Jan-2014

 

جنگ آزادی کے عظیم مجاہد خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا کی 26 ویں اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی 8 ویں برسی کی تقریبات کے سلسلے میں کراچی سمیت سندھ بھر میں ضلعی سطح پر قر آن خوانی اور ورکرز کنوشن کا انعقاد ہوا۔اعلامیہ
کراچی۔ جمعتہ المبارک 31جنوری2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جنگ آزادی کے عظیم مجاہد خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا کی 26 ویں اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی 8 ویں برسی کی تقریبات کے سلسلے میں کراچی سمیت سندھ بھر میں ضلعی سطح پر قر آن خوانی اور ورکرز کنوشن کا انعقاد ہوا ،اے این پی ضلع شرقی اور ضلع کورنگی کی سطح پر باچا خان ہاؤس گلستان جوہر میں قر آن خوانی کی گئی جس میں کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء یونس خان بونیری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بھولتی جب تک یہ دنیا باقی ہے ہم اپنے عظیم قائدین کو یاد رکھیں گے ہمیں ظلم و جبر کے ذریعے پارلیمان سے ضرور باہر کیا گیا ہے مگر ہماری سیاست جیت گئی ہے حالات نے ہمارے کارکنان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنادیا ہے ظلم سیاہ رات جلد روشن اجالے میں تبدیل ہوگی کارکنان جاری ممبر شب کو جلد از جلد ضلعی آرگنائزنگ کمیٹیوں کے حوالے کردیں تاکہ یونین کونسل کی سظح پر تنظیم سازی کاآغاز کیا جاسکے اس موقع پر نوراللہ اچکزئی اور بزرگ رہنماء کریم اللہ یوسفزئی نے بھی خطاب کیا ضلع ویسٹ کی سطح پر برسی کا پراگرام رشید آباد اور ضلع سینٹرل کی سطح پر برسی کا پراگرام نارتھ ناظم آباد ڈی سلوا ٹاؤن میں منعقد کیا گیاجس سے اے این پی کے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ کمیٹی کے رکن وکیل خان سواتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اسلاف کا کردار ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی روشن باب ہے جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے دنیا ہمارے اکابرین کو نئے زاویہ سے دیکھے گی ملک کی سلامتی کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کی قربانیاں ناقابل فراموش ہے اس موقع پرعثمان غنی ،عبدالرؤف خان نے بھی خطاب کیا ضلعی ساؤتھ کی سطح پر برسی کاپراگرام عرفات ہوٹل صدر میں منعقد کیا گیاجس میں صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن سید حنیف شاہ نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باچا خان بابا اور خان عبدالولی خان کی پوری زندگی ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے ملک کے تمام مسائل کا حل ہمارے اسلاف کے نظریات میں پوشاں ہے ،اعلامیے میں مذید کا کہا کہ باچا خان بابا اور خان عبدالولی خان کی برسی کے حوالے سے صوبائی سطح پر قرآن خوانی اور ورکرز کنونشن دو فروری بروز اتوار سہ پہر تین بجے مردان ہاؤس میں منعقد ہوگا،جس سے پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے ۔

کراچی۔ جمعتہ المبارک 31جنوری2014
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا کان مرکز سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء معروف مزدور لیڈر حاجی نور محمد خان کی گاڑی پر میٹروول سائٹ میں شہداء قبرستان مسجد قباء کے قریب اس وقت دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا جب وہ اپنے گھر سے آفس جارہے تھے تاہم حملے میں وہ محفوظ رہے،عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء سینیٹر شاہی سید نے حاجی نور محمد خان کی گاڑی پر ب بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اداروں نے ہمارے رہنماؤں کو مکمل طور پر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے پارٹی رہنماؤں و کارکنان کے تحفظ کے حوالے سے اپنی آنکھیں مکمل بند کردی ہیں ادارے صرف غیر ذمہ دارانہ بیانات دیکر اپنی جان چھڑارہے ہیں وفاقی وزیر داخلہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لیکردہشت گردوں کا ہدف آسان کردیا ہے وزیر اعلیٰ سندھ، ڈی رینجرز اور کراچی پولیس چیف پارٹی رہنماؤں پر حملوں میں ملوث عناصرکے خلاف سخت ترین کروائی کریں ۔

 

کراچی ۔ جمعرات 30جنوری2014ء
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے محمد پور محلہ قصبہ کالونی میں اے این پی کے علاقائی بزرگ رہنمامحمد علی کے گھر میں قائم یونٹ آفس کے پر بم حملوں اور فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں پارٹی دفاتر اوررہنماؤں و کارکنان کے نجی و کاروباری املاک پر بم حملے روز کا معمول بن چکے ہیں دہشت گردوں کو اے این پی کے رہنماؤں و کارکنان کو نشانہ بنانے کی کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار درجنوں دہشت گردوں بم حملوں اور فائرنگ اورکئی گھنٹے جائے وقوع پر موجودگی اور با آسانی فرار ٹارگٹڈ آپریشن پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے باچا خان مرکز سے جاری کردہ مذمتی بیان میں دونوں قائدین نے مذید کہا کہ محمد علی کے گھر پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے ہم حملے میں زخمی ہونے والے محمد علی کے بیٹے عزیز خان سمیت تمام زخمیوں کی صحت یابی ے لیے دعا گو ہیں اور کراچی میں پارٹی دفاتر اور رہنماؤں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں
دریں اثناء باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ میں رئیس الاحرار باچا خان اور خان عبدالولی خان کی برسیوں کے حوالے سے اے این پی ایسٹ اور کورنگی کے تحت قرآن خوانی اور و جلسہ کل مورخہ 31 جنوری بروز جمعتہ المبارک سہ پہر تین نزد دوبئی ہاؤس (گلستان جوہر پولیس اسٹیشن) ڈسٹرکٹ اسیٹ آفس گلستان جوہر منعقد ہوگا۔

 

کراچی ،30 جنوری2014ء

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے ترجمان نے آج صبح قصبہ کالونی میں عوامی نیشنل پارٹی کے علاقائی بزرگ رہنمامحمد علی کے گھر پر ہونے والے بم حملوں کی سختی سے مذمت کی ہے ۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں ترجمان نے کہا کہ بزرگ رہنما کے گھر پر بم حملے کے بعد پولیس ایس ایس پی چوہدری اسد کا بیان انتہائی قابل مذمت اور گمراہ کن ہے ۔اگر اے این پی کے رہنماؤں پر حملے ذاتی دشمنی ہیں تو پولیس اور رینجرز پر کیوں حملے کیے جارہے ہیں ؟ چوہدری اسد کا بیان انتہائی شرمناک ہے ایسے افسران پولیس ڈپارٹمنٹ پر بد نما داغ ہیں ایسے شرمناک بیانات دے کر پولیس اپنی جان چھڑاکر پس پردہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنا چاہتی ہے ، برباد بھی ہم ہورہے ہیں اور کردار کشی کی کوشش بھی ہماری کی جارہی ہے ۔ اگر ہماری قربانیوں پر انگلیاں اٹھائی گئیں تو ہم پویس کی قربانیوں پر سوالات اٹھانے پر حق بجانب ہونگے۔ترجمان نے مذید کہا کہ جب موٹرسائیکلوں اور دو ڈبل ڈور پر درجنوں دہشتگرد محمد پور قصبہ کالونی میں ہمارے بزرگ رہنما پر بم حملے کر رہے تھے اور ایک گھنٹہ تک جائے وقوعہ پر موجود تھے تو پولیس اور رینجرز کہاں تھے؟اپنی نا اہلی اور بزدلی چھپانے کے لیے شرمناک بیانات دے کر پولیس راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہے۔عوام اور پارٹی کارکنان کی دل آزاری کرنے والے بیانات دینے کا سلسلہ بند کیا جائے اور اے این پی کے رہنماؤں اور کارکنان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ترجمان نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور کراچی پولیس کے چیف غیر ذمہ دارانہ ،غیر پیشہ وارانہ اور بزدلانہ بیانات کا نوٹس لیں۔ احتجاج کے ذریعے پولیس کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتے مگر اپنے شہیدوں کے مقدس خون کی بے حرمتی اور غازیوں کے زخموں پر نمک پاشی برداشت نہیں کرینگے۔محمد علی ایسے علاقے میں اے این پی کی سیاست کررہے ہیں جہاں پولیس قدم بھی نہیں رکھ سکتی۔

 

منگل28جنوری2014ء

پشاور ( پ ر ) ؑ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان نے ملالہ کی کتاب ( آئی ایم ملالہ ) کی تقریب رونمائی پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے کتاب کی تقریب رونمائی پر پابندی لگا کر اپنے مکروہ چہرے سے خود ہی نقاب اتار دیا ہے، اپنے ایک بیان میں سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ عمران خان صوبائی حکومت کے غلط اقدامات کی مذمت کر کے ڈرامہ بازی کی سیاست کر رہے ہیں اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو،حالانکہ وہ خود اس پارٹی کے سربراہ ہیں تاہم ان کی پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات کہتے ہیں کہ عمران خان کو پارٹی امور کا پتہ ہی نہیں،انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے اعتدال پسند اس بات سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ تحریک انصاف کسی خفیہ ایجنڈے پر کا م کر رہی ہے جبکہ دہشت گردوں کے آگے بھی سرینڈر کر چکی ہے، سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں میں مداخلت بے جا کی مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے اساتذہ اور علم و دانش پھیلانے والے دیگر اداروں کو بلا جواز ہراساں کرنے کی بھی مرتکب ہوئی ہے ،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پختون بچوں کے ہاتھ سے کتاب چھین کر انہیں دہشت گردوں کا غلام بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

مورخہ:28-1-2014 بروز منگل
پشاور : امن و امان کی بحالی کے نام پر ووٹ لینے والی صوبائی حکومت نے صوبے کو بے آسرا چھوڑا ہے ۔
یہ بات اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے موضع کلرن شریف میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے سرکردہ خاندانوں نے گل غنی ، علی زر سید اور زر محمد کی سربراہی میں خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صوبے کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے اور صوبے کے عوام دہشت گردوں کے دہشت کی وجہ ذہنی مریض بن گئے۔ اغواہ برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری نے صوبے کے عوام کو ہجرت پر مجبور کر دیا ہے اور دوسری طرف موجودہ صوبائی حکومت خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر صوبے میں بے گناہ لوگوں کی لاشیں گر رہی ہیں، اور صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ صوبے کے عوام موجودہ حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور صوبے کے اس نازک صورتحال سے نکالنے کیلئے پختونوں کے قائد اسفندیارولی خان کے ہاتھ مضبوط کرلیں۔ اور اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے جمع ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کا جوق درجوق اے این پی میں شمولیت کرلینا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ موجودہ حکومت سے تنگ آچکے ہیں اور موجودہ حکومت کی بے حسی نے صوبے کے عوام میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے ۔ اس موقع پر کریم بابک ، عبدالواعظ نے بھی خطاب کیا جبکہ پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
مورخہ:28-1-2014بروز منگل
پشاور : حکومت صوبے کے عوام کے مسائل سے منہ موڑ رہی ہے ۔
یہ بات اے این پی کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیر محمد کریم بابک نے موضع چنگلئ میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کے دوران کہی ۔ اس موقع پر ( ن لیگ) کے سرکردہ خاندان اور سابق کونسلر محمد سرور خان کے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مزید عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتی اور صوبے کے باشعور عوام مزید صوبائی حکومت کے اتحادیوں کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں اے این پی کے خلاف ایک سازش کے تحت ان کا مینڈیٹ بزور بندوق چھینا گیا لیکن صوبے کے عوام کے دلوں سے اے این پی سے محبت اور لگاؤ کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں عوام سے بلندو بانگ دعوؤں اور وعدوں کے بل نوجوانوں کا استحصال کرنے والے اب عوام کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس موقع پر اے این پی کے آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران اور علاقے کے عمائدین کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔
دریں اثناء اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ نئے ساتھیوں کے شمولیت سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔
صوابی، ضلعی راہنماوں کا جہانزیب خان کی شمولیت پر اظہار مسرت
صوابی:۔ عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی کے ضلعی راہنماامان خان خدائی گار جانس خان،حاجی خیرمحمد کاکا ،آرگنائزنگ کمیٹی صوابی مانیری کے چیئرمین جان بہادر، یوسی سلیم خان کے چیئرمین رحیم زادہ، جنرل سیکرٹری اجمل خان شاہین، سابق صدر یوسی سلیم خان اختر حسین، مانیری پایان کے چیئرمین فضل ہادی، جنرل سیکرٹری نثار پختون یار، صوابی خاص کے صدر حمیدالحق اور یوسی پنج پیر کے چیئرمین عبدالرؤف نے ایک مشترکہ بیان میں سابق ضلعی ناظم جہایزیب خان کی شمولیت پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اے این پی میں شمولیت پر اُنکو مبارک دی ہے ۔اپنے بیان میں اُنھوں نے کہا ہے کہ جہایزیب خان اور اُنکے کے ساتھیوں کی شمولیت سےعوامی نیشنل پارٹی ضلع میں مزید فعال ہوجائیگی۔ ۔اُنھوں نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ اے این پی بلدیاتی الیکشن میں کلین سویپ کرلے گی ۔
اے این پی سندھ، برسی کی مرکزی تقریب دو فروری کو مردان ہاوس میں منعقد ہوگی
کراچی۔ پیر 26جنوری2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس چیئر الطاف ایڈووکیٹ کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورت حال اور پارٹی کی جاری ممبر سپ اور تنظیمی امور کا جائزہ لیا گیا ،اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اے این پی سندھ حضرت باچا خان بابا کی 26ویں اور خان عبدالولی خان کی آٹھویں برسی بھر پور عقیدت و احترام اور جوش و خروش سے منائے گی 31 جنوری بروز جمعہ سندھ بھر کے تمام اضلاع میں برسی کے اجتماعات منعقد ہوں گے اور صوبائی اجتماع دو فروری بروز اتوار مردان ہاؤس میں منعقد ہوا نماز ظہر تا عصر قر آن خوانی کی جائے گی جس کے بعد اسلاف اور پارٹی شہداء کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی جائے گی اور عصر کے بعد پارٹی قائدین باچا خان بابا اور خان عبدالولی خان کی زندگی پر روشنی ڈالیں اور کارکنان کو ملک کی موجودہ صورت حال پر اعتماد میں لیں گے
کارکنان پارٹی اکابرین کی برسی کے حوالے سے بھر پور تیاریاں شروع کردیں
مورخہ: 27.1.2014 بروز پیر
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور اے این پی پختونخوا آرگنائزنگ کمیٹی کے رُکن ایمل ولی خان نے فخر افغان باچا خان بابا کی 26 ویں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی 8 ویں برسی کے حوالے سے کامیاب جلسے پر عوامی نیشنل پارٹی کے تمام قائدین ، ورکروں ، اے این پی کی تمام ذیلی تنظیموں پی ایس ایف ، نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ، ملگری وکیلان ، ملگری ڈاکٹران ، ملگری اُستاذان ، ملگری پوہان ، پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا ہے کہ اُنہوں نے دونوں پارٹی بزرگ رہنماؤں کی برسی کے عظیم الشان جلسے میں نامساعد حالات کے باوجود کثیر تعداد میں شرکت کر کے اسے کامیاب بنایا۔ اُنہوں نے باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی کامیاب برسی پر تمام پارٹی قائدین ، ورکروں اور پارٹی ذیلی تنظیموں کو مبارکباد دی ہے۔
اے این پی کے رہنما نے پُر امن ماحول میں پارٹی بزرگ رہنماؤں کی برسیوں کے منعقدہ عظیم الشان جلسے پر پولیس اہلکاروں کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ہے کہ پولیس نے انتہائی خودداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فرائض کو بجا لائے ۔ ہم فرض شناس پولیس اہلکاروں کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور اُن کو اُن کی فرض شناسی پر داد دیتے ہیں۔
اُنہوں نے ورکروں کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جوش و خروش نے مخالفین کی نیندیں حرام کردیں اور ثابت کر دیا کہ اے این پی ایک مضبوط سیاسی جماعت ہے اور آنے والا دور اے این پی ہی کا ہے خواہ کوئی کتنا ظلم کرے ہمیں اپنی جدوجہد سے روک نہیں سکتا۔
سید جعفر شاہ کی چیف پیسکو کے ساتھ ملاقات سوات میں ناروا لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت
پشاور (پ ر) ایم پی اے سید جعفر شاہ نے چیف پیسکو سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور سوات بھر میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ ، ہیوی ٹرانسفارمر خوازہ خیلہ ، مینگورہ اور گرڈ سٹیشن مدین کی بحالی کے اُمور پر تفصیلی بات چیت کی۔
اُنہوں نے چیف پیسکو کو کل 26.1.2014 کو سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے اجلاس اور ان کے مطالبات سے چیف کو آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سوات میں غیر اعلانیہ ناروا لوڈ شیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹریڈرز کیطرف سے 29 جنوری کو پہیہ جام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اور اگر یہ مسئلہ فوری طور پر حل نہ ہوا تو احتجاج پورے ملاکنڈ اور پھر صوبے کے لیول تک پہنچ جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ پھر عوامی نمائندے بھی لوگوں کیساتھ اس احتجاج میں شریک ہونگے اور اسمبلی میں بھی آواز اُٹھائی جائیگی۔
اُنہوں نے واپڈا اہلکاروں پر واضح کیا کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنائی گئی ہیں۔ کاروبار بُری طرح متاثر ہوا ہے اور لوگوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو (ایم پی اے) خود ٹریڈرز فیڈریشن کے شانہ بشانہ احتجاج میں شریک ہوں گا اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج سے بھی گریز نہیں کرونگا۔
چیف پیسکو نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جلد از جلد سوات میں ناروا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے۔ مدین گرڈ کے بحالی کے حوالے سے اُنہوں نے بتایا کہ فروری میں ٹینڈر ہو جائیگا اور 18 مہینے میں گرڈ سٹیشن کی تعمیر 100 % مکمل کی جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بیرونی کمپنیوں کیساتھ رابطہ ہوا ہے۔ اور ٹینڈر کسی مشہور انٹرنیشن کمپنی کو دیا جائیگا۔ ہیوی ٹرانسفارمر میں ضروری مرمت کو جلدی مکمل کر کے ان کو فنکشنل بنایا جائے۔
سید جعفر شاہ نے آزادی کو بتایا کہ سوات میں بجلی کے مسئلہ پر وہ ٹریڈرز فیڈریشن کے شانہ بشانہ رہینگے اور احتجاج کی ضرورت ہوئی تو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھی دھرنا دینے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔ اُنہوں نے مرکزی اور صوبائی حکومت کی پہلو تہی اور عوامی مسائل سے غفلت پر ان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کو تاریخ کی ناکام حکومت سے تعبیر کیا۔مورخہ: 27.1.2014 بروز پیرپشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی دفتر کے انچارج تاج الدین خان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل بیرون ملک دورہ پر روانہ ہو ئے۔ اُن کی عدم موجودگی میں بشریٰ گوہر صاحبہ پارٹی کے مرکزی قائمقام عبوری صدر کے فرائض انجام دینگی اور اُن کی وطن واپسی تک پارٹی کے تمام اُمور چلائیں گی۔مورخہ: 27.1.2014 بروز پیرپشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی دفتر کے انچارج تاج الدین خان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر اور مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین سینیٹر حاجی محمد عدیل نے پارٹی کے پانچوں وحدتوں سندھ ، سرائیکی ، پختونخوا ، بلوچستان اور پنجاب کی درخواست پر پارٹی کی ممبر سازی مہم میں 15 فروری تک توسیع کر دی ہے ۔ اے این پی کے سیکرٹریٹ باچا خان مرکز پشاور سے ایک جاریکردہ پریس ریلیز کے مطابق اے این پی ممبر سازی مہم میں 15 فروری تک توسیع کی گئی ہے۔ لہٰذا ملک کے پانچوں وحدتوں میں 15 فروری تک اے این پی کی رکنیت سازی مہم میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔مورخہ : 27.1.2014پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی ترجمان حسن بونیری کے مطابق یوتھ کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے صوبہ بھر سے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے تمام عہدیداروں اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نوجوانوں کی اتنی کثیر تعداد میں چارسدہ کے جلسہ میں شمولیت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پختون نوجوان جذبہ پختون ولی سے سرشار ہے اور اُن کو جھوٹے نعروں سے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا اور جلسہ چارسدہ میں یوتھ کے ہزاروں نوجوانوں کی شمولیت نے ثابت کر دیا کہ پختون نوجوان ہر کھٹن وقت قوم کی شانہ بشانہ ہونگے۔صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ خصوصی طور چارسدہ کے نیشنل یوتھ آرگنائزنگ کی کابینہ اور کارکنوں نے جلسہ انتظامات میں حصہ لینے پر اُن کو خراج تحسین پیش کیا اور دوسرے اضلاع کے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ چارسدہ کے نوجوانوں کیطرح اپنے اپنے اضلاع میں پارٹی کی برسیوں کے پروگرامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
سنگین خان نے مزید کہا کہ برسی کے تاریخی جلسہ نے ثابت کر دیا کہ باچا خان کا فلسفہ عدم تشدد میں اتنا زور ہے کہ وہ ہر قسم کے مشکل حالات کے باوجود پختون قوم اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر میدان میں اپنے قائدین کیساتھ کھڑے ہونگے۔مورخہ 27.1.2014 بروز پیرپشاور: پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ نے فخر افغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی کامیاب برسی میں ہزاروں کارکنوں کی شرکت پر اے این پی اور پی ایس ایف کے تمام کارکنوں اور پارٹی کی دیگر تنظیموں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی اسفندیار ولی خان کی قیادت میں فخر افغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی سیاسی اور نظریاتی جدوجہد کا تسلسل اور پختون قوم کی واحد نمائندہ پارٹی ہے۔ دہشتگردی کی موجودہ فضا اور کنفیوزڈ صوبائی و مرکزی حکومتوں کی بے حسی اور غیر ذمہ داری کے عالم میں اے این پی کے کارکنان اپنے قائد اسفند یار ولی خان کے ایک حکم پر مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں۔
پی ایس ایف ملی قائد اسفند یار ولی خان ، صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان اور پارٹی پالیسی کے شانہ بشانہ اپنا ملی کردار ادا کرنے سے ذرہ برابر بھی دریغ نہیں کرے گا۔ اس موقع پر ہم پختون طلباء و طالبات کو دعوت دیتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اے این پی اور پی ایس ایف میں شامل ہو کر پختون ولی کا ثبوت دیں۔ اپنے ذمہ واجب الادا ملی قرض اُتارنے کا واحد راستہ بھی یہی ہے۔مورخہ 27.1.2014 بروز پیر

پشاور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ نے پشاور یونیورسٹی میں ڈَیزاسٹر منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ڈائیریکٹر امیر نواز کے ہاتھوں جنسی حراست کے ایشو پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائیریکٹر امیر نواز پر گزشتہ روز متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کی فیمیل طالبات نے جنسی حراست کا الزام لگا کر ڈائیریکٹر کا رونا رویا۔ اس کے بعد فیمیل طالبات کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ ، کیمپس پولیس اور یونیورسٹی میں مختلف اخبارات کے رپورٹرز اور نام نہاد طلبہ تنظیمیں مصلحت کا شکارہوتے ہوئے محسوس کیے گئے۔ لیکن پی ایس ایف پختون خوا کے تعلیمی اداروں میں پختون طلبہ کی نمائندہ تنظیم ہے ایسے واقعات پر پی ایس ایف خاموش نہیں رہے گی اور اس ایشو پر پی ایس ایف نے احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور آج بتاریخ 27.1.2014 کو پشاور یونیورسٹی میں پُر امن احتجاج کر کے مطالبہ کیا کہ قصور واروں کی شناخت کر کے اُن کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
اس سلسلے میں وائس چانسلر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ آزادانہ اور ایماندارانہ تحقیقات کر کے ڈائیریکٹر امیر نواز یا الزام لگانے والے فیمیل طالبات میں سے ایک کو قصور وار قرار دیکر سخت سزا دی جائے تاکہ یونیورسٹی کو بدنامی سے بچایا جا سکے اور فیمیل طالبات کی عزت و آبرو کو محفوظ بنایاجائے۔ اگر وائس چانسلر انتظامیہ نے بروقت تسلی بخش اقدامات نہ اٹھائے تو جمعرات کے دن پی ایس ایف یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کو بند کر کے ہزاروں میل اور فیمیل طلباء و طالبات کا پُر امن احتجاجی ریلی نکالے گی۔ احتجاجی تحریک تسلی بخش اقدامات اور نتائج تک جاری رہے گا۔

پشاور:پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک اہم اجلاس

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک اہم اجلاس زیرصدارت محمد اعجاز خان یوسفزئی منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام یونٹوں کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کے علاوہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے سینئر نائب صدر محمد داؤد ، نائب صدر اہتشام الحق ، جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد حسن خان اعوان کے علاوہ کثیر تعداد میں کارکنوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اعجاز خان یوسفزئی نے کہا کہ ہم فخرِ افغان باچاخان باباؒ کی 26 ویں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان باباؒ کی 8ویں برسی میں بھرپور شرکت کریں گے اور انہوں نے کارکنوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ بروز اتوار 26 جنوری کو 10:00 بجے ریکریشن لان میں تشریف لائیں تاکہ بروقت روانہ ہوکر ولی باغ پہنچ جائیں۔

مورخہ: 22.1.2014 بروز بدھ

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے قائد محترم اسفند یار ولی خان نے چارسدہ سر ڈھیری بازار میں بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں چھ پولیس اہلکاروں اور ایک بچے کے جاں بحق ہونے پر اُن کے خاندانوں سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلیے دُعا کی ہے۔
اے این پی کے قائد نے باچا خان مرکز پشاور سے اپنی طرف سے جاریکردہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بے گناہ معصوم جانوں کو ایسے بے دردی سے مارنا درندگی ہے اور ایسی کارروائیاں کرنے والے اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب سے نہیں بچ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور اس کی گرفت مضبوط ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی بم دھماکے سے متاثرہ خاندانوں سے غم کی اس گھڑی میں مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اُن کے ساتھ اس غم میں برابر کی شریک ہے۔

مورخہ: 22.1.2014 بروز بدھ

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے چارسدہ سر ڈھیری بازار میں بم دھماکے کی سخت الفاط میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں چھ پولیس اہلکاروں اور ایک بچے کے جاں بحق ہونے پر اُن کے خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے زخمی افراد کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا بھی کی ہے۔
اے این پی کے رہنما نے پارٹی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے اپنے جاریکردہ بیان میں کہا ہے کہ بے گناہ اور معصوم جانوں کا خون نا حق کرنا درندگی ہے اور اس قبیح فعل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایسی کارروائیوں سے امن کے قیام کیلئے جدوجہد متزلزل ہو گا۔
اُنہوں نے وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آٹھ مہینے گزرنے کے باوجود وہ عوام کو تحفظ نہیں دے سکے اور نہ دہشتگردی کے خلاف کوئی واضح پالیسی اپنا سکے بلکہ اُنہوں نے مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر حکومت عوام کو تحفظ نہیں دے سکتی تو اُس کو عوام پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے پر وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اور حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ سے مکمل طور پر غافل ہے۔ حکومت کی پالیسیوں میں کنفیوژن ہے وہ دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی واضح کرے اور آئین نے حکومت کو عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری دی ہے وہ اس کی پاسداری کرتے ہوئے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا کر کسی قسم کی کوتاہی کرنے سے گریز کرے۔

مورخہ: 22.1.2014 بروز بدھ

 

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے چارسدہ سرڈھیری بازار میں بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔
اے این پی کے رہنما نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مذاکرات کا ڈرامہ رچا کر عوام کو دہشتگردوں کے حوالے کیا ہے۔ اور وہ عوام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پارٹی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے اپنی طرف سے جاریکردہ مذمتی بیان میں کیا۔
اے این پی کے رہنما نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیوں میں کنفیوژن ہے لیکن دہشتگردوں کی پالیسی واضح ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا گیا مگر حکومت نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا اور اب دوسری اے پی سی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ بجائے اس کے کہ مذاکرات ہو یا دوسرے آپشن کا استعمال کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ شاید حکومت اے پی سی بلانے پر مجبور ہو مگر آئین نے حکومت کو عوام کی جان و مال کے تحفظ کی جو ذمہ داری دی ہے اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔
مورخہ: 21.1.2014 بروز منگل
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سید عاقل شاہ ، ہارون بلور ، ملک غلام مصطفی اور سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے عہدیداروں نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے احاطے میں پولیس اہلکار کے بدترین تشدد کا نشانہ بننے والے خیبر یونین آف جرنلٹس کے سینئر نائب صدر محمد نعیم کی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں عیادت کی اور اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیااور ڈاکٹرز کو اُس کے فوری علاج کیلئے زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار کے ظالمانہ تشدد کی وجہ سے محمد نعیم انتہائی تشویش ناک حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بولٹن بلاک میں پڑا ہوا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی صحافی برادری کیساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اُن پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی پولیس والے کو صحافیوں کیساتھ اس قسم کا سلوک کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اس کے ساتھ اُنہوں نے کراچی میں ایکسپریس نیوز کے تین ساتھیوں کی شہادت پر سندھ کی صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عوام کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہیں اور اب صحافی برادری کو بھی تحفظ دینا اُن کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کوجان و مال کا تحفظ دینا صوبائی اور مرکزی حکومتوں کا فرض اولین ہے جبکہ اس وقت ملک کی حالت نہایت تشویش ناک ہے اس پر حکومتوں کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہیے۔ اگر وہ ایکشن لینے کے قابل نہیں ہیں تو ذمہ دار لوگوں کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ آزاد صحافت کی علمبردار رہی ہے اور صحافت پر پابندی چاہے وہ دہشتگردوں کی جانب سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو اُس کی پُرزور مخالفت کرتی آئی ہے اور کرتی رہے گی۔

مورخہ: 21.1.2014 روز منگل

 

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی ضلع دیر پائیں کے رہنما حاجی بہادر خان کی سربراہی میں ایک وفد نے باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی پختون خوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ ، میاں افتخار حسین ، جمیلہ گیلانی ، صدرالدین مروت ایڈووکیٹ ، تاج الدین خان اور عمران آفریدی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حاجی بہادر خان اور اُن کے ساتھ وفد میں شامل پارٹی کے دیگر ارکان نے پارٹی کے قائد محترم اسفندیار ولی خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پارٹی فعالیت اور ترقی کیلئے شب و روز ایک کر کے تمام ترصلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لا کر اہم اور کلیدی کردار ادا کیا جائیگا اور اپنے قائد کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے تمام مسائل کا پامردی سے مقابلہ کیا جائیگا۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو حالات کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اُنہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے پیغام کو ہر گھر اور ہر فرد تک پہنچائیں گے۔ اور آنے والے بلدیاتی الیکشن میں مخالفین کی ضمانتیں تک ضبط کردینگے۔
مورخہ: 21.1.2014 بروز منگلپشاور: پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے 40 رکنی وفد نے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر کی قیادت میں جلال آباد جا کر فخر افغان باچا خان بابا کے مزار پر حاضری دی۔ قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فخر افغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک عبدالولی خان بابا کے ایصال ثواب کیلئے مزار پر قرآن خوانی اور اجتماعی دُعا کا اہتمام بھی کیا۔ بعدازاں صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر کی قیادت میں 5 رکنی وفد نے کابل میں فخر افغان باچا خان بابا کی برسی میں شرکت کی۔ برسی کی تقریب میں فخر افغان باچا خان بابا کے افکار و نظریات اور اُن کی جدوجہد اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر امتیاز وزیر نے برسی کی تقریب کے انعقاد پر ملی تحریک اور ژوندون ٹی وی کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور اُن تک پی ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر محترم ایمل ولی خان کا پیغام پہنچایا۔ امتیاز وزیر نے مطالبہ کیا کہ افغانستان اور پختونخوا کے یونیورسٹیز کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور نوجوانوں کے وفود کے تبادلہ کو یقینی بنایا جائے جن کی وجہ سے لر اور بر افغان سمیت دونوں ممالک کو قربت کا موقع ملے گا۔مورخہ: 21.1.2014 بروز منگل
پشاور: پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ نے کراچی میں پی ایس ایف سندھ کے صوبائی سینئر نائب صدر ارشد سواتی کے اغواء پر گہری تشویش اور دُکھ ک اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارشد سواتی کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔
امتیاز وزیر نے کہا کہ کراچی سب کا ہے لہٰذا کراچی کو بیروت بنانے کی تمام سازشوں کو ناکام بنا کر کراچی میں پختونوں کیلئے یکساں بنیادوں پر باوقار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا حکومت اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے جس میں دونوں اطراف سے کوتاہی پر دُکھ ہوتا ہے۔ اس موقع پر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں ارشد سواتی کو باعزت رہا کیا جائے اور کراچی میں پختونوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اگر ارشد سواتی کو جلد از جلد باعزت رہا نہیں کیا گیا تو پختونخوا کا پی ایس ایف کراچی میں اپنے بھائیوں کو مشکل کی ہر گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور احتجاجی تحریک شروع کر کے اپنے حقوق اور تحفظ کیلئے دمہ دم مست قلندر کرینگے۔
مورخہ: 20.1.2014 بروز پیر
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان نے راولپنڈی خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بے گناہ اور معصوم جانوں کے ضیاع پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں سے بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔
اے این پی کے قائد نے کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے عوام کے حوصلے پست نہیں ہو سکتے ۔ دہشتگردی کے ناسُور کو جڑ سے اُکھاڑنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے نظریات سے بالا تر ہو کر متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اے این پی متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اُن کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
مورخہ: 20.1.2014 بروز پیر
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے راولپنڈی خودکش دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔
اے این پی کے رہنما نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ اور وہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پارٹی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے اپنی طرف سے جاریکردہ مذمتی بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے راولپنڈی میں خودکش دھماکہ اُس وقت کیا جب وفاقی کیبینٹ کا اجلاس ہو رہا تھااور دہشتگردوں کی طرف سے حکومت کو یہ پیغام ملا کہ وہ جہاں بھی چاہے اپنی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے حکومت کو دباؤ میں لانے کیلئے یہ اقدام اُٹھایا ہے اور دہشتگردوں کی جانب سے مزید کارروائیوں کا امکان بھی موجود ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشتگرد اپنی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بامقصد مذاکرات کیلئے پیش کش بھی کی۔ جو پالیسی حکومت کو اپنانا چاہیے تھی وہ دہشتگردوں نے اپنا لی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کا پلڑا حکومت پر بھاری لگتا ہے۔
اے این پی کے رہنما نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں میں کنفیوژن ہے لیکن دہشتگردوں کی پالیسی واضح ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا گیا مگر حکومت نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا اور اب دوسری اے پی سی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ بجائے اس کے کہ مذاکرات ہو یا دوسرے آپشن کا استعمال کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ شاید حکومت اے پی سی بلانے پر مجبور ہو مگر آئین نے حکومت کو عوام کی جان و مال کے تحفظ کی جو ذمہ دی ہے اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔مورخہ: 20.1.2014 بروز پیرپشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سید عاقل شاہ ، ہارون بلور ، ملک غلام مصطفی اور سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے عہدیداروں نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے احاطے میں پولیس اہلکار کے بدترین تشدد کا نشانہ بننے والے خیبر یونین آف جرنلٹس کے سینئر نائب صدر محمد نعیم کی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں عیادت کی اور اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیااور ڈاکٹرز کو اُس کے فوری علاج کیلئے زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار کے ظالمانہ تشدد کی وجہ سے محمد نعیم انتہائی تشویش ناک حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بولٹن بلاک میں پڑا ہوا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی صحافی برادری کیساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اُن پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی پولیس والے کو صحافیوں کیساتھ اس قسم کا سلوک کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اس کے ساتھ اُنہوں نے کراچی میں ایکسپریس نیوز کے تین ساتھیوں کی شہادت پر سندھ کی صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عوام کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہیں اور اب صحافی برادری کو بھی تحفظ دینا اُن کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کوجان و مال کا تحفظ دینا صوبائی اور مرکزی حکومتوں کا فرض اولین ہے جبکہ اس وقت ملک کی حالت نہایت تشویش ناک ہے اس پر حکومتوں کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہیے۔ اگر وہ ایکشن لینے کے قابل نہیں ہیں تو ذمہ دار لوگوں کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ آزاد صحافت کی علمبردار رہی ہے اور صحافت پر پابندی چاہے وہ دہشتگردوں کی جانب سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو اُس کی پُرزور مخالفت کرتی آئی ہے اور کرتی رہے گی۔مورخہ:19-1-2014 بروز اتوارپشاور : نصاب کو دوبارہ مرکز کے زیرِ اختیار بنانے کی سازشیں ہو رہی ہے۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں اپنی پوزیشن واضح کردیںاے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ نصاب کو صوبوں کے دائرہ اختیار سے واپس مرکز کے زیرِ اختیار لانے کے لئے کوشاں ہے ۔ اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی خاموشی افسوسناک ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت نصاب سازی کا اختیار صوبوں کو منتقل کرناایک تاریخی اقدام ہے اور اس کی واپسی کی پُر زور مخالفت کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے اور اس کی مخالفت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نصاب سازی کے اختیار کو صوبوں سے واپس لینا انتہائی نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں نصاب سازی کا اختیار ملنے کے بعد اس پر کافی کام کیا ہے ۔ اور حقیقی معنوں میں تاریخ، معاشرتی علوم ، اسلامی علوم اور سائنسی علوم کو طلباء کے ذہنی استطاعت کے عین مطابق بنایا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ پچھلے حکومت کا ایک احسن اقدام ہے جس کو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اختیار کی بدولت علاقائی زبانوں کی ترویج اور ترقی کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اس طرح کی کوششوں سے باز آجا نا چاہئے ، اور قومی یکجہتی میں نفاق نہیں ڈالنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کا اختیار صوبوں کے پاس آجانے سے صوبے میں حقیقی معنوں میں نصاب سازی پر کام ہوا ہے جو کہ قابل تحسین ہے ۔مورخہ:19-1-2014 بروز اتوارپشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیارولی خان نے بنوں سیکورٹی فورسز کے قافلے میں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے، اوردہشت گردی کے ایسے واقعات کی روک تھام حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دُعا کی ہے۔
باچاخانؒ مرکز سے انہوں نے اپنے جاریکردہ بیان میں بم دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں سے مکمل یک جہتی کا اظہا ر کیا ہے اور کہا ہے کہ اے این پی متاثرہ خاندان سے اُن کے غم میں برابر کی شریک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ اور ظالمانہ کاروائیوں سے عوام کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے ۔18جنوری نیوز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مردان ( ) سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخو اہ ا ورکن قومی اسمبلی امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے صوبا ئی حکومت نے پختونوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور آئے روز بم دھماکوں میں بے گناہ پختونوں کو مارا جارہاہے لیکن بے حس حکمران دہشت گردی کے کاروائیوں کی مزمت تک نہیں کرسکتے ۔حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی واضح پالیسی قوم کو بتائے ۔ہم نے اپنے دور حکومت میں اندرونی اور بیرونی قوتوں کے مخالفت کے باوجود بھی سوات میں امن کی حاطر مزاکرات کئے ۔ پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیڈ ٹ دیاہے اور صوبائی حکومت عوام کے مسا ئل حل کر نے کے لئے فورا عملی اقدامات آٹھائے اور دہشت گردوں سے مزاکرات سمیت تمام آپشنز پر جلد از جلد عمل درآمد کریں۔دہشت گردی سے سب سے زیادہ پختون متاثر ہورہے ہیں جبکہ مرکزی حکومت کے ترجیحات مختلف ہے ۔ہم نے اپنے دور حکومت میں ہم نے سیاست سے بالاتر ہوکر صوبے کے عوام کی حدمت کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل مایار میں جلسہ سے خطاب کر تے ہوئے کیا، اس موقع پر سابق ایم این اے حمایت اللہ مایار نے بھی حطاب کیا۔جبکہ اس موقع پر فرمان خان،سعیدعالم بابا اور آصف اللہ مایار بھی موجود تھے۔ اور دوسرے ضلعی قائدین بھی موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ پارٹی انتحابات میں اے این پی کے کارکن محلص اور ایماندار لوگوں کو منتحب کر کے پارٹی کو مزید فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔گزشتہ ممبر سازی میں جو کوتاہیاں ہوئی ہے اس کو دوبارہ ہر گز برداشت نہیں کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ شحصیات کی بجائے الیکشن کمیٹی کے ممبران ممبر شپ کی کاپیاں تقسیم کریگی اور جو شحص بھی رکن بننا چاہیگا وہ اپنے شناحتی کارڈ اور مکمل کوئف کمیٹی کے ممبران کو مہیا کرینگے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی صوبے کی سب سے بڑی نظریاتی پارٹی ہے او ر ہم نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ہم پختونوں کی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں اور اس سلسلے میں ہم نے بیش بہا قربانیاں دی ہے اور آئیندہ بھی کسی قسم کی قربانی سے دریع نہیں کرینگے۔مورخہ: 18.1.2014 بروز ہفتہپشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر حاجی محمد عدیل اور صوبائی عبوری صدر بشیر احمد مٹہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آرگنائزنگ کمیٹیوں کی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ عظیم پختون رہنما باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کی مشترکہ برسی انتہائی عقیدت واحترام سے بھرپور انداز میں منانے کیلئے نشتر ہال کی بجائے ولی باغ چارسدہ میں منائی جائیگی۔ کیونکہ بشیر احمد بلور کی برسی کے دوران نشتر ہال میں گنجائش کم ہونے کی وجہ سے بہت سے کارکنوں کو مختلف مسائل کا سامنا ہوا تھا۔ اور چونکہ ولی باغ چارسدہ ہمارا مرکز ہے اور باچا خان بابا اور عبدالولی خان بابا کا گھر ہے اس لیے برسی پرسکون انداز سے منانے کیلئے مرکزی تقریب 26 جنوری دوپہر 2.00 بجے ولی باغ چارسدہ میں ہو گی۔ مزید برآں ضلعی سطح پر تمام تنظیمیں مقامی سطح پر اپنے حالات کے مطابق برسی کا اہتمام کریں۔
مورخہ: 17.1.2014 بروز جمعۃ المبارک
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے سابق وزیر اطلاعات و نشریات میاں افتخار حسین نے جمعہ مبارک کے روز بھی تبلیغی مرکز کا دوبارہ دورہ کیا ۔ اُنہوں نے الیکٹرانک میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس جگہ پر ایک دھماکہ ہوا ہے جبکہ دو بموں کو ڈفیوز کیا گیا ہے۔ اور اس بم دھماکے میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج یہاں پرکافی تعداد میں لوگ نماز جمعہ کی تیاریاں زور شور سے کر رہے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ ان لوگوں کا کتنا بڑا حوصلہ اور ہمت ہے اگر یہی حوصلہ اور ہمت ہماری موجودہ صوبائی حکومت میں آجائے تو ہمارے صوبہ میں امن قائم ہوجائے گا یہ ہم موجودہ صوبائی حکومت کو طعنہ نہیں دے رہے ہیں ہمارے دور میں بھی اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں مگر ہم نے اُن واقعات کا سامنا کیا اور عوم کیساتھ مشکل کی ہر گھڑی میں کھڑے رہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں دہشگردی کے خلاف ایک واضح پالیسی اپنائی تھی ۔ جب بھی مذاکرات کی ضرورت محسوس ہوئی تو مذاکرات بھی ڈٹ کر کیے ہیں اور صوبہ میں امن کے قیام کیلئے تحریری معاہدے بھی کیے ہیں۔ اور جب اُنہوں نے مذاکرات کو ماننے سے انکار کیا تو ہم نے آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کیلئے ڈٹ کر کارروائی بھی کی۔ ہماری حکومت نے صوبہ کے اطراف کو سیل کیا تھا جبکہ چیک پوسٹوں کی تعداد بھی زیادہ کی تھی اور دہشتگردی پر کسی حد تک قابو پایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے آج تک اے این پی ٹارگٹ بنی ہوئی ہے۔ اور موجودہ صوبائی حکومت نے آتے ہی ان اطراف کو کھول دیااور چیک پوسٹوں میں کمی کر دی گئی جس کی وجہ سے دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر دہشتگرد مذاکرات کرنے کو تیار نہیں ہیں تو پھر موجودہ صوبائی حکومت صوبہ میں جاری اس دہشتگردی کو روکنے کیلئے کیا سوچ رہی ہے ؟ دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی وضع کیوں نہیں کرتے ؟
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے ڈر کی وجہ سے دہشتگردی کے خلاف کوئی پالیسی وضع نہیں کر رہے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت ہمت اور حوصلہ سے کام لیں اور دہشتگردی کے خلاف کوئی واضح پالیسی بنائیں تو اس صوبہ میں امن کا قیام پھر ممکن ہو سکتا ہے۔ اور مرکزی حکومت بھی اس صورتحال میں برابر کی شریک ہے۔ اُن کی کنفیوز پالیسی کی وجہ سے اور صوبائی حکومت کی ناکام پالیسی کی وجہ سے دہشتگردی کو تقویت مل رہی ہے۔ لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومت دونوں کو اپنی پالیسی وضع کرنی چاہیے۔ بصورت دیگرلوگ مرتے رہیں گے ، کاروبار اور معیشت اسی رفتار سے تباہ ہوتی رہے گی جس کے خطر ناک نتائج برآمد ہونگے۔
مورخہ: 17.1.2014 بروز جمعۃ المبارکپ
شاور : عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ ، میاں افتخار حسین ، محترمہ جمیلہ گیلانی اور صدر الدین مروت ایڈووکیٹ نے لکی مروت سرائے نورنگ میں اے این پی کے ضلعی دفتر کو بارودی مواد سے اُڑانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی امن کی داعی جماعت ہے اور امن کے قیام ، ظلم و جبر اور تشدد کے خاتمے کیلئے وہ اپنی عملی جدوجہد کرتی رہے گی۔ باچا خان مرکز پشاور سے اُنہوں نے اپنے مشترکہ جاریکردہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے ہمارے حوصلوں کو کمزور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسے ہتھکنڈوں کے استعمال سے ہماری عملی جدوجہد کو متزلزل کیا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے امن کے قیام کو ممکن بنائیں گے اور تشدد کی داعی قوتوں کو شکست دینگے۔
مورخہ: 17.1.2014 بروز جمعۃ المبارک
پشاور: پختون ایس ایف کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر اور جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ نے بنوں میں کالج انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی طرف سے پی ایس ایف
کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بنوں میں پی ایس ایف کے خلاف انتقامی کارروائیاں فوراً بند کی جائیں۔
امتیاز وزیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ پیر ہارون علی شاہ ، حکمت پختونیار ، وسیم باغی ، فہیم ، موسیٰ خان اور مُرید کو بغیر کسی جرم کے بار بار جیل میں ڈالنے سے پی ایس ایف کو دبایا جا رہا ہے جو کہ ناقابل قبول اقدام ہے۔ اگر بنوں کالج اور پولیس انتظامیہ نے پی ایس ایف کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو بند نہ کیا تو صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہو نگے۔ امتیاز وزیر نے کہا کہ پی ایس ایف ایک تاریخی اور طلباء کی نمائندہ فیڈریشن ہے جس کو دبانے میں فوجی آمر بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ نہ ہی ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پی ایس ایف کو دبایا جا سکے گا بلکہ دبانے کے ناجائز اقدامات کے نتیجے میں پی ایس ایف مزید اُبھرے گی۔
واضح رہے کہ پی ایس ایف بنوں میں تنہا ہر گز نہیں اُن کی پُشت پر صوبہ بھر میں پی ایس ایف کھڑی ہے۔ جو اپنے بھائیوں پر ظلم و جبر کے خلاف نکل کر باطل قوتوں کو صراط مستقیم پر ڈالنے کی صلاحیت اور دم خم رکھتا ہے۔
تاریخ: 17 جنوری 2014ء
سوات : سابق صوبائی وزیر جنگلات واجد علی خان نے کہا ہے کہ سوات کے دورہ پر کروڑوں روپے خرچ کرنیوالے وزیراعظم نے سواتی عوا م کو مایوس کردیا، نوازشریف نے سوات کیلئے اعلانات نہ کرکے لیگیوں کیلئے بھی لمحفہ فکریہ ہے ، وزیراعظم نے شاہانہ انداز میں سوات کا دورہ کرنے کے بعد سوات سے تو واپس چلے گئے لیکن انہوں نے سوات میں مایوسی کی فضاء چھوڑ دی ہے ان خیالات کااظہار انہو ں نے وزیراعظم کے دورہ سوات کے رد عمل میں کیا ، انہوں نے کہا کہ ایک اعلیٰ عہدے پرفائز شخصیت کاسوات آمد نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ سوات میں اپنی حیثیت کے مطابق بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کرتے لیکن وزیراعظم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ صرف پنجاب کا وزیراعظم ہے ۔ باقی ملک سے ان کا کوئی سروکارنہیں ، انہوں نے دورہ سوات پر کروڑوں روپے خرچ کرائے لیکن کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود سوات کیلئے کچھ نہ کرنا سمجھ سے بالاترہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوات کے عوام کیساتھ موٹروے کا وعدہ کرنیوالے اور کالام شاہراہ کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کے دعویدار نے ان ترقیاتی منصوبوں کی طرف اشارہ تک نہیں کیا سوات کے عوام کو ان دنوں بجلی اورسوئی گیس کے حوالے سے شدید پریشانی کاسامناہے ، لیکن شاہانہ انداز کے مالک نواز شریف نے اس طرف بھی کسی قسم کے دہان نہیں دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بااختیار وزیراعظم ان کے صوابدید میں اربوں کافنڈ بھی ہے لیکن سوات کو ایک بار پھر وزیراعظم نے بری نظر سے دیکھ کر سواتی عوام کامذاق اڑادیاہے۔ جس کی جتنے بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے اعلانات نہ کرنے مسلم لیگ کے مقامی قیادت کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے ۔سوات : عوامی نیشنل پارٹی سوات کے سابق صدر و ایم پی اے شیرشاہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کادورہ سوات عوام کیساتھ مذاق کے مترادف ہے ، دورے پر کروڑوں خرچ کئے گئے لیکن سوات کی بھلائی کاکوئی منصوبہ انہوں نے اعلان نہیں کیا ان خیالات کااظہار انہوں نے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اگرقرض ہی کی بات کرناتھی تووہ ٹی وی پربیٹھ کریں کرسکتے تھے ان کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں اورمریضوں کو مشکلات کاسامناکرناپڑا، سیدومیں کرفیو نافذ کیاگیاتھااسپتال کے راستے بندتھے ان کا یہ دورہ عوام کیلئے رحمت کی بجائے عذاب بن گیا۔ ہمیں حکمرانوں کے ایسے دوروں کی ضرورت نہیں جسمیں عوام کو خوار کیاجاتاہو اورریلیف کیلئے کوئی اعلان نہ ہوتاانہوں نے کہا کہ سوات کے عوام مطمئن تھے کہ وزیراعظم آئینگے علاقے کیلئے میگاپراجیکٹ کے اعلانات کرینگے لیکن کچھ بھی نہیں کیاگیا عوام ایسے دوروں پراپنے تحفظات کااظہارکرتے ہیں سوات کے عوام کئی برسوں سے ترقی سے محروم ہیں لوگ سڑکوں کی کشادگی چاہتے ہیں ۔ بڑے بڑے منصوبے چاہتے ہیں لیکن حکمرانوں کی یہ ناکامی ہے کہ وہ سوات کے عوام کو مسلسل نظراندازکررہے ہیں جو کہ افسوسناک امرہے۔
کوئیٹہ ؍جمعرات17 جنوری2014ء
عوامی نیشنل پارٹی کے صو با ئی آ رگنا ئز نگ کمیٹی کے جنر ل سیکر ٹری رشید خان نا صر نے اپنے ایک بیان میں 26جنو ری کو کوئٹہ میں فخر افغان با چا خان اور رہبر تحر یک خان عبدا لو لی خان کی بر سیو ں کے منا سبت سے ہو نے والے جلسے کو ملتو ی کر نے کا اعلا ن کر تے ہو ئے کہا ہے کہ چو نکہ پارٹی کے صو با ئی رہنما 20جنو ری کو نو اب عبد الظا ہر کا سی کی با ز یا بی کے لیے اسلا م آبا د میں ہو نے والے دھر نے میں شر کت  کے لیے جا ر ہے ہیں، اور اسلا م آ با د میں احتجاج کے بعد صد ر مملکت اور وزیر اعظم سے بھی ملا قا تیں کر ینگے، اس لیے پارٹی دونوں عظیم رہنما وں کی بلو چستان میں ہو نے والے مرکزی جلسے کی تار یخ کو تبد یل کر کے 26جنو ری کے بجا ئے 4فر وری کو کو ئٹہ میں دونو ں رہنما وں کو خر اج عقید ت پیش کر نے کے لیے عظیم انشان جلسے کا انعقا د کر ے گی، جس سے پارٹی کے صو با ئی ومرکز ی رہنما خطا ب کرینگے۔
رشید خان نا صر نے پارٹی کے تمام کارکنوں اور پارٹی کے ذیلی تنظیموں کو ہد ایت کی کہ وہ 4فر وری کو ہو نے والے جلسے کی بھر پور تیار ی کر یں تا کہ فخر افغان با چاخان اور خا ن عبد الو لی خان کو ان کی قر با نیوں کے سبب خر اج عقید ت پیش کیا جا سکے، علا وہ ازیں ضلع پشین  کے چیر مین صا د ق کا کڑ نے پارٹی ضلع پشین اور دیگر سیا سی جما عتوں کے جا نب سے گیس اور بجلی کے پشین میں نا روا لو ڈ شیڈ نگ کے  خلا ف 20جنو ری کو پشین با زار میں 10بجے احتجاجی مظا ہر ہ ہو گا، کارکن اس مظا ہر ے میں بھر پو ر شر کت کریں، دریں اثنا ء  ضلع پشین کے چیر مین محمد صا د ق کاکڑ نے ضلع پشین کے تمام کارکنوں کو ہد ایت کی کہ فخر افغان باچا خان اور خان عبدا لو لی خان کی بر سیوں 4فرو ری کو کو ئٹہ میں مرکز ی جلسہ ہو گا، جلسے میں بھر پو ر طر یقے سے شرکت کر یں۔
کراچی ؍جمعرات16 جنوری2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنما سینیٹر شاہی سید نے کراچی کے مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں خصوصاً پولیس اور رینجرز اہلکارو ں پر فائرنگ اور دستی بم حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر حملوں کے واقعات پر نہایت تشویش کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ملک کے سیکیورٹی اداروں کے بہادر اور نڈرجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہماری فورسز اپنی دھرتی ماں کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے اور ان کے ناپاک اور بھیانک عزائم خاک میں ملانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ شہر میں امن و امان کی تمام تر ذمہ داریاں صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہیں امن جھوٹے وعدوں اور جذباتی تقریروں سے قائم نہیں ہوسکتا بلکہ اس کیلئے ہمارے حکمرانوں کو عملی اقدامات کرنا ہونگے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اپنے ساتھیوں کی عظیم جانی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنا ہونگے تاکہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں ، سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ سیکورٹی فورسز پر حملوں کامقصددہشتگردی کے خلاف ان کے مورال کو ختم کرنا ہے تاہم ان شر پسندوں کے خلاف مؤثر اور نتیجہ خیز کاروائی کر کے پولیس اور رینجرز کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ ان عناصر کے سامنے کبھی بھی پسپا نہیں ہونگے،سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ اس وقت عوام کی نظریں سیکورٹی فورسز پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کس طرح عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتی ہیں عوام کے اعتماد کی بحالی اور سندھ پولیس فورس کی ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے دہشت گرد عناصر کو بھرپور طاقت سے کچلنا ہوگا۔ سینیٹر شاہی سید نے فائرنگ کے واقعہ میں شہید ہونے والے پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے سوگواران خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہدا کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا ء فرمائے ۔دعوت و تبلیغ کا مرکز سب کیلئے قابل احترام ہے تبلیغی مرکز میں پیار ومحبت کا پیغام دیا جاتا ہے ایسی جگہ دھماکہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کراچی ۔16 جنوری، 2014
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان اور سینیٹر شاہی سید نے پشاور میں چارسدہ روڈ پر تبلیغی مرکزمیں شب جمعہ کے اجتماع پر ہونے والے دھماکہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور دھماکے میں متعدد افراد کے جاں بحق ہونے پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پسماندگان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی ہے انہوں نے مذید کہا کہ دعوت و تبلیغ کا مرکز سب کیلئے قابل احترام ہے تبلیغی مرکز میں پیارو محبت کا پیغام دیا جاتا ہے ایسی جگہ دھماکہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ معصوم لوگوں پر حملوں نے ثابت کردیا ہے کہ دہشتگردوں کا کسی مذہب سے تعلق نہیں انکے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرنا ہوگی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھنا ہوگا ۔دونوں قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں مذید کہا کہ حالات قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں اگر دہشتگردوں کو روکا نہ گیا تو سب کو پچھتانا ہوگا اور ان کے خلاف جامع پالیسی اپنانا ہوگی۔ہم وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بم دھماکہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔
مورخہ: 16.1.2014 بروز جمعرات
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی تنظیم نوپختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی ، سائنس فیکلٹی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے (Cabinet) مکمل ہو گئے۔ جس کی نگرانی اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ارشد صافی نے کی۔ جس میں کیمپس آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین مقرب خان بونیری اور ملک انور سمیت صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے سابق صدر توحید خان داؤد زئی بھی موجود تھے۔
Cabinet میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی ، سینئر نائب صدر محمد داؤد ، نائب صدر اول محمد احتشام ، نائب صدر دوم مریم ، نائب صدر سوم ملک سنگین ، نائب صدر چہارم آصف بنگش ، جنرل سیکرٹری سمعی اللہ اورکزئی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسن خان اعوان ، جائنٹ سیکرٹری شائستہ ، پریس سیکرٹری عطاء اللہ ، انفارمیشن سیکرٹری سکندر خان ، کلچر سیکرٹری محمد عمران ، فنانس سیکرٹری آیان خان ، ٹرانسپورٹ سیکرٹری سہیل اعوان ، سپورٹ سیکرٹری سلمان خان ، بلڈ سیکرٹری زاہد خان۔
سائنس فیکلٹی میں صدر نعمان شیر ، سینئر نائب صدر مواز خان ، نائب صدر اول اسد خان ، نائب صدر دوم ایمل خان ، نائب صدر سوم اویس خان ، جنرل سیکرٹری جواد خان ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عمران آفریدی ، جائنٹ سیکرٹری توحید خان ، پریس سیکرٹری عادل خان ، انفارمیشن سیکرٹری عامر خان ، کلچر سیکرٹری مبین ، فنانس سیکرٹری فہیم احمد ، بلڈ سیکرٹری صدام حسین۔
آرٹس فیکلٹی میں صدر تحسین اقبال یوسفزئی ، سینئر نائب صدر وسیم عباس خان یوسفزئی ، نائب صدر اول عمر مانیروال ، نائب صدر دوم آصف رضا ، نائب صدر سوم رفیع اللہ ، جنرل سیکرٹری بلال مہمند ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عالمگیر ، جائنٹ سیکرٹری عامر باچا ، پریس سیکرٹری آصف اقبال ، انفارمیشن سیکرٹری ولید ، کلچر سیکرٹری عباس خان ، بلڈ سیکرٹری مصطفی ، فنانس سیکرٹری طارق خان چُن لیے گئے۔
مورخہ: 16.1.2014 بروز جمعرات
سابق ضلعی ناظم جہانزیب خان نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا فیصلہ کردیا۔
صوابی:۔عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی کے ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ارشدخان ایدوکیٹ کی سربراہی میں ضلعی آرگنائزنگ کے ارکان ،محمد رشیدخان ایڈوکیٹ ،حاجی میرحسن خان،اقبال خان جدون،سردارمحمد،زاہدخان،اشفاق خان ایڈوکیٹ ،اور اے ،این ،پی ضلع صوابی کے سنیئر راہنماؤں میں جانس خان،آمان خان، ممتاز خان،آف لاہور ،کامدارخان،خیرمحمدکاکا،سابق صوبائی وزیر حاجی زرشیدخان، محمد نعیم خان،اور ضلعی آفس سیکرٹری حبل الوریدنے جرگہ میں شامل تھے ۔ جرگہ نے سابق ضلعی ناظم جہانزیب خان،اور اُنکے ساتھیوں میں ،بشیر ذادہ ،شیربادشاہ،کامران،عارف خان،دورخان،ناصر اور دسویں کارکن کو اے این پی میں شمولیت کی دعوت دی ،جوکہ اُنھوں نے دعوت کو قبول کی اور فیصلہ کیا گیا کہ ایک بڑے جلسہ عام میں اس کا اعلان کردیا جائیگا
مورخہ: 16.1.2014 بروز جمعرات
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پختون خوا کے ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ کے مطابق خوشدل خان ایڈووکیٹ نے عوامینیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک اور سید جعفر شاہ خان ایم پی اے کی جانب سے ہائیکورٹ پشاور میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف رٹ جمع کیا ۔
تفصیلات کے مطابق اے این پی کے وکیل خوشدل خان ایڈووکیٹ نے اے این پی پختونخوا کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک اور جعفرشاہ ایم پی اے کی جانب سے ہائی کورٹ پشاورمیں وقار احمد سیٹھ اور محمد داؤد خان جج پر مشتمل ڈبل بنچ کے ساتھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف رٹ جمع کیا ۔ انہوں نے رٹ کاجائزہ لیتے ہوئے داخل کیا اور ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ کو موقع پر ہی نوٹس جاری کیا۔
مورخہ: 15.1.2014 بروز بدھ
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حیسن ، ہارون احمد بلور ، ملک غلام مصطفیٰ ،سرتاج خان ، ملک نسیم ، حمایت مایا اور دیگر اے این پی کے صوبائی رہنما میاں مشتاق احمد شہید کے مزار واقع ماشو خیل سلیمان خیل پشاور گئے اور اُن کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ فاتحہ خوانی کے بعد میاں افتخار حسین ، ہارون بلور اور دیگر میاں مشتاق شہید کی رہائش گاہ گئے اور ان کے سوئم پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور ان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے اجتماعی دُعا کی اور فاتحہ پڑھی۔ اس کے بعد میاں افتخار حسین اور دیگر رہنما میاں مشتاق کیساتھ شہید ہونے والے اے این پی کے دیرینہ کارکن اور خدائی خدمتگار گل رحمان کاکا کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کے بعد اُن کی رہائش گاہ گئے اوراُن کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اور پارٹی کیلئے اُن کی خدمات اور جدو جہد کو سراہا۔ اس موقع پر اے این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ میاں مشتاق احمد شہیداور گل رحمان کاکا شہید اے این پی کے فعال سرگرم نڈر اور بہادر کارکن تھے۔ اور ان جیسے پارٹی کی آن اور ساکھ پر جان نچھاور کرنے والے کارکن بہت کم پیدا ہونگے۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشتگرد ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ قیام امن کیلئے ہمارے حوصلے اور بھی مضبوط ہونگے۔ پختون دھرتی پر امن کا قیام عوامی نیشنل پارٹی کا مشن ہے اور امن کے قیام اور پختونوں کی بقاء کیلئے اے این پی کی جدوجہد جاری رہے گی اور ہماری یہ جدو جہد ایسی بزدلانہ اور ظالمانہ کارروائیوں سے متزلزل نہیں ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے پارٹی کیلئے میاں مشتاق احمد شہید اورخدائی خدمتگار گل رحمان کاکا شہید کے خاندان کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دونوں شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا اور شہداء کے بلند درجات کیلئے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی۔
مورخہ: 15.1.2014 بروز بدھ
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام صوبائی عبوری صدر بشیر احمد خان مٹہ کی زیر صدارت باچا خان مرکز میں شہید میاں مشتاق اور اُن کے ساتھی گل رحمان کاکا اور ڈرائیور ندیم خان کے حق میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل ، سینیٹر افرا سیاب خٹک ، سینیٹر داؤد خان ، سینیٹر امر جیت ملہوترا ، میاں افتخار حسین ، جمیلہ گیلانی ، صدرالدین مروت ایڈووکیٹ ، تاج الدین خان ، عمران آفریدی ، پی ایس ایف ، این وائی او ، ملگری ڈاکٹران ، ملگری وکیلان ، سید عاقل شاہ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
ریفرنس سے قبل میاں مشتاق اور اُس کے ساتھ شہید ہونے والے دیگر افراد کے حق میں ختم قرآن کا اہتمام ہوا۔ ختم قرآن کے بعد تعزیتی ریفرنس سے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے میاں مشتاق اور اُن کے ساتھ دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اُن کی شہادت پر فخر ہے ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ پختون دھرتی کے خلاف جاری سازشوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ مگر پختونوں نے ہر سازش کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسے ناکام بنایا۔ ہماری تحریک شہداء سے بھری پڑی ہے۔ ایک سے ایک شہید اپنے اوصاف اور قوم پرستی کے جذبے سے سرشار ایک ممتاز مقام کا حامل ہے۔ موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں ۔ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے اُنہیں چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔
میاں مشتاق اور اس کے ساتھیوں کو علاقہ سرکار میں دن دیہاڑے اپنے گھر سے حیات آباد آتے ہوئے شہید کیا گیا۔ جن کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ باچا خان بابا کے کارکن عدم تشدد کی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے اپنی سرزمین کے خلاف جاری سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ہمیں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ حق اور باطل کی اس جنگ میں فتح حق کی ہو گی۔ اور چونکہ ہم حق پر ہیں لہٰذا فتح ہماری ہو گی۔
ریفرنس کے آخر میں میاں مشتاق ، گل رحمان کاکا ، ندیم خان اور ہنگو کے طالب علم اعتزاز حسن سمیت تمام شہداء کیلئے مغفرت کی دُعا کی گئی کہ خدا ان کے درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
مورخہ:14/1/2014بروز منگل
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل ، اے این پی کے مرکزی آرگنائزنگ سیکرٹری سینیٹر باز محمد خان ، اے این پی پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ ، اے این پی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین ، صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ ، عمران خان آفریدی ، تاج الدین خان اور ہارون احمد بلور نے اے این پی کے صوبائی رہنما میاں مشتاق احمد شہید کی رہائش گاہ ماشوخیل سلیمان خیل پشاور گئے اور ان کے اہل خانہ سے اُن کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی اس موقع پر اے این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ میاں مشتاق احمد شہید اے این پی کے ایک فعال سرگرم ، نڈر اور بہادر کارکن تھے اور اِن جیسے پارٹی کی آن اور ساکھ پر جان نچھاور کرنے والے کارکن بہت کم پیدا ہونگے ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ایسے بزدلانہ کاروائیوں کے ذریعے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ قیام امن کیلئے ہمارے حوصلے اور بھی مضبوط ہونگے ۔ پختون دھرتی پر امن کا قیام عوامی نیشنل پارٹی کا مشن ہے اور امن کے قیام اور پختونوں کی بقاء کیلئے اے این پی کی جدوجہدجاری رہے گی اور ہماری یہ جدوجہد ایسے بزدلانہ اور ظالمانہ کاروائیوں سے متزلزل نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔
اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے پارٹی کیلئے میاں مشتاق احمد شہید اور ان کے خاندان کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے میاں مشتاق احمد شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہا رکیا اور شہید کی بلند درجات کیلئے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی ۔
ارباب اقتدار پراعتزازحسن، چوہدری اسلم خان اور میاں مشتاق کا خون قرض ہے ۔الطاف خان ایڈووکیٹ
کراچی۔پیر 13جنوری 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اے این پی سندھ کی آرگنائزنگ کمیٹی و الیکشن کمیشن کا اجلاس مردان ہاؤس میں چیئر مین الطاف خان ایڈووکیٹ کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں پارٹی کی جاری ممبر شپ اور صوبے کی مجموعی سیاسی صورت حال اور ملک کی مجموعی صورت حال پر غور کیا ،اجلاس میں صو بائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران حاجی شوکت علی ،سید حنیف شاہ ،وکیل خان سواتی نے بھی شرکت کی ،اجلاس میں اعتزازحسن بنگش،میاں مشتاق اور ڈی ایس پی چوہدری اسلم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور تاریخی قربانی دینے پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا اجلاس کے بعد الطاف خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ بھر کے تمام ضلعی چیئر مین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 جنوری کو بلائے گئے اجلاس میں پارٹی کی ممبر شپ کارڈ واپس جمع کروادیں،تمام وارڈوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ جلد از جلد اپنے ضلع چیئر مینوں کو ممبر شپ کارڈ واپس کردیں انہوں نے مذید کہا کہ ملک دہشت گردی کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں اور حکمران خواب غفلت میں مبتلا ہیں دہشت گردی کے متعلق وفاقی اور خیبر پختونخوا حکو مت کو موقف انتہائی بزدلانہ ہے ملک کے مستقبل اور آئندہ نسلوں کی خاطر جرات مندانہ فیصلے کیے جائیں پوری دنیا میں ملک کی سلامتی کے حوالے سے انتہائی سنگین سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردی کے خلاف اپنا جہاد جاری رکھے گی عوامی نیشنل پارٹی سندھ اعتزازحسن بنگش، چوہدری اسلم خان اور میاں مشتاق کو تاریخی قربانی پر دینے پر انہیں سلام پیش کرتی ہے ،ارباب اقتدار پر اعتزازحسن، چوہدری اسلم خان اور میاں مشتاق کا خون قرض ہے ،اعتزاز احسن بنگش کے حوالے سے خیبر پختون خوا حکومت کی بے حسی انتہائی افسوس ناک ہے پی ٹی آئی کے سربراہ کا خیبر پختون خوا حکومت کے حوالے سے بیان کے بعد خیبر پختون خوا حکومت کے کام جاری رکھنے کا اخلاقی جواز ختم ہوگیا ہے سونامی خان مایوسی خان بن گئے ہیں۔
مورخہ: 13.1.2014 بروز پیر
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے رُکن سید جعفر شاہ خان نے پشاور کے علاقہ نوتھیہ قدیم میں آتشزدگی سے پیدا ہونیوالے نقصانات کا مسئلہ اسمبلی کے فلور پر اُٹھاتے ہوئے حکومت سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ آتشزدگی سے غریب لوگ متاثر ہوئے ہیں اُن کے نقصانات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ آتشزدگی سے چھوٹے دُکانداروں کا بہت مالی نقصان ہوا ہے جو دوبارہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہے اور اُن کے گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑ گیا۔ اُن کے بچوں کے گزر اوقات کا واحد وسیلہ آتشزدگی کی وجہ سے چھینا گیا۔ لہٰذا حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ متاثرہ افراد کے گھر کا چولہا جلانے اور اُن کے چھوٹے بچوں کا پاس رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اُن کے نقصانات کا ازالہ کرے اور ان کیلئے نقد امداد کا اعلان کرتے ہوئے عملی اقدامات اُٹھائیں۔
اُنہوں نے صوبائی حکومت کے نوٹس میں لاتے ہوئے آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کیلئے نقد مالی امداد اور جھلسنے والے افراد کے لیے نقد مالی امداد اور علاج معالجے کابھی مطالبہ کیا ہے۔
مورخہ: 13.1.2014 بروز پیر
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کی سابق خاتون نائب صدر اور سابقہ خاتون ایم پی اے شگفتہ ملک نے اے این پی کے سابق صوبائی نائب صدر اور ضلع پشاور کے سابق صدر میاں مشتاق احمد کے دہشتگردوں کے ہاتھوں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد ایسے بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے۔ اُنہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ میاں مشتاق احمد اے این پی کے ایک سرگرم نظریاتی اور دیرینہ کارکن تھے۔ اُنہوں نے پارٹی کی فعالیت اور ترقی کیلئے شب و روز ایک کر کے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ضلع پشاور کی صدارت کے حوالے سے پشاور بھر میں پارٹی کی فعالیت اُن کے مرہون منت ہے۔ 2008 کے عام انتخابات میں پشاور کے گیارہ پی کے میں سے نو پی کے کی جیت کا کریڈیٹ بھی میاں مشتاق احمد کے حصے میں آتا ہے۔ وہ ایک بے باک ، نڈر ، بہادر اور پارٹی کی ساکھ اور آن پر جان نچھاور کرنے والے کارکن تھے اور اُن جیسے کارکن بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔
اُنہوں نے میاں مشتاق احمد کی شہادت کوسُرخ سلام پیش کیا ہے اور غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے بلند درجات کیلئے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی۔
مورخہ : 13-1-2014بروز پیر
پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ اور صوبائی ترجمان حسن بونیری نے اپنے ایک مشترکہ تعزیتی بیان میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی نائب صدرمیاں مشتاق احمد اور ان کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہیں اور ان کے لواحقین اور غمزدہ خاندان سے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ایسے بزدلانہ کاروائیوں کے ذریعے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے بلکہ ہمارے حوصلے اور مضبوط کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے بارود ختم ہوجائیں گے اور ہم پھر بھی زندہ رہیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ میاں مشتاق احمد اے این پی کے ایک سرگرم ، فعال اور دیرینہ کارکن تھے اور پارٹی سے دلی لگاؤ اور محبت رکھتے تھے۔ اُن کی اور اُن کے خاندان کی پارٹی کیلئے جدوجہد اور قربانیوں کو پارٹی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اُنکی ستائش کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان جیسے نڈر ، باحوصلہ اور سیاسی سوچ ، فہم ، ادراک اور پارٹی کیلئے درد رکھنے والے ورکر بہت کم پیدا ہونگے۔
مورخہ:13-1-2014 بروز پیر
عوامی نیشنل پارٹی خیبرایجنسی اور یورپی یونین کے آرگنائزر جوہر حمید آفریدی نے قبائلوں کے خلاف صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان کی ریمارکس پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلوں کو بجلی چور کہنا ان کی زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ اس وقت قبائل حالاتِ جنگ میں ہیں، ایمر جنسی نافذہے اور انفراسٹرکچر تباہ حال ہیں ،سکول اور دیگر ادارے بند ہیں ، کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے ، اور قبائل خانہ بدوشوں جیسے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس وقت شاہ فرمان کا یہ بیان سمجھ سے بالاتر ہے ۔ عابد شیرعلی اور شاہ فرمان کی ذہنیت میں کوئی فرق نہیں ہیں ۔ دونوں سیاسی رہنماؤں کو بات کہنے سے پہلے سو بارسوچنا چاہئے اوران کو خبردار کرتے ہیں کہ پختونوں کو آپس میں مشتِ گریبان کرنے اور ان میں نفرت پھیلانے کی پالیسی ترک کردے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے آرگنائزر جوہر حمید آفریدی نے اپنے قبائلی بھائیوں اور پارٹی ورکروں سے اپیل کی ہے کہ 26 جنوری کو باچاخان باباؒ کی 26 ویں اور رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان باباؒ کی 8 ویں برسی میں بھرپور انداز میں شرکت کریں۔
مورخہ:12-1-2014 بروز اتوار
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے قائدجناب اسفندیارولی خان نے اے این پی کے سابق صوبائی نائب صدر میاں مشتاق اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے خدائی خدمتگار گل رحمان کاکا اور ان کے ڈرائیور ندیم خان کے ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں مشتاق اور ان کے ساتھی پارٹی کا قیمتی سرمایہ تھے ، ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ پارٹی کو ان کی قربانی پر فخر ہے ۔ دہشت گرد اس طرح کی کاروائیاں کرکے ہمارے کارکنوں کو دبا نہیں سکتے ۔ باچاخانؒ کے پیروکار عدم تشدد پر کاربند ہوتے ہوئے اپنی سرزمین کی حفاظت کیلئے سینہ تھان کے کھڑے ہیں اور جب تک پارٹی کا ایک بھی کارکن زندہ ہے دہشت گردوں کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
مورخہ:12-1-2014 بروز اتوار
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل ، صوبائی عبوری صدر بشیراحمد مٹہ، جنرل سیکرٹری جمیلا گیلانی اورصوبائی ترجمان صدرالدین مروت نے اے این پی کے سابق صوبائی نائب صدرپختونخوا میاں مشتاق احمد اور ان کے ساتھ خدائی خدمتگار گل رحما ن کاکا اور ان کے ڈرائیور ندیم پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی بجائے دہشت گردی کو پروان چڑھانے میں کوشاں ہے ، جس کی وجہ سے پشاور سمیت پورا صوبہ پختونخوا غیر محفوظ ہوگیا ہے اور غیر یقینی صورت حال پیدا کی گئی ہے۔
ا نہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی نااہلی اور جان بوجھ کر کوتاہی کی وجہ سے ہم میاں مشتاق جیسے کتنے سپوتوں کے جنازے اُٹھاتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں بُری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ دہشت گردوں کیلئے پی ٹی آئی کا نرم گوشاں ہمارے سمجھ سے بالاتر ہے ۔اگر پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کیااور پختونوں کو تحفظ فراہم نہیں کی تو اے این پی خاموش نہیں رہے گی ۔
انہوں نے میاں مشتاق شہید کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور شہداء کے ایصال ثواب کیلئے دُعا کی ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بزدلانہ کاروائیوں سے ہمیں دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اپنی موقف سے پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے ۔ ہم میاں مشتاق اور اس کے ساتھ شہید ہونے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے عظیم مقصد کی خاطر قربانی دیکر پارٹی کے شہیدوں میں ایک اور باب کا اضافہ کر دیا ہے ۔
آخر میں بشیر احمد خان مٹہ نے صوبہ بھر میں تمام تنظیمی کاروائیاں معطل کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا اور صوبہ بھر کی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دفاتر پرتین یوم تک سیاہ جھنڈے لگائیں۔
مورخہ: 11.1.2014 بروز ہفتہ
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کا ایک خصوصی اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع پشاور کے عبوری صدر خوشدل خان ایڈووکیٹ ، کامران صدیق ، رضاء اللہ خان ایڈووکیٹ ، راجہ گل ، عبدالمالک ، شبانہ سیف اللہ کے علاوہ ضلع پشاور کے تمام یونین کونسلوں اور برانچوں کے آرگنائزرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
ضلع پشاور کے عبوری صدر خوشدل خان نے پارٹی کارکنوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکن فارم سازی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور پختون قوم کے بہتر کل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں اورصاف و شفاف رکن سازی کر کے ضلع میں صحیح قیادت سامنے لائیں۔ اُنہوں نے رکن سازی مہم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آرگنائزنگ کمیٹیوں کو مزید فعال کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔
اجلاس میں باچا خان بابا کی 26 ویں اور ولی خان بابا کی 8 ویں برسی کیلئے ضلع پشاور کو مختلف ذمہ داریاں تفویض کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منانے کیساتھ ساتھ کارکنوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کارکنوں کو متحرک کیا جائیگا۔
اجلاس میں اس رائے کا بھرپور اظہار کیا گیا کہ خدائی خدمتگار باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان بابا کے بے مثل افکار قوم کیلئے ایسے مشعل راہ ہیں جن کو ہر وقت سامنے رکھنا قوم کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کیلئے ناگزیر ہیں۔
کراچی۔ جمعتہ المبارک 10 جنوری 2014ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آج صبح چھ بجے کے قریب فیچر کالونی لانڈھی میں عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنماء اور مزدور لیڈر عزیز خان کے گھر پر دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا جس میں وہ زخمی ہوئے اور گھر کو بھی شدید نقصان پہنچا ،۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے پارٹی رہنماء اور مزدور لیڈر عزیز خان کے گھر پر کریکر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں پارٹی رہنماؤں کی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کرنے والوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے عزیز خان کو گزشتہ کافی عرصے دھمکیاں دی جارہی تھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بارہا مطلع کیا جاچکا ہے مگر ادارے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ سے حملے میں ملوث دہشت گردوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں عوام و کارکنان عزیز خان کی فوری صحت یابی کے لیے دعا کریں۔
مرکز ی پر یس ریلیز با چا خان مرکز کو ئٹہ
10-01-2013
عوامی نیشنل پارٹی کے صو با ئی بیان میں پشتوزبا ن کے ممتا ز ادیب مر حو م عبد الخیر ذ لا ند کے وفا ت پر تعزیت کر تے ہوئے پشتو زبا ن
کے لیے ان کے خد ما ت کو خر اج تحسین پیش کر تی ہیں، مر حو م سیا سی اور آ دبی محا ز پر ایک قا بل قد ر خد ما ت انجا م دی ہے، اور پشتو ادب
کے حو الے سے ان کے تصا نیف لا ئق تحسین ہے، اور پارٹی مر حو م کے قو می خد ما ت کو خر اج عقید ت پیش کر تی ہیں، اور اللہ تعا لیٰ سے دعا
کر تی ہیں، کہ مر حو م کو اپنی جو ار رحمت میں جگہ دے،اور پسما ند گان کو صبر و جمیل عطا کر یں۔
10-01-2014
حکومت نو اب عبد الظا ہر کا سی کی جلد با ز یا بی یقینی بنا ئے بشر یٰ گو ہر
وسا ئل پر اختیا ر کی جد وجہد پر پارٹی کو نشانہ بنا یا جا ر ہا ہے، ارباب عبد ظا ہر کے خا ند ان سے گفتگو،کو ئٹہ (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی مرکز ی رہنما ء و سا بق رکن قو می اسمبلی بشر یٰ گو ہر اور سا بق صو با ئی جنر ل سیکر ٹری ارباب طا ہر نے اربا ب ہا و س میں پارٹی کے مرکز ی رہنما نو اب اربا ب عبد الظا ہر کا سی کے خاند ان اور نو ابز ادہ ارباب عمر فا روق کا سی کے سا تھ اظہا ر یکجہتی کی اس مو قع پر صو با ئی چیر مین حا جی عبد الجبا ر کاکڑ صو با ئی جنر ل سیکرٹری رشید خان نا صر رکن بلو چستان اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی پشتون ایس، ایف کے صو با ئی صد ر سید زبیر شا ہ آغا ، ڈاکٹر حیا ت اللہ خان اور ابر اہیم کا سی بھی مو جو د تھے، قا ئد ین نے نو اب ارباب عبد الظا ہر کا سی کی عدم با ز یا بی پر افسو س کا اظہا ر کر تے ہوئے کہا کہ نو اب اربا ب عبد الظا ہر کا سی نے تما م عمر پشتون قومی اتحا د واتفاق اور قو می حق و اختیا ر کے لیے جد وجہد کی ایک منظم منصو بہ بندی کے تحت مختلف قو تیں اے، این، پی کو کمز رو کر نے کی سا ز شیں پر پشتون قو می حق و اختیار کی جد وجہد کی پا داش میں نشا نہ بنایا جا رہا ہے ، ہم فخر افغان با چا خان بابا کے پیر و کار اور عدم تشد د پر یقین رکھتے تھے، نو اب ارباب عبد الظا ہر کا سی کی با حفا ظت با ز یا بی وفا قی و صو با ئی حکومت اور اداروں کی ذ مہ داری ہے، قا ئد ین نے مطا لبہ کیا کہ وفا قی و صو با ئی حکومت فو ری طو ر پر نو اب ارباب عبد الظا ہر کا سی کی با ز یا بی کے لیے اقدامات کر یں
۔10-01-2014
عوامی نیشنل پارٹی بنیا دی جمہو ریت پر یقین رکھتی ہیں، اور کارکن پارٹی کا سر ما یہ ہیں، رکنیت سا ز ی میم کا میا ب بنا ئنگے، کسی قیمت پر اصو لو ں
پر سمجھو تہ نہیں کر ینگے، میر ٹ انصا ف اور جد وجہد تر جیح ہو گی، ان خیا لا ت کا اظہا ر پارٹی کے صو با ئی آ رگنا ئز نگ کمیٹی کے
چیر مین عبد الجبا ر کاکڑ ، کمیٹی اراکین ملک عبید اللہ کا سی، اصغر خان ترین ، سلا م کاکڑ ایڈ وکیٹ ، اور سر دار اسد ترین نے سنجا وی میں کارکنوں
کے جنر ل با ڈی کے اجلا س سے خطا ب کر تے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ایشیاء کی تار یخ میں ہما رے رہنما وں اور کارکنوں کی قر با نیا ں
تاریخی ہے، ہما رے وطن کو اجنبی جنگ میں دھکیل کر کے سا ز شش کے تحت تبا ہ کیا جا رہا ہے، جس کی ہم نہ صر ف مذ مت کر تے ہیں بلکہ
مز احمت بھی کر ینگے، مقررین نے کہا کہ پشتونوں کے حقو ق اور وطن سے لیٹروں کا خا تمہ کر کے رینگے، مقررین نے کہا کہ نو اب عبد الظا ہر کاسی
کی فو ر ی با ز یا بی کو یقینی بنانے کے لیے پارٹی نے آ ل پارٹیز کا نفر نس کر کے صو بے کے تمام سیا سی جما عتوں کو یکجا کر کے اغو ا بر ائے تا و ان کے
خلا ف بڑ ا کارنا مہ سر انجا م دیا، اور بلو چستان کے تمام سیا سی جما عتوں نے مشترکہ مو قف اپنا کر بلا شبہ ایک بڑ ا سیا سی کام کیا ہیں، علا وہ ازیں
اے، این ،پی ضلع قلعہ عبد اللہ کے چیر مین جا و ید کاکڑ نے تحصیل گلستان میں پارٹی کی رکنیت سا زی کا آ غا ز کر دیا، قبل ازیں اے، این، پی
قلعہ عبد اللہ کے رہنما وں نعمت اللہ اچکزئی ، اور حفظ اللہ حقیا ر، نے پارٹی رہنما وں انجینئر زمرک خان اچکزئی، اصغر خان اچکزئی،
اور زبیر شا ہ کی کارکر دگی کی تعر یف کر تے ہو ئے کہا کہ مذ کو رہ رہنما وں کے بد ولت پارٹی نے قلعہ عبد اللہ اور چمن میں بلد یا تی انتخا با ت میں
تا ریخی کا میا بی حا صل کی، اور کئی قبا ئلی جھگڑوں کے فیصلے کئے،
چوہدری اسلم ایک بہادر اور نڈر افسر تھے دہشتگردی کی روک تھام اور دہشتگردوں کی سرکوبی کیلئے ان کا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔
کراچی، 9 جنوری، 2014 ء
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنما سینیٹرشاہی سیدنے لیاری ایکسپریس وے پر ہونے والے خود کش بم دھماکہ کی شدید مذمت کی ہے اور دھماکہ میں شہید ہونے والے نڈر اور بیباک پولیس آفیسر چوہدری اسلم اور ان کے ساتھیوں سمیت چار پولیس اہلکار کے جاں بحق ہونے پر نہایت افسوس اور دکھ کا اظہار کیا ہے ۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ چوہدری اسلم ایک بہادر اور نڈر افسر تھے دہشتگردی کی روک تھام اور دہشتگردوں کی سرکوبی کیلئے ان کا خون رائیگاں نہیں جائیگاچودھری اسلم کی شہادت کراچی پولیس کیلئے بڑا دھچکا ہے دہشتگردوں کی بزدلانہ کاروائیوں سے حوصلے پست نہیں ہونگے چودھری اسلم پر دہشتگردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں سندھ پولیس دلیر اور بہادر افسر سے محروم ہوگئی چوہدری اسلم نے بہادر اور دلیرانہ افسر کی طرح جان دی ہمیشہ بہادری کیساتھ دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے سندھ پولیس کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں دھماکہ تمام سیاسی جماعتوں اور ہمارے سیکیورٹی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ قاتلوں کو شہید کہنے والوں کو اپنا لائحہ عمل درست کرنا ہوگادہشتگردوں کا صفایا کرنے کیلئے مضبوط کوششیں کرنا ہونگی۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ چوہدری اسلم اور دیگر شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے ،مرحومین کے درجات کی بلندی او ر پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہے ۔

مورخہ : 9.1.2014 بروز جمعرات

پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں زیر صدارت مرکزی صدر خوشحال خٹک منعقد ہوا۔ ایجنڈے کے مطابق کابینہ نے صوبہ بلوچستان کو مرکزی کابینہ میں نمائندگی دینے اور صوبہ بلوچستان میں صوبائی کابینہ / آرگنائزنگ کمیٹی کے قیام کی باقاعدہ منظوری دے دی۔
اجلاس میں مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کیلئے بلوچستان سے دو ممبران شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی جس کے مطابق جمعہ خان بابر اور منظور کاکڑ باقاعدہ طور پر مرکزی کابینہ کے ممبران بن گئے۔
صوبائی کابینہ / آرگنائزنگ کمیٹی کیلئے خلیل آغا ، ہارون کاکڑ ، ایمل کاکڑ ، عمران اچکزئی ، داؤد کاکڑ اور اظہار احمد کے ناموں کی منظوری دے دی گئی۔ بطور عبوری کابینہ خلیل آغا بحیثیت صوبائی صدر ، ہارون کاکڑ جنرل سیکرٹری اور ایمل کاکڑ بحیثیت سیکرٹری اطلاعات کام کرینگے۔
مرکزی کابینہ کیطرف سے صدر خوشحال خٹک نے اُمید ظاہر کی کہ صوبائی کابینہ بلوچستان میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے قیام اور فعالیت کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اُنہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ صوبائی کابینہ کیساتھ تعاون کریں تاکہ بلوچستان کے نوجوان کم از کم وقت میں سیاسی طور پر منظم اور متحد ہو سکیں۔

مورخہ: 9.1.2014 بروز جمعرات

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور پختونخوا آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ایمل ولی خان نے پارٹی کارکنوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکن رکن سازی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔ چونکہ رکن سازی مہم ختم ہونے میں بہت کم دن باقی رہ گئے ہیں۔ کیونکہ آخری تاریخ 31 جنوری ہے اس لیے کارکن اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی خواہشمند شخص اے این پی کا رکن بننے سے رہ نہ جائے۔ اُنہوں نے رکن سازی مہم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آرگنائزنگ کمیٹیوں کو مزید فعال کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ جس جذبے اور لگن سے اے این پی کی رکنیت سازی مہم جاری ہے اس سے اے این پی ایک بار پھر مضبوط قوت اُبھری ہے۔ اور آنے والا وقت اے این پی کا ہوگا۔ کیونکہ اب پختونوں کو احساس ہو گیا ہے کہا ان کے حقوق کی ضامن صرف اے این پی ہے اس لیے اب عوام کسی کے خالی خولی نعروں پر یقین نہیں کرینگے۔

مورخہ: 8.1.2014 بروز بدھ

پشاور: پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا ایک ہنگامی اجلاس پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے صدر محمد اعجاز خان یوسفزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اورکزئی سائنس فیکلٹی کے صدر نعمان شیر ، جنرل سیکرٹری جواد خان ، آرٹس فیکلٹی کے صدر تاسین اقبال ، جنرل سیکرٹری حضرت بلال مہمند ، اسلامیہ کالج کے صدر ملک احتشام الحق اور جنرل سیکرٹری الماس یوسفزئی کے علاوہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے سینئر رہنما ذوالکفل خان یوسفزئی ، اسداللہ ، داؤد خان ، محمد احتشام ، ولید موسیٰ خیل ، حسن خان اعوان ، دانیال نواز ، وسیم منیر وال کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں پی ایس ایف کارکنوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اعجاز خان یوسفزئی نے کہا کہ ہم 26 جنوری بروز اتوار پشاور میں باچا خان بابا کی 26 ویں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان باباکی 8 ویں برسی کے بارے میں تیاریاں شروع کر دی گئی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے طلباء دونوں پارٹی بزرگ رہنماؤں کی برسیوں میں بھرپورانداز میں تعداد میں شرکت کرینگے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا گیاکہ آنے والے چند دنوں میں تمام کابینہ مکمل کی جائیگی۔ پختون ایس ایف اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے ستر مشر اسفند یار ولی خان اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں اور ہر حال میں ان کے شانہ بشانہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لا کر پی ایس ایف کی فعالیت اور ترقی کیلئے کلیدی کردار ادا کرینگے۔

مورخہ: 7.1.2014 بروز منگل

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی ضلع دیر بالا کے سابق ضلعی صدر نوید انجم کی قیادت میں ایک وفد نے اے این پی کے صوبائی عبوری صدر بشیر احمد خان مٹہ ، سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین ، صوبائی جنرل سیکرٹری محترمہ جمیلہ گیلانی ، صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ اور مرکزی سیکرٹریٹ کے انچارج تاج الدین خان کے ساتھ باچا خان مرکز پشاور میں ملاقات کی۔ اور ضلع دیر بالا میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔ وفد نے صوبائی قائدین کو یقین دلایا کہ دیر بالا میں پارٹی ، اسفندیار ولی خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کرتی ہے اور اُن کی پشت پر چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ حالات کچھ بھی ہوں ہمیں متزلزل نہیں کر سکتے۔ اور جہاں تک دیر میں نئی فارم سازی اور تنظیم سازی کا تعلق ہے ہم یقین دلاتے ہیں کہ ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کی قیادت میں صاف و شفاف رکن سازی کر کے ضلع میں صحیح قیادت سامنے لائیں گے اور انشاء اللہ بلدیاتی انتخابات میں مخالفین کو شکست فاش دینگے۔ پارٹی قائدین نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اتحاد کی جو پالیسی دی اس پر پورا پورا عمل کرینگے۔

مورخہ : 6.1.2014 بروز پیر

مردان ( ) عوامی نیشنل پارٹی مردان کے زیر اہتمام باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی یکم فروری بروز ہفتہ دوپہر ۲ بجے کو سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی کی رہائش گاہ پر منائی جائیگی۔اس سلسلے میں اے این پی مردان کے زیر اہتمام امیر حیدر خان ہوتی کے رہائشگاہ پر اجلاس منعقد ہوا۔جس میں ضلع بھر سے کثیر تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔اجلاس کی صدارت ایم پی اے حاجی احمد خان بھادر نے کی جبکہ اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی گوہر شاہ باچا،سابق صوبائی وزیر عنی داد خان،سابق ایم این اے حمایت اللہ مایاراور ارشد خان سمیت ضلعی قائدین بھی موجود تھے۔اس موقع پر حطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا عوامی نیشنل پارٹی پختونوں کی واحد نمائیندہ جماعت ہے اور ہم نے ہمیشہ پختونوں کی حقوق کے لئے جدوجید کی ہے اور ائیندہ بھی کسی قسم کی قربانی سے دریع نہیں کرینگے۔انہوں نے کہا دوسرے پارٹیوں کی طرف سے جھوٹے دعووں پر دھوکہ کھانے والے آج ایک مرتبہ پھر عوامی نیشنل پارٹی میں آرہے ہیں۔اے این پی عدالتی فیصلہ آنے کے بعد آیندہ بلدیاتی انتحابات میں بھرپور حصہ لیگی اور پورے صوبے میں واضح اکثریت حاصل کریگی اور اس سلسلے میں مردان میں امیدواروں کے چناو کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائیگی جو اہل ،ایمانداراور نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹ دیگی۔امیر حید رہوتی نے کہا کہ عوام کوجھوٹے نعروں سے دھوکہ دینے والے سیاستدان عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں اور انکو اپنی پوزیشن کا اندازہ بلدیاتی انتحابات میں ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ یکم فروری کو اے این پی مردان باچاخان اور ولی خان کی برسی میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت کر کے انہیں انکی پختون قوم کے لئے بے پناہ حدمات پر حراج تحسین پیش کرینگے اور 26 جنوری کو پشاور میں باچاخان اور ولی خان کی برسی میں مردان سے ہزاروں کی تعداد میں کارکن شرکت کرینگے۔اجلاس میں متفقہ قراداد کے زریعے اسفندیار ولی خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیاگیا۔جبکہ اس موقع پر مردان کے دیرینہ خدائی خدمتگار سبخان اللہ کاکا کے روح کے ایصال ثواب کے دعا کی گئی۔

مورخہ : 6.1.2014 بروز پیر

پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن مرکزی صدر خوشحال خان خٹک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے میں جاری یوتھ کے نوجوانوں کا سیاسی عمل میں شرکت خوش آئند ہے اور میں اپنی طرف سے نوشہرہ ، صوابی اور بونیر کے آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران اور آرگنائزروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اُنہوں نے بہت کم وقت میں نیشنل یوتھ کو فعال بنایا۔ اس موقع پر صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے اضلاع کے علاوہ قبائلی علاقوں سے نیشنل یوتھ میں نوجوانوں کے زیادہ سے زیادہ دلچسپی کو اے این پی اور پختون قوم کیلئے خوش آئند قرار دیا اور مرکزی صدر کو اپنے حالیہ دورہ باجوڑ کی رپورٹ پیش کی۔ یوتھ کی صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر گلزار احمد خان نے اپنے خطاب میں باچا خان کے فلسفہ امن اور فلسفہ امن تشدد پر روشنی ڈالتے ہوئے آج کے حالات میں اس کو عام کرنے اور زیادہ سے زیادہ پختون نوجوانوں کو اس پر کاربند ہونے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اور نوجوان لڑکوں کے علاوہ نیشنل یوتھ میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کیلئے آرگنائزنگ کمیٹیوں کو ہدایت کی وہ اپنے اپنے اضلاع میں سے سیاسی عمل میں اپنے ساتھ خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنائیں کیونکہ ہماری آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک میں خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ خواتین کی شراکت کے علاوہ کوئی بھی سیاسی عمل ادھورا ہو گا۔ لہٰذا آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم نوجوانوں کے اس پلیٹ فارم میں لڑکیوں کو زیادہ سے زیادہ فعال کردار دیں تاکہ قوم اس مشکل حالات سے نکل آئے۔

مورخہ : 6.1.2014 بروز پیر

پشاور : نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی ترجمان حسن بونیری کے مطابق نیشنل یوتھ کے ضلع صوابی اور نوشہرہ کے آرگنائزنگ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس زیر صدارت مرکزی صدر خوشحال خان خٹک ‘ باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر صوابی ‘ نوشہرہ اور بونیر کے آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران نے اب تک اپنے اضلاع میں نیشنل یوتھ کی اپنے اضلاع میں کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں پارٹی کے رہنما اور سابقہ وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہوئے نوجوانوں سے اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ جو کام باچا خان نے اپنی نوجوانی میں کیا وہ آج کے نوجوانوں کیلئے ایک مثالی نمونہ ہے۔ کیونکہ باچا خان اور خدائی خدمتگار ساتھیوں نے تھیٹر بنایا ‘ پختون کے نام سے مجلہ شائع کیا اور اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے ہر طرح کے تعصبات سے بالا تر فلسفہ عدم تشدد کے زیر سایہ اس وقت کے نہ صرف مسلمان کمیونٹی کو بلکہ غیر مسلموں کو بھی اس حد متاثر کیا کہ آج بھی دنیا میں جہاں پر بھی امن کی بات ہوتی ہے وہاں پر باچا خان کا نام لیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے NYO کے نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خدائی خدمتگار تحریک ایک بار پھر میدان میں اُتری ہے اور معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کیلئے تیار ہے۔

مورخہ:6-1-2014بروز پیر
پشاور ( پ ر ) سالانہ بجٹ میں منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کے ترقیاتی عمل کو بڑا نقصان پہنچا۔ سید جعفرشاہ کی حکومت کی سست روی پر زبردست تنقید۔
رکن صوبائی اسمبلی سید جعفرشاہ نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ منظور ہوئے 7 ماہ گزرنے کے باوجود صوبے میں کوئی ترقیاتی عمل شروع نہ ہو سکا جوکہ حکومت کی نااہلی کی واضح مثال بن گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے اربوں روپے واپس خزانے میں چلے جائیں گے اور یوں یہ صوبہ ترقیاتی عمل میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔ صوبے کا انفراسٹرکچر ویسے بھی دہشت گردی اور قدرتی آفات کی وجہ سے تباہ ہے اور اب اربوں روپے خرچ نہ کرکے صوبے کے عوام کے ساتھ بڑا ظلم کیا گیا ہے ۔ ابھی جنوری تا اپریل پہاڑی علاقوں اور ٹھنڈے مقامات میں کام نہیں ہو سکتا اور اسی طرح یہ علاقے ترقیاتی کاموں سے اسی سال بالکل محروم رہ جائیں گے اور لگتا یہی ہے کہ یہ پیسہ نوشہرہ ، لوئردیر اور چند بڑے سیاست دانوں کے حلقوں میں خرچ کرکے نہایت پسماندہ علاقوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی شروع ہوجائے گی۔
انہوں نے حکومت کے ان دعؤں کو مضحکہ خیز قرار دیا جو وہ الیکشن کے دوران کرتے رہے کہ ان کے پاس پہلے سے تیار شدہ پلان موجود ہے اور 90 دنوں کے اندر بڑی تبدیلی آئے گی ۔ تبدیلی تو یہ آگئی کہ ابھی تک کوئی کام شروع نہ ہو سکا ۔ بجلی ، گیس ، اشیاء خوردنوش کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئی ۔ ہزاروں آسامیوں پر تقرری نہیں ہورہی ۔ البتہ ورکنگ گروپس پچھلے 8مہینے سے اسلام آباد اور لاہور میں بیٹھ کر کاغذوں اور لیپ ٹاپ میں زبردست تبدیلی لائے ہیں۔

مورخہ:6-1-2014 بروز پیر
پشاور ( پ ر ) باچاخان مرکزمیں ملگری استاذان کا ایک اہم صوبائی اجلاس زیر صدارت اسلام الدین منعقد ہوا ۔ جس میں صوبائی ایڈوائیزر انجینئر عباس خان کے علاوہ صوبائی اور ضلعی عہدیداروں ، وارث خان خلیل ، گوہر خان ، امجد ترکئی اور صوبے کے تمام آساتذہ نے شرکت کی ۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل قرارداد اور مطالبات کی منظوری دی گئی۔
این ٹی ایس کے داخلہ فیس کے طریقہ کار کو یکسر مسترد کردیا گیا ۔
پی ای ٹی کا کوٹہ بحال کیا جائے اور پی ایس ٹی کا 20% کوٹہ بحال اور سائنس کا مسئلہ مسترد کردیا جائے۔
ایڈھاک اور کنٹریکٹ پالیسی کی بھرپورمخالفت کا عزمِ صمیم کر دیا گیااور کرتے رہیں گے۔
ایس ایس ٹی پر تقرری صوبائی سطح پر کی جائے کیونکہ یہ صوبائی پوسٹ ہے ۔
این ٹی ایس ٹسٹ کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ سروس رولز میں میرٹ کا فارمولا درج ہے ۔ نادار اور مفلس امیدواران داخلہ فیس کی استعداد نہیں رکھتے۔

تاریخ: 5 جنوری 2013ء

مردان ( ) سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخو اہ ا ورکن قومی اسمبلی امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اپنے دور حکومت میں ہم نے سیاست سے بالاتر ہوکر صوبے کے عوام کی حدمت کی ہے۔مردان کے عوام کو انکا جائز حق دلاکر دلی خوشی محسوس کررہاہوں۔ مردان میں ریکارڈ ترقیاتی کام کر کے یہاں کے عوام کی احساس محرومی حتم کیا۔مردان میں یونیورسٹیوں اور کالجز کے قیام سے تعلیم کی سہولت گھر کے دہلیز پر میسر آگئی۔نئے ہسپتالوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن سے صحت کے تما م جدید سہولیات نہ صرف مردان بلکہ دیگر اضلاع کے عوام کے لئے بھی دستیاب ہوچکی ہے۔ اے این پی کے کارکنوں نے اس دھرتی کی حاطر لازوال قربانیاں دے کر بہادری اور شجاعت کی ایک نئی تاریخ رقم کردی جو ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔نامساعد حالات کے باوجود بھی این اے ۹ اور پی کے ۲۳ کے عوام نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا اور مجھے عزت دی جو میں کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتا۔اپنے دور حکومت میں مردان کے عوام کی سیاست سے بالاتر ہوکر حدمت کی اور اگر آئیندہ بھی موقع ملا تو مردان کے عوام کو انکا حق دلاکر رہونگا۔ سیاست میں اتار چڑھاو آتے رہتے ہے کبھی اقتدار میں ہونگے تو کبھی اپوزیشن میں لیکن میں نے ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کی ہے کہ مجھے مردان کے عوام کے سامنے سرخرو رکھنا اور آج میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل طورو میں جلسہ سے خطاب کر تے ہوئے کیا، جلسے کی صدارت نور محمد خان نے کی ۔اس موقع پر سابقہ ایم این اے حمایت اللہ مایار اور پی کے ۲۴ کے سابق امیدوار علی خان اور ملک فیاض نے بھی حطاب کیا۔جبکہ اس موقع پر عمران ماندوری،عطاء اللہ اور دوسرے ضلعی قائدین بھی موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ پارٹی انتحابات میں اے این پی کے کارکن محلص اور ایماندار لوگوں کو منتحب کر کے پارٹی کو مزید فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔گزشتہ ممبر سازی میں جو کوتاہیاں ہوئی ہے اس کو دوبارہ ہر گز برداشت نہیں کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ شحصیات کی بجائے الیکشن کمیٹی کے ممبران ممبر شپ کی کاپیاں تقسیم کریگی اور جو شحص بھی رکن بننا چاہیگا وہ اپنے شناحتی کارڈ اور مکمل کوئف کمیٹی کے ممبران کو مہیا کرینگے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی صوبے کی سب سے بڑی نظریاتی پارٹی ہے او ر ہم نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ہم پختونوں کی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں اور اس سلسلے میں ہم نے بیش بہا قربانیاں دی ہے اور آئیندہ بھی کسی قسم کی قربانی سے دریع نہیں کرینگے۔

تاریخ: 5 جنوری 2013ء

سوات: عوامی نیشنل پارٹی کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی اور سابق ضلعی صدر شیر شاہ خان نے کہا ہے کہ نوے دنوں میں بلدیاتی الیکشن کرانے کے دعویدار الیکشن سے فرار حاصل کرناچاہتے ہیں کپتان اپنے کھلاڑیوں کو میدان میں اتروائے ، پچ مقابلے کے لئے بالکل تیار ہے، تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے عوام کو دیوار سے لگا دیا ، ہم نے جو ہیوی ٹرانسفارمرز گریڈ سٹیشن لائے تھے سونامی والوں نے اسے کنکشن دینے کی ہمت تک نہیں پختون نوجوان کا نیشنل یوتھ ارگنائزیشن کے پلیٹ فارم پر متحدہونا خوش آئند اور ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے ، ان خیالات کااظہار انہوں نے اے این پی سوات کے دفتر میں نیشنل یوتھ ارگنائزیشن کے فارم سازی مہم کے افتتاح کے موقع پر کیا، اس موقع پر نیشنل یوتھ صوبہ پختونخوا کے ترجمان حسن بونیری، کورڈنیٹر افتخار شاہ نے بھی خطاب کیا، شیر شاہ خان نے کہاکہ نوجوان طبقہ اے این پی کا عظیم سرمایہ اوراثاثہ ہے ، جو ہم کسی بھی صور ت ضائع نہیں کرناچاہتے ، انہون نے کہاکہ مستقبل بھی ان نوجوانوں کی ہے اور آج اے این پی کے اہم عہدوں پر فائز اور پختونوں کی قیادت کرنیوالے بھی پختون ایس ایف سے فارغ افراد ہیں انہوں نے کہاکہ اب پختون نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے نیشنل یوتھ ارگنائزیشن کاپلیٹ فارم مہیا کردیاگیا ہے جو نوجوانوں کو اکٹھے کرنے اور پختونوں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے سرگرم عمل رہے گا ، انہوں نے کہاکہ سوات میں امن کیلئے اے این پی کے 270 کارکنوں نے جانوں کی نذرانے پیش کئے ہیں ، اور ان کی قربانیوں کی بدولت سوات میں ختم ہونے والی حکومتی رٹ بحال ہوا ہے ، انہوں نے کہاکہ جب ہم نے اقتدار سنبھالی تو اس وقت سوات میں اسی فیصد حکومتی رٹ ختم تھی اقتدار سنبھالنے کے بعد ہم نے سوات میں حکومتی رٹ بحال کرنے پر توجہ دی اور اس مقصد کیلئے اے این پی کے 270 کارکنوں نے جام شہادت نوش کئے ، حکومت نے اس مقصد کیلئے لوگوں کو سوات سے نکال دیا اور تین مہینوں کا اعزاز بھی اے این پی کو حاصل ہے ، انہوں نے کہا کہ اب بلدیاتی الیکشن میں سوات کے عوام اے این پی ان قربانیوں اور ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اے این پی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں گے سوات کے عوام تبدیلی کے علمبرداروں سے بدظن ہوچکے ہیں اور اس حوالے سے تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے ، عوام اے این پی کواپنا سیاسی پلیٹ فارم تسلیم کرچکے ہیں۔

کراچی۔اتوار 05 جنوری 2014

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنماء سینیٹر شاہی سید نے اے این پی بلدیہ ٹاؤن کے رہنماء عبدالرزاق بونیری نے کی شاپ پر ہونے والے بم حملے اور ان کی حفاطت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی رہنماء پر چوتھے حملے کے بعد کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے نتائج پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے انتہاء پسندوں کے نام پر کام کرنے والے جرائم پیشہ عناصر اور اجرتی قاتلوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے شہر کے امن کی خاطر قربانیاں دیتے دیتے تھک چکے ہیں ہمیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نا کیا جائے صرف اعلانات کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائے ہر حملے کی ایف آئی آر درج کروائی اور اس کا نتیجہ ایک اور حملے کی صورت میں نکلا،باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے رہنماء اورپختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پارٹی رہنماؤں کے تحفظ کے لیے عملی ادامات کریں شہید ہونے والے دونوں پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہیں۔

مورخہ: 5.1.2014 بروز اتوار

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے عبوری صدر حاجی محمد عدیل اور صوبہ پختونخوا کے عبوری صدر بشیر احمد مٹہ نے ایک مشترکہ بیان میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کیلئے نمائندہ مقرر کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کیلئے کسی بھی شخص کا کوئی اقدام اچھا ہے، مگر اس سے یہ عندیا ضرور ملتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف صاحب ایک بہت ہی اہم فرض منصبی کو نبھانے سے یا کترا رہے ہیں یا اس میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے جو اُن کا اولین فرض ہے۔ یہ بات دُہرانے کی محتاج نہیں کی عمومی انتخابات کے وقت اُنہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی ملک کو امن کا تحفہ دینگے۔ اس کے بعد اقتدار میں آنے پر ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اُنہیں متفقہ طور پر مینڈیٹ دیا۔ باوجود اس کے ، اُن کی حکومت کے سات مہینوں کے دوران جب عوام ہر طرف پھیلی ہوئی اور نہ تھمنے والی دہشتگردی کا شکار ہے ، وزیر اعظم صاحب خود اوراُن کے ساتھی وزیر اس مسئلے پر بے ہنگم اور بے نتیجہ بیانات کے سوا قوم کو کوئی واضح پالیسی یا خاطر خواہ امن دینے میں سراسر ناکام رہے۔ اور اب جب اُنہوں نے اس بارے میں کوئی قابل توجہ قدم اُٹھایا ہے تو وہ بھی ایک نیم دلانہ اور بے اثر اقدام دکھائی دے رہا ہے اور ایسے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم خود اس مسئلے کو اور زیادہ طول دینا چاہتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ جب خود وزیر اعظم صاحب موجود ہیں اور پھر اُن کو اپنے وزیر دفاع ، وزیر داخلہ ، مشیر خارجہ اور دفاعی اُمور کی معاونت حاصل ہے ، تو وہ کیونکر ایک ایسے شخص کو جوحکومت کا حصہ نہیں یہ بہت ہی اہم کام سونپ رہے ہیں؟ کیا حکومت خود بے اثر ، بے بس اور مفلوج ہے اور اُن کو باہر سے ایک غیر حکومتی شخص اس بہت اہم مسئلے کیلئے انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو خود حکومت کا عین اور اولین فرض ہے؟ اگر حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو آخر وہ کیا کام کریگی اور پھر اس کی ضرورت کیا ہے؟
یہاں پر یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ خطے میں ایک دیرپا اور مؤثر امن کیلئے یہ ضروری ہے کہ مملکت پاکستان اور مملکت افغانستان آپس میں ایک مستقل اور گہرا تفاہم اور اعتماد قائم کریں تاکہ ایک حقیقی اور دیرپا امن کیلئے بنیاد فراہم ہو۔ کیا یہ کام بھی میاں صاحب کسی غیر حکومتی شخص کو سونپنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
اگر جناب وزیر اعظم ملک کی اہم ترین ضرورت ، امن ، کیلئے خود اور اپنی کابینہ کے وزیروں کے ذریعے عملی اور مؤثر کام کرنے سے قاصر ہیں تو وہ قوم کو بتائیں کہ اُن کی حکومت کی اولین ترجیحات اور مصروفیات کیا ہیں؟

کراچی، 4 جنوری

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنما سینیٹر شاہی سید نے گزشتہ روز شہر قائد میں قتل و غارت گری، بد امنی اورمسلح دہشتگردوں کے ہاتھوں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ قتل و غارت گری اور دہشتگردی کی وارداتوں کی سخت ترین مذمت کی ہے اور حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل و غارت گری اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں پر فی الفور ایکشن لیں اور شہریوں کو دہشتگردوں سے جان و مال کا تحفظ فراہم کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اپنے بیان میں سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و غارت گری اور بدمنی کو پروان چڑھانے کی سازش کی جارہی ہے فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے قتل و غارت گری کے واقعات سے شہر میں قیام امن کی کوششوں کو دھچکا لگے گا اور ملک میں امن و امان کی اندرونی صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہے شہر میں اہل سنت اور اہل تشیع میں مکمل ہم آہنگی ہے ہر مسلک کے لوگ آپس میں بھائیوں کی طرح رہتے ہیں مسلک کی بنیاد پر شیعہ اور سنی افراد کی ٹارگٹ کلنگ فسادات کی آگ بھڑکانے کی سازش ہے۔ حکومت شہریوں کے تحفظ اور ٹارگٹ کلنگ کو روکنے میں ناکام ہوتی جارہی ہے ، قتل و غارتگری اور دیگر جرائم کی وارداتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قاتلوں کی سرکوبی میں ناکام ہوتے جارہے ہیں جرائم پیشہ عناصر اپنے آپ کو آئین و قانون سے ماورا تصور کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے عوام دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں لیکن اس پر حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردوں کو لگام نہ دینا اور عوام کو جان مال کا بنیادی تحفظ فراہم نہ کرنا سوالیہ نشان ہے لگتا ہے شہر میں دہشت گردی ، قتل و غارتگری میں ملوث سفاک دہشت گردوں کو ان مذموم کار وائیوں کا کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے اگر ان کے خلاف عملی کارروائی نہیں کی گئی تو شہر میں حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری حکومت سندھ اور دیگراداروں پر عائد ہوگی۔ سینیٹر شاہی سید نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ شہر میں سیاسی ومذہبی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر بے گناہ افراد کی قتل و غارتگری میں ملوث دہشت گردوں اور جرائم پیشہ گروہوں کا فی الفور خاتمہ کیاجائے اور شہرکو دہشت گردوں اورجرائم پیشہ عناصر کے رحم وکرم پر چھوڑنے والا غیر جمہوری ، غیر آئینی اور غیر انسانی عمل فی الفور بند کیاجائے مجرموں کو فوری گرفتار کیا جائے حکومت قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ فرقہ وارانہ فسادات کی سازش کو ملکر ناکام بنانا ہوگاتمام مکاتب فکر کے لوگ صبر وبرداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے مذید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب بیانات سے بڑھ کر کچھ کرکے دکھانا ہوگاان قوتوں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو بھائیوں کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے ایک انتہائی سفاکانہ اور گھناؤنی سوچ کار فرما ہے ٹارگٹ کلنگ کا مقصد فرقہ ورانہ اختلافات کا تاثر دیکر کسی کے ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش کی جارہی ہے ۔

مورخہ:5-1-20104 بروز اتوار

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور پختونخوا آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ایمل ولی خان نے اخبارات میں شائع اے این پی کے بلدیاتی انتخابات کے التواء کے مطالبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی کسی بھی صورت بلدیاتی انتخابات کے التواء کے حق میں نہیں۔ کیونکہ اے این پی بلدیاتی انتخابات کیلئے پوری طرح تیار ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کا جلد از جلد انعقاد یقینی بنائے۔ جہاں تک جعفرشاہ ایم پی اے کے بیان کا تعلق ہے تو انہوں نے ذاتی حیثیت میں اپنے علاقے میں یعنی بحرین، مدین ، کالام اور میاں آدم وغیرہ پہاڑی علاقوں کی بابت یہ بات کہی ہے کہ سردیوں میں وہ لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرچکے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے وہاں کی اکثریت ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہ جائے گی۔
تاہم ایمل ولی خان نے واضح کیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کا موقف واضح ہے کہ صوبائی حکومت لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں موجود سقم کو دور کرتے ہوئے جلد از جلد بلدیاتی انتخابات منعقد کرے۔ جبکہ اس سقم کو دور کرنے کیلئے اے این پی نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ بھی داخل کی ہوئی ہے ۔یونین کونسل کی جگہ ویلیج کونسل ، نچلی سطح پر انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر اور ناظمین کو فارغ کرنے کے وزیر اعلیٰ کے اختیارات کو چیلنج کیا گیا ہے ۔
ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عجیب بات ہے ایک جمہوری اور سیاسی پارٹی جس کی صوبے میں حکومت ہے ۔غیرجماعتی انتخابات کے حق میں ہے۔ اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ حالانکہ یہی جماعت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کی مخالف ہے ۔

مورخہ: 4.1.2014 بروز ہفتہ

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عبوری صدر سینیٹرحاجی محمد عدیل نے الطاف حسین کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ سندھیوں کا ہے یہ کوئی انتظامی یونٹ نہیں ہے بلکہ تاریخی ، ثقافتی ، جغرافیائی اکائی اور سندھیوں کا مسکن ہے۔ اگر الطاف حسین کو بلدیاتی حلقہ بندیوں پر اعتراض ہے تو یہ ان کا جمہوری حق ہے مگر اس کی آڑمیں سندھ کی تقسیم اور الگ ملک کی باتیں کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔
یہ تو سندھی عوام کی وسعت قلب ہے کہ اُنہوں نے سندھ کی سرزمین پر بہت سارے غیر سندھیوں کو آباد ہونے کو برداشت کیا ہے ہمیں سندھیوں کے اس جذبے کی قدر کرنی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ طویل مدت سے مہاجر سندھ کی سرزمین پر آباد ہیں تو وہ سندھی بن کر سندھ کی خدمت کریں نہ کہ سندھ کے بٹوارے کی وجہ بنیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کر تی ہے۔
آخر میں سینیٹر حاجی محمد عدیل نے کہا کہ الطاف حسین کو سنجیدگی کیساتھ تقریر اور بیان بازی کرنی چاہیے تاکہ اس سے مزید پیچیدگی پیدا ہونے کا احتمال نہ ہو۔

مورخہ:4-1-2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ ، جنرل سیکرٹری نعمان الحق اور ترجمان حسن بونیری نے پشاور پریس کلب کے نو منتخب صدر ناصر حسین کو دوسری بار صدر منتخب ہونے پر اور دیگر نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دی اور توقع ظاہر کی ہے کہ پریس کلب کی نو منتخب کا بینہ جمہوری اقدار کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ہمیشہ صحافت کی آزادی کیلئے اپناکردار ادا کرنے سے گریز نہیں کریں گی اور صحافی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

مورخہ 04 جنوری 2014 ء بروز ہفتہ

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو کالاباغ ڈیم پر اپنا مؤقف واضح کرنا ہو گا‘ قومی اتفاق رائے کالاباغ ڈیم پر 30 سالوں سے نہیں بن سکا اور اس کے خلاف 3 صوبوں کی قراردادیں ریکارڈ پر موجود ہے اس کے باوجود بھی تحریک انصاف کا یہ کہنا سمجھ سے بالاتر ہے کہ کالاباغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے پیدا کی جائے بڑا عجیب لگتا ہے‘ کالاباغ ڈیم ایک مردہ گھوڑا ہے اُس میں کئی آمروں اور ڈکٹیٹروں نے سانس ڈالنے کی کوشش کی اور بعض جمہوری قوتوں نے بھی قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اُنہیں مایوسی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا‘ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی یہ سمجھتی ہے کہ کالاباغ ڈیم قومی مفاد میں نہیں ہے یہ پاکستان کی آبادی کا نہیں تباہی کا منصوبہ ہے‘ اے این پی کا مؤقف جس طرح واضح ہے اسی طرح پی ٹی آئی کا مؤقف بھی کالاباغ ڈیم کے بارے میں واضح ہونا چاہئے کیونکہ جب 30 سالوں میں اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا تو پی ٹی آئی پنجاب میں کالاباغ ڈیم کی حمایت اور پختونخوا میں اتفاق رائے کی باتیں کرتی ہے‘ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنا مؤقف تبدیل کرنے میں ثانی نہیں رکھتی‘ پچھلے سات ماہ میں اہم ایشوز پر پی ٹی آئی مؤقف تبدیل کر چکی ہے‘ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی کوشش نہیں کی گئی اور تبدیلی کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کے بعد عوام کو کسی قسم کی تبدیلی نظر نہیں آئی‘ ملک کو اس وقت بڑے سنگین مسائل کا سامنا ہے‘ لہٰذا متنازعہ کالاباغ ڈیم پر پی ٹی آئی کو اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔

مورخہ: 4.1.2014 بروز ہفتہ

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ایمل ولی خان نے پشاور پریس کلب کے نو منتخب صدر ناصر حسین کو دوسری بارصدر منتخب ہونے اور دیگر نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دی ہے۔ اور توقع ظاہر کی ہے کہ پریس کلب کی نو منتخب کابینہ جمہوری اقدار کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریگی۔ اُنہوں نے کہا عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ آزاد اور غیر جانبدار صحافت کی نہ صرف حمایت کی بلکہ ہمیشہ اُن کا بھرپور ساتھ دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ملک کے پانچویں ستون کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک کی موجودہ صورتحال میں صحافی برادری کا کردار اہمیت کا حامل ہے جس کی وجہ سے پریس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اُنہوں نے ہارے والے ساتھیوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہارنا اور جیتنا جمہوریت کا حسن ہے اور وہ بھی بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔

مورخہ:4-1-2014 بروز ہفتہ

پشاور ( پ ر ) مدین گریڈ سٹیشن پر کام شروع نہ کرنے کے خلاف اسمبلی میں تحریک استحقاق لانے کا اعلان ۔ سید جعفرشاہ
اے این پی کے رکن اسمبلی سید جعفرشاہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تین ماہ پہلے صوبائی اسمبلی میں انہوں نے مدین گریڈ سٹیشن کی فوری بحالی ، خوازہ خیلہ میں واپڈا ڈویژن کے قیام اور مدین میں سب ڈویژن کے قیام کے حوالے سے قرارداد پیش کی تھی ، جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ قرارداد کی نقول واپڈا کے بالاحکام کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مینڈیٹ کمیٹی کے چےئرمینوں اور حکومت بالاحکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ لیکن واپڈا نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا ہے ۔ جس سے نہ صرف میرا بلکہ پورے اسمبلی کا استحقاق مجروح ہو چکا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں اس سلسلے میں واپڈا کے خلاف تحریک استحقاق پیش کروں گا، اورPESCO اہلکاروں کو اسمبلی میں استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کروں گا تاکہ ان سے اس سلسلے میں باز پرس ہوسکے اور اس کام کو اتنی طول دینے پر ان سے جواب طلب کی جاسکے۔

مورخہ: 3.1.2014 بروز جمعۃ المبارک

پشاور : عظیم پختون رہبران فخر افغان جناب باچا خان اوررہبر تحریک جناب خان عبدالولی خان کی برسیوں کے سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کا ایک اجلاس باچا خان مرکز میں صوبائی عبوری صدر بشیر احمد خان مٹہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں اے این پی کے صوبائی ترجمان صدرالدین مروت ایڈووکیٹ ، پشاور ڈسٹرکٹ کے چیئرمین خوشدل خان ایڈووکیٹ ، جنرل سیکرٹری کامران خان اور سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے چیئرمین محمد طفیل خان و جنرل سیکرٹری انوارالحق و کمیٹی کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں فخر افغان باچا خان کی 26 ویں اور رہبر تحریک عبدالولی خان کی 8 ویں برسی کامشترکہ مرکزی فنگشن 26 جنوری کو نشتر ہال میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ اضلاع کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ مقامی سطح پر فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسیاں منانے کی تیاری کریں۔
اجلاس میں نشتر ہال میں برسی منانے کیلئے ڈسٹرکٹ پشاور اور سٹی ڈسٹرکٹ کو مختلف ذمہ داریاں تغویض کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منانے کیساتھ ساتھ کارکنوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کارکنوں کو متحرک کیا جائیگا۔
اجلاس میں اس رائے کا بھرپور اظہار کیا گیا کہ ان دو عظیم رہبران کے بے مثل افکار قوم کیلئے ایسے مشعل راہ ہیں جن کو ہر وقت سامنے رکھنا قوم کو منزل و مقصود تک پہنچانے کیلئے ناگزیر ہیں۔

مورخہ: 2.1.2014 بروز جمعرات
پشاور : رُکن صوبائی اسمبلی سید جعفر شاہ نے سول ہسپتال مدین کی بحالی اور از سر نو تعمیر اور عملہ کی نہ فراہمی پر حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایک بیان میں اُنہوں نے صوبائی حکومت کی نا اہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سول ہسپتال مدین 2010 ء کے سیلاب میں تباہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ حکومت نے اس کی بحالی کیلئے 40 کروڑ روپے کی خطر رقم 2011-12 کے بجٹ میں مختص کی ہے لیکن ابھی تک ہسپتال کیلئے زمین کا حصول بھی ممکن نہ ہو سکا۔ حالانکہ نئی بلڈنگ کی تعمیر کیلئے جگہ کا تعین بھی کیا گیا ہے۔ لیکن حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے اس پر ابھی تک کام شروع نہ ہو سکا۔ اُنہوں نے اس معاملہ کو اسمبلی فلور پر بھی اُٹھایا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومتی بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود ہسپتالوں میں عملہ کی کمی پوری نہ ہو سکی اور اب بھی درجنوں آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ جن میں ڈاکٹرز ، پیرا میڈیکس وغیرہ شامل ہیں۔ اُنہوں نے حکومت سے پُر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سول ہسپتال مدین اور کالام میں سٹاف کی کمی کو جلد از جلد پورا کیا جائے۔ اور سول ہسپتال مدین کی بحالی پر فی الفور کام کا آغاز کیا جائے۔ ہسپتال میں ضروری آلات ، ادویات وغیرہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ لوگوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو لوگ احتجاج پر مجبور ہو کر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ہوائی اعلانات اور ورکنگ گروپ کے چکر سے نکل کر عملی اقدامات کا آغاز کرے۔

مورخہ:1-1-2014 بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) حکومت کے صوبے میں بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے وعدے جھوٹے اور فریب ثابت ہوئے۔ سید جعفرشاہ
رکن صوبائی اسمبلی اے این پی سید جعفرشاہ نے مرکزی اورصوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن میں لوگوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کرکے حکومت نے بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ میں کمی کی بجائے مزید اضافہ کرکے اپنی نااہلی کو صحیح ثابت کیا ہے ۔ الیکشن کے دوران لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اقتدار میں آکر دودھ اور شہد کی نہریں بہا ئیں گے۔ نیا پاکستان بنائیں گے ۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کو ختم کیا جائے گااور یکدم خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔
مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے 8 ماہ کی کارگردگی صفر سے بھی کم ہے ۔ تبدیلی صرف یہ آئی ہے کہ مہنگائی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے ۔ غریب کیلئے روزمرہ اشیاء کی خریداری ناممکن ہے جبکہ مزید کسر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے پوری کردی۔ اس سخت ترین سردی میں گیس بالکل ناپید ہے جبکہ بجلی گھنٹوں گھنٹوں غائب رہتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بالائی سرد علاقوں یعنی بالائی سوات ، دیر اور دیگر مقامات میں تو بجلی 20 گھنٹے تک نہیں ہوتی ۔ انہوں نے واپڈا اور حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بجلی اور گیس کی ناروا لوڈ شیڈنگ پر فوری قابو پایا جائے اور بالائی علاقوں کے ساتھ امتیازی سلوک روانہ کیا جائے۔
انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے فوری طورپر اقدامات نہ کئے تو ہم منتخب نمائندے بھی لوگوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے الیکشن کے دوران لوگوں کے ساتھ اتنا جھوٹ بولا ہے کہ اب شرم اور ڈر کی وجہ سے دفتروں سے بھی غائب ہوچکے ۔ لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور انشاء اللہ بلدیاتی الیکشن میں حکمران جماعتوں کو صفر میں ضرب دیکر ہمیشہ کیلئے مسترد دیں گے۔

مورخہ یکم جنوری 2014 ؁ء بروز بدھ

پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کو مبارکباد
خطے کے موجودہ تناظر میں صحافی برادری کا کردار اہمیت کا حامل ہے
پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محمد طفیل اور سیکرٹری انوار الحق نے پشاور پریس کلب فکے نو منتخب صدر ناصر حسین‘ جنرل سیکرٹری فدا عدیل اور اُن کی پوری کابینہ کو مبارکباد دی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ پریس کلب کی نو منتخب کابینہ جمہوری اقدار کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریگی‘ ایک مشترکہ بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ آزاد اور غیر جانبدار صحافت کی نہ صرف حمایت کی بلکہ ہمیشہ اُن کا بھرپور ساتھ دیا‘ اُنہوں نے کہا کہ خطہ کے موجودہ صورتحال میں صحافی برادری کا کردار اہمیت کا حامل ہے جس کی وجہ سے پریس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اُمید ہے کہ نومنتخب کابینہ نہ صرف ان توقعات پر پورا اُترے گی بلکہ صحافی برادری کے فلاح و بہبود کیلئے بھی بھرپور کوششیں کرے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']