Oct-2014

 

مورخہ : 31 اکتوبر 2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاکہ عمران خان کی تبدیلی والی گاڑی میں ریورس گیئر کے علاوہ دوسرا کوئی گیئر نہیں ،حلفاً کہتاہوں کہ اپنے دور حکومت میں مردان کے حق کے لئے کسی ضلع کی حق تلفی نہیں کی ،دوبارہ وزیراعلیٰ بنا تو مردان میں ویمن یونیورسٹی قائم کروں گا،ماں دھرتی کی خدمت اورپختون قوم کو یکجا کرنا میری زندگی کا مشن ہے ،وہ جمعہ کی شام یونین کونسل ساول ڈھیرمردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر حاجی باورخان خٹک،حاجی سبزعلی خان خٹک ،محمد سلیمان خٹک ،گوہر رشیدخٹک اورحکم خان نے اپنی اپنی پارٹیوں سے مستعفی ہوکراپنے خاندانوں اورسینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا اجتماع سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار،لطیف الرحمان ،حاجی سبزعلی خان خٹک ،جلیل خٹک ،اکمل لیونے اورشوکت حمید خٹک نے بھی خطاب کیا اے این پی کے صوبائی صدر نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باددی اپنے خطاب میں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں صوبائی حکومت نے صوبے میں کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا ہمارے دور میں تعلیمی ادارے ،سڑکیں ،ہسپتال اورمساجد بن رہے ہیں ،صوبے کو نام کی شناخت دی این ایف سی ایوارڈ کی شکل میں 110ارب روپے مرکزی حکومت سے حاصل کرکے بڑی مشکل سے تمام اختیارات اسلام آباد سے خیبرپختون خوا منتقل کئے اپنے دورمیں مردان کو صوبے کے دوسرے بڑے شہر ہونے کی حیثیت سے اس کا حق دیاہے آئندہ موقع ملا تو ویمن یونیورسٹی کا عوامی مطالبہ پورا کروں گا اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ پختونوں نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا لیکن پی ٹی آئی والوں نے یہاں سے اختیارات بنی گالہ منتقل کئے اوراب پختون قوم کے قسمت کے فیصلے اٹک پار شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کررہے ہیں تبدیلی اور سستے انصاف کی دعویدار اپنوں وعدوں سے مکر گئے ہیں اورپختون قوم وعدہ شکنوں سے بدلہ لے کر دم لے گی انہوں نے کہاکہ عمران خان کو پختون مینڈیٹ کی کوئی پرواہ نہیں وہ وزیراعظم بننے کے کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں اوران کی نظریں پنجاب پر ہے جہاں سے اکثریت حاصل کرنے کے چکر میں ہیں انہوں نے مرکزی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اورکہاکہ میاں نوازشریف کو یہاں سے مینڈیٹ نہ ملا تو اس نے بھی اس کی سزا پختونوں کو دے دی اور یہاں کے عوام کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی سے بھی منہ موڑ لیاہے انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف کے نقشے میں پنجاب ہی پوراپاکستان ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اوراسے اپنی فرض منصبی سمجھتی ہے انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان کے نام پرووٹ لینے والے اسلام آباد میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں اورپختون روایات کا جنازہ نکال دیاہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم نے پی ٹی آئی کو ووٹ ناچ گانوں اوردھرنوں کے لئے نہیں دیے تھے بلکہ نئے پاکستان ،سستے انصاف ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ان پر اعتماد کیاگیاتھا انہوں نے کہاکہ پختون قوم اپنے فیصلے پر نادم ہیں اوروہ بنی گالہ سے واپس اختیارات اپنے صوبے لا کر دم لیں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اس وقت پختون گوں ناگوں مسائل سے دوچارہیں اورانہیں اپنی حالت زار بدلنے کے لئے اتحاد واتفاق کامظاہر ہ کرناہوگاا ورانہیں چترال سے ڈیرہ تک سرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہوکر مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں ہر طرف ترقی اورخوشحالی کے منصوبے جاری تھے ہستپال ،تعلیمی ادارے ،سڑکیں ،پارک ،مساجدا ورجنازگاہیں بن رہی تھیں موجودہ حکومت نے اپنے قیام سے اب تک کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیاانہوں نے کہاکہ انتخابات میں عمران خان پورے پاکستان میں پھرتے رہے لیکن ان پر دوسرے صوبوں کی قومیتوں نے اعتماد نہیں کیا اورپختون قوم ان کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں میں آگئے تاہم انہوں نے کہاکہ پختون قوم عہد شکنوں سے بدلہ لینا جانتے ہیں انہوں نے آنے والا دور اے این پی اورسرخ جھنڈے کا ہے کیونکہ ہمارا مقصد اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے انہوں نے کہاکہ مردان کی ترقی کے لئے انہوں نے کسی بھی ضلع کی حق تلفی نہیں کی لوگوں نے دوبارہ خدمت کا موقع دیاتو مردان میں ویمن یونیوسٹی قائم کروں گا انہوں نے مزید کہاکہ اے این پی کے دور میں ہرطرف ترقی کاد ور دورہ تھا انہوں نے کہاکہ ان کے دور میں کالاڈھاکہ کانام تورغر رکھ کر اسے ضلع کا درجہ دیاگیا اورا س پسماندہ علاقے کے لئے ساڑھے چار ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی موجودہ صوبائی حکومت کے جھوٹے دعوؤں کے علاوہ کوئی کارکردگی نہیں ہے قبل ازیں امیرحیدرخان ہوتی نے شامل ہونے والے افراد کے گھروں پر پارٹی جھنڈا بھی لہرایا پارٹی کارکنوں اور این وائی یو کے نوجوانوں نے پرجوش نعروں میں اپنے صوبائی لیڈر کا استقبال کیا ۔

پریس ریلیزمورخہ31.10.2014بروز جمعہ
عوامی نیشنل پارٹی سٹی ٹانک کی ایک شمولیتی تقریب اے این پی کے ضلعی دفترمیں زیر صدارت ضلعی صدرفضل کریم تتور منعقد ہوئی ۔ تقریب میں پیپلز پارٹی سے مستعفی ہونے والے غلام عباس، عبدالصمد اور امام بخش بلوچ عرف گلا نے اپنے خاندانوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر فضل کریم تتور نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مبارکباد دی ، انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے بالکل صحیح وقت میں صحیح فیصلہ کیا ہے اور انشاء اللہ عوامی نیشنل پارٹی آپ لوگوں کی امنگوں پر پورا اترے گی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخواکے عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے عمران خان کے دھرنوں کی وجہ سے وزیراعلی صوبے کو بالکل بھول چکے ہیں،صوبائی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے صوبے کا ترقیاتی بجٹ واپس ہوگیا ہے جوکہ 83ارب روپے کی خطیر رقم پر مشتمل تھاجس کی وجہ سے غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی نے یہاں کے عوام کی کمر توڑکر رکھ دی ہے ، صوبے میں آئی ڈی پیز بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں کوئی ان کوپوچھنے والا نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کو دھرنوں سے فرصت ملے تو وہ صوبے میں غربت ،مہنگائی اور بے روزگاری پر خصوصی توجہ دے ۔ اس موقع پر سٹی صدر شفیع اللہ ، ضلعی نائب صدر عجب خان ، ضلعی کونسلر شیخ قیوم اور عظمت خان نے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ : 31.10.2014 بروز جمعہ

پشاور( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن صوبائی جنرل سیکرٹری یاسر یوسفزئی نے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے صوبہ بھر میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے خلاف سازشیں شروع ہیں اور طلباء کوبے جا تنگ کیا جا رہا ہے اپنے ایک تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزامات لگا کر طلباء پر بار بار 3ایم پی او کی دفعات لگانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں۔جبکہ گزشتہ روز بنوں میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی رہنماء وسیم باغی کے خلاف 3ایم پی او کی دفعہ لگانے کی سازش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ پختون ایس ایف میں ٹاپرز موجود ہیں پھر بھی اُنکے خلاف ایسے اقدامات سمجھ سے بالاتر ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کے اعلیٰ آفسران بنوں واقعے میں ملوث مذکورہ SHOکو5نومبر تک معطل کرکے انکوائری کرائیں ورنہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پورے صوبے میں تحریک چلائیگی۔

 مورخہ 31.10.2014بروز جمعہ
صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کو دیوار سے لگانے کی روش ترک کر دے ، سردار بابک
بہبود آبادی کے 480موبلائزرز کو ملازمتوں سے فارغ کر کے عدالتی احکامات کی توہین کی جا رہی ہے۔وفود سے بات چیت

پشاور ( پ ر )صوبائی حکومت عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے پر تلی ہوئی ہے محکمہ بہبود آبادی کے 480موبلائزرز کو ملازمتوں سے فارغ کرنا مزدور کش پالیسی کا حصہ ہے ان خیالات کا اظہا ر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے 480موبلائزرز کو صرف ایک نوٹی فکیشن پر ملازمتوں سے فارغ کرنے پر انتہائی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے انصاف کو پس پشت ڈال دیا ہے اور مزدور کش پالیسی پر تسلسل سے کاربند ہے ،
انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ پشاور ہائیکورٹ ان غریب ملازمین کی بحالی سے متعلق فیصلہ دے چکی ہے تاہم اس کے باوجود صوبائی حکومت نے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیر تے ہوئے ان ملازمین کی برطرفی کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ،
انہوں نے کہا کہ ایک طرف عمران خان اپنے جلسوں میں نوجوانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ حکومت میں آنے کے بعد تمام بے روزگاروں کو روزگار دیا جائے گا جبکہ صوبے میں ان کی اپنی حکومت نے18ماہ میں ہر محکمے سے سرکاری ملازمین کو نہ صرف دیوار سے لگایا ہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر ملازمین کو گھر بھیجا رہا ہے ،
انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ملازم کش پالیسی پر نظر ثانی کرے اور عوام کو روزگار دینے کی بجائے ان سے روٹی کا نوالہ چھیننے کی روش ترک کر دے۔

مورخہ 30.10.2014بروز جمعرات
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کی خاتون نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر ستارہ عمران نے صوابی میں گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے والے ایڈیشنل کمشنر خالقداد پر پی ٹی آئی کے غنڈوں کی طرف سے حملے کی پرزور مذمت کی ہے اور صوبائی حکومت سے ان ملزموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں ستارہ عمران نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے گلو بٹ عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں کو روکنے کیلئے میدان میں آ چکے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ، انہوں نے کہا ایڈیشنل کمشنر پر سرکاری ڈیوٹی کے دوران پی ٹی آئی کے گلو بٹ قیصر نے اپنے بھائی عدنان اور دیگر غنڈوں کی مدد سے حملہ کرایا اور ان کے دفتر میں جا کر ان سے بدتمیزی بھی کی جس کی ہم پرزور مذمت کر تے ہیں اور ان کے کالے کرتوتوں کے خلاف صوابی میں قلم چھوڑ ہڑتال کرتے ہیں، انہوں نے کہا دھرنوں میں مصروف حکومت نے عوام کو غنڈوں اور دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے جس سے صوبے کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں ، انہوں نے حکومت سے ان غنڈوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کے ساتھ ساتھ سرکاری ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کا تحفط بھی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
قوم مینڈیٹ کی توہین پرپی ٹی آئی کو کبھی معاف نہیں کرے گی، سردار حسین بابک
چوری، ڈکیتی ، ٹارگٹ کلنگ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں ، اجلاس سے خطاب
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے ترجمان اور صوبائی اسمبلی میں اے این پی کی پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو قوم کو موجودہ بحرانوں سے چھٹکارا دلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔صوبائی حکومت امن کی بحالی ، لوگوں کو روزگار دینے ، تعلیمی اصلاحات لانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچاگڑھی چارسدہ پی کے 21 میں تین نومبر کو ہونے والی ضلعی ورکرز کنونشن کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے کیا جس کی صدارت سید باقر شاہ کر رہے تھے۔اس موقع پر اے این پی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ارباب محمد طاہر خان خلیل ، مختیار خان یوسف زئی اور سابقہ وزیر اعلیٰ کے مشیر سید معصوم شاہ بھی موجود تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دورحکومت میں جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ گزشتہ 65 سال میں کسی حکومت نے بھی نہیں کیے اور نہ ہی کوئی مائی کا لعل آئندہ مزید 65 سالوں تک انجام دے سکے گا۔ ہم نے اپنے دورحکومت میں صوبے میں آٹھ نئی یونیورسٹیاں تعمیر کیں ، 47 نئے ڈگری کالجز بنائے ، پختونوں کو اپنے نام کی شناخت خیبر پختونخوا دیا، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے تمام حقوق مرکز سے منتقل کیے۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ اللہ کے فضل سے ہم نے پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت میں ایک ایک کر کے سارے پورے کر دکھائے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مفلوج ہے اور عوام کیلئے کچھ نہیں کر سکتی۔ عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری ، امن و امان کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا۔ قوم اور تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں ہر گھر سے رونے کی آواز آرہی ہے ہر گھر میں ماتم ہے چوری، ڈکیتی ، ٹارگٹ کلنگ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں اور وزیر اعلیٰ اور اُن کی کابینہ کے دیگر وزراء اسلام آباد میں ٹیلیویژن کی سکرین پر ناچتے اور گنگناتے نظر آتے ہیں جو کہ صوبے کی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا وہ لوگوں کی آنکھوں میں محض دھول جھونکنا تھا۔ عوام اب بیدار ہو چکی ہے اور اُن کے خالی ہولی نعروں پر یقین نہیں کرینگے۔

مورخہ 30 اکتوبر 2014ء بروز جمعرات

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی نے مختلف وارڈوں کے دوروں کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف اسلام آباد میں وزیر اعظم سے استعفے لینے گئی تھی لیکن ناکامی کے بعد اپنے اراکین سے استعفے طلب کئے گئے‘ پاکستانی قوم یہ سوچ رہی ہے کہ 70 دنوں تک دھرنوں کا ڈرامہ رچایا گیا اس ڈرامے کے اہم رول پلے کرنیوالے ڈاکٹر طاہر القادری قوم کو کچھ بتائے بغیر دھرنا ختم کر کے کینیڈا واپس روانہ ہو گئے اور حکومت نے بھی قادری کو باہر جانے کی اجازت دیدی‘ طاہر القادری کے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے مزید دھرنوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی ‘ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر سیاست نہیں کی جا سکتی‘ اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کی معاشی حالت کو اربوں روپوں کا نقصان اٹھانا پڑا اس کا ازالہ کون کریگا‘ حکومت‘ قادری یا تحریک انصاف؟ قوم کو کس چیز کی سزا دی گئی؟ تحریک انصاف کو اپنی ہٹ دھرمی ختم کر کے باقی ماندہ دھرنے کو ختم کرنا چاہئے اور قوم کی حالت پر رحم کرتے ہوئے اس غیر یقینی سیاسی صورتحال کا ازالہ کرنا چاہئے‘ اس ناکام دھرنوں سے نہ حکومت تبدیل ہو گی اور نہ ہی وزیر اعظم کو ہٹایا جا سکے گا لہٰذا تحریک انصاف کو ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق سیاست کرنی چاہئے‘ آنے والے انتخابات کا انتظار کرنا چاہئے‘ تحریک کو چاہئے کہ وہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کروانے کا فوری طور اعلان کرے اور قوم سے کئے ہوئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے‘ انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں آپریشن ضرب عضب کے آئی ڈی پیز کی طرف توجہ دیں اور ان کے مسائل حل ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی بھرپور کوشش کرے‘ انہوں نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے درخواست کی کہ وہ دھرنوں کی کوریج کے بجائے آپریشن ضرب عضب کے 11 لاکھ متاثرین کی مشکلات کے حل پر بھرپور توجہ دیں۔

مورخہ 29.10.2014بروز بدھ
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان , صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پشاور میں اے این پی کے رہنما ملک جہانزیب خان کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکر ٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک جہانزیب کا قتل صوبائی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے ، پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی غفلت کے باعث حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بے حسی کی انتہا کر دی ہے جس کی وجہ سے ٹارگٹ کلرز منظم ہو رہے ہیں اور انہوں نے اپنی کاروائیاں بھی تیز کر دی ہیں ، انہوں نے کہا کہ عام آدمی کا جینا محال ہو چکا ہے اور لوگوں نے گھرون سے نکلنا چھوڑ دیا ہے انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ صوبے میں جنگل کا قانون ہے اور حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں ، انہوں نے شہید ہونے والے ملک جہانزیب کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں، پارٹی رہنماؤں نے شہید کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔

مورخہ 27.10.2014بروز پیر

اے این پی کی پختون رہنماؤں کو وزیرستان کا مسئلہ مل بیٹھ کر حل کرنے کی دعوت
وزیرستان کے حالات پر دل خون کے آنسو روتا ہے مرکز اور صوبائی حکومتوں نے گھر بار چھوڑنے والوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔
آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، مولانافضل الرحمان ، سراج الحق اور محمود خان اچکزئی کیساتھ وزیرستان کے مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھ کر بات چیت کیلئے تیار ہیں۔
پختون خندہ پیشانی سے تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ اسفند یار ولی خان کا پشاور میں وزیرستان کے قبائلی جرگے سے خطاب۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے شمالی وزیرستان کے پختونوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پختون رہنماؤں کو مل بیٹھنے کی دعوت دے دی ہے ، اور پارٹی کے سینئر رہنما الحاج غلام احمد بلور کو مولانا فضل الرحمان ، آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، سراج الحق اور محمود خان اچکزئی سے اس سلسلے میں رابطہ کرنے کیلئے ٹاسک دے دیا گیا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام شمالی وزیرستان کے قبائلی مشران کے ایک جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، حاجی غلام احمد بلور ، بشیر احمد مٹہ ، سردار حسین بابک ، ارباب محمد طاہر خان ، ایمل ولی خان سمیت پارٹی کے سینیٹرز اور ارکان اسمبلیو سابق ایم پی ایز اور وزراء جبکہ کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین بھی اس موقع پر موجود تھے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وزیرستان کے حالات پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وزیرستان اور آئی ڈی پیز کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے جبکہ اسلام آباد میں کرسی کی جنگ جاری ہے۔ حکومت کی طرف سے آئی ڈی پیز کو فراموش کیے جانے کے بعد مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو چکا ہے۔ جس کے نتائج 1971 والے بنگلہ دیش جیسے نظر آ رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکز اور صوبائی حکومتوں نے گھر بار چھوڑنے والوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز پرانے پاکستان یعنی اے این پی کے دور میں بھی آئے تھے اور ان کی واپسی اور بحالی ایک ریکارڈ ہے اُنہوں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے اقدامات کی تقلید کی جائے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان میں آپریشن کے بعد جو علاقے کلئیر کر دیئے گئے ہیں اُن علاقوں کے متاثرین کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے۔تعلیم کے حوالے سے اُنہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ فاٹا میں آج تک ایک یونیورسٹی بھی قائم نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے نوجوان نسل کا روشن مستقبل تاریک ہوتا نظرآرہا ہے۔ اسفند یار ولی خان نے کہا کہ صوبے کی تمام سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آئی ڈی پیز کیلئے خصوصی سیٹیں مختص کی جائیں۔جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے آئی ڈی پیز کے بچوں کو باچا خان سکولوں میں ایڈجسٹ کیا جائیگا۔ متاثرین کے زیر استعمال نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیاں غریب متاثرین کے پاس ہیں اور اگر اُنہیں یہ گاڑیاں رکھنے کی اجازت نہ دی گئی تو اُن کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ اُنہوں نے متاثرین اور پختون قوم کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملک بھر میں صرف پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود پختون خندہ پیشانی سے تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے جرگے کی وساطت سے آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، مولانافضل الرحمان ، سراج الحق اور محمود خان اچکزئی کو دعوت دی کہ ہمارے ساتھ فاٹا کے مسئلے کا حل تلاش کریں اور ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مل بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کریں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے افغانستان کے بارے میں کئی سال پہلے پیشن گوئی کر دی تھی جو آج صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ قبائلی عمائدین بھی آپس کے اختلافات بھلا کر متحد ہو نگے اور وزیرستان کے مسئلے کے حل کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کرینگے۔
مورخہ26اکتوبر2014بروز اتوار
پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلی خیبر پختو نخوا اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہا ہے کہ عمران خان نے پختونوں کو دھوکہ دیاہے اور وہ وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب میں اقتدار کی جنگ لڑرہے ہیں ،نوازشریف کے نقشے میں پنجاب ہی پاکستان ہے پختون قوم کو اپنی بقا اورترقی کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکھٹاہوناہوگا ، تحریک انصاف بند گلی میں داخل ہوچکی ہے ،کارکن قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے لئے تیاررہیں وہ اتوار کی شام مردان کے نوے کلے رستم میں حلقہ پی کے 29کے ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے تھے جس سے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اور صوبائی رہنما شاہ رخ امان نے بھی خطاب کیا اراکین صوبائی اسمبلی احمدبہادر خان ،گوہر باچاکے علاوہ ضلعی نائب صد رعباس ثانی ، جاوید یوسفزئی اورروزمحمد خان بھی موجود تھے جبکہ کنونشن میں ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کامیاب کنونشن پر پارٹی رہنما شاہ رخ امان خان اوران کے ساتھیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ سدھم خدائی خدمت گار تحریک کا گڑھ ہے اورآج کے جلسے نے ثابت کردیاہے کہ پختون قوم جاگ اٹھی ہے اوروہ عمران خان سے وعدہ خلافیوں کا بدلہ لے کر دم لے گی، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان کو پختون مینڈیٹ کی کوئی پرواہ نہیں ان کی نظریں پنجاب پر ہیں جہاں سے اکثریت حاصل کرکے وہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ پختونوں نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا لیکن پی ٹی آئی والوں نے یہاں سے اختیارات بنی گالہ منتقل کئے اوراب پختون قوم کے فیصلے اٹک پار شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں صوبائی حکومت نے صوبے میں کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیاہے تبدیلی اور سستے انصاف کی دعویدار اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں اورپختون قوم وعدہ شکنوں سے بدلہ لے کر دم لے گی، انہوں نے مرکزی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اورکہاکہ میاں نوازشریف کو یہاں سے مینڈیٹ نہ ملا تو انہوں نے بھی اس کی سزا پختونوں کو دی اور یہاں کے عوام کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی سے بھی منہ موڑ لیا، انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف کے نقشے میں پنجاب ہی پوراپاکستان ہے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اوراسے اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان کے نام پرووٹ لینے والے اسلام آباد میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں اورپختون روایات کا جنازہ نکال دیاہے
انہوں نے کہاکہ پختون قوم نے پی ٹی آئی کو ووٹ ناچ گانوں اوردھرنوں کے لئے نہیں دیے تھے بلکہ نئے پاکستان ،سستے انصاف ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ان پر اعتماد کیاگیاتھا انہوں نے کہاکہ پختون قوم اپنے فیصلے پر نادم ہے اوروہ بنی گالہ سے واپس اختیارات اپنے صوبے لا کر دم لیں گے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اس وقت پختون گوناگو مسائل سے دوچارہیں اورانہیں اپنی حالت زار بدلنے کے لئے اتحاد واتفاق کامظاہر ہ کرناہوگاا ورانہیں چترال سے ڈیرہ تک سرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہوکر مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا، انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں ہر طرف ترقی اورخوشحالی کے منصوبے جاری تھے ہستپال ،تعلیمی ادارے ،سڑکیں ،پارک ،مساجدا ورجنازگاہیں بن رہی تھیں موجودہ حکومت نے اپنے قیام سے اب تک کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا البتہ ہمارے دور حکومت کے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے اوران کے فنڈز کو اپنے حلقوں میں منتقل کیاجارہاہے، انہوں نے کہاکہ انتخابات میں عمران خان پورے پاکستان میں پھرتے رہے لیکن ان پر دوسرے صوبوں کی قومیتوں نے اعتماد نہیں کیا اورپختون قوم ان کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں میں آگئی تاہم پختون عہد شکنوں سے بدلہ لینا جانتے ہیں انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی اورسرخ جھنڈے کا ہے کیونکہ ہمارا مقصد اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں پر زوردیا کہ تحریک انصاف کے پاس استغفوں کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا کارکن قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے لئے تیاریاں شروع کریں، انہوں نے کہاکہ کارکن گلی کوچوں اورشہروں میں پھیل جائیں اور لوگوں کو باچاخان اورخان عبدالولی خان کے افکار سے باخبرکرکے انہیں سرخ جھنڈے تلے اکھٹا کریں

مورخہ 26.10.2014 بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے سابق دور حکومت میں عوام سے کئے گئے تمام وعدے پورے کر دکھائے ہیں اور پختون قوم نے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اپنے بیشتر مفادات کا تحفظ کر کے انہیں حاصل بھی کر لیا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے این پی ضلع پشاور کی تمام یونین کونسلوں کے صدور و جنرل سیکرٹریز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو باچا خان مرکز پشاور میں 21نومبر کو ہونے والے ورکرز کنونشن کی تیاریوں کے حوالے سے ضلعی صدر ملک نسیم کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔اے این پی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ارباب محمد طاہر خان خلیل بھی اس موقع پر موجود تھے، میاں ا فتخار حسین نے مزید کہا کہ خدائی خدمت گار اس جماعت کا ماضی و حال سب کے سامنے ہے جس نے صوبے اور عوام کی خدمت کی ایسی مثال قائم کی ہے جس سے مخالفین بوکھلا گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی فخر افغان باچا خان ؒ کی خدائی خدمتگار تحریک کی تسلسل جماعت ہے اور اس جماعت نے ہمیشہ عوامی مفادات کو مقدم رکھا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اکابرین کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے قائد اسفندیار ولی خان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے ۔انہوں نے تمام صدور و جنرل سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ ضلع سے لے کر یو سی کی سطح تک نامکمل تنظیمیں فی الفور مکمل کی جائیں اور 21نومبر کو منعقد ہونے والے ورکر کنونشن کی تیاریوں پر بھرپور توجہ دی جائے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورکرز کنونشن سے پارٹی صوبہ بھر میں مزید مضبوط اور فعال ہو گی۔ اس موقع پر اے این پی پشاور زون کی جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک اور ضلعی صدر ملک نسیم نے بھی خطاب کیا ۔

مورخہ : 23 اکتوبر 2014ء

پشاور(پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاکہ پختونوں کے حقو ق تسلیم کئے بغیر پنجاب اورسندھ کی بالادستی ماننے کو تیارنہیں ،پختونوں کی قسمت کے فیصلے بنی گالہ میں ہونے لگے ہیں ،عمران خان کا دھرنا پختون اور پختون خوا کے لئے نہیں بلکہ وزیراعظم بننے کے لئے ہے ،عام انتخابات میں پورے ملک کے الیکشن کمشنرفخرالدین جی ابراہیم تھے جبکہ ہمارے الیکشن کمشنر بیت اللہ محسود اورسیاسی قسمت کے فیصلے دہشت گردوں کے اجلاسوں میں ہورہے تھے،اے این پی کے کارکن ضمنی انتخابات کے لئے بے تاب ہیں ، اس دفعہ بکسے رکھے گئے تو تبدیلی والوں کو سرخ سونامی کا پتہ چل جائے گا وہ جمعرات کی شام حلقہ مردان شہر میں پی کے 23میں کارکنوں کے کنونشن پر مبنی ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس کی صدارت ضلعی صدر حمایت اللہ مایار نے کی کنونشن سے حلقے کے رکن اسمبلی احمدبہادرخان ،لطیف الرحمان ،ارشدخان اور حمایت اللہ مایار نے بھی خطاب کیا تقریب میں خواتین کارکنوں کی بڑی تعدادبھی شریک ہوئی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) اورپی ٹی آئی کے درمیان پنجاب کے اقتدار کی جنگ جاری ہے جس میں پختون خوار ہورہے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان کو مینڈیٹ نئے پاکستان اورنئے پختون خوا کے نام پر دیاگیا لیکن انہوں نے پختونوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیاہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ عمران خان سیاست کے کھلاڑی نہیں وہ فلاحی کام کریں تو عوام سپورٹ کریں گے انہوں نے کہاکہ عمران خان کی فلاحی خدمات کو مدنظر رکھ کربطور وزیراعلیٰ پشاورمیں کینسر ہسپتال کے لئے 80کروڑ کی اراضی مفت فراہم کردی تاکہ یہاں کے پختونوں کا مفت علاج ومعالجہ کیاجاسکے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مینڈیٹ کے نام پر پختونوں کے ساتھ دھوکہ کیاگیا تحریک انصاف تبدیلی ،سستے انصاف ،مہنگائی کے خاتمے اور تعلیم عام کرنے کے وعدوں میں مکمل طورناکام ہوچکی ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان چند حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگارہے ہیں ہمارے ساتھ تو کھلی دھاندلی کی گئی ہے دیگر امیدوار جلسے کررہے تھے اورہم اپنے شہیدوں کے جنازے اٹھاتے رہے پاکستان کا الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم تھے جبکہ ہمارے الیکشن کمشنر بیت اللہ محسود تھے انہوں نے کہاکہ امیدوارں کو نتائج ریٹرنگ آفسیران دے رہے تھے اورہمارے نتائج کا فیصلہ دہشت گردوں کے اجلاسوں میں ہوتے رہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان اپنے استعفٰوں سے منکر ہورہے ہیں ہمارے کارکن ضمن انتخابات کے لئے بے تاب ہیں اس دفعہ بکسے رکھے گئے تو تبدیلی والوں کو سرخ سونامی کاپتہ چل جائے گا اے این پی کے صوبائی صدر کاکہناتھاکہ ہم نے اپنے دور مرکز ی حکومت سے 110ارب روپے حاصل کئے جبکہ موجودہ حکومت چھ ارب نہیں لے سکتے ،پرویزخٹک بے اختیار وزیراعلیٰ ہیں ،پختونوں کی قسمت ک فیصلے جہانگیرترین اور شاہ محمود قریشی کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی میدان میں اتری ہے اور چترال سے ڈیر ہ تک پختون کو ایک کرکے بنی گالہ سے واپس اختیارات پختون خوا منتقل کرکے دم لیں گے انہوں نے کہاکہ عمران خان کا دھرنا پختون اورپختون خوا کے حقو ق کے لئے نہیں بلکہ وزیراعظم بننے کے لئے تحت پنجاب پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجودہ حکومت نے صوبے میں اب تک ایک پرائمری سکول تک تعمیر نہیں کیا جبکہ ان کے دور حکومت میں 9نئی یونیورسٹیاں بنائی گئی ہسپتال ،مساجد ،جنازگاہیں اورشاہراہیں بن گئیں موجودہ حکومت نے اقتدا رمیں آکر ہمارے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگائے گئے انہوں نے مزید کہاکہ میاں نوازشریف کو مینڈیٹ نہ ملاتوانہوں نے بھی اس صوبے اوریہاں کی اپنی پارٹی سے منہ موڑ لیاہے اورصوبے کے عوام انتہائی مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ مرکزی اورصوبائی حکومت سے وزیرستان کے چند لاکھ متاثرین سنبھالے نہیں جاتے جبکہ ہمارے دورمیں ملاکنڈ کے 25لاکھ متاثرین کو تین ماہ کے اندر اندر باعزت واپسی کو ممکن بنایا اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ مسائل کے حال صرف پختونوں کے باہمی اتحاد واتفاق میں ہے اورانہیں مشکلات سے نکلنے کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکٹھاہوناہوگا۔

مورخہ :23 اکتوبر 2014 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کوئٹہ میں جمیعت علمائے اسلام کے جلسے میں مولانا فضل الرحمان پر خودکش بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔
باچا خان مرکز پشاور سے اُنہوں نے اپنے جاریکردہ بیان میں کہا ہے ایسی کارروائیوں کے ذریعے قوم کے حوصلے پست نہیں ہونگے اور نہ ہی قیام امن کیلئے جدوجہد متزلزل ہو گا۔
اے این پی کے قائد نے جے یو آئی کے رہنما سے اُن کی خیریت دریافت کرنے کیلئے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ وہ معجزانہ طور پر اس واقعے میں بال بال بچ گئے۔ اُنہوں مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا

مورخہ :23 اکتوبر 2014 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کوئٹہ میں جمعیت علمائے اسلام کے جلسے میں خودکش بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے ۔
باچا خان مرکز پشاور سے اُنہوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ خدا کا شکر ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس حملے میں محفوظ رہے۔ اُنہوں نے اُن کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس پر حملے کو بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا امن سبوتاژ کرنے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے اور ایسی مذموم کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہو سکتے۔ اُنہوں نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ حکومت کو آئین نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کی جو ذمہ داری دی ہے وہ پورا کریں۔

مورخہ : 23.10.2014 بروز جمعرات

( پریس ریلیز )

پشاور : (پ ر) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ خیبر ایجنسی کے آئی ڈی پیز کیلئے حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائیں۔ اُنہوں نے خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں آپریشن کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوجی اداروں اور مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ بنتی ہے کہ ایسی صورتحال میں لوگوں کی باسہولت انخلاء اور ان کیلئے رہائش اور دیگر ضرورتوں کی فراہمی کیلئے پہلے ہی سے منصوبہ بندی اور انتظامات کرنے چاہئیں تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے لوگوں میں عورتیں ، بچے ، بزرگ اور بیمار لوگ ہوتے ہیں اور اسی طریقے سے اُنہیں بغیر ٹرانسپورٹ کی فراہمی اور باسہولت انخلاء کو چھوڑناایک مجرمانہ فعل ہے جو عوام کو ریاست سے مایوسی اور نفرت کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت فوری طور پر پھنسے ہوئے لوگوں کی باحفاظت انخلاء کا بندوبست کرے اور قریبی علاقوں میں اُنہیں رہائش کے قابل کیمپس اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

مورخہ : 23.10.2014 بروز بدھ

مرکز کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی صوبے کے مفاد میں نہیں 249 میاں افتخار حسین
حکومت صوبے کے مسائل سے بے خبر ہے249تاجروں اور چھوٹے سرمایہ کاروں پر صوبے کی حکومت نے گھیرا تنگ کر دیا ہے
اے این پی نے حکومت میں اور اقتدار کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا 249 سردار بابک249 شمولیتی تقریب سے خطاب
پشاور( پ ر) صوبائی حکومت صوبے کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ یہ بات اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان نے بڈھ بیر میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر علاقے کے ممتاز سماجی و سیاسی خاندان کے عیسیٰ خان ، حاجی زین خان کی سربراہی میں (جے یو آئی) سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے کی حکومت صوبے کے مسائل سے بے خبر ہے اور ایک غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے صوبے کے مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار یہاں آنے سے کتراتے ہیں۔ صوبے کے تاجروں اور چھوٹے سرمایہ کاروں پر صوبے کی حکومت نے گھیرا تنگ کر دیا ہے اور دوسری طرف صوبائی حکومت نے مرکزی حکومت کیساتھ ٹکراؤ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جو کہ صوبے کیلئے نقصان دہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو پہلے ہی سے دہشتگردی کی وجہ سے تباہ حال صوبے پر رحم کرنا چاہیے اور عوام کے مسائل میں کمی لانی چاہیے۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ ہم نے اپنے دورحکومت میں تعلیم سمیت تمام شعبوں میں صوبے کی عوام کی بے لوث خدمت کی ہے اور ترقی اور خوشحالی کے کاموں کی ایک تاریخ رقم کر دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج لوگ جوق در جوق دوسری پارٹیوں کو چھوڑ کر اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر سابق ڈپٹی سپیکر خوشدل خان اور اے این پی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ : 22.10.2014 بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ پختون جاگ گئے ہیں اورہ سونامی کو واپس بنی گالہ بھیج کر دم لیں گے ،کپتان اپنی شادی کے لئے نیا پاکستان بنارہے ہیں ، مسائل اورمشکلات سے نکلنے کے لئے چترال سے ڈیرہ تک پختون کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھاہوناگا ،پختون قوم کے ساتھ عجیب کھیل کھیلا جارہاہے مسلم لیگ (ن) کو مینڈیٹ نہ ملا تو میاں نوازشریف نے منہ موڑ لیا پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا تو عمران خان وعدے بھول گئے وہ بدھ کی شام مردان کے یونین کونسل فاطمہ میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں ممتاز شخصیات شوکت علی ،خالد خان نے اپنے خاندان اوردرجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اورشوکت علی نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیار کرنے والوں کو مبارک دیتے ہوئے ان کو پارٹی ٹوپیاں پہنائیں امیر حیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون قوم مسائل کے گرداب میں پھنس گئی ہے پی ٹی آئی کے سربراہ نے وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب میں اقتدار کی جنگ شروع کر رکھی ہے اور وہ پختون کی مینڈیٹ اورنئے پختون خوا کے وعدے بھو ل گئے ہیں انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے پختونوں کو دھوکہ دیا پختون مسائل اورمشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں اور تبدیلی کے نام پر پختونوں کے مینڈیٹ کو چرایاگیا انہوں نے کہاکہ مینڈیٹ پختونوں نے دیا اور فیصلے پختون خوا کی بجائے بنی گالہ میں ہورہے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ بدقسمتی سے پختون قوم کے ساتھ عجیب کھیل کھیلا جارہاہے مسلم لیگ (ن) کو یہاں سے مینڈیٹ نہیں ملا تو میاں نوازشریف نے عوام کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی سے بھی موڑ لیا پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا تو عمران خان وعدے بھول گئے انہوں نے کہاکہ اے این پی پنجاب کی سیاست نہیں کرتی ہمیں پختونوں کی سیاست پر فخر ہے مسائل کے حل کے لئے پختون قوم کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہوگا اورچترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک باچاخان کے قافلے کا ساتھ دیناہوگا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پرویز خٹک کیسے وزیراعلیٰ ہیں صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں دینے والے پولیس اہلکاروں کے جنازوں کو کندھا دینے کے لئے موجودنہیں ہوتے جبکہ قدرتی آفات کے دوران وہ دھرنے کے نام پر ناچ گانوں میں مصروف رہتے ہیں انہوں نے کہاکہ مردان ،صوابی اورپشاور سمیت دیگر اضلاع کے لوگوں کو بارشوں اورژالہ باری سے مشکلات اورنقصانات کا سامناہے اوراب صوبائی حکومت کی طرف سے انہیں کوئی ریلیف نہیں دیاگیااورنہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیاہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ عمران خان نوجوانوں کی قیادت کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں نوجوان اے این پی کے پاس ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی اقتدار کی سیاست نہیں کرتی اورنہ ہی کرسی ہماری مجبوری ہے ہم پختون قوم کی خدمت اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ عمران خان نوجوانوں کی قیادت کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں نوجوان ہمارے پاس ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختونوں کی خدمت کی ذمہ داری تحریک انصاف یا دوسری پارٹی کی نہیں بلکہ عوام کی خدمت ہم اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی اقتدار کی بھوکی نہیں اورنہ ہی ہماری منزل اقتدار کی کرسی ہے باچاخان کے فلسفے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہمارا مقصد اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں پر زوردیا کہ وہ ہر سوں پھیل جائیں اور لوگوں کو باچاخان اورخان عبدالولی خان کے افکار سے باخبرکرکے انہیں سرخ جھنڈے تلے اکٹھا کیاجائے جلسے کے آخری میں امیرحیدرخان ہوتی نے شوکت علی کے حجرے پر پارٹی جھنڈابھی لہرایا ۔

بدھ22اکتوبر2014ء
اے این پی عوامی خدمت کا فریضہ انجام دیتی رہے گی ، میاں افتخار حسین
تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی ، طلباء حصول تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں
عوامی نیشنل پارٹی نے تعلیمی میدان میں ریکارڈ اقدامات کئے ، حلف برداری تقریب سے خطاب
پشاور ( پ ر )تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی،طلباء اپنی تمام تر توجہ حصول تعلیم پر مرکوز رکھیں ، ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے باچا خان مرکز منعقدہ پختون ایس ایف کی صوبائی کابینہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،
انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں تعلیم کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کئے گئے اور صوبے بھر میں یونیورسٹیز ، کالجز اور بڑی تعداد میں سکول قائم کر کے نئی نسل کو تعلیم کے مواقع فراہم کئے گئے جبکہ نصاب سازی کا عمل بھی شروع کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ طلباء کے مسائل پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور تعلیمی نصاب میں اسی خطے کے بعض رہنماؤں اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بزرگوں کو شامل کیا گیا ۔
؂انہوں نے کہا کہ باچا خان نے اس خطے میں عدم تشدد کا درس دینے کیلئے گاؤں گاؤں کے دورے کئے لوگوں کے پاس حجروں میں گئے جبکہ اے این پی خدائی خدمت گار تحریک کے تسلسل کے طور پر آج بھی میدان میں سرگرم عمل ہے، انہوں نے کہا کہ حقوق کی جنگ ہو یا بقاء کی اے این پی نے ایک تاریخ رقم کر دی ہے،
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے صوبے کے عوام کی خدمت کی ہے اور آئندہ بھی خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے ،انہوں نے اس موقع پر اے این پی کی قربانیوں کو سراہا اور طلباء کو پیغام دیا کہ وہ وقت کی قدر کریں اور تعلیم کے حصول پر خصوصی توجہ دیں ،اس موقع پر ایمل ولی خان اور بشیر پختون یار بھی موجود تھے۔

بدھ22اکتوبر2014ء
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے سابق رکن اسمبلی خلیفہ عبدالقیوم کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ،
اے این پی سیکرٹریت سے جاری ایک تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مرحوم کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکتا ،
انہوں نے کہا کہ خلیفہ عبدالقیوم مرحوم ایک بہت بڑے عالم فاضل نڈر اور بے باک شخصیت کے مالک تھے اور اپنے علاقے اور عوام کیلئے انہوں نے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،
انہوں نے غمزدہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی آپ کے غم میں برابر کی شریک ہے ، پارٹی رہنماؤں نے مرحوم کی مغفرت کیلئے بھی دعا کی ہے۔

مورخہ : 21 اکتوبر 2014 بروز منگل

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور قائمقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے باچا خان مرکزمیں مصروف دن گزارا۔
اے این پی کے رہنماؤں نے پشاور ضلع کے تنظیمی عہدیداران اور مشران ، ضلع لوئر دیرکے آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان،یوتھ ونگ کے عہدیداران اور پختون ایس ایف کے عہدیداران سے ملاقات کی۔
صوبائی صدر نے اس موقع پر پارٹی اُمور اور ذیلی تنظیموں کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بحث کی اور مثبت تجاویز کا خیر مقدم کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام عہدیداروں اور ذمہ داران کو اپنی ذمہ داریاں بآحسن طریقے سے انجام دینے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔

مورخہ : 21 اکتوبر 2014 بروز منگل

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن باچا خان بابا اور ولی خان بابا کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔ اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے باچا خان مرکز میں ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے اضلاع کے ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز کے ایک اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے تنظیمی عہدیداران اور کارکنان اپنے رابطوں میں تیزی لائیں اور گھر گھر رابطوں میں تسلسل رکھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ 16 نومبر کو اپر دیر ، 30 نومبر کو سوات ، 7 دسمبر کو ملاکنڈ ، 10 دسمبر کو شانگلہ اور 14 دسمبر کو ضلع بونیر ورکرز کنونشن منعقد ہونگے۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام ضلعی تنظیمیں ، تنظیمی اُمور کو بہتر انداز میں اور بروقت نمٹانے کی کوشش کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک عوامی پارٹی ہے اور عوام سے قریبی رابطہ اے این پی کی سیاست کا وطیرہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی جمہوریت کی مضبوطی اور جمہوری اداروں کی استحکام کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔
اُنہوں نے ضلعی تنظیموں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں پارٹی کی تمام ذیلی تنظیموں سے مشاورت اور رابطوں میں باقاعدگی کا خیال رکھیں تاکہ پارٹی کی ذیلی تنظیموں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ دلجمعی کیساتھ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک مضبوط قوت ہے اور اس تحریک کو مزید مضبوط بنانے کیلئے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر صوبائی قائم مقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، صوبائی ترجمان سردار حسین بابک ، ایوب خان اشاڑی اور نوید انجم خان بھی موجود تھے۔

مورخہ : 21 اکتوبر 2014 بروز منگل

پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی صوبائی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت سنگین خان ایڈووکیٹ باچا خان مرکز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے کے تنظیمی اُمور اور اضلاع کی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع پشاور ، مردان ، نوشہرہ اور چارسدہ میں ایک ماہ کے اندر صوبائی دورے کیے جائینگے اور صوبائی تنظیم یونین کونسل اور صوبائی حلقوں کی سطح پر پروگرامات کے انعقاد کیلئے اضلاع کی تنظیموں سے فوراً رابطہ کریں تاکہ اضلاع کی کنونشن سے پہلے یوتھ کو پوری طرح موبلائزکیا جا سکے۔
صوبائی کابینہ نے متفقہ طور پر ضلع مردان میں ایک ہفتے کے اندر ضلعی کونسل کا اجلاس بلانے کا فیصلہ بھی کیا ۔ضلعی کابینہ کو طے کردہ مدت کے اندر ضلعی کونسل کے اجلاس کے انعقاد کیلئے تیاری کی ہدایات جاری کیں۔ صوبائی کابینہ نے چارسدہ کی ضلعی تنظیم کیطرف سے تجویز کردہ ضلعی تنظیم میں خالی تین عہدوں پر نامزدگیوں کی توثیق کر دی جس کے مطابق نائب صدر کیلئے مختار خان ابازئی ، نائب صدر فیمیل کیلئے مسماۃ روشنی اور جائنٹ سیکرٹری فیمیل کیلئے ارم رحیم کے ناموں کی منظوری دے دی گئی۔
صوبائی کابینہ نے ملاکند کے معطل کردہ ضلعی سینئر نائب صدر فواد خان کی جانب سے جمع شدہ شوکاز نوٹس کے جواب کا جائزہ لیا او رشوکاز نوٹس میں شامل ماسوائے عوامی نیشنل پارٹی کے ایک عہدیدار کے شریک پریس کانفرنس کے الزام کے علاوہ باقیماندہ تمام الزامات کا ثابت اور مصدقہ جان کر ضلعی تنظیم کیطرف سے سینئر نائب صدر کے عہدے سے برطرفی اور بنیادی رکنیت کے خاتمے کے فیصلے کی توثیق کر دی۔
صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اضلاع کے کنونشن کے بعد ایک عظیم الشان صوبائی کنونشن کا انعقاد کیا جائیگا اور اضلاع کو ہدایات جاری کی گئی کہ دسمبر اور جنوری میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر انتطام شہداء اور باچا خان بابا اور خان عبدالولی خان بابا کی برسیوں کیلئے بھرپور تیاری کریں۔

مورخہ : 20 اکتوبر2014 بروز پیر

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کراچی کے علاقے کھارا در میں ایدھی سینٹر میں ڈکیتی کے واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبدالستار ایدھی اور ایدھی سینٹر کے عملے کو یرغمال بنا کر کروڑوں کی نقد ی اور پانچ کلو سونے کو لوٹنا حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ حکومت ایسے لوگوں کی بھی حفاظت کرنے سے غافل ہے جو شب و روز انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور جنہوں نے فلاحی کاموں کیلئے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے۔
باچا خان مرکزپشاور سے اُنہوں نے اپنے جاریکردہ بیان میں کہا ہے کہ ڈکیتی کی واردات کے موقع پر عبدالستار ایدھی بذات خود موجود تھے اور ڈاکوؤں نے اُن سے چابیاں مانگیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واردات کرنے والے انتقام کے جذبے سے آئے تھے کیونکہ ایدھی سینٹر کو لوٹنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے معاشرے میں کوئی کیسے بھلائی ،نیکی اور فلاحی کام کرسکیں گے جہاں اُں کی اپنی جان و مال محفوظ نہ ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسی واردات کرنے والوں کا راستہ روکنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ سوسائٹی کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے لوگوں کا راستہ روکے۔ اُنہوں نے کہا کہ سوسائٹی میں بھی لٹیروں ، ڈاکوؤں اور بدمعاشوں کا راج ہے جن کی کرتوتوں سے عزت دار ، شریف اور نیک لوگوں کی زندگی مشکل ہو گئی ہے۔

مورخہ 20.10.2014 بروز پیر

عوامی نیشنل پارٹی سوات کے صدر اورسابق ممبرصوبائی اسمبلی شیرشاہ خان نے کہا ہے کہ کرپشن ختم کرنے کاواویلا کرنیوالے کرپشن سے پاک کسی ایک پٹواری کونمونے کے طورپر پیش کرے ، پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کرپشن ختم نہیں بلکہ مزید بڑھ گئی ہے تحریک انصاف کے اصلاحاتی ایجنڈا محض ایک نعرہ ہے حقیقت اس کے برعکس ہے ترقی اورخوشحالی کے دعویداروں نے صوبے کو مسائل کے دلدل میں پھنسوادیاہے واپڈا کے ایک آفیسر کے تبادلے کیلئے سڑک بلاک کرکے احتجاج کرنیوالوں نے کبھی عوامی مسائل پر آوازاٹھائی ہے ، ان خیالات کااظہار انہوں نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ناچ گانوں سے تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ہے ، اسلام آباد میں لگایاگیا کھیل تماشہ اب ختم ہوناچاہئے۔ کیونکہ موجودہ سسٹم اورالیکشن کمیشن کے خلاف دھرنادینے والوں نے ملتان کے ضمنی الیکشن میں اس پرانے سسٹم اورالیکشن کمیشن کے تحت ہونیوالے ضمنی الیکشن میں نہ صرف ایک امیدوار کی حمایت کی بلکہ ان کا بھرپورساتھ دیا۔ اب ان کی اصول بھی ختم ہوگئی ہے ان کو اصول پسند اور موجودہ سسٹم کے حوالے سے مزید بولنے کا حق نہیں ہے ۔ انہو نے کہا کہ عمران خان کنٹینر شو میں بڑے فخر کے ساتھ یہ بات کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نے صوبہ خیبرپختونخوا میں رشوت ختم کردی ہے اوراب پٹواری بھی بغیررشوت کے کام کررہے ہیں۔لیکن ہم ان پر واضح کردیناچاہتے ہیں کہ پورے صوبہ خیبرپختونخوا میں عمران خان نمونے کے طور پر ایک پٹواری کو پیش کرے جو رشوت نہیں لیتے ، انہوں نے کہا کہ عمران خان جو کہہ رہے ہیں زمینی حقائق اس کے برعکس ہے ، پورے ملک کا نظام درست کرنے کیلئے خوار ہونے والے عمران خان کو پہلے صوبہ خیبرپختونخواہ میں اپنی کارکردگی دکھاناچاہئے تھا خیبرپختونخوا میں ناقص کارکردگی کامظاہرہ کرنیوالے اب پنجاب کا رخ کرگیا۔ الیکشن خیبرپختونخواہ کے لوگ ان کے کارکردگی سے ہرگز مطمئن نہیں ہے ۔ ناقص کارکردگی ان کیلئے سوالیہ نشان بن چکاہے ۔ انہو ں نے کہا کہ ایک معمولی واپڈا آفیسر کے تبادلے کیلئے شاہراہیں بندکرنیوالوں نے کبھی عوامی مسائل پر بھی آواز اٹھائی ہے ان کا اصلاحاتی ایجنڈامحض ایک نعرہ ہے اور لوگوں کو کھوکھلے نعروں اورجھوٹے وعدوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کی طرف ہے جس کا موجودہ حکمرانوں سے توقع نام خیالی ہے ۔

مورخہ : 20 اکتوبر 2014 بروز پیر

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن صوبائی کابینہ کی حلف برداری تقریب بروز بدھ باچا خان مرکز میں ہو گی۔

پشاور ( پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نو منتخب ہونے والی صوبائی کابینہ کی حلف برداری تقریب 22 اکتوبر بروز بدھ بوقت گیارہ بجے باچا خان مرکز میں منعقد ہو گی ۔ اس تقریب میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صوبائی کابینہ کے علاوہ پختون ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قائدین شرکت کرینگے۔ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تمام طلباء کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے کہ اس تقریب میں بھرپور شرکت کریں۔

مورخہ 20.10.2014 بروز پیر
پشاور (پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہا ہے کہ پرویز خٹک بے اختیار وزیراعلیٰ ہیں ،پختون قوم کی قسمت کے فیصلے بنی گالہ میں پنجابی لیڈرشپ کررہی ہے، پنجاب کے تخت کی جنگ میں پختون پس رہے ہیں ،بنی گالہ سے اختیارات واپس لاکر دم لیں گے وہ پیر کے روز باغ ارم مردان کے علاقہ بائی پاس کی مسجد مارکیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے ضلعی سینئر نائب صدرحاجی گل محمد ماندوری ،ممتاز ماندوری ، محمد اقبال ماندوری ،عباس ماندوری اوران کے ساتھیوں اور خاندان کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر جلسے سے خطاب کررہے تھے جس سے پی کے 23 کے رکن اسمبلی احمد بہادرخان، اے این پی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اورعمران ماندوری نے بھی خطاب کیا، امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیار کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں،اپنے خطاب میں امیر حیدرخان ہوتی کاکہنا تھاکہ تحریک انصاف نے پختونوں کو دھوکہ دیا پختون مسائل اورمشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں اور عمران خان نئے پاکستان کے چکر میں پختون خوا کو ہی بھول گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اورپی ٹی آئی نے مرکز کی حکمرانی کے لئے پنجاب کو تختہ مشق بنادیاہے، انہوں نے کہاکہ پختونوں نے تحریک انصاف کے ایسے امیدواروں کو کامیابی دلائی جوکبھی کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکے تھے لیکن تبدیلی کے نام پر پختونوں کا مینڈیٹ چرایاگیا اوران کو دھوکہ دیاگیا انہوں نے کہاکہ مینڈیٹ پختونوں نے دیا اور فیصلے پختون خوا کی بجائے بنی گالہ میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کررہے ہیں، پنجابی لیڈر پختونوں کے مسائل اور مشکلات کیا جانتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پختون قوم کے ساتھ عجیب کھیل کھیلا جارہاہے مسلم لیگ (ن) کو یہاں سے مینڈیٹ نہیں ملا تو میاں نوازشریف نے منہ موڑ لیا پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا تو عمران خان وعدے بھول گئے انہوں نے پی ٹی آئی اورمسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ سے اپیل کی کہ خدارا پختونوں کی حالت زار پر رحم کریں دونوں پارٹیاں حکومت میں ہیں اورخیبرپختون خوا کے عوام مسائل اورمشکلات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، انہوں نے کہاکہ اے این پی پنجاب کی سیاست نہیں کرتی ہمیں پختونوں کی سیاست پر فخر ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک صرف ناچ گانے میں ریکارڈ قائم کیا جواب تک نہ کسی نے قائم کیاتھا اورنہ ہی آئندہ کوئی وزیراعلیٰ توڑ سکے گا، سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہاں کے لوگوں کو بارشوں اورژالہ باری سے مشکلات اورنقصانات کا سامناہے جبکہ وزیراعلیٰ اور وزراء ڈیڑھ ماہ سے دھرنوں اور ناچ گانوں میں مصروف ہیں ،اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ عمران خان نوجوانوں کی قیادت کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں حلقہ پی کے 23 کے عوام نے انہیں 2008ء کے انتخابات میں میری شکل میں نوجوان قیادت کا انتخاب کیاجس کے بعد عوام کی دعاؤں سے صوبے کا پہلا کم عمر وزیراعلیٰ منتخب ہوا اس طرح وہ اس لحاظ سے خوش قسمت بھی ہیں کہ صوبہ سرحد کے آخری اورخیبرپختون خوا کے پہلے وزیراعلیٰ کا اعزاز حاصل کیاانہوں نے مزید کہاکہ ماندوری خاندان کی اے این پی میں شمولیت سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ پختون قوم اپنے مسائل کے حل کے لئے سرخ جھنڈے تلے متحد ہوجائے کیونکہ اس کے سوا پختون قوم کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے

مورخہ 20.10.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں نہ صرف قوم کی خدمت کی ہے بلکہ بقا کی جنگ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے یہ بات اے این پی کے ضلعی صدر اور سابق صوبائی وزیر محمد کریم بابک نے مغدرہ بونیر میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی،
اس موقع پر گاؤں کے سرکردہ خاندان حکم خان کی سربراہی میں مسلم لیگ سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا ، گاؤں کے عمائدین سمیت پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی ،
انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور میں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بے روزگاروں کو ہنر سکھانے کے مواقع بھی فراہم کئے گئے تھے اور تعلیمی میدان میں صوبے کو پاکستان کے تعلیم یافتہ علاقوں کے برابر لانے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے گئے ، انہوں نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور صوبے کے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا گیا تھا اور مرکزی حکومت کے ساتھ صوبے کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ،
محمد کریم بابک نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں ملک و قوم کی خاطر بے پناہ قربانیاں دی گئیں اور یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں نے اے این پی کو انتقام کا نشانہ بنایا اور اے این پی کے کارکنوں رہنماؤں اور الیکشن کے دوران امیدواروں پر حملے کئے گئے اور انہیں الیکشن مہم کے لئے نہیں چھوڑا گیا ،
اس موقع پر یو سی غور غشتو کے صدر عبدالباسط خان نے بھی خطاب کیا ،بعد ازاں ضلعی صدر نے نئے شامل ہونے والوں کے گھروں پر سرخ جھنڈے لہرائے ۔

مورخہ 20.10.2014بروز پیر

پشاور ( پ ر )نیشنل یوتھ آرگنائزیشن سٹی ڈسٹرکٹ کا ایک اہم اجلاس پی کے 3یونین کونسل 20میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ریاض کان کے حجرے میں منعقد ہوا ، اجلاس میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن سٹی ڈسٹرکٹ کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ، اجلاس میں یونین کونسل 20کی تنطیم نو کی گئی اور متفقہ طور پر آفتاب عالم کو صدر اور احمد شاہ کو جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا گیا ، اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں اور این وائی او سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر سعید خان نے تنظیم کی کاوشوں پر روشنی ڈالی اور یوتھ کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

مورخہ 20.10.2014 بروز پیر
فروغ تعلیم اور ہم نصابی سرگرمیاں ملکی ترقی کیلئے کامیابی کی ضمانت ہیں،سردار بابک
نوجوانوں کو ہم نصابی سرگرمیوں اور بالخصوص کھیل کود میں اپنی شرکت یقینی بنانی چاہئے تا کہ مثبت سوچ کو تقویت مل سکے ،
این وائی او نے ممبر سازی اور تنظیم سازی مکمل کر کے ثابت کر دیا ہے کہ آج کا نوجوان سنجیدہ اور ترقی کا متلاشی ہے ،

پشاور ( پ ر ) ملکی ترقی کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ انتہائی ضروری ہے ،
ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک نے موضع جنگدرہ بونیر میں باچا خان امن ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،
انہوں نے کہا کہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو ہم نصابی سرگرمیوں اور بالخصوص کھیل کود میں اپنی شرکت یقینی بنانی چاہئے تا کہ مثبت سوچ کو تقویت مل سکے ،
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل قوم کا قیمتی اثاثہ ہے اور اس اثاثے کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے کہ دہشت اور وحشت کے اس ماحول میں مثبت سوچ کو پروان چڑھائیں ،
اس موقع پر انہوں نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نیشنل یوتھ ملک قوم کی ترقی اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہینگے ،
انہوں نے کہا کہ تعلیم کو خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار پر عمل پیرا ہونا اور پختون یوتھ میں اتحاد واتفاق کے ساتھ مضبوط رابطے کو قائم رکھنا ہی کامیابی کی کنجی ہے ،
سردار حسین بابک نے کہا کہ این وائی او نے قلیل مدت میں ملک بھر میں ممبر سازی اور تنظیم سازی کے عمل کو مکمل کر کے ثابت کر دیا ہے کہ آج کا نوجوان سنجیدہ اور ترقی کا متلاشی ہے ،
اس موقع پر اے این پی کے ضلعی صدر محمد کریم بابک ، این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ، این وائی او کے رہنماؤں گلزار خان ، حسن بونیری اور ضلعی صدر این وائی او گلزار حسین بابک نے بھی خطاب کیا ،
بعد ازان نیشنل یوتھ آرگنائزیشن خدو خیل کے نوجوانوں نے ایک ریلی کا بھی اہتمام کیا ۔

مورخہ : 18 اکتوبر 2014 بروز ہفتہ

پختون ایس ایف تعلیمی اداروں میں پر امن ماحول کو خراب کرنے کی کسی بھی تنظیم کو اجازت نہیں دے گا۔
پولیس انتظامیہ کی غنڈہ گردی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔

پشاور (پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں پر امن ماحول چاہتے ہیں اور پر امن طریقے سے سیاسی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کا پر امن ماحول خراب کرنے کا کسی بھی سیاسی تنظیم کو جازات نہیں دینگے۔ فخرافغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کے عدم تشدد کے نظریے کا پرچار کرتے ہوئے پر امن طور پر طلباء کے حقوق کیلئے آواز بلند کرینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ روز مردان میں پختون ایس ایف اور دوسری تنظیم کے درمیان ہونے والی کشیدگی کی پرزور مزمت کرتے ہیں اور آئندہ کیلئے ایسے واقعات سے اجتناب کیا جائے۔
اُنہوں نے پولیس انتظامیہ کے رویے کے خلاف افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس انتظامیہ پی ایس ایف کے عہدیداروں کی بغیر کسی وجہ کے گرفتاریاں ، اُن کیساتھ بدسلوکی اور انتقامی کارروائیاں بند کرے اور کسی بھی صورت پولیس کی غنڈہ گردی برداشت نہیں کرینگے۔ورنہ ہم صوبہ بھر میں احتجاجی مظاہرہ کا سلسلہ شروع کر دینگے۔

مورخہ : 18 اکتوبر 2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ دھرنوں کے خاتمے سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگیاہے اب وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ سیاسی تلخیاں ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں ، ناکام خارجہ پالیسی کے باعث پاکستان بین الاقوامی طورپر تنہائی کا شکارہے ،صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے قوم کو دھوکہ دے رہی ہے وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان شمولیتی اجتماع سے خطاب اوربعدازاں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے اس موقع پر محمد عثمان ،ارشد ،عدنان ،بابرخان نے اپنے پچاس ساتھیوں اورخاندانوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیاپارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اور پریس سیکرٹری روزمحمد خان بھی اس موقع پر موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان اور طاہر القادری نے ملک کے دیگرحصوں میں جلسے شروع کئے ہیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جلسے کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، انہوں نے کہاکہ دھرنے عملاً ختم ہوچکے ہیں اوراب مرکزی حکومت کو سیاسی تلخی کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں سے رابطے کرنے چاہئیں، انہوں نے کہاکہ اے این پی تحریک انصاف کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کریں اورتحریک عدم اعتماد کا مقصد صوبائی اسمبلی کو بچانا تھا حکومت گرانا نہیں اوراس مقصد میں ہم کامیاب ہوگئے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات میں مخلص نہیں گذشتہ ڈیڑھ سال میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ضروری قانونی اور آئینی تقاضے پورے نہیں کئے اورا ب ایک ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرانا لوگوں کو دھوکہ دیناہے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے عوام مہنگائی ،بے روزگاری اور لاقانونیت سے تنگ آچکے ہیں وزیراعلیٰ اور وزراء کو دھرنوں کے نام پر ناچ گانوں سے فرصت نہیں،امیرحیدرخان ہوتی نے مرکزی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اورکہاکہ ناکام خارجہ پالیسی کے باعث پاکستان بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اس وقت ہمسایہ ممالک ایران ،افغانستان اورہندوستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں چین کے صدر نے دورہ پاکستان ملتوی کیا ایسے میں مرکزی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرناہوگی تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بحال کیاجاسکے انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کو سیاسی تلخی ختم کرنے کے لئے آگے بڑھنا ہوگا اور الیکشن اصلاحات کے ساتھ انتخابی دھاندلی کے الزامات کے حوالے جوڈیشل کمیشن بنانا ہوگا انہوں نے اس بات کا اعادہ کیاکہ اگر دھاندلی ثابت ہوئی تو اے این پی ری الیکشن کا مطالبہ کرے گی شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی کاکہنا تھاکہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود عوام کی اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اس بات کا مظہر ہے کہ ہماری حکومت کی پالیسیاں اس صوبے اور عوام کے مفاد میں تھیں پختون قوم کو اپنی بقا کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہوگا پی ٹی آئی نے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر عوام کو ورغلا یا ہے اورگذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کا شکارہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ باچاخان نے اس دھرتی اورپختون قوم کو مسائل سے نکالنے کے لئے جس تحریک کا آغازکیا وہ منزل بھی اب دور نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار اوراسمبلیوں کی سیٹوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا مقصود ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیا رکرنے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک بادبھی دی ۔

پشاور ( ) اے این پی ضلعی مردان کے صدر اور سابق ایم این اے حمایت اللہ مایار ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی عبدالولی خان یونیورسٹی میں اپنے افراد کی بھرتیوں کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ پر بے جا الزامات عائد کرکے یونیورسٹی کے امیج کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں ،میرٹ کے دعویدار اپنے ہاتھوں سے میرٹ کا جنازہ نکال رہے ہیں یونیورسٹی کے خلاف کئی مرتبہ تحقیقات کرائی گئی لیکن کوئی چیز سامنے نہیں آئی اپنے ایک بیان میں اے این پی کے ضلعی صدر نے کہاکہ وزیراعلیٰ اور وزاء اپنے لوگوں کو بھرتی کروانے کے لئے تحقیقات کے نام پر ڈرامے رچارہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہائیر ایجوکیشن سمیت متعدد اداروں نے کئی دفعہ تحقیقات کی ہیں اورانہیں کوئی چیز سامنے نہیں آئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریک انصاف یونیورسٹی میں بے جا مداخلت کی بجائے یونیورسٹی کے میگا پراجیکٹ کی چار ارب روپے جو اے این پی کی حکومت نے دوسرے فیز کے لئے منظور کی تھی بحال کیاجائے انہوں نے کہاکہ عبدالولی خان یونیورسٹی نے انتہائی مختصر عرصے میں ترقی کے جو منازل طے کئے ہیں وہ بعض عناصر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے حمایت اللہ مایار نے کہاکہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی کی تعلیمی خدمات روزروشن کی طرح عیاں ہیں اوریہ دنیا کی واحد یونیورسٹی ہے جس کے بطن سے چارسدہ اور باچاخان یونیورسٹیوں نے جنم لیاہے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر تحریک انصاف نے یونیورسٹی کے خلاف ہرزہ سرائی بند نہ کی تو اے این پی اس کے خلاف میدان میں اترے گی اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے کرتوں سے پردہ اٹھائے گی ۔

کھیل کو سیاست اور سیاست کو کھیل سے دور رکھا جائے لندن پلان ناکام ہی ہوگا۔سینیٹر شاہی سید
پختون دھرتی پر جاری آپریشن پر جاری آپریشن ، سیکیورٹی اداروں کی کاروائیوں کو نظر نداز کرنا اور شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کو بھلانا ظلم عظیم ہے۔
ملک کی بقاء کی خاطر جاری جنگ کو نظر انداز کرنا بھی غداری کے مترادف ہے
سیاست کو الزامات و بہتان تراشیوں کا سونامی نہ بنایا جائے
خفیہ طاقتوں کے کندھوں پر سوار ہوکر اور تاریخی ائر ٹائم کے ذریعے عوام کو زیادہ دیر گمراہ نہیں کیا جاسکتا ۔صدر اے این پی سندھ
کراچی۔ جمعتہ المبارک 17 اکتوبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ جو کچھ الیکٹرونک میڈیا پر دکھایا جارہا ہے وہ پاکستان کے مسائل ہر گز نہیں،پختون دھرتی پر جاری آپریشن پر جاری آپریشن ، سیکیورٹی اداروں کی کاروائیوں کو نظر نداز کرنا اور شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کو بھلانا ظلم عظیم ہے ،قوم کو سرابوں کے پیچھے لگایا جارہا ہے
ملک کی بقاء کی خاطر جاری جنگ کو نظر انداز کرنا بھی غداری کے مترادف ہے حکومت کسی کی بھی ہو دہشت گردی اور انتہاء پسندی ملکی بقاء کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے نیا پاکستان بنانے والے دہشت گردی کے متعلق کیوں کچھ بولنے کو تیار نہیں ؟ قوم کو خیبر پختونخوا کے مسائل دکھاکر نئے پاکستان کے دعویداروں کا اصل چہرہ دکھایا جائے،لندن پلان ناکام ہی ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان ہاؤس میں مختلف پارٹی وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ سیاست کو الزامات و بہتان تراشیوں کا سونامی نہ بنایا جائے ایک سیاست دان کی زبان سے نکلے ہوئے غیر اخلاقی الفاظ تمام سیاست دانوں کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں،سیاست میں شائستگی اور برداشت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے کھیل کو سیاست اور سیاست کو کھیل سے دور رکھا جائے اسٹیج پر اسٹیٹسکو کے عظیم الشان بتوں کے ساتھ کھڑے ہوکر اسٹیٹسکوکو ختم کرنے کے دعوے ایک بہت بڑا مذاق ہے،خفیہ طاقتوں اور میڈیا کندھے پر سوار ہوکر عوام کو زیادہ دیر گمراہ نہیں کیا جاسکتا ۔

مورخہ 16.10.2014 بروز جمعرات
عوامی نیشنل پارٹی کا مرکزی حکومت میں شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں۔
پارٹی وفاق میں جمہوریت کی بالادستی کیلئے اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،ایمل ولی خان
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے مرکزی حکومت میں شمولیت کے حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پارٹی اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں اے این پی کے قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا کہ مرکز نے اے این پی کو حکومت میں شمولیت کی نہ کوئی دعوت دی ہے اور نہ ہی پارٹی حکومت میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ ہے ،
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں ہم نے فرد واحد کا نہیں بلکہ جمہوریت کی مضبوطی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا ساتھ دیا ہے جو اے این پی کی جمہوریت کیلئے جدوجہد کا تسلسل ہے،
ایمل ولی خان نے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی مرکز میں اپوزیشن میں ہے اور جمہوریت کی مضبوطی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،انہوں نے کہا کہ اخبارات اس قسم کی خبروں کی اشاعت کے سلسلے میں احتیاط برتیں۔

مورخہ 15.10.2014 بروز بدھ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور میں کاروباری سرگرمیوں پر حکومتی پابندی کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے کاروبار کش پالیسی قرار دیا ہے ،
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پشاور کے علاقوں حیات آباد ، یونیورسٹی ٹاؤن ، ڈیفنس اور دیگر علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں پر پابندی لگانا انتہائی غلط اقدام ہے ،
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پہلے ہی سے خیبر پختو نخوا میں معیشت کو جام اور کاروباری سرگرمیوں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے ، صوبے اور خصوصاََ پشاور سے تجارت پیشہ لوگ اپنے کاروبار سمیٹ کر صوبے کو چھوڑ چکے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ و بھتہ خوری کی وجہ لوگ یہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں ،
انہوں نے کہا کہ صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو ایک جانب دہشت گردوں سے خطرہ ہے جبکہ دوسری جانب حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے باعث لوگوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ پشاور سے کاروباری سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا اور ان کاروباری افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرنا عوام دشمنی کے مترادف ہے ،
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو صوبے کے عظیم تر مفاد میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور ایسے احکامات واپس لینے چاہءں جن سے عوام کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے ،
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تاجر پیشہ اور کاروباری افراد کو مراعات دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے تجارت کش اور کاروبار کش پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ،
انہوں نے کہا کہ ملک خصوصاََ صوبے کے حالات دیکھ کر عام آدمی کے ساتھ ساتھ تاجروں اور کاروباری کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنا ہی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مورخہ : 15.10.2014 بروز منگل

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج کا ممبرسازی کیمپ تیسرے روز بھی جاری رہا۔ ریکریشن سینٹر گراؤنڈ میں کیمپ لگایا گیا تھا۔ جس کی نگرانی اسلامیہ کالج یونٹ کے آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین سمیع اللہ اورکزئی کر رہے تھے۔ اس موقع پر اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی اور یونیورسٹی کیمپس کے جنرل سیکرٹری توحید خان داؤد زئی نے بھی کیمپ کا دورہ کیا۔ سمیع اللہ اورکزئی نے کہا کہ ابھی تک ایک سو سے زائد طلباء نے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی ممبر شپ اس جذبے سے کی ہے کہ یہ تنطیم عدم تشدد کے فلسفے ، باچا خان بابا کے نظریہ اور خدائی خدمتگار تحریک کی پیروکار ہے۔ اور تعلیمی اداروں میں ایک پر امن ماحول بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور طلباء کی خدمت بہت اچھے طرح کرتے ہیں۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی نے تمام نئے ممبرز کو اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہم سب کی اولین ترجیح صرف اور صرف تعلیم ہونی چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں رہ کر یونیورسٹی انتظامیہ کے تعاون کے ساتھ تمام طلباء کی اچھی سے اچھی خدمت کی جائے۔ کیونکہ یہ ہمارے ملنگ بابا (باچا خان بابا) کا نظریہ ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ پوری دُنیامیں زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کر ے۔ ہم سب اپنے ملی قائد اور مرکزی ایڈوائزر جناب اسفند یار ولی خان اور صوبائی قائمقام جنرل سیکرٹری اور صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

مورخہ 14.10.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے شمالی وزیرستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے 27اکتوبر کو پشاور میں ایک گرینڈ جرگہ طلب کر لیا ہے ، جرگے میں شمالی وزیرستان کے تمام قبائل کے نمائندوں کو دعوت دی جائے گی اور درپیش مشکلات اور مسائل کے حوالے سے تفصیلی بحث کی جائے گی جبکہ ان مسائل کے حل کیلئے مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا ، جرگے میں قائدین اپنی تجاویز پیش کریں گے اس موقع پر اے این پی کے قائدین شرکت کریں گے ،اور ان کی موجودگی میں وزیرستان سے متعلق تمام مسائل پر تفصیلاََ تجاویز پر بحث کی جائے گی ۔

مورخہ 14.10.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے ماہ نومبر اور دسمبر میں پشاور سٹی ضلع پشاور ، نوشہرہ اور ضلع مردان میں اضلاع کی سطح پر ورکرز کنونشن کا اعلان کر دیا ۔ اس بات کا فیصلہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ،اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور سٹی ،ضلع پشاور ، نوشہرہ اور مردان کے ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز کے باچا خان مرکز پشاور میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران کیا ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نومبر اور دسمبر میں ان چار اضلاع میں عوام کے ساتھ رابطے مزید تیز کئے جائیں گے ،اور باقی اضلاع کیلئے تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جاےئے گا ،اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ صوبے اور تمام قبائلی علاقہ جات کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کو ہدایات جاری کر دی گئیں کہ وہ 15دسمبر تک وارڈ ، سب وارڈ اور گاؤں کی سطح تک تمام تنظیمیں مکمل کی جائیں اور ان نو منتخب تنظیموں کی فہرستیں 15دسمبر تک باچا خان مرکز پشاور کو بھجوانے کے پابند ہونگے۔

مورخہ : 13.10.2014 بروز پیر

نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خان خٹک نے شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز ، قومی کمیٹی کی جانب سے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کو آئی ڈی پیز کیلئے خدمات پر توصیفی ایوارڈ سے نوازنے پر قومی کمیٹی کے صدر اور دیگر ممبران کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن اپنے بے گھر پختونوں کی بے لوث خدمت اور اُن کے مسائل کے حل کیلئے آواز اُٹھانے کو اپنا فریضہ اولین سمجھتی ہے اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کا ہر نوجوان باچا خان بابا کے خدائی خدمتگاری کے فلسفے کے مطابق اپنا بھرپورکردار ادا کرتا رہے گا۔

آئی ڈی پیز کے قومی کمیٹی نے گزشتہ روز نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کو ایوارڈ سے نوازا جو تنظیم کی طرف سے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری محسن داوڑ نے وصول کیا۔
مرکزی صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی فوری واپسی کیلئے علاقے میں امن کا قیام اور اُن کی بحالی کیلئے جامع پالیسی مرتب کی جائے کیونکہ فاٹا اور بالخصوص شمالی وزیرستان میں نہ صرف لوگ بے گھر ہو چکے ہیں بلکہ اُن کا کاروبار ذریعہ معاش اور سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ اس لیے یہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر نہ صرف امن کا قیام ممکن بنائیں اور اس کے ساتھ ہی ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کی بحالی کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائے۔

مورخہ : 13.10.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ کمانڈر نصراللہ خان اے این پی کے ایک دیرینہ ساتھی، خدائی خدمتگار اور باچا خان کے نزدیک ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ جنگ آزادی کے ہیرو تھے اور باچا خان بابا کے ساتھ شانہ بہ شانہ رہے۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پشاور کے نواحی علاقے شیخ کلی متھرا میں اے این پی کے بزرگ رہنما خدائی خدمتگار کمانڈر نصراللہ خان کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اے این پی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ارباب محمد طاہر خان خلیل بھی موجود تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ مرحوم ایک فعال خدائی خدمتگار تھے اور اُنہوں نے پارٹی کی فعالیت کیلئے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں پارٹی اُس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اُن کی ان خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ اُنہوں نے ہمیشہ باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی کی سوچ ، فکر اور نظریے کی پرچار میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا اور خود بھی اس پر کاربند رہے۔ اُنہوں نے مرحوم کے درجات کی بلند اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی ہے۔

مورخہ 13.10.2014 بروز پیر

پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کیصوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے نصراللہ کمانڈر خدائی خدمت گار تحریک کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کی مغفرت کیلئے خصوصی دعا بھی کی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ نصر اللہ کمانڈر ایک منجھے ہوئے مدبر سیاستدان تھے اور پارٹی کیلئے ان کی اور ان کے خاندان کی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ان کی وفات سے پارٹی ایک بہترین ساتھی سے محروم ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پرنہیں ہو سکے گا،انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ۔

مورخہ 13.10.2014 بروز پیر

پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے سوات امن لشکر کے رہنما ایوب خان کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،انہوں نے کہا کہ امن کا قیام ہماری خواہش ہی نہیں بلکہ شعوری جدوجہد کا محور بھی ہے انہوں نے واضح کیا کہ امن لشکر کے ممبران گزشتہ کئی ماہ سے ناقابل برداشت حالات کا سامنا کر رہے ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کے تمام دیگر علاقوں میں لاکھوں افراد کے جلسوں کو سیکیورٹی دی جارہی ہے جبکہ ہمارے صوبے میں امن لشکر کے رضاکاروں کو چن چن کر مارا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی کو امن کی بات کرنے پر ٹارگٹ کیا جاتا رہا اور موجودہ حالات میں اے این پی کے ساتھ ساتھ جو بھی امن کی بات کرتا ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے ، انہوں نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ سوات میں امن لشکر کے رضاکاروں کی شہادت کا یہ 22واں واقعہ ہے لیکن ان واقعات میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی بلکہ ان کو عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر امن پسند قوتوں کو ختم کرنے کیلئے کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ امن لشکر کے رضاکاروں کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو اس سے قطع نظر ان کی شہادت بہر صورت قابل مذمت ہے،انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ۔

مورخہ 13.10.2014 بروز پیر
بجلی کے اضافی بل عوام پر بجلی بن کر گرے ہیں ، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ بجلی کے ناروا بلوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے اور اے این پی عوام کے ساتھ اس ظالمانہ رویے پر خاموش نہیں رہے گی ،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 77بونیر میں مخرنئی و ناوگئی میں ورکرز اجلاسوں سے خطاب کے دوران کیا ،
سردار حسین بابک نے کہا کہ مہنگائی و بے روزگاری نے عوام کی زندگی پہلے ہی مفلوج کر رکھی تھی جبکہ بجلی کی اوور بلنگ اور اضافی بل عوام پر بجلی بن کر گرے ہیں ،
انہوں نے کہا کہ لوگ اب بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں لیکن حکمرانوں کو اس کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ عام آدمی کا بجلی کا بل دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے فیکٹریوں کے بل عوام کو بھیج دیئے گئے ہیں جو کسی صورت مناسب نہیں ہے ،
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی مرکزی حکومت کے اس ظالمانہ رویے کے خلاف خاموش نہیں رہے گی۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ ناروا لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام پہلے ہی ذہنی مریض بن چکے تھے اوپر سے اوور بلنگ اور اضافی بلوں نے ان کا جینا حرام کر دیا ہے اور لوگ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کیلئے اپنے مویشی بیچنے پر مجبور ہو چکے ہیں،
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوں کی درستگی کو یقینی بنا کر عوام کیلئے سہولیات پیدا کی جائیں ،
اس موقع پر یونین کونسل کے عہدیداروں اور کارکنوں کی ایک کثیر تعداد اور سابق امیدوار قومی اسمبلی حاجی رؤف خان اور ضلعی صدر محمد کریم بابک بھی موجود تھے ۔

مورخہ : 11 اکتوبر 2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے ملالہ یوسفزئی کو امن کا نوبل انعام جیتنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہاہے کہ ملالہ کویہ ایوارڈعلم کی روشنی پھیلانے ،دہشت گردی کے خلاف جدوجہد اورامن کی کوششوں کے صلے میں ملا ہے جس پر نہ صرف پوری پاکستان قوم کا سرفخر سے بلند ہوگیاہے بلکہ امن کے نوبل پاکستان اورخصوصاً پختونوں کے بارے میں منفی ثاتر کو ختم کرنے میں مدد ملے گی وہ برطانیہ کے نجی دورے کے بعد وطن واپسی پر اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اورپارٹی کے مرکزی کونسل کے رکن محمد جاوید یوسفزئی بھی اس موقع پر موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ امن کا نوبل انعام ایک پختون بیٹی کو ملنا پوری قوم کے لئے باعث فخر ہے اوریہ ان لوگوں کی جیت ہے جو عسکریت پسندی ،دہشت گردی کے خلاف ،امن اورعلم کی روشنی پھیلانے کے لئے کوشاں ہے امیرحیدرخان ہوتی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کو وقت ضائع کئے بغیر فوری طورپر انتخابات میں دھاندلی کے الزام کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن اور انتخابی اصلاحات لانے کے لئے کمیشن تشکیل دیاجائے انہوں نے کہاکہ دھاندلی ثابت ہوئی تو ری الیکشن کا مطالبہ کیاجائے گا انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ وزیراعلیٰ کو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہوکر سی سی آئی کے اجلاس میں شریک ہونا چاہے تاکہ صوبے کے مسائل اور مفادات کے حوالے سے مرکزی حکومت سے بات کی جاسکے انہوں نے کہاکہ آئندہ اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں این ایف سی ایوارڈ کا دوبارہ تعین ہونا ہے امیرحیدرخان ہوتی نے باچاخان انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر رات کے اوقات میں پروازوں کی بندش کو صوبائی حکومت کی ناکامی قراردیتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت نے دہشت گردوں سے نرم رویہ اختیا رکررکھاہے عسکریت پسند پشاور اوراس کے اردگرد میں داخل ہوگئے ہیں شہریوں اورتاجروں سے بھتہ وصولی کا کھلم کھلا مہم جاری ہے جبکہ ٹارگٹ کلر کو مکمل چھٹی دی گئی ہے اورعسکریت پسند جہاں چاہے امن کے لئے کام کرنے والے افراد کو نشانہ بنارہے ہیں انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کاروائی کی بجائے الٹا پروازیں بند کرکے پاکستان اورخیبرپختون خوا کی بدنامی کررہی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ وزیراعلیٰ دہشت گردی کے واقعات پر صرف مذمتی بیانات تک محددد ہے اورکسی بھی شہید کے جنازے تک میں شرکت سے گزیراں ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات اورباچاخان ائیرپورٹ پر دھماکے کے باوجود پروازوں کو بند نہیں کیاگیاتھا امیرحیدرخان ہوتی نے مردان اورصوابی میں حالیہ ژالہ باری سے کھڑی فصلوں اورباغات اورکاشتکاروں کے نقصانات کے ازالے کے لئے وزیراعلیٰ سے متاثرہ علاقوں کے دورے کا مطالبہ کیاہے اورکہاہے کہ متاثرین کو معاوضے دیئے جائیں اوران کے نقصانات کا ازالہ حکومت کے فرائض میں شامل ہیں انہوں نے کہاکہ اگر حکومت نے فوری طورپر کاشتکاروں کے نقصانات کا ازالہ نہ کیا تو اے این پی اس حوالے سے متاثرہ علاقوں کے مشران اور سیاسی پارٹیوں سے مل کر لائحہ عمل تیارکرے گی۔

مورخہ : 11.10.2014 بروز ہفتہ

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کو ملالہ یوسفزئی ، اُس کے والد ضیاء الدین یوسفزئی اور اُس کی والدہ نے یوکے لندن سے ٹیلیفون کیا ہے اور ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام ملنے پر اے این پی کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام دینے پر اُن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی اور اُس کے والد نے میاں افتخارحسین کا ذاتی طور پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملالہ صرف ہماری بیٹی نہیں ہے بلکہ یہ آپ کی بھی بیٹی ہے۔ کیونکہ آپ وقتاً فوقتاً ہم سے رابطے میں رہے۔ دہشتگردی کے خلاف اورامن کے قیام کے لیے آپ کی قربانیاں لائق تحسین ہیں۔کیونکہ قیام امن کیلئے آپ نے اپنے اکلوتے بیٹے میاں راشد حسین کی قربانی دی۔ اُنہوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کو ملنے والا نوبل انعام درحقیقت ملک خصوصاً پختونخوا اور پختون قوم کی کامیابی ہے۔ اُنہوں نے صوبے میں قیام کیلئے کی جانے والی اے این پی کی کوششوں اور خصوصاً میاں افتخار حسین کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر ملالہ اور اُس کے والدین کو نوبل انعام ملنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوبل انعام دراصل دہشتگردی کے خلاف اور امن سے محبت کرنے والی ایک سوچ کو ملا ہے۔ اُنہوں نے کہا یہ ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ ایک پختون قوم کی بیٹی نے دُنیا بھر میں نام پیدا کیا۔

مورخہ : 11.10.2014 بروز ہفتہ

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے باچا خان انٹر نیشنل ائیرپورٹ سے فضائی پروازوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف بیرن ملک پاکستانیوں باالخصوص پختونوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہوگی۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ باچا خان ائیر پورٹ کی سیکیورٹی بہتر بنانے میں اہم کردا ر ادا کرے نہ کہ وہ پروازوں کی بندش کرے۔ کیونکہ صوبہ پہلے ہی سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ اوراس قسم کے فیصلوں سے ہماری اکانومی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد صوبائی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں بنتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ ماہ سے طیاروں پرہونے والی فائرنگ کے پے در پے واقعات سازش کے تحت ہو رہے ہیں جن کا مقصد بین الاقوامی پروازوں کو بند کرانا ہے۔ جس کی صوبائی حکومت کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ۔ اس قسم کے واقعات حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت باچا خان ائیر پورٹ کے گردو نواح میں سیکیورٹی بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔ائیر پورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور وہ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھاکر پروازوں کو فوری طور بحال کرے۔ صوبے میں دن بہ دن امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جاری ہے ملک کی بدنامی اور صوبے کے باسیوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث کسی بھی فرد کو اب تک قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکا۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی حکومت کو ائیرپورٹ سے متعلق سیکیورٹی کے حوالے سے آگاہ کر چکے ہیں۔لیکن اُس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت اندرون ملک اور بیرون ملک جانے والے مسافر سخت تشویش میں مبتلا ہیں اُنہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ باچا خان ائیرپورٹ کے اس اہم مسئلے پر توجہ دیکر جلد از جلد اس مسئلے کو حل کریں تاکہ عوام کی مشکلات کسی حد تک کم ہو سکیں۔

مورخہ : 11.10.2014 بروز ہفتہ

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے باچا خان انٹر نیشنل ائیرپورٹ سے فضائی پروازوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف بیرن ملک پاکستانیوں باالخصوص پختونوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہوگی۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ باچا خان ائیر پورٹ کی سیکیورٹی بہتر بنانے میں اہم کردا ر ادا کرے نہ کہ وہ پروازوں کی بندش کرے۔ کیونکہ صوبہ پہلے ہی سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ اوراس قسم کے فیصلوں سے ہماری اکانومی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد صوبائی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں بنتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ ماہ سے طیاروں پرہونے والی فائرنگ کے پے در پے واقعات سازش کے تحت ہو رہے ہیں جن کا مقصد بین الاقوامی پروازوں کو بند کرانا ہے۔ جس کی صوبائی حکومت کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ۔ اس قسم کے واقعات حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت باچا خان ائیر پورٹ کے گردو نواح میں سیکیورٹی بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔ائیر پورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور وہ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھاکر پروازوں کو فوری طور بحال کرے۔ صوبے میں دن بہ دن امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جاری ہے ملک کی بدنامی اور صوبے کے باسیوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث کسی بھی فرد کو اب تک قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکا۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی حکومت کو ائیرپورٹ سے متعلق سیکیورٹی کے حوالے سے آگاہ کر چکے ہیں۔لیکن اُس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت اندرون ملک اور بیرون ملک جانے والے مسافر سخت تشویش میں مبتلا ہیں اُنہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ باچا خان ائیرپورٹ کے اس اہم مسئلے پر توجہ دیکر جلد از جلد اس مسئلے کو حل کریں تاکہ عوام کی مشکلات کسی حد تک کم ہو سکیں۔

مورخہ : 11-10-2014 بروزہفتہ

عوامی نیشنل پارٹی سوات کے صدر اورسابق ممبرصوبائی اسمبلی شیرشاہ خان نے کہا ہے کہ دختر پختون ملالہ یوسفزئی نے امن کا نوبل انعام حاصل کرکے پورے ملک کاسرفخرسے بلند کردیا، ملالہ یوسفزئی پختونوں اورپاکستان کے لئے فخر ہے آج ملالہ یوسفزئی کے قابل قدر کارنامے پر پوری پختون قوم کا شملہ سربلند ہے ، ہم ملالہ یوسفزئی کو نہ صرف مبارکباد بلکہ ان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کو امن کانوبل انعام ملنے کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پختونوں اورخصوصاً سوات کویہ اعزاز حاصل ہے کہ امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی دختر پاکستان کاتعلق اس علاقے سے ہے اور آج ان کو انعام ملنے سے پورے پختونوں کاشملہ نہ صرف سربلند نظرآرہا ہے بلکہ پختونوں کواپنی اس بہادر بیٹی پر فخر ہے ۔ جنہوں نے اپنے ملک وقوم کا نام پورے دنیا میں بلند رکھاہے انہوں نے کہا کہ ملالہ نے ثابت کردیاہے کہ پختون قوم دہشت گرد نہیں بلکہ وہ ایک پرامن قوم ہے ۔ جو خود بھی امن سے رہنا پسند کرتے ہیں اورپورے دنیا میں بھی امن کے لئے جدوجہد کررہی ہے ۔

مورخہ : 10-10-2014 بروزجمعتہ المبارک
( پریس ریلیز )

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری و سابق صوبائی وزیر واجد علی خان نے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئ نے نوبل انعام جیت کر پختونوں اور سواتی عوام کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اور دُنیا کو یہ پیغام دیا کہ پختون قوم دہشت گرد نہیں بلکہ امن پسنداور تعلیم سے محبت رکھنی والی قوم ہے ، کم عمری میں تعلیم اور امن کی خاطر قربانیاں دینے والی ملالہ یوسفزئ نے جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اس سے سارے ملک اور خصوصاً پختونوں کے سر فخر سے بلند ہوئے ہیں ، ملالہ یوسفزئ پورے ملک کی بیٹی ہے ہمیں اُن کی اس کامیابی پر فخر ہے ، تعلیم اور امن کیلئے ملالہ یوسفزئ نے جو کام کیا آج پوری دُنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے ، پختون بچوں اور بچیوں کو ملالہ یوسفزئ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک میں قیام امن او ر تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرنا چاہئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ ملالہ کیوسفزئ کی کامیابی پر اُن کے والد ضیاء الدین یوسفزئ کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں انہوں نے آج پورے ملک اور خصوصاً پختونوں سواتی عوام کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ، اور دُنیا کو یہ پیغام دیا کہ پختون قوم دہشت گرد نہیں بلکہ امن پسند اور تعلیم سے محبت رکھنی والی قوم ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور جہالت کے دور میں ملالہ یوسفزئ نے علم کی شمع روشن رکھی اور کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا ، ہمیں اُن کی بہادری اور کامیابی پر فخر ہے ، انہوں نے پختونوں کا امیج صحیح طریقے سے دُنیا بھر میں اُجاگر کیا اور یہ پیغام دیا کہ پختون دہشت گرد نہیں ہے بلکہ امن اور تعلیم سے محبت رکھنے والی قوم ہے ۔

مورخہ 10.10.2014 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ملالہ یوسف زئی کو امن کا نوبل انعام ملنے پر اتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے اور انہیں مبارکباد پیش کی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک تہنیتی بیان میں پارٹی رہنماؤ ں نے کہا ملالہ یوسف زئی نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ، اور امن کا نوبل انعام ملنا ملک ،خصوصاََ صوبہ پختو نخوا اور پختون قوم کیلئے نیک شگون ہے ، انہوں نے کہا کہ پختو نخوا کی ایک بیٹی نے دنیا بھر میں نام پیدا کیا ہے جو ہمارے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ، انہوں نے کہا کہ ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے دشمنوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا ہے اور سوات میں قیام امن کی خاطر بیش بہا قربانی دی ہے اور اپنی گراں قدر خدمات کے صلے میں ان کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی کو ان خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان ستارہ جرات بھی دے چکی ہے ، انہوں نے ملالہ یوسفزئی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی وہ مستقبل میں بھی لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور قیام امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔

مورخہ 14.10.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے شمالی وزیرستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے 27اکتوبر کو پشاور میں ایک گرینڈ جرگہ طلب کر لیا ہے ، جرگے میں شمالی وزیرستان کے تمام قبائل کے نمائندوں کو دعوت دی جائے گی اور درپیش مشکلات اور مسائل کے حوالے سے تفصیلی بحث کی جائے گی جبکہ ان مسائل کے حل کیلئے مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا ، جرگے میں قائدین اپنی تجاویز پیش کریں گے اس موقع پر اے این پی کے قائدین شرکت کریں گے ،اور ان کی موجودگی میں وزیرستان سے متعلق تمام مسائل پر تفصیلاََ تجاویز پر بحث کی جائے گی ۔

مورخہ 14.10.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے ماہ نومبر اور دسمبر میں پشاور سٹی ضلع پشاور ، نوشہرہ اور ضلع مردان میں اضلاع کی سطح پر ورکرز کنونشن کا اعلان کر دیا ۔ اس بات کا فیصلہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ،اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور سٹی ،ضلع پشاور ، نوشہرہ اور مردان کے ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز کے باچا خان مرکز پشاور میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران کیا ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نومبر اور دسمبر میں ان چار اضلاع میں عوام کے ساتھ رابطے مزید تیز کئے جائیں گے ،اور باقی اضلاع کیلئے تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جاےئے گا ،اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ صوبے اور تمام قبائلی علاقہ جات کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کو ہدایات جاری کر دی گئیں کہ وہ 15دسمبر تک وارڈ ، سب وارڈ اور گاؤں کی سطح تک تمام تنظیمیں مکمل کی جائیں اور ان نو منتخب تنظیموں کی فہرستیں 15دسمبر تک باچا خان مرکز پشاور کو بھجوانے کے پابند ہونگے۔

مورخہ 02.10.2014 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور سیفن چوک میں گاڑی میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت جبکہ زخمیوں کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی غفلت اور تیاری نہ ہونے کی وجہ سے حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بے حسی کی انتہا کر دی ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں اور انہوں نے اپنی کاروائیاں بھی تیز کر دی ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے دھرنا سے واپس آئیں اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے اقدامات کریں۔

مورخہ : 01.10.2014 بروز بدھ
پشاور ( پ ر )لاہور کے الحمراء ہال میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے تجویز پیش کی ہے کہ ملک میں ایسا تعلیمی نصاب بنایا جائے جس سے بچے کو دہشت گردی سے نفرت ، امن سے محبت اور عقیدہ سے پیار کا درس دیا جا سکے جبکہ ترقی یافتہ قوم کیلئے خواتین کی تعلیم و تربیت اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمراء ہال لاہور میں خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والی ایک سماجی تنظیم شرکت گاہ کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر تنظیم کے تحت ملک بھر کے دور دراز علاقوں میں خواتین کی فلا ح و بہبود کیلئے کام کرنے والی خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ دور میں مردوں کے معاشرے میں خواتین کا کردار انتہائی کلیدی ہے اور جس معاشرے میں خواتین کے حقوق پر توجہ نہیں دی جاتی وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا ،تاہم خواتین میں اتنا شعور اجاگر ہو چکا ہے کہ وہ اپنے حقوق کیلئے اپنی آواز بلند کر سکتی ہیں ،البتہ مردوں کو ان کی آواز دبانے کی بجائے خود آگے آکر ان کے حقوق کیلئے سرگرم ہونا چاہئے،انہوں نے کہا کہ بھی معاشرے کی ترقی امن سے منسلک ہے اور پاکستان کی ترقی کو دہشت گردی سے خطرہ ہے میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردی جیسے ناسور کے خاتمے کیلئے ہم سب کو مل کر جہاد کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ در حقیقت بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے تاہم انہوں نے تجویز پیش کی کہ ملک میں ایسا تعلیمی نصاب بنایا جائے جس سے بچے کو دہشت گردی سے نفرت اور امن سے محبت کا درس دیا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مذاکرات بہترین آپشن ہیں تاہم مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کاروائی ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،میاں افتخار حسین نے تقریب کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لاہور سمیت پاکستان بھر کی خواتین کو یہ پیغام دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہمارے ساتھ مل کر کام کریں ۔اس موقع پر تنظیم کے تحت ملک کے سہولیات سے محروم دور دراز علاقوں میں کام کرنے والی خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی،جنہیں ان کی بہترین کارکردگی پر اعزازات سے نوازا گیا جبکہ ایشین گیمز میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی طرف سے گولڈ میڈل جیتنے پر ان کی بھرپور پذیرائی کی گئی جس پر میاں افتخار حسین نے دلی مسرت کا اظہار کیا۔

مورخہ : 01.10.2014 بروز بدھ
ماربل رائلٹی ٹیکس میں اضافہ عوام کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے، سردار حسین بابک
تین ہزار کارخانے بند ہو سکتے ہیں،صوبائی حکومت کے ظالمانہ فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ماربل رائلٹی ٹیکس میں اضافہ سراسر زیادتی ہے جس کی ہم شدید مخالفت کریں گے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی اسمبلی سیکر ٹریٹ میں تحریک التواء جمع کراتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ ماربل رائلٹی ٹیکس 30روپے سے بڑھا کر 90روپے فی ٹن کر کے اس میں 200فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ،جس سے ساڑھے تین ہزار کارخانے متاثر ہوں گے ، اور یہ عوام کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے میں پہلے ہی سے ہزاروں کارخانے بند پڑے ہیں ،جبکہ آئے روز دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات ،لوڈ شیڈنگ ،اور بجلی کے ناروا بلوں نے کارخانہ داروں اور تاجر برادری کو اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے کی واحد انڈسٹری انتہائی کٹھن حالات میں کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے لیکن حکومتی فیصلے کے بعد اب ان کیلئے اپنے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو چکا ہے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے اس ظالمانہ فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام سے روٹی کا آخری نوالہ چھیننے سے باز رہے ورنہ اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on October 1, 2014 at 9:24 am