Sept-2014

 

مورخہ : 30 ستمبر 2014 بروز منگل

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پختونخوا کا صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت سردار فخرعالم خان منعقد ہوا۔ جس میں صوبائی کابینہ کے عہدیداروں کے علاوہ ضلعی صدور اور یونیورسٹیز صدور نے شرکت کی۔ اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس میں متفقہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کر لیا گیا جس میں صوبہ بھر میں پختون ایس ایف ضلعی ورکرکنونشن کا انعقاد اور اس کے علاوہ ممبر شپ کیمپ ، بک فئیر ، ٹیلنٹ ایوارڈ پروگرام ملکی اور قومی سطح پر سیمینار ، سٹڈی سرکل ، کھیلوں کی تقریبات ، تقریری مقابلے ، امن واک اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پختون ایس ایف کے صوبائی صدر سردار فخر عالم خان ، صوبائی جنرل سیکرٹری یاسر یوسفزئی نے کہا کہ پختون ایس ایف ایک آئینی ، جمہوری اور باچا خان بابا کی سوچ و فکر کی ایک نمائندہ تنظیم ہے۔ تعلیمی اداروں میں پُر امن تعلیمی ماحول کو ترجیح دیکر عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا کہ پی ایس ایف اے این پی کا ہر اول دستہ ہے اور تعلیمی اداروں میں پرامن تعلیمی جدوجہد کرتا ہے۔ صوبے کے موجودہ صورتحال کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ صوبہ بدامنی اور مختلف مسائل کا شکار ہے جبکہ صوبے کے وزیر اعلیٰ اسلام آباد میں دھرنوں میں بیٹھا ہوا ہے۔

مورخہ : 29.09.2014 بروز پیر

خیبر پختو نخوا سے تحریک انصاف کا بوریا بستر گول ہونے والا ہے۔سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے عمران خان کی غیر سنجیدہ اور جنونی مہم کو ملکی مفاد کیلئے نقصان دہ اور نوجوان نسل کو بے راہ روی کی جانب لے جانے کی کوشش قرار دیا ہے ،
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ ماضی میں مذہبی جنونیت کو فروغ دیا گیا جس کے منفی اثرات آج تک قوم بھگت رہی ہے ،
تاہم آ ج ملک میں سیا سی جنونیت کی ترغیب دی جارہی ہے جو ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں اور نہ ہی اس سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی،
انہوں نے کہا کہ عوام باجوڑ کوہاٹ،ہنگو، جمرود ، مہمند اور قبائلی علاقوں میں اپنے شہداء کے جنازے اٹھا رہے ہیں لیکن عمران خان اور صوبے کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے مینار پاکستان جلسہ میں صوبے میں مرنے والوں کیلئے فاتحہ خوانی تک کی زحمت گوارا کی اور نہ ان کے غم و درد کی اس گھڑی میں اپنے میوزیکل گالا کو بند کیا ۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا غیر جمہوری اور غیر سنجیدہ رویہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان اس قسم کے جلسے 11مئی2013ء کے انتخابات سے قبل بھی کر چکے ہیں جن کے نتیجے میں تین صوبوں اور مرکز کے عوام نے انہیں بری طرح مسترد کر دیا ہے جبکہ مستقبل میں خیبر پختو نخوا سے بھی ان کا بوریا بستر گول ہونے والا ہے۔

مورخہ : 28.09.2014 بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے ہنگو میں آئی ڈی پیز کیمپ میں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ،اپنے ایک مذمتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ متاثرین کے کیمپ پر حملہ بزدلانہ فعل ہے اوردنیا کا کوئی مذہب ایسے مکروہ فعل کی اجازت نہیں دیتا ،پارٹی صدرنے کہا کہ متاثرین ملک میں امن کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑ کر بے یارو مددگار کیمپوں میں بیٹھے ہیں اور ایسے میں ان معصوم لوگوں کی جان لینے والے کسی طور انسان کہلانے کے مستحق نہیں ،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کی اس مذموم کارروائی میں ملوث ملک دشمنوں کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے،انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرتی تو آ ج قوم کو اس نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑتا انہوں نے کہا حکمران عوام کی حالت پر رحم کرتے ہوئے دھرنے سے واپس آ ئیں اورصوبے کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کریں۔اسفندیا رولی خان نے واقعے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور شہداء کیلئے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔

مورخہ : 28.09.2014 بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے پاکستانی صحافی فیض االلہ خان کی رہائی پر افغان حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے ، اور ان کی رہائی کو نیک شگون قرار دیا ہے،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تہنیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے صحافی فیض اللہ خان کی رہائی میں پاکستان کے دفتر خارجہ، ،سیاسی جماعتوں،سول سوسائٹی اور صحافتی تنظیموں کی کاوشوں کو بھی سراہا اور فیض اللہ خان کے خاندان کو ان کی رہائی پر دلی مبارکباد بھی دی ہے۔

مورخہ : 28.09..2014 بروز اتوار

مورخہ؛28-09-2014
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب۔
پشاور(پ ر)پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر سردار فخر عالم نے پی ایس ایف کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس منگل کے روز بوقت 12بجے دوپہرباچاخان مرکز پشاور میں طلب کیا ہے جس میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صوبائی کابینہ سمیت اضلاع اوریونیورسٹیز کے صدورشرکت کرینگے۔صوبائی ترجمان مقرب خان بونیری کے مطابق اجلاس میں تنظیمی اُمور پر بحث کی جائیگی اور مختلف اضلاع میں کنونشنز اور دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بحث کی جائیگی۔

مورخہ : 28.09.2014 بروز اتوار
صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے، سردار حسین بابک
پشاور میں طیاروں پر فائرنگ کے پے در پے واقعات اور بدامنی کی صورتحال حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں
نیا پاکستان بنانے والے ذہن نشین کر لیں کہ خیبر پختو نخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے،اور امن کا قیام ان کی ذمہ داری ہے
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی نے بڈھ بیر میں طیارے پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے ،
پارٹی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں طیاروں پر فائرنگ کے پے در پے واقعات اور بدامنی کی صورتحال ثابت کرتی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے حوالے سے نہ کوئی پالیسی ہے اور نہ ہی وہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہے،
انہوں نے کہا کہ خیبر پختو نخوا میں تحریک انصا ف اور ان کے اتحادیوں کی حکومت آنے کے بعد تجارتی سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئی ہیں سرمایہ کار صوبے میں سرمایہ کاری سے کترانے لگے ہیں ،ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان کی وجہ سے پیشہ ور ، مقامی تاجر برادری، اور صاحب استطاعت لوگ صوبے سے ہجرت کر نے پر مجبور ہو چکے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حالات سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت اور بھتہ خوروں کے درمیان مک مکا ہو چکا ہے ، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے کے واحد انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر بین الاقوامی پروازوں میں پہلے ہی کمی آچکی ہے،
جبکہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے سے رہی سہی بھی پوری ہو جائے گی،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیءں اورجھوٹے دعووں کی روایت ختم کر کے بدامنی سمیت تمام مسائل پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،
سردار حسین بابک نے کہا کہ دہشت گردی نے صوبے کو پہلے سے تباہ کیا ہوا ہے تاہم پی ٹی آئی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعدسے لگتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے،
انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ عمران خان کے 47روزہ دھرنے میں صوبے کی ابتر صورتحال کے حوالے سے ایک لفظ تک نہیں بولا گیا،
وزیرستان آپریشن کے ردعمل کے حوالے سے پہلے سے پیش گوئیاں کی گئی تھیں لیکن عمران خان نے صوبائی حکومت کو اسلام آباد میں یرغمال بنا رکھا ہے ، انہوں نے نیا پاکستان بنا نے والوں کو یاد دہانی کرائی کہ خیبر پختو نخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے اور یہاں پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ان کی اولیں ذمہ داری ہے۔

مورخہ : 26ستمبر2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ننگیالے پختون اے این پی کا سیکیورٹی ونگ ہے اور خدائی خدمتگار تحریک میں اس تنظیم نے نہایت ہی اہم اور نمایاں کردار ادا کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان وہ شخصیت تھے جس کے خدائی خدمتگار تحریک کے وقت ننگیالے پختون کے رضا کاروں کی تعداد یک لاکھ سے زائد تھی اور یہ سب عدم تشدد کے سپاہی تھے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے سیکیورٹی ونگ ننگیالے پختون کے ایک پر ہجوم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت ننگیالے پختون کے مرکزی سالار محمد رسول خان کر رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ ننگیالے پختون نے ایک خاص ڈسپلن کے تحت انگریز سامراج کے خلاف جنگ آزادی میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا اور اُس وقت سے لیکر آج تک مختلف اوقات میں اس تنظیم نے اپنے فرائض بخوبی انجام دئیے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ننگیالے پختون پارٹی کا سیکیورٹی ونگ ہے اور اس کا اصل مقصد عدم تشدد ہے لیکن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے زمانے میں انگریز جب عدم تشدد کی زبان نہیں سمجھتے تھے تو اس وقت باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کہا کرتے تھے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ پارٹی کی سوچ اور فکر کے تحفظ کیلئے پارٹی کی اس تنظیم کا ایک کردار ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا آیا کہ پختون خوا میں پارٹی کی حکومت بنی اور ہر سطح پر سیکیورٹی انتظامات سرکاری سطح پر ہوتے تھے اور اسی وجہ سے پارٹی کے سیکیورٹی ونگ ننگیالے پختون عدم توجہ کا شکار ہوا اور یہی وجہ تھی کہ یہ تنظیم فعال نہیں رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اب وقت کا تقاضا ہے اور ہم ہر قیمت پر ننگیالے پختون تنظیم کی فعالیت ترقی اور بہتری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ننگیالے پختون کو یونین کونسلز ، اضلاع ، صوبوں اور مرکزی سطح پر منظم اور فعال کیا جائیگا اور ان کی ہر ضرورت کو پورا کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کا فیصلہ ہے کہ اس تنظیم کو ری۔آرگنائز کرنے پر بھرپور توجہ دی جائے اور انشاء اللہ اس تنظیم کو باچا خان کے زمانے کی ننگیالے پختون تنطیم کی طرح ایک مثالی ، فعال اور منظم تنظیم بنائیں گے۔ اجلاس سے مرکزی سالار محمد رسول خان ، نائب صدر فاٹا عمران خان ، ملک غلام مصطفی ، سنگین خان ایڈووکیٹ اور پشاورسٹی ڈسٹرکٹ کے سالار فضل امین نے بھی خطاب کیا۔

کراچی؍ مورخہ25ستمبر 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے صوبائی تھنک ٹینک کے اجلاس کے بعد مردان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کی صورت حال کے حوالے سے حکومت اور دھرنا دینے وا لی دونوں جماعتیں کنفیوژن کا شکا ر ہیں حکومت روز اوّل سے بروقت فیصلے کرنے سے قاصر ہے پے درپے سیاسی غلطیوں کی وجہ سے درست فیصلے کرنے سے محروم ہوگئی ہے اور دوسری طرف لندن پلان کے منظر عام پر آنے اور عمران قادری ملاقات کا شروع میں انکار اور پھر اقرار سے دھر نے والوں کے مؤقف میں تضاد کھل کر سامنے آچکا ہے۔کپتان صاحب بلند و بانگ دعووں اور غیر لچکدار روّیے کی وجہ سے بند گلی میں داخل ہوچکے ہیں حکومت دھرنوں کی وجہ سے پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے سے محروم ہے دھرنوں کی طوالت کی وجہ سے کاروباری حضرات سخت پریشان ہیں اور ملکی معیشت کا شدید نقصان ہوچکا ہے ہم 2013 کے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں مگر موجودہ حکومت کو غیر آئینی طریقے اور لشکر کشی کے ذریعے ہٹانے کے مخالف ہیں ملک کی بقاء جمہوریت کے تسلسل میں ہے ، بلاشبہ ہمارے جمہوری نظام میں خرابیاں اور کمزوریاں موجود ہیں مگر دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جمہوریت ارتقائی عمل سے گزرر ہی ہے نو وارد جمہوریت کو پنپنے اور جڑپکڑنے کا موقع دیا جائے ،دھرنے کے شروع میں کپتان صاحب افغانستان کے صدارتی الیکشن کی مثال دیا کرتے تھے مگر جنگ سے تباہ حال ملک جس کا جمہوری نظام ہم سے کہیں زیادہ کمزور ہے وہاں بھی انتخابی دھاندلی کے معاملات افہام وتفہیم سے طے پاگئے ہیں خدارا ضداور انا کے خول سے باہر ملکی مفاد کے بارے میں سوچا جائے ۔انہوں نے مذید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی شہر کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے درجنوں دفاتر کو بند کروایا گیا اور علاقائی ذمہ داران و رہنماؤں کو بزور طاقت شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیاپارٹی کارکنان کے خاندانوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ان کی املاک کو بموں سے اڑایاگیا پارٹی پرچموں کو اتارا گیا ،انتخابی مہم کے دوران 24 اپریل 2013 کو مومن آباد اور 11 مئی 2013 کو الیکشن کے دن لانڈھی میں ہونے والے دھماکوں کے ذریعے ہمیں پارلیمنٹ سے بے دخل کیا گیا آج بھی شہرمیں عوامی نیشنل پارٹی کی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے ہم پر کارکنان کا بے انتہاء دباؤ ہے خداراعوامی نیشنل پارٹی کو بھی شہر میں تنظیمی سرگرمیوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ ( Level Playing Field) دی جائے ۔انہوں نے مذید کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے ہر واقعے کے بعد ذمہ داران کی شناخت نامعلوم سے کی جاتی ہے سمجھ سے بالاتر ہے کہ نامعلوم کو معلوم کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ وفاقی حکومت کی دلچسپی کی وجہ سے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی ابتداء میں حالات میں کچھ بہتری پیدا ہوئی تھی مگر اسلام آباد میں دھرنا شروع ہوتے ہی وفاقی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور ان کی تمام تر توجہ دھرنے کی جا نب مبذول ہوئی جس کی وجہ سے کراچی کے حالات بھی بگڑتے گئے،چند سال پہلے کراچی کی خراب صورت حال کی وجہ سیاسی جماعتوں کی باہمی بیان بازی بتایا جاتا تھامگر دو سال سے زائد عرصہ کے بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں۔ شہر میں قیام امن کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں خاص طور پر پولیس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے عوامی نیشنل پارٹی کا مطالبہ ہے کہ شہر میں جاری آپریشن کو ہر صورت میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ ملک اس وقت انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار ہے فوج مختلف محازو ں پر بر سر پیکار ہے خطے میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے دھرنوں کی وجہ سے وفاقی حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے ملک پر دہشت گردی کے خطرات مسلسل منڈلارہے ہیں ایسے موقع پر نئے صوبوں کا مطالبہ غیر مناسب ہے آج کی پریس کانفرنس سے میں ایک مرتبہ پھر واضح کردوں کہ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے ۔انہوں نے مذید کہا کہ اس وقت 10 لاکھ سے زائد قبائلی اپنے گھروں سے بے دخل ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہیں بد قسمتی سے دھرنوں کی وجہ سے قوم کی خاطر گھر بار چھوڑنے والوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے زندہ قومیں قربانی دینے والوں کی قدر کرتی ہیں انہیں سینے سے لگاتی ہیں اپنی سر آنکھوں پر بٹھاتی ہیں میری حکومت اور خاص طور پر میڈیا سے اپیل ہے کہ کسی انسانی المیہ کا انتظار کرنے کے بجائے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی مشکلات کا احساس کیا جائے ، آج کی پریس کانفرنس کے توسط سے میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پورے ملک خاص طور پر صوبۂ سندھ اور پنجاب میں پختونوں کے شناختی کارڈ کے حصول کی راہ میں حائل مشکلات کو ختم کیا جائے اور قومی شناختی کارڈ کے حصول کو آسان بنایا جائے اور کراچی میں پختونوں کو ڈومیسائل اور کالجز و یونیورسٹی میں داخلے کا حصول کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے ۔ اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری،سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک،نائب صدر حاجی اورنگ زیب بونیری اور مرکزی لیبر سیکریٹری امیر نواب خان بھی موجود تھے ۔

مورخہ : 25.09.2014 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان افغانستان کے نو منتخب صدر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرینگے، اس سلسلے میں باقاعدہ دعوت نامہ بھی موصول ہو چکا ہے جبکہ پارٹی صدر نے تقریب میں شرکت پر رضامندی کا اظہار کیا ہے،یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ایک وفد نے گزشتہ روز پاکستان میں افغانستان کے سفیر جانان موسیٰ زئی سے ملاقات کی تھی اور انہیں اسفندیار ولی خان کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا تھا۔

مورخہ : 24 ستمبر 2014 بروزبدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے 5 رکنی وفد نے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کی سربراہی میں اسلام آ باد میں افغان سفیر جانان موسیٰ زئی سے ملاقات کی ہے ، وفد کے دیگر ارکان میں پارٹی کے سیکرٹری امور خارجہ بشیر احمد مٹہ، سینیٹر داؤد خان ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر زاہد خان اور سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل شامل تھے، اس موقع پر اے این پی کے وفد نے پاکستان میں افغان سفیر کو پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کا خیر سگالی اور مبارکباد کا پیغام پہنچایا اور افغانستان میں نئے صدر اشرف غنی اور عبد اللہ عبد اللہ کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولہ خوش اسلوبی سے طے پانے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا، ملاقات کے بعد افغان سفیر اور میاں افتخار حسین نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ افغانستان میں جمہوریت کیلئے باہمی افہام وتفہیم سے انتہائی مدبرانہ فیصلہ کیا گیا ہے اور وسیع النظری میں جمہوریت کی خاطر خوش اسلوبی سے شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پاگیا ہے ، افغان سفیر نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور ہماری خواہش ہے کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ایسے تعلقات کو فروغ ملے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے بھی خیر سگالی کے پیغامات خوش آئند ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ دونوں ملک خطے میں قیام امن کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور وفد کے تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اے این پی ہمیشہ کی طرح افغانستان کی سیاسی ، تجارتی ، ثقافتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گی۔

مورخہ : 24.09.2014 بروز بدھ
صوبائی حکومت کی لاپرواہی سے بدامنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ، محمد کریم بابک
عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا گیا ہے جن کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی، تقریب سے خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا گیا ہے جن کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی ،
ان خیالات کا اظہار اے این پی کے سابق صوبائی وزیر اور بونیر کے ضلعی صدر محمد کریم بابک نے موضع نامدار بونیر میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر جماعت اسلامی ، مسلم لیگ اور قومی وطن پارٹی سے62گھرانوں نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،
شمولیت اختیار کرنے والوں میں گل خالق ، زرتاج زمین ، سلطان محمد ،انور علی،علی محمد ، تاج محمد، شیر زمین ، راج ولی، نقیب زادہ، بخت رحمان ،قلندر شاہ،گل حکیم ، محمد زادہ،فضل غفور ار عبد الغفور سرفہرست ہیں جن کی سربراہی میں سینکڑوں افراد پارٹی مین شامل ہوئے
محمد کریم بابک نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ اے این پی نے5 سال تک اقتدار میں رہتے ہوئے بھی عوام کی خدمت کی لوگوں کو روزگار دیا اور صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ، جبکہ اب اقتدار کے بغیر بھی عوام کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں،
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی لاپرواہی اور غیر سنجیدگی کے باعث صوبے میں بدامنی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ، محمد کریم بابک نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر صوبے کا سارا نظام درہم برہم ہو چکا ہے ۔ اس موقع پر شیر خان ، راحت جمیل ،بخت نواب ، نور رحمٰن اور جاوید خان نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ : 24 ستمبر 2014 بروزبدھ

مرکزی اور صوبائی حکومت کا ٹکراؤ صوبے کے مفادات کے منافی ہے۔ سردار حسین بابک
وزیر اعلیٰ کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بناکر صوبے کے حقوق کی وکالت کرنی چاہیے،
ر صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے اس طرح کے حالات ٹکراؤ جیسے حالات خطرناک صورتحال اختیار کر گئے ہیں
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کا ٹکراؤ صوبے کیلئے نقصان دہ ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس دو بار خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا اجلاس میں شرکت سے انکار کی وجہ سے ملتوی ہونا صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ وزیر اعلیٰ کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بناکر صوبے کے حقوق اور مسائل کی وکالت کرنی چاہیے۔ صوبہ پہلے سے مسائل سے دوچار ہے اور مرکز کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مسائل کے حل کیلئے مشترکہ مفادات کونسل بہترین فورم ہے۔ وزیر اعلیٰ کا اجلاس میں انکار صوبے کو مزید مشکلات سے دو چار کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو بیروزگاری 249 مہنگائی اور بدامنی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں مرکزی اور صوبائی حکومت کے شدید اختلافات صوبے کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ لہٰذا عوام کی فلاح و بہبود اور صوبے کے حقوق کیلئے اس طرح کے حالات خطرناک صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔ صوبے کی حکومت کو فراخدلی اور سیاسی بالغ النظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور مرکزی حکومت کو بھی صوبے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر صوبے کو خاطر خواہ مالی اعانت کی ضرورت ہے۔

مورخہ : 23.09.2014 بروز منگل
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پا رٹی کے صوبائی سیکرٹری اقلیتی امور اور سابق ایم پی اے آصف بھٹی نے کہا ہے کہ کوہاٹی بم دھماکوں میں مرنے والوں کے لواحقین کو تاحال کوئی رقم ادا نہیں کی گئی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوہاٹی چرچ بم دھماکوں کا ایک سال مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں شرکت کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کیا ، آصف بھٹی نے کہا کہ دھماکے میں مرنے والے 6افراد میونسپل کارپوریشن کے ملازمین تھے تاہم ابھی تک ان کے لواحقین کو ایک پائی تک نہ مل سکی ، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے بھی امدادی رقوم کے چیک تقسیم کئے گئے لیکن متاثرین کی اکثریت اس امداد سے بھی محروم ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کیلئے امدادی رقوم کا فی الفور انتطام کیا جائے تا کہ اپنے پیاروں کو کھونے والوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

مورخہ 23 ستمبر 2014ء بروز منگل

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے قائمقام صدر سردار زیب آف بہادر کلے کی صدارت میں یونین کونسل بڈھ بیر کا ایک خصوصی اجلاس بمقام حجرہ عنایت شیر (قائمقام صدر یو سی بڈھ بیر) منعقد ہوا‘ جس میں صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈووکیٹ (سابق ڈپٹی سپیکر)‘ ضلعی جنرل سیکرٹری گلزار حسین اور سیکرٹری اطلاعات زاہد حسین کے علاوہ بڈھ بیر یونین کونسل اور وارڈز کے عہدیدار اور کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی‘ اجلاس سے صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈووکیٹ‘ ضلعی جنرل سیکرٹری گلزار حسین اور سیکرٹری اطلاعات زاہد حسین نے اجتماع سے الگ الگ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام تحریک انصاف کو ووٹ دیکر پہلے ہی پشیمان ہے لیکن موجودہ غیر یقینی صورتحال نے انکی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے‘ صوبے کے عوام کے مسائل کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہئیں اور آئے روز دھماکوں‘ ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان سے نجات دلانی چاہئے‘ عام انتخابات میں پی ٹی آئی والوں نے بہت بلند و بانگ دعوے کئے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کو کوئی ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہی اور اس ناکامی کو چھپانے کیلئے چیئرمین سمیت صوبائی حکومت نے اسلام آباد کا رخ کیا ہے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے عوام کی توجہ فلاپ دھرنا کی طرف مبذول کئے ہوئے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے پانچ دور اقتدار میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ پر کام شروع کیا تھا‘ تعلیمی لحاظ سے 65 سالہ ریکارڈ توڑ کر تعلیمی میدان میں سرخرو ہوئی ہے‘ انہوں نے مزید کہا کہ کارکن پارٹی کی شب و روز خدمت کر کے باچا خان بابا کا عدم تشدد کا فلسفہ کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔

مورخہ : 23.09.2014 بروز منگل
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے پشتو کے نامور شاعر ، ادیب، افسانہ نگار، اے این پی کے سابق جنرل سیکرٹری اور ’’ پختون میگزین ‘‘ کے سابق مدیر سید مہدی شاہ مہدی کی بیوہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ،ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ سید مہدی شاہ باچہ کی پشتوزبان اور پختون قوم کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں ،انہوں نے کہا کہ اے این پی اور خیبر پختونخوا کے عوام غم کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہیں،انہوں نے غمزدہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت اور بلندی درجات اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ۔

مورخہ : 23.09.2014 بروز منگلٍ
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین پشاور بم دھماکے کے فوراََ بعد ہسپتال پہنچ گئے اور وہاں واقعے میں زخمی ہونے والے کی عیادت کی ۔ انہوں نے فرداََ فرداََ تمام زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور ہسپتال انتظامیہ کو ان کے بہتر علاج معالجے کی تلقین کی ۔
اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، انہوں نے کہا کہ پشاور بم دھماکہ وزیرستان آپریشن کا رد عمل ہے ، انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے ، تاہم دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور افراتفری کے عالم میں سکیورٹی اہلکاروں اور بے گناہ افرادکو نشانہ بنا رہے ہیں ،انہوں نے حکومت کو خبر دار کیا کہ ان واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور دہشت گردوں کو منظم ہونے سے روکنے کیلئے سخت اقدامات کرے،کیونکہ مستقبل میں ایسے واقعات زور پکڑ سکتے ہیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پشاور کے اردگرد علاقوں میں جہاں پہلے سے قائم چیک پوسٹیں ختم کر دی گئی تھیں انہیں واپس بحال کیا جائے اور مذموم کاروائیوں میں ملوث عناصر کا قلع قمع کرنے کیلئے تمام اقدامات کئے جائیں،
میاں افتخار حسین نے صوبائی حکومت کا یہ دعویٰ کہ دہشت گردی انہیں ورثے میں ملی ہے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ہمارے دور حکومت میں وزیرستان آپریشن شروع نہیں ہوا تھا اسی لئے دہشت گرد منظم تھے اور یہاں کاروائیاں کرتے رہے جبکہ وزیرستان آپریشن کے بعد دہشت گرد افراتفری کے عالم میں رہے جس کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی اور صوبے میں کچھ عرصہ کیلئے امن رہا تاہم صوبائی حکومت کسی غلط فہمی میں رہنے کی بجائے ان حالات کو سنجیدگی سے لے اور امن کے اس عرصہ کو غنیمت جانتے ہوئے اس کے تدارک کیلئے ایسے اقدامات کرے جس سے دہشت گردوں کو منظم ہونے سے روکا اور عوام کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں،
انہوں نے صوبے میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بھتہ خوری ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے ، جو صوبے کے عوام کیلئے انتہائی خطرناک ہے انہوں نے کہا صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر بھی غور کرنا چاہئے کیونکہ مستقبل میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافے کا امکان ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ عمران خان کے دورہ کراچی کے بعد صوبائی حکومت کو دھرنے سے چھٹی ملی اور وزیر اعلیٰ اور وزراء اس موقع پر صوبے میں موجود تھے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں قیام امن کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں میں عوامی نیشنل پارٹی ان کا بھرپور تعاون کرے گی ،انہوں نے شہید ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔

مورخہ : 23.09.2014 بروز منگل

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے ہری پور میں گزشتہ روز ہونے والے ٹریفک حادثے پر انتہائی رنج و غم اور ھنگو میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ ناگہانی اموات اللہ تعالیٰ کی جانب سے امتحان ہے،
انہوں نے سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں خود کو تنہا نہ سمجھیں ، عوامی نیشنل پارٹی ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے،
سردار حسین بابک نے ہنگو میں چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور اس واقعے میں بے گناہ راہگیر اور سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ،
انہوں نے کہا کہ ملک کا امن سبوتاژ کرنے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ،انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز پر حملے بزدلانہ فعل ہے اور ایسی مذموم کارروائیوں سے عوام اور سیکورٹی اہلکاروں کے حوصلے پست نہیں ہونگے
انہوں نے دہشت گردی کی کارروائی میں شہید ہونے والے اہلکار وں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی،
پارٹی رہنما نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔

مورخہ 23.09.2014بروز منگل
پشاور ( پ ر ) چترال میں علمائے کرام کا ایک خصوصی اجلاس شاہی مسجد میں منعقد ہوا جس میں علاقے میں ترقیاتی کاموں کا بغور جائزہ لیا گیا ، اس موقع پر علمائے کرام اور علاقہ معززین نے اپنے علاقوں میں ریکارڈ ترقیاتی کاموں پر عوامی نیشنل پارٹی کی سابق حکومت کو زبر دست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں جتنے ترقیاتی کام کئے گئے ان کی مثال 67سالہ تاریخ میں نہیں ملتی ، انہوں نے کہا علاقے میں ترقیاتی کاموں اور عوام کو سہولیات مہیا کرنے کا سہرا اے این پی کے سر ہے،انہوں نے اس بات پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا کہ پارٹی نے شاہی مسجد کی مرمت کیلئے فنڈز فراہم کر کے اسلام دوستی کا ثبوت دیا ہے اور پارٹی کی یہ خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کی کامیابی کیلئے خصو صی دعا بھی کی گئی۔

مورخہ : 23.09.2014 بروز منگل
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پشاور میں ہونے والے دھماکے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کا امن سبوتاژ کرنے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں پر حملے بزدلانہ فعل ہے اور ایسی مذموم کارروائیوں سے عوام اور سیکورٹی اہلکاروں کے حوصلے پست نہیں ہونگے ،پارٹی صدرنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کی اس مذموم کارروائی میں ملوث ملک دشمنوں کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ،انہوں نے کہا کہ ملک میں شورش پھیلانے والے پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کا کسی نظریے یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کے حکمران عوام کو بے یارو مددگار دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسلام آباد فتح کرنے کیلئے دھرنے میں جا بیٹھے ہیں ، جو قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، اور ان کی لاپرواہی کی وجہ سے صوبہ خیبر پختو نخوا میں اقلیتی افراد بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اپنی جانیں بچانے کیلئے وہ صوبے سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ۔ اسفندیار ولی خان نے واقعے میں شہیدہونے والوں کیلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعابھی کی ۔

مورخہ : 22 ستمبر 2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کوہاٹی چرچ کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران اُنہوں نے سانحہ کوہاٹی میں ہلاک شدگان کے پسماندگان اور رشتہ داروں سے ملاقات کی اور اُن کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ سانحہ کوہاٹی چرچ کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد اے این پی کے وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی نے ملک کے کونے کونے میں اور ہر مذہب اور مسلک کے لوگوں کو نہیں بخشا ہے اور آج سارے ملک میں دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کے لوگ اپنے پیاروں کو نہ صرف بے چینی سے یاد کر رہے ہیں بلکہ ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے دُعا گو ہیں، بدامنی اور دہشتگردی سے بیزار ہو چکے ہیں۔ اُنہوں نے اس موقع پر کہا کہ اے این پی کوہاٹی چرچ کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور اُن کے غم و داد کو اپنا سمجھتے ہیں۔

مورخہ : 22 ستمبر 2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اے این پی کا ہر اول دستہ ہے وقت اور حالات کا تقاضاہے کہ پختون باچاخان کے سرخ جھنڈے تلے متحد اور متفق ہوجائیں وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں پختون ایس ایف کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کررہے تھے جنہوں نے پی ایس ایف ضلع مردان کے سینئر نائب صدر نوازشریف کی قیادت میں ان سے ملاقات کی، پارٹی کے مرکزی کونسل کے رکن محمدجاوید یوسفزئی اوردیگر نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی ملک میں سیاسی استحکام کے لئے کوشاں ہے اورجمہوریت ڈی ریل کرنے والی قوتوں کی بھرپور مخالفت کی جائے گی انہوں نے کہاکہ عمران خان کے عزائم نئے پاکستان کے نہیں بلکہ وہ اپنی حکومت کی ناکامی چھپانے اور وزیراعظم بننے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے لانگ اورشارٹ مارچ پر تلے ہوئے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اس وقت ملک شدید خطرات میں گراہواہے مرکزی اورصوبائی حکومت ہوش کے ناخن لیں اور جمہوریت کے استحکام اور غریب عوام کی حالت زار بدلنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اے این پی کے صوبائی صدر نے پارٹی پختون ایس ایف کے کردار اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس وقت پختون قو م تقسیم درتقسیم کی شکارہے جس کا انہیں بھاری نقصان اٹھاناپڑرہاہے انہوں نے کہاکہ قومی وحدت پیدا کرنے کے لئے ہمیں نئے سرے سے سوچنا ہوگا تاکہ حقیقی ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے خیبرپختون خوا کے عوام مستفید ہوسکیں سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ تبدیلی اور انصاف کے بلند وبانگ دعوے کرنے والو ں کی حکومت میں غریب شہری مہنگائی ،بے روزگاری اورانصاف کے لئے ترس رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ان کے دورمیں مردان میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے جبکہ موجودہ حکمرانوں نے اپنے انتخاب سے اب تک ایک اینٹ بھی نہیں رکھی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون قوم کو حقیقی تبدیلی کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکھٹا ہونا ہوگا قومی وحدت اور اتفاق رائے وقت کی اہم ضرورت ہے اورہمیں قوم پرستی کے جذبے کو ابھارناہوگاامیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پاکستان خدائی خدمت گار تحریک کے بانی باچاخان اوران کے رفقاء کی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیاہے ان کاکہناتھاکہ انگریزوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر ان کو نہ صرف قید وبند کی مشکلا ت سے دوچار ہوناپڑا بلکہ ان پر کفر کے فتوے بھی لگائے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہمارے لئے ہمارے آباؤاجداد کے اصول مشعل راہ ہونی چاہئے جنہوں نے اس مٹی کی خدمت کے لئے اپنے تن من دھن کی بازی لگائی لیکن پختون قوم کے حقوق پر سودابازی نہیں کی ان کاکہناتھاکہ ہمارے آباؤاجدا د اس دھرتی کے لئے پختونوں کے نام اوراس خطے کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے اور اے این پی کی حکومت میں ان کے یہ ارماں پورے ہوگئے سرخ جھنڈے کی دورحکومت میں صوبے کو خیبرپختون خوا نام کی شناخت ملی اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے مرکزسے وسائل صوبے کو منتقل کردیئے ۔

مورخہ : 22 ستمبر 2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) سابق وفاقی وزیر اوراے ین پی کے مرکزی رہنما حاجی یعقوب خان نے کہاہے کہ آزادی اورانقلاب مارچ والے مشرف کے ساتھی ہیں ،عمران خان کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں ، ان کے قوم وفعل میں تضادہے ،جاوید ہاشمی کو جمہوریت کے خلاف سازش بے نقاب کرنے کے انعام کے طورپر تمغہ شجاعت اور تمغہ جمہوریت سے نوازنا چاہئے وہ شیخ ملتون میں اپنی رہائش گاہ پر اپنے صدارت منعقدہ شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں پی ٹی آئی شیخ ملتون کے نائب صدر ذاکرخان ،پروفیسر سلیم ،سکندرخان ،تیمورخان ،اعظم خان سمیت دیگر درجنوں افراد نے اپنی پارٹیوں سے مستعفی ہوکر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اور صوبائی اسمبلی کے سابق امیدوار علی خان نے انہیں ٹوپیاں پہنائیں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حاجی یعقوب خان نے کہاکہ 40دن سے اسلام آباد میں آزادی اورانقلاب کے نام پر میلہ لگاہواہے اگر خیبر پختون خوا کی کوئی پارٹی ریڈ زون میں جلسہ کرتی تو اب تک ان پر غداری کے مقدمات درج ہوتے اوران پر گولیاں چلائی جاتی لیکن پنجاب سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں کو کچھ نہیں کہاجارہاانہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے نئے پاکستان اورتبدیلی کے نام پر عوام کو سنہرے خواب دکھائے لیکن آج تک کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا انہوں نے کہاکہ پختون سادہ مزاج ہیں اورنوجوان بھی اس صورتحال میں بے قصور ہیں انہوں نے مطالبہ کہ عمران خان کو کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنا چاہئے کیونکہ ان کو مینڈیٹ خیبرپختون خوا کے عوام نے دی ہے اوروہ پنجاب کی نمائندگی کررہے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان،طاہر القادری ،شیخ رشید احمد،چوہدری برادران جنرل مشرف کے ساتھی ہیں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ پی کے 24کے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی علی خان نے کہاکہ تحریک انصاف والوں نے خیبرپختون خوا کو یتیم کرکے چھوڑ دیاہے بارشوں میں یہاں چھتیں گررہی تھی اور جنازے اٹھ رہے تھے جبکہ صوبے کے وزیراعلیٰ ناچ گانوں میں مصروف تھے انہوں نے کہاکہ عمران خان دن میں سوتے ہیں اورراتوں کو جاگ رہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف نے روزگار ،سستے انصاف اورنوے دن میں بلدیاتی انتخابات کے وعدے کئے لیکن ڈیڑھ سال میں کوئی بھی وعدہ پورانہیں کیا عوام بے روزگاری ،لاقانونیت اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آچکے ہیں اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ایڈووکیٹ نے کہاکہ پختونوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکٹھاہونا ہوگا انہوں نے کہاکہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں صوبے کو نام کی شناخت دی ،این ایف سی ایوارڈ سمیت مرکزی حکومت سے رائلٹی وصول کرکے صوبے کی ترقی پر خرچ کیا ہے انہوں نے کہاکہ صوبے میں 350پن بجلی منصوبوں کی منظوری اے این پی کے دور میں ہوئی ہے جن میں سات منصوبے مکمل ہوگئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی والے ہمارے منصوبوں کو اپنے کھاتے میں ڈال کر عوام کو جھوٹ بول رہے ہیں ۔

مورخہ : 22.09.2014 بروز پیر
جمہوری قوتوں کو مذاکرات اور پارلیمنٹ کے ذریعے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہئے میاں افتخار
جمہوریت برداشت اور قوم کے مینڈیٹ کا احترام کرنے کا نام ہے ، صوبے میں ہم نے تحفظات کے باوجود پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کا احترام کیا
افغانستان کی قیادت نے نئی جمہوریت کی خاطر اپنے معاملات باہم افہام وتفہیم سے طے کر لئے ہیں جس پر وہ انتہائی مبارکباد کے مستحق ہیں
نوجوان اپنی اسمبلیوں میں اینٹ بجری کی بجائے بین الاقوامی معاملات زیر بحث لائیں ، اے این پی رہنما کا یوتھ اسمبلی میں خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کر مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی نوجوان نسل کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیو نکہ مستقبل میں ملک کی باگ ڈور نوجوانوں نے ہی سنبھالنی ہے ، ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے ڈسٹرکٹ ہال پشاور میں یوتھ اسمبلی میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ اس موقع پر سوال جواب کا سیشن بھی ہوا ، میاں افتخار حسین نے یوتھ اسمبلی کے انعقاد پر نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی بہترین کاوشوں پر انہیں مبارکباد بھی پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی یوتھ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیو نکہ باچا خان نے 1924ء میں یوتھ لیگ کی بنیاد رکھی تھی،
میان افتخار حسین نے کہا کہ جمہوریت برداشت ، اکثریت کا فیصلہ کھلے دل سے تسلیم کرنے اور قوم کے مینڈیٹ کا احترام کرنے کا نام ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں ہم نے تحفظات کے باوجود پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کا احترام کیا اسی طرح تحریک انصاف کو بھی مرکز میں نواز حکومت کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہئے ،
انہوں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ماضی سے سبق سیکھا اور منفی سیاست چھوڑ کر مثبت سیاست کی بنیاد رکھی انہوں نے کہا کہ الیکشن میں شکست کا سامنا کرنے والوں کو اگلے انتخابات کا انتظار کرنا چاہئے۔اس موقع پر مختلف سوالات بھی کئے گئے ۔
میاں افتخار حسین نے جمہوریت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں نئی جمہوریت آئی ہے اور انہوں نے نئی جمہوریت کی خاطر اپنے معاملات باہم افہام وتفہیم سے طے کر لئے ہیں جس پر وہ انتہائی مبارکباد کے مستحق ہیں ، انہوں نے کہا افغانستان ایک ایسے مشکل دور سے گزرا ہے جہاں عقل و فہم اور مدبرانہ فیصلے کرنا انتہائی مشکل مرحلہ تھا تاہم یہ کریڈٹ ان کی نئی بننے والی جمہوریت کو جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے معاملات خوش اسلوبی سے طے کر لئے ہیں، اسی طرح ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا ملک ہندوستان خطے کی سب سے پرانی اور مضبوط جمہوریت ہے جہاں کانگریس کی موجودگی میں ہونے والا الیکشن خود کانگریس ہار گئی اور فتح حاصل کرنے والے کو اقتدار سونپ دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا ہے بہتر ہوتا کہ ہم ان حالات میں خطے کی بڑی جمہوریت یا نئی جمہوریت سے سبق سیکھتے اور جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنا یا جاتا ،انہوں نے کہا کہ جمہوری قوتوں کو مذاکرات اور پارلیمنٹ کے ذریعے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہئے،میاں افتخار حسین نے یوتھ اسمبلی کے انعقاد پر نوجوانوں کو ایک بار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں نوجوان نسل میں قیادت کی صلاحیت موجود ہے ،انہوں نے یوتھ کو پیغام دیا کہ وہ اپنی اسمبلیوں میں اینٹ بجری کی باتیں نہ کریں بلکہ بین الاقوامی سیاست و معاملات ملک کی اندرونی صورتحال ، صوبے کے اندرونی معاملات اور مثبت پالیسیوں پرکام کیا جائے،اور اسمبلیوں میں ایسا کردار ادا کیا جائے جس سے ملک کی تقدیر بدلنے کے امکانات روشن ہو سکیں

مورخہ 21.09.2014بروز اتوار

پشاور( پ ر) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام امن کے عالمی دن کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب زیر صدارت مرکزی صدر خوشحال خان با چا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوئی،اجلاس میں تنطیم کے مرکزی صدر خوشحال خان ،صوبائی سینئر نائب صدر گلزار خان ، نائب صدر پلوشہ بشیر نے شرکت کی جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض بہرام خان ایڈوکیٹ نے ادا کئے اس موقع پر تنظیم کے مرکزی صدر خوشحال خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم ہے اور تنظیم کے کارکنان باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کو گھر گھر پہنچانے کیلئے کوشاں ہیں، انہوں نے کہا کہ پختون ایک امن پسند قوم ہے اور باچا خان کے عدم تشدد کے اور امن کے فلسفے پر پوری طرح کاربند ہے، انہوں نے کہا کہ ہم خطے اور بالخصو ص فاٹا میں امن کا قیام چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ مستحکم ملک کیلئے پرامن افغانستان کا ہونا انتہائی ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کے غیر جمہوری رویے کی وجہ سے دہشت گرد پھر سے سر اٹھانے لگے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی حکومت نے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے جس کے باعث عوام میں امن کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے قوم کو ہمیشہ امن اور عدم تشدد کا پیغام دیا ۔
تنظیم کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پختون امن پسند قوم ہے اور جب تک پختون سرزمین پر امن قائم نہیں ہو تا خطے میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، سنگین خان ایڈوکیٹ نے صوبے میں بدامنی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو بھتہ خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسلام آباد کو فتح کرنے اور ناچ گانوں میں مصروف ہے ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی بے حسی کے باعث صوبے کے عوام پریشان حال ہیں اور اپنے لئے کسی مسیحا کے منتظر ہیں ، انہوں نے عالمی یوم امن کے حوالے سے کہا کہ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ایک پرامن قوم ہیں اور باہر سے مسلط کردہ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں ، تقریب کے آخر میں تقریب کے شرکاء نے امن واک کا بھی اہتمام کیا تھا۔

مورخہ : 20 ستمبر 2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے امن کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان بابا کے فلسفہ امن و عدم تشدد اور اپنی صد سالہ سیاسی تاریخ کے تسلسل میں ملک اور پوری دُنیا میں امن کے قیام کیلئے اپنا سیاسی جدوجہد برقرار رکھے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان بابا کی عالمگیر سیاسی فکر اور فلسفہ عدم تشدد کی امین جماعت ہے اور افراد و اقوام کے بنیادی حقوق پر یقین رکھتی ہے۔
اُنہوں نے خطے میں جاری جنگ میں شامل تمام ریاستوں اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ امن کے قیام کیلئے کوششیں تیز تر کر دیں اور اس خطے میں امن قائم کر کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور تمام مکتبہ فکر سے وابستہ افراد اور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وزیرستان کے لاکھوں آئی ڈی پیز اور متاثرین سیلاب کی امداد اور بحالی کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھائیں۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم سب باالخصوص تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ امن کی بنیادی تعلیم کو معاشرے میں عام کریں اور اپنے نوجوانوں اور آئندہ نسل میں امن سے محبت اور تشدد سے نفرت کی سوچ کو فروغ دیں۔ تاکہ صحیح معنوں میں مہذب معاشرہ اور ملک کا قیام ممکن ہو سکے اور دُنیا بھر میں امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

مورخہ : 20 ستمبر 2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر) ساؤتھ ایشیاء انٹر پارٹنر شپ پاکستان کے زیر اہتمام امن فیسٹیول میں اے این پی مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین خصوصی دعوت پر بحیثیت سے مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر اُنہوں نے فیسٹیول سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دھرتی پر امن کو سب سے زیادہ خطرہ دہشتگردی سے ہے۔ جب تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک مکمل امن کا قیام نا ممکن ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دو ہی مروجہ طریقے ہیں پہلا اور مؤثر طریقہ مذاکرات ہیں لہٰذا عوامی نیشنل پارٹی نے امن کے قیام کیلئے اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مذاکرات کیے اور خلوص دل سے اُن کے تمام مطالبات تسلیم کیے۔مگر اس کے باوجود دہشتگردوں نے دہشتگردی جاری رکھی لہٰذا ہم نے مجبوراً دوسرا طریقہ کارروائی کا اختیار کیا۔اور ملاکنڈ ڈویژن میں دہشتگردوں کی متوازی حکومت ختم کر دی آج بھی ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت ملاکنڈ ڈویژن میں امن قائم ہے۔ موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومت بدقسمتی سے مذاکرات کرنے میں بالکل ناکام رہے اور اُنہوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ لہٰذا آج وزیرستان میں کارروائی جاری ہے اس موقع پر دونوں مرکزی اور صوبائی حکومت کو کارروائی کو کامیاب بنانے کیلئے سنجیدگی اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی کی اونر شپ اور تمام اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔ اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو شایدپھر دہشتگردی کے خاتمے کا یہ موقع ہاتھ نہ آئے ۔ اس موقع پر وزیرستان نے باشندوں نے کارروائی کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے گھر بار چھوڑے اور آئی ڈی پیز کی صورت میں ملک کے کئی مقامات میں بسے ہوئے ہیں۔ امن کیلئے اشد لازمی ہے کہ وزیرستان کے آئی ڈی پیز کا ہر صورت خیال رکھا جائے۔ اور جو قربانی اُنہوں دی ہے اُس کا بھرپور صلہ دیا جائے۔ بصورت دیگر اگر ہمارے رویوں سے وہ مایوس ہوئے تو دہشتگردی میں اضافے کا خطرہ بڑھ جائیگا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جاری کرسی کی جنگ کی وجہ مرکزی اور صوبائی حکومت قیام امن اور آئی ڈی پیز کی بحالی پر کوئی توجہ نہیں دے پا رہی جو نہایت تشویشناک ہے۔ ہمارے خطے میں طویل عرصے سے امن ناپید ہے لہٰذا یہ سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ سمجھ کر تمام سیاسی پارٹیوں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگ اپنے نظریات سے بالا تر ہو کر امن کے قیام کیلئے جدوجہد کریں۔ اس موقع پر ملک کسی بھی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا حکومت پاکستان اور دھرنوں والے وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے کرسی کی لڑائی کو ترک کر دیں اور امن کے قیام پر توجہ دیں۔ اس وقت پاکستان بھر میں دہشتگردی جاری ہے جو کہ امن کے قیام کیلئے ایک چیلینج ہے مگر خصوصی طور پر خیبر پختونخوا میں اس کی شدت کافی زیادہ ہے اور خیبر پختونخوا کا دل دارالخلافہ پشاور میں اس وقت امن فیسٹیول کا قیام ایک تاریخی قدم ہے۔ ہم امن فیسٹیول منعقد کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اُن کی جرأ ت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اور پشاور سے امن کے عالمی دن کے موقع پر دُنیا بھر کی امن پسند قوتوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ امن کے قیام کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سیاسی لیڈر شپ اور سول سوسائیٹی کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ موجودہ صورتحال میں جرأت اور بہادری کیساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے کیونکہ ڈرنے یا خوف زدہ ہونے سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کی یہ بلا نہیں ٹل سکتی۔موجودہ وقت صرف ہم سے جرأت اور بہادری کا تقاضہ کرتا ہے تاکہ اپنے معاشرے اور آئندہ نسل کو ایک پر امن اعتدال پسند مستقبل دینے میں کامیاب ہو سکے۔

مورخہ : 20 ستمبر 2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر) امن کی خاطر اے این پی کی قربانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے عالمی یوم امن کے موقع پر کہا ہے کہ امن کے بغیر ترقی ناممکن ہے اور امن کو یقینی بنانے کیلئے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ بدامنی نے ہماری معیشت اور اقتصاد کو تباہ کر دیا ہے۔ بدامنی ختم کرنے کیلئے مصلحتوں سے نکلنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے قائدین ، عہدیداروں اور کارکنوں کی قربانیاں سنہری حروف سے لکھی گئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک اور خصوصاً خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات میں بدامنی نے پختونوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ فخر افغان باچا خان اور ان کے ساتھیوں نے عدم تشدد سے محبت اور تشدد سے نفرت کا درس دیا ہے۔ اور اسی فلسفے پر عمل پیرا ہو کر اے این پی امن کے قیام کیلئے لازوال قربانیاں دیں ہیں اور امن کے قیام کیلئے جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے سیکیورٹی فورسز ، سول سوسائٹی ، میڈیا اور عوام کی قربانیاں بھی قابل ستائش ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے یک آواز ہونا پڑے گا اور تعلیم کو عام کرنا پڑے گا اور شرپسندقوتوں کو مؤثر جواب دینا پڑے گا۔ تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ امن کے عالمی دن کی مناسبت سے دُنیا کے تمام ممالک کو دُنیا کے کونے کونے میں امن کے قیام کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھانے ہونگے۔

مورخہ : 20 ستمبر 2014 بروز ہفتہ
پشاور( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ صوبائی حکومت سے عوام کی وابستہ امیدیں دم توڑ گئی ہیں اورپختون اب اپنے فیصلے پر نادم ہیں ، باچاخان اورخان عبدالولی خان نے پختون قوم کی ترقی کے لئے جس تحریک کاآغاز کیاتھا اے این پی اسی تحریک کے تسلسل کا نام ہے ،انہوں نے ان خیالات کا اظہار سیرے کلے منگا میں عوامی سماجی شخصیت وزیرمحمد کی رہائش گاہ پر عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کیااجتماع میں وزیرمحمد نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا، پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایاراور جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باددیتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت سے عوام کی وابستہ امیدیں دم توڑ گئی ہیں اور نئے پاکستان کے دعویدار وں کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں سے اکتاگئے ہیں انہوں نے کہاکہ پختون قوم کو مسائل کی دلدل سے نکلنے کے لئے سرخ جھنڈے تلے متحد ہونا ہوگا انہوں نے کہاکہ اے این پی وزارتوں اور اقتدار کی بھوکی نہیں اپنی ماں دھرتی اور پختون قوم کی خدمت کے لئے ہم کرسی کے محتاج نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے آباؤ اجداد نے جس مقصد کے لئے اپنی زندگی اور جوانیاں قربان کیں اس مقصد کے حصول کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے اوروہ منزل ابھی ہم نے حاصل نہیں کی ہے انہوں نے کہاکہ اے این پی نے اپنے دورمیں صوبے کو نام کی شناخت دی ،این ایف سی ایوارڈ اوربڑے بڑے تعلیمی ادارے قائم کرکے انہیں اپنے مشران کے نام سے موسوم کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون قوم اس وقت گوناگو نامسائل سے دوچارہیں اورانہیں مصائب اورمشکلات سے نکالنے کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہوناہوگا انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک اینٹ تک نہیں رکھی بلکہ ان کے دور حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر اپنی تختیاں لگارہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں اس قدر بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے ہیں کہ آنے والے چار سالوں تک یہ منصوبے جاری رہیں گے اور ویسے بھی صوبائی حکومت عوام کے ساتھ وعدے پورے نہیں کرسکتی تو ان کے دورحکومت کے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگائیں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی میں عوام کی دھڑادھڑ شمولیت اس بات کی مظہر ہے اورلوگوں کو ہماری پالیسیوں پر اعتماد ہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہر بار یہ دوسروں کی باتوں میں آکر انہیں موقع دیتے ہیں حالانکہ سندھ ،پنجاب اور بلوچستان میں وہاں کی قومیییتوں نے اپنی اپنی پارٹیوں پر اعتماد کیاخیبرپختون خوا میں قومی اتفاق رائے اور قوم پرستی کا جذبہ پیدا کئے بغیر مسائل سے نجات ممکن نہیں انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ پارٹی منشور کو عوام تک پہنچانے اورناراض کارکنوں کو راضی کرنے کے لئے گلی گلی اورقریہ قریہ پھیل جائیں انہوں نے کہاکہ صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اوراس مقصد کے لئے انہیں اپنے مشران کی دعاؤں اورکارکنوں کی بھرپور سپورٹ کی ضرورت ہے ۔

مورخہ : 19 ستمبر2014 ء بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سربراہ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ بطور وزیراعلیٰ وہ پختون قوم کے مسائل کے حل کے لئے مکمل بااختیارتھے ،بطوروزیراعلیٰ آفتاب شیرپاؤ لاڑکانہ اور سردار مہتاب احمد خان لاہور سے اجازت لیتے تھے، پختون پنجاب او رسندھ کے صفوں میں اچھے نہیں لگتے انہیں اپنے مصائب اور مشکلات سے نکلنے کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکھٹا ہونا ہوگا، سادہ لوح پختونوں کو معلوم نہیں تھاکہ عمران خان نیا پاکستان اپنی شادی کے لئے بنارہے ہیں ،کپتان لوگوں کو پرانے پاکستان میں رہنے دیں ،سستے انصاف ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے وعدوں کو پورا کیاجائے وہ محبت آباد کے عوامی حجرے میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اور علی خان نے بھی خطاب کیا اس موقع پر حاجی غلام حبیب ،زبیر،مظہرا لحق مسلم لیگ (ن) سے جبکہ برھان اور علی سید نے اپنے ساتھیوں اورخاندانوں سمیت جے یو آئی (ف) سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت اختیا رکی امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیا رکرنے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارک باددی۔ اے این پی کے صوبائی صدر کاکہناتھاکہ عمران خان نئے پاکستان بنانے نکلے تو الٹا اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے لگے لوگوں کو بعدمیں پتہ چلا کہ وہ نیا پاکستان اپنے شادی کے لئے بنارہے ہیں انہوں نے کہاکہ کپتان اپنی شادی کا شوق پیدا کریں اس وقت اسلام آباد میں دوباراتیں موجودہیں علامہ طاہرالقادری نکاح پڑھائیں اور شیخ رشید گواہ کی خدمات انجام دیں جبکہ ناچ گانے کا فریضہ خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ انجام دے گا انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں عوام نے کوئی تبدیلی نہیں دیکھی البتہ پاکستان بننے کے بعد لوگوں نے پہلی بار وزیراعلیٰ کے نائٹ شو میں رقص کرنے کی تبدیلی دیکھی ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان بننے کے بعد ماسوائے اے این پی کے دور کے کسی بھی حکومت نے اس صوبے کی صحیح معنوں میں حق ادانہیں کیا بطور وزیراعلیٰ آفتاب شیرپاؤ لاڑکانہ کی طرف دیکھ رہے تھے تو سردار مہتاب عباسی کو لاہور سے اجازت لینا تھی۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ قیام پاکستان سے اب تک اے این پی کے سوا کسی بھی حکومت نے اس صوبے کے ہر شعبے میں انقلابی اورمثبت تبدیلیاں لائیں اور عوام کی خدمت کی ہے تو وہ اے این پی ہی ہے اس لئے عوام ہمارے اوران کے دور حکومت کے ترقیاتی کاموں کو پرکھ لیں اگر ہماری خدمت کے مقابلے میں کسی دوسری پارٹی کی کوششیں زیادہ نکلیں تو بے شک ان کو مینڈیٹ دیاجائے تاہم اگر ہمارے پلڑے کا وزن بھاری رہا توووٹ اے این پی کا حق ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختونوں کے مسائل کاحل مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے اورنہ ہی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے ساتھ حل موجودہے اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اوراسے اپنی فرض منصبی سمجھتی ہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم نے پی ٹی آئی کو ووٹ ناچ گانوں اوردھرنوں کے لئے نہیں دیے تھے بلکہ نئے پاکستان ،سستے انصاف ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ان پر اعتماد کیاگیاتھا انہوں نے کہاکہ پختون قوم اپنے فیصلے پر نادم ہیں اوروہ بنی گالہ سے واپس اختیارات اپنے صوبے لا کر دم لیں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت پختون گوناگو مسائل سے دوچارہیں اورانہیں اپنی حالت زار بدلنے کے لئے اتحاد واتفاق کامظاہر ہ کرناہوگاا ورسرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہوکر مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں ہر طرف ترقی اورخوشحالی کے منصوبے جاری تھے موجودہ حکومت نے اپنے قیام سے اب تک کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا ہمارے دور حکومت کے پہلے سال مردان میں یونیورسٹی بنی تھی جبکہ ’’ بلے ‘‘ کی حکومت کے ڈیرھ سال میں پرائمری سکول تک نہیں بناانہوں نے کہاکہ موجودہ حکمران ہماری حکومت کے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے اوران کے فنڈز کو کاٹ کر اپنے حلقوں میں منتقل کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی اورسرخ جھنڈے کا ہے کیونکہ ہمارا مقصد اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں پر زوردیا کہ وہ ہر سوں پھیل جائیں اور لوگوں کو باچاخان اورخان عبدالولی خان کے افکار سے باخبرکرکے انہیں سرخ جھنڈے تلے اکھٹا کیاجائے ۔

مورخہ : 19 ستمبر 2014 ء بروز جمعۃ المبارک

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا۔ جس میں جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی کے علاوہ تمام یونٹوں کے صدور اور جنرل سیکرٹریز سمیت کثیر تعداد میں طلباء اور کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی نے کہا کہ کل حیات آباد میں ساجد نامی طالب علم کے ساتھ جو واقعہ سیکیورٹی ذمہ داروں کی طرف سے آیا ہے۔ اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور سخت الفاظ میں غم و رنج کا اظہار بھی کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم ان کے گھر والوں کے ساتھ غم میں برابر کے شریک ہیں۔ کیونکہ ہم خود بھی طالب علم ہیں اور ان کے مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے اور ساتھ میں اپنی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پروسٹ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد ہاسٹل میں رہائش پذیر طلباء کے مسائل کو حل کر لیا جائے۔ جن میں خاص طور پر بجلی جنریٹر ، پنکھوں اور پانی کے مسائل زیر غور ہیں کیونکہ ان مسائل کی وجہ سے طلباء اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے سکتے ۔
اُنہوں نے کہا کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات اور تمام سیکریسی کے عملے کو واضح کر دیتے ہیں کہ آپ یہاں ہم جیسے طلباء و طالبات کے روپوں پر اپنے گھر اور بچوں کو روزی روٹی دے رہے ہیں۔ آپ کو یہ بات کبھی بھی بھولنی نہیں چاہیے کہ آپ کی اوقات کیا ہے ۔ کہا گیا کہ طلباء و طالبات کے ساتھ اپنا ظالمانہ اور تشدد کے رویے کو ترک کر کے پیار اور محبت کے طریقے اور رویے کو اپنانا چاہیے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی اپنی ہی سیکریسی کے عملے اور کنٹرولر امتحانات کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کی تحریک شروع کرینگے جس سے پھر ہمیں کوئی نہیں روک سکے گا۔

رخہ 19 ستمبر 2014 ؁ء بروز جمعتہ المبارک

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے نائب صدر سردار زیب آف بہادر کلے نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کو دھرنوں کی سیاست چھوڑ کر خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے صحیح معنوں میں اقدامات اٹھانے چاہئیں‘ پی ٹی آئی کے ورکروں اور عوام نے دھرنے کی کال کو مسترد کر دیا ہے اب ان باتوں کو چھوڑ کر عمران کو چاہئے کہ پرویز خٹک صاحب کو اپنے صوبے میں واپس بھیجے یہاں پر اغواء برائے تاوان‘ بھتہ خوری اور امن و امان کی ناگفتہ بہہ صورتحال کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے‘ ایسے ایسے لوگ اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں جسے کوئی جانتا ہی نہیں جو کبھی یونین کونسل کے ناظم یا کونسلر بھی منتخب نہیں ہوئے‘ کپتان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے اپنے ورکر کی تربیت نہیں کی اور سیاسی بصیرت سے عاری غیر معروف لوگوں کے علاوہ آج ان کے رائٹ لفٹ جو بیٹھے ہیں وہ سب دوسری جماعتوں سے آئے ہوئے ہیں‘ سردار زیب نے کہا کہ صوبائی حکومت‘ وزراء مشیروں کو چاہئے کہ اسلام آباد دھرنے کو چھوڑ کر اپنے صوبے کے عوام کی خبر لے اور یہاں پر آئے روز اغواء برائے تاوان‘ ٹارگٹ کلنگ اور آئی ڈی پیز کے مشکلات کا حل نکالیں۔

مورخہ : 19 ستمبر 2014 بروز جمعرات

وزیرستان کے طلباء کیلئے کالجز میں داخلوں کا انتظام کیا جائے سردار بابک۔
مرکزی اور صوبائی حکومتیں وزیرستان کے لاکھوں بے گھر افراد کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرائیں۔

پشاور (پ ر ) آئی ڈی پیز کے بڑھتے ہوئے مسائل قابل توجہ ہیں۔یہ بات اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہی ، انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں وزیرستان کے لاکھوں بے گھر افراد کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرائیں۔ ان کے کاروبار زندگی ختم ہو کر رہ گئے ہیں، ان کے گھر بار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور ان کے بچوں اور بچیوں کا تعلیمی تسلسل درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں وزیرستان کے طالبعلموں کو تمام کالجز او ریونیورسٹیوں میں داخلے کے فوری بندوبست کا انتظام کردیں تاکہ ان کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیرستان کے غیور پختونوں کے کاروباری اور ذاتی نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیں اور ان کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ لاکھوں بے گھر افراد کی رہائش ، صحت اور دوسری ضروریات زندگی کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے اور دونوں حکومتوں نے ان کے مسائل کے حل سے منہ موڑ لیا ہے جو کہ انتہائی ناانصافی اور ظلم کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں متاثرین وزیرستان کے حالات پررحم کریں اور اُن کی فوری امداد کا سلسلہ تیز کیا جائے۔

18 ستمبر2014 بروز جمعرات

پشاور( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ مرکزی حکومت کے پشت پر پوری پارلیمنٹ ہے اور ایسے میں دوافراد کا وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنا احمقوں کے جنت میں رہنے کے مترادف ہے خیبرپختون خوا کے عوام صوبائی حکومت سے اپنی مینڈیٹ کا حساب کتاب مانگ رہی ہے ماضی میں اپوزیشن حکومت کے خاتمے کے لئے تحریکیں چلاتی رہیں اب تحریک انصاف خو د اپنی حکومت گرارہی ہے لیکن انہیں بھاگنے نہیں دیاجائے گا وہ مردان میں پارٹی رہنما ڈاکٹر محمد یوسف یوسفزئی کی طرف دیئے گئے اپنے اعزازمیں دیئے گئے ظہرانے کے موقع پر خطاب کررہے تھے اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایارایڈوکیٹ،نائب صدر عباس ثانی ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،محمد جاوید یوسفزئی،شاہ رخ امان خان اورافتخاعلی قادرایڈووکیٹ بھی موجودتھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان کے نام پر عوام سے ووٹ لینے والوں نے اپنے وعدے بھلادیئے ہیں اوردھاندلی کا واویلا مچا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹاناچاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ چندہزار افراد کو جمع کرکے عمران خان اورطاہر القادری نے ایک ماہ سے پاکستان کو پوری دنیا میں تماشا بنادیاہے انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیاں جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہیں اورایسے میں مخص عمران خان اورطاہر القادری کے مطالبے پر وزیراعظم سے استعفیٰ کے مطالبہ غیر آئینی اورغیر قانونی ہے انہوں نے کہاکہ دھرنے کے باعث ملک کو اقتصادی لحاظ سے بڑا نقصان پہنچ رہاہے اورملک مین غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا راستہ روکا جارہاہے انہوں نے کہاکہ ان حالات میں اے این پی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اورہر ہم ہر صورت میں جمہوریت کا ساتھ دیں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ باچاخان کے قافلے کے ساتھی ہمارا عظیم سرمایہ ہیں حالات کاتقاضاہے کہ ناراض ساتھیوں کو مناکر انہیں سرخ جھنڈے تلے اکھٹاکرناہوگا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کی شکارہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ باچاخان نے اس دھرتی اورپختون قوم کو مسائل سے نکالنے کے لئے جس تحریک کا آغازکیاابھی وہ منزل ابھی دور نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار اوراسمبلیوں کی سیٹوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا مقصود ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اس وقت ملک نازک صورتحال سے دوچارہے سیاسی جماعتوں کو ہوش مندی کا دامن نہیں چھوڑناچاہئے اور حکومت کو آخری لمحے تک مذاکرات اور لچک کا مظاہرہ کرناہوگا انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے پاس عوامی مینڈیٹ موجود ہے اورعمران خان کو چاہئے کہ وہ اس مینڈیٹ کا احترام کریں انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن ) اور تحریک انصاف نے لچک نہ دکھائی تو تیسرے قوت کو مداخلت موقع مل سکتاہے انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بننے کے چکر اپنی صوبائی حکومت قربان کرناچاہتے ہیں اورعوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کو تیارہیں تاہم پختون خوا کے عوام ان سے کئے گئے وعدوں کا حساب کتاب مانگ رہی ہے اور اپوزیشن کی جماعتیں انہیں میدان سے بھاگنے نہیں دیاجائے گا انہوں نے کہاکہ عوام نے صوبائی حکومت کو مینڈیٹ مسائل کے حل کے لئے دیاہے ۔

مورخہ : 17.09.2014 بروز بدھ
بلیم گیم کا وقت نہیں،دھرنوں نے قوم کوبند گلی میں دھکیل دیا ہے ، امیر حیدر خان ہوتی
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا امیر حیدر خان ہوتی نے عمران خان کی طرف سے وزیر اعطم کے استعفیٰ کے مطالبے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بننے کیلئے چار سال مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری نے جو سلسلہ اسلام آ باد میں شروع کر رکھا ہے وہ نامناسب ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں تاہم صرف وزیر اعظم کے استعفیٰ پر ڈیڈ لاک ہے جو کہ ناقابل قبول مطالبہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ وزارت عظمیٰ کیلئے وہ سب سے بہترین امیدوار ہیں تو انہیں انتخابی عمل کے ذریعے آنا چاہئے اور اس کے لئے انہین چار سال انتظار کرنا پڑے گا ،
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان کی جانب سے جن الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے وہ ایک مہذب سیاسی لیڈر کو زیب نہیں دیتے، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو اسکی تحقیقات ہونی چاہئے تاہم تحقیقات مکمل ہونے تک وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنا جائز نہیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اگر نواز شریف پر اعتماد نہیں تو انہیں کم از کم عدلیہ پر اعتماد کرنا ہو گا کیونکہ سپریم کورٹ ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے ، انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں کے دھرنوں کی وجہ سے ہم بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں ،اور ملکی حالات تشویش ناک ہیں ،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس مسئلے کا سیاسی حل چاہتی ہے ،
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نواز شریف حکومت کو نہیں بلکہ جمہوریت اور جمہوری نظام کو سپورٹ کر رہی ہے ،تاہم انہوں نے اس امر کو خوش آئند قرار دیا کہ جمہوری نظام کی بقاء کیلئے پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر اکٹھی ہو گئی ہیں۔انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ خیبر پختو ن خوا کی صوبائی حکومت کو دھرنوں سے چھٹی دے دی جائے تا کہ وہ صوبے کے عوام کی خدمت کر سکیں جس کیلئے انہیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ وزیر ستان کے متاثرین کو ان حالات میں اکیلے چھوڑ دینا ان کے ساتھ زیادتی ہے
انہوں نے کہا کہ متاثرین کی جلد بحالی کیلئے صوبائی اورمرکزی حکومت کو مل کر کام کرنا چاہئے کیو نکہ یہ بلیم گیم کا وقت نہیں ،انہوں نے اپنے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سوات آپریشن کے متاثرین کی بحالی کیلئے صوبائی اور مرکزی حکومت نے مشترکہ کوششیں کیں اور انہیں عزت سے واپس اپنے گھروں کو بھجوایا ،انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء اور وزیر اعلیٰ دھرنوں میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے اسمبلی کی کاروائی متاثر ہو رہی ہے ،
انہوں نے قبائلی عوام کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قبائل میں دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ سہو لیات کا فقدان ہے ، اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے وہاں قانونی ، سیاسی و انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے ، پارٹی رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ مستحکم پاکستان کیلئے پرامن افغانستان کا ہونا ضروری ہے اور امن کیلئے دونوں ملکوں کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہیءں،

مورخہ : 16.09.2014 بروز منگل

پشاور ( پ ر )موجودہ دور میڈیا کا دور ہے اور ایسے میں میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے باچا خان مرکز پشاور صوبہ بھر کے سیکرٹری اطلاعات کی ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ میڈیا کی اہمیت اور ضرورت کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا ،اور اے این پی اضلاع کی سطح پر میڈیا سیل اور پارٹی عہدیداروں کو میڈیا کے حوالے سے تربیت کو یقینی بنائے گی تاکہ پارٹی کا پروگرام ہر سطح پر اجاگر ہو سکے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سوشل میڈیا کا استعمال ایک ضرورت بن گئی ہے اور پارٹی کے میڈیا کے حوالے سے ذمہ داروں کو وقتاََ فوقتاََ آگاہی اور تربیت کا سلسلہ جاری رہیگا،اس موقع پر اے این پی کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں اور ذیلی تنظیموں کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں نے بھی شرکت کی ، میڈیا کے ماہرین اور سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والوں نے بھی ورکشاپ میں پارٹی عہدیداروں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے اپنی آراء پیش کیں۔

مورخہ 16 ستمبر 2014 ء بروز منگل

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کا ایک خصوصی اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر ملک غلام مصطفی منعقد ہوا‘ جس میں سینئر نائب صدر نیاز محمد مومند‘ نائب صدور غلام حسن‘ عابد اللہ یوسفزئی‘ ارباب واجد علی‘ نواب علی یوسفزئی‘ جنرل سیکرٹری نور جمال آفریدی ایڈووکیٹ‘ سیکرٹری اطلاعات حاجی اورنگزیب‘ جائنٹ سیکرٹریز شوکت خان‘ ممتاز خان‘ سیکرٹری مالیات عنایت اللہ‘ سیکرٹری ثقافت طارق الزمان اور سیکرٹری اقلیتی اُمور آگسٹن جیکب نے شرکت کی‘ اجلاس میں وارڈوں کے دورے کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی جس میں PK-1 کیلئے ملک طارق‘ حاجی اورنگزیب‘ سبز علی‘ عمر واحد‘ منور سلطانہ‘ PK-2 کیلئے نواب علی یوسفزئی‘ عنایت خان‘ شوکت خان‘ PK-3 کیلئے نیاز محمد مومند‘ نور جمال آفریدی ایڈووکیٹ‘ غلام حسن‘ عابد اللہ خان‘ ملک ناصر‘ ممتاز خان‘ PK-4 کیلئے ارباب واجد‘ انجینئر عقیل‘ طارق الزمان اور جمیلہ وصال شامل ہیں‘ اجلاس میں تنظیمی اُمور کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے اور تمام وارڈوں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنے اپنے میٹنگز بلا کر اپنی تنظیمی کاموں کو مکمل کرے تاکہ جب کمیٹیاں وارڈوں کا دورہ کرے تو انہیں کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئے‘ اجلاس سے ضلعی صدر ملک غلام مصطفی اور ضلعی جنرل سیکرٹری نور جمال آفریدی ایڈووکیٹ نے الگ الگ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر یقینی اور بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے ملکی اقتصادیات کو شدید دھچکا لگا ہے‘ بیروز گاری میں اضافہ میں ہوا ہے‘ کاروباری حضرات پریشان ہیں‘ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں‘ اغواء برائے تاوان‘ ٹارگٹ کلنگ اور خصوصی طور پر پشاور کا تاجر طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہے اور شائد موجودہ حکمرانوں کو اس کا تدارک نہیں ہے‘ عوام نے تحریک انصاف کو جو مینڈیٹ دیا تھا اس کی توہین کی جا رہی ہے‘ مینڈیٹ حاصل کرنے والے اپنے صوبے میں غیب ہیں اور اسلام آباد میں دھرنوں کی سیاست کر کے پختون قوم سے زیادتی کے مرتکب ہوئے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ اے این پی یہ سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد اس صوبے کے لوگوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہوا ہے اس زیادتی کا ازالہ جلد از جلد نہ کیا گیا تو لوگ متنفر ہو کر اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے کیونکہ ویسے بھی یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے‘ اے این پی آئین و قانون کی حکمرانی کو پارلیمنٹ کی توقیر کسی صورت برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں اور جو سیاسی و مذہبی قوتیں ایسا کر رہی ہے وہ قوم کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہی ہے جن کو بہت بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

15/09/2014

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور ملگری ڈاکٹران کے ایڈوائیزر میاں افتخار حسین نے پی ڈی ایف کے صدر پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد کے اغواء اور ان کے ڈرایؤر بہیمانہ قتل کے شدید الفاظ میں مزمت کی ہے اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر صاحب اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ڈاکٹر صاحب اغواء کاروں کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے پختونخوا میں امن عامہ کے بگڑتے ہوئے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں حکومت نام کی کو ئی چیز نہیں ملکی ایئین اور دستور نے حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کے جو زمہ داری دی ہے وہ اس زمہ داری کو بجا لانے میں مکمل طور پر ناکام ہو ئی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت چلانا بچوں کا کھیل نہیں صو بائی حکومت کی بچگانہ اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اغواء برائے تاوان ،ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتی جیسے واقعات معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر اعلی اور وزراء کو اسلام آباد میں اور جشن دھرنوں ،ناچ گانوں ملک اورجمہوریت کے حلاف سازشو ں سے فرصت نہیں ملتی تو وہ بچارے عوام کی کیا خدمت کرے گی اور صوبے میں خاک امن قائم کرے گی ۔ انہوں نے ڈاکٹر نثار احمد کے مقتول ڈرائیور کے خاندان سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مغموم خاندان کیلئے صبر جمیل اور مرحوم کیلئے جنت الفردوس کی دعا کی ہے ۔

ستمبر2014

پشاور ( ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے بے تاب ہیں اپنی انااورضد کے لئے جمہوریت کو داؤ پر لگاناچاہتے ہیں ،خیبرپختون خوا کے عوام اپنے فیصلے پر نادم ہیں ،پختون بنی گالہ سے اختیارات واپس اپنے صوبے لاکر دم لیں گے،اے این پی اقتدار کی بھوکی نہیں ،پختونوں کی خدمت کی ذمہ داری عمران خان کی ہے اورنہ ہی مسلم لیگ (ن) کی ہے ،پختون قوم کو مسائل کے دلد ل سے نکالنا اے این پی اپنا فرض عین سمجھتی ہے ہماری پارٹی ماں دھرتی پر جان نچھاور کرنے والے شہیدوں کی پارٹی ہے وہ یونین کونسل منگا میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں سماجی شخصیت احسن مختیار عرف خارے حاجی نے اپنے خاندان اورساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیار کرنے والے نئے کارکنوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باد دی اجتماع سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا اے این پی کے صوبائی صدرنے کہاکہ عمران خان جمہوریت کے لئے گلو بٹ کا کردار اداکررہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم اپنے فیصلہ پر نادم ہیں اوروہ بنی گالہ سے اختیارات اپنے صوبے واپس لاکر دم لیں گے امیرحیدرخان اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پورے ملک میں پھرتے رہے اور تین ماہ میں تبدیلی ،نئے پاکستان اور نئے خیبرپختون خوا کے وعدے کرتے رہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا بدامنی ، مہنگائی ،لوڈشیڈنگ اورلاقانونیت کا دور دورہ ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان اپنی شادی کے لئے نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اورپرانے پاکستان کی بنیادیں ہلارہے ہیں انہوں نے کہاکہ آزادی مارچ کے نام پر لیٹ نائٹ شو منانے والے خاک تبدیلی لائیں گے ووٹ پختونوں نے دیئے ہیں اور اب انہیں بے یارومددگار چھوڑ کر وزیراعلیٰ اورورزاء تک اسلام آباد میں آزادی مارچ کے نام پر ناچ گانوں میں مصرو ف ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ تبدیلی تو اے این پی کے دورحکومت میں آئی تھی جس میں صوبے کا نام تبدیل ہوا ،صوبائی خودمختاری،این ایف سی ایوارڈ اور مرکزی حکومت سے اربوں روپے کے بقایا ت وصول کئے گئے انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں یونیورسٹیاں ،کالج ،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی ملک میں جمہوریت چاہتی ہے اوراس مقصد کے لئے ہم نے بادل ناخواستہ انتخابی نتائج تسلیم کئے ہیں ورنہ عمران چند حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگارہے ہیں اورہمارے ساتھ تو ہر حلقے میں کھلی دھاندلی کرائی گئی ہے اے این پی کے صوبائی صدر کاکہناتھاکہ ان کی پارٹی مرکزی حکومت کی بی ٹیم نہیں اورنہ حکومت کا حصہ ہے تاہم ملک کی بقا اورجمہوریت کی استحکام کے خاطر موجودہ حکومت کوسپورٹ دے رہی ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے استحکام کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بچانہیں ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی نے پختون قوم کے حقوق اور سیاسی آزادی کے لئے جانوں کے نذرانے دیئے آج بھی ان کی شہادتوں کا تسلسل جاری ہے اور اے این پی کے کارکن دہشت گردوں اورانتہا پسندوں کے میدان میں مقابلہ کرکے وطن کی حفاظت کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی نے ہر دورمیں ظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیاامیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجود ہ حالات انہتائی نازک ہیں اورایسے میں اے این پی کے کارکنوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باچاخان اورخان عبدالولی خان کے عدم تشدد کے فلسفے اور فکر کو ہرسوں پھیلائیں اورلوگوں کواس دھرتی اور پختون قوم کے لئے اے این پی کی قربانیوں سے باخبر کریں انہوں نے کہاکہ پختونوں کے پاس اپنی بقا کے لئے اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کے سوا کوئی راستہ بچانہیں ہے ۔

مورخہ : 15.09.2014 بروز پیر

امن کی خاطر دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،عبدالنبی بنگش
ٹل تھانے پر حملہ بزدلانہ کاروائی ہے حکومت شہید اہلکار کے لواحقین کیلئے پیکج کا اعلان کرے،

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر عبدالنبی بنگش نے ہنگو کی تحصیل ٹل میں تھانے پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفا ظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں پولیس اہلکار کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں
انہوں نے کہا کہ امن کی خاطر جان کے نذرانے پیش کرنے والے اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
انہوں نے شہید اہلکار کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہید ہونے والے اہلکار کے لواحقین کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے ، انہوں نے خود کش حملہ آور کوہلاک کرنے والے غازی اہلکار کی بہادری کا اعتراف کرتے ہوئے اسے خراج تحسین پیش کیا ،
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہو کر اٹھ کھڑی ہو تا کہ پختون سرزمین پر امن کا بول بالا ہو سکے ، سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ پختو نخوا کے عوام نے امن کے قیام کی خاطربھاری قیمت چکائی ہے لیکن ان بزدلانہ کارروائیوں سے عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا ،
پارٹی رہنما نے شہید ہونے والے اہلکار کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔

مورخہ : 15.09.2014 بروز پیر

دہشت گرد سر اٹھا رہے ہیں صوبے میں حکومت نا کی کوئی چیز نہیں، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے باڑہ شیخان میں پولیس اہلکار محمد انور خان جبکہ بونیرمیں سماجی کارکن پرویز خان کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر انتہائی دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک نے دونوں شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے اسلام آباد میں روزانہ جشن کی تقاریب میں شرکت اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہی شاید ان لوگوں کی تبدیلی کا نعرہ تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نا اہل صوبائی حکومت کو کبھی معاف نہیں کرینگے۔ اُنہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ صوبے میں بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں عروج پر ہیں۔ جبکہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر جذباتی دعوے تو بہت آسان ہیں لیکن صوبے کی بدحالی دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صوبہ بدقسمتی سے نا اہل حکمرانوں کے سپرد ہو گیا ہے ،
انہوں نے کہا کہ صوبے کے کونے کونے میں دہشت گردوں نے پھر سے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے جو کہ نہ صرف صوبائی حکمرانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ حیران کن اور افسوس ناک بھی ہے..
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو صوبے کے مسائل خصوصاََ امن و امان کی صورتحال پر غور کرنا چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ عوام کا تحفظ یقینی بنانا چاہئے۔

مورخہ : 14.09.2014 بروز اتوار
پی ٹی آئی کے استعفوں پر دونوں جماعتوں میں مک مکا ہو چکا ہے ، سردار بابک
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کے معاملے پر نوازشریف اور عمران خان کے درمیان مک مکا ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ20روز گزرنے کے باوجود بھی سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے استعفوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
اس معاملے پر لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ سپیکر قومی اسمبلی نے رولز کے مطابق اور آئین پاکستان کے تحت کی جانے والے کاروائی کیوں روکی ہوئی ہے
جبکہ دوسری جانب عمران خان بھی اپنے دھرنے کے دوران اب استعفوں کے بارے میں وضاحت کرنے سے گریزاں ہیں حالانکہ وہ وزیر اعظم سے روزانہ استعفیٰ طلب کرنے کیلئے شور مچارہے ہیں ،
انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کا استعفیٰ ایک دن میں منظور کر لیا گیا جبکہ شاہ محمود قریشی نے جو استعفے خودجمع کرائے انہی پر حکومت کاروائی سے گریزاں ہے جس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ سب ایک ڈیل کے سوا کچھ نہیں ہے
، انہوں نے کہا کہ ملک اس قسم کے بچگانہ اور جذباتی اعلانات کا متحمل نہیں ہو سکتا ، جبکہ عمران خان کو بھی چاہئے کہ اگر وہ استعفے دینے کے معاملے میں پیچھے ہٹ چکے ہیں تو انہیں قوم کے سامنے یہ بات واضح کر کے معافی مانگنی چاہئے
انہوں نے کہا کہ اگر سپیکرقومی اسمبلی نے آئین پاکستان کے تحت استعفوں کے معاملے پر کاروائی نہ کی تو آئندہ سیاست میں جذباتی پن اور انا پرستی کا خاتمہ ممکن ہو گا نہ ہی سنجیدہ و ذمہ دارانہ فیصلوں کو تقویت مل سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ سپیکر اور عمران خان کو دونوں کو قوم کو آگاہ کرنا چاہئے،کہ استعفوں کامعاملہ کہاں لٹکا ہوا ہے ، تاکہ سیاسی شعبدہ گر قوم کو مزید دھوکے میں نہ رکھ سکیں
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اگر دھرنے سازش ہیں تو پھر سازش کو کچلنا ملکی مفاد میں ہے تاکہ یہ ڈرامہ اور سازش ختم ہو جائے اور اگر یہ سیاسی بحران ہے تو اسے سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہئے ۔ جاریکردہ

مورخہ : 13 ستمبر2014

پشاور(پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ پختون قوم کو آزمائشوں کا سامناہے اوران کی سیاسی بیداری وقت کا اہم تقاضاہے پختونوں سے رشتہ ووٹ کا نہیں بلکہ پختون ولی اورخدمت کاہے وہ باڑی چم حاجی کورونہ مردان میں پارٹی تنظیم کی طرف سے استقبالیہ تقریب سے خطاب کررہے تھے جس سے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اورسابق امیدوار اسمبلی علی خان اورفلک شیرنے بھی خطاب کیا پارٹی کے ضلعی نائب صدرعباس ثانی، جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اورمحمد جاوید یوسفزئی بھی موجودتھے اس موقع پر مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد حاجی خورشید ،اشتیاق،فیاض،عجب گل ،منوش کمار اوردیگر نے اے این پی میں شمولیت اختیار کی امیرحیدرخان ہوتی نے انہیں ٹوپیاں پہنائیں صوبائی صدرکا کہناتھاکہ دیگر صوبوں میں عوام نے اپنی اپنی قومییتوں کی نمائندہ پارٹیوں کو ووٹ دیے تاہم تبدیلی کاٹھیکہ صرف پختونوں نے اٹھایا جس کا خمیازہ اب انہیں بھگتنا پڑرہاہے ان کاکہناتھاکہ نئے پاکستان ،سستے انصاف اور نوجوانوں سے روزگار کے وعدے اور سبزباغات دکھانے والوں نے مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عوام اب اپنے فیصلے پر نادم ہیں جن لوگوں نے تبدیلی کے نام پر ووٹ لئے ہیں انہوں نے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کرنے اسلا م آباد میں دھرنے اورآزادی مارچ کے نام پر ناچ گانوں میں مصروف ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ تبدیلی زبانی جمع خرچ کا نام نہیں تبدیلی تو ہمارے دور حکومت میں آئی تھی جس میں لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہورہے تھے،یونیورسٹیاں ،کالجز،ہسپتال،سڑکیں اورتفریحی پارک بن رہے تھے انہوں نے کہاکہ وہ چیلنج دیتے ہیں کہ ان کے دور حکومت کے مقابلے میں گذشتہ ساٹھ سالوں میں کسی بھی پارٹی یاحکومت کی خدمت زیادہ ثابت ہوئی تو وہ سیاست چھوڑدیں گے ورنہ مخالفین کو اے این پی کے مثبت کردار کے سامنے سرخم تسلیم کرناہوگا انہوں نے کہاکہ عوام کی خدمت کے جھوٹے دعویدار وں نے ہمارے دور کے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کاٹ کر دیگر علاقوں کو منتقل کردیئے انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ اپنے حلقہ نیابت میں مردان میں جتنے ترقیاتی کام کردکھائے توانہیں خوشی ہوگی کیونکہ مردان اورنوشہرہ ہمسائے ہیں اوریہاں کے عوام اپنے ہمسائے ضلعی کی ترقی سے خوش ہوں گے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ حکومت کی لاپرواہی اور عدم توجہی کے باعث ترقیاتی منصوبے شکست وریخت کے شکارہیں حکومت کو عوامی مسائل کے حل کے لئے فرصت ہی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت خدمت اور ترقی کا طریقہ اے این پی سے سیکھے ہم نے خیبر پختون خوا میں کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے نئی تاریخ رقم کردی ہے امیرحیدرخان ہوتی کاکہناتھاکہ اے این پی پختون قوم کی خدمت فرض اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے ہم ابھی اپنے منزل کو نہیں پہنچے انہوں نے کہاکہ باچاخان نے پختون قوم کی خدمت کا جو راستہ ہمیں دکھایاہے ہم ان کے افکار پر عمل پیراہیں اورضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی کی ضلعی قیادت سے یونین کونسل تک عہدیداراپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے لوگوں کو پارٹی کی طر طرف مائل کریں انہوں نے کہاکہ پختون قوم کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے اورا س کے حل کے لئے انہیں سرخ جھنڈے تلے اکٹھاہوناہوگا انہوں نے مزید کہاکہ اے این پی کے بغیر کوئی بھی پارٹی پختونوں کی صحیح خدمت نہیں کرسکتی ہم اقتدارمیں ہوں یا نہ ہوہم اپنا یہ فرض منصبی ایمانداری سے نبھائیں گے ۔

مورخہ : 12 ستمبر 2014 بروز جمعہ
پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ کپتان کے ایمپائر کا پتہ چلا اورنہ ہی اس کی انگلی اٹھی تاہم خیبرپختون خوا کے عوام نے انگلی اٹھاکر عمران خان کو آؤٹ کردیاہے ،نئے پاکستان کے نام پر لیٹ نائٹ شو منانے والے تبدیلی نہیں لاسکتے ،تبدیلی تو اے این پی نے اپنے دور حکومت میں لائی تھی جہاں ہر طرف ترقی کا دوردورہ تھا آج تو عوام اپنے فیصلے پر نادم ہیں ،سونامی والوں کو واپس بنی گالہ بیجنے تک اے این پی کے کارکن آرام سے نہیں بیٹھیں گے حالات کا تقاضاہے کہ چترال سے ڈیرہ اسماعیل تک پختون سرخ تلے جھنڈے اکٹھاہوں وہ جمعہ کی شام علاقہ جھنڈے میں پارٹی کے نائب صدر ظاہر شاہ مہمند کی رہائش گاہ پرپی پی تحصیل تحت بھائی کے سینئر نائب صدر اورسابق ناظم نوشیروان مہمند،یوسی جہانگیر آبادکے صدر جہانزیب خان ان کے ساتھیوں اور خاندانوں کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کررہے تھے اجتماع سے اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اورمحمد جاوید یوسفزئی نے بھی خطاب کیا اس موقع پراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے چالیس خاندانوں کے سربراہوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک بادیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ انہیں معلوم نہیں تھاکہ عمران خان کو اپنی شادی کے لئے نیا پاکستان بنانے کی جلدی ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان شادی کرنا چاہے تو ان کے پاس ایک کی بجائے دوباراتیں موجودہیں نکاح کے لئے علامہ طاہر القادری کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں جبکہ گواہ کے طورپر شیخ رشید سب سے بہتر ہیں انہوں نے کہاکہ کپتان نے عجیب منطق اپنایاہے جہاں سے جیتے ہیں وہاں سب کچھ ٹھیک ہے جہاں سے ہارے وہاں دھاندلی کا شور مچارہے ہیں انہوں نے کہاکہ جس چیف جسٹس اور الیکشن کمشنر کی نگرانی میں پنجاب میں انتخابات ہوئے ان کی سرپرستی میں خیبرپختون خوا میں بھی الیکشن ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات میں دھاندلی تو اے این پی کے ساتھ ہوئی ہے ہمارے کارکنوں کو انتخابی مہم چلانے نہیں دیاگیا بلکہ الٹا انہیں دھمکی آمیز خطوط ملتے رہے ملک کے دیگر امیدواروں کے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم تھے جبکہ ہمارے انتخابی نگراں حکیم اللہ مسعود تھے انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود ہم نے ملک میں جمہوریت کی خاطر ان نتائج کو تسلیم کئے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ انتخابات میں دھاندلی کے لئے عدالتی کمیشن نے کام شروع کیا اوریہ ثابت ہوا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو خیبرپختون خوا میں ری الیکشن کا مطالبہ کریں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اوراسے اپنی فرض منصبی سمجھتی ہے انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان کے نام پرووٹ لینے والے اسلام آباد میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں اورپختون روایات کا جنازہ نکال کر ہر شام نئی روایات قائم کرنے لگے ہیں انہوں نے کہاکہ پختون قوم نے پی ٹی آئی کو ووٹ ناچ گانوں اوردھرنوں کے لئے نہیں دیے تھے بلکہ نئے پاکستان ،سستے انصاف ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ان پر اعتماد کیاگیاتھا انہوں نے کہاکہ پختون قوم اپنے فیصلے پر نادم ہیں اوروہ بنی گالہ سے واپس اختیارات اپنے صوبے لا کر م لیں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت پختون گوناگو مسائل سے دوچارہیں اورانہیں اپنی حالت زار بدلنے کے لئے اتحاد واتفاق کامظاہر ہ کرناہوگاا ورسرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہوکر مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں ہر طرف ترقی اورخوشحالی کے منصوبے جاری تھے یونیورسٹیاں ،کالجز ،ہسپتال ،سڑکیں اور میگا پراجیکٹس بن رہے تھے موجودہ حکومت نے اپنے قیام سے اب تک کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا البتہ ہماری دور حکومت کے منصوبوں پر انے نام کی تختیاں لگانے اوران کے فنڈز کو کاٹ کر اپنے حلقوں میں منتقل کیاجارہاہے انہوں نے کہاکہ انتخابات میں عمران خان پورے پاکستان میں پھرتے رہے لیکن ان پر دوسرے صوبوں کی قومیتوں نے اعتماد نہیں کیا اورپختون قوم ان کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں میں آگئے تاہم انہوں نے کہاکہ پختون قوم عہد شکنوں سے بدلہ لینا جانتے ہیں انہوں نے آنے والا دور اے این پی اورسرخ جھنڈے کا ہے کیونکہ ہمارا مقصد اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں پر زوردیا کہ وہ ہر سوں پھیل جائیں اور لوگوں کو باچاخان اورخان عبدالولی خان کے افکار سے باخبرکرکے انہیں سرخ جھنڈے تلے اکھٹا کیاجائے اے این پی میں شمولیت اختیا رکرنے والے نوشیروان مہمند کا کہناتھاکہ وہ بغیر کسی لالچ کے اے این پی میں شامل ہورہے ہیں انہوں نے کہاکہ امیرحیدرخان ہوتی صحیح معنوں میں پختونوں کے لیڈرہیں اوراپنے دور اقتدار میں خیبرپختون خوا کی ترقی کے لئے بے شمار کارنامے انجام دیئے ہیں انہوں نے کہاکہ اب وہ اوران کے خاندان اور ساتھی مرتے دم تک اے این پی کا ساتھ دیں گے ۔

مورخہ : 12.9.2014 بروز جمعۃ المبارک
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے سرگرمیوں میں تیزی پیدا کی جائے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کو پہچان کر عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقنی بنا کر عملی اور مؤثر اقدامات اُٹھائیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے لندن سے واپسی پرپارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز پشاورسے جاریکردہ اپنی پریس ریلیز میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور خطرناک سیلابوں نے پنجاب میں جو تباہی کی ہے اور غریب عوام کا جانی اور مالی نقصان کیا ہے اس پر اے این پی غمزدہ ہے۔ اے این پی پنجاب کے عوام کیساتھ دُکھ اور پریشانی کی اس گھڑی میں مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت سخت امتحان سے دوچار ہے ایک طرف انسانی المیہ ہے اور وزیرستان میں جاری اپریشن سے لاکھوں کی تعداد میں پختون اپنے آبائی علاقوں اور املاک سے بے دخل ہو کر آئی ڈی پیز کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف قدرتی المیہ ہے اور سیلابوں اور طوفانی بارشوں نے پنجاب میں بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصان کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ان پریشان کن حالات میں حکومت کو اپنی تمام تر توجہ سیلاب زدگان اور آئی ڈی پیز کی بحالی پر مرکوز کرنا ہو گی۔اور جتنی جلدی ہو سکے ملک کی مصیبت زدہ عوام کی پریشانیوں اور تکالیف کو دور کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اُٹھائے جائیں۔اے این پی کے رہنما نے کہا کہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے لیکن اس کی روک تھام اور اس سے بچاؤ کی تدابیر تو ہو سکتی ہیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور بعض ذمہ داروں کی غفلت اور اپنے فرائض منصبی سے روگردانی کی وجہ سے پنجاب میں لاکھوں عوام کو اپنی قیمتی زندگی اور املاک سے ہاتھ دھونا پڑا۔اُنہوں نے کہا کہ اس کڑھے امتحان اور آزمائش کی گھڑی کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف دُکھی اور پریشان حال سیلاب زدہ عوام کے زخموں کا مداوا بن کر اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور مصیبت زدہ ، سیلاب زدہ عوام کو تسلیاں دے رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس سے قبل جو بھی اس مجرمانہ غفلت میں ملوث پائے گئے تھے اُن کو ترقیاں دی گئیں ۔ لہٰذا مستقبل میں ایسا نہیں ہونا چاہیے اور جو بھی ایسی مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہو جائے تو ان کو اُن کی غفلت اور فرائض سے روگردانی کی پاداش میں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت موجودہ چیلینجوں سے نمٹنے کیلئے ملکی سطح پر اقدامات اُٹھائے اور سیلاب زدگان اور آئی ڈی پیز کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے تمام جماعتیں متحد ہو کر اپنے نظریات اور جماعتی اختلافات کو بالا طاق رکھ کر آگے آجائیں اور مشترکہ طور پر ان کو حل کرنے کیلئے سوچیں تاکہ عوام کو اپنی سیاسی قیادت پر اعتماد پیدا ہو جائے اور اُن کو یہ معلوم ہو جائے کہ ہمارا بھی کوئی باز پرس کرنے والا ہے۔

مورخہ 12 ستمبر 2014ء بروز جمعتہ المبارک

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین نے اسلام آباد میں دھرنے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 10 روپے کلو آٹا اور 40 روپے کلو گھی 50 لاکھ افراد کو دیا رہا ہے‘ چیئرمین صاحب وزیراعظم کو جھوٹا قرار دیکر خود کو سچا ثابت کرتے ہیں کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے‘ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو چاہئے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو فوری طور پر اس بات سے آگاہ کرے کہ 10 روپے کلو آٹا اور 40 روپے کلو گھی صوبے میں کہاں پے عوام کو دیا جاتا ہے تاکہ غریب عوام صوبائی حکومت کی اس خصوصی رعایت سے مستفید ہو سکے‘ بہت بلند و بانگ دعوے کئے جاتے رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کو کوئی ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہی اور اس ناکامی کو چھپانے کیلئے چیئرمین سمیت صوبائی حکومت نے اسلام آباد کا رخ کیا اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے (دھرنا ہو گا‘ دھرنا ہو گا‘ دھرنا ہو گا) صوبائی حکومت‘ وزراء مشیروں کو چاہئے کہ اسلام آباد دھرنے کو چھوڑ کر اپنے صوبے کے عوام کی خبر لے اور یہاں پر آئے روز اغواء برائے تاوان‘ ٹارگٹ کلنگ اور آئی ڈی پیز کے مشکلات کا حل نکالیں اور دھرنا ختم کر کے پاکستان کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرے۔

مورخہ : 12.9.2014 بروز جمعۃ المبارک

عوام نے عمران خان کی سول نافرمانی کی تحریک بری طرح مسترد کر دی ہے ’’ سردار حسین بابک ‘‘

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا کہ عوام نے عمران خان کی طرف سے سول نافرمانی کی تحریک نہ صرف مسترد کر دی ہے بلکہ ملک کی ترقی کیلئے انتشار اور افراتفری کی سیاست سے منہ موڑ لیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام نے بجلی ، گیس کے بلوں کو جمع کر کے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی ترقی کیلئے ہر ایک نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ عمران خان کی طرف سے ٹیکسوں کی ادائیگی نہ کرنا اور بینکوں سے پیسہ نکلوانے کے اعلان کو بھی بچگانہ قرار دیا ہے۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ بیرونی ملک پاکستانیوں نے ملک میں پیسہ بھیجنے کے عمل کو تیز کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ باشعور ہیں اور ملک کی اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سول نافرمانی کی تحریک ملک دُشمنی کے مترادف ہے اور عوام نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک و قوم کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان دھاندلی کا واویلا کر کے اقتدار کی کرسی تک پہنچنا چاہتے ہیں اور ملک و قوم کو درپیش مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ سیاسی لیڈروں کو گالیاں اور ملک کے تمام اداروں پر عدم اعتماد کر کے عمران خان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم بننے کیلئے شارٹ کٹ کا راستہ اپنا رہے ہیں جو کہ کسی صورت مہذب معاشرے میں ممکن نہیں۔ عمران خان کی طرف سے سول نافرمانی کی کال مسترد ہونے پر اُنہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور انا پرستی کی سیاست کو خیرباد کہنا چاہیے۔

مورخہ : 12.9.2014 بروز جمعۃ المبارک

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کا ممتاز قوم پرست اوراے این پی بلوچستان کے رہنما ملک امان اللہ کاسی کی وفات پر گہرے رنج اور غم کا اظہار
اے این پی پارٹی کے مرحوم رہنما کے خاندان کی پا رٹی کیلئے ناقابل فراموش قربانیوں کوقدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ممتاز قوم پرست اوراے این پی بلوچستان کے رہنما ملک امان اللہ کاسی کی وفات پر گہرے رنج اور غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے انہوں نے اپنے مشترکہ جاریکردہ تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ ان کے وفات سے اے این پی ایک نظریاتی ،فعال،سرگرم اور ایماندار کارکن سے محروم ہو گئی ۔وہ پارٹی کے قیمتی اثاثہ تھے اور ان کی وفات سے پارٹی میں جو خلاء پیدا ہوئی ہے وہ بمشکل پرُ ہو سکے گی۔انہو ں نے کہا کہ پارٹی ان کے خاندان سے اس غم میں برابر کی شریک ہے اور پارٹی ان کے اور ان کے خاندان کی پا رٹی کیلئے ناقابل فراموش قربانیوں کوقدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

مورخہ 12ستمبر 2014ء بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے 16 ستمبر بروز منگل صبح گیارہ بجے باچا خان مرکز میں تمام ضلعی سیکرٹری اطلاعات کا ایک اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایک روزہ اجلاس میں تمام سیکرٹریز کو میڈیا کے حوالے سے تربیت دی جائیگی ۔ سینئر صحافی اس موقع پر لیکچر دینگے ۔ اجلاس میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین ا ے این پی کے تمام ضلعی اور قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے اطلاعات کے سیکرٹریز بھی شرکت کرینگے۔ اُنہوں نے پارٹی کے تمام ضلعی سیکرٹریز طلاعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ اجلاس میں بروقت اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔

مورخہ : 12.9.2014 بروز جمعۃ المبارک

عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر ڈاکٹر محمد ریحان فرزند انجنیئر اسد ریحان بقضائے الٰہی وفات پاگئے ہیں اور اُن کی نماز جنازہ بڈھ بیر پشار میں دن گیارہ بجے ادا کر دی گئی ہے۔
مرحوم ڈاکٹر ارشد ریحان اور انجینئر راشد ریحان کے چھوٹے بھائی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات بہرام خان ایڈووکیٹ کے چچازاد بھائی تھے۔

تاریخ 11 .9.2014

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اے این پی بلوچستان کے رہنما ملک امان اللہ کاسی کی وفات پر گہرے رنج اور غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے انہوں نے اپنے مشترکہ جاریکردہ تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ ان کے وفات سے اے این پی ایک نظریاتی ،فعال،سرگرم اور ایماندار کارکن سے محروم ہو گئی ۔وہ پارٹی کے قیمتی اثاثہ تھے اور ان کے وفات سے پارٹی میں جو خلاء پیدا ہوئی ہے وہ بمشکل پرُ ہو سکے گی۔انہو ں نے کہا کہ پارٹی ان کے خاندان سے اس غم میں برابر کی شریک ہے اور پارٹی ان کے اور ان کے خاندان کے پا رٹی کیلئے ناقابل فراموش قربانیوں کوقدر کی نگاہ سے دیکھتی ھے۔

مورخہ : 11.09.2014 بروز جمعرات
دھرنے والوں کو آئی ڈی پیز اور صوبے میں بڑھٹی ہوئی بدامنی کا کوئی خیال نہیں،سردار بابک

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ موجودہ سیاسی نظام میں اصلاحات کیلئے تمام سیاسی جماعتیں سول سوسائٹی اور میڈیا اپنی سفارشات مرتب کریں ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ نظام میں تبدیلی آئینی جمہوری اور مہذب طریقے سے ہی ممکن ہے جبکہ عمران خان اس کے برعکس نظام میں تبدیلی کی بات کر رہے ہیں
، انہوں نے کہا دھرنے دینے والوں کو آئی ڈی پیز اور صوبے میں بڑھٹی ہوئی بدامنی کا کوئی خیال ہی نہیں،
گزشتہ ایک ماہ سے اسلام آباد میں دھرنے دینے والے صوبے میں جاری ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اغواء برائے تاوان اور صوبے میں دیگر سنگین جرائم پر مکمل خاموشی اپنائے ہوئے ہیں،
سردار بابک نے کہا کہ اسلام آباد کو فتح کرنے والے اور منتخب وزیر اعظم سے بزور لاٹھی استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والوں کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے،
، انہوں نے کہا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے،عام آدمی سے لے کر سرکاری ملازمین تک ہر شخص پریشان ہے لیکن صوبائی حکومت ان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دے رہی، عمران خان عوام کو بہلانے اور دھوکہ دینے پر عوام کے سامنے ہی بے نقاب ہو چکے ہیں،
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور جلسوں سے نظام میں تبدیلی نہیں آسکتی ، عوام کو سڑکوں پر لانا بغاوت پر اکسانااور عدم برداشت کو فروغ دینے سے صوبے کے مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے
انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ نظام میں اصلاح اور اس میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں ، سول سوسائٹی اور میڈیا اپنی سفارشات مشاورت کے طور پر مرتب کریں، کیونکہ ان سفارشات پر عمل کر کے پارلیمنٹ کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے،
سردار حسین بابک نے کہا کہ پاکستان کو عظیم مملکت بنانے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے انتشار اور افراتفری نہیں بلکہ مل بیٹھ کر آئینی اور جمہوری طریقہ اپنانا ہو گا ، جبکہ عمران خان اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے ملک و قوم کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔

مورخہ 11 ستمبر 2014 ؁ء بروز جمعرات

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ اسفندیار ولی خان بلاشرکت غیر غیر متنازعہ پختون قوم کے لیڈر ہے‘ کوئی نام نہاد خان پختون قوم کا لیڈر نہیں ہو سکتا‘ پختون قوم جانتی ہے کہ فخر افغان باچا خان‘ رہبر تحریک خان عبدالولی خان اور اسفندیار ولی نے قومی حقوق کے حصول کیلئے کتنی قربانیاں دیں اور کے ساتھیوں نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن بدقسمتی سے آج اس صوبے میں ایسے لوگ اسمبلیوں میں پہنچ کر وزیر بن بیٹھے ہیں جن کا شجر نصب تک لوگوں کو معلوم نہیں ایسے نابالغ وزراء کو سیاست کی (ا ب ت) کا بھی پتہ نہیں ہے سیاست کے کچھ ضابطہ اخلاق بھی ہوتے ہیں یہ عقل سے عاری اور عقل کے اندھے یہ نہیں جانتی کے جب 2008ء سے 2013ء تک اے این پی برسراقتدار تھی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کے بناء پر اپنے 800 سے زائد لیڈروں اور ورکروں کی قربانی دی اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح دہشت گردی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جبکہ ان کے لیڈر کو طالبان خان کا خطاب دیا گیا جو ڈر اور خوف کی وجہ سے طالبان کیخلاف بات کرنے سے بھی قاصر تھے جب اس صوبے میں تبدیلی کے نام پر عوام کیساتھ دھوکہ کر کے مینڈیٹ حاصل کیا گیا تو نام نہاد خان صوبہ چھوڑ کر بنی گالہ میں بیٹھ کو صوبائی حکومت چلا رہے ہیں جو پختون قوم کو کسی صورت قبول نہیں‘ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے ان کے ورکروں کی سیاسی تربیت ہوئی ہے وہ تمام سیاسی لیڈر لیڈروں کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کسی بھی سیاسی لیڈر کے خلاف اختلافات کے باوجود بازاری زبان استعمال نہیں کرتے‘ تحریک انصاف کے چیئرمین کو چاہیئے کہ وہ دھرنوں پر توجہ دینے سے زیادہ اپنے ورکروں کی سیاسی تربیت پر توجہ دیں تاکہ وہ سیاست کے آداب سے واقف ہو اور سیاسی قائدین کا احترام کرنا سیکھیں۔

مورخہ : 10.09.2014 بروز بدھ
صوبے کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف جنگ لڑی جائے گی، سردار حسین بابک
صوبائی ھکومت اپنے اراکین کو چار چار کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کر رہی ہے جبکہ اپوزیشن کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا
عوامی نیشنل پارٹی صوبے کے وسائل کی پسند و نا پسند کی بنیاد پر تقسیم کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی ، حکومت عوامی مینڈیٹ کا احترام کرے۔
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے 53اراکین صوبائی اسمبلی کو صوبائی حکومت کی طرف سے ترقیاتی سکیموں اور ترقیاتی فنڈز میں نظر انداز کرنا ان کے حلقوں کے عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے اور اے این پی صوبائی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ عمران خان کی حکومت ایک طرف مساوات میرٹ اور انصاف کے بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف 5اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے ترقیاتی فنڈز روکنا اور ان کے حلقوں کو ترقیاتی کاموں سے محروم رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے کے لاکھوں عوام کو صرف اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کیونکہ ان کے منتخب نمائندوں کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے حکومتی اراکین کو چار چار کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کا ا جراء اور اپوزیشن کو اس معاملے میں یکسر نظر انداز کرنا کہا ں کا انصاف ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا سیکھے، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کے حلقوں میں ترقیاتی عمل کا نہ ہونا جمہوریت کے منافی ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت کے مساوات، انصاف اور میرٹ کے برائے نام وعدے اور دعوے عوام کے سامنے آشکارہ ہو گئے ہیں ،سردار حسین بابک نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے وسائل صوبے کی ترقی پر یکساں طور پر خرچ ہونے چاہئیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، اور امید ہے کہ صوبے کے وسائل یکساں بنیادوں پر خرچ ہونے کی اس درخواست پر انصاف پر مبنی فیصلہ ہو گا،اے این پی رہنما نے کہا کہ ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر صوبے کے وسائل استعمال کرنے کی نہ صرف مخالفت کی جائے گی بلکہ صوبے کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف جنگ لڑی جائے گی ،انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک طرف نواز شریف کو بادشاہت کے طعنے دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کی اپنی پارٹی اپوزیشن کے53اراکین اسمبلی کے حلقوں کے عوام کو ان کے حق سے محروم کر رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی یہ معلوم ہونا چاہئے صوبے میں عمران خان کی جماعت اقربا پروری کی بنیاد پر حکومت کر رہی ہے جو انسانی اور جمہوری تقاضوں کے خلاف ہے، انہوں نے امید طاہر کی کہ اعلیٰ عدلیہ عوام کے حقوق کی خاطر درخواست پر منصفانہ فیصلہ دے گی۔

مورخہ : 09.09.2014 بروز منگل
پشاور ( پ ر ) پختون ایس ایف کے صوبائی انتخابات مکمل ہو گئے ،سردار فخر عالم صدر ،یاسر یوسفزئی جنرل سیکرٹری منتخب ، تفصیلات کے مطابق پختون ایس ایف کے صوبائی انتخابات باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری اور پی ایس ایف کے ایڈوائزر ایمل ولی خان اور چیف الیکشن کمیشن امتیاز وزیر کی زیر نگرانی منعقد ہوئے ، الیکشن میں صوبہ بھر سے امیدواروں نے حصہ لیا ، انتخابات میں سردار فخر عالم صدر ، یاسر یوسفزئی جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے ، جبکہ دیگر کابینہ میں سینئر نائب صدر شیر اللہ وزیر،سیکرٹری اطلاعات مقرب خان بونیری،فنانس سیکرٹری بلال خان ، کلچر سیکرٹری امجد ننگیالے، فاٹا سے نثار باز نائب صدر ، جائنٹ سیکرٹری فاٹا حضرت اللہ داوڑ،نائب صدر پشاور ذاکر آفریدی ، جائنٹ سیکرٹری ریاض باغی،نائب صدر مردان صابر،جائنٹ سیکرٹری مردان ماجد خان ، نائب صدر ہزارہ جازیب خان ،جائنٹ سیکرٹری ہزارہ انور شید ،نائب صدر ملاکنڈحیات خان ، جائنٹ سیکرٹری ملاکنڈ احتشام الحق ،نائب صدر بنوں حکمت پختون ،جائنٹ سیکرٹری بنوں عمران خان ،ڈی آئی خان کیلئے نائب صدر حسن محسود ،اور جائنٹ سیکرٹری اشتیاق خٹک، کوہاٹ ڈویژن سے نائب صدر راشد حمید اور جائنٹ سیکرٹری ولید افغان جبکہ غلام علی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور عمر بابر کو اعزازی نائب صدر منتخب کر لیا گیا ،اس موقع پر مجلس عاملہ کے اراکین نے کثیر تعداد میں شرکت کی، بعد ازاں تقریب سے ایمل ولی خان اور امتیاز وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کارکنوں پر زور دیا کہ آپس میں اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کو قائم رکھنے اور پختون طلباء کی خدمت سمیت باچا خان کے افکار و نظریات گھر گھر پہنچائیں۔

مورخہ : 09.09.2014 بروز منگل


پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پار ٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ عمران خان پی کے 68ڈیرہ کے ضمنی الیکشن کی کامیابی اپنے کھاتے میں نہ ڈالیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان کی نشست کا ووٹ جماعت کو نہیں بلکہ شخصیت کو ملتا ہے ، انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ 11مئی2013ء انتخابات میں ڈیرہ کے اسی حلقے میں آزاد امیدوار کو 41ہزار ووٹ ملے جبکہ ضمنی الیکشن میں اسی شخصیت کے بیٹے کو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 37ہزار ووٹ ملے، انہوں نے کہا کہ عمران خان خوش فہمی میں نہ رہیں کیونکہ عوام نہ صرف ان کی دھرنوں کی سیاست سے بے زار ہو چکے ہیں بلکہ ان کے منفی طریقہ کار کو بھی مسترد کر چکے ہیں ۔

مورخہ : 09.09.2014 بروز منگل

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے ہنگو میں اے این پی کے رہنما پیر حیدر علی شاہ کے گھر کے باہر بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ملک دشمنوں کا ایک بزدلانہ فعل قرار دیا ہے ، اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہَ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن ان اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں،انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص سوچ نے پورے خطے کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے ،انہوں نے کہا عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن باچا خان ؒ کے عدم تشدد کے فلسفے کے پیروکار ہیں اور پارٹی کے شہید ہونے والے والوں کی قربانیاں اس دھرتی پر امن کیلئے تھیں، جو کسی صورت رائیگاں نہیں جائیں گی۔

مورخہ : 8-9-2014 بروز پیر

پختون ایس ایف کے صوبائی الیکشن کمیشن کا اجلاس گزشتہ روز ولی باغ چارسدہ میں اے این پی کے قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری اور پی ایس ایف کے ایڈوائزر ایمل ولی خان کے ساتھ منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی ایس ایف کی صوبائی کابینہ کیلئے خواہش مند اُمیدواروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی مجلس کی ووٹر لسٹوں کی جانچ پڑتال اور سکروٹنی کی گئی اور تمام اُمیدواروں کو اظہار رائے کی آزادی دی گئی۔ اس موقع پر چند اُمیدواروں نے بعض اضلاع میں پرائیویٹ کالجز میں تنظیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا گیا جس کی روشنی میں ایمل ولی خان نے الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے مسلمہ اُصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور جہاں کہیں شکایات ہیں اُن کا جائز آزالہ کیا جائے اور ساتھ ساتھ ضمنی ووٹر لسٹ جاری کی جائے۔ لہٰذا بعد ازاں صوبائی الیکشن کمیشن کے چیئرمین امتیاز وزیر کی نگرانی میں جانچ پڑتال شروع کی گئی۔ گزشتہ روز دیر تک سکروٹنی کا عمل جاری رکھا اور تمام اعتراضات کا بغور جائزہ لیا گیا۔ جہاں کہیں ضرورت ہوئی تو معیار اور مسلمہ اُصولوں کی روشنی میں میرٹ پر فیصلے کیے گئے۔ صوبائی مجلس کل 246 یونٹس پر مشتمل ہے جو کہ رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں جبکہ 11 یونٹس مسترد کیے گئے ہیں اور 35 نان رجسٹرڈ رہے یعنی کل ملا کر 46 یونٹس صوبائی مجلس عاملہ کا حصہ نہیں رہیں۔ مجلس عاملہ کی حتمی ووٹر لسٹ جاری کیا گیا ہے جو کہ تمام اُمیدواروں کو باچا خان مرکز پشاور سے باآسانی موصول ہو سکتی ہے۔ صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر نے تمام اُمیدواروں اور کارکنوں پر زور دیا ہے کہ آرگنائزنگ کے جاری عمل میں شفافیت اور خود احتسابی سب کے سامنے ہے۔ تنظیم کے فیصلے پسند و ناپسند اور چناؤ سے بالا تر خفیہ رائے شماری کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ from bottom to top آرگنائزنگ کا سارا عمل سکریٹ بیلٹ کے ذریعے سرانجام پایا ہے آخری مرحلہ میں کل بتاریخ 9-9-2014 کو صوبائی انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ الیکشن کا عمل صاف و شفاف ہے ۔ تمام اُمیدواروں کو برابری کی بنیاد پر انصاف فرہم کرنا کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سب اطمینان رکھیں۔ ہم سب نے ایمانداری سے اتفاق واتحاداور ڈسپلن کے ذریعے تنطیم مزید بلندیوں پر لے جانا ہے۔ لہٰذا تمام کارکنان اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کا مظاہرہ کریں۔ امتیاز وزیر نے کہا کہ آرگنائزنگ عمل کیلئے روز اول سے جاری کردہ پالیسی اور ویژن کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے تاہم مثبت اور جائز تجویز و تنقید کو خوش آئند عمل ہے۔ جن کی حوصلہ افزائی کرینگے۔ الیکشن کے عمل میں مجلس عاملہ کے آراکین بھرپور شرکت کریں اور اپنے اپنے نمبر کے مطابق ووٹ ڈالیں۔ امتیاز وزیر نے کہا کہ پی ایس ایف ہی واحد جمہوری و آئینی طلبہ تنظیم ہے جہاں فیصلے چناؤ کی بجائے الیکشن کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ الیکشن کا عمل صبح 10 بجے باچا خان مرکز پشاور میں شروع ہو گا جو 3.00 بجے تک جاری رہے گا۔ انتخابی عمل کی نگرانی اے این پی کے قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری اور پی ایس ایف کے ایڈوائزر ایمل ولی خان اور صوبائی الیکشن کمیشن کرے گی۔

مورخہ : 07.09.2014بروز اتوار


پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن خیبر پختو نخو ا کے جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے صوبے کے تمام اضلاع کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے،کہ وہ 30ستمبر تک اپنے اپنے اضلاع میں یونین کونسل اور وارڈز کی سطح پر تنظیموں کو مکمل کر کے جلد از جلد ورکرز کنونشن کی تاریخوں کا شیڈول باقاعدہ طور پر صدر کے حوالے کر یں حسن بونیری نے کہا کہضرورت اس بات کی ہے کہ یوتھ کے ذمہ داران اپنی ذمہ داریاں پوری کریں،اور بہتر تنظیمی نظم و ضبط کا مظاہرہ کر کے اپنے آپ کو باچا خان کے حقیقی سپاہی ثابت کریں۔

مورخہ : 07.09.2014 بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) پختون ایس ایف کے صوبائی الیکشن کمیشن کا اجلاس ولی باغ چارسدہ میں اے این پی کے قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری اور پی ایس ایف کے ایڈوائزرایمل ولی خان کی صدارت میں منعقد ہوا ،اجلاس میں پی ایس ایف کی صوبائی کابینہ کیلئے خواہش مند امیدواروں نے بھی شرکت کی، اجلاس میں صوبائی مجلس عاملہ کی ووٹر لسٹوں کی جانچ پڑتال اور سکروٹنی کی گئی اور تمام امیدواروں کو اظہار رائے کی آزادی دی گئی اس موقع پر چندامیدواروں نے بعض اضلاع میں یونٹس کے معیار پر تحفظات کا اظہار کیا اور ان کے معیار کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیاجس کی روشنی میں پی ایس ایف کے ایڈوائزر ایمل ولی خان نے الیکشن کمیشن کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایف کے مسلمہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جہان کہیں بھی شکایات ہوں انہیں مناسب انداز میں میرٹ پر نمٹایا جائے اس کے ساتھ ساتھ ضمنی ووٹر لسٹ جاری کی جائے الیکشن کمیشن کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر کی نگرانی میں جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے اور اعتراضات کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے اور تمام امیدواروں اور کارکنوں کو یقین ہونا ہی چاہئے کہ مناسب شکایات کا ازالہ کرنا کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے اور مثبت تنقید اور تجویز کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن سب کو یہ احساس کرنا ہے کہ غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی کا نہ کوئی جواز ہے لہذٰا مثبت نقید اور تجویز کی روشنی میں تنطیم کو آگے لے کر جانا ہے جن کیلئے ذاتیات اور انا پرستی سے بالاتر اتفق و اتحاد اور ڈسپلن کو اولین ترجیح دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنظیم کی پالیسی اور ویژن کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا ،پرائیویٹ و سرکاری کالجز اور یونیورسٹیز میں ممبر سازی و تنظیم سازی کے معیار کی بنیاد پر صوبائی مجلس عاملہ کا حصہ بنایا جائے گا،جبکہ غیر معیاری یونٹس تنظیم کا حصہ نہیں ہونگے،اس سلسلے میں سکروٹنی کا عمل کل بھی جاری رہا ، جبکہ صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں یونیورسٹیز اور کالجز میں ممبر سازی اور تنظیم سازی کے معیار پر سب کو اطمینان حاصل ہونا پی ایس ایف کیلئے نیک شگون ہے جن کی وجہ سے آئندہ کیلئے ممبر سازی اور تنطیم سازی کی سطح پر تنطیم بہتر اقدامات کرنے کے قابل ہو گی صوبائی چیئر مین امتیاز وزیر نے تمام امیدوارون کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ایمل ولی خان کی رہنمائی میں تنظیم سازی کا عمل پسند نا پسند سے بالاتر ہے۔ تمام فیصلے میرٹ پر ہون گے اور تنظیم کے بہتر مفادات میں ہر عمل پہلے سے آرگنائزنگ کے مسلمہ اصولوں کے مطابق کئے جائیں گے ،صوبائی مجلس عاملہ الیکشن کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالے،انتخابی عمل صبح 10بجے سے3بجے تک باچا خان مرکز پشاور میں سر انجام پائے گا،تمام امیدواران اور یونتس رجسٹرد مجلس عاملہ کی فہرستیں باچا خان مرکز اوور الیکشن کمیشن کے ممبران سے حاصل کی جا سکتی ہیں انتخابی عمل کی نگرانی عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری اور پی ایس ایف کے ایڈوائزر ایمل ولی خان اور صوبائی الیکشن کمیشن کرے گی انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف واحد آئینی اور جمہوری تنظیم ہے ، دیگر طلباء تنظیموں پر سیاسی تنظیمی ، اخلاقی اور نفسیاتی برتری حاصل ہے،اس موقع پر تمام امیدواران،عہدیداران اور کارکنان اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کا عملی مظاہرہ کریں جو تنظیم کے ساتھ ساتھ ان کے لئے بھی خوش آئند ہے 

مورخہ : 07.09.2014 بروز اتوار
عمران خان سیاسی تنہائی کا شکاراور پاکستان کی بنیادیں ہلا رہے ہیں، امیر حیدرہوتی

پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ عمران خان سیاسی تنہائی کے شکارہیں وہ نیا پاکستان تو نہ بناسکے البتہ پرانے پاکستان کی بنیادیں ہلارہے ہیں، خیبرپختون خوا میں انتظامی امور بری طرح متاثراور عوام مسائل کے حل کے لئے سرگرداں ہیں وزیراعلیٰ اوران کی کابینہ کو دھرنے سے فارغ کیاجائے وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس میں مختلف وفود سے گفتگو اوربعدازاں کارکنوں سے خطاب کررہے تھے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اورمحمد جاوید یوسفزئی بھی اس موقع پر موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بڑے پن کا مظاہر ہ کرکے ان لوگوں کے امیدوں پر پانی پھیردیا جو ان کے چوہدری اعتزازاحسن کے ساتھ اختلافات پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کے متمنی تھے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے باعث معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا میں پاکستان کا امیج متاثر ہوا ہے اورچینی صدر کے دورہ ملتوی ہونا بھی ملک کے لئے نقصان دہ ہے انہوں نے کہاکہ سیاسی مسائل کو سیاسی انداز میں حل ہونا جمہوریت کا حسن ہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ عمران خان اور طاہر القادری کی جدوجہد اگر آئین کی بالادستی کے لئے ہو تو خواہ وہ ایک کنٹینر سے تقریریں کریں یا الگ الگ جلسے کریں اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم بدقسمتی سے دونوں کی اپروج منفی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ حکومت اور عمران خان کے درمیان دھاندلی کی شکایات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے ٹائم فریم پر ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہوناچاہئے کمیشن کے قیام کے بعد یہ اختیار چیف جسٹس کی ثواب دید پر چھوڑنی چاہئے کہ اس کے لئے ایک مناسب مدت مقررکریں انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک کو بحرانی کیفیت کا سامناہے اور ہم حکومت کی بجائے جمہوریت کا ساتھ دے رہے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ گذشتہ 25دنوں سے صوبائی وزیراعلیٰ اوران کی کابینہ دھرنا میں شریک ہیں جس کے باعث صوبے میں امور مملکت بری طرح متاثرہوئے ہیں اور ساتھ ہی عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے سرگرداں ہیں انہوں نے تحریک انصاف کے سربراہ کو مشورہ دیا کہ وہ وزیراعلیٰ پرویزخان خٹک اوران کے کابینہ ارکان کو دھرنا سے فارغ کریں اورانہیں فوری طورپر صوبائی دارالحکومت پشاور پہنچنے کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ عوامی اورانتظامی مسائل حل ہوناشرو ع ہوں اے این پی کے صوبائی صدر کا مزید کہناتھاکہ کپتان نے وزیراعظم بننے کے چکر میں پوری دنیا میں پاکستان کو تماشا بنایا ہے نئے پاکستان کی بجائے وہ پرانے پاکستان کی بنیادیں ہلانے لگے ہیں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی عوام سے کئے گئے وعدوں میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے اور عوام کی نظریں اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے دھرنوں کا سہارالے رہی ہے انہوں نے مزید کہاکہ آنے والا وقت اے این پی کا ہے اقتدار کے بغیر لوگ دھڑا دھڑ باچاخان اورخان عبدالولی خان کے قافلے میں شامل ہورہے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے مزید کہاکہ اس وقت اے این پی کے سوا کسی پارٹی کے پاس پختونوں کے مسائل کاحل موجودنہیں ہے ہم اقتدار کے محتاج نہیں پختونوں کی خدمت ہماری اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے


پشاور ( )عوامی نیشنل پارٹی نے ملگری وکیلان کی رکینت سازی اورتنظیم سازی کے عمل کو 30ستمبر تک مکمل کرنے  کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ وکلاء کی جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے لئے جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے ان خیالات کا اظہار اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ایڈووکیٹ نے ملگری وکیلا ن کے اجلاس سے خطا ب کے دوران کی جو ڈسٹرکٹ بار میں بارکونسل کے رکن اقبال خان ہوتی ایڈووکیٹ کے صدارت منعقد ہوا اجلا س میں بار ایسوس ایشن کے صدر حیدرعلی خان ایڈوکیٹ،عبدالحمید خان حمزہ خیل ایڈووکیٹ ،میاں طاہر ایڈووکیٹ کے علاوہ پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان بھی موجودتھے اے این پی ضلع مردان کے صدر نے کہاکہ موجودہ حکومت سے عوام تنگ آچکے ہیں کیونکہ اب تک حکومت ایک بھی وعدہ پورانہ کرسکی ،عوام کو بے روزگاری ،مہنگائی ،کرپشن اورلاقانونیت کاسامنا ہے جبکہ وزیراعلیٰ اوران کے کابینہ ارکان اسلام آباد میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں حمایت اللہ مایار نے کہاکہ موجودہ حالات میں ملگری وکیلا ن پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ عوام کی سیاسی صف بندی کے لئے صحیح راستہ معین کیاجائے انہوں نے کہاکہ ملگری وکیلان اے این پی کا دست وبازوہیں اوراس کی مضبوطی پارٹی کی مضبوطی ہے اس دوران مختلف مقررین کی تجاویز اور آراء کے بعد فیصلہ کیاگیا کہ اس ماہ کی آخرتک ملگری وکیلان کی رکنیت سازی کے عمل کو پورا کیاجائے گا جبکہ تنظیم سازی بھی ساتھ ساتھ مکمل کی جائے گی اجلاس میں پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان اورصوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا گیا ۔

مورخہ : 07.09.2014 بروز اتوار

عوام کو بغاوت پر اکسانے والے اپنی ساکھ بچانے کی فکر میں ہیں،سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر )غیر سنجیدہ لوگوں کی حکومت کی وجہ سے عوام مسائل کی دلدل میں پھنس چکے ہیں ، ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے حلقہ پی کے 77بونیر کے دورے کے موقع پر پار ٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے صوبے میں ترقیاتی کاموں کا نام و نشان تک نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے وزراء اور اراکین حکومت روزانہ اسلام آباد میں حاضری لگا رہے ہیں جس سے عوام کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے صوبے کی حکمران پارٹی کے پاس صوبے کی ترقی کیلئے کوئی پروگرام نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ خالی دعووں اور وعدوں کے بل پر بننے والی حکومت عوام کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتی ،انہوں نے کہا کہ عوام باشعور ہیں اور انتشار اور بغاوت پر لوگوں کو اکسانے والے اسلام آباد میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے کنٹینر پر بیٹھے ہیں،انہوں نے کہا کہ عمران خان قوم کو بتائیں کہ وہ ہر روز کس خوشی میں جشن منا رہے ہیں ملک و قوم کو مسائل سے دوچار کرنے اور پاکستان کو تباہی کی طرف لے جانے والے عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام مہذب اور با صلاحیت قیادت کو پسند کرتے ہیں عمران خان نے وزیر اعظم بننے کی خواہش میں صوبائی حکومت کو یرغمال بنایا ہوا ہے جو کہ صوبے کے عوام کی توہین ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کی سزا میں نرمی کریں تا کہ وہ صوبے کے مسائل پر توجہ دے سکیں ،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد میں میوزیکل شو منعقد کرنے سے تبدیلی نہیں آ جاتی۔


مورخہ : 06.09.2014 بروز ہفتہ

پشاور (پ ر ) صوبائی حکومت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے ،اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور اقلیتی ھرجید سنگھ کے بہیمانہ قتل پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کے خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے عملی اور سنجیدہ اقدامات اٹھائے کیو نکہ پچھلے کئی ہفتوں سے اقلیتوں پرمسلسل حملے ہو رہے ہیں اور قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کا صوبے کی ترقی کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں انہیں تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولیں ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے صوبائی حکومت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ اقلیتوں پر پے در پے حملے حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہیں لہذٰا حکومت غیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کر کے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتی برادری کے ساتھ مل بیٹھ کر ان کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ان کی مشاورت سے لائحہ عمل طے کرے۔

مورخہ : 06.09.2014 بروز ہفتہ
( پریس ریلیز )
پشااور ( پ ر ) عوامی نیشنل پار ٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکر ٹری ایمل ولی خان ،اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے اے این پی کے دیرینہ کارکن خانزادہ خان کی کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر ان کے خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ان کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کر نے کیلئے دعا کی ہے ،انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ خانزاد ہ خان جن کا تعلق ضلع بونیر کے علاقہ چغر زئی سے تھا پارٹی کیلئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی انہوں نے کہا کہ اے این پی ایک دیرینہ کارکن سے محروم ہو گئی ہے اور خانزادہ خان کی پارٹی سے وابستگی اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں اے این پی کے عہدیدار وں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اے این پی کی قربانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں ۔

مورخہ : 06.09.2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر ستارہ ایاز نے کہا ہے کہ کہ اے این پی ہمیشہ سے خواتین اور مردوں کی برابری پر یقین رکھتی ہے اور خواتین کوعملی سیاست میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار کرنے کا سہرا فخر افغان باچاخانؒ کے سر ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت باچا خان مرکز میں پشاور ڈویژن کی خواتین نائب صدور اور جائنٹ سیکرٹریز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اجلاس مین عوامی نیشنل پارٹی کی جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک سمیت پشاور ، چارسدہ ، مردان ،نوشہرہ اور صوابی ڈسٹرکٹ کی خواتین نائب صدور اور جائنٹ سیکرٹریز نے شرکت کی ،اس موقع پر پارٹی الیکشن کے بعد کواتین کو منظم و فعال کرنے کے پارٹی فیصلے کی توثیق کی گئی ستارہ ایاز نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اے این پی میں خواتین عہدیداروں کی تعداد دوسری تمام سیاسی پارٹیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اے این پی نے ہمیشہ خواتین کو عملی میدان میں آنے کیلئے مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے،انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ضلعی سطح پر خواتین کے کنونشن منعقد کئے جائیں گے اور یو سی و گاؤں کی سطح پر خواتین کو فعال بنانے کیلئے کاوشیں تیز تر کی جائیں گی،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تنظیم میں 2خواتین کا ہونا بہت ضروری ہے جبکہ اس سے کم تعداد میں کوئی تنظیم قابل قبول نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں خواتین کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے ‘ خواتین کو حقو ق دئیے بغیر کوئی بھی معاشرہ اور ملک ترقی نہیں کر سکتا ‘ عوامی نیشنل پارٹی شروع دن سے ہی صنفی امتیاز کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے ،ستارہ ایازنے کہا کہ خواتین اگر اپنے حقوق کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں تو نہ صرف ترقی کی راہیں کھلیں گی بلکہ ایک مثالی معاشرہ کی تشکیل بھی ممکن ہو سکے گی ‘ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں ‘ اور یہی وجہ ہے کہ خواتین نے ہر دو ر میں اے این پی پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے ‘انہوں نے کہا کہ ہم پختون کلچر میں رہتے ہوئے اپنی خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف زندگی کی تمام سہولیات فراہم کریں گے بلکہ انہیں اقدار کا احترام کرنا بھی سکھائیں گے۔

مورخہ : 06.09.2014بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر )نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کو مزید وقت ضائع کئے بغیر دھرنا ختم کردینا چاہئے تاکہ اسلام آباد میں زندگی معمول پر أ سکے ، اور صوبائی و مرکزی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں ، اپنے ایک تحریری بیان میں سنگین خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ عمران خان اور خیبر پختو نخوا کی صوبائی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں ، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ڈرامے کا ڈراپ سین تو ویسے ہی ہو چکا ہے جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد ملک بھر کی سیاسی قیادت اپنا فیصلہ واضح کر چکی ہے کہ ملک صرف آئین کے مطابق پارلیمانی جمہوری نظام کے مطابق ہی چلے گا،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والے فیصلے ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر چکے ہیں اور ان فیصلوں کو پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے لہذٰا عمران خان کو سمجھنا چاہئے کہ چند ہزار لوگوں کا مجمع لگا کر کوئی امپائر اپنی انگلی اٹھائے گااور یہ طرز عمل 18کروڑ عوام کی رائے پر حاوی ہو جائے گا کسی صورت ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ ماضی کے طریقہ واردات کی نئے جمہوری نظام میں کوئی گنجائش نہیں،سنگین خان ایڈوکیت نے واضح کیا کہ عمران خان عوام اور پارلیمانی جمہوریت میں اپنا سیاسی مستقبل تلاش کریں ۔
جاری کردہ
اے این پی سیکر ٹریٹ 
باچا خان مرکز پشاور


مورخہ : 05.09.2014 بروز جمعہ

نو ٹیفیکیشن
عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم ننگیالے پختون کے مرکزی سالار محمد رسول خان نے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی ہدایت اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کی مشاورت سے ننگیالے پختون کے صوبائی سالار کیلئے نیک اختر خان خلیل کی نامزدگی کا نو ٹیفکیشن پارٹی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز پشاور سے جاری کر دیا ہے اوران کو ہدایت کی ہے کہ ننگیالے پختون تنظیم کی فعالیت اور ترقی کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا کر اہم اور کلیدی کردار ادا کریں ۔



مورخہ : 05.09.2014 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ دھرنے والوں نے پاکستان کی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے چند ہزار لوگ اسلام آباد میں بیٹھ کر ملک کی منتخب پارلیمنٹ اور منتخب حکومت کو یرغمال بنانے والے ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملک و قوم میں انتشار اور افراتفری اور عام لوگوں کو بغاوت پر اکساتے ہیں ان سے ملک کے عوام بیزار ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اپنی ٹیم کے ہمراہ دھرنوں اور مظاہروں میں شامل ہو کر اسلام آباد کو فتح کر رہے ہیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ ہمارا صوبہ گزشتہ ایک ماہ سے بغیر کسی حکومت کے چل رہا ہے اورصوبے مین قانون نام کی کوئی چیز نہیں جس پرصوبے کے عوام انہیں معاف نہیں کریں گے،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے وزراء اور ممبران اسمبلی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ عمران خان کے حکم پر اسلام آباد میں ڈنڈے اٹھا کر صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کر رہے ہیں حالانکہ انہیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ صوبے کے عوام نے ان کو اسلام آباد میں ڈنڈا بردار جلوسوں کیلئے نہیں بلکہ صوبے کے عوام کی خدمت کیلئے ووٹ دیئے ہیں،انہوں نے وزیر اعلیٰ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اسلام آباد میں لشکر بندی ختم کر کے اپنے صوبے کے معاملات کو سنبھالیں، انہوں نے کہا کہ خیبر پختو نخوا حکومت کے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس غریب صوبے میں سرمایہ کاری سے کترا رہے ہیں،یہ لوگ ملک کے نوجوانوں میں عدم برداشت انتشار اور افراتفری کو ہوا دے رہے ہیں،اور ان کے غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے بین الاقوامی مستند ادارے صوبے کی حکومت کی کارکردگی سے نہ صرف غیرمطمئن ہیں بلکہ انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہوا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختو نخواکے حالات نے نیا پاکستان بنانے کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے عوام عمران خان اور ان کی پارٹی کی ان غیر سنجیدہ اور ملک دشمن سرگرمیوں کو انتہائی حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔


مورخہ : 05.09.2014 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) پختون ایس ایف کے 9ستمبر کو ہونے والے صوبائی انتخابات کیلئے درخواستوں کی وصولی مکمل کر لی گئی ، اے این پی کے صوبائی قائمقام جنرل سیکرٹری اور پی ایس ایف کے ایڈوائزر ایمل ولی خان اور پی ایس ایف کے صوبائی چیئر مین امتیاز وزیرنے کاغذات کی سکروٹنی کا کام مکمل کر لیا ،جن کے مطابق پختون ایس ایف کی صدارت کیلئے مقابلہ فخر عالم اور یاسر یو سفزئی کے درمیان ہوگا، سینئر نائب صدر کیلئے شیر اللہ وزیر ، غلام علی ، شبیر بخشالی، اور طاہر شاہ میدان میں ہیں ، اسی طرح جنرل سیکرٹری کیلئے مقابلہ حقنواز خٹک ،غلام علی اور شیر اللہ وزیرکے درمیان ہو گا،ڈپٹی جنرل سیکرٹری کیلئے غلام علی ، طاہر شاہ ،امجد خان ننگیالے، عمران مومند، ملک انوروزیر اور محمد ماجد میدان میں ہیں ،سیکر ٹری مالیات کیلئے فراد علی اور امتیاز خان جبکہ مردان کی نائب صدارت کیلئے محمد ماجد،بلال اور صابر مایار میدان میں اتریں گے، ملاکنڈ کی نائب صدارت کیلئے 6 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جن میں حیات محمد خان ، سید ثناء اللہ شاہ۔ احتشام ، عبدالقیوم خان ، امتیاز خان ذیشان رانیزئی اور احسان شامل ہیں،نائب صدر فا ٹا کیلئے نثار باز ، ملک انور وزیر اور حضرت اللہ داوڑ کے درمیان مقابلہ ہو گا،اسی طرح جائنٹ سیکرٹری ملاکنڈ کیلئے عباد بونیری،سید ثناء اللہ شاہ اور احسان جبکہ جائنٹ سیکرٹری مردان کیلئے محمد بلال اور اسامہ خان میں جوڑ پڑے گا،فاٹا کے جائنٹ سیکرٹری کیلئے حضرت داوڑ اور ملک انور اور ہمایوں کے درمیان مقابلہ ہو گا،قبل ازیں صوبائی انتخابات میں بلا مقابلہ منتخب ہونے والوں میں سیکرٹری اطلاعات مقرب خان بونیری ، سیکرٹری ثقافت ، امجد خان ننگیالے ،نائب صدر پشاور ذاکر آفریدی،نائب صدر بنوں ،حکمت پختون ،نائب صدر ڈی آئی خان حسن محسود نائب صدر کوہاٹ ارشد حمید بنگش ، جائنٹ سیکرٹری پشاور ریاض ، جائنٹ سیکرٹری بنوں کامران،جائنٹ سیکرٹری کوہاٹ ولید افغان ،جائنٹ سیکرٹری ڈی آئی خان اشتیاق خٹک اور نائب صدر ہزارہ کیلئے جازیب خان اور جائنٹ سیکرٹری ہزارہ کیلئے انور شید خان اور ماجد شامل ہیں۔


مورخہ : 05.09.2014 بروز جمعہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان ، صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے یکہ توت میں اے این پی کے ضلعی رہنما حاجی ولایت حسین کے گھر پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بزدلانہ فعل قرار دیا ہے، ایک مذمتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ دھماکہ غیر انسانی فعل ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے پارٹی قائدین نے کہا کہ معصوم انسانی جانوں کے ذریعے مکروہ ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف وطن دشمنوں کا کسی بھی مذہب اور نظریے سے تعلق نہیں ہے ۔ ا نہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے امن کی خاطربھاری قیمت چکائی ہے اور جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ،لیکن ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس بزدلانہ فعل میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے، پارٹی رہنماؤں نے واقعے میں زخمی ہونے والوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی،

4ستمبر 

پشاور ( ) اے این پی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ اگرعدالتی کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کی تصدیق کی تو خیبرپختون خوا میں دوبارہ ری الیکشن کا مطالبہ کریں گے ہم نے جمہور یت کی خاطر انتخابی نتائج تسلیم کئے ہیں ورنہ کپتان چند حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگارہے ہیں اورہمارے ساتھ انتخابی تودھاندلی کی یہ حالت تھی کہ دیگر امیدواروں کا چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم تھے اورہمارے الیکشن کمشنر بیت اللہ مسعود اورحکیم اللہ مسعود تھے ہمارے نتائج کے فیصلے طالبان شوریٰ میں ہوئے ، پختون قوم بنی گالہ سے اپنے اختیارات واپس لے کر دم لیں گے وہ جمرات کی شام کس کورونہ میں حاجی مقدر شاہ کی رہائش گاہ پر ان کے اوران کی خاندان اورساتھیوں کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،حاجی مقدرشاہ اورشوکت علی نے بھی خطاب کیا رکن اسمبلی احمد بہادرخان ،ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،یوسی کس کورنہ کے صدر ظفرخان ،جنرل سیکرٹری عبدالرحیم اور نہاراعوان بھی اس موقع پر موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیا رکرنے والوں کو پارٹی ٹوپیاں پہنائیں اور پارٹی جھنڈا بھی لہرایا اپنے خطاب میں امیرحیدرخان ہوتی کاکہناتھاکہ عام انتخابات میں دیگر امیدوار اپنے جلسے جلوسوں میں مصروف تھے اوراے این پی اپنے شہداء کے جنازے اٹھارہی تھی انہوں نے کہاکہ ہمارے کارکنوں نے میدان میں کھڑے ہوکر دہشت گردوں کامقابلہ کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہم نے پاکستان اورجمہوریت کی خاطر انتخابی نتائج تسلیم کئے ہیں اورموجودہ حالات میں بھی جمہوریت کوسپورٹ کررہے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ انتخابات میں دھاندلی کے لئے عدالتی کمیشن نے کام شروع کیا اوریہ ثابت ہوا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو خیبرپختون خوا میں ری الیکشن کا مطالبہ کریں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اوراسے اپنی فرض منصبی سمجھتی ہے انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان کے نام پرووٹ لینے والے اسلام آباد میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں اورپختون روایات کا جنازہ نکال کر ہر شام نئی روایات قائم کرنے لگے ہیں انہوں نے کہاکہ پختون قوم نے پی ٹی آئی کو ووٹ ناچ گانوں اوردھرنوں کے لئے نہیں دیے تھے بلکہ نئے پاکستان ،سستے انصاف ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ان پر اعتماد کیاگیاتھا انہوں نے کہاکہ پختون قوم اپنے فیصلے پر نادم ہیں اوروہ بنی گالہ سے واپس اختیارات اپنے صوبے لا کر دم لیں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت پختون گوناگو مسائل سے دوچارہیں اورانہیں اپنی حالت زار بدلنے کے لئے اتحاد واتفاق کامظاہر ہ کرناہوگاا ورسرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہوکر مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں ہر طرف ترقی اورخوشحالی کے منصوبے جاری تھے موجودہ حکومت نے اپنے قیام سے اب تک کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا البتہ ہماری دور حکومت کے منصوبوں پر انے نام کی تختیاں لگانے اوران کے فنڈز کو کاٹ کر اپنے حلقوں میں منتقل کیاجارہاہے انہوں نے کہاکہ انتخابات میں عمران خان پورے پاکستان میں پھرتے رہے لیکن ان پر دوسرے صوبوں کی قومیتوں نے اعتماد نہیں کیا اورپختون قوم ان کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں میں آگئے تاہم انہوں نے کہاکہ پختون قوم عہد شکنوں سے بدلہ لینا جانتے ہیں انہوں نے آنے والا دور اے این پی اورسرخ جھنڈے کا ہے کیونکہ ہمارا مقصد اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں پر زوردیا کہ وہ ہر سوں پھیل جائیں اور لوگوں کو باچاخان اورخان عبدالولی خان کے افکار سے باخبرکرکے انہیں سرخ جھنڈے تلے اکھٹا کیاجائے ۔


مورخہ : 4.9.2014 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر) پختون ایس ایف کی صوبائی کابینہ کے مختلف عہدوں کیلئے درخواستیں جمع کرانے کا سلسلہ آج سارا دن جاری رہا۔
پختون ایس ایف کے صوبائی کابینہ کیلئے ۹ ستمبر کو انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے اس سلسلہ میں الیکشن سے پہلے ۲ ستمبر کوباچاخان مرکز پشاور میں صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں الیکشن کے اُصولوں اور کوڈ آف کنڈکٹ پر تفصیلی غور و فکر کے بعد اہم فیصلے کئے گئے جنکی وجہ سے کارکنوں میں اطمینان اور خوشی محسوس ہُوئی ۔ دوسرے مرحلے میں 3اور 4 ستمبر کو کابینہ کے مختلف عہدوں کیلئے خواہشمند طلباء نے درخواستیں جمع کیں۔اس سلسلے میں آج 4 ستمبر کو درخواست گزاروں کا باچاخان مرکز پشاور میں پی ایس ایف کے صوبائی چئیرمین امتیاز وزیر کیپاس درخواستیں جمع کرنے کا تانتا بندھا رہا۔اس موقع پر آرگنائزنگ کمیٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری وسیم باغی اور جمیل آفریدی بھی موجود تھے۔صوبائی چئیرمین امتیاز وزیر نے کہا کہ الیکشن کا عمل نہایت شفاف ہوگا۔افراد کے مقابلے میں تنظیمی مفادات اور آئین سب کیلئے آرگنائزنگ عمل کا ہدف اور منزل ہے تاکہ تنظیمی طلباء کے اعتماد میں مزید اضافے کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ ایڈوائزر ایمل ولی خان کی رہنمائی میں پختون ایس ایف کو سیاسی،تنظیمی ،اخلاقی اور نفسیاتی بلندیوں کے اعلیٰ مقام پر پہنچا کر دم لینگے۔لہذا تمام طلباء اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کے ذریعے تنظیم کیساتھ ہم کاری کریں جن میں سب کی خیر ہوگی۔

مورخہ : 02.09.2014 بروز منگل

پختون ایس ایف کے تمام ارکان اتفاق و اتحاد قائم رکھیں، ایمل ولی خان پی ایس ایف عوامی نیشنل پارٹی کا ہراول دستہ ہے ، کارکن باچا خان کا پیغام گھر گھر پہنچائیں، سردار حسین بابک انتخابات کا عمل پسند و نا پسند سے با لا تر اور شفاف ہو گا،امتیاز وزیر ، پی ایس ایف کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب پشاور( پ ر )پختون ایس ایف کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت صوبائی چیئر مین امتیاز وزیر منعقد ہوا ، اے این پی کے قائمقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے خصوصی طور پراجلاس میں شرکت کی اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف عوامی نیشنل پارٹی کا ہراول دستہ ہے انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کے تمام ارکان اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ باچا خان کا پیغام بھی گھر گھر پہنچائیں ، اپنے تعلیمی اداروں میں ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اور صوبے میں تعلیمی ما حول میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں ،انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کے ارکان تعلیم کے حصول کو اپنا نصب العین بنائیں اور مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت کیلئے اپنا شاندار مستقبل بنانے کیلئے دن رات ایک کر دیں ،انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کی تاریخ صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے عبارت ہے، اجلاس میں9ستمبر 2014ء کو منعقد ہونے والے پی ایس ایف کے صوبائی الیکشن کے طریقہ کار اور کوڈ آف کنڈکٹ پر بحث ہوئی اور اہم فیصلے بھی کئے گئے اس موقع پر پی ایس ایف کے صوبائی چیئر مین امتیاز وزیر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی انتخابات کیلئے خواہشمند اپنی اپنی درخواستیں 4ستمبر تک چیئر مین کے پاس باچا خان مرکز میں جمع کرائیں،انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کیلئے تمام امیدواروں کا طالب علم ہونا ضروری ہے،جبکہ ان کیلئے ممبر سازی کا کارڈ بھی پیش کرنا لازمی ہو گا،علاوہ ازیں صوبائی صدر ، سینئر نائب صدر ،جنرل سیکرٹری، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ،سیکرٹری اطلاعات،فنانس سیکرٹری اور کلچر سیکرٹری کے عہدوں پرتمام صوبائی مجلس عاملہ ووٹ ڈالنے کی اہل ہو گی ،انہوں نے کہا کہ پشاور ، مردان ،کوہاٹ، بنوں ، ڈی آئی خان ،ملاکنڈ ڈویژن ، ہزارہ ڈویژن اور فاٹا کو نائب صدر اور جائنٹ سیکرٹری کا ایک ایک عہدہ دیا گیا ہے،جن کیلئے انتخابی عمل میں متعلقہ ڈویژن کی مجلس عاملہ ووٹ دالنے کی اہل ہو گی۔جبکہ الیکشن کے دن مجلس عاملہ کے ارکان اور امیدواروں کو باچا خان مرکز میں داخلے کی اجازت ہو گی،اس موقع پر ایمل ولی خان اور امتیاز وزیر نے مجلس عاملہ کے تمام اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ الیکشن کا عمل پسند و ناپسند سے بالاتر اور شفاف ہو گا،انہوں نے کہا کہ تمام ساتھی آپس میں اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کو اولیں ترجیح دیں، تاکہ تنظیم کو پالیسی کے مطابق آگے لے جایا جا سکے۔اجلاس میں کمیٹی کے تمام اراکین نے شرکت کی ایڈوائزر ایمل ولی خان نے آرگنائزنگ کمیٹی کے بہترین کام پر ان کو خراج تحسین پیش کیا ،

منگل 2ستمبر 2014ء

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی قائد اور ترجمان سردا ر حسین بابک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت صوبے کے واحد انٹر نیشنل ائر پورٹ کا تحفظ نہیں کرسکتی اور عمران خان پورے نظام کو بدلنے کی بات کرتے ہیں ‘ بین الاقوامی پروازوں کی بندش سے صوبے کی تاجر برداری سمیت پورے صوبے کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ‘ باچاخانؒ مرکز پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ کرنے والے ایک صوبے کو نہیں سنبھال سکتے اور چلے ہیں ملک کو بدلنے ‘ گزشتہ روز روسی طیارے پر فائرنگ سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ سمیت پوری حکومتی مشینری اسلام آباد میں بے ہنگم ناچ گانے میں مصروف ہے ‘ انہوں نے کہا کہ مسافر طیاروں پر فائرنگ روز کا معمول بن چکا ہے مگر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا ا وراگر اخباری حد تک بیانات آئے ہیں تو کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا ‘ جو پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی ہے ‘ فلائٹس کی کمی سے پشاور سمیت پورے صوبے کے باشندے ذہنی اذیت سے دوچا ر ہیں جبکہ صوبے او ر ملک کی بدنامی الگ ہو رہی ہے ‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دھرنے کے بجائے اس جنگ زدہ صوبے اور اس کے عوام پر رحم کرے اور حکومتی امور پر توجہ دے تاکہ عوامی مسائل میں کمی آسکے ۔

مورخہ : 02.09.2014 بروز منگل

پشاور( پ ر )پختون ایس ایف عوامی نیشنل پارٹی کا ہراول دستہ ہے ان خیالات کا اظہار اے این پی کے قائمقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری و ترجمان سردار حسین بابک نے باچا خان مرکز پشاور میں پختون ایس ایف کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کے تمام ارکان اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ باچا خان کا پیغام بھی گھر گھر پہنچائیں ، اپنے تعلیمی اداروں میں ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اور صوبے میں تعلیمی ما حول میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں ،انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کے ارکان تعلیم کے حصول کو اپنا نصب العین بنائیں اور مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت کیلئے اپنا شاندار مستقبل بنانے کیلئے دن رات ایک کر دیں ،انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کی تاریخ صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے عبارت ہے،اس موقع پر پی ایس ایف کی آّرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']