Aug-2014

 

31.08.2014بروز اتوار 

پشاور ( پ ر) اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کی جرآت مندانہ مؤقف کو سراہتے ہوئے کہاہے کہ جاوید ہاشمی کپتان اورعلامہ کے ناپاک ارادے بھانپ گئے ہیں اور ان کے اصولی مؤقف جمہوریت کی جیت ہے، جاوید ہاشمی کارکنوں کو دھرنا ختم اورپرامن رہنے کی ہدایات دیں، عمران خان اور علامہ طاہر القادری آزادی اورانقلاب مارچ کے نام پرلاشوں کی سیاست کرناچاہتے ہیں ،خو دکنٹینر اور بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھے رہے اورکارکنوں کو اشتعال دلا کر ان کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ،حالات کو نو ریٹرن پوائنٹ پر جانے سے قبل فریقین کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنا چاہئے وہ یونین کونسل مسلم آبادمیں خان سید کاکا کی رہائش گاہ پر پارٹی جھنڈا لہرانے کے سلسلے کے ابتدائی تقریب سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایارایڈووکیٹ ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اور حاجی محمد جاوید یوسفزئی نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ جاوید ہاشمی نے جمہوریت اورملک کے استحکام کے لئے ایک بار پھر ’’باغی ‘‘بن کر اصولی موقف اختیار کیاہے جو خوش آئندہے انہوں نے کہاکہ جاوید ہاشمی کپتان اورعلامہ کے ارادوں کو جان چکے ہیں کہ یہ دونوں جمہوریت کو ڈی ریل کرنے اورملک میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی احتجاج دھرنے کے شرکاء کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے حکومت نے انہتائی صبراورتحمل کا مظاہرہ کیا تاہم آزادی اورانقلاب مارچ کے شرکاء لاشوں کی سیاست کرناچاہتے ہیں اوراس مقصد کے لئے بے گناہ کارکنوں کو قربانی کابکرا بنارہے ہیں انہوں نے کہاکہ کپتان اورعلامہ نے ملک کو عجیب وغریب کیفیت سے دوچار کردیاہے گذشتہ سترہ دنوں سے جاری ’’ سٹیج شو ‘‘ کے دوران ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اور بیرونی دنیا میں پاکستان کا امیج بری طرح متاثرہوگیاہے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ جمہوریت کی نشاہی ہے اوراسے نشانہ بنانا جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے مترادف ہے انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان کے نام پر مینڈیٹ لینے والوں نے اپنے عوامی وعدے بھلا دیئے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے شیلنگ اورفائرنگ کے دوران سیاسی کارکنوں ،میڈیا کے نمائندوں اورپولیس جوانوں کے زخمی ہونے اورہلاکتوں پر سخت رنج وغم کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ لیڈر خو کنٹینر اوربلٹ پروف گاڑی میں بیٹھے تھے اور غریب کارکنوں کو اداروں کے سامنے لاکر انہیں بے یارومددگار چھوڑاگیا انہوں نے کہاکہ لیڈر وہ ہوتاہے جو احتجاجی تحریک کے د وران کارکنوں کی قیادت کرے اے این پی کے صوبائی سربراہ نے کہاکہ خیبرپختون خوا میں اپوزیشن جماعتیں موجودہ حکومت کو گرانا نہیں چاہتی تاہم اسمبلی کی تحلیل کو ہر قیمت روکاجائے گا انہوں نے کہاکہ عوام نے پی ٹی آئی کو نئے پاکستان اورتبدیلی کے نام پر مینڈیٹ دیا ہے تحریک انصاف اپنے منشور پر عمل نہیں کرسکتی تو حالات سے راہ فرار اختیا رکرکے اسمبلیوں سے استعفیٰ دے رہی ہے انہوں نے کہاکہ اسمبلیوں سے استعفیٰ عوام کی مینڈیٹ کی توہین ہے اورتاریخ کبھی بھی عمران خان کو معاف نہیں کرے گی انہوں نے کہاکہ عوام تحریک انصاف اور دیگر پارٹیوں سے اکتا ہوچکے ہیں اور لوگ دھڑادھڑا اے این پی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی اقتدار کی بھوکی نہیں ،اقتدار کے بغیر پختون قوم کی خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی نے اپنے دورحکومت صوبے کے نام کی تبدیلی ،این ایف سی ایوارڈ ،مواصلاتی نظام، 8یونیورسٹیاں اورلاتعداد گرلز اور بوائز کالجز کے ساتھ مساجد اور حجرے بھی تعمیر کئے اور موجودہ حکومت تاحال اے این پی کے دور حکومت کے ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی تختیاں لگارہی ہے ۔امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ ملک اس وقت شدید سنگین خطرات سے دوچارہیں اور ہ حالات پر کڑی نظر رکھیں انہوں نے کہاکہ پارٹی نے تمام صوبے میں پارٹی جھنڈالہرانے کا فیصلہ کیاہے جس کا آج سے باقاعدہ آغازکردیاگیاہے انہوں نے کہاکہ کارکن باچاخان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے افکار کو ہرسوں پھیلائیں کیونکہ یہ وقت کا تقاضاہے کہ عدم تشدد اورامن کا راستہ اختیار کرکے مسائل کو حل کیاجائے ۔


مورخہ : 31.08.2014بروز اتوار 

پشاور 🙁 پ ر )نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادی نے جو ڈرامہ اسلام آباد میں رچایا ہوا ہے اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے،اور اگر 10ہزار لوگوں کو اکٹھا کر کے جلاؤ گھیراؤ سے جمہوریتوں کو ر خصت کرنے کی روش چل پڑی تو یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام چارسدہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت ضلعی صدر رحیم باچا نے کی،سنگین خان نے کہا کہ کل کو اگرمریدکے سے تین لاکھ لوگ ڈنڈوں کی بجائے کلاشنکوفوں کے ساتھ آگئے تو پھر آئین کو نہیں بلکہ اس ملک کی بقاء کو خطرہ ہو گا،انہوں نے کہا ہم با چا خان کے پیروکار ہیں اور جمہوریت کیلئے ہم نے اس ملک میں جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں جیلوں کی سختیاں برداشت کیں ،اور اس بھی بڑھ کر ہمارے صوبے خیبر پختو امیں الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی اور ہماری پارٹی کے جلسوں پر خودکش حملے کئے گئے،جبکہ عمران خان ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر پورے صوبے میں جلسے کرتے رہے لیکن جمہوریت کی بقاء کیلئے ہم نے الیکشن کے نتائج قبول کئے تاکہ جمہوریت کے تسلسل پر آنچ نہ آئے،نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی سینئر نائب صدر گلزار خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ NYOباچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک کا تسلسل ہے کیونکہ یہ باچا خان ہی تھے جنہوں نے نفرت اور تشدد کی تمام زنجیریں توڑیں جس کی بدولت انہوں نے ڈیورڈ لائن کے اس پار افغانستان اور مشرقی بارڈر کے اس پار ہندوستان میں کروڑوں انسانوں کے دلوں میں گھر کر لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب باچا خان اس دنیا سے رخصت ہو ئے تو وہ جنوبی ایشیا کی واحڈ شخصیت تھی جس کی وفات پر تینوں ملکوں یعنی پاکستان ہندوستان اور افغانستان نے اپنے جھنڈے سرنگوں کئے،لہذٰا فخر افغان باچا خان کی تعلیمات آج بھی نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں،اگر آج ایک سیاسی کارکن چاہتا ہے کہ اس کے کروڑوں گھر اور کروڑوں حجرے ہوں تو اسے باچا خان کے نقش قدم پر چلنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان نے جو خواب دیکھا تھا اس کا بیشتر حصہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اے این پی نے اٹھاریں ترمیم اور صوبے کا نام بدل کر پورا کر دیا ہے جبکہ بقیہ حقوق کیلئے تحریک جاری ہے اور رہیگی، انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان کی سیاست جنوبی ایشیاء میں امن اور ترقی کیلئے ایک سانس کی حیثیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ آج دنیا پر یہ انکشاف ہو رہا ہے کہ ترقی اور امن کیلئے سافٹ بارڈر انتہائی ضروری ہیں اور یہی کام باچا خان نے بیسویں صدی کے اوائل میں شروع کیا تھا،،اس موقع پر تنظیم کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری،، مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری محسن داوڑ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات بہرام خان ایڈوکیٹ اور فنانس سیکرٹری بشیر احمد اور عثمان خان نے بھی خطاب کیا،

مورخہ : 30.8.2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی ہدایات اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کی مشاورت سے ننگیالے پختون کے مرکزی سالار محمد رسول خان نے وصال محمد خان آف یار حسین صوابی کو ننگیالے پختون خیبر پختونخوا کیلئے کوآرڈینیٹر نامزد کر دیا ہے۔
اُنہوں نے وصال محمد خان کی نامزدگی کا نوٹیفیکیشن پارٹی کے سیکرٹریٹ باچا خان مرکز پشاور سے جاری کر دیا ہے۔ اُن کی نامزدگی کے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ نو نامزد کوآرڈینیٹر کو ان کی سابقہ خدمات اور ننگیالئے پختون کی تنظیمی اُمور میں خاصی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر نامزد کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ وصال محمد خان اس سے پہلے ننگیالے پختون کے صوبائی ڈپٹی سالار کے عہدے پر بھی رہ چکے ہیں۔مرکزی سالار اعلیٰ محمد رسول خان نے ان کو ہدایت کی کہ ننگیالے پختون تنظیم کی فعالیت اور ترقی کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لا کر اہم اور کلیدی کردار ادا کرے اور صوبہ بھر کے ضلعی سالاروں سے قریبی رابطے میں رہے۔


مورخہ : 30.8.2014 بروز ہفتہ

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا وائس چانسلر اجمل خان کی بازیابی کی خوشی میں مشعل بردار ریلی 

پشاور ( پ ر ) مغوی وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کی رہائی پر پختون ایس ایف کیمپس کے صدر سنگین شاہ اور جنرل سیکرٹری توحید خان داؤد زئی کے زیر صدارت مشعل بردار ریلی نکالی گئی جو اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ریکریشن سنٹرسے شروع ہو کر کافی شاپ بازار سے گزرتے ہوئے پوسٹ مال اور پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر چوک سے مدینہ مارکیٹ اور پھر نیو ہاسٹل کے زیر پوائنٹ پر ختم ہوئی ۔ریلی میں پشاور یونیورسٹی کے صدر حاجی فرمان اللہ اورکزئی ، جنرل سیکرٹری انعام پختونیار، اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسف زئی ، جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی کے علاوہ پشاور یونیورسٹی ، اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور تمام کیمپس کے ذمہ داروں ، ورکروں ، اساتذہ اور سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء سے کیمپس کے صدر سنگین شاہ ، جنرل سیکرٹری توحید خان داؤد زئی ، پشاور یونیورسٹی کے صدر فرمان اللہ اورکزئی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسف زئی نے خطاب کیا۔
اس موقع پرمقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سیکیورٹی اداروں کے انتہائی مشکور ہیں کہ جنہوں نے پروفیسر ڈاکٹر اجمل خان کو بحفاظت بازیاب کروایا۔ اُنہوں نے کہا کہ اجمل خان کا شمار دُنیا کے بہترین معلمین میں ہوتا ہے اور وہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر کے علاوہ پشاور یونیورسٹی کے رجسٹرار ، پرووسٹ اسلامیہ کالج کے پرنسپل اور گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کے وائس چانسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ملک انمول سرمایہ ہیں اور آج بہت بڑے بڑے لوگ اُن کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو ہمیشہ کیلئے تحفظ کیا جائے۔


مورخہ : 30.8.2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کا وفد قائمقام صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک ، صوبائی نائب صدر فاٹا عمران خان آفریدی نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کی رہائش گئے۔ وفد کے ارکان اجمل خان کی رہائش گاہ پر کچھ دیر رہے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کو مبارکباد دی اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پروفیسر اجمل خان کا صوبے کی تعلیم کیلئے گراں قدر خدمات ہیں۔ اُنہوں نے اپنی ساری زندگی صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے وقف کر رکھی ہے اورپروفیسر اجمل خان صوبے کی تعلیم کیلئے ایک سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پروفیسر اجمل خان کی بخیریت اپنے گھر واپسی صوبے کے عوام کیلئے عید کی خوشی سے کم نہیں ہے۔ صوبے کے تمام عوام اجمل خان کی بازیابی اور واپسی پر سیکیورٹی فورسز کو شاباش دے رہے ہیں۔

مورخہ : 30.8.2014 بروز ہفتہ

اے این پی کے رہنماؤں کااللہ نواز خان ایڈووکیٹ کی وفات پر اظہار تعزیت

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدرامیر حیدر خان ہوتی ، قائمقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور صوبائی ترجمان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اے این پی ڈیرہ اسماعیل خان کے سابقہ آرگنائزر اور ڈسٹرکٹ زکوٰۃ و عشر کے چیئرمین اللہ نواز خان ایڈووکیٹ کی ناگہانی موت پر افسوس اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے خاندان اور لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی مغموم خاندان سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اورہم اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور اُن کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
یاد رہے کہ مرحوم اے این پی ڈیرہ اسماعیل خان کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں اور حال ہی میں پارٹی کے ضلعی آرگنائزر کے عہدے پربھی فائز تھے۔ اے این پی کے رہنماؤں نے باچا خان مرکز پشاور سے اپنے مشترکہ جاریکردہ تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ مرحوم اے این پی کی ایک فعال، سرگرم ، مخلص اور وفادار کارکن تھے اور اُن کی وفات سے مقامی سطح پر پارٹی میں جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ بمشکل پر ہو سکے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کیلئے مرحوم اور انکے خاندان کی گراں قدر خدمات کو پارٹی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اور پارٹی ان کی خدمات کو سراہتی ہے۔


مورخہ 29.08.2014بروز جمعہ
سیکیورٹی فورسز پروفیسر اجمل خان کی بازیابی پر مبارکباد کی مستحق ہیں
لائق زادہ لائق جیسی شخصیات کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی،سردار حسین بابک
پشاور(پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک نے پشتو کے نامور مصنف اور براڈکاسٹر لائق زادہ لائق کو تمغہ امتیاز کیلئے نامزد ہو نے پر مبارکباد پیش کی ہے اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر محمد اجمل خان کی بازیابی کا خیر مقدم کر تے اسے نیک شگون قرار دیا ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ لائق زادہ کا شمار ملک کے نامور مصنفین میں ہوتا ہے انہوں نے پشتو زبان کیلئے لائق زادہ لائق کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پشتو زبان کیلئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ، انہوں نے کہا کہ لاءئق زادہ لائق جیسے اہل قلم ، دانشور اور پشتو زبان کے زیرک مصنفین کی حکومتی سطح پر داد رسی اور حوصلہ افزائی ہونی چاہئے،انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیات ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں،اور ہمیں اپنے قیمتی اثاثوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے،قبل ازیں سردار حسین بابک نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی بازیابی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کی ہے، اور اسے نیک شگون قراردیا ہے،اے این پی کے رہنما نے پروفیسر اجمل خان کی بازیابی پرسیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان کی کوششوں اور انتھک جدوجہد پرخراج تحسین پیش کیاہے۔

مورخہ28.08.2014بروز جمعرات
محکمہ تعلیم میں سیاسی اور انتقامی بنیادوں پر تبادلے تعلیمی ترقی کیلئے نقصان دہ ہیں، سردار حسین بابک
اے این پی کے دور میں تعلیم کے فروغ کیلئے انقلابی اصلاحات کی گئی تھیں،تمام اساتذہ فارم سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں
سروس سٹرکچر اور چار درجاتی فارمولے پر عملدرآمدمزید تیز کیا جائے،ملگری استاذان کی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب
پشاور ( پ ر ) محکمہ تعلیم میں سیاسی اور انتقامی بنیادوں پر اساتذہ کے تبادلے صوبے میں تعلیمی ترقی کیلئے نقصان دہ ہیں ،یہ بات عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے باچا خان مرکز پشاور میں ملگری استاذان کی صوبائی کابینہ و ضلعی صدوراور جنرل سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میرٹ اور انصاف کے بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف صوبہ بھر میں سیاسی اور ذاتی انتقام کی بنیاد پر اساتذہ کے تبادلے کئے جا رہے ہیں ،جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں تعلیم کے فروغ کیلئے تاریخی اور انقلابی اصلاحات کی گئی تھیں اے این پی کے رہنما نے کہا کہ ملگری استاذان کی فارم سازی جاری ہے لہذٰا تمام اساتذہ فارم سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اجلاس میں آئینی کمیٹی کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور صوبے کے تمام اضلاع میں ملگری استاذان کی تنظیموں کو تعلیم کے فروغ اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا گیا ،اس موقع پر ملگری استاذان کے صوبائی صدر امجد علی ترکئی،وارث خان خلیل اور اسلام الدین خان بھی موجود تھے،سردار حسین بابک نے مزید کہاکہ سروس سٹرکچر اور چار درجاتی فارمولے پر عملدرآمدمزید تیز کیا جائے،تاکہ اساتذہ کو پروموشن کے زیادہ مواقع ملیں جس سے سکولوں میں خالی اسا میاں پر ہو نے میں مدد ملے گی۔

مورخہ28.08.2014بروز جمعرات
غنی خان مرحوم نے قوم اور دھرتی کیلئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں 
پختون قوم میں غنی خان کو اپنی فلسفیانہ سوچ اور شاعری کے حوالے سے جداگانہ اور بلند مقام حاصل ہے،
مرحوم شاعر کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر تقریب سے سردار حسین بابک ، بشیر مٹہ سلمیٰ شاہین اور دیگر مقررین کا خطاب
پشاور( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام پشتو کے نامور شاعر ، ادیب اور فلسفی غنی خان مرحوم کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں باچا خان مرکز پشاور میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی ، جس میں مرحوم شاعر کی پشتو زبان کی ترویج کیلئے خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ،تقریب میں اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک ،بشیر مٹہ ،سابق صوبائی وزیر ستارہ ایاز ، شمس بونیری ، سلمیٰ شاہین، افغا ن ٹریڈ کمشنر میر ویس یوسفزئی ،نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال ختک ، فخر الدین ، محسن داوڑ ،سلیمان صوبائی صدر صدر سنگین خان نے کابینہ اور ورکنگ کمیٹی سمیت دیگر رہنماؤں اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن و پختون ایس ایف کے کارکنوں و عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی،اس موقع پر سٹیج سیکرٹری کے فرائض حسن بونیری نے انجام دیئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک مرکزی سیکرٹری امور خارجہ بشیر احمد مٹہ ، صوبائی نائب صدر ستارہ ایاز، پشتو کی ممتاز خاتون شاعرہ اور مصنف سلمیٰ شاہین اور این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے غنی خان بابا کی شخصیت اور شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غنی خان نے سیاست ، ادب، اپنی سوچ اور فکر کے حوالے سے قوم اور اس دھرتی کی خاطر گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور خصوصی طور پر اُن کی شاعری اورسوچ ان کی شخصیت کی مکمل عکاسی کرتی ہے جو فلسفیانہ سوچ و فکر کا بیش بہا خزانہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم میں غنی خان کو اپنی فلسفیانہ سوچ اور شاعری کے حوالے سے جداگانہ اور بلند مقام حاصل ہے،شرکاء نے نئی نسل پر زور دیا کہ اُن کی شخصیت سے آگاہی اور ان کی شاعری اور نثر سے استفادہ حاصل کرے، تقریب کے شرکاء نے کہا کہ غنی خان بابا کی پشتو کی ترویج کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں اور انہیں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ غنی خان مرحوم کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی زندگی کے کئی پہلو تھے،وہ ایک شاعر ،ادیب فلسفی،مصور،سنگ تراش،دانشور ،سیاستدان اور اپنے وقت کے ایک بہترین مقرر بھی تھے،اور ان کا نام رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا،انہوں نے کہا کہ غنی خان مرحوم کو ترقی پسند شعراء میں اہم مقام حاصل تھا غنی خان نے نچلے طبقے سے سیاست کا آغاز کیا لہٰذا آج کے دور میں غریبوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ انہیں اپنا مقام حاصل کرنے کیلئے غنی خان بابا کو مشعل راہ بنانا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ مرحوم کی سیاسی بصیرت سے غریبوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ اگر وہ اپنے کاز میں مخلص ہوں اور محنت کریں تو انسان غنی خان باباکی طرح مرنے کے بعددلوں میں زندہ رہتا ہے۔انہوں نے تمام لوگوں سے اور خصوصاً پختونوں سے اپیل کی ہے کہ سیاست سے بالاتر ہوکر قومی جذبے کی بنیاد پر اپنے قومی ہیرو غنی خان بابا کے حوالے سے اپنے اپنے سطح پر پروگرام مرتب کریں اور اس سال ہر روز صد سالہ تقریبات کی روشنی میں اُن کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پروگراموں کا انعقادکریں۔ شرکاء نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ2014 ؁ء کوحکومتی سطح پر غنی خان کے نام سے منانے کا اعلان کیا جائے انہوں نے کہا کہ پاکستان پوسٹ ان کے ناقابل فراموش خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کے صلے میں اُن کے یادگاری ٹکٹ جاری کرے۔ تقریب میں موسیقی کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا اوردلچسپی سے اُن کے فن پارے دیکھے اور اُن کی تعریف کی ۔

مورخہ27اگست2014ء بروز بدھ
نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس 
پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ کی زیر صدارت باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا،اجلاس میں نظامت کے فرائض صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے انجام دیئے ، جبکہ مرکزی صدر خوشحال خٹک ، پلوشہ ،بشیر مٹہ ، بہرام خان ، محسن داوڑ، فخرالدین خان،سلمان اور نعمان الحق سمیت صوبائی کابینہ کے تمام ممبران نے اجلاس میں شرکت کی،اجلاس مین تنظیمی امور کے حوالے اہم معاملات زیر غور آئے اور متعدد اہم فیصلے بھی کئے گئے، اجلاس کے دوران صوبے کے تمام اضلاع کے صدور اور جنرل سیکرٹریز نے اپنے اضلاع میں یوتھ کی ممبر سازی سے اب تک ہونے والے تمام پروگراموں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ، ۔اس موقع پر صوبا ئی صدر سنگین خان نے ورکنگ کمیٹی کے اراکین پر زور دیا کہ وہ موجودہ سیاسی عمل میں زیادہ سے زیادہ محنت اور لگن سے کام کریں ،انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ یوتھ کی فعالیت کیلئے تنظیمی ڈسپلن کا خیال رکھا جائے اور تنظیم میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو شامل کیا جائے۔ 

مورخہ27اگست2014ء بروز بدھ
حکمران آئی ڈی پیز کی قربانیوں کو فراموش نہ کریں، سردار حسین بابک
متاثرین کیلئے متبادل انتظام کئے بغیر سرکاری عمارتوں سے بے دخلی زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے
مرکزی اور صوبائی حکومتیں اسلام آباد ڈرامے کو چھوڑ کر آئی ڈی پیز کی بحالی پر توجہ دیں،
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پار ٹی کے پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ وزیرستان آپریشن کے متاثرین کو متبادل انتظام کئے بغیر سرکاری عمارات سے بے دخل کرنا ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ متاثرین نے ملک و قوم کیلئے قربانی دیتے ہوئے اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑا ،جان و مال کی قربانی دی جس پر مرکزی و صوبائی حکومتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی پہلی ترجیح کے طور پر ان آئی ڈی پیز کیلئے متبادل جگہ کا انتظام کریں، اور سکول کھلنے کے بعد انہیں مناسب رہائش فراہم کی جائے ،سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی تمام تر توجہ اسلا م آباد میں جاری ڈراموں پر لگی ہے ، جبکہ ملک اور قوم کے امن کیلئے آئی ڈی پیز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں ، انہوں نے کہا کہ امن کی خاطر قربانیاں دینے والوں کا نام تاریخٰ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں تال مٹول سے کام نہ لیں کیونکہ حکمرانوں کے مایوس کن رویے سے آئی ڈی پیز میں بے چینی پھیل رہی ہے اور اگر یہ لوگ مایوس ہو گئے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے ،انہوں نے مرکزی اور صوبائی ھکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر آئی ڈی پیز کیلئے متبادل جگہوں کا انتظام ہونے تک ان کو سرکا ری عمارتوں سے بے دخل نہ کیا جائے اور ان کی بحالی کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں،انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے غیور پختو نوں نے ملک و قوم کی خاطر اپنے جان و مال کی قربانیاں دی ہیں ، ان کے کاروبار تباہ اور زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ حکمران ھکومتیں گرانے اور بچانے میں مصروف ہیں۔

مورخہ27اگست2014ء بروز بدھ
ایمل ولی خان سے پی ایس ایف کی صوبائی چیئر مین امتیاز وزیر کی ملاقات
پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان سے پی ایس ایف کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر نے ولی باغ میں ملاقات کی ہے،ملاقات میں پی ایس ایف کے صوبائی انتخابات کے حوالے سے اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا ، جبکہ انتخابات 9ستمبر2014ء کو کرانے کے فیصلے کو حتمی شکل دے دی گئی ، ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پی ایس ایف کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس بروز منگل2ستمبر 2014ء کو دن 11بجے باچا خان مرکز پشاور میں منعقدہو گا ، جس میں شرکت کیلئے تمام عہدیداروں کو ہدایت کی جاتی ہے۔

مورخہ26.08.2014بروز منگل
وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنا غیر آئینی اور سول نافرمانی کا اعلان احمقانہ ہے،میاں افتخار
بل اور ٹیکس نہ دینے سے حکومت کا نہیں ملک کانقصان ہو گا،اور پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا
چوکی ممریز نوشہرہ میں شمولیتی تقریب کے موقع پر اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری کا خطاب 
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ منتخب وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنا غیر آئینی ہے،اور ملک مزید دھرنوں اور مارچوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چوکی ممریز نوشہرہ میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں پی ٹی آئی کے رہنما گوہر جبکہ مسلم لیگ کے رہنما شہزاد نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔میاں افتخار حسین نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور پارٹی میں شمولیت پر انہیں مبارکباد پیش کی ، انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری کی بچگانہ سیاست سے ملک خطرات سے دوچار ہے،جبکہ سول نافرمانی کا اعلان انتہائی احمقانہ ہے ،انہوں نے کہا کہ بجلی و گیس کے بل اور ٹیکس نہ دینے سے حکومت کو نہیں بلکہ پاکستان کو نقصان ہو گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پشاور اور اسکے مضافات میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی ، اور جانی و مالی نقصان سے پوری قوم رنجیدہ تھی، جبکہ اس موقع پر صوبے کے وزیر اعلیٰ عوام کی داد رسی کی بجائے انہیں بے یارو مددگار چھوڑ کر اسلام آباد میں بھنگڑے ڈالتے رہے جو متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی سیاست سے ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے جس سے ڈالر کی قیمت ایک بار پھر آسمان سے باتیں کر نے لگی ہے، انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات سڑکوں پر نہیں پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں،۔

مورخہ26.08.2014بروز منگل
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین،فیض احمد فیض کے نام پر لندن میں منعقد ہونے والے ایک بڑے میلے میں شرکت کیلئے کل بروز بدھ اسلام آباد ائیر پورٹ سے روانہ ہونگے،یاد رہے کہ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کو فیض میلے کی آرگنائزنگ کمیٹی نے میلے میں شرکت کی دعوت دی ہے جسے قبول کرتے ہوئے وہ اس میں شرکت کیلئے کل لندن روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ تقریباََ دس روز تک قیام کریں گے۔

دیر اور ملاکندڈویژن دہشت گردی کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے،
مرکزی و صوبائی حکومتیں اور قانان نافذ کرنے والے ادارے صورتحال کا نوٹس لیں،سنگین ایڈوکیٹ
مورخہ:26-8-2014 بروزمنگل
پشاور ( پ ر )نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے تیمر گرہ میں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ، اور واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ،اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ دیر اور ملاکنڈ ڈویژن کو ایک بار پھر طالبانائزیشن اور دہشت گردی کی آگ میں دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی دارالحکومت میں ایک بار پھر خواتین اور بچوں کو نشانہ بناناانتہا پسندی کو فروغ دینے کی طرف پہلا قدم ہے ا،نہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اوربالخصوص قانون نافذ کرنے والے ادارے صوتحال کا سختی سے نوٹس لیں،اور ایک ایسا لائحہ عمل اپنائیں جس سے عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دیر اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام دہشت گردی کے باعث پہلے ہی بہت سی قربانیاں دے چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ دیر اور ملاکنڈ ڈویژن اب مذید قربانیوں کا متحمل نہیں ہو سکتے جبکہ وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کے بعد ایسے واقعات عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ،تاہم دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔

سیاسی کشیدگی،اے این پی نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی
ملک کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے سیاسی و مذہبی جماعتیں متحد ہو جائیں،قراردا دکا متن
مورخہ26.08.2014بروز منگل
پشاور ( پ ر ) اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک نے صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں قرارداد جمع کرا دی،قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے کروڑوں عوام کی منتخب اسمبلی جمہوری نظام کو برقرار رکھنے اور اس کا تحفظ و دفاع کرنے کا عزم رکھتی ہے اورجمہوریت کی بساط لپیٹنے کی مذموم کوشش کی پرزور مذمت کی جاتی ہے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ملک میں موجودہ سیاسی کشیدگی جہاں کاروبار کو مسلسل متاثر کر رہی ہے وہاں پر ملک کی معیشت ، استحکام ،یکجہتی،نیک نامی اور خوشحالی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔موجودہ صورتحال نے ساری قوم کو تشویش میں مبتلا کیا ہوا ہے،لہذٰا تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو جمہوری اداروں کی مضبوطی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،اور جمہوریت دشمن عناصر کا راستہ روکنے کیلئے جمہوریت کے استحکام کی خاطر متحد ہونا چاہئے۔

مورخہ : 25.8.2014 بروز پیر

پشاور : (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات بہرام خان ایڈووکیٹ کے مطابق این وائی او کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس مورخہ 27.8.2014 بروز بدھ صبح دس بجے باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوگا ۔جس میں صوبے کی تمام ورکنگ کمیٹی کے ممبران شرکت کریں گے۔ اجلاس کی صدارت نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ کرینگے۔ 
اجلاس میں صوبے کی تمام ضلعی تنظیموں کی کارکردگی اور موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائیگا۔ جبکہ اجلاس کے اختتام پر سہ پہر چار بجے غنی خان بابا کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے ایک تقریب منعقد ہوگی جس کیلئے تمام ضلعی تنظیمی عہدیدار ، مرکزی اور صوبائی کونسلران کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

مورخہ24اگست2014ء
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی خدائی خدمت گار تحریک کا تسلسل ہے اور انگریز سامراج کے خلاف اے این پی کی تاریخ ناقابل فراموش قربانیوں سے بھری پڑی ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بنوں میں ہاتھی خیل کے شہداء کی یادگار پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر اے این پی کے مرکزی نائب صدر سینیٹر باز محمد خان ، اے این پی بنوں کے صدر عبدالصمد خان ، نیشنل یوتھ آرگنائزیشن پختون خوا کے صدر سنگین خان ایڈوکیٹ،اور اے این کے مقامی عہدیدار اور کارکن کثیر تعداد میں موجود تھے ،میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ باچا خان کے پیروکاروں نے اس ملک کی آزادی کیلئے طویل جدوجہد کی اور جانوں کے نذرانے پیش کئے،انہوں نے کہا کہ 24اگست 1931ء کو آج سے 83سال پہلے بنوں میں ہاتھی خیل کے مقام پر برطانوی فوج اور ایف سی کے اہلکاروں نے خدائی خدمت گاروں پر اندھا دھندفائرنگ کی جس میں 80کے قریب خدائی خدمت گار شہیداور کئی زخمی ہوئے،جبکہ ان کی املاک کو نقصان بھی پہنچایا ،ان میں ہمارے ایسے ساتھی بھی شامل تھے جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی زندگی کی بازی ہار گئے جن میں فضل قادر کا نام سرفہرست ہے جنہیں انگریز سامراج نے شہادت کے بعد ان کی میت کو بھی سزا دی اور اپنی بربریت کا پیغام لوگوں تک پہنچایا انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے ان عظیم اور قابل فخر شہداء کی یاد تازہ کرنے کیلئے یہاں جمع ہیں جو کہ انگریز سامراج کے ظلم و بربریت کا نشانہ بنے ،انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان بابا کے وہ پیروکار اور سپاہی ہیں جن کو شہادت کے بعد بھی کسی نے نہ بخشا ، ان شہداء کی قربانیاں ہماری نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہیں ،انہوں نے کہا کہ ان شہداء کی قربانیوں کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس دھرتی اور سرزمین کی حفاظت کیلئے ہر سختی اور پریشانی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ ملک عمو ماَََ اور پختون خوا میں خصو صاََبدامنی کا شکارہے ہر طرف انتشار اور افراتفری ہے ،اور دھرتی کو ان تمام مشکلات سے نجات دلانے کیلئے ہمیں مل کر کوششین کرنا ہونگی ، میاں افتخار حسین نے آخر میں ہاتھی خیل کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ ہمیں ان شہداء کی برکات سے نوازے۔

مورخہ24اگست2014ء


پشاور( )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے پوری دنیا میں پاکستان کو تماشا بنایاہواہے، پی ٹی آئی کے سربراہ نے شہریوں کو سول نافرمانی کی کال دے کر ریاست کے خلاف بغاوت کرنے لگے ہیں،کپتان اپنی ضد اورانا کو پورا کرنے کے لئے عجیب وغریب مطالبے کرنے لگے ، وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے صوبے کے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کر اسلام آباد میں ناچ گانے میں مصروف ہوگئے ہیں ،پختون قوم کے مسائل کاحل صر ف اے این پی کے پاس ہے وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں پی کے 27 کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شخصیات کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر تقریب سے خطاب اوربعدازاں یونین کونسل کھنڈر میں معروف لیبر رہنما لیاقت علی شاہ باچا کی اپنے خاندان اورساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کررہے تھے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،عباس ثانی اور محمد جاوید یوسفزئی نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والے نئے کارکنوں کو ٹوپیاں پہنائیں اپنے خطاب میں امیرحیدرخان ہوتی کا کہناتھاکہ عمران خان کے آزادی مارچ اورعلامہ طاہرالقادری کے انقلاب مارچ کے باعث قوم کو اربوں روپے کا نقصان ہواہے،ملک میں غیر یقینی صورت حال پیدا کی گئی ہے جبکہ عوام ذہنی کوفت میں مبتلا ہوگئے ہیں انہوں نے کہاکہ سیاسی مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ موجودہے تاہم بدقسمتی سے پارلیمنٹ کا حصہ ہونے کے باوجود عمران خان سیاسی مسائل سڑکوں پر حل کرنے پر تلے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ آزادی مارچ کے نام پر عمران خان بربادی مارچ کررہے ہیں ناچ گانوں سے قوم کا سر شر م سے جھکادیاہے اورپوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان کو معلوم ہوناچاہے کہ سیاست کرکٹ کا میچ نہیں کہ ایمپلائر انگلی اٹھائے اورفیصلہ ہوجائے انہوں نے کہاکہ سیاست برداشت ،خدمت اور ایک دوسرے کے رائے کے احترام کانام ہے اور تمام مسائل کے حل کے لئے منتخب پارلیمنٹ موجود ہے جس کا عمران خان خود بھی حصہ ہیں انہوں نے کہاکہ اسمبلیوں سے استعفوں میں پی ٹی آئی نے جلدبازی کا مظاہرہ کیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ بچگانہ اورغیر آئینی مطالبہ ہے ان کاکہناتھاکہ اے این پی کسی بھی صورت میں جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دے گی انہوں نے کہاکہ صوبائی وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے صوبے کو بے یارومددگار چھوڑ کر اسلام آباد میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختون خوا کو آزادی مارچ کے بجائے صوبے کے عوام سے کئے گئے وعدے پورا کرناچاہئے اور اسلام آبادکی بجائے صوبے میں ان کی موجودگی ضروری ہے سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ظالم کو ظالم اورظلم کو ظلم کہنے اور اس کا راستہ روک کرہی حکمرانی کی جاسکتی ہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم نے تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیاہے تاہم اس کے بدلے میں گذشتہ چودہ ماہ میں حکومت نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا امن ،مہنگائی کے خاتمے،یکساں اورسستا انصاف کے نعرے اور دعوے کہاں گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ان کے دورحکومت میں پورے صوبے میں یکساں ترقیاتی عمل جاری رہا جبکہ موجودہ حکومت مردان کے حوالے سے منفی تاثر پھیلا کر یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کررہی ہے انہوں نے مردان سے تحریک انصاف کے ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرا ن سے مردان کے حقو ق کے لئے آواز نہیں اٹھائی جاسکتی تو انہیں بتایاجائے عوام کی طاقت سے صوبائی حکومت سے مردان کے حق کو چھین سکتے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ ان کے دورمیں مردان میں جو میگا پراجیکٹس شروع کئے گئے ہیں مرکزی اورصوبائی حکومت مل کر اپنے دور حکومت میں اس کاریکارڈ نہیں توڑ سکتیں امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی کارکنوں کوہدایت کی کہ وہ گھر گھر اورقریہ قریہ جاکر باچاخان اورولی خان کے امن اور عدم تشدد کے فلسفے کا پرچارکریں اور نام نہاد سونامی والوں کو بے نقاب کیاجائے ۔


مورخہ 23 اگست 2014ء بروز ہفتہ


پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ عمران خان کو خیبر پختونخوا کے عوام نے پانچ سالہ کا مینڈیٹ دیا ہے جسے اے این پی نے تحفظات کے باوجود تسلیم کیا‘ تحریک انصاف پانچ سال تک صوبے پر حکمرانی کرے اور عوام سے کئے گئے وعدے پایہ تکمیل تک پہنچائے‘ اے این پی تحریک انصاف کو بھاگنے نہیں دیگی‘ بڑی عجیب بات ہے کہ کپتان کہتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے ساری سیاسی جماعتوں نے بھی کہا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے جبکہ کپتان یہ ماننے کیلئے تیار ہی نہیں کہ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ دھاندلی ہوئی ہے ایسے ایسے لوگ اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں جسے کوئی جانتا ہی نہیں جو کبھی یونین کونسل کے ناظم یا کونسلر بھی منتخب نہیں ہوئے‘ کپتان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے اپنے پولیٹیکل ورکر کی تربیت نہیں کی اور سیاسی بصیرت سے عاری غیر معروف لوگوں کے علاوہ آج ان کے رائٹ لفٹ جو بیٹھے ہیں وہ سب دوسری جماعتوں سے آئے ہوئے ہیں‘ شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی‘ جاوید ہاشمی مسلم لیگ ن اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے جتنی پارٹیاں بدلی ہے شاید ہی کسی نے اتنے کپڑے بھی بدلے ہوں‘ اے این پی اپنی سیاسی تاریخ رکھتی ہے‘ ریلیاں اور جلسے کرنا ان کیلئے کوئی بڑی بات نہیں ہے‘ اے این پی نے اپنا زیادہ وقت اپوزیشن میں گزارا ہے‘ ہمارے قائدین نے بڑے بڑے اجتماعات اور ریلیوں سے خطاب کیا ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ موجود ہوتے تھے‘ تحریک انصاف کی طرف سے ایک ملین کا دعویٰ کر کے 20 یا 25 ہزار لوگ اکٹھا کر کے اسلام آباد میں دھرنا دینا اتنی بڑی بات نہیں ہے‘ ملک اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا 7 لاکھ آئی ڈی پیز کی وجہ سے بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہے‘ تحریک انصاف کو صوبے کے موجودہ مسائل کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہئے تھی‘ ضد اور ہٹ دھرمی سے سیاسی مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے‘ عمران خان جانتا ہی نہیں کہ آئین کی اہمیت کیا ہے‘ اگر آئینی راستے اختیار نہ کئے گئے اور اداروں کا احترام نہ کیا گیا تو اس ملک کی بقاء اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہے‘ اگر جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری عمران خان اور طاہر القادری پر عائد ہو گی‘ عمران خان کو اپنی مقبولیت پر فخر ہے شاید وہ نہیں جانتے کہ جن لوگوں نے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا وہ آج سوشل میڈیا کے ذریعے قوم سے معافی مانگ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے۔

مورخہ : 23.8.2014 بروز ہفتہ


ضمنی الیکشن ہوئے تو عمران خان کو پتہ چل جائے گا کہ کتنے لوگ نئے پاکستان کے حامی ہیں ’’ سردار حسین بابک ‘‘

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقوں پر ضمنی الیکشن ہوئے تو خود بخود پتہ چل جائیگا کہ عمران خان کو کس نے صوبے کی حکومت دے دی ہے اور یہ بھی معلوم ہو جائیگا کہ 11 مئی کے انتخابات میں کتنی بڑی دھاندلی ہوئی۔ عمران خان کے بیان پر جس میں اُنہوں نے اپوزیشن پارٹیوں کو چیلینج کیا ہے کہ 10 فیصد لوگ اکٹھا کر لیں نئے انتخابات کروا دوں گا کے جواب میں اے این پی کے رہنما نے کہا کہ اگر عمران خان واقعی سچے ہیں تو قومی اسمبلی کے استعفوں پر قائم رہیں۔ضمنی الیکشن ہونے کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ تبدیلی لانے والے کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟ عمران خان اور اس کی پارٹی سیاسی تنہائی کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اس لیے ہر شام کو میوزیکل شو منعقد کر کے بے سروپا بیانات دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پشتو کا کوئی گلوکار میوزیکل شو منعقد کر ے تو اس سے کئی گنا زیادہ لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی سیاسی پارٹی کا گراف اتنا جلدی گر گیا ہے تو وہ تحریک انصاف ہے۔ لوگ غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ طریقہ واردات سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان کے غیر آئینی مطالبات کو پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مخالف ہیں۔ عمران خان نے اپنی انا کی تسکین کیلئے پاکستان کا ساری دُنیا میں تماشہ بنایا ہے۔ عمران خان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس دفعہ طالبان الیکشن میں ان کا ساتھ نہیں دینگے۔ صوبے کے عوام نے ان کی سول نافرمانی کی کال مسترد کر کے ان کی پارٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔


مورخہ : 22.8.2014 بروز جمعۃ المبارک


پختون بدقسمت قوم ہے جنگ اور فیصلے کے وقت جذباتی فیصلے کرتے ہیں۔ عمران خان اور قادری کی جنگ میں پختونوں کے علاوہ کوئی اور شریک نہیں ’’ ضلعی صدر اے این پی بونیر محمد کریم بابک ‘‘
پرویز خٹک اسلام آباد میں سٹیج شو چھوڑے اور کے پی کے کے پختونوں کی خبر لے ’’ سابق ایم پی اے قیصر ولی خان ‘‘
سندھ پنجاب اور بلوچستان میں ملاکو کوئی ووٹ نہیں دیتا۔ فلسطین کے جے آئی249 آئی ڈی پیز کی خبر لیں ’’ سابق صوبائی صدر میاں سید لائق ‘‘

(پ ر ) ہمیں معلوم تھا کہ یہ حکومت چلنے والی نہیں پھر بھی موقع دیا کہ پختوخوا میں عمران خان نے ریکارڈ ساز دھاندلی کی ہے لیکن ہم چپ رہے۔ صوبے کے ساٹھ ارب غائب کرنے والے پختونوں کے خیر خواہ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گاؤں ڈھیرئی میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پختون بدقسمت قوم ہے جنگ اور فیصلے میں جذباتی فیصلے کرتے ہیں۔ نوجوانوں سے غلطی ہو چکی ہے لیکن بہت جلد اُنہیں احساس ہو جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلعی کابینہ کا اجلاس طلب کرنے والا ہوں۔ پندرہ بیس دن میں تمام یوسیز پر مشتمل ایک اجلاس طلب کروں گا جن کی تعداد قادری اور عمران کے لشکروں سے زیادہ ہوگی۔ سابق ایم پی اے قیصر ولی خان نے کہا کہ پرویز خٹک اسلام آباد سٹیج شو کرنے کے بجائے خیبر پختونخوا کی خبر لے۔ اُنہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ان کے ثالثی کا کردار شفاف نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ امبیلا سے جی ایس ماربل تک روڈ پختگی 249 شلبانڈی پل 249 کامرس کالج 249 یونیورسٹی اور چنار پل جیسے ترقیاتی کاموں کیلئے اے این پی دور میں فنڈ منظور ہوئے۔ منسٹر اور ایم این اے ہمارے منظور کردہ کاموں پر تختیار لگانا چھوڑ دیں۔ سابق صوبائی نائب صدر میاں سید لائق نے کہا کہ پنجاب اور بلوچستان میں لوگ ملاکو ووٹ نہیں دیتے جے آئی فلسطین کے بجائے خیبر پختونخوا کے آئی ڈی پیز کیلئے کچھ کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ بعض قوتیں پختونوں کی ترقی نہیں دیکھ سکتے۔ اور بلا وجہ الزام تراشیاں کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ چودہ ماہ گزرنے کے باوجود اے این پی کا ایک بھی ممبر کرپشن میں گرفتار نہیں ہوا۔ آنے والا وقت بھی اتحادیوں کا ہے۔



مورخہ : 22.8.2014 بروز بدھ

(پشاور) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج کے صدر ملک احتشام الحق نے اسفند یار ولی خان کو مرکزی صدر ، حاجی غلام احمد بلور کو سینئر نائب صدر ، میاں افتخارحسین کو مرکزی جنرل سیکرٹری اور مرکزی کابینہ کے دیگر ارکان کو منتخب ہونے پر پی ایس ایف اسلامیہ کالج پشاور طرف سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پختون قومی تحریک مضبوط تر بن کر اُبھرے گی اور قوم کو درپیش مسائل سے نجات دلانے کیلئے اپنا تاریخی کردار ادا کریگی۔
بیان میں کہا گیاہے کہ پارٹی کے مرکزی کونسل کا محترم اسفندیار ولی خان کا بحیثیت مرکزی صدربلامقابلہ انتخاب یہ بات واضح کرتی ہے کہ قومی تحریک کا ہر ممبر صرف ولی باغ ہی کو تاریخی سیاسی ورثہ سمجھتی ہے اور اسفندیار ولی خان ہی کو اس تاریخی ورثے کا والی اور وارث گردانتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں 2008 کے انتخابات کے بعد اے این پی پاکستان کی ایک اہم سیاسی طاقت کی صورت اُبھری اور اس کثیر القومی ملک کیلئے باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی سیاسی ویژن اور سوچ کے مطابق مناسب آئینی ڈھانچہ اور پختونخوا کی صورت میں قومی شناخت دینے میں کامیاب ہوئی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کیا جو اس خطے کی تاریخ میں ایک اہم سیاسی باب ہے۔اور موجودہ صورت حال میں محترم اسفندیار ولی خان کی مدبرانہ قیادت اور میاں افتخارحسین کی صورت میں ایک تجربہ کار اور متحرک جنرل سیکرٹری عوامی نیشنل پارٹی اور پختون قوم کے مستقبل کیلئے ایک نیک شگون ہے۔

نام نہاد آزادی مارچ سے صوبے کا نظام درہم برہم ہو گیا ‘ سردارحسین بابک 
وزیر اعلیٰ سمیت پوری کابینہ فوری واپس آکر صوبے کے امور پر توجہ دے ‘ عمران خان وزیر اعظم نہیں بن سکتے ‘ ترجمان
جمعۃالمبارک22اگست2014ء
پشاور ( پ ر ) خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی قائد اور ترجمان سردار حسین بابک نیکہاہے کہ وزیر اعلیٰ سمیت پوری کابینہ کے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالنے سے صوبے کے معاملات درہم برہم ہو گئے ہیں ‘وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراء بے وقت کی راگنی چھو ڑ کر صوبے کے امور پر توجہ دیں ‘ باچاخانؒ مرکز پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پر ویز خٹک اور دیگر وزراء فوراً واپس آئیں اور اسلام آباد فتح کرنے کیلئے آئندہ انتخابات کا انتظار کریں اگر عوام تحریک انصاف کو اتنا مینڈیٹ دے دے کہ عمران خان وزیر اعظم بن جائیں تو پھر یہ ایک آئینی راستہ ہو گا اس کے بغیر اختیار کیا جانیوالا ہر راستہ غیر آئینی ہے ‘ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے سے صوبے کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور قوم ہلڑ بازی و موج مستی کی سیاست مسترد کر چکی ہے ‘ تحریک انصاف اگر خودکو اس صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کا حامل سمجھتی ہے تو پھر صوبے کے مسائل پر توجہ دے ‘ انہوں نے کہا کہ سیاست جیسے مقدس کام میں انتشار اور افراتفری کو رواج دینے والے اور نئے پاکستان کے قیام کے نام نہاد دعویدار عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں ‘ پورے ملک کو مفلوج بناکر دنیا کو کیا پیغام دیا جارہاہے ؟پوری دنیا میں پاکستان کو تشخص کو نقصان پہنچانے اور ملک کی اقتصادی و معاشی ترقی کو روکنے والے ساری عمر وزیر اعظم نہیں بن سکتے ‘خود کو وزیر اعظم کہلوانے والے کیا اس عہدے کے اہل ہیں ؟انہوں نے کہا کہ اگر وہ یہ ڈرامہ نہ کرتے تو ان کے وزیر اعظم بننے کے کچھ نہ کچھ امکانات تھے مگر اب ان کی ساری عمر اسی طرح ڈراموں اور دھرنوں میں گزرے گی ‘عمران خان فیس بک پر تو وزیر اعظم بن سکتے ہیں حقیقت میں نہیں ‘ وفاقی حکومت کو مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ یہ دھرنے اپنی موت آپ مرجائیں ‘ الیکشن کمیشن فوری طور پر ان حلقوں میں الیکشن کرائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ پختونخوا میں کتنی دھاندلی ہو ئی ہے ‘ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی نظریں اے این پی پر لگی ہوئی ہیں تمام کارکن تیار رہیں ‘ اپنے چھینے ہوئے مینڈیٹ کو نام نہاد انقلابی ٹولے سے واپس لے کر رہیں گے ‘ عمران خان اگر واقعی سچے ہیں تو اپنے مستعفی ارکان کے استعفے فوری طور پر سپیکر کے پاس جمع کرائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔

ورخہ : 22.8.2014 بروز جمعۃ المبارک


عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کی نو منتخب صوبائی کابینہ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت منظور خان لاہور میں ہوا جس میں صوبائی کابینہ کے تمام اراکین نے شرکت کی ۔ کابینہ نے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کی تردید کی جس میں اے این پی پنجاب کابینہ کی بیگم نسیم ولی گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا گیا۔ کابینہ نے اس خبر پر غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ خبر ان چند مفاد پرست عناصر کی جانب سے جاری کی گئی جو پارٹی کو تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔ کابینہ کے مطابق مرکزی الیکشن کمیشن اسلام آباد میں ہونے والے ان نام نہاد الیکشن کو کالعدم قرار دے چکی ہے جس میں مرکزی الیکشن کمیشن کا کوئی نمائندہ شریک نہیں تھا جبکہ صوبائی کابینہ ان افراد کی بنیادی رکنیت معطل کر چکی ہے جس کا نوٹس پریس میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ 9 اگست کو مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین سینیٹر حاجی محمد عدیل اور سینیٹر باز محمد خان جبکہ دیگر مرکزی الیکشن کمیشن کے ممبران کی موجودگی میں نئی کابینہ کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ کابینہ نے نو منتخب صوبائی صدر منظور خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ بہت جلد مرکزی قیادت کو ورکرز کنونشن میں دعوت دی جائیگی تاکہ اس سازشی ٹولے کی مفاد پرستانہ سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا جائے۔ اس موقع پر اے این پی پنجاب کے صدر منظور خان کا کہنا تھا کہ وہ شکریہ ادا کرتے ہیں کارکنوں کا جنہوں نے اعتماد کرتے ہوئے اُنہیں پنجاب میں صدارت کیلئے منتخب کیا۔ منظور خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں چند مخصوص افراد کا ٹولہ پارٹی میں انتشار پھیلانے کا سبب بن رہا ہے اور صوبائی کابینہ ان افراد کی بنیادی رکنیت ختم کر چکی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ رانا زاہد حسین اور محسن علی نے خود ہی غیر آئینی اور غیر جمہوری انتخابات کروا کر خود ہی صدارت کے فرائض سنبھال لیے جبکہ پارٹی ان انتخابات کو پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔ منظور خان کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ سازشی ٹولہ بیگم نسیم ولی کی پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے خود ہی ثابت کر چکا ہے کہ یہ لوگ ذاتی مفاد کیلئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرتے اُنہوں نے واضح کیا کہ اے این پی کی تمام قیادت ان افراد سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔ منظور خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے وہ نظریاتی کارکن جو اس مفاد پرست ٹولے کی سازش کا شکار ہو کر ناراض ہیں بہت جلد ان سے رابطہ کر کے اُنہیں صوبائی دھارے میں لایا جائیگا۔

مورخہ : 21.8.2014 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی سیکرٹری اقلیتی اُمور اور سابقہ ایم پی اے پختونخوا اسمبلی آصف بھٹی نے گزشتہ روز اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز سے ملاقات کی ۔ آصف بھٹی نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی ملازمتوں میں اقلیتی کوٹہ کو ایک فیصد سے بڑھا کر تین فیصد کرنے پر وائس چانسلر کا اقلیتی برادری کیطرف سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیاکہ اُنہوں نے نیک نیتی سے اُن کے حقوق کا خیال رکھا اور ان کے دل جیت لیے۔
آصف بھٹی نے وائس چانسلر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادری کیلئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں داخلہ میں بھی کوٹہ مختص کیا جائے جس طرح دیگر طبقات کیلئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں داخلے کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے اس پر وائس چانسلر نے یقین دہانی کرائی کہ اگلے تعلیمی سیشن میں اقلیتوں کیلئے مخصوص کوٹہ مختص کیا جائیگا اور تعلیمی اداروں میں اُن کے حقوق کا پورا خیال رکھا جائیگا۔ 


مورخہ: 21.8.2014 بروز جمعرات

عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی جائنٹ سیکرٹری ملک ناصر شاہ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے طاہرالقادری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول کو ملکی اور قومی مفادات پر ترجیح نہ دیں اور ملک و قوم اور جمہوریت کی پاسداری کی خاطر اپنے احتجاجی دھرنوں اور مارچوں کو ختم کریں اور مذاکرات کی میز پر آکر تمام مسائل کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک پہلے سے مسائل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور اب ملک مزید دھرنوں اور مارچوں کا متحمل نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک جس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں وہ غیروں کا ایجنڈا ہے اس سے انتشار پیدا ہوگا اور بین الاقوامی دُنیا میں پاکستان کا امیج خراب ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف جو کہ اقتدار میں ہے اپنی تمام توانائی فضول خرچ کرنے سے گریز کریں اور اپنی تمام توانائیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ضرب عضب اپریشن سے شمالی وزیرستان کے متاثرین کی بحالی اُن کی صحت ، تعلیم اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں صرف کریں۔
اُنہوں نے کہا کہک تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے خواتین کو سڑکوں پر لا کر لا دینیت کو فروغ دے رہی ہے ان کی بے پردگی کی جارہی اور ڈھول کی تھاپ پر خواتین اور مذکورہ دونوں جماعتوں کے قائدین اور ورکروں کا ناچنا بے غیرتی اور بے شرمی کا زندہ ثبوت ہے جس کی نظیر تاریخ نہیں ملتی ۔ مذکورہ دونوں جماعت دجال کا کردار ادا کر رہے ہیں اور لوگوں کو اپنی بچگانہ سیاست اور مکرو فریب کے ذریعے گمراہ کر رہے ہیں۔

مورخہ : 20.8.2014 بروز بدھ

پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خٹک نے کہا ہے کہ عمران خان جمہوریت کی بساط لپیٹنے سے باز آجائیں اور ملک کو مزید بحرانوں میں نہ دھکیلے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق حکومت بدلنے کیلئے ایک طریقہ کار موجود ہے اور اگر اسی طرح کوئی ایک سیاسی پارٹی چند ہزار لوگوں کو اکٹھا کر کے حکومت بدلنے کا رواج قائم کریں تو اس سے ملک میں جمہوری نظام کبھی بھی قائم نہ ہو سکے گا بلکہ ملک کے مقتدر حلقوں کیلئے ایک اور آسان راستہ فراہم ہو گا اور ملک میں جمہوری حاکمیت کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا جو آئین پاکستان کی اصل روح ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان مسلسل اپنے مطالبات اور شکایات بدلتا رہا ہے۔ پہلے چار حلقوں میں دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اب ملک میں قائم جمہوری حکومت کے خاتمے پر آ پہنچا ہے جس کے اہداف نہایت ہی مشکوک نظر آتے ہیں۔ اُنہوں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں تبدیلی اور نئے پاکستان کا قیام صرف اور صرف جمہوری نظام کی تسلسل سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو اسلام آباد میں جاری تماشے پر ایک بھرپور اور واضح موقف دینے کا وقت آچکا ہے تاکہ مشکوک ایجنڈوں کے علمبرداروں کے عزائم کو کچلا جا سکے۔

مورخہ : 20.8.2014 بروز بدھ

پشاور (پ ر) پختون ایس ایف کے صوبائی چئیرمین امتیاز وزیر اور یونیورسٹی کیمپس پشاور کے چیئرمین مقرب خان بونیری نے ایک مشترکہ بیان میں اے این پی کے مرکزی الیکشن میں کامیابی پر ملی قائد اسفندیار ولی خان ، سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور اور جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین اور کابینہ کے دیگر منتخب عہدیداروں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کونسل کے اجلاس میں اسفندیار ولی خان کو بلا مقابلہ مرکزی صدر منتخب کرنا نیک شگون اور اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اسفندیار ولی خان کی والہانہ قیادت پختونوں کے اتفاق و اتحاد کیلئے ضروری ہے جبکہ حاجی غلام احمد بلور اور میاں افتخار حسین پارٹی کے بزرگ اور عوامی رہنما ہیں جو کہ پارٹی کارکنان کا عظیم اثاثہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے اندر اور باہر میاں افتخار حسین نے ہر محاذ پر مرد میدان کا کردار ادا کرتے ہوئے قوم کا حوصلہ اور ہمت بڑھاتے رہے۔
امتیاز وزیر نے کہا کہ اسفندیار ولی خان اور میاں افتخار حسین کی قیادت میں پارٹی کارکنان اور پارٹی تنظیمیں مزید فعال ہونگے اور معروضی حالات کے مطابق پارٹی کیلئے کردار ادا کرنے کی آج جتنی ضرورت تھی شائد پہلے کبھی نہ تھی تاکہ پختونوں کے اتفاق و اتحاد کے ذریعے ملی قائد اسفند یارولی خان کی قیادت میں پختونوں کے قومی حقوق کا حصول و تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ایس ایف ملی قائد اسفندیار ولی خان اور صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان کی قیادت میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔

مورخہ : 19.8.2014 بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے قائم مقام جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے باچا خان مرکز میں مصروف دن گزارا۔ اُنہوں نے پارٹی کے عہدیداروں اور دیگر اضلاع کے مختلف وفود سے ملاقاتیں کیں اور اُنہیں پارٹی کو مضبوط بنانے اور عہدیداروں کو عوام سے اپنے رابطوں کو مزید تیز بنانے کا کہا۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کارکن پارٹی کا سرمایہ ہیں اور ان کی تجاویز اور مشاورت کو ترجیح دی جائیگی اور ان کی مشاورت سے پارٹی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ اس موقع پر اُنہوں نے پارٹی عہدیداروں سے کہا کہ باچا خان اور ولی خان کا پیغام گلی گلی پہنچانے کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

مورخہ : 19.8.2014 بروز منگل


پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ عمران خان نے اسلام آباد میں تماشہ بنایا ہے۔ باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا ہے کہ ملک اور خصوصاً خیبر پختونخوا مسائل کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ عمران خان اور اس کی پارٹی ، صوبے کے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے ممران ہر روز اسلام آباد میں تماشوں میں مصروف ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ انتشار اور افراتفری کو فروغ دینے والے ملک و قوم کی کیا خدمت کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی سیاست میں غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ داری کی روایت کو فروغ دے رہے ہیں۔ ساری دُنیا میں پاکستان کا تماشہ بنایا ہے۔ دس لاکھ لوگوں کو اکٹھا کرنے والے ملک سے بیس ہزار لوگوں کو بھی اکٹھا نہیں کر سکے۔ اس لیے عمران خان مشتعل ہو گئے ہیں اور روزانہ جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ تقریریں اور بیانات دے کر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بچانے میں مصروف ہیں۔ عمران خان اور اس کی پارٹی وقت سے پہلے عوام کا اعتماد کھو بیٹھی ہے۔ پورے پاکستان میں اسملبیوں سے استعفیٰ دے دینا اور خیبر پختونخواہ میں حکومت کے مزے لینا دوہرا معیار ہے۔ عمران خان اور اس کی پارٹی خود بھی خدمت نہیں کر سکے اور سارے ملک میں افراتفری پھیلا رکھی ہے جو کہ کسی بھی صورت ملک او رقوم کیلئے سود مند نہیں۔


مورخہ : 19.8.2014 بروز منگل


ریڈزون میں داخلے کی کوشش دوغلے پن کا ثبوت ہے ’’ سردار حسین بابک ‘‘
عمران خان کو اپوزیشن رہنماؤں کی ضمانت پر مارچ کی اجازت ملی ، اپنے لکھے سے بھی مکر گئے ’’ ترجمان ‘‘

پشاور (پ ر ) خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی قائد اور ترجمان سردار حسین بابک نے عمران خان کی جانب سے ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کو احمقانہ اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سول نافرمانی اور آزادی مارچ ملک و قوم کی نہیں بلکہ ملک دُشمن عناصر کی خدمت کے مترادف ہے ۔ باچا خان مرکز سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے کارکن عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ لیڈری کے نام پر لوگوں کی زندگی سے کھیلیں۔ ریڈ زون ایک حساس علاقہ ہے اور اس میں اس قسم کے ہتھکنڈوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ اُنہوں نے کہا کہ اسمبلیوں سے استعفے کے معاملہ پر بھی پختونخوا میں تحریک انصاف یکسو نہیں بلکہ اس کے کئی ارکان استعفیٰ نہ دینے کا کہہ چکے ہیں مگر صوبے کے عوام کی نظروں میں عمران خان کی حقیقت عیاں ہو گئی ہے کہ اُنہوں نے وزیر اعظم نہ بننے کا بدلہ اس صوبے سے لیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اپوزیشن رہنماؤں کی ضمانت پر اسلام آباد میں مارچ کی اجازت دی گئی تھی۔ اور عمران خان نے تحریری طور پر دیا تھا کہ وہ ریڈ زون میں داخل نہیں ہونگے لیکن حسب سابق وہ اپنا کہا تو کیا لکھا ہوا بھی بھول گئے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونخوا میں اپوزیشن اسمبلی تحلیل نہ ہونے دے گی کیونکہ پختونخوا اسمبلی کی قسمت کا فیصلہ بنی گالا سے ہو یہ کسی کو بھی قبول نہیں۔ دیگر پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ہے صوبے اور عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔

18.8.2014 بروز پیر


پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ عمران خان کی سول نافرمانی کا اعلان ملک اورریاست کے خلاف بغاوت ہے اس سے انتشار پھیلے گا،عمران خان بندگلی میں داخل ہوچکے ہیں مذاکرات کرکے خود کو باہر نکال لیں وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس میں مردان کے علاوہ صوابی اورنوشہرہ سے آئے ہوئے کارکنوں کے وفود سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار اورجنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان بھی موجودتھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ قوم نے عمران خان کی سول نافرمانی کی کال کو مسترد کردیاہے تاجروں اورصنعتکاروں کی طرف سے بھی واضح طورپر کہاگیاہے کہ وہ بلز اورٹیکس دے کر پاکستان کو چلائیں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے وزیراعظم میاں نوازشریف کو پارلیمنٹ سے اعتماد کے ووٹ لینے کاجومشورہ دیا ہے اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ نوازشریف پارلیمنٹ میں اعتماد کھوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ تمام اپوزیشن پارٹیاں نوازشریف کے ساتھ نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ ہے اوراعتماد کے ووٹ سے ہم دنیا کو بتاسکتے ہیں کہ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں ملک میں جمہوری نظام چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان کے اعلان نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو بھی آزمائش میں ڈالا ہواہے کیونکہ وزیراعلیٰ اوروزراء نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایاہواہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ خدانخواستہ جمہوریت ڈی ریل ہوگئی تو اس کے ذمہ دار عمران خان اور علامہ طاہرالقادری ہوں گے ان کاکہناتھاکہ پہلے لوگ ٹی وی پر میرا سلطان ڈرامہ دیکھ رہے ہیں اور آج کل کپتان اورعلامہ کے ڈرامے دیکھ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ آزادی مارچ اورانقلاب مارچ سے اب تک ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہواہے اورعمران خان سول نافرمانی جیسے اعلانات سے ملکی معیشت تباہ کرناچاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ اگر عوام ٹیکس اوربلز نہیں دیں گے توحکومت ترقیاتی منصوبوں اور ملازمین کی تنخواہیں کہاں سے دے گی انہوں نے کہاکہ خیبرپختون خوا کے وسائل پہلے سے کم ہیں اورمرکز کے فنڈز سے معاملات چلارہی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ کپتان لوگوں کوبلز اورٹیکس نہ دینے کی کال دے کرالٹا انہیں مشکلات میں پھنسا رہے ہیں جس طرح انہوں نے آزادی مارچ کے کارکنوں کو کھلے آسمان تلے چھوڑ کر بنی گالہ چلے گئے اس طرح وہ متبادل ذرائع سے اپنی سہولیات بحال کریں گے لیکن غریب شہریوں سے بجلی اورگیس کٹوادیں گے اے این پی کے صوبائی صدر نے مرکزی حکومت کی طرف سے مذاکراتی کمیٹیوں کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ کمیٹیوں کا فیصلہ تاخیر سے کیاگیاہے تاہم اب مسلسل مذاکرات کے ذریعے مسائل کاحل نکالنا چاہئے اور عمران خان اور علامہ طاہرالقادری کے آئینی اورقانونی مطالبات کو مان لیاجائے ۔


مورخہ 18 اگست 2014ء بروز پیر


پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کا اجلاس زیر صدارت ملک نسیم خان منعقد ہوا جس میں جنرل سیکرٹری گلزار حسین‘ نائب صدور حاجی راجہ گل‘ سردار زیب‘ اکمل خان‘ سیکرٹری اطلاعات زاہد حسین‘ جائنٹ سیکرٹریز دلاور خان‘ گوہر جانہ‘ سیکرٹری ثقافت نجیم ظہیر اور فنانس سیکرٹری علی حیدر نے شرکت کی‘ اجلاس میں نو منتخب مرکزی صدر اسفندیار ولی خان‘ مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور‘ مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور دیگر اراکین کابینہ کو دلی مبارکباد دی‘ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 20 اگست کو بوقت 02:00 بجے بمقام باچا خان مرکز میں یونین کونسل صدور اور جنرل سیکرٹریز کا اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل طے کیا جائے گا‘ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی کہ 14 اگست جو کہ ہماری آزادی کا دن ہے عین اسی دن تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آزادی مارچ کی آڑ میں ایسا قدم اٹھایا جو کہ جمہوریت اور پاکستان دونوں کیلئے نقصان کا باعث ہے اگر یہ قدم عوامی نیشنل پارٹی اٹھاتی تو اُن پر غداری کا داغ لگایا جاتا‘ آج عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کر دیا جو کہ پاکستان اور خاص کر صوبہ پختونخوا کیلئے بہت ہی نقصان کا باعث بنے گا پختونخوا کے عوام اب باشعور ہو گئے اور مزید عمران خان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔

مورخہ:18-8-2014 بروز پیر 

پشاور (پ ر)پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا داخلہ رہنمائی کیمپ آج صبح سے جاری رہا جس کی قیادت اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان کرر ہے تھے ۔ کیمپ میں جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان ، سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری جواد علی خان اور اسلامیہ کالج یونٹ کے صدر ملک احتشام الحق کے علاوہ بہت سارے کارکن اور عہدیدار موجودتھے ۔ صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی نے کہا کہ کیمپ 29 اگست تک جاری ہے اور تمام طلبہ کی بھرپور خدمت اور رہنمائی کی جائے گی ۔ 
اجلاس میں صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی نے اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے تمام عہدیداروں اور کارکنوں کی طر ف سے اپنے ملی قائد جناب اسفندیارولی خان کو مرکزی صدر ، الحاج غلام احمد بلور مرکزی سینئر نائب صدر اور میاں افتخارحسین کو مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور اُمید ظاہر کی کہ یہ تمام مرکزی بزرگان اور منتخب پارٹی ممبران پارٹی کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنائیں گے اور ہم سب اپنے مرکزی صدر اسفندیارولی خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ وہ پختونوں کی نمائندگی کرنے کے واحد لیڈر ہے اور ہم سب ایک ہی سرخ جھنڈے تلے متحد ہیں ۔ 


مورخہ : 18.8.2014 بروز پیر

اسفندیار ولی خان کی قیادت میں 2008 کے انتخابات کے بعد اے این پی پاکستان کی ایک اہم سیاسی طاقت کی صورت اُبھری

(پشاور) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خٹک ، مرکزی جنرل سیکرٹری فخر داؤد زئی ، صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ اور صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے مشترکہ بیان میں اسفند یار ولی خان کو مرکزی صدر ، حاجی غلام احمد بلور کو سینئر نائب صدر ، میاں افتخارحسین کو مرکزی جنرل سیکرٹری اور مرکزی کابینہ کے دیگر ارکان کو منتخب ہونے پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کیطرف سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پختون قومی تحریک مضبوط تر بن کر اُبھرے گی اور قوم کو درپیش مسائل سے نجات دلانے کیلئے اپنا تاریخی کردار ادا کریگی۔
بیان میں کہا گیاہے کہ پارٹی کے مرکزی کونسل کا محترم اسفندیار ولی خان کا بحیثیت مرکزی صدربلامقابلہ انتخاب یہ بات واضح کرتی ہے کہ قومی تحریک کا ہر ممبر صرف ولی باغ ہی کو تاریخی سیاسی ورثہ سمجھتی ہے اور اسفندیار ولی خان ہی کو اس تاریخی ورثے کا والی اور وارث گردانتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں 2008 کے انتخابات کے بعد اے این پی پاکستان کی ایک اہم سیاسی طاقت کی صورت اُبھری اور اس کثیر القومی ملک کیلئے باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی سیاسی ویژن اور سوچ کے مطابق مناسب آئینی ڈھانچہ اور پختونخوا کی صورت میں قومی شناخت دینے میں کامیاب ہوئی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کیا جو اس خطے کی تاریخ میں ایک اہم سیاسی باب ہے۔اور موجودہ صورت حال میں محترم اسفندیار ولی خان کی مدبرانہ قیادت اور میاں افتخارحسین کی صورت میں ایک تجربہ کار اور متحرک جنرل سیکرٹری عوامی نیشنل پارٹی اور پختون قوم کے مستقبل کیلئے ایک نیک شگون ہے۔

مورخہ : 18.8.2014 بروز پیر
کراچی(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی ضلع ملیر کے صدر سعید افغان سنیئر نائب صدرعارف آفریدی نائب صدر نزیر خان یوسفزئی،قاری سجاد تنولی اور جنرل سیکریٹری احسان خان ضلعی ترجمان یاسر کنڈی نے مشر اسفندیار ولی خان کوبلامقابلہ مرکزی صدر حاجی غلام احمد بلور کو سینئر نائب صدر اور میاں افتخار حسین کو جنرل سیکریٹری اور انکی پوری کابینہ ومجلس عاملہ کو منتخب ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

18.8.2014 بروز پیر


سول نافرمانی ‘ پی ٹی آئی صوبے ا ور عوام پر رحم کرے ‘سردارحسین بابک 
عمران خان پختونوں کو اپنی تجرباتی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں ‘ سول نافرمانی خجالت کا اظہار ہے ‘ ترجمان

پشاور ( پ ر ) خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی قائد اور ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ عمران خان ہوش کے ناخن لیں سول نافرمانی کے اعلان کا اثر ا س جنگ زدہ صوبے کے عوام کیلئے زہر قاتل ثابت ہوگا ‘ تحریک انصاف کو اسمبلیوں میں مسائل پر بات کرنا چاہئے اور اگر وہ اسمبلی کو جعلی سمجھتے ہیں تو مستعفی ہو جائیں ‘ باچاخانؒ مرکز پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں ا نہوں نے کہا کہ نام نہاد آزادی مارچ کی ناکامی کے بعد سول نافرمانی کا اعلان عمران خان کی خجالت کا بین ثبوت ہے ‘ ایک طرف تو صوبہ پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہے اور اوپر سے سول نافرمانی کے اعلان سے صوبے ا ور عوام کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا ‘ کیونکہ سول نافرمانی کا اثر صرف مرکز پر نہیں ہوگا بلکہ یہ صوبہ پر بھی اثر انداز ہو گا‘ انہوں نے کہا کہ اگر چوہدری نثار نے یہ کہا ہے کہ ہر حلقے میں 60,70ہزار ووٹ غیر تصدیق شدہ ہیں تو ان میں خیبر پختونخوا کے وہ حلقے بھی شامل ہیں جہاں سے پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اس لئے اب ایک سال بعد احتجاج کی کوئی تک نہیں بنتی تھی ‘ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس جنگ زدہ صوبے اور اس کے عوام پر رحم کریں اور اسے اپنی تجرباتی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں ‘جمہوریت میں فیصلے سڑکوں پر نہیں پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں اگر عمران خان کو موجودہ پارلیمنٹ تسلیم نہیں تو اسمبلیوں سے استعفے دیکر 2018ء کے انتخابات کا انتظار کریں ‘ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان بنانے والوں اور انقلاب لانے کی چیخیں مارنے والوں نے چند ہی دن میں ملک کو 45ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا اگر یہ لوگ بر سراقتدار آ گئے تو ملک و قوم کی نیا ڈبو دیں گے۔ 


مورخہ:17-8-2014 بروز اتوار

پشاور(پ ر ) وزیراعظم میاں نواز شریف نے جناب اسفندیارولی خان کو عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ 


مورخہ:17-8-2014 بروز اتوار


پشاور(پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی ہدایت پر محمد رسول خان کو پارٹی کے ذیلی تنظیم ننگیالے پختون کا سالار اعلیٰ نامزر کر دیا ہے اور اسکی نامزدگی کا نوٹیفیکیشن پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ باچاخان مرکز سے اُن کی نامزدگی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے ۔


مورخہ : 17-08-2014 بروز اتوار

عوامی نیشنل پارٹی سوات کے جنرل سیکرٹری اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی رحمت علی خان نے کہا ہے کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پختون قوم متحد ہیں پختون قافلے کے سالار اسفندیار ولی خان کا اے این پی کے مرکزی صدر منتخب ہونا پارٹی کے بہتر مفاد میں ہے ، اسفندیار ولی خان سمیت دیگر نومنتخب عہدیداران سے توقع کی جارتی ہے کہ وہ پارٹی کومزید ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرینگے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی انتخابات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے رحمت علی خان نے کہاکہ اے این پی کے مرکزی انتخابات میں منتخب ہونے والے نومنتخب صدر اسفندیار ولی خان ، جی ایس میاں افتخار ، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری واجد علی خان جوائنٹ سیکرٹری خان نواب اور دیگر نومنتخب عہدیداروں کو اس امیدکیساتھ مبارکبادپیش کرتے ہیں کہ ان پر جس بھرپور اعتماد کااظہار کیاگیا ہے وہ اس پر پوراا ترینگے ، انہوں نے کہاکہ اسفندیار ولی خان جو کہ فخر افغان بابائے امن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے چشم وچراغ اور پختون قوم کے ایک ایسا باصلاحیت لیڈر ہے جس کی کوششوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے اس صوبے کو اپنا نام اور شناخت مل گئی ہے ، این ایف سی ایوار ڈمیں صوبے کا حصہ اور دیگر حقوق حصول کا سہرااسفندیار ولی خان کے سرپرسجاہے اور وہ آئندہ بھی اپنی صلاحیتوں کو پختون قوم کے حقوق کے حصول ، اس دھرتی کے تحفظ اور بقاء اور پارٹی کے بہتر مفاد کے لئے بروئے کار لائیں گے انہوں نے کہاکہ اے این پی جوکہ پختونوں کے حقوق کے حصول کا ضامن جماعت ہے نے ہمیشہ اس عظیم قوم کی حقوق کی جنگ لڑی ہے ، انہوں نے کہاکہ اسفندیار ولی خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے جان نثاروں نے اس دھرتی میں مستقل قیام امن کیلئے خود کو وقف کررکھا ہے اور اس مقصد کیلئے ان کی قربانیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ 


مورخہ:17-8-2014 بروز اتوار

پشاور(پ ر ) سابق وزیراعلی اور اے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ پشاور میں بارشوں نے قیامت برپا کردی ہے جس کے نتیجے درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور املاک کو نقصان پہنچا جبکہ صوبے کے وزیراعلیٰ اور برسراقتدار پارٹی کے صدر اسلام آباد میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں ،پرویز خٹک نے اسلام آباد میں اسلام اور پختون روایات کا جنازہ نکال لیا،آزادی اورانقلاب مارچ ناکام ہوچکے ہیں، دس لاکھ کارکن جمع کرنے والے دس ہزار کارکن بھی جمع نہ کرسکے، عمران خان آزادی مارچ کے نام پر بربادی مارچ کررہے ہیں وہ اتوار کے روز ہوتی ہاؤس مردان میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے اس موقع پر اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار ایڈووکیٹ ،جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اورمحمد جاوید یوسفزئی بھی موجودتھے امیرحیدرخان ہوتی کاکہناتھاکہ پختون خوا کے عوام نے تحریک انصاف کو ناچ گانوں کے لئے مینڈیٹ نہیں دیاتھابلکہ نئے پاکستان ،سستے انصاف ،بے روزگاری اور توانائی بحران کے وعدوں پر ووٹ دیئے تھے انہوں نے کہاکہ پشاور میں بارشوں نے تباہی مچادی ، درجنوں افراد جان بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں متاثرہ خاندان مشکلات اور مصائب سے دوچارہیں اورمشکل کی گھڑی میں صوبائی حکومت اوران کے اتحادی پارٹیوں نے انہیں تنہا چھوڑدیاہے انہوں نے کہاکہ وزیرستا ن کے لاکھوں متاثرین مسائل کے حل کے لئے صوبائی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ صوبے کے خصوصی حالات کے پیش نظر وزیراعلیٰ اوران کے کابینہ کے ارکان کو یہاں ہوناچاہئے اور متاثرین کی مدد کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئے تھے تاہم وزیراعلیٰ پرویز خٹک اوران کے پارٹی صدر اعظم سواتی کے ہمراہ سٹیج پر رقص اورگانوں میں مصروف ہیں انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے پختونوں کے سر شرم سے جھکادیئے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی مشکل کی گھڑی میں سیلاب اور وزیرستان متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان نے اسلام آباد میں دس لاکھ کارکن جمع کرنے کا دعویٰ کیاتھالیکن وہ دس ہزار کارکن بھی جمع نہ کرسکے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ تحریک انصاف نے عوام سے تبدیلی ،انصاف اور امن کے وعدے کئے تھے صوبے میں کسی قسم کی تبدیلی نظر نہ لاسکے تو عمران خان نے عوام کی نظریں اصل ایشو سے ہٹانے اور وزیراعظم بننے کے چکر میں انتخابات میں دھاندلی کو بہانہ بناآزادی مارچ کے نام پر بربادی مارچ کررہے ہیں ؂ انہوں نے کہاکہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے تاہم اس وقت سیاسی جماعتوں پرجمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جمہوری حکومت سے دوسری حکومت کو اختیارات منتقل ہوئے ہیں اور تمام سیاسی پارٹیاں کسی بھی صورت میں جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کو تیا رنہیں اورجمہوریت کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف متحد ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ چندسو افراد کے مطالبے پر وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے مطالبات کے لئے پارلیمنٹ موجود ہے اور عمران خان کو چاہئے کہ وہ سڑکوں پر ڈرامے بند کرکے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر اپنا نقطہ نظر پیش کریں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان اورطاہرالقادری ملک میں انارکی پھیلارہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ عوام ان کے باربار اپیلوں پر کان نہیں دھرتے اورآزادی مارچ اورانقلاب مارچ بری طرح ناکام ہوچکے ہیں ۔


مورخہ: 16-8-2014 بروز ہفتہ 


عمران خان ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔ ریاض باغی 
پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سینئر رہنما نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ عمران خان وزیرستان کے متاثرین کو تنہا چھوڑ کر آزادی مارچ کر رہا ہے جو اپنی ناکامی چھپانے کا منہ بولتاثبوت ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن سے پہلے عوام کے ساتھ جو بلند و بانگ وعدے کئے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے اور عوام اُنکا اصل چہرہ پہچان چکے ہیں ۔ اب وہ اُن کے وعدے اور نعروں پر یقین نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری دونوں ملک دُشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور ان کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ 


16.8.2014 بروز ہفتہ


پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حالیہ طوفانی بارشوں سے ہونے والی قیمتی جانوں کا ضیاع اور مالی نقصانات کے موقع پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور اُن کے وزراء کا غائب ہونا اور متاثرہ خاندانوں کو تنہا چھوڑنا عوامی میندیٹ کی توہین ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گزشتہ روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے دورہ اور وہاں پر کیجولٹی میں زیر علاج طوفانی بارشوں اور تیز آندھی سے زخمی ہونے والے افراد سے فرداً فرداً ملنے اور اُن کی تیمارداری کرنے کے موقع پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اُن کے ساتھ تاج الدین خان اور اے این پی بونیر کے صدر محمد کریم بابک بھی موجود تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ پشاور اور مضافاتی علاقوں میں تیز آندھی اور طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی۔ درجنوں مکانات کی چھتیں اوردیواریں گرنے سے 16 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف شمالی وزیرستان کے متاثرین بھی سخت مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے صوبے کے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کر وزیراعلیٰ اور اُن کی جماعت کے وزراء آزادی مارچ میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے نئے پاکستان اور تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا وہ صرف ڈھونگ اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔تحریک انصاف اور عوامی تحریک ملک دُشمن ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں۔ اے این پی جمہوریت کے خلاف ہر اقدام کی مخالفت کرے گی اور جمہوریت کو پروان چڑھانے کے ہر اقدام کا خیر مقدم کرے گی۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزراء جلد سے جلد پختونخوا تشریف لائیں اگر وہ نہیں آنا چاہتے تو عمران خان اُن کو ہدایات دیں کہ اپنے صوبے لوٹ کے آئیں اور دُکھی عوام کے ساتھ رہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں حالیہ طوفانی بارشوں اور آندھی نے تباہی مچا دی جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ کئی زخمی ہیں اور حکمران جماعت آزادی مارچ اور دھرنوں میں مصروف ہو کر ڈھول بجارہے ہیں اور رقص کر رہے ہیں جو کہ یہاں کے جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ جاں بحق اور زخمی افراد کیلئے نقد رقوم دینے کا اعلان کرے اور اُنکی آبادکاری کیلئے عملی اور مؤثر اقدامات اُٹھائیں۔


16.8.2014 بروز ہفتہ


پشاور( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے پشاور میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے جانی اورمالی نقصانات پر دلی دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ مشکل اورآزمائش کی گھڑی میں وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے متاثرہ خاندانوں کو تنہا چھوڑ کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی ہے، عمران خان،قادری اورپرویز مشرف میں کوئی فرق نہیں،دھاندلی اور انتخابی اصلاحات کے نام پر جمہوریت کوڈیل ریل کرنے کی سازش کی جارہی ہے ،آزادی مارچ کے نام پرخیبرپختون خوا سے دودن قبل کارکنوں کو اسلام آباد بلاکر وزیراعلیٰ نے انہیں پارکوں اورفٹ پاتھوں پر بھوکے پیاسے چھوڑ کرخود سرکاری رہائش گاہ میں ضیافتیں اڑاتے رہے ،انقلاب اور تبدیلی کے دعویداروں کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ،حقیقی تبدیلی کے لئے چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ہر گھر پر سرخ جھنڈا لہرانا ہوگا وہ مدینہ کالونی باغ ارم میں شمولیتی اجتماع سے خطاب اورہوتی ہاؤس میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود سے گفتگو کررہے تھے اجتماع میں نورزادہ عرف گل نے خاندان اوردرجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت اختیارکی اے این پی کے صوبائی صدر نے پارٹی میں شامل ہونے والی شخصیات کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باد دی، اس موقع پر ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اورجنرل سیکرٹری لطیف الرحمان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ملک نازک دور سے گزررہاہے سازشی عناصر جمہوریت کو ڈیل ریل کرکے کسی اورکا ایجنڈا پورا کرناچاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری پرویز مشرف کی کشتی کے سوار ہیں ان میں فرق صرف یہ ہے کہ کپتان اورعلامہ نے وردی نہیں پہنی ہے انہوں نے کہاکہ صوبے میں بارشوں نے تباہی مچاد ی ہے اورمتاثرین کے ساتھ ہمدردی اورانہیں دلاسہ دینے کے لئے کوئی موجود نہیں جبکہ مشکل کی گھڑی میں وزیرستان متاثرین کو بھی تنہا چھوڑ دیاگیاہے انہوں نے کہاکہ آزادی مارچ میں مردان اور خیبرپختوا خوا کے کارکنوں کو دو دن قبل اسلام آباد بلاکر انہیں خوارکیاگیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ وزیراعلیٰ پروٹوکول میں سرکاری رہائش گاہ چلے گئے اورکارکنوں کو پارکوں اور فٹ پاتھوں پر بے یارودمددگار چھوڑدیاگیا انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان اورنئے پختون خوا بنانے والے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوئے توانہوں نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے آزادی مارچ کے نام پرڈرامہ شروع کیا انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم کے خواب پورا کرنے کے لئے جمہوری نظام کو تہہ وبالا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کی جمہوری جماعتیں کسی بھی صورت اجازت نہیں دیں گی۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی ملک میں جمہوریت کا تسلسل چاہتی ہے کیونکہ ملک اس وقت نازک دور سے گزررہاہے ۔ اے این پی نے ہمیشہ ظلم اورظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے انہوں نے کہاکہ اے این پی اس مٹی پر امن چاہتی ہے اورامن کی بحالی کے لئے ہمارے کارکن لازوال قربانیوں کی تاریخ رقم کرکے دہشت گردوں کا میدان میں مقابلہ کررہے ہیں ان کاکہناتھاکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پورے ملک میں پھرتے رہے ، امن اور تبدیلی کے دعوے کرتے رہے دیگر صوبوں میں وہیں کی قومییتوں نے اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ خیبرپختون خوا میں لوگوں نے تحریک انصاف کو موقع دیا انہوں نے کہاکہ پختونوں نے عمران خان کے دعوؤں اور وعدوں پر اعتبار کیا تاہم پختون باشعور اورسیاسی طورپر بیدارہیں وہ عہد شکنی کرنے والوں کا تحت تختے میں بدلنا جانتے ہیں انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں صوبائی حکومت کی کارکردگی صرف احتجاجوں تک محدودرہی اور صوبے کے طول وعرض میں اب بھی ہمارے دور کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون قوم کو اپنے مسائل کے حل کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکھٹا ہوناگا اور چترال سے لے کر ڈیر ہ اسماعیل خان تک پارٹی کا جھنڈا گھر گھر لہرانا ہوگا ۔

مورخہ : 16.8.2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور سیکرٹری اطلاعات سردار حسین بابک نے پشاور میں طوفانی بارشوں سے تباہی میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مرحومین کے ایصال ثواب کیلئے مغفر ت کی دُعا کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
اُنہوں نے کہا صوبائی حکومت زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات کا انتظام یقینی بنائیں اور اُن کی خصوصی طبی سہولیات میں غفلت نہ بھرتیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے صوبے بھر کے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے حکومت فوری طور پر اقدامات اُٹھائیں۔


مورخہ 15.8.2014 بروز جمعۃ المبارک


پشاور (پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا جس میں جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان ، نائب صدر (زنانہ) مریم اور حرا ، سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری جواد علی خان ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تحسین اقبال یوسفزئی ، جنرل سیکرٹری حضرت بلال مہمند کے علاوہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے سینئر رہنما ولید مہمند سمیت کثیر تعداد میں طلبہ اور طالبات نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی نے کہا کہ 18 اگست بروز پیر سے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے بی ایس کے جو داخلے شروع ہونے والے ہیں اور اُسی دن سے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی اور تمام عہدیداروں کی زیر قیادت داخلہ رہنمائی کیمپ شروع ہو گا جو کہ آخری تاریخ یعنی 29 اگست کی دوپہر تک جاری رہے گا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کی خدمت کو وہ اپنی عبادت سمجھتے ہیں اور باچا خان کا فلسفہ اور نظریہ بھی یہی ہے کہ پختون قوم اور ان کے بچوں کی خدمت کی جائے اور خاص کر پختون قوم کو تعلیم کے ذریعے ہی بیدار کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم بے لوث اور بغیر کسی لالچ کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور اس فلسفہ اور نظریہ کو اپنے مرکزی ایڈوائزر اور قائد اسفند یار ولی خان اور صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان کی قیادت میں آگے لے جائیں گے۔


مورخہ : 15.8.2014 بروز جمعۃ المبارک


پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بلوچستان میں خالد ائیربیس اور سمنگلی ائیر بیس پر پے درپے تین دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکوں میں زخمی ہونے والے فوج ، ایف سی اور پولیس اہلکاروں کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اُن کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی۔
باچا خان مرکز پشاور سے اے این پی کے رہنما نے اپنے جاریکردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بم دھماکوں کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کوئی کوریج نہیں ہے عوام اور حکومت ان سے بے خبر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر صرف تحریک انصاف کی آزادی مارچ اور عوامی تحریک کے انقلابی مارچ کی کوریج24 گھنٹے دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹا کر مارچ اور دھرنوں کی طرف کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کو باخبر رکھنا میڈیا کی ذمہ داری ہے اہم واقعات کو کوریج دینا ، عوام اور حکومت کو باخبر رکھنا ان کا فرض ہے۔اُنہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کا بھی کوئی پرسان حال نہیں اور اُن کے مسائل اور حالت زار سے بھی حکومت بے خبر ہے۔ اور نہ ہی میڈیا پر ان کی کوئی کوریج ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر صرف آزادی اور انقلاب مارچ دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ہر جمہوری اقدام کی حمایت کرے گی اور جمہوریت کے خلاف اور منافی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ اُنہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض کو بجا لاتے ہوئے بلوچستان دھماکوں اور شمالی وزیرستان کے متاثرین کے حالات سے عوام اور حکومت کو آگاہ کریں اور حکومت اپنی آئینی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے عوام کی مشکلات مسائل حل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور اُن کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا کر عملی اور مؤثر کردار ادا کرے۔


مورخہ : 15.8.2014 بروز جمعۃ المبارک


پشاور ( پ ر) انتشار پھیلانے والے ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ یہ بات اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے موضع آگارئی (بونیر) میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے درجنوں خاندانوں نے جہان نواب ، راج ، سید بہادر ، میاں محمود ، بختی نواب ، صدر نواب ، صدارت خان ، صابر الرحمان ، لعل محمود ، امین کاکا ، فضل ، اختر خان اور احمد خان کی سربراہی میں خاندانوں اور رشتہ داروں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اسلام آباد میں دھرنے دے رہے ہیں وہ عوام کی کیا خدمت کر سکیں گے۔ عمران خان کی اصل تبدیلی عوام نے دیکھ لی ہے ان کی سیاست دھرنوں اور جلسوں سے شروع ہو کر دھرنوں اور جلسوں پر ختم ہو گی۔ عوام جان چکی ہے کہ وہ ملک میں انارکی اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ عمران خان وزیر اعظم بننے کیلئے بے تاب ہیں اور اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت کو شہید کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور اُن کی ٹیم نہ خود عوام کی خدمت کر سکتی ہے اور نہ دوسروں کو کرنے دیتی ہے۔ صوبے میں حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبے کے عوام اُنہیں بھاگنے نہیں دینگے عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے بجائے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں صوبے کے عوام اُنہیں معاف نہیں کرینگے لوگوں نے عمران خان کو جلسوں کیلئے نہیں خدمت کرنے کیلئے ووٹ دئیے ہیں۔ اس موقع پر ضلع صدر محمد کریم بابک ، نصیب خان ، شبیر خان ، امیر سلطان خان اور جاوید خان نے بھی خطاب کیا۔

بونیر : قادری مینڈیٹ اور آئین کو تسلیم نہیں کرتے جبکہ عمران پل بھر میں فیصلے بدلنے والے لیڈر ہیں۔
دونوں ملزموں کو گرفتاری سے پہلے پھانسی پر لٹکانہ چاہتے ہیں۔ جوڈیشنری کمیشن کے تھرو الزامات ثابت ہو جائے تو پورا پاکستان وزیر اعظم کے مخالف ہو جائے گا۔ (سابق وزیر اعلیٰ حیدر ہوتی کا بونیر میں میڈیا والوں سے گفتگو)

اپنی خواہشات کے مطابق فیصلے عوام پر مسلط کرنا لوگوں کو ایک جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے اُسانہ ، عدلیہ ، پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں پر یقین نہ رکھنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔ آزادی مارچ کا حصہ بننے والوں کو خود معلوم نہیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اس ملک کی عدلیہ ، آئین اور قانون موجود ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس بلانا چاہئے تھا۔ لیکن اُنہوں نے سب کو بالائے طاق رکھ کر اپنی خواہشات کے مطابق فیصلے کرنا شروع کر دئیے ہیں جو کہ نقصان سے خالی نہیں۔ اُنہوں نے ان خیالات کا اظہار بونیر میں حاجی رؤف خان کی رہائش گاہ صحافیوں اور پارٹی ورکرز سے باتیں کرتے ہوئے کہیں۔ اس موقع پر ایم پی اے سردار حسین بابک ، ضلعی صدر محمد کریم بابک ، سابق ایم پی اے قیصر ولی خان کے علاوہ درجنوں پارٹی کارکن موجود تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات ٹھیک نہیں ان حالات میں یہ مارچ نہ تعمیری ہے نہ سیاسی ۔ عمران خان اور قادری اپنی سوچ کو قوم پر زبردستی مسلط کرانا چاہتے ہیں۔ انصاف کے قائد عمران کی راہ میں خیبر پختونخوا حکومت رکاوٹ ہے اور وہ خود اسے قربان کرنا چاہتا ہے۔ کسی بھی غیر جمہوری عمل کا خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی حصہ نہیں بنے گی۔ پی ٹی آئی قوم کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کریں۔ خیبر پختونخوا حکومت خاتمے کی باتیں قبل از وقت کے ساتھ پارٹی اپنا فیصلہ کریگی۔ اس وقت اپوزیشن سے زیادہ عمران خود خیبر پختونخوا حکومت کو ناقص کرکردگی پر اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور وہ خود اس کے خاتمے کیلئے کافی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ دھاندلی الیکشن کے وقت اے این پی کے ساتھ ہوئی ہے۔ الیکشن کے وقت تمام سیاسی جماعتیں کمپین چلارہی تھیں اور ہم اپنے پیاروں کی لاشوں کو دفناتے تھے پھر بھی ہم نے خیبر پختونخوا حکومت کے موجودہ مینڈیٹ کو تسلیم کیا اور کسی بھی قسم کے احتجاج کی راہ نہیں اپنائی۔ اس ملک کے آئین اور پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے احتجاجوں اور ریلیوں کی راہ اپنانا ایک دانشور اور محب وطن سیاسی لیڈر کا کام نہیں۔ اُنہوں نے سلطان وس میں افسر خان کے والد کی وفات پر اُن سے تعزیت بھی کی۔


مورخہ : 13.8.2014 بروز بدھ


پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے عدالتی کمیشن کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ عمران خان کو اب احتجاج کی کال واپس لینی چاہئے،دھاندلیوں کے الزامات ثابت ہونے سے قبل وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنا غیر آئینی اورغیر جمہوری مطالبہ ہے ،جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی تو تاریخ عمران خان کوکبھی معاف نہیں کرے گی ،جاوید ہاشمی کی جرآت مندانہ موقف جمہوریت اورپارلیمنٹ کی فتح ہے ،پی ٹی آئی کے پاس تبدیلی کا کوئی ایجنڈانہیں ،تبدیلی تو اے این پی کے دورحکومت میں آئی تھی جس دورمیں صوبائی خودمختاری سے لے کر صوبے کے نام تک کو تبدیل کردیاگیا،اے این پی ماں دھرتی پر جان نچھاور کرنے والے شہیدوں کی پارٹی ہے ،وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں شہدا بابڑا کی 66ویں برسی کے حوالے سے منعقدہ تقریب اوربعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے تقریب سے اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار اورجنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان نے بھی خطاب کیا جبکہ پی کے 24کے سابق امیدوار علی خان اور پارٹی رہنما محمد جاوید یوسفزئی بھی اس موقع پر موجودتھے تقریب میں یونین کونسل رستم ،خڈی کلے ،چمتار اوریونین کونسل فاطمہ سے تعلق رکھنے پی ٹی آئی ،جماعت اسلامی ،پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے سینکڑوں افراد نے اپنی پارٹیوں سے مستعفی ہوکر خاندانوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے انہیں ٹوپیاں پہنائیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدرنے کہاکہ عمران خان جمہوریت کے لئے گلو بٹ کا کردار اداکررہے ہیں حالانکہ وفاقی حکومت نے ان کے مطالبے پر سپریم کورٹ کے اعلیٰ ججوں پر مشتمل کمیشن بنانے کا اعلان کیا انہوں نے کہاکہ انتخابی دھاندلیوں کے الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے اور کپتان صاحب منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں جو غیر آئینی اورغیر جمہوری ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان نہ تو پارلیمنٹ کو مانتے ہیں اورنہ ہی انہیں عدلیہ پر اعتماد ہے حالانکہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عمران خان نے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیاہے انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے لچک کا مظاہرہ کرکے اچھا اقدام اٹھایاہے ایک سوال کے جواب امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے جو موقف اپنا یاہے وہ جمہوریت کے استحکام کے لئے نیک شگون ہے جاوید ہاشمی ایک سینئرپارلیمنٹرین ہیں اوراصولوں پر انہوں نے میاں نوازشریف سے اپنی راہیں الگ کی تھیں انہوں نے کہاکہ جاوید ہاشمی عمران خان کی ذہنیت جان چکے ہیں کہ وہ وزیراعظم بننے کے لئے بے تاب ہیں اوراپنی ضد اورانا کے لئے جمہوریت کو داؤ پر لگاناچاہتے ہیں ایک دوسرے سوال کے جواب میں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ان کی جماعت مرکزی حکومت کی بی ٹیم نہیں اورنہ حکومت کا حصہ ہے تاہم ملک کی بقا اورجمہوریت کی استحکام کے خاطر موجودہ حکومت کوسپورٹ دے رہی ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے استحکام کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بچانہیں ہے قبل ازیں بابڑا کے شہدا کی یاد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون قوم کے حقوق اور سیاسی آزادی کے لئے جانوں کے نذرانے دیئے آج بھی ان کی شہادتوں کا تسلسل جاری ہے اور اے این پی کے کارکن دہشت گردوں اورانتہا پسندوں کے میدان میں مقابلہ کرکے وطن کی حفاظت کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی نے ہر دورمیں ظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیاامیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجود ہ حالات انہتائی نازک ہیں اورایسے میں اے این پی کے کارکنوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باچاخان اورخان عبدالولی خان کے عدم تشدد کے فلسفے اور فکر کو ہرسوں پھیلائیں اورلوگوں کواس دھرتی اور پختون قوم کے لئے اے این پی کی قربانیوں سے باخبر کریں انہوں نے کہاکہ پختونوں کے پاس اپنی بقا کے لئے اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کے سوا کوئی راستہ بچانہیں ہے امیرحیدرخان اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پورے ملک میں پھرتے رہے اور تین ماہ میں تبدیلی ،نئے پاکستان اور نئے خیبرپختون خوا کے وعدے کرتے رہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا بدامنی ، مہنگائی ،لوڈشیڈنگ اورلاقانونیت کا دور دورہ ہے تبدیلی تو اے این پی کے دورحکومت میں آئی تھی جس میں صوبے کا نام تبدیل ہوا ،صوبائی خودمختاری،این ایف سی ایوارڈ اور مرکزی حکومت سے اربوں روپے کے بقایا ت وصول کئے گئے انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں یونیورسٹیاں ،کالج ،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عوام نے پی ٹی آئی کو اقتدار کا تخت دیا ہے لیکن پختون قوم عہد شکنی کرنے والے حکمرانوں کا تخت تختے میں بھی بدلنا جانتے ہیں اورانہیں واپس بنی گالہ بیجھ دیں گے انہوں نے کہاکہ 12اگست 1948کو بابڑہ کے شہیدوں اورغازیوں نے پختون قوم کے حقوق کے لئے جانوں کے نذرانے دیئے لیکن انگریز کے باقیات کے سامنے سر نہیں جھکایا انہوں نے کہااے این پی نے آج بھی شہدائے بابڑہ کے راستے پر گامزن ہے اور شہدائے بابڑا کا تسلسل جاری رکھ کر دہشت گردوں اورانتہا پسندوں کا میدان میں کھڑے ہوکر مقابلہ کررہے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ امن اوراس دھرتی کی بقاکی خاطر سینئر وزیر بشیراحمد بلور،اراکین اسمبلی اور ساڑھے آٹھ سو کارکنوں نے اس اپنی جانیں نچھاورکیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں 8یونیورسٹیاں اورلاتعداد گرلز اور بوائز کالجز بنائے گئے اس کے مقابلے میں موجودہ صوبائی وزیر تعلیم نے اب تک اپنے حلقے کے کسی سکول میں کمرہ میں کمرہ تک تعمیر نہیں کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پی ٹی آئی اپنے منشور میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔



کراچی؍13اگست 2014ء  
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے جشن آزادی کے سلسلے اہل وطن اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کو68واں جشن آزادی کی دلی مبارکباد پیش کی ہے۔جشن آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ آزادی کا دن ہمارے لیے عید سے کم نہیںیہ وہ دن ہے جب پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے آیا۔ ہمارے اسلاف اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کے بعد ہمیں آزادی نصیب ہوسکی ۔ آج ہماری بہادر افواج دہشتگردوں کے خلاف اس ملک کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں، دنیا بھر میں مقیم تمام پاکستانی 14 اگست کو پاکستان کا یوم آزادی منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔میں جب اپنی قوم کوپیش نظر مسائل میں دیکھتا ہوں تو مبارک دیتے ہوئے جھجھک محسوس کرتا ہوں \” بجلی کی لوڈ شیڈنگ ، گیس کی کمی ، پانی کا بحران ،ڈرون حملے ، اسمبلیوں میں آئے دن کی لڑائی ، ہڑتالیں ، کراچی میں بربریت ، بم دھماکے ، مہنگائی ، نے ملک میں سیاسی انتشار اور بے چینی سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی نے ملک کو انتشار اور بے چینی کی طرف دھکیل دیا ہے جشن آزای کے موقع پر ملک کو سیاسی اکھاڑا بنانا اور عوام میں بے چینی پھیلانا زندہ قوموں کو کسی طور زیب نہیں دیتا عمران خان اور طاہر القادری کو پیغام دیتا ہوں کہ یوم آزادی کے موقع پرقوم کو انتشار میں مبتلا اورقوم کو مقیدنہ کریں ۔ اپنے ان بکھرے ہم وطنوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک قوم بن جائیں ایسی قوم جو اپنا راستہ خود بنا سکے جو اپنا حق مانگ سکے جو اپنا مستقبل تابناک بنانے کا فن سیکھ سکے میری خواہش ہے کہ میرے بکھرے ہم وطن کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر آجائیں پاکستان کے بکھرے افراد قوم بن جائیں پاکستان کی سربلندی کیلیے کوشش کریں ۔ سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے ہمارا ایمان ہے کہ پاکستان قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے اور رہتی دنیا تک قائم و دائم رہیگا ۔عوام سے اپیل ہے کہ اپنے باہمی اتفاق سے دشمن کی تمام سازشیں ناکام بنادیں، یوم آزادی قومی جذبے کے ساتھ منائیں اور آپس میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

اے این پی جمہوریت کا ساتھ دے گی اور جمہوریت کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کرے گی۔

 
کراچی۔12اگست 2014ء

کراچی، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی صوبائی تنظیم کا اجلاس مردان ہاؤس میں صوبائی قائم مقام صدر حاجی اورنگ زیب بونیری کی قیادت میں منعقد ہوا اجلاس میں 17 اگست کو چارسدہ میں ہونے والے پارٹی کے مرکزی انتخابات کے حوالے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی گئی ،اجلاس کے بعد حاجی اورنگ زیب بونیری کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر نہایت تشویشن ناک ہے۔ سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی ریاست اور جمہوریت دونوں کیلیے خطرناک ہے قوم لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی کا سامنا کر رہی ہے ،اے این پی جمہوریت کا ساتھ دے گی اور جمہوریت کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کرے گی۔عسکری قیادت ملک میں دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے اور دوسری طرف حادثاتی سیاست دان اور دیار غیر سے اچانک وارد ہونے والے مذہبی رہنماء تماشہ لگاکر انتشار پھیلارہے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہو،خطے کی صورت حال تبدیل ہورہی ہو اور پارلیمنٹ میں موجود سیاسی قوت اپنے دارلحکومت کو میدان جنگ بنانے اور ایک منتخب حکومت کو گھر بھیجنے کا اعلان اور قومی اداروں پر بے سروپا الزامات انتہائی افسوس ناک ہے، جب فوج جنگ میں مصروف ہو تو اپنے جوانوں کے ساتھ کھڑا ہواجا تا ہے نا کہ ذاتی مفادات کے لیے قوم کو کھیل تماشوں پر لگایا جاتا ہے ،عمران خان نواز شریف کے مینڈیٹ کو تسلیم کرلے اور نواز شریف عمران خان کے مینڈیت کا احترام کر ے اور دونوں رہنما الیکشن سے پہلے قوم سے کئے گئے وعدے پورے کردیں۔انقلابیوں اورآزادی مارچ کے نام نہاد دعویداروں اور انتخابات سے پہلے بڑے بڑے دعویداروں اور عدالت عظمیٰ سے غیر مشروط معافی مانگنے والوں نے ملک کو انتشار اور بے چینی کی طرف دھکیل دیا ہے فریقین کو چاہیئے کہ ملک کے خاطربڑے پن کا ثبوت دیں حکومت اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بالغ نظری کا ثبوت نہ دیا توجمہوریت نہیں بلکہ اس ملک کے ریاستی اداروں کو بھی نا تلافی نقصان پہنچے گا انتشار اور بے چینی کی سیاست سے کوئی فائدہ نہیں جشن آزای کے موقع پر ملک کو سیاسی اکھاڑا بنانا اور عوام میں بے چینی پھیلانا زندہ قوموں کو کسی طور زیب نہیں دیتا ۔اجلاس میں سانحہ بابڑہ کے شہداء کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی ،انہوں نے مذید کہا کہ باچاخان اور اْن کے ساتھیوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اورآج اے این پی کی شکل میں ملک و قوم کیلئے قربانیوں کا تسلسل ابھی تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور میں باچاخان کے تحریک نے سختیاں کاٹی ہیں ، پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں آج تک بقاء کی جنگ ہو یا حقوق کی جنگ ، باچاخان کے خدائی خدمتگار تحریک کے تسلسل اے این پی جدوجہد میں پیش پیش ہے۔ 

مورخہ:12-8-2014 بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے زیر اہتمام شہداء بابڑہ کیلئے باچاخان مرکز پشاور میں قرآن خوانی کی گئی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ 
ختم القرآن کے بعد اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی ، گلزار خان اور سرتاج خان نے تقریب کے شرکاء سے اپنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1948 ء میں اس دن چارسدہ میں بابڑہ کے مقام پر اُس وقت کے خدائی خدمتگاروں نے جبر تشدد اور غیر قانونی گرفتاریوں اور اپنے حقوق کیلئے پُرامن جلوس نکالا ۔ تو اُس وقت کے ظالم حکمرانوں نے اُن پرامن خدائی خدمتگاروں پر گولیاں برسائی جس میں سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو شہید کر دیا گیا ۔ 
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ اس خدائی خدمتگار تحریک نے باچاخان کی سربراہی میں اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلایا ۔ باچاخان نے اس ملک و قوم کی خاطر 34 سال جیل میں گزارے۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک و قوم کو جب قربانیوں کی ضرورت پڑی تو عوامی نیشنل پارٹی نے سب سے پہلے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ موجودہ دہشت گردی کے دور میں اے این پی کے سینکڑوں کارکنوں نے جام شہادت نوش کیا جس میں بشیر احمد بلور ، حاجی عالمزیب خان (ایم پی اے ) اور ڈاکٹر شمشیر خان اور دیگر شامل ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس مٹی کیلئے جتنی قربانیاں اے این پی نے دی ہیں کسی اور جماعت نے نہیں دی ہیں ۔ عوامی نیشنل پارٹی کا اپنی ایک تاریخ ہے، اے این پی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور ملک وقوم کی خدمت اپنا فرض سمجھتی ہے ۔شرکاء نے شہداء بابڑہ کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے اور ہمیں اُنکی قربانیوں پر فخر ہیں ۔آخرمیں شہداء بابڑہ کے درجات کی بلندی کیلئے اجتماعی دُعا کی گئی۔ 


مورخہ:12-8-2014 بروز منگل

پشاور ( پ ر ) اے این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔یہ بات اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین ، ایمل ولی خان اور سردارحسین بابک نے یوم بابڑہ کے موقع پرمسجد غازی گل بابا چارسدہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ 
انہوں نے کہا کہ باچاخان اور اُن کے ساتھیوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اورآج اے این پی کی شکل میں ملک و قوم کیلئے قربانیوں کا تسلسل ابھی تک جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور میں باچاخان کے تحریک نے سختیاں کاٹی ہیں ، پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں آج تک بقاء کی جنگ ہو یا حقوق کی جنگ ، باچاخان کے خدائی خدمتگار تحریک کے تسلسل اے این پی جدوجہد میں پیش پیش ہے ۔ اس موقع پر اے این پی کے قائدین نے بابڑہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کی اور مقبرے میں شہداء کے مزار پر پھول چڑھائے ۔ 
انہوں نے کہا کہ اے این پی جمہوریت کا ساتھ دے گی اور جمہوریت کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کرے گی ۔ انہوں نے کہ عمران خان اور طاہر القادری جمہوریت دُشمن اور ملک دُشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک مزید ڈراموں اور دھرنوں کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نواز شریف کے مینڈیٹ کو تسلیم کرلے اور نواز شریف عمران خان کے مینڈیت کا احترام کر ے اور دونوں رہنما الیکشن سے پہلے قوم سے کئے گئے وعدے پورے کردیں ۔
اس موقع پر ضلعی صدر و سابق وزیر ارشد عبداللہ نے بھی خطاب کیا جبکہ اجتماع میں اے این پی کے کارکنوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی ۔

مورخہ : 11-8-2014 بروز پیر


پشاور ( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے قومی سلامتی کانفرنس میں شرکت نہ کرکے غلطی کی ہے اور خیبرپختون خوا اور آئی ڈی پیز کو نمائندگی سے محروم کردیاہے ،مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کریں ،ماضی کی غلطیوں کو دہرایا گیا تو تیسری قوت کو مداخلت کا موقع مل سکتاہے ،ماضی میں اپوزیشن حکومت کے خاتمے کے لئے تحریکیں چلاتی رہیں اب تحریک انصاف خو د اپنی حکومت گرارہی ہے لیکن انہیں بھاگنے نہیں دیاجائے گا وہ حلقہ پی کے 23کے علاقہ ابراہیم کلے مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطا ب کررہے تھے جس میں ڈسٹرکٹ بار مردان کے سابق صدر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما عبدالحمید خان ایڈووکیٹ نے اپنے بھائی بادشاہی الملک عرف باچا اورخاندان کے دیگر افراد اورساتھیوں سمیت نون لیگ سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے انہیں ٹوپیاں پہنا ئیں اورمبارک باددی اجتما ع سے اے این پی ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اور عبدالحمیدخان ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ انہوں نے اپنی سیاست کاآ غاز عبدالحمید خان ایڈوکیٹ کے اے این پی ضلع مردان کی دور صدارت میں کیا انہوں نے کہاکہ ان کی اوران کے خاندان کی دوبارہ باچاخان کے قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ پارٹی کے لئے نیک شگون ہے۔
انہوں نے کہاکہ باچاخان کے قافلے کے ساتھی ہمارا عظیم سرمایہ ہیں حالات کاتقاضاہے کہ ناراض ساتھیوں کو مناکر انہیں سرخ جھنڈے تلے اکھٹاکرناہوگا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کی شکارہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ باچاخان نے اس دھرتی اورپختون قوم کو مسائل سے نکالنے کے لئے جس تحریک کا آغازکیاابھی وہ منزل دور ہے انہوں نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار اوراسمبلیوں کی سیٹوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا مقصود ہے انہوں نے کہاکہ عوام نے پی ٹی آئی کے بلند وبانگ دعوؤں میں آکر ان پر اعتماد کیا لیکن انہوں نے اقتدار میں آکر نئے پاکستان اورسستے انصاف کے وعدوں کو بھلاکر نا ڈالا اورحکومت کو نان ایشو میں الجھادیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اس وقت ملک نازک صورتحال سے دوچارہے سیاسی جماعتوں کو ہوش مندی کا دامن نہیں چھوڑناچاہئے اور حکومت کو آخری لمحے تک مذاکرات اور لچک کا مظاہرہ کرناہوگا انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے پاس عوامی مینڈیٹ موجود ہے اورعمران خان کو چاہئے کہ وہ اس مینڈیٹ کا احترام کریں انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن ) اور تحریک انصاف نے لچک نہ دکھائی تو تیسرے قوت کو مداخلت موقع مل سکتاہے امیرحیدرہوتی نے گذشتہ روز قومی سلامتی کانفرنس میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی عدم شرکت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایااورکہاکہ صوبائی حکومت کی عدم شرکت نے قومی سلامتی کانفرنس میں خیبرپختون خوا کی نمائندگی کا موقع ضائع کیا گیا وزیراعلیٰ کانفرنس میں شرکت کرتے توصوبے کو درپیش مسائل اور خصوصاً متاثرین وزیرستان کے مسائل بھرپور طریقے سے اجاگر کئے جاسکتے تھے انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بننے کے چکر اپنی صوبائی حکومت قربان کرناچاہتے ہیں اورعوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کو تیارہیں تاہم پختون خوا کے عوام ان سے کئے گئے وعدوں کا حساب کتاب مانگ رہی ہے اور اپوزیشن کی جماعتیں انہیں میدان سے بھاگنے نہیں دیاجائے گا انہوں نے کہاکہ عوام نے صوبائی حکومت کو مینڈیٹ مسائل کے حل کے لئے دیاہے لیکن صوبائی وزیراعلیٰ خو د احتجاجی جلسے جلوسیں کرنے پر اتر آئے تو عوام مسائل کے حل کے لئے کہاں جائیں گے انہوں نے مزیدکہاکہ پختون قوم حکمرانوں کا احتساب کرناجانتی ہے ۔


مورخہ: 11-8-2014 بروز پیر 

پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک اہم اجلاس زیرصدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا جس میں جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان ، سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری جواد علی خان ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تحسین اقبال یوسفزئی ، جنرل سیکرٹری حضرت بلال مومند کے علاوہ کثیر تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی ۔ 
اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی نے کہا کہ گذشتہ روز انجنیئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر امتیاز گیلانی نے آپریشن ضرب عضب میں وزیرستان متاثرین کیلئے 20 سیٹوں کا کوٹہ مختص کیا ہے تو ہم بھی اپنے وائس چانسلر ڈاکٹر قبلہ ایاز اور ڈائریکٹر ایڈمیشن حسین فاروق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد وزیرستان متاثرین کیلئے کوٹہ سیٹ پالیسی واضح کریں تاکہ جن طلباء نے امن کی خاطر اپناگھر بار چھوڑا ہیں اُن کو انصاف مل جائیں اور تعلیم کے میدان میں یہ غریب بے بس اور لاچار طلبہ دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں ، کوٹہ سیٹ پالیسی کے ساتھ ساتھ اُن کوفری ہاسٹل کی سہولت اور سکالرشپ بھی مہیا کی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ دنوں میں جو یونیورسٹی میں’’ بی ایس ‘‘ کے جو داخلے شروع ہونے والے ہیں ان کیلئے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی پچھلے کی طرح طلبہ کی خدمت کیلئے داخلہ رہنمائی کیمپ لگائے گی کیونکہ طلبہ کی بے لوث خدمت کرنا باچاخان باباؒ کا فلسفہ اور نظریہ ہیں ۔
انہوں نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے پختون سٹوڈنٹس کے تما کارکنوں کو ہدایت دی کہ تما کارکن کیمپ میں آئیں تاکہ سارے طلبہ کی بہتر سے بہتر رہنمائی کی جائیں ۔

مورخہ : 10.8.2014 بروز اتوار 

 
پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و سابق وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے اکبرپورہ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں آپس کی چپقلش سے نکل کر وزیرستان کی کاروائی پر توجہ دیں اور وزیرستان سے آئے ہوئے آئی ڈی پیز کی خدمت پر توجہ دیں نہ کہ اقتدار کی کرسی پر نظریں جمائے رکھیں۔ 
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہم نے کئی بار آمریت کے خلاف جلسے جلوس اور لانگ مارچ دیکھیں ہیں مگر اس دفعہ کھل کر پہلی دفعہ کوئی بنیادی وجہ نہ ہونے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت میں ہوتے ہوئے بھی جمہوریت کو خطرات سے دوچار کرنے کی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گر پی ٹی آئی حکومت کو ختم کرنے میں کسی بھی طور کامیاب ہوتی تو عمران خان صاحب کو خود تمام عمر پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ اب تو عمران خان سب حکومت کے خاتمے کے اور درمیانی مدت کے الیکشن کا اعلان بھی کر چکے ہیں ۔ جیسے عمل کرنے سے پہلے نتائج کا علم ہے کہ کب اور کیسے یہ سب کچھ ہوگا ۔ 
انہوں نے کہا کہ نواز شریف صاحب کو بھی بردباری اور نہایت صبر وتحمل سے قدم اُٹھانا چاہیے اور خصوصی طور پر پنجاب کے حکومت کو ہدایات دیں کہ کم از کم زبان کو احتیاط سے استعمال کریں اور کسی بھی قسم کا اشتعال نہ لائیں کیونکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حالات کو کنڑول میں رکھے ۔ 
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبے جلد از جلد تسلیم کئے جائیں تاکہ جمہوریت کو لاحق خطرات ٹل جائیں کیونکہ ہمارے پڑوس ہندوستان تو دُنیا کی بڑی جمہوریت کو شروع دن سے پروان چڑھا رہا ہے جبکہ اب تو افغانستان بھی نئی نویلی جمہوریت سنبھالے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے سیاستدان جمہوریت کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ لہٰذا پاکستان میں جو مشکل سے جمہوریت کی گاڑی چل رہی ہے سیاستدانوں کا کھڑا امتحان ہے کہ اس نازک دور سے کیسے نمٹ سکتے ہیں اور جمہوریت کو کیسے بچاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اے این پی نہ تو نواز شریف نہ عمران خان کے حق میں ہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ ہیں ، اپنا جمہوری کردار ادا کرتے رہیں گے اور انشاء اللہ آئندہ الیکشن میں عوام اے این پی کا بھرپور ساتھ دیں گے کیونکہ پہلے کی نسبت عوام میں جوش جذبہ زیادہ پایا جاتا ہے ۔ جلسے سے جمعہ خان ، علی خان اور سید ایوب شاہ نے بھی خطاب کیا ۔ 


مورخہ : 9-8-2014 بروز ہفتہ


پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی صوبہ پنجاب کا الیکشن پارٹی کے مرکزی عبوری صدر و چیف الیکشن کمشنر سینیٹر حاجی محمد عدیل کی نگرانی میں منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں پختونخوا سے مرکزی ممبران الیکشن کمیشن سینیٹر باز محمد خان ، بشریٰ گوہر ، جمیلہ گیلانی پنجاب سے شفیق وڑائچ ، رانا مبارک علی ، امن مشتاق پاشا ، بلوچستان سے نظام الدین کاکڑ جبکہ سرائیکی سے شیخ یامین ، ڈاکٹر عبدالرحمان ، ندیم قریشی اورچیئرمین پنجاب صوبائی الیکشن کمیشن ریاض اے شیخ کے علاوہ صوبہ پنجاب سے 330 کونسلران نے شرکت کی۔ جبکہ سیکیورٹی کے فرائض رسول خان سالار نے انجام دئیے۔
اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کی کابینہ کا انتخاب اتفاق رائے سے آئندہ چار سال کیلئے عمل میں لایا گیا جس کے مطابق منظور احمد صدر ، جہانگیر خان جنرل سیکرٹری ، عبدالفقیر خان سینئر نائب صدر ، سید عطاء اللہ شاہ ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ، لالہ انورزیب یوسفزئی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ، شہزاد خان اورکزئی نائب صدر او ل ، ڈاکٹر محمد شفیق نائب صدر دوم ، بشریٰ ارشد نائب صدر زنانہ ، رانا محمد یاسین جائنٹ سیکرٹری اول ، چوہدری ذوالفقارجائنٹ سیکرٹری دوم ، شگفتہ نسرین جائنٹ سیکرٹری زنانہ ، امن مشتاق پاشا سیکرٹری اطلاعات ، سردار قیوم سیکرٹری مالیات اور ایاز خان سیکرٹری ثقافت چن لیے گئے۔


مورخہ:9-8-2014 بروز ہفتہ 


پشاور ( پ ر ) جمہوریت کے خلاف ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ بات اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات سردارحسین بابک نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی طرف سے 14 اگست کو آزادی مارچ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں بلکہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے خلاف سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ ملکی سیاسی جماعتون کا عمران خان کے غیر سنجیدہ رویے کے خلاف ایکا کرنا قابل تحسین اور بالغ النظر سیاست کا مظہر ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے خلاف سازش ناکام بنانے کیلئے ایک ہونا وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صوبے میں ناکام ہوکر اسلام آباد میں انتشار پھیلارہے ہیں جو کہ کسی بھی صورت مہذب معاشرے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بے شمار مسائل سے دوچار ہے ، ملک اور صوبے کے حکمرانوں کو مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام عمران خان کی احتجاجی اور انتشار کی سیاست کو بُری طرح مسترد کر دیں گے ۔ 
اس موقع پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی اور صوبائی عہدیداران اور اے این پی کے سینئر رہنما تاج الدین خان بھی موجود تھے ۔ 



مورخہ:9-8-2014 بروز ہفتہ 


پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی اور صوبائی کابینے کا مشترکہ اجلاس زیر صدارت یوتھ کے مرکزی صدر خوشحال خان خٹک منعقد ہوا ۔ اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے اپنے کابینہ سمیت شرکت کی۔
اجلاس میں ایجنڈا پر بات کرتے ہوئے مرکزی صدر کو آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں این وائی او کی کارکردگی کے حوالے سے محسن داوڑ اور صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے رپورٹ پیش کی ۔ اجلاس میں یوتھ کے آئینی اصلاحات کمیٹی ، این وائی او کے کنونشن اور ملکی صورتحال پر تفصیلی بحث کی گئی ۔ اجلاس میں یوتھ کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے کابینہ کو سوات میں خلیل اللہ شہید کے کامیاب چہلم ، سوات میں یوتھ کیلئے نئے صدر کے انتخاب کیلئے مشاورت اور صوبائی کابینہ کی کارکردگی ، صوبائی ورکنگ کمیٹی یوتھ کے قیام پر مشاورت کی گئی ۔ 
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر خوشحال خٹک نے کہا کہ آج ملکی حالت نوجوانوں سے اس بات کے متقاضی ہے کہ ہم جمہوریت اور جمہوری قوتوں کا ساتھ دیں او رکسی بھی قسم کے غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکے ۔ عمران خان نے تبدیلی کے جھوٹے نغروں سے پختونوں کو دُکھ دیا ، لیکن ابھی شارٹ کٹ استعمال کرکے پورے پاکستان کو دُکھ دینے کے چکر میں ہیں ۔ اے این پی اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن اپنے تاریخی کردار کی طرح جمہوری قوتوں کا ساتھ دیں گے ۔ 
اجلاس میں سارے شرکاء اور اضلاع کو پختون میگزین کے سالانہ سبسکرپشن کرانے اور تعداد میں اضافے کا ٹاسک دیا گیا ۔ 
اجلاس میں صوبہ سندھ سے صوبائی صدر نورالاسلام صافی ، مرکزی جنرل سیکرٹری فخرالدین خان ، سلیمان مندنڑ ، نعمان شمس ، محسن داوڑ ، فوزیہ ایڈووکیٹ ، ملک ناصر شاہ ، صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری ، سینئر نائب صدر گلزار خان ، پلوشہ بشیر مٹہ ، ثناء اعجاز ، عقیل الرحمان ، وقار ، اعجاز باچا ،فیض الابرار ، عصمت ترین ، عثمان سکندری ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات بہرام خان ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔ 



مورخہ : 9.8.2014 بروز ہفتہ

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے سابق ایم پی اے اور اقلیتی اُمور کے سیکرٹری آصف بھٹی نے پشاور میں سکھ برادری کے تاجر کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور غمزدہ خاندان سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی کوہاٹی چرچ میں اقلیتی برادری پر خودکش دھماکہ کیا گیا تھا جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اقلیتی برادری کو تحفظ دینے میں ناکام اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکی ہے ۔ تمام اقلیتی برادری کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سکھ برادری کے ساتھ ساتھ تمام اقلیتی برادری میں انتہائی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی لہٰذا حکومت قاتلوں کی گرفتارکر کے اُن کو کیفرکردار تک پہنچائے تاکہ آئندہ ایساکوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔



مورخہ : 9-8-2014 بروز ہفتہ


پشاور ( پ ر ) آج اسلام آباد میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں حاجی غلام احمد بلور اور افراسیاب خٹک پر مشتمل وفد نے اے این پی کی نمائندگی کی کیونکہ پارٹی کے مرکزی عبوری صدر حاجی محمد عدیل لاہور میں اے این پی پنجاب کے صوبائی انتخابات کے حوالے سے مصروف تھے۔
اے پی سی میں اے این پی کی نمائندگی کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ اے این پی نے دہشتگردی کے خلاف سینکڑوں ساتھیوں کی قربانیاں دیں تاکہ فاٹا ، پختونخوا اور پاکستان میں امن قائم ہو سکے۔ بد قسمتی سے فاٹا ایک خون آلود زخم بن کر رہ گیا ہے کیونکہ یہ علاقہ کافی لمبے عرصے تک دہشتگردوں کے قبضے میں رہا۔ فاٹا کے لاکھوں پختون اپنے گھر کھو کر بے گھر ہو گئے ہیں ان کے گھر ، کاروبار اور املاک سب تباہ ہو گئے ہیں اس لیے اب وقت آ چکا ہے کہ فاٹا کے عوام کو بنیادی سیاسی حقوق دئیے جائیں اور ان کی بحالی کیلئے جامع اقدامات کیے جائیں۔ فاٹا کی آئینی حیثیت کا تعین کیا جائے فاٹا کے عوام کو قانون سازی کا اختیار اور عدالتی نظام دیا جائے۔ 
افراسیاب خٹک نے شمالی وزیرستان کے بے گھر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال کے سلسلے میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان عدم تعاون پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے بے گھر افراد کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اے این نے مشورہ دیا کہ افغانستان اور پاکستان کو کھلے دل سے بات چیت کرکے دونوں جانب پائی جانے والی تشویشوں کو دُور کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ان کے درمیان اعتماد بحال ہو۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون کے بغیر دہشتگردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں جیو سٹریجک کی بجائے جیو اکنامک کو اہمیت دی جائے اور وسطی ایشیاء کے ساتھ اقتصادی تعلق قائم کرنے چاہئیں۔
افراسیاب خٹک نے اے پی سی کی توجہ خطے کے بدلتے حالات کی طرف دلائی اور کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج 2014 میں نکل رہی ہیں ۔ دہشتگردی کے بارے میں چین کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے حال ہی میں چین نے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے کیونکہ ان کو افغانستان کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے کیونکہ ان کو افغانستان میں امن اور استحکام سے گہری دلچسپی ہے جبکہ ایران مغرب سے اپنے تعلقات معمول پر لانے کے ذریعے اپنی سیاسی تنہائی ختم کر رہا ہے۔ ہندوستان میں نئی حکومت مغرب سے اپنے تعلقات بڑھائے گی کیونکہ نریندرہ مودی مغربی سرمائے کیلئے اپنے ملک کے دروازے کھول رہے ہیں ان سب چیزوں کے اپنے اپنے اثرات ہونگے اس لیے پاکستان کو خطے کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ 
عوامی نیشنل پارٹی تاریخی طور پر جمہوری اور آئینی نظام کی حمایت کرتی ہے اور آئندہ بھی کرے گی اور ساتھ ہی یہ اُمید بھی رکھتی ہے کہ حکومت اپنے مخالفین کے ساتھ پائے جانے والے مسائل کو پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرے گی۔ افراسیاب خٹک نے گلگت بلتستسان کے عوام کو بنیادی حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں 2009 میں ہونے والی اصلاحات اب کافی نہیں ہیں ان پر نظر ثانی کرنے کا وقت آگیا ہے۔


مورخہ 9 . 8 . 2014 بروز ہفتہ

پشاور( پ ر )سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ ملک کو غیریقینی صورتحال کا سامناہے، عمران خان صوبائی حکومت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تاہم انہیں عوامی مینڈیٹ کے مطابق اپنے وعدے پورے کرنا چاہئے ، باچاخان اورخان عبدالولی خان نے پختون قوم کی ترقی کے لئے جس تحریک کاآغاز کیاتھا اے این پی اسی تحریک کے تسلسل کا نام ہے ،رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے اپنی زندگی میں اسفندیارولی خان خان کو اپنا سیاسی وارث منتخب کیااوران کی قیادت میں پختون قوم متحد ہے وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں اے این پی (ولی ) کے ضلعی نائب صدر قمرزمان ایڈوکیٹ ،پی کے 26کے صدر اختر زمان ،سینئر نائب صدر شاہد حیات باباخیل ،جائنٹ سیکرٹری محمد اسماعیل ،مسلم لیگ (ن ) کے ظاہر گل ،عباس خان وغیرہ اورپی ٹی آئی کے رہنما امتیاز کا ساتھیوں سمیت اپنی پارٹی سے مستعفی ہونے اور اے این پی میں شمولیت اختیا رکرنے کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایاراور جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باددیتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت سے عوام کی وابستہ امیدیں دم توڑ گئی ہیں اور نئے پاکستان کے دعویدار وں کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں سے اکتاگئے ہیں انہوں نے کہاکہ پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے نکلنے کے لئے سرخ جھنڈے تلے متحد ہونا ہوگا انہوں نے کہاکہ وہ کسی پر تنقید کرنانہیں چاہتے تاہم یہ وقت ثابت کرے گا کہ پختون قوم کے اصل نجات دہندہ کون ہیں انہوں نے کہاکہ رہبرتحریک خان عبدالولی خان نے اپنی زندگی میں اسفندولی خان کو اپنا سیاسی جانشین منتخب کیاہے اورپارٹی ان کی قیادت میں مضبوط ہے انہوں نے کہاکہ اے این پی وزارتوں اور اقتدار کی بھوکی نہیں اپنی ماں دھرتی اور پختون قوم کی خدمت کے لئے ہم کرسی کے محتاج نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے آباؤ اجداد نے جس مقصد کے لئے اپنی زندگی اور جوانیاں قربان کیں اس مقصد کی حصول کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے اوروہ منزل ابھی ہم نے حاصل نہیں کیاہے انہوں نے کہاکہ اے این پی نے اپنے دورمیں صوبے کو نام کی شناخت دی ،این ایف سی ایوارڈ اوربڑے بڑے تعلیمی ادارے قائم کرکے انہیں اپنے مشران کے نام سے موسوم کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون قوم اس وقت گوناگو نامسائل سے دوچارہیں اورانہیں مصائب اورمشکلات سے نکالنے کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہوناہوگا انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایک اینٹ تک نہیں رکھی بلکہ ان کے دور حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر اپنی تختیاں لگارہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دورحکومت میں اس قدر بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے ہیں کہ آنے والے چار سالوں تک یہ منصوبے جاری رہیں گے اور ویسے بھی صوبائی حکومت عوام کے ساتھ وعدے پورے نہیں کرسکتی تو ان کے دورحکومت کے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگائیں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی میں عوام کی دھڑادھڑ شمولیت اس بات کی مظہر ہے اورلوگوں کو ہماری پالیسیوں پر اعتماد ہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہر بار یہ دوسروں کی باتوں میں آکر انہیں موقع دیتے ہیں حالانکہ سندھ ،پنجاب اور بلوچستان میں وہاں کی قومیتوں نے اپنی اپنی پارٹیوں پر اعتماد کیاخیبرپختون خوا میں قومی اتفاق رائے اور قوم پرستی کا جذبہ پیدا کئے بغیر مسائل سے نجات ممکن نہیں انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ پارٹی منشور کو عوام تک پہنچانے اورناراض کارکنوں کو راضی کرنے کے لئے گلی گلی اورقریہ قریہ پھیل جائیں انہوں نے کہاکہ صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اوراس مقصد کے لئے انہیں اپنے مشران کی دعاؤں اورکارکنوں کی بھرپور سپورٹ کی ضرورت ہے ۔

مورخہ : 8-8-2014 بروز جمعہ


پشاور ( پ ر) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن یونیورسٹی کیمپس کے صدر سنگین خان اور جنرل سیکرٹری توحید خان داؤد زئی نے کیمپس کی تمام یونیورسٹیوں میں جلد از جلد فارم کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تمام کیمپس کو ہدایت دی جاتی ہے کہ معمول کے مطابق جیسا کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن ہر سیشن میں آنے والے نئے طلباء کیلئے داخلہ رہنمائی کیمپ قائم کرتے ہیں اور طلبہ کی رہنمائی کیلئے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکن کیمپوں میں بیٹھ کر طلباء کے ہر قسم کی رہنمائی اور خدمت کرتے ہیں۔ اس لییے کیمپس کی تمام یونیورسٹیوں کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کو ہدایت دی جاتی ہے کہ نئے آنے والے طلباء کیلئے داخلہ رہنمائی کیمپ لگانے کی بھر پور تیار کریں۔ جس میں طلبہ کی خدمت کی جائے اور باچا خان بابا کا ایک ارمان تھا کہ پختون کا بچہ بچہ تعلیم حاصل کرے۔
اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین وزیرستان کیلئے کوٹہ سیٹ پالیسی جلد از جلد واضح کریں اور اُن کی ہر قسم کی خدمت کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن متاثرین وزیرستان کے طلبہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اس کی ہر قسم ممکن خدمت اور مدد کیلئے تیار ہیں۔


مورخہ : 8.8.2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر) تعلیم کے فروغ کیلئے گزشتہ دور حکومت میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ یہ بات عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے ملگری اُستاذان کی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں اساتذہ کے بنیادی مسائل حل کیے ، سکولوں کو بنیادی سہولیات پہنچانے ، یونیورسٹیاں ، کالجز ، میڈکل کالجز بناکر صوبے کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں تاریخی اصلاحات کیے ۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے صوبے کے اساتذہ ، ماہر تعلیم اور اساتذہ تنظیموں کی مشاورت سے کافی بہتری آئی تھی۔ اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے نصاب کی تیاری کا اختیار صوبوں کو ملنا تاریخی اقدام ہے۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے حکومت سے باہررہ کر بھی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ملگری اُستاذان اپنی تمام تر توجہ صوبے میں تعلیم کے فروغ اور معیار تعلیم کو بہتر بنانے پر صرف کریں۔ اس موقع پر ملگری اُستاذان کی صوبائی کابینہ کے تمام ارکان موجود تھے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ صوبے میں ملگری اُستاذان کے فارم سازی عمل کو مزید تیز بنایا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اُستاذان اپنے تجربات کی روشنی میں صوبے میں علم و شعور کی شمع روشن کرنے کیلئے فخر افغان باچا خان بابا کے افکار کو آگے بڑھانے اور جہالت کی تاریکیاں دور کرنے کیلئے دن رات ایک کر دیں۔

مورخہ : 7.8.2014 بروز جمعرات

پشاور (پ ر ) نوشہرہ ڈاگ اسماعیل خیل میں راشد شہید کی یاد میں فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ سپین خاک اور اُرمڑ کے درمیان کھیلا گیا۔ دونوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اورنہایت دلچسپ کھیل کھیلتے ہوئے اُرمڑ نے سپین خاک کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی۔ جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور راشد شہید فاؤنڈیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین مہمان خصوصی تھے۔ میچ کے اختتام پر اُنہوں نے جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے اور ہارنے والی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی۔ اُنہوں نے ٹورنامنٹ کے آرگنائزر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے راشد شہید کے نام سے فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا۔ 
اے این پی کے رہنما نے کہا کہ ہم نواز شریف کے حامی نہیں جمہوریت کے حامی ہیں اور ایسی جمہوریت کے نتیجے میں نواز شریف کو مینڈیٹ ملا ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں اور کسی طرح اس کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے اور اسی طرح خیبر پختونخوا میں تحفظات کے باوجود پی ٹی آئی کوجو مینڈیٹ ملا ہے ہم اس کا بھی احترام کرتے ہیں۔اور اس مینڈیٹ کی بنیاد پر وہ لوگوں کے مسائل پر توجہ دیں اور اُن کے مسائل حل کریں۔
اُنہوں نے کہا کہ عمران خان بے صبری کا مظاہرہ چھوڑ دے اور موجودہ صورتحال لانگ مارچ اور شارٹ مارچ کے متحمل نہیں۔ عمران خان کو چاہیے کہ جمہوریت کا احترام کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے حکومت گرانا کسی بھی صورت درست نہیں اگر جمہوریت نہ رہی تو ملک کے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جائیں گے اور مزید افراتفری بڑھے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان کو وزیر اعظم بننے کا شوق ہے تو کم از کم تین سال انتظار کرے اور جمہوری طریقے سے تین سال الیکشن کا انتظار کرے اور اگر قوم نے چاہا تو وزیر اعظم بن جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن سے پہلے عوام سے جو انقلابی وعدے کیے تھے وہ سب کے سب دھرے کے دھرے رہے گئے۔ وفاقی حکومت نے لانگ مارچ اور مظاہرے روکنے کیلئے اپنے دفاع میں آئین کے آرٹیکل 245 استعمال کر کے غلط اقدام اُٹھایا۔ جس کی ہم بھر پور مخالفت کرینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی درحقیقت جمہوریت کیلئے وبال جان بن چکی ہے ملک میں اور خصوصاً وزیرستان میں آپریشن جاری ہے اور لاکھوں کی تعداد میں وزیرستان کے متاثرین بے سرو سامانی کے عالم میں ہیں۔ ایسے وقت میں دھرنے ، مظاہرے اور احتجاج مناسب نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں احتجاج سب کا حق ہے۔ لیکن انتشار کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی سب سے پہلے ملک کی جو موجودہ صورتحال ہے اُس تناظر میں ہم سب کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ اور اگر خدا نخواستہ جمہوریت نہ ہو تو ملک میں انارکی پھیلے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جو جائز تحفظات اور مطالبات ہیں وہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کریں۔اُنہوں نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کی بھرپور مخالفت کی جائیگی اور جمہوریت کے خلاف سازش رچانے والوں کو چاہیے کہ وہ صوبے میں بدامنی ، بیروزگاری ، بھتہ خوری کو ختم کر کے صوبے میں امن قائم کرنے کی کوشش کرے۔


مورخہ : 7.8.2014 بروز جمعرات


پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور میں سکھ برادری کے تاجر کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور غمزدہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
اُنہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت اقلیتی برادری کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے اور اقلیتی برادری کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری ہمارے صوبے میں ہمارے ساتھ بہن بھائیوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ لہٰذا اے این پی سکھ برادری کے اس غم میں برابرکی شریک ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ سکھ برادری میں انتہائی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی لہٰذا حکومت قاتلوں کی گرفتاری کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھائیں۔


مورخہ : 7.8.2014 بروز جمعرات


باچا خان ائیر پورٹ کا نام تبدیل نہیں ہونے دینگے ’’ سردار حسین بابک 

پشاور (پ ر ) خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی قائد اور ترجمان سردار حسین بابک نے باچا خان انٹر نیشنل ائیرپورٹ کے نام کی تبدیلی سے متعلق خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کی بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ باچا خان مرکز سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے مشاہیر کو نہیں بھولتیں اور ایک جمہوریت پسند سیاسی جماعت ہونے کے ناطے عوامی نیشنل پارٹی دیگر تمام پارٹیوں کے مشاہیر کا احترام کرتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ باچا خان کی ذات خطے میں احترام کی علامت ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما و قائدین بھی ان کی جدوجہد کا اعتراف کرتے ہیں اور تمام پختون باچا خان سے بھرپور عقیدت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور اقتدار میں مفتی محمود فلائی اوور کا نام تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ اسی نام سے اس منصوبے کو جاری رکھا گیا کیونکہ اے این پی رواداری کی سیاست پر یقین رکھتی ہے مگر اب یہ خبریں اخباروں کی زینت بن رہی ہیں کہ باچا خان ائیرپورٹ کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے جس سے پختون قوم میں اشتعال پھیل گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان چوک اور اسی طرح دیگر مشاہیر کے ناموں سے موسوم منصوبوں کے نام تبدیل کرنے کی کوشش ریکارڈ کا حصہ ہے مگر جب تک ایک بھی پختون زندہ ہے اس قسم کے غیر مقبول اور احمقانہ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

مورخہ : 7-8-2014 بروز جمعرات

پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی ترجمان بہرام خان ایڈووکیٹ کے مطابق این وائی او سوات میں یوتھ کے شہید صدر خلیل اللہ کے حجرہ برہ بانڈئی میں اُن کے چہلم کی مناسبت سے ایک پر وقار تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں صوبائی کابینہ کے علاوہ صوبہ بھر سے یوتھ کے ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز کے علاوہ سوات کے سینکڑوں نوجوانوں اور ضلع سوات کی پارٹی تنظیم نے بھی شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت این وائی او کے قائمقام صدر شوکت خان نے کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ ایم پی اے اور صوبائی نائب صدر ایوب خان اشاڑی نے کہا کہ شہید خلیل اللہ نہ صرف سوات اور یوتھ کے شہید ہیں بلکہ وہ پختون قوم کا شہید ہے۔ اُنہوں نے جس بہادری ، شجاعت سے دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا جب تک اس دُنیا میں ایک پختون بھی زندہ ہو گا اور پختونوں کی تاریخ لکھی جائیگی تو خلیل اللہ شہید کی تاریخ سنہرے الفاظ میں لکھی جائیگی۔
اے این پی ضلع سوات کے صدر شیر شاہ خان نے اپنے خطاب میں شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہید خلیل اللہ اور اُن کے خاندان سمیت سوات کے اُن ہزاروں شہداء کو سلام پیش کیا اور کہا کہ اے این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور ساری قوم اور خصوصاً سوات کے لوگ اے این پی کی قربانیوں کا متعرف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج تبدیلی کے دعویدار ایک بجلی ٹرانسفارمر کی تبدیلی کیلئے ایکسئین کی منت سماجت کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت خود اپنے ایم پی ایز اور حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے سعودی عرب ، انگلینڈ اور پختونخوا کی پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ ان سب نے شہید کے خاندان کے ساتھ مالی امداد اور انہیں عزت بخشی۔ 
نیشنل یوتھ آرگنائزیشن پختونخوا کے صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہید خلیل اللہ کو قومی ہیرو قرار دیا اور اُن کے خاندان کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل یوتھ کا ہر نوجوان شہید خلیل اللہ کی طرح ہر قسم کی قربانی کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھے۔ اُنہوں نے شرکاء سے سوال کیا آخر خلیل اللہ شہید کا قصور کیا تھا ؟ اُن کا قصور صرف اتنا تھا کہ اُس نے امن کی بات کی۔ 

مورخہ : 6.8.2014 بروز بدھ


خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک اے این پی دور حکومت کا کارنامہ ہے، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی عوامی نیشنل پارٹی دور کے منصوبوں پر اپنی سیاست نہ چمکائے کرک میں خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اے این پی حکومت کا کارنامہ ہے۔ جھوٹے دعوؤں سے عوام کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ باچا خان مرکز سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اے این پی کے ترجمان نے کہا کہ اس منصوبے کیلئے اے این پی حکومت نے 1231 ملین روپے منظور کیے تھے اور ریلیز بھی کیے تھے۔ یونیورسٹی میں پچھلے دو سال سے کلاسز بھی جاری ہیں مگر اب نہ جانے پی ٹی آئی حکومت کو کیا سوجھی کہ اُنہوں نے اے این پی دور کے اس منصوبے پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی ۔ 
سردار حسین بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کوئی ویژن نہیں جس کے باعث ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ لیپس ہو گیا۔ خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اور اس جیسے دیگر منصوبوں کو اپنے نام کی تختیاں لگا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت عوام کو دھوکہ دینے اور ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی مرتکب ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سابق دور کے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر دھوکہ و فریب کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اور اس کو صوبائی حکومت نے اپنا شعار بنا رکھا ہے لیکن عوام باشعور ہے اُنہیں اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ورغلایا نہیں جا سکتا ۔ وقت آنے پر پی ٹی آئی کو اس صوبے کے عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا حساب دینا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت اپنے وعدے پورے کرنے کے بجائے عوام کو گھیراؤ جلاؤ کی سیاست پر اُکسا رہی ہے جبکہ خیبر پختونخوا مسائل سے دوچار ہے مگر بنی گالہ سے حکومت چلانے والے چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام پی ٹی آئی حکومت کے احمقانہ فیصلوں سے تنگ آ چکے ہیں اور مختصر وقت میں ہی تبدیلی کا نعرہ اپنی موت آپ مرچکا ہے۔

مورخہ : 6.8.2014 بروز بدھ


عوامی نیشنل پارٹی کا ایک وفد وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی طرف سے خصوصی دعوت پر کل بروز جمعرات اسلام آباد میں اُن سے ملاقات کرے گا۔ وفد میں مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل،قومی اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر حاجی غلام احمد بلور اور صوبائی صدر اور ایم این اے امیرحیدر خان ہوتی شامل ہیں۔ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں کئی اہم مسائل زیر بحث لائے جائیں گے۔

مورخہ:5-8-2014 بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و سابقہ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے پبی نوشہرہ میں ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران بے صبری کا مظاہرہ چھوڑ دے اور موجودہ صورتحال لانگ مارچ اور شارٹ مارچ کے متحمل نہیں ، عمران کو چاہیے کہ جمہوریت کا احترام کرے۔ 
انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری اورغیر آئینی طریقے سے حکومت گرانا کسی بھی صورت درست نہیں اگر جمہوریت نہ رہی تو ملک کے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوجائیں گے اور مزید افراتفری بڑھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو وزیراعظم بننے کا شوق ہے تو کم از کم تین سال انتظارکرے اور جمہوری طریقے سے تین سال الیکشن کا انتظار کرے او ر اگر قو م نے چاہا تو وزیراعظم بن جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے الیکشن سے پہلے عوام سے جو انقلابی وعدے کئے گئے تھے وہ سب دھرے کے دھر ے رہ گئے۔ وفاقی حکومت نے لانگ مارچ اور مظاہرے روکنے کیلئے اپنے دفاع میں آئین کے آرٹیکل 245 استعمال کرکے غلط اقدام اُٹھایا، جس کی ہم بھرپور مخالفت کریں گے ۔ 
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی درحقیقت جمہوریت کیلئے وبال جان بن چکی ہے، ملک میں اور خصوصاًوزیرستان میں آپریشن جاری ہے اور لاکھوں کی تعداد میں وزیرستان کے متاثرین بے سرو سامانی کے عالم میں ہیں ، ایسے وقت میں دھرنے ، مظاہرے اور احتجاج مناسب نہیں ۔انہوں نے کہا کہ احتجاج جمہوری حق ہے لیکن انتشار کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی، سب سے پہلے ملک کی جو موجودہ صورتحال ہے اُس تناظر میں ہم سب کو اتحاد کی ضرورت ہے اور اگر خدانخواستہ جمہوریت نہ ہو تو ملک میں انارکی پھیلے گی ۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ اپوزیشن کے جو جائز تحفظات اور مطالبات ہیں وہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرے ۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کی بھرپور مخالفت کی جائے گی اور جمہوریت کے خلاف سازش کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ صوبے میں بدعملی ، بے روزگاری ، بھتہ خوری کو ختم کرکے صوبے میں امن قائم کرنے کی کوشش کرے۔


مورخہ : 5.8.2014 بروز منگل

پاکستان کی دو بڑی پارٹیاں جوش کے بجائے ہوش سے کام لیں ’’ سردار حسین بابک ‘‘

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان ذمہ داری سے کام لیں۔ دونوں کے ٹکراؤ سے جمہوریت کو نقصان کا اندیشہ ہے منتخب اور جمہوری اداروں کی موجودگی میں سڑکوں پر فیصلے غیر دانشمندی ہے دونوں پارٹیاں اقتدار میں ہیں۔ غیر ذمہ داری اور ایک دوسرے کے خلاف تندو تیز جملوں کے استعمال کے بجائے اپنے منشوروں پر عمل کرانے کیلئے کام کریں۔ ملک اور خصوصاً ہمارا صوبہ بے شمار مسائل میں گرا ہوا ہے۔ عوام کے مسائل جلسوں اور دھرنوں سے حل نہیں ہونگے۔ جو لوگ نوے دنوں میں صوبے میں بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے صاف و شفاف بلدیاتی انتخابات کرانے کے وعدے میں ناکام ہو چکے ہیں وہ ملک میں انتشار پھیلانے کی تیاری کر رہے ہیں جو کہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ 
اُنہوں نے کہا کہ ملک افراتفری اور انتشار کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ الیکشن سے پہلے عوامی مسائل حل کرنے کے وعدے کرنے والے آج عوام کے مسائل سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ عمران خان کے ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ طرز سیاست سے ملک مزید مسائل سے دوچار ہو سکتا ہے۔ صوبائی اور مرکزی حکومت کے حکمرانوں کے درمیان ٹکراؤ نے صوبہ خیبر پختونخوا کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ لاکھوں آئی ڈی پیز دونوں جماعتوں کے ڈراموں اور تماشوں پر گزارہ نہیں ہو سکتا۔ دونوں جماعتیں بالغ النظری اور وسیع النظری کا مظاہر کریں اور عوام کے مسائل پر توجہ دیں۔

مورخہ:5-8-2014 بروز منگل


پشاور ( پ ر ) اے این پی کے پارلیمانی لیڈر ، ترجمان و ایڈوائیزر ملگری استاذان سردارحسین بابک نے ملگری استاذان کے صوبائی کابینہ کا اجلاس بروز جمعہ 8-8-2014 کو باچاخان مرکز میں صبح 10 بجے طلب کیا ہے ۔اجلاس میں صوبے میں ملگری استاذان کے تنظیمی اُمور ، صوبے میں تعلیمی صورتحال اور اساتذہ کو درپیش مسائل پر تفصیلی بحث کی جائے گی ۔

مورخہ : 5-8-2014 بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسل کا اجلاس مورخہ 17 اگست 2014 بروز اتوار بوقت 11.00 بجے بمقام ولی باغ چارسدہ میں اے این پی کے مرکزی چیف الیکشن کمشنر اور عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔ اجلاس میں پختونخوا ، سندھ ، پنجاب ، بلوچستان اور سرائیکی یونٹ کے تمام مرکزی کونسلرز شرکت کرینگے۔ اجلاس میں آئندہ چار سال کیلئے اے این پی کی مرکزی کابینہ کا انتخاب عمل میں لایا جائیگا۔ تمام مرکزی کونسلران سے گزارش ہے کہ وہ بروقت اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔

مورخہ : 4.8.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ پی ٹی آئی کے اتحادیوں کی اسمبلیوں سے استعفوں سے انکار جمہوریت کے استحکام اورسیاسی پختگی کی علامت ہے تاہم عمران خان کی اناپرستی کے باعث حکومت کے اتحاد یوں میں پھوٹ سے صوبے کے عوام کو نقصان ہوگا کپتان صاحب اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کو چھپانے اور وزیراعظم بننے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے لانگ اورشارٹ مارچ پر تلے ہوئے ہیں ، وقت اور حالات کا تقاضاہے کہ پختون باچاخان کے سرخ جھنڈے تلے متحد اور متفق ہوجائیں وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں یونین کونسل مسلم آباد کے کارکنوں اورعہدیداروں سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے رہنمامحمدجاوید یوسفزئی اوردیگر نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے پی ٹی آئی کے اتحادیوں جماعت اسلامی اور جمہوری اتحاد کی طرف سے اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کے اعلان کو سراہتے ہوئے اسے سیاسی پختگی قراردیاہے اورکہاکہ عمران خان پہلے ہی روز سے معاملات میں اپنے اتحادیوں کو بائی پاس کررہے ہیں ۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ اے این پی ملک میں سیاسی استحکام کے لئے کوشاں ہے اورجمہوریت ڈیل ریل کرنے والی قوتوں کی بھرپور مخالفت کی جائے گی انہوں نے کہاکہ عمران خان کے عزائم نئے پاکستان کے نہیں بلکہ وہ اپنی حکومت کی ناکامی چھپانے اور وزیراعظم بننے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے لانگ اورشارٹ مارچ پر تلے ہوئے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اس وقت ملک شدید خطرات میں گراہواہے مرکزی اورصوبائی حکومت ہوش کے ناخن لیں اور جمہوریت کے استحکام اور غریب عوام کی حالت زار بدلنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔اے این پی کے صوبائی صدر نے پارٹی کے لئے یونین کونسل مسلم آباد کے عہدیداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس وقت پختون قو م تقسیم درتقسیم کی شکارہے جس کا انہیں بھاری نقصان اٹھاناپڑرہاہے انہوں نے کہاکہ قومی وحدت پیدا کرنے کے لئے ہمیں نئے سرے سے سوچنا ہوگا تاکہ حقیقی ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے خیبرپختون خوا کے عوام مستفید ہوسکے سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ تبدیلی اور انصاف کے بلند وبانگ دعوے کرنے والو ں کی حکومت میں غریب شہری مہنگائی ،بے روزگاری اورانصاف کے لئے ترس رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ان کے دورمیں مردان میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے جبکہ موجودہ حکمرانوں نے اپنے انتخاب سے اب تک ایک اینٹ بھی نہیں رکھی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون قوم کو حقیقی تبدیلی کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکھٹا ہونا ہوگا قومی وحدت اور اتفاق رائے وقت کی اہم ضرورت ہے اورہمیں قوم پرستی کے جذبے کو ابھارناہوگاامیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ آزادی خدائی خدمت گار تحریک کے بانی باچاخان اوران کے رفقاء کی جدوجہد کے نتیجے میں ملی۔ ان کاکہناتھاکہ انگریزوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر ان کو نہ صرف قید وبند کی مشکلا ت سے دوچار ہوناپڑا بلکہ ان پر کفر کے فتوے بھی لگائے گئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہمارے لئے ہمارے آباؤاجداد کے اصول مشعل راہ ہونی چاہئے جنہوں نے اس مٹی کی خدمت کے لئے اپنی تن من دھن کی بازی لگائی لیکن پختون قوم کے حقوق پر سودابازی نہیں کی ان کاکہناتھاکہ ہمارے آباؤاجدا د اس دھرتی کے لئے پختونوں کے نام اوراس خطے کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے اور اے این پی کی حکومت میں ان کے یہ ارمان پورے ہوگئے سرخ جھنڈے کی دورحکومت میں صوبے کو خیبرپختون خوا نام کی شناخت ملی اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے مرکزسے وسائل صوبے کو منتقل کردیئے ۔

مورخہ:2-8-2014 بروز ہفتہ 

پشاور ( پ ر ) اے این پی خیبرپختون خوا کے سابقہ ایم پی اے اور جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک نے کہاہے کہ اے این پی جمہوریت کو ڈی ریل ہونے کو تیار نہیں یہ وقت سیاسی سکورنگ کاقت نہیں ،انقلاب کے دعویدار ملک میں انارکی پھیلارہے ہیں ،وزیرستان آپریشن کو جلد منطقی انجام تک پہنچاکر وہاں سیاسی اور آئینی اصلاحات کئے جائیں ، ایک طرف وزیرستان آپریشن اور دوسری طرف غیر یقینی صورتحال کے باعث ملک میں اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے ، اسمبلی توڑنے کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ ملک میں اور خصوصاً پختونخوا میں حالات پہلے سے زیادہ خراب ہو گئے ہیں ۔90دنوں میں تبدیلی لانے والوں حکمرانوں نے طویل عرصے میں عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ 
انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی نے وطن کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ جانی اورمالی قربانیاں دی ہیں ۔شگفتہ ملک نے کہاکہ اپنے وطن میں مشکلات اورمصائب کاسامنا کرنے والے متاثرین پختون بہن، بھائیوں کی امداد سے غافل نہیں ہے اور پختونوں میں سیاسی بیداری میں اے این پی کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک ایک بڑے بحران کا سامنا کررہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسے میں عمران خان لانگ اورشارٹ مارچ کی بجائے جمہوریت کے استحکام کا ساتھ دینا چاہئے انہوں نے کہاکہ اے این پی کسی بھی صورت میں جمہوریت کو ڈی ریل ہونے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزیرستان آپریشن کو جلد منطقی انجام تک متاثرین کی بحالی اورعلاقے میں آئینی اورسیاسی اصلاحات کئے جائیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ موقع رسہ کشی کا نہیں مرکز اورصوبہ رسہ کشی چھوڑ دے ہمارے صوبے میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی شہیدہونے والے کارکنوں کے خاندانوں کی مالی امداد کے لئے ایک فنڈ قائم کررہی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی بہتر طریقے سے کفالت کی جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ مسائل اور سہولیات کی فقدان کے باعث متاثرین خودکشیوں پر مجبورہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کیمپوں میں سب سے زیادہ خواتین جو کہ ہماری بہنیں ، مائیں ، متاثر ہور ہی ہیں اور کمیپوں میں اُن کے مناسب انتظام نہیں ہے لہٰذاحکومت کو چاہیے کہ اُن کو فوری طور توجہ دیں ۔ تاکہ آئی ڈی پیز باعزت طور پر اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ 

مورخہ : 4.8.2014 بروز پیر


پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا۔ جس میں اسلامیہ کالج کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان ، نائب صدر (زنانہ) مریم ، سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری محمد جواد علی ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تحسین اقبال یوسفزئی ، جنرل سیکرٹری حضرت بلال مہمند اور یونیورسٹی کے سینئر رہنما ولید مہمند کے علاوہ کثیرتعداد میں طلبا نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمد اعجاز یوسفزئی نے کہا کہ ہم نے عید سے پہلے بھی یونیورسٹی انتظامیہ ، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز ، ڈائیریکٹر ایڈمیشن ، ڈائیریکٹر سٹوڈنٹس افئیر اور خزانچی (ٹرئیرر) سے مطالبہ کیا تھا کہ ایف اے ، ایف ایس سی کے ایڈمیشن میں متاثرین وزیرستان کیلئے خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے اور اُن کو سکالرشپ کے ساتھ ساتھ فری تعلیم مہیا کی جائے تاکہ وہ طلبہ جنہوں نے اپنی زمین کے امن کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑے ہیں اُن غریب لاچار اور بے بس طلبہ و طالبات کو تعلیم سے دور نہ کیا جائے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا تھا کہ جو سکالرشپ میرٹ کی بنیا دپر غریب طلبہ اور طالبات کو سمسٹر فیس معاف کی گئی ہے وہ بھی اُن کو جلد از جلد مہیا کی جائے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو طلبہ کے حقوق کیلئے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور باچا خان بابا کے فلسفہ عدم تشدد کی رو میں ساری یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی جو روڈوں سے لیکر صوبائی اسمبلی تک چلے گی۔ 

مورخہ : 4.8.2014 بروز پیر


پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے پارلیمانی قائد اور ترجمان سردار حسین بابک نے کہاہے کہ احتجاج جمہوری حق ہے لیکن انتشار کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔ پی ٹی آئی درحقیقت جمہوریت کیلئے درد سر بن چکی ہے اگر صوبائی اسمبلی کو توڑنے کی کوئی سازش کی گئی تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا اور تمام آئینی آپشنز بروئے کار لائے جائیں گے اور اگر صوبائی حکومت مستعفی ہوئی تو تمام اپوزیشن جماعتیں مشترکہ لائحہ عمل طے کرینگی۔ 
باچا خان مرکز پشاورسے جاری کیے گئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں نوے دنوں میں تبدیلی لانے کے وعدے اور عوامی مسائل کے حل کے دعوؤں میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں اور عوام کی توجہ اپنی ناکامی سے ہٹانے کیلئے بلا جواز انتشار پھیلانے کی سیاست اور محاذ آرائی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کو توڑنے کی روزانہ کی بنیاد پر دھمکیوں سے صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی جا رہی ہے۔ ایسی حالت میں جب صوبہ بدامنی اور آئی ڈی پیز جیسے مسائل کے دلدل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے ۔عمران خان کی فرار کی سیاست ان کی سیاسی نا پختگی اور ہٹ دھرمی کی دلیل ہے جس کی سزا اس صوبے کے عوام اور آئی ڈی پیز کو مل رہی ہے۔ دس لاکھ سے زائد پختونوں کی بے سروسامانی کا احساس نہ تو وفاقی حکومت کو ہے اور نہ ہی صوبے کے حکمران اس بحران کی شدت کا احساس کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز کو صرف پختون ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ وقت تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں وسیع النظری اور بالغ نظری کا ثبوت دیں اور آئی ڈی پیز کی آباد کاری اور بحالی پر توجہ دیتے لیکن عمران خان پی ٹی آئی کی ناکامی کو چھپانے کی مہم پر کمر بستہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جمہوریت کیلئے ناسور بن چکی ہے اور عمران خان نے غیر مہذب سیاست کی انتہا کر دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی توڑنے کی بھرپور مخالفت کی جائے گی اور تمام آئینی راستے اپنائے جائیں گے اور اگر صوبائی حکومت مستعفی ہوئی تو صوبے کے عوام کے مسائل کے اور جمہوریت کی تسلسل اور مضبوطی کی خاطر تمام اپوزیشن جماعتیں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرینگی۔

مورخہ : 4.8.2014 بروز پیر


پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی پارلیمانی قائد اور ترجمان سردار حسین بابک نے سابق ولی عہدسوات اور بلوچستان کے گورنر میاں گل اورنگزیب کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ ایک مشترکہ تعزیتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ مرحوم ایک اچھے اورمنجھے ہوئے سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین لکھاری بھی تھے۔ اُنہوں نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کی دُعا کی اور کہا کہ میاں گل اورنگزیب کی وفات سے صوبہ ایک مدبر سیاستدان سے محروم ہو گیا۔



مورخہ:2-8-2014 بروز ہفتہ 


پشاور ( پ ر ) اے این پی خیبرپختون خوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پارٹی کے شہداء کی یاد میں یادگار تعمیر کرنے اورشہیدوں کے ورثاء کے لئے خصوصی فنڈز کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ وطن کی بقاء کی خاطر باچاخان کے ساڑھے آٹھ سوپیروکاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے عدم تشدد اورامن کے فلسفے کو دوام بخشی ہے اورپوری دنیا کے سامنے پختونوں کے سروں کو فخر سے بلند کردیاہے، اے این پی جمہوریت کو ڈیل ریل ہونے کو تیار نہیں یہ وقت سیاسی سکورنگ کاقت نہیں ،انقلاب کے دعویدار ملک میں انارکی پھیلارہے ہیں ،وزیرستان آپریشن کو جلد منطقی انجام تک پہنچاکر وہاں سیاسی اور آئینی اصلاحات کئے جائیں ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے اور صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے ہفتہ کے روز ہوتی ہاؤس مردان میں اے این پی سعودی عرب تنظیم کی طرف سے پارٹی قیادت کو امدادی رقوم حوالہ کرنے کی تقریب کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران کیا تقریب میں سعودی عرب کے نائب صدر حبیب یونس سالار زئی اورجنرل سیکرٹری حاجی سبزعلی خان نے وزیرستان متاثرین کے لئے دس لاکھ ،نیشنل یوتھ سوات کے سابق صدر خلیل اللہ شہید کے لئے تین لاکھ ،اورعلیل شاعرفضل سبحان عابد کے لئے ساڑھے تین لاکھ روپے کی مجموعی رقم ساڑھے سولہ لاکھ نقد رقم پارٹی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی اورجنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین جو متاثرین کے لئے پارٹی کے صوبائی کوآرڈینٹر بھی ہیں کے حوالہ کی تقریب سے ضلع مردان کے صدر حمایت اللہ مایار اور جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اورسعودی کے عہدیداروں نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانی دینے والے پارٹی کارکنوں اورہنماؤں کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں اورمشاورت کے بعد مناسب جگہ پر ان تمام شہداء کی یاد میں یادگار تعمیر کی جائیں گی جنہوں نے امن کی خاطر شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا انہوں نے کہاکہ اے این پی کے شہید کارکنوں نے جرآت ،جوان مردی اوربہادری کے ساتھ عسکریت پسندوں کا میدان میں کھڑے ہوکر مقابلہ کیاہے اورکررہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی نے وطن کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ جانی اورمالی قربانیاں دی ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون قوم کی خدمت کے لئے اے این پی کو پارلیمنٹ اور اقتدار کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی انہوں نے اے این پی سعودی عرب کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہاکہ باچاخان کے پیروکار بیرون ملک ہونے کے باوجود اپنے وطن میں مشکلات اورمصائب کاسامنا کرنے والے پختونوں بھائیوں کی امداد سے غافل نہیں ہے اوران کی مالی مدد کے لئے اپنے رزق حلال کا نوالہ تقسیم کررہے ہیں جس پر ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے انہوں نے کہاکہ پختونوں میں سیاسی بیداری میں اے این پی کا کردار کسی سے ڈھکا چھانہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک ایک بڑے بحران کا سامنا کررہاہے فوج کو سرحدوں کی حفاظت کرنے کی بڑی ذمہ داری ہے اورانہیں سیاسی ایشو ز میں ملوث کرنا ٹھیک نہیں انہوں نے کہاکہ ایسے میں عمران خان لانگ اورشارٹ مارچ کی بجائے جمہوریت کے استحکام کا ساتھ دینا چاہئے انہوں نے کہاکہ اے این پی کسی بھی صورت میں جمہوریت کو ڈیل ریل ہونے کو تیار نہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ وزیرستان آپریشن کو جلد منطقی انجام تک متاثرین کی بحالی اورعلاقے میں آئینی اورسیاسی اصلاحات کئے جائیں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہاکہ انقلاب لانے والے ملک میں انارکی پھیلارہے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ موقع رسہ کشی کا نہیں مرکز اورصوبہ رسہ کشی چھوڑ دے ہمارے صوبے میں آگ لگی ہوئی ہے میاں افتخار حسین نے علیل شاعر فضل سبحان خان عابد کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ وہ انتہائی خوددار شخصیت ہیں انہوں نے کہاکہ شاعر اور ادیب سیاسی بیداری میں اہم کردار اداکررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی شہیدہونے والے کارکنوں کے خاندانوں کی مالی امداد کے لئے ایک فنڈ قائم کررہی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی بہتر طریقے سے کفالت کی جاسکے انہوں نے کہاکہ اے این پی سعودی عرب نے متاثرین کے لئے جو نقد امداد پارٹی کے حوالہ کی ہے اس کی پائی پائی کومستحق افراد تک پہنچایاجائے گا انہوں نے کہاکہ مسائل اور سہولیات کی فقدان کے باعث متاثرین خودکشیوں پر مجبورہیں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے مطالبہ کیاکہ متاثرین کمپیوں میں زہریلی اور جان لیوا ادویات پہنچانے سے گریز کیاجائے کیونکہ گذشتہ روز ایسی ہی دوائیوں سے ایک متاثرہ خاتون نے خودکشی کی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت نے امن مذاکرات کئے نہیں کامیابی تو دور کی بات کرے ان کا مزید کہناتھاکہ وزیرستان آپریشن کے دوران زیادہ تر دہشت گرد بھاگ گئے ہیں ان کے خلاف ٹارگٹ اپریشن کیاجائے ۔تاکہ دہشت گردی ختم ہو سکے اور وزیرستان کے آئی ڈی پیز باعزت طور پر اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ 

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on August 4, 2014 at 10:11 am