April-2014

 
Press Releases
کراچی۔بدھ 30 اپریل 2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس مردان ہاؤس میں آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں صوبے بھر میں اضلاع کی سطح پر انٹرا پارٹی الیکشن کی تکمیل اور صوبے کی مجموعی صورت حال اور شہر میں امن و امان کی صورت حال پر غور کیا گیااجلاس میں گزشتہ روز سائٹ کے علاقے میں مدرسے ہونے بم دھماکے میں ہلاک ہونے بچوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی اجلاس کے بعد الطاف خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ میڈیا اور اہم قومی ادارے کے مابین تناؤ کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں ہے خطے کی صورت تبدیل ہورہی ہے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے بجائے قومی مفاد کے مطابق سوچا جائے سب کو اپنی حدود کا خیال رکھنا ہوگا عوامی نیشنل پارٹی نا میڈیا پر قدغن کی حمایت کرے گی اور نا قومی ادارے کی بے توقیری برداشت کرے گی دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے الطاف خان ایڈووکیٹ نے مذید کہا کہ صوبے بھر میں اضلاع کی تنظیم نو مکمل ہونے کے بعد اے این پی سندھ نے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل سے انٹرا پارٹی الیکشن کے شیڈیول جاری کرنے کی درخواست دیدی ہے تنظیم نو کے پارٹی پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
30.4.2014 بروزبدھ 

پختون ایس ایف کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر نے گزشتہ روز پولیس کی طرف سے گورنمنٹ کالج کے طلبہ پر پولیس تشدد اور تھانہ میں ذہنی اذیت کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے گزشتہ روز طلبہ کیساتھ نہایت ناجائز رویہ اپنایا جو ہر گز مناسب نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ طلبہ کیساتھ زیادتی اور اُن کی عزت و نفس مجروح کرنا برداشت نہیں کرینگے۔ پولیس کے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف ادارتی کارروائی کی جائے اور پولیس اہلکار طلبہ پر تشددکرنے کی بجائے امن وا مان کے قیام کیلئے سنجیدہ ہو جائیں۔ ہم دہشتگردی کے خلاف اُن کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن طلبہ کیساتھ ناجائز رویہ ہر گز برداشت نہیں کرینگے۔


30.4.2014 بروز بدھ

آج جے یو آئی کے ایک وفد جس میں سینیٹر حاجی غلام علی ، آصف اقبال داؤدزئی اور مولانا اشرف علی و دیگر نے شمس الحق شمسی صاحب کی قیادت میں باچا خان مرکز پشاور آکر اے این پی کے قائدین بشیر احمد مٹہ ، میاں افتخار حسین ، سردار حسین بابک اور صدر الدین مروت ایڈووکیٹ سے ملاقات کی اور صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں جے یو آئی کے اُمیدوار کی حمایت کرنے کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے بشیر احمد خان مٹہ نے اُنہیں خوش آمدید کہا اور کہا کہ چونکہ ہمارے قائدین اسفندیار ولی خان اور مولانا فضل الرحمان کا بھی آپس میں اچھے تعلقات قائم ہیں اور دونوں پارٹیاں پہلے سے سہہ فریقی اتحاد کا حصہ ہیں اور ضمنی انتخابات بھی اکٹھے لڑتی آ رہی ہیں نیز اسمبلی میں جے یو آئی اپوزیشن پارٹیوں میں سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان حقائق کی روشنی میں صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں جے یو آئی کے اُمیدوار کی حمایت کرینگے۔
جے یو آئی وفد نے قائد اسفند یار ولی خان اور دیگر رہنماؤں کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ اے این پی اور جے یو آئی کی یہ ہم آہنگی ملکی سیاست اور خصوصاً پختونخوا میں امن و ترقی پر دیرپا اثرات مرتب کریگی۔
29.4.2014 بروز منگل

صوبائی حکومت نے صوبے کے وسائل کو منصفانہ تقسیم نہ کر کے مرکز کے سامنے صوبے کے کیس کو کمزور بنادیا ہے۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجٹ 2013-14 کو صوبے کے اضلاع میں منظور نظر ارکان کو نوازنے کی وجہ سے منصفانہ تقسیم کو یکسر نظر انداز کر کے مرکز سے صوبے کا حصہ اور حق لینے کے عمل کو کمزور بنا دیا ہے۔ جس کا صوبے کو نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ابتدائی سال میں اقرباء پروری کا مظاہر کرتے ہوئے نہ صرف جمہوری روایات کو پامال کیا ہے بلکہ صوبے میں صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے مرکز سے جنگ میں ناکامی کا احتمال پیدا ہو گیا ہے۔ 
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے حصول او رمرکز شے جائز حقوق کی جنگ لڑنے اور جیتنے کیلئے تمام اسمبلی کو اور صوبے کے تمام حصوں کو برابری کی نظر سے دیکھنا چاہیے تھا۔ لیکن صوبائی حکومت نے ایسا نہ کر کے اپنے قول و فعل میں تضاد کو عملاً ثابت کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے آئندہ بجٹ 2014-15 کیلئے اسمبلی سے نہ کوئی تجاویز طلب کر دی ہیں اور نہ کرنے کا ارادہ معلوم ہوتا ہے جو کہ انتہائی نامناسب ہے۔ اور صوبائی حکومت شاید بھول رہی ہے کہ جو اسمبلی بجٹ بنانے میں کوئی کردار ادا نہ کرے یا نہ کرنے دیا جائے وہی اسمبلی بجٹ کیونکر پاس کرے گی۔ 
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے وسیع تر مفاد میں بجٹ کی تیاری میں صوبائی اسمبلی کو تیاری کا موقع ملنا چاہیے تھا۔ تاکہ نہ صرف صوبے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ مرکز سے صوبے کا حصہ لینے میں تمام صوبے میں یکسوئی کا مظاہرہ ہو۔


29.4.2014 بروز منگل

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ایمل ولی خان نے ایک اخباری بیان میں پختونخوا میں بجلی کی قیمت بڑھانے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے۔ کہ پختونخوا میں بیروزگاری زوروں پر ہے۔ کاروبار تباہ ہو چکا ہے ، تجارت پیشہ طبقہ پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ روزمرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ نوکر پیشہ لوگ قلیل تنخواہوں میں بڑی مشکل سے اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ غریب طبقہ فاقوں پر مجبور ہے ۔ ایسے میں حکومت نے بجلی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر کے گویا یہاں کے عوام پر بجلی کا بم گرا دیا ہے۔ ایک طرف ناروا لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف بجلی کے بل عوام کی استطاعت سے باہر ہیں۔ حالانکہ ہمارا صوبہ پانی سے انتہائی سستی بجلی پیدا کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں عوام کوئی بھی قدم اُٹھانے میں حق بجانب ہونگے۔ اُنہوں نے مرکزی حکومت سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے جائز حقوق حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ حالانکہ یہ اُن کی ذمہ داری ہے کہ وہ جس طرح بھی ہو مرکز سے صوبے کے حقوق حاصل کرے مگر یہ لوگ ان صفتوں سے عاری ہیں اور صرف اخباری بیانات پر انحصار کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی واضح پروگرام نہیں اور نہ ہی وہ صوبے کے عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ صوبے کے عوام مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ میں پس رہے ہیں مگر حکمران آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں کہ صوبے کے عوام اُٹھ کر موجودہ حکمرانوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے حقوق کا حساب مانگیں گے اور ان وعدہ خوروں کا حشر نشر کرینگے۔
29.4.2014 بروز منگل


عوامی نیشنل پارٹی یونین کونسل مٹہ مغل خیل کی تنظیم نو کا ایک اجلاس گزشتہ روز مٹہ مغل خیل میں بشیر احمد مٹہ کے حجرہ میں اُن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر یوسی مٹہ مغل خیل کیلئے اتفاق رائے سے صدر مجید اللہ خان ، سینئر نائب صدر علی خان ، نائب صدر جان محمد ، جنرل سیکرٹری حیرات خان ، فنانس سیکرٹری شیر زمان ، پریس سیکرٹری ابرار احمد ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سلمان خان ، ثقافت سیکرٹری کاشف عظیم ، نائب صدر زنانہ زوجہ علی خان ، جائنٹ سیکرٹری محمد زیب اور جائنٹ سیکرٹری زنانہ دُختر حیرات خان منتخب ہوئے۔
عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر الیکشن کمیشن کے چیئرمین بشیر احمد مٹہ اور ضلع چارسدہ کے الیکشن کمیشن کے سیکرٹری لیاقت مینیجر نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اے این پی ایک جمہوری پارٹی اور ہمارے تمام فیصلے جمہوریت کے دائرے میں ہوتے ہیں اور ہر چار سال بعد ہماری پارٹی میں رکنیت سازی کے بعد ہر سطح پر الیکشن کے ذریعے پارٹی عہدیدار منتخب کیے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے نومنتخب کابینہ کو ہدایت کی کہ آپ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ پارٹی کی مزید فعالیت اور ترقی کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لا کر اہم اور کلیدی کردار ادا کریں۔
28.4.2014 بروز پیر

اے این پی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ اے این پی کی مثبت اور انسان دوست پالیسیوں کی بنیاد پر آج دیگر سیاسی پارٹیوں کے عہدیدار اور کارکن اے این پی میں گروہ در گروہ شامل ہو رہے ہیں۔ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو عوام کو موجودہ حالات اور بحرانوں سے نجات دلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی بلا تفریق ، رنگ و نسل ، زبان اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روز بروز عوام میں اے این پی کا گراف بلند ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جلوزئی میں مسلم لیگ ( ن ) سے سینکڑوں سرکردہ افراد کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر کیا جن میں فاروق خان ، فخرالزمان ، غلام حیدر ، فضل ربی ، بادام شیر ، منزل خان اور حضرت علی شاہ کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔ نومنتخب افراد نے اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے اور ہمارے تمام فیصلے جمہوریت کے ذریعے کئے جاتے ہیں ۔ اے این پی نے جمہوریت کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں اور جمہوریت کی بحالی میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود ملک میں عموماً اور پختونخوا میں خصوصاًامن کے قیام میں وفاقی اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بُری طرح ناکام رہی ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا تبدیلی کا نعرہ ایک ڈرامہ ثابت ہوا ہے ۔ تبدیلی کے نام پر عوام سے ووٹ لینے والی جماعت نے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے وہ ابھی تک ایفا نہیں کر سکی اور نہ ہی خاطر خواہ تبدیلی لاسکی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کپتان عمران خان نے کہا تھا کہ تین سو ڈیم بنائے جائیں گے اور لوڈ شیڈنگ کو ختم کرینگے۔ یہ وعدہ اب وہ پورا کر کے دکھائیں نہ کہ لوگوں کو مزید دھوکہ میں رکھا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ کپتان خان کو ڈیمز کے بارے میں کیا معلوم ہے ۔ اے این پی کے دور حکومت میں 24 ڈیموں کیلئے رقم مختص کی گئی تھی جن میں سے چار کا افتتاح بھی ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے صرف شوشے چھوڑ رہی ہے اور عوام کی فلاح و بہبود ، ترقی اور اُن کی مشکلات اور مسائل حل کرنے کیلئے عملی اقدامات نہیں اُتھاتے۔ عوام اُن کی اصلیت جان چکی ہے اور اب وہ مزید اُن کے دھوکے میں نہیں آئینگے اور آئندہ عوام ان جیسوں کا گھیرا تنگ کر دینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک سال گزرنے کے باوجود کوئی نئے منصوبے اور ترقیاتی کام شروع نہیں کر سکی بلکہ اے این پی کے گذشتہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ منصوبوں اور ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے کی روایت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائے اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں سہ فریقی اتحاد کلین سویپ کرے گی اوراپنی مخالف سیاسی حریف جماعتوں کی ضمانتیں تک ضبط کرے گی۔ 

28.4.2014 بروز پیر 

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر محمد داؤد ، جنرل سیکرٹری سمیع الحق اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان ، نائب صدر محمد احتشام ، نائب صدر دوم کریم ، سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری محمد جواد ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تحسین اقبال ، جنرل سیکرٹری حضرت بلال مہمند ، اسلامیہ کالج یونٹ کے صدر ملک احتشام الحق کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔
اجلاس میں کارکنوں اور عہدیداروں نے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی سے یہ مطالبہ کیا کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ایک Seminar , bookfair یا باچا خان تصویری نمائش کا اہتمام کیا جائے جس میں ہم اپنے کلچر اور تاریخ کے بارے میں طلبہ و طالبات کو معلومات فراہم کریں۔ اجلاس میں دوسرے مسئلے بھی زیر غور لائے گئے۔ جس میں ساری یونیورسٹی کیمپس میں پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات مسائل سے دوچار ہے۔ اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی سیکریسی کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ طالبہ و طالبات کو Proctorial Board سے بہت گلے شکوے ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی نے Bookfair اور باچا خان تصویری نمائش کیلئے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی۔ کمیٹی Bookfair باچا خان تصویری نمائش کو فائنل شکل دے دی گئی۔ صدر نے مزید کہا اور طلبہ و طالبات کو تمام مسائل حل کیا کہ یونیورسٹی کیمپس میں تمام مسائل کے حل کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ و طالبات کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ جائے۔بصورت دیگر طلبہ و طالبات بھرپور احتجاج کرے گی۔ اجلاس میں کارکنوں کو ڈسپلن اور رولز اینڈ ریگولیشن اور آئین و منشور پر چلنے اور عمل کرنے پر سخت زور دیا گیا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو آئین و منشور کی مد سے سزا دی جائیگی۔ اجلاس کے اختتام پر ایک پر امن واک بھی کی گئی۔ واک ریکرمشین سنٹر سے نکل کرنیو بلاک اور واپس ریکریشن سنٹر پر اختتام پذیر ہوئی جن میں طلبہ نے شیدید نعرہ بازی بھی کی اور صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان اور مرکزی ایڈوائزر اور پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اُن کے ساتھ ہر حالت میں کھڑا ہونے کی قسم کھائی۔

28.4.2014 بروز پیر

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے حکومت سے کہا ہے کہ سانحہ یار حسین کی فوری انکوائری کی جائے اور غمزدہ خاندان کی داد رسی کیلئے فوری اقدامات اُٹھائے جائیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ ایک ہی خاندان کے سات افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور آٹھ افراد زخمی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ حکومت فوری طور پر جاں بحق افراد کیلئے معاوضے اور زخمی افراد کے علاج معالجے کیلئے سنجیدہ اور فوری اقدامات اُٹھائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی صوبے میں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں پر خاموشی افسوسناک ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی پختونوں کی بے گناہ ہلاکتوں کی بھی وکالت کریں اور دوسرے فریق سے ان بے گناہ اور روزانہ ہلاکتوں کے مسئلے کو توجہ نہ دینا انتہائی حیران کن اور افسوسناک ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام ان مذاکراتی کمیٹی سے یہ بھی پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ مذاکراتی عمل میں یہ لوگ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اور اس کی واضح مثال اور ثبوت یہ ہے کہ جب سے موجودہ حکومتوں نے مذاکراتی عمل شروع کر دیا ہے ۔ پختونوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ مذاکراتی کمیٹی روزانہ عوام کے سامنے یہ شوشہ چھوڑ رہے ہیں کہ وہ قوم کو امن کا تحفہ دینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ عجیب منطق ہے کہ قوم کو امن کا تحفہ دینے والوں کو پختونوں کا قتل عام نظر ہی نہیں آرہا ہے اور نہ ہی ان بے گناہ ہلاکتوں پر اُنہیں افسوس ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونوں کے بے گناہ قتل عام پر کسی طور خاموش نہیں رہیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ خصوصاً صوبائی حکومت کی غیر سنجیدہ اور بے حس روئیے نے صوبے کو شرپسندوں کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔
کراچی۔اتوار 27 اپریل 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اے این پی ضلع کورنگی کی کابینہ کی تشکیل کے لئے تمام وارڈوں کی کابینہ و مجلس عاملہ کا مشترکہ اجلاس کورنگی مہران ٹاؤن میں صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کی زیر نگرانی منعقد ہوا، اجلاس میں تمام ارکان نے متفقہ طور پرنورشیر خان خان کو صدر اور حنیف اللہ بونیری سینئر نائب صدر اور مالک خان اچکزئی کو جنرل سیکریٹری اور حاجی سلیم خان کوسیکریٹری اطلاعات منتخب کیا ، اس موقع پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران سید حنیف شاہ اور وکیل خان سواتی نے تمام نو منتخب ارکان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں مذید کہا کہ ضلع کورنگی کی تشکیل کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کراچی کی تنظیم سازی مکمل کرلی گئی ہے تنظیم سازی کے عمل کو مکمل کرنے پر تمام پارٹی ذمہ داران خاص طور پر وارڈ اور اضلاع کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں باچا خان بابا کے پیروکاروں نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ ظلم و جبر کے ذریعے ان کا راستہ نہیں روکا جاسکتاایسے مو قع پر جب شہر میں خوف کے سائے منڈلارہے ہیں ہماری پارٹی کے رہنماؤں و کارکنان کودھمکیاں املاک پر حملے روز کا معمول بن چکا ہواور کراچی میں کوئی جماعت سیاسی سرگرمیاں نہیں کرسکتی اس کے باوجود ہمارے کارکنان نے گھر گھر جاکر پارٹی کی ممبر سازی کی اور تنظیم نو کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ،کورنگی ضلع کی نومنتخب کابینہ و مجلس عاملہ کو مبارک پیش کرتے ہیں اور اس ا مید کا اظہار کرتے ہیں کہ نورشیر خان اور ان کی ٹیم کارکنان کی توقعات پر پورا اترے گی ،
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے اے این پی ضلع کورنگی کے تمام نومنتخب ارکان کو مبارک پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نورشیر خان اور ان کی ٹیم کے لیے عہدیداران و کارکنان ی توقعات پر پورا اترنا اصل امتحان ہے امید کرتے ہیں کہ ضلع کورنگی کی نئی ٹنظیمی کابینہ اسلاف کے افکار کو عام کرنے کے لیے شب و روز محنت کرے گی ۔
مورخہ:27-4-2014 بروز اتوار 

پشاور: مرکزی حکومت کا صوبے میں بجلی کے نرخ میں اضافہ کسی طور پر قابل برداشت نہیں ہے ۔ یہ بات اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے موضع چرکوٹ اور غازی کوٹ میں مختلف اجتماعات کے دوران کہی۔ اس موقع پر اے این پی کے دیرینہ ناراض ساتھی سلطان غالب کا ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ 
سردارحسین بابک نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے عوام کو ایک طرف دہشت گردی نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور دوسری طرف مہنگائی اور خصوصاًبجلی کے بلوں نے مفلوج الحال کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کو عوام کے مسائل کا کوئی فکر نہیں اور مرکزی اور صوبائی حکومت سیاسی سکورنگ میں مصروف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخ میں حالیہ اضافہ صوبے کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جس کو فی الفور واپس لینا چاہئے۔ 
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو دہشت گردی کے واقعات نے معاشی اور اقتصادی طور پر بدحال کر دیا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ پختونوں کو موجودہ مسائل اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن 90 دن میں تبدیلی لانے والے اب پانچ سال کے گن گارہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کو اپنی منزل کا پتہ ہی نہیں ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے وعدہ کیا تھا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے لیکن حکمرانوں کی بزدلی اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے آئے روز پختونوں کے جنازے اُٹھ رہے ہیں اور صوبائی حکومت کو اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کو پختونوں کے قتل عام پر احتجاج کریں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو پختونوں کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں کیونکہ تبدیلی لانے والے پختونوں کے قتل عام اور اغواہ کاری کے تماشا ہی بنے ہوئے ہیں۔ اجتماعات میں اے این پی کے کارکنوں اور علاقے کے عمائدین کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ 


26.4.2014 بروز ہفتہ

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما عمران خان آفریدی نے کہا کہ اے این پی (ولی) گروپ کی طرف سے پشاور میں قوت کا مظاہر کرنے والوں کا شو بری طرح فلاپ ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز مہمند ایجنسی میں اے این پی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا جس میں ان سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی تھی۔اور ان نا مساعد حالات میں مہمند ایجنسی میں کثیر تعداد میں پارٹی کے کارکنوں کی شرکت کسی بھی معجزے سے کم نہیں۔ اے این پی (ولی ) گروپ کی طرف سے پشاور میں کئی دنوں سے جاری جلسۂ عام کی تیاریوں اور پبلسٹی کے باوجود جلسے میں گنتی کے چند افراد کی شرکت سے یہ واضح ہو گیا کہ اُن کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بیس لوگوں کو اکٹھا کرنا اور پھر اُس کو جلسے کا نام دینا سمجھ سے باہر ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف جس نے بھی سازشیں کی ہیں اُنہیں ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے اور انشاء اللہ اس بار بھی اے این پی کے خلاف سازش رچانے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اسفند یار ولی خان ہی باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے حقیقی اور سیاسی وارث ہیں اور جو لوگ ان کے خلاف وراثت کو بنیاد بنا کر سازشیں کر رہے ہیں انشاء اللہ وہ سب بری طرح ناکام ہونگے۔


مورخہ:26-4-2014بروز ہفتہ 

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان سینیٹر زاہد خان نے ایک اخباری بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ڈبلیو کئی دنوں سے طوطے کی طرح ایک رٹ لگا رکھی ہے ، کبھی پریس کانفرنس کے ذریعے ، کبھی تقریر اور کبھی بیانات کے ذریعے کہ اسفندیارولی خان نے امریکہ سے معاہدہ کیا ہے اور اُس کا ثبوت اُن کے پاس موجود ہے اب تو یہ بھی اُن کی طرف سے اخبار میں چھپ چکا ہے کہ ثبوت پیش کردئیے گئے ہیں اگر اُن کے پاس ثبوت ہیں تو کدھر ہیں اس کا کوئی ٹھوس اور واضح ثبوت سامنے لائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ پھر یہ بھی انہوں نے کہا کہ اگر ثبوت حکومت کے حوالے کئے گئے تو اسفندیارولی خان کہیں کے بھی نہیں رہیں گے تو پھر دیر کس بات کی ہے ۔ عدالت جائیں پورا کیس دائر کریں تاکہ اے این پی ڈبلیو کا وہ واحد مقصد پورا ہوجائے جس کیلئے یہ بنائی گئی ہے کہ اسفندیارولی خان اور اے این پی کو جتنا بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے وہ پہنچائے۔ 
انہوں نے کہا کہ یہ الزام اس سے قبل اعظم ہوتی نے لگایا اور اے این پی ڈبلیو نے اپنایا مگر جھوٹ پر جھوٹ بولا جارہا ہے ، نہ ثبوت پیش کئے نہ حکومت کے حوالے کئے اور نہ عدالت گئے صرف زہریلے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اُن کے لئے سب سے بہتر یہی راستہ ہے کہ یہ عدالت جائیں اور ثبوت پیش کریں ورنہ پھر ہم یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ ہم خود ان کے خلاف عدالت جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ رہی یہ بات کہ اسفندیارولی خان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے تو یہ عجیب مطالبہ ہے اسفندیارولی خان کہیں بھی نہیں جا رہے اور یہیں پر رہیں گے ۔ 
یہ اُن کی بھول ہے کہ اسفندیارولی خان باہر چلے جائیں گے وہ یہاں میدان ہی میں رہیں گے ۔ اب تو انہوں نے چارسدہ ہی سے اپنی سیاسی مصروفیات جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ کیا ان عقل کے اندھوں کو یہ بھی دکھائی نہیں دے رہا کہ حال ہی میں سیاسی تاریخ کا ایک بے مثال عظیم اجتماع چارسدہ ولی باغ ہی میں اسفندیارولی خان کی سربراہی میں منعقد ہوا اور اسی جلسۂ عام میں انہوں نے قوم کے درپیش مسائل کے حل کیلئے قوم کی توجہ مبذول کرائی اور قوم کی رہنمائی کی ۔ لہٰذا اے این پی ڈبلیو کے پاس اگر اپنا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے تو اُس پر عمل کریں اور پختونوں کی نمائندہ پارٹی اے این پی اور اسفندیارولی خان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور سازش بندکردیں، ورنہ اس بات پر مہر ثبت ہوجائے گا کہ اُن کی سیاست صرف اور صرف اسفندیارولی خان اور اے این پی پر جھوٹے الزامات لگانا اور کیچڑ اچھالنا ہے باقی اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
آخر میں ایک بار پھر واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ اسفندیارولی خان کہیں بھی باہر جانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور یہیں پر ہی قوم کی رہنمائی کریں گے۔ 


مورخہ:25-4-2014 بروز جمعہ 

پشاور: اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے صوبائی اسمبلی میں ایک قراداد جمع کرادی ہے جسمیں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں خیبرپختونخواکے کارخانہ داروں اور گھریلو صارفین سے فیول سرچارج کی وصولی انتہائی نامناسب اور زیادتی ہے ۔ قراداد میں کہا گیا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخواملک میں سب سے زیادہ سستی اور پانی سے بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے ۔ لیکن بدقسمتی زیادہ لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی فروخت کے علاوہ صوبے کے عوام سے فیول سرچارج کی وصولی کا کیا جواز بنتا ہے ۔ جب صوبے میں ساری بجلی پانی ہی سے پیدا ہو رہی ہے۔ 
انہوں نے قرارداد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کے عوام کے ساتھ یہ ناروا سلوک فوری طور ختم کی جائے اور فیول سرچارج کی وصولی فوری طور پر بند کرنے کی احکامات جاری کئے جائیں۔ 
انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلے سے ہی بیشتر کارخانے بند ہو چکے ہیں اور دہشت گردی کے ماحول سے عوام کو اقتصادی طور پر مفلوج کر دیا ہے لہٰذا فوری طور پر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ۔ 


مورخہ:25-4-2014بروز جمعہ

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما و سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور میاں راشد شہید فاؤنڈیشن کے چےئرمین میاں افتخارحسین نے کہا کہ غنی خان جیسے شخصیت صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ، غنی خان ایک شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی ، سنگ تراش ، مصور ، ادیب ، دانشور ، سیاست دان اورایک عظیم انسان تھے اور اُن کی شاعری کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے گذشتہ روز نشتر ھال پشاور میں غنی خان بابا کے صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں راشد شہید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے کیا۔ جسمیں فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران ڈاکٹر میاں افتخارحسین ، یاسمین ضیاء ، تبسم یونس ، ستارہ آیاز ، ڈاکٹر سعید الرحمان ،شفقیق گگیانی کے علاوہ اے این پی کے رہنما تاج الدین خان ، آرگنائزنگ سیکرٹری پختونخوا جمیلہ گیلانی، شگفتہ ملک ، منورفرمان، زبیدہ احسان ،صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ، پروفیسر یار محمد مغموم،ڈاکٹر خادم حسین اور دیگر شعراء اور دانشوروں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے افراد اور غنی خان بابا کے عقیدت مندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ غنی خان نے سیاست 249 ادب 249 اپنی سوچ اور فکر کے حوالے سے قوم اور اس دھرتی کی خاطر گراں قدر خدمات انجام دئیے ہیں۔ اور خصوصی طور پر اُن کی شاعری اُن کی سوچ ، شخصیت کی مکمل عکاسی کرتی ہے جو فلسفیانہ سوچ و فکر کا ایک خزانہ ہے ۔ پختون قوم میں غنی خان کو اپنی فلسفیانہ سوچ اور شاعری کے حوالے سے جداگانہ اور بلند مقام حاصل ہے۔ نئی نسل کو اُن کی شخصیت سے آگاہی اور ان کی شاعری اور نثر سے استفادہ حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غنی خان بابا کی شاعری نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ اُن کی شاعری اور فلسفے سے خاص طورپر نوجوان اور آنے والا نسل اِ ن کے کارناموں سے روشناس ہوجائے۔آخر میں میاں افتخارحسین نے تمام لوگوں سے اور خصوصاً پختونوں سے اپیل کی ہے کہ سیاست سے بالاتر ہوکر قومی جذبے کی بنیاد پر اپنے قومی ہیرو غنی خان بابا کے حوالے سے اپنے اپنے سطح پر پروگرام مرتب کریں اور اس سال ہر روز صد سالہ تقریبات کی روشنی میں اُن کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پروگراموں کا انعقادکریں۔ 
تقریب میں قراداد یں پیش کی گئی جسمیں حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ2014 ؁ء کوحکومتی سطح پر غنی خان کے نام سے منانے کا اعلان کیا جائے ۔ قراداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پوسٹ ان کے ناقابل فراموش خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کے صلے میں اُن کے یادگاری ٹکٹ جاری کریں۔ تقریب میں غنی خان بابا کی تصاویراور فن پاروں پر مشتمل نمائش کے علاوہ موسیقی کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا اوردلچسپی سے اُن کے فن پارے دیکھے اور اُن کی تعریف کی ۔ تقریب کے آخر میں فاؤنڈیشن کی طرف سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 
فاونڈیشن نے اس عزم کا اظہار کیاکہ آئندہ بھی اسی طرح پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا اور چھ عدد ایمبولینس گاڑیوں کے خریدنے کا اعلان اور فاؤنڈیشن کی خدمات کا دائرۂ اختیار وسیع کرنے پر زور دیا گیا جن میں خاص کر ایجوکیشن میں طلبہ اور طالبات کو بہتر تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے اہم اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ ہیلتھ سے متعلق بھی تمام سہولیات فراہم کی جائے گی ۔ بلڈ بینک بنانے اور فاؤنڈیشن کی نئی ممبرشپ کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راشد شہید نے قوم کی خاطر شہادت دی اور انسانیت کی بنیاد پر اپنی جان قربان کی اور خدائی مخلوق کو محفوظ کرنے کیلئے اپنا خون دیا ۔ لہٰذا اس عظیم قربانی کے حوالے سے انسانیت کی خدمت جاری رکھنا ہماری فاؤنڈیشن کا مشن ہے اور ہم اس مشن کو مرنے دم تک جاری رکھیں گے۔ 

25.4.2014 بروز جمعۃ المبارک

عوامی نیشنل پارٹی ضلع چارسدہ تحصیل شبقدر مٹہ مغل خیل بیارے کا ایک شمولیتی جلسہ زیر صدارت آرگنائزر مٹہ مغل خیل علی خان منعقد ہوا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی سے درجنوں افراد نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا اور اسفندیار ولی خان کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی سے مٹہ مغل خیل بیارے برانچ صدر ارباب پیر زادہ ، سینئر نائب صدر میاں طاہر شاہ باچا ، نعیم خان ، عمران خان ، ارباب کوثر علی ، سلیم ، عرب گل ، حضر شاہ ، ساجد ، زیشان ، فاروق شاہ ، خالد ، آصف ، جلیل ، مومن خان ، شیر علی ، ارشاد ، نقاب ، شعیب ، صداقت ، عنایت الرحمان ، فضل غفار ، ابرار ا ، حمد گل ، خان رحمان ، گل ولی شاہ ، عدنان شاہ ، فقیر گل ، طوطی ماما ، عنایت علی شاہ ، عمران ، حضرت بلال ، بلال خان ، ماصل خان ، قومی وطن پارٹی سے لالے ، محمد اکبر ، امین اللہ ، جہار ، اسلام الدین ، میر رحیم ، فاروق شاہ ، فیروز شاہ ، زرگل ، خائستہ گل ، فدا ، نجی گل ، مسافر ، اُمت اللہ ، صادق اللہ اور اسفندیارخان نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
شمولیتی جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی ضلع چارسدہ کے آرگنائزنگ سیکرٹری لیاقت ریٹائرڈ مینیجر ، اے این پی کے رہنما مقصود اختر خان اور پی کے 22 کے سابق صدر راحت شیر نے خطاب کرتے ہوئے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت میں خدائی خدمتگار مجید اللہ خان کا بڑا ہاتھ ہے اور ان کی کوششوں اور کاوشوں سے پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی سے درجنوں کارکنوں نے آج باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے قافلے میں شمولیت کا اعلان کیا اور پختونوں کے سالار اسفندیار ولی خان کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا کہ ہم اقتدار میں آکر لوگوں کو روزگار دینگے۔ لوڈ شیڈنگ ختم کرینگے ۔ قوم کے تمام مسائل حل کرینگے۔ لیکن اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف تبدیلی کے نعروں سے مکر گئے اور باروزگار لوگوں کو بے روزگار کیا۔ عوام پر 24 گھنٹے لوڈ شیڈنگ مسلط کی اور قوم کو مسائل کے دلدل میں دھکیل دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف قوم کے مسائل کو حل نہیں کر سکتے اور بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم نہیں کرسکتے اور دیگر حل طلب مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو اُس کو عوام پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے کہا ایک طرف مذاکرات کا ڈھونگ رچایا گیا اور دوسری طرف بے گناہ اور معصوم جانوں کے خون سے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے جو کہ ظلم اور بربریت کا انتہا ہے ۔ مذاکرات صرف آنکھ مچولی کا کھیل ہے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت امن و امان کے مسئلے پر سنجیدگی سے کام لے اور آئین نے اُن کو عوام کی جان و مال کے تحفظ کی جو ذمہ سونپی ہے وہ پوری کرے۔ اس موقع پر فاروق خان ، ابرار ، سعود خان اور سبحان خان بھی موجود تھی۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض بحر مند نے انجام دیئے۔
کراچی۔ بدھ 23 اپریل 2014 ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اے این پی ضلع شرقی کی کابینہ کے انتخاب کے لیے تمام ضلعی وارڈز کی کابینہ ،مجلس عاملہ کا مشترکہ اجلاس صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ کی صدارت میں پرانی سبزی منڈی میں منعقد ہوا ،اس موقع پر آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ان وکیل خان سواتی اور سید حنیف شاہ بھی موجود تھے ،اجلاس میں موجود تمام ارکان نے متفقہ طور پر فہیم جان کو ضلع شرقی کا صدر،شیر خان آکاخیل سینئر نائب صدر زور طلب خان کو جنرل سیکریٹری اور مسطفیٰ خان کو سیکریٹری اطلاعات منتخب کیا ،اس موقع پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فہیم جان اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں انتہائی خوشگوار وجمہوری ماحول میں متفقہ طور پر فیصلہ کرنے پر تمام ارکان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ایسا طر زعمل کا مظاہرہ خالص فکری ،نظریاتی جمہوری، میچور اور سنجیدہ سیاسی کارکنان ہی کرسکتے ہیںآج ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کا کا رکن حالات اور واقعات کے مطابق فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے، انتہائی پر خطر ماحول میں کارکنان کا جذبہ قابل تحسین ہے ،اے این پی کے کارکنان اسلاف کی طرح ہر قربانی کے لیے تیار ہیں،ہم نے نا پہلے کسی ظلم و جبر کے سامنے سر جھکایا ہے نہ آئندہ جھکائیں گے ،
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے فہیم جان کو کو ضلع شرقی کاصدر او زور طلب خان کو جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ ضلع شرقی کی نو منتخب کابینہ کارکنان و عہدیداران کی توقعات پر پورا اترے گی اور پہلے سے زیادہ اچھی اور بھر پور کارکردگی کا مْطاہرہ کرے گی ۔

23.4.2014 بروز بدھ


عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنمااور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آج سے 84 سال پہلے 1930 میں سامراج کے خلاف باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ افراد نے ایک جلوس کی قیادت میں انگریز سامراج کے خلاف آواز بلند کی اور انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے جام شہادت نوش کیا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ آرگنائزنگ کمیٹی کے زیر اہتمام یوم شہدائے قصہ خوانی کی یادگار تقریب کے موقع پر کیا۔ جس میں اے این پی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین ، ہارون احمد بلور ، سابق ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک غلام مصطفی ، سٹی ڈسٹرکٹ کے آرگنائزر طفیل خان ، آرگنائزنگ سیکرٹری انوارالحق ، سرتاج خان اور آرگنائزنگ کمیٹی کے دیگر عہدیداروں کے علاوہ مختلف وارڈوں سے آئے ہوئے ورکروں ، عہدیداروں نے بھرپو رشرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ہے ۔ باچا خان اور ولی خان کی قیادت میں اے این پی نے ہر دور کے عامر اور جابر حکمرانوں کے خلاف کلمہ حق کہا۔ اور جب ملک پر مشکل وقت آیا ، ملک کی سلامتی اور ملک سلامتی کو خطرات پیش آئے تو اے این پی موجودہ دور میں اپنے 800 سے زیادہ ورکروں ، لیڈروں نے جانوں کا نذرا نہ پیش کر کے اس سرزمین کی حفاظت کی۔ اور آئندہ بھی باچا خان کے پیروکار اس ملک کی بقاء اور سلامتی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ آج کچھ باطل قوتیں جن کا برصغیر کی آزادی میں کوئی رول نہیں وہ بھی اپنے آپ کو شہداء وارث کہلانے لگے ہیں لیکن حقیقی تاریخ کا طالب علم یہ جانتا ہے کہ جن لوگوں نے جنگ آزادی میں اہم رول ادا کیا اُن کو کسی صورت نہیں بھلایا جا سکتا ہے۔
آج ہم یہاں اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں اور جو قومیں اپنے محسنوں کو بھلادیتی ہیں وہ دُنیا اور آخرت میں ذلیل و خوار ہو جاتی ہیں ۔ اے این پی نے ہمیشہ شہداء وطن کو عقیدت اور احترام دیا ہے اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا اور ظلم و جبر کے خلاف اے این پی کی جدوجہد جاری اور ساری رہے گی۔ 

22.4.2014 بروز منگل


صوبائی الیکشن کمیشن کے دورے کا دوسرا راؤنڈ مردان ، بونیر ، ملاکنڈ اور دیر لوئر میں انتخابات مکمل ضلعی کابینوں کا باقاعدہ اعلان

نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے الیکشن کمیشن نے اضلاع میں کابینوں کی تشکیل کیلئے صوبائی دورے کے دوسرے راؤنڈ میں صاف شفاف اور غیر جانبدار چناؤ کے عمل کے ذریعے چار اضلاع میں انتخابات کا عمل مکمل کیا ۔ صوبائی الیکشن کمیشن کے سربراہ سنگین خان ایڈووکیٹ نے آج پشاور واپسی پر باچا خان مرکز سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ 
مردان میں ضلعی کابینہ کے قیام کیلئے الیکشن کا انعقاد کیا گیا ۔ سنگین خان ایڈووکیٹ کی سربراہی میں قائم پانچ رُکنی کمیٹی جو نعمان الحق ، گلزار احمد خان ، محسن داؤڑ اور بہرام خان ایڈووکیٹ پر مشتمل تھی نے پوری ذمہ داری سے الیکشن کے عمل کی نگرانی کی ۔ ضلعی صدارت کیلئے کل 161 ووٹ پول ہوئے نتائج کے مطابق حارث خان 82 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے اور مد مقابل اُمیدوار جمال ناصر 77 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے جبکہ 2 ووٹ مسترد قرار دے دئیے گئے۔ سینئر نائب صدر کے عہدے کیلئے عبدالرؤف خان 83 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ زبیر خان 73 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔ نائب صدر کے عہدے کیلئے سردار غنی 79 ووٹ لیکر پہلے نمبر رہے جبکہ اسرار مومند صرف ایک ووٹ کے فرق سے دوسرے نمبر رہے۔ نائب صدر (فیمیل) کیلئے شازیہ بی بی 79 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائیں جبکہ ریما بی بی 75 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہی۔ جنرل سیکرٹری کے عہدے کیلئے اختر حمید خٹک 89 ووٹ لیکر کامیاب قرار دے دئیے گئے جبکہ اعجاز باچا 71 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ایڈیشنل جنرل سیکرٹری کے عہدے کیلئے اویس خان 81 ووٹ لیکرکامیاب قرار دے دئیے گئے جبکہ مد مقابل ساجد علی ٹکر 74 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔ ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے عہدے کیلئے ندیم خان 81 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ محمد اسماعیل 79 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔ جائنٹ سیکرٹری (فیمیل) کیلئے رانی بی بی 83 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائیں جبکہ فرخندہ بی بی 69 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہی۔ کلچر اینڈ ایجوکیشن سیکرٹری کے عہدے کیلئے طفیل خان 77 ووٹ لیکر کامیاب قرار دے دئیے گئے جبکہ سہراب گل 75 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ 
ضلع بونیر میں اتوار کے دن الیکشن کا انعقاد کیا گیا۔ ضلعی صدرات کے لیے گلزار بابک اور جنرل سیکرٹری کے عہدے کیلئے لونگین خان منتخب ہوئے ۔ ضلع ملاکنڈ کی صدارت کیلئے محمد عرفان اور جنرل سیکرٹری کیلئے احسان الہٰی منتخب ہوئے۔ ضلع لوئر دیر کیلئے عمران ٹھاکر صدر جبکہ ملک شاہد خان جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 

مورخہ: 22-4-2014بروز منگل



عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے چارسدہ اور بڈھ بیر میں بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں اب تو کوئی بھی شخص محفوظ نہیں رہا۔سیکورٹی ایجنسیوں ، فوجی جوانوں ، ایف سی کے اہلکاروں پر حملے روز کے معمول بن چکے ہیں۔ دہشتگردی میں عوام اور پولیس نے سب سے زیادہ نقصانات برداشت کیے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس سے پہلے بھی ایمانداری اور دلیری کیساتھ ڈیوٹی سرانجام دی۔اور دہشتگردی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا اور وطن کے ناموس اور تحفظ کیلئے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ ہم پولیس کے کردار اور قربانیوں پرشاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں سیکیورٹی ایجنسیوں کے افسر سے لیکر سپاہی تک نے ہر وقت جواں مردی سے دہشت گری کے خلاف اور امن وامان کے قیام کیلئے اپنی جانوں پر کھیل کر اہم رول ادا کیا ہے اور ان کے اس کردار کو خاص طور پر پختونخوا میں نہایت اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے چارسدہ اور بڈھ بیرمیں پولیس پر حملے میں جاں بحق افراد کے خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیاہے اور مرحومین کیلئے دُعائے مغفرت کی کہ اللہ انہیں جنت الفردوس نصیب فرمائے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعاکی ہے 

کراچی۔پیر 21 اپریل 2014 ء

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اے این پی ضلع غربی کی کابینہ کے انتخاب کے لیے تمام ضلعی وارڈز کی کابینہ ،مجلس عاملہ کا مشترکہ اجلاس باچا خان مرکز میں صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا ،اس موقع پر آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ان وکیل خان سواتی اور سید حنیف شاہ بھی موجود تھے ۔

اجلاس میں موجود تمام ارکان نے متفقہ طور پر ڈاکٹر ضیاء الدین کو آئندہ پانچ سالوں کے لیے ضلع غربی کا صدر،حاجی سیف اللہ آفریدی کو سینئر نائب صدر،مراد خان کو جنرل سیکریٹری اور راشد خٹک کو سیکریٹری اطلاعات منتخب کیا ،اس موقع پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں انتہائی خوشگوار وجمہوری ماحول میں متفقہ طور پر فیصلہ کرنے پر تمام ارکان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ایسا طر زعمل کا مظاہرہ خالص فکری ،نظریاتی جمہوری، میچور اور سنجیدہ سیاسی کارکنان ہی کرسکتے ہیںآج ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کا کا رکن حالات اور واقعات کے مطابق فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے، اے این پی سندھ کی تنظیم نو اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکی ہے انتہائی پر خطر ماحول کے باوجود تنظیم نو میں شامل تمام ذمہ داران کو سلام پیش کرتا ہوں اور اس امید کا اظہار کرتا ہوں کہ نو منتخب کابینہ کارکنان کی توقعات پر پورا اترے گی ۔اعلامیہ میں مذید کہا کہ اے این پی ضلع شرقی کی تنظیم سازی بروز بدھ 23 اپریل شام 5

بجے منعقد ہوگی ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے ڈاکٹر ضیاء الدین کو ضلع غربی کا صدر اور مراد خان کو جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الدین اور ان کی ٹیم پر عہدیداران کا مسلسل اعتماد لائق تحسین ہے امید کرتے ہیں کہ ضلع غربی کی نو منتخب کابینہ کارکنان و عہدیداران کی توقعات پر پورا اترے گی اور پہلے سے زیادہ اچھی اور بھر پور کارکردگی کا مْطاہرہ کرے گی ۔

 

21.4.2014 بروز پیر

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا اہم اجلاس زیر صدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا۔ جس میں سینئر نائب صدر محمد داوڑ ، جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان ، نائب صدر محمد احتشام ، نائب صدر دوئم مریم ، سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری محمد جواد ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تحسین اقبال یوسفزئی ، جنرل سیکرٹری محمد بلال مہمند ، اسلامیہ کالج یونٹ کے صدر ملک احتشام الحق ، جنرل سیکرٹری التشم یوسفزئی کے علاوہ سینکڑوں کع تعدادمیں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اعجاز خان نے کہا کہ ہم پشاور یونیورسٹی کے انتظامیہ کی طرف سے اپنی تنظیم کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر ، صوبائی رہنماؤں اور کیمپس کے رہنماؤں پر لگائے الزامات اور ایف آئی آر کو سراسر جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اور یونیورسٹی ڈسپلن کمیٹی (UDC) کے فیصلوں کو بھی سراسر جھوٹ ، بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہیں ۔ کیونکہ ان کمیٹی میں سارے ممبرز نااہل بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہ اس نے ریگولر سٹوڈنٹس کو سابقہ سٹوڈنٹس قرار دے دیا اور کہا کہ ان کا یونیورسٹی سے کوئی تعلق ہی نہیں اور نہ ہی یو ڈی سی کے فیصلے کے شوکاز نوٹس طلباء کو بھیجتے ہیں اگر یہ جلد از جلد واپس نہ لیا گیا تو اسلامیہ کالج یونیورسٹی ایک طوفان ، سیلاب کی طرح سڑکوں پر نکل آئے گی اور بھر پور احتجاج کریگی۔ اور اگر اس میں کوئی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت ہو گی۔

 

21.4.2014 بروز پیر

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی مہمند ایجنسی کی ضلعی جنرل کونسل کا ایک اجلاس ضلعی الیکشن کے سلسلے میں زیر صدارت عمران خان آفریدی منعقد ہوا۔ اس موقع پر مہمند ایجنسی میں اے این پی کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی
الیکشن انتہائی خوشگوار ماحول میں افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا اور اتفاق رائے سے مہمند ایجنسی کیلئے صدر نثار مومند ، سینئر نائب صدر فضل خالق ، نائب صدر اول جہانزیب ، نائب صدر دوم عبدالمالک ، نائب صدر سوم احسان اللہ ، نائب صدر چہارم سیف اللہ خان ، نائب صدر پنجم دلشاد بیگم ، جنرل سیکرٹری ارشد ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری لیاقت ، جائنٹ سیکرٹری اول سلیم ، جائنٹ سیکرٹری دوم اصغر ، جائنٹ سیکرٹری سوم جاوید ، جائنٹ سیکرٹری چہارم سربلند ، جائنٹ سیکرٹری پنجم حضرت خان ، سیکرٹری اطلاعات شفیق احمد ، سیکرٹری فنانس ذاکر ، سیکرٹری ثقافت فہیم منتخب ہوئے ، اور سالار مکمل نامزد ہوئے۔
ضلعی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان آفریدی نے ضلعی نو منتخب کابینہ کو مبارک باد دی اور ان کو ہدایت کی کہ وہ مہمند ایجنسی میں نچلی سطح سے لیکر ضلعی سطح تک تمام پارٹی تنظیموں کو مزید فعال اور مضبوط کرنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لا کر اہم اور کلیدی کردار ادا کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے اور اس کی روایت رہی ہے کہ وہ ہر چار سال بعد پارٹی رکنیت سازی کے بعد الیکشن کے ذریعے ہر سطح پر پارٹی کی ایماندار اور دیانتدار قیادت سامنے لا رہی ہے۔
عمران خان آفریدی نے کہا کہ ایف سی آر کے کالے قانون کو فاٹا سے ختم کیا جائے ہم اس قانون کو کسی بھی طور تسلیم نہیں کرتے۔ اُنہوں نے کہا کہ انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون کو ہم پر لاگو کر کے قبائلیوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے تعلیم حاصل کر کے اور تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر بہتر زندگی گزارے۔
اُنہوں نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں قبائیلیوں کے ساتھ ناروا اور امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جس کی ہم پُر زور مذمت کرتے ہیں اور ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قبائیلیوں کو زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھے کا پورا پورا موقع دیا جائے۔اُنہوں نے کہا جس طرح شہری علاقوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں اُسی طرح قبائل میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروایا جائے۔

 

کراچی۔اتوار20 اپریل

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اے این پی ضلع سینٹرل کی کابینہ کے انتخاب کے لیے تمام ضلعی وارڈز کی کابینہ ،مجلس عاملہ کا مشترکہ اجلاس صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ کی صدارت میں ضلعی آفس بٹگرام ہاؤس نارتھ ناظم آباد میں منعقد ہوا ،اس موقع پر آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ان وکیل خان سواتی اور سید حنیف شاہ بھی موجود تھے ،اجلاس میں موجود تمام ارکان نے متفقہ طور پر نیاز محمد کو ضلع سینٹرل کا صدر،محمد اسحاق کو سینئر نائب صدر،محمد خان آفریدی کو جنرل سیکریٹری اور رؤف خان کو سیکریٹری اطلاعات منتخب کیا ،اس موقع پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیاز محمد اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں انتہائی خوشگوار وجمہوری ماحول میں متفقہ طور پر فیصلہ کرنے پر تمام ارکان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ایسا طر زعمل کا مظاہرہ خالص فکری ،نظریاتی جمہوری، میچور اور سنجیدہ سیاسی کارکنان ہی کرسکتے ہیںآج ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کا کا رکن حالات اور واقعات کے مطابق فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے، اے این پی سندھ کی تنظیم نو اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکی ہے انتہائی پر خطر ماحول کے باوجود تنظیم نو میں شامل تمام ذمہ داران کو سلام پیش کرتا ہوں اور اس امید کا اظہار کرتا ہوں کہ نو منتخب کابینہ کارکنان کی توقعات پر پورا اترے گی ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے نیاز محمد کو ضلع سینٹرل کا صدر اور محمد خان آفریدی کو جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیاز محمد اور ان کی ٹیم پر عہدیداران کا مسلسل اعتماد لائق تحسین ہے امید کرتے ہیں کہ ضلع سینٹرل کی نو منتخب کابینہ کارکنان و عہدیداران کی توقعات پر پورا اترے گی اور پہلے سے زیادہ اچھی اور بھر پور کارکردگی کا مْطاہرہ کرے گی ۔

کراچی ۔اتوار 20 اپریل 2014

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے پشاور کے نواحی علاقے ماشوخیل میں عوامی نیشنل پارٹی کے شہید رہنماء میان مشتاق کے حجرے پر بم حملے اور تین رشتہ داروں کے اغواء اور بونیر میں اے این پی کے سینئر رہنماء افضل خان کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بزدل اور نا اہل صوبائی حکمرانوں نے پورا خیبر پختون خوا دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے پورے صوبے میں دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں ایک طرف دہشت گرد خیبر پختون خوا پر کنٹرول حاصل کررہے ہیں اور دوسری طرف حکمراں پارٹی کے ارکان اسمبلی وزارتوں کے حصول پر ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا ہے کہ اے این پی سندھ میاں مشتاق کے حجرے سے اغواء ہونے والے افراد کی فوری بازیابی اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کی فوری گرفتاری اور بونیر میں پارٹی رہنماشہید افضل خان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتی ہے ۔

مورخہ:21-4-2014 بروز پیر
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ نے فرید طوفان کی جانب سے اے این پی کے خلاف مسلسل بیان بازی کو ایک نوزائیدہ جتھے قیادت کی جانب سے بچگانہ اقدام قراردیا ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کے خلاف ھرزہ سرائی کی شدید مذمت کی ہے ۔
باچاخان مرکز سے جاری کئے گئے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خان عبدالولی خان باباؒ کے ساتھ اپنی نسبت ظاہر کرنے والوں کو رقیق حملوں اور دریدہ دہنی کی بجائے بصیرت افروز بیانات دینے چاہئیں، مگر یہ جتھا صرف ردعمل کی سیاست کرکے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل چاہتا ہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی اپنے قائد اسفندیارولی خان کی قیادت میں متحد ہے اور ہرقسم کی سازش کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ، انہوں نے کہا کہ اس جتھے کے قیام کے اعلان سے لے کر آج کے دن تک اس کی قیادت کی جانب سے پختونوں کے اصل ایشوز کے بارے میں کوئی پالیسی بیان یا تجویز سامنے نہیں آئی بلکہ بے سروپا الزامات لگا کر میڈیا میں ان رہنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فرید طوفان کی جانب سے باچاخان ٹرسٹ اور باچاخان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے حسابات کا آڈٹ حکومت سے کرانے کا مطالبہ بھی ان کی ’’ سیاسی بصیرت ‘‘کا منہ بولتا ثبوت ہے ، حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں فلاحی اداروں سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی حکومت ان اداروں کوکوئی گرانٹ یا امداد فراہم کررہی ہے اس لئے حکومت سے ایسا مطالبہ لایعنی نظر آتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اس جتھے میں شامل متعدد افراد مختلف اوقات میں مختلف الزامات کے تحت عوامی نیشنل پارٹی سے نکالے جا چکے ہیں اور اب وہ اس جتھے کی چھتری تلے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوششیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ان رہنے کیلئے اس جتھے کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں اس لئے سستی شہرت کے حصول کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جو اے این پی کے کارکن کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ، فرید طوفان اے این پی سے نکالے جانے کے بعد متعدد پارٹیاں بدل چکے ہیں مگر کہیں بھی انہیں قبول نہیں کیا گیا تو انہوں نے اپنا رُخ پختونوں کی جانب موڑ لیا اور اب پختونوں کو تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ، لیکن ان کے مذموم عزائم ناکام بنادئیے جائیں گے۔

مورخہ:21-4-2014 بروز پیر
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ ، آرگنائزنگ سیکرٹری جمیلہ گیلانی ، صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ اور ایمل ولی خان نے ایک مشترکہ تعزیتی بیان میں اے این پی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر جنگلات و جنگلی حیات واجد علی خان کے والد بزرگوار کی وفات پر گہرے رنج و غم کا ظہار کرتے ہوئے اُن سے اور اُن کے خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم اعلیٰ اخلاق کے مالک ، باکردار انسان اور اے این پی کے ایک دیرینہ کارکن اور باچاخان باباؒ اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان باباؒ کے ایک سچے پیروکار تھے۔ ان کے خاندان کے اے این پی کیلئے بے مثال قربانیاں ہیں ۔ ان کی موت پر پارٹی ان کے خاندان اور لواحقین سے مکمل طور پر یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتی ہے کہ ان کو جنت الفردوس نصیب کرے اور غم زدہ خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔

 

مورخہ:21-4-2014 بروز پیر
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے ایک اخباری بیان میں دو الگ الگ واقعات پر اے این پی کے رہنما شہید میاں مشتاق کے رہائش گاہ کوبم سے اُڑانے کی اوراے این پی بونیر کے مقامی رہنما محمد افضل خان پر قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں مشتاق شہید کے قریبی رشتہ داروں کو بلاوجہ کس جرم کے تحت اغوا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت اے این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مارا اور اغوا کیاجاتا ہے۔ حکومت ایک طرف تو مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف دہشت گردی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جواس بات کی دلیل ہے کہ حکومت کے رٹ کو چیلنج کرکے دہشت گرد حکومت کو آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ آئین نے اس کو عوام کی جان ومال کے تحفظ کی جو ذمہ داری دی ہے وہ اس کو یقینی بنائیں اور اسمیں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میاں مشتاق احمدشہید کے اہل خانہ کو فل پروف سیکورٹی فراہم کی جائے اور اسکی مالی نقصان کو پورا کیا جائے۔

 

مورخہ:20-4-2014 بروز اتوار

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی پختونخواکے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ ، صوبائی آرگنائزنگ سیکرٹری جمیلہ گیلانی ، ایمل ولی خان اور صوبائی ترجمان صدرالدین مروت نے ایک مشترکہ بیان میں اے این پی بونیر کے مقامی رہنما محمد افضل خان پردہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ اوراے این پی کے سابق ضلعی صدر شہید میاں مشتاق کے حجرے کو بموں سے اُڑانے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہیں۔ انہوں نے محمد افضل خان کے خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی ایصال ثواب کیلئے دُعا کی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔حکمرانوں نے الیکشن سے پہلے عوام سے امن کے نام پرجو وعدے کئے گئے تھے اور سب کے سب ناکام ہوچکے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات کوروکنے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ۔ عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور حکومت اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

مورخہ:20-4-2014 بروز اتوار
پشاور: اے این پی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے جیو ٹی وی کے سینئر اینکر اور نامور صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حامد میرموت سے لڑ کر اللہ نے اُس کو ایک نئی زندگی عطاکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حامد میرنے مرتے مرتے موت کو شکست دی اور ایک بہادر انسان ہونے کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ حامد میر جیسا صحافی معاشرے میں ہر قسم بدعنوانی اوردہشت گردی کے خلاف آواز اُٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر ایک بہاد ر ، نڈر اور بے باک صحافی ہے اور قوم اس کے پُشت پر چٹان کی طرح کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سچ بولنا بھی ایک گناہ تصور کی جاتی ہے ، حامد میر نے زندگی بھر سچائی کا مظاہر ہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ صحافت ریاست کا ایک اہم ستون ہے ، ایسے بزدلانہ کاروائیوں سے صحافی برادری کودبانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ، لیکن صحافی برادری ایسے کاروائیوں سے مرغوب نہیں ہوں گے اور عوام کو حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرتے رہیں گے اور عوام حقائق کی رسائی میں حامل رکاوٹیں برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حامد میر پر حملہ صحافت پر حملہ ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے انہوں نے وفاقی حکومت سے کہا کہ صحافی برادری کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ۔ انہوں نے حامد میر کی جلد صحتیابی کے لئے دُعا کی ۔

 

19.4.2014 بروزہفتہ

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل اور پختونخوا کے صدر بشیر احمد مٹہ نے جیونیوز ٹی وی کے سینئر اینکرز اور نامور صحافی حامد میر پر نامعلوم حملہ آوروں کی طرف سے قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صحافی برادری پر حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ صحافت ریاست کا پانچواں ستون ہے ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے صحافی برادری کو دبانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن صحافی برادری ایسی کارروائیوں سے مرغوب نہیں ہونگے اور عوام کو حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرتے رہیں گے اور عوام حقائق کی رسائی میں حامل رکاوٹیں برداشت نہیں کرینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ صحافیوں پر حملہ صحافت پر حملہ ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے پُرزورمطالبہ کیا کہ صحافی برادری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے ا ور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اُنہوں نے حامد میر کی جلد صحت یابی کیلئے دُعائے خیر کی۔

19.4.2014 بروزہفتہ

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے جیونیوز ٹی وی کے سینئر اینکرز اور نامور صحافی حامد میر پر نامعلوم حملہ آوروں کی طرف سے قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صحافی برادری پر حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ صحافت ریاست کا پانچواں ستون ہے ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے صحافی برادری کو دبانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن صحافی برادری ایسی کارروائیوں سے مرغوب نہیں ہونگے اور عوام کو حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرتے رہیں گے اور عوام حقائق کی رسائی میں حامل رکاوٹیں برداشت نہیں کرینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ صحافیوں پر حملہ صحافت پر حملہ ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے پُرزورمطالبہ کیا کہ صحافی برادری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے ا ور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اُنہوں نے حامد میر کی جلد صحت یابی کیلئے دُعائے خیر کی۔

 

عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی پریس ریلیز
صوابی:۔عوامی نیشنل پارٹی یوسی منیئی کا اجلاس حجرہ شاہ نواز میں ہوا،اجلاس میں یوسی مینئی کے کونسلروں کے علاوہ ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے فائنانس سیکرٹری اقبال جدون ،اور کمیٹی کے ممبر زاہد خان نے بھی شرکت کی،
اجلاس میں اتفاق رائے سے یوسی مینئی کیلئے عہدہ دار متخب کیا گیا ۔صدر محمد عرفان ،سینئرنائب صدر مثل خان ،نائب صدر مرانہ ،قلندرشاہ ،نائب صدر زنانہ بعد میں نام دیا جائے گا۔جنرل سیکرٹری اعظم خان،ڈپٹی جنرل سیکرٹری حق نواز ،جائنٹ سیکرٹری حضرحیات ،جائنٹ سیکرٹری زنانہ کا نام بعد میں نام دیا جائے گاثقافت سیکرٹری ،زاہد محمد ،انفارمیشن سیکرٹری ،محمد نعیم فائنانس خالد محمد ،سالار اول ،حق نواز مانی خیل،سالار دوم خان بہادر ،
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی فائنانس سیکرٹری اقبال خان جدون،اور ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر محمد زاہد خان آف مینئی اتفاق رائے سے عہدہ داروں کے انتخاب پر کارکنوں کا شکریہ اداکیا اُنھوں نے کہا اتفاق رائے اسی بات کی دلیل ہے ۔کہ مینئی میں اے این پی مبضوط اورمتحد ہے ۔اُنھوں نے کہا کہ باچاخان بابا نے نہ صرف ہمارے لئے ایک سیاسی تنظیم بنائی بلکہ اُنھوں نے ہمارے لئے ایک برادری بنائی ہے جس کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے غم ار خوشی میں شریک ہوں ،اُنھوں نے کہا کہ اے این پی نے اسفندیارولی خان کی قیادت میں جوکارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں ۔وہ پختون قوم کی تاریخ کا سنہراباب ہے ۔اُنھوں نے کہا ہم عہدکرتے ہیں کہ پختون قوم کو اسفندیاولی خان کی قیادت میں متحد کریں گے ۔خواہ اس راستے میں ہمیں کتنی ہی قربانی دینا ۔
اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد کے ذریعے ممتاز صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔قرارداد میں کہا ہے کہ حامد میر صحافت کا ایک درخشندہ ستارہ ہے ۔مظلوم انسانیت کی آوازہے ۔اور اعلیٰ انسانی اقدار کے علمبردارہے ۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حامدمیرجیسے ممتاز شحصیات پر حملے بگڑتی ہوئی لاقانونیت حکمرانوں کے کردارپر سواسیہ نشان ہے ۔قرارداد میں آزاد اور غیرجابندارانکوائری کے ذریعے ملزموں کو انصاف کے کہڑے میں لایا جائے ۔

دریں اثناء یونین کونسل کابکنی میں پروگرام یونین کونسل کابکنی کا صدر پیر زمان شاہ،سنیئرنائب صدر ،عجب خان،نائب صدر اول رحمان اللہ گجئی، نائب صدر ودم کریم شاہ جنرل سیکرٹری باچا خان، ڈپٹی جنرل سیکرٹری گل غنی، پریس سیکرٹری، فیض محمد خان،پروپیگنڈہ، خرانجی زرنجب ،سالاراول، زربنی خان،سالار دوم حاجی بہادر ،شامل ہیں۔

جاری کردہ
عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی میڈیا سیل تاریخ:21-4-2014

عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی پریس ریلیز
صوابی:۔عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی کے ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ارشد خان ایڈوکیٹ نے ممتاز صحافی اور جیوکے اینگرحامد میرپر قاتلانہ حملے اور اے این پی کے مرحوم راہنماء میاں مشتاق کے حجرہ اورگھر پر بم حملہ اوراُس بھائی اور بھتیجے کے اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ایک اخباری بیان میں اُنھوں نے کہا کہ ممتاز صحافی اور اے این پی کے کارکنوں اور راہنماؤں پر حملے اس بات کیلئے کافی ہے کہ ملک امن کا نام اورنشان نہیں اور لاقانونیت اپنے حدو کو پارکرگئے ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ حکمرانوں کے امن کے دعوے اورنعرے ہے ۔اُنھوں نے ممتاز صحافی حامدمیر پر حملے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔اورمیاں مشتاق مرحوم کے بھائیوں اور بھتیجے جلد بازیابی کا بھی مطالبہ کیا

جاری کردہ
عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی میڈیا سیل تاریخ:21-4-2014

مورخہ:19-4-2014 بروز ہفتہ

اے این پی پختونوں کے حقوق کی جنگ جاری رکھے گی

یہ بات اے این پی کے مرکزی رہنما محمد کریم بابک نے موضع اشاڑی بونیر میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے ملنگ خان ، لاشیر اور ولی الرحمن نے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ محمد کریم بابک نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کو مسائل کے دلدل میں پھنسا دیا ہے اور صوبے کے عوام کو بے شمار مسائل سے دوچار کر دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیادوں پر مختلف محکموں کے نوجوانوں کو روزگار سے برطرف کردیا جاتا ہے ۔ بے روزگاری ، بدامنی ، مہنگائی ، بھتہ خوری اور اغواہ برائے تاوان نے صوبے کے عوام کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کے مسائل سے بے خبر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس مسائل کے حل کیلئے کوئی پروگرام نہیں ہے ۔
محمد کریم بابک نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ کھلا مذاق شروع کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کا موجودہ حکومت پر کوئی اعتماد نہیں رہا ہے ۔

 

 

19.4.2014 بروز ہفتہ

(پ ر) اے این پی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت صوبوں کے عوام کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں واپڈا غیر ضروری طورپر پختونخوا کے عوام کو تنگ نہ کریں اور انتقاماً بجلی بندش کا ڈرامہ بند کریں۔ پختونخوا کے عوام پہلے ہی سے بہت مشکلات سے دوچار ہیں اور مزید یہ کھیل برداشت نہیں کرسکتے ہیں ۔ پختونخوا کے عوام کو چور کہنا سراسر نا انصافی ہے سارے پاکستان میں بجلی چوروں کی کوئی کمی نہیں پھر سستی بجلی پیدا کرنے والے صوبے پختونخوا پر الزام لگانا کسی طور زیب نہیں دیتا۔ مرکزی اور صوبائی حکومت سیاسی نمبر بڑھانے کیلئے عوام کو عذاب میں نہ ڈالیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی ضلع نوشہرہ پبی 2 تپہ خان شیر گڑھی کے انتخابات کے موقع پر کیا جو زیر صدارت زرعلی خان منعقد ہوئے جس میں اتفاق رائے سے نور ہاشم صدر ، محمد دایان جنرل سیکرٹری اور کابینے کے دیگر ارکان منتخب ہوئے ۔ اس موقع پر میاں افتخارحسین مہمان خصوصی تھے ۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے اور پارٹی کے اندر ہمارے تمام فیصلے جمہوریت کے ذریعے کئے جاتے ہیں ۔ اے این پی نے جمہوریت کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں اور جمہوریت کی بحالی میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود ملک میں عموماً اور پختونخوا میں خصوصاًامن کے قیام میں وفاقی اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بُری طرح ناکام رہی ۔ مذاکرات کو طول دینا کسی بھی صورت امن کے حق میں نہیں ۔انہوں نے اے این پی کی نو منتخب کابینہ کو مبارک باد پیش کی ۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے حق میں ہے اور مذاکرات کے نام پر کسی بھی سازش کونہیں مانیں گے اور نہ ہی سٹیٹ کے اندر سٹیٹ تسلیم کریں گے۔ قیام امن کیلئے راہ ہموار کرنے کیلئے جلد از جلد مثبت اور سیر حاصل اقدامات اُٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی کے نام پر عوام سے ووٹ لیا تھا اور عوام کے ساتھ اُس نے جو وعدے کئے تھے وہ ابھی تک ایفا نہیں کر سکی اور نہ ہی خاطر خواہ تبدیلی لاسکی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک سال گزرنے کے باوجود کوئی نئے منصوبے اور ترقیاتی کام شروع نہیں کر سکی بلکہ اے این پی کے گذشتہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ منصوبوں اور ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے کی روایت قائم کی ہے اور وزیر اعلیٰ نے بلاوجہ میرے حلقے میں اے این پی کے کارکنوں کو تنگ کرنے کی روش اپنا رکھی ہے ۔
میاں افتخارحسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھتے ہیں تو اس بنیاد پر اسکا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ نوشہرہ کی ترقی اور فلاح وبہبود کیلئے زیادہ کام کرے اور اس کیلئے زیادہ ترقیاتی منصوبے منظور کرے ۔ لیکن وہ الٹی پالیسی اپنانے پر بضد ہے اور جو ترقیاتی منصوبے میں نے PK-12 کیلئے اپنے دورحکومت میں منظور کرلئے تھے وہ وزیراعلیٰ صاحب اپنے حلقے میں لے گئے ہیں اور اس پر اپنے نام کی تختیاں نصب کر دی ہیں جومیرے حلقے کے عوام کی حق تلفی اور ظلم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عظیم سیاستدان اورپشتو کے شاعر اجمل خٹک کے نام سے منسوب پولی ٹیکنیک کالج منظور کیا تھا لیکن اس نے یہاں کے عوام کے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہوئے وہ کالج اپنے حلقے منتقل کیا جسکی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ۔ اگر ایک وزیر اعلیٰ کلاس فور ، کلرک ، اُستاد جیسی ملازمتوں کیساتھ بھی انتقامی کارروائی کرے تو وہ پھر اپنا خود اندازہ لگائے کہ وہ کس مقام پر کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنر مہتا ب عباسی نے حلف اُٹھایا ہے چونکہ ملکی سطح پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے مخالف ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ صوبے کے مفاد کی خاطر سیاست سے بالاتر ہوکر گورنر اور صوبائی حکومت عوام کی بھلائی کیلئے اقدامات اُٹھائیں گے تاکہ بڑوں کے چپقلش میں عوام کو نقصان نہ اُٹھانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائے اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں سہ فریقی اتحاد کلین سویپ کرے گی اوراپنی مخالف سیاسی حریف جماعتوں کی ضمانتیں تک ضبط کرے گی۔

 

عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی پریس ریلیز

صوابی:۔ عوامی نیشنل پارٹی یونین کونسل چکنودہ انتخابی اجلاس حجرہ شمس القمر میں ہوا ،اجلاس کی صدارت آرگنائزنگ کے چیئرمین درازخان نے کی ،اجلاس میں ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے پریس سیکرٹری محمد رشید ایڈوکیٹ کے علاوہ آفس سیکرٹری حبل الورید چکنودہ کونسل کے ارکان نے بھاری اکثریت نے شرکت کی ۔
تلاوت کلام پاک کے بعدشمس القمر نے اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی ۔اور مہانوں کا شکریہ اداکیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے پریس سیکرٹری محمد رشید ایڈوکیٹ نے کہا کہ باچا خان بابا نے ہمارے لئے نہ صرف ایک برادری بنائی ہے جیکہ تنظیم کے ذریعے ہمیں منظم ہونے کا شعور دیاہے ۔اورآج ہم یونین کونسل چکنددہ جو انتخاب اجلاس کررہے ہیں۔وہ ہمارے تاریخ کا تسلسل ہے ۔اُنھوں نے کہاکہ ہم نے پچھلے فارم سازی میں بوگس فارم سازی کی تھی جس کا خمیازہ ہم نے پچھلے الیکشن میں پھگتاپڑا۔اُنھوں نے کہا کہ آپ ایسے پارٹی عہدہ داروں کا انتخاب کرے جو ایل ہوں اورپارٹی اور قوم کی خدمت کرے۔
محمد رشید خان ایڈوکیٹ نیاجلاس عہدہ داروں کا انتخاب کرنے کیلئے کہا اجلاس میں اتفاق رائے میں مندرجہ زیل عہدہدارں کا انتخاب کیا گیا۔
صدر ،شمس القمر ،سینئرنائب صدرخالدخان،نائب صدر فضل بہادر،نائب صدرزنانہ ،السیہ بی بی ،جنرل سیکرٹری زین محمد ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری حامدعلی،جائٹ سیکرٹری مرانہ مصری خان ،جائٹ سیکرٹری زنانہ حناگل ،ثقافت سیکرٹری ،حارث علی،انفارمیشن سیکرٹری عبدالرحمن،سالاراول قادرخان،سالاردوم فرزندخان،

 

18.4.2014 بروز جمعۃ المبارک

عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ نے اے این پی کے خلاف فرید طوفان کے پریس میں مسلسل نازیبا اور غیر ذمہ وارانہ الفاظ کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پختونوں کے حقوق کی علمبردار اور باچا خان بابا کے درخشاں پیغام کی وارث اے این پی سے منحرف ایک چھوٹے سے ٹولے کے خودساختہ جنرل سیکرٹری فرید طوفان کے بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پختون قوم کی تاریخی یکجہتی اور اتحاد کے بنیادی فلسفے سے عناد کی وجہ سے یہ سب کچھ کر رہے ہیں اور اُس کے بیانات میں سیاسی شعور کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر وہ ٹولہ جس کی نمائندگی کا دعویٰ وہ کرتے ہیں پختون قوم کے اتحاد اور ترقی کے فلسفے پر کاربند ہوتی تو وہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر پختون قوم کی مسلمہ ترجمان اور نمائندہ پارٹی اے این پی کی مخالفت اس طرح سے نہ کرتا۔ جہاں تک فرید طوفان کا پختون قوم سے ہمدردی کے دعوؤں کا تعلق ہے تو وہ اُن کی اُن کاوشوں اور خدمتوں سے صاف عیاں ہے کہ جو ابھی حال تک وہ کئی اور سیاسی پارٹیوں میں ایک رُکن کی حیثیت سے ادا کرتے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس سے پہلے فرید طوفان نے جن پارٹیوں میں کام کیا ہے وہاں اُنہوں نے کتنی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے پیچھے کتنے لوگوں کو داغ مفارقت دے کر غمگین کیا ہے۔ جس جس سیاسی پارٹی سے بھی وہ نکلے ہیں وہاں لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے اور خدا کا شکر ادا کیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ مصنوعی جذباتی بیانات سے اخبارات میں سُرخیاں ضرور لگتی ہیں مگر ان سے کسی سیاسی کارکن کا قد کاٹھ نہیں بدلتا اور فرید طوفان جہاں سے شروع ہوئے تھے وہ وہیں پر سیاسی میدان میں کھڑے ہیں اور وہیں پر اُن کا خاتمہ ہوگا۔
اُنہوں نے کہا کہ جس سیاسی ٹولے کی وہ نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کو میں یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر اُن کے پاس اے این پی دُشمنی کے علاوہ کوئی اور پروگرام ہے تو وہ اُسے عوام کی عدالت میں پیش کرے اُنہوں نے کہا کہ فرید طوفان جیسے آدمی کو دیگر رہنماؤں کے خلاف ھرزہ سرائی کیلئے کھلا چھوڑ کر وہ پختون عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ کو صرف نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کے جو لوگ اسفندیار ولی خان کو ، جو باچا خان اور ولی خان کے گھرانے کے چشم و چراغ ہیں ، کل تک اپنا لیڈر تسلیم کرتے آئے ہیں وہ کیونکر اب جب پارٹی حکومت سے جُدا ہوئی تو اُن کے خلاف صف آراء ہو گئے ہیں ؟ یہ وہ سوال ہے کہ جو ابھی تک جواب کا منتظر ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اے این پی اور اس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف جو تماشہ منحرف ٹولے نے لگا رکھا ہے اس میں ضرور کوئی اور عنصر بھی پوشیدہ ہے جو پختونوں کے اتحاد ، قوت اور خوشحالی کے مخالف ہے ، اور غیرت مند پختون عوام اس سے کسی طور متاثر نہیں ہونگے۔

 

18.4.2014 بروز جمعۃ المبارک

(پ ر) اے این پی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت صوبوں کے عوام کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں واپڈا غیر ضروری طورپر پختونخوا کے عوام کو تنگ نہ کریں اور انتقاماً بجلی بندش کا ڈرامہ بند کریں۔ پختونخوا کے عوام پہلے ہی سے بہت مشکلات سے دوچار ہیں اور مزید یہ کھیل برداشت نہیں کرسکتے ہیں ۔ پختونخوا کے عوام کو چور کہنا سراسر نا انصافی ہے سارے پاکستان میں بجلی چوروں کی کوئی کمی نہیں پھر سستی بجلی پیدا کرنے والے صوبے پختونخوا پر الزام لگانا کسی طور زیب نہیں دیتا۔ مرکزی اور صوبائی حکومت سیاسی نمبر بڑھانے کیلئے عوام کو عذاب میں نہ ڈالیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی ضلع نوشہرہ پبی 2 تپہ خان شیر گڑھی کے انتخابات کے موقع پر کیا جو زیر صدارت زرعلی خان منعقد ہوئے جس میں اتفاق رائے سے نور ہاشم صدر ، محمد دایان جنرل سیکرٹری اور کابینے کے دیگر ارکان منتخب ہوئے ۔ اس موقع پر میاں افتخارحسین مہمان خصوصی تھے ۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے اور پارٹی کے اندر ہمارے تمام فیصلے جمہوریت کے ذریعے کئے جاتے ہیں ۔ اے این پی نے جمہوریت کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں اور جمہوریت کی بحالی میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود ملک میں عموماً اور پختونخوا میں خصوصاًامن کے قیام میں وفاقی اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بُری طرح ناکام رہی ۔ مذاکرات کو طول دینا کسی بھی صورت امن کے حق میں نہیں ۔انہوں نے اے این پی کی نو منتخب کابینہ کو مبارک باد پیش کی ۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے حق میں ہے اور مذاکرات کے نام پر کسی بھی سازش کونہیں مانیں گے اور نہ ہی سٹیٹ کے اندر سٹیٹ تسلیم کریں گے۔ قیام امن کیلئے راہ ہموار کرنے کیلئے جلد از جلد مثبت اور سیر حاصل اقدامات اُٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی کے نام پر عوام سے ووٹ لیا تھا اور عوام کے ساتھ اُس نے جو وعدے کئے تھے وہ ابھی تک ایفا نہیں کر سکی اور نہ ہی خاطر خواہ تبدیلی لاسکی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک سال گزرنے کے باوجود کوئی نئے منصوبے اور ترقیاتی کام شروع نہیں کر سکی بلکہ اے این پی کے گذشتہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ منصوبوں اور ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے کی روایت قائم کی ہے اور وزیر اعلیٰ نے بلاوجہ میرے حلقے میں اے این پی کے کارکنوں کو تنگ کرنے کی روش اپنا رکھی ہے ۔
میاں افتخارحسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھتے ہیں تو اس بنیاد پر اسکا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ نوشہرہ کی ترقی اور فلاح وبہبود کیلئے زیادہ کام کرے اور اس کیلئے زیادہ ترقیاتی منصوبے منظور کرے ۔ لیکن وہ الٹی پالیسی اپنانے پر بضد ہے اور جو ترقیاتی منصوبے میں نے PK-12 کیلئے اپنے دورحکومت میں منظور کرلئے تھے وہ وزیراعلیٰ صاحب اپنے حلقے میں لے گئے ہیں اور اس پر اپنے نام کی تختیاں نصب کر دی ہیں جومیرے حلقے کے عوام کی حق تلفی اور ظلم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عظیم سیاستدان اورپشتو کے شاعر اجمل خٹک کے نام سے منسوب پولی ٹیکنیک کالج منظور کیا تھا لیکن اس نے یہاں کے عوام کے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہوئے وہ کالج اپنے حلقے منتقل کیا جسکی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ۔ اگر ایک وزیر اعلیٰ کلاس فور ، کلرک ، اُستاد جیسی ملازمتوں کیساتھ بھی انتقامی کارروائی کرے تو وہ پھر اپنا خود اندازہ لگائے کہ وہ کس مقام پر کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنر مہتا ب عباسی نے حلف اُٹھایا ہے چونکہ ملکی سطح پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے مخالف ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ صوبے کے مفاد کی خاطر سیاست سے بالاتر ہوکر گورنر اور صوبائی حکومت عوام کی بھلائی کیلئے اقدامات اُٹھائیں گے تاکہ بڑوں کے چپقلش میں عوام کو نقصان نہ اُٹھانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائے اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں سہ فریقی اتحاد کلین سویپ کرے گی اوراپنی مخالف سیاسی حریف جماعتوں کی ضمانتیں تک ضبط کرے گی۔

کراچی، جاوید خان اے این پی حیدرآباد کے صدر، محمد امین جنرل سیکرٹری منتخب، اسفندیارولی خان اور سنیٹر شاہی سید کی مبارک باد
کراچی۔بدھ 16 اپریل 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے اے این پی ضلع حیدر آباد کی تنظیم سازی مکمل کرلی گئی ،ضلع حیدر آبادتمام وارڈوں کی کابینہ ،مجلس عاملہ کا اجلاس عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ اور ضلع حیدر آباد آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین آصف خان کی سربراہی میں منعقد ہوا اس مو قع پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان شاہد علی خان ،وکیل خان سواتی ،سید حنیف شاہ بھی موجود تھے اجلاس میں شریک تمام ارکان نے متفقہ طور پر حیدر آباد کی تنظیم کا انتخاب کیا ہے تمام ارکان نے متفقہ طور پر جاویدخان کو صدر،حاجی کمال کو سینئر نائب صدر محمد امین کو جنرل سیکریٹری ،آصف خان کو ڈپٹی جنرل سیکریٹری اور ماجد خان کو سیکریٹری اطلاعات منتخب ہوئے اس موقع پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے اپنی خامیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی پر اسے دور کرنا جمہوریت کا حسن ہے گزشتہ عام انتخابات میں بہت سی سیاسی جماعتیں الیکشن ہاری مگر صرف عوامی نیشنل پارٹی نے انتخابی شکست کے بعد ایک فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی بنائی اور اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان بھر میں اپنی تمام تنظیم کو تحلیل کرکے وارڈ سے لیکر مرکز تک اپنی تنظیم نو کا فیصلہ کیا اور بنیادی تنظیم وارڈوں کی تنظیم سازی مکمل کرنے کے بعد سندھ بھر میں اضلاع کی تنظیم سازی کا سلسلہ جاری ہے انتہائی پر امن و جمہوری انداز اور متفقہ طور پر تنظیم کا انتخاب کرنے پر ضلعی حیدر آباد کی ضلعی کونسل کے تمام ارکان اور تنظیمی امور کی تکمیل پر ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اس امید کا اظہار کرتا ہوں کے جاوید خان اور ان کی ٹیم اپنے کارکنان کی توقعات پر پورا اترے گی اور اسلاف کے افکار کی روشنی میں قومی خدمت کو اپنا شعار بنائی گی ۔
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے جاوید خان کو ضلع حیدر آباد کا صدر اور محمد امین کو جنرل سیکریٹر ی منتخب کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع حیدر آباد کی نو منتخب تنظیم کارکنان کی توقعات پر پورا اترے گی اور پارٹی نظریات کو عام کرنے کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائے گی ۔
کراچی۔منگل 15 اپریل 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق گزشتہ روز انٹرا پارٹی الیکشن میں کامیاب ہونے والی اے این پی ضلع جنوبی کی نو منتخب کابینہ نے اپنے مشترکہ بیان میں انتہائی شفاف اور منصفانہ الیکشن کروانے پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظم اور جمہوری انداز میں پارٹی الیکشن کروانے اور بھر پور انتظامات کرنے پرتمام صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،جاری کردہ مشترکہ بیان میں ضلع جنوبی کے نو منتخب صدر عبدالقیوم بونیری، جنرل سیکریٹری سرفراز خان جدون اور ان کی کابینہ نے مذید کہا کہ گزشتہ روز کے انٹرا پارٹی الیکشن میں کوئی نہیں ہارا بلکہ عوامی نیشنل پار ٹی جیتی ہے کسی کو گھر نیں بیٹھنے دیں گے اختلافات جمہوریت کا حسن ہے ہم اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ لیکر چلیں گے اور ملکر پختونوں سمیت تمام مظلوم قومیتوں کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کریں گے مشترکہ بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ جمہوریت کے کھوکھلے نعرے لگانے والے باچا خان بابا کے پیروکاروں سے جمہوریت کے سبق سیکھیں ہم نے کیمرے کی آنکھ کے ذریعے پوری دنیا کو اپنا اصل چہرہ دکھادیا ہے عوام خود فیصلہ کرے کہ اصل جمہوریت پسند کون ہیں گزشتہ الیکشن میں بہت سی پارٹیوں کو شکست ہوئی مگر صرف عوامی نیشنل پارٹی نے عام انتخابا ت میں شکست کے بعد بشیر احمد مٹہ کی سربراہی میں فیکٹ ایند فائنڈنگ کمیٹی بنائی جس نے ملک بھر میں کارکنان سے ملاقاتیں کیں اور تمام کارکنان سے تجاویز بھی مانگیں اور ان تجاویز کی روشنی میں ایک رپورٹ مرکزی صدر اسفند یار ولی خان کو پیش کی اور مرکزی صدر نے رپورٹ کی روشنی میں ملک بھر کی تمام تنظیم کو تحلیل کرتے ہوئے ازسرنو تنظیم سازی کا فیصلہ کیا اور اب تک کراچی سمیت سندھ بھر میں یونین کونسل کی سطح پر تنظیم سازی مکمل ہونے کے بعد کراچی کے دو اضلاع سمیت حیدر آباد اور ضلع کشمور کی تنظیم سازی مکمل کرلی گئی ہے ۔مورخہ:15-4-2014 بروز منگل
پشاور: اے این پی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے اور پارٹی کے اندر ہمارے تمام فیصلے جمہوریت کے ذریعے کئے جاتے ہیں ۔ اے این پی نے جمہوریت کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں اور جمہوریت کی بحالی میں اہم اور کلیدی کردار ادا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود ملک میں عموماً اور پختونخوا میں خصوصاًامن کے قیام میں وفاقی اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بُری طرح ناکام رہی ۔ مذاکرات کو طول دینا کسی بھی صورت امن کے حق میں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی ضلع نوشہرہ پبی 1 یونین کونسل کے انتخابات کے موقع پر کیا جو زیر صدارت زرعلی خان منعقد ہوئے جس میں میاں افتخارحسین مہمان خصوصی تھے جبکہ اس موقع پر ضلع الیکشن کمیشن کے سیکرٹری انجینئر حامد خان اور دیگر ممبران الیکشن کمیشن بھی موجود تھے۔انہوں نے اے این پی کے نئے منتخب کابینے کو مبارک باد پیش کی ۔
انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے حق میں ہے اور مذاکرات کے نام پر کسی بھی سازش کونہیں مانیں گے اور نہ ہی سٹیٹ کے اندر سٹیٹ تسلیم کریں گے۔ قیام امن کیلئے راہ ہموار کرنے کیلئے جلد از جلد مثبت اور سیر حاصل اقدامات اُٹھائے جائے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی کے نام پر عوام سے ووٹ لیا تھا اور عوام کے ساتھ اُس نے جو وعدے کئے تھے وہ ابھی تک ایفا نہیں کر سکی اور نہ ہی خاطر خواہ تبدیلی لاسکی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک سال بیتنے کے باوجود کوئی نئے منصوبے اور ترقیاتی کام شروع نہیں کر سکی بلکہ اے این پی کے گذشتہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ منصوبوں اور ترقیاتی کاموں پر اپنے کی تختیاں لگانے کی روایت قائم کی ہے اور وزیر اعلیٰ نے بلاوجہ میرے حلقے میں اے این پی کے کارکنوں کو تنگ کرنے کی روش اپنا رکھی ہے ۔
میاں افتخارحسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھتے ہیں تو اس بنیاد پر اسکا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ نوشہرہ کی ترقی اور فلاح وبہبود کیلئے زیادہ کام کرے اور اس کیلئے زیادہ ترقیاتی منصوبے منظور کرے اورزیادہ ترقیاتی کام کرے لیکن وہ الٹا پالیسی اپنانے پر بضد ہے اور جو ترقیاتی منصوبے میں نے PK-12 کیلئے اپنے دورحکومت میں منظور کرلئے تھے وہ وزیراعلیٰ صاحب اپنے حلقے لے گئے ہیں اور اس پر اپنے نام کی تختیاں نصب کی ہیں جومیرے حلقے کے عوام کی حق تلفی اور ظلم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عظیم سیاستدان اورپشتو کے شاعر اجمل خٹک کے نام سے منسوب پولی ٹیکنیک کالج منظور کیا تھا لیکن اس نے یہاں کے عوام کے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہوئے وہ کالج اپنے حلقے منتقل کیا جسکی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ گورنر مہتا ب عباسی نے حلف اُٹھایا ہے چونکہ ملکی سطح پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے مخالف ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ صوبے کے مفاد کی خاطر سیاست سے بالاتر ہوکر گورنر اور صوبائی حکومت عوام کی بھلائی کیلئے اقدامات اُٹھائیں گے تاکہ بڑوں کے چپقلش میں عوام کو نقصان نہ اُٹھانا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائے اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں سہ فریقی اتحاد کلین سویپ کرے گی اوراپنی مخالف سیاسی حریف جماعتوں کی ضمانتیں تک ضبط کرے گی۔مورخہ:15-4-2014 بروز منگل
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی خیبرایجنسی کے آرگنائزر جوہر حمید آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر ایجنسی کے متاثرین کی رجسٹریشن نہ کرنے پر بے جا تنگ کرنا ظلم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کو بے جا تنگ کرنے سے گریز کیا جائے ۔
انہوں نے انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے کہا ہے کہ باڑہ بازار کھولنے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بے انصافی کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے پختون سرزمین پر پختونوں کی زندگی اجیرن اور کھٹن بنائی ہے اور پختونوں کو بے جا تنگ کرنے کیلئے کسی بھی حربے کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ہی وطن میں رہتے ہوئے رجسٹریشن کرنا کونسا انصاف ہے، جب سے تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی ہے قبائلوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک روا رکھا جارہا ہے جو کہ ناقابل بردارشت ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پختونخوا خیبر ایجنسی کے رہنے والوں کے رجسٹریشن کرنے کے مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں ورنہ ہم بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف عوام کی خدمت اور ان کو امن وامان کی فضا فراہم کرنے کی بجائے وزارتوں کی بٹوارے میں سرگرم عمل ہے اور عوام کی خدمت بول چکی ہے حکومت کو وزارتوں اور اعلیٰ حکومتی عہدوں پر لڑنے جھگڑنے کی بجائے عوام کی خدمت اور صوبے کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔
15.4.2014 بروز منگل
اے این پی ضلع تورغر کے انتخابات مکمل ہوگئے حاجی نمروز خان صدر اور یوسف خان بسی خیل جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے(پ ر) اے این پی ضلع تورغر کے انتخابات میں حاجی نمروز خان سابق صوبائی وزیر ضلع تور غر کے صدر منتخب ہو گئے اور دیگر کابینہ میں سینئر نائب صدر سید شہزاد شاہ ، نائب صدر نوابزادہ خان مدا خیل ، جنرل سیکرٹری یوسف خان بسی خیل ، جوائنٹ سیکرٹری نذر حمید خان مدا خیل ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری شیر ملک خان آکازئی ، سیکرٹری مالیات تاجی خان ، سیکرٹری ثقافت ظریف خان بسی خیل ، سیکرٹری اطلاعات عزیز الرحیم بسی خیل اور بھٹو بسی خیل کو سالار مقرر کر دیا گیا۔ صوبائی الیکشن کمیشن کے ممبران سید عاقل شاہ اور ملک غلام مصطفی کی نگرانی میں انتخابی عمل پایۂ تکمیل تک پہنچا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید عاقل شاہ نے کہا کہ ہم یہاں انتخابات کے سلسلے میں آئے ہیں۔ اے این پی کا وطیرہ رہا ہے کہ ہمیشہ انتخابات جمہوری انداز میں منعقد کرائے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو میں ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین سید شہزاد کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے انتھک محنت سے برانچوں اور یونین کونسلوں کے انتخابات منعقد کرائے اور جن کونسلرز کی فہرست ہمیں مہیا کی گئی ہے یہ کونسلرز آج اپنے ضلعی کونسلر کے انتخاب میں بھرپور حصہ لیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ طریقۂ کار ہم آپ پر واضح کردینگے اس میں ہماری طرف سے کوئی نامزدگی نہیں کی جائے گی۔ آپ کو پورا اختیار ہو گا کہ آپ جس شخص کو چاہیں اپنا عہدیدار مقرر کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این اپنی جمہوری روایات کو قائم رکھتے ہوئے ہر چار سال بعد نچلی سطح سے لیکر مرکزی سطح تک اپنے الیکشن منعقد کرواتی آئی ہے اور انشاء اللہ ہم اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پارٹی میں جمہوری کلچر کو فروغ دیتے رہیں گے۔ اس صوبے میں ہم اپوزیشن کا بھرپور رول ادا کر رہے ہیں اور انشاء اللہ آنے والا کل اے این پی کا ہوگا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک غلام مصطفی نے کہا کہ اے این پی حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، لوگوں کی بے لوث خدمت کرتی رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اسفند یارولی خان ، باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے حقیقی وارث ہیں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے اپنی زندگی میں اسفندیار ولی خان کو اپنا جان نشین مقرر کر دیا تھا۔ لہٰذا اس بحث میں اُلجھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اے این پی اسفند یار ولی خان کی قیادت میں مکمل طور پر متحد ہے اور سازشی عناصر اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور انشاء اللہ تنطیم سازی مکمل ہونے کے بعد اے این پی ایک بھرپور قوت کے ساتھ اُبھر کر اُفق پر نمودار ہوگی۔

مورخہ:15-4-2014بروز منگل

پشاور: اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے محکمہ بہبودآبادی کے ملازمین کی مستقلی اور(DPEs )ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن کے سروس سٹرکچر پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی قرادادیں اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادی۔
قراداد میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے محکمہ بہبودآبادی کے ملازمین کئی سالوں سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو ان کی ملازمتیں فوری طور پر مستقل کرنے کے اقدامات کرنی چاہیے۔
دوسری قراداد میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے سکولوں میں (DPEs) ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن کے سروس سٹرکچر پر عمل درآمد میں تاخیر افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ (DPEs )کی سروس سٹرکچر کی منظوری سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے دی تھی لیکن بدقسمتی سے تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے جو کہ صوبے کے (DPEs )کے ساتھ زیادتی ہے ۔
14.4.2014 بروز پیرعوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ فرید طوفان کا قابل نفرت کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اُنہوں نے اے این پی میں رہ کر اپنے کردار کی وجہ سے باچا خان کی تحریک کو جو نقصان پہنچایا وہ کارکنوں کے دلوں میں کندہ ہے۔ یہی وجہ تھی جب اُنہیں پارٹی سے نکالا گیا تو اے این پی کا ایک کارکن بھی ان کے حق میں نہیں تھا۔ اے این پی سے نکالنے کے بعد اُنہوں نے قوم پرست سیاست کے مخالف کئی سیاسی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی مگر جلد ہی ان پارٹیوں پر اس کی اصلیت ظاہر ہو گئی اور اُنہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سرگرداں سرگرداں پھر کر آخر کارولی گروپ بنوانے میں کامیاب ہو گیا اور اکیلے ہی خود ساختہ طور پر مرکزی جنرل سیکرٹری بن بیٹھے۔ حالانکہ ان کے ساتھ نہ تو کوئی اور مرکزی کابینہ میں شامل ہے اور نہ ہی کوئی صوبائی کابینہ تشکیل دے سکے۔ وہ صبح شام عہدوں کی جھولی بھر کے اے این پی کے کارکنوں کے پیچھے مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ مگر ہر جگہ سے مایوس ہو کر لوٹتے ہیں نہ تو ان کے پاس کوئی پروگرام ہے اور نہ کوئی جامع پالیسی۔ یہی وجہ ہے کہ مایوسی کے عالم میں اسے اسفند یار فوبیا ہو گیا ہے ۔ سوتے جاگتے ، اُٹھتے بیٹھتے اُن کے ذہن پر اسفندیار ولی خان کا خوف سوار ہوتا ہے۔ اور ان کی کردارکشی کر کے اے این پی کو کمزور کرنے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں ۔ مگر اب تک اُنہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ان کی قد کاٹھ اپنی نہیں کہ کوئی ان کی قیادت کے سائے تلے سیاست کرسکے۔ جس کسی نے بھی فرید طوفان کو اے این پی کو کمزور کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے وہ بھی اپنے کیے پر پشیمان ہونگے۔
اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ ولی باغ کے سٹیج سے خان عبدالولی خان کے بیٹے اور ان کے سیاسی وارث اسفندیار ولی خان کے خلاف گندی زبان استعمال کر رہے ہیں یہی ان کی نمک حرامی اور کارکنوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ وہ لاکھ کوششیں کرے اے این پی کے کارکن اُن کے دام میں نہیں آئینگے۔ کیونکہ کارکن بلاشک و شبہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں متحد ہیں اور اُن کے پیچھے چٹان کیطرح کھڑے ہیں۔
13.4.2014 بروز اتوار
کراچی، اے این پی ضلع جنوبی کے انتخابات، قیوم بونیری پینل کامیابعوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ضلعی جنوبی کے پارٹی انتخابات میں قیوم سالارزئی پینل نے انتخابی نشان پھول نے 275 ووٹ حاصل کیے اور اقبال کاکڑپینل انتخابی نشان چاند نے 145 ووٹ حاصل کیے چار ووٹ رد کیے گئے اس طرح قیوم سالارزئی پینل نے 127 ووٹ سے کامیابی حاصل کی ،پولنگ کے دوران ضلع ساؤتھ کے وارڈ عہدیدران و اراکین مجلس عاملہ نے بھر ور حصہ لیا اور عوامی نیشنل پارٹی ضلع جنوبی کے کارکنان کی بہت بڑی تعداد پولنگ اسٹیشن کے باہر موجود تھی ۔اس موقع ر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ نے انتخابی نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مکمل جمہوری اقدار ر یقین رکھتے ہیں جمہوریت ہمارے خون میں شامل ہیں کیمرے کی آنکھ کے ذریعے پوری دنیا نے اپنی نے آج کا انتخابی عمل کو دیکھ لیا ہے جمہوریت اور عدم تشدد ہمارے اسلاف کی میراث ہے جمہوریت کے نام نہاد علمبردار آج ہم سے سبق سیکھیںآج ہم نے ثابت کردیا ہے صرف اور صرف عوامی نیشنل پارٹی ہی پارٹی کے اندر ہی جمہوریت ہے انتہائی پر امن پولنگ پر تمام عہدیداران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے عبدالقیوم سالارزئی کو ضلع جنوبی کا صدر اور سرفراز جدون کو جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پرمبارک دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں عبدالقیوم سالارزئی اور ان کی ٹیم پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پورا اترنا ہی ان کا اصل امتحان ہے۔
12.4.2014 بروز ہفتہپشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل ، صوبائی عبوری صدر بشیر احمد مٹہ اور صوبائی ترجمان صدر الدین مروت ایڈووکیٹ نے ممتاز قانون دان اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رضاء اللہ خان ایڈووکیٹ کے چچا کی وفات پر گہرے رنج و غم اظہار کیا۔ اُنہوں نے اُن کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرو جمیل عطا فرمائے۔مورخہ:12-4-2014 بروز ہفتہپشاور: نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی اور صوبائی کابینہ کے وفد نے آج ولی باغ چارسدہ میں محترم اسفندیارو لی خان سے مرکزی صدر خوشحال خان خٹک کے زیر قیادت تفصیلی ملاقات کی ۔ اجلاس میں اے این پی کے مرکزی رہنما بشریٰ گوہر اور ایمل ولی خان نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ اجلاس میں مرکزی صدر خوشحال خان خٹک اور صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے ملک اور صوبے میں جاری تنظیم سازی کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی اور جاری الیکشنز کے عمل کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اسفندیارولی خان نے نیشنل یوتھ کے تنظیمی اُمور اور سیاسی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور اُمید ظاہر کی کہ نوجوان پختون قومی تحریک کے ایک نہایت اہم دستہ کے طور پر اپنی ذمہ داریوں اور صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنا کردار نہایت منظّم اور احسن طریقے سے ادا کریگی۔
اسفندیارولی خان نے نیشنل یوتھ کے وفد سے علاقائی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور موجودہ حالات میں پارٹی وژن اور پالیسی کے بارے میں بحث کی ۔ انہوں نے فاٹا میں مخدوش صورتحال ، صوبے میں جاری بدامنی او ر افغانستان کے صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نیشنل یوتھ کے قائدین پر زور دیا کہ اس مایوس کُن صورتحال میں پختون قومی تحریک کا ایک اہم حصے کے طور پر اپنا کردار حوصلے اور تدبر سے ادا کریں اور پارٹی کا وژن اور پالیسی کو گھر گھر اور ہر گلی کوچے میں پہنچائیں۔
اجلاس کے بعد مرکزی اور صوبائی کابینہ نے ملی رہبر خان عبدالولی خان ؒ کے مزار پر حاضری دیں اور فاتحہ خوانی کی ۔ اجلاس میں مرکزی سیکرٹری جنرل فخرالدین خان ، مرکزی سینئر نائب صدر سلیمان مندنڑ ، مرکزی کمیٹی کے ممبران سلیم خان اور سکندر مسعود عباس ، صوبائی جنرل سیکرٹری نعمان الحق ، سینئر نائب صدر اظہار خان ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات حسن بونیری ، صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران گلزار احمد خان اور رومی حنزئی موجود تھے۔
11.4.2014 بروز جمعۃ المبارک

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبور ی صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے تحفظ پاکستان بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک کالا قانون ہے اور ہم سینٹ میں کسی بھی صورت اس کو پاس ہونے نہیں دینگے اور اس پر بھرپور احتجاج کرینگے۔ اُنہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیاں بھی اس کالے قانون کورد کردینگی۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے اور اے این پی اس کو کسی بھی صورت تسلیم نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ جب تک باچا خان بابا اور ولی خان بابا کا ایک بھی سپاہی زندہ ہو اس کالے قانون کو پاس ہونے نہیں دیا جائیگا۔ یہ کونسا نیا قانون ہے جس کے تحت 90 دن تک بغیر کسی وارنٹ کے کسی کو قید میں رکھنا صریحاً ظلم ہوگا جو کہ ناقابل برداشت اور انسانی حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پہلے ہی سے پولیس ، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے پاس بے حد اختیارات موجود ہیں اور اگر یہ قانون بھی لاگو کیا گیا تو ملک میں عوام کا جینا مشکل ہو جائیگا۔ اور سیکیورٹی ادارے بے وجہ اور بغیر کسی جرم کے لوگوں کو حراست میں لیکر اُن کو جیلوں میں بند کرنا شروع کر دینگے اور لوگ مفت میں بغیر کسی وارنٹ کے 90 دن تک حراست میں سڑتے رہیں گے اور عذاب کی زندگی گزارتے رہیں گے۔ایسے افرادجنہوں نے اس کالے قانون کی حمایت کی ہے انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ عوام کی زندگیوں کو مزید دوبھر اور مشکل بنانے سے گریز کیا جائے ۔ عوامی نیشنل پارٹی سینٹ کے فلور پر اس کالے قانون کی بھرپور انداز میں مخالفت کرے گی اور اس کالے قانون کو کسی بھی صورت صورت پاس ہونے نہیں دے گی اور اگر کسی نے اسے پاس کرانے کی کوشش کی تو اُس کا راستہ روکا جائیگا۔

10.4.2014 بروز جمعرات

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع ہریپور کی ضلعی جنرل کونسل کا ایک اجلاس ضلعی الیکشن کے سلسلے میں زیر صدارت جمیلہ گیلانی صوبائی سیکرٹری الیکشن کمیشن پختونخوا منعقد ہوا۔ اس موقع پر صوبائی الیکشن کمیشن کے ممبران سید عاقل شاہ ، نمروز خان اور ملک غلام مصطفی کے علاوہ کثیر تعداد میں پارٹی مردو خواتین بھی موجود تھے۔

الیکشن انتہائی خوشگوار ماحول میں افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا اور اتفاق رائے سے ضلع ہریپور کیلئے صدر شوکت رحمان مشوانی ، سینئر نائب صدر حاجی جاوید خان جدون ، نائب صدر اول حاجی عبدالسلام ، نائب صدر دوم (زنانہ) سید زربینہ بی بی ، جنرل سیکرٹری طارق خان ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری راجہ نعمان علی ، جائنٹ سیکرٹری اول خورشید امازئی ، جائنٹ سیکرٹری دوم (زنانہ) فرازیہ بی بی ، سیکرٹری اطلاعات محمد افتخار عباسی ، سیکرٹری اطلاعات محمد افتخار عباسی ، سیکرٹری مالیات خضرحیات اور سیکرٹری ثقافت اختر حسین امازئی منتخب ہوئے۔
ضلعی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی الیکشن کمیشن کے کی سیکرٹری جمیلہ گیلانی ، ممبران سید عاقل شاہ ، نمروز خان اور ملک غلام مصطفی نے ضلعی نو منتخب کابینہ کو مبارک باد دی اور ان کو ہدایت کی کہ وہ ہریپور میں نچلی سطح سے لیکر ضلعی سطح تک تمام پارٹی تنظیموں کو مزید فعال اور مضبوط کرنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لا کر اہم اور کلیدی کردار ادا کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے اور اس کی روایت رہی ہے کہ وہ ہر چار سال بعد پارٹی رکنیت سازی کے بعد الیکشن کے ذریعے ہر سطح پر پارٹی کی ایماندار اور دیانتدار قیادت سامنے لا رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہریپور کا ضلعی الیکشن شیڈول کے مطابق پہلا الیکشن ہے اوریہ ہریپور کیلئے اعزاز کی بات ہے کہ سب سے پہلے اس ضلع کا الیکشن منعقد ہوا اور اس کی نئی کابینہ معرض وجود میں آئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم ہزارہ ڈویژن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اے این پی نے ہر دور میں اس کے حقوق اور اہمیت کا خیال رکھا ہے جس کا زندہ ثبوت ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پختونخوا کے دو وزیر اعلیٰ پیر صابر شاہ اور مہتاب عباسی صاحب ہیں۔ جن کو عوامی نیشنل پارٹی نے سپورٹ کیا اور ہزارہ کے مفاد کیلئے اُن کے ساتھ اے این پی نے ہر قسم کا تعاون کیا جو کہ اے این پی کا مرہون منت ہے۔
اُنہوں نے کہاکہ اے این پی نے پہلے بھی ہزارہ کے حقوق کیلئے اہم رول ادا کیا ہے اور اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ بھی ادا کرتے رہے گی۔ ہزارہ پختونخوا کے وجود کا حصہ ہے اور ہم کسی بھی صورت اپنے اس وجود کو پختونخوا سے الگ ہونے نہیں دینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اس دفعہ ہریپور میں خواتین نے اے این پی کی ریکارڈ ممبر شپ لی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اے این پی ہزارہ میں ایک نئے جوش و جذبے سے بھرپور انداز میں اُبھرے گی۔

10.4.2014 بروز جمعرات
فرید طوفان اپنی زبان کو لگام دے اور اے این پی کے رہنماؤں کی کردار کشی سے گریز کرے۔(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی خیبر ایجنسی کے آرگنائزر جوہر آفریدی نے گزشتہ روز اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان کے خلاف ریمارکس پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرید طوفان اپنی زبان کو لگام دیں اور وہ پختون اعلیٰ اور قدآور قیادت کے خلاف نازیبا اور غیر مہذب لب و لہجہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے ورکر اسفندیار ولی خان اور باچا خان بابا کی فیملی کے بارے میں ایسے غیر اخلاقی لہجے میں بات کرنا ، بے جا الزامات لگا کر بے پرکی اُڑانا کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر آئندہ ایسی کوئی غلطی دہرائی گئی اور ہمارے قائدین کے خلاف ہتھک آمیز الفاظ استعمال کی گئی تو اس کے نتائج بھیانک ہونگے۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کا سیاسی وارث اسفند یار ولی خان ہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اخلاقیات کا دائرہ کراس کرانے کی بناء پر فرید طوفان نے کسی بھی پارٹی میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے۔ پہلے عوامی نیشنل پارٹی سے وہ اپنی کرتوتوں ، سازشوں اور نادیدہ حرکات کی بنیاد پر پارٹی سے نکالا گیا اور پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ میں اس پر تاحیات پابندی لگائی گئی اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں بھی وہ اپنی جگہ نہیں بنا سکے۔
اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف ہر دور میں سازشیں کی گئیں ہیں لیکن سازشی عناصر کو منہ کی کھانی پڑی ہے اور اے این پی اپنی منزل مقصود تک رسائی میں کامیابی حاصل کی ہے اور آج ایک بار پھر عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف سازشی منصوبے تیار کرنے اور باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی سوچ ، فکر اور فلسفے کو نقصان پہنچانے کیلئے اے این پی ولی گروپ کی شکل میں سازشی قوتیں پھوٹ پڑی ہیں لیکن اے این پی ہر قسم حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے اور وہ ایسے حالات کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ فرید طوفان ایک ناپسندیدہ شخص ہے اس کے کردار اور گفتار سے تمام پختون قوم بخوبی آشنا ہے اور وہ ایسے سازشی عناصر کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔
کراچی۔بدھ 09 اپریل 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ رہنماء اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے گلستان جوہر میں پے درپے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک انتہائی گھناؤنے منصوبے کے تحت شہر کو فرقہ ورانہ فسادات کی آگ بھڑکانے کی انتہائی بھیانک سازش کی جارہی ہے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فرقے کی بنیاد پر شہری ایک دوسرے کی جان لے رہے ہیں شہر میں فرقہ ورانہ تقسیم کی کوششیں کی جارہی ہیں باقاعدہ منصوبہ کے تحت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے دونوں واقعات ایک دوسرے کا رد عمل کا تاثر دینے کی کوشش ہے کراچی پولیس چیف متعدد بار فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے ذمہ داران تک پہنچنے اور انہیں جلد بے نقاب کرنے کے بیانات دے چکے ہیں مگر جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ارباب اختیار اور ریاستی ادارے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائی کریں اورعوام اپنے اتحاد و اتفاق سے اس گھناؤنی سازش کو ناکام بنائیں
9.4.2014 بروز بدھ
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے راوالپنڈی سبزی منڈی میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور دھماکے میں ہونے والی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ جاں بحق افراد کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی اور زخمیوں کیلئے جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی۔
اُنہوں نے کہا کہ طالبان نے برملا کہا ہے پنڈی دھماکے میں ہم ملوث نہیں ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کمزور ہو گئے ہیں تو وہ دیگر کونسے گروپ ہیں جو دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ حکومت ان گروپوں کی کھوج لگائے اور ملک میں امن کی بحالی کو یقنی بنانے کی خاطر ان گروپوں سے مذاکرات کیلئے ایک ٹیم بنائے تاکہ ان گروپوں سے مذاکرات کر کے امن کی راہ میں روڑے اٹکانے والی قوتوں کا راستہ روکا جا سکے۔
9.4.2014 بروز بدھعوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ اور جنرل سیکرٹری جمیلہ گیلانی نے ایک مشترکہ بیان میں اسلام آباد میں سبزی منڈی میں دھماکے کے ذریعے تخریب کاری کی شدید مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے اس افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والوں اور زخمیوں کیساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور شہید ہونے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور دُعائے مغفرت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی کھلی نا اہلی اور بے توجہی سے ملک بے تحاشہ افراتفری کا شکار ہے اور عوام کی جان اور مال کو تشدد پسندوں اور دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے امن کیلئے طالبان کیساتھ مذاکرات کا جوسلسلہ شروع کیا ہے اُس میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی اور ایسے لگتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں ملک میں امن کا قیام صرف ایک جزوی حیثیت رکھتا ہے جو صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے اب تک طالبان کے سامنے اپنا ایجنڈہ تک پیش نہیں کیا اور کسی مرحلے پر اتنی زحمت بھی گوارہ نہیں کی کہ پاکستان کی بیس کروڑ عوام کو یہ تک بتائے کہ اُن کی طالبان کیساتھ اب تک آخر کیا بات ہوئی۔ صاف ظاہر ہے کہ مرکزی حکومت ایک مملکت کے نمائندے کی حیثیت سے طالبان کے سامنے ایک کمتر کردارنبھا رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کے ممبران کو بند کمرے کے ایک اجلاس میں بھی اصل صورتحال سے آگاہ کرنا گوارہ نہیں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی بے اعتنائی کا یہ عالم رہا تو ملک کے حالات آئندہ دنوں میں بدترین افراتفری ، آگ اور خون کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔
9.4.2014 بروز بدھ
عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک غلام مصطفی نے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے دفتر میں مختلف وارڈوں سے آئے ہوئے ورکروں سے بات چیت کے دوران کہا کہ اسفندیار ولی خان بلا شرکت غیر باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے حقیقی وارث ہیں۔ خان عبدالولی خان نے اپنی زندگی میں اسفندیارولی خان کو اپنا جان نشین مقرر کر دیا تھا۔ لہٰذا اس پر کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ جن لوگوں نے باچا خان کے پوتے اور ولی خان کے بیٹے کے خلاف اپنی نئی سیاسی جماعت تشکیل دی ہے اُنہیں پاکستان کے دیگر مسائل کیطرف توجہ دینی چاہیے۔ اپنی پارٹی کا منشور اور پروگرام عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ اسفند یار ولی خان کی ذات پر حملوں سے وہ سیاسی میدان میں اپنا قد کاٹھ بنانے کی ناکام کوشش سے باز آجائیں تو یہی اُن کے حق میں بہتر ہو گا۔ اے این پی ایک جمہوری پارٹی ہے اور جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور سیاست میں اخلاقات کے دائرے کے اندر رہ کر کسی کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ دوسرے لوگوں سے بھی یہ اُمید رکھتی ہے کہ وہ سیاسی انداز میں بات کریں سیاست میں بڑے لیڈروں کو عزت و احترام دیا جاتا ہے۔ اسفندیار ولی خان پختون قوم کے قابل احترام لیڈر ہیں اور اے این پی کے ورکر اپنے لیڈر کے خلاف ایسے بیانات برداشت نہیں کر سکتے۔
9.4.2014 بروز بدھ
نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی ترجمان حسن بونیری نے کہا کہ وفاقی وزیر عابد شیر علی کے بجلی چوری سے متعلق بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ عابد شیر علی کا دماغی توازن ٹھیک نہیں اور وہ اپنی زبان کو لگام دے اُنہوں نے عابد شیر علی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ بصورت دیگر عابد شیر علی کا یہ کہنا ہے کہ صوبے میں حالات خراب ہونے دو ہم فیڈر بند کر دینگے۔ صوبہ پہلے ہی سے دہشتگردی کا شکار ہے اور ہم روزانہ کی بنیاد پراپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں عابد شیر علی کا بیان پختونوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
حسن بونیری نے واضح کیا کہ عابد شیر علی خیبر پختونخوا میں فیڈر بند کرنے کے خواب نہ دیکھے اگر ایسا ہوا تو ہم نوجوان پورے پنجاب کی بجلی بند کر دینگے۔ کیونکہ لاہور میں جلنے والی ایک دن کی بجلی پورے پختونخوا میں جلنے والی بجلی کے مترادف ہے۔ لاہور اور فیصل آباد کے کارخانے پختونوں کے خون سے چلتے ہیں اور سب سے بڑے بجلی چور فیصل آباد اور لاہور میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ چونکہ بجلی کی پیداوار سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں ہے اس لیے صوبائی خودمختاری کے تحت بجلی پر سب سے پہلا حق پختونخوا ہی کا ہے پیداواری چیز پر پہلا حق صوبے کا ہوتا ہے نہ کہ اوروں کا۔ اُنہوں نے خبردارکیا کہ عابد شیر علی کے شرانگیز بیانات سے اگر صوبے کے حالات مزید خراب ہوئے تواس کی تمام تر ذمہ داری عابد شیر علی اوروفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہو گی۔
9.4.2014 بروز بدھنیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی ترجمان حسن بونیری کے مطابق یوتھ کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس باچا خان مرکز میں منعقد ہوا جس میں فیصلہ ہوا کہ 13 مئی سے جنوبی اضلاع کیلئے انتخابات کے شیڈول جاری کیا گیا ہے۔ اور جنوبی اضلاع کے آرگنائزنگ کمیٹیوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے اپنے اپنے اضلاع میں تقسیم کیے گئے رکنیت سازی فارم اور فیس ممبران سے اکٹھا کریں اور الیکشن کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم کی حیثیت سے جمہوری انداز میں الیکشن کے عمل کو ممکن بنائے تاکہ نیشنل یوتھ کے پلیٹ فارم سے قومی جذبہ سے سرشار نوجوان آگے آکر قوم کی صحیح معنوں میں خدمت کریں۔
9.4.2014 بروز بدھ
پختون ایس ایف پشاور یونیورسٹی کے انتخابات کی تاریخ میں توسیع کر دی گئی۔ پختون ایس ایف یونیورسٹی کیمپس پشاور کے چیئرمین مقرب خان بونیری اور پشاور یونیورسٹی کے آرگنائزر ملک انور نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایس ایف پشاور یونیورسٹی کے انتخابات 10 اپریل کو ہونے تھے جبکہ تنظیم کے ساتھیوں کی مشاورت سے تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔
پختون ایس ایف ایک جمہوری تنظیم ہے اور اس کے انتخابات جمہوری طریقے سے ہونگے۔ اور انشاء اللہ بہت جلد تنظیم کے ساتھیوں کی مشاورت سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائیگا۔
مورخہ: 9.4.2014 بروز بدھ
ضلع مردان میں پی ایس ایف کے ضلعی انتخابات آج بتاریخ 9.4.2014 کو مردان میں منعقد ہوا۔ انتخابات خفیہ رائے شماری کی بنیاد پر منعقد ہوئے۔ جس میں کل 17 کالجز کی مجلس عاملہ نے حصہ لیا۔ 36 میں سے 32 ووٹ پول ہوئے نتیجتاً صدارت کے اُمیدوار سعید شنکر نے 25 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مد مقابل اُمیدوار نواز شریف نے 6 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہا۔ جنرل سیکرٹری کے اُمیدوار جاسم عمر 23 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ سجاد ہوتی نے 8 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہا۔ بعدازاں صدارت کے ناکام اُمیدوار نوازشریف نے سینئر نائب صدر کا عہدہ جبکہ جنرل سیکرٹری کے ناکام اُمیدوار سجاد ہوتی نے ڈپٹی جنرل سیکرٹری کا عہدہ قبول کر کے تنطیم کو اتفاق اور ڈسپلن کے تحت آگے لے جانے کا عہد کیا۔ انتخابات کی نگرانی ضلعی چیئرمین ساجد خان اور صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر ، کمیٹی ممبر اشفاق شنکر اور کمیٹی کے دیگر آراکین نے کیا۔ اس موقع پر امتیاز وزیر نے تمام کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم ایمل ولی خان کی رہنمائی میں آئینی ، جمہوری اور تنظیمی دور میں داخل ہوا ہے۔ تمام کارکنان دیگر عام طلبہ پر جرگے کر کے باچا خان ، رہبر تحریک خان عبدالولی خان اور اسفند یار ولی خان کے افکار اور فلسفے کو پہنچا کر اُن کو پختونوں کے قافلہ میں شامل کریں۔ تاکہ قومی کردار اے این پی کے جھنڈے تلے ادا کیا جا سکے۔
مورخہ:8-4-2014بروز منگل
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے پارٹی کے قائد اسفندیارولی خان کے خلاف فرید طوفان کے ریمارکس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرید طوفان جیسے شخص جس پارٹی میں بھی گئے ہیں وہاں ایک داستان رقم کر کے گھٹن کا ماحول پیدا کیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ فرید طوفان نے کافی عرصہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں کام کیا مگر یہ فرید طوفان کی خصوصیت ہے کہ قدآور شخصیات کے خلاف منفی رویہ اور نازیبا زبان استعمال کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ واحد شخصیت ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ان کو نا پسندیدہ قرار دیکر سنٹرل کمیٹی نے تادم مرگ پارٹی سے نکالنے کی سفارش کی مگر چند بڑوں کی تجویز پر دس سال تک یہ سزا برقرار رکھی اور اس خوبی کی وجہ سے ان کیلئے اے این پی ولی گروپ بنایا گیا تاکہ باچا خان کی سیاست کے حقیقی وارث اے این پی اور ان کے قائد اسفندیار ولی خان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہے اور اپنی اناؤں کی تسکین کرتے رہے۔ ہم ان کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے اور آج تک جواب دیا بھی نہیں مگر تنگ آمد بہ جنگ آمد۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر اے این پی ولی گروپ کا کوئی ایجنڈہ ہے تو وہی سیاست کرے یا قوم کو بتائے کہ ان کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے بلکہ پختون مسلمہ قیادت اسفند یار ولی خان اور اے این پی کے خلاف غلط بیانی ، گالی گلوچ اور منفی پروپیگنڈہ ایک نکاتی ایجنڈہ ہے اُنہوں نے کہا کہ جب سے اے این پی ولی گروپ بنا ہے تو یہ لوگ اے این پی اور اسفندیار ولی خان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں اور عزت دار لوگوں کو بے عزت کررہے ہیں جو کہ نہایت قابل افسوس ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ فرید طوفان اپنے قد کاٹھ کے مطابق بیان دیا کریں تو یہ خود اُن کے حق میں ہوگا۔ یہ الزام لگانا کہ اسفندیار ولی خان کے ملک میں اور بیرونی ملک میں جائیداد اور مکانات ہیں اگر اس میں حقیقت ہے تو طوطی کی طرح مسلسل یہی ایک رٹ لگانے کی بجائے اس کا کوئی ثبوت پیش کرے۔ کسی ایک جگہ اُنگلی رکھ کر اُس کی تصدیق کرے یااگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہو تو سامنے لائے صرف بے پرکی اُڑانا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر وہ ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے تو یہی اُن کے جھوٹ کیلئے کافی ہے۔ لہٰذا اے این پی یہ حق محفوظ رکھتی ہے کہ فرید طوفان کے خلاف عدالت میں کیس دائر کرے۔
اُنہوں نے جائیداد کی وراثت اور سیاسی وراثت کے حوالے سے فرید طوفان کے بیان کے جواب میں کہا کہ جائیداد کی وراثت کی تقسیم تو ہو چکی ہے مگر باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کے نظریات ، سوچ اور تسلسل کا تسلیم شدہ سیاسی وارث صرف اور صرف اسفندیار ولی خان ہے اور اس کی قیادت میں ہی اے این پی متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے این پی ولی گروپ پارٹی اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ پختونوں کی واحد نمائندہ جماعت باچاخان باباؒ و رہبر تحریک خان عبدالولی خان باباؒ اور خدائی خدمتگاروں کی طویل جدوجہد ، کاوشوں اور ناقابل فراموش قربانیوں سے قائم ہونے والی جماعت اے این پی کو نقصان پہنچائے اور اسکے قائدین کی بے عزتی کرے۔
انہوں نے کہا کہ اے این پی ولی گروپ صرف فرید طوفان کیلئے بنائی گئی ہے۔ فرید طوفان کو اس لیے پارٹی میں شامل کیا گیا ہے کہ اسکو بے عزتی کے سارے گُر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف تواے این پی ولی گروپ والے پختونوں کے نام لینے سے نہیں تھکتے اور دوسری طرف وہ پختونوں کی نمائندہ جماعت اے این پی کے قائدین کی بے عزتی اور اُسکے خلاف غیر مہذب اور غیر اخلاقی لب ولہجہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے جو نہایت قابل افسوس ہے اور پختونوں کے اتحاد کے خلاف سازش ہے۔
مورخہ:8-4-2014بروز منگل
پشاور یونیورسٹی کے ہونہار طلباء کو باچا خان ٹیلنٹ ایوارڈز دیئے گئےراشد شہید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام باچا خان ٹیلنٹ ایوارڈز کی تقریب پختون ایس ایف کے تعاون سے پشاور یونیورسٹی کے پیوٹا ہال میں منعقد ہوئی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی اے این پی کے رہنما ، سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور راشد شہید فاؤنڈیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین تھے۔تقریب میں فاؤنڈیشن کے عہدیداروں کے علاوہ اے این پی کی صوبائی آرگنائزنگ جنرل سیکرٹری جمیلہ گیلانی ، صوبائی ترجمان صدر الدین مروت ایڈووکیٹ ، ڈاکٹر خورشید عالم ، سابق ایم پی اے یاسمین ضیاء ، پیوٹا کے عہدیداروں ، پختون ایس ایف کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی چیئرمین سنگین خان ایڈووکیٹ نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں مہمان خصوصی نے پشاور یونیورسٹی کے کامیاب 150طلبہ اور طالبات میں باچا خان ٹیلنٹ ایوارڈز اور تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ۔ پی ایس ایف ایک نظریاتی تنظیم ہے اور انشاء اللہ اگر یہی جوش اور جذبہ رہا تو ایسے نوجوانوں کو مستقبل میں بھی ایسی کامیابی اور کامرانی نصیب ہو گی اور اسی جذبے کے تحت ہم آئندہ بھی طلباء کیلئے ایسی صحتمندانہ سرگرمیوں کو سپورٹ کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ایس ایف باچا خان بابااور خان عبدالولی خان کے افکار اور نظریات کو ملک کے کونے کونے تک پہنچا ئیں گے تاکہ پورے ملک کے نوجوان اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست کو ہر گز قائم نہیں ہونے دینگے اور حکومت کا یہ کہنا کہ شورش زدہ علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کر دینگے تو ہم اس کی ہر گز اجازت نہیں دینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ شورش زدہ تو پورا پاکستان ہے تو کیا پورا پاکستان دہشگردوں کے حوالے کر دینگے ۔ دہشتگردی میں سب سے زیادہ پختونخوا متاثر ہوا اور سب سے زیادہ نقصان عوامی نیشنل پارٹی نے اُٹھایا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سب سے پہلے پرائمری لیول سے ، پھر کالج کی سطح پر ، پھر وومن یونیورسٹی اور اب جماعت اسلامی خواتین کیلئے الگ اسمبلی کا مطالبہ سامنے آیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والے کل میں خواتین کیلئے الگ پاکستان کا مطالبہ بھی سامنے آجائے۔
اے این پی کسی امتیاز کے بغیر مرد اور عورت کو برابری کی بنیاد پر یکساں سمجھتے ہیں۔ بیناد پرست پختونوں کو ماضی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد پر کاربند ہے اور ہمارے نزدیک مسائل کبھی بندوق سے حل نہیں ہو سکتے لیکن یہ بھی بزدلی ہے کہ کوئی حکومت کی رٹ چیلنج کر کے بے گناہ لوگوں کو شہید کرے اور حکومت دہشت گردوں کے ایکشن پر ری ایکشن بھی نہ دکھائے ۔ ہمارے سات سو کارکنان شہید کئے گئے میرا اکلوتہ بیٹا بھی شہید کیا گیا لیکن تیسرے دن پریس کانفرنس کر کے میں نے کہا کہ اگر یہ لوگ ہتھیار پھینک دیں اور حکومت کی رٹ تسلیم کر لیں تو میں اپنے بیٹے کا خون معاف کرتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ امن کی خاطر میں اپنی جان کی قربانی بھی دینے کیلئے تیار ہوں لیکن دہشتگردوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاؤں گا۔ ہماری شروع سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ پورے ملک میں اور خصوصاً پختون خوا میں امن قائم ہو جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ آنے والا دور پختون خوا کیلئے ایک قہر سے کم نہیں کیونکہ پختونوں کے خلاف اس سے پہلے بھی ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر سازشیں ہوئی ہیں اور جب تک پختون قوم ایک جھنڈے تلے متحدنہیں ہونگے اُس وقت تک پختونوں کے خلاف سازشیں جاری رہیں گی۔
عوامی نیشنل پارٹی کی تنظیم سازی کے تیسرے مرحلے کے میں عوامی نیشنل پارٹی ضلع ملیرکی تنظیم تشکیل دیدی گئی۔اعلامیہ
کراچی۔پیر 07اپریل 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کی تنظیم سازی کے تیسرے مرحلے کے میں عوامی نیشنل پارٹی ضلع ملیرکی تنظیم تشکیل دیدی گئی ضلعی کونسل نے متفقہ طور پر سعید خان افغان کو صدر عارف خان آفریدی کو سینئر نائب صدرفرمان علی خان کو جنرل سیکریٹری ،احسان خان کو ڈپٹی جنرل سیکریٹری اور یاسر خان کنڈی کو سیکریٹری اطلاعات منتخب کیاتنظیم کی تشکیل کے موقع پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ اور اراکین سید حنیف شاہ،وکیل خان سواتی بھی موجود تھے اس موقع پر الطاف خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ انتہائی جمہوری انداز اور مفاہمت کے ساتھ تنظیم تشکیل دینے پر ضلع ملیر کی آرگنائزنگ کمیٹی اور متفقہ طور ضلعی کابینہ تشکیل دینے پر ضلعی کونسل کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں عوامی نیشنل پارٹی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جہاں وارڈ سے لیکر مرکز تک ہر عہدیدار کو کارکنان منتخب کرتے ہیں نو منتخب عہدیداران کو مبارک پیش کرتا ہوں اور اس امید کا اظہار کرتا ہوں کہ سعید خان افغان اور ان کی ٹیم کارکنان کی امیدوں پر پورا اترے گی ۔
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے سعید خان افغان کو ضلع ملیر کا صدر اور عارف خان آفریدی کو جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکنان کا اعتماد حاصل کرنے ان پر سعید خان افغان اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک پیش کرتے ہیں اور اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اسلاف کے افکار کو پھیلانے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے ۔
۔پیر 07اپریل 2014ء
پشاور، ایکسپریس کے جمشید باغوان اور امتیاز عالم سے اظہار یکجہتی
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین اور اے این پی کے صوبائی ترجمان صدر الدین مروت ایڈووکیٹ ایکسپریس ٹی وی کے بیورو چیف جمشید باغوان اور امتیاز عالم کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے پشاورپریس کلب گئے ۔ اس موقع پرمیاں افتخار حسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جمشید باغوان کے گھر پرہونے والے دستی بم حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ صحافی برادری پر حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا پانچواں ستون ہے۔ ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے صحافی برادری کو دبانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے لیکن صحافی برادری ایسی کارروائیوں سے مرغوب نہیں ہونگے اور وہ عوام کو حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرتے رہیں گے اور عوام کو حقائق کی رسائی کی راہ میں حائل رکاوٹیں برداشت نہیں کرینگے۔
اُنہوں نے کہاکہ صحافیوں پر حملہ آزاد صحافت پر حملہ ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ صحافی برادری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ دہشتگرد ویسے تو تمام معاشرے کے کسی بھی شعبہ کو نہیں بخشا مگر صحافی برادری میں ان لوگوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جو دہشتگردی کی ضد پر اور امن کے قیام کیلئے حقیقی تصویر پیش کر رہے ہیں یعنی میڈیا کو اپنی مرضی سے بہ زور شمشیر چلانا چاہتے ہیں۔ آج کل ویسے بھی حکومتی پالیسی کی روشنی میں میڈیا پر دہشتگرد چھائے ہوئے ہیں اور مزید گرفت مضبوط کرنے کیلئے صحافیوں کو دھماکوں اور دھمکیوں سے ڈرانا چاہتے ہیں۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے صحافی برادری کے حصوں میں مزید اتفاق اتحاد پیدا ہوگا اور اس مشکل گھڑی میں قوم بھی صحافی برادری کابھرپور ساتھ دے گی۔ میاں افتخار حسین نے اس بات پر زور دیا کہ اس کٹھن مرحلے میں اے این پی بھی صحافی برادری کیساتھ ہر قسم کا تعاون کریگی
7.4.2014 بروز پیرعوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے افغانستان میں صدارتی انتخابات کے انعقاد پرافغانستان کی عوام اورمرد و خواتین کی صدارتی انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کو سراہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کیطرف سے دھمکیوں کے باوجود افغانستان کی عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے اتنی بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشینز کا رخ کیا جس پر اُنہوں نے افغان عوام اور حامد کرزئی کو مبارکباد پیش کی ہے اور کہا کہ افغان عوام نے بنیاد پرستی کے خلاف جمہوریت کے حق میں فیصلہ دیکر یہ ثابت کر دیا کہ افغان عوام ملک میں امن چاہتے ہیں اور امن کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو کیونکہ افغانستان کا امن پاکستان سے جُڑا ہوا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کی عوام نے امن کی خاطر بہت قربانیاں دی ہیں۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ اُن قربانیوں کو رائیگاں نہیں دیا جائے اور افغانستان کو دُنیا بھر میں ایک بار پھرپر امن ملک بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔مورخہ:6-4-2014بروز اتوار
بونیر: پختونوں کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنادیں گے۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے موضع ناواگئی میں پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے رہنما احتشام الحق کے خاندا ن اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ پختونوں کا قتل عام بند ہونا چاہئے اور موجودہ خاموشی پختونوں کے خلاف ایک بڑی تباہی کی منصوبہ بندی ہے۔ لہٰذا اے این پی ہر قسم کے سازش کو ناکام بنانے کیلئے کمربستہ ہے ۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ پختون اے این پی کے جھنڈے تلے جمع ہوں اور اپنے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں ۔ اس موقع پر حاجی رؤف خان ، محمد کریم بابک ، احتشام الحق اور امیر سلطان نے بھی خطاب کیا۔مورخہ:6-4-2014بروز اتوار
پشاور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اور سابق وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ پبی میں تین سالہ بچی کے ساتھ بد فعلی کے بعد انکو تشدد کے بعد قتل کردیا یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اگر حکومت نے ان میں ملوث ملزمان کو جلد ازجلد گرفتار نہ کئے گئے تو اس کے خلاف بھر پور احتجاج کرینگے ۔گزشتہ روز متاثرہ خاندان کے گھر گئے اور بچی کے والدین سے ملاقات کی اور معلومات حاصل کی ۔ انہوں نے تعزیت کے بعد میڈیاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹی سی بچی جو اپنا نام تک نہیں جانتی تھی اور ان کو اپنے ہواس کا نشانہ بنانا اور پھر ایسے بے دردی سے قتل کرنا انسانیت سوزواقعہ ہے ، یہ واقعہ پبی میں پہلا واقعہ ہے کہ درندوں نے تین سالہ بچی کو پہلے اغواء کیا تھا اور بعد میں ان سے اجتماعی زیادتی کی ، اور زیادتی کے بعد ان کو بدترین تشدد کے بعد ان کو قتل کردیا ، متاثرہ خاندان کا تعلق چونکہ وزیر اعلی کے حلقے سے ہے مگر اب تک وزیر اعلی اس خاندان کے ساتھ تعزیت تک نہیں کی ،کم از کم وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وہ یہاں آکر متاثرہ خاندان کے ساتھ تعزیت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور ان کو سخت سے سخت سزا دیا جائے ۔تاریخ : 5 اپریل 2014 
سوات: عوامی نیشنل پارٹی ارگنائزنگ کمیٹی سوات کے چےئرمین سابق صوبائی وزیر ایوب خان اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی شیر شاہ خان نے کہا ہے کہ پختونوں کا مقدمہ جرات کیساتھ بہتر انداز میں لڑنے کا اعزاز اے این پی کو حاصل ہے ، سوات میں قیام امن کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کوخون کا دریا عبور کرنا پڑا ، اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دور میں حکومت نہیں بلکہ جہاد کیا ہے قیام امن کے لئے عوامی نیشنل پارٹی نے جان ومال کی قربانیاں دی ہیں ، اس دھرتی کی وارث ہونے کے ناطے اے این پی کو نشانہ بنایاگیا ، پختونوں کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے پختون قوم کو سرخ جھنڈے تلے متحدہوناپڑے گا، تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پختونوں کی اتفاق واتحاد ناگزیر ہے ، سوات میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے اے این پی کا طرۂ امتیاز ہے ، ڈاکٹر حیدر علی خان گزشتہ پانچ سالوں میں صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں میں حاضری صرف آٹھ دن ہے جو ریکارڈ پر موجود ہے ، حکمرانوں کے امیدواروں کو شکست دیکر حلقہ پی کے چھیاسی کو ترقی پر گامزن کیاجاسکتا ہے ، ان خیالات کااظہار انہوں نے منگلور میں اے این پی یوسی منگلور کی تنظیم نو کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اے این پی سوات کے جی ایس ابراہیم دیولئی ، پریس سیکرٹری اکرام خان ، ممتاز قانون دان سردار احمدخان یوسفزئی نواب ننگیالے ، محمد امجد خان اور دیگر نے خطاب کیا، مقررین نے کہاکہ وقت کا تقاضہ ہے کہ پختون دشمن قوتوں کو شکست دینے کیلئے پختون قوم کو اے این پی کے دست وبازو بن کر پختونوں کے خلاف سازشوں کوناکام بنادیں انہوں نے کہاکہ مسجد وحجرہ کی تقدس کو پامال کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں ، انہوں نے کہاکہ اے این پی سوات میں ترقی وخوشحالی کے حوالے سے ریکارڈ کام کرکے سوات کے عوام کے دل جیت لئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے پانچ سالوں میں جو ریکارڈ کام کئے ہیں پینسٹھ سالوں میں اس کی مثال نہیں ملتی ، انہوں نے کہاکہ آئندہ بلدیاتی الیکشن میں سہ فریقی اتحاد کی کامیابی کیلئے کارکن بھرپور تیاریاں کریں، انہوں نے کہاکہ حلقہ پی کے چھیاسی میں جیت دو فریقی اتحاد کے امیدوار علی شاہ خان اور شکست حکمراوں کا مقدر بن چکا ہے ، انہوں نے کہاکہ امیر مقام اور ان کے ساتھی اب عوام کو دھوکہ دینے کیلئے بھیس بدل کر نکلے ہیں ، انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر حیدر علی پہلے بھی عوام سے آؤٹ رہے اس وجہ سے انہوں نے لندن خان کا نام حاصل کیا ہے ، اب عوامی نیشنل پارٹی کے اتحادی امیدوار علی شاہ خان کی کامیابی یقینی ہے ، جو علاقے کے بہتر مفاد میں ہے ۔
کراچی۔بدھ 02 اپریل 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان ،عبوری مرکزی صدر سینیٹر حاجی عدیل ،سینیٹر شاہی سید اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ نے اے این پی لانڈھی کے رہنماء مسلم آباد وارڈ کے سابقہ صدر اور پارٹی کے سینئر رکن نیاز محمد المعروف استاد کے انتقال پر دکھ اور رنج کاااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیاز محمد کی پارٹی کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہے وہ باچا خان بابا کے سچے پیروکار تھے نیاز محمد المعروف استاد کی رحلت ہمارے لیے کسی المیہ سے کم نہیں ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ مشترکہ تعزیتی بیان میں پارٹی قائدین نے مذید کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری پارٹی نیاز محمد المعروف استاد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتی ہے ہم سمیت پوری پارٹی پسماندگان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور مرحوم کی مغفرت اور کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے
دریں اثناء باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اے ین پی کی تنظیم سازی کے سلسلے میں یونین کونسل کی سطح پر وارڈوں کی تشکیل کا سلسلہ جاری ہے ضلع شرقی کے محمد خان گوٹھ کے وارڈ الیکشن کے بعد عمر باچہ صدر اور محمد اللہ جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے ،سہراب گوٹھ وارڈ کے لیے اسماعیل آکاخیل صدر اور سخی جان جنرل سیکریٹری اور علی بابا سینئر نائب صدر منتخب ہوئے ضلع کورنگی کے الفلا ح وارڈ کے لیے فاروق خان صدر اور رحمٰن زادہ جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے اے این پی سندھ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ اور ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین کریم اللہ یوسف زئی اور رکن سائیں علاؤلدین آغا نے نو منتخب ارکان کو مبارک پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں وہ کارکنان کی تواقعات پر پورا اتریں گے ۔

2.4.2014 بروز بدھ

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابقہ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے صوابی میں موجودہ حکومت کی طرف سے یونیورسٹی آف صوابی کے فنڈز روکنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے کے فنڈز روک کر موجودہ حکومت نے ظلم اور ناانصافی کی انتہا کر دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ قوم کے مستقبل کے معماروں کے مقدر سے کھیلنا اور اس کو حصول تعلیم کے حق سے محروم رکھنا ایک سنگین جرم ہے ۔یہ کیسی تحریک اور کیسا انصاف ہے؟ کیسا تعلیمی نظام اور کیسی تبدیلی ہے ؟
اے این پی کے رہنما نے باچا خان مرکز پشاور سے اپنے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے جانبدارانہ اور غلط فیصلوں کا ریکارڈ قائم کیا ہے جبکہ حکومت سے قبل تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دینا اور جدید تقاضوں کے مطابق لوگوں کو روشناس کرانے کے وعدے آج بھی عوام کے کانوں میں گونج رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف صوابی گزشتہ صوبائی حکومت نے اس بنیاد پر بنائی تھی کہ پانچ سال کیلئے اس کی مالی مدد اور سپورٹ ٹوبیکو سیس کی مددسے کیجائے گی۔ جس کیلئے ہماری صوبائی حکومت نے رولز اینڈ ریگولیشن کے مطابق قانونی طریقہ کار اپناتے ہوئے پہلے صوبائی کابینہ سے منظوری لی اور اس کے بعد صوبائی اسمبلی سے منظوری لی گئی۔ صوبائی اسمبلی کے تمام ممبران بشمول صوابی کے منتخب ممبران نے تعلیم کی ضرروت اور اہمیت کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے اس اقدام کو سراہا اور اسمبلی سے منظوری میں مثبت کردار ادا کرنے میں مدد فراہم کی۔ جس کے بعد حکومت نے باضابطہ طور پر اس کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹی چلانے کیلئے ہماری حکومت نے ابتدائی مالی سپورٹ دینے کیلئے پینتالیس کروڑ روپے اس کیلئے مختص کیے اور اس طریقے سے یونیورسٹی آف صوابی معرض وجود میں آئی جس میں اب ہزاروں کی تعداد میں طلباء طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے تعلیم کے نظام کو درست کرنے اور تعلیمی اداروں کو سپورٹ دینے کی بجائے یونیورسٹی کے لیے گزشتہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ فنڈز کو بھی روک دیا اور اس فنڈ کو ممبران اسمبلی کے ذریعے ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کیا گیا جبکہ تحریک انصاف کا انتخابی وعدہ یہ تھا کہ ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ نہیں دیا جائیگا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہاں اب اُلٹی گنگا بہنے لگی ہے۔ یعنی حل شدہ اور فیصلہ شدہ مسئلے کو دوبارہ چھیڑنا اور فنڈ کو منجمد کرنا کونسا تعلیمی انقلاب ہے اور کیا اسی کا نام تبدیلی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ فنڈ صرف پانچ سال کیلئے ٹوبیکو سیس سے یونیورسٹی کو دیا جائیگا۔ اور اس کے بعد یونیورسٹی خودکار نظام کے تحت چلائی جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس میں کیا قباحت ہے کہ صوابی ہی میں یونیورسٹی ہے اور اس کے ٹوبیکو سیس سے ہی یونیورسٹی کو چلایا جا رہا ہے۔ لہٰذا اب بھی منتخب ممبران خود یہ فیصلہ کریں کہ وہ صوابی میں اعلیٰ تعلیم کو جاری رکھنے کے حق میں ہیں یا اس کا ستیاناس کرنا ہے ؟ میرے خیال میں وہ اعلیٰ تعلیم کو ہی ترجیح دینگے۔
اے این پی کے رہنما نے کہا کہ اس اہم مسئلے کا نوٹس ہر سطح پر لیا جانا چاہیے۔ اور تعلیم کے حصول کے راستے میں روڑے اٹکانے والوں کو روکنا چاہیے۔ جبکہ صوابی کے عوام کا بھی فرض اول بنتا ہے کہ اس میں اپنا مثبت اور کلیدی کردار ادا کرنے کیلئے منظم ہو جائے اور صوبے کے عوام بھی اعلیٰ تعلیم کو عام کرنے کیلئے ان کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ اعلیٰ تعلیم صوابی کی عوام اپنے گھر کی دہلیز پر ہی حاصل کریں۔

مورخہ:2-4-2014 بروز منگل

پشاور: صوبائی حکومت صوبے میں سپیشل فورس کی تنخواہیں فوری طور پر ادا کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا کہ صوبے کے ہزاروں سپیشل فورسز نوجوانوں کی تنخواہیں پچھلی 4 ماہ سے بند ہیں جو کہ انتہائی ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل فورس کا صوبے کے امن وامان کی بہتری کیلئے اہم کردار رہا ہے ۔ لہٰذا حکومت کو ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہئے اور ان کی مستقلی کیلئے سنجیدہ قدم اُٹھانا چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ سپیشل فورس کے نوجوان اس وقت پولیس فورس میں شامل ہوگئے تھے جب صوبے میں دہشت گردی عروج پر تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل فورس کی مستقلی کیلئے اسمبلی فلور پر بھی آواز اُٹھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو صوبے کے تمام مسائل کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل فورس میں تعینات نوجوان اپنے گھرانوں اور خاندانوں کے کفیل ہیں ۔ لہٰذا حکومت فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے احکامات جاری کردیں اور ان ہزاروں نوجوانوں کے مسئلے کو حل کرنا چاہئے۔

منگل یکم اپریل2014ء
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان نے افغان نائب صدر مارشل قسیم فہیم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اپنے دورہ افغانستان کے دوران اسفندیار ولی خان افغان نائب صدر مارشل قسیم فہیم کے گھر گئے اور وہاں ان کے بیٹے ادیب فہیم سے ان کے والد کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ،انہوں نے مرحوم کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مارشل قسیم فہیم کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی۔

مورخہ یکم اپریل 2014 ء بروز منگل

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ پشاور کی آرگنائزنگ کمیٹی / الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس زیر صدارت چیئرمین خوشدل خان ایڈووکیٹ آج بروز منگل بمورخہ یکم اپریل بمقام ضلعی دفتر اے این پی پشاور میں منعقد ہوا‘ جس میں سیکرٹری کامران صدیق اور ممبران حاجی راجہ گل‘ عبدالمالک خان‘ رضاء اللہ خان ایڈووکیٹ‘ اعجاز احمد سیماب‘ زاہد حسین ناظم اور شبانہ سیف اللہ نے شرکت کی‘ اجلاس میں یونین کونسل تنظیم سازی کیلئے دو کمیٹیاں بنائی گئی جو کمیٹی نمبر 1:۔ چیئرمین خوشدل خان ایڈووکیٹ‘ رضاء اللہ خان ایڈووکیٹ‘ حاجی راجہ گل‘ زاہد حسین اور کمیٹی نمبر 2:۔ سیکرٹری کامران صدیق‘ ارباب انعام اللہ خان‘ عبدالمالک خان‘ اعجاز احمد سیماب پر مشتمل ہو گی‘ کمیٹی نمبر1:۔ چیئرمین خوشدل خان ایڈووکیٹ کی سربراہی میں پی کے 5‘ پی کے 6‘ پی کے 10‘ پی کے 11‘ اور کمیٹی نمبر 2:۔ سیکرٹری کامران صدیق کی سربراہی میں پی کے 7‘ پی کے 8 اور پی کے 9 کے دورے کر کے تنظیم سازی کے عمل کو جمہوری انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

مورخہ:1-4-2014 بروز منگل

پشاور: یکم اپریل سے سہ فریقی اتحاد کی قیادت تبدیل کردی گئی جس میں پیپلز پارٹی کے رحیم داد خان سہ فریقی اتحاد کے صدر ہوں گے ، سید عاقل شاہ سینئر نائب صدر ، حاجی غلام علی جنرل سیکرٹری اور ملک غلام مصطفیٰ انفارمیشن سیکرٹری ہوں گے۔
سہ فریقی اتحاد کے سیکرٹری انفارمیشن ملک غلام مصطفیٰ نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد بلدیاتی الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کریں گی۔ حکمران اتحاد بلدیاتی الیکشن سے اس لئے دور بھاگ رہا ہے کہ سہ فریقی اتحاد بلدیاتی الیکشن میں انہیں شکست فاش دے گا۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں اور تین ماہ میں بلدیاتی الیکشن کرانے والوں نے ایک سال گزرنے کے باوجود ابھی تک انتخابی شیڈول بھی نہیں دیا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں اور سیاسی نابالغوں کی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہے۔

مورخہ:1-4-2014 بروز منگل

پشاور: موجودہ حکومت کی طرف سے جیکا پروجیکٹ میں کٹوتی قابل مذمت ہے ۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ ہماری دور حکومت میں صوبے میں روڈوں کی پختگی کی سکیم کے تحت صوبے کے اکثر اضلاع میں کئی سو کلومیٹر روڈز کی پختگی اور کشادگی اور پلوں کی تعمیر کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ جس کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں ان روڈز اور پلوں پر 50 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکاہے ۔ لیکن موجودہ حکومت اس جاری کام میں کٹوتی کرکے نوشہرہ ، ہری پور اور پشاور میں نئے روڈز شامل کرنا چاہتی ہے ، جوکہ رواں کام پر بُرا اثر پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ رواں منصوبے پر 11ارب کا خرچہ آئے گا جو کہ جیکا پروجیکٹ کے تحت جاپان نے صوبے کو ہماری حکومت میں دئیے ہیں ۔ اب صوبائی حکومت ان 11ارب روپے میں سے ایک ارب اور 35 کروڑ روپیہ کٹوتی کرکے اس سارے سکیم کو متاثر کر دے گی اور ڈونرز کی رضامندی کے بغیر ایسا کرکے ان کے اعتماد کو بھی نقصان ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو اخلاقی طور پر بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ہماری حکومت کی سکیم میں کٹوتی کرکے ایک طرف رواں سکیم متاثر ہوگا اور دوسری طرف فنڈنگ ادارے کا اعتماد صوبے پر ختم ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگے آئیں اور صوبے میں پچھلی حکومت کی طرح روڈز کا ایک اور بڑا منصوبہ شروع کردے جس سے صوبہ مزید ترقی کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت کے اس اقدام کو اسمبلی فلور پر اُٹھایا جائے گا اور بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری دورحکومت میں صوبے کی ترقی کی راہ پرگامزن کر دیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت کے آتے ہی صوبے میں ترقی کا پہیہ جام ہوگیا ہے اور دن بدن صوبے کے لوگ موجودہ حکومت سے بدظن ہوتے جار ہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جیکا پروجیکٹ کا منصوبہ صوبے میں ترقی کیلئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے لہٰذا صوبائی حکومت اس منصوبے کو چھیڑنے سے گریز کریں۔

مورخہ:1-4-2014 بروز منگل

پشاور:اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا بل اسمبلی میں جمع کرادی۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ریگولیرٹی اتھارٹی کے بل میں تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن ، ریگولیشن اور سپر ویژن کے حوالے سے اُمور پر زور دیا گیا ہے۔ صوبے میں پرائیویٹ تعلمیے اداروں کی ریگولیشن کے حوالے سے اتھارٹی کے قیام کو شدت سے ضرورت اور محسوس کی جارہی ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']
 Posted by on April 2, 2014 at 6:11 am