May-2014

 
مورخہ : 11.6.2014 بروز بدھ

عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی عبوری صدر بشیر احمد مٹہ ، جنرل سیکرٹری جمیلہ گیلانی ، صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ اور تاج الدین خان نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ضلع سوات کے صدر خلیل اللہ کی ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ہونے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے ہمیں کمزور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہماری پارٹی کے مشن کو متزلزل کیا جا سکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اور نہ ہی حکومت کی رِٹ قائم ہے صوبے میں روز بروز ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور روزمرہ کی بنیاد پر ناخوشگوار واقعات رونما ہونے کو ملتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچا خان مرکز پشاور سے اپنے ایک جاریکردہ مشترکہ مذمتی بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے پہلے اے این پی کے سینکڑوں عہدیداروں ، کارکنوں اور پارلیمنٹیرین کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور اب اے این پی کی ذیلی تنظیم این وائی او کے نوجوانوں کو جو کہ ہمارا قیمتی سرمایہ ہے کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو پختونوں کے خلاف ایک منظم سازش اور گھناؤنا اقدام ہے۔ ہم پختونوں کے خلاف ایسے گھناؤنے اقدامات کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے اور نہ ہی ایسی بزدلانہ کارروائیوں پر خاموش رہیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت روز اول سے قیام امن اور عوام کی جان و مال کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور اپنی آئینی ذمہ داریوں سے غفلت برتی ہوئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی اور نئے پاکستان بنانے کا جو نعرہ لگایا تھا وہ محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا وہ اپنی حکومت کا ایک سال بیتنے کے باوجود نہ کوئی خاطر خواہ تبدیلی لا سکے اور نہ ہی اُن کے نیا پاکستان بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ اُنہوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ این وائی او سوات کے صدر خلیل اللہ کے قتل میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

مورخہ:11-6-2014 بروز بدھ

پشاور: ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خٹک ، ایڈوائیزر ہارون احمد بلور ، صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ضلع سوات کے صدر خلیل اللہ پر دہشت گردوں کی طرف سے قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں روز بروز ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ روزمرہ کے معمول بن چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہو ۔ انہوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ خلیل اللہ کے قتل میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایاجائے۔
انہوں نے مرحوم کے خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی ۔

مورخہ : 11.6.2014 بروز بدھ

نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی ترجمان بہرام خان ایڈووکیٹ نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ضلع سوات کے صدر خلیل اللہ کو دہشتگردوں کی طرف سے قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہ صوبے میں روز بروز دہشتگردی ، بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں اور حکومت نے اس پر چپ سادھ لی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ آئین میں حکومت کو عوام کی جان و مال کی تحفظ کی جو ذمہ داری سپرد کی گئی ہے وہ پوری کریں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا کر اس میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور اب اے این پی کی ذیلی تنظیم این وائی اوکے نوجوانوں کو جو کہ قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں اُن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگر دہشتگردوں کی جانب سے یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو ہم اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت یہ سب کچھ دیکھ کر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اور قیام امن کے سلسلے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اگر حکومت عوام کو تحفظ نہیں دے سکتی تو اس کو عوام پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔

تاریخ: 11 جون 2014

سوات ; عوامی نیشنل پارٹی سوات کے صدر سابق ایم پی اے شیر شاہ خان نے نیشنل یوتھ ارگنائزیشن سوات کے صدرخلیل اللہ ان کے ساتھ دیگر افراد کی قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ اقدام قرار دیا ہے ، مینگورہ میں میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی آج بھی نشانے پر ہے خلیل اللہ نورالعابدین اور حضرت حسین کا دن دیہاڑے قتل امن پر مامور اہلکار وں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے کہاکہ اس واقعے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک اور رہنما نعمت علی خان اور ان کا ساتھی شدید زخمی ہوا ہے ، ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملزمان کی فوری گرفتاری کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ، انہوں نے کہاکہ خلیل اللہ کی شہادت سے ہم ایک مخلص اور دیانتدار ساتھی سے محروم ہوگئے ، انہوں نے کہاکہ اس قسم کے واقعات ہمیں اپنے موقف سے نہیں ہٹا سکتے ، انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

مورخہ:31-5-2014 بروز ہفتہپشاور: (پ ر ) سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور اے این پی کے رہنما امیر حیدرخان ہوتی نے اے این پی ضلع پشاور کے سابق جنرل سیکرٹری ملک نسیم خان اور ملک مغل خان آف لڑمہ کے رہائش گاہ پر گئے اور اُن کے والدمرحوم ملک واصل خان کی وفات پر تعزیت کی اور مرحوم کے ایصال ثواب اور بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی ۔سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے امیر حیدرخان ہوتی نے کہا کہ مرحوم پارٹی کے قیمتی اثاثہ تھے اُن کی کمی کو پُرکرنا ناممکن ہے ، ہم سوگوار خاندا ن کے ساتھ اُن کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ کے ہمراہ صوبائی اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک ،سابق جی ایس پختونخواارباب محمد طاہر خان خلیل ،سابق ایم پی اے مختیار خان ایڈووکیٹ ، کامران صدیق ، رفاقت شاہ باچا تھے ۔

مورخہ:31-5-2014 بروز ہفتہ

پشاور: ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن یونیورسٹی کیمپس پشاور کے چےئرمین مقرب خان بونیری نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں عوامی نیشنل پارٹی بونیر کے انٹراپارٹی الیکشن میں نو منتخب صدر محمد کریم بابک ، جنرل سیکرٹری شجاع علی خان ، سینئر نائب صدر رحیم زادہ سالارزئی اور سارے کابینہ کے آراکین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی ضلع بونیر کے نو منتخب کابینہ جو افہام و تفہیم سے وجود میں آیا ہے یہ اقدام اے این پی بونیر کے سارے آراکین خصوصاً آرگنائزنگ کمیٹی کے چےئرمین اقبال خان اور جنرل سیکرٹری شاہجہان خان عرف شاجی اور اُن کے سارے ٹیم کے شب وروز محنت کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے مشکل حالات کے باوجود شفاف ممبرسازی اور یونین کونسل وارڈ کے سطح پر پارٹی کو فعال کرکے اپنا تاریخی کردا ر ادا کر دیا ۔
حسن بونیری نے مزید کہا کہ نو منتخب ضلعی صدر محمد کریم بابک جو کہ ایک فعال سیاسی رہنما اور پختون قومی تحریک سے خاندانی طور پر صدیوں سے جوڑا ہو ا ہے اُن کا انتخاب پارٹی اور ورکروں کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ نو منتخب صدر کریم بابک ، جنرل سیکرٹری شجاع علی خان اور سینئر نائب صدر رحیم زادہ سالار زئی اپنے اندر بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں وہ اپنی ٹیم کو ساتھ لیکر چلیں گے اور بونیر کو ایک دفعہ پھر اے این پی کا قلعہ ثابت کردیں گے۔ ہم نو منتخب صدر کو نیشنل یوتھ آرگنائزیشن اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان کی طرف سے یقین دلاتے ہیں کہ ہم اُن کے شانہ بشانہ ہوں گے ۔ہم اپنی طرف سے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران جعفرشاہ ایم پی اے ، ایمل ولی خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ امن وامان کی خراب صورتحال کے باوجود انہوں نے بونیر کا دورہ کرکے کارکنوں کے دل جیت لئے اور کارکنو ں میں ایک نیا جذبہ اور حوصلہ پیدا کیا

مورخہ:31-5-2014 بروز ہفتہ

پشاور: (پ ر ) یوم شہدائے بازار کلاں میں سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی ، جس میں سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی ، سٹی ڈسٹرکٹ کے جنرل سیکرٹری سرتاج خان ، سینئر نائب صدر نیاز محمد مومند ، نائب صدر ملک طارق اور دیگر عہدیداروں کے علاوہ مختلف وارڈوں کے صدور اور جنرل سیکرٹریوں نے بھر پور شرکت کی ۔
سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر نے شہداء کے یادگار پر پھول چڑھائے اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ آزادی کے ان شہداء کو ہمیشہ کی طرح خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ ان شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم آزاد اور خودمختار ملک میں جی رہے ہیں ،لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں دہشت گردی کی وجہ سے قربانیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جنگ آزادی کی جنگ ہو یا ملک کی بقاء اور سلامتی کا تحفظ ہو ، ہمیشہ اے این پی کے ورکروں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

کراچی۔ جمعرات 29 مئی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی قائد اسفند یار ولی اور سینیٹر شاہی سید نے اے این پی ضلع ملیر کے سابقہ سالار محمد شفیع خان ترنگزئی کے والد کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ اور رنج کی اس گھڑی میں پوری پارٹی شفیع خان ترنگزئی کے غم میں برابر کی شریک ہے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہے ،پارٹی رہنماؤں یونس خان بونیری،نور اللہ اچکزئی ،سائیں علاؤالدین آغا، ضلع صدور سعید خان افغان اور نورشیر خان نے شفیع خان ترنگزئی کے گھر جاکر مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی ۔
کراچی۔جمعرات 29مئی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ کی سربراہی میں منعقد ہوا ،اجلا س کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی کابینہ کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے 2جون سے6 جون تک کاغذات نامزدگی فارم حاصل اور جمع کیے جاسکیں گے 7 اور 8 جون کو کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی9 جون کو کاغذات نامزدگیوں پر اعتراضات داخل کیے جاسکیں گے 10 جون کو کاغذات نامزدگی فارم واپس لیے جاسکیں گے 11 جون کو امیدواران کی حتمی لسٹ شائع ہوگی اوراتوار15 جون کو پارٹی کی صوبائی کابینہ کے انتخابات کا انعقاد کیا جائے گاپولنگ صبح10 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔

مورخہ : 29.5.2014 بروز جمعرات

نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین سنگین خان ایڈووکیٹ نے کمیشن کے ممبران سے مشاورت کے بعد مورخہ 7 جون 2014 کو مرکزی الیکشن کے انعقاد کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ مرکزی الیکشن کمیشن تین ممبران پر مشتمل ہے جس میں صوبائی صدر سندھ نوراسلام صافی ، صوبائی صدر بلوچستان سید خلیل آغا اور صوبائی صدر پختونخوا سنگین خان ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ اور آخری الزکر الیکشن کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق مرکزی کابینہ کیلئے الیکشن بروز ہفتہ 7 جون 2014 ء صبح دس بجے بمقام باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوگا جس میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے پہلے مرکزی کونسل کے ممبران مرکزی کابینہ منتخب کریگی۔ قواعد کے مطابق کوئی بھی فرد جو تنظیمی عہدہ رکھتا ہو انتخاب میں حصہ لینے کا مجاذ نہیں ہوگا۔ البتہ الیکشن سے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ کی منظوری کی صورت میں انتخاب میں حصہ لینے کا حقدار ہوگا۔
مرکزی الیکشن کمیشن آئندہ چند روز میں مرکزی کونسل کے ممبران کا باقاعدہ فہرست جاری کرے گا اور الیکشن سے پہلے ایک انتظامیہ کمیٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کریگی جو الیکشن کے دن نظم و نسق اور ممبران اور مندوبین کی سہولیت کیلئے فرائض سرانجام دے گی۔

مورخہ:27-5-2014بروز منگل

پشاور: ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کا الیکشن باچا خان مرکز پشاور میں زیر نگرانی چیف الیکشن کمشنر پختونخوا اور عبوری صدر بشیر احمد مٹہ‘ صوبائی ترجمان صدر الدین خان مروت‘ سید عاقل شاہ‘ ایمل ولی خان‘ جمیلہ گیلانی منعقد ہوا جس میں سٹی ڈسٹرکٹ کابینہ کے عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ جس میں صدر ملک غلام مصطفی‘ جنرل سیکرٹری سرتاج خان‘ سینئر نائب نیاز محمد مومند‘ نائب صدور ملک طارق‘ غلام حسن‘ عابد اللہ یوسف زئی‘ ارباب واجد‘ نائب صدر زنانہ منور سلطانہ‘ ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی نور جمال آفریدی ایڈووکیٹ‘ جائنٹ سیکرٹریز سبز علی‘ شوکت علی‘ ملک ناصر‘ انجینئر محمد عقیل‘ جائنٹ سیکرٹری زنانہ جمیلہ وصال‘ سیکرٹری ثقافت حاجی طارق زمان‘ سیکرٹری مالیات عنایت اللہ‘ سیکرٹری اطلاعات حاجی اورنگزیب خان سابقہ ایم پی اے شامل ہیں۔

مورخہ : 23.5.2014 بروز پیر

نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس زیر صدارت خوشحال خٹک منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ایڈوائزر ہارون بلور کی مشاورت سے مرکزی عبوری کابینہ / مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کو باقاعدہ طور پر تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ساتھ ہی مرکزی الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جو مرکزی کابینہ کیلئے آئین کے مطابق باقاعدہ طور پر انتخابات کا انعقاد کریگی۔ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان کے صوبائی صدور پر مشتمل ہو گی جبکہ صوبائی صدر پختونخوا الیکشن کمیشن کے چیئرمین ہونگے۔ تحلیل شدہ مرکزی عبوری کابینہ زیر صدارت خوشحال خٹک ، سلیمان مندڑ سینئر نائب صدر ، فخر داؤد زئی جنرل سیکرٹری ، محمد سلیم ، قیصر علی خان ، سکندر مسعود ، اسلم مندو خیل ، ملک منظور اور جمعہ خان بابر پر مشتمل تھی۔ فارغ ہونے والی عبوری کابینہ نے ایک مشترکہ بیان میں عوامی نیشنل پارٹی اور باالخصوص ہارون بلورکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے اُن پر جس اعتماد کا اظہار کیا تھا وہ اس پر بالکل پورے اُترے ہیں اور قلیل مدت میں نیشنل یوتھ آرگنائزنگ کے قیام کو ممکن بنایا ہے۔ یاد رہے کہ مرکزی عبوری کابینہ کا قیام 9 ستمبر2013 ء کو عمل میں لایا گیا تھا۔ اس عرصہ میں مرکزی کابینہ نے مسودہ آئین ، منشور ، جھنڈا اور نشان مرتب کرنے کے علاوہ پورے ملک میں 35000 ممبر شپ اور ہر سطح پر تنظیم سازی کی ہے۔ ایک سال سے کم عرصے میں تنظیم سازی کے علاوہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن نے سیاسی اور سماجی سرگرمیاں جس میں مظاہرے ، پارٹی کیلئے الیکشن مہم اور دیگر صورتوں میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ سیمینارز ، ورکشاپ اور ایگزیبشن اور ٹریننگ میں حصہ لیا ہے۔ سب سے برھ کر یہ کہ یونین کونسل کی سطح سے لیکر ضلع اور صوبوں میں بھرپور جمہوری انداز سے الیکشن کے ذریعے تنظیم سازی ممکن بنائی ہے۔ تحلیل شدہ مرکزی عبوری کابینہ کے صدر خوشحال خٹک نے صوبوں کی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنظیم کو بھرپور جمہوری انداز میں فعال رکھیں اور اس سارے عمل میں تمام ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کا ہے۔

مورخہ:25-4-2014 بروز اتوار

پشاور: ( پ ر ) اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا کہ بھتہ خوروں کا گھیرا تنگ کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پچھلے ایک سال میں بھتہ خوری نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے اور خاص کر تاجر برادری اور نوکر پیشہ افراد ذہنی طور پر خاندان سمیت ایک پریشانی سے دو چار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران نہ صرف صوبے کے عوام سے کروڑوں روپیہ بھتہ وصول کیا گیا ہے بلکہ ہزاروں تعداد میں خاندانوں نے اپنے جائیدادیں وغیرہ بھیچ کر یہاں سے ہجرت کر گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھتہ خور کسی شعبے سے تعلق رکھنے والا لوگوں کو نہیں بخشتے بلکہ آج کل ڈاکٹروں کو انتہائی دھمکی آمیز خطوط ارسال ہو رہے ہیں ، ان کے بچوں کو اغوا کی دھمکیاں مل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوبھتہ خوری کے خلاف فوری اور سنجیدہ اقدامات اُٹھانے چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی بدقسمتی ہے کہ حکومت غیر ضروری مسائل میں الجھی ہوئی ہے جبکہ بھتہ خوری جیسے مسئلے نے یہاں کے ہزاروں خاندانوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے جبکہ یہ عمل اب شہروں اور گاؤں تک پھیل گیا ہے اور صوبے کے مضافاتی علاقے میں رہتے ہوئے بھی صاحب جائیداد اور صاحب استطاعت لوگ محفوظ نہیں رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال کی بدترین بدامنی نے راولپنڈی ، اسلام آباد اب پختونوں کے شہر بن گئے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق راولپنڈی ، اسلام آباد میں 60% سے زیادہ پختون آباد ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان باقی پاکستان میں جلسوں اور میوزیکل شوز سے فارغ نہیں اور صوبے کے عوام نے ووٹ دیکر ان کو نہ ختم ہونے والے سزا بھگتنا پڑ رہا ہے ۔

مورخہ:25-4-2014بروز اتوار

پشاور: نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی کابینہ اور صوبائی کونسل کے باقاعدہ اجلاس زیر صدارت صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ منعقدہوا۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے ادا کئے ۔ اجلاس سے صوبائی نائب صدر پلوشہ بشیر ، صوبائی کلچر اینڈ ایجوکیشن سیکرٹری ثنا اعجاز، صوبائی سینئر نائب صدر گلزار خان ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات بہرام خان ایڈووکیٹ کے علاوہ پورے صوبے سے آئے ہوئے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ضلعی صدور نے خطاب کیا۔ اجلاس میں صوبائی کونسل سے مرکزی کونسل کیلئے صوبہ سے آراکین کے ناموں کی منظوری لے لی گئی۔ اجلاس میں متفقہ قرار داد کے ذریعے وزیر ستان کے آئی ڈی پیز کوآئی ڈی پیز سٹیٹس اورمناسب سہولیات کے ساتھ ساتھ بچوں اور خواتین کی صحت امدادی کیمپ قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا خطے میں جاری بدامنی ، ٹارگٹ کلنگ اور صوبہ میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خراب صورتحال پر مذمتی قرار داد پیش کی گئی، اور صوبائی کونسل نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت جو صوبہ اور مرکز میں موجود ہے ملک اور صوبہ میں امن لانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عام آدمی کو سہولت کی بجائے عذاب میں مبتلا کردیا ہے ۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی کابینہ اور صوبائی کونسل نے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سیاسی کارکنان ، رہنماؤں اور عام عوام کے جان ومال کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنگین خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ایک جمہوری تنظیم ہے اور ہم سارے اضلاع کے صدور کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ ہرماہ ماہانہ میٹنگ بلائیں اور ہر اجلاس کی کاروائی ہر تین ماہ بعد صوبائی کابینہ کو پیش کریں۔

مورخہ:24-5-2014 بروز ہفتہ

پشاور: (پ ر ) پی ٹی آئی حلقہ PK-59 بٹہ گرام کے سابق اُمیدوار جاوید خان تاکوٹ نے اپنے ساتھیوں اور خاندان سمیت تحریک انصاف سے مستغفی ہوکر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر اے این پی کے صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ، صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران نمروز خان ، سید عاقل شاہ اور جعفرشاہ خان کی موجودگی میں ایک پُرہجوم پریس کانفرنس کے ذریعے اے این پی میں شمولیت اختیار کیا۔ جاویدتاکوٹ نے کہا کہ تحریک انصاف نے الیکشن سے پہلے عوام سے جو انقلابی دعوے کئے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی صرف اخبارات کے حد تک بیان بازیوں میں مشغول ہیں ، نہ ہی صوبے میں ترقیاتی کام کئے اور نہ ہی صوبے میں امن قائم کیا اور نہ ہی بیروزگاری پر قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں روز بروز دہشت گردی ، بدامنی میں اضافہ صوبائی حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی واحد جماعت ہے جس نے صوبے کی تاریخ میں پچھلے دورِ حکومت میں صوبے میں سب سے زیادہ ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا ۔ انہوں نے اے این پی کے قائد اسفندیارولی خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہا ر کیا اور کہا کہ مستقبل میں ہم عوامی نیشنل پارٹی کی ترقی اور خوشحالی کیلئے دن رات ایک کرکے کام کریں گے اور انشاء اللہ پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں گے ۔

مورخہ:24-5-2014 بروز ہفتہ

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل جو کہ سینیٹ کی اُمورے خارجہ کی قائمہ کمیٹی کے بھی چیئرمین ہیں انہوں نے قبائلی علاقوں میں اور خصوصاًشمالی وزیرستان میں ہونے والے فضائیہ اور فوج کے مشترکہ آپریشن کے حوالے سے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ میاں نواز شریف صاحب کی حکومت قلعہ بند ہوگئی ہے ، غلط طریقے سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے حکومت کی طرف سے ایسی کمیٹی بنائی جس میں حکومت شامل ہی نہیں تھی ۔ جواباًطالبان نے بھی پاکستان کی سیاسی مذہبی پارٹیوں کے کچھ نمائندوں کو اپنی کمیٹی قرار دے دیا جن کے پاس بھی طالبان کی طرف سے کوئی اختیارات نہیں تھے اور نہ ہی اُن کے پاس طالبان کی شوریٰ سے رابطہ کرنے کے کوئی مستند وسائل تھے ۔ اب جبکہ یہ مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں ملک بھر میں دہشت گردی جاری ہے اور حکومت مکمل طور پر کنفیوز ہے ۔ نتیجتاً فوج نے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ۔ اس وقت نہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جارہا ہے اور نہ ہی پارلیمانی لیڈروں کی کوئی میٹنگ بلائی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کمزوری اس سے عیاں ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں اپنے اختیارات کھو چکی ہے ۔ جو ادارہ دہشت گردی کے خلاف شمالی وزیرستان میں جو اقدامات کر رہا ہے وہ پارلیمنٹ کی توسیع کے بغیر کر رہا ہے ۔ کچھ اداروں کا اپنے اختیارات کا استعمال نہ کرنا ، کچھ اداروں کا پارلیمانی توسیع کے بغیر اقدامات کرنا اور ملک میں منتخب پارلیمنٹ کو کسی طرح کی اہمیت نہ دینا نہایت ہی افسوسناک اور خطرناک حالات کی طرف بڑھنے کے اقدامات ہیں اور اس سے بچا جانا چاہیے۔

May 24th

The interim President of Awami National Party Pukhtunkhwa, Basheer Ahmad Matta, has expressed astonishment at the silence that the Federal and Pukhtunkhwa Provincial Governments have assumed over several important and consequential developments that are happening inside the country. As is common knowledge, military action has been launched in Waziristan in which several army and affiliated organizations’ personnel have lost precious lives during the last few days.  But these Governments have issued no clear policy statement. Technically, the process of negotiation has not been formally terminated; yet a significant armed conflict is actually going on.

Both the said governments have offered no guidance on substantive stand in this whole matter, which was exactly their foremost responsibility in a democratic polity.  It needs no iteration that it is the fundamental responsibility of an elected governments to explain all it acts and policies to the people from whom they derive their right to govern. It is high time that they come forward and explain clearly the government stand and policy in this whole matter and give justification for their stance.

مورخہ:24-5-2014 بروز ہفتہ
پشاور: اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت شہداء پیکج کے تحت ان کے ورثاء کو نوکری کا کوٹہ دوگنا کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ جہاں پر پولیس نے بیشِ بہا قربانیاں دے دی ہیں اور تاحال قربانیاں دے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے ورثاء کو نوکریاں دینے کا کوٹہ 5% ہے اس کو دوگنا کرنا چاہیے، تاکہ ان کے ورثاء کو سالوں انتظار نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تاحال 220 ورثاء نوکریوں کے انتظار میں ہیں جو کہ موجودہ کوٹے کے تحت ان کو مزید سالوں کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر اے ایس آئی کیلئے دو سو بیس اہل اُمیدواروں کو یا تو حکومت ون ٹائم ویورز دیکر بھرتی کیا جائے تاکہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی فوری طور پر داد رسی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء میں ایسے شہید بھی ہیں جن کے بدقسمتی سے نرینہ اولاد نہیں ہیں ۔ لہٰذا حکومت ان شہداء کے زنانہ اولاد کو دوسری محکموں میں نوکری کے احکامات جاری کردیں ، تاکہ وہ خاندان کے کفالت کا وسیلہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ ان شہداء نے ملک و قوم کیلئے اپنی جانوں کا نذارانہ پیش کر دیا ہے ۔ لہٰذا حکومت کو ان کے ورثاء کو انتظار اور تکلیف کے بجائے عزت اور فوری طور پر نوکریوں کا انتظام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء پیکج کے موجودہ کوٹے کے تحت ان کے پسماندگان نہ صرف ذلیل و خوار ہو رہے ہیں بلکہ ان کے خاندان انتہائی تنگدستی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک و قوم کی خاطر شہادتیں نوش کرنے والے نوجوانوں کے خون کا احترام کرتے ہوئے صوبے کے جتنے اُمیدواران ہیں ، کو فوری طور ون ٹائم نوکریاں دلواکر مستقبل کیلئے کوٹے میں اضافہ کرکے اس فوری نوعیت کے مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔
کراچی۔ جمعتہ المبارک 23 مئی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی پاکستان انٹر نیشنل پارٹی ائر لائن (پی آئی اے ) ایمپلائز یونین کے ہونے والے ریفرنڈم میں پیپلز یونٹی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے مزدور حقوق کے لیے پیپلز یونٹی کا ساتھ دیتے رہیں گے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کے لیے پیپلز یونٹی کی کامیا بی ناگزیر ہے عوامی لیبر فیڈریشن کے چیئر مین سیف الرحمٰن کنڈی کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی آئی اے یونین کے انتخابات میں پیپلز یونٹی کامیابی کے لیے رابطہ مہم شروع کردیں عوامی نیشنل پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنا اتحاد برقرار رکھے گی ہم ہر صورت میں قائدین کے فیصلوں کا احترام کرتے رہیں گے ،سینیٹر شاہی سید نے تمام پی آئی اے ملازمین خاص طور پر پختون ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ پی آئی اے یونین کے انتخابات میں پیپلز یونٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔
مورخہ : 22.5.2014 بروز جمعرات
عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ نے پنجاب حکومت کی اس پالیسی پر کہ پنجاب سے گندم پختونخوا نہیں جانے دی جائیگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدام سے پختونخوا کیلئے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ کافی مقدار میں گندم کا ذخیرہ بنائیں جس کا نتیجہ مستقبل قریب میں پختونخوا کی ساری آبادی کو سخت مشکلات سے دوچار کرے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت جو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے بڑی بھائی کے ہاتھ میں ہے فوراً پنجاب حکومت کو ہدایت کریں کہ وہ گندم کی ترسیل پر پابندی ختم کرے اور ایک ایسی پالیسی پر بضد نہ رہے جو پختونخوا کے عوام کو سب سے ضروری خوراک کی جنس کی بدترین قلت سے دوچار کریں۔ اُنہوں نے کہا چھوٹے صوبوں میں ویسے بھی یہ تاثر عام ہے کہ وہ حکومت کے اختیار اور ثمرات میں غیر مساوی حصہ دار ہیں۔ وزیر اعظم کے بیرونی دوروں میں بہت بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ اُن کے وفد کا ایک لازمی جزو ہوتے ہیں اور بیرونی ملک سے جو بھی امداد یا فوائد حاصل کیے جاتے ہیں وہ تقریباً ہر بار پنجاب کے صوبے کو ملتے ہیں اور باقی صوبوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ صوبہ پختونخوا میں یہ احساس نا برابری خصوصاً زیادہ ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس صوبے کی لاتعداد اور پیچیدہ مسائل کی موجودگی میں جو مرکزی حکومتوں کے فیصلوں کے نتیجے میں سامنے آئے۔ جناب وزیر اعظم صاحب نے اپنے ایک سال کے دور حکومت کے دوران کبھی بھی اس صوبے میں قدم رکھنے کی تکلیف گوارہ نہیں کی۔ جب تک مرکزی اور پنجاب کی حکومتیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کرینگی لوگ اس سوچ میں حق بجانب ہونگے کہ موجودہ بالادست سیاسی طبقے کی پالیسیاں پنجاب کے گرد گھومتی ہیں۔
مورخہ : 22.5.2014 بروز جمعرات
صوبائی حکومت آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کرے۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مہنگائی کہ اس دور میں اور پھر صوبے میں بدامنی اور دہشتگردی کے واقعات نے صوبے کو معاشی اور اقتصادی طور پر برحال کر دیا ہے۔ اور سرکاری کی تنخواہوں میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک طرف موجودہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی نے صوبے کے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے دوسری طرف صوبے میں بھتہ خوری اور جرائم پیشہ گروہوں نے تاجر برادری ، نوکر پیشہ لوگوں اور صاحب استطاعت لوگوں کاجینا حرام کر دیا ہے اور اکثریتی لوگ صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آئے روز سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کیلئے ہڑتالوں پر مجبور ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی بے حسی اور غیر سنجیدگی نے سرکاری ملازمیں مایوسی اور بے چینی روز بڑھ رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ کوئی تیاری اور نہ حکومت چلانے کیلئے کوئی حکمت عملی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک سال میں حکومت کے اپنی ہی پارٹی کے ارکان اسمبلی نے حکومت کے خلاف علم بغاوت اُٹھا رکھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بجٹ کی تیاری میں اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیوں ، ارکان ااسمبلی ، صوبائی اسمبلی اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں نہ لیکر ایک طرف صوبے کو نقصان پہنچایا بلکہ مرکز کے ذمے صوبے کی ادائیگیوں کے کیس کو کمزور کر کے صوبے کا نقصان کر دیا ہے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہو گی۔پختون ایس ایف پشاور یونیورسٹی کے انتخابات مکمل ہو گئے۔
کل بروز بدھ مورخہ 21.5.2014 کو پشاور یونیورسٹی کے پرل لان میں صدارت اور جنرل سیکرٹری کے عہدوں پر خفیہ رائے شماری کے ذریعے ممبران کے تمام ووٹوں پر انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں حاجی فرمان صدر جبکہ انعام بونیری جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے۔ صدارت اور جنرل سیکرٹری کے اُمیدواروں میں وسیم خٹک اور نثار باز شامل تھے۔ لیکن صدارت کیلئے حاجی فرمان 475 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہو گئے جبکہ وسیم خٹک نے 265 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر رہے۔ اس طرح جنرل سیکرٹری کیلئے انعام بونیری نے 442 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو گئے جبکہ مد مقابل اُمیدوار نثار باز نے 296 ووٹ حاسل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔ انتخابات کی نگرانی یونیورسٹی کیمپس پشاور چیئرمین مقرب خان بونیری اور صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر نے کی۔ جبکہ کیمپس کے آرگنائزر کے ساتھ ساتھ صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران نے بھی انتخابی عملہ کے طور پر شریک ہوئیں جبکہ الیکشن کا جائزہ لینے کیلئے پی ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان نے دوران الیکشن یونیورسٹی کا دورہ کیا انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کیا اور کارکنوں کو اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن پر زور دیا ۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ عام ووٹوں کے ذریعے خفیہ رائے شماری کی بنیاد پر انتخابات اور کارکنوں کو مساوی حقوق اور مواقع دینے کی پالیسی دائمی ہے جو جاری رہے گی۔ تاہم کارکنان سنجیدگی اور اخلاص کا مظاہرہ کرے۔ طلبہ کی خدمت اور اپنے نظریات سے وفاداری اپنا شعار بنائیں۔ انتخابات پر امن انداز میں صبح دس بجے سے شروع ہو کر شام آٹھ بجے اختتام پذیر ہوا۔ بعدازاں تمام اُمیدواروں اور کارکنوں نے انتخابی عمل اور ہار و جیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر امتیاز وزیر اور مقرب خان بونیری نے کارکنوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ایس ایف تعلیمی اداروں میں طلبہ کی واحد نمائندہ اور جمہوری و آئینی تنظیم ہے۔ ایڈوائزر ایمل ولی خان کی قیادت میں پی ایس ایف کے اندر آرگنائزنگ کا جاری عمل شفاف ہے اور ہمارے پروسیس میں تمام کارکنوں کو برابری کی بنیاد پر مواقع اور انصاف فراہم کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری اور ہدف و منزل ہے۔ لہٰذا تمام کارکنان اور منتخب ذمہ داران آپس میں اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کو قائم رکھے اور موبائل سفارت کاری کے ذریعے تمام پختون طلبہ تک فخر افغان باچا خان بابا ، رہبر تحریک عبدالولی خان بابا کے افکارو نظریات اور ملی قائد اسفندیار ولی خان کی والہانہ قیادت و سیاست اور پیغام امن پہنچایا جائے۔ یہی پختون ایس ایف کے کارکنوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ پختونولی کے تحت تعلیمی اداروں میں پختون طلبہ اور پختونوں کے قومی حقوق کیلئے اسفند یار ولی خان کی قیادت میں اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے اپنا کردار ادا کریں۔
امتیاز وزیر نے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ منتخب عہدیداروں اور ورکنگ کمیٹی کا اصل امتحان اب شروع ہورہا ہے۔ لہٰذا ایمل ولی خان کے ویژن اور پالیسی کے تحت تنطیم کو ڈسپلن کے تحت آگے لے کر جانا ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کیمپس کی آرگنائزنگ کمیٹی مجلس عاملہ اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران کی کارکردگی کو سراہا اور خراج تحسین پیش کرے۔
کراچی ۔بدھ 21 مئی 2014ء عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق خدائی خدمت گار پیر خاک علی شاہ کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے مرحوم انتہائی طویل عرصے سے عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ تھے باچا خان بابا کی خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ رہے اور قومی خدمت کی پاداش میں فخر افغان باچا خان بابا کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلیں مرحوم کے انتقال کی خبر سنتے ہی پارٹی عہدیداران و کارکنان کی بڑی تعداد مرحوم کی رہائش گاہ پہنچی اور ان کے بیٹوں پیر اکبر علی شاہ اور پیر اقبال شاہ سے دلی تعزیت کی مرحوم کی نماز جنازہ حنفیہ مسجد محمود آباد میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں یونس خان بونیری ،سید حنیف شاہ سمیت صوبائی و ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران سمیت پارٹی رہنماؤں ،کارکنان اور اہل علاقہ کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اور تدفین محمود آباد قبرستان میں کی گئی عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان ،سینیٹر شاہی سید ،یونس خان بونیری اورسید حنیف شاہ نے خدائی خدمت گار پیر خاک علی شاہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی انتہائی سینئر اور شفیق ہستی سے محروم ہوگئی ہے پیر خاک علی شاہ ہمارے لیے کسی قومی ہیرو سے کم نہیں تھے مرحوم باچا خان بابا کی تعلیمات اور خان عبدالولی خان کے افکار کی جیتی جاگتی تصویر تھے پیر خاک علی شاہ کی وفات پارٹی کارکنان کے لیے کسی المیہ سے کم نہیں ہے مرحوم کی رحلت کا رنج ہمارے لیے ناقابل بیان ہے پوری پارٹی مرحوم کے بیٹوں پیر اکبر علی شاہ اور پیر اقبال شاہ سے اظہار تعزیت کرتی ہے اور مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں۔
مورخہ : 21.5.2014 بروز بدھ
اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے کے اکثر علاقوں میں ژالہ باری کی وجہ سے کھڑی فصلیں اور باغات تباہ ہو گئے ہیں۔ لہٰذا صوبائی حکومت ان علاقوں کو آفت زدہ قرار دے اور معاوضے کا فوری طور پر اعلان کردیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ژالہ باری نے صوبے کے اکثر علاقوں میں کھڑی فصلوں اور باغات کو بری طرح سے متاثرکر دیا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر معاوضے کا اعلان اور متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا جائے تاکہ زمینداروں اور کسانوں کی داد رسی ہو جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام پہلے ہی سے مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
کراچی۔ منگل20 مئی 2014ء عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان، سینیٹر شاہی سید اورسید حنیف شاہ نے اے این پی ضلع وسطی کے سابقہ سینئر نائب صدر بخت بلند بونیری کے انتقال پر گہرے اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بخت بلندبونیری کی رحلت سے پارٹی ایک مخلص اور دیرینہ ساتھی سے محروم ہوگئی ہے پارٹی کے لیے مرحوم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی دکھ و رنج کی اس گھڑی میں پسماندگان سے دلی تعزیت کرتے ہیں مرحوم کی مغفرت اوردرجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں۔
کراچی ۔ پیر 19 مئی 2014ء عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے ترجمان نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز گلستان جوہر کے علاقے رابعہ سٹی میں لوٹ مار کرنے اور اہل علاقہ کو دھمکیاں دینے والے افراد کا عوامی نیشنل پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے اب جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کی سندھ بھر میں یونین کونسل کے بعد اضلاع کی سطح پر تنظیم سازی ململ کرلی گئی ہے اور مذکورہ علاقے جو کہ پہلوان گوٹھ وارڈ کہلاتا تھا میں پارٹی کی کسی قسم کی تنظیم سازی نہیں کی گئی ہے اور نا ہی اس علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی رکن یا عہدیدار رہتا ہے ،باچاخان مرکز سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں ترجمان اے این پی سندھ نے مذید کہا ہے کہ واقعے کے بعد جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان کا اے این پی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان جرائم پیشہ افراد میں ایک دہشت گرد جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں گرفتار ی کے بعد ہمارے شہید عہدیدار مشور بنگش کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کرچکا ہے مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناقص تفتیش اور عدالتی کمزوریوں کی وجہ سے ضمانت پر رہا ہے لہٰذا ہمارے رہنماء کے قتل کا اعتراف کرنے کس طرح عوامی نیشنل پارٹی کا کارکن ہوسکتا ہے؟ان جرائم پیشہ افراد کا کبھی بھی عوامی نیشنل پارٹی سے کوئی نہیں رہا ہے اور نا آئند ہ ہوگاہمارا یمان ہے کہ خلق خدا کو تکلیف دینا عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ہمار ے لیڈر سینیٹر شاہی سید کھلم کھلا اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ اے این پی کا کسی جرائم پیشہ شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے ہماری ہمدردیاں ہر مظلوم کے ساتھ ہیں ہم کھلم کھلا اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی متاثرین کی اخلاقی و قانونی مدد کرے گی ہم ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہراتے ہیں کہ پہلوان گوٹھ،رابعہ سٹی اور اس کے قریب و جوار میں عوامی نیشنل پارٹی نے تنظیم سازی نہیں کی ہے ہم قانون ناٖفذ کرنے والے اداروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ واقعے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قرار وقعی سزا دی جائے ہم ملک میں آزاد میڈیا کے حامی ہیں مگر بے لگام نہیں ہماری پارٹی پر الزامات شائع کرنے ساتھ ہمارا موقف بھی شائع کیا جائے عوامی نیشنل پارٹی پر بے سروپا اور جھوٹے الزامات سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے ہم ایک ذمہ دار پر امن سیاسی جماعت ہیں بغض ذاٹی عناد کے بجائے پیشہ ورانہ اور دیانت دارانہ صحافت کی جائے بعض اخبارات جان بوجھ کر عوامی نیشنل پارٹی کی کردار کشی میں مصروف ہیں۔
مورخہ : 19.5.2014 بروز پیر
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی قائد اسفندیار ولی خان نے ملک کی سیاسی قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ محاذ آرائی سے گریز کریں تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔ ولی باغ چارسدہ میں پارٹی کی مرکزی اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹیوں سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران ، انڈیا اور افغانستان میں انتخابات کے بعد خطے میں اُبھرنے والی سیاسی صورت حال کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔ آرگنائزنگ کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کمیٹی کی قائمقام صدر بشریٰ گوہر نے کی۔ اسفندیار ولی خان نے ریاستی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بڑھنے سے پورا جمہوری نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اے این پی کے قائد نے موجودہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ عوام آج کسی اور وقت سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی اور بدامنی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی صورت حال سب سے زیادہ خراب ہے۔ اگر موجودہ بحرانی صورت حال کو تبدیلی کہا جاسکتا ہو تو یہ منفی تبدیلی ہے۔ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ سیاسی کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اسفندیار ولی خان نے اے این پی کے بہادر کارکنوں کی شاندار قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ باچا خان کے پیروکاروں نے ہمیشہ طوفانوں کا مقابلہ کیا ہے اور مشکل ترین حالات کا مقابلہ بہادری کے ساتھ کیا ہے۔ شہیدوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔ اُنہوں نے اے این پی کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنی قابل فخر جدوجہد جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے دوران اپنی حفاظت کا خیال رکھیں۔ آرگنائزنگ کمیٹی کی میٹنگ نے پارٹی کی تنظیمی صورت حال کا بھی جائزہ لیا۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے صوبائی سطح کے انتخابات رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے مکمل کیے جائیں گے۔
مورخہ : 19.5.2014 بروز پیر
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ میں پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت بحیثیت چیئرمین راشد شہید فاؤنڈیشن کی فنڈنگ کے سلسلے میں فاؤنڈیشن کی جانب سے آج یورپ کے دورے پر روانہ ہو رہا ہوں ۔ یاد رہے کہ یہ دورہ میرے شہید بیٹے کے نام سے قائم شدہ فاؤنڈیشن کے تعارف کے سلسلے میں مرتب کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بعض قیاس آرائیوں کی وجہ سے میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے یورپ کے دورے کے دوران پختونخوا میں اضلاع کی سطح پر پارٹی الیکشن ہو رہے ہیں جس کی ذمہ داری پارٹی پختون خوا آرگنائزنگ کمیٹی کی زیر نگرانی پایۂ تکمیل تک پہنچے گا اور اس کے بعد پارٹی کے صوبائی الیکشن کا انعقاد ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر زندگی رہی تو انشاء اللہ میں پارٹی کے صوبائی الیکشن میں موجود رہوں گا۔ چونکہ میں باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کا پیروکار ہوں اور ابتدا ہی سے ورکر کی حیثیت سے پارٹی کی ہدایات پر عمل پیرا ہوں اور آئندہ کیلئے بھی پارٹی مجھے جو بھی ہدایات جاری کرے گی اور جس حیثیت سے بھی وہ مجھ سے کام لینا چاہے گی میں ان ہدایات پر پورا اُتروں گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس لیے میں اس بات کی وضاحت کرنا محسوس کی تاکہ میرے بیرون ملک جانے سے کوئی غلط فہمیاں جنم نہ لیں۔مورخہ : 14.5.2014 بروز بدھپختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر محمد داؤد ، جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان ، نائب صدرہ دوم مریم ، سائنس فیکلٹی کے صدر نومان شیر ، جنرل سیکرٹری جواد علی ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تحسین اقبال ، جنرل سیکرٹری حضر ت بلال مہمند ، اسلامیہ کالج یونٹ کے صدر ملک احتشام الحق اور کثیر تعداد میں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی نے کہا کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے دو سینئر رہنما طارق افغان اور یاسر نواز کو جلد از جلد رہا کیا جائے کوینکہ ان کا اس واقعے کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی وہ واقعے کے دن یونیورسٹی کیمپس مین موجود تھے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سارے صوبے میں احتجاج ، مظاہرے اور ریلیاں نکالے گی جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ یونیورسٹی اور صوبائی گورنمنٹ پر عائد ہو گی۔ آخر میں اجلاس سے کہا گیا کہ اگلے چند دنوں میں جو پختون تصویری نمائش اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی ہے اس کے بارے میں ایک اہم ضروری اور جنرل باڈی اجلاس بدھ کے دن صبح دس بجے ریکریشن سنٹر گراؤنڈ میں بلایا جائیگا۔ جس کی صدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی کرینگے اور اس اجلاس میں تصویری نمائش کو اختتامی شکل دی جائیگی اور اہم فیصلے کیے جائینگے۔ تمام عہدیداروں اور کارکنوں سے گزارش ہے کہ بروز بدھ مقررہ وقت پر اپنی شرکت کو اجلاس میں یقینی بنائیں۔
مورخہ : 19.5.2014 بروز پیرنیشنل یوتھ آرگنائزیشن پختونخوا کی کابینہ کا پہلا اجلاس زیر صدارت صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری ، سینئر نائب صدر گلزار خان ، سیکرٹری انفارمیشن بہرام خان ایڈووکیٹ ، بشیر احمد ، فیض الابرار ، عقل الرحمان ، وقار احمد ، تنویر محمود بخاری ، پلوشہ بشیر مٹہ ، ثناء اعجاز اور سید اعجاز باچا نے شرکت کی۔ صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے اجلاس کی نظامت کے فرائض سر انجام دئیے۔ اجلاس میں کابینہ کی منظوری سے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے صوبائی کونسل کا اجلاس اتوار 25 مئی کو باچا خان مرکز پشاور میں طلب کیا جس میں اہم فیصلے کیے جائینگے۔ کابینہ کے اجلاس میں ایجنڈے کے مطابق تنظیمی اُمور ، فنڈ ریزنگ اور دیگر سیاسی اُمور پر تفصیلی بحث کی گئی اور باقاعدہ فیصلہ کیا گیا کہ جس اضلاع میں تنظیم سازی ممکن نہیں ہو سکی ہے ان اضلاع میں جلد از جلد تنظیم سازی کی جائیگی۔ اجلاس میں تنظیمی اُمور کے علاوہ صوبائی کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ آج کا دن میرے لیے اور صوبائی کابینہ کیلئے اعزاز سے کم نہیں کہ ہم صوبہ کی نو منتخب صوبائی کابینہ میں شرکت کر رہے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حالات و واقعات ہم سے اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہم اپنی قوم کو موجودہ نازک حالات سے نکالنے اور امن کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں اور آج میں آپ سب سے یہ اُمید رکھتا ہوں کہ ہم بہتر تنظیمی ڈسپلن کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کریں۔
مورخہ:18-5-2014 بروز اتوار
پشاور: اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ امبیلا سے جی ۔ ایس ماربل فیکٹری تک روڈ کی کشادگی اور پختگی جلد مکمل ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر 57 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ سابق وزیر اعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے خصوصی طور پر بونیر کی ترقی کیلئے منظور کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے حکمرانوں نے اے این پی کے دور کے منصوبے پر اپنی تختی لگاکر اچھا نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی دورحکومت میں شہباز گڑھی سے لیکر امبیلا کھنڈاؤ تک روڈز کی پختگی اور بحالی جیسے بڑے بڑے منصوبے بھی پایہ تکمیل تک پہنچ گئے تھے ، لیکن موجودہ حکومت ہمارے دورِحکومت کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگا کر بونیر کے عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست خدمت اور عبادت کا نام ہے ۔ لہٰذا موجودہ حکومت صوبے اور بونیر کے عوام کی خدمت میں آگے آئیں اور اپنی ہی شروع کردہ منصوبوں پر تختیاں لگائیں جوکہ بہتر ہوگا ، لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت نے اپنا ایک منصوبہ ہی شروع نہیں کیا اس لئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ منصوبہ امیرحیدرخان ہوتی کا بونیر کے عوام کیلئے ایک تحفہ تھا اور لوگ آج بھی اس بڑے منصوبے کی منظوری پر ان کے شکرگزار ہیں۔
مورخہ : 17.5.2014 بروز ہفتہ ( پریس ریلیز )پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین اور صوبائی ترجمان صدر الدین مروت ایڈووکیٹ نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشین کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میاں افتخار حسین نے کہا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انتخابات سے پہلے عوام سے صحت سے متعلق جو انقلابی دعوے کیے تھے وہ سب ناکام ہو چکے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطالبات کیلئے حکومت کو چاہیے وہ ان کے مطالبات کو فوری طور پر حل کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کا صوبے کے غریب مریضوں کیلئے بڑی خدمات ہیں اس لیے حکومت کو مزید وقت ضائع کیے بغیر سروس سٹرکچر اور مینجمنٹ کا اعلان کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے ڈاکٹروں کو یقین دلایا کہ اُن کے جائز مطالبات اور مسائل کے حل کیلئے ہم اسمبلی کے فلور پریہ مسئلہ اُٹھائیں گے اور اپوزیشن جماعتوں سے بھی اس مسئلے کے حل کیلئے رابطہ کرینگے تاکہ ڈاکٹروں کے جائز مطالبات جلد ہو سکیں۔مورخہ:18-5-2014 بروز اتوارپشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری نے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ کی ہدایت پر این وائی او کے صوبائی کابینہ کا پہلا باضابطہ اجلاس 19 مئی بروز پیر 2بجے باچاخان مرکز پشاورمیں طلب کیا ۔ تمام نو منتخب کابینہ کے آراکین کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ اجلاس میں تنظیمی اُمور ، موجودہ حالات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر فیصلے کئے جائیں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماؤں سینیٹر شاہی سید، یونس خان بونیری ،سید حنیف شاہ اور سائیں علاؤ الدین آغانے اپنے مشترکہ بیان میں سنگین خان ایڈووکیٹ کو نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کا مرکزی صدر اور حسن خان بونیری کو جنرل سیکریٹری اور تمام نو منتخب کابینہ کو پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیمی ساتھیوں کا بھرپور اعتماد حاصل کرنا انتہائی لائق تحسین اور اس پر پورا اترنا اصل امتحان ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں پارٹی رہنماؤں نے مذید کہا کہ NYO کے مرکزی ایڈوائزر ہارون بلور کو با احسن طریقے سے تنظیم سازی مکمل کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی نو منتخب کابینہ اپنے سرگرمیوں کے ذریعے ہمارا اصل امیج دنیا کے سامنے پیش کرے گی اورجس اغراض و مقاصد کے لیے NYO کے لیے قیام عمل میں لایا گیا ہے وہ اس پر پورا اتریں گے ۔
مورخہ : 16.5.2014 بروز جمعۃ المبارک
عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی ترجمان صدر الدین مروت نے ایک اخباری بیان میں موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے سرائے نورنگ میں تجاوزات کی آڑ میں غریب دُکانداروں کو عمر بھر کی جمع پونجی سے محروم کرنے کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کی وجہ سے کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے۔ عوام فاقوں پر مجبور ہیں۔ ایسی حالت میں حکومت کا غریب عوام سے روزگار چھیننا بہت بڑا ظلم ہے۔ غریب مزدور کاروں نے ساری عمر مزدوری کر کے نورنگ بازار میں ریلوے اور ڈسٹرکٹ کونسل سے ماہانہ کرایہ پر پگڑی دیکر دُکانیں خریدی تھیں۔ مگر بلا کسی جواز کے حکومت نے ان دکانوں کو گرا کر مسمار کر دیا جس میں عوام کے کروڑوں روپے ڈوب گئے۔ اور سینکڑوں لوگ بیروز گار ہو گئے ۔ سینکڑوں خاندانوں کو فاقوں پر مجبور کیا گیا۔ اول تو دُکانیں گرانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جو دکانیں گرائی گئیں اس پراپرٹی کی حکومت کو کوئی ضرورت ہی نہیں تھی پھر بھی اگر دکانیں گرانا لازمی تھا تو چاہیے تھا کہ حکومت دُکانداروں سے گفت و شنید کر کے مارکیٹ ریٹ پر مالکان کومعاوضے کی ادائیگی کرتی ۔ کیونکہ دُکانداروں نے یہ سرکاری دُکانیں پگڑی میں کروڑوں روپے دیکر خریدی ہیں۔اُنہوں نے مقامی منتخب نمائندوں کوبھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان نمائندوں کو چاہیے تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کراسے صحیح صورتحال سے آگاہ کرتے اور دُکانات کے مالکان کیلئے کوئی مناسب حل نکالتے۔ مگر اُنہوں نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو اکیلئے حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جس کا حساب وقت آنے پر لوگ مانگنے میں حق بجانب ہونگے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جن دُکانداروں نے ریلوے یا ڈسٹرکٹ کونسل سے باضابطہ کرایہ پر دُکانیں حاصل کی تھیں۔ اُنہیں مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دیا جائے اور یا متبادل جگہ پر اُنہیں ملکیتی دکانیں الاٹ کی جائیں تاکہ اُن کا روزگار بھی چلے اور اُن کی بے چینی بھی ختم ہو۔
مورخہ: 16.5.2014 بروز جمعۃ المبارکعوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور یونین کونسل پانام ڈھیری کی تنظیم نو کا ایک اجلاس زیر صدرات کامران صدیق خان بمقام حجرہ عبدالرحیم بارکزئی منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے یونین کونسل پانام ڈھیری کیلئے صدر محمد بہادر علی خان 249 سینئر نائب صدر قدیر خان 249 جنرل سیکرٹری اظہار خان 249 ڈپٹی جنرل سیکرٹری وقاص احمد اور کابینہ کے دیگر ارکان منتخب ہوئے۔ ضلعی الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کامران صدیق خان 249 حاجی عبدالمالک خان اور عبدالرحیم بارکزئی نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ نو منتخب یونین کونسل کابینہ پارٹی کی ترقی اور فعالیت کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لا کر اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں لوگ عدم تحفظ کے شکار ہیں249 بازاروں 249 مسجدوں 249 گھروں اور کسی بھی جگہ پر عوام کی جان و مال محفوط نہیں۔ آئین میں حکومت کو عوام کے تحفظ کی جو ذمہ داری دی ہے وہ پوری کریں۔ دھرنے دینا مسائل کا حل نہیں 249 تمام مسائل کا حل قیام امن میں پوشیدہ ہے۔ تحریک انصاف نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا وہ محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود وہ نہ ہی عوام کے جان ومال کو تحفظ دے سکی اور نہ ہی ترقیاتی منصوبے شروع کر سکی بلکہ تحریک انصاف حکومت نے سابقہ حکومت کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگانے کی روایت قائم کر رکھی ہے اور وہ اس قدر کرپشن میں ملوث ہیں کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اُنہوں نے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ کے آرگنائزنگ سیکرٹری انورالحق شہید کی روح کے ایصال ثواب کیلئے اجتماعی دُعا اور فاتحہ خوانی بھی کی۔ اُنہوں نے کہا کہ شہید پارٹی کے ایک نظریاتی فعال ایماندار اور مخلص ورکر تھے اُن کے جانے سے ایک اے این پی ایک قیمتی اثاثے سے محروم ہو گئی اور اُن کے جانے سے پارٹی میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ بمشکل پُر ہو سکے گا۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انوارالحق شہید کے قتل میں ملوث افراد کو جلد از جلد بے نقاب کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچا یا جائے۔
مورخہ : 14.5.2014 بروز بدھ
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان ، مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل ، صوبائی عبوری صدر بشیر احمد مٹہ ، آرگنائزنگ سیکرٹری محترمہ جمیلہ گیلانی اور مرکزی آفس اُمور کے انچارج تاج الدین خان نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نو منتخب صدر سنگین خان ایڈووکیٹ ، جنرل سیکرٹری حسن بونیری اور کابینہ کے دیگر نومنتخب ارکان کو مبارکباد دی ہے اور اس اُمید کا اظہار کیا ہے وہ پارٹی کی اُمید پر پورا اُتریں گے۔ باچا خان مرکز پشاور سے اُنہوں اپنے مشترکہ تہنیتی بیان میں کہا ہے کہ یوتھ پارٹی کا اہم جزو ہے اور وہ پارٹی کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لاکر نئی نسل کی فلاح و بہبود کیلئے اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گی۔
کراچی۔ بدھ 14 مئی 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کیا ہے ہم نے نا پہلے کبھی سیاسی مداخلت کی اور نا آئندہ کریں گے صرف رنگ اور نسل کی بنیاد پر دہشت گردوں کو ہمارے کھاتے میں ڈالا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اخبارات میں چھپنے والی ٹارگٹ کلرز کی لسٹ میں ایک دو سری سیاسی جماعت کے صوبائی جنرل سیکریٹری کو بھی اے این پی کا کارکن ظاہر کیا گیا ہماری خواہش ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا سے نا معلوم کا لفظ ختم ہوجائے ہم مانتے ہیں کہ شہر میں قیام امن کے لیے اس وقت پولیس اور رینجرز کی قربانیاں ہم سے بھی زیادہ ہیں ہمیں اپنے اداروں کی صلاحیت پر شک نہیں شہر میں قیام امن کے لیے ہمیں اپنے اداروں پر بھروسہ کرنا ہوگا، اچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں رہنما اے ین پی سندھ اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ شہر کے حالات ناقابل تصور حد تک انتہائی خطر ناک ہیں ہماری خواہش ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بیانات سے زیادہ اقدامات کریں کراچی کے ضلع غربی کے حالات وزیرستان سے بھی زیادہ سنگین ہیں شکایات اور تحفظات کے باوجود جاری ٹارگٹڈ آپریشن کی کبھی مخالفت نہیں کی اور ہمیشہ قانون نافذکرنے اداروں کی کی قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا، ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ شہداء دینے والی جماعت ہی اپنے ریاستی اداروں کی قربانیوں کو سمجھ سکتی ہے شہر میں دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائے اے این پی نے سب سے پہلے کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھااور شہر میں قیا م امن کے لیے اٹھائے گئے اقداما ت کی بھر پور حمایت کریں گے ۔

مورخہ : 14.5.2014 بروز بدھ

سہ فریقی اتحاد کا ایک تعزیتی اجلاس میاں افتخار حسین کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پی پی پی سے رحیم داد خان ، ہمایون خان ، جے یو آئی سے مولانا عطاء الرحمان ، حاجی غلام علی ، آصف اقبال داؤد زئی اور اے این پی سے سید عاقل شاہ ، خوشدل خان ، ملک غلام مصطفی ، ایوب خان اشاڑی ، صدر الدین مروت اور ارباب نجیب اللہ نے شرکت کی۔
اجلاس میں کل ہونے والے واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی جس میں اے این پی کے رہنما انوارالحق کو شہید کیا گیا۔ اور اس کے ساتھ بونیر میں جے یو آئی کے ملک افضل خان ، مولانا فضل احمد کی شہادت پربھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی پُر زور مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ موجودہ حکومت دہشتگردی کے خاتمے میں بالکل بے بس نظر آتی ہے۔ پشاور سمیت پورے پختونخوا کو دہشتگردوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے دہشتگردی کی کارروائیاں اور ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے اور وہ پورے پختونخوا میں دندناتے پھرتے ہیں۔ پشاور شہر میں تقریباً 254 چیک پوسٹوں کو ختم کیا گیا ۔ ہماری سہ فریقی اتحاد حکومت سے پُر زور الفاظ میں احتجاج کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجرموں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ، حکومت کو خواب خرگوش سے نکل کر عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے ہونگے اور دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہو گا ورنہ آئندہ ہمارے کسی بھی عہدیدار یا کارکنوں کی شہادت کی ایف آئی آر حکمرانوں پر کاٹی جائے گی۔سہ فریقی اتحاد بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے بنایاگیا تھا لیکن اب سہ فریقی اتحاد نے موجودہ واقعات کی روشنی یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ اتحاد دہشتگردی کے خاتمے کیلئے حکومت پر اپنا دباؤ برقرار رکھے گا اور عوام کے ہر ایشو کو حل کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً حکومت کی ناکامیوں اور کمزوریوں سے عوام کو آگاہ کرتا رہے گا۔
سہ فریقی اتحاد پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے جائیں ہم بلدیاتی انتخابات سے حکومت کو بھاگنے نہیں دینگے۔ آنے والے دنوں میں سہ فریقی اتحاد کا کنونشن ضلعی سطح پر بلائے جائیں گے اس سلسلے میں سہ فریقی اتحاد کا پہلا صوبائی کنونشن 24 اگست کو بلایا جائیگا۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں عوام اور سیاسی ورکر عاجز آچکے ہیں اور بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکمران 11 مئی کو اسلام آباد میں ڈسکو ڈانس اور ناچ گانے کے ساتھ جلسہ منعقد کررہے تھے اور یہاں پشاور میں خودکش دھماکے میں لوگوں کو خون سے نہلادیا گیا تھا۔ جلسے میں تحریک استقلال کے کسی لیڈر نے بھی دھماکے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ حکمرانوں کو ایسے رویے سے اُن کی غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
اجلاس میں قرارداد کے ذریعے مرکزی اور صوبائی حکومت سے پرزور اپیل کی گئی کہ بجلی کے نرخوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے اور 12 ارب روپے کے جو ٹیکس لگائے گئے ہیں اُن کو فی الفور واپس لیا جائے اور عوام کوریلیف دیا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے صوبے سے تقریباً 15 ارب روپے کی سرمایہ کاری پنجاب کو منتقل ہو چکی ہے جو موجودہ صوبائی حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پنجاب سے ہمارے صوبے میں گندم کی سپلائی پر پابندی لگائی گئی ہے جسے فوری طور پر واپس لیا جائے ۔ پولیو کا بہانہ بنا کر ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کا سہ فریقی اتحاد پر زور مذمت کرتا ہے۔ ہمارے صوبے کے لوگوں کو پنجاب میں داخلے پر پابندی بہت دُکھ کی بات ہے۔ صوبائی حکومت کا صحت کا انصاف بری طرح ناکام ہوا ہے اور کرپشن کا خاتمہ کرنے والے صوبائی حکمرانوں نے اپنے وزراء کو کرپشن کے حوالے سے سامنے لا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکمران خود کرپشن میں ملوث ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رحیم داد خان نے شیر گڑھ میں ایک ناخوشگوار واقع کے حوالے سے کہا کہ شیرگڑھ گرلز ہائی سکول میں پی ٹی آئی کے ورکروں نے گھس کر لڑکیوں اور سکول ٹیچروں سے موبائل سیٹ چھینے اور عورتوں کی بے حرمتی کی جسے حکومتی سرپرستی حاصل تھی اُن لوگوں کو گرفتار کیا جائے۔


مورخہ : 14.5.2014 بروز بدھ

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک احتجاجی واک صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی کی زیر صدارت ریکریشن سنٹر سے روانہ ہو کر نیو بلاک تک جاتے ہوئے اور واپس ریکریشن سنٹر پر ختم ہوا۔ واک میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، سینئر نائب صدر محمد داؤد ، نائب صدر محمد احتشام اور اُس کے علاوہ تمام یونٹوں اور فیکلٹیز کے صدور اور جنرل سیکرٹریز اور عہدیداروں سمیت سینکڑوں کی تعداد میں کاکنوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اعجاز خان نے کہا کہ ہر روز عوامی نیشنل پارٹی کے ایک نہ ایک رہنما یا کارکن کو وحشیانہ طریقے سے قتل کیا جا رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ دونوں حکومتیں امن کے حوالے سے ملک میں ناکام ہو چکی ہیں۔ اور اگر وہ عوام کی دیکھ بھال نہیں کر سکتیں تو فوراً مستعفی ہو جائیں اور ساتھ میں صوبائی حکومت اور آئی جی خیبر پختونخوا پولیس سے پر زور الفاظ میں مطالبہ کیا کہ انوارالحق کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے ایسا نہ کیا تو پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا یہ احتجاج سڑکوں پر سیلاب کی طرح گزرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاؤس ، گورنر ہاؤس اور اسمبلی کو گھیراؤ میں لے گا اور ساتھ میں کہا کہ پختون ایس ایف کے سینئر رہنما یاسر نواز یوسفزئی اور طارق افغان بے گناہ ہیں اُن پر درج مقدمات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ لہٰذا یہ سب ختم کر کے اُن کو بھی باعزت طریقے سے رہا کیا جائے اگر ایسا نہ ہوا تو احتجاج جاری رکھیں گے۔

مورخہ : 14.5.2014 بروز بدھ

ایڈوائزر ہارون بلور کی زیرصدارت نیشنل یوتھ ارگنائزیشن پختونخوا کی صوبائی کونسل کا انتخابی اجلاس

باچا خان مرکز میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی کونسل کا ایک اجلاس زیر صدارت ہارون احمد بلور منعقد ہوا جس میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن پختونخوا کے انتخابات عمل میں لائے گئے۔ جس میں مرکزی صدر خوشحال خان ، مرکزی جنرل سیکرٹری فخر الدین خان ، مرکزی سینئر نائب صدر سلیمان مندڑ ، سکندر مسعود نے الیکشن کمیشن کا کردار ادا کیا۔ انتخابات میں سنگین خان ایڈووکیٹ بلامقابلہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر ، گلزار خان صوبائی سینئر نائب صدر ، نائب صدر(زنانہ) پلوشہ بشیر مٹہ ، سیکرٹری انفارمیشن بہرام خان ایڈووکیٹ ، سیکرٹری ثقافت ثناء اعجاز بلا مقابلہ منتخب ہوئے جبکہ جنرل سیکرٹری کے عہدے پر حسن بونیری اور عظیم خان کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں حسن بونیری کامیاب قرار پائے گئے اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اس موقع پر اے این پی کے صوبائی عبوری صدر بشیر احمد مٹہ نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن اے این پی کا ایک اہم جزو ہے اور مستقبل میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن اے این پی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گی۔

مورخہ:14-5-2014 بروز بدھ 

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری جمیلہ گیلانی نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لاکر قیام امن میں کلیدی کردار ادا کرے۔ دھرنے دینا عوام کے مسائل کا حل نہیں ،جب تک پختونخوا دھرتی پر امن قائم نہ ہو تو نہ ہی ترقی ممکن ہے اور نہ ہی دیگر مسائل حل ہوں گے ، تمام مسائل کا حل امن میں پوشیدہ ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکنوں کو چن چن کر ٹارگٹ کیا جارہا ہے لیکن حکومت میں شامل جماعتوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکام اور بچگانہ پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ نے پنچے گاڑھ رکھے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ اے این پی کے آرگنائزنگ کمیٹی پشاورکے سیکرٹری انوارالحق کے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کی تحقیقات کرے اور اسمیں ملوث ہاتھوں کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ 
اے این پی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری نے 15مئی بروز جمعرات احتجاج ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت آپس میں مل بیٹھ کر صلاح مشورے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی ۔ کارکن حوصلے سے کام لیکر پُرامن رہے۔ 
انہوں نے کہا کہ انوارالحق شہید اے این پی کے ایک مخلص ، ایماندار ، فعال او رسرگرم کارکن تھے اُن کے اور اُن کے خاندان کی پارٹی کیلئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اُن کے جانے سے پارٹی ایک قیمتی اثاثے سے محروم ہوگئی ، پارٹی اُن کی جدائی شدت سے محسوس کرے گی ۔ پارٹی اُن کے خاندا ن اور لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور شہید انوارالحق کی بلند درجات کیلئے دُعاگو ہے۔ 

مورخہ:14-5-2014 بروز بدھ 

عوامی نیشنل پارٹی کے عبوری صوبائی صدر بشیر احمد مٹہ نے کہا ہے کہ صوبے کا واحد اپنا بینک، خیبر بینک، جو صوبے کے عوام کیلئے کثیر الجہتی اقتصادی اور سماجی فوائد کا ذریعہ ہے، کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ناکام کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں کراچی کے چند بڑے سیٹھ اور صوبائی نوکر شاہی میں اعلیٰ کرسیوں پر بیٹھے ان سیٹھوں کے چند کارندے شامل ہیں ، جن کا مقصد یہ ہے کہ یہ بینک جو کئی سال سے مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہا ، اب ناکام ہو جائے اور اس میں پڑا اربوں روپوں کا سرمایہ کراچی منتقل ہو کر ان سیٹھوں اور اُن کے ان افسر شاہی گماشتوں کو فائدہ پہنچائے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ موجودہ صوبائی حکمرانوں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے مگر اُنہوں نے اس معاملے میں چپ سادھ لی ہے اور عمداً انجان بنے بیٹھے ہیں۔

کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک سال سے بینک ایک چیف ایگزیکٹیو کے بغیر چل رہا ہے اور اس آسامی کو پُر کرنے سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ بغیر سربراہ کے بینک کی کارگزاری پر کتنا خراب اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ حکومت وقت نے بینک سے اربوں روپیہ نکالنے اور دیگر جگہ منتقل کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور اس پر کوئی رد عمل نہیں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی ڈور عمران خان کے ہاتھ میں ہے اور عمران خان کو صوبہ پختونخوا کے عوام کے مفاد سے کوئی ہمدردی نہیں اور نہ وہ اس مفاد کا گہرا ادراک رکھتے ہیں۔ وہ تو اس صوبے کو ایک سیاسی مہرے اور سیاسی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے اور یا اپنے پنجاب کے کچھ قریبی ساتھیوں کو ٹھیکوں وغیرہ کے ذریعے اقتصادی مفاد دینے سے مطلب رکھتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ کے وزیر خزانہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں ، اور صوبائی حکومت میں سب سے زیادہ اُن کی ذمہ واری بنتی ہے کہ وہ صوبے کے اس قیمتی سرمایہ ، یعنی خیبر بینک ، کو کراچی کے سیٹھوں اور صوبے کے خود غرض اور لالچی نوکر شاہی کے اعلیٰ افسران کی مشترکہ سازش سے بچائے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ فوراً ان سرکاری سازشی عناصر کو لگام دیں اور ایک اعلیٰ صلاحیت کے اقتصادی ماہر کو بینک کا باقاعدہ اور بااختیار چیف ایگزیکٹیو مقرر کیا جائے اور بینک کے سرمایہ کو کراچی منتقل کرنے کے عمل کو بند کیا جائے۔ بصورت دیگر وزیر موصوف صوبے کے مفاد کے خلاف کام کرنے والے سازشی گروہ کے مقابل چشم پوشی کے الزام سے نہیں بچ سکیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی صوبے کے مفاد کے خلاف ہر عمل کی اعلانیہ مخالفت کرے گی اور ہر طریقے سے ایسے عمل کو روکنے کی بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔

مورخہ : 13.5.2014 بروز منگل

عوامی نیشنل پارٹی پشاور سٹی ڈسٹرکٹ کے جنرل سیکرٹری انوارالحق کے قتل پر اے این پی نے پشاورمیں بھر پوراحتجاج کیا۔ انوارالحق کی میت کو ہسپتال سے سیدھا پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ نذرباغ فلیٹ جی ٹی روڈ لایا گیا اور میت کو سڑک پر رکھ کر جی ٹی روڈ کو عام ٹریفک کیلئے بلاک کر دیا گیا۔میاں افتخار حسین نے اے این پی کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج ختم کریں اور روڈ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے کیونکہ عام لوگوں کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے پُر زور مطالبہ کیا کہ انوارالحق کے قتل میں ملوث قوتوں کو جلد از جلد بے نقاب کر کے فوری گرفتار کیے جائیں اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس موقع پر اے این پی کے رہنما سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین اس موقع پر سابق وزیر کھیل و ثقافت سید عاقل شاہ ، ہارون احمد بلور ، اے این پی کے مرکزی و صوبائی عہدیدار اور کارکن کثیر تعداد میں موجود تھے۔
اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعتیں امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو احتجاج پر مجبور نہ کریں کہ وہ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آجائے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف تو مذاکرات کا ڈرامہ رچارہی ہے اور دوسری طرف کشت و خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ حکومت ڈرامہ بازیاں بند کردیں اور عوام کو تحفظ فراہم کرے۔آئے روز پختون خوا میں عموماً اور پشاور میں خصوصاً ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں نے زور پکڑ لیاہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیے جار ہے ہیں اور حکومت نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے اور اُس کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف دھرنوں کی سیاست چھوڑیں اور عوام کی بھلائی کیلئے آگے بڑھیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر ہمارے نہتے اور معصوم کارکنوں کو ایسی بے دردی سے شہید کئے جارہے ہیں تو ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات اُٹھائیں اور اگر یہی صورت حال رہی تو اے این پی صوبہ گیر احتجاج پر مجبور ہو جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس عوام کے تحفظ کا کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی وہ ذمہ داری پوری کر سکتی ہے۔ جو آئین نے اس کو عوام کے تحفظ کیلئے دیا ہے تو پھر ان کو عوام پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ 

13.5.2014 بروز منگل

عوامی نیشنل پارٹی نے صوبہ بھر میں اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے جنرل سیکرٹری انوارالحق کے قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کے تمام ضلعی دفاتر کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے دفاتر پر سیاہ جھنڈا لگائیں۔ اور اپنی پارٹی کا جھنڈا سرنگون کریں۔ پارٹی قیادت نے اپنی تمام پارٹی تنظیموں اور ورکروں کویہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تمام سیاسی اور تنظیمی سرگرمیاں تین دن تک ملتوی کریں۔


13.5.2014 بروز منگل

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا۔ جس میں جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری جواد احمد ، سینئر نائب صدر معاذ احمد خان ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تحسین اقبال یوسفزئی ، سینئر نائب صدر وسیم عباس ، نائب صدر دانیال نواز اور کالج یونٹ کے صدر ملک احتشام الحق کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا ہم انورالحق سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کی آرگنائزنگ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کی ٹارگٹ کلنگ پر انتہائی افسوس کرتے ہیں۔ اور پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ صوبائی حکومت سے غصے میں یہ مطالبہ کتے ہیں کہ آپ سے عوام کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے تو اسمبلی میں تقریروں اور تماشائی کی طرح بیٹھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ عوام کی دیکھ بھال کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ساتھ ہی میں دہشتگردوں کو یہ بات بتانا چاہتے ہیں کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور عوامی نیشنل پارٹی باچا خان بابا کے قافلے کے سپاہی ہیں۔ سپاہی ہے وہ ملک میں امن کی خاطر اور بھی جانیں دینے کیلئے تیار ہیں ان دہشتگردوں کی گولیاں ختم ہو جائینگی مگر ہمارے سینے چٹان کی طرح کھڑے رہینگے اور ہر صورت میں اپنے وطن کو دہشتگردوں سے صاف کرینگے۔
اجلاس کے آخر میں اجتماعی طور پر انوارالحق کیلئے مغفرت کی دُعا بھی کی گئی اور ان کے خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

مورخہ:13-5-2014 بروز منگل 

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ ، صوبائی آرگنائزنگ سیکرٹری جمیلہ گیلانی، صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ اور آرگنائزنگ کمیٹی کے رُکن ایمل ولی خان نے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے آرگنائزنگ سیکرٹری انوارالحق پر قاتلانہ حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے معصوم اور بے گناہ انسانوں کی زندگیوں کا خاتمہ کرنا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے ، لوگ نہ گھروں نہ مسجدوں اور نہ ہی بازاروں میں محفوظ ہیں۔ 
انہوں نے باچاخان مرکز سے اپنے ایک مشترکہ جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کا جو ڈرامہ رچایا ہے وہ محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے ۔ ایک طرف مذاکرات کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف نہتے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کا خاتمہ ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے ذریعے کیا جاتا ہے ۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے امن وامان کے حوالے سے پالیسی میں اخلاص اور لچک نظر نہیں آتی ۔ حکومت عوام کے جان ومال کی تحفظ کو یقینی بناکر اپنا فرض نبھائیں۔ انہوں نے کہا کہ انوارالحق اے این پی کے ایک نڈر ، بے باک ، سرگرم ، فعال اور مخلص کارکن تھے اور اُن کے جانے سے اے این پی ایک قیمتی اثاثے سے محروم ہوگئی ۔ 
انہوں نے کہا کہ اے این پی شہید کے لواحقین سے گہری ہمدردی ، تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے شہید کے درجات کی بلندی اور ان کے مغموم اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی۔ 

مورخہ:13-5-2014 بروز منگل 

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیارولی خان نے اے این پی پشاور سٹی ڈسٹرکٹ کے آرگنائزنگ سیکرٹری انوارالحق کو اندھا دُھند فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے اور ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، ملک میں عموماً اور پختونخوا میں خصوصاً ٹارگٹ کلنگ روزمرہ کا معمول بن چکا ہے ۔ 
باچاخان مرکز سے ایک جاری کردہ مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو آئین نے عوام کے جان ومال کی تحفظ کا جو ذمہ داری دی ہے وہ پوری کرے اور عوام کی تحفظ کو یقینی بنائے۔ 
اے این پی کے قائد نے کہا کہ انوارالحق اے این پی کے ایک فعال ، سرگرم مخلص اور نڈر کارکن تھے اور اُن کی جدائی سے پارٹی ایک وفادار ساتھی سے محروم ہوگئی۔ اُن کے خاندا ن کے پارٹی کیلئے قربانیوں کو پارٹی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اُن کو اُن کی ناقابل فراموش قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی شہید کے خاندان سے اس غم میں برابر کی شریک ہے اور ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ انوارالحق شہید کے درجات بلند کرے اور مغموم خاندان کو صبر جمیل عطاکرے۔ 

مورخہ : 12-5-2014 بروز پیر 

پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی الیکشن کمیشن کے سربراہ خوشحال خٹک نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی کابینے کیلئے الیکشن کا انعقاد 14 مئی بروز بدھ صبح 9:30 پر باچاخان مرکز میں کئے جائیں گے۔ الیکشن کے موقع پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ایڈوائیزر ہارون بلور اور پارٹی کے قائدین خصوصی طور پر شرکت کریں گے۔،آئین اور منشور کے مطابق انتخابات کا عمل مکمل طور پرآزاد اور شفاف انداز میں منعقد کئے جائیں گے۔ 
انہوں نے صوبائی کونسل خیبرپختونخوا کے تمام ممبران سے اپیل کی ہے کہ اس تاریخی موقع پر ضرور شرکت کریں اور صوبائی کابینے کے انتخابات میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیں۔ 

مورخہ:12-5- 2014بروز پیر 

پشاور:آج باچاخا ن مرکز میں یونیورسٹی کیمپس پشاور کا اجلاس زیر صدارت کیمپس چیئرمین مقرب خان بونیری منعقد ہوا ۔ اجلاس میں پی ایس ایف کے صوبائی ایڈوائیزر ایمل ولی خان اور صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ نے خصوصی شرکت کیا۔ اجلاس میں پشاور یونیورسٹی میں پی ایس ایف کی صدارت اور جنرل سیکرٹری کیلئے کل 10 اُمیدواروں کا ایڈوائیزر ایمل ولی خان نے انٹرویو کیا ۔ 
بعد ازاں جنرل باڈی اجلاس سے ایمل ولی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایف ایک تاریخی نظریاتی اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کا نمائندہ فیڈریشن ہے ۔ پی ایس ایف کے تمام ذمہ داران اور کارکنان آپس میں اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کو قائم رکھے ۔ ہمارے لئے تمام کارکنان برابر ہیں۔ الیکشن کے دوران جو بھی صاف و شفاف انتخابی عمل کے ذریعے منتخب ہوتا ہے وہ سب کیلئے قابل قبول ہوگا۔ پی ایس ایف کے کارکنان پُرامن اور مثبت سرگرمیوں کو پروان چڑھائیں اور علم و تحقیق پر توجہ مرکوز کریں۔ اور موبائل سفارت کاری کے ذریعے فخرِافغان باچاخان باباؒ ، رہبر تحریک خان عبدالولی خان باباؒ کے افکار و نظریات اور ملی قائد اسفندیارولی خان کی فلسفہ سیاست اور پیغام امن و پختون سرزمین کی ترقی و خوشحالی کا پیغام تمام طلبہ کو پہنچا کر اپنی اپنی ملی ذمہ داریاں ادا رکریں۔ 
اجلاس سے پی ایس ایف کے صوبائی چےئرمین امتیاز وزیر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پی ایس ایف میں آرگنائزنگ کا جاری عمل عنقریب ایمل ولی خان کی نگرانی میں پالیسی کے تحت مکمل کرکے تنظیم کو مزید مضبوط کریں گے۔ اور پی ایس ایف و اے این پی کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانا پی ایس ایف کے کارکنوں کی بنیادی ذمہ داری ہیں۔ پی ایس ایف ایڈوائیزر ایمل ولی خان کی قیادت میں مکمل متفق ہے اور ملی قائد اسفندیارولی خان کی قیادت میں پارٹی کے تمام سیاسی و نظریاتی فیصلوں پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ 
اجلاس میں پشاور یونیورسٹی ، اسلامیہ کالج یونیورسٹی ، زرعی یونیورسٹی اور اسلامک سنٹر کے منتخب عہدیداروں اور کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کیااور پشاور یونیورسٹی کے انتخابات کو عام ووٹوں کے ذریعے حفیہ رائے شماری کی بنیاد پر اگلے ہفتہ کو بروز بدھ بتاریخ 21 مئی کو کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

مورخہ:11-5-2014 بروز اتوار 

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی عبوری صدر بشیر احمد مٹہ نے پردہ باغ پشاور کے قریب خودکش حملے کے واقعے میں پانچ قیمتی جانوں کے ضیاع اور متعدد شہریوں کے شدید زخمی ہونے پر گہرے رنج اور تشویش کا اظہا ر کیا ہے ۔ انہوں نے شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے خداوند تعالیٰ سے دُعا کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک آگ اور خون کے لپیٹ میں ہے ، مرکزی اور پختونخوا صوبے کی حکومتیں اپنے فرائض منصبی سے بالکل غافل نظر آتی ہے ۔ وزیر اعظم بیرونی دوروں میں مشغول ہے اور تحریک انصاف کے سربراہ جن کی پختونخوا میں حکومت ہے دھرنوں اور سیاسی بے چینی بہلانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مذاکرات کا تمام سیاسی پارٹیوں نے نواز شریف کو مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے امن قائم کرے اُن کا نام و نشان ہی نظر نہیں آتا اور عوام اس سلسلے میں حکومت کی کارگزاری اور رویے سے سخت نالاں ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ ملک جس تیزی کے ساتھ افراتفری اور غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے اس میں حکومت کی موجودہ پالیسیوں میں عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے اور اگر اس کا جلدی سدباب نہ کیا گیا تو ملک ایک بڑے ہی بحران سے دوچار ہو سکتا ہے ۔ 

کراچی۔ جمعتہ المبارک09 مئی 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان و سینیٹر شاہی سید نے نواب شاہ میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے اور پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے سے سے ہونے والی تباہی انتہائی افسوس ناک ہے مشکل کی اس گھڑی میں عوامی نیشنل پارٹی زلزلہ متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے ہلاک شدگان کی مغفرت، پسماندگان کے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں اے این پی کے قائدین نے عوامی نیشنل پارٹی ضلع نواب شاہ اور قریبی اضلاع کے کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرین کی بحالی کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیں ۔

9.5.2014 بروز جمعۃ المبارک

دھرنوں اور جلسوں سے عوام کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ عمران خان دھاندلی کا واویلا کر کے عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام مسائل کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور عمران خان وزارت عظمیٰ کی لالچ میں صوبے کی حکمرانی سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی صوبائی حکومت ایک سال میں کابینہ میں مسلسل ردوبدل کے علاوہ کوئی کام نہیں کر سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کے حقیقی نمائندے مہذب اور جمہوری طریقے سے عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ عمران خان ملک میں افراتفری پیدا کر کے جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے درپے ہیں لیکن باشعور ہو چکے ہیں۔ اور ان کے جھوٹے اور فریبی انقلابی نعروں پر مزید دھوکہ نہیں کھائیں گے۔ ان کو صوبے کے عوام کا سامنا کرنا چاہیے اور صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور بھتہ خوری کا سد باب کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ جو پارٹی ایک صوبے میں اپنے ممبران کو مطمئن نہیں کرسکتی وہ ملک میں خاک انقلاب اور تبدیلی لا سکیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام عمران خان کا ساتھ دینے پر پچھتا گئے ہیں اور روز بروز صوبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ اور بدامنی جیسے گھمبیر مسائل سے بھاگنے کی وجہ سے عمران خان نیا ڈرامہ رچا کر عوام کو مزید ورغلا نہیں سکتے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں لیکن باشعور اور ذمہ دار عوام ان کی تشہیری مہم کو بری طرح ناکام بنا دینگے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ اب آمرانہ اور غیر جمہوری طریقے سے اقتدار میں آنے کا سوچ رہے ہیں۔

8.5.2014 بروز جمعرات

عوامی نیشنل پارٹی نے مرکزی اپیلیٹ بورڈ کا اعلان کر دیا

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت مرکزی عبوری صدر / مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین سینیٹر حاجی محمد عدیل منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی اُمور 249 فعالیت اور ملک کی پانچوں وحدتوں 249 پختونخوا 249 بلوچستان 249 پنجاب 249 سندھ اور سرائیکی میں پارٹی صوبائی کابینوں کے الیکشن پر غور خوض ہوا اور اس کے لیے حکمت عملی تیار کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے پایا گیا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی اپیلیٹ بورڈ کا اعلان بھی کیا گیا۔ اپیلیٹ بورڈ کے چیئرمین سینیٹر حاجی محمد عدیل 249 نائب چیئرمین بشریٰ گوہر ہو گی۔ ان کے ساتھ ملک کی پانچوں وحدتوں سے ممبران میں عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ (پختونخوا) 249 ڈاکٹر رحمان انجم (سرائیکی) 249 نظام الدین کاکڑ (بلوچستان) 249 رانا گل آفریدی (سندھ) اور محمد ندیم قریشی پنجاب سے شامل ہیں۔


کراچی۔جمعرات 08 مئی 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء سینیٹر شاہی سید نے میران شاہ میں سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی کو بم سے نشانہ بنانے اور چیک پوسٹ پر فائرنگ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف سیکورٹی اہلکار ملک و قوم کی خاطر جانے دے رہے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کا کھیل کھیل کر عوام کی آنکھون میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے ایک طرف ہمارے جوانوں کو شہید کیا جارہا ہے اور دوسری طرف ہمارے میڈیا میں کھلے عام دہشت گردوں کے حمایت کی جارہی ہے میرا عوام سے سوال ہے کہ ہمارے فورسز کے جوانوں کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کے حمایتیوں کو کیا کہنا چاہیے؟مذاکرات کے متعلق وزیر اعظم ااور وفاقی وزیر داخلہ کے بیانا ت میں تضاد ہے خدارا ملک و قوم کے روشن مستقبل کی خاطر ٹھوس اور واضح موقف اپناتے ہوئے بھرپور اقدام اٹھایا جائے باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں رہنماء اے این پی سندھ اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذیدکہا کہ دہشت گردی کی خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والی سیاسی قوت کی حیثیت سے ملک کے امن کی خاطر اپنے جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ ظلم کی سیاہ رات چاہے کتنی کی طویل کیوں نا ہو روشن صبح میں ضرور تبدیل ہوتی ہے عوامی نیشنل پارٹی سندھ شہید سیکیورٹی اہلکاروں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے ۔

کراچی۔بدھ 07 مئی 2014ء

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کارکنان کی توڑ پھوڑ بدتمیزی ، دھکم پیل،شور شرابا کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند درجن کارکنان کے ہمراہ کپتان صاحب عدالتی تقدس پامال کرکے کپتان صاحب کیاثابت کرنا چاہتے ہیں عدالت میں دھکم پیل کرنا انتہائی افسوس ناک فعل ہے حکومتی اور سیاسی عہدے سے قطع نظر عدالت کا احترام سب پر لازم ہے ہم لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سربراہ تحریک انصاف سے بھر پور جواب طلبی کی جائے عدالتوں سے اپنی مرضی کے ٖفیصلے لینے کا وقت گزرچکا ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ نے مذید کہا ہے کہ تبدیلی کے علمبر دار پہلے کارکنان کی تربیت کریں اور انہیں عدلیہ کے احترام سکھائیں سونامی اینڈ کمپنی معزز جج صاحبان کے دفاتر میں زور آمائی کے بجائے 11 مئی کو ڈی چوک اسلام آباد میں زور آزمائی کریں انہوں نے مذید کہا کہ اے پی ایم یل نے 11 مئی کے دھرنے میں شرکت کا اعلان کرکے عمران خان کاپرویز مشرف کے 2002 کے صدارتی ریفرنڈم میں حمایت کا قرض ادا کردیا ہے تحریک انصاف کے اتحادی 11 مئی کے دھرنے میں شرکت نہیں کررہے مخدوم جاوید ہاشمی اپنے کپتان کوجمہوری سسٹم پر خودکش حملہ کرنے سے باز رکھیں۔

7.5.2014 بروز بدھ

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ایمل ولی خان نے 11 مئی کو پی ٹی آئی اور طاہر القادری کے احتجاجی پروگرام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پتہ نہیں کہ کیوں ان دونوں رہنماؤں نے جمہوریت کے پیچھے لنگوٹ کس لیے ہیں۔ طاہر القادری تو روز اول سے ہی جمہویرت کے خلاف ہیں اور آہستہ آہستہ عمران خان کے درپردہ عزائم سے بھی پردہ اُٹھ رہا ہے۔ کیونکہ ایک سال حکومت کرنے کے بعد اچانک ان کو دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر عوام کو نکالنے کا خیال آگیا ہے۔ حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ کس ناجائز طریقے سے اُسے پختونخوا کی حکومت دلوائی گئی ہے۔ اگر چہ اے این پی نے تحفظات کے باوجود انتخابی نتائج اس لیے تسلیم کیے کہ ایسا نہ ہو جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے جو کہ ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مجوزہ احتجاج دراصل عوام کی توجہ نان ایشوز کیطرف مبذول کرانے کی بھونڈی کوشش ہے کیونکہ پی ٹی آئی نے تین ماہ میں جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا ایک سال حکومت کرنے کے باوجود وہ ایک فیصد تبدیلی لانے میں ناکام ہو گئے ہیں اور صرف اخباری بیانات کے ذریعے عوام کو مشغول رکھے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے ایک سال میں عوام کو پسماندگی کیطرف دھکیلتے ہوئے ان کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے اور بعید نہیں کہ عوام اُٹھ کر اس سے اپنے وعدوں کی بازپرس کرے ۔ اسے چاہیے کہ وہ عوام کو اپنی حکومت کے ایک سال کی کارکردگی سامنے لائے مگر وہ ایک بار پھر عوام کو دھوکہ دیکر غیر ضروری احتجاج میں اُلجھانا چاہتے ہیں تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ اس لیے نہیں دیا کہ وہ چالیس سیٹوں کا واویلا مچا کر احتجاج کا راستہ اختیار کرے بلکہ عوام نے اسے اس لیے اقتدار پڑھایا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی تکمیل کرے۔ صوبہ میں امن قائم کرے 249 بیروزگاری ختم کر کے کرپشن ختم کر کے لوڈ شیڈنگ ختم کرے اور عوام کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی لائے۔ مگر اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے اس کوشش میں ہے کہ باعزت طریقے سے اُسے حکومت سے چھٹکارہ ملے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے درپے ہے تاکہ عوام جو کہ پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس ہیں کے سامنے وہ مزید شرمندگی سے بچ سکیں۔ حالانکہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کا حصہ ہے اور وہ پارلیمنٹ میں ہر مسئلے کو اُٹھا سکتی ہے۔ مگر حکومت میں ہوتے ہوئے سڑکوں پر نکلنا ان کے پس پردہ عزائم کی نشاندہی کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ مرکزی و صوبائی حکومت پانچ سال مکمل کرے کیونکہ ایک طرف تو جمہوریت مضبوط ہو گی جبکہ دوسری طرف موجودہ حکمران یہ بہانہ نہیں بنا سکیں گے کہ ہم نے تو اپنے وعدوں کی تکمیل کرنی تھی مگر ہمیں حکومت کرنے کا پورا موقع نہیں دیا گیا۔ لہٰذا اسلام آباد میں مجوزہ ڈرامہ بازی بند کیجائے۔

7.5.2014 بروز بدھ

عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ نے پنجاب حکومت کی اس تجویز کو انتہائی احمقانہ قرار دیا ہے۔ جس کی رُو سے پختونخوا سے پنجاب کو سفر کرنے والے شہریوں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے پاس پولیو ویکسین کے قطرے پینے کا سرٹیفیکیٹ لے کر چلیں ورنہ اُن کو پنجاب میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک اس وقت جس نازک اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے اُس میں اس قسم کی سوچ انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ اگر اس سے کوئی بات ثابت ہوتی ہے تو وہ پنجاب کے بالا دست طبقے کا چھوٹی قومیتوں کے بارے میں وہ تعصّب ہے جو وقتاً فوقتاً ایک یا دوسری صورت میں دانستہ یا نا دانستہ طور پر سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پختون خوا کی بجلی قدرتی گیس اور ہر قسم کے قیمتی معدنیات کیلئے تو بڑے بھائی کے دروازے کھلے ہیں مگر پختون خوا کے انسانوں کیلئے بیماری اور مصیبت کے وقت کوئی فراخدلی قطعاً نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت اس قسم کا کوئی فیصلہ کرے تو اس کیلئے نہ صرف پنجاب کی حکومت بلکہ مرکزی حکومت بھی یکساں طور پر قابل مذّمت ہو گی کیونکہ دونوں جگہ نہ صرف ایک ہی پارٹی بلکہ دو سگے بھائیوں کی حکومت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر اس تجویز کو جلد از جلد واپس نہ لیا گیا تو اس کے لازمی طور پر وہ خراب نتائج نکلیں گے جس کا اندازہ بھی شریف برادران نہیں کر سکتے اور ان نتائج کی تمام تر ذمہ داری اُن ہی کے سر ہو گی۔

7.5.2014 بروز بدھ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کا ایک خصوصی اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل منعقد ہوا۔ اس موقع پر مرکزی آرگنائزنگ سیکرٹری سینیٹر باز محمد خان 249 ممبر آرگنائزنگ کمیٹی بشریٰ گوہر اور آفس اُمور کے انچارج تاج الدین خان بھی موجود تھے۔ اجلاس میں افغانستان کے صوبہ بدخشان میں مٹی کا تودہ گرنے سے ہزاروں کی تعداد میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور افغان حکومت عوام اور متاثرین کے لواحقین سے اے این پی کی طرف سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس موقع پر اے این پی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے پاکستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ افغان خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے اور فوری طور پر ان کو حتی الوسع امداد ہنگامی بنیادوں پر فراہم کی جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے جمہوریت کے مفاد اور بحالی میں ہر دور میں مثبت اور اہم کردار ادا کیا ہے جس کی زندہ مثال 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کرانے اور بعض قوتوں کا اے این پی کو ہرانے کیلئے کردار ادا کرنے کے باوجود نتائج تسلیم کرنے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جنہوں نے الیکشن میں ایک ایک لاکھ ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی ہم نے ضمنی الیکشن میں اُن کی ضمانتیں تک ضبط کر کے شکست دی اور اُن کے وہ ووٹ کہاں غائب ہوگئے۔ جمہوریت کی دھجیاں اُڑانے والے تحریک انصاف کی حکومت نے ایک سال مکمل ہونے کے باوجود تبدیلی نہیں لا سکی اُن کی تبدیلی کا نعرہ آنکھ مچولی کا کھیل نکلا وہ امن و امان کے معاملے میں لوگوں کو تعلیم 249 روزگار اور دہشتگردی کی روک تھام میں بری طرح ناکام رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ہم نے پارٹی کے قیمتی سرمایہ پارلمینٹرین 249 عہدیدار اور ہزاروں کارکنوں کا نذرانہ دے کر امن کو بحال کیا ۔ ملاکنڈ ڈویژن اور صوبے کے دیگر علاقوں کو پر امن بنایا لیکن آج وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں عوام کے جان و مال کے تحفظ سے مکمل طور پر غافل ہیں اور ان میں امن و امان کی بحالی کی صلاحیت نہیں ہے۔مرکزی اور صوبائی حکومت نے مذاکرات کا جو ڈرامہ رچایا ہے وہ محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے مرکزی اور صوبائی حکومتیں ڈرامہ بازی کرنا بند کر دیں اور عوام کو پر امن ماحول فراہم کرنے اور ان کے بنیادی مسائل حل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ حاجی محمد عدیل نے کہا کہ ہم غیر جمہوری طریقے سے حکومت کو گرانے کے حق میں نہیں اور اے این پی ہر اس اقدام کی بھرپور مخالفت کرے گی جو جمہوریت کے دائرے سے باہر ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی آزاد صحافت کے خلاف کسی بھی اقدام کے حق میں نہیں ہم آزاد صحافت کے حامی ہیں۔ مختلف شہروں اور علاقوں میں بعض اخبارات اور ٹی وی چینلز کی بندش پر ہم افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اُنہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی کہا ہے کہ آزادی صحافت پر وار کرنے کی شدت سے مذمت کرے اور حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنے اور اس مسئلہ میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

کراچی۔منگل 06 مئی 2014 ء عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مارچ اور دھرنوں کے بجائے تحریک انصاف اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنے والے اب پورے جمہوری سسٹم پر خودکش حملہ کرنا چاہتے ہیں ماضی میں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری نثار نے جن قوتوں پر تحریک انصاف کی پشت پناہی کا الزام لگایا تھا آج وقت نے سچ ثابت کردیا ہے تبدیلی کے علمبردار عوام سے کیے گئے کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کرسکے ہیں نوے دن میں بلدیاتی انتخابات ،وزیر اعلیٰ ہاؤس کو خواتین یونیورسٹی میں تبدیلی کا وعدہ ایک سال گزر جانے کے باوجود آج تک پورا نہیں کیا جاسکا ہے کپتان صاحب وزیر اعظم کا خواب پورا نا ہونے پر پورے سسٹم کو لپیٹنا چاہتے ہیں دھرنے ، الزامات اور دعوے کرنا اسان اور عملی جامعہ پہنانا اور ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے ترجمان نے مذید کہا کہ ہم سونامی خان سے پوچھتے ہیں کہ خیبر پختون خوا میں بھی دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں ؟کپتان خان کے حالیہ الزامات کے بعد ثابت ہوگیا ہے کہ وہ کن قوتوں کے کاندھوں پر بیٹھ کر سیاست کررہے ہیں،احتجاج کرنا سب کا جمہوری حق ہے مگر مارچ کرنے سے بہتر ہے کہ تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں اپنی صوبائی حکومت پر توجہ دے خیبر پختون میں اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے الزامات کا پنڈورا بکس اور احتجاج کا تماشہ لگایا جارہا ہے ان کی صوبائی حکومت کو کسی محکمے کے لیے موزوں وزیر بھی نہیں مل پارہا ہے خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت نے ایک سال میں ہی وزرا کے تبادلوں کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے غیر جمہوری سوچ کی حامل جماعتیں عوام کے سامنے خود بخود بے نقاب ہورہی ہیں انہوں نے مذید کہا کہ الیکشن میں جس بے دردی کے ساتھ ہمیں نشانہ بنایا گیا اور الیکشن کے نام پر جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے مگر بچکانہ الزمات اور احتجاج کا تماشہ لگانے کے بجائے ایک ذمہ دار سیاسی قوت کی حیثیت سے اور جمہوریت کے مفاد میں ہم نے الیکشن کے نتائج کو خندہ پیشانی سے قبول کیا ۔

 

مورخہ:6-5-2014 ( بروز منگل)

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی خیبر ایجنسی کے آرگنائزر جوہر حمید آفریدی نے کہا ہے کہ قوم کی حالت زار سے بے خبر تحریک انصاف کی حکومت کو پانی میں ڈوب کر مرنا چاہیے ، ایک طرف قوم فاقہ کشی پر مجبور ہے اور دوسری طرف ناروا لوڈشیڈنگ نے ان کا جینا حرام کیا ہے۔ بے روزگاری ، دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات نے اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت اور اسکے سربراہ عمران خان دھرنوں کی سیاست کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے نئے پاکستان اور تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا وہ آنکھ مچولی کا کھیل نکلا اور تحریک انصاف درحقیقت تحریک بے انصاف کی روپ میں ابھر آیا ۔ اس جماعت نے نئے پاکستان بنانے کی بجائے نئے مسائلستان کو ضرور جنم دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت جیسے کرپٹ ترین حکومت دنیا کی تاریخ میں نہیں گزری ہے جسکی زندہ مثالیں حال ہی میں دو وزراء شوکت یوسفزئی اور یاسین خلیل کی ان کے عہدوں سے فارغ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ غریب عوام روٹی کے ایک نوالے کیلئے ترس رہے ہیں اورقوم کے حال سے بے خبر ہے اور تحریک انصاف کے وزراء اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں صحت کے حوالے سے صوبائی حکومت نے صحت کا انصاف کے نام سے جو پروگرام شروع کیا ہے جسمیں کروڑوں کے گھپلے ہو رہے ہیں ۔حکومت خاموش دہشت گرد کردار ادا کر رہی ہے جسکا زندہ مثال جلوزئی کیمپ میں فاٹا سے تعلق رکھنے والے متاثرین جلدکے کینسر کی موزی مرض میں مبتلا ہونا اور بھوک و افلاس سے مرنا ہے جس پر صوبائی حکومت خاموش تماشائی بیٹھی ہوئی ہے اور قوم کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے وزارتوں اور مشیروں کے عہدوں پر مشت و گریبان ہیں ۔ انہوں نے گورنر پختونخوا اور صوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر جلوزئی کیمپ میں مقیم متاثرین کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی تو وہ بغاوت پر مجبور ہوجائیں گے اور اس سے جو بھی صورتحال پیدا ہوگی اسکی تمام تر ذمہ داری گورنرپختونخوا اور موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوگئی۔

مورخہ:5-5-2014 بروز پیر

لوڈ شیڈ نگ کے بڑھتے ہوئے رفتار نے صوبے کے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے، سردارحسین بابک پشاور:لوڈ شیڈ نگ کے بڑھتے ہوئے رفتار نے صوبے کے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا کہ آج کے حکمران جماعتیں اور ماضی کی اپوزیشن جماعتیں اے این پی کے خلاف ڈھنڈورا پیٹھتے تھے کہ بجلی کا مسئلہ حل نہیں کر سکے ، لیکن آج جب خود حکومت میں پہنچ گئے تو مرکزی حکومت صوبے اور صوبہ مرکز پر ذمہ داری ڈال رہی ہے اور درمیان میں صوبے کے غریب عوام پسے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو ہماری دور حکومت کے بجلی پیدا کرنے کے دس سالہ منصوبہ پر کام شروع کردینا چاہیے اور عملی طور پر ہماری حکومت کی طرح بجلی کی پیدواری یونٹس پر کام کا آغاز کرنا چاہیے اور ان کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ شوروواویلا کرنے سے صوبے کے عوام ان کو معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے یاد دلایاکہ گذشتہ دورحکومت میں عمران خان ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں مسجدوں میں لوگوں کو اے این پی کے خلاف بددعاؤں کیلئے اُکساتے تھے مگر جب اب وہ جماعتیں حکومت میں ہیں ، عملی اقدامات اُٹھانے اور مسئلے کے سنجیدگی کو دیکھنے کی بجائے آج بھی عوام کو ہڑتالوں ، دھرنوں اور احتجاجوں کیلئے اُکسا کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرر ہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ صوبے میں ایک ایسی آسمانی حکومت نازل ہوگئی ہے جس کا عوام کے دیرینہ مسائل کے حل دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا ایک سال پورا ہونے کو ہے لیکن وہ بڑے بڑے وعدے اور دعوے عوام کے سامنے آشکارہ ہوگئے ہیں اور موجودہ حکمران نہ میڈیا کا سامنا کرسکتے ہیں اور نہ ہی عوام کا۔

مورخہ:5-5-2014 بروز پیر

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں مٹی کے تودے گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے جاں بحق افراد کیلئے دُعا مغفرت کی اور تعزیت کا اظہار کیا ۔
باچاخان مرکز پشاور سے جاریکردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی جاں بحق افراد کے خاندانوں اور افغان عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں جاں بحق افراد کے غم اور دُکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔ 

کراچی۔ اتوار 04 مئی 2014ء

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنما سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ کراچی میں قیام امن کے ہم سب کو ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا ہوگاشہر میں بد امنی کی تاریخ کافی طویل ہے اگر موجودہ ٹارگتڈ آپریشن کامیاب نا ہوسکا تو شاید آئندہ کوئی بھی کاروائی کامیاب نا ہوسکے جتنی مضبوط حمایت موجودہ ٹارگٹڈ آپریشن کو حاصل ہے ماضی میں کسی آپریشن کو نہیں تھی شہر کی تمام سیاسی قوتوں،تاجر و صنعت کار برادری،سول سوسائٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھر پور اخلاقی سپورٹ کا یقین دلایا تھالہٰذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کاندھوں پر انتہائی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،ان خیالات کا اظہار سینیٹر شاہی سید نے ؂مردان ہاؤس میں ضلع کورنگی کے نو منتخب صدر نور شیر خان کی قیادت میں ضلعی کابینہ سے ملاقات کے دوران کیاانہوں نے مذید کہا کہ بد ترین حالا ت میں صوبے بھر میں اضلاع کی سطح پر تنظیم سازی مکمل ہونے پر کارکنان اور وارڈوں ،ضلعی اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں نظریاتی و فکری تحریک سے وابستہ کارکنان ہی ظلم و جبر اور مشکلات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہم اس شہر میں ایک سیاسی حقیقت ہیں ہمارا راستہ روکنے والے احمقوں کی جنت کی رہتے ہیں ہم اٹل حقیقت تھے اور رہیں گے پارٹی عہدیداران و کارکنان مرکزی قیادت کے فیصلوں کا انتظار کریں۔

مورخہ:4-5-2014 بروز اتوار

پشاور:اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر صوابی یونیورسٹی کیلئے مختص رقم فراہم کردے۔ یہ بات انہوں نے پریس کلب کے سامنے ’’ صوابی یونیورسٹی بچاؤ‘‘ تحریک کے احتجاجی کیمپ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ صوابی یونیورسٹی نے قلیل عرصے میں صوابی کے نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق تعلیم کی فراہمی یقینی بنادیا ہے اور قلیل عرصے میں طلباء و طالبات کی تعداد 1500 تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک طرف صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری طرف صوبے کے ایک بڑے یونیورسٹی صوابی کے فنڈز روکے ہوئے ہیں جوکہ انتہائی زیادتی ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ صوابی یونیورسٹی گذشتہ حکومت کا صوابی کے عوام کے لئے ایک بہت بڑا تحفہ ہے لیکن موجودہ حکومت نے تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے فنڈز جاری نہ کرکے ہزاروں طلباء و طالبات پر تعلیم کے دروازے بندکرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو فوری طور پر یونیورسٹی کے فنڈز جاری کرنے چاہیے نہ صرف صوابی کے عوام بلکہ تمام صوبے کے عوام حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ انہوں نے احتجاج کیمپ کو یقین دلایا کہ وہ اس مسئلے کو اسمبلی فلور پر بھی اُٹھائیں گے۔ 

مورخہ:4-5-2014بروز اتوار


پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے صوابی یونیورسٹی بچاؤ تحریک سے متعلق پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا ۔اس موقع پرانہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے الیکشن سے پہلے عوام کے ساتھ ایجوکیشن کے میدان میں انقلاب لانے کے جو وعدے کئے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک تعلیمی ادارے کے فنڈز بندش طلباء کے مستقبل اور حال کے ساتھ زیادتی ہے ۔ 
انہوں نے کہا کہ تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ چونکہ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اور سینئر وزیر شہرام خان ترکئی کا تعلق بھی ضلع صوابی سے ہیں، چاہیے تو یہ تھا کہ وہ یونیورسٹی کیلئے مزید فنڈز مہیا کرتے لیکن انہوں نے مقررشدہ فنڈز کو روک دیا۔ 
میاں افتخارحسین نے کہا کہ صوابی یونیورسٹی کے فنڈز فوراً بحال کئے جائے اور صوابی کے نونہالوں سے قلم کتاب نہ چھینی جائے ، اس وقت صوابی یونیورسٹی میں 1500 طلباء کا مستقبل تاریکی کرنے والے ہوش کے ناخن لے اور طلباء کو اندھیروں میں نہ دھکیلیں۔ 
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پختونوں کو سبز باغ دکھا کر ووٹ حاصل کئے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت غفلت کا مظاہر ہ کررہے ہیں ، صوبے میں پہلے ہی سے حالات خراب ہیں اور دن بدن مزید خراب ہوتے جارہے ہیں اور موجودہ صوبائی حکومت کوبالکل احساس نہیں ہیں۔ انہوں نے احتجاجی کیمپ کے طلباء کو یقین دلایا کہ حصول تعلیم کیلئے ہم کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ فوری طور پرصوابی یونیورسٹی کے فنڈز کو دوبارہ بحال کرنے کے اقدامات اُٹھائیں۔

کراچی۔ ہفتہ 03 مئی 2014ء

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے ترجمان نے کہاہے کہ غیر سنجیدہ،بچکانہ ،غیر ذمہ دارانہ اور آئے روز کے بدلتے ہوئے موقف سے سیاسی اناڑی کھلاڑی کے اصل روپ سے پوری قوم واقف ہوچکی ہے ہم سونامی خان سے پوچھتے ہیں کہ خیبر پختون خوا میں بھی دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں ؟کپتان خان کے حالیہ الزامات کے بعد ثابت ہوگیا ہے کہ وہ کن قوتوں کے کاندھوں پر بیٹھ کر سیاست کررہے ہیں اناڑی کھلاڑی کے ان گائیڈڈ بیانات کے ذریعے ملک کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤس ،چوٹی کے اینکر پرسنز و صحافیوں اور اہم قومی ادارے پر بے سروپا الزامات انتہائی شرم ناک ہیں جس میڈیا ہاؤس نے ان کو سب سے زیادہ کوریج دی،ان کے ساتھ ملکر فلاحی مہم میں شراکت کی آج انہی کے خلاف الزامات سے کپتان خان کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں مارچ کرنے اور بغیر ثبوت کے الزامات عائد کرنے سے بہتر ہے کہ تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں اپنی صوبائی حکومت پر توجہ دے تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کی سوچ کی سطح اسکول کی سطح سے بھی کم تر ہے سونامی خان کو شاید معلوم ہی نہیں کہ خیبر پختون خوا میں ان کی صوبائی حکومت ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے ترجمان نے مذید کہا کہ خیبر پختون میں اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے الزامات کا پنڈورا بکس اور احتجاج کا تماشہ لگایا جارہا ہے ان کی صوبائی حکومت کو کسی محکمے کے لیے موزوں وزیر بھی نہیں مل پارہا ہے خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت نے ایک سال میں ہی وزرا کے تبادلوں کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے اناڑی کھلاڑی کی بچکانہ اقداما ت سے اگر جمہوریت کو نقصان پہنچا تو تاریخ انہی کبھی معاف نہیں کرے گی بیانات اور الزامات کے سونامی کے بجائے عملی قدامات کیے جائیں غیر جمہوری سوچ کی حامل جماعتیں عوام کے سامنے خود بخود بے نقاب ہورہی ہیں


مورخہ:3-5-2014 بروز ہفتہ 


پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیارولی خان نے افغان صوبہ بدخشاں میں مٹی کا تودہ گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے جاں بحق افراد کیلئے دُعا مغفرت کی اور تعزیت کا اظہار کیا اورزخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دُعاکی۔
باچاخان مرکز پشاور سے جاریکردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی جاں بحق افراد کے خاندان سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں جاں بحق افراد کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ 


2.5.2014 بروز جمعۃ المبارک

آنے والے بلدیاتی الیکشن کیلئے سہ فریقی اتحاد کا صوبائی کابینہ کو ایک ماہ کی مدت پوری کرنے کے بعد تبدیل کیا گیا۔ باچا خان مرکز پشاور سے ایک جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سہ فریقی اتحاد کی صوبائی کابینہ تبدیل کرنے کے بعد نئی کابینہ کے صدر اے این پی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین ، جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی کے ہمایون خان جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر حاجی غلام علی سینئر نائب صدر اورمولانا امانت شاہ سیکرٹری اطلاعات ہونگے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ سہ فریقی اتحاد ایک مضبوط چٹان کی طرح ہے اور اپنے سیاسی مخالفین کی نیندیں حرام کی ہیں۔ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں سہ فریقی اتحاد کلین سویپ کرے گی اور اپنے مخالفین کو بھاری مینڈیٹ سے شکست دیکراُن کی ضمانتیں تک ضبط کر دیگی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on May 5, 2014 at 8:44 am