February 2014

 
مورخہ 27 فروری 2014 ء بروز جمعرات

سہ فریقی اتحاد ضلع پشاور کا اجلاس‘ نشستوں کی تقسیم پر اتفاق رائے ہو گیا
اجلاس میں اتحاد کو کامیاب بنانے کا بھرپور عزم‘ اے این پی‘ جے یو آئی‘ پی پی پی

پشاور (پ ر) سہ فریقی اتحاد ضلع پشاور کے سیکرٹری اطلاعات انوار الحق کے مطابق سہ فریقی اتحاد کا اہم اجلاس یونیورسٹی ٹاؤن میں حاجی فرید اللہ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا‘ اجلاس میں جنرل سیکرٹری ملک طہماش خان کے علاوہ خوشدل خان ایڈووکیٹ‘ ملک غلام مصطفی‘ خالد وقار چمکنی‘ شریف خان‘ عرفان اللہ شاہ‘ غضنفر علی‘ حاجی الماس خان اور جہانگیر خان نے شرکت کی‘ اجلاس میں بلدیاتی انتخابات پر تفصیلی غور حوض کیا گیا اور متفقہ طور پر ضلع پشاور میں نشستوں پر اتفاق رائے ہو گیا‘ اجلاس میں سہ فریقی اتحاد کو کامیاب بنانے کیلئے بھرپور عزم کا اظہار کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا مقررین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرے سہ فریقی اتحاد بلدیاتی انتخابات کیلئے طرح تیار ہیں مقررین نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے الیکشن میں عوام سے تبدیلی کے نام پر ووٹ حاصل کیا لیکن آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود صوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں مقررین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تحریک انصاف کنفیوژن کا شکار ہے اور اس حوالے سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی تحریک انصاف کے مؤقف میں واضح تضاد ہے۔

مورخہ: 26.2.2014 بروز بدھ

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکمران نہ مذاکرات میں اور نہ کارروائی میں سنجیدہ ہیں۔ یہ بات اُنہوں نے اپنے حلقے میں گاؤں قاسم خیل اور چنگلئی میں شمولیتی تقاریب سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر قاسم خیل میں غلام قادر کاکا کا خاندان اور ساتھیوں سمیت قومی وطن پارٹی اور چنگلئی میں محمود شاہ کاکا کا خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ حکمران حکومتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں اور بدقسمت پختون روزانہ کی بنیاد پر جنازے اُٹھارہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی بے حسی اور غیر سنجیدگی نے حالات اس حد تک پہنچا دئیے ہیں کہ صوبے کے عوام ذہنی مریض بن گئے ہیں۔ کسی کی جان و مال محفوط نہیں رہی۔ اور خصوصاً صوبائی حکومت عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کیلئے نت نئے شوشے چھوڑ رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نے عمران خان میٹھے وعدوں اور نعروں کو ووٹ دیکر پشیمان ہو گئے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر لوگ جوق در جوق اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ غیور عوام اور پختونوں کو کس جرم کی سزا مل رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو کھلے دل سے ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور صوبے کے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر غیر ضروری مسائل میں اپنے آپ کو نہیں اُلجھانا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکمران اپنے آپ کو بچانے کیلئے صوبے کے مظلوم عوام کو قربان کر رہے ہیں۔ جو کہ انتہائی ظلم ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کے سامنے عمران خان اور ان کی نام نہاد سونامی کا راز کھل گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے صوبہ ہر طرح سے تباہی کے کنارے کھڑا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کی معیشت ، امن اور تمام تر شعبے سونامی کی نذر ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر محمد کریم بابک نے بھی خطاب کیا اور تقریب کے علاقے کے عمائدین اور پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مورخہ: 26.2.2014 بروز بدھ

پشاور: پختون ایس ایف کا اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت کیمپس کے چیئرمین مقرب خان بونیری منعقد ہوا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کیمپس پشاور میں تنظیمی صورتحال اور صوبائی حکومت ، پولیس انتظامیہ کی طرف سے پی ایس ایف کے خلاف یکطرفہ کارروائی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پشاور یونیورسٹی ، اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی کے مختلف فیکلٹیز کے ذمہ داروں اور کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر ،صوبائی جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ اور کیمپس چیئرمین مقرب خان بونیری کے علاوہ دیگر ذمہ داروں نے واضح کیا کہ پی ایس ایف کے خلاف تمام سازشوں کو بے نقاب کر کے ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔ تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے انتہا پسندانہ اور ڈنڈا بردار ایجنڈا مسترد کرتے ہیں۔ اُنہوں نے افسوس کا اظہار کیاکہ کیمپس نے صوبائی حکومت کے دباؤ پر پی ایس ایف کے خلاف 295-B اور 380 کا دفعہ لگا کر ظلم کیا گیا جو تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ ظالمانہ اور بے بنیاد دفعات اور پی ایس ایف کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کو واپس لیا جائے ورنہ صوبہ بھر میں صوبائی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ لہٰذااگر کیمپس سے تین ایم پی او جیسے کالے اور سامراجی قوانین کا اطلاق تین دنوں کے اندر اندر نہیں اُٹھایا گیا تو اگلے ہفتے سے صوبائی سطح پر پرامن دمہ دم مست قلندر کے ذریعے صوبائی حکومت میں بیٹھے انتہا پسندوں کا نیند حرام کردینگے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ تین ایم پی او کا نفاذ صرف پی ایس ایف پر کیوں؟ اگر ایسا ہے تو آئندہ کیلئے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی ذمہ داری ، یونیورسٹی انتظامیہ ، پولیس اور صوبائی حکومت پر عائد ہو گی۔ اجلاس میں ملگری وکیلان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا گیا
مورخہ: 25.2.2014 بروز منگل
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے گزشتہ روز ایرانی قونصلیٹ پشاور اورکوہاٹ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کیلئے جلد صحت یابی کی دُعا کی۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ اور موجودہ صوبائی اور مرکزی حکومت صوبے میں جاری دہشتگردی کی لہر کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے صوبے میں امن چاہیے ، چاہے وہ مذاکرات کے ذریعے ہوں یا پھر طاقت کے ذریعے۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشتگرد ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ قیام امن کیلئے ہمارے حوصلے اور بھی مضبوط ہونگے۔ پختون دھرتی پر امن کا قیام عوامی نیشنل پارٹی کا مشن ہے اور امن کے قیام اور پختونوں کی بقاء کیلئے اے این پی کی جدوجہد جاری رہے گی اور ہماری یہ جدو جہد ایسی بزدلانہ اور ظالمانہ کارروائیوں سے متزلزل نہیں ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔
سینیٹر حاجی محمد عدیل نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں دہشگردی کے خلاف ایک واضح پالیسی اپنائی تھی ۔ جب بھی مذاکرات کی ضرورت محسوس ہوئی تو مذاکرات بھی ڈٹ کر کیے ہیں اور صوبہ میں امن کے قیام کیلئے تحریری معاہدے بھی کیے ہیں۔ اور جب اُنہوں نے مذاکرات کو ماننے سے انکار کیا تو ہم نے آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کیلئے ڈٹ کر کارروائی بھی کی۔
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے ڈر کی وجہ سے دہشتگردی کے خلاف کوئی پالیسی وضع نہیں کر رہے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت ہمت اور حوصلہ سے کام لیں اور دہشتگردی کے خلاف کوئی واضح پالیسی بنائیں تو اس صوبہ میں امن کا قیام پھر ممکن ہو سکتا ہے۔
مورخہ:25-2-2014 بروز منگل
پشاور ( پ ر ) پشاور یونیورسٹی اور ایگریکلچریونیورسٹی کے پختون ایس ایف طلباء کو فی الفور رہا کیا جائے ۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اے این پی کے کارکنوں اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں کو ہراساں کرنے سے باز آجائیں ورنہ راست اقدام پر مجبور ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ذیلی تنظیم نے ہاسٹلوں میں پختون ایس ایف کے ساتھیوں کے کمرے جلائے جس کے اندر کلام پاک اور اسلامی کتب موجود تھے اور جماعت کے ذیلی تنظیم کے کارکن یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو زبردستی اپنے ہم نصابی سرگرمیوں سے روکتے ہیں اور ان پر تشدد کرتے ہیں ۔ لیکن حکومت خاموش تماشی بنی ہوئی ہے ۔
انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اے این پی کے کارکنوں اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں کو ہراساں کرنے اور ذہنی اذیت سے باز آجائیں ورنہ پھر حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدم تشددکے علمبردار ہیں لیکن ہماری پُرامن پالیسیوں کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے نظریاتی کارکنوں اور اس تحریک کے پرامن سوچ کو دبانے کا خواب مخالفین کا کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں حکومت کی طرف سے بے جا مداخلت اور طلباء کو ہراساں کرنا موجودہ حکومت کی تعلیم دُشمنی کا مظہر ہے جس سے سارے صوبے کے عوام آگا ہ ہوچکے ہیں۔
مورخہ: 25.2.2014 بروزمنگل
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے ایران قونصلیٹ کے نزدیک ایف سی چیک پوسٹ پر خودکش بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور کا ٹارگٹ درحقیت ایرانی قونصیلیٹ ہی تھا لیکن سیکیورٹی اہلکاروں کے آگے جانے سے روکنے پر خود کش حملہ آور نے چیک پوسٹ ہی پر اپنے آپ کو اُڑا دیا۔ اُنہوں نے خودکش دھماکے میں ایف سی کے شہید جوانوں کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی اور دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
باچا خان مرکز پشاور سے اپنے مذمتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ قوم ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی پشت پر کھڑی ہے ان کے ارادے مضبوط اور حوصلے بلند ہیں اور ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے ان کے حوصلوں کو کمزور نہیں کیا جاسکتا ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملوں سے دہشتگرد یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ملک کی سیکیورٹی ادارے ملک کی حفاظت نہیں کر سکتے اور چونکہ اُنہوں نے ایران قونصیلیٹ کے نزدیک خودکش حملہ کر کے یہ بھی ایک تاثر دیا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سفارتخانے محفوظ نہیں اور دُنیا میں یہ ملک کیلئے بدنامی کا باعث بنے لیکن یہ اُن کی بھول ہے کیونکہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے حوصلے جوان ہیں اور اُن کی پشت پر قوم کھڑی ہے۔ قوم اور سیکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ان کے گھناؤنے عزائم کو خاک میں ملا دے گی۔
اے این پی کے رہنما نے ایران قونصل جنرل سے بھی ٹیلیفون پر اُن کی خیریت دریافت کرتے ہوئے اُن کی حوصلہ افزائی کی۔ ایران قونصلر جنرل نے اُن سے بات چیت کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف اے این پی کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی نے ہمیں بشیر احمد بلور جیسے بہادر اور نڈر لیڈر اور میاں راشد حسین جیسے نوجوان سے محروم کر دیا ہماری دُعا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی کی اس لعنت سے چھٹکارا مل جائے۔
کراچی۔ پیر 24 فروری 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سند ھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی سندھ اور کراچی کی تمام آرگنائزنگ کمیٹیوں کا اجلاس مردان ہاؤس میں صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ کی سربراہی منعقد ہوا،اجلاس میں صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ،پانچوں اضلاع کے آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین و اراکین نے شرکت کی ،اجلاس میں پارٹی کی ممبر سازی ختم ہونے کے بعد تنظیم سازی کے امور کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایم پی آر کالونی میں فائرنگ میں شہید ہونے والے ڈاکٹر اسرارسمیت پانچوں کارکنان ،اورنگی ٹاؤن گلشن غازی وارڈ اتحادیونٹ کے کارکن شہید زربدن خان ،پارٹی کے بزرگ رکن حاجی ملک شاہ جہاں خان مرحوم سمیت تمام پارٹی شہداء اور دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کے ایصال ثواب اوار درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اجلاس کے بعد الطاف خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی ممبر سازی ختم ہونے کے بعد یونین کونسل کی سطح پر تنظیم سازی کو عمل شروع کردیا گیا تمام تر خطرات ، عہدیدران وکارکنان کی ٹارگٹ کلنگ اوربم حملوں کے باوجود ممبر سازی میں بھر پور شرکت پر تمام کارکنان و ممبران کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں موجودہ حالات میں اس سر نو تنظیم سازی صرف نظریاتی و فکری جماعت ہی کرسکتی ہے جو کہ باچا خان بابا کے پیروکاروں نے کرکے دکھایاتمام ضلعی آرگنائزنگ کمیٹیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وارڈ (یونین کونسل) کی سطح پر تنظیم سازی کا عمل تیز کردیں تاکہ مقررہ وقت پر ضلا ع کی تنظیم سازی شروع کی جاسکے
اعلامیہ میں مذید کہا گیا ہے کہ پارٹی کے بزرگ اور دیرینہ رکن حاجی ملک شاہجہاں خان اچکزئی مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دوروزہ فاتحہ خوانی الآصف اسکوائر سہراب گوٹھ میں ختم ہوگئی ،فاتحہ خوانی میں پارٹی عہدیداران ،کارکنان،ممتاز قبائلی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،عبدالمنان اچکزئی نے فاتحہ خوانی میں شرکت کرنے پر پارٹی عہدیداران ،کارکنان،ممتاز قبائلی شخصیات سے اظہار تشکر بھی کیا

 

مورخہ 24 فروری 2014 ء بروز پیر
بلدیاتی انتخابات میں سہ فریقی اتحاد کی کامیابی یقینی ہے‘ سہ فریقی اتحاد
تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیاپشاور (پ ر) سہ فریقی اتحاد ضلع پشاور کے صدر قاری رفیق شاہ‘ جنرل سیکرٹری ملک طہماش اور سیکرٹری اطلاعات انوار الحق نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں سہ فریقی اتحاد کی کامیابی یقینی ہے کیونکہ صوبے میں برسر اقتدار پارٹی نے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر عوام سے ووٹ لیا لیکن تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود عوام کو کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے بلکہ عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کٹھ پتلی ہے اور اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پنجاب سے چلایا جا رہا ہے‘ ایک مشترکہ بیان میں اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام نظریاتی پارٹیاں ہیں اسی وجہ سہ فریقی اتحاد چٹان کی طرح مضبوط ہے اور تینوں پارٹیوں کے کارکن اپنے قائدین کے آواز پر لبیک کہتے ہوئے سہ فریقی اتحاد کی کامیابی کیلئے سرتوڑ کوششیں کریں گے‘ اُنہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور صوبے کے عوام دہشت گردی اور امن و امان کی ناگفتہ بہہ صورتحال کی وجہ سے دوسرے صوبوں کو منتقل ہو رہے ہیں لیکن صوبے کے حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں اور وہ اپنے محلوں میں خوف کی وجہ سے محصور ہیں۔مورخہ: 24.2.2014 بروز پیرپشاور: پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا اہم اجلاس پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر محمد داؤد جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان کے علاوہ سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر اور جنرل سیکرٹری جوار خان ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تحسین اقبال یوسفزئی جنرل سیکرٹری بلال مہمن اور کثیر تعداد میں بہت سارے کارکنوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہم یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پشاور یونیورسٹی کے جب طلبہ پر الزامات اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے اُن کو واپس لے لیا جائے۔ کیونکہ یہ الزامات سراسر جھوٹ ، من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔ اگر اس طرح نہ کیا گیا تو پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سیلاب کی طرح سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرینگے۔ اور یہ احتجاج پریس کلب ، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سمانے تک جا سکتا ہے۔ اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کسی بھی قسم کی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔مورخہ: 24.2.2014 بروز پیرپشاور: پختون ایس ایف کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ نے بنوں میں پی ایس ایف کے ذمہ دار ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج پر افسوس کیا اور ظالمانہ اقدام قرار دیا۔ ایف آئی آر میں نامزد کردہ ساتھیوں میں حکمت وزیر ، حامد ، صمد اور فہیم باغی شامل ہیں۔ ان کا قصور یہ رہا کہ بنوں میں پی ایس ایف نے ان کے رہنمائی میں پشاور یونیورسٹی کیمپس میں پی ایس ایف کے خلاف سامراجی قوانین کے اطلاق اور سازشی اور بے بنیاد ایف آئی آر میں گرفتار اور مطلوب ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر کو واپس لینے کیلئے ایک پُر امن و احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پی ایس ایف کے خلاف سازشیں بند کی جائیں۔ بصورت دیگر صوبہ بھر میں پُر امن مظاہروں سے صوبائی حکومت میں بیٹھے منافقین کا بستر گول کر دینگے۔ امتیاز وزیر نے کہا کہ پی ایسء ایف دبنے والا فیڈریشن نہیں سازشی عناصر کو مایوسی ہو گی۔
پشاور یونیورسٹی کے ایشو پر پختون ایس ایف کا مؤقف
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر،صوبائی جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ اور یونیورسٹی کیمپس پشاورکے چیئرمین مقرب خان بونیری سمیت تنظیم کے ذمہ دارحلقوں نے کیمپس میں پی ایس ایف اور اسلامی جمعیت طلبہ کے مابین رونما ہونے والے نا خوشگوار واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں پُر امن تعلیمی ماحول ،باہمی برداشت اور آزادی و وقارسب کیلئے ناگزیر ہیں۔ پختون سرزمین پر علم و ہنر کی روشنی پھیلانا،تعلیمی اداروں میں طلباء کے حقوق اور اے این پی کے جھنڈے تلے پختون قومی حقوق کیلئے پُرامن جدوجہد پی ایس ایف کے سیاسی اور نظریاتی فعالیت کا بنیادی محرکات ہیں۔ پشاوریونیورسٹی کیمپس میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات میں دونوں تنظیموں سمیت مختلف کرداروں کاکونسا رویّہ اور اقدام مناسب یا نامناسب ہونے کا سوال الگ اور ذرا تلخ ہے،تا ہم یہ حقیقت واضح ہے کہ پی ایس ایف انسانیت کے مابین پختونولی کے دائرے میں پیار و محبت اور امن کا قائل اور پیروکارتنظیم ہے جو اپنے سیاسی اور نظریاتی آکابرین کی شان میں گستاخ نعرہ بازی اور فیڈریشن کے بنیادی مفادات اور ساکھ پر آنکھیں بند نہیں کر سکتیں جبکہ اسلامی جمعیت طلبہ تشّدد،نفرت ،تعصّب،عدم برداشت، انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کا آلہ کاراور کرایہ دارتنظیم ثابت ہوا ہے۔ظلم پر ظلم یہ ہے کہ اپنے کالے مقاصد کے حصول کیلئے اسلام کا استعمال کرکے ڈالر کمانے سے بنگلے اور ٹرسٹ بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے موجودہ دور میں پاکستان کے اندر اور باہر پختونوں سمیت انسانیت کے خلاف دہشت گردی اور انتہا پسندی کرکے خونریزی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ القاعدہ سمیت دیگر کالعدم مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ نظریاتی اور عسکری روابط ثابت ہونے پر اسلامی جمعیت طلبہ کو ملکی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے صف میں شامل کرکے نہ صرف پختونوں بلکہ پاکستان اور عالمی سطح پرانسانیت کے ساتھ انصاف کا ثبوت دیا جائے ۔ جہاں تک یونیورسٹی کیمپس پشاور سمیت پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کی ڈنڈابردار ریلیز اور پُر تشدد طالبانائزیشن کی بات ہے تو پی ایس ایف اُن کو یہ اجازت کسی بھی قیمت پر نہیں دے سکتا ۔ کیونکہ پختونخولی میں کسی قسم کی بے حیائی کا وجود سرے سے موجود ہی نہیں۔ لہٰذا پی ایس ایف اُن کو مشورہ دیتا ہے کہ معصوم طلبہ کی عزت نفس او رآزادی کو مجروح کرنے کی بجائے اپنے انفرادی اور اجتماعی کالے کرتوتوں کی اصلاح کرکے جتنی چادر اُتنے پاؤں پھیلاؤ تاکہ تمام طلبہ کی آزادی اور وقار سمیت پُرامن تعلیمی ماحول میں کوئی بگاڑ نہ ہو۔ تاہم پی ایس ایف اور اسلامی جمعیت طلبہ دو متضاد نظریات کا حامل مگر سیاسی تنظیمیں ضرور ہیں۔لہٰذاپُرامن تعلیمی ماحول اور بقائے باہمی کے تحت سیاسی اور بنیادی فیصلہ یہ ہوگا کہ ذمہ داری کیساتھ حقائق کا احساس کرتے ہُوئے پختونولی کے تحت موجودہ صورتحال پردونوں تنظیمیں سیاسی اور ذمہ درانہ فیصلے کریں۔پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن فخر افغان باچا خان باباکے عدم تشدداور اے این پی کے سیاسی اور نظریاتی فیصلوں کا پابند ایک آئینی اور تاریخی ادارہ ہے جو طلبہ کے حقوق اورملی قائد اسفندیارولی خان کی قیادت میں اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے پختون قومی حقوق کیلئے پرامن جدوجہد کرتا ہے ۔یونیورسٹی کیمپس پشاور میں آج بھی برتر سیاسی ،تنظیمی ،اخلاقی اور نفسیاتی پوزیشن کیساتھ طلبہ کے واحد نمائندہ سیاسی تنظیم کے طور پر آرگنائزنگ کے رواں عمل کے دوران فعال سے فعال تر ہونے سے کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیئے، ۔پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن ذمہ دارانہ حیثیت سے یہ سمجھتا ہے کہ دونوں تنظیموں کے مابین معاملات کو بگاڑنے کی بجائے سدھارہ جائے ۔اس حوالے سے پارٹی ٹو پارٹی رابطہ کاری کا عمل بہتر نتائج کیساتھ خوش آئنداور بنیادی ہے ۔تاہم اسلامی جمعیت طلباء اور جماعت اسلامی کی اپنے اتحادیوں سمیت وقتی حکومتی طاقت کے نشے میں بلیک میلنگ سے بات نہیں بنے گی۔ دونوں پارٹیوں کے نمائندہ وفودقابل احترام اور حالات میں بہتری کا اُمید ہے اس سلسلے میں پی ایس ایف اپنی عزت و آبرو کو برقرار رکھتے ہُوئے پختونولی کے تحت پرامن تعلیمی ماحول اور بقائے باہمی کے خاطرمناسب تعاؤن کریگی۔ان تمام ناخوشگوار واقعات میں بعض متعلقہ اور بعض غیر متعلقہ سازشی اور شر پسند عناصر کا رویّہ افسوسناک رہا ہے جن میں صوبائی حکومت اور یونیورسٹی و پولیس انتظامیہ کے مختلف کردارشامل ہیں جنہوں نے ایک سازش کے تحت پی ایس ایف کے خلاف شرمناک ، بے بنیاد اور سازشی ایف آئی آر درج کرکے پی ایس ایف کوہراساں کرنے کی ناکام اور ناجائز کوشش شروع کی ہے ۔ ان کرداروں نے مل کر پی ایس ایف کے مختلف کمروں کی بے حُرمتی اور ہمارے سیاسی و نظریاتی اکابرین کے خلاف نا زیبا نعرہ بازی اور غنڈہ گردی کا تماشاکرکے اچھا اور ذمہ دارانہ پیغام نہیں دیاجن کے خلاف پی ایس ایف کی طرف سے جوابی رد عمل کا سامنے آناایک فطرتی عمل ہے۔روایات کے مطابق جب بھی یونیورسٹی میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو فریقین ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ بھی ضروری کاروائی کرتا ہے لیکن افسوس کا امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے دباؤ پر پی ایس ایف کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ کی بجائے پولیس کی طرف سے ظالمانہ ایف آئی آر کاسوچا سمجھا اندراج بوکھلاہٹ ،انتقام اور انا کے تسکین کیساتھ ساتھ پی ایس ایف کے خلاف صوبائی حکومت کی سازش کی عکاسی کرتی ہے جو مناسب ہرگز نہیں، وجہ یہ ہے کہ پی ایس ایف کے برتر سیاسی اور تنظیمی فعالیت کے سامنے بڑے بڑے امر بھی ناکام ٹھہرے ہیں۔ان نادان اور ناتجربہ کار حکومتی دوستوں کو بھی مایوسی ہوگی لٰہذا پُرامن تعلیمی ماحول کو بگاڑ سے بچایا جائے ۔پی ایس ایف نے صوبائی حکومت پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہُوئے زور دیا کہ پی ایس ایف کے خلاف انتقامی اور سازشی ایف آئی آر کو واپس لیا جائے ۔تعزیرات پاکستان کے دفعات380,506,324/148,149,427,295B,353 کے تحت درج شدہ شرمناک ایف آئی آر پر نظر ثانی کرکے معذرت کیساتھ واپس لیا جائے۔پی ایس ایف کا کوئی بھی کارکن قُرآن پاک سمیت اسلامی دستاویزات کی بے حُرمتی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ہم کامل مسلمان ہیں اللہ ،رسول، قُرآن اور دین اسلام پر مخالفین کے مقابلے میں پُختہ ایمان و یقین رکھتے ہیں۔لہٰذا ایسے شرمناک ایف آئی آر اور مذہب کے نام پر نامناسب سیاست بازی سے عام لوگوں کے احساسات اور عزت نفس کو مجروح کرنے کی روایت فرسودہ ہو چکا ہے ۔ پی ایس ایف مذہب کے نام پر سیاسی دوکانداری کا مخالف ہے یہی وجہ ہے کہ اس ایشو کو نہیں اُچھالا گیا حالانکہ پی ایس ایف کے کمروں میں مختلف حوالوں سے قْرانی آیات اور اسلامی دستاویزات موجود ضرور تھے جن کو اسلامی جمعیت طلباء نے حکومتی اور ریاستی نگرانی میں دہشت گردی اور غنڈہ گردی کرکے جلائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے پی ایس ایف اسلامی جمعیت طلبہ،صوبائی حکومت، یونیورسٹی اور پولیس انتظامیہ کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں ضرورت پڑی توپنجاب یونیورسٹی ، کراچی یونیورسٹی ،افغانستان،بنگلہ دیش اورملک کی سطح پر تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر اسلامی جمعیت طلبہ کے غیر اخلاقی اور پُر تشدد کالے کرتوتوں کو منظرعام پر لانے کے علاوہ صوبائی حکومت ،یونیورسٹی اور پولیس انتظامیہ کے خلاف صوبہ بھر میں پر امن احتجاجی تحریک کے ذریعے دمہ دم مست قلندر کرکے اُنکے نیندوں کو حرام کر دینگے احتجاجی تحریک کے دوران بدامنی اور دہشت گردی کے اس غیر یقینی دور میں پی ایس ایف کے کارکنوں کو کسی قسم کا کوئی نقصان پیش آیا تو ذمہ داری صوبائی حکومت ، یونیورسٹی اور پولیس انتظامیہ پر عائد ہوگی لٰہذا آؤ مل بیٹھ کرپُر امن تعلیمی ماحول اور بقائے باہمی کے تحت عام طلبہ کے عزت و وقار کویقینی بنانے میں پی ایس ایف کا ساتھ دیں۔ایک دوسرے کاناک کٹوانے کی بجائے یقیناًبہتراور ذمہ درانہ فیصلہ بھی یہی ہے لٰہذا پہلے مرحلے میں ہنگامی بنیادوں پرنو آبادیاتی دور کا کالا قانون 3 ایم پی او کے تحت ایگریکلچر یونیورسٹی پشاورسے گرفتارپی ایس ایف کے ذمہ دار ساتھیوں کو فوراً رہا کرنے سمیت 3 ایم پی اوکو ہٹایا جائے اور دیگر انتقامی اور نام نہاد مقدمات میں گرفتاراور مطلوب ساتھیوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کو واپس لیکر فضاء کو بہتر بنایا جائے۔پی ایس ایف یہ سوال بھی کرتا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس پشاور میں ایم 3کوصرف پی ایس ایف پر لاگو کرنا ظلم و بربریت کاچنگیزی دور نہیں تو اور کیا۔۔۔؟پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ نے صوبائی  حکومت کے دباؤ پرپی ایس ایف کے شکایات کی روشنی میں حقائق کوایف آئی آر میں شامل نہ کرناپی ایس ایف کے خلاف یکطرفہ کاروائی کا انتہا ہے پی ایس ایف اسلامی جمعیت طلبہ کیساتھ ساتھ پشاور یونیورسٹی میں تنظیم آساتذہ کا انتہا پسندانہ اور پی ایس ایف کے خلاف جانبدارانہ ایجنڈہ بھی مستردکرتا ہے اوراسلامی جمعیت طلبہ کے دہشت گردوں کو کیمپس کے اندر اپنے گھروں میں پناہ دینے سمیت اسلحہ کی فراہمی پر اُن کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تنظیم آساتذہ ( جماعت اسلامی )کے سرکردہ صاحبان 2010 ء میں انجنئرنگ یونیورسٹی کے معصوم طالب علم عدنان شہید کی شہادت میں برابر ملوث رہے ہیں۔ اس موقع پر پی ایس ایف پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈپارٹ کے ڈائریکٹرامیر نوازکے خلاف جنسی حراست کاآزادانہ انکوائری کرکے تنظیم اساتذہ میں موجود کالے بھیڑوں کویونیورسٹی سے پوری رسوائی کیساتھ نکال کر نظام کیساتھ انصاف کیا جائے ۔جن کے خلاف پر امن اور سیاسی انداز میں کلمۂ حق پرلبیک کہہ کر طلبہ اور پختون قوم کی صف میں کھڑا ہونا پی ایس ایف کا تاریخی شیوہ ہے جو تعلیمی اداروں میں طلبہ کے واحد نمائندہ فیڈریشن کی حیثیت سے عوامی نیشنل پارٹی کے ہر اوّل دستے کا کردار ادا کرنے سے پختونولی کا قومی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔اس موقع پر کارکنان حوصلے بلند اور آپس میں اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کو قائم رکھیں۔انشاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ پی ایس ایف اپنے ایڈوائیزر محترم ایمل ولی خان کی نگرانی میں اپنی سیاسی ،تنظیمی ،نظریاتی ،اخلاقی اور نفسیاتی برتری کو برقرار رکھتے ہُوئے تمام بحرانوں اورسازشوں کو ناکام بنا کر منزل کے حصول میں کامیابی سے سازشی عناصر مایوس ضرور ہو نگے۔ہمارا ایمان و یقین ہیں کہ باطل کے مقابلے میں حق ، یزیدیت کے خلاف حسینیت اور تشدد کے مقابلے میں عدم تشدد کے ساتھ اللہ پاک کا نصرت بھی شامل حال رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ پہاڑجیسا مضبوط برطانوی انگریزکا ظالم حکمرانی غروب ہوچکی ہے جبکہ عدم تشدد ، پیار و محبت اور اتفاق و اتحاد اور پختونولی کے پیامبر فخرافغان باچاخان باباؒ کا کاروان آج بھی ملی قائدمحترم اسفندیارولی خان کی فخریہ اور واحد قیاد ت میں پختون قوم اور پختون سرزمین کے واحد نمائندہ اور حقیقی سیاسی اور نظریاتی پارٹی کے طور پر پختونوں کے قومی حقوق ، ترقی و خوشحالی کیلئے کارکنوں اور رہنماؤں کی شہادتیں دینے سے مالک مکان کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایس ایف قصرسلطانی کے گنبد پر نہیں بلکہ بادئ مخالف کا سینہ چیرتے ہوئے پہاڑوں کی چٹانوں پر پرواز سے اے این پی کے ہر اول دستے کا کردار ادا کرنا پی ایس ایف کا تاریخی میراث ہے ۔* ظالم تہ کہ ڈۃر ناز وی پہ دامونو پہ دارونو *
* پہ ظلم پہ وہشت پہ ۂولنو پہ زنجیرونو *
* زمونلأ دحق پرستو لیونو فیصلہ دا دہ *
* یا سر دا دارہ تۃریا معراج دآرمانونو *جاری کردہ :
امتیاز وزیر
چیئرمین
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پختونخوامورخہ:23-2-2014 بروز اتوار
پشاور ( پ ر ) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چےئرمین امتیاز وزیر اور یونیورسٹی کیمپس پشاور کے چےئرمین مقرب خان بونیری نے ایک مشترکہ بیان میں صوبائی حکومت یونیورسٹی اور پولیس انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایس ایف کے خلاف شرمناک اور سازشی ایف آئی آر واپس لیا جائے اور پی ایس ایف کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ اور سازشی کاروائی بند کی جائے تاکہ یونیورسٹی کیمپس پشاورمیں پُرامن تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ایس ایف کے خلاف زیادتی پر خاموش نہیں رہیں گے ۔ لہٰذا کیمپس سے 3mpo جیسے کالے اور سامراجی قوانین کا اطلاق ہٹایا جائے اور اس قانون کے تحت پی ایس ایف کے گرفتار ساتھیوں کو جلد از جلد رہا کرایا جائے جبکہ باقی ماندہ انتقامی اور سازشی ایف آئی آر میں گرفتار اور مطلوب کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر واپس لیا جائے ۔ بصورت دیگر پی ایس ایف صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک چلائے گی جس کے دوران خدانخواستہ بدامنی اور دہشت گردی کے اس دور میں پی ایس ایف کو کسی قسم کا کوئی نقصان ہوا تو ذمہ داری صوبائی حکومت یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس پر عائد ہوگی ۔مورخہ: 22.2.2014 بروز ہفتہ
پشاور : (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام صوبائی عبوری صدر بشیر احمد خان مٹہ کی زیر صدارت باچا خان مرکز پشاور میں شہید میاں مشتاق اور اُن کے ساتھی گل رحمان کاکا اور ڈرائیور ندیم خان کے چہلم کے سلسلے میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں اور ضلع پشاور کے عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پرپارٹی رہنماؤں حاجی غلام احمد بلور ، بشیر احمد خان مٹہ ، لطیف آفریدی ایڈووکیٹ ، سینیٹر افراسیاب خٹک ، میاں افتخار حسین ، اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک ، ضلع پشاور کے آرگنائزر خوشدل خان ایڈووکیٹ نے خطاب کیا ۔ اور اس موقع پر جمیلہ گیلانی ، تاج الدین خان ، سید جعفر شاہ ، صدر الدین مروت ،ارباب محمد طاہرخلیل ، شگفتہ ملک ، یاسمین ضیاء ، منور فرمان ، ڈسٹرکٹ بار کے صدر رضاء اللہ خان بھی موجود تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں نے میاں مشتاق اور اُن کے ساتھ دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اُن کی شہادت پر فخر ہے اُن کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ پختون دھرتی کے خلاف جاری سازشوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ مگر پختونوں نے ہر سازش کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسے ناکام بنایا ۔ ہماری تحریک شہداء سے بھری پڑی ہے ایک سے ایک شہید اپنے اوصاف اور قوم پرستی کے جذبے سے سرشار ایک ممتاز مقام کا حامل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے اُنہیں چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔
اُنہوں نے کہا کہ میاں مشتاق نے پارٹی کا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور پارٹی تنظیم کو فعال بنانے کیلئے دن رات محنت کی۔ اُنہوں نے پختون سرزمین پر امن کے قیام کیلئے اپنی جان کی قربانی دی۔ اُن کے اس مقصد کے تکمیل کیلئے فخر افغان باچا خان کے پیروکار آخری دم تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پارٹی قائدین نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام پختون قوم اپنی سرزمین کی بقاء اور پختون قوم کے روشن مستقبل کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔کیونکہ آج پختونوں کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں اور پختونوں کا خون جس بے دردی سے بہایا جا رہا ہے اُس کو روکنے کیلئے پختون قوم کا اتفاق اور اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ہم اپنے قائد محترم اسفند یار ولی خان کی قیادت میں پختون سرزمین پر امن کے قیام اور پختون قوم کے روشن مستقبل کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں اور یہ جدو جہد پارٹی کے آخری کارکن تک جاری رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ جس طرح ایک منظم سازش کے تحت پختون قیادت کو پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا اسی طرح آج پختون دھرتی اور پختون قوم کے خلاف گھناؤنی سازشوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ باچا خان بابا کے کارکن عدم تششد کی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے اپنی سرزمین ک خلاف جاری سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔حق اور باطل کی اس جنگ میں فتح حق کی ہوگی چونکہ ہم حق پر ہیں لہٰذا فتح ہماری ہوگی۔ آخر میں اُنہوں نے کہا کہ ہمارے شہداء نے جس مقصد کیلئے جام شہادت نوش کی ہے اُس مقصد کو پارٹی کے کارکن پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے آخری دم تک اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے۔مورخہ: 22.2.2014 بروز ہفتہ

پشاور : سہ فریقی اتحاد کا ایک اجلاس پیپلز پارٹی کے رہنما افتخار خان جھگڑا کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس کی صدارت سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین نے کی ۔ جس میں تینوں پارٹیوں کی صوبائی کمیٹیوں کے علاوہ پشاور اور مردان ڈویژن کی تینوں پارٹیوں کی اضلاعی کمیٹیوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پشاور ، چارسدہ ، نوشہرہ ، مردان اور صوابی کیلئے تینوں پارٹیوں سے پانچ پانچ رہنماؤں پر مشتمل بلدیاتی الیکشن کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔ اور ان مشترکہ کمیٹیوں میں سے پانچوں اضلاع کیلئے تینوں پارٹیوں پر مشتمل متفقہ کابینہ تشکیل دے دئیے گئے۔ جن کی تفصیل ذیل ہے۔

ضلع پشاور مولانا قاری رفیق شاہ (صدر ۔ جے یو آئی) ، ملک طہماش خان (جنرل سیکرٹری ۔ پی پی پی) اور انوار الحق (سیکرٹری اطلاعات ۔ اے این پی)
ضلع نوشہرہ پرویز احمد خان (صدر ۔ اے این پی) ، مفتی عاصم علی (جنرل سیکرٹری ۔ جے یو آئی) اور سیکرٹری اطلاعات پی پی پی کا ہوگا۔
ضلع مردان احمد بہادر خان(صدر ۔اے این پی) ، اسرارالحق (جنرل سیکرٹری ۔ جے یو آئی) اور اکرام شاہ (سیکرٹری اطلاعات ۔ پی پی پی)
ضلع صوابی ارشد خان ایڈووکیٹ (صدر۔اے این پی) ، محمد نعیم حقانی (جنر ل سیکرٹری ۔ جے یو آئی) اور گوہر انقلابی (سیکرٹری اطلاعات ۔ پی پی پی)
ضلع چارسدہ عالمگیر خان درانی ایڈووکیٹ (صدر۔ اے این پی) ، فخر عالم (جنرل سیکرٹری ۔ جے یو آئی) جبکہ سیکرٹری اطلاعات پی پی پی کا ہوگا۔
یہ کابینے 31 مارچ تک کام کرینگی اور روٹین پر ہر مہینے کیلئے الگ کابینے تشکیل دیے جائیں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر میاں افتخار حسین صاحب نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ یہ اتحاد نچلی سطح تک لے جائیں تاکہ تینوں پارٹیوں کے کارکنوں کے کچھ تحفظات ہوں تو وہ دور ہو جائیں اور ایک دوسرے کے قریب آ کر موجودہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہو جائیں۔ موجود تمام اضلاع کے عہدیداران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مارچ کے پہلے ہفتہ میں صوبائی تنظیم کو اپنی مصروفیات کی رپورٹس پیش کریں تاکہ ان تجاویز اور رپورٹ کی روشنیوں میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں۔
اُنہوں نے کہا کہ اس اتحاد میں ہمارے مرکزی قائدین نے اہم کردار ادا کیا اور پھر صوبائی سطح پر فعالیت کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیں گئیں۔ ہم موجود پیش رفت سے مطمئن ہیں اور بڑی خوش اسلوبی کیساتھ تنظیمی سطح پر مصروفیات جاری ہیں۔ پہلے مرحلے میں صوبائی تنظیم کے بعد دوسرے مرحلے میں ضلعی تنظیمیں تشکیل دیں گے اور تیسرے مرحلے میں ضلعی کمیٹیاں یونین کونسل کی کمیٹیاں تشکیل دینگے۔ لوکل باڈی الیکشن کے حوالے سے تمام تر اختیارات ضلعی کمیٹیوں کے پاس ہونگے اگر کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو کہ ضلعی کمیٹی حل نہ کر سکے تو پھر صوبائی کمیٹی کو حل کرنے کیلئے بھیجا جائیگا۔
اُنہوں نے کہا کہ ایک مثالی اتحاد ہو گا اور آئندہ بلدیاتی الیکشن میں حکومت کو ٹف ٹائم دینگے اور انشاء اللہ جیت سہ فریقی اتحاد کی ہوگی۔ میاں افتخار حسین نے اس پر زور دیا کہ ہماری کوششیں ہونگی کہ یہ اتحاد آئندہ بھی قائم رہے اور اگر خدا کو منظور ہوا تو آنے والے عام انتخابات میں بھی یہی اتحاد قائم رہے گا۔ لہٰذا عام پارٹیوں کو ساتھیوں کو چاہیے کہ فراخدلی کیساتھ ایک دوسرے کو برداشت کریں اور ہم آہنگی پیدا کریں۔

مورخہ: 22.2.2014 بروز ہفتہ
حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام میں مکمل ناکام تبدیلی کا نعرہ صرف نعرہ ہی ثابت ہوا۔ سید جعفر شاہ کا اسمبلی میں خطاب

پشاور :(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی سید جعفر شاہ نے اسمبلی میں امن و امان کی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ملک اور خصوصاً صوبے میں امن کے قیام میں مکمل ناکام ہو چکی ہیں اور مخلص نظر نہیں آتی۔ آئے روز بم دھماکے ، ٹارگٹ کلنگ اور تاقلانہ حملوں میں درجنوں لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ بھتہ خوری انتہا پر ہے اور دہشتگردی اب بندوبستی علاقوں میں زور و شور سے شروع ہو چکی ہے۔ اور حکومت بے بس نظر آتی ہے حکومتی رٹ ناپید ہے۔
دوسری طرف صوبائی حکومت اور بیوروکریسی آپس میں ایک صفحہ پر نہیں ہے اُنہوں نے تجویز دی کہ اراکین اسمبلی کیلئے سیکیورٹی اداروں کی طرف سے ان کیمرہ سیشن کا اہتمام کیا جائے کہ دہشتگردی پر کیوں قابو نہیں پایا جا سکا۔ اُنہوں نے آرمی ، ایف سی پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے اُنہیں مزید سہولیات دینے کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے ملاکنڈ ڈویژن کے دس ہزار سپیشل فورس اہلکاروں کی تنخواہ کا مسئلہ بھی فلور پر اُٹھایا جن کو پچھلے کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی۔
اُنہوں نے حکومت کے غلط فیصلوں اور قانون پر عملدرآمدی کے فقدان پر تنقید کی اور مثال دی کہ سوات میں قانون کرایہ داری پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔ جبکہ محکمہ بلدیات نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹی ایم اے کی بجائے لوکل ٹیکس کے حصول کی ذمہ داری ضلعوں کی دی ہے جو بلدیاتی ایکٹ 2013 ء کے دفعہ 42 کی خلاف ورزی ہے۔
سید جعفر شاہ نے سوات میں ٹرانسپورٹرز سے دُگنا ٹیکس وصول کرنے کا مسئلہ بھی فلور پر اُٹھایااور مطالبہ کی کہ قانون کے تحت ٹیکس وصول کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ برادری 22/2 کو سوات میں مکمل پہیہ جام ہڑتال کر رہا ہے۔ جس سے امن و امان اور لوگوں کو سخت مشکلات اور مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ مرکزی ی اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطہ نہ ہونے اور اختلاف کا اثر صوبے کے عوام پر پڑ رہا ہے۔ ابھی تک صوبے میں ترقیاتی عمل شروع نہیں ہو سکا جو حکومت کی نا اہلی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی روش ختم ہونی چاہیے۔ کیونکہ موجودہ اسمبلی چند ایک ممبران کا فرق ہے اور آدھے ممبران کا تعلق اپوزیشن سے ہے۔ ان کو ترقیاتی فنڈ میں نظر انداز کرنے سے صوبے کے 50 % سے زیادہ عوام کی حق تلفی ہو رہی ہے۔
اُنہوں نے بعض پارٹیوں کیطرف سے ملک کے قابل احترام سیاستدانوں پر بے جا الزامات لگانے اور جھوٹے الزامات لگانے کی روش پر سخت تنقید کی اور اس کو چوک یاد گار کی سیاست سے تعبیر کیا۔ اُنہوں نے یاد دلایا کہ افغان جنگ میں لوگوں کو جہاد کے نام پر ورغلا کر وہاں جنگ شروع کرنے والے ہی پاکستان میں بدامنی کے ذمہ دار ہیں۔ اُنہوں نے ایک نکتہ کے جواب میں کہا کہ اسلحہ سکینڈل میں کرپشن کی تحقیقات پچھلی حکومت نے شروع کیے جو کیس اب نیب میں چل رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پختونوں نے بہت قربانیاں دیں۔ پچاس ہزار سے زائد بے گناہ لوگ شہید ہوئے جن میں عام بے گناہ افراد ، سیکیورٹی کے اہلکاراور فوجی جوان ، پولیس ، ایف سی جوان اور ایک ہزار سے زائد اے این پی کے ورکرز شامل ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جس طریقے سے بھی ہو ہمیں امن چاہیے۔ موجودہ حکومتوں نے الیکشن میں امن کے نام پر ووٹ لیا ہے۔ اب ہمیں پُر امن پختونخوا اور پُر امن پاکستان چاہیے۔ حکومت اس سلسے میں مزید بہانوں اور لست و لعل سے کام لینا چھوڑ کر حقائق کا سامنا کر کے عملی اقدامات اُٹھائے اور ٹاک شوز سے باہر نکل آئے۔

کراچی۔ اتوار 23 فروری 2014 ء
عوامی نیشنل پارٹی سند ھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے گزشتہ روز ولی خان چوک گلشن غازی میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے اے این پی گلشن غازی وارڈ اتحاد یونٹ کے کارکن زر بدن کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکنان پر ظلم و ستم کی انتہاء ہوچکی ہے پارٹی کارکنان کو چن چن کر نشانہ بنانا اب روز کا معمول بن چکا ہے خدارا قانون نافذ کرنے والے ادارے خواب غفلت سے جاگیں ہمارے ہر شہید کے قاتلوں کے ٹھکانوں سے پولیس بخوبی واقف ہے باچا خا ن مرکز سے جاری کردہ بیان میں رہنمااے این پی سند ھ اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ ہم ڈی رینجرز ،کورکمانڈر اور کراچی پولیس چیف سے رہنماؤں و کارکنان کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں اے این پی سند ھ زر بدن کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے

 

مورخہ: 20.2.2014 بروز جمعرات
کراچی، اورنگی ٹاؤن ٹارگٹ کلنگ؛ ڈاکٹر اسرار،جمشید خان اور راضم اللہ پارٹی کے کارکنان، اقبال خان سوات سے مہمان تھےعوامی نیشنل پارٹی سندھ کے ترجمان کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اورنگی ٹاؤن ایم پی آر کالونی میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے ڈاکٹر اسرار،جمشید خان اور راضم اللہ ،عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان تھے ،اور اقبال خان سوات سے آئے ہوئے مہمان تھے ۔
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں معاملات ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں کراچی کو فی الفور فوج کے حوالے کیا جائے دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دسترس سے باہر ہوچکے ہیں،کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست ناقابل معافی جرم بن چکی ہے دہشت گرد چن چن کر پارٹی رہنماؤں و کارکنان کو نشانہ بنارہے ہیں عہدیداران و کارکنان پر حملے روز کا معمول بن چکا ہے ایک منصوبے کے تحت ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ملک کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے صف آراء جماعت کے عہدیداران کے ساتھ ہمارے اداروں کا سلوک انتہائی افسوس ناک ہے شہر میں حکومت نا م کی کوئی چیز نہیں ہے صرف اور صرف دہشت گردوں کا راج ہے صوبائی حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے فوج شہر میں دہشت گردی کے خلاف کاروائی کرے کارکنان کو امن کی تلقین کرتے کرتے تھک چکا ہوں ۔ٹارگٹ کلنگ میں شہیدہونے والے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں۔
مورخہ: 20.2.2014 بروز جمعرات
پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صوبائی صدر بشیر احمد خان مٹہ اور سیکرٹری جنرل جمیلہ گیلانی نے بیگم نسیم ولی خان کی گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بہتر یہ ہوتا کہ بیگم صاحبہ اپنی پارٹی بنانے کے اعلان کے ساتھ اپنا پروگرام عوام کے سامنے پیش کرتی۔ مگر اُنہوں نے متسفانہ حسب معمول عوامی نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان کو بلا جواز تنقید کا نشانہ بنایا۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی پختونوں کی مقبول سیاسی پارٹی ہے اور اس کا آئین اور منشور عرصہ دراز سے عوام کے سامنے ہے۔ یہ پارٹی اپنے دو عظیم رہبران بابائے امن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے مرتب کردہ نظریے اور اُصولوں پر کاربند ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ پارٹی اپنے اداروں اور عوام کو جواب دہ ہے اور کسی دوسری پارٹی کے کسی شخصیت کو یہ حق نہیں کہ وہ اس پارٹی پر بلا جواز تنقید کرے۔ اس لیے ہم مشورہ دیتے ہیں کہ مستقبل میں اس سے اجتناب کیا جائے۔
جہاں تک پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان کا تعلق ہے وہ بابائے امن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے حقیقی سیاسی وارث ہیں ۔وہ خان عبدالولی خان کی زندگی میں بھی پارٹی کے صدر رہے اور اُن کی قیادت میں خود بیگم نسیم ولی خان بھی کام کر چکی ہیں۔ یہ بات کہنے کی محتاج نہیں کہ اے این پی کے تمام ورکرز اسفندیار ولی خان کی قیادت میں متحد ہیں اور رہیں گے۔
جہاں تک باچا خان مرکز کا تعلق ہے وہ اے این پی کی میراث اور اے این پی کے کارکنوں کی مستقل ملکیت ہے اور کسی شخص کی ذاتی جائیداد نہیں۔ سب دُنیا کو علم ہے کہ باچا خان مرکز پارٹی کے کثیر تعداد کارکنوں کے چندوں سے تعمیر کیاگیا ہے اور اُنہی کی ملکیت ہے اور رہے گا۔ یہ تمام کارکنان آج اسفندیار ولی خان کی قیادت پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔مورخہ : 20.2.2014 بروز جمعراتپشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی ترجمان حسن بونیری کی طرف سے جاریکردہ ایک اخباری بیان میں تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں جاری یونین کونسلوں کی سطح پر تنظیم سازی کے عمل کو جمہوری اور شفاف انداز میں مقررہ تاریخ تک مکمل کریں۔ یونین کونسل سے لیکر اضلاع کی سطح پر اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ قومی جذبے سے سرشار نوجوانوں کو یوتھ کی قیادت کی ذمہ داری سونپی جائے اور آرگنائزنگ کمیٹی ہر سطح پر خواتین کو اہم ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اُن کی شراکت کو یقینی بنائیں کیونکہ عوامی نیشنل پارٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں میں خواتین کی نمائندگی ضروری ہے اور نینشل یوتھ آرگنائزیشن سیاست میں خواتین کے فعال کردار کے علاوہ معاشرے میں ان کے حقوق کیلئے عملی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل یوتھ کے آئین کے تحت یونین کونسل سے لیکر مرکزی سطح تک خواتین کی نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے۔
کراچی19؍فروری 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ شہر قائد میں قلت آب کے سنگین بحران پر نہایت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام پہلے ہی شہر میں دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری ، لا قانونیت، کا عذاب جھیل رہے ہیں ،حب ڈیم ے پانی کی فراہمی بند ہونے کے بعد کراچی میں پانی کی قلت حکومت کی ناکامی ہے پہلی ہی عوام واٹر بورڈ اور کے الیکٹرک کی باہمی چپقلش کی وجہ سے پانی کی کمی وجہ سے پریشان ہیں حب ڈیم سے پانی کی فراہمی بند ہونے کی خبر ہوش اڑانے سے کم نہیں اور ان حالات کے تناظر میں شہریوں کو ایک اور اذیت اور عذاب سے دوچار کیا جارہا ہے لگتا ہے حکومت عوام کوذہنی مریض بناکر ہی چھوڑے گی ، باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے ترجمان نے مذید کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی نا مناسب کارکردگی شہر میں واضح طور پر نظر آتی ہے مختلف بہانوں سے پانی کی کمی کا جواز بنا کر شہریوں سے نا انصافی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے کبھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ تو کبھی کوئی اور جواز بنا کر شہر میں پانی کا بحران پیدا کردیا جاتا ہے،بد امنی اور مہنگائی کی چکی میں پسی عوام پر رحم کیا جائے ،سندھ حکومت کراچی کے شہریوں پر رحم کرے ، کراچی واٹر بورڈ کی نااہلی اور مناسب حکمت عملی کے فقدان کی وجہ سے شہر میں قلت آب کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں پانی کے بحران کا فی الفور نوٹس لیا جائے اور مختلف بہانوں سے شہر میں پانی کا بحران اور عوام کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کو مستقل بنیادوں پر فراہمی آب کو یقینی بنایا جائے ۔

 

تاریخ: 19 فروری 2014ء
سوات: عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر امر جیت ملہوترا نے سوات میں اڈہ ٹیکس کامعاملہ افہام وتفہیم سے حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت علاقے کو تصادم سے بچانے کیلئے فوری طورپر اقدامات اٹھائیں، سوات کے ٹرانسپورٹروں سے شرح سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے سے گریز کیاجائے ، سوات جوکہ پہلے ہی سے بدحالی کا شکار ہے ، صوبائی حکومت یہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے مزید برسرروزگار لوگوں کو بیروزگار کرنے پر تلی ہوئی ہے ،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امر جیت ملہوترا نے کہاکہ صوبائی حکومت ایک معمولی مسئلہ حل کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے اور ڈرائیوروں کو اڈہ ٹیکس کے حوالے سے جوشرح دیاگیا ہے اس پر عملدرآمد کویقینی بنانے میں حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ، انہوں نے کہاکہ سوات مزید تصادم اور جنگ جھگڑوں کامتحمل نہیں ہوسکتا ، لہٰذا متعلقہ حکام اس اہم مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے تمام تر اقدامات اٹھائیں اگر صوبائی حکومت ایک معمولی مسئلہ حل نہیں کرسکتی تو وہ مستعفی ہوجائے کیونکہ ان کو حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے انہوں نے کہاکہ سوات میں ٹھیکیداروں کوانتظامیہ نے ٹیکس کے وصولی کیلئے جو شرح دیا ہے اس پر عملدرآمد کویقینی بناکر اس اہم مسئلے کو حل کیاجائے ایسا نہ ہوکہ حکومتی غفلت کسی بڑے تباہی کا پیش خیمہ بن سکے۔
مورخہ: 19.2.2014 بروز بدھ
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے آرگنائزنگ کمیٹی کا ایک خصوصی اجلاس اے این پی کے صوبائی رہنما میاں مشتاق احمد شہید ، خدائی خدمتگار گل رحمان کاکااور ندیم شہید کے چہلم اور پارٹی فارم سازی کے حوالے سے پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ نذر باغ فلیٹ میں زیر صدارت خوشدل خان ایڈووکیٹ منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلعی آرگنائزنگ سیکرٹری کامران صدیق ، ممبران ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی رضاء اللہ خان ایڈووکیٹ ، عبدالمالک خان ، حاجی راجہ گل اور دیگر ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں پارٹی کے شہداء کے چہلم کو 22 فروری کو عقیدت و احترام سے منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا اور پارٹی کے تمام کارکنوں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ 22 فروری بروز ہفتہ بوقت 2.00 بجے باچا خان مرکز میں شہداء کے چہلم میں جوق در جوق شرکت کریں۔ اجلاس میں پارٹی فارم سازی کے حوالے غورو حوض ہوا اور پارٹی کے یونین کونسلوں کی الیکشن کمیشنوں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ 15 دن کے اندر اندر تمام وارڈوں کی تنظیمیں مکمل کریں اور اس کا تمام ریکارڈ بمعہ فیس پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ میں جمع کریں۔
اجلاس کے آخر میں شہداء کی روح کے ایصال ثواب کیلئے اجتماعی دُعا کی گئی۔
مورخہ: 19.2.2014 بروز بدھ
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد خان مٹہ کی زیر صدارت صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کا ایک اجلاس باچا خان مرکز میں منعقد ہوا۔ جس میں صوبائی جنرل سیکرٹری محترمہ جمیلہ گیلانی ، صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ ، صوبائی سیکرٹری فنانس سید جعفر شاہ (ایم پی اے) ، ایمل ولی خان ، سید عاقل شاہ اورسابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین و تاج الدین خان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔
اجلاس میں آنے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے اضلاع کی سطح پر بلدیاتی الیکشن کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔ جن کے نام متعلقہ اضلاع کے چیئرمینوں کو روانہ کر دیئے گئے۔ فیصلے کے مطابق ہر ضلع کا چیئرمین بہ لحاظ عہدہ متذکرہ کمیٹی کا چیئرمین جبکہ ضلع کا سیکرٹری اس کمیٹی کا سیکرٹری ہو گا جبکہ ضلع پشاور کیلئے خوشدل خان ایڈووکیٹ (صدر) اور انوارالحق (سیکرٹری) ہو گا۔
ان نامزد کمیٹیوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آنے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے کارکنوں کو ٹکٹ جاری کر سکیں گے۔ جبکہ صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی اپیلیٹ کمیٹی ہوگی۔ اس طرح یہی الیکشن کمیٹیاں اتحادی جماعتوں یعنی جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کیساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں بھی بااختیار ہوں گی۔ تمام کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اتحادی جماعتوں کیساتھ رابطہ کر کے اتحاد کو مربوط اور باعمل بنائیں۔
اجلاس میں ممبر سازی مہم پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور کارکنوں کے جذبے کوسراہتے ہوئے ان کو شاباش دی گئی کہ انتہائی نامساعد حالات کے باوجود اُنہوں نے دن رات ایک کر کے فارم سازی مہم کو کامیاب بنایا ۔ کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر فارم باچا خان مرکز پہنچا دیں اور وارڈ / گاؤں کی سطح پر تنظیم سازی کا عمل معینہ مدت کے اندرمکمل کریں تاکہ یونین کونسلز کی سطح پر تنظیم سازی کا عمل شروع ہو سکے۔
مورخہ: 19.2.2014 بروز بدھ
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ نے پی ایس ایف کے کارکنوں کو حراساں کرنے اور اُنہیں ناجائزطور پر جھوٹے مقدمات میں پھنسانے پر صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے نازیبا رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ نے پی ایس ایف کے بے گناہ کارکنوں کو تین ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بند کر دیا ہے۔ جو کہ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے۔ کیونکہ اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنوں نے پی ایس ایف کے کارکنوں کے کمروں کو آگ لگا کر اُن کی تمام دستاویزات ، کتابوں اور دیگر سامان کو جلا ڈالا جس کی ایف آئی آر بھی درج ہے۔ جبکہ پولیس کو مطلوب جے ٹی آئی کے نامزد ملزمان یونیورسٹی میں دندناتے پھر رہے ہیں اور جلوس بھی نکال رہے ہیں تاہم اُنہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا ۔ جبکہ دوسری طرف پی ایس ایف کے پُر امن اور بے گناہ کارکنوں کو تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت میں کیا آئی کہ اُن کی ذیلی تنظیم نے حسب روایت جامعہ پشاور میں غنڈہ گردی کی ابتدا کر کے تعلیمی ماحول کو ایک بار پھر خراب کر دیا ہے جس کی پشت پر صوبائی حکومت کھڑی ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور پی ایس ایف کے کارکنوں کے ساتھ زیادتیوں سے باز آجائے ورنہ تعلیمی اداروں میں ماحول خراب کرانے کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہو گی۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ تین ایم پی او میں گرفتار بے گناہ طلباء کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
میجر جہانزیب شہادت، دشمنوں کی ترجیحات عیاں ہیں حکومت اپنی ترجیحات واضح کرے، شاہی سید
کراچی۔ منگل 18 فروری 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنما سینیٹرشاہی سیدنے کہا ہے کہ ایف آر پشاور میں دہشت گردوں کے ہاتھوں پاک فوج کے میجر جہانزیب کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہے عوامی نیشنل پارٹی اپنے اداروں کے شان بشانہ کھڑی ہے دہشت گردکھلم کھلا اپنے عزائم اور ارادوں کا اظہار کررہے ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیے جائیں انسانیت کے دشمنوں کی ترجیحات بالکل عیاں ہوچکی ہیں حکومت اپنی ترجیحات واضح کرے فوج ،ایف سی ،پولیس کے جوانوں کے قاتلوں اور اسلام کو بدنام کرنے والے دہشتگردوں سے نجات کیلئے پوری قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر قسم کی مصلحت پسندی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ خون ناحق بہانے والے اور معصوم عوام کو خاک و خون میں نہلانے والے قوم و ملت کے غدار ہیں جو شریعت کے نام پر معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں ملک کے اداروں، سیکیورٹی فورسزکے اہلکاروں اور بے گناہ عوام پر حملے کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں دہشتگرد اپنی درندہ صفت کاروائیاں جاری رکھنے کیلئے جھوٹے اور من گھڑت جواز گھڑ رہے ہیں کراچی میں پولیس اور مہمند ایجنسی میں ایف سی اہلکاروں اور ایف آر پشاور میں میجر جہانزیب کا قتل بد ترین دہشتگردی ہے۔ انہوں گزشتہ روز میڈیا چینلز کے دفاتر اور وین پر دستی بم حملوں کی شدید مذمت کی۔باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن وکیل خان سواتی نے کراچی کے تمام ضلع آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد پر شدہ ممبر شپ فارم جلد از جلد صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن سید حنیف شاہ کے پاس جمع کروادیں۔

مورخہ : 17.2.2014 بروز پیر

پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ اور صوبائی ترجمان حسن بونیری کی طرف سے ایک مذمتی بیان میں میں مذہبی دہشتگرد تنظیم اسلامی جمعیت طلباء کی طرف سے یونیورسٹی کیمپس میں باہر سے دہشتگرد کو بلا کر یونیورسٹی کیمپس میں معصوم طلباء کو زندہ جلانے کی کوشش انتہائی افسوس ناک قراردیا ہے۔ اورصوبائی حکومت تحریک انصاف کے انصاف پسندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی کابینہ میں شامل سینئر وزیر اور وزیر بلدیات مسلسل یونیورسٹی کے پر امن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور آج کا واقعہ صوبائی حکومت کے انصاف کے دعوے پر ایک کالی ضرب ہے۔ اور تعلیم دُشمنی اور دہشتگردی کے اس دور میں تعلیمی اداروں کے اندر دہشگردی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی صوبائی کابینہ اور صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کریں اور یونیورسٹی کے پر امن ماحول کو تباہ کرنے سے بچائیں۔

مورخہ: 17.2.2014 بروز پیر

پشاور: پختون ایس ایف کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور کیمپس چیئرمین مقرب خان بونیری نے مشترکہ بیان میں آج ایک بار پھر اسلامی جمیعت طلبہ کے روپ میں کالعدم انتہا پسند مذہبی تنظیموں کے کارکنان نے ہاسٹل اے اور بی بلاک پر حملہ کو افسوسناک قرار دیا۔ جس کو پی ایس ایف نے جوابی کارروائی کے نتیجے میں پسپا کر دیا گیا۔ اس دوران فائرنگ بھی ہوئی اور ہاسٹل کمروں کا جلاؤ اور گھیراؤ بھی ہوا۔ امتیاز وزیر نے پی ایس ایف کے خلاف صوبائی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کے ناپاک کرتوتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پی ایس ایف کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایف کے اعلیٰ مقام اور برتر پُر امن سیاسی فعالیت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرینگے۔ امتیاز وزیر نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ پی ایس ایف کے خلاف سازشوں سے باز آجائیں ورنہ نتائج ٹھیک نہیں نکلیں گے۔ کیونکہ پی ایس ایف کسی بھی سازش اور انتہا پسندی کوتعلیمی اداروں میں قبول نہیں کرینگے۔ امتیاز وزیر نے اسلامی جمیعت طلبہ کو مشورہ دیا کہ جتنی چادر اُتنے پاؤں پھیلاؤ تاکہ یونیورسٹی کے پُرامن تعلیمی ماحول میں عام طلبہ کے حقوق ، وقار اور آزادی کو یقینی بنایاجاسکے۔

مورخہ: 17.2.2014 بروز پیر

پشاور : باچا خان مرکز پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی خواتین عہدیداران اور آرگنائزنگ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس محترمہ جمیلہ گیلانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں سابقہ اے این پی خواتین ممبران اسمبلی ، اے این پی کے سابقہ عہدیداران اور بڑی تعداد میں اے این پی کی خواتین کارکنان نے شرکت کی۔ جس میں مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کی رُکن محترمہ بشریٰ گوہر نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔
اجلاس میں پارٹی اُمور ، ممبر سازی ، بلدیاتی الیکشن ، پارٹی انتخابات اور ملک اور باالخصوص پختون خطے میں جاری موجودہ صورتحال پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اور مختلف آراء اور تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس میں پختونخوا میں جاری امن کی کاوشوں کی اشد ضرورت محسوس کی گئی اور حکومت (مرکزی اور صوبائی) سے مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں ہر صورت امن و امان کے قیام میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ٹھوس اور عملی اقدامات اُٹھائے۔ نیز اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ امن کے جاری عمل میں خواتین کی رائے کو بھی شامل کیا جائے اور فاٹا اور پختونخوا میں خواتین کے حقوق پر کسی قسم کی سودا بازی نہ کی جائے۔
اجلاس میں حالیہ دنوں اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین کے حجرے پر فائرنگ کے واقعہ کی پُر زور مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مجرموں کو تلاش کیا جائے اور واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائے۔
اجلاس میں پولیو ورکرز کے کردار کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا اور خاص کر خواتین ورکر کے حوصلے کو داد دی گئی۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت کا خاطر خوا انتظام کیا جائے۔ نیز یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جو خواتین اساتذہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پولیو ڈیوٹی نہیں کر سکتی وہاں پر متبادل انتظامات کیا جائے اور ان کو زبردستی ڈیوٹی پر مجبور نہ کیا جائے۔
اجلاس میں پشاور یونیورسٹی میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کیساتھ ناروا سلوک پر سخت مذمت کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان قوتوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو معاشرے میں محبت کی بجائے نفرتوں پر یقین رکھتے ہیں۔
اجلاس میں پختون خواتین کو یہ پیغام دیا گیا کہ خطے میں گھمبیر حالات میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کا ساتھ دے اور پارٹی میں شامل ہو کر خطے میں اپنے اور آنے والی نسلوں کے بہتراور پُر امن مستقبل کیلئے جدوجہد میں حصہ دار بنے۔ کیونکہ عورتیں ہی دُنیا میں امن کیلئے بہتر کوشش کر سکتی ہیں۔ وہ تاریخ میں کبھی بھی جنگ و جدل کا حصہ نہیں رہی۔ اور ہمیشہ سے پُر امن حال اور مستقبل کے خواہشمند رہی ہیں

مورخہ: 17.2.2014 بروز پیر

سوات میں لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے دیگر مسائل کے حوالے سے سوات جرگہ اور واپڈا کے درمیان اٹھارہ فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام میں اجلاس مقرر

سوات میں بجلی کی ناروا ، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور سوات ٹریڈرز فیڈریشن کی کامیاب ہڑتال کا نوٹس لیتے ہوئے سید جعفر شاہ ایم پی اے نے سینیٹر زاہد خان اور سینیٹر امر جیت ملہوترا اور واپڈا کے اہکاروں سے بذریعہ خط اور ٹیلیفون رابطہ کر کے پوری صورتحال سے آگاہ کیا اور مسئلہ کے جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیز سید جعفر شاہ نے مسئلہ حل نہ کرنے کی صورت میں سواتی عوام کیساتھ مل کر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرے میں شرکت کی دھمکی بھی دے دی۔
سینیٹ میں سٹینڈنگ کمیٹی واپڈا کے چیئرمین سینیٹر زاہد خان نے مسئلہ واپڈا کے اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لاتے ہوئے فوری طور پر اس مسئلہ کو حل کرنے کی ہدایت کی۔ اور اس سلسلے میں مورخہ 18 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں واپڈا اور سوات جرگہ کے درمیان فوری اجلاس بلایا ہے۔ جوزاہد خان کے دفتر میں صبح 10.00 بجے منعقد ہو گی۔ سوات جرگہ کی قیادت اے این پی سوات کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیرمحمد ایوب اشاڑی کرینگے۔ جبکہ اجلاس میں سینیٹر امر جیت ملہوترا بھی شرکت فرمائینگے۔ سید جعفر شاہ پشاور میں اہم مصروفیات کی بناء پر شریک نہیں ہو سکیں گے۔
میٹنگ میں سوات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ، بریکوٹ اور مدین گرڈ سٹیشن کی بحالی، خوازہ خیلہ واپڈا ڈویژن ، مدین سب ڈویژن ، چکدرہ تا سوات 132000 کے وی لائن کی توسیع، ضرورت کی بنیاد پر کھمبوں اور ٹرانسفارمرز کی فوری فراہمی اور دیگر مسائل شامل ہیں۔ وفد کی قیادت ایوب اشاڑی کرینگے۔ جبکہ وفد میں سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم ،حاجی رسول خان، حضرت رحمان ، خان طوطی ، خالد محمود ، عبدالحی آشنا ، وکیل خان ، ابرہیم دیولئی ، خواجہ خان ، محمد رحیم مدین ، حاجی میاں سید غفور وغیرہ شامل ہونگے۔
وفد سینیٹر زاہد خان کے ساتھ سوات کی شاہراہوں کی تعمیر ، گیس لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل پر بھی بحث کرینگے تاکہ ایوان بالا میں سوات کے مسائل پر مؤثر آواز اُٹھائی جا سکے۔

مورخہ:16-2-2014 بروز اتوار

پشاور: پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ہنگامی اجلاس آج بروز اتوار باچاخانؒ مرکز میں صوبائی چےئرمین امتیاز وزیر کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں پشاور یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ اور اُن کے روپ میں کالعدم انتہاپسند مذہبی تنظیموں کے کارکنوں کی طرف سے مختلف ہاسٹلوں میں پی ایس ایف کمروں کی بے حرمتی ، جلاؤ گھیراؤ ، صوبائی حکومت کے دباؤ پر یونیورسٹی انتظامیہ کی بے حسی اور مجرمانہ غفلت پر شدید غم و غصّے کا اظہار کیا گیا۔اور پی ایس ایف کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے پر زوردیا۔
اجلاس میں پی ایس ایف نے واضح کیا کہ پشاور یونیورسٹی سمیت پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں مذہبی تنظیموں کا انتہا پسندانہ ایجنڈا مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلباء کے روپ میں کالعدم تنظیموں کے غیر قانونی اور اوباش آراکین کو اسلام اور حیا کے نام پر معصوم طلباء و طالبات کے عزت نفس ، وقار اور آزادی کو مجروح کرنے سے قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ تاہم پی ایس ایف تعلیمی اداروں میں پُرامن تعلیمی ماحول ، طلباء کے جائز حقوق اور اُن کی عزت و آزادی کیلئے پی ایس ایف پُرامن جدوجہد کا تاریخی تسلسل جاری رکھے گی۔
اجلاس میں پی ایس ایف نے ہر سال صوبہ پختونخوا کے تمام یونیورسٹیز میں ویلن ٹائن ڈے بھرپور طریقے سے منانے کا اُصولی فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں مقرب خان بونیری ، فخرعالم ، تاج وزیر ، کاشف مومند ، توحید داؤد زئی ، سنگین شاہ سمیت یونیورسٹی کیمپس کے مختلف یونٹس کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔

مورخہ:16-2-2014 بروز اتوار
پشاور: صوبائی حکومت ڈاکٹرز کی سروس سٹرکچر کا اعلان کریں. سردارحسین بابک

یہ بات اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے باچاخانؒ مرکز میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صوبائی تنظیم سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کا اپنے مطالبات کیلئے ہڑتالوں کی وجہ سے غریب عوام کو بے حد تکلیف اور نقصان کا اندیشہ ہے ۔ اس لئے حکومت کو فوری طور پر ڈاکٹروں کے مطالبات پر سنجیدہ قدم اُٹھانی چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کا صوبے کے غریب مریضوں کیلئے بڑی خدمات ہیں اسلئے حکومت کو مزید وقت ضائع کئے بغیر سروس سٹرکچر اور منیجمنٹ کا اعلان کرنا چاہئے ۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو یقین دلایا کہ وہ ڈاکٹروں کے مسائل کو اسمبلی کے فلور پر اُٹھائیں گے اور ان کی آواز کو مؤثر انداز میں اُٹھائیں گے۔

مورخہ: 15.2.2014 بروز ہفتہ

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے حجرے واقعہ پبی محلہ میاں خیل میں نامعلوم دہشتگردوں نے حملہ کیا۔اور یہ خبرالیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا میں شائع ہوئی۔ جس کے بعدٹیلیفون کالز کا تانتا بانتا رہا اور ملک بھر سے اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں رہنماؤں ، کارکنوں اور خیر خواہوں نے بذریعہ ٹیلی فون / پیغامات کے ذریعے میاں افتخار حسین کی خیریت دریافت کی ۔اور اُن کی صحت و سلامتی اور درازی عمر کیلئے دُعا کی۔
اُنہوں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور تحقیقات کر کے اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ بے نقاب کیے جائیں۔تاکہ آئندہ ایسا نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کا اولین فرض ہے اور اُن کو یہ فرض بخوبی نبھانا چاہیے۔ میاں افتخار حسین نے ملک بھر سے خیریت دریافت کرنے والوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور اُن کے احساسات اور جذبات کو سراہا۔

پوری پارٹی ملک عثمان اچکزئی کے غم میں برابر کی شریک اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے۔اسفند یار ولی خان
کراچی ۔ ہفتہ 15 فروری 2014
عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنماء ،حضرت باچا خان بابا کے دیرینہ ساتھی اور اے این پی بلوچستان کے رہنماء ملک عثمان اچکزئی کے والد ملک شاہ جہاں خان کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے ،مرحوم کی نماز جنازہ کلی کلک کاکوزئی ضلع قلعہ عبداللہ بلوچستان میں ادا کردی گئی ،نماز جنازہ میں پارٹی کی مرکزی ،صوبائی قائدین ،قبائلی عمائدین اور ہزاروں کارکنان نے شرکت کی ،عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے ملک شاہ جہاں خان کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک شاہ جہاں خان آخری دم تک پختون قومی تحریک سے وابستہ رہے پارٹی کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ملک شاہ جہاں خان کی وفات سے ہم ایک بزرگ اور انتہائی شفیق شخصیت سے محروم ہوگئے ہیں باچا خان بابا کے وقت سے پارٹی سے وابستہ ملک شاہ جہاں خان ہمارے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ ہیں ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلامدتوں پورا نہیں کیا جاسکتا پوری پارٹی ملک عثمان اچکزئی کے غم میں برابر کی شریک اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے ۔

مورخہ: 14.2.2014 بروزجمعۃ المبارک

پشاور: پختون ایس ایف کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور یونیورسٹی کیمپس پشاورکے چیئرمین مقرب خان بونیری نے ایک مشترکہ بیان میں پشاور یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں کھلے عام دہشتگردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے پی ایس ایف کی پُر امن ریلی پر یکطرفہ فائرنگ کر کے تعلیمی ادارہ کا پُر امن ماحول جان بوجھ کر خراب کیا گیا۔ امتیاز وزیر نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمعیت نے کالعدم انتہا پسند گروپوں کے کارکنوں سمیت پشاور یونیورسٹی کے متعلق ہاسٹلوں میں طلبہ کے ہاسٹل کمروں کو آگ لگائی جس میں طلبہ کی تعلیمی اسناد سمیت دیگر قیمتی اشیاء کو جلا کر راکھ کیا گیا۔ اسلامی جمیعت طلبہ کی یہ غنڈہ گردی کئی گھنٹوں تک جاری رہی لیکن انتظامیہ نے خاموش تماشائی کا کردار کیا۔ وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت اسلامی جمیعت طلبہ کی غنڈہ گردی کی پشت پناہی کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ جن کے نتیجے میں پی ایس ایف کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی گئی جن پر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔ امتیاز وزیر نے کہا کہ کسی بھی غنڈہ گرد تنظیم کا یونیورسٹی میں غنڈہ گردی اور کالعدم تنظیموں کے کارکنان کا یونیورسٹی میں حیاء کے نام پر قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ امتیاز وزیر نے یونیورسٹی انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کا ناپاک ایجنڈہ اور دباؤ مسترد کر کے یونیورسٹی سے کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے کارکنان کا صفایا کریں تاکہ پُر امن تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ امتیاز وزیر نے واضح کیا کہ پشاور یونیورسٹی میں فائرنگ سے پی ایس ایف کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ صرف اسلامی جمیعت طلبہ کے دہشتگرد کارکنوں نے صوبائی حکومت کی سرپرستی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے یکطرفہ فائرنگ کی ہے۔ جو قابل مذمت ہے تاہم پی ایس ایف یہ واضح کرتا ہے کہ پی ایس ایف کے خلاف سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایس ایف نے تاریخی طور پر ہر ظالم و آمر کے ظلم وزیادتی کے خلاف ہر دور میں حسینیت اور پختون ولی سے سرشار ہو کر ہمت اور حوصلے سے اپنا ملی کردار ادا کیا ہے۔ جس کا تسلسل آج بھی زندہ ہے۔

مورخہ: 14.2.2014 بروزجمعۃ المبارک

پشاور: پختون ایس ایف یونیورسٹی کیمپس پشاور کا اجلاس باچا خان مرکز میں زیر صدارت صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر منعقد ہوا۔ اجلاس میں سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین اور پی ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں ممبر سازی اور تنظیم سازی کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں اہم فیصلے کیے گئے۔ ان اُمور پر صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی اور ممبر سازی و تنظیم سازی کے حوالے سے صوبائی رپورٹ پیش کی۔ جس کے نتیجے میں عنقریب صوبائی انتخابات کا شیڈول جاری کیا جائیگا۔ تاہم جن یونٹس کا ممبر سازی ریکارڈ مکمل نہیں وہاں الیکشن یا یونٹ کا رجسٹریشن نہیں کیا جائیگا۔ اجلاس سے میاں افتخار حسین اور ایمل ولی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایف ایک تاریخی اور طلبہ کا نمائندہ فیڈریشن ہے جو تعلیمی اداروں میں پُر امن جدوجہد کے ذریعے پختون طلبہ اور پختون قوم کے حقوق کیلئے پُر امن جدوجہد کرتا ہے۔پی ایس ایف کا صوبائی سطح پر آرگنائزنگ کا جاری عمل بڑی حد تک تسلی بخش اور ا’مید افزا ہے جن کو جلد از جلد مکمل کر کے تیسرے مرحلے میں صوبائی انتخابات کا انعقاد آئینی اور جمہوری بنیادوں پر کرانا یقینی بنایا جائے تاکہ تمام کارکنوں کو بلا تفریق برابری کی بنیاد پر ان کے آئینی اور تنظیمی حقوق کو یقینی کریں۔ میاں افتخار حسین اور ایمل ولی خان نے پی ایس ایف کے کارکنوں پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں پُر امن فعالیت کو جاری رکھا جائے اور موبائل سفارت کاری کے ذریعے تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر فخر افغان باچا خان بابا ، رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کے افکار و نظریات اور ملی قائد اسفندیار ولی خان کی سیاست اور پیغام امن پختون طلبہ سمیت گھر گھر پہنچائیں کیونکہ پی ایس ایف عوامی نیشنل پارٹی کا تاریخی طور پر سرمایہ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے نوجوانوں پر جدید زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق بھرپور توجہ دینے کا فیصلہ پارٹی منشور کا اہم جزو بنایا ہے۔

مورخہ: 14.2.2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی عبوری صدر بشیر احمد خان مٹہ کی زیر صدارت صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس باچا خان مرکز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں محترمہ جمیلہ گیلانی ، سید عاقل شاہ، صدر الدین مروت ایڈووکیٹ ، ایمل ولی خان اور سید جعفر شاہ خان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں میاں افتخار حسین کے گھر بمقام پبی محلہ میاں خیل پر فائرنگ کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس واقعہ کی پُر زور مذمت کی گئی۔ اجلاس میں اس عمل پر تعجب کا اظہار کیا گیاکہ پولیس کی آنکھوں کے سامنے اتنا بڑا مجرمانہ واقعہ رونما ہوا مگر اُس کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی اور نہ ہی مجرموں کو پکڑنے کی کوشش کی گئی بلکہ سرکار نے نادیدہ وجوہات کی بناء پر اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت پرتشدد کارروائیاں روکنے میں کتنی غیر سنجیدہ ہے اور اپنے فرائض سے چشم پوشی کر رہی ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کرائی جائے اور حقائق منظر عام پر لا کر ملزموں کو گرفتار کرواکر قرار واقعی سزا دلائی جائے۔ اور تحقیقات کر کے اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ بے نقاب کیے جائیں۔ ہم حکومت کو ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ اگر وہ اس قسم کے مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہو گی تو وہ قوم کے سامنے جوابدہ ہو گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی صورت میں ایسے واقعات کو برداشت نہیں کریگی۔

کراچی،13 فروری 2014ء

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق علی گوٹھ کورنگی میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے امجد علی اے این پی علی گوٹھ وارڈ کے سابقہ جنرل سیکریٹر ی تھے۔ اے این پی سندھ کے رہنما سینیٹر شاہی سید نے امجد علی کی ٹارگٹ کلنگ کی بھرپور مذمت کی ہے اور کہا ہے دہشتگرد اے این پی کے رہنماؤں کو آزادانہ طور پر نشانہ بنارہے ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے نظر نہیں آتے ۔ سینیٹر شاہی سید نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔شہر میں عوامی نیشنل پارٹی کے ذمہ داران وکارکنان کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے ہمارے ہر کارکن کی ٹارگٹ کلنگ یا بم حملے کے واقعے کے بعد پولیس ذمہ داران مختلف شرم ناک بیانات دیکراپنی جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں قانو ن نافذ کرنے والے ادارے بیانات دینے کے بجائے عوام اور ہمارے پارٹی کارکنان کی حفاظت پر اپنی توانائیاں صرف کریں انتہائی زیادتیوں کے باوجود ہم نے اپنے ہونٹ سی رکھے ہیں اپنے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کا حساب لینے کی طاقت رکھتے ہیں تاہم کسی کو ٹارگٹڈ آپریشن کو ناکام یا روکنے کا جواز نہیں دینا چاہتے ایک انتہائی ذمہ دار سیاسی جماعت اور شہر کی اہم اسٹیک ہولڈر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کررہے ہیں ریاستی ادارے امجد علی کے قاتلوں کو گرفتار کریں

تاریخ: 13 فروری 2014ء

سوات : عوامی نیشنل پارٹی نے سوات کے حلقہ پی کے 86 کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا الیکشن میں اپنا اُمیدوارنامزد کرنے کا فیصلہ ، اُمیدواروں سے درخواستیں طلب کر دی گئیں ، حلقہ پی کے 86 میں جلسہ منعقد کرکے بھر پور طاقت کا مظاہرہ کیا جائیگا ، گزشتہ روز کانجو میں عوامی نیشنل پارٹی سوات کی سطح پر گرینڈ مشاورتی جرگہ کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ایوب خان ، سابق صوبائی وزیر واجد علی خان ، سابق ایم پی اے رحمت علی خان ، اکرام خان ، ابراہیم دیولئی اور دیگر ذمہ داروں نے بھر پور شرکت کی ۔ جرگہ میں سوات کے حلقہ پی کے 86 کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی اور اس موقع پر حاضرین سے تجاویز بھی لئے گئے جس کے تحت تمام حاضرین اور خصوصاً حلقہ پی کے 86 سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں اور ذمہ داروں نے تجاویز پیش کئے ۔ جس کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی حلقہ پی کے 86 کے ضمنی الیکشن میں بھر پور حصہ لے گی اور اپنا اُمیدوار نامزد کرکے بھر پور قوت کا مظاہرہ کرے گی انہوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ چند دنوں میں حلقہ پی کے 86 میں عوامی نیشنل پارٹی ایک بڑا جلسہ منعقد کرے گی جس میں بھر پور قوت کا مظاہرہ ہو گا گرینڈ جرگہ نے حلقہ پی کے 86 کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کیلئے اُمیدواروں سے درخواستیں بھی طلب کر دی خواہش مند افرادکو اپنی درخواستیں ضلعی پریس سیکرٹری اکرام خان کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی جرگہ نے پی کے 86 کے کارکنوں کو ٹاسک دیدیا حلقہ پی کے 86 کے ذمہ داروں اور گرینڈ مشاورتی جرگہ کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے استحکام کیلئے دن رات ایک کرکے کام کرینگے ۔ حلقہ پی کے 86 سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے ذمہ داروں ڈاکٹر ہدایت الرحمن ، جواد علی ، عدالت خان ، شعیب خان ، احسان اللہ خان ، سابق ناظم امان اللہ خان ، محمد نواز خان اور دیگر نے کہا کہ گزشتہ روز ڈاکٹر حیدر علی خان نے جو اجلاس بلا یا تھا اس میں ہماری شرکت اُن کے ساتھ متفق ہونا نہیں تھا بلکہ غلط فہمی کے بناء پر ہم نے جو شرکت کی تھی اجلاس سے قبل ہمیں نہیں بتایا گیا اور پہلے سے ایک منصوبہ طے کرکے پارٹی کارکنوں پر فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم کسی فردواحد کے کارکن نہیں بلکہ باچا خان کے پیروکار اور اُن کے نظریے کے ساتھی ہیں اس سرخ جھنڈے کے ساتھی ہیں انہوں نے کہا کہ حیدر علی خان کی وجہ سے گزشتہ 13 سالوں سے پارٹی کارکن خاموش اور گوشہ نشین تھے اب ان کے جانے کے بعد ناراض کارکن راضی ہو کر دوبارہ فعال ہو گئے ہیں انہوں نے کہا کہ صرف حیدر علی خان اور ان چند ساتھی پارٹی سے چلے گئے ہیں باقی کارکن پارٹی کے ساتھ ہیں اور پارٹی کے ساتھ رہیں گے انہوں نے کہا کہ پارٹی کو گھر کی لونڈی بنانے کے حق میں نہیں ہے مردانہ وار مقابلہ جانتے ہیں اب ہم میں ہمت ہے اور گرینڈ جرگہ میں پارٹی نے جو فیصلے کئے ہیں ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں پارٹی کے استحکام کیلئے دن رات ایک کرکے کام کرینگے ۔ اس موقع پر ضلعی چیئرمین ایوب خان ، سابق صوبائی وزیر واجد علی خان ، سابق ایم پی اے رحمت علی خان ، ابراہیم دیولئی اور اکرام خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی مثال گاڑی کی ہے اور کسی کے اتر جانے اور چڑھنے سے اس گاڑی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہم باچا خان کے پیروکار ہیں اور پارٹی کے استحکام کیلئے دن رات کام کرینگے اس پارٹی کی جڑیں عوام اور پختونوں کی اس دھرتی میں ہے نظریاتی بنیادی پر قائد جماعت پختونوں کی بقاء اور سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہے انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے 86 کے ضمنی الیکشن میں بھر پور حصہ لیں گے اور حلقہ کے کارکنوں نے اس حوالے سے جو تجاویز دی ہیں وہ قابل ستائش ہے اس موقع پر عبدالجبار خان ، شیر افضل خان ، خان سردار ، صبور خان ، خورشید خان ، خداداد ، سلطان علی خان ، عبدالمالک ، عدالت خان لالا جی ، وکیل احمد ، ملک احمد ، آفرین خان ، ذہین خان ، ملک رحمت علی خان اور دیگر نے بھی خطاب اور تجاویز پیش کئے ۔ جرگہ میں پیش کردہ تجاویز پر عمل درآمد کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔

مورخہ: 13.2.2014 بروز جمعرات

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی عبوری صدر بشیر احمد خان مٹہ نے پشاور یونیورسٹی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں طالبہ کی حراسمنٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے ہمارے بچوں کی اخلاقی تربیت کرنے کی بھی درسگاہیں ہیں۔ اگر ان اداروں میں بھی ہمارے بچوں کی عزتیں محفوظ نہیں تو صاحب اختیار لوگوں کا رویہ بھی سوالیہ نشان ہے۔ بڑے افسوس کی بات کہ جس دیدہ دلیری سے جامعہ کی عزت کو پامال کیا گیا۔ مگر ابھی تک ملزم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ صوبائی حکومت دلچسپی لیکر حقائق کی روشنی میں ملزم کو کیفر کردار تک پہنچا دیتی تاکہ آئندہ کسی اور کو ایسی جرأت نہ ہوتی۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ حکومت اتنے بڑے غیر اخلاقی واقعے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر صوبائی حکومت غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیکر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور ملزم کو قرارواقعی سزا دلوائے تاکہ یونیورسٹی کی طالبات میں پھیلی بے چینی کا سد باب کیا جاسکے۔

مورخہ: 13.2.2014 بروز جمعرات

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ایمل ولی خان نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 مہینے گزرنے کے باوجود کوئی قابل ذکر منصوبہ شروع نہیں کر سکی۔ بلکہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں شروع کیے گئے منصوبوں پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں شروع کی گئی باچا خان خپل روزگار سکیم کا نام تبدیل کر کے خود کفالت روزگار سکیم نام رکھنے سے صوبائی حکومت عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ اے این پی کے دورحکومت میں جاری کی گئی اس سکیم کیلئے دو عرب دئیے تھے ۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ مہنگائی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے اس رقم کو بڑھا دیتی مگراُنہوں نے اُسی رقم پر اکتفاء کیا جو کہ ضرورت مندوں کیساتھ نا انصافی ہے جبکہ دوسری طرف یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ سکیم موجودہ حکومت کی شروع کر دہ ہے جو کہ سراسر جھوٹ اور حقیقت سے آنکھیں چُرانے کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صرف اخباری بیانات کی حد تک تو موجود ہے مگر عملی طور پر صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ دراصل حکومت کو بنی گالہ سے ریموٹ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔جنہیں صوبے کی صورتحال کا کوئی ادراک نہیں اور وزیر اعلیٰ صاحب بے دست و پا ہو کر غیر فعال ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ انتخابات کے دوران عوام کیساتھ کیے گئے وعدوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے نہ کہ غیر ضروری باتیں کر کے عوام کو لولی پاپ کے ذریعے بہلائیں۔

مورخہ:13-2-2014 بروز جمعرات

کراچی، دہشت گرد اپنا اصل چہرہ دکھانے اور نادان اسے چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، اسفندیارولی خان، شاہی سید

عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹرشاہی سیدنے رزاق آباد میں پولیس موبائل اور پولیس وین پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گراپنے اہداف کو آزادانہ طور پر نشانہ بنارہے ہیں اورقوم میں اس حوالے سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے دہشت گردایسی مذموم کاروائیوں کے ذریعے اپنا اصل چہرہ کھلے عام دکھارہے اور بعض نادان اسے چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں دہشت گروں کا اپنا ایجنڈا ہے ہمیں بھی بحیثیت قوم اپنا واضح لائحہ عمل طے کرنا ہوگابے رحم عناصر سے نمٹنے کے لیے بھر پور طریقے سے نمٹنا ہوگاباچا خان مرکز سے جاری کردہ مشترکہ مذمتی بیان میں دونوں رہنماؤں نے مذید کہا کہ شہید پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں عوامی نیشنل پارٹی پسماندگان کے غم میں برابر کی شریک اور زخمیوں کی فوری صحت یابی کے لیے دعا گو ہے ۔

مورخہ:12-2-2014 بروز بدھ

پشاور: پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چےئرمین امیتاز وزیر اور یونیورسٹی کیمپس پشاور کے چےئرمین مقرب خان بونیری نے ولی باغ چارسدہ میں پی ایس ایف کے صوبائی ایڈوائیزر محترم ایمل ولی خان کے ساتھ ملاقات کیا ۔ ملاقات میں پی ایس ایف کے سیاسی اور تنظیمی اُمور کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے ۔ اس موقع پر ایمل ولی خان نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کمیٹی پر زور دیا کہ پی ایس ایف کے اندر آرگنائزنگ کا جاری عمل مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ پی ایس ایف ایک تاریخی ادارہ ہے جو تعلیمی اداروں میں پختون طلبہ کا واحد نمائندہ فیڈریشن ہے جس کا تسلسل 1968 ؁ء سے چلتا آرہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کے تمام کارکنان کو برابری کی بنیاد پر اُن کی آئینی اور جمہوری حقوق دلوانے اور تنظیمی ڈھانچہ کو فعال کرکے مزید بہتری آرگنائزنگ کے جاری عمل کا ہدف و منزل ہے ۔ اس موقع پر ایمل ولی خان نے کہا کہ پی ایس ایف کے تمام کارکنان اے این پی کا سرمایہ ہے جو موبائل سفارت کاری کے ذریعے فخرِافغان باچاخان باباؒ ، رہبر تحریک خان عبدالولی خان باباؒ اور ملی قائد اسفندیارولی خان کے افکار و نظریات اور امن کا پیغام تمام طلبہ سمیت گھر گھر پہنچا کر اپنی ملی ذمہ داری ادا کریں۔

مورخہ: 11.2.2014 بروز منگل

پشاور : (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام سابق ایم پی اے عالم زیب شہید کی پانچویں برسی باچا خان مرکز میں نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ برسی کے تعزیتی اجلاس کی صدارت صوبائی عبوری صدر بشیر احمد خان مٹہ نے کی جبکہ حاجی غلام احمد بلور ، میاں افتخار حسین ، سردار حسین بابک ، سید عاقل شاہ ، ملک غلام مصطفی ، ہارون احمد بلور ، تاج الدین خان ، صدر الدین خان مروت ایڈووکیٹ ، ارباب محمد طاہر خان خلیل ، سابق ایم پی اے اورنگزیب اور سٹی ڈسٹرکٹ پشاور سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں اور ورکروں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ عالم زیب شہید نے امن کی خاطر جان کانذرانہ پیش کیا اور اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ پانچ سالوں میں بشیر احمد بلور شہید سمیت کئی اہم پارٹی کے عہدیدار ایم پی اے اور حال ہی میں شہید ہونے والے میاں مشتاق کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی اور انشاء اللہ اس ملک میں امن قائم ہو کر رہے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی عدم تشدد کی قائل ہے اور اس نے گولی کا جواب کبھی گولی سے نہیں دیا۔ اُصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہم آج بھی مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور مذاکرات جس شکل میں بھی ہوں اور جس طریقے سے بھی ہوں ہم اس سرزمین پر امن چاہتے ہیں کیونکہ یہ امن کے بغیر ملک کی سلامتی اور بقاء کو بے پناہ خطرات درپیش ہیں۔ 2013 ء کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی ، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی اور جو پارٹیاں آج برسر اقتدار ہیں اُنہوں نے امن قائم کرنے کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا لیکن جب امن قائم کرنے کا وقت آیا توبرسراقتدار پارٹیوں نے طالبان کیساتھ مذاکرات کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ میں نے پہلے بھی کہا کہ طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے جو کمیٹی بنائی گئی اُس میں سیاسی لوگوں کو شامل کیا جائے۔ لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرکزی حکومت نے ٹیکنو کریٹس کی کمیٹی بنائی جن میں سیاسی لوگ شامل نہیں ہیں اور اُس کے جواب میں طالبان نے بھی ایسے نام نامزد کیے جنہوں نے اُن کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں جب دہشتگردی ختم کرنے کیلئے مذاکرات کا وقت آیا تو اے این پی کی لیڈر شپ نے مذاکرات میں حصہ لیکر قوم پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم عدم تشدد کے قائل ہیں اور بات چیت سے مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن آج صوبائی حکومت مرکزی حکومت پر اور مرکزی حکومت صوبائی حکومت پر ذمہ داری ڈال رہی ہے اور مذاکراتی ٹیم میں نہ صوبائی حکومت کے کوئی اہم افراد شامل ہیں اور مرکزی حکومت کے کوئی اہم افراد شامل ہیں۔ جس سے مذاکرات کی کامیابی کے امکان بہت کم نظر آتے ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا گو ہیں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہونے چاہیءں اور اس سرزمین پر امن قائم ہونا چاہیے۔ مذاکرات کے نعرے لگانے والے اور مذاکرات کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے آج عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والوں پر آج بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امن قائم کرنے کیلئے اپنا رول پلے کریں۔ اجلاس سے بشیر احمد خان مٹہ ، میاں افتخار حسین ، سردار حسین بابک اور سابق ایم پی اے اورنگزیب نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ: 11.2.2014 بروز منگل

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے شمع سینما میں یکے بعد دیگرے تین بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے ہمارے حوصلے پست نہیں ہو سکتے۔ اُنہوں نے باچا خان مرکز پشاور سے اپنے جاریکردہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات چل رہی ہے اور دوسری طرف روزانہ پختونخوا میں کوئی نہ کوئی دلخراش اور اندوہناک واقعات ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نہ ہی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں حکومت کا کوئی بندہ ہے اور نہ ہی طالبان کی کمیٹی میں کوئی طالبان کا بندہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور امن کی خاطرکسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ اے این پی واحد جماعت ہے جس نے قیام امن کیلئے سینکڑوں شہداء کا نذرانہ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے پُر زور مطالبہ کرتی ہے کہ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے اور جلد از جلد دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مؤثر کردار ادا کرے ۔ اُنہوں نے دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے اور متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

تاریخ: 11 فروری 2014

سوات : عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر امر جیت ملہوترا نے کہا ہے کہ مخصوص حکومتی ٹولہ علی بابا اور ان کے ہمنوا حکومتی مراعات سے مستفید ہورہے ہیں مخصوص ٹولے کے علاوہ باقی عوامی نمائندوں کا ترقیاتی فنڈ روک دیاگیا ہے ، حکومتی مخصوص ٹولے کو نواز رہے ہیں جبکہ باقی عوامی نمائندوں کو نظر انداز کیاجارہا ہے ، حکمرانوں کے قول وفعل میں تضاد ہے ، عوام اپنے نمائندوں سے ترقیاتی کاموں کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ حکمرانوں نے ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز تک روک دیے ہیں حکمران عوامی مسائل کے حل کے حق میں نہیں گزشتہ پانچ سالہ دور ہر لحاظ سے عوام کی فلاح وبہبود کا دور تھا، ان خیالات کااظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ تعمیر وترقی کے حوالے سے گزشتہ پانچ سالوں کو ایک مثالی طورپر یاد کیاجاتا ہے ، کیونکہ اس دور حکومت میں ترقیاتی فنڈز حکومتی اور اپوزیشن کے ممبران اسمبلی کو یکساں دی جاتی تھی اب علی بابا اور ان کا مخصوص ٹولہ نے ترقیاتی فنڈز کو اپنے تک محدود کردیا ہے ، باقی لوگوں عوامی نمائندوں کو فنڈنگ میں نظر انداز کیاجارہا ہے ، انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے مخصوص لوگوں کو نوانے کا عمل ترک کیاجائے ، یہ سراسر زیادتی و ناانصافی ہے ، لوگ ہم سے کاموں کے حوالے سے کافی توقعات رکھتے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے نامناسب رویہ قابل تشویش ہے ، انہوں نے کہاکہ یہ ظلم ناانصافی کی انتہاء ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مرکز میں ن لیگ اور صوبے میں انصاف کے علمبرداروں نے عوام کا جینا محال کرکے حکومتی مراعات سے چند مخصوص لوگوں کو نوازنے کے عمل پر عمل پیرا ہے ، حکمرانوں کے قول وفعل میں تضاد اور عوام ان لوگوں کے تضادات پر مبنی پالیسی سے بدظن ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام نے جن لوگوں سے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے توقعات وابستہ کررکھے ہیں حکمرانوں نے ان کے توقعات پر پانی پھیر دیا ہے ، اب فنڈنگ کے روکنے سے عام لوگوں کا نقصان ہورہا ہے انہوں نے کہاکہ ایک طرف پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے بلندوبانگ دعوے کئے جارہے ہیں ، جبکہ دوسری طرف گزشتہ آٹھ مہینوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ایک انچ کام کا نہ ہونا بھی اس کی اصلیت کی قلعی کخہل دیتی ہے ، انہوں نے کہاکہ تبدیلی باتوں سے نہیں عملی اقدامات سے ممکن ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ، انہوں نے کہاکہ حکومت مخصوص ٹولے کے نوازنے کے بجائے ترقیاتی فنڈ سے پابندی اٹھاکر یکساں عوامی نمائندوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں ۔

پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور اے این پی ایڈوائزری کمیٹی کا مشترکہ اجلاس کراچی۔ پیر 10 فروری 2014 اے این پی سندھ کی پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے حوالے سے بنائی گئی ایڈوئزری کمیٹی اور پختون ایس ایف سندھ کی کابینہ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ایڈوائزری کمیٹی کے ارکان سلطان مندوخیل ،یونس بونیری اور بشیر احمد اور پختون ایس ایف کے صوبائی صدر رضا خان جدون ،جنرل سیکریٹری حیدر علی خان ، سیکریٹری اطلاعات شہزاد ڈالمیا ،ارشد خان یوسف زئی اور پرویز خان گلگتی نے شرکت کی ،اجلاس میں پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے امور اور مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا ایڈوائزری کمیٹی نے ملکی حالات اور شہر کی صورت حال کے حوالے سے پارٹی پالیسی اور حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے پی ایس ایف کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ پختون ایس ایف ہماری بنیادی سیاسی نرسری ہے عوامی نیشنل پارٹی شہر کے تعلیمی اداروں میں پختون طلباء کو درپیش مشکلا ت کے حل کے لیے پختون ایس ایف کی ہر ممکن مدد کرے گی اور ہر مشکل گھڑی میں پارٹی کے پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے شانہ بشانہ ہوگی اس موقع پر پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر رضا خان جدون نے کہا کہ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ذیلی تنظیم کی حیثیت تمام سیاسی فیصلوں کی پابند ہے اور پختون ایس ایف عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی تنظیم پر مکمل اعتماد ہے بعض سازشی اور جرائم پیشہ عناصر کی سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ،پختون قومی تحریک میں ہم اے این پی کے شانہ بشانہ حصہ لیتے رہیں گے ۔

مورخہ: 10.2.2014 بروز پیر

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی عبوری صدر بشیر احمد مٹہ نے کمیٹیوں کے ذریعے طالبان کیساتھ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں حکومتی کمیٹی کی تشکیل اور کارکردگی میں کئی خامیاں سامنے آئی ہیں جس کی وجہ سے مذاکرات کے نتائج کے بارے میں عوام میں گہرے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ اس سے خاطر خواہ نتائج کا حصول مشکل ہو گا۔ جو کمیٹی تشکیل دی گئی وہ کھلی طور پر ایسے ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہے جو نسبتاً اوسط درجے کے لوگ ہیں۔ جبکہ اس نہایت ہی اہم اور ضروری مقصد کیلئے نہایت اعلیٰ درجے کے سیاسی بصیرت رکھنے والے ایسے شخصیات کو شامل کرنا چاہیے تھا جو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے اعتماد پر پورے اُترتے اور اُن کا عوام کی نظر میں بڑا وزن ہوتا۔ ظاہر ہے طالبان حکومت کی موجودہ کمیٹی کو کبھی وہ وقعت نہیں دینگے جو اُن کو ایک سلطنت کیطرف سے ذمہ وار اور بھاری وزن اور اعتماد رکھنے والی کمیٹی کو دینا چاہیے۔ مزید برآں حکومتی کمیٹی کو ایک واضح مینڈیٹ نہیں دیا اور نہ ہی اُس کو وقت کے لحاظ سے ایک واضح معیاد دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کمیٹی کے مذاکرات دیگر روٹین معاملات کی طرح ایسے ہی چلتے رہیں گے جیسے پاکستان کے بیسیوں اہم معاملات سست رفتاری سے چلتے ہیں۔ اور یہ عمل بھی مہینوں حتیٰ کہ سالوں تک طُول پکڑ سکتا ہے۔ جبکہ ملک کے امنیتی لحاظ سے نا گفتہ بہ حالات فوری نتائج کے متقاضی ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سات مہینے کی ہچکچاہٹ اور تذبذب کے بعد حکومت نے بالآخر جو قدم اُٹھایا ہے اُس نے پاکستان کے عوام کو اُمید کی کوئی بڑی کرن نہیں دی۔ اگر حکومت معاملات کو کمیٹیوں کے حوالے کر کے یہ سمجھتی ہے کہ اُس نے اس طریقے سے اپنا فرض منصبی پورا کیا تو یہ سراسر اپنے فرائض سے پہلو تہی اور غفلت ہو گی۔ وزیر اعظم صاحب کو چاہیے کہ وہ باقی سارے غیر ضروری کام جس میں وہ ہر وقت اُلجھے رہتے ہیں چھوڑ کر پاکستان میں امن قائم کرنے کی سب سے اہم ترین فرض کو اولیت دیں۔

مورخہ:9-2-2014بروز اتوار

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن پشاور کے انتخابات میں ملگری وکیلان کے رضااللہ خان ایڈووکیٹ کو صدر اور دیگر تمام کابینہ کو منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے ۔ انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ نومنتخب صدر غیرجانبدارانہ وکالت پر یقین رکھتے ہوئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنے مقاصد کو جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حق و باطل کی جنگ میں وکلاء برادری نے ہمیشہ حق پرستوں کا ساتھ دیا ہے ۔ حاجی محمد عدیل نے کہا کہ وکلاء برداری نے ملک میں جمہوریت کیلئے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے اور آزاد عدلیہ کیلئے اُن کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہر فورم پر وکلاء برادری کے جائز حقوق دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی وکالت میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کیلئے آواز اُٹھاتی رہے گی ۔

مورخہ: 8.2.2014 بروز ہفتہ

پشاور (پ ر) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی ترجمان حسن بونیری کے مطابق صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ کی زیر صدارت نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کا اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیشنل یوتھ کے الیکشن کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے جس کے مطابق صوبائی صدر نے باقاعدہ طور پر ضلعی آرگنائزنگ کمیٹیوں کو ضلعی الیکشن کمیشن قرار دیکر مندرجہ ذیل شیڈول اور قواعد و ضوابط کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ تنظیمی لحاظ سے یونین کونسل الیکشن کیلئے بنیادی یونٹ ہوگا۔ یونین کونسل کی کابینہ مسودہ آئین کے مطابق تشکیل ہوگی جس میں صدر ، سینئر نائب صدر ، دو نائب صدور جس میں ایک مرد ایک خاتون ، جنرل سیکرٹری ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ، دو جائنٹ سیکرٹری ایک مرد ایک خاتون ، کلچر اینڈ ایجوکیشن سیکرٹری ، انفارمیشن سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری پر مشتمل ہو گی۔ مسودہ آئین کے مطابق یونین کونسل میں دو عہدے فیمیل کیلئے مختص ہیں اور اس پر صرف خواتین ہی منتخب ہو سکتی ہیں۔ تمام ممبران اور ذمہ داران کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ممکن حد تک نہ صرف مختص عہدوں پر بلکہ جنرل عہدوں پر بھی خواتین کی ممکنہ حوصلہ افزائی کریں۔ جن اضلاع میں ضلعی آرگنائزنگ کمیٹیوں نے شیڈول کا اعلان نہیں کیا وہ دودن کے اندر باقاعدہ شیڈول جاری کریں۔ تمام اضلاع کی آرگنائزنگ کمیٹیاں پابند ہو گی کہ 11 فروری سے 25 فروری تک شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کے ذریعے تمام یونین کونسلز کی کابینوں کی تشکیل کریں۔ ضلعی الیکشن کمیشن یونین کونسل میں انتخاب اور کابینہ کی تشکیل کیلئے مقررہ جگہ پر جنرل باڈی اجلاس بلائے گی۔ تمام ممبران جنہوں نے این وائی او کی ممبر شپ حاصل کیا ہو جنرل باڈی کے ممبر ہونگے۔ الیکشن کے خواہشمند نوجوان الیکشن میں حصہ لینے کیلئے اسی وقت ضلعی الیکشن کمیشن کو درخواست دیں گے۔ صرف وہی اُمیدوار الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہونگے جو نیشنل یوتھ کے باقاعدہ ممبر ہوں۔ ضلعی الیکشن کمیشن آئین کے مطابق پوری کابینہ بذریعہ انتخاب ایک ہی نشست میں تشکیل دینے کی پابند ہو گی۔ کابینہ کا انتخاب ہوتے ہی یونین کونسل کا منتخب صدر جنرل باڈی کی رائے کے مطابق ضلعی کونسل کیلئے کونسلر کے ناموں کا انتخاب کر کے ضلعی الیکشن کمیشن کے حوالہ کریگی۔ آئین کے مطابق یونین کونسل کے صدر اور جنرل سیکرٹری ضلعی کونسل کے بہ لحاظ عہدہ ممبر ہونگے۔ یونین کونسل سے ضلعی کونسل کیلئے کونسلرز کا انتخاب بہ لحاظ ممبر شپ ہو گی۔ ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی / الیکشن کمیشن پابند ہو گی کہ ہر یونین کونسل کی پوری کابینہ کی لسٹ اور تفصیلات بشمول یونین کونسلز سے منتخب ضلعی کونسلرز کے نام اور تفصیلات نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ڈیٹا بیس پر الیکشن کے فوراً بعد اُسی دن اندراج کریں۔ ہر یونین کونسل میں انتخاب کے وقت ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی / الیکشن کمیشن کے کم از کم دو ممبران کی موجودگی لازمی ہے۔ صوبائی کابینہ 26 فروری کو اضلاع میں الیکشن کیلئے اپنا شیڈول جاری کرے گا۔ اس موقع پر صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ میں اپنی کابینہ کی طرف سے تمام اضلاع کے آرگنائزنگ کمیٹیوں کے کوآرڈینیٹروں اور ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کی کابینہ کا مشکور ہوں اور اُن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اُنہوں نے انتہائی منظم ، شفاف اور دیانتداری سے اپنے اپنے اضلاع میں ممبر سازی مہم مکمل کی اور اُمید رکھتا ہوں کہ نوجوان پوری شفافیت سے الیکشنز کا انعقاد شیڈول کے اندر کریگی۔ اُنہوں نے اپیل کی کہ نوجوان پختون قومی تحریک اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کیلئے خدمت کے جذبے سے سرشار نظریاتی کارکنان کو سامنے لائیں۔ تاکہ سنجیدہ اور ذمہ دار نوجوان بہتر مستقبل کیلئے اپنی توانائیاں بروئے کار لاسکیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں پر ہے درپے حملوں کا ازخود نوٹس لیں۔رہنماء اے این پی سندھ کراچی ۔ ہفتہ08 فروری 2014 عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اے این پی ویسٹ کے سابقہ سیکریٹری انفارمیشن رحیم خان سواتی کے گھر (LS3 Sec 5L) قصبہ کالونی میں ٹینس بال بم پھینکا گیا جو کہ خوش قسمتی سے پھٹ نہیں سکا،فون پر مسلسل دھمکیوں کی وجہ سے رحیم خان سواتی کراچی میں موجود نہیں ہیں عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے رحیم خان سواتی کے گھر پر ٹینس بال بم پھینکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک روز کے دور ان پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر حملوں کی ہیٹ ٹرک مکمل ہونے پر قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں کی ہم آواز قوت کے رہنماؤں کے ساتھ ایسا سلوک انتہائی افسوس ناک ہے دنیا کی کوئی طاقت ہمار ے عزم و حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی ۔چیف جسٹس آف پاکستان عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں پر ہے درپے حملوں کا ازخود نوٹس لیں۔

مورخہ: 7.2.2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام باچا خان مرکز میں اے این پی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ کی زیر صدارت اے این پی کے مرکزی رہنما ، پشتو کے ممتاز شاعر ، ادیب ، مفکر اور صحافی اجمل خٹک کی چوتھی برسی عقیدت و احترام کیساتھ منائی گئی۔ برسی کی تقریب میں اے این پی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل ، مرکزی آرگنائزنگ سیکرٹری سینیٹر باز محمد خان ، سینٹر افراسیاب خٹک ، سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے خطاب کیااور ریفرنس کے سٹیج کے فرائض اے این پی پختونخوا کی آرگنائزنگ سیکرٹری جمیلہ گیلانی نے انجام دئیے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اجمل خٹک صاحب کی سیاسی ، ادبی اور قومی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب مذاکرات کرنے کا اختیار دیا گیا۔ اور یہ اُن کی اختیار تھا کہ وہ کمیٹی تشکیل دیں۔ یہ اُس کی قائدانہ صلاحیت کا امتحان ہے کہ کمیٹی اپنا کردار کیسے ادا کرے گی۔ جو شورش زدہ علاقے کے حوالے سے بات کی گئی ہے تو شورش زدہ تو سارا پاکستان ہے اور کوئی جگہ بھی دہشتگردی سے محفوظ نہیں ۔ لہٰذا کسی مخصوص علاقے کو شورش زدہ قرار دیکر مسئلے کو مزید اُلجھانا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکراتی عمل کیلئے ساری قوم کو اعتماد میں لیا جائے اور اگر اس مسئلے میں کوئی مشکل پیش آ رہی ہے تو کم سے کم پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن بلا کر اُس کو اعتماد میں لیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اجمل خٹک صاحب نے سکول کے زمانے سے برٹش راج کے خلاف تحریک چلانے میں حصہ لیا ۔ ہندوستان چھوڑو تحریک میں بھی حصہ لیا۔ آٹھویں جماعت پاس کر کے ملازمت اختیار کی اور اس دوران تعلیم بھی حاصل کرتا رہا ۔ میٹرک کر کے اس کے بعد فائن آرٹس کی ڈگری حاصل کی اور پھر فارسی میں پشاور یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد وہ اُنہوں نے مختلف اخبارات میں ادبی خدمات سرانجام دئیے۔ انجام اخبار ، بانگ حرم ، شہباز اخبار ، رہبر اور ریڈیو پاکستان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اور ابتداء سے خدائی خدمتگار تحریک میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری رہے اور لیاقت باغ میں یو ڈی ایف کے جسلے میں جو گولیاں برسائی گئی تھیں اُس کے بعد افغانستان میں پندرہ سال جلاوطنی گزاری۔ پاکستان واپس آکر اے این پی کے پلیٹ فارم سے سیاست فعال کردار ادا کیا اور اُس کے مرکزی صدر بنے ۔ اُنہوں نے ادبی خدمات بھی انجام دیں جن میں سر فہرست غیر چغہ ، وخت چغہ ، باتور ، گل او پرہر ، گلونہ او تکلونہ ، د زہ پاگل اوم ، کچکول ، سرے غونچے ، د ژوند چغہ ، ژوند او فن ، دُردانہ (ڈرامہ) ، انتقام (ڈرامہ) ، ٹکرے ، لمبے ، لوخڑے ، د سپوگمئی جام ، فشار اور ضدی(ناول) اس کے علاوہ اُردُو میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ پشتو ادب کے پچیس سال پاکستان میں قومی جمہوری تحریک اور جلاوطنی کی شاعری اُن کے ادبی اثاثے ہیں۔2006 میں اُن کوستارہ امتیاز ملا جو اُنہوں نے واپس کر دیا۔ تمام لوگوں کو اور خصوصاً نوجوانوں کو اجمل خٹک صاحب کی زندگی سے سیکھنا چاہیے کہ معاشی تنگدستی کے باوجود اُس نے قومی خدمات کے حوالے سے ایک مثالی کردار ادا کیا۔ اور نہ صرف پختونوں اور پاکستان میں بلکہ ساری دُنیا میں نام کمایا۔یعنی کمٹنمنٹ ایمانداری ، خلوص ، محنت اور جفا کشی اجمل خٹک صاحب کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور وہ تاریخ کا درخشندہ ستارہ ہے۔

مورخہ: 7.2.2014 بروز جمعۃ المبارک پریس ریلیز

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر اور چیف الیکشن کمشنر سینیٹر حاجی محمد عدیل نے ملک کی پانچوں وحدتوں ، پختونخوا ، بلوچستان ، سندھ ، پنجاب اور سرائیکی کی پارٹی آرگنائزنگ کمیٹیوں اور الیکشن کمیشنوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ 15 فروری تک پارٹی رکنیت سازی مکمل کر یں تاکہ پارٹی کی تنظیم سازی کا عمل شروع کیا جاسکے۔ باچا خان مرکز پشاور سے ایک جاریکردہ پریس ریلیز کے مطابق اُنہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی پانچوں وحدتوں کی الیکشن کمیشنوں کی درخواست پر پارٹی رکنیت سازی میں 15 فروری تک توسیع کی گئی تھی اور اب مزید توسیع نہیں دی جائیگی۔ اُنہوں نے ملک کی پانچوں وحدتوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ 15 فروری تک پارٹی رکنیت سازی مکمل کریں تاکہ بروقت پارٹی کی تنظیم سازی کا عمل شروع ہو کر پارٹی کی صوبائی اور مرکزی تنظیمیں وقت پر بن سکیں۔

دہشت گردوں کی پالیسی حکومت کی پالیسی سے زیادہ مؤثر معلوم ہوتی ہے۔

مورخہ:4-2-2014 بروز منگل

پشاور، دہشت گردوں کی پالیسی حکومت کی پالیسی سے زیادہ مؤثر معلوم ہوتی ہے۔، میاں افتخارحسین پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پشاور سٹی ڈسٹرکٹ کے زیر اہتمام طفیل خان کی صدارت میں پارٹی کے فعال ، سرگرم اور دیرینہ کارکن بختیار خان سرحدی کی تعزیتی ریفرنس عبدالعزیز شادی ہال آسیہ گیٹ میں منعقد ہوئی۔ تعزیتی ریفرنس سے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے خطاب کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بختیار خان سرحدی اے این پی کے ایک فعال ، ایماندار اور مخلص کارکن تھے اور اُن جیسے کارکن بہت کم پیدا ہونگے۔اُنہوں نے کہا کہ پارٹی بختیار خان جیسے بنیادی اور نظریاتی کارکنوں پر مضبوط ہوتی ہے۔ اے این پی کی فعالیت اور ترقی میں عام اور غریب کارکنوں نے بہت اہم اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ اور اسی بنیاد پر آج ہم نے یہ تعزیتی ریفرنس اُن کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو یہ احساس دلانے کیلئے منعقد کی ہے کہ بختیار خان کی خدمات اور جدوجہد کی اے این پی اعتراف کرتی ہے اور باچا خان بابا کی تحریک کی یہ خصوصیت ہے کہ پارٹی ورکروں کو عزت دیتی ہے اور اُن کو احترام سے یاد کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کی خوبصورتی اور حُسن پارٹی ورکر سے مربوط ہے اور پارٹی کی اصل بنیاد اور زیبائش ورکر ہی ہے۔ باچا خان بابا کی تحریک کے خلاف مختلف اوقات میں سازشیں کی گئیں لیکن پارٹی کے بنیادی ، نظریاتی اور فعال ورکروں نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنادیا۔ لہٰذا ہم پارٹی کے ایسے فعال اور سرگرم کارکنوں کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ موجودہ ملکی اور سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج وفاقی اور صوبائی حکومتیں مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن اے این پی عدم تشدد کی علمبردار جماعت ہے ۔ ہم نے اپنے دور حکومت میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور موجودہ حکومت کو مذاکرات کا مینڈیٹ بھی دیا گیا لیکن بدقسمتی سے کئی ماہ گزرنے کے باوجود مذاکرات کے مثبت نتائج اور حل نظر نہیں آیا۔ اور بہت عرصے بعد وفاقی حکومت نے ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ایک کمیٹی کا اعلان کیا جس کی کارکردگی بھی مایوس کن نظر آ رہی ہے کیونکہ دہشت گردوں کی پالیسی حکومت کی پالیسی سے زیادہ مؤثر معلوم ہوتی ہے۔ آج مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات ہوئی ہے چار پانچ دنوں میں پوزیشن واضح ہو جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکیم اللہ محسود کے مارنے کے بعد طالبان نے برملا مذاکرات سے انکار کیا اور بدلہ لینے کا اعلان کیا اور اُنہوں نے مختلف مقامات پر کارروائیاں بھی کیں۔ بنوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں پر حملہ کیا ، راولپنڈی ، کراچی میں بھی کارروائیاں کیں اور اس کے بعد اعلان کیا کہ ہم بامقصد مذاکرات کرتے ہیں یعنی ہم کارروائیاں بھی کرینگے اور مذاکرات بھی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ پالیسی حکومت کو چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے نہ تو حکومت مذاکرات کر سکی اور نہ ہی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کر سکی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے تو اپنی کمیٹی کا اعلان کیاجو سب ٹیکنوکریٹس ہیں اور طالبان نے ایسے لوگوں پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کیا جو سب کے سب پاکستان کے مروجہ سیاست میں بھی ایکٹیو ہیں اور وہ یہ مسیج دیتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر اور ملک میں ان کے ساتھی موجود ہیں جو اُن کی وکالت کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان طالبان کی ٹاپ چوائس تھے اور شروع سے ہی وہ طالبان کے گُن گا رہے تھے اور کسی بھی موقع پر اُن کی وکالت کرنے سے نہیں تھکتے لیکن اُس نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر انکار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی مذاکرات کے حق میں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دہشتگردکارروائیاں کرینگے اور اُن کا کوئی رد عمل نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اور جب عوام کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو جائے تو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اُن کی جان و مال کی حفاظت کیلئے اقدامات اُٹھائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ دہشتگرد نے بندوق کی طاقت پر ملک پر قبضہ نہ کرسکے لیکن وہ ووٹ کے ذریعے پارلیمنٹ پر قبضہ جمانا چاہتے تھے۔ اس لیے اے این پی کو الیکشن میں مشکلات سے دوچار کیا اور اپنی پسند کی پارٹیوں کو کھلا چھوڑا گیا۔ اور اس طرح طالبان کے حامی لوگ پارلیمنٹ پر چھا گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم پاکستان کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان شروع ہوا ہے اگر ان کی تشکیل کردہ کمیٹی نے اچھی کارکردگی دکھائی تو اس کا کریڈٹ بھی ان کو جائیگا اور اگر وہ اپنی صلاحیتوں کا جوہر نہ دکھا سکی اور ناکامی سے دوچار ہوئی تو اس کا خمیازہ بھی وزیراعظم صاحب کو بھگتنا پڑے گا۔ موجودہ صورتحال پر پارٹی ایک مشترکہ عمل تیار کریگی اس کے بعد تفصیل بات ہو سکتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے اے این پی کے کارکن بختیار خان سرحدی کی تعزیتی ریفرنس میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ، بزرگ سیاستدان ، پشتو زبان کے مایہ ناز شاعر ، ادیب صحافی محترم اجمل خٹک صاحب کی چوتھی برسی آج بروز جمعۃ المبارک بوقت 2.30 بجے بعد از نماز جمعۃ المبارک باچا خان مرکز میں عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ پارٹی کے تمام ورکروں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو جوق درجوق برسی کی تقریب میں شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔

مورخہ:4-2-2014 بروز منگل

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کوچہ رسالدار قصہ خوانی گئے اور جائے وقوع کادورہ کیا ۔ میاں افتخارحسین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا اعتماد کاروائی اور مذاکرات دونوں سے اُٹھ جائے گا اگر یہ صورتحال رہی۔ دہشت گردی کے خلاف بھرپور اقدامات اُٹھائے اور خصوصی طورپر خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کو فرقہ ورانہ فسادات کا رنگ نہ دیا جائے اور ہم بحیثیت پاکستانی دہشت گردی کے خلاف ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو دھماکے کی ذمہ داری قبول کی جاتی تھی ، تو لوگ بھی معلوم ہوجاتے اب تو لوگ اس سے انکاری ہے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا، یعنی اب نامعلوم لوگ قوم کو تباہ اور برباد کررہی ہے ۔ لہٰذا دہشت گردتو دہشت گرد ہے چاہے کوئی بھی ہو اس کا راستہ روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اس صورتحال کی بنیاد پر پختونخوا ویران ہوتاجارہا ہے ۔ 80% کارخانے ختم ہوکر رہ گئے ، افغان ٹریڈ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسی کی وجہ سے ختم ہوکر رہ گیا۔ لوگ اپنی زمین بھیج کر گھر بار چھوڑ کر نکل مکانی کررہے ہیں جو بہت تشویشناک اور سنگین صورتحال پیدا ہوچکی ہے ۔ اس کیلئے مرکزی اور صوبائی حکومت جلد از جلد سنجیدگی کے ساتھ اور وسیع بنیاد پر اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے دھماکے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی اور جاں بحق افراد کیلئے دُعائے مغفرت کی اور زخمیوں کیلئے جلد صحتیابی کی دعا کی ۔

مورخہ: 4.2.2014 بروز منگل

عوامی نیشنل پارٹی پختونخواکے زیر اہتمام باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے سابق مرکزی صدر معروف خدائی خدمتگار پختونوں کے قومی شاعر اور قوم پرست رہنما محترم اجمل خٹک صاحب کی چوتھی برسی کی تقریب مورخہ 7 فروری بروز جمعۃ المبارک بوقت دو بجے دوپہر منعقد کی جا رہی ہے۔ جس کی دو نشستیں ہونگی ‘ پہلی نشست میں مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں رحمت شاہ سائل کی سربراہی میں نامور شعراء محترم اجمل خٹک کو منظوم خراج عقیدت پیش کرینگے۔ جبکہ دوسری نشست میں اے این پی کے قائدین صوبائی عبوری صدر بشیر احمد مٹہ کی صدارت میں اجمل خٹک صاحب کی سیاسی زندگی اور اُن کی جدوجہد پر روشنی ڈالیں گے۔

کراچی۔پیر 03فروری2014ء

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء سینیٹر شاہی سید نے سہراب گوٹھ میں پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنماء شاہ کلام محسودکے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ جمعہ اور ہفتے کی درمیان شب پورے محلے کے سامنے وردی میں ملبوس پولیس اہلکار شاہ کلام محسود کو داؤد بنگلوز سہراب گوٹھ میں ان کے چھوٹے بھائی اورچوکیدار کے ہمراہ گرفتار کرکے اپنے ساتھ لیکر گئے اور کچھ دور لیجاکر ان کے بھائی کو چھوڑ دیا گیا اور تھوڑی اور د ور لیجانے کے بعد ان کو گولیاں ماری گئیں اور صبح جھوٹے پولیس مقابلے میں شاہ کلام محسود کی ہلاکت ظاہر کی گئی اور ان کے ہمراہ گرفتار کیا گیا چوکیدار تا حال لاپتہ ہے،گزشتہ اتوار جب کارکنان نے لاش کے ہمراہ سپر ہائی وے پر دھرنا دیا تو ڈی ایس پی خالد خان نے احتجاج کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے شاہ کلام محسود کے قتل کو خون ناحق قرار دیتے ہوئے واقعے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کی یقین دہانی کروائی اور ایس ایچ او سہراب گوٹھ کو معطل کرنے اور واقعے کی انکوائری کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، جس کی ویڈیو ہمارے پاس موجود ہے لہٰذا ہم وزیر اعلیٰ سندھ ،آئی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی سندھ سے شاہ کلام محسود کے ماورائے عدالت قتل کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کی فوری گرفتار ی کا مطالبہ کرتے ہیں انہوں نے مذید کہا کہ احتجاج کرکے مشکلات میں گھری پولیس کے مسائل میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے ناہی شہر میں جاری تارگٹڈ آپریشن کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں مگر کارکن کے ماورائے آئین قتل کے ذمہ داران کے خلاف انصاف کے تقاضوں کے مطابق کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔شہر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا تفریق آپریشن عوامی نیشنل پارٹی کا اولین موقف رہا ہے اگر ہماری صف میں کوئی جرائم پیشہ افراد ہیں تو ان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کاروائی کی جائے مگر کسی کو کارکنان کا ماورائے عدالت قتل کو برداشت نہیں کریں گے ۔

مورخہ: 3.2.2014 بروز پیر

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ایمل ولی خان نے پکچر ہاؤس سینما میں بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات بلند کرنے اور لواحقین کیساتھ ہمدردی جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دُعا کی ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ سینما میں دھماکے کرنا دراصل پختون ثقافت پر وار ہے جو کہ دہشتگر دوں کی پختون دُشمنی کی غمازی کرتا ہے۔ دیگر ثقافتی تقریبات کو خوف و ہراس کے ذریعے بند کرانے کے بعد اب سینماز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس میں غریب لوگ کم خرچ پر تفریح کا سامان کرتے ہیں۔ مگر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ماضی میں بھی پختون ثقافت کو مٹانے کی جتنی بھی کوششیں کی گئیں ناکام ہوئیں اور اسی طرح موجودہ کوششیں بھی ناکام ہونگی۔ اور پختون ثقافت زندہ رہے گی اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ خوف وہراس پھیلا کر پختونوں کو اپنی ثقافت سے دور کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ اُنہوں نے موجودہ صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور اپنے فرائض سے چشم پوشی کر کے حکومت مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرے۔

مورخہ: 1.2.2014 بروز ہفتہ

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے قائد جناب اسفند یارولی خان نے پشاور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں کامیابی پر ملگری وکیلان کے صوبائی صدر عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ اور نو منتخب کابینہ کے صدر رضاء اللہ خان ایڈووکیٹ اور اُن کی کابینہ کے تمام ممبران کو اُن کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دی ہے اور ملگری وکیلان کی اس کامیابی کو جمہوریت کی بقاء ، قانون کی بالادستی کیلئے خوش آئند قرار دیا۔

مورخہ:2-2-2014بروز اتوار

نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ضلع لوئر دیر کے ضلعی ترجمان ذیشان جمشید کے مطابق نیشنل یوتھ کا ایک تقریب زیر صدارت ضلعی کوارڈینیٹر این وائی او آصف عزیز بہ رہائش گاہ صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ سرائے پائین تالاش منعقد ہوا جس میں صوبائی صدر این وائی او اور پارٹی کے رہنماؤں نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ اجلاس میں یونین کونسلز نورہ خیل ، شاہی خیل اور بانڈہ گئی کیلئے آرگنائزنگ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور ممبر سازی بھی کی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ پختون قومی تحریک میں نوجوانوں کا ہمیشہ سے ایک اہم کردار رہا ہے اور اب پارٹی کے ساخت کے اندر نوجوانوں کیلئے علٰیحدہ خودمختار فورم کے قیام کے بعد نوجوانوں کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئی ہیں ، لہٰذا نوجوان پارٹی قیادت کے اعتماد اور توقعات پر پورا اُترنے کی بھر پور کوشش کریں ۔ انہوں نے دیر میں امن و امان کی صورتحال اور موجودہ لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اور واضح ریاستی پالیسی کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی نے پانچ سالہ دور حکومت اور اس سے پہلے وہی پالیسی اختیار کی جو رہبر تحریک خان عبدالولی خان باباؒ نے گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد اعلان کی تھی اور آج بھی اُسی پالیسی پر گامزن ہے ۔ دوسری طرف وہ پختون دُشمن عناصر ہیں جنہوں نے لشکر کشی ، تشدّد اور جنگجویانہ رویوں کو مزید پروان چڑھایا جس کا مظاہرہ اس ضلع دیر ہی میں عوام کے سامنے گیارہ ستمبر کے فوراً بعد کیا گیا اور دیر کے عوام نہ صرف اس کے گواہ ہیں بلکہ اُس سے شدید متاثر بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع کے بہ نسبت ضلع دیر پائیں میں پارٹی کو مضبوط تر بنانے کیلئے نوجوانوں کی سیاسی اور نظریاتی تربیت کی ذیادہ ضرورت ہے لہٰذا نیشنل یوتھ کی ضلعی قیادت اس اہم جہت پر خصوصی توجہ دیں اور فوری طورپر ایسی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں جس میں نوجوانوں کی فکری نشوونما ممکن ہو سکے ۔ انہوں نے پارٹی قائدین سے بھی اپیل کی کہ ان سرگرمیوں میں نیشنل یوتھ کی ضلعی ذمہ داروں کو بھر پور تعاؤن فراہم کریں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی کوارڈینیٹر نیشنل یوتھ آصف عزیز نے ضلع میں جاری سرگرمیوں پر تفصیلی بحث کی اور کارکنوں پر زور دیا کہ ممبرسازی مہم جلد از جلد مکمل کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبرسازی میں معمولی سی غیر شفافیت کو بھی کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے رہنما لاجبر خان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ سیاسی عمل میں اپنا کردار ذمہ داری اور خوش اسلوبی سے ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اور باالخصوص ضلع دیر میں عوام کو ریاست کی طرف سے کوئی خوشحالی نصیب نہیں ہوئی اور نہ ہی ریاست نے لوگوں کی سماجی اور معاشی خوشحالی کیلئے کوئی قدم اُٹھایا ہے ۔ ضلع میں تھوڑی بہت آسودگی ریاست کی وجہ سے نہیں بلکہ لوگوں نے اپنی زندگی کے تمام آسائشوں کو پامال کرتے ہوئے غیر ممالک نے مزدوری اور مسافریوں سے کمائی ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ سیاسی عمل میں سب سے پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس کیلئے پھر منظم انداز میں اپنا آواز اُٹھانا ہوگا ۔ اجلاس سے اے این پی ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر نیک محمد، سابقہ ناظم نورہ خیل ابراہیم خان ، سابقہ ناظم حاجی آباد ملک شفیع اللہ خان ، نیشنل یوتھ کے ڈپٹی کوارڈینیٹر ملک شاہد خان ، ذیشان جمشید اور عمران ٹھاکر نے بھی خطاب کیا ۔

کراچی۔ اتوار 02 فروری 2014ء

جنگ آزادی کے عظیم مجاہد خان عبدالغفار خان المعروف باچا خا ن کی چھبیسویں اور قائد جمہوریت ملی رہبر خان عبداولی خان کی چھٹی برسی کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی تحت مردان ہاؤس میں قر آن خوانی و فاتحہ خوانی کا انعقاد کیا گیا اور پارٹی قائدین اور شہداء کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور اجتماعی دعا کی گئی اسکے بعد جنرل ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رئیس ا لاحرار خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان جنگ آزادی کے عظیم مجاہد،مفکّر اور احترام انسانیت پر یقین رکھنے والے ایک بہت بڑے لیڈر اور عظیم شخصیت تھے ،فخر افغان باچا خان بابا پختونوں میں جدیدیت کے بانی ہیں وہ زبانی جمع خرچ کے بجائے عملیت پسند انسان اور انتہائی باعمل مسلمان تھے اپنے نظریات پھیلانے کے لیے ہزاروں میل کا سفر پیدل کیا سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا نے حضرت باچا خان بابا کے نظریات کو نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا ہے اور ان کی جدوجہد پر برصغیر سمیت دنیا بھرمیں ان پر کتابیں لکھنے اور دستاویزی فلمیں بنانے کا سلسلہ جاری ہے یہ ان کی عظمت ہے کہ ان کی وفات پر پاکستان ،افغانستان اور ہندوستان نے اپنے پرچم سرنگو ں کیے تھے ۔رہبر تحریک خان عبد الولی خان ملکی تاریخ کے حقیقی جمہور ی رہنما تھے اور پوری زندگی ملک میں جمہوریت کے قیام اور مضبوطی کے لیے عملی و فکری جدوجہد کی اور طویل عرصے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ،سرد جنگ میں اگر ان کی بات مان لی جاتی تو ملک انتہاء پسندی کی آماجگاہ کے بجائے اقوام عالم کی انتہائی باوقار ملکوں کی صف میں شامل ہوتا،جس آگ میں کودنے سے چالس سال پہلے ہمارے اسلاف نے منع کردیاتھا آج اس نے ملک کے ہر کونے میں تباہی و بربادی مچا رکھی ہے،رہبر تحریک خان عبدالولی خان فرمایا کرتے تھے کہ پختون وہ بد قسمت قوم ہے جو دوسروں کا گھر آباد کرنے کے لیے اپنا گھر برباد کردیتی ہے ۔ الیکشن میں ہمیں بزور طاقت پارلیمینٹ سے تو باہر کیا گیا ہے مگر وقت نے ثابت کردیا ہے کہ جیت ہمارے نظریات کی ہوئی ہے۔ہمیں امن کی ضرورت ہے چاہے کسی بھی طریقے سے آئے ۔جبر و طاقت کے ذریعے ترقی پسند قوتوں کا راستہ روکنے کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے ۔جس طرح گزشتہ پینسٹھ سالوں میں ملک کے معاملات چلائے گئے اس طرح باوقار ریاستیں نہیں چلتیں۔ ۔جوں جوں فیصلے کی گھڑی قریب آتی جائے گی بہت سے چہر ے خودبخود بے نقاب ہوتے جائیں گے اور خوش فہمی میں مبتلا داناؤں کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے ۔ بے گناہ عام عوام اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کے بجائے گزشتہ عام انتخابات کے اصل ریفری اپنی منتخب کردہ قوتوں سے اپنے مطالبات منوائیں۔ طالبان کو ان کے سیاسی ونگ نے بھر پور دھوکہ دیاہے اسلام کے نام پراسلام آباد پہنچ کر سب کچھ بھو ل گئے ہیں ۔ ملک اپنی تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر ہے کسی قسم کی بد شگونی کے بجائے مذاکرات کی کامیابی اور ملک میں قیام امن کے لیے دعا گو ہیں۔ہم گزشتہ کئی سالوں سے کہتے چلے آئیں ہیں کہ کراچی بارود کا ڈھیر بن چکا ہے مگر کسی نے نہ مانی اور آج شہر میں بم دھماکے، کریکر حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس کی حمایت ضرور کرتے ہیں مگر اس کے نتائج سے زیادہ پر امید نہیں ہیں۔وفاقی و صوبائی حکومتیں اورقانون نافذ کرنے والے ادارے جس مجرمانہ غفلت کا مظاہرکررہی ہیں ،سمجھ سے بالاتر ہے کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے تحفظ کے لیے کونسا دروازہ کھٹکھٹائیں،کراچی میں جاری ٹارگٹڈآپریشن میں سب سے زیادہ نقصان پو لیس اور رینجرز کا ہوا ہے،گزشتہ تیس سالوں کا گند اتنی آرام سے صاف نہیں ہوگا ، ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کے عزم و حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں مسلسل حملوں میں پولیس اور رینجرز کو قیمتی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے ان کا مورال متاثر ہوا ہے ،لہٰذا ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ امن وامان کے قیام اور ہر قسم کے اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے کراچی میں سوات اور بونیر طرز کا بھر پوراور بلاتفریق فوجی آپریشن کیا جائے اور کراچی کو ٹریڈ سٹی بنایا جائے ۔ اس موقع پر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطا ف ایڈووکیٹ ،ممبران سیدحنیف شاہ ،وکیل خان سواتی اور ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہان عثمان غنی ،اسحاق سواتی نے بھی خطاب کیااور شاعر بخت شیر انقلابی نے اپنا کلام پیش کیا

دہشت گرد اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور صوبائی حکومت مجرمانہ طور پر مسلسل خاموش ہے ۔اسفند یار ولی خان،سینیٹر شاہی سید

کراچی۔ ہفتہ 02فروری2014ء

عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی اور سینیٹر شاہی سید نے قصہ خوانی بازار پشاور میں سینما گھر پردستی بم حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور صوبائی حکومت مجرمانہ طور پر مسلسل خاموش ہے،موجودہ حالات میں حکمرانوں کے لیے صرف دعا ہی کرسکتے ہیں باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں پارٹی قائدین نے مذید کہا کہ اے این پی بم حملوں کا نشانہ بننے والے شہریوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']