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ امن کے قیام کے لئے ہم سب کو مشترکہ جدوجہد کرناہوگی۔
مورخہ 18دسمبر2014ء بروزجمعرات
سانحہ پشاور کے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ’’ میاں افتخار حسین ‘‘
وزیر اعظم کی طرف سے اے پی سی بلانے اور اُس میں تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت خوش آئندہے اور اس سے لوگوں کو حوصلہ ملے گاپشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ سانحہ پشاور کی نوعیت ایک ایسا المناک واقعہ ہے جو شاید مدتوں تک دلوں کو تڑپاتا رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ضلع نوشہرہ میں بابو کلے ، ترخہ کلے ، محب بانڈہ ، ڈاگ بیسود ، ڈاگ اسماعیل خیل اور پیر پیائی میں شہید ہونے والے بچوں اور سکول ٹیچر کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ لوگ مایوسی کی طرف جا رہے تھے اور جب قوم مایوس ہو جائے تو اُسے ہمت دلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اُنہوں نے وزیر اعظم کی طرف سے اے پی سی بلانے اور اُس میں تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مایوس لوگوں میں ہمت اور حوصلہ پیدا ہو گا۔ اُنہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ایکشن پلان کمیٹی کا قیام ایک اچھا اقدام ہے جبکہ عمران خان کے احتجاج کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ کپتان نے واقعے کا سنجیدگی سے احساس کرتے ہوئے احتجاج موخر کرنے کا اعلان کیا ۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کا اکٹھا ہونا اور آرمی چیف رائل شریف کا افغانستان کو دہشتگردی سے متعلق شواہد پیش کرنا خوش آئند اقدام ہے۔ اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف سیاسی اور فوجی قیادت ایک نقطے پر متفق ہے جس سے کسی حد تک اطمینان نظر آر ہا ہے ۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ اس فضا کو جاری رہنا چاہیے اور موجودہ صورتحال پر اثر انداز ہونے والی خارجہ پالیسی کو ملکی مفادات کے تناظر میں وضع کیا جانا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جیسے چاہے اقدامات اُٹھائے قوم ان کا ساتھ دے گی۔ اُنہوں نے دُعا کی کہ ہمارے شہید ہونے والے بچوں اور اُن کے اساتذہ کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ پشاور کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جس پر پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، گلگت بلتستان کشمیر سمیت ساری دُنیا نے ہمارا ساتھ دیا اور ساری دُنیا اس ناسور کے خلاف ایک ہو گئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ملک کی اولین ترجیح امن کے قیام اور دہشتگردی کا خاتمہ ہے اور اگر حکومت نے ٹھوس اقدمات نہ اُٹھائے تو ہمارے ملک کی بقاء خطرے میں پڑ جائیگی۔کراچی ۔جمعرات 18 دسمبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سانحہ پشاور کے شہداء کی یاد میں اے این پی کے تحت میں شاہراہ فیصل بلوچ کالونی پل کے نیچے شمعیں روشن کی گئیں اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی دعا کی گئی اس موقع پر صوبائی کابینہ،تمام ضلعی صدور و جنرل سیکریٹریزسمیت کارکنان کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی،اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری کہا ہے کہ ہم آیندہ نسل کو پر امن مستقبل دینا چاہتے ہیں،ہماری کوشش ہے کہ پورا خطہ امن کا گہوارہ ہوجائے ،کوئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہتے مگر اتنا ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ صرف اور صرف عوامی نیشنل پارٹی کا یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی ملکی سالمیت کے لیے سب سے سنگین خطرہ ہے ،اچھے اور برے دہشت گرد کی تمیز کا خاتمہ ہمارے دیرینہ موقف کی جیت ہے ،عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ووٹ دینے سے قبل اس چیز کا جائزہ لیں کہ دہشت گردی کے خلاف اس پارٹی کا موقف کیا ہے انہوں نے مذید کہا کہ
سانحہ پشاور کی مذمت کی مذمت کے الفاظ شاید کسی کے پاس نہ ہوں،دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو کمر بستہ ہونا ہوگا۔اس موقع پر امیر نواب خان اور سید حنیف شاہ آغا سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا
مورخہ 18 دسمبر 2014 ء بروز جمعرات
پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی آرمی پبلک سکول کے شہداء سے تعزیت کیلئے مختلف مقامات پر ان کی رہائشگاہ گئے جہاں پر انہوں نے شہداء کے لواحقین سے فاتحہ خوانی اور شدید رنج و غم کا اظہار کیا‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی دین ہے اور نہ کوئی مذہب‘ دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول میں ظلم اور بربریت کا جو سماں باندھا ہے دنیا کی تاریخ میں ایسی وحشت‘ بربریت‘ ظلم و جبر کی مثال نہیں ملتی‘ خالی مذمتوں ‘ اجلاس میں اکٹھے بیٹھنے اور گفتم‘ نشستم و برخاستم سے دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہے‘ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پورے قوم کو متحد ہونا پڑے گا اور ایسے مائن سیٹ کو تبدیل کرنا ہو گا جو ان دہشت گردوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں‘ بہت ہو چکا معصوم بچوں نے بھی امن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا‘ اس کے بعد کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ امن دشمنوں کا مکمل صفایا نہ کیا جائے‘ انہوں نے کہا کہ آج عوامی نیشنل پارٹی کے اس مؤقف کی تائید ہو گئی کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی‘ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے‘ جن قوتوں اور حکمران طبقوں نے مصلحتوں سے کام لیا ہے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپا کر اتنے اہم مسئلے سے غفلت برتی ہے جس کی سزا قوم کی ان ماؤں کو ملی ہے جن کی گودے اجڑ چکی ہے‘ مصلحتوں سے کام لینے والے اور طالبان کو دفتر دینے والے کیا ان ماؤں کو ان کے بچے واپس دلوا سکتے ہیں‘ اے این پی کا مؤقف یہ بھی تھا کہ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی تمیز کو ختم کیا جائے‘ آج وزیر اعظم پاکستان کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بلا امتیاز گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی تمیز کو ختم کر دینا ہوگا یہ کام بہت پہلے کر دینا چاہئے تھا‘ طالبان ملک و قوم کے دشمن ہے‘ ملک کیلئے ناسور ہے‘ ملک کی بقاء و سلامتی کیلئے خطرہ ہے‘ جتنا جلد ہو ان کا صفایا کیا جائے تاکہ ملک و قوم کو دوبارہ ایسے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مورخہ 17دسمبر2014ء بروز بدھ
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں کا اجلاس بلانے کی تعریف کی ہے اور اسے ملکی مفاد میں نیک شگون قرار دیا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی ازسر نو وضع کرنی ہوگی اور اس پر قوم کو بھی اعتماد میں لینا ہو گا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے سانحہ پشاور کے شہداء کیلئے شمعیں روشن کرنے کے موقع پرکیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جانے والی جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری قبول کرے جبکہ صوبائی حکومت بھی قوم کے سامنے اعلان کرے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں مرکزی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، انہوں نے کہا کہ جب تک سب اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نہیں نبھائیں گے تب تک دہشت گردوں کے خلاف کامیابی ممکن نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ اس ناسور سے جان چھڑانے کیلئے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ دنیا کے کسی معاشرے میں بچوں کو جنگ کا ایندھن نہیں بنایا جاتا لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر اب ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی کے بارے میں کسی ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہے جبکہ قوم سے بھی اس سلسلے میں اپیل کی جانی چاہئے اور اس نازک مرحلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا ہو گا۔ انہوں نے ایک بار بھر تمام سیاستدانوں سے اپیل کی کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس دھرتی پر قیام امن کیلئے متحد ہو جائیں ۔
مورخہ : 16 دسمبر 2014 بروز منگل
 پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر منظور احمد اور جنرل سیکرٹری جہانگیر خان نے ورسک روڈ پشاور پر آرمی پبلک سکول میں دہشتگردوں کے حملے سے نہتے اور معصوم طلباء کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر صد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے لواحقین اور خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دُعا کی ہے۔
اے این پی پنجاب کے دونوں رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تعلیمی اداروں پر حملے کرنا اور ملک و قوم کے معماروں پر وار کرنا بزدلی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جو بھی عناصر اس مذموم اور غیر انسانی فعل میں ملوث ہیں وہ انسان کہلانے کے لائق نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی مذہب ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی قیام امن کے حوالے سے پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ہوگئیں ہیں۔ اُن کو امن کے قیام کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو صرف کرنا ہوگا ۔ جب امن قائم ہو گا تو سب مسائل خود بخود حل ہو جائینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ ملک مزید دھرنوں اور احتجاجوں کا متحمل نہیں تحریک انصاف کے دھرنوں کی سیاست سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ قیام امن کیلئے جو بھی جماعت موثر اور عملی اقدامات اُٹھائے گی اے این پی اُن کا پوری نیک نیتی سے ساتھ دے گی۔ اُنہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ اپنے سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر قیام امن کیلئے ایک میز پر آجائیں اور دہشتگردی کے اس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑنے کیلئے متحد ہو کر عملی اقدامات اُٹھائیں۔
مورخہ : 12 دسمبر 2014 بروز منگل
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ضلع مردان آج (بدھ کو)سانحہ پشاور کے شہداء کے لئے قرآن خوانی کرے گی پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اورجنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے معصوم جانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اورغم کا اظہار کیاہے اورشہداء کے بلند درجات کی دعاکرتے ہوئے کہاہے کہ عوامی نیشنل پارٹی ضلع مردان تین روز سوگ منائے گی اور روزانہ پارٹی دفتر میں شہداء کی ایصال ثواب او رزخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے قرآن خوانی اورفاتحہ خوانی کی جائے گی ۔
مورخہ : 16 دسمبر 2014 بروز منگل
پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے سانحہ پشاور پر گہرے دکھ اورغم کااظہا رکرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قراردیاہے اور کہاہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے اس اندوہناک واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے،موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی لیڈر شپ کو اس بات پر متفق ہونا چاہئے کہ دہشت گردکسی کادوست اور ہمدرد نہیں یہ ملک اورانسانیت کے دشمن ہیں اورہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر اس ناسو ر کے خلاف متحد ہونا ہوگا وہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے انسان نہیں بلکہ وحشی درندے ہیں اور وہ امن کو تہہ وبالا کرنا چاہتے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے سانحہ میں شہید ہونے والے بچوں ،اساتذہ اورعملے کے دیگر ارکان کی معفرت کیلئے دعاکرتے ہوئے غم زدہ خاندانوں اورسکول انتظامیہ کے ساتھ تعزیت کااظہار کیا انہوں نے کہاکہ یہ وقت سیاسی سکورننگ کا نہیں ہمیں تمام سیاسی اختلافات سے بالا ترہو کر دہشت گردی کے خلاف اورامن کے قیام کے لئے جدوجہد کرناہوگی انہوں نے کہاکہ اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ دہشت گرد وں نے کیونکر ایک منظم کاروائی کرکے سو سے زائد بچوں اورقیمتی جانوں پر وار کیا انہوں نے کہاکہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔
مورخہ : 16 دسمبر 2014 بروز منگل
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ورسک روڈ پر آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کے حملے اور اس میں سو سے زائد بے گناہ ، معصوم اور قیمتی جانوں کے ضیاع کی سخت الفاط میں مذمت کی ہے اور حملے میں زخمی ہونے والے طلباء کی صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔اے این پی کے رہنما نے ایل آر ایچ اور سی ایم ایچ ہسپتال کا دورہ بھی کیا اور وہاں پر زخمی طلباء کی عیادت کی اور ان کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور خودخون کا عطیہ بھی دیا۔ اس موقع پر اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے الیکٹرانک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ننھے منے پھولوں پر وار کرنا ایک غیر انسانی فعل ہے یہ معصوم پھول ملک و قوم کا مستقبل ہیں ملک و قوم کے مستقبل کو تاریک کرنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مذموم کارروائی میں جو بھی ملوث ہیں وہ انسان نہیں درندے ہیں۔
اے این پی کے رہنما نے کہا کہ وزیرستان آپریشن سے عارضی امن قائم ہوا تھا لیکن حکومت نے غفلت سے کام لیا اور اس کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے دہشتگرد پھر سے منظم ہونے لگے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم سیاسی سکورنگ نہیں کرنا چاہتے امن کی بحالی کی خاطرہم حکومت سے ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر اب بھی حکومت نے امن کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا نہیں کیا اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں اُٹھائے گئے تو حالات مزید بگڑ جائیں گے۔ اُنہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ اپنے سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر قیام امن کیلئے متحد ہو جائیں
۔مورخہ 16دسمبر 2014ء بروز منگل
پشاور(پ ر )پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم اور سیکر ٹری اطلاعات مقرب خان بونیری نے اپنے مشترکہ بیان میں پشاور کے سکول میں ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے ، انہوں نے کہا کہ اپنے ملی قائد کے حکم پر پختون ایس ایف کے تقریباََ 150طلباء نے مختلف ہسپتالوں میں جا کر خون کے عطیات دیئے ہیں اور پورے صوبے میں تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی جانیں لینا مکروہ فعل ہے اور اس قسم کی مذموم کاروائیاں کرنے والے کسی طور مسلمان کہلانے کی لائق نہیں ، انہوں نے شہدا کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔
مورخہ 16دسمبر 2014ء بروز منگل
پشاور(پ ر )پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی سیکر ٹری اطلاعات مقرب خان نے پشاور میں سکول پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے ، انہوں نے کہا کہ اپنے ملی قائد کے حکم پر پختون ایس ایف کے تقریباََ 150طلباء نے مختلف ہسپتالوں میں جا کر خان کے عطیات دیئے ہیں ، مقرب خان نے کہا کہ معصوم بچوں کی جانیں لینا مکروہ فعل ہے اور اس قسم کی مذموم کاروائیاں کرنے والے کسی طور مسلمان کہلانے کی لائق نہیں ، انہوں نے شہدا کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی
مورخہ 16دسمبر2014ء بروز منگل
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے سانحہ پشاور میں زخمیوں کے علاج کیلئے پارٹی کاکنوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی ہے انہوں نے کہا کہ معصوم قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ہم سب کا فرض اولیں ہے انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ متاثرہ خاندانوں سے بھی قریبی رابطہ رکھیں۔
مورخہ16دسمبر2014ء بروز منگل
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے ورسک روڈ پشاور پر واقع سکول میں فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس وقعے میں معصوم بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ معصوم بچوں پر حملہ انسانیت سوز فعل ہے اور ایسی مذموم کارائیوں میں ملوث عناصر کا کسی مذہب اور نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردو ں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس اندوہناک واقعے کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام میں ناکام ہو چکی ہے اور دہشت گردون کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ، انہوں نے واقعے میں شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کی اور پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ زخمیوں کے علاج کیلئے خون کے عطیات دیں ،انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔
مورخہ16دسمبر2014ء بروز منگل
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پشاور میں سکول پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے صوبہ بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ تین روز تک پارٹی کی تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی ، امیرحیدر خان ہوتی نے پارٹی کی تمام ذیلی تنظیموں کو بھی ہدایت کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں سے قریبی رابطہ رکھیں اور اس سانحے میں شہید ہونے والوں کیلئے قرآن خوانی کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی جائے۔مورخہ16دسمبر2014ء بروز منگل
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے ورسک روڈ پشاور پر واقع سکول میں فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس وقعے میں معصوم بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ معصوم بچوں پر حمل انسانیت سوز فعل ہے اور ایسی مذموم کارائیوں میں ملوث عناصر کا کسی مذہب اور نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردو ں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
مورخہ16دسمبر2014ء بروز منگل
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدرحاجی غلام احمد بلور نے پشاور میں سکول پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں بعصوم بچوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان مین حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نیا پاکستان بنانے کے چکر میں صوبے کو فراموش کر بیٹھے ہیں اور آج کے اس اندوہناک سانحے کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام میں ناکام ہو چکی ہے،انہوں نے شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے زخمیون کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔
مورخہ9دسمبر2014ء بروز منگل
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمااور شہید بشیر احمد بلور کے جواں سال فرزند عثمان احمد بلور دل کا دورہ پرنے سے جاں بحق ہوگئے ، مرحوم قلیل عرصہ سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے جبکہ گزشتہ رات پڑنے والا دل کا دورہ ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوا ،مرحوم کی نماز جنازہ وزیر باغ یکہ توت میں ادا کی گئی اور انہیں ان کے آبائی قبرستان میں ہزاروں اشکبار آنکھوں کے سامنے سپرد خاک کر دیا گیا ، جنازے میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین سمیت مختلف مکتبہ فکر کے ہزاروں افراد نے شرکت کی ، مرحوم شہید بشیر احمد بلور کے بیٹے ،پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور ، سینیٹر الیاس بلور ،عزیز احمد بلور کے بھتیجے اور اے این پی کے صوبائی نائب صدر ہارون بلور کے بھائی تھے۔
مورخہ8دسمبر2014ء بروز پیر
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی نے صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے ، اور مستقبل میں عوام پی ٹی آئی کا صفایا کر دیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں ایک شمولیتی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی کے5پشاور سے حاجی پرویز خان ،حاجی مشتاق خان ، جہانزیب خان ،جہانگیر خان ،نثار خان ،عالمگیر خان ،قدیر خان ، امجد ،لالی احسان ،شہزاد احمد ،رحمت،گلزار خان ،مجیب گل وزیر شاہ وزیر ،خان وزیر ،الف خان ، یوسف ،ساجد ، بخت منیر،سید زمین ،محب اللہ ،فضل واحد اور ھاجی لال باچا جبکہ مردان سے حاجی عبداللہ ، فضل غفار اور عمر نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،پارٹی کے مرکزی سیکرٹری فنانس ارباب محمد طاہر خان خلیل ،عالمگیر خان ،مختیار خان ایڈوکیٹ، ملک نسیم ،معصوم شاہ، سردار زیب اور دلاور خان بھی اس موقع پر موجود تھے، امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت کے پانچ سال کے دوران ہر میدان میں انقلابی اقدامات کئے تاہم بدقسمتی سے صوبائی حکومت نے عوامی مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور پنجاب میں اقتدار کی جنگ میں مصروف ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی تمام ذمہ داری تحریک انصاف کی حکومت پر عائد ہوتی ہے ، امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ عوام اپنے مینڈیٹ کی توہین کرنے پر پی ٹی آئی کو کبھی معاف نہیں کریں گے اور وہ مستقبل میں ان حکمرانوں کا صوبے سے بوریا بستر گول کر دیں گے۔ امیرحیدرخان ہوتی کاکہنا تھاکہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود عوام کی اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اس بات کا مظہر ہے کہ ہماری حکومت کی پالیسیاں اس صوبے اور عوام کے مفاد میں تھیں پختون قوم کو اپنی بقا کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہوگا پی ٹی آئی نے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر عوام کو ورغلا یا ہے اورگذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کا شکارہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ باچاخان نے اس دھرتی اورپختون قوم کو مسائل سے نکالنے کے لئے جس تحریک کا آغازکیا وہ منزل بھی اب دور نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار اوراسمبلیوں کی سیٹوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا مقصود ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیا رکرنے والوں کوسرخ ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک بادبھی دی ۔
ے این پی سندھ کے صوبائی تھنک ٹینک کا ہنگامی اجلاس آج شام پانچ بجے مردان ہاؤس میں مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین کی صدارت میں ہوگا۔
کراچی ۔08دسمبر 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اے این پی سندھ کے صوبائی تھنک ٹینک کا ہنگامی اجلاس آج شام پانچ بجے مردان ہاؤس میں طلب کرلیا گیا ہے ،اجلاس پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین کی صدارت میں ہوگااجلاس میں کراچی میں پارٹی رہنماؤں و کارکنان پر مسلسل حملوں پر غور کیا جائے گا اور اس حوالے سے پارٹی لائحہ عمل پر غور کیا جائے گااجلاس کے بعد میاں افتخار حسین شام سات بجے پریس کانفرنس کریں گے
مورخہ8دسمبر2014ء بروز پیر
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری فنانس ارباب محمد طاہر خان خلیل نے کہا ہے کہ اے این پی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کی مثال 68سالہ تاریخ میں نہیں ملتی اور آنے والا دور ایک بارپھر اے این پی کا ہو گا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بڈھ بیر پشاور میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر طوطی شاہ،زرین ، عثمان ،ولد خان ، بخت باز،رحمداد ،دولت خان اورمدثر شاہ کی سربراہی میں ان کے خاندانوں سمیت درجنوں افراد نے پیپلز پارٹی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، ارباب محمد طاہر خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ تحریک انصاف نے نئے پاکستان اور تبدیلی کا جو نعرہ لگایا وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے کافی ہے ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے جبکہ اس جماعت نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے ،صوبائی سیکرٹری فنانس خوشدل خان ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی کی تعلیم ، صحت ،روزگار اور صوبہ کے حقوق کے حوالے سے کارکردگی اپنی مثال آپ ہے،اور یہی وجہ ہے کہ آج عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں اور اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن اپنے قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پارٹی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہیں ،ضلعی سیکرٹری جنرل گلزار خان اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات بہرام خان ایڈوکیٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔مورخہ8دسمبر2014ء بروز پیرپشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختو نخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور میں مدرسہ کے مہتمم ڈاکٹر پیر مسرت شاہ کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ فرقہ وارانہ قتل عام کے واقعات صوبائی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہیں ، انہوں نے کہا کہ مولانا ڈاکٹر مسرت شہید نے زندگی بھر امن و آشتی کا پیغام دیا جس کی سزا انہیں شہید کر کے دی گئی ، انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ قتل عام کے واقعات امن کے قیام کے خلاف گہری سازش ہیں ، انہوں نے کہا کہ مولانا مسرت شاہ کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے ، اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ صبر اور عدم تشدد کی راہ اختیار کر کے مولانا کوخراج عقیدت پیش کریں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے ، اور عوام بے یارومددگار دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں ، انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کے باوجود دہشت گر د فرار ہونے میں کیسے کامیاب ہو گئے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقتدار کی ہوس چھوڑ کر شہریوں کی جان مال کی حفاظت یقینی بنائے اور مولانا شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دے، پارٹی رہنماؤں نے مولانا شہید کی مغفرت کیلئے دعا کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔مورخہ8دسمبر2014ء بروز پیر
کوئٹہ ( پ ر )اپنے شہید وں پر صر ف ما تم نہیں ، بلکہ احتجاج ریکارڈ کر اینگے،ہم نے باچا خان اور ولی خان کی عد م تشد دکی سیا ست قر بانی دیکر جیت لی، ہم گفتار کے غا زی نہیں قوم اور وطن کی خد مت کو اپنا فرض سمجھ کر جد وجہد کر رہے ہیں، ان خیا لات کا اظہارعوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹر ی میاں افتخار حسین نے صو بائی صدر اصغر خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی کو نسل سیشن کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا،اجلاس میں صوبہ بھرسے صو بائی کونسل کے اراکین نے کثیر تعد اد میں شرکت کی، اس دوران اہم تنظیمی فیصلے کئے گئے، میاں افتخار حسین نے خطا ب کر تے ہوئے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی ہی ایک جمہوری اصول پسند قومی سیا سی جما عت ہے، انہوں نے کہا کہ گز شتہ 4دہائیوں سے پشتون وطن کو دہشت گردی کی لہر نے خون میں لت پت کردیا،نام بدل بدل کرہماری نسل کشی کی جا رہی ہے کبھی جہاد پھیلا نے کے بہا نے تو کبھی جہا د کو فسا د کہنے سے پشتونوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا،تاریخ گو اہ ہے کہ ہمارے اکا برین نے ہر وقت قوم کو تر قی و خو شحالی کی راہ پرگا مز ن کرنیکے لیے بر وقت اور حکمت سے فیصلے کئے اور ان اقدا مات کے نتیجے میں ہی پارٹی کارکنوں اور رہنماوں کو تسلسل کے ساتھ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پچھلے دور حکومت میں پشتونوں کی قومی شنا خت \”پشتونخو ا\”صو بے میں یونیور سٹیوں کا جال بچھانا بہت سے عناصرکو قبول نہ تھا، جس کے نتیجے میں گز شتہ انتخابات میں پارٹی کو دھا ند لی کر کے ہر ایا گیا،ملکی سیا سی صو ر تحال کے حو الے سے انہوں نے کہا کہ ہم نو از شریف کے سا تھ نہیں بلکہ جمہوریت کے سا تھ کھڑ ے ہیں، مو جو دہ حکومت کے آتے ہی سا ز شیں شر وع کر دی گئیں اور اس کے لیے کھلا ڑی اور مداری کی خد ما ت کو با قا عدہ منصو بے کے تحت فریم کیا گیا تھا، لیکن تمام جمہوری قوتوں کے پار لیمنٹ میں یکجا ہونے سے کنٹینر اور دہر نا سیا ست نا کا می سے دوچار ہو گئی،میان افتخار حسین نے کہا کہ مڈ ٹرم الیکشن کا انعقا د ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ صو بہ پشتونخو ا میں مادر ی زبا نوں کو سلیبس سے نکا لنا علم دشمن اقدام ہے،اجلاس سے صو بائی صد ر اصغر خان اچکزئی ، صو بائی پارلیما نی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی ، مرکز ی جو ائنٹ سیکرٹریعبد الما لک پا نیزئی ، نظا م الد ین کاکڑ اور نو ابزاہ ارباب عمر فاروق کا سی نے خطا ب کر تے ہوئے کہا کہ تنظیم کے بغیر درپیش چیلنجز سے چھٹکار ا پا نا ممکن نہیں ،اور تنظیم ہی کی بد ولت قومی اہد اف کا حصول ممکن ہو سکے گا، اور اس خطے میں فخر افغان باچا خان نے پہلی بارتنظیم کا تصو رپیش کیا،جو آج تیسرے پڑاو میں بھی پوری قوت کے سا تھ نہ صر ف سر گر م عمل ہے،بلکہ قومی اہدا ف کے حصول کو ممکن بنا نے میں اہم کر دار ادا کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ قوم کے سا تھ کئے گئے تمام دعوے اور وعدے عیا ں ہو گئے انہوں نے کہا کہ پارٹی پر و گر ام کو گھر گھر پہنچا نے کے لیے تنظیم کے ذریعے اپنی ذ مہ داریوں کا پا س رکھے، اس سے پہلے قومی تحریک میں شہید ہو نے والوں کے ایصا ل ثو اب کے لیے دعا کی گئی۔اچی ۔07 دسمبر 2014ء ؁
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ صوبائی و مرکزی حکومت اور ریاستی ادارے بتائیں ہم کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں ہمارے رہنماؤں پر حملوں کی ذمہ داریاں قبول ہوتی ہیں اور مقابلوں میں قاتلوں کی ہلاکت کے اعلانات بھی ہوتے ہیں مگر نا ہمارا قصور بتایا جاتا ہے اور نہ ہی ماسٹر مائنڈ کے بارے میں کچھ بتایا جاتا ہے ،صوبائی حکومت کی جانب سے یقین دہانیوں کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آرہاآصف علی زرداری صاحب سے جھولی پھیلاکر اپنے رہنماؤں کے تحفظ کی بھیک مانگتا ہوں،جن قوتوں کے ہاتھ آج اگر ہمارے گریبانوں میں ہیں کل وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے انگریز اور آمرانہ سامراج کے بعد آج ہمیں نئی شکل کے خونی سامراج کا سامنا ہے سندھ حکومت سے صرف اپنی جان و مال کا تحفط مانگے ہیں چوہدری نثار صرف ڈی چوک کے وزیر داخلہ بن کر رہ گئے ہیں انہیں دھرنے والوں کے علاوہ اور کوئی نظر نہیں آتا ریاستی دارے ہمیں بتائے کہ ہمارا قتل عام کب تک جاری رہے گا پے درپے حملوں سے ہمارا سیاسی نظریہ جنون میں تبدیل ہوگیا ہے ایک طرف ہم پر حملے ہورے ہیں دوسری طرف ہم شہر کے کونے کونے میں ورکرز کنونشن کا انعقاد جاری ہے مراد خان کی طبیعت میں بہتری ہمارے لیے اچھی خبر ہے۔مورخہ 06 دسمبر 2014 ؁ء بروز ہفتہ
پریس ریلیزپشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی نے سٹی ڈسٹرکٹ کابینہ کا اجلاس مورخہ 08 دسمبر 2014ء بروز پیر بوقت 02:00 بجے بمقام ضلعی دفتر واقع نذر فلیٹس مین جی ٹی روڈ فردوس بالمقابل قلعہ بالاحصار میں طلب کیا ہے جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور تنظیمی اُمور کے علاوہ شہید بشیر احمد بلور کی برسی جو 22 دسمبر 2014ء کو منائی جائیگی کے متعلق تفصیلی غور و خوض کی جائے گی‘ ضلعی صدر ملک غلام مصطفی نے تمام کابینہ اراکین کو ہدایت کی ہے کہ اجلاس میں مقررہ وقت اپنی حاضری یقینی بنائے۔مورخہ : 5.12.2014 بروز جمعۃ المبارک
پریس ریلیزپشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ پختونوں کو نقلی اورجعلی تبدیلی سے آزاد کراکر دم لیں گے ،کپتان جب سے کنٹینر میں گھس گئے ہیں ،پختون اور پختون خوا کو بھول گئے ہیں ،پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن)نے کرسی کے لئے پنجاب کو تختہ مشق بنادیاہے ،مردان میں 14دسمبر کے جلسے میں پنجابی اور سندھی لیڈروں کو اہم پیغام دیاجائے گا وہ جمعہ کی شام پارٹی رہنما حاجی عطاء اللہ کی رہائش گاہ پر ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،علی خان،ڈاکٹر ابرار حمید،فلک شیر اوردیگر نے بھی خطاب کیا اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر حاجی محمد کمال،پی پی کے ڈاکٹر ابرارحمید،عارف حمید، اخترخان ،الطاف ریحان ،ہدایت اللہ بسمل ،سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی کے بھتیجے فہیم اللہ تحریک انصاف کے ارشد خان ،تاجدارعلی ،کامران سمیت دوسو سے زائد خاندانوں نے اپنی پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے نئے شامل ہونے والے افراد کو ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارک باددی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان نے نوجوانوں کے ذریعے جعلی اورنقلی انقلاب لایاہے تاہم پختون جعلی تبدیلی سے خیبرپختون خوا کو آزاد کراکر دم لیں گے انہوں نے کہاکہ عمران خان کے پاس پختون قوم کی کوئی فکر نہیں ،میاں نوازشریف اور عمران خان کے درمیان تحت لاہور اور تحت اسلام آباد کی جنگ جاری ہے اورجب سے کپتان کنٹینر میں گھس کئے ہیں ان پر وزیراعظم بننے کا بھوت سوار ہوگیاہے اور پختون اور پختون خوا کو بھول گئے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ہم نہ اسلام آباد اورنہ ہی لاہور کا اقتدارچاہتے ہیں ہمار ا مقصد پختون قوم کی خدمت ہے اوراس مقصد کے لئے چترال سے ڈیر ہ اسماعیل خان تک پختونوں کو سرخ تلے جھنڈے اکھٹا کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں انہوں نے کہاکہ مردان میں 14دسمبر کو تاریخی جلسہ منعقد ہوگا جس میں پنجاب اورسندھی لیڈروں کو اہم پیغام دیاجائے گا اوران پر واضح کیاجائے گا کہ پختون قوم مزید پنجابی اورسندھی لیڈروں کے بلند وبانگ دعوؤں میں نہیں آئیں گے اوروہ سرخ جھنڈے تلے اپنے حق کے لئے لڑیں گے انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ ان پر سیاسی مخالفین الزامات لگاتے رہے کہ تمام صوبے کا فنڈ مردان کو منتقل کیا ہے انہوں نے کہاکہ انہوں نے کسی دوسرے ضلع کا حق نہیں چھینا بلکہ مردان کو اس کا حق دے کر 63سالہ محرومیوں کا ازالہ کیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مردان کو روشنیوں کا شہر بنادیاہے اور آئندہ عوام نے دوبارہ خدمت کا موقع دیا تو مردان میں ویمن یونیورسٹی قائم کروں گاتاکہ ہماری بیٹیوں اوربہنوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں کسی قسم کی رکاؤٹ نہ ہوں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ انہوں نے پانچ سال تک صوبے کی یکساں خدمت کی اب پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے گاؤں گاؤں اور گھر گھر جاکر پختونوں کو جرگوں کے ذریعے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا کروں گا امیرحیدرخان ہوتی نے تحریک انصاف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ مصیبت اور آزمائش کے وقت وزیراعلیٰ صوبے میں موجود نہیں ہوتے اور عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیاجاتاہے کپتان نئے پاکستان کے چکر میں پختون خوا ہی بھول گئے ہیں ، مسلم لیگ (ن) اورپی ٹی آئی نے مرکز کی حکمرانی کے لئے پنجاب کو تختہ مشق بنادیاہے انہوں نے کہاکہ پختونوں کے ساتھ عجیب کھیل کھیلا جارہاہے عمران خان کو مینڈیٹ دیا توکپتان وعدے بھول گئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کو یہاں سے مینڈیٹ نہیں ملا تو میاں نوازشریف نے منہ موڑ لیا انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف کے نقشے میں پنجاب ہی پوراپاکستان ہے۔ اے این پی پنجاب کی سیاست نہیں کرتی ہمیں پختونوں کی سیاست پر فخر ہے۔ عمران خان اب تبدیلی کے نعرے لگارہے ہیں جبکہ اے این پی نے پانچ سال قبل صوبے میں خیبرپختون خوا میں تبدیلی لاکر دکھائی اورصوبے کو نام کے شناخت ،این ایف سی ایوارڈ سمیت مرکز سے وہ تمام مراعات لی ہیں جو گذشتہ ساٹھ سالوں میں کسی بھی صوبائی حکومت نے حاصل نہیں کئے تھے انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔

مورخہ 4دسمبر2014ء بروز جمعرات

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی خصوصی ہدایت پر پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین 5تا 8دسمبر2014ء تک بلوچستان کا تنظیمی دورہ کریں گے ، جہاں وہ پارٹی کی صوبائی جنرل کو نسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور پارٹی امور و دیگر معاملات کا بغور جائزہ لیں گے۔

مورخہ 03 دسمبر 2014 ء بروز بدھ

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے تضادات عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں‘ اپنی حکومت بچانے کی خاطر عوامی جمہوری اتحاد کے چیئرمین شہرام خان ترکئی کے پاس اپنی مرکزی و صوبائی قیادت کو منت سماجت کرنے کیلئے بھیجا گیا تاکہ حکومت کو بچایا جا سکے‘ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اسلام آباد کے دھرنوں میں مرکزی حکومت کو ختم کرنے کیلئے پورے پاکستان کو بند کرنے کی دھمکی دے رہی ہے جس سے تحریک انصاف کا قول و فعل کا تضاد واضح ہو چکا ہے‘ عوام تحریک انصاف کے سیاست سے نالاں ہے کیونکہ جس صوبے میں وہ حکومت کر رہی ہے اسی صوبے کے عوام نے تبدیلی کے نام پر تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا تھا لیکن وہ تبدیلی کو دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے لیکن ایسا ضرور ہوا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو اربوں روپوں کا نقصان ہوا ہے‘ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پورے پاکستان کو بند کرنے کی جو کال دی ہے اسے بہ امرے مجبوری واپس لینا پڑا ہے۔

مورخہ : 3.12.2014 بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور راشد شہید فاؤنڈیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین مورخہ 5 دسمبر2014 کو بلوچستان کا دورہ کرینگے جبکہ وہیں سے وہ 8 دسمبر کو ناروے کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔ اُنہیں نارویژن نوبل پرائز کمیٹی کے حوالے سے 10 دسمبر کو ناروے کے شہر اوسلو میں منعقد ہونے والی ملالہ یوسفزئی کو ایوارڈ دینے کی تقریب میں شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی ہے۔ جس میں دُنیا بھر سے اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ اے این پی کے رہنما اور راشد شہید فاؤنڈیشن کے چیئرمین تقریب میں شرکت اور مختصر قیام کے بعد15 دسمبر کو وطن واپس پہنچیں گے۔

مورخہ 3.12.2014 بروز بدھ

اے این پی ضلع دیر لوئر کی تنظیم نو کیلئے کمیٹی تشکیل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے عوامی نیشنل پارٹی دیر لوئر کے تنظیم نو کیلئے ایمل ولی خان ، سردار حسین بابک اور خوشدل خان ایڈووکیٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ۔باچا خان مرکز سے جاریکردہ ایک بیان میں پارٹی کے صوبائی ترجمان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی دیر لوئر کی تنظیم نو 15 دسمبر کو (دیر لوئر) میں تشکیل پائے گی۔ تین رُکنی کمیٹی کی نگرانی میں ضلع کونسل کے کل 244 ارکان نئی کابینہ کا انتخاب کرینگے۔

مورخہ 3دسمبر2014ء بروز بدھ

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پاراچنار میں مولانا علامہ محمد نواز عرفانی کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر گہرے دکھ اور اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ، اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ قتل کے واقعات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے ، انہوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عرفانی کی شہادت سے عوام کو جو صدمہ پہنچا ہے عوامی نیشنل پارٹی اس میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے اپر کرم کے عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر اور عدم تشدد کی راہ اختیار کر کے مولانا عرفانی شہید کو خراج عقیدت پیش کریں ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ مولانا شہید نے عمر بھر امن اور عدم تشدد کیلئے کام کیا اور اس کیلئے بیش بہا قربانیاں دیں ،انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے مولانا عرفانی شہید کا کردار انتہائی مثبت رہا ہے ، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مولانا شہید کے قاتلوں کو گرفتار کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ فرقہ وارانہ قتل عام کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے ،اور ان کی شہادت کے غم میں مظاہرہ کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہین پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے ،انہوں نے اپیل کی کہ جمعہ کے روز امن کیلئے خصوصی دعائیں کی جائیں اور مولانا عرفانی کی امن کیلئے کوششوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے،میاں افتخار حسین نے مولانا شہید کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی۔

مورخہ : 3.12.2014 بروز بدھ

جنسی حراسمنٹ میں ملوث ڈائریکٹر امیر نواز کو معطل کرنا خوش آئند ہے

پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان اور صوبائی ترجمان مقرب خان بونیری نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جنسی تشدد میں ملوث ڈیزاسٹر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائیریکٹر امیر نواز خان کو معطل کر کے انصاف کیا گیا۔ اُں ہوں نے کہا کہ امیر نواز خان کے خلاف پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے احتجاجی تحریک چلائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ sexual Harassment میں ملوث ہے جس پر پشاور یونیورسٹی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی بنائی۔ انکوائری کمیٹی نے تحقیقات مکمل کر کے ڈائریکٹر کے ملوث ہونے کی بناء پر اس کو معطل کیا۔ ہم یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے اچھا فیصلہ دیا تاکہ آئندہ کیلئے کوئی ایسی گھناؤنی حرکت نہ کریں۔

مورخہ : 3.12.2014 بروز بدھ

جنسی حراسمنٹ میں ملوث ڈائریکٹر امیر نواز کو معطل کرنا خوش آئند ہے

پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان اور صوبائی ترجمان مقرب خان بونیری نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جنسی تشدد میں ملوث ڈیزاسٹر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائیریکٹر امیر نواز خان کو معطل کر کے انصاف کیا گیا۔ اُں ہوں نے کہا کہ امیر نواز خان کے خلاف پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے احتجاجی تحریک چلائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ Sexual Harassment میں ملوث ہے جس پر پشاور یونیورسٹی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی بنائی۔ انکوائری کمیٹی نے تحقیقات مکمل کر کے ڈائریکٹر کے ملوث ہونے کی بناء پر اس کو معطل کیا۔ ہم یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے اچھا فیصلہ دیا تاکہ آئندہ کیلئے کوئی ایسی گھناؤنی حرکت نہ کریں۔

مورخہ2دسمبر2014ء بروز منگل
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختو نخوا کے ترجمان اور صوبائی پارلیمانی قائد سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ نیا پاکستان بنانے کے دعویدار خیبر پختونخوا کے حقوق کیلئے کوئی آواز بلند نہیں کر رہے صرف اپنی پارٹی کے سربراہ کو وزیر اعظم بنوانے کیلئے پورے ملک کا ستیاناس کر رہے ہیں ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پن بجلی کے خالص منافع کے حوالے سے ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ سمیت تمام وزراء دھرنوں کی منفی سیاست میں مصرو ف ہیں اخراجات پر کٹ لگانے کے دعویداروں نے قومی خزانے سے10کروڑ ڈیڈک چیئرمینز کے اللوں تللوں پر اڑا دیئے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت مختصر عرصے میں ہی اپنی ناکامی اور نااہلی کا ثبوت دے چکی ہے ، چیف سیکرٹری کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے عدم استعمال کا نوٹس صوبائی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے لیکن اس کے باوجود بھی وزیر اعلیٰ نے آنکھیں موند رکھی ہیں ، انہوں نے کہا کہ پن بجلی کا منافع نہ ملنے کی وجہ سے صوبے میں مالی بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے،جبکہ اس کے اثرات سست رو ترقیاتی امور کو مزید متاثر کریں گے ، انہوں نے کہا کہ اگرچہ عام انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا مگر اس کے باوجود صوبائی اسمبلی میں پوری اپوزیشن نے صوبے کے حقوق کی خاطر صوبائی حکومت سے تعاون کا عندیہ دیا لیکن اس کے باوجود بھی نااہل صوبائی حکومت کوئی قابل عمل حکمت عملی ترتیب نہیں دی ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنے کی بجائے صوبے کے معاملات پر توجہ دے اور منفی سیاست ترک کر دے۔

مورخہ2دسمبر2014ء بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پی ٹی وی کے سینئر فوٹو گرافر میر احمد شاہ اور ایکسپریس ٹی وی پشاور کے این ایل ای عبدالجبار کی ہمشیرہ کے انتقال پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مرحوم میر احمد شاہ کی صحافت کے شعبے میں جو نمایاں خدمات انجام دیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ان کی وفات سے صحافت کی دنیا میں پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکے گا،انہوں نے عبدالجبار کی ہمشیرہ کے انتقال پربھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ، اپنے پیغام میں انہوں نے سوگواران سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی آپ کے غم میں برابر کی شریک ہے ،پارٹی رہنماؤں نے مرحومین کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔

مورخہ 2دسمبر2014ء بروز منگل

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالطیف آفریدی نے پاراچنار میں مولانا علامہ محمد نواز عرفانی کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر گہرے دکھ اور اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ، اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ قتل کے واقعات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے ، انہوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عرفانی کی شہادت سے عوام کو جو صدمہ پہنچا ہے عوامی نیشنل پارٹی اس میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے اپر کرم کے عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر اور عدم تشدد کی راہ اختیار کر کے مولانا عرفانی شہید کو خراج عقیدت پیش کریں ،لطیف آفریدی نے کہا کہ مولانا شہید نے عمر بھر امن اور عدم تشدد کیلئے کام کیا اور اس کیلئے بیش بہا قربانیاں دیں ، انہوں نے مولانا کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین ، معتقدین اور پیروکاروں کو صبر جمیل عطا کرے۔

مورخہ2دسمبر2014ء بروز منگل
فرقہ وارانہ قتل عام کے واقعات امن کے خلاف سازش ہے، امیر حیدر ہوتی
مولانا عرفانی شہید نے امن بھائی چارے اور عدم تشدد کیلئے کام کیا اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، سردار حسین بابک
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پارا چنار میں بڑی جامع مسجد کے پیش امام علامہ محمد نواز عرفانی کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک مذمتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ فرقہ وارانہ قتل عام کے واقعات امن کے قیام کے خلاف گہری سازش ہے ، انہوں نے کہا کہ مولانا عرفانی کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے ، اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ صبر اور عدم تشدد کی راہ اختیار کر کے مولانا عرفانی کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کریں ، انہوں نے کہا کہ مولانا شہید نے عمر بھر امن بھائی چارے اور عدم تشدد کیلئے کام کیا اور اس مقصد کیلئے ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں ،اور امن کا قیام موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگ روزانی کی بنیاد پر اپنے شہداء کے جنازے اٹھا رہے ہیں جبکہ عمران خان اور نواز شریف کرسی گرانے اور کرسی بچانے میں لگے ہوئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور امن کے قیام کیلئے انتہائی سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھانے کی بروقت ضرورت ہے۔
مورخہ : یکم دسمبر 2014 بروز پیر
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے مرکزی جامع مسجد پارہ چنار کے پیش امام علامہ محمد نواز عرفانی کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اُن کے لواحقین کیلئے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ باچا خان مرکز پشاور سے اُنہوں نے اپنے مشترکہ جاریکردہ تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ علامہ محمد نواز عرفانی ایک مذہبی شخصیت تھے اور ان کے افسوسناک قتل کی وجہ سے ایک بڑا خلاپیدا ہو گیا ہے ۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

مورخہ : یکم دسمبر 2014 بروز پیر
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ کارکن پارٹی کا سرمایہ ہیں اور ان کے تحفظات اور گلے شکوے دور کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرینگے۔ یہ بات اُنہوں نے اپنی رہائش گاہ مردان میں اے این پی شانگلہ کے 32 رُکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس کی قیادت اے این پی کے مقامی رہنما علی بہادر خان کر رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک فعال اور منظم سیاسی تحریک ہے اور پارٹی کو مضبوط اور منظم بنانے میں کارکنوں کے کردار کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ کارکنان آپس کے تمام اختلافات پس پشت ڈال دیں اور پارٹی کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی میں نظم و ضبط کے قیام کیلئے تمام لوگوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پارٹی ڈسپلن کا خاصا خیال رکھیں اور پارٹی رابطہ عوام مہم میں پارٹی کی تنظیمیں اور تمام کارکنان بھرپور انداز میں حصہ لینے کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان اور صاحب الرائے مشران کی مشاورت کو اہمیت دی جائیگی اور عوامی ہونے کا عملی طور پر ثبوت دینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک کی بڑی جمہوری پارٹی ہونے کے ناطے اے این پی عوام میں مقبول پارٹی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کارکنوں کے جذبات اور رائے کا احترام کیا جائیگا اور پارٹی کے تمام فیصلے باہمی مشاورت سے یقینی بنائے جائیں گے۔ اُنہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ آئندہ بھی کسی مسئلے کی صورت میں رابطے کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کریں۔ اس موقع پر ایمل ولی خان ، سردار حسین بابک اور خوشدل خان ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔

مورخہ یکم دسمبر2014ء بروز پیر

امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک کا اظہار تعزیت
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے اے این پی چک ہوتی کے سینئر نائب صدر جہانزیب خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ جہانزیب خان کے انتقال سے اے این پی ایک دیرینہ کارکن سے محروم ہو گئی ہے اور ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکتا ،انہوں نے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی اس دکھ میں برابر کی شریک ہے ،دریں اثناء پارٹی رہنماؤں نے روزنامہ نوائے وقت کے سینئر کارکن ظاہر خان کی والدہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور غمزدہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی ہے ۔

مورخہ یکم دسمبر 2014 ؁ء بروز پیر
پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان ‘ جنرل سیکرٹری گلزار حسین اور دیگر کابینہ اراکین نے اے این پی سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں اور ورکروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب ورکرز کنونشن سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اے این پی ایک منظم اور صوبے کی سب سے بڑی جماعت ہے اور آنیوالے بلدیاتی انتخابات میں اے این پی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی اے این پی نے 2008 ؁ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مشکل حالات کے باوجود بے پناہ ترقیاتی کام کئے لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے تبدیلی کے نام پر ووٹ لیکر پختون قوم کا استحصال کیا ‘ انہوں نے کہا کہ بلند و بانگ دعوے اور زبانی جمع خرچ بہت کیا جاتا ہے لیکن تحریک انصاف کے حکومت نے پچھلے دو سالوں میں عوام کو کسی قسم کی ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on December 2, 2014 at 8:59 am