Nov-2014

 

کراچی ۔30 نومبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونری نے کہا ہے کہعوامی نیشنل پارٹی تنظیم نو کے بعد شہر بھر میں اپنی تنظیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اپنی قومی اہداف کے حصول کے لیے اپنی جوانوں،بچوں،بزرگوں اور خواتین کو ذہنی و فکری طور پر تیار کررہے ہیں،جنگ آزادی سے لیکر دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ تک ہر در میں ہم نے قربانیاں دیکر اپنا کردار ادا کیا ہے ،قید و بند ،املاک کی قربانیوں سے لیکر شہادتوں تک ہماری سو سال سے زائد طویل تاریخ کسی سیاسی قوت کے پاس نہیں ہے کھیل تماشوں کے بجائے اپنے کارکنان کو ذہنی و فکری تربیت دیکر قومی حقوق کے حصول کے لیے تیار کررہے ہیں ڈاکٹر ضیاء الدین کی شہادت ہمارے لیے کسی بڑے المیہ سے ہر گز کم نہیں ہے ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے صوبائی حکومت کو اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں کو ہر صورت میں عملی شکل پہنانی ہوگی بصورت دیگر ہمارے پاس سوائے احتجاج کے کوئی اور راستہ نہیں بچے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدینہ پارک میں گلستان کالونی لیاری کے تحت ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے مذید کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نواز شریف کیساتھ نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرنے والے اپنی موت آ پ مر جائیں گے۔ کالاباغ ڈیم قصہ پارینہ بن چکا ہے اس پر مذید وقت ضائع نہ کیا جائے نواز شریف کا مقصد پنجاب کی کرسی کو بچانا ہے اور عمران خان اسی کرسی کو چھیننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اگر جمہوریت کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار کپتان صاحب ہوں گے کپتان صاحب پر ان کے اتحادی اور سیاسی کزن بھی بھروسہ کرنے پر تیار نہیں تو قوم کیا کرے گی، اس موقع پر صوبائی سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک نے کہا کہ ماضی میں جب بھی شہر میں آباد مظلوم قومیتوں پر سخت وقت آیا عوامی نیشنل پارٹی نے ان کا ساتھ دینے کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کیے ہمارے اکابرین کی قربانیوں کی وجہ سے ہی آج جمہوریت بالادست ہے جمہوریت کیلئے قربانیاں دینا اے این پی کی تاریخ ہے اور آئندہ بھی اپنی سیاسی تاریخ کے تسلسل میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی، ضلع جنوبی کے صدر عبدالقیوم سالازرئی نے اپنے خطاب میں ورکرکنونشن میں شرکت کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اْن کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پختون قوم جاگ گئی ہے۔اس موقع پر وارڈ کے صدر ولی خان افغان نے بھی خطاب کیا ،ورکرز کنونش میں لاسی براردی کے سر برہان مسطفےٰ لاسی ، شیر علی لاسی،عبدالقادر لاسی ،تھیم برادریوں کے علاقہ سربراہان عاقب تھیم،حسین علی تھیم اور مری برادری کے عبدالمنان مری نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ،صوبائی جنرل سیکریٹری یونس بونیری نے شمولیت کرنے والوں روایتی سرخ ٹوپیاں پہنائیں۔

مورخہ 29.11.2014 بروز ہفتہ

پریس ریلیز

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نیجمعیت علمائے اسلام(سندھ) کے رہنما خالد محمود سومرو کے ٹارگٹ کلنگ میں دہشتگردی کی نظر ہونے پرشدید مذمت کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا اورمرحوم کی مغفرت کیلئے دُعا کی۔

مورخہ 29.11.2014 بروز ہفتہ

بیس ارب کے میگا سکینڈل پر صوبائی حکومت کی خاموشی افسوسناک ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا کہ کرک میں اربوں روپوں کی گیس اور تیل کی چوری کی رپورٹیں کئی دنوں سے اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ اور گزشتہ روز اسمبلی فلور پر بھی یہ مسئلہ اُٹھایا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے موجودہ صوبائی حکومت نے اس اہم مسئلے پر مسلسل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور عمران خان روزانہ کی بنیاد پر کرپشن کے خاتمے کے ڈنڈورے پیٹ رہے ہیں لیکن کرک کے سیاسی جرگہ نے تیل و گیس کی چوری کے نہ صرف ثبوت دیئے ہیں بلکہ اربوں روپے کے تیل و گیس کی چوری کی نشاندہی بھی کی ہے۔ لیکن صوبائی حکومت قدم اُٹھانے سے کترا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو صوبے کے قدرتی ذرائع کے اربوں روپے کی چوری کیلئے فوری طور پر اعلیٰ سطح پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر ملزموں کو قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت حکمرانی کی بدترین مثا ہے۔ کہ اُنہیں خود تو صوبے کے حوالے سے خبر نہیں ہے اور اگر رپورٹ ہو جاتی ہے تو صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔

مورخہ 29.11.2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر جناب اسفندیار ولی خان نے آئین کی اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے دورُکنی کمیٹی تشکیل دی جس کے سربراہ سینیٹر حاجی محمد عدیل اورسینیٹر افراسیاب خٹک ممبر ہونگے۔

مورخہ :28.11.2014 بروز جمعۃ المبارک
پختون قوم جاگ گئی ہے ، وزیرستان سے آنے والے آئی ڈی پیز کا کوئی پرسان حال نہیں
خواتین آئی ڈی پیز بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، لیکن کپتان کنٹینر سے نیچے اُترنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے
کپتان غیر سیاسی انسان ہے ، انہیں پاکستان کی تاریخ سے متعلق جاننے کی ضرورت ہے
عمران خان عدلیہ کو گالیاں بھی دیتے ہیں اور پھر اُسی سے رجوع بھی کرتے ہیں
ملک کے آئین کو چھیڑنے کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے، کالاباغ ڈیم کسی صورت نہیں بننے دینگے۔
ملک میں زلزلہ اور سیلاب جیسی نا گہانی آفات آئیں تو دنیا کے کونے کونے سے یہاں امداد پہنچیں لیکن پختون آئی ڈی پیزروٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیرستان سے آنے والی خواتین آئی ڈی پیز کو بھکاری بنا دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ترناب فارم پشاور میں ارباب ایوب جان کے حجرے میں منعقدہ اے این پی ضلع پشاور کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اسفندیار ولی خان نے اپنے خطاب میں ورکرکنونشن میں شرکت کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پختون قوم جاگ گئی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیرستان سے آنے والے آئی ڈی پیز کا کوئی پرسان حال نہیں خصوصاً وزیر اور محسود قبائل کی خواتین لائنوں میں لگ کر بھیک مانگتی ہیں لیکن کپتان صاحب کنٹینر سے نیچے اُترنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ اُنہوں نے ایک بار پھر پختون رہنماؤں سے اپیل کی کہ مل بیٹھ کر وزیرستان کے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ میں آج تک کپتان جیسا غیر سیاسی انسان نہیں دیکھا جنہیں پاکستان کی تاریخ سے متعلق جاننے کی ضرورت ہے اُنہوں نے کہا کہ عمران خان یو ٹرن کا ماسٹر ہے پہلے عدلیہ کو گالیاں دی جاتی ہیں پھر اُسی عدلیہ کو رجوع کرتے ہیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ ہم نواز شریف کیساتھ نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرنے والے اپنی موت آ پ مر جائیں گے۔ اور ہم اُنہیں بھاگنے نہیں دینگے۔ اُنہوں نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے چوہدری پرویز کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاؤں پکڑنے کا معاملہ نہیں ہم کالا باغ ڈیم کسی صورت بننے نہیں دینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اٹھارویں ترمیم سے متعلق گمراہ کن بیانات جاری کر رہے ہیں تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ اگر اٹھارویں ترمیم یا آئین کو چھیڑا گیا تو پھر اس ملک میں پانچ آئین بنے گے۔ اُنہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس روز وزیرستان سے آئی ڈی پیز نقل مکانی کر کے بنوں پہنچے تو ڈی چوک میں اُسی دن کُرسی کی جنگ شروع ہو گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک میں زلزلہ اور سیلاب جیسی ناگہانی آفات آئیں تو دُنیا کے کونے کونے سے یہاں امداد پہنچی لیکن آئی ڈی پیز موجودہ دور میں روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔ اُنہوں نے کچھ عناصر کی جانب سے اپنے اور پارٹی کے خلاف کی جانے والی ہرذہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اور آپ کے آباؤ اجداد اگر صوبے کی شناخت کیلئے قربانیاں دیتے رہے ہیں تو ہم کس طرح باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی سیاست سے ہٹ چکے ہیں۔ جبکہ صوبے کو شناخت دلانا عوامی نیشنل پارٹی کا تاریخی کارنامہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو تعلیم کا حق حاصل ہے اور اے این پی صنفی امتیاز سے بالاتر خواتین کی تعلیم کیلئے کوشاں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاست میں خواتین کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے ۔ اُنہوں نے آخر میں خواتین کی تنظیمیں مزید فعال اور منظم کرنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں امیر حیدر خان ہوتی نے کنونشن میں شرکت کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیااور کہا کہ اے این پی کے خلاف مخالفت برائے مخالفت کرنے والے درحقیقت پارٹی کی تاریخ سے واقف بھی نہیں ہیں۔ اُنہوں کہا کہ یہ شہیدوں کی پارٹی ہے جس کا وجود دُنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونوں کی خدمت کے نام نہاد دعویداروں نے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود پختونوں کیلئے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ نواز شریف کا مقصد پنجاب کی کرسی کو بچانا ہے اور عمران خان اسی کرسی کو چھیننے کی کوشش میں لگے ہیں جبکہ اسفندیار ولی خان کا مقصد پختون قوم کا اتحاد اور اتفاق ہے اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے پختونوں کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہو گا۔
اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پختونوں پر جب بھی سخت وقت آیا اے این پی نے ساتھ دینے کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کیے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے اکابرین کی قربانیوں کی وجہ سے ہی آج جمہوریت بالادست ہے اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے شہداء کو قومی شہداء کا درجہ دیا جائے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ جمہوریت کیلئے قربانیاں دینا اے این پی کی تاریخ ہے اور آئندہ بھی اپنی سیاسی تاریخ کے تسلسل میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔

گزشتہ روز لیاقت آبا د سے بازیاب کی گئی بچیوں کو والدین کے حوالے کرنے کے لیے کمشنر ہاؤس میں اجلاس منعقد کیا گیا۔اعلامیہ
کراچی ۔27 نومبر 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچاخان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق گزشتہ روز لیاقت آبا د سے بازیاب کی گئی بچیوں کو والدین کے حوالے کرنے کے لیے کمشنر ہاؤس میں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں حکومت کی جانب سے حقوق نسواں کی صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی ،کمشنر کراچی شعیب صدیقی ، ڈی آئی جی سینٹرل کیپٹن طاہر نوید جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ فیاض خان اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری ،سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر سید حنیف شاہ اور ضلع جنوبی کے جنرل سیکریٹری سرفراز خان جدون اور کراچی میں آباد باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سماجی شخصیات نے شرکت کی ،اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی نے حکومت اور سماجی شخصیات کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا اور اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بازیاب کی گئی بچیوں کراچی میں آباد باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والی سماجی شخصیات پر مشتمل کمیٹی کے حوالے کیا گیا ،روح الامین خان کی قیادت میں قائم کمیٹی باوقار انداز میں بچیوں کو ان کے والدین یا عزیز وا قارب کے حوالے کرے گی، کمیٹی کی نگرانی باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ فیاض خان کریں گے ۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ ہم اپنے قومی فریضہ سے کسی صورت روگردانی نہیں کریں گے عملیت پسندی پر یقین رکھتے یقین رکھتے ہیں اسلاف کیا دیا ہوا سبق آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے ہم ارباب اختیار سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

مورخہ : 27.11.2014 بروز جمعرات
پریس ریلیز

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پیوٹا کے انتخابات میں فرینڈز گروپ سے کامیاب ہونے والے نو منتخب صدر ڈاکٹر فضل ناصر ، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فیاض علی ، ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد اور اُن کے تمام پینل کو دلی مبارکباد دی ہے ۔ اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے اُنہوں نے اپنے جاریکردہ ایک تہنیتی بیان میں کہا کہ پیوٹا کے الیکشن میں فرینڈز گروپ پر مسلسل چھٹی بار اعتماد کا اظہار اُن کی بہترین کاوشوں اور بہترین کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ نو منتخب کابینہ طلباء کے بہتر پرورش اور علم کی شمع روشن کرنے میں اہم اور کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی اور تعلیم کی ترقی کیلئے اپنی کاوشوں اور مقاصد کو جاری رکھے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔

مورخہ : 27.11.2014 بروز جمعرات
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے ورکرز کنونشن آج بروز جمعۃ المبار ک بوقت 2 بجے سابق صوبائی وزیر ارباب ایوب جان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگا۔ کنونشن سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قائدین خطاب کرینگے۔ تمام کارکنوں اور ساتھیوں کو کنونشن میں بروقت پہنچنے کا اطلاع دی جاتی ہے۔

مورخہ : 26 نومبر 2014 بروز بدھ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ جب کراچی میں اے این پی ویسٹ ڈسٹرکٹ کے صدر ڈاکٹر ضیاء الدین کو شہید کیا گیا تو اے این پی نے سنٹرل کمیٹی کے فیصلے کے عین مطابق عدم تشدد کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن احتجاج ریکارڈ کرایا۔ کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیاگیا، پشاور میں پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا، بلوچستان ژوب میں احتجاج کیا گیا جبکہ پنجاب اور سرائیکی میں بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ جس کے نتیجے میں سندھ حکومت نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اے این پی کے صوبائی قائدین سے رابطہ کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے13 رکنی وفد نے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری کی قیادت میں گزشتہ شام چیف منسٹر ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کی ،ملاقات میں صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ڈاکٹر ضیاء الدین کی شہادت پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی خدشات سے آگا ہ کیااور باچا خان مرکز اور گرد و نواح کے علاقے میں مسلسل قتل و غارت گری کی جانب وزیر اعلیٰ سندھ کی توجہ مبذول کروائی، وزیر علیٰ سندھ نے ڈاکٹر ضیاء الدین کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیااور ڈاکٹر ضیاء الدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ورثاء کے لیے دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا،اور باچا خان مرکز کے قریب پولیس چوکی فوری تعمیر اور پارٹی رہنماؤں کو سیکیورٹی دینے کا یقین دلایا۔
اُنہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین کو شہداء کا سرکاری درجہ دیا گیا اور اسی طریقے سے اُن کو پیکج دینے کا اعلان کیا گیا۔ اور اسی طرح باچا خان مرکز کراچی کی حفاظت کا اقدام اُٹھانے کا بھی اعلان کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ آئندہ کیلئے ایسا نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا اور حکومت اے این پی کی حفاظت پر بھرپور توجہ دے گی۔ خدانہ کرے کہ ایسا کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آیا تو اے این پی اپنی وضع کردہ پالیسی پر بھرپور عمل کرے گی اور اپنے شہداء اور ورکروں کی حفاظت کیلئے آخری حد تک جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین کے شہید ہونے کے بعد اے این پی نے ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے جو کہ آج ختم ہو جائیگا۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی تمام صوبوں میں ٹارگٹ ہے اور جس طرح سندھ حکومت نے اے این پی کی حفاظت کیلئے اقدام اُٹھانے کا وعدہ کیا ہے اسی طرح وفاقی حکومت اور باقی صوبوں کو بھی اے این پی کی حفاظت کیلئے اقدام اُٹھانے چاہیے۔ اے این پی کے رہنما نے کہا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

لیاقت آباد سے 26 بچیوں کی بازیابی کے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔سینیٹر شاہی سید
معصوم بچیوں کو اس طرح سے رکھنا آئین اور شریعت کے سراسر خلاف ہے۔
معصوم بچیوں کی شیلٹر ہوم منتقلی باعث اطمینان ہے واقعہ کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے۔صدر اے این پی سندھ

کراچی ۔26نومبر 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد سے 26 بچیوں کی بازیابی کے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچیوں کو اس طرح سے رکھنا آئین اور شریعت کے سراسر خلاف ہے ،بازیاب کروائی گئی معصوم بچیوں کی شیلٹر ہوم منتقلی باعث اطمینان ہے ،واقعہ کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے13 رکنی وفد نے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری کی قیادت میں گزشتہ شام چیف منسٹر ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شام سے ملاقات کی ،ملاقات میں صوبائی جنرل سیکریٹریی یونس خان بونیری نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ڈاکٹر ضیاء الدین کی شہادت پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی خدشات سے آگا ہ کیااور باچا خان مرکز اور گرد و نواح کے علاقے میں مسلسل قتل و غارت گری کی جانب وزیر اعلیٰ سندھ کی توجہ مبذول کروائی، وزیر علیٰ سندھ نے ڈاکٹر ضیاء الدین کے قاتلوں کی گرفتاری تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیااور ڈاکٹر ضیاء الدین کی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ورثاء کے لیے دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا،اور باچا خان مرکز کے قریب پولیس چوکی فوری تعمیر اور پارٹی رہنماؤں کو سیکیورٹی کا یقین دلایا۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے وفد نے ڈاکٹر ضیاء الدین کے قاتلوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔

مورخہ26نومبر2014ء بروز بدھ

اے این پی کے رہنماؤں کی خدائی خدمتگار ، شاعر، ادیب سلطان محمددرمند آف بہادر کلے کے انتقال پر تعزیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی قائد اسفندیار ولی خان ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین، صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے خدائی خدمتگار ، شاعر، ادیب اور رحمان ادبی ٹولنہ کے سربراہ سلطان محمددرمند آف بہادر کلے کے انتقال پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مرحوم فخر افغان باچا خان بابا کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔اور خدائی خدمتگار تحریک میں اُنہوں نے جو خدمات انجام دیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکے گا،انہوں نے مرحوم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ، اپنے پیغام میں انہوں نے سوگواران سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی آپ کے غم میں برابر کی شریک ہے ،پاارٹی رہنماؤں نے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔

مورخہ : 24.11.2014 بروز پیر

ہم قائدین اے این پی مولانا عبدالطیف صدر میر عباداللہ جنرل سیکرٹری رحمت علی شاہ پریس سیکرٹری شہزادہ ضیاء الرحمان ممبر صوبائی کونسل محمد عزیز بیگ ممبر صوبائی کونسل تمام پریس میڈیا کے دوستوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ آپ ہم چند گزارشات پیش خدمت کریں گے۔ ضلع چترال کے غیو ر عوام کو بخوبی علم ہے کہ اے این پی اپنی پانچ سالہ دور حکومت مکمل کر چکی ہے۔ تحریک انصاف کے نام پر انصاف کے بغیر حکومت ہم پر مسلط ہے۔ کوئی انصاف نظر نہیں آرہا ہے سابقہ اے این پی کی حکومت نے جو ترقیاتی کاموں کا جال صوبے کے اندر خاص کر ضلع چترال کے اندر بچھانے تھے۔ وہ ان گنت ہیں۔ محسن چترال امیر حیدر خان ہوتی کی قیادت میں جو ترقیاتی کام ضلع چترال میں کئے گئے وہ چترال کی ترقی کا 65 سالہ ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔ محس چترال کی اپنے دور حکومت میں سات مرتبہ چترال کا دور اور میگا پراجیکٹ کا اعلان جس میں خاص کر عبدالولی خان بائی پاس قابل ذکر ہے۔ مکمل فنڈ کی فراہمی جو اب بھی متعلقہ محکمے کی غفلت اور لاپرواہی سے اکاؤنٹ میں پڑے ہیں۔ بائی پاس روڈ عدم توجہی کا شکار ہے۔ مین بازار سڑکیں زیادہ رش کو برداشت نہیں کر پا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف کو کسی قسم کی مشکلات کا احساس نہیں ہے۔ دھرنا دے کر وقت گزار رہی ہے جو کہ عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
گولین گول واٹر سپلائی سکیم جو ٹاؤن ایریا کے عوام کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ناقص میٹریل کی استعمال کی وجہ سے مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ کچھ اُمیدیں باقی تھیں۔ ایم پی اے سلیم خان افتتاح کر کے بقی اُمیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔ اور ساز باز کر کے فنڈ غبن کیا ہے۔ٹاؤن ایریا کے عوام کے ساتھ مذاق کیا ۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
محسن چترال کی عوام کے ساتھ دلی محبت رکھتے ہوئے عبدالولی خان بائی پاس روڈ کے علاوہ عبدالولی خان یونیورسٹی کیمپس چترال ، شاہی مسجد کی مرمت کے لیے فنڈز لاوی پاور پراجیکٹ ، دروش واٹر سپلائی سکیم ، چترال ٹاؤن کے اندرسڑکوں کی مرمت کیلئے فنڈز ، دروش گرلز ڈگری کالج ، بکا مک پل ، جوڈیشنل کمپلیکس، امتحاجی ہال ہائی سکول وریجون و دروش ، گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل سکول چترال کے پلے گراؤنڈز کیلئے فنڈز ، چترال کو بونی روڈ بمقام دنین پشتون کیلئے فنڈز ، گرم چشمہ روڈ آٹھ کلو میٹر کی پختگی ، پلے گراؤنڈ ہائی سکول ایون ، گرم چشمہ مڈل سکولوں کو ہائی کا درجہ دینے ، مڈل سکول سور لاسپور ، مڈل سکول پرئیت ، گورنمنٹ ہائی سکول ایون کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ ، گورنمنت پرائمری سکول ریری اویر اور شیشی کوہ کو مڈل کا درجہ ، گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول عشریت کلکٹک کو مڈل کا درجہ ، گورنمنٹ مڈل سکول شاہ نگار دروش کو ہائی کا درجہ محسن چترال نے اپنی دورہ چترال میں ائیرپورٹ اور بمقام دروش اوسیک میں متذکرہ سکولوں کا اعلان کیا تھا۔ پرئیت پل جو کہ ہمارے اے این پی کے ایک اہم کارکن جلال الدین کی کوششوں سے تعمیر ہوا۔ اور پرئیت کے عوام اس پل سے استعفادہ کر رہے ہیں اب معلوم ہوا ہے کہ جناب سلیم خان صاحب متذکرہ سکولوں کا افتتاح کر رہا ہے۔جو کہ تکمیل ہوئے ہیں۔ ہم ہر گز برداشت نہیں کرینگے۔ کہ سلیم خان ان سکولوں کا افتتاح کرے۔ ہم بذریعہ میدیا سلیم خان کو خبر دار کرتے ہیں کہ افتتاح سے باز آجائے بصورت دیگر تمام تر ذمہ داری سلیم خان پر عائد ہو گی۔ بہتر یہ تھا کہ اپنے وزارت کے دوران زچہ بچہ کا مرکز گاؤں گاؤں قائم کرکے ان ان کا افتتاح کرے اب بھی ایک میگا پراجیکٹ عوام چترال کیلئے پیش کرے ۔ نیز عبدالولی خان بائی پاس روڈ کا نقشہ بدل دیا گیا ہے۔ اور بلیک ٹاپنگ کیلئے ناقص میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔ نگرانی کی جائے اور نقشہ کے مطابق صحیح پیمائش کر کے اہم پراجیکٹ کو پایۂ تکمیل پہنچایا جائے۔
نوٹ : حالیہ اشتہار بھرتی ایف سی قابل اعتراض ہے زعا علی اور سنی مذہب کیلئے الگ الگ کوٹہ مقرر کرنا چترالی عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہے

مورخہ : 24.11.2014 بروز پیر

انسانیت دشمن ،اسلام دشمن عناصر کس کس روپ میں کام کررہے ہیں سب کو معلوم ہے۔سینیٹر شاہی سید
کراچی ۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے پارٹی رہنماء ڈاکٹر ضیاء الدین کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاص طور سے ہمیں ہمارے مضبوط گڑھ ضلع غربی میں چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے تسلسل سے اسی علاقے میں ہمارے قد آور رہنماؤں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے اداروں کو اپنی فریاد سناسنا کر تھک چکے ہیں،شاید ہمارے ادارے ایسی نگاہوں سے محروم ہیں جس سے انہیں ہمارے قاتل نظر آسکیں کون ہمیں قتل کرکے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے ہمارے ریاستی اداروں کو سب پتہ ہے انسانیت دشمن ،اسلام دشمن عناصر کس کس روپ میں کام کررہے ہیں سب کو معلوم ہے وفاقی و صوبائی حکومت اپنی بے حسی ختم کرے،چوہدری نثار صرف اسلام آباد کے ڈی چوک کے وزیر داخلہ ہیں یا پورے پاکستان کے ؟،سندھ حکومت تسلیوں اور یقین دہانیوں سے آگے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا انہوں نے مذید کہا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اگر اداروں نے روایتی یقین دہانیوں کا سلسہ جاری رکھا تو ہم کسی قسم کا اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے پوری پارٹی ڈاکٹر ضیاء الدین کے پسماندگان کے غم میں برابر کی شریک ہے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں

مورخہ : 24.11.2014 بروز پیر

ے این پی ضلع غربی کے صدر شہید ڈاکٹر ضیاء الدین کی نما زجنازہ رحمان بابا اسٹیڈیم میں ادا کردی گئی .
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق گزشتہ روز ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے اے این پی ضلع غربی کے صدر شہید ڈاکٹر ضیاء الدین کی نما زجنازہ رحمان بابا اسٹیڈیم میں ادا کردی گئی نماز جنازہ میں عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری ،مرکزی لیبر سیکریٹری امیر نواب خان سمیت پارٹی کے مرکزی ،صوبائی ،ضلعی عہدیداران سمیت کارکنان اور اہل علاقہ کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی مرحو م کو آہوں سسکیوں میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیااس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خا ن بونیری نے کہا کہ شہید ڈاکٹر ضیاء الدین صرف ایک سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک بہت بڑے انسان تھے ان کی شہاد ت کسی طور ہمارے لیے بڑے سانحہ سے کم نہیں امن پسندی کو ہماری کمزوری نا سمجھا جائے ہڑتال،احتجاج اور اہم قومی شاہراہوں پر دھرنے کا حق رکھتے ہیں حکومت قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرے

مورخہ : 24.11.2014 بروز پیر

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اے این پی ضلع کراچی (ویسٹ) کے صدر ڈاکٹر ضیاء الدین کے قتل کی شدید الفاط میں مذمت

پشاور (پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے کراچی میں اے این پی کے ضلعی صدرڈاکٹر ضیاء الدین کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر دُکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے اور واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے ایک مزمتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کا نہ رُکنے والا سلسلہ قابل مذمت ہے اور اس کے خلاف پختون ایس ایف بھرپور احتجاج کرے گی۔ اُنہوں نے سندھ کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہید ڈاکٹر ضیاء الدین کے قاتلوں کو فوری طورپر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کے پیروکار ہیں لہٰذا ہمارے فلسفے کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

ورخہ24نومبر2014ء بروز پیر

پشاور(پ ر) پختونوں کو متحد کرنے میں کوئی کوتاہی اور غفلت نہیں کریں گے۔ یہ بات اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے موضع صواوئی بونیر میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر موضع بٹکنئی ، غنڈ ،بہرام پٹے ، پیزوان گٹ اور صواوئی کے 62 خاندانوں نے جمیل خان اور عالم گیر خان کی قیادت میں عوامی جمہوری اتحاد سمیت دیگر پارٹیوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سردار حسین بابک نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پختونوں کو درپیش مسائل کا حل متحد ہونے میں مضمر ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی کے مرکزی قائد اسفندیار ولی خان اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی رابطہ عوام مہم پر زور دے رہے ہیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی اور مرکزی حکومت صوبے کے مسائل سے چشم پوشی کر رہی ہیں۔ جبکہ صوبہ دونوں حکومتوں کے آپس میں ٹکراؤ کی وجہ سے خلفشار اور مسائل سے دوچار ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام درپیش مسائل کی وجہ سے عاجز آچکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی اے این پی میں شمولیت اس بات کا مظہر ہے کہ لوگوں کا اے این پی کے علاوہ کسی سیاسی جماعت پر اعتماد باقی نہیں رہا ۔ اس موقع پر سابقہ ضلعی ناظم حاجی رؤف خان ، ضلعی صدر محمد کریم بابک نے بھی خطاب کیا۔ دریں اثناء نئے شامل ہونے والوں کے گھروں پر سرخ جھنڈے بھی لگائے گئے۔

صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ، اب خاموشی توڑنا ہو گی۔ میاں افتخار حسین
ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش ہو رہی ہے ، اے این پی کے رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ معمول بن چکی ہے ، اب اپنی حفاظت خود کریں گے۔
پشاور(پ ر)کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر ضیا ء الدین خان کی شہادت پر پشاور پریس کلب کے باہر اے این پی کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،جس میں ڈاکٹر ضیاء الدین کی شہادت پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور سندھ کی صوبائی حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ،اس موقع پر مظاہرین نے ٹائر جلائے اور واقعے کے خلاف نعرے بازی کی ، مظاہرے کی قیادت مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک کر رہے تھے،مطاہرین نے پختونوں کا قتل عام بند کرانے اور ڈاکٹر ضیاء الدین کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ، مظاہرے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ صوبائی حکومت ہماری حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اس لئے اب ہم اپنی حفاظت خود کریں گے، انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات میں بھی اے این پی دہشت گردوں کے نشانے پر تھی اور ہمیں مفلوج کر کے منظور نظر افراد کو سامنے لایا گیا مگر اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور ہم اب خاموش نہیں رہیں گے، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیداروں اور رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے گا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری اپنے عروج پر ہے لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ،انہوں نے شہید کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔

مورخہ24نومبر2014ء بروز پیر

امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک کی اے این پی رہنما ڈاکٹر ضیاء الدین کے قتل کی مذمت
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے دوران پارٹی رہنما ڈاکٹر ضیا ء الدین کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ، ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤن کی ٹارگت کلنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن سندھ کی صوبائی حکومت اے این پی کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ،انہوں نے کہا کہ ڈاکتر ضیاء الدین کو ایک عرصہ سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں لیکن اس کے باوجود انہیں سیکورٹی فراہم نہیں کیگئی ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ عدم برداشت کے فلسفے پر کاربند رہتے ہوئے امن کی خاطر قربانیاں دی ہیں ، انہوں نے سندھ کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکتر ضیاء الدین کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ۔

مورخہ24نومبر2014ء بروز پیر

امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک کا اقبال ریاض کے انتقال پر اظہار افسوس
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے سینئر صحافی اقبال ریاض کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مرحوم اقبال ریاض صحافت کے شعبہ میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور اپنے شعبہ میں انہوں نے جو قابل قدر خدمات انجام دی ہیں وہ مدتوں یاد رکھی جائیں، انہوں نے کہا کہ مرحوم اقبال ریاض کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکتا ، دونوں رہنماؤں نے غمزدہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی۔

مورخہ23نومبر2014ء بروز اتوار
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ایڈوکیٹ نے مردان جیل میں خطرناک قیدیوں کی منتقلی کے فیصلے پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے اسے مردان کے امن امان کے خلاف سازش قراردیاہے اورکہاہے کہ اے این پی اس حوالے سے دیگر سیاسی پارٹیوں سے جلد لائحہ عمل طے کرنے کیلئے رابطے کرے گی ،وہ نصیر کلے مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں درجنوں افراد نے تحریک انصاف ،مسلم لیگ اور دیگر پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت اختیار کی پارٹی رہنما نے نئے شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور انہیں سرخ ٹوپیاں پہنائیں،حمایت اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی پختون بچوں کے ہاتھوں میں قلم کتاب دیکھنا چاہتی ہے ہم برسراقتدار آکر پختونوں کے حقوق کا ادھورا ایجنڈا پورا کریں گے انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں صرف ضلع مردان امن کا گہواراہے لیکن صوبائی حکومت مردان کی نئی جیل کے نقشے میں تبدیلی کر کے اور خطرناک قیدیوں کو یہاں منتقل کرکے امن امان کو تہہ وبالا کرناچاہتی ہے ،حمایت اللہ مایار نے کہاکہ اس حوالے سے ان کی پارٹی دیگر پارٹیوں سے مل کر لائحہ عمل طے کرے گی اور موجودہ حکومت کے غلط فیصلوں کے خلاف ڈٹ کرمیدان میں لڑے گی، انہوں نے کہاکہ اے این پی خدائی خدمت گا رتحریک کا تسلسل ہے اورہماری پارٹی مظلوم کی حمایت اور اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمت اپنا فرض سمجھتی ہے، انہوں نے تحریک انصاف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ پی تی آئی کی حکومت نے تبدیلی اورنئے پاکستان کے نام پر پختون قوم کو دھوکہ دیاہے اور گذشتہ ڈیڑھ سال میں کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا اوراب بھی صوبے اورخصوصاًمردان میں ہمارے دور حکومت کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، انہوں نے کہاکہ اے این پی نے اپنے دورحکومت میں صوبے کو نام کی شناخت دی ،این ایف سی ایوارڈ حاصل کرکے 110ارب روپے کے بقایاجات مرکز سے حاصل کئے انہوں نے کہاکہ اے این پی نے پہلے دن سے جمہوریت اورعام آدمی کو بااختیار بنانے کی بات کی ہے اورآئندہ بھی اقتدار میں آکر عوامی خدمت کے مشن کا ادھورا ایجنڈا پورا کرے گی ۔ اجتماع سے ضلعی نائب صدر عباس ثانی ،فنانس سیکرٹری منیر خان یونین کونسل فاطمہ کے صدر انجینئر نذیر خان اور رحیم گل نے بھی خطاب کیا

مورخہ23نومبر2014ء بروز اتوار
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پشاور ہائیکورٹ بار کے انتخابات میں ملگری وکیلان کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تہنیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ نو منتخب کابینہ غیر جانبدارانہ وکالت پر یقین رکھتے ہوئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ملک میں قیام امن کے اپنے مقاصد کو جاری رکھے گی، پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ غیر جانبدارانہ وکالت قوم کی صحیح ترجمانی کرتی ہے اور حق و باطل کی جنگ میں وکلاء برادری نے ہمیشہ حق پرستوں کا ساتھ دیا ہے اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی،انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہر فورم پر وکلاء برادری کے جائز حقوق دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی پارٹی اس مشن پر کاربند رہے گی۔

مورخہ : 20.11.2014 بروز جمعرات

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ریاست کو بچوں کے حقوق اور اُن کے مفادات کی حفاظت کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھانے چاہئیں اور اس عمل میں سیاسی ، سماجی تنظیموں اور ریاستی اداروں کو سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ نہایت بدقسمتی کی بات ہے کہ ملک میں آج بھی 25 ملین سے زائد بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہیں جو کہ بحیثیت معاشرہ ہمارے لیے نہایت قابل شرم ہے۔ آج بھی ہماری دھرتی کے بچے بنیادی سہولتوں اور حقوق سے محروم ہیں۔ چائلڈ لیبر سکولوں میں جسمانی سزا اور ملک میں بچوں کی اخلاقی اور ذہنی نشوونما کے مواقع قطعی طور پر ناپید ہیں جو کہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ حقیقی طور پر توانا پر امن اور خوشحال معاشرے کے قیام کیلئے ہم سب کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص قبائلی علاقوں میں دہشتگردی اور جاری کارروائیوں کی وجہ سے عوام کافی تکلیف کا شکار ہے جس میں بچے ذہنی ، جسمانی اور جذباتی طور پر شدید متاثر ہو رہے ہیں۔اور اُن کی تعلیم بھی متاثر ہور ہی ہے۔ جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔
اُنہوں نے کہا کہ تھر میں قحط کی تباہ حالی کا سب سے زیادہ بچے شکارہیں جو خوراک ، ادویات اور ویکسین کی غیر دستیابی کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آج بچوں کے عالمی دن کی مناسب سے ہم سب کو عہد کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنی دھرتی کے بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔

مورخہ : 20.11.2014 بروز جمعرات

سابقہ ایف آئی اے کے ڈائیریکٹر جنرل ظفر اللہ خان اور پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چارسدہ کے صدر نعیم خان اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت 23 نومبر کو عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرینگے۔ گزشتہ روز اُنہوں نے اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان سے ملاقات کی اور اُن کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اے این پی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں 23 نومبر کو چارسدہ عمرزئی میں اے این پی چارسدہ کے زیر اہتمام ایک جلسہ منعقد ہوگا جس میں ظفراللہ خان سابقہ ڈی جی ایف آئی اے اور پاکستان پیپلز پارٹی چارسدہ کے صدر نعیم اے این پی میں باقاعدہ طور پر اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت شمولیت کا اعلان کرینگے۔ اے این پی کی قیادت نے پارٹی میں ان کی شمولیت کا خیر مقدم کیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ پارٹی میں ان کی شمولیت سے ضلع میں پارٹی مزید مضبوط اور مستحکم ہو جائیگی۔

مورخہ : 20.11.2014 بروز جمعرات

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ضلع مردان کے زیراہتمام 14دسمبر کو ریلوے گراؤنڈ میں عظیم الشان جلسہ ہوگا جس سے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان اور صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی سمیت دیگر مرکزی اورصوبائی قائدین خطاب کریں گے اس بات کا اعلان ہوتی ہاؤس میں تمام صوبائی حلقوں کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کے اجلاس میں کیا گیا جس میں اراکین اسمبلی احمد بہادرخان ،گوہرعلی باچا ،سابق وفاقی وزیر حاجی یعقوب خان ،علی خان نے خصوصی طورپر شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،حاجی محمد جاوید یوسفزئی ،ضلعی سیکرٹری اطلاعات روزمحمد خان اوردیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اے این پی اتوار14 دسمبر کو دن بارہ بجے ریلوے گراؤنڈمردان میں جلسہ منعقد کرے گی جس میں پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان ،صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ،مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین سمیت دیگر قائدین خطاب کریں گے مقررین نے کہاکہ جلسے کے انتظامات کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہے جو آج سے جلسے کے انتظامات شروع کریں گی انہوں نے کہاکہ جلسے میں مرکزی قائدین موجودہ سیاسی تناظر میں اہم اعلانات کریں گے انہوں نے کہاکہ پختون قوم جاگ اٹھی ہے اور 14 دسمبر کا جلسہ اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔

مورخہ : 20.11.2014 بروز جمعرات

پشاور (پ ر) ملگری اُستاذان کی صوبائی کونسل کا اجلاس زیر صدارت صوبائی صدر امجد ترکئی باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبایہ کابینہ کے ارکان وارچ خان خلیل ، گوہر علی خان ، حاجی عبدالقیوم ، سرتاج خان اور عارف خٹک کے علاوہ صوبہ بھر کے تمام اضلاع کے صدور نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں ملگری اُستاذان کی فارم سازی ، صوبائی کنونشن ، ٹائم سکیل اور اے ٹی اے الیکشن پر تفصیلی غورو غوص ہوا۔ اجلاس میں آئینی کمیٹی کے چیئرمین قدرت علی خان نے آئین میں ترامیم کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ آئین میں ڈویژنل سطح پر تنظیم کو ختم کرنے اور ایجنسیوں اور ایف آر میں ملگری اُستاذان کے تنظیمی ڈھانچہ کو فعال بنانے اور سرپرست اعلیٰ کو آئینی تحفظ دینے کی بھی تفصیل پیش کی۔ اجلاس میں ایس ایس ٹی کے صدر نادر خان کی ناگہانی موت پر گہرے دُکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے دُعائے مغفرت کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر امجد ترکئی نے کہا کہ کیڈر وائس تقسیم نے اساتذہ کی کاذ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اُنہوں نے کہا کہ (پی ایس ٹی ، سی ٹی ، ڈی ایم ، پی ای ٹی ، اے ٹی ، ٹی ٹی) کی سکیل ابگریڈیشن ملگری اُستاذان کا بڑا کارنامہ ہے اور حالیہ ترقیاں ان کا تسلسل ہے۔ جس کا تمام تر کریڈیٹ اے این پی کے سابقہ حکومت اور ملگری اُستاذان کو ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اساتذہ کے رہے سہے تمام حل طلب مسائل بھی بہت جلد حل ہونگے۔

مورخہ20نومبر2014ء بروز جمعرات
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرتری میاں افتخار حسین نے آئی ڈی پیز سے متعلق تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت وفاق کو مورو الزام ٹھرانے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز چونکہ شہری علاقوں میں رہائش پزیر ہیں لہٰذا وہ پہلے صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتے ہیں انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں بھی آئی ڈی پیز باجوڑ خیبر ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی سمیت مختلف علاقوں سے یہاں آئے تاہم اے این پی نے اپنا فرض اولیں سمجھتے ہوئے ان کی ہر ممکن امداد کی اور اسے وفاق کے ذمے نہیں ڈالا بلکہ ہم نے اس سلسلے میں فاٹا سیکرٹریٹ کو بھی رقوم فراہم کیں ، انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ وفاق اس سلسلے میں بری الذمہ ہے مرکزی ھکومت کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاہم صوبائی حکومت کی طرف سے ان کی امداد پہلے کی جانی چاہیئے بعد میں وفاق سے مطالبات کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ آئی ڈی پیز پر توجہ بھی نہیں دیتی اور ان کیلئے بجٹ بھی خرچ نہیں کرتی،انہوں نے کہا کہ الزامات لگانے والے اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اے این پی پر الزامات لگا رہے ہیں ،میاں افتخار حسین نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی حکومت کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو الزامات کی سیاست چھوڑ کر 30لاکھ آئی ڈی پیز پر توجہ مرکوز رکھیں ، انہوں نے کہا کہ کرسی کی خاطر دھرنے دینے والے کس منہ سے گلے شکوے کرتے ہیں ، انہونں نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اقتدار کی خاطر کپتان دھرنے دئے بیٹھے ہیں جبکہ بجلی کے معاملے پر وہ عدالت سے رجوع کرتے ہیں جبکہ انہی عدالتوں کو اپنے دھرنے میں تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں انہوں نے کہا کہ یا عمران خان سارے مسائل دھرنوں میں حل کرائیں یا پھر تمام مسائل عدالتوں کے ذریعے حل کرائیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت اور تعلیم کے معاملے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اے این پی کے دور مین جتنے ترقیاتی کام ہوئے وہ صوبے کی ساٹھ سالہ تاریخ مین نہیں ہوئے جبکہ اس کے برعکس تحریک انصاف کا بجٹ لیپس ہو گیا اور ان کی غلط اور انا پرست پالیسیوں سے صوبے کے پیسے کا ضیاع ہو رہا ہے ،انہون نے کہا کہ صوبے مین اب انجنئرڈ طریقے سے کرپشن ہو رہی ہے من پسند تھیکیدارون اور این جی اوز کو نوازا جا رہا ہے ،غیر قانونی بھرتیاں ریکارڈ پر ہیں ، جو سراسر من مانی اور پیسوں کی لین دین پر ہوئیں انہوں نے کہا کہ قانوں کی عملداری کا یہ ھال یہ ہے کہ جنہوں نے یہ غیر قانونی بھرتیاں کین انہیں تو دھر لیا گیا لیکن جن لوگوں کے کہنے پر ہوئین ان پر ہاتھ ڈالنے سے کترایا جا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے کی کوئی اقتصادی پالیسی نہین ہے ، تعلیمی پالیسی کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے ، آئی ڈی پیز کو پول؛یس میں بھرتی کرنے کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس معاملے پر بھی کڑی نطر رکھنی ہوگی کہ کہیں یہ اعلان بھی رشوت ستانی کی نذر نہ ہو جائے ، کیونکہ پی ٹی آئی اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے مین لگی رہتی ہے ، کرپشن چابت ہونے پر دوسری جماعت کے وزراء کو تو ھکومت سے ہی نکال باہر کیا گیا جبکہ اپنے وزراء کی کرپشن ثابت ہونے پر ان کے صرف محکمے تبدیل کر دیئے گئے ،انہوں نے کہا کہ عمران کان کے اعلان کے مطابق دو سال میں سٹرکچر بنائیں گے پھر سسٹم بنائیں گے لیکن دو سال گزرنے کے بعد بھی آج تک سٹرکچر نہ بن سکا اب سسٹم کیلئے جانے کتنا وقت درکار ہو گا ، انہوں نے کہا کہ قوم پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ 90دن میں تبدیلی کے وعدے اور دعوے دھرے رہ گئے ہیں ، انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ الزام تراشی چھوڑ کر اور سیاست سے بالاتر ہو کر آئی ڈی پیز کے مسئلے پر توجہ دیں۔

مورخہ19نومبر2014ء بروز بدھ

مردان میں صوبائی کابینہ کا اجلاس، حاجی بہادرخان کی رکنیت بحال
پشاور ( پ ر ) عوامی ننیشنل پارٹی کی صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کی زیر صدارت مردان مین ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا ،جس میں کابینہ کے تمام ممبران نے شرکت کی ، اجلاس میں صوبائی سرگرمیوں اور رابطہ عوام مہم پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ،اور فیصلہ کیا گیا کہ رابطہ عوام مہم کو مزید منظم بنانے کیلئے ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریز اور صوبائی کابینہ کے تمام اراکہن اپنی شرکت یقینی بنائیں ۔
اجلاس مین فیصلہ ہوا کہ دیر لوئر کی ضلعی کابینہ کا انتخاب موجودہ فارم سازی کے ذریعے ہی کیا جائیگا ،اجلاس میں سابق رکن صوبائی اسمبلی حاجی بہادر خان کی اپیل پر ان کی رکنیت بھی بحال کرنے کا فیصلہ ہوا ،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی صوبے کی ایک مضبوط اور منظم سیاسی جماعت ہے اور وارڈ سے لے کر صوبے کی سطح تک پارٹی کو مزید منظم کرنے کیلئے تمام عہدیدارون کو بے لوچ اور متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔
اجلاس میں تمام ذیلی تنظیموں کی کارکردگی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا ،اور ذیلی تنطیموں کے ایڈوائزرز کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ ذیلی تنظیموں کی سرگرمیوں کو مزید تقویت دینے کیلئے بلاتاخیر اپنا کردار ادا کریں ،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں صوبے کی بے لوث خدمت کی ہے جبکہ اب اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی صوبے کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں ہزاروں لوگوں کو نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کئے بلکہ مفاد عامہ کی خاطر عوام کے مسائل کی صحیح ترجمانی بھی کی ہے ،انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ گزشتہ انتخابات میں پارٹی کے چھینے گئے مینڈیٹ کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہو جائیں۔

مورخہ19نومبر2014ء بروز بدھ
پشاور(پ ر) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہا ہے کہ آئی ڈی پیز کے مسئلے پر تمام پارٹیوں کو متحد ہونا ہوگا ،ا ے این پی نے پختو ن لیڈر وں کا جرگہ بلاکرپہلی اینٹ رکھ دی ہے، خالی دعوؤں اورنعروں کی بجائے وزیرستان متاثرین کی بحالی اور باعزت واپسی کے لئے اقدامات کریں وہ یونین کونسل چک ہوتی مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب اوربعدازاں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے اجتماع میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی پارٹیوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کااعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے نئے شامل ہونے والے افراد کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باددی ،امیر حیدر ہوتی نے افسو س کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت نے متاثرین کے مسئلے سے آنکھیں پھیر لی ہیں کیونکہ سردی میں متاثرین کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیاہے، انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے ایجنڈے میں سرے سے پختون خوا اورقبائل شامل ہی نہیں حکومت متاثرین کو سہولیات دینے کی بجائے ان پر لاٹھیاں برسارہی ہے، انہوں نے کہاکہ قبائلی پختون پاکستان کی سرحدوں کے محافظ ہیں اورانہوں نے جانوں کی پرواہ کئے بغیرجنگ آزادی اور تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاہے اوراب مشکل کی گھڑی میں تمام سیاسی جماعتوں کا فرض بنتاہے کہ آئی ڈی پیز کے مسائل کم کرنے کے لئے متحدہوجائیں انہوں نے کہاکہ اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی نے گذشتہ روز پختون قیادت کو ایک میز پر جمع کرکے اس مسئلے کے حل کی طرف قدم اٹھایاہے حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے کے حل کے لئے مل جل کر کام کریں، انہوں نے متاثرین وزیرستان کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ آزمائش کی گھڑی میں پختون قبائل خود کو اکیلا محسو س نہ کریں دنیا بھر کے پختون ان کی پشت پر ہیں اورقبائلی گرینڈ جرگہ جو بھی فیصلہ کرے اس پر من وعن عمل درآمد کے لئے ان کا بھرپور ساتھ دیں گے، انہوں نے کہاکہ ان کے دورمیں ملاکنڈ کے لاکھوں متاثرین کو نہ صرف بھرپور سہولیات مہیاکی گئیں بلکہ تین ماہ کے اندر اندر ان کی باعزت واپسی کو بھی ممکن بنادیا دریں اثناء عوامی اجتماع سے خطاب میں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختونوں نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا لیکن پی ٹی آئی والوں نے یہاں سے اختیارات بنی گالہ منتقل کئے اوراب پختون قوم کی قسمت کے فیصلے اٹک پار شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کررہے ہیں،تبدیلی اور سستے انصاف کے دعویدار اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں اورپختون قوم وعدہ شکنوں سے بدلہ لے کر دم لے گی ،انہوں نے کہاکہ عمران خان کو پختون مینڈیٹ کی کوئی پرواہ نہیں وہ وزیراعظم بننے کے کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں اوران کی نظریں پنجاب پر ہیں جہاں سے اکثریت حاصل کرنے کے چکر میں ہیں انہوں نے مرکزی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اورکہاکہ میاں نوازشریف کو یہاں سے مینڈیٹ نہ ملا تو انہوں نے بھی اس کی سزا پختونوں کو دی اور یہاں کے عوام کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی سے بھی منہ موڑ لیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کی شکارہے اوراس مشکل سے نکلنے کے لئے پختون قوم کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہوناہوگا۔

مورخہ19نومبر2014ء بروز بدھ
اجمل خٹک پولی ٹیکنیک کالج کی خٹک نامہ سے وزیر اعلیٰ کے گاؤں منتقلی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا گیا کہ2012-13میں سیکشن 4موجود تھا تاہم 2013-14ء میں یہ سیکشن 4واپس لے لیا گیا ، جس کے بعد عدالت نے کیس کی مکمل رپورٹ طلب کرلی اور سٹے آرڈر کو برقرار رکھتے ہوئے سماعت 3دسمبر تک ملتوی کر دی ، جناب یحییٰ آفریدی کی عدالت میں کئے گئے کیس میں پیشی کے بعدکمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پا س اتنے اختیارات ہیں کہ وہ 10کالج بھی چاہیں تو اپنے گاؤں میں بنا سکتے ہیں لیکن اے ین پی دور میں بنائے گئے منصوبوں کی اپنے گاؤں میں منتقلی سے ان کی بد دیانتی ثابت ہو گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک کے نام سے منسوب پولی ٹیکنیک کالج عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت کا کارنامہ تھا اور پی کے12کے عوام کی سولت کیلئے یہ کالج قائم کیا گیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ نے اسے اپنے گاؤں میں منتقل کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے اور اس ظلم اور نا انصافی کے خلاف ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت عوام کے حق میں انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی ، انہوں نے کہا کہ پی کے 12کے عوام نے 2013ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار پر اعتماد کا اظہارکیا ہے، لیکن پی ٹی آئی نے احسان فراموشی کی انتہا کر دی ہے اور اسی حلقے کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو عوام کے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، میاں افتخار حسین نے کہاکہ خیبرپختون خوا کے عوام تذبذب کا شکارہیں کہ عمران خان انہیں کس جرم کی سزا دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ اپنے مسائل کے حل کے لئے دیا تاہم تحریک انصاف کے کپتان نے خیبر پختونخوا کے عوام کو ہی مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے ، اور عوامی نیشنل پارٹی ایسے ہر اقدام کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی کی جانب سے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا گیا ہے وہ سراسر غلط ہے کیونکہ سیکشن 4اگر واپس لیا گیا ہے تو اس کی ٹھوس وجوہات بیان کی جائیں ، انہوں نے کہا کہ سیکشن 4کی واپسی بھی بد دیانتی ہے اور اس کی جگہ دوسرے سیکشن کا اطلاق نہ کرنا بھی بد دیانتی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈیڑھ سالہ دور میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ، انہوں نے ایک بار بھرامید ظاہر کی کہ انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی اور پی کے12کے عوام اپنے حقوق کی جنگ میں سر خرو ہوں گے۔

مورخہ : 18.11.2014 بروز منگل

پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ کپتان کی تبدیلی محض ڈھونگ ہے حقیقی تبدیلی تو اے این پی کے دور میں آئی تھی ،جس میں صوبے کو نام کی شناخت ملی ،این ایف سی ایوارڈ منظور ہوا گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ میں ترقیاتی عمل جاری تھا اب تو صوبائی حکومت کی ڈوریں بنی گالہ سے ہلائی جارہی ہیں ،وزیراعلیٰ بے چارے کے پاس اختیار نہیں جبکہ عمران خان کی نظریں پختون قوم کے مسائل نہیں بلکہ وزیراعظم کی کرسی پر ہے صوبے میں بھتہ خوری،ٹارگٹ کلنگ اورمہنگائی کا دوردورہ ہے پختون نوجوان صوبے کی تقدیر بدلنے کے لئے اپنا کردار اداکریں وہ خیر آباد رستم میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں پیپلز پارٹی کے رہنما راحت خان نے اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کااعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیار کرنے والے نئے کارکنوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باد دی اجتماع سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ایڈووکیٹ ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اورراحت خان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ عمران خان دھرنے میں شرکت کے لئے لوگوں کو طرح طرح کی لالچ دے رہیں کپتان کو پختونوں کے مسائل اورمشکلات سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ ان کی نظریں وزیراعظم کی کرسی پر لگی ہے اوروہ پنجاب کے تخت کی جنگ لڑرہے ہیں کیونکہ پنجاب کی اکثریت حاصل کئے بغیر کوئی وزیراعظم نہیں بن سکتا انہوں نے کہاکہ کپتان نے پختون نوجوانوں کو سبزباغات دکھاکر ان سے ووٹ لئے اورمینڈیٹ کے بعد پی ٹی آئی نے صوبے کے اختیارات بنی گالہ منتقل کردیئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پرویز خٹک بے اختیار وزیراعلیٰ ہیں پختونوں کے تقدیر کے فیصلے پنجابی لیڈر شپ کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کی مایوس کن کارکردگی کے باعث پختون قوم اپنے فیصلہ پر نادم ہیں اوروہ بنی گالہ سے اختیارات اپنے صوبے واپس لاکر دم لیں گے امیرحیدرخان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہاکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پورے ملک میں پھرتے رہے اور تین ماہ میں تبدیلی ،نئے پاکستان اور نئے خیبرپختون خوا کے وعدے کرتے رہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا صوبے میں بھتہ خوری ، بدامنی ، مہنگائی ،لوڈشیڈنگ اورلاقانونیت کا دور دورہ ہے کپتان نے پختونوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان زبانی تبدیلی کے دعوے کررہے ہیں جبکہ حقیقی تبدیلی تو اے این پی کے دورحکومت میں آئی تھی جس میں صوبے کا نام تبدیل ہوا ،صوبائی خودمختاری،این ایف سی ایوارڈ اور مرکزی حکومت سے اربوں روپے کے بقایا ت وصول کئے گئے انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول اور کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی ملک میں جمہوریت چاہتی ہے اوراس مقصد کے لئے ہم نے بادل ناخواستہ انتخابی نتائج تسلیم کئے ہیں ورنہ عمران چند حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگارہے ہیں اورہمارے ساتھ تو ہر حلقے میں کھلی دھاندلی کرائی گئی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی نے پختون قوم کے حقوق اور سیاسی آزادی کے لئے جانوں کے نذرانے دیئے آج بھی ان کی شہادتوں کا تسلسل جاری ہے اور اے این پی کے کارکن دہشت گردوں اورانتہا پسندوں کے میدان میں مقابلہ کرکے وطن کی حفاظت کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی نے ہر دورمیں ظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیاامیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجود ہ حالات انہتائی نازک ہیں اورایسے میں اے این پی کے کارکنوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باچاخان اورخان عبدالولی خان کے عدم تشدد کے فلسفے اور فکر کو ہرسوں پھیلائیں اورلوگوں کواس دھرتی اور پختون قوم کے لئے اے این پی کی قربانیوں سے باخبر کریں انہوں نے کہاکہ پختونوں کے پاس اپنی بقا کے لئے اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کے سوا کوئی راستہ بچانہیں ہے ۔

مورخہ18نومبر2014ء بروز منگل
پشاور(پ ر)میاں راشد شہید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’ملالہ تقریبات‘‘کے نام سے ایک خصوصی تقریب نشتر ہال پشاور میں منعقد ہوئی جس میں صوبہ بھر سے مختلف سیاسی و سماجی تنظیوموں کے نمائندوں اور سینکڑوں کی تعداد میں سکول کے بچوں نے شرکت کی
تقریب سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور راشد شہید فاؤنڈیشن کے سربراہ میاں افتخار حسین اور ملالہ یوسفزئی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خصوصی خطاب کیا ،
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار ھسین نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی پورے پاکستان اور پختونخوا کی بیٹی ہے جس پر ہم سب کو فخر ہے کچھ عناصر کیطرف کی طرف سے ملالہ یوسفزئی کے خلاف پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ اور مائنڈ سیٹ کی علامت ہے جو اس مٹی پر بسنے والے انسانوں کیلئے امن آسودگی اور خوشحالی لانے کیلئے برسرپیکار ہے اور اسی سوچ کی خاطر قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں اور دوسری طرف ملالہ کی شخصیت کو مسخ کرنے والے دراصل اسی قدامت پرست تنگ نظر اور جنگجویانہ سوچ کو پروان چڑھانے والے مائنڈ سیٹ ہیں جو اس وطن پر خونریزی و بدامنی پھیلانے میں اپنا مستقبل تلاش کرتے رہتے ہیں ، میاں افتخار ھسین نے ملالہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ کی سب سے بڑی کامیابی نے عالمی سطح پر اس قومی سوچ کو اجاگر کیا ہے کہ پختون معاشرہ تنگ نظر اور قدامت پسند نہیں بلکہ یہ قوم اپنے بچوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتی ہے اور اپنے معاشرے میں اعتدال ، امن و انصاف ترقی اور آسودگی کیلئے کوشاں ہے،
انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں ہوتے ہوئے اور آج بھی دھرتی پر امن قائم کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اس کیلئے کسی قسم کی قربانی دینے سے نہیں کترائے ،
ملالہ یوسفزئی نے اپنے خطاب میں راشد شہید فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا اور میاں افتخار حسین کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ، انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عدل وانصاف اور عورتوں اور مردوں کو یکساں مقام دلانے کیلئے اور عورتوں اور بچوں کے مسائل اور مشکلات کے حل کیلئے ہمیں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ معاشرے سے تمام ان رسومات اور برائیوں کا خاتمہ کریں جو انسانی حقوق کے خلاف ہیں ،انہوں نے کہا کہ خوشحال معاشرے میں کے قیام کیلئے تعلیم اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم سب سے بڑی ضرورت ہے ،لہذٰا تعلیم کے فروغ کیلئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔تقریب سے مختلف دانشوروں ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور مختلف سکول کے بچوں نے خطاب کیا ، جبکہ اس موقع پر سکول کے بچوں نے امن کے حوالے سے خاکے پیش کئے اور ثقافتی رقص پیش کیا ۔

سینیٹر شاہی سیدسے لیاری کے کے وارڈ صدور کی ملاقات ،انتہائی کامیاب ورکرز کنونشن کرنے پر وارڈ صدور کو مبارک باد اور سندھی ٹوپی اجرک پہنائی ۔
کراچی ۔ منگل 18 نومبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید نے لیاری کے غزنوی وارڈ کے صدر اختر پشتون جنرل سیکریٹری زیب گل ،لیمارکیٹ وارڈ کے صدرعبدا لحق اور جنرل سیکریٹری گل بادشاہ سے ملاقات کی ،انتہائی کامیاب ورکرز کنونشن کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے سندھی ٹوپی اجرک پہنائی ،انہوں نے کہا کہ لیاری میںیونین کونسل کی سطح پر اتنے عظیم الشان اور انتہائی منظم اجتماعات کرنا پارٹی کے لیے نیک شگون ہے ورکرز کنونشنز میں کارکنان کا جوش و خروش پارٹی کے انتہائی روشن مستقبل کی نشاندہی کررہا ہے میں دونوں وارڈوں کے کارکنان خاص طور پر صدور اختر پشتون اورعبدا لحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں انہوں نے مذید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی سو سال سے زیادہ سیاسی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے ہماری تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے گزشتہ 96 روز سے قوم جو کچھ ٹی وی اسکرینوں پر دکھایا جارہا ہے وہ سیاست کے ساتھ ایک سنگین مزاق سے زیادہ کچھ نہیں
کارکنان اپنی صف بندی شروع کردیں اس موقع پرصوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری ،ضلعی صدر عبدا لقیوم سالارزائی ،،سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر سید حنیف شاہ اور لیاری کے سینئر رہنماء تاج گل چغر زئی بھی موجود تھے۔

مورخہ :17 نومبر 2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پشاور کی بین الاقوامی پروازوں کی بندش صوبائی حکومت کی نا اہلی ہے۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی غفلت اور نا اہلی کی وجہ سے باچا خان ائیرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کی بندش باہر دُنیا میں مقیم صوبے کے لاکھوں افراد کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دعوے تو بہت کر رہی ہے لیکن صوبے کے واحد بین الاقوامی ائیرپورٹ کا تحفظ یقینی بنانے میں ناکام ہو گئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے لاکھوں گھرانوں کا انحصار بیرون ملک مقیم اپنے رشتہ داروں کی زرمبادلہ پر ہے لیکن باچا خان ائیرپورٹ پر بین الاقوامی پروازوں کی بندش سے نہ صرف ان کو نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ تکلیف سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے۔ عمران خان باقی صوبوں میں اپنی صوبائی حکومت کی مثالیں دیتے ہوئے تھکتے نہیں لیکن ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی غافل صوبائی حکومت کی وجہ سے باچا خان ائیرپورٹ بند ہوئے دکھائے دے رہا ہے جو کہ صوبے کے عوام کیلئے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں بد امنی نے لوگوں سے سکھ کا سانس چھین لیا ہے جبکہ عمران خان صاحب اسلام آباد کو فتح کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ اُنہوں نے کہا صوبائی حکومت کے آتے ہی صوبے میں نہ صرف بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ساتھ ہی عدم تحفظ کا احساس روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو باچا خان ائیرپورٹ کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔

مورخہ 17 نومبر 205 ؁ء بروز پیر

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی‘ جنرل سیکرٹری سرتاج خان اور دیگر کابینہ اراکین نے اے این پی سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں اور ورکروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب ورکرز کنونشن سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اے این پی ایک منظم اور صوبے کی سب سے بڑی جماعت ہے اور آنیوالے بلدیاتی انتخابات میں اے این پی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی اے این پی نے 2008 ؁ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مشکل حالات کے باوجود بے پناہ ترقیاتی کام کئے لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے تبدیلی کے نام پر ووٹ لیکر پختون قوم کا استحصال کیا اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے کو جو ترقیاتی فنڈ ملے ہیں اس میں 70 فیصد فنڈ لیپس ہو گئے ہیں جو کہ موجودہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ بلند و بانگ دعوے اور زبانی جمع خرچ بہت کیا جاتا ہے لیکن پچھلے دو سالوں میں عوام کو کسی قسم کی ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہے۔

مورخہ17نومبر2014ء بروز پیر
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تبدیلی اور سستے انصاف کے دعویدار اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں اورصوبے میں امن تحریک انصاف کی بدولت نہیں بلکہ اے این پی کی قربانیوں کی مرہون منت ہے ،پختون قوم وعدہ شکنوں سے بدلہ لے کر دم لے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 6 بہادر کلے میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ عمران خان عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں وزیرستان جا چکے ہیں جس کا پورا ملک گواہ ہے اگر ان میں اتنی ہمت ہے تو اپنی حکومت میں وزیرستان کا دورہ کر کے دکھائیں، انہوں نے کہا کہ کپتان نے پختونوں کو دھوکہ دیاہے اور وہ وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب میں اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون قوم کو اپنی بقا اورترقی کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکھٹاہوناہوگا ، تحریک انصاف بند گلی میں داخل ہوچکی ہے،اور اب اس کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ عوام تحریک انصاف کو ووٹ دے کر پچھتا رہے ہیں اور انشاء اللہ آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا،انہوں نے کہا کہ اے این پی کو طعنے دینے والے لوگوں کو علم ہونا چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اور اپنی مٹی اور عوام کو تحفظ دینے کی اے این پی کی حکومت اور وزراء کے کردار کو پورا پاکستان اور عالمی دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنی مٹی اور عوام کے تحفظ کی خاطر اپنے رہنماؤں اور ہزاروں کارکنوں کی قربانی دی ہے اور صوبے اور ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے تدارک کیلئے ہمیشہ ایک واضح دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے اور کبھی بھی کسی قسم کی قربانی دینے سے نہیں کترائی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پرویز خٹک اور تحریک انصاف اے این پی پر الزامات لگاکر عوام کی توجہ صوبے میں جاری بدامنی ،ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور بھتہ خوری سے نہیں ہٹا سکتے،حکومت وقت کی ذمہ داری یہ نہیں کہ لوگوں کی توجہ اس قسم کی گھمبیر مسائل کے حل سے ہٹائے بلکہ حکومت کا بنیادی کام ہی عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پختون قوم نے پی ٹی آئی کو ووٹ ناچ گانوں اوردھرنوں کے لئے نہیں دیے بلکہ نئے پاکستان ،سستے انصاف ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ان پر اعتماد کیاگیاتھا انہوں نے کہاکہ پختون قوم اپنے فیصلے پر نادم ہے اوروہ بنی گالہ سے واپس اختیارات اپنے صوبے لا کر دم لیں گے۔

مورخہ16نومبر2014ء بروز اتوار
پشاور(پ ر) اے این پی ضلع مردان نے اگلے ماہ ہونے والے جلسے کے لئے تیاریوں کا آغاز کردیا،جلسے کے انتظامات کے لئے تین مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ،جلسے سے پارٹی سربراہ اسفند یارولی خان ، صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ،مرکز جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین سمیت دیگر رہنما خطاب کریں گے، تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی بھرپور طاقت کے مظاہرہ کے لئے ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں جلسہ کااعلان کیاہے جس میں اے این پی اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرے گی جلسے کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اجلاس ضلعی صدر حمایت اللہ مایار کے زیرصدارت منعقد ہوا جس میں پارٹی کے تمام حلقوں کے صدور اورجنرل سیکرٹریز نے شرکت کی اس موقع پر جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیاگیا اوراس سلسلے میں تین مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں فنانس کمیٹی کے لئے حاجی منیر خان ،اطلاعات کے لئے روزمحمد خان ،جبکہ انتطامی کمیٹی محمد جاوید یوسفزئی کی سربراہی میں تشکیل دے دی گئی ۔

مورخہ16نومبر2014ء بروز اتوار
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی سعودی عرب کے صدر گل زمین خان اورجنرل سیکرٹری حاجی سبزعلی خان نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی طرف سے اے این پی کے قائد اسفندیارولی کے خلاف بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ اپنی زبان کو لگام دیں ورنہ ان کو عوام کے سامنے بے نقاب کردیں گے ، وہ ریاض سعودی عرب میں پارٹی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس میں نائب صدورمزمل شاہ ،حبیب یونس ، انعام خان ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری رستم خان ،ایڈیشنل ڈپٹی جنرل سیکرٹری گوہر خان کے علاوہ کابینہ اور مجلس عاملہ کے دیگر رہنما بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک نے دھرنے میں رقص کرکے پختونوں کے سرشرم سے جھکادیئے ہیں جبکہ تحریک انصاف عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوکر بے جاالزامات پر اتر آئی ہے ، انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں میں ناکام ہوچکی ہے اور اب عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے امن کے پیامبروں پر الزامات لگاناشرو ع کردیئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ اے این پی نے امن کی خاطر اپنے سینکڑوں کارکنوں کی جانوں کے نذرانے دیئے اور امن قائم کرکے حکومت چھوڑدی ، لیکن موجودہ صوبائی حکومت میں امن امان کی یہ حالت ہے کہ حکومت بھتہ خوری اورٹارگٹ کلنگ کے سامنے بے بس ہوچکی ہے اورتحریک انصاف کے وزراء اور اراکین اسمبلی بھی بھتہ دینے پر مجبورہوچکے ہیں، انہوں نے کہاکہ اسفند یارولی خان کی قیادت میں اے این پی کی حکومت نے صوبائی خودمختار ی ،این ایف سی ایوارڈ اور صوبے کو نام کی شناخت دی جبکہ تحریک انصاف نے گذشتہ ڈیڑ ھ سال میں کوئی وعدہ پورا نہیں کیا وزیراعلیٰ دن کو سوتے رہتے ہیں اورراتوں کو جاگتے ہیں ۔

مورخہ2014۔11۔16بروز اتوار

پشاور(پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے، اے این پی کے کارکنوں کو بری نظروں سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال دینگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ضلعی صدر شہر یار خان کی زیر صدارت منعقدہ ضلعی امن ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، سابق وزیر قانون و ضلعی صدر ارشد عبداللہ، پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر فخرعالم ، جنرل سیکرٹری یاسر یو سفزئی، سنگین شاہ، ضلعی یڈوایزر فاروق خان، ضلعی صدر شہریار خان ، جنرل سیکرٹری رشید احمد سمیت محمد احمد خان۔ سُلیمان خان، میاں سلیم شاہ، NYOچارسدہ کے صدرمیاں رحم بادشاہ ،ملگری وکیلان کے علاوہ ضلع بھر کے تمام کالجوں کے عہدیداروں اور طلباء کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی ، ایمل ولی خان نے اپنے خطاب مین مزید کہا کہ اے این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے جبکہ صوبائی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کا نام ونشان مٹ جائے گا،انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں تعلیم کے شعبہ میں انقلابی اقدامات کئے گئے اور پورے صوبے میں سات نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں جبکہ ساتھ ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں نئے کالجز اور سکول بھی تعمیر کئے گئے۔انہوں نے کہاکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اے این پی کا ہر اول دستہ ہے اور نوجوان نسل پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ باچاخانؒ اور ولی خان کے فلسفہ سیاست کو اجاگر کرکے پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ نا مساعد حالات کے باوجود اے این پی نے صوبے کواپنی شناحت اوروسائل پر اختیاردیا اور دہشت گردی کا بھر پور مقابلہ کرتے ہوئے آٹھ سو کارکنوں اور پارٹی رہنماوں کی قربانی دی۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔ اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن چکا ہے مگر صوبائی حکومت غفلت کی نیند سو رہی ہے تحریک انصاف نے پر فریب نعروں اور وعدوں کے ذریعے قوم سے ووٹ لئے مگر اقتدار میں آکر سارے وعدے اور دعوے بھول کر اسلام آباد میں ناچ گانوں میں مشغول ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکنوں اور عہدیداورں پر آئندہ کوئی حملہ کیا گیا تو اے این پی وزیر اعلی ہاؤس اور صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کرکے پورے صوبے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کردے گی۔

مورخہ16نومبر2014ء بروز اتوار
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اسفندیار ولی خان کی ذات پر پرویز خٹک کی ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاداریاں بدلنے والے اور سیاسی لوٹا کریسی کے ماہر کو خطے کی تاریخ کی ایک معتبر سیاسی تحریک اور اس کے زعماء کے کردار پر گفتگو کرنا کسی صورت زیب نہیں دیتا ، پرویز خٹک کا ماضی اور حال دونوں داغدار ہیں ،پہلے غیر جماعتی بنیا د پر سیاست میں حصہ لیا،پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو کرسی ہی کی خاطر پیپلز پارٹی کے خلاف گروپ بنا لیا اور پھر جب آفتاب شیر پاؤ کے ساتھ مل گئے تو کرسی ہی کی خاطر ان کے خلاف بھی محاذ کھول کر حکومت میں شامل ہو ئے اور پھر وفاداری تبدیل کر کے وزیر اعلیٰ بن بیٹھے ،اور آج بھی تحریک انصاف کے اندر اپنا ایک گروپ پال رہے ہیں اور موقع ملنے پر عمران خان ہی کو چھرا گھونپ دیں گے ، انہوں نے کہا کہ مروجہ سیاسی اصول اور اخلاقیات کے مطابق ایمان کا سودا کرنے سے زیادہ بڑی کرپشن اورکوئی نہیں ہو سکتی جبکہ پرویز خٹک ایسے ہی ایک کردار کی علامت ہیں،پرویز خٹک بنیادی طور پر ایک ٹھیکیدار ہیں اور اب بھی وہ اس کے جانشین جس انداز میں سرکاری ٹھیکوں کی لین دین کر رہے ہیں اس سے خیبر پختونخوا کے لوگ اچھی طرح واقف ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان کی بدقسمت سیاسی تاریخ میں عمران خان ایک افسوس ناک اضافہ ہے جو ملک میں جاری جمہوری اقدار کی ترقی اور سویلین سپریمیسی کی راہ میں ایک روڑے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ صوبے کے ایک بدنام زمانہ کردار کو وزیر اعلیٰ بنوا کر تبدیلی اور انقلاب لا یا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک میں صوبہ چلانے کی کوئی اہلیت نہیں بلکہ وہ صرف ناچ گانے کے ماسٹر ہیں اور ان کی یہ کارکردگی پوری قوم دیکھ چکی ہے،ہمیں اگرچہ کسی کے ناچنے پر کوئی اعتراض نہیں تاہم جس روز بیس سے زائد لاشیں پشاور شہر سے اٹھ رہی تھیں اسی وقت وزیر اعلیٰ کا ناچنا ضرور قابل مذمت بات تھی،
انہوں نے کہا کہ اے این پی کو طعنے دینے والے لوگوں کو علم ہونا چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اور اپنی مٹی اور عوام کو تحفظ دینے کی اے این پی کی حکومت اور وزراء کے کردار کو پورا پاکستان اور عالمی دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کی حکومت جو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید اپنے ہی وزیر کی برسی کے موقع پر انہیں یاد کرنے سے کتراتی ہو آخر کس منہ سے اے این پی کو طعنہ دے رہی ہے ،اے این پی نے اپنی مٹی اور عوام کے تحفظ کی خاطر اپنے رہنماؤں اور ہزار سے زائد کارکنوں کی قربانی دی ہے اور صوبے اور ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے تدارک کیلئے ہمیشہ ایک واضح دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے اور کبھی بھی کسی قسم کی قربانی دینے سے نہیں کترائی ،لہٰذاپرویز خٹک اور تحریک انصاف اے این پی پر الزامات لگاکر عوام کی توجہ صوبے میں جاری بدامنی ،ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور بھتہ خوری سے نہیں ہٹا سکتے،حکومت وقت کی ذمہ داری یہ نہیں کہ لوگوں کی توجہ اس قسم کی گھمبیر مسائل کے حل سے ہٹائے بلکہ حکومت کا بنیادی کام ہی عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، انہوں نے حالیہ دنوں میں بنوں میں آئی ڈی پیز پر ہونے والے لاٹھی چارج اور فائرنگ کی بھی مذمت کی اور اسے پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی قرار دیا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور میں بھی آئی ڈی پیز صوبے میں آئے لیکن جس طرح سے ان کا خیال رکھا گیا اور جس عزت کے ساتھ ان کی واپسی اور بحالی کا کام کیا گیا اس کی پوری دنیا معترف ہے ،
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی عوامی فلاح و بہبود پر یقین رکھتی ہے اور اسی جذبے کی خاطر عمران خان کو پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کے قیام کیلئے زمین اور فنڈز فراہم کئے لیکن دوسری طرف عوامی فلاح کے نام پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے والے لوگ صوبے میں حکومت میں ہونے کے باوجود کوئی فلاحی کام نہیں کر سکے جو قابل مذمت ہے ،
انہوں نے کہا کہ اے این پی کو طعنے دینے والے پرویز خٹک کی کرپشن کے ریکارڈ ہمارے پاس محفوظ ہیں اور اسی طرح کے ڈھونگ ڈراموں سے ہمیں ایک اور پنڈورا بکس کھولنے پر مجبور نہ کریں ،عمران خان اور پرویز خٹک دونوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ملک میں نظام اس صو بے کے وزیر اعلیٰ کی کرسی اور وزارت عظمیٰ کی وہ کرسی جس کا عمران خان خواب دیکھ رہے ہیں اے این پی کی صد سالہ سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے،لہٰذا وزیر اعلیٰ اے این پی اور اسفندیار ولی خان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے اور عوامی مینڈیٹ کی مزید توہین کرنے کی بجائے مسائل کے حل پر توجہ دیں،

مورخہ : 15.11.2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) صوبے میں بڑھتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ یہ بات اے این پی کے مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلور اور صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے پی کے 10 کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے کہا صوبے میں بدامنی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی، مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے اور حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو بھول گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی سے بندوق کی نوک پر مینڈیٹ چھینا گیا ہے الیکشن کے دوران کیمپوں پر حملے ، اُمیدواران کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ الیکشن مہم کیلئے اے این پی پر گھیراؤ تنگ کیا گیا تھا اور اُن کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی پوری طاقت کیساتھ میدان میں اُتری ہے۔ اور تمام ذمہ داران اور کارکنان گلی گلی باچا خان بابا اور ولی خان بابا کا پیغام پہنچائیں۔ اور قائد اسفند یار ولی خان کی قیادت میں پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ تبدیلی والے اب مزید عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اس موقع پر خوشدل خان ایڈووکیٹ اور اے این پی کے ضلعی صدر ملک نسیم خان نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ ارباب محمد طاہر خان ، مختیار خان یوسفزئی اور سید عاقل شاہ بھی موجود تھے۔

مورخہ : 15.11.2014 بروز ہفتہ
طلباء پر قاتلانہ حملے کے خلاف شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
پشاور (پ ر ) پختون ایس ایف گورنمنٹ کالج پشاور کے طلباء پر قاتلانہ حملے کے خلاف شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے گورنمنٹ کالج پشاور میں پختون ایس ایف کے طلباء پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے غنڈوں نے صوبائی حکومت کی ایماء پر پختون ایس ایف کے طلباء پر فائرنگ کی جس کو پولیس اور کالج انتظامیہ کی سرپرستی حاصل تھی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالب علم جاوید افغان شدید زخمی ہوا۔ جسے انتہائی تشویشناک حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال لایا گیا جو اب بھی آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ اس دوران پختون ایس ایف کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے ہسپتال پہنچ کر زخمی طالب علم کی عیادت کی اور پختون ایس ایف کے طلباء کو پر امن رہنے کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم باچا خان بابا کے عدم تشدد کے فلسفہ کے پیروکار ہیں ہم تشدد پر یقین نہیں رکھتے لیکن کسی بھی تنظیم کو تعلیمی اداروں میں پر امن ماحول خراب کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دینگے۔ ہم صوبائی حکومت ، پولیس انتظامیہ اور چیف جسٹس خیبر پختونخوا سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نامزد ملزمان عمران ، انعام اور شہزاد کو تین دن کے اندر اندر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ورنہ پختون ایس ایف صوبہ بھر میں شدید احتجاج پر مجبور ہو جائینگے۔

سونامی تحریک کے رہنماء اپنے 62 سالہ چیئر مین کو مملکت اور حکومت کے درمیان فرق سمجھائیں اگر تمام ریاستی ستونوں کو متنازعہ بنادیا گیا تو ملک کیسے چلے گا؟۔سینیٹر شاہی سید
سیاست میں فیصلے کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہوتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے وقت اب آزادی مارچ والوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔
انصاف کے علمبرداروں کے جلسے کے اسٹیج سے حکومت کو انتہائی غلیظ گالیوں سے نوازنا انتہائی شرم ناک فعل ہے۔
موجودہ وفاقی حکومت کی کارکردگی پر جتنی تنقید کی جائے کم ہے مگر تنقید جمہوری و اخلاقی اقدار کے اندر ہونی چاہیے۔
آئے دن کی ڈیڈ لائن ،الزامات ، غیر جمہوری ،غیر اخلاقی بیانات اور بچکانہ اعلانات سے ہٹ دھرم حکومت وفاقی کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
افسوس کہ آزادی مارچ کرنے والوں کا ایجنڈاالیکشن ریفارمز ہی رہتا۔
چاہتے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ملکر مشترکہ آئینی جدوجہد کے ذریعے حکمرانوں کی گردنوں سے سریہ نکالیں۔صدر اے این پی سندھ
کراچی ۔جمعرات 13 نومبر 2014ء
؁عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ سونامی تحریک کے رہنماء اپنے 62 سالہ قائد کو مملکت اور حکومت کے درمیان فرق سمجھائیں خدارا تمام ریاستی ستونوں کو بے توقیر نا کیا جائے اگر تمام ریاستی ستونوں کو متنازعہ بنادیا گیا تو ملک کیسے چلے گانئے سیاست دان تمام ریاستی ستونوں،تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو غلط اورصرف خود کو صحیح سمجھتے ہیں ،انصاف کے علمبرداروں کے جلسے کے اسٹیج سے حکومت کو انتہائی غلیظ گالیوں سے نوازنا انتہائی شرم ناک فعل ہے موجودہ وفاقی حکومت کی کارکردگی پر جتنی تنقید کی جائے کم ہے مگر تنقید جمہوری و اخلاقی اقدار کے اندر ہونی چاہیے حکومت اور مملکت میں فرق کو سمجھنا ہوگا چاہتے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ملکر حکمرانوں کی گردنوں سے سریہ نکالیں، آئے دن کی ڈیڈ لائن ،الزامات اور غیر جمہوری ،غیر اخلاقی بیانات اور بچکانہ اعلانات سے ہٹ دھرم حکومت کا کچھ نہیں بگڑنے والاافسوس کہ آزادی مارچ کرنے والوں کا ایجنڈاالیکشن ریفارمز ہی رہتا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان ہاؤس میں مختلف پارٹی وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ سیاست میں فیصلے کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہوتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے وقت اب آزادی مارچ والوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہے ہم نے حکومت کو نہیں بلکہ پارلیمنٹ ،آئین اور جمہوریت کو بچایا ہے آئین و قانون کی بالادستی کے لیے عوامی نیشنل پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

مورخہ : 13.11.2014 بروز جمعرات
پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے ضلعی صدر ملک نسیم کی زیر صدارت پی کے 8 کی مختلف یونین کونسلز کی تنظیموں کا اجلاس کانیزہ یونین کونسل میں سبز علی خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور سیکرٹری اطلاعات جناب سردار حسین بابک ، مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل ، ضلعی جنرل سیکرٹری گلزار حسین ، ملک ارشد ، سردار زیب ، حیات خلیل ، اعجاز سیماب ، ملک امان اور پارٹی کے تنظیمی عہدیداروں اور کارکنوں نے بھرپور شرکت کی۔

اجلاس سے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی خدائی خدمتگار تحریک کی وارث جماعت اور پختون قوم کی نمائندہ ہے ہم نے اپنے دور اقتدار میں پختون قوم کی محرومیوں کا ازالہ کیا اور مرکز سے اپنے حقوق حاصل کیے مگر بدقسمتی سے تحریک انصاف کی حکومت پختونوں کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی یہی وجہ ہے کہ صوبے کے ترقیاتی فنڈ لیپس ہو رہے ہیں اور صوبے کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ آج پھر پختون قوم دوبارہ اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں ایک ہو رہی ہے۔ اجلاس سے ضلعی صدر ملک نسیم خان ، جنرل سیکرٹری گلزار حسین اور سبز علی خان نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں 28 نومبر کی ورکر کنونشن میں بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کیلئے پروگرام ترتیب دیا گیا۔

مورخہ13نومبر2014ء بروز جمعرات
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس زیر صدارت پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے مختلف قراردادیں پیش کیں جو ہاؤس نے متفقہ طور پر منظور کیں۔
عوامی نیشنل پارٹی نے کہا کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اے این پی ملک اور جمہوریت کیلئے قربانیاں دیتی رہے گی ، اس عزم کا اظہار پارٹی کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا گیا ، اجلاس میں کہا گیا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی مزید برداشت نہیں کی جائے گی، کارکنوں کے خلاف جہاں بھی تشدد ہوا تو وہاں کی صوبائی حکومتوں اور برسراقتدار پارٹیوں کی قیادت کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہمارے دور میں پن بجلی کے 24منصوبے شروع کئے گئے جس میں 2100میگا واٹ سستی بجلی پیدا ہونی تھی کو پی ٹی آئی کی حکومت ختم کر کے ساجھے داری پر دینا چاہتی ہے ، اے این پی ان پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کرے گی۔ایک اور قرارداد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ منافع بخش اداروں کی اپنے من پسند افراد کے ہاتھوں فروخت بند کر دیں۔پشاور سے پی آئی اے کی پروازوں کی قلت دور کی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر ملک کے دیگر اقتصادی اور انتظامی مراکز کیلئے پروازوں کا اجراء کیا جائے۔
اجلاس میں قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے 30لاکھ پختونوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی و صوبائی حکومتوں کے کردار کی مذمت کی گئی،اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کی پرامن واپسی اور بحالی کو یقینی بنایا جائے ،جبکہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی مذمت کرتے ہوئے عوام کی جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا،اجلاس کو بتایا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی موجودہ سیاسی بحران میں آئین اور جمہوری نظام کے ساتھ کھڑی ہے ،ساری دنیا گواہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں اے این پی سب سے زیادہ دھاندلی کا شکار ہوئی لیکن اپنے شدید تحفظات کے باوجود اپنے جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی ہمت کی ،تاکہ ملک میں جمہوریت پنپ سکے،اور ملک کو استحکام نصیب ہو ،ساتھ ہی پارٹی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جمہوری جماعت کا کردار کیا اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر گرفت بھی کی جس میں پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنا اور 18ویں ترمیم پر عمل درآمد میں لیت ولعل سے کام لینا تھا۔عوامی نیشنل پارٹی دھرنا بازوں کی طرف سے مختلف ریاستی اداروں ، سیاسی پارٹیوں اور شخصیات کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈے کو آئینی ریاست نظام کیلئے مضر سمجھتی ہے ،اور اس بات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ دھرنے کے مکالمے میں مظلوم طبقوں اور علاقوں کے مسائل پس پشت دال دیئے گئے ہیں ،عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے خلاف پر تشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور ریاست کو یاد دلاتی ہے کہ شہریوں کے جان ومال کا تحفظ فراہم کرے کیونکہ یہ ان کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی ملک کی تمام جمہوری قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد عدم رواداری اور انتہا پسندی کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کریں تاکہ ملک وقوم کے خوشحال اور پرامن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے ۔ بلوچستان میں بارانی پانی جمع کر کے بارانی ڈیموں کی ضرورت ہے کیونکہ پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے لہٰذا وہاں بارانی ڈیم بنایا جائے۔
ہم پنجاب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور خصوصی طور پر اقلیتی میاں بیوی کو زندہ جلانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں ، جبکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انڈسٹریل سٹیٹ حیات آباد سے طورخم تک مین شاہرہ جو کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے اور کبھی کام روک دیا جاتا ہے اور کبھی سست روی کا شکار ہے اور جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کی ضد مرکزی کمیٹی حکومت سے اس اہم شاہراہ کو جلدی مکمل کرنے کی استدعا کرتی ہے۔

مورخہ2014۔11۔13بروز جمعرات

آئی ڈی پیز طلباء کی فیس معافی کا اعلان کیا جائے ، مقرب خان
پشاور ( پ ر )پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات مقرب خان نے کہا ہے کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کی فیسیں جلد معاف کی جا ئیں ، اپنے ایک تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں اعلان بھی کیا گیا تھا تاہم حکمرانوں نے اپنے ہی فیصلے کو پس پشت ڈال دیا ، انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے متاثر ہونے والے طلباء نے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا جس کے بعد حکومت نے ان کیلئے فیس معافی کا اعلان کیا لیکن اس اعلان پر تاحال عملدر آمد نہیں ہو سکا ، انہوں نے کہا کہ ہاسٹل اور ایوننگ شفٹ کے طلباء کی فیس معافی کا اعلان کیا جاے ،تا کہ طلباء کا قیمتی سال ضائع ہونے سے بچ سکے۔

مورخہ 12 نومبر 2014ء بروز بدھ

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے کابینہ کا اہم اجلاس ضلعی صدر ملک غلام مصطفی منعقد ہوا جس میں جنرل سیکرٹری سرتاج خان‘ نائب صدور عابد اللہ خان یوسفزئی‘ ملک طارق‘ غلام حسن‘ارباب واجد‘ نور جمال آفریدی‘ حاجی اورنگزیب‘ سبز علی خان ‘ عمر واحد‘ شوکت خان‘ ملک ناصر‘ انجینئر محمد عقیل‘ ممتاز خان‘ جمیلہ وصال‘ عنایت اللہ‘ حاجی طارق الزمان اور آگسٹن جیکب نے شرکت کی‘ اجلاس میں 14 نومبر کو ورکرز کنونشن کے حوالے سے اہم فیصلے اور مختلف کمیٹیاں بنائی گئی جبکہ عہدیداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ 14 نومبر کو ورکرزکنونشن کامیاب بنانے کیلئے اپنا بھرپور روال ادا کرے‘ اجلاس میں پشاور شہر کی ناگفتہ بہہ صورتحال پر گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئے روز ٹارگٹ کلنگ سے پشاور کا پرامن ماحول سوالیہ نشان بن چکا ہے ٹارگٹ کلر کلنگ کے بعد روپوش ہو جاتے ہیں ابھی تک کسی قابل ذکر ٹارگٹ کلر کو گرفتار نہیں کیا جا سکا جو پشاور شہر کے باسیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے پشاور شہر کے عوام کے جانوں کی حفاظت حکومت کا فرض ہے لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دھرنوں کی سیاست سے صوبے کی صوبائی حکومت کی کارکردگی زیرو ہو چکی ہے جس کی اہم وجہ وزیر اعلیٰ کا آئے دن بنی گالہ تشریف لے جا کر وہاں سے ہدایات لے کر آنا ہے جو کہ صوبے کے عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور خصوصی طور پر پشاور کے عوام اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ سے عاجز آ چکے ہیں حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر امن و امان کے اہم مسئلے پر توجہ دینی چاہئے اور اگر حکومت نے عوام کے اس اہم مسئلے کو حل نہ کیا تو عوام کا صوبائی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنا زیادہ دیر کی بات نہیں ہو گی‘ اجلاس میں خیر پور کے قریب بس حادثہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کیلئے دعائے مغفرت کی اور جاں بحق ہونیوالے افراد کے غمزدہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مورخہ 12.11.2014 بروز بدھ

پختونوں کو مسائل کے حل کیلئے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہو گا، حمایت اللہ مایار
اے ین پی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی
پشاور (پ ر) اے این پی ضلع مردان کے صدر اور سابق ایم این اے حمایت اللہ مایار ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ پختونوں کو مصائب اور مشکلات سے نکلنے کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہوگا ،وزیراعظم کے خواب دیکھنے والے پختونوں کی خدمت نہیں کرسکتے وہ شہبا زگڑھی میں عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں درجنوں افراد نے اے این پی میں شمولیت اختیار کی حمایت اللہ مایار ایڈوکیٹ نے کہاکہ صوبہ خیبرپختون خوا وسائل سے مالا مال صوبہ ہے ہماری پارٹی نے گذشتہ حکومت میں مرکز سے اٹھارویں ترمیم منظور کرواکر اختیارات منتقل کئے صوبے میں ریکارڈ توڑ ترقیاتی کام کئے 9یونیورسٹیاں 46گرلز کالجز اور ڈھائی سو سکول اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے موجودہ حکومت نے ڈیڑھ سال میں ایک اینٹ تک نہیں رکھی اے این پی کے ضلعی صدر نے کہاکہ ہم خالی دعوے نہیں کرتے بلکہ زمینی حقائق عوام کے سامنے ہیں انہوں نے کہاکہ صوبے میں بے روزگاری ،امن امان اورمہنگائی نے شہریوں کا جینا دوبھر کردیاہے تبدیلی والوں نے پختون خوا کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے انہوں نے کہاکہ اے این پی پختونوں کے حقوق پر کوئی سودا بازی نہیں کرے گی پنجابی اورسندھی لیڈر پختون قوم کے مسائل نہیں سمجھ سکتے اس لئے تمام پختون قوم کوسرخ جھنڈے تلے اکٹھاہوناہوگا ۔

مورخہ 12.11.2014 بروز بدھ
اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت کو اپنا شعار سمجھتے ہیں امیر حیدر ہوتی
کرسی کی خاطر جماعت اسلامی نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور اسلام آباد میں جاری بے حیائی انہیں نظر نہیں آتی
مسائل اور مشکلات کے وقت وزیر اعلیٰ صوبے میں موجود نہیں ہوتے نوازشریف کیلئے پنجاب ہی پاکستان ہے
پشاور(پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ کرسی کی وجہ سے جماعت اسلامی کی آنکھوں پر پیٹیاں پڑی ہیں، کل تک سائن بورڈوں پر خواتین کی تصاویربے حیائی اور اسلام کے منافی قراردینے والے آج دھرنے کے نام پر مخلوط ناچ گانے پر کیوں خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، عمران خان نے پنجاب کی سیاست کے لئے خیبر پختون خوا کو قربانی کا بکرا بنادیا،پختونوں کی قسمت کے فیصلے بنی گالہ میں پنجابی قیادت کررہی ہے ، آزمائش اورمشکل وقت میں وزیراعلیٰ صوبے میں موجودنہیں ہوتے ،عوام نے دوبارہ خدمت کا موقع دیاتو مردان میں ویمن یونیورسٹی قائم کروں گا ,وہ شہبازگڑھی مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے ،جس میں ریاض خان ،محمد رفیق خان ،عارف خان ،آفتاب خان ،اصغرخان اورعمرنواب خان نے اپنے ساتھیوں اور خاندانوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے نئے شامل ہونے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باد دی شمولیتی اجتما ع سے پارٹی کے ضلعی صدر حاجی حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،امین جان استاذ ، سعود عرف مکے بابا اوردیگر نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ایم ایم اے نے اقتدار میں آکر پشاور کی سڑکوں پر لگے سائن بورڈز پر خواتین کی تصاویر کو خلاف اسلام قراردیاتھا لیکن آج اسلام آباد کی سڑکوں پر دھرنے کے نام پر کھلے عام ناچ گانے کی محفلیں سجائی جارہی ہیں اورجماعت اسلامی نے اقتدار کی خاطر اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے انہوں نے جماعت اسلامی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر کل وہ سب کچھ اسلام کے منافی تھا تو کیا آج یہ ناچ گانے اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے بعض مذہبی لیڈر اسلام کے نام پر پختون قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ شہباز گڑھی ایک تاریخی علاقہ ہے اورا س علاقے میں تحریک آزادی کی جنگیں لڑی گئی ہیں اور اس مٹی میں خدائی خدمت گاروں نے حق کا علم ہمیشہ بلند رکھا ہے انہوں نے کہاکہ باچاخان نے ہمیشہ پختون قوم کو باہمی اتفاق اور اتحاد کا درس دیا اورہمیشہ انہیں تعلیم کی حصول کا سبق دیا انہوں نے کہاکہ تعلیم ہی پختون قوم کی نجات کا راستہ ہے عوام نے دوبارہ خدمت کا موقع دیا تو مردان میں ویمن یونیورسٹی قائم کروں گاتاکہ ہماری بیٹیوں اوربہنوں کو اعلیٰ تعلیم کی حصول میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو، اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ انہوں نے پانچ سال تک صوبے کی یکساں خدمت کی اب پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے گاؤں گاؤں اور گھر گھر جاکر پختونوں کو جرگوں کے ذریعے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا کروں گا امیرحیدرخان ہوتی نے تحریک انصاف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ مصیبت اور آزمائش کے وقت وزیراعلیٰ صوبے میں موجود نہیں ہوتے اور عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیاجاتاہے ،انہوں نے کہاکہ عمران خان نے پختونوں کو دھوکہ دیا پختون مسائل اورمشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں کپتان نئے پاکستان کے چکر میں پختون خوا ہی بھول گئے ہیں ، مسلم لیگ (ن) اورپی ٹی آئی نے مرکز کی حکمرانی کے لئے پنجاب کو تختہ مشق بنادیاہے انہوں نے کہاکہ مینڈیٹ پختونوں نے دی اور فیصلے پختون خوا کی بجائے بنی گالہ میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کررہے ہیں پنجابی لیڈر پختونوں کے مسائل اور مشکلات کیا جانتے ہیں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو یہاں سے مینڈیٹ نہیں ملا تو میاں نوازشریف نے منہ موڑ لیااورآج ان کے مسلم لیگی بھی ناراض ہیں پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا تو عمران خان وعدے بھول گئے انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف کے نقشے میں پنجاب ہی پوراپاکستان ہے انہوں نے کہاکہ اے این پی پنجاب کی سیاست نہیں کرتی ہمیں پختونوں کی سیاست پر فخر ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان اب تبدیلی کے نعرے لگارہے ہیں جبکہ اے این پی نے پانچ سال قبل صوبے میں خیبرپختون خوا میں تبدیلی لاکر دکھائی اورصوبے کو شناخت ،این ایف سی ایوارڈ سمیت مرکز سے وہ تمام مراعات لی ہیں جو گذشتہ ساٹھ سالوں میں کسی بھی صوبائی حکومت نے حاصل نہیں کیں انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔

مورخہ : 11 نومبر 2014 بروز منگل

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختون خوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ صوبائی اورمرکزی حکومت نے پختونوں کے مفادات کو داؤپرلگادیا ہے عمران خان اورنوازشریف اقتدار کی جنگ خیبر پختون خوا کی قیمت پر لڑرہے ہیں ۔ وزیر اعظم نواز شریف کا پاکستا ن پنجاب سے شروع ہوکر پنجاب پر ختم ہوجاتاہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان کے علاقہ کنج کاٹلنگ میں جمعرات خان اور ان کے ساتھیوں کے اے این پی میں شمولیت کے موقع پر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ، جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،صوبائی کونسلر محمد ادریس باچا، حاجی فاروق اکرم، محمد کمال، جہانزیب خان، شوکت حمید ساولڈھیر، الحاج فضل رحمان ، اور ظفر اقبال نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جمعرات خان ، حاجی عبدالرحیم، طارق رحیم، ناصر خان، حاجی عمر خطاب، فدا اپنے دیگر 50ساتھیوں سمیت ن لیگ اور پی ٹی آئی سے مستعفی ہوکر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ امیر حیدر خان ہوتی نے نئے شامل ہونے والے افراد کو ٹوپیاں پہنا ئیں انہوں نے کہاکہ اے این پی سیاسی جماعت نہیں بلکہ پختونوں کے بھائی چارے کا گھرانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنے حلقے اور نوشہرہ کو ترقی ضروردیں۔ مگر یہ ترقی مردان ،کاٹلنگ ،طورواور سوات کے جاری منصوبوں کے فنڈ پر کٹ لگا کر نہ دی جائے انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے علمبرداروں کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے دھاندلی دھاندلی کا کھیل اب دھندلا ہوکر اپنی موت آپ مررہا ہے۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک سرخ جھنڈے تلے ایک ہو کر اپنے حقوق کا حصول ممکن بنائیں۔ منزل دور ضرور ہے مگر ہمت توانا اور جواں ہے امیرحیدرخان اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پورے ملک میں پھرتے رہے اور تین ماہ میں تبدیلی ،نئے پاکستان اور نئے خیبرپختون خوا کے وعدے کرتے رہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا صوبے میں بھتہ خوری ، بدامنی ، مہنگائی ،لوڈشیڈنگ اورلاقانونیت کا دور دورہ ہے کپتان نے پختونوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان زبانی تبدیلی کے دعوے کررہے ہیں جبکہ حقیقی تبدیلی تو اے این پی کے دورحکومت میں آئی تھی جس میں صوبے کا نام تبدیل ہوا ،صوبائی خودمختاری،این ایف سی ایوارڈ اور مرکزی حکومت سے اربوں روپے کے بقایا ت وصول کئے گئے انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکولز ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی ملک میں جمہوریت چاہتی ہے اوراس مقصد کے لئے ہم نے بادل ناخواستہ انتخابی نتائج تسلیم کئے ہیں ورنہ عمران چند حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگارہے ہیں اورہمارے ساتھ تو ہر حلقے میں کھلی دھاندلی کرائی گئی انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں اے این پی کے کارکنوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باچاخان اورخان عبدالولی خان کے عدم تشدد کے فلسفے اور فکر کو ہرسوں پھیلائیں اورلوگوں کواس دھرتی اور پختون قوم کے لئے اے این پی کی قربانیوں سے باخبر کریں انہوں نے کہاکہ پختونوں کے پاس اپنی بقا کے لئے اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کے سوا کوئی راستہ بچانہیں ہے ۔

مورخہ : 11 نومبر 2014 بروز منگل
پریس ریلیز

صوابی ہمیشہ کیلئے نظریاتی اور قوم پرست سیاست کا مرکز رہے گا۔

پشاور (پ ر ) ضلعی تنظیم کی دعوت پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز صوابی کا دورہ کیا اس موقع پر صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری فیض الابرار اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری اعجاز باچا اُن کے ہمراہ تھے۔
صوبائی صدر نے نیشنل یوتھ صوابی کے ضلعی کابینہ کے ساتھ یونین کونسل سلیم خان کے تنظیم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ اس تقریب میں عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی رحمان اللہ خان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حاجی رحمان اللہ خان نے کہا کہ نوجوان پارٹی کا سرمایہ ہے اور ہم نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور اُنہیں بہتر سپورٹ فراہم کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر ینگے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوابی کے نوجوان پختون قومی تحریک کے شاندار سیاسی ورثے کو پوری طرح قائم رکھے گی۔ اور صوابی سے مفاد پرست اور عوام کے سیاسی شعور کو للکارنے والی سیاسی شعبدہ بازوں کا جنازہ نکالے گی اور صوابی ہمیشہ کی طرح نظریاتی اور قوم پرست سیاست کا مرکز و ممبع رہے گا۔تقریب سے نیشنل یوتھ صوابی کے صدر توصیف اعجاز اور جنرل سیکرٹری ہدایت اللہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
صوبائی صدر نے یار حسین صوابی میں عوامی نیشنل پارٹی کی تقریب میں شرکت کی اور بعدازاں مرغز گئے جہاں پر یوتھ کے عہدیداران اور کارکنانوں سے تنظیمی اور سیاسی اُمور پر تفصیلی گفتگو کی۔

کراچی ۔11 نومبر 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے آج صبح خیر پور ٹھیڑی بائی پاس پر ہونے والے اندوہناک حادثے پر گہرے دکھ اور نج کاا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حادثہ کسی سانحہ سے کم نہیں ہے ،ہر پہلو سے اس سانحہ کی مکمل تحقیقات کی جائیں،خواتین اوربچوں سمیت بڑی تعداد میں قیمتی جانی نقصان پر مجھ سمیت تمام پارٹی غمزدہ ہے سمجھ سے بالا تر ہے کہ طویل عرصے سے قومی شاہراہ کی ٹوٹ پھوٹ کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا، قومی شاہراہ کی تعمیرمیں تاخیر اس دردناک حادثے کا بنیادی سبب ہے عوامی نیشنل پارٹی ہلاک شدگان کے غم میں برابر کی شریک ہے پسماندگان سے اظہار یکجہتی ،زخمیوں کی فوری صحتیابی اور ہلاک شدگان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں۔

مورخہ 11.11.2014 بروز منگل

اسفندیار ولی خان اور امیر حیدر ہوتی کا خیرپور ٹریفک حادثے پر اظہار افسوس
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے خیر پور ٹھیڑی بائی پاس پر ہونے والے اندوہناک حادثے اور اس میں 57قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اورر نج کاا ظہار کیا ہے ۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ یہ حادثہ کسی سانحہ سے کم نہیں ہے ،،خواتین اوربچوں سمیت بڑی تعداد میں قیمتی جانی نقصان پر تمام پارٹی غمزدہ ہے، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے انہوں نے پسماندگان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا بھی کی

مورخہ 11.11.2014 بروز منگل
عمران خان پختونخوا کے عوام کوکس جرم کی سزا دے رہے ہیں، میاں افتخار حسین
اجمل خٹک کے نام سے منسوب پولی ٹیکنیک کالج پی کے12کے عوام کا حق ہے جس پر وزیر اعلیٰ نے ڈاکہ ڈال دیا ہے
عوامی نیشنل پارٹی عوامی فلاح کے منصوبوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی، میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پی کے 12کے عوام کے ساتھ زیادتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خٹک نامہ کے پولی ٹیکنیک کالج کی منتقلی کے خلاف ہر اقدام اٹھایا جائے گا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولی ٹیکنیک کالج کی خٹک نامہ سے وزیر اعلیٰ کے حلقے میں منتقلی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ یحییٰ آفریدی کی عدالت میں کئے گئے کیس میں پیشی کے بعد کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کیا ،وکیل حیدر نواز خان ، تمیز الدین خٹک اور اصغر خٹک بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اجمل خٹک کے نام سے منسوب پولی ٹیکنیک کالج عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت کا کارنامہ تھا اور پی کے12کے عوام کی سولت کیلئے یہ کالج قائم کیا گیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ نے اسے اپنے حلقے میں منتقل کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے اور اس ظلم اور نا انصافی کے خلاف ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت عوام کے حق میں انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی ، انہوں نے کہا کہ پی کے 12کے عوام نے 2013ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار پر اعتماد کا اظہارکیا ہے، لیکن پی ٹی آئی نے احسان فراموشی کی انتہا کر دی ہے اور اسی حلقے کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو عوام کے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، میان افتخار حسین نے کہاکہ خیبرپختون خوا کے عوام تذبذب کے شکارہیں کہ عمران خان انہیں کس جرم کی سزا دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ اپنے مسائل کے حل کے لئے دیا لیکن کپتان نے خیبر پختونخوا کے عوام کو ہی مسائل کی بھٹی میں جھونک دیا ہے ، اور عوامی نیشنل پارٹی ایسے ہر اقدام کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔

مورخہ 11.11.2014 بروز منگل

حکومت نے عوامی حقوق سلب کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا میاں افتخار حسین
اے این پی دور میں لگائے جانے والے وائس چانسلرز کو گھر بھیجنے کے اقدام سے تعلیمی میدان میں صرف ابتری پیدا ہو گی
حکمرانوں سے تعلیمی اصلاحات ہضم نہیں ہو رہیں ، با چا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگانے کے حکومتی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں صرف عوام کے حقوق سلب کئے ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں کی گئی تعلیمی اصلاحات بھی حکمرانوں سے ہضم نہیں ہو رہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی دور میں تعینات وائس چانسلرز کو حکومت کی طرف سے فارغ کرنا انتقامی کارروائی ہے۔ اُنہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وائس چانسلر زکو اُن کو اپنے عہدے سے ہٹانے کی سازش سے باز رہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تبدیلی لانے کا جو دعویٰ کیا تھا اس پر پورا اترنے کیلئے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تجربات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اور پہلی کڑی کے طور پر وائس چانسلرز کو گھر بھجوانے کی خواہش پوری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں اعلیٰ تعلیم کیلئے 2012 ء ایکٹ منظور کیا گیا تھا جس کے تحت یونیورسٹیوں کو خودمختاری دی گئی تھی اور عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار نو نئی یونیورسٹیاں بنا کر تعلیمی میدان میں ایک انقلاب برپا کر دیا تھا جو آج تک کوئی حکومت نہیں کر سکی، لیکن یہ کارنامہ نہ تو پی ٹی آئی کی حکومت ہضم کر پا رہی اور نہ ہی جماعت اسلامی شعبہ تعلیم میں کامیابیوں کا کریڈٹ کسی اور سیاسی جماعت کو دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اے این پی دور میں منظور کئے گئے ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس سلسلے میں وائس چانسلرز اور حکومتی عہدیداروں میں 17 مشاورتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں وائس چانسلرز نے تمام حکومتی تجاویز سے اتفاق کر لیا جن میں مالیاتی اُمور تدریسی اصلاحات اور وائس چانسلرز کی تقرری کیلئے طریقہ کاربھی شامل تھا۔اُنہوں نے کہا کہ اب حکومت کے ارادے سب پر آشکارا ہو چکے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے وائس چانسلرز تعینات کرنا چاہتی ہے ۔اُنہوں نے کہا خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کو ایک تجربہ گاہ بنانے والے یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ ان کے اس اقدام سے نہ صرف تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں بہتری کی بجائے ابتری کے امکانات بڑھ جائیں گے بلکہ تعلیمی معیار زوال پذیر ہو جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے اے این پی کے ہی دور میں نئی یونیورسٹیاں بنائی گئی تھیں جس کیلیے وائس چانسلرز کی تعیناتی ضروری تھی۔ ان وائس چانسلرز کو میرٹ اور قواعد و ضوابط کی بنیاد پرتعینات کیا گیا تھا۔ لہٰذا ان کو صرف سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنایا جائے ۔بلکہ وسیع النظری کا ثبوت دیتے ہوئے اے این پی کو اس کا کریڈٹ دینا چاہیے ۔ اُنہوں کہا کہ اقتدار آنی جانی چیز ہے تاہم قوم کے حقوق پر سودے بازی سے گریز کیا جانا چاہئے اور کسی دوسری سیاسی جماعت کے منصوبوں کو ملیا میٹ کرنے کی روش ترک کی جائے۔

مورخہ 11.11.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اے این پی دور میں تعینات وائس چانسلرز کو حکومت کی طرف سے فارغ کرنے سے متعلق بیان پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ان کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔ اُنہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وائس چانسلر زکو اُن کو اپنے عہدے سے ہٹانے کی سازش سے باز رہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تبدیلی لانے کا جو دعویٰ کیا تھا اس پر پورا اترنے کیلئے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تجربات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اور پہلی کڑی کے طور پر وائس چانسلرز کو گھر بھجوانے کی خواہش پوری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں اعلیٰ تعلیم کیلئے 2012 ء ایکٹ منظور کیا گیا تھا جس کے تحت یونیورسٹیوں کو خودمختاری دی گئی تھی اور عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار نو نئی یونیورسٹیاں بنا کر تعلیم کو عام کر دیا تھا۔ لیکن یہ کارنامہ نہ تو پی ٹی آئی کی حکومت ہضم کر پا رہی اور نہ ہی جماعت اسلامی شعبہ تعلیم میں کامیابیوں کا کریڈٹ کسی اور سیاسی جماعت کو دینا چاہتی ہے۔ اے این پی دور میں ایکٹ کی منظوری کے بعد تمام یونیورسٹیوں میں آئینی طریقہ کار کے مطابق کام جاری تھا کہ موجودہ حکومت نے اس ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلے میں وائس چانسلرز اور حکومتی عہدیداروں میں 17 مشاورتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں وائس چانسلرز نے تمام حکومتی تجاویز سے اتفاق کر لیا جن میں مالیاتی اُمور تدریسی اصلاحات اور وائس چانسلرز کی تقرری کیلئے طریقہ کاربھی شامل تھا۔اُنہوں نے کہا کہ اب حکومت کے ارادے واضح ہو گئے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے وائس چانسلرز تعینات کرنا چاہتی ہے کیونکہ پرانے ایکٹ میں اسے کچھ ادھر ادھر کرنے کیلئے مشکلات درپیش ہیں۔اُنہوں نے کہا خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کو ایک تجربہ گاہ بنانے والے یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ ان کے اس اقدام سے تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں بہتری کی بجائے ابتری کے امکانات بڑھ جائیں گے جبکہ تعلیمی معیار میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے اے این پی کے ہی دور میں نئی یونیورسٹیاں بنائی گئی تھیں جس کیلیے وائس چانسلرز کی تعیناتی ضروری تھی۔ ان وائس چانسلرز کو میرٹ اور قواعد و ضوابط کی بنیاد پرتعینات کیا گیا تھا۔ لہٰذا ان کو صرف اس بنیاد پر انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے کہ یہ اے این پی کے دور حکومت میں تعینات کیے گئے تھے۔بلکہ وسیع القلبی سے کام لیتے ہوئے اے این پی کو اس کا کریڈٹ دینا چاہیے ۔ اُنہوں کہا کہ آج پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور کل کسی اور کی ہو گی تو کسی بھی حکومت کیلئے یہ مناسب نہیں کہ گزشتہ حکومت کے اچھے اقدام کو ملیہ میٹ کر دے۔

مورخہ :10 نومبر 2014 بروز پیر

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان کے مطابق اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے 12 نومبر بروز بروز بدھ بوقت صبح دس بجے بمقام میجسٹک بینکوئٹ ہال A-2 کلب روڈ اسلام آبادمیں اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔اجلاس میں پاکستان کی پانچوں وحدتوں پختونخوا ، بلوچستان ، سندھ ، سرائیکی اور پنجاب سے اے این پی کے مرکزی ورکنگ کمیٹی کے ارکان شرکت کرینگے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال ، تنظیمی اُمور اور دیگر اہم اُمور پر بات چیت کی جائیگی۔
اُنہوں نے پانچوں وحدتوں سے پارٹی ورکنگ کمیٹی کے ممبران کو تاکید کی ہے کہ مقررہ وقت اور جگہ پر اجلاس ہٰذا میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔

مورخہ : 10 نومبر2014 بروز پیر

پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ عمران خان کاانتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن میں انٹیلی جنس اداروں کوشامل کرنے کے مطالبے سے ملک ،فوج اورجمہوریت کی بدنامی ہوگی ،فوج پاکستان کی بقاء کے لئے قربانیاں دے رہی ہے ،دشمن ہماری افواج اور انٹیلی جنس اداروں کومتازعہ اور کمزور کرنے کے درپے ہیں، آئینی اور قانونی مسئلے کے حل کے لئے دیگر اداروں سے مدد لی جاسکتی ہے عمران خان اپنی مرضی کے ریٹائرڈ جج اور سیاستدان تحقیقاتی کمیشن میں شامل کرنے کا مطالبہ کریں ،ہم روز اول سے کپتان کو الزامات ثابت ہونے سے پہلے وزیراعظم کے استعفیٰ کو بچگانہ مطالبہ قراردے رہے تھے کپتان نے یوٹرن لے کر دیر آید درست آید کے مصداق تین ماہ بعد ہی ہماری تجویز ماننی پڑی، انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کا آغاز پنجاب سے نہیں بلکہ خیبرپختون خوا سے ہونا چاہئے ،تاکہ پتہ چلے’’ بلے ‘‘ کے بکسے میں ووٹ کہاں سے آئے وہ پیر کی شام کٹہ خٹ کے علاقہ کوتر پان مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،منیرخان ،زرشاد خان ،سہیل باچا ،بخت زادہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا اجتماع میں گوجر برادری سے تعلق رکھنے والے بخت زادہ گروپ،نیازعلی گروپ ،جابر گروپ اور رحما ن گل گروپ نے جے یو آئی (ف) اورپیپلز پارٹی سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے شامل ہونے والے افراد کوپارٹی ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باد دی امیرحیدرخا ن ہوتی نے کہاکہ عمران خان نے تین ماہ سے دھرنے کے نام پر پاکستان کو تماشا بنارکھاہے ملک وقوم کو اربوں روپے کا نقصان اٹھاناپڑرہاہے جس کا خمیازہ آخر کار غریب عوام ہی کو بھگتناپڑے گا انہوں نے کہاکہ کسی بھی معاشرے میں الزام ثابت ہونے سے پہلے سزا دینا انصاف کے منافی ہے اوریہی وجہ ہے کہ ہم روز اول سے عمران خان کی طرف سے وزیراعظم سے استعفیٰ کے مطالبے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قراردے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان نے انتخابی دھاندلیوں کے لئے تحقیقاتی کمیشن میں فوج کے انٹیلی جنس اداروں کو شامل کرنے کا مطالبہ کرکے ملک ،جمہوریت اور فوج کے ساتھ ذیادتی کی ہے اور ساتھ ہی عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیاہے انہوں نے انتخابی دھاندلیوں کے الزامات ایک آئینی اور قانونی مسئلہ ہے اوراس کے حل کے لئے دیگر ادارے موجود ہیں اس لئے کپتان کو سابق جج صاحبان یا اپنی مرضی کے سیاسی لیڈر شامل کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے انہوں نے کہاکہ اس وقت پاک فوج مختلف چیلنجز کا سامنا کررہی ہے فوج جانوں کے نذرانے دے کر پاکستان کا تحفظ کررہی ہے ایسے میں ہمیں پاک فوج کے متنازعہ بنانے کی بنانے اس ادارے کے پشت پر کھڑا ہونا چاہئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ جب دھاندلیوں کی تحقیقاتی ہوتی ہے توپنجاب سے نہیں بلکہ خیبرپختون خوا کے حلقہ این اے ون پشاور سے شرو ع ہونی چاہئے تاکہ پتہ چلے کہ تحریک انصاف کے بکسوں میں ووٹ کہاں سے پڑے انہوں نے کہاکہ اگر دھاندلی ثابت ہوئی تواے این پی ری الیکشن کا مطالبہ کرے گی اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ کپتان کے تین ماہ سے جاری دھرنے میں نہ تو پختونوں کے مسائل اورمشکلات کا ذکر ہوتاہے اورنہ پختون خوا کے حقوق کی بات کی جاتی ہے بلکہ دھر نے میں وہ نوازشریف سے مستعفی ہونے اور ان کی جگہ خو دوزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور اپنی شادی کے لئے نئے پاکستان بنانے کے دعوے کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان اور نوازشریف میں اقتدار کی جنگ جاری ہے دونوں سے پختون قوم خیر کی توقع نہ رکھیں انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں پختونوں کو ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے اپنے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہوگا یہ وقت ان کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کی شکارہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار اوراسمبلیوں کی سیٹوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا مقصود ہے۔

مورخہ 10 نومبر 2014 ؁ء بروز پیر

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے زیر اہتمام پی کے ٹو کا ایک ورکرز کنونشن حجرہ امیر جان میں منعقد ہوا جس کی صدارت ضلعی صدر ملک غلام مصطفی نے کی‘ جنرل سیکرٹری سرتاج خان‘ سیکرٹری مالیات عنایت اللہ‘ جائنٹ سیکرٹری شوکت خان‘جائنٹ سیکرٹری ممتاز خان‘ سٹی کابینہ کے دیگر عہدیداران‘ پی کے ٹو وارڈز صدور و جنرل سیکرٹریز کے علاوہ پی کے ٹو سے تعلق رکھنے والے ورکروں نے بھرپور انداز میں شرکت کی‘ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے اس مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ایک سیاسی جماعت کے لیڈر ہونے کے ناطے ایسی غیر آئینی اور غیر سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہئے‘ 1973ء کے آئین میں کوئی ایسی شک موجود نہیں جس میں کہا گیا ہو کہ عدلیہ کے کمیشن میں خفیہ ایجنسیوں کے لوگوں کو شامل کیا جائے ایسی باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف ملک میں سیاسی عمل کو ڈی ریل کرنے کیلئے نئے نئے شوشے چھوڑ رہی ہے جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہے‘ ملک کے سیاستدانوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ چاہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں سیاسی نظام کو کامیابی سے چلانے کیلئے اپنا رول پلے کریں لیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف کی سیاس قلابازیوں سے ملک کو غیر یقینی سیاسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو کہ ملک کی مفاد میں نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک کو معاشی طور پر بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور یہ معاشی بدحالی ملک کو تباہی کی جانب لے جا رہی ہے‘ اجلاس ضلعی صدر ملک غلام مصطفی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ابھی تک ایسی کوئی کارکردگی عوام کے سامنے پیش نہیں کی جس سے عوام کو مطمئن کیا جا سکے‘ بلدیاتی انتخابات کرانے کے حوالے سے کبھی الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں‘ کبھی نادرا کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے‘ کبھی بائیو میٹرک سسٹم کا رونا رویا جاتا ہے تو کبھی تین مرحلوں میں مرحلہ وار الیکشن کرانے کا اعلان کیا جاتا ہے‘ بلدیاتی الیکشن تو دور کی بات خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مفتی محمود فلائی پراجیکٹ کا ٹھیکہ بار بار منسوخ کرنے کے باوجود بھی پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکا جو موجودہ صوبائی حکمرانوں کو نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ خیبر پختونخوا کے عوام تحریک انصاف کی موجودہ حکومت سے نالاں ہے اور موجودہ دھرنوں کی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں‘ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے دھرنوں کے ذریعے عوام کو زیادہ دیر تک بے وقوف نہیں رکھ سکتے۔

کارکنان قومی تحریک کی فعالیت کو اپنا شعار بنائیں اسلاف کے افکار کو عام کرنے کے لیے شب و روز کام کریں۔جنرل سیکریٹری اے این پی سندھ
کراچی ۔ پیر 10نومبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ جوں جوں وقت گزرے گا ہمارے اسلاف کی عظمت زمانے پر آشکار ہوتی جائے گی ، اہل علم آج ہمارے اکابرین کی عظمت کو قلم کے ذریعے پوری دنیا کو آگاہ کررہے ہیں،آج کے دانشوردیر سے سہی مگر قوم کو ہمارے عظیم قائدین کی جدوجہد سے آگاہ کرر ہے ہیں کاش یہ کام اگر کل کے دانشور کردیتے تو پختون خطے میں دہشت گردی اور انتہاء پسندی نام کی کوئی چیز نا ہوتی،عجب تماشا لگا ہوا ہے حادثاتی سیاست دان کو ملکی تاریخ کا عظیم رہنماء ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس طرح علامہ کینیڈی کا دھرنا اختتام پزیر ہوا ہے اسی طرح سونامی خان کو ڈی چوک سے اپنا بوریا بستر گول کرنا ہوگاالزامات کی دھول سے قوم کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا،ان خیالات کا اظہارانہوں نے ضلع ساؤتھ لیاری کے غزنوی وارڈ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ شہر میں اے این پی کی سیاست کو جرم بنادیا گیا ہے ،ایک طرف پورے پاکستان سے لوگوں کو بلا کر جلسے کروائے جارہے ہیں اور دوسری طرف ہم پرسیاسی قدغن لگادی گئی ہے ،ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے ہاتھ آج اپنے تخلیق کاروں کے گریبان تک پہنچ چکے ہیں اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لیے جائیں ، ہم اس شہرمیں ایک سیاسی حقیقت ہیں جس ظلم و جبر کی شدت سے ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی اس سے کئی گناہ زیادہ شدت سے ہمارا عزم و حوصلہ بلند ہوگیا ہے ظالم شاید ہماری تاریخ سے ناواقف ہیں، ہم نے اس طاقت کو بھی شکست دی جس کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھاہم کسی صورت اپنے قوم حقوق کے حصول کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے انہوں نے مذید کہا کہ کارکنان قومی تحریک کی فعالیت کو اپنا شعار بنائیں اسلاف کے افکار کو عام کرنے کے لیے شب و روز کام کریں کسی صورت حوصلہ نا ہاریں قیادت کسی صورت آپ کی مشکلات سے غاٖفل نہیں ہے،اس موقع پر صوبائی سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک ،ضلعی صدر عبدالقیوم سالارزئی،جنرل سیکریٹری سرفراز جدون،سیکریٹری اطلاعات انور علی،وارڈ صدر اختر پشتون نے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ 11.11.2014 بروز پیر
صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیارکر رہی ہے، سردار حسین بابک
پشاور( پ ر )صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار چاہتی ہے ، ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے معضع طوطا لئی بونیر میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر جماعت اسلامی کے سرکردہ رہنما ممتاز بہادر خان نے اپنے104ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،
سردار حسین بابک نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور انہیں سرخ ٹوپیاں پہنائیں ،
انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے90دنوں میں بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے بلدیاتی انتخابات کا وعدہ کیا تھا لیکن اب سارا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈالنے کی کوشش کیا جارہی ہے ، انہوں نے کہا حکومت نے وعدہ کرتے وقت یہ نہیں دیکھا تھا کہ حلقہ بندیوں ، قانون سازی اور پھر بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے90دنوں میں انتخابات ممکن ہیں یا نہیں
جبکہ عوام کو بے وقوف بنانے کے بعد اب خود ہی اعلان کر رہے ہیں کہ بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے انتخابات ممکن نہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام جذباتی اور غیر سننجیدہ دعوے اور وعدے قوم پر آشکارا ہو چکے ہیں ،
سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام سے کئے گئے تمام وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گئی ہے ،اور یہی وجہ ہے کہ اب عوام کی توجہ ہٹانے کیلیت دھرنوں اور ڈراموں کی سیاست کا آغاز کر دیا گیا ،
انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام بیدار ہو چکے ہیں اور وہ مزید جذباتی نعروں اور وعدوں کی سیاست سے اکتا چکے ہیں ، سابق امیدوار قومی اسمبلی حاجی رؤف خان اور ضلعی صدرمحمد کریم بابک نے بھی اس موقع پر خطاب کیا

مورخہ 08 نومبر 2014 ؁ء بروز ہفتہ

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے پی کے تھری میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں‘ بد امنی‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اغواء برائے تاوان اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ دینے میں موجودہ مرکزی و صوبائی حکومتیں بری طرح ناکام ہوئے ہیں‘ دھرنوں سے ملک کی معاشی حالت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال کا سماں ہے اور خصوصی طور پر پختونخوا کے حکمرانوں نے پختون قوم سے جو زیادتی کی ہے‘ پختون قوم کو جو سبز باغ دکھا کر 2013ء کے الیکشن میں ووٹ حاصل کئے تھے لیکن موجودہ صوبائی حکومت کسی ایک وعدے کو بھی پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے‘ پختون قوم تحریک انصاف کو ووٹ دیکر پشیمان ہے اور آنیوالے وقت میں چاہے وہ بلدیاتی یا عام الیکشن ہو اے این پی ایک بار پھر سرخرو ہو گی‘ ہم نے طویل جدوجہد کے بعد ون یونٹ توڑ کر صوبائی خودمختاری حاصل کی تھی لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پختون قوم کو بنی گالہ کا محتاج بنا دیا گیا ہے‘ اجلاس سے ملک غلام مصطفی صدر اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف یوٹرن لینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اور پی ٹی آئی کے لیڈر نابالغ اور نااہل ہے تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ ایک ہجوم ہے جس کی قیادت عمران خان کر رہے ہیں جو پورے عمران خان کے گرد جھومتی ہے ہمارے صوبے اور پختونخوا کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ جنہوں نے مینڈیٹ ایک ایسی پارٹی کو دیا ہے جس نے ملک کا وزیر اعظم بننے کیلئے اس صوبے کی حکومت کو یرغمال بنا رکھا تھا صوبے کا وزیر اعلیٰ جو دھرنوں کے رونق بنتے ہوئے وزیر اعظم کی مخالفت میں اس حد تک آگے چلے گئے تھے جہاں سے واپسی ناممکن تھی لیکن حال ہی میں ایک اجلاس میں شرکت کر کے وزیر اعظم کیساتھ بیٹھنے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف کے کوئی اصول نہیں وہ اقتدار کی خاطر مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کے تلوے چاٹنے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔

مورخہ 08.11.2014بروز ہفتہ
عمران خان نئے پاکستان کے چکر میں پختون خوا کو ہی بھول گئے، میاں افتخار حسین
پی ٹی آئی نے پختونوں کو دھوکہ دیا جس سے وہ مسائل اورمشکلات میں گِھر چکے ہیں،صرف اے این پی عوامی حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے
عوام عمران خان کی احتجاجی اور انتشار کی سیاست کو بُری طرح مسترد کر دیں گے، سردار بابک پی کے 7پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب

پختون قوم اپنے مسائل کے حل کے لئے سرخ جھنڈے تلے متحد ہوجائے کیونکہ اس کے سوا پختون قوم کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین نے پشاور پی کے7میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک ، ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک نسیم ، جنرل سیکرٹری گلزار خان سمیت تمام ممبران اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ تحریک انصاف نے پختونوں کو دھوکہ دیا جس سے پختون مسائل اورمشکلات میں گِھر چکے ہیں اور عمران خان نئے پاکستان کے چکر میں پختون خوا کو ہی بھول گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اقتدار کیلئے لڑائی جاری ہے،لیکن پختونوں کے مسائل سے سب بے خبر ہیں ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے 2008ء کے انتخابی منشور میں عوام سے کئے گئے تمام وعدے پورے کر دکھائے اور اب مستقبل میں بھی صوبے کی حکمرانی اے این پی کے پاس ہوگی کیونکہ عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر پچھتا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ قوم کے مینڈیٹ کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام خود ہی صوبے سے پی ٹی آئی کا بوریا بستر گول کر دیں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں نے تحریک انصاف کے ایسے امیدواروں کو کامیابی دلائی جوکبھی کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکے تھے لیکن تبدیلی کے نام پر پختونوں کا مینڈیٹ چرایاگیا اوران کو دھوکہ دیاگیا سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ دھرنوں کی سیاست سے ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے اور عمران خان صوبے میں ناکام ہوکر اسلام آباد میں انتشار پھیلارہے ہیں جسے مہذب معاشرے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بے شمار مسائل سے دوچار ہے ، حکمرانوں کو مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب عوام عمران خان کی احتجاجی اور انتشار کی سیاست کو بُری طرح مسترد کر دیں گے، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور مستقبل میں اے این پی اقتدار میں آکر عوامی حقوق کے تحفظ کا مشن پورا کرے گی۔

مورخہ 08.11.2014بروز ہفتہ
پشاور ( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ انگزیروں کو بھگانے میں پختون قوم کا کلیدی کردار ہے ،پختون نہ ہوتے توپاکستان آزاد نہ ہوتا ، عمران خان اورنوازشریف میں اقتدار کی میوزیکل چیئر کی جنگ جاری ہے دونوں سے پختون خوا کے عوام کے لئے خیر کی توقع نہیں ،اے این پی میدان میں ہے پختونوں کے حقو ق لے کر دم لے گی وہ گڑھی کپورہ مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما خان زادہ اعجاز خان اور خان زادہ طارق رشید خان نے اپنے خاندان اور درجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا اے این پی کے صوبائی صدر نے شمولیت اختیا رکرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باد دی، اجتما ع سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اورجنرل سیکرٹری حاجی لیطف الرحمان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ گڑھی اسماعیل زئی تاریخی علاقہ ہے اورا س علاقے کے عوام خدائی خدمت گار تحریک میں ہمیشہ پیش پیش رہے، انہوں نے کہاکہ پختون قوم دنیا کی بہادرترین قوم ہے اورجب یہ قوم متحد ہوجاتی ہے تو انگزیروں جیسی بڑی بڑی طاقتیں پاش پاش ہوجاتی ہیں ،انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی میں پختونوں کی وجہ سے انگریز بھاگنے پر مجبورہوئے اورا س اہم کردار پر پورے پاکستان کو پختون قوم کا شکرگزارہوناچاہئے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ پختون نہ ہوتے تو پاکستان کبھی آزاد نہ ہوتا انہوں نے باچاخان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے پختون قوم کو متحد کرنے اوران میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کے لئے تمام زندگی گزاردی انہوں نے کہاکہ وہ اپنے لئے اے این پی کی صوبائی صدارت وزیراعلیٰ کے منصب سے بڑا اعزاز سمجھتے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ وہ شہر شہر اورگاؤں گاؤں جرگے کرکے پختونوں کو اکٹھا کرنے کے مشن پر نکلے ہیں اورآج وہ اس تاریخی اجتماع کو گواہ بن کر اعلان کرتے ہیں کہ اے این پی کے لئے اقتدار کی کرسی کوئی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ اے این پی کا نصب العین اللہ کی مخلوق کی خدمت اور ظالم کے خلاف آواز بلند کرناہے، امیرحیدرخان ہوتی نے تحریک انصاف پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختون خوا کے عوام تذبذب کے شکارہیں عمران خان انہیں کس جرم کی سزا دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ اپنے مسائل کے حل کے لئے دیا لیکن کپتان ممبران سے استعفیٰ لے رہے ہیں کیونکہ انہیں وزیراعظم بننے کے لئے خیبرپختون خوا کا مینڈیٹ نہیں بلکہ پنجاب سے اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے، اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ کپتان کے تین ماہ سے جاری دھرنے میں نہ تو پختونوں کے مسائل اورمشکلات کا ذکر ہوتاہے اورنہ پختون خوا کے حقوق کی بات کی جاتی ہے بلکہ دھر نے میں وہ نوازشریف سے مستعفی ہونے اور ان کی جگہ خو دوزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور اپنی شادی کے لئے نئے پاکستان بنانے کے دعوے کررہے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ نوازشریف سے بھی پختون قوم خیر کی توقع نہیں رکھتے کیونکہ ان کے نقشے میں سرے سے پختون خوا شامل ہی نہیں، انہوں نے کہاکہ عمران خان اور نوازشریف میں اقتدار کی جنگ جاری ہے، انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں پختونوں کو ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہوگا یہ وقت ان کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کا شکار ہے، اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ باچاخان نے اس دھرتی اورپختون قوم کو مسائل سے نکالنے کے لئے جس تحریک کا آغازکیا،ابھی وہ منزل دور ہے، اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ پختونوں نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا لیکن پی ٹی آئی والوں نے یہاں سے اختیارات بنی گالہ منتقل کئے اوراب پختون قوم کی قسمت کے فیصلے بنی گالہ میں ہونے لگے ہیں تبدیلی اور سستے انصاف کے دعویدار اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں اورپختون قوم وعدہ شکنوں سے بدلہ لے کر دم لے گی ، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اوراسے اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے، انہوں نے کہاکہ الیکشن کے دوران عمران خان پورے پاکستان میں پھرتے رہے لیکن ان پر دوسرے صوبوں کی قومیتوں نے اعتماد نہیں کیا اورپختون ان کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں میں آگئے۔

کراچی ۔جمعتہ المبارک 07 نومبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے لیاری میں امن و امان کی مسلسل خراب صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے امن ،صحت ،تعلیم اور روزگار کسی بھی شعبہ میں کراچی کے دل لیاری کے لیے کچھ نہیں کیا گیا کراچی کی سب سے قدیم آبادی کے باسی بموں اور گولیوں کی بارش میں زندگی بسر کرہے ہیں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لیاری میں پیپلز پارٹی کے کارکنان کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے لیاری کے امن کے لیے اعلانات سے زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے ،باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ چند دہشت گردوں نے لاکھوں کی آبادی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے،جاری ٹارگٹڈ آپریشن بھی لیاری میں امن قائم نہیں کرسکا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لا تعداد کاروائیوں کے باوجود لیاری میں امن قائم کیوں نہیں ہورہا؟عوامی نیشنل پارٹی مرکزی و صوبائی حکومت سے لیاری کی مسلسل خراب صورت حال کی درستگی کے لیے فی الفور اقدامات اور پسماندگی کو دور کرنے کے لیے بھر پور پیکیج کے اعلان کا مطالبہ کرتی ہے ۔

مورخہ 07.11.2014بروز جمعہ

صوبائی حکومت ناکام ہوچکی، آنے والا دور اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین
عوام مہنگائی ،بے روزگاری اور لاقانونیت سے تنگ آچکے ہیں وزیراعلیٰ کو دھرنوں کے نام پر ناچ گانوں سے فرصت نہیں
رابطہ عوام مہم کا آغاز کر دیا ہے، عوام اور پارٹی کارکن اے این پی کے اجتماعات میں شرکت کریں ، ورکرز کنونشن سے خطاب
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے اور آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہے،,ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک مقامی ہوٹل میں پشاور سٹی کے صدر ملک غلام مصطفیٰ کی زیر صدارت منعقدہ اے این پی پشاور پی کے 4کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ ،صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک،ٰ سمیت پشاور سٹی کے تمام ممبران و کارکنان بھی اس موقع پر موجود تھے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوام مہنگائی ،بے روزگاری اور لاقانونیت سے تنگ آچکے ہیں وزیراعلیٰ اور وزراء کو دھرنوں کے نام پر ناچ گانوں سے فرصت نہیں، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر عوام کو ورغلا یا ہے اورگذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا انہوں نے کہاکہ ۔صوبائی حکومت امن کی بحالی ، لوگوں کو روزگار دینے ، تعلیمی اصلاحات لانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے، اور اب صوبے کے عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ قوم اپنے مینڈیٹ کی توہین پر پی ٹی آئی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث عوام نالاں ہیں اور وہ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے عوامی نیشنل پارٹی میں جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی نے رابطہ عوام مہم کا آغاز کر دیا ہے اور آنے والا دور اے این پی کاہے اور پارٹی ماضی کی طرح مستقبل میں بھی عوامی مفادات کا تحفظ کرے گی، انہوں نے پشاور کے لوگوں اور تمام پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اے این پی کے زیر اہتمام ہونے والے تمام اجتماعات میں بھرپور شرکت کریں۔

نومبر2014

پشاور( ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے بے تاب ہیں کپتان کا خیبرپختون خوا میں بھتہ خوری اورامن امان کی صورتحال سے کوئی سرورکار نہیں ،چترال سے ڈیرہ تک پختون قوم کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھا کرنا زندگی کا مشن ہے ،پختونوں کی خدمت کی ذمہ داری عمران خان کی ہے اورنہ ہی مسلم لیگ (ن) کی ہے ،پختونوں کو مسائل کے دلد ل سے نکالنا اے این پی اپنا فرض عین سمجھتی ہے ہماری پارٹی ماں دھرتی پر جان نچھاور کرنے والے شہیدوں کی پارٹی ہے وہ گذشتہ شام مردان کے علاقہ اکاخیل مایار میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں جے یو آئی (ف ) کے سرکردہ رہنمامہتاب الدین خان ،نگار خان ،حکیم خان نے اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کااعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیار کرنے والے نئے کارکنوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باد دی اجتماع سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ایڈووکیٹ ،لطیف الرحمان اور جہانزیب خان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ عمران خان کا دھرنا پختون خوا صوبے کے حقوق کے لئے ہے اورنہ ہی پختون قوم کے مسائل کے حل کے لئے ہے بلکہ وہ پنجاب کے تخت کی جنگ لڑرہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کی مایوس کن کارکردگی کے باعث پختون قوم اپنے فیصلہ پر نادم ہیں اوروہ بنی گالہ سے اختیارات اپنے صوبے واپس لاکر دم لیں گے امیرحیدرخان اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پورے ملک میں پھرتے رہے اور تین ماہ میں تبدیلی ،نئے پاکستان اور نئے خیبرپختون خوا کے وعدے کرتے رہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا صوبے میں بھتہ خوری ، بدامنی ، مہنگائی ،لوڈشیڈنگ اورلاقانونیت کا دور دورہ ہے کپتان نے پختونوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان زبانی تبدیلی کے دعوے کررہے ہیں جبکہ حقیقی تبدیلی تو اے این پی کے دورحکومت میں آئی تھی جس میں صوبے کا نام تبدیل ہوا ،صوبائی خودمختاری،این ایف سی ایوارڈ اور مرکزی حکومت سے اربوں روپے کے بقایا ت وصول کئے گئے انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول اور کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی ملک میں جمہوریت چاہتی ہے اوراس مقصد کے لئے ہم نے بادل ناخواستہ انتخابی نتائج تسلیم کئے ہیں ورنہ عمران چند حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگارہے ہیں اورہمارے ساتھ تو ہر حلقے میں کھلی دھاندلی کرائی گئی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی نے پختون قوم کے حقوق اور سیاسی آزادی کے لئے جانوں کے نذرانے دیئے آج بھی ان کی شہادتوں کا تسلسل جاری ہے اور اے این پی کے کارکن دہشت گردوں اورانتہا پسندوں کے میدان میں مقابلہ کرکے وطن کی حفاظت کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی نے ہر دورمیں ظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیاامیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجود ہ حالات انہتائی نازک ہیں اورایسے میں اے این پی کے کارکنوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باچاخان اورخان عبدالولی خان کے عدم تشدد کے فلسفے اور فکر کو ہرسوں پھیلائیں اورلوگوں کواس دھرتی اور پختون قوم کے لئے اے این پی کی قربانیوں سے باخبر کریں انہوں نے کہاکہ پختونوں کے پاس اپنی بقا کے لئے اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کے سوا کوئی راستہ بچانہیں ہے ۔

مورخہ 23.04.2014بروز منگل

اسفندیار ولی خان اور میاں افتخار حسین کی مولانا جمشید علی خان کے انتقال پر تعزیت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے تبلیغی جماعت کے رہنما اور رائیونڈ مرکز کے نائب امیر معروف اور جید عالم دین مولانا جمشید کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے،انہوں نے کہا کہ مرحوم نے دین کی فلاح وبہبود اور ترقی کیلئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی اور اسلامی تعلیمات کی پرچار میں اہم کردار ادا کیا ، باچا خان مرکز پشاور سے جاری ایک مشترکہ تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانا جمشید علی خان کی وفات سے ملک ایک قیمتی علمی خزانے سے محروم ہو گیا ہے،مرحوم نے ساری زندگی مسلمانوں کو اتحاد و یگانگت کا درس دیا اور اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت اور پیروی کرنے کی خصوصی ہدایت دی ،انہوں نے کہا کہ ان کی وفات سے جو خلاء پیدا ہو اہے وہ مدتوں پر نہیں ہو سکے گا انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے صبر و جمیل کیلئے دعا کی۔

مورخہ 06.11.2014بروز جمعرات

امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک کا مولانا جمشید کے انتقال پر اظہار تعزیت

پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے تبلیغی جماعت کے رہنما اورجید عالم مولانا جمشید علی خان کے انتقال پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ مرحوم مولانا جمشید علی خان کے انتقال سے ملک ایک جید عالم و فاضل رہنما سے محروم ہو گیا ہے ، پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مرحوم نے زندگی بھر مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا درس دیا اور ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکتا ، انہوں نے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی ۔

مورخہ :5.11.2014 بروز بدھ

تورغر کو ضلع کا درجہ دینا عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کا ایک عظیم کارنامہ ہے ’سردار ابابک‘
امیر حیدر خان ہوتی نے اربوں روپوں کے پیکج جاری کیے جو تورغر کی عوام کیلئے کسی تحفے سے کم نہیں ۔

پشاور (پ ر) تورغر کو ضلع کا درجہ دینا عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کا ایک عظیم کارنامہ ہے اور ضلع کی پسماندگی دور کرنے کیلئے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے اربوں روپوں کے پیکج جاری کیے تھے۔ یہ بات اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے باچا خان مرکز میں اے این پی تورغر کی ضلعی تنظیم اور صاحب الرائے مشران کے ایک جرگہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اے این پی کے صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ اور سابق صوبائی وزیر نمروز خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ تور غر کی پسماندگی دور کرنے کیلئے تعلیم ، صحت ، مواصلات اور تمام شعبوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت کے تاریخی ترقیاتی پیکجز تور غر کی عوام کیلئے کسی تحفے سے کم نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ تورغر جیسے پسماندہ علاقے کو صوبے کے دیگر ترقی یافتہ ضلعوں کے برابر لانا عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور کا حصہ تھا۔ اور پارٹی نے اپنے دور حکومت میں وہاں کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا کیا اور اُسے ترقی کی راہ پر گامزن کر کے تور غر کے عوام کی حقیقی خدمت کی ہے۔

مورخہ 05.11.2014بروز بدھ
صوبے میں ٹارگٹ کلنگ نے کاروبار کی شکل اختیارکر لی ہے، سردار حسین بابک
جماعت اسلامی مے ممبران ہمارے دور اقتدار کے ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی تختیاں لگا نے پر شرم کریں۔
اے این پی پر کر پشن کے جھوٹے الزامات لگانے والے کرپشن ثابت کریں ، بونیر میں ورکرز کنونشن سے خطاب
پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے عوام کو کرپشن،مہنگائی،بدامنی ،ٹارگٹ کلنگ اور بے روزگاری کے خاتمے کے سبز باغ دکھانے والے آج عوام کے منہ سے نوالہ چھینے کی کو شش کر رہے ہیں ۔ہمارے دور اقتدار کے ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر جماعت اسلامی کے ممبران شرم کر یں۔مذہبی جماعتیں اسلام ،جھنڈے اور کتاب کے نام پر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ میں یوسی آمازی کے ورکر زکنونشن سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔کنونشن سے ضلعی صدر محمد کر یم بابک،سابقہ امیدوار حاجی رؤف خان،این وائی او کے ضلعی صدر گل زار بابک،نور زادہ اور افضل خان نے بھی خطاب کیا۔
سردار بابک نے کہا کہ صوبہ بد امنی کی لپیٹ میں ہے اور پورے صوبے میں ٹارگٹ کلنگ نے کاروبار کی شکل اختیار کی ہے لیکن صوبائی حکومت نے اسلام آباد میں ناچ گانوں کی محفل سجارکھی ہے اور مذمت کی بجائے امیر جماعت اسلامی سراج الحق ائے روز مذاکرات کے نام پر میلہ میں جایا کر تے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 11مئی 2013کے الیکشن میں ہمیں اس بات کی سزا دے گئی کہ ہم نے پختونوں کی مساجد ،مدارس،حجروں ،بازاروں اور تعلیمی درسگاہوں کو تباہ کر نے والوں کو دشمن کہا جس کی پاداش میں ہمارے کارکنوں اور قائدین پر ائے روز حملے ہورہے ہیں لیکن فخر آفغان باچا خان کے سپاہی کل بھی اس مٹی پر امن کے قیام کے لئے کمر بستہ تھے اور آج بھی ہے کیونکہ یہ مٹی ہماری ماں ہے اور اس کی حفاظت کے لئے جان کے نذرانے پیش کر نا اے این پی کا وطیرہ ہے۔
سردار بابک نے کہا کہ اے این پی پر کر پشن کے جھوٹے الزام لگانے والے ہم پر کر پشن ثابت کر یں ہم نے کر پشن نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں پختون قوم کی خدمت کی ہے اور اگر یہ کر پشن ہے تو ہم بار بار کر ینگے کیونکہ ہم اسلام کے نام نہاد ٹھیکداروں کی طرح عوام کو صرف نعروں پر دھوکہ نہیں دے سکتے بلکہ ہم عملی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔

مورخہ 02.11.2014بروز اتوار
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کے مسائل سے بے خبر ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے موضع سواوئی ضلع بونیر میں ایک بڑی شمولیتی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا ،اس موقع پر 30خاندانوں نے امیر زیب خان ، ایاز خان ، گل شیر ،حبیب الرحمان ،باچا ، امیر سلطان ،شاہ میر ،خان شیر ،عطاء اللہ ،امیر اللہ ،فضل ہادی،وزیر محمد ،جمیل، گل زادہ ، سیدا جان ،ولی داد او دیگر کی سربراہی میں مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفیٰ ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں عوام کی تاریخی خدمت کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج لوگ جوق در جوق عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی پختونوں کی واحد ترجمان جماعت ہے جو اقتدار میں رہتے ہوئے اور اقتدار کے بغیر بھی عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ، انہوں نے کہا کہ قوم موجودہ حالات سے بے زار ہو چکی ہے اور وہ بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔سردار حسین بابک نے کہا کہ حکمران جماعتیں عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں ، انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانے والے کبھی ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، اس موقع پر ضلعی صدر محمد کریم بابک اور سابق ضلع ناظم رؤف خان نے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ 02.11.2014بروز اتوار
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نیا پاکستان بنانے والوں کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے اور قوم اپنے مینڈیٹ کی توہین کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ضلع پشاور کی تمام یونین کونسلوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ ، صوبائی سینئر نائب صدر گلزار خان ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات بہرام خان ایڈوکیٹ اور ضلع پشاور کے صدر عادل ماشوال بھی اس موقع پر موجود تھے ، انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور عوامی نیشنل پارٹی ماضی کی طرح عوام کا خدمت کا سلسلہ جاری رکھے گی عوامی نیشنل پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جس کی تنظیمیں گاؤں سے لے کر مرکز تک ایک زنجیر کی مانند ہیں اور جس طرح اس پارٹی نے دہشت گردی اور سیلاب کی صورتحال کا مقابلہ کیا اسی طرح ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عوام سے روزگار،تعلیم اورمہنگائی کے خاتمے کے نام پر ووٹ لئے اورانتخابات میں نئے پاکستان کا دعویٰ کیاتھا تاہم کپتان کی ٹیم نے پرانے پاکستان کی بنیادیں بھی ہلاکررکھ دی ہیں اور غریب ملازمین کو بے روزگارکرکے ان کے بچوں سے منہ کا نوالا چھینا جارہاہے انہوں نے این وائی او کے ارکان پر زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے تنظیم کو مزید فعال بنائیں اور پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں ،انہوں نے کہا کہ واحد اے این پی ایسی جماعت ہے جس کا ایک سیاسی پروگرام ہے اور اسی پروگرام کے نتیجے میں ملک میں امن ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی دوست پالیسیوں کی بدولت پارٹی کی مقبولیت کے گراف میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ پارٹی اور خصوصاََمرکزی قائد اسفندیار ولی خان نے پارلیمنٹ کو بالادست بنانے اور ملک کے تمام آئینی اداروں کے استحکام کیلئے جو کردار ادا کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی،انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے کیونکہ ملک کے مسائل کا واحد حل جمہوریت میں پنہاں ہے ۔

مورخہ 02.11.2014بروز اتوار
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے عوام سے روزگار،تعلیم اورمہنگائی کے خاتمے کے نام پر ووٹ لئے اورانتخابات میں نئے پاکستان کا دعویٰ کیاتھا تاہم انہوں نے پرانے پاکستان کی بنیادیں بھی ہلاکررکھ دی ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اختر زیب خان کے حجرے میں تہکال پایاں 1کی یونین کونسل 38کے ایک تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اختر زیب خان ، گلزار خان ، تمام یونین کونسل کے صدور و جنرل سیکرٹریز سمیت کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ، ارباب محمد طاہر خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والوں کی تبدیلی عوام دیکھ چکے ہیں ، صوبے میں بدامنی عروج پر ہے مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے غریب کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ کرپشن کے کاتمے کے دعویداروں نے اپنے ہی وزراء کو کرپشن پر فارغ کر نا پڑ گیا جس سے ان کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم مایوس ہو چکی ہے ، اور وہ اپنے مینڈیٹ کی توہین کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور عوامی نیشنل پارٹی ماضی کی طرح عوام کا خدمت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔قبل ازیں تنطیم سازی کے سلسلے میں اختر زیب خان ،سینئر نائب صدر رھیم شاہ ، نائب صدر عرفان اللہ نائب صدر دوم جمروز خان ،نائب صدر کواتین زوجہ اختر زیب ،جنرل سیکرٹری رستم خان ،ڈپتی جنرل سیکرٹری ذیشان خان ،جائنت سیکرٹری آصف ،جائنٹ سیکرٹری کواتین زوجہ علی خان سیکرٹری مالیات محسن اقبال ،سیکرٹری ثقافت شکیل جبکہ سالار نعیم شاہ کو منتخب کر لیا گیا ۔

مورخہ 02.11.2014بروز اتوار
پشاور ( پ ر) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے محکمہ ایکسائز سے سینکڑوں ملازمین کی برطرفی کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے ظالمانہ فیصلے کو فی الفور واپس لینے کامطالبہ کیاہے اورکہاہے کہ غریب ملازمین کے چولہے ٹھنڈے کرنے والوں سے غیر منصفانہ اقدام کا حساب کتاب لیاجائے گا وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں ایکسائز ایمپلائز یونین کے صدر اجمل خان اورمحمد اعجاز کی قیادت میں ملنے والے ایکسائز ملازمین کے وفد سے بات چیت کررہے تھے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پی ٹی آئی نے عوام سے روزگار،تعلیم اورمہنگائی کے خاتمے کے نام پر ووٹ لئے اورانتخابات میں نئے پاکستان کا دعویٰ کیاتھا تاہم کپتان کی ٹیم نے پرانے پاکستان کی بنیادیں بھی ہلاکررکھ دی ہیں اور غریب ملازمین کو بے روزگارکرکے ان کے بچوں سے منہ کا نوالا چھینا جارہاہے، انہوں نے کہاکہ بے روزگاری کے خاتمے کے دعویداروں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ روزگارکی فراہمی کی بجائے پہلے سے بھرتی افرادکو نکال کر اپنے لوگوں کی بھرتی کے لئے راہ ہموار کی جائے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختونوں نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ اپنے مسائل کے حل کے لئے دیاتھا لیکن صوبائی حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ سال میں عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا عمران خان اپنی شادی کے لئے نیا پاکستان بنارہے ہیں اورپرانے پاکستان کے باسیوں سے روزگار سمیت دیگر سہولیات چھین رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ کپتان پختون قوم کو پرانے پاکستان میں رہنے دیں اوراگر انہیں مزید روزگارکے مواقع مہیا نہیں کرسکتے تو کم ازکم ان سے موجودہ روزگار کے ذرائع نہ چھینے جائیں، سابق وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طورپر ایکسائز کے چارسو سے زائد ملازمین کی برطرفی کے فیصلے کو واپس لیا جائے بصورت دیگر اے این پی اسمبلی اور اسمبلی سے باہر اس کے خلاف شدید احتجاج کرے گی اورغریب ملازمین کو حالات کے رحم وکرم پر کسی بھی صورت نہیں چھوڑا جائے گا ۔انہوں نے وفد کو یقین دلایاکہ ان کے حقوق کے لئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی جائے گی اوران کو تنہانہیں چھوڑیں گے ۔

مورخہ : یکم نومبر2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ اپنے دور اقتدار میں صوبے میں صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ رہی ،مردان ،چارسدہ اورپشاور میں بچوں کے جدید ترین ہسپتال کا قیام اس سلسلے کی کڑی تھی ،سیاست سے بالاتر ہوکر عمران خان کو کینسر ہسپتال کے لئے مفت اراضی کے ساتھ ساتھ پانچ کروڑ کاعطیہ دیا ،دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہماری مذہبی اور ملی ذمہ داریاں ہیں وہ کٹہ خٹ مردان میں یو ایم ہیلتھ کئیر ٹرسٹ کے دورے کے موقع پر منعقد ہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اورپروفیسر فرمان الدین نے بھی خطاب کیا تقریب میں اے این پی کے ضلعی نائب صدر عباس ثانی ،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،شاہ رخ امان خان ،منیر خان ،سہیل باچا ،اقبال حسین بابو کے علاوہ علاقے کے عمائدین کی بڑی تعداد شریک ہوئی ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر ممتازخان نے ہسپتال کے قیام اورکارکردگی کے حوالے سے رپورٹ پیش کی اوربتایاکہ ہسپتال کے قیام سے اب تک اپنی مدد آپ کے تحت دولاکھ دوہزار سے زائد مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے ہسپتال کے مختلف حصوں کا معائنہ کیااور ہسپتال کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہاکہ دکھی انسانیت عین عبادت ہے اوربطور مسلمان ہم سب کا فرض ہے کہ ایسے اداروں اور افراد کی مدد کی جائے جو غریب شہریوں کو علاج ومعالجے کی سہولیات بہم پہنچارہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی کی منزل اقتدار اوراسمبلیوں کی سیٹوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا مقصود ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ان کی حکومت نے صحت کے شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی مردان میں باچاخان میڈیکل کالج کے قیام سے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا مسئلہ حل کردیاگیاتو ایم ایم سی ہسپتال کو ٹیچنگ کا درجہ دے کر وہاں بنیادی سہولیات فراہم کیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مردان میں صحت کی سہولیات کی خاطر ڈی ایچ کیو کو نئے سرے سے بنانے کی منطوری د ی گئی شہر میں 1122کی سروس کا آغازکردیاگیاانہوں نے کہاکہ مردان ،چارسدہ اور پشاور میں بچوں کے علاج ومعالجے کے جدید ترین ہسپتالوں کی منظوری دے دی گئی اوران منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ مزید شہروں میں ان جیسے ہسپتالوں کے قیام کی منظوری دے گی اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ باچاخان نے پختون قوم کو ہمیشہ تعلیم کے حصول پر زوردیا جس کا مقصد یہ تھاکہ پختون کے حالات دیگر اقوام سے پیچھے نہ رہیں انہوں نے کہاکہ یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کی شکارہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ باچاخان نے اس دھرتی اورپختون قوم کو مسائل سے نکالنے کے لئے جس تحریک کا آغازکیااے این پی اسی منزل کی حصول کے لئے کوشاں ہے۔

کراچی۔01 نومبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے اے این پی ضلع کورنگی کے سیکریٹری اطلاعات حاجی سلیم کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حاجی سلیم کے غم میں برابر کے شریک ہیں ،مرحومہ کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہیں،دریں اثناء عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری اور ضلع کورنگی کے صدر نوشیر خان نے حاجی سلیم کی والدہ و صادق خٹک شہید وارڈ کے صدر شمشیر بونیری کی چچی کے انتقال پر ان کے گھر جاکر تعزیت کی اور مرحومہ کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

مورخہ : یکم نومبر 2014 بروز ہفتہ

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن حکومتوں نے کبھی بھی ملکی سطح پر تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں متناسب کمی کا فیصلہ نہیں کیا ۔ اگر چہ موجودہ حکومت کا فیصلہ قابل ستائش ہے لیکن تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں وہی متناسب کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی جو بین الاقوامی سطح پر کی گئی کمی کے متناسب ہو۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ قیمتوں کو مزید کم کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بیس فیصد کم ہوئی جبکہ عوام کو صرف دس فیصد ریلیف دیا گیا ہے جو مناسب نہیں ہے۔ اُنہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ پر بھی کڑی نظر رکھی جائے اور کرایوں میں بھی متناسب کمی کی جائے تاکہ اس کا فائدہ اور ثمر غریب عوام کو مل سکے ۔کیونکہ جس طرح عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کی وجہ سے چیزوں کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو یہ بات بھی ضروری ہے کہ عالمی منڈی میں پیٹرول کے سستا ہونے کے بعد اسی تناسب سے چیزیں بھی سستی ہو جائیں۔ اُ نہوں نے کہا کہ غور طلب بات ہے اور اس پر حکومت خصوصی دیہان اور توجہ فرمائیں اور تمام روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کو فوری سستا کریں۔
اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے اوور بلنگ کے حوالے سے کہا کہ ایک طرف لوڈ شیڈنگ نے اور دوسری طرف اوور بلنگ نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری واپڈا پر عائد ہو تی ہے اُنہوں نے کہا کہ جو ذمہ دار اہلکار اس میں ملوث ہیں اُن کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی عوام کیساتھ ایسا مذاق نہ کر سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ اربوں روپوں کی اوور بلنگ عوام کیساتھ نا انصافی ہے۔واپڈا عوام پر ترس کھائے اور اُن کو خصوصی ریلیف فراہم کرے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ
مرکزی حکومت اوور بلنگ کے مسئلے پر خصوصی توجہ دیں اور اس کو جلد از جلد حل کرے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']