July-2014

 

مورخہ:31-7-2014بروز جمعرات 


پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے عیدالفطر اپنے آبائی گاؤں پبّی نوشہرہ میں علاقے کے لوگوں سے مل جل کر منایا ۔ یاد رہے کہ اے این پی کے رہنما نے اپنے اکلوتے بیٹے میاں راشد حسین کی شہادت کے بعد پہلی دفعہ اپنے آبائی علاقے پبّی نوشہرہ میں عیدالفطر منانے کیلئے گئے ۔ عیدالفطر کے موقع پر تمام اہل علاقہ نے کثیر تعداد میں ان سے ملاقات کی اور عید ملے۔ 
اس موقع پر اے این پی کے رہنما نے کہا کہ عید منانا تو ہمارا ایک مذہبی فریضہ ہے اور یہ ہم ضرورمنائیں گے لیکن اپنے بیٹے کی شہادت ، ملک میں عموماًاور پختون بلٹ میں خصوصاً بڑھتی ہوئی بدامنی ، دہشت گردی اور وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن کے نتیجے میں ہمارے پختون بھائیوں ، بہنوں ، ماؤں ، بیٹوں اور بیٹیوں کے بے گھر اور بے سہارا ہونے کے باعث عید کی خوشیاں ماند پڑ گئیں ۔ اے این پی شمالی وزیرستان کے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے غم اور خوشی میں برابر کے شریک ہے ۔ 
انہوں نے عیدالفطر کے موقع پر تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی تمام سیاسی اختلافات کوبالائے طاق رکھ کر ملک میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑنے کیلئے یکجا اور یک زبان ہوکر عملی اور مؤثر کردار ادا کرے اور دہشت گردوں کے حوصلے پست کرے۔ 
انہوں نے کہا کہ جب ملک اور خصوصاً پختون سرزمین پرامن قائم ہوگا اور حقیقی معنوں میں امن بحال ہوکر ہمارے شمالی وزیرستان کے متاثرین بھائی اپنے آبائی علاقوں کو واپس جاکر ان کے اُجھڑے ہوئے گھرپھر سے آباد ہوجائیں گے اور اُن کی خوشیاں واپس لوٹ جائیں گے تو اُس وقت ہم حقیقی طور پر عید اور دیگر خوشیاں منائیں گے ۔ 

کراچی۔ جمعرات 31 جولائی 2014
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید کی سی ویو کے ساحل پر ڈوبنے سے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ اورا فسوس کا اظہاربڑی تعداد میں قیمتی جانی نقصان کی تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے سانحہ سی ویو کی تحقیقات کی جائیں،عوامی نیشنل پارٹی پسماندگان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ساحل پر ناکافی انتظامات اور انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے عید کا دن بھی ماتم میں تبدیل ہوگیا ۔اتنے پڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باوجود اب تک بہتر انداز میں ریسکیو آپریشن شروع نہیں ہوسکا ہے،غفلت کے مرتکب ہونے والے کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،ہلاک شدگان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں،

 

کراچی میں تارگٹ کیلنگ کی نئی لہر پر اے این پی سندھ کے صدر سنیٹر شاہی سید کی پریس کانفرنس
کراچی۔ جمعرات 24 جولائی 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ باوجود اسکے کہ پچھلے دس مہینوں سے آپریشن جاری ہے، کراچی شہر میں امن نام کی چیز نظر نہیں آرہی ہے،امن کے خاطر بے گناہ لوگوں کے ساتھ ظلم برداشت کرنے کے بعد بھی امن نہیں آیا۔گزشتہ کئی روز سے شہر میں ایک مرتبہ پھر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی آگئی ہے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن چکی ہے گزشتہ روز گلشن اقبال میں معروف شیعہ عالم دین علامہ طالب جوہری کے داماد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے ،جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں ،
آج کی پریس کانفرنس کے توسط ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے دہشت گردوں کو عبرتنا ک سزا دی جائے ،عوامی نیشنل پارٹی،پسماندگان اور علامہ طالب جوہری کے غم میں برابر کی شریک ہے ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چند طاقتیں شہر میں فرقہ ورانہ فسادات کے لیے کوشاں ہیں اور مسلسل مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بناکر مذہبی ہم آہنگی کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،قانون نافذ کرنے والے والے ادارے باجود کوشش کے اب تک ذمہ داران کو گرفتار کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن خاظر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے جس کی بنیادی وجہ سیاسی مصلحت، پولیس میں سیاسی ٹرانسفر، پوسٹنگ اورتھانوں کا فروخت ہونا ہے ،اہم پوسٹوں پر منظور نظر افسران کو تعینات کیا جارہا ہے جب تک یہ طرزعمل جاری رہے گا روشنیوں کے شہر میں امن کا قیام نا ممکن ہے ،ملک کے ادارے سیاست زدہ ہوچکے ہیں سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے ہمارے قومی ادارے ناکامی سے دورچار ہیں جب تک قومی اداروں سے سیاسی بھرتیاں ختم نہیں کی جاتی اس وقت تک ان کی اصلاح کے لیے جتنی بھی کوششیں کی جائیں وہ ناکام ہوں گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلفٹن شیریں جناح کالونی میں ضلع ساؤتھ کے جنرل سیکریٹری سرفراز خان جدون کی جانب سے افطار پارٹی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری ،سرفراز جدون،سلیم جدون،صوبائی سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک نے بھی موجود تھے ،انہوں نے مذید کہا کہ آج ہمیں انتہائی غیر معمولی حالات کا سامنا ہے ،اور غیر معمولی حالات میں ہمیں غیر معمولی فیصلے بھی کرنا ہوں گے میں آج ایک مرتبہ پھر اپنی گزشتہ پریس کانفرنس کی طرح یہ مطالبہ کرتاہوں کہ جنگی بنیادوں پر ایک قومی ڈیٹا بیس بنایا جائے جس میں ملک میں آباد ہر شخص کا ڈیٹا ،اس کی جائیداد،کاروبار ، اثاثوں اور اس کے خاندان کی مکمل تفصیلات موجود ہوں۔ ڈرون حملوں پر قوم کو بے وقوف بنانے والے اور ڈرون کے نام پر اسلام آباد جانے والے آج کیوں خاموش ہیں؟90 دنوں میں کرپشن ختم کرنے والے،بلدیاتی انتخابات کروانے والے ایک سال گزرنے کے باوجود آج قوم کو جواب دیں۔قوم اور میڈیا کو نام نہاد دھاندلی کے ٹرک کی بتّی کے پیچھے لگانے کے بجائے صوبے کو امن دیں،خیبر پختون خوا کی عوام کو خواب دکھانے والے دھاندلی کے نام پر ڈرامے اور تماشے کرکے قوم کی آنکھ میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں
۔ہمیں امید ہے کہ قلابازی خان نے جس طرح ڈرون حملوں اور شمالی وزیرستان آپریشن کے معاملے میںیو ٹرن لیا ہے اسی طرح آزادی مارچ کے حوالے سے بھی اپنے اصل پیشروؤں کے کہنے پر بھی ایک مرتبہ پھر قلابازی کھائیں گے ۔ماضی کی انتہائی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج پختون دھرتی خاک و خون میں نہائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہم آج اپنے ہی ملک میں دربدر ہیں،ہماری ثقافت ،ہماری تہذیب کو تباہ کرنے اور ہمیں پوری دنیا کے سامنے دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آج آئی ڈی پیز کی تعریف انٹرنل ڈیسپلیس پرسنز کے بجائےانٹرنل ڈیسپلیس پختونز ہوگئی ہے، خداراپختون دھرتی کو مذید عالمی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے ہمیں امن دیا جائے ،ہمارے بچوں کو خودکش جیکٹس کے بجائے اسکول یونیفارم، اسکول بیگ اور کلاشنکوف کے بجائے قلم دیاجائے ، ملک بھر میں پھیلے ہوئے دہشت گردوں کے اصل کارخانوں کو بند کیا جائے ۔ 
شمالی وزیرستان آپریشن کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی سندھ نے عید الفطر انتہائی سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے تنظیمی سطح پر کوئی عید ملن پارٹی منعقد نہیں کی جائے گی،کارکنان عید کی خوشیوں میں آئی ڈی پیز کویاد رکھیں۔آج کی پریس کانفرنس کے توسط سے میں پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ عید کے موقع پر ملک و قوم کے لیے اپنے گھر بار چھوڑنے والوں کوضرور یاد رکھا جائے اور شمالی وزیرستان کے متاثرین کی بھر پور مدد کی جائے ۔عوامی نیشنل پارٹی مرکزی و صوبائی حکومتوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ عید الفطر پر آئی ڈی پیز کی بھر پور مالی امداد کی جائے ۔
روخانہ پختونخوا پروگرام غیر فعال کرنا پسماندہ علاقوں سے زیادتی ہے ‘ سردار حسین بابک  

جمعر ات 24جولائی 2014ء
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے پارلیمانی قائد اور ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے دعویداروں نے غریب طلباء سے حصول تعلیم کا حق بھی چھین لیا ہے ‘ انقلاب لانے کے شوشے چھوڑنے والوں کے پاس کوئی تعلیمی پالیسی نہیں ‘ باچاخانؒ مرکز سے جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی دور حکومت میں مڈل وہائی سکولز سے محروم پسماندہ یونین کونسلز میں روخانہ پختونخوا پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت ان یونین کونسلز میں موجود نجی سکولوں میں چھٹی سے دسویں تک طلباء و طالبات کی فیسیں حکومت جمع کراتی تھی اور اس کے نتیجے میں ڈراپ آؤٹ کی شرح بھی انتہائی کم ہو گئی تھی ‘ اے این پی کے ترجمان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بر سر اقتدار آتے ہی سابق حکومت کے مفید پروگرام ایک ایک کرکے بند یا سیاسی بنیادوں پر ان کے نام تبدیل کردیئے ‘ روخانہ پختونخوا کے متبادل کے طور پر اب اقراء فروغ تعلیم کے نام سے منصوبہ شروع کیا گیا ہے جو وقت اور پیسوں کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں اور اس کے نتیجے میں پسماندہ یونین کونسلز کے طلباء و طالبات تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں ‘ کیونکہ جن علاقوں میں اقراء پروگرام شروع کیا گیا ہے وہاں پہلے سے سکول موجود ہیں انہوں نے کہا کہ سکولوں کی موجودگی میں نجی تعلیمی اداروں کا تعاون حاصل کرنا فائد ہ کے بجائے نقصان دے گا اور طلباء و طالبات یقینی طور پر نجی سکولوں کا رخ کرینگے ‘ انہوں نے کہا کہ تعلیم جیسے اہم اور حساس معاملے میں تجربات کرنے کایہ وقت نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت روخانہ پختونخوا پروگرام پر عملدرآمد کرے اور آگے بڑھائے تاکہ صوبے میں خواندگی کے اہداف حاصل کئے جاسکیں ‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے پاس تعلیمی ترقی اور اس کے فروغ کیلئے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہ ہونے کے پاس صوبہ دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی روبہ زوال ہے ‘نت نئے تجربات کے بجائے عوامی نیشنل پارٹی حکومت کے روخانہ پختونخوا پروگرام پر عملدر آمد کرکے ہی اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔
مورخہ : 23.7.2014 بروز بدھ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری اور سابقہ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے باڑہ شیخان میں ڈی ایس پی عابد الرحمان کا ٹارگٹ کلنگ حملے میں زخمی اورشاہ قبول میں ہیڈکانسٹیبل محمد اسلم کے جاں بحق ہونے پر شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکار کی مغفرت اور زخمی ہونے والے ڈی ایس پی کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی۔اُنہوں نے شہید ہونے والے ہیڈ کانسٹیبل کے خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ پولیس پر حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور دہشتگردی کی اس جنگ میں سیکیورٹی فورسز نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے اوروطن کی خاطر پولیس کی قربانیاں بے مثال ہیں اور ہم ان کی قربانیوں ، جرأت مندی اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کے پیش نظر گزشتہ حکومت نے شہداء اور زخمیوں کیلئے پیکج جاری کیا تھا اور اب موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ اُن پیکجز میں اضافہ کر کے شہید اور زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو مراعات دے۔ چونکہ وطن عزیز آج کل دہشتگردی کے شدید دباؤ میں ہے اور وزیرستان میں جاری کارروائی کے نتیجے میں دہشتگرد سارے ملک میں اور خیبر پختونخوا میں خصوصاً سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی توجہ وزیرستان کارروائی سے ہٹ جائے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی دہشتگردوں نے اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ لہٰذا ہمیں دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے تمام تر توجہ وزیرستان میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کامیاب کارروائی پر مرکوز کرنی چاہیے اور جہاں بھی دہشتگرد نکل کر بھاگ چکے ہیں اُن کا پیچھا کیا جائے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیرستان میں کارروائی پر بھرپور توجہ دی جائے اور دیگر علاقوں میں سرچ آپریشن کر کے دہشتگردوں سے نمٹا جائے۔ اس موقع پر مرکزی اور صوبائی حکومت اور تمام مکتب فکر کے لوگ یکسو ہو کر دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے کارروائی کو کامیاب بنانے کیلئے سب کو اپنا تاریخی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس دوران پولیس اہلکاروں کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ۔ لہٰذا پولیس کے نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قوم کے یہ محافظ خود محفوط رہ کر دہشتگردی کا قلع قمع کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک بار پھر پولیس کی ان لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور ہمیں ایسی پولیس پر ناز ہے جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قوم کو محفوظ بنائے۔
سراج الحق فراڈ مالیاتی ڈسپلن دکھانے پر مستعفی ہوں ‘ سردار حسین بابک 
نام نہاد مانیٹرنگ اینڈ ایولوایشن کمیٹی وزیر خزانہ کے خلاف کارروائی کرے ‘ سود وصول کرکے پورے صوبے کو دھوکہ دیا گیا 


بدھ 23جولائی 2014ء
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی )خیبر پختونخوا کے پارلیمانی قائد اورترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور بیورو کریسی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی نا سمجھی کی سزا پختونخوا کے عوام کو نہ دے ‘ محکمہ خزانہ نے صوبائی وزیر خزانہ کو بیوقوف بناکر ان کی صلاحیتوں کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے ‘سراج الحق اپنے محکمے کے امور کے بارے میں عدم آگاہی پر استعفیٰ دیں یا وزراء کی کارکردگی جانچنے والی نام نہاد مانیٹرنگ ا ینڈ ایولوایشن کمیٹی سراج الحق کے خلاف اسی طرح کارروائی کرے جیسے مبینہ طور پر کارکردگی کی بنیاد پر دیگر وزراء کو فارغ کیا گیا ‘باچاخان ؒ مرکز سے جاری کئے گئے ایک بیان میں عوامی نیشنل پا رٹی کے ترجمان نے کہا کہ ایک طرف صوبے کے عوام پی ٹی آئی کی نا تجربہ کاری کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب وفاقی حکومت بھی اس صوبے کے سا تھ زیادتی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہی‘ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر ہونے کے باوجود سراج الحق کی عقل و دانش اور اپنے محکمے سے آگہی کا یہ عالم ہے کہ انہیں مرکزی حکومت کے ساتھ انوسٹ ہونے والی رقم اور مالیاتی ڈسپلن کے اعتراف میں نقد رقم کی ادائیگی کے اصل معاملے کا رتی برابر علم نہیں تھا حالانکہ اس سے قبل بھی وہ ایک مرتبہ وزیر خزانہ رہ چکے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار ادا کرنے والے صوبے کے ساتھ وفاقی حکومت بھی امتیازی رویہ اختیار کر رہی ہے ‘ وفاق کی جانب سے ڈیڑھ ا رب روپے کے بونس کی بے بنیاد خبر اڑا کر اس جنگ زدہ صوبے کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ‘ ایک جانب تو صوبے کو پن بجلی کا خالص منافع نہیں دیا جارہا اور اوپر سے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرکے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کا پول بھی کھول دیا ہے ‘انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار ایک جانب سودی نظام کے خاتمے کے دعوے کر رہے ہیں اور دوسری جانب ترقیاتی بجٹ پر وفاق سے 10.50فیصد کی شرح سے سود وصول کیا گیا جو اسلام کے ان نام نہاد ٹھیکیداروں کی دوعملی کا کھلا ثبوت ہے ‘مزید یہ کہ صوبائی حکومت کی اس رقم سے وفاقی حکومت نے اپنے ترقیاتی کام کئے جبکہ یہ رقم صوبائی حکومت کی تھی ‘ انہوں نے کہا کہ اس جنگ زدہ صوبے کے عوام کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل بند کیا جائے اور صوبے کی ترقی کی جوبنیاد اے این پی کی گزشتہ حکومت نے رکھی گئی تھی اسے بلا کسی سیاسی تعصب اور کریڈٹ لینے کی سیاست سے بالاتر ہو کر منزل تک پہنچایا جائے تاکہ صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے 
مورخہ : 21.7.2014 بروز پیر

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی بزدلی اور بے حمیتی کی سزا پولیس اہلکاروں کو مل رہی ہے۔ دس دنوں میں بیس پولیس اہلکاروں کی شہادت صرف سیکیورٹی کی ناقص حکمت عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ بزدل حکمران ٹولے کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کا شاخسانہ ہے۔ باچا خان مرکز سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی کی تشویش ناک حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن حکومت کا برسر زمین وجود معلوم ہی نہیں ہو رہا۔ پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد عوام کے تحفظ کیلئے جانیں گنوا چکی ہے۔ پچھلے دس دنوں میں بیس پولیس اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنے دینے والے ان شہداء کے جنازوں کو کاندھا دینے سے گھبراتے ہیں۔ 
اُنہوں نے کہا کہ حالیہ تشدد کی کارروائیوں پر نہ صوبائی حکومت نے کوئی ٹھوس مؤقف اپنایا اور نہ ہی کسی جامع پالیسی کی منظوری دی۔ حالات اس قدر مخدوش ہو چکے ہیں کہ پشاور کے واحد بین الاقوامی ہوائی اڈے باچاخان ائیرپورٹ پر طیاروں پر فائرنگ ہو رہی ہے ، پولیو کی مہم ملتوی ہو رہی ہے اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ پولیس پر حملے ہو رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت خاموش ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان اُمور کی وجہ سے پولیس کا مورال گر رہا ہے اور صوبہ بزدل حکمرانوں کی عاقبت نا اندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ جب تک دہشتگردی کے مسئلے کا پوری قوت سے سامنا نہیں کیا جائے گا تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جائیگا۔
کراچی 19،جولائی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنما سینیٹر شاہی سید نے کراچی میں بجلی اور پانی کے بحران میں اضافے پرنہایت تشویش کا اظہار کیا ہے۔باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ شہر میں بجلی کا بحران کم ہونے کے بجائے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کے -الیکٹرک نے رمضان المبارک کے مہینے اور شدید گرمی میں شہریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں سحر و افطار کے وقت بھی لوڈ شیڈنگ سے گریز نہیں کیا جارہا بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو پانی کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے شہری بجلی اور پانی دونوں کو ترس رہے ہیں ان کا کوئی پُرسان حال نہیں اکثر علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کے علاوہ بھی رات رات بھر بجلی نہیں ہوتی اور ان کو ماہانہ بلزباقاعدگی سے ادا کرنے کو کہا جاتا ہے اضافی بلنگ کی شکایات عام ہوگئی ہیں حکومتی ادارے نوٹس لینے کو تیار نہیں ادارہ ایک مافیا کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے اس نے حکمرانوں میں موجود کالی بھیڑوں کو اپنی مٹھی میں لیا ہوا ہے اسلئے کوئی آواز نہیں اٹھاتا ، کے -الیکٹرک نے عوام کا ذہنی سکون برباد کردیا ہے اور شہریوں کو ذہنی مریض بنادیا ہے اس ادارے نے کھلے عام حکومتی رٹ کو چیلینج کیا ہوا ہے اور ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی ہے کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے تعطل نے شہریوں کو غضبناک کردیا ہے اور وہ سڑکوں پر آنے کو مجبور ہوگئے ہیں کے -الیکٹرک کے ترجمان صارفین کو سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے آئے دن دھمکی آمیز بیانات دیتے رہتے ہیں اور اپنی نہ اہلی کی وجوہات کا ذمہ دار شہریوں کو ٹھہراتے ہیں شہر میں امن و امان کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری کے -الیکٹرک پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس نے شہریوں کو جلاؤ گھیراؤ پر مجبور کیا ہے ۔ سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ کے -الیکٹرک ایک ناسوراور شہریوں کیلئے دہشتگردثابت ہورہا ہے عوامی نیشنل پارٹی سندھ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ جس طرح وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ہورہا ہے کراچی میں بھی اس ناسور کو نکالنے کیلئے آپریشن کرنا پڑے گااور اس ناسور کو شہر سے نکالنا پڑے گا وفاقی حکومت کے -الیکٹرک کے ہٹ دھرمیوں، نا اہلیوں اور مظالم کے خلاف فوری ایکشن لے اور شہریوں کو اس ادارے کے ظلم و ستم سے نجات دلائے۔


مورخہ : 19.7.2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے ترجمان سردار حسین بابک نے پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے پاپولیشن ویلفیئر کے 544 موبلائزر کی بحالی اور اُن کی تنخواہیں جاری کرنے کے فیصلے کو حق و انصاف کی فتح قرار دی ہے اور کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنی ملازمین کش پالیسی جاری رکھیں ۔ صوبے کی غریب عوام اور بالخصوص سرکاری ملازمین عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور اُنہیں اسی طرح کا انصاف ملے گا۔ 
اُنہوں ن
ے کہا کہ پاپولیشن ویلفیئر کے ملازمین کی بحالی حق کی فتح ہے اور صوبائی حکومت کی جاری عوام دُشمن پالیسیوں کے خلاف ایک مؤثر جواب ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے وہ تمام سرکاری ملازمین جنہیں صوبائی حکومت نے مختلف محکموں کی ملازمتوں سے نکالا ہے وہ فوری اور اجتماعی طور پر عدالتوں کا رُخ کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالتوں سے اُمید اور توقع ہے کہ تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والوں اور انقلاب لانے والوں کی حکومت نے صوبے کی غریب عوام سے روزگار چھیننے کی مہم شروع کر رکھی ہے لیکن آزاد عدلیہ ، غریب عوام اور اُن کے بچوں کو انصاف اور مساوات کے فیصلوں کی بنیاد پر اُن کا حق دینگے۔

مورخہ : 19.7.2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے جمرود میں ایف سی اور پشاور میں پولیس اہلکاروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کی مغفرت کیلئے دُعا کی۔
اُنہوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور دہشتگردی کی اس جنگ میں سیکیورٹی فورسز نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور ملک و قوم کے دفاع کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے شہداء کے خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت فورسز کا مورال بلند کرنے کیلئے شہداء کے جنازوں کو کندھے دینگے تو اُنک حوصلے بڑھیں گے اور اگر صوبائی حکومت اسی طرح دور سے تماشہ دیکھے گی تو خدانخواستہ وطن دُشمن عناصر اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ 
اُنہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اور اب جبکہ ایک قومی فیصلے کے تحت دہشتگردوں کے خلاف کارروائی شروع ہو چکی ہے اسی لیے تمام حکومتوں کو قوم کو دہشتگردی سے نجات دلانے کیلئے متحد ہونا ہو گا اور دہشتگردی کیخلاف اس جنگ کو کامیاب بنانے کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور سیکیورٹی فورسز کو دہشتگردوں کے خلاف اس جنگ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔


مورخہ : 19.7.2014 بروز ہفتہ

مرکزی حکومت وزیرستان کی ترقی کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کرے ’’ سردار حسین بابک ‘‘

پشاور ( پ ر) عوامی نینشل پارٹی پختونخوا کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ وزیرستان کے عوام نے ملک و قوم کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں۔ لہٰذا مرکزی حکومت وزیرستان کی ترقی کیلئے تعلیم ، مواصلات ، صحت اور دیگر شعبوں میں خصوصی پیکج کا اعلان کریں تاکہ وہاں کی عوام زندگی کے تمام شعبوں میں دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر ترقی کر سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام قبائلی علاقوں کے لوگوں اور خصوصاً وزیرستان کے تمام علاقوں کے لوگوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں ہیں۔ اس لیے مرکزی محکموں میں قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کیلئے روزگار کا خصوصی کوٹہ مقرر کیا جائے تاکہ وہاں کے بیروزگار نوجوان ملک و قوم کی خدمت کر سکیں اور باعزت زندگی گزار سکیں۔
سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی اضلاع نے لاکھوں کی تعداد میں اپنے گھروں سے بیدخل بہن بھائیوں کی خدمت جاری رکھی ہوئی ہے اس لیے صوبائی حکومت صوبے کے جنوب میں تمام اضلاع کیلئے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کریں اور جنوبی اضلاع کے غیور پختونوں کو خصوصی پیکج کے ذریعے انعام سے نوازیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جنوبی اضلع کے غیور لوگوں نے ساری دُنیا کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک و قوم کی خاطر اپنی دھرتی پر امن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے اور لاکھوں کی تعداد میں اپنی بہنوں اور بھائیوں کی مہمان نوازی سے اُنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بقا کی اس جنگ میں دہشتگردی کے خلاف کمربستہ ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ان علاقوں کی ترقی اور اُنہیں ملک کے دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کیلئے تاریخی خصوصی پیکجز کا اعلان کر کے ان کے دل جیت سکتے ہیں۔
اے این پی کے رہنما نے کہا کہ دہشتگردی کی اس جنگ میں غیور پختونوں نے جس طرح جوانمردی کا مقابلہ کیا ہے اور جتنا نقصان اُٹھایا ہے تاریخ میں یادگاری طور پر یاد کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کریں کہ ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دینے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان علاقوں کی عوام کو خصوصی مراعات اور سہولیات سے نوازیں۔

پیپری بن قاسم میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے بشیر احمد اے این پی پپری وارڈ کے جنرل سیکریٹری تھے۔ترجمان اے این پی سندھاین پی سندھ

کراچی۔جمعتہ المبارک 18 جولائی 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پیپری بن قاسم میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے بشیر احمد ولد پائندہ خان اے این پی پپری وارڈ کے جنرل سیکریٹری تھے ،عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے بشیر احمد کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی عہدیداران و کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے دہشت گردی کے خلاف بھرپور اور ٹھوس موقف کی پاداش میں نشانہ بنایا جارہا ہے ارباب اختیار کو بارہانشاندہی کے باوجود عہدیداران کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں شہر میں پارٹی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہونے کے باوجود کارکنان کے حوصلے بلند ہیں شہید بشر احمد کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے شہید بشیر احمد کے پسماندگان کے غم میں برابر کے شریک ہیں،مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہیں۔
جاری کردہ 


مورخہ : 18.7.2014 بروز جمعۃ المبارک


پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ یوسف خان المعروف دلیپ کمار کے گھر کو قومی ورثہ قرار دینے کا اقدام ایک بار پھر مشکلات کا شکار نظر آتا ہے میں اس لیے خاموش رہا کہ مجھے دلی خوشی ہوگی کہ بغیر کسی رکاوٹ کے دلیپ کمار کا گھر حقیقی معنوں میں قومی ورثہ قرار دیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ جب میں اطلاعات و ثقافت کا وزیر تھا تو میری دلی خواہش تھی کہ دلیپ کمار کا گھر ہر قیمت پر قومی ورثہ قرار دیا جائے۔ اس کیلئے میں نے عملی اقدامات اُٹھائے سب سے پہلے وزیر اعلیٰ سے اجازت لی کیونکہ 18 ویں ترمیم کے بعد یہ اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہو چکے تھے۔ اس کیلئے دو طریقے تھے ایک یہ کہ اس کو ایک سمری کے ذریعے قانونی ، قواعد و ضوابط کے تحت سرکاری تحویل میں لیا جائے جو ایک لمبا اور وقت طلب سلسلہ تھا یا Negociation کے ذریعے گھر کا قبضہ جن کے پاس ہے ان مالکان سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے یہ جلد ممکن تھا۔ دوسرا طریقہ اس لیے مناسب تھا کہ اس میں گھر جس کی تحویل میں تھا ان کو بھی مطمئن کرنا تھا اور گھر بھی قومی ورثہ قرار دینا تھا۔ لہٰذا ہم نے مالکان کو بلایا اور مسلسل تین چار اجلاس اُن کے ساتھ کیے وہ پانچ کروڑ کا مطالبہ کر رہے تھے اور اس پر ڈٹے رہے ۔ آخر ہم نے ان کو بڑی کوششوں کے بعد تین کروڑ پر راضی کیا۔ اس کیلئے وزیر اعلیٰ سے تین کروڑ روپے بھی منظور کروائے مگر چیف سیکرٹری نے کہا کہ نئی حکومتی کمیٹی SMBR کی نگرانی میں بنائی جائے تاکہ اس کو قانونی کوریج دی جا سکے اس کمیٹی نے اس کی قیمت ایک کروڑ بارہ لاکھ مقرر کی جس پر مالک کسی طور راضی نہیں تھا اور حق بجانب تھا کیونکہ پہلے ان سے تین کروڑ میں بات ہو چکی تھی۔ بدقسمتی سے SMBR کی کمیٹی نے اس گھر کو پراپرٹی سمجھ کر قیمت لگائی تھی جبکہ یہ گھر صرف پراپرٹی نہیں تھی بلکہ لیجنڈ ادا کار دلیپ کمار کا آبائی گھر تھا جس کی اہمیت کا اُنہوں نے اندازہ نہیں لگایا ۔ میں نے پھر سے کوشش شروع کی کہ سب کو مطمئن کر کے باہمی صلاح و مشورے سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اس دوران میں نے اپنے محکمہ سے ایک خط ڈی سی کے نام لکھا کہ اس گھر پر section-4 لگایا جائے تاکہ اس دوران اس کو فروخت نہ کیا جاسکے چونکہ قومی ورثہ قرار دینا آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اختیار میں تھا تو بعد میں ان کو یہ اقدام اُٹھانا تھا مگر بنیادی فیصلہ ہم نے کر لیا کہ اس پر پابندی لگا کر قومی ورثہ کیلئے محفوظ بنایا جاسکے ورنہ آج یہ فروخت ہو چکا ہوتا لہٰذا بنیادی کام ہم کر چکے تھے مگر اس پر دعویداریاں بھی تھیں وہ عدالت گئے اور کام کھٹائی میں پڑ گیا۔
اُنہوں نے کہا کہ جب مرکز سے بیان آیا تو مجھے بے انتہا خوشی ہوئی کہ چلو کسی نہ کسی طور کام مکمل ہو جائیگا۔ حقیقت میں 18 ویں ترمیم کے بعد UN کے ذریعے بین الاقوامی ورثہ قرار دینے والی جگہ املاک مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے اور باقی صوبوں کے دائرہ اختیار میں ایک بار پھر جب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو میں نے مناسب سمجھا کہ اس کی وضاحت کی جائے کہ اس گھر کیلئے تین کروڑ روپے اُس وقت دستیاب تھے مگر ہماری حکومت ختم ہو گئی۔ میں نادم ہوں کہ یہ کام مکمل نہ کر سکا جبکہ دلیپ کمار نے میرا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔صوبائی حکومت کو چاہیے کہ مالکان سے خود رابطہ کریں اور ان سے خود معاملہ طے کریں۔ پھر آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے اس کو قومی ورثہ قرار دیکر کلچر کے حوالے کیا جائے یہ دلیپ کمار کا گھر ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کو دور دور سے لوگ دیکھنے کیلئے آئیں گے۔ ٹکٹ کے ذریعے دو تین سالوں میں یہ پیسہ حکومت کو واپس مل جائیگا۔ اس کے ساتھ راج کپور صاحب کے گھر کا مسئلہ بھی اس طریقہ سے حل کیا جائے تو ثقافت کی پروموشن کیلئے نہایت سودمند رہے گا۔اُنہوں نے کہا کہ اس میں جتنے لوگوں نے بھی کوشش کی میں اُن کی خدمات کو سراہتا ہوں اُنہوں نے اچھی کاوشیں کیں اگر میں پہلے بولتا تو پھر لوگ سمجھتے کہ پوائنٹ سکورنگ کی بات ہو رہی ہے اس لیے نہ بولا۔ اس سے یوسف خان (دلیپ کمار) کو ذہنی کوفت ہو گی کہ تین چار سال سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے لہٰذا صوبائی حکومت اور خصوصی طور پر چیف سیکرٹری اس میں ذاتی دلچسپی لیکر جلد سے جلد اس مسئلے کو حل کریں۔


مورخہ : 18.7.2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر ) پختون اولسی تحریک کے ڈاکٹر سید عالم نے باچا خان مرکز میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور سیکرٹری اطلاعات سردارحسین بابک سے ملاقات کی۔
پختون اولسی تحریک کے رہنما ڈاکٹر سید عالم نے اے این پی کے وفد کو اپنے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا اور پہلے سے تیار کردہ لکھے ہوئے چند نقاط پر مشتمل ایک دستاویز پیش کی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اس وقت ہمارے خطے کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کیلئے سیاست سے بالا تر ہو کر ایک ایسی پلیٹ فارم مہیا ہوکہ تمام مکتبہ فکر کے لوگ اس خطے کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ آواز اُٹھا سکیں۔
میاں افتخار حسین نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ تمام مکتبہ فکر کے لوگ چند نقاط پر متفق ہو کر مشترکہ جدوجہد کریں ۔ آپ نے جو مشترکہ پلیٹ فارم سے جدوجہد کی جو دعوت دی ہے اس کا جائزہ لیں گے اور باہمی صلاح و مشورے کے بعد آپ کو جواب دینگے۔
مورخہ : 18.7.2014 بروز جمعۃ المبارک


پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے ہنگو بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کی ہے کہ جاں بحق افراد کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور اُن کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ 
اے این پی کے قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت کی وزیرستان آپریشن کے نتیجے میں ممکنہ رد عمل کیلئے کوئی تیاری نہیں ہے اور صوبائی حکومت اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سے غافل ہے۔جبکہ وزیرستان آپریشن کے رد عمل میں دہشتگرد ہمارے صوبے کو ٹارگٹ بنا سکتے ہیں۔ لہٰذا صوبائی حکومت کی طرف سے بھر پور تیار ی کا انتظام ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہنگو بم دھماکے میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے خصوصی علاج و معالجے کا انتظام کرے۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیرستان میں آپریشن کی وجہ سے دہشگردوں کی طرف سے رد عمل کے طور پر کارروائیوں سے صوبائی حکومت کو الرٹ رہنا چاہیے کیونکہ صوبے میں پہلے سے ٹارگٹ کلنگ ، اغوا ء برائے تاوان اور بھتہ خوری نے صوبے کے عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا ہے اور صوبے کے بیشتر آبادی کاروبار اور روزگار چھوڑ کر باہر چلے گئے ہیں۔


مورخہ : 18.7.2014 بروز جمعۃ المبارک

ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین کی مستقلی کے احکامات جاری کیے جائیں ’’ سردار حسین بابک ‘‘ 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ورکرز ویلفیئر بورڈ کے مستقبل کے ساتھ نہ کھیلیں اور غریب ملازمین کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ان کی مستقلی کے احکامات کرے تاکہ ان کے خاندانوں کے افراد سُکھ کا سانس لے سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے دو ہزار سے زیادہ ملازمین گزشتہ کئی ماہ سے نہ صرف تنخواہوں سے محروم ہیں بلکہ موجودہ حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر غریب ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرکے ان کی جگہ اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو کہ ان ملازمین کیساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ان غریب ملازمین کو مستقل کر کے ان کیلئے سروس سٹرکچر کا اعلان کیا جائے ۔
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عجیب پالیسی اپنائی ہوئی ہے لوگوں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ اُلٹا برسر روزگار لوگوں کو روزگار سے نکالا جا رہا ہے اور یہ کام ہر ایک محکمے میں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کا کام لوگوں کو روزگار دلوانا ہوتا ہے لیکن عجیب تبدیلی ہے اور پہلی حکومت ہے کہ لوگوں کو بیروزگار کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے غریب ملازمین کو نکال کر اُن کی جگہ اپنے پیاروں کو نوازنا کونسا انصاف ہے ؟ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں غریب خاندانوں کے افراد سے زندگی کا حق چھین کر بڑے بڑے وعدے اور دعوے قوم کے ساتھ مذاق ثابت ہوا ہے۔
کراچی۔ جمعرات17 ا جولائی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ پختون تاجروں اور بے گناہ پارٹی ہمدردوں کو دہشت گرد سمجھ کر جعلی پولیس مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے سہراب گوٹھ میں سید قربان شاہ اور عارف ترین کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہیں پولیس میں شامل چند کالی بھیڑیں پورے محکمے کے لیے بد نما داغ ہیں پولیس آپریشن کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں مگر بے گناہوں کے قتل عام کی اجازت ہر گز نہیں دے سکتے اپنے ہر بے گناہ کے خون کا حساب لوں گاشہر کے امن کی خاطر احتجاج کو طول نہیں دیا ورنہ شہر کی اہم شاہراہوں کو چند منٹوں میں بلاک کرسکتے ہیں واقعے کے حوالے سے صوبائی حکومت اپنی خاموشی فی الفور ترک کرے سید قربان شاہ اور عارف ترین کے خون ناحق کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے اپنے شہداء کے اہل خانہ کو انصاف دلوانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں ہزاروں کارکنان نے احتجاج کیا مگر کسی گاڑی کا شیشہ تک نہیں ٹوٹا،ڈی جی رینجرز اور چیف جسٹس آف سندھ واقعے کا فوری نوٹس لیں۔
مورخہ : 17.7.2014 بروز جمعرات

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وزیر اعلیٰ کا احتجاجی جلوس پر حیرت اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بھی مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پر احتجاج کرنے لگی تو بیچارے عوام کہاں جائیں گے۔ 
اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نئی روایت قائم کر دی کہ حکومت بھی کرو اور احتجاج بھی کرو۔ پہلے اپوزیشن احتجاج کیاکرتی تھی اور حکومت مسائل حل کیا کرتی تھی اب حکومت نے سڑکوں کا رخ کر لیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے 14 اگست کے سونامی مارچ کیلئے پبلیسٹی کے طور پر استعمال کیا۔ اے این پی سمجھتی ہے کہ صوبے کے حقوق کیلئے جتنے بھی جتن کیے جائیں وہ کم ہیں۔ مکمل صوبائی خود مختاری ملنی چاہیے جبکہ واپڈا میں ہر صورت صوبے کے حقوق کی حفاظت لازمی ہے۔ جس کے حصول کیلئے حکومت کے پاس بہت طریقہ اور آپشن موجود ہیں۔ ان کے اپنے فورم ہوتے ہیں جس پر مختلف ایشو کو حل کیا جاتا ہے۔ جس طرح گزشتہ حکومت نے 18 ویں ترمیم کو متفقہ طور پر پاس کر کے صوبوں کے غصب شدہ حقوق حاصل کیے ۔ یہاں تک کہ بجلی بنانے کا اختیار بھی ملا اور تیل و گیس پر صوبائی حکومت کے مالکانہ حقوق بھی تسلیم کیے گئے مگر یہاں اُلٹی گنگا بہنے لگی ہے اگر صوبائی حکومت مرکزی حکومت سے سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے مسائل حل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں تو خیبر پختونخوا کی عوام حق بجانب ہونگے کہ وہ صوبائی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر اپنے مسائل کا حل تلاش کریں کیونکہ خیبر پختون خوا کی عوام نے پی ٹی آئی ہی کو مینڈیٹ دیا ہے مگر پی ٹی آئی صوبائی حکومت کو زینہ بنا کر مرکزی حکومت پر قابض ہونا چاہتی ہے نہ کہ صوبے کے مسائل حل کریں۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی مسائل کو حل کرنے کی بجائے اقتدار کے حصول کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے احتجاج میں اُس کی اپنی اتحادی جماعتیں اور وزراء کی اکثریت بھی غائب تھی۔ یہ احتجاجی جلوس انتہائی ناکام شو تھا جس سے صوبے کا کیس مزید کمزور پڑگیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 90 دن کے بجائے سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے کہ کوئی ایک مسئلہ بھی حکومت حل نہیں کر سکی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ صحت کے محکمہ میں صرف صحت کا انصاف کے نام پر ڈھونگ رچایا گیا۔ محکمہ تعلیم بری طرح ناکام ہوا یہاں تک کے یونیورسٹیوں کیلئے مختص فنڈز بند کر کے اسمبلی کے نمائندگان کو دئیے گئے۔ محکمہ اطلاعات کی تو بیخ کنی کی گئی۔ پی ٹی آئی کا میڈیا سیل قائم کر کے حکومتی محکمہ کو مکمل ختم کر دیا گیا۔ سی اینڈ ڈبلیو ، پبلک ہیلتھ ، ایریگیشن میں consultant لا کر ان کے ملازمین کو نظر انداز کیا گیا ان ملازمین کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان ناکامیوں کو چھپانے کیلئے صوبائی حکومت احتجاج کرنے پر اُتر آئی ہے تاکہ اپنی ناکامیوں کو چھپا کر عوام کی نظروں میں دھول جھونکیں۔ بدقسمتی سے حکومت مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور مرکزی حکومت نے بھی عجیب تماشہ بنا دیا ہے اُن کے واپڈا کے وزیر نے پریس کانفرنس کر کے عوام کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ، مایوسی اور نااُمیدی کی وہ فضا بنا دی کہ توبہ۔ یعنی نہ تو مرکزی حکومت مسائل حل کر رہی ہے اور نہ صوبائی حکومت مسائل کے حل پر کوئی توجہ دے رہی ہے۔ لہٰذا عوام کے ساتھ یہ گناؤنا کھیلنا بند کیا جائے اور سنجیدگی کیساتھ مسائل کے حل پر توجہ دیں ورنہ عوام ان کا کڑا احتساب کرے گی۔


مورخہ : 17.7.2014 بروز جمعرات
صوبائی حکومت کا محکمہ زکوٰۃ، اوقاف سے 38 ملازمین کو نکالنا افسوسناک ہے۔ 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں زکوٰۃ و اوقاف کے 38 ملازمین جن میں مساجد کے پیش امام ، مساجد کے خادم اور دیگر ملازمین شامل تھے۔ نوکریوں سے نکال کر رمضان کے مبارک مہینے میں عید سے پہلے ان کے غریب بچوں کوبیروزگاری کا تحفہ دے دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سرکاری ملازمین کی دُشمن بنی ہوئی ہے اور لوگوں کور وزگار دینے کے بجائے روزانہ لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور اُن کے اتحادیوں نے الیکشن سے پہلے نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن حکومت میں آنے کے بعد آئے روز روزگارنوجوانوں کو بیروزگار کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ زکوٰۃ و اوقاف نے رمضان المبارک میں مسجدوں کے پیش اماموں اور خادمین مساجد کو بیروزگار کر کے کونسا فریضہ سرانجام دیا ؟ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور غریب نوجوانوں کو روزگار پر لگا کراُن کے روز گار کو مستقل کرنا چاہیے اور اس بابرکت مہینے میں اس ظالمانہ اقدام سے اجتناب کرنا چاہیے۔
مورخہ : 16 جولائی 2014 ء

پشاور (پ ر) اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ صوبائی حکومت لوڈشیڈنگ کے نام پر ڈرامہ بازی کررہی ہے جبکہ عمران خان دھاندلی کی آڑمیں وزیراعظم بننے کے لئے شارٹ کٹ استعمال کررہے ہیں ،اصل دھاندلی تو اے این پی کے ساتھ ہوئی ہے کہ دیگر پارٹیوں کے امیدوار انتخابی جلسے کررہے تھے اوراہم اپنے کارکنوں کے جنازے اٹھاتے رہے لیکن ہم نے جمہوریت کے استحکام کی خاطر انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ہے وہ بدھ کے روز اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس میں یونین کونسل مردان خاص،ڈاگئی اور بغدادہ کے عہدیداروں سے خطاب کررہے تھے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار،ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،احمد بہادرخان ایم پی اے اور ارشد خان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ بجلی لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر صوبائی حکومت کی احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے احتجاج تو بے بس اور آخری حربے کے طور کی جاتی ہے جبکہ صوبائی وزیراعلیٰ نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حل کی بجائے احتجاج پر نکل کر واضح کردیا کہ وہ انتہائی بے بس وزیراعلیٰ ہیں انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف مگر مچھ کی آنسو بہانے کی بجائے خیبر پختون خوا کے عوام کی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی نے دہشت گردوں اورعسکریت پسندوں کا میدان میں مقابلہ کیاہے اورامن کی خاطر 8سوکارکنوں کی قربانیاں دے کر نئی تاریخ رقم کردی ہے عام انتخابات میں امیدوار اپنا انتخابی مہم چلارہے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے آگے ہمارے ہاتھ پاؤں باند ھ کر ہم کارکنوں کے جنازے اٹھاتے رہے لیکن جمہوریت کے استحکام کی خاطر پھر بھی انتخابی نتائج کو تسلیم کیا انہوں نے کہاکہ سوات آپریشن کے وقت جو لوگ ہم پر امریکہ نواز ،اسلام دشمن اورغدار ہونے کے فتوے لگاتے جاتے رہے آج وہی لوگ سینہ تان کر وزیرستان آپریشن کی حمایت کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان پنجاب کے چار حلقوں میں دھاندلی کی آڑ میں پختون خوا اسمبلی توڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو یہاں کے عوام کی مینڈیٹ کی سزا دینے کے مترادف ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان سیاسی کھیل کے لئے نئے کھلاڑی ہے اوراسے استعمال کیاجارہاہے تاہم اے این پی کسی بھی صورت میں جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دے گی اور موجودہ حکومت کو آئینی مدت پوری کرنے کے لئے کوشاں رہے گی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان سونامی اورآزادی مارچ پر سیاست کرناچھوڑدیں اورعوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اپنی تمام توجہ متاثرین کی بحالی اوران کی مدد پر مرکوزکریں انہوں نے کہاکہ ان کے دور میں سوات آپریشن کے دوران 25لاکھ متاثرین کی نہ صرف بھرپور مدد کی بلکہ ان کی باعزت واپسی کو ممکن بنایاجبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سے چند لاکھ متاثرین سنھبالے نہیں جاتے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ شدید گرمی اورماہ رمضان کے تقدس کا خیال رکھاجائے اور متاثرین کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے نقد امدادی رقوم میں اضافہ کیاجائے امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی کارکنوں کوہدایت کی کہ وہ حکومت کی وعدہ خلافیوں اورناقص کارکرگی سے عوام کو باخبر رکھیں اورپارٹی کی جڑیں مضبوط کرکے آپس کے اختلافات کو ختم کئے جائیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے پاس دنیا کے بہترین ورکرز ہیں اور وہ باچاخان اورولی خان کے سکھائے گئے اصولوں پر عمل پیرا ہیں ۔
مورخہ : 16 جولائی 2014ء 


عوامی نیشنل پارٹی پختونخو اکے جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت میاں افتخار حسین نے پشتو کے ممتاز شاعر فضل سبحان عابد اور پشتو کے عظیم گلوکار خوبصورت آواز کے مالک ، لوک فنکار اورصدارتی ایوارڈ یافتہ احمد گل کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اُنہوں نے موجودہ حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ احمد گل کیلئے فوری طور پر مالی امداد کا اعلان کریں کیونکہ وہ اپنی جمع پونجی اپنی زوجہ کے علاج پر صرف کر چکا ہے اس لیے اُن کی مالی امداد کی جائے تاکہ وہ اپنے اہل و عیال اور بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی طرح کر سکے اور اس مالی امداد سے اُن کی مشکلات میں کسی حد تک کمی آ سکے۔ جبکہ فضل سبحان عابدکی حالت انتہائی تشویشناک ہے اوروہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے لہٰذا اُن کے بہتر علاج معالجے کو اپنا اولین فرض سمجھ کر اُن کی زندگی بچانے کی بھر پور کوشش کی جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ فضل سبحان عابد نے اپنی پشتو شاعری کے ذریعے پشتو زبان کی ناقابل فراموش خدمت کی ہے۔ 
اُنہوں نے کہا کہ فضل سبحان عابد اور احمد گل ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور کسی بھی صورت اس سرمائے کو ضائع ہونے نہیں دیا جائے۔ اور حکومتی سطح پر ان کیلئے مالی امداد اور علاج کو یقینی بنایا جائے۔
مورخہ:16-7-2014 برو زبدھ 

پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے پارلیمانی قائد او ر ترجمان سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور تحریک انصاف بجلی کے مسئلے پر عوام کو بے وقوف بنارہی ہیں ان کا احتجاج مضحکہ خیز اور خالصتاًدھوکے پر مبنی ہے ۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی تمام تر جدوجہد کا مقصد صرف اور صرف اقتدار کا حصول ہے ، اب بھی عوامی مسائل کی بجائے نام نہاد آزادی مارچ بجلی کی لوڈشیڈنگ ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف نہیں ہورہا بلکہ اقتدار پر قبضے کی خاطر ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر احتجاج کی کال ووٹ بینک کی سیاست کے دفاع کے بغیر کچھ نہیں ۔ عمران خان نے صوبے میں ساڑھے تین سو ڈیموں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا اور نوے دنوں میں مسائل کے حل کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ دونوں وعدے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا اور کچھ نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں عوامی مسائل کے حل میں مخلص نہیں ۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عوام گرمی اور لوڈشیڈنگ کی صلیب پر آویزاں ہیں اور دونوں حکومتیں سیاسی بیانات اور حربوں کا استعمال کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بجلی کے مسئلے کے حوالے سے پختونخوا کیس کو کمزور کردیا ہے ۔ اے این پی کے دور میں رمضان المبارک کے دوران صوبائی اور مرکزی حکومت کی مشاورت کی وجہ سے پختونخوا میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹکراؤ اور محاذ آرائی کی وجہ سے اس صوبے کے عوام ضائع ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے احتجاج کو ڈھونگ قرار دیا اور کہا کہ صوبائی حکومت عام آدمی کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے اور اس قسم کے ڈراموں کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے ۔ 
مورخہ:15-7-2014 برو زمنگل 

پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدرخا ن ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات و ترجمان سردارحسین بابک کی طرف سے بٹگرام گاڑی حادثے میں جاں بحق افراد کے غم زدہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہیں۔ 
باچاخان مرکز پشاور سے جاری کردہ ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دُعاکی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کی فوری اور خصوصی علاج معالجے کے انتظام کو یقینی بنائیں۔ 
انہوں نے جاں بحق افراد کے پسماندگان کیلئے دُعاکی کہ اللہ تعالیٰ اُن کو صبر جمیل عطافرمائیں اور جاں بحق افراد کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس نصیب فرمائیں۔ 




مورخہ:15-7-2014 برو زمنگل 


پشاور ( پ ر) اے این پی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف سہ فریقی اتحاد کا وائٹ پیپر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے گااور نئے پاکستان کے جھوٹے دعویدار عوام کے سامنے خود بخود بے نقاب ہوجائیں گے ،حکومت شمالی وزیرستان آپریشن کو جلد منطقی انجام کو پہنچا کر متاثرین پر سیاست کی بجائے ان کے دکھ درد اورمسائل میں کمی کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں،اقتدار ہماری مجبوری نہیں ہم پختون قوم کومسائل کے دلد ل سے نکالنے اور اپنی دھرتی کی بے لوث خدمت اپنا فرض سمجھتے ہیں وہ ہوتی ہاؤس میں یونین کونسل بجلی گھر ،بغدادہ اور کینٹ کے صدور اورجنرل سیکرٹریز کے اجتماع سے خطاب اورپارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات وپارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک ایم پی اے کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو کررہے تھے اجتماع سے پی کے 23سے رکن اسمبلی احمدبہادرخان ،اے این پی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ایڈووکیٹ اورجنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہمارے صوبے کوغیر معمولی حالات کا سامناہے اورایسے میں ہم قطعی طورپر غیر یقینی سیاسی صورتحال پیدا کرنے اور حکومت کے راستے میں رکاؤٹ ڈالنے کے حق میں نہیں تاہم عمران خان خود میدان سے فراراختیا رکررہے ہیں سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ عام انتخابات میں عوام نے تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ دیا جسے ہم نے دل سے تسلیم کیا ہے انتخابات کے دوران تبدیلی ،سستے انصاف، بے روزگاری کے خاتمے اور نئے پاکستان کے جو وعدے کئے گئے تھے لیکن حکومت تبدیلیاں صرف کابینہ کے وزراء تک محدود ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی ،پی پی اور جے یو آئی پر مبنی سہ فریقی اتحاد بہت جلد حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے وائٹ پیپر شائع کرے گی جس میں حقائق اوراعداد وشمار کے ذریعے حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیاجائے گا جس سے عوام کے سامنے حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوجائے گا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عوام کے مسائل کے نجات دہندہ ہونے کے دعویدار عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں غریب شہری مہنگائی اوربے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آچکے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے مطالبہ کیاکہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کو جلد منطقی انجام کو پہنچاکر متاثرین کی باعزت واپسی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اورمتاثرین پر سیاست کی بجائے ان کے مسائل اورمشکلات کے حل پر توجہ دی جائے انہوں نے کہاکہ ہمارے دور میں خزانہ بھرا تھا ہر طرف ترقیاتی عمل جاری تھا موجودہ حکومت نے گذشتہ ایک سال میں عوامی ریلیف کے لئے کوئی اقدام اٹھایا اور نہ ہی صوبہ بھر میں ایک اینٹ تک رکھی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ان پر مردان کی ترقی کے حوالے سے یہ الزام عائد کیاجارہاہے کہ ان کے دورحکومت میں گویا پورے صوبے کا فنڈز مردان پر خرچ کردیاگیاہے انہوں نے کہاکہ یہ تاثر قعطاً غلط ہے کہ ان کے دور میں کسی ضلع کا حق مار کر مردان اس کے فنڈز مردان منتقل کردیئے گئے ہوں انہوں نے کہاکہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ انہوں نے اپنے دورمیں مردان کے تمام مسائل حل کئے تاہم اتنے منصوبے ضرورلائیں جس پر آئندہ پانچ سالوں تک کام جاری رہے گا ان کاکہناتھاکہ انہوں نے مردان کو ان کا حق دیا ہے اور اگر عوام نے دوبارہ موقع دیا تو ترقی کے منزل کو پانے کے لئے نئے سرے سے سفر کا آغاز ہوگا امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ ہمیں منزل پانے کے لئے ہمیں پختون قوم میں بیداری پیدا کرنا ہوگی انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ پختونوں کو سرخ جھنڈے تلے اکھٹا کرنے کے لئے ہمیں مشاورت اور جرگوں کے ذریعے اپنے بھائی چارے کو مضبوط کرناہوگا۔


مورخہ : 15.7.2014 بروز منگل

پختونوں اور فلسطینیوں پر مظالم بند کیے جائیں ’’ سردار حسین بابک ‘‘
دونوں اقوام ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں تمام مذہبی و سیاسی مظلوموں کے حقوق کیلئے بلا امتیاز آواز بلند کریں۔

پشاور (پ ر) فلسطینیوں پر ڈھائے گئے مظالم کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطین کے نہتے عوام پر بمباریاں اور جنگی کارروائیاں قابل مذمت ہیں تاہم فلسطینی عوام کا بلند حوصلہ سراہے جانے کے لائق ہے ، عالمی برادری اسرائیل کے ان مظالم کو روکنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھائے ۔ ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ پختونوں اور فلسطینیوں کے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کی فوری روک تھام کیلئے نہ صرف سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ان کی بحالی کیلئے بھی دُنیا کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے فلسطین کے عوام کیساتھ اظہار یکجہتی قابل تعریف ہے۔ لیکن پاکستان کے اندر پختونوں کے ساتھ زیادیتوں اور بے گناہ ہلاکتوں کیلئے بھی اسی طرح یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جس طرح ساری دُنیاکے اسلامی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کے خلاف ایک ہو گئی ہیں اسی طرح دہشتگردی اور دہشتگردوں کے شکار پختونوں کیساتھ اظہار یکجہتی اور دہشتگردوں کے خلاف متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے اور معصوم پختون بچوں کی حق نمائندگی ادا کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ظلم اور دہشتگردی دُنیا کے کسی کونے میں بھی ہو تمام سیاسی اور حکومتی قوتوں کو ان کے خلاف یکسوئی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا جس طرح فلسطین پر مظالم کو اُجاگر کر رہا ہے وہ قابل ستائش ہے تاکہ ظالم اور دہشت اور وحشت پھیلانے والوں کو مضبوط جواب مل سکے لیکن ساتھ ہی دہشتگردی اور باطل قوتوں کے شکار معصوم پختون قوم کے ساتھ زیادتیوں اور بربریت کو اُجاگر کرنا بھی عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے۔
مورخہ:13-7-2014 برو ز اتوار 

پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدرسینیٹر حاجی محمد عدیل نے کہا کہ وزیرستان کے لاکھوں پختونوں کا اپنے گھروں اور علاقہ سے بے دخل ہونا ملک و قوم کی خاطر قربانی دینے والوں کی ہر ممکن امداد جاری رکھنا اولین فرض میں شامل ہے جبکہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان رابطے کی فقدان ہے ۔ صوبائی حکومت اپنی اپنی طرف سے اور وفاقی حکومت اپنی طرف سے کاموں میں مصروف ہیں اور وزیرستان کی متاثرین جو کہ اپنے ملک میں مہاجرین جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔حالانکہ ان کو چاہیے کہ دونوں حکومتیں مل جل کر ایک دوسرے سے رابطے کرنے کی اہم اضرورت ہے اور متاثرین کو سہولتیں فراہم کرنا دونوں کی ذمہ داری ہیں لیکن افسوس اس بات کی ہے کہ یہ لوگ اس دوسرے سے بے خبر ہیں اور اس سخت گرمی اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں متاثرین امدادی اشیاء اور دیگر ضروریات زندگی سے محروم ہیں ۔ 
انہوں نے کہا کہ حکومت وزیرستان کے متاثرین کے جلد سے جلد اور ترجیحی بنیادوں پر بحالی کیلئے منصوبہ بندی کرانے کی اشد ضرورت ہے ، تاکہ یہ لوگ باعزت طریقے سے اپنے علاقوں اور گھروں کو واپس جا سکے ۔ 


مورخہ:13-7-2014 برو ز اتوار 

پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ یہ بیان میں اس حوالے سے نہیں دے رہا کہ حکومت کو بُرا بھلا کہوں ، یا لعن طعن کہوں، بلکہ بہت دُکھ کے ساتھ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سب سے اہم اور بنیادی محکمہ اطلاعات کام کے لحاظ سے سب سے نہایت اور نمایاں محکمہ ہے ۔ حکومت کی موجودہ پالیسی نے برباد اور تہس نہس کر دیا ہے جو انفامیشن ڈیپارٹمنٹ سے بحیثیت وزیر میں کم و بیش پانچ سال منسلک رہا اور اس دوران میں نے بھرپور کوشش کی کہ ایمانداری کے ساتھ اس محکمے کو فعال اورمضبوط تر بناؤں ۔
انہوں نے کہا کہ اس زمرے میں پانچ سال کے دوارن انفارمیشن کا کردار مثالی رہا اور حکومتی ترجمانی کا بھرپور حق ادا کیا ۔ یہاں تک کہ ہم نے اس میں تو سیع کرکے خیبر پختونخوا ایف ایم ریڈیو کی بنیاد رکھی جو آج بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، اور پختونخوا ٹی وی کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائے تاکہ اس کو جلد از جلد شروع کیا جاسکے ۔ مگر ملک کی پالیسیوں کی وجہ سے سب کچھ تیاریوں کے باوجود ٹی وی کے اجراء نہ کر سکے ، یعنی بلڈنگ کی دستیابی اور 20کروڑ روپے منظور کرائے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں ۔ میں اس وقت مزید تفصیل میں نہیں جا سکتا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو وقت کے مناسبت سے بہت اہم سمجھا اور اس کی توسیع کو ضروری سمجھا ۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مجھے اور میری ڈیپارٹمنٹ کوشدید خطرات لاحق تھیں میں نے اس ڈیپارمنٹ کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات اُٹھائے اور سیکیورٹی کے انتظامات بھی کئے ۔ مگر میں اس وقت انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین اعلیٰ سے لیکر ادنی درجے تک سب کا تہہ دل مشکور ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انتہائی خطرے کے باجود وہ جان فشانی سے کام کرتے رہے ۔ لہٰذا آج اُن کی اس صورتحال کو دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے بنیادی طور پر انفارمیشن محکمے کو کوئی اہمیت نہیں دی اور جب وزارتوں کی بندر بانٹ کرنے لگے تو اس وقت کوئی اس کو لینے کیلئے تیار ہی نہیں تھا اور جس کو بھی دیا گیا تو ایک اضافی بوجھ سمجھ کر ایک بہت بڑے محکمے رکھنے والے وزیر کو تھما دیا ۔ یعنی اصل محکمہ اس کا اور ہوتا تھا اور اضافی محکمہ کے طور پر اطلاعات ڈیل کرتا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس عدم دلچسپی کی وجہ سے ڈیپارٹمنٹ میں انتشار پیدا ہوا اور اس مختصر مدت میں کافی وزراء تبدیل کردئے گئے ۔ بجائے اس کے کہ اس ڈیپارٹمنٹ کو مزید مضبوط بنایا جاتا اس کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور آج محکمہ اطلاعات کے 115 ملازمین کو نکال کر دیگر محکموں میں کھپایا جارہا ہے ۔ اس محکمے میں 18 ،19 گریڈ کے افسران کو 17 میں رکھا جارہا ہے جو بالکل رول ریگولیشن کے خلاف ورزی ہے ، ان کے مستقبل کو تاریک کر دیا گیا اور انفارمشن ڈیپارٹمنٹ سے آثار قدیمہ بناکر رکھ دیا ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں میڈیا سل بناکر اپنے منظور نظر لوگوں کو 19گریڈ میں بھرتی کیا گیا ۔ یعنی مستقل ملازمین کی مستقبل کو داؤ پر لگا کراپنے منظور نظر کیلئے جکہ خالی کی گئی، جو اقرباپروری ، کرپشن اور بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فی الفور اس فیصلے کو واپس لیا جاے اور محکمہ اطلاعات کے تقدس کو بحال کیا جائے اور اس محکمے کے ملازمین کے عزت نفس کو جو دھچکا پہنچا ہے اس کا آزالہ کیا جائے ۔ 
انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہو اتو ہم محکمہ اطلاعات کے ملازمین کے ساتھ جو ناروا اور امتیازی سلوک کیا گیا ہے ہم بھرپور اُن کا ساتھ دیں گے ۔ اس صوبے کے مستقبل کی خاطر اور انفارمیشن دیپارٹمنٹ کی اہمیت کی بنیاد پر ہم محکمہ اطلاعات کے ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور نہ حکومت کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ حکومتی محکمے کو نیست ونابود کرکے اپنی مرضی کا میڈیاسل بنا کر من مانی کرے ۔ لہٰذا میں ان کوتجویز پیش کرتا ہوں کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو اضافی اور غیر اہم ڈیپارٹمنٹ نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو چیلنج سمجھ کر ایک منجھے ہوئے وزیر کو صرف ایک ہی محکمہ سونپا جائے تاکہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے محکمہ اطلاعات کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کیا جائے اور ملازمین کی محرومیوں کا خاتمہ ہو سکے ۔ 


مورخہ:13-7-2014 برو ز اتوار 

پشاور: ( پ ر ) حکمران احتجاج پر تو عوام کہاں جائیں ۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی ترجمان سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے لوڈشیڈنگ کی کال حیران کن ہے اور اگر حکمران اتنے بے بس ہیں تو صوبے کے عوام کس سے پوچھیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت احتجاج کی بجائے صوبے کے ناکارہ ٹرانسفارمرز کیلئے فوری طور پر فنڈز مختص کرلیں تاکہ صوبے کے عوام چندوں سے ناکارہ ٹرانسفارمرز ٹھیک کرنے سے سُکھ کا سانس لے سکیں۔ 
انہوں نے کہا کہ 350 ڈیم بنانے کا وعدہ کرنے والے حکومت احتجاج کرنے سے عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے بلکہ اے این پی حکومت پر الزامات لگانے والے اور 90 دنوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعویداروں کو اب عوام کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات ٹکراؤ کی سیاست کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ لہٰذا احتجاجوں کی بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ دھرنوں اور احتجاجوں پر لوگوں کو اُکسانے والے مرکزی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر بجلی پیداوارکے منصوبوں پر کام شروع کرکے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کام کا آغاز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی عجیب طریقہ سیاست ہے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی احتجاج اور حکومت میں آتے ہی بھی احتجاج ۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کی وجہ سے ٹرانسفارمرز خراب ہوجاتے ہیں اور صوبے کے اکثر علاقوں میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ لہٰذا صوبائی حکومت خراب ٹرانسفارمر کی مرمت کیلئے فنڈز ریلیز کرلیں اور مرکزی حکومت کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے بیٹھ کر سنجیدہ اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔ 


مورخہ : 13.7.2014 بروز اتوار

پشاور ( پ ر ) عمران خان لانگ مارچ اور دھرنوں کے بجائے متاثرین کی امداد پر توجہ دیں۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ عمران خان لاکھوں پختونوں کا اپنے گھروں اور علاقوں سے بیدخل ہونے اور ملک و قوم کی خاطر قربانی دینے والوں کی امداد کی بجائے نان ایشوز میں مصروف ہے۔ جس سے پختونوں کے زخموں پر نمک پاشی ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان کی اس صوبے میں حکومت ہے اور دہشتگردی کی اس جنگ میںیہ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ لہٰذا عمران خان اخلاقی طور پر اپنے آپ اور قوم کو نان ایشوز میں اُلجھا کر لاکھوں پختونوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کے اتنے لوگ بے گھر ہوتے اور بیدخل ہوتے تو نواز شریف اور عمران خان اکٹھے سارے ملک اور دُنیا میں اُن کی امداد کیلئے در در کے چکر لگاتے لیکن چونکہ بدقسمت پختون ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ اس لیے عمران خان اور نواز شریف دونوں بے فکر ہیں ایک حکومت گرانے کے چکر میں اور دوسرا بچانے کے چکر میں لگے ہیں اور لاکھوں متاثرین جنگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صرف اعلانات تک اپنے آپ کو محدود کر دیا ہے۔ جبکہ اس وقت متاثرین وزیرستان کی حالت اور مسئلے نے انسانی مسئلے کی شکل اختیار کر دی ہے۔


مورخہ:13-7-2014 برو زاتوار

پشاور: ( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ متاثرین وزیرستان کی ہر ممکن امداد جاری رکھنی چاہیے۔ یہ بات انہوں نے مردان میں اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ 
انہوں نے کہا کہ کہ وزیرستان کے غیور پختون بہن بھائی ملک و قوم کی بقا کی جنگ کی خاطر اپنی گھر بار چھوڑگئے ہیں لیکن مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتیں غیرسنجیدگی کا مظاہر ہ کرر ہے ہیں اور اس سخت گرمی اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں لاکھوں لوگ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔ 
انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں کو اپنی تمام ترتوجہ متاثرین کی آبادکاری اور انہیں ضروریات زندگی بروقت اور بہم پہنچانے کیلئے دن رات ایک کرنی چاہیے۔ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ حکومت کو متاثرین جنگ جلد از جلد واپسی کیلئے منصوبہ بندی تیار کرنی چاہیے اور ان کی ان کے اپنے علاقوں میں دوبارہ آبادکار ی اور تعمیر نو کے کام کیلئے پوری طرح سے ابھی سے تیاری پکڑ لینی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کو دل کھول کر متاثرین جنگ کی بھرپور امداد کرنی چاہیے اور دونوں حکومتیں فوٹو سیشن کی بجائے ان بے گھر افراد کی صحیح اور باعزت طریقے سے امداد کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے غیور عوام باالخصوص اور سارے صوبے کے عوام باالعموم ان لاکھوں افراد کی امداد پر خراج تحسین کے قابل ہیں اور ان کی یہ کاوش قابل ستائش ہے۔ 


مورخہ : 12.7.2014 بروز ہفتہ


پشاور ( پ ر ) عمران خان لانگ مارچ اور دھرنوں کے بجائے متاثرین کی امداد پر توجہ دیں۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ عمران خان لاکھوں پختونوں کا اپنے گھروں اور علاقوں سے بیدخل ہونے اور ملک و قوم کی خاطر قربانی دینے والوں کی امداد کی بجائے نان ایشوز میں مصروف ہے۔ جس سے پختونوں کے زخموں پر نمک پاشی ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان کی اس صوبے میں حکومت ہے اور دہشتگردی کی اس جنگ میںیہ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ لہٰذا عمران خان اخلاقی طور پر اپنے آپ اور قوم کو نان ایشوز میں اُلجھا کر لاکھوں پختونوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کے اتنے لوگ بے گھر ہوتے اور بیدخل ہوتے تو نواز شریف اور عمران خان اکٹھے سارے ملک اور دُنیا میں اُن کی امداد کیلئے در در کے چکر لگاتے لیکن چونکہ بدقسمت پختون ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ اس لیے عمران خان اور نواز شریف دونوں بے فکر ہیں ایک حکومت گرانے کے چکر میں اور دوسرا بچانے کے چکر میں لگے ہیں اور لاکھوں متاثرین جنگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صرف اعلانات تک اپنے آپ کو محدود کر دیا ہے۔ جبکہ اس وقت متاثرین وزیرستان کی حالت اور مسئلے نے انسانی مسئلے کی شکل اختیار کر دی ہے۔


مورخہ:12-7-2014 برو زہفتہ 

پشاور: ( پ ر ) اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ متاثرین وزیرستان کی ہر ممکن امداد جاری رکھنی چاہیے۔ یہ بات انہوں نے مردان میں اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ 
انہوں نے کہا کہ کہ وزیرستان کے غیور پختون بہن بھائی ملک و قوم کی بقا کی جنگ کی خاطر اپنی گھر بار چھوڑگئے ہیں لیکن مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتیں غیرسنجیدگی کا مظاہر ہ کرر ہے ہیں اور اس سخت گرمی اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں لاکھوں لوگ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔ 
انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں کو اپنی تمام ترتوجہ متاثرین کی آبادکاری اور انہیں ضروریات زندگی بروقت اور بہم پہنچانے کیلئے دن رات ایک کرنی چاہیے۔ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ حکومت کو متاثرین جنگ جلد از جلد واپسی کیلئے منصوبہ بندی تیار کرنی چاہیے اور ان کی ان کے اپنے علاقوں میں دوبارہ آبادکار ی اور تعمیر نو کے کام کیلئے پوری طرح سے ابھی سے تیاری پکڑ لینی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کو دل کھول کر متاثرین جنگ کی بھرپور امداد کرنی چاہیے اور دونوں حکومتیں فوٹو سیشن کی بجائے ان بے گھر افراد کی صحیح اور باعزت طریقے سے امداد کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے غیور عوام باالخصوص اور سارے صوبے کے عوام باالعموم ان لاکھوں افراد کی امداد پر خراج تحسین کے قابل ہیں اور ان کی یہ کاوش قابل ستائش ہے۔ 


مورخہ : 12.7.2014 بروز ہفتہ


پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ فلسطینی ہمارے بھائی ہیں اور ہم اپنے مسلمان بھائیوں پر کسی بھی صورت ظلم برداشت نہیں کرینگے ۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول ہے اوریہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غیرمسلح فلسطینیوں کے خلاف ہمیشہ بے جاطاقت کا استعمال کیا اور نہتے فلسطینیوں کیخلاف ظلم اور بربریت کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ اسرائیل تشدد کی پالیسی چھوڑ کر عدم تشدد کی پالیسی اپناکر امن کا راستہ اختیار کرے ۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم غزہ کی عوام کے ساتھ ہے اور آزاد خودمختار فلسطینی ریاست کی حمایت کرینگے۔
کراچی11،جولائی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے شہر قائد میں نیگلیریا سے پھیلنے والے امراض اور اموات پر نہایت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں سے حاصل کردہ پانی کے نمونوں میں کلورین کانہ پایا جانایا مطلوبہ مقدار میں نہ ہوناکراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے افسران اور اہلکاروں کی نا اہلی اور حکمرانوں کیلئے لمح�ۂ فکریہ ہے تحقیقات سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ نیگلیریا سے ہونے والی اموات کی وجہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کا نہ ہونا ہے یہ جراثیم صاف پانی کا جراثیم ہے یہ ذخیرہ کئے ہوئے پانی میں اُس وقت افزائش پاتا ہے جب اس میں کلورین نہ ملی ہوئی ہو پچھلے سال بھی اخباری رپورٹ سے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ گھریلو استعمال کا پانی بغیر کلورین کے سپلائی کیا جا رہا تھااور ادارے کے افسران نے صرف بیانات دے کر اپنی جان چھڑالی تھی ۔ سینیٹر شاہی سید نے کہاکہ ادارے کے افسران اور اہلکار خدا کا خوف کریں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کریں اس شہر میں بسنے والی عوام پر رحم کریں یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے اس لئے کسی بھی ذمہ دار کو معاف نہیں کیا جائے۔انہوں نے مذید کہا کہ کیا ہر مسئلے کی طرف میڈیا ہی توجہ دلا ئے گا یا حکومت اور اس کی مشینری بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل نہ ہونے پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔


مورخہ : 11.7.2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے چمکنی پولیس مقابلہ میں شہید ہیڈ کانسٹیبل مختیار اور کانسٹیبل حمیداللہ کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں مقابلے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ 
اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس نے بے پناہ قربانیاں دیں اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف لڑنے والے پولیس شہداء کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ملک و قوم کیلئے اُن کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
اُنہوں نے غمزدہ خاندانوں کیساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کی ہے کہ وہ شہداء کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔


مورخہ : 11.7.2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور ( ) عالمی ادارہ صحت کا صوبائی حکومت کے پولیو پروگرام پر عدم اطمینان کا اظہار تشویشناک ہے۔ اے این پی کے صوبائی ترجمان و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو مہم کو مذاق اور پیسوں کا ضیاع سمجھنا صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کاری ضرب ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ابتداء ہی سے پولیو مہم کو صوبائی حکومت کی طرف سے اپنی پارٹی کی تشہیری مہم کے طور پر استعمال کیا گیا نہ کہ مہلک امراض کے خاتمے کے طور پر جبکہ عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں کھل کے صوبائی حکومت کی پولیو مہم کو نہ صرف ناکام بلکہ تشہیری مہم قرار دے دیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے اپنی بے جا مداخلت 249 اقرباء پروری اور بڑے پیمانے پر صوبے کے اداروں اور محکموں کو بھیجنا تمام بین الاقوامی اداروں کے تعاون اور امداد سے تقریباً محروم ہو گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی عادت رہی ہے کہ سرکاری وسائل کو پارٹی کیلئے استعمال کرنا اور بین الاقوامی اداروں کی ضوابط و شرائط کو پامال کرنا صوبائی حکومت پر بیرونی اداروں کی عدم اعتماد کی وجہ بن گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیو سمیت تمام مہلک امراض کے خاتمے کیلئے بیرونی اداروں کے مروجہ ضوابط کے مطابق عمل پیرا ہو گی تو صوبے کو فائدہ ہوگا ۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں کو بھی بے جا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ اسی صوبے میں کام کرنے کے بجائے دوسرے صوبوں کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں جو کہ صوبے کا بہت بڑا نقصان ہے۔
مورخہ:10-7-2014 برو زجمعرات 
پشاور، اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے سوات میں ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں پارٹی رہنما اورامن کمیٹی کے رکن خان صیب کی
ہلاکت پر گہرے دکھ اورغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی ناکامی قراردیاہے متاثرہ خاندان کے سربراہ نعمت علی خان سے ٹیلی فون پر تعزیت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ حکومت شہریوں کو جان ومال کا تحفظ دینے میں ناکام اوراپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوچکی ہے انہوں نے کہاکہ اس قسم کے واقعات کے جس قدر دہشت گرد ذمہ دارہیں اس کی اتنی ہی حکومت بھی ذمہ دارہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اب تک متاثرہ خاندان کے دس افراد جام شہادت نوش کرچکے ہیں انہوں نے کہاکہ دہشت گرد اے این پی کے دیرینہ کارکنوں کو چن چن کر قتل کررہے ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی کا کردار اداکررہی ہے امیر حیدرخان ہوتی نے کہاکہ ملک اورامن کی بقا کیلئے اے این پی کے کارکنوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے 8سو کارکنوں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے دے کر ملک دشمن عناصر کے سامنے سیہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ سابق وزیراعلیٰ نے اس واقعے میں ملوث ملزمان کی جلد ازجلد گرفتاری اورمتاثرہ خاندان کو تحفظ دلانے کامطالبہ کیااورکہاکہ حکومت اے این پی کے کارکنوں کے صبر کا امتحان نہ لیں حکومت اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ہمارے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرے۔
مورخہ:10-7-2014 برو زجمعرات 

پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدرخان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات و پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے اے این پی سوات کے رہنما خان صاحب ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں اور بزدلانہ کاروائیوں کے ذریعے باچاخان باباؒ اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان باباؒ کے پیروکاروں کو نہیں دبایا جا سکتا بلکہ اُن کے حوصلے اور عزائم اور بھی مضبوط ہوں گے ۔ 
باچاخان مرکز پشاور سے انہوں نے اپنے ایک مشترکہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ خان صاحب اے این پی سوات کے رہنما مظفر علی خان جو کہ کچھ عرصہ پہلے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کیا گیا تھا ، کے خاندان کا دسواں فرد ہے جو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے علم میں ہے کہ یہ خاندان دہشت گردوں کے ہٹ لسٹ پر ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اس خاندان کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہے ۔ 
انہوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس خاندان کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بناکر ان کو فُل پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے ۔ انہوں نے پارٹی کے مقامی شہید رہنما کے خاندان سے مکمل یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے پسماندگان کیلئے صبر جمیل اور اُن کے درجات کی بلندی کیلئے دُعا کی ہیں۔ 
کراچی۔بدھ 09 جولائی 2014ء
نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی نومنتخب کابینہ کی مردان ہاؤس میں عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید سے ملاقات کی ،ملاقات میں تنظیمی صورت حال پر غور کیا گیا اور نو منتخب کابینہ نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا اس موقع پر سینیٹر شاہی سید نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صدر نور اسلام صافی ،جنرل سیکریٹری کامریڈعطاء خان سمیت تمام کابینہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کا مستقبل آپ سے وابستہ ہے نوجوان آگے بڑھ کر قوم کی باگ دوڑ سنبھالنے کے لیے ذہنی و فکری طور پر تیاری کریں پختون قوم انتہائی مشکل ترین دور سے گزررہی ہے پختون دھرتی خون میں نہائی ہوئی ہے ایک مذموم سازش کے تحت ہمیں انتہاء پسند کی حیثیت سے پیش کرنے کی سازش کی جارہی ہے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے کارکنان آگے بڑھیں ا ور تعلیمی و علمی و ثقافتی سرگرمیوں ے ذریعے دنیا کے سامنے اپنا اصل چہرہ پیش کریں اپنی قومی سیاست اور اسلاف کے افکار سے آگاہ نوجوان قوم کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں قوم کے نوجوانوں کی درست رہنمائی آپ کی اولین ذمہ داری ہے ملاقات میں اے این پی سندھ سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری بھی موجود تھے ملاقات کرنے والی این وائی او کی کابینہ میں صدر نور سلام صافی،جنرل سیکریٹری کامریڈ عطا ء خان ،سینئر نائب صدر دوست محمد خان ، سیکریٹری اطلاعات کاوش انجم ،نائب صدور عباس طوری،افتخار خان،ارشد افغان،ابراہیم خان ،رابعہ خان ،ڈپٹی جنرل سیکریٹری خضر حیات ،ایڈیشنل جنرل سیکریٹری امتیاز خان ،جوائنٹ سیکریٹری رانا وقاص،عامر خان ، فیاض خان ،ظاہر خان ،بی بی لاریب ،کلچرل سیکریٹری اسلم شام مندوخیل شامل تھے ۔
مورخہ : 9.7.2014 بروز بدھ


جنوبی اضلاع کے غیور پختونوں نے دل کھول کر متاثرین وزیرستان کی امداد جاری رکھی ہوئی ہے۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ غیور پختونوں اور خصوصی جنوبی اضلاع کے عوام متاثرین وزیرستان کی جس طرح فراخدلی سے خدمت کر رہے ہیں پختون ولی کی روایت زندہ کر دی ہے۔ 
سردار حسین بابک نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں بہنوں ، بھائیوں اور بزرگوں کو اپنے سینے سے لگا کر اپنی رہائش گاہوں میں جگہ دیکر اور انپے کھانوں میں شریک کر کے نہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ کو دوام بخشا ہے بلکہ تاریخ میں پختون ولی کو زندہ رکھ کر پختونوں کے سر فخر سے بلند کر دیئے ہیں۔ جنوبی اضلاع کی عوام اس تاریخی خدمت پر شاباش کے لائق ہے اُنہوں نے کہا کہ غیور پختونوں کی تاریخی امداد کی وجہ سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی غفلت اور کوتاہی پر پردہ پڑا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں کیلئے غیور پختونوں نے کام آسان بنا دیا ہے اور اُنہیں صحت کے مسائل ، پینے کے پانی کے مسائل اور دیگر ضروریات زندگی فوری طور پرفراہمی کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھانے چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں متاثرین وزیرستان کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پختونوں نے ہمیشہ ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دیں ہیں۔ اس سخت حالات میں ملک کی تمام عوام کو دل کھول کر متاثرین کی امداد کرنی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی ٹال مٹول پالیسی سے حالات ہاتھ سے نکل جائیں گے اور یہ کہ لاکھوں متاثرین جنگ کی امداد کے ساتھ ساتھ ان کے دل و دماغ کو جتنا دہشتگردوں کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرین وزیرستان کے ملکی اور غیر ملکی اداروں اور اشخاص کی امداد بھی قابل ستائش ہے۔
کراچی 08، جولائی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدرسینیٹر شاہی سید نے نیپرا کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کی درخواست اوروفاقی حکومت کی جانب سے عوام پر بجلی گراتے ہوئے سنڈی کیٹڈٹرم کریڈٹ فنانس کی مد میں 240 ارب روپے صارفین سے وصول کرنے کے فیصلے کی خبر پر انتہائی تشویش اور شدید نقطہ چینی کی ہے اور مہنگائی اور بیروزگاری کے دور میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ کی خبر کو عوام پر ظلم و بربریت اور ان کا معاشی قتل قرار دیا ہے۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ حکومتیں عوام کو سہولت پہنچانے کیلئے اقدامات کرتی ہیں لیکن بد قسمتی سے اس ملک میں اسکے با لکل برعکس ہے وفاقی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے آئی ایم ایف کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے حکمرانوں نے انتخابات سے پہلے عوام کو خوشحالی کے جو خواب دکھائے تو وہ دھول ہوگئے ہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں بیروزگاری عروج پر ہے لوگ اپنے بچوں کو غربت ،بھوک اور مفلسی کی وجہ سے کچرے کے ڈھیروں میں پھینک رہے ہیں۔ماضی کی طرح آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے بجلی سمیت دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا راستہ اختیا ر کیا ہے جو افسوسناک اور عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے حکمرانوں کی بے حسی پر نہایت افسوس ہے حکمران اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے کے بجائے غریب عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں عوام دہشتگردی، بے روزگاری اور مفلسی کا شکا رہیں بجلی کے نرخوں میں اضافہ سے عوام خود کشی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے بجلی کے نرخوں میں اضافہ سے مہنگائی اور ضرورت زندگی کی ہر شے میں مذید اضافہ ہوگا ۔ وفاقی حکومت عوام کوریلیف کرنے کے بجائے ان سے دو وقت کی روٹی بھی چھیننے کے لئے کوشاں ہے، بجلی کے نرخوں میں اضافہ غیر منطقی اور عوام دشمن اقدام ہے حکومت بجلی کے نرخ بڑھانے کے بجائے سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شرو ع کرے۔ اپنے مذمتی بیان میں سینیٹر شاہی سید اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئرمین نے مذید کہا کہ آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضوں کی ادائیگی کیلئے عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبانے کا عمل غلط ہے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے معاشی بدحالی کا شکار عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگاحکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو دمادم مست قلند رہو گااور عوام اپنے حقوق کے حصول کیلئے سڑکوں پر ہوں گے۔
مورخہ:8-7-2014 برو زمنگل 

پشاور: ( پ ر ) صوبائی حکومت کا سرکاری ملازمین کے ساتھ برتاؤ ناقابل قبول ہے ۔ اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کا سرکاری اہلکاروں و ملازمین کے ساتھ برتاؤ کسی صورت مناسب نہیں ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ڈاؤن سائزنگ و رائٹ سائزنگ کے نام سرکاری محکموں اور ملازمین کو بے جا تنگ کیا جا رہا ہے اور بے جا اور غیر ضروری مداخلت جاری ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نوجوانوں کے ساتھ روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن حکومت کے آتے ہی تقریباً تمام محکموں سے سرکاری ملازمین کو بے دخل کیا جارہا ہے اور انہیں روزگار دینے کی بجائے اُن سے روزگار چھینا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفےئر بورڈ پاپولیشن ، صحت ، تعلیم اور تقریباً تمام محکموں سے لوگوں کو روزگار سے نکالنا کسی صورت ناقابل برداشت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کے تجربات سے استفادہ حاصل کرکے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں ۔ 
انہوں نے کہا کہ عوام کو روزگار دینا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن عمران خان عوام اور باالخصوص نوجوانوں کو روزگار دینے کے وعدے پر ووٹ لیکر لوگوں کو روزگار سے نکالنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں بے روزگاری کی جو لہر اُٹھی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے چاہییں جبکہ تمام محکموں میں ایڈہاک اور عارضی ملازمین کی ملازمتوں کو مستقل کرنا چاہیے۔ 
کراچی۔ پیر 07 جولائی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے حوالے سے حکومت تمام میدانوں ناکام نظر آرہی ہے مہنگائی کا جن مکمل طور سے بے قابو نظر آرہا ہے اشیاء خوردونوش کی اشیاء انتہائی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں رحمتوں و برکتوں کے مہینے میں لوگ انتہائی مہنگی اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں اور حکومت صرف اعلانات کرتی نظر آرہی ہے دکاندار وں کا یہ موقف ہے کہ سرکاری پرائس لسٹ کے نرخوں پر اشیاء فروخت کرنا نا ممکن ہے شام کے اوقات میں ٹریفک جام معمول بنتا جارہا ہے اور ٹریفک جام ہوتے ہی پولیس اہلکار غائب ہوجاتے ہیں اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت اس مسئلے کو حل کرتے نظر آتے ہیں اور حکومت ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے اوررماہ صیام کے آغاز کے ساتھ ہی کھلے عام جبری فطرہ وصول کیا جارہا ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے مذید کہا کہ،عوام کی مشکلات میں کمی حکومت حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے گزشتہ آئی جی سندھ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے چہ مگوئیاں لمحہ فکریہ ہے اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ صوبائی حکومت تباہی و بربادی کے راستے پر چل پڑی ہے صرف میڈیا پر جاری بیانات و اعلانات سے عوامی مسائل حل نہیں ہوتے حکومت زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کرے ۔

 

مورخہ 6-7-2014 برو زاتوار 


پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدرخان ہوتی ،صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین اور صوبائی ترجمان سرداحسین بابک نے اے این پی ضلع کرک کے جنرل سیکرٹری حاجی میر کاظم کی والدہ ماجدہ کی وفات پر گہرے رنج وغم کااظہار کیا ہے اور مرحومہ کے خاندان اور لواحقین سے یکجہتی اورتعزیت کا اظہا رکیا ہے ۔ 
انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحومہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور مغموم خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔ 



مورخہ :6-7-2014 برو زاتوار 


محکمہ اطلاعات کے افسران اورملازمین کو دوسری محکموں میں ضم کرنا انتہائی افسوسناک ہے 
پشاور: ( پ ر ) اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کو اپنا جاگیر سمجھ کر قانون و ضوابط کے خلاف فیصلے کسی قیمت قبول نہیں کریں گے ۔ محکمہ اطلاعات کے افسران اور پبلک ریلیشن آفیسر اور فوٹو گرافر ز سمیت ملازمین کو دوسری محکموں میں ضم کرکے سرکاری فنڈز اور حکومتی وسائل سے پارٹی میڈیا سل کیلئے راہ ہموار کر دی ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ گریڈ 17 ،18 اور 19 کے سرکاری افسران کو اپنے پیشہ ورانہ کام سے ہٹا کر دوسرے محکموں میں بھیجنا اور محکمہ اطلاعات میں اپنے لوگوں کیلئے جگہ خالی کرنا کونسا انصاف ہے اور کیا یہ سرکاری وسائل کو پارٹی کیلئے استعمال کرنا نہیں ؟ 
انہوں نے کہا کہ سیاست اور حکومت سے نابلد لوگوں نے صوبے کے تمام محکموں کا بُرا حال کر دیا ہے اور آئے روز کے نت نئے تجربات نے صوبے کو مسائل کے دلدل میں پھنسایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات کے ملازمین کو فارغ کرکے حکومت قوم کو بتائے کہ کیا اپنے لوگوں کو روزگار دینے کیلئے کئی سو تربیت یافتہ ، تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افسران کو فارٖغ کرنا ضروری تھا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے میں حکمران کے گُر سیکھے اور ذاتی خواہشوں کو صوبے کے غریب عوام پھر ازمانے سے گریز کریں تو صوبے کے بھلائی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے عوام کو باالخصوص اور ملک کے عوام عمران خان اور ان کے پارٹی سے بدظن ہوچکے ہیں ۔ انہوں نیکہا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں سے یہی اور اسی طرح کے فیصلوں کی اُمید تھی ۔ کیوکہ وہ عوامی نہیں بلکہ میڈیا کی طاقت سے میدان سیاست میں زندہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا چاہیے اور اس پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے۔


مورخہ : 5.7.2014 بروز ہفتہ


عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن پختونخوا کے صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے نوشہرہ میں اے این پی اور این وائی او کا وزیرستان متاثرین کیلئے لگائے مشترکہ کیمپ کا دورہ کیا۔ 
اس موقع پر میاں افتخار حسین نے اے این پی نوشہرہ اور این وائی او کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے اس سخت گرمی اور رمضان میں پارٹی کی ہدایات کے مطابق اپنے دُکھے پختون بھائیوں کی خدمت اور مدد کیلئے کیمپ لگایا۔ اُنہوں نے اپنے بنوں یوسی ککی ، مامند خیل اور نورڑ میں مقیم متاثرین کے دورے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے متاثرین کی رجسٹریشن کا طریقہ کار مناسب نہیں ہے اور اس کے پوائنٹس بھی کم ہیں۔ موجودہ رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مؤثر بنانا چاہیے اور پوائنٹس میں بھی اضافہ کرنا چاہیے اور موبائل رجسٹریشن کی سہولت کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے آل پارٹیز کانفرنس میں بھی اے این پی کی طرف سے حکومت کو اپنی تجاویز دی تھیں اور ہم اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اس پر عمل کرے گی۔ اے این پی ایسے مسائل پر پوائنٹس سکورنگ یا سیاست نہیں کرنا چاہتی بلکہ ہم عوام کی بلاتفریق خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرین کو راشن اور کیش دینے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ ووٹر لسٹوں کے ذریعے ان کو راشن دیں کیونکہ نادرہ کے پاس ان کا ریکارڈ بھی موجود ہے اور ان احسن طریقے سے راشن ملے گا اور اس کا فائدہ بھی ہوگا اور دوسرا مستحق شخص بھی اپنے حق سے محروم نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں بنوں کمشنر اور ڈی سی سے بھی ملاقات کی اور وطن کارڈ کے طریقہ کار پر بھی غور کرنے کا کہا کہ اس طریقہ کار سے بھی مستحقین کو اچھے طریقے سے اپنا حق مل سکتا ہے۔
اے این پی کے رہنما نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے پچیس لاکھ متاثرین تھے لیکن صوبائی حکومت کی مؤثر حکمت عملی کی وجہ سے مرکزی حکومت ، عوام، پاکستان کے اندر دیگر صوبوں کے عوام اور بین الاقوامی سطح پر این جی اوز نے بروقت مشترکہ طور پر اقدامات کر کے کنٹرول کر لیا۔ حکومت کے بہتر انتظام اور یہاں کے عوام کے اچھے رویے کی وجہ سے جب وہ واپس اپنے آبائی علاقوں کو جا رہے تھے تو وہ زارو قطار رو رہے تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن متاثرین کی طرح شمالی وزیرستان کے متاثرین بھی خوشی سے اپنے آبائی علاقوں واپس لوٹیں اور ایک مثبت تاثرساتھ لے جائیں اور اگر ایسا نہیں ہوا تو اس طرح دہشتگردی میں بھی اضافہ ہو جائیگا اور دہشتگردوں کے ساتھیوں میں بھی اضافہ ہو جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مذاکرات ہو جائیں لیکن حکومت وہ موقع ہاتھ سے کھو بیٹھی اور بدقسمتی سے اُس نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا اس لیے مذاکرات ناکام ہوئے۔ مذاکرات کی ناکامی کی کیا وجوہات تھیں یہ حکومت کو معلوم ہوگا ۔ دوسرا طریقہ کارروائی کا ہے اور یہ طریقہ اب ہر صورت میں کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا اس میں اچھے اور بُرے کو چھوڑ کر بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہیے اور اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ عام لوگوں کی جان و مال محفوظ ہوں اور جتنی جلدی ہو سکے کامیاب کارروائی کی جائے تاکہ متاثرین اپنے علاقوں کو لوٹ جائیں اور یہ انتہائی خوش آئند بات ہوگی۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیرستان کے لوگوں کو دیگر صوبوں میں جانے سے روکنا غیر آئینی اقدام ہے اور اس کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ باچا خان ائیرپورٹ پر ہوائی جہاز پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں انٹرنیشنل فلائٹس بند کر دی گئیں۔ پختونوں کے خلاف گہری سازش ہے اور ان کا دائرہ تنگ کیا جا رہا ہے کہ پختون دیگر صوبوں کو نقل و حرکت نہ کر سکے اور نہ ہی جہاز کے ذریعے باہر جائیں یعنی ہوائی اور زمینی دونوں راستے بند کیے جائیں جو سمجھ سے بالا تر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ باچا خان ائیرپورٹ ہر لحاظ سے محفوظ کرے۔اے این پی کے رہنما نے کہا کہ امن کی خاطر مرکزی اور صوبائی حکومتیں جو بھی مثبت اقدامات اُٹھائیں گی تو اے این پی ان کو سپورٹ کرے گی۔ اُنہوں نے حکومت کی توجہ سیلاب کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ آئے روز سیلابوں کا خدشہ ہے اور پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے لہٰذا حکومت سیلاب کی روک تھام کیلئے عملی اور مؤثر اقدامات اُٹھائے اور اس پر بھرپور توجہ دیں۔ کیونکہ پہلے سے متاثرین کا دباؤ موجود ہے پھر ایمرجنسی میں اقدامات اُٹھانے مشکل ہو جائیں گے۔


مورخہ : 5.7.2014 بروز ہفتہ


عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کے طلباء و طالبات کو ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر داخلے دلوائے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو قبائلی علاقوں کے طلباء کی مشکلات اور صورتحال کو مد نظر رکھ کر ترجیحی بنیادوں پر ہائیر ایجوکیشن میں داخلے دلوا کر معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے چاہیءں۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم کی کمی اور وہاں کی پسماندگی اور دہشتگردی کے باعث تباہ حال معاشی اور اقتصادی صورتحال کے پیش نظر ملکی تعلیمی اداروں میں قبائلی علاقوں کے بچوں اور بچیوں کیلئے تعلیمی دروازے کھول دینے چاہیءں تاکہ دہشتگردی سے تباہ حال علاقوں کے معصوم بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔
اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کو زبانی جمع خرچ کے بجائے قبائلی علاقوں کی دہشتگردی کے خلاف قربانی کو مد نظر رکھ کر زیادہ سے زیادہ سہولیات اور ضروریات زندگی پوری کرنے کیلئے عملی اور سنجیدہ اقدامات اُٹھانے چاہیءں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت تمام تعلیمی اداروں کو حکمنامے جاری کردیں کہ وہ قبائلی ڈومیسائل رکھنے والے طلباء و طالبات کو قومی فریضے اور انسانی ہمدردی کے طور پر داخلے دیں اور ملک کے تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے قبائلی طلباء کیلئے انسانی ہمدردی کے طور پر کوٹہ مختص کردیں۔

کراچی۔جمعتہ المبارک 4 جولائی 2014
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید کی صدر پارکنگ پلازہ کے قریب ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ سندھ حکومت کے لیے الارمنگ ہے دہشت گرد کا ٹارگٹ تک نا پہنچنا خوش قسمتی ہے صوبائی حکومت خواب غفلت سے جاگے اور شہریوں کے جان و مال کے لیے مربوط اور ٹھوس حکمت عملی ترتیب دے پورے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کے خدشات ہیں افواج دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور منصوبہ سازوں کے فی الفور گرفتار کیا جائے ۔



مورخہ : 4.7.2014 بروز جمعۃ المبارک

عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات سردار حسین بابک نے کراچی بم دھماکے کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم اور بے گناہ جانوں سے کھیلنا درندگی ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ باچا خان مرکز پشاور سے اُنہوں نے اپنے مشترکہ جاریکردہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہونگے اور نہ ہی ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے قیام امن کی جدو جہد متزلزل ہو گی۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ سے مکمل طور پر غافل ہے ملک کے آئین نے حکومت کو عوام کی جان و مال کے تحفظ کی جو ذمہ داری دی ہے وہ نبھائے۔ اُنہوں نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں سے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔

مورخہ : 3.7.2014 بروز جمعرات

عالمی بینک کی طرف سے گرانٹ میں کٹوتی صوبائی حکومت پر عدم اعتماد ہے۔
اے این پی کے صوبائی ترجمان سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی دور حکومت میں عالمی بینک کے توسط سے (ملٹی ڈونرز ٹرسٹ فنڈ) ایم ڈی ٹی ایف کا صوبائی حکومت کیساتھ ہسپتالوں کو بنیادی سہولیات کا معاہدہ ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت عالمی بینک نے 16 ملین ڈالرز صوبے کو دینے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے موجودہ صوبائی حکومت کی بے جا مداخلت اور اپنے منظور نظر (این جی اوز) کو نوازنے کی خاطر کام کی شروعات میں تاخیر کی وجہ سے گرانٹ عالمی بینک نے 16 ملین ڈالرز سے کم کرکے 10 ملین ڈالرز کر دیا جو کہ صوبے کو ناقابل تلافی نقصان اُٹھانا پڑا۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نئے منصوبوں اور نئے معاہدوں کو تو لا نہ سکے بلکہ گزشتہ حکومت کے منصوبوں اور معاہدوں پر عمل درآمد کرنے پر بھی ناکام ہو گئے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کا گزشتہ دور حکومت میں نہ صرف اعتماد بحال ہو چکا ہے بلکہ مالیاتی اداروں اور ڈونرز ایجنسیوں نے صوبے کی معاشی اور اقتصادی صورتحال کی بہتری میں نمایاں کردار رہا تھا۔ 
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ہر ایک کام میں بے جا مداخلت نے نہ صرف صوبے کی مشینری کو جمود کا شکار کر دیا ہے بلکہ بین الاقوامی ادارے بھی صوبے کیساتھ کام کرنے سے کترا رہے ہیں اُنہوں نے کہا کہ صحت میں ایسے ایک پروجیکٹ میں موجودہ دور حکومت میں 6 ملین ڈالرز کا نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے جو کہ صوبائی حکومت کی نا اہلی ہے۔

مورخہ : 3.7.2014 بروز جمعرات


عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور کی آئی جی خیبر پختونخوا ’’ ناصر درانی ‘‘ سے ملاقات
عوامی نیشنل کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور صاحب نے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر ڈرانی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی ہے ۔ غلام احمد بلور نے آئی جی صاحب کو صوبے میں بڑھتے ہوئے اغواء برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ پولیس فورس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات وقت کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس سٹیشنوں کی تعمیر ، پولیس کی ٹرانسپورٹیشن اور پولیس کی محبری نظام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔ لہٰذا حکومت کو فوری طور پر سنجیدہ اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔ اس موقع پر آئی جی نے غلام احمد بلور صاحب کو یقین دلایا کہ پولیس فورس صوبے میں بدامنی کے خاتمے اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ اُنہوں نے کہا صوبے میں جرائم کے خاتمے کیلئے عوام کے تعاون کے بغیر کامیابی ممکن نہیں رہتی اُنہوں نے کہا کہ عوام کو پولیس کے ساتھ تعاون انتہائی اہم اور لازمی ہے۔


کراچی، 2جولائی 2014ء

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں کے -الیکٹر ک کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اورشہر میں قلت آب پر نہایت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ شہریوں کی جانب سے شکایات موصو ل ہورہی ہیں کہ شدید گرمی اور بابرکت مہینے میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ پہلے سے بھی بڑھ گیا ہے سحری اور افطار کے وقت لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کے تمام دعوے دھول ہوگئے ہیں۔ ادارے کی جانب سے بلا وجہ لوڈ شیڈنگ اور ٹرپنگ کی جارہی ہے عوام کے احتجاج کرنے کے بجائے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ کم کرنے کے بجائے بڑھایا جارہا ہے کے- الیکٹرک اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کریں کے- الیکٹرک اپنے من گھڑت اور جھوٹے بیانات سے عوام اور حکومت کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ فوری بند کرے اور اپنی کارکردگی بہتر بنائے کہیں ایسا نہ ہو کہ پریشانی کے ستائے شہری سڑکوں پر نکل آئیں۔ اور شہر میں امن و امان کی فضا خراب ہو اگر ایسا ہوا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری اداروں پر عائد ہوگی۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو اذیت دینے کے بجائے اداروں کے اہلکار اللہ کے عذاب سے ڈریں اداروں کے ترجمان جھوٹے بیانات دینے کے بجائے حق اور سچ کی بات کریں اکثر علاقوں میں لوڈ شیڈنگ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود کے- الیکٹر ک کی جانب سے اوور بلنگ شہریوں پر ظلم ہے۔سینیٹر شاہی سید نے مطالبہ کیا کہ کے -الیکٹر ک غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، اوور بلنگ اور مختلف بہانوں سے بجلی کے تعطل کا سلسلہ فوری بند کرے اور حکومت وقت خاموش تماشائی کا کردار اپنانے کے بجائے اداروں کو ان کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اپنا کردار اداکرے۔

مورخہ:2-7-2014 برو ز بدھ 


پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے بنوں یونین کونسل ککی 2 ، یونین کونسل بارکزئی ، یونین کونسل مامند خیل اور یونین کونسل تورڑ میں منعقدہ شمالی وزیرستان کے کیمپوں کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر ان کے ساتھ سینیٹر باز محمد خان ، این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ ، جنوبی اضلاع کے نائب خاتون صدر خورشید بیگم ، جائنٹ سیکرٹری خورشید خٹک ، خاتون جائنٹ سیکرٹری جنوبی اضلاع مسرت شفیع ایڈووکیٹ اور اے این پی بنوں کے ضلعی تنظیم کے عہدیدار بھی موجود تھے۔ 
اے این پی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے اے این پی اور این وائی او کی جانب سے شمالی وزیرستان کے ایک ہزار متاثرہ خاندانوں میں نقد امدادی رقوم تقسیم کئے ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی شمالی وزیرستان آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کے دُکھ اور درد میں برابر کی شریک ہے اور ان کو اپنے بدن کا حصہ سمجھتی ہے ۔اے این پی متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور مصیبت کی اس گھڑی ہم ان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاؤن کریں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں سے اپنے تعاؤن کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متاثرین شمالی وزیرستان کیلئے پینے کے صاف پانی ، خوراک ، کپڑے اور روزمرہ ضروریات زندگی کے اشیاء فراہم کرے اور ان کے حفظان صحت کیلئے مؤثر اور عملی اقدامات اُٹھائے ۔

مورخہ : 2.7.2014 بروز بدھ


عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر امیر حیدر خان ہوتی ، جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور سیکرٹری اطلاعات سردار حسین بابک نے ایکسپریس ٹی وی کے بیورو چیف جمشید باغوان کے گھر پر حملہ بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا پانچواں ستون ہے۔ ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے صحافی برادری کو دبانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے لیکن صحافی برادری ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے مرغوب نہیں ہونگے ۔باچا خان مرکز سے جاریکردہ مشترکہ مذمتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ عوام کو حقائق کی رسائی کی راہ میں حائل رکاوٹیں کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ صحافیوں پر حملہ آزاد صحافت پر حملہ ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ صحافی برادری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ یہ حکومت کی ذمہ داری اور حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہر مشکل گھڑی میں صحافی برادری کا بھرپور ساتھ دے گی اور ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on July 2, 2014 at 10:35 am