انتخابی منشور 2018ء

 

Read & Download in PDF (English Version)

منشور په پښتو ژبه کښې د پي ډي اېف په فائل کښې

اردو ورژن پی ڈی ایف میں ڈاون لوڈ کرلیں



 
عوامی نیشنل پارٹی


انتخابی منشور
2018ء
 



انتخابی منشور
2018ء

 


اس منشور کا مقصد عوام میں
عوامی نیشنل پارٹی  کے اعراض ومقاصد کے شعور کو اجاگر کرنا ہے تاکہ آئندہ عام انتخابات کے لئے  ووٹ دہندہ واضح طور پر آگاہ ہو کہ عوامی نیشنل پارٹی  کن اہداف و مقاصد کی حصول کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ منشور تفصیلی لائحہ عمل کا دعویدار نہیں  لیکن اس منشور کا مقصد پارٹی کےجذبۂ سیاست کی وضاحت اور محرکات کا تعین کرنا ہے جو پارٹی  حکمت عملی کا سرچشمہ ہے جو کہ پاکستان کے عوام کی انفرادی یا اجتماعی خدمت میں کردار ادا کرے گی۔ منشور کو درج ذیل حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے:

 

تمہید
                                 
I.     
داخلہ اُمور


1.          
امن عامہ و سلامتی


2.           
عدالتی نظام اور محکمۂ  پولیس میں اصلاحات


3.           
انسانی حقوق


‌أ.   
  خواتین کے حقوق اور انہیں با اختیار بنانا


‌ب.
بچوں کے حقوق


‌ج. 
  مذہبیاقلیتوں کے حقوق اور انہیں با اختیار بنانا


‌د.   
 ضعیف اور معذور افراد کے حقوق


.4
     صوبائی خود مختاری ــ اٹھارویں آئینی ترمیم کے نفاذ اور استحکام کے لئے اقدامات


‌أ.     
تعلیم


‌ب.  
صحت عامہ


‌ج.   
آبادی کی منصوبہ بندی اور فلاح


‌د.      
نوجوانوں کی فلاح  اور روزگار کےلئے اقدامات


‌ه.      
مزدوروں کے حقوق اور ان کے بہبود کے لئے اقدامات


‌و.      
زراعت، مویشی پروری اور مرغبانی کا فروغ


‌ز.     
ماحول اور ماحولیات


‌ح.   
توانائی، تیل، قدرتی گیس اور معدنی وسائل


‌ط.    
صنعتی، فنی اور تکنیکی ترقی کا فروغ


‌ي.   
ادب، فن اور ثقافت


‌ك. 
کھیل


‌ل.   
سیاحت


‌م.     
انفارمیشن اور ٹیکنالوجی


.5خیبرپختونخوا کے نئے اضلاع


.6
  سماجی، معاشی اور اقتصادی اصلاحات


.7
محصولاتیاور مالیاتی اصلاحات


.8
  چاِئنہ پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)



                                    
II.                          
خارجہ امور
 


تمہید:



عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی جدوجہد کا سرچشمۂ  فیض و الہام فخرِ افغان باچاخان کی زندگی ہے
۔  باچاخان اپنی زندگی میں ہمیشہ امن پسندی، عدم تشدد اور پلورالیزم کے رہنما اصولوں پر کاربند رہے اور تمام عمر آزادی کے حصول، ناانصافی، استحصال، جبر، غیرمساوی سلوک اور ظلم کے خلاف جدوجہد میں بِتا  دی۔ باچا خان اور ان کے ساتھی خدائی خدمتگاروں نے جنوبی ایشیا کی آزادی کے لئے برطانوی سامراج اور نو آبادیاتی قوتوں کے خلاف ہر میدان میں ہراول دستے کا فریضہ انجام دیا اور بیش بہا قربانیاں دیں جو حق، سچ اور انصاف کے متلاشیوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ وہ نہ صرف جنوبی ایشیا ء کے لوگوں بالخصوص اپنے پختونوں کو بدیسی استعمارسے نجات دلانے کے لئے برسرپیکار رہے بلکہ ان کو غربت، جہالت ، فرسودہ روایات اورتعصبات، اندرونی انتشار اور سیاسی بے عملی کی لعنتوں سے بھی نجات دلانا  چاہتے تھے۔ وہ تمام افراد و اقوام کے لئے معاشرتی اور سیاسی عدل کے متمنی تھے انکی دلی خواہشتھی کہ تمام افراد اور اقوام آزادی، امن ، ہم آہنگی اور باہمی صلح جوئی اور اتفاقسے بین الاقوامی سطح پر یکجا ہوکر رہیں۔ باچا خان کے نظریے )باچاخانیمیں سیاست
اور عوامی خدمت ایک ہی سکّے کے دو رُخ تھے۔ اسی روح کو زندہ رکھتے ہوئے  اے این پی اپنے پیشرووں نیپ
( نیشنل عوامی پارٹی)اور این ڈی پی (نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی طرح سیاست اور عوامی خدمت کو ایک ہی سرگرمی کے دو ناقابل تقسیم حصے تصور کرتی ہےچنانچہ پارٹی جمہوریت کی ترویج  اور آزادی کی جدوجہد، غربت و جہالت کی بیخ کنی  صوبائی خودمختاری، بنیادی انسانی حقوق  و اختیارات کا تحفظ، تمام مکاتبِ فکر، جماعتوں کے اصولی اور جائز خواہشات کی تکمیل ، معاشرے کے تمام طبقات، خصوصاً         کمزور ، پسماندہ، پسے ہوۓ  اور محروم طبقوں کی فلاح و بہبودکے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
 


مجموعی مقاصد اور رہنمااصول:

·          اےا ین پی تشدد اور ہر قسم کی انتہا پسندی کے خلاف ایک واضح موقف کے ساتھمضبوطی سے جمی کھڑی  ہے۔ پارٹی کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ مکالمہ و مذاکرہ تمام مسائل
کے حل کا بہترین ذریعہ ہے۔

·          اے این پی جمہوریت کے استحکام، سیاسی شعورکے فروغ، قانون کی بالادستی اورانصاف تک رسائی کو ممکن بنانے کا عہد کرتی ہے۔ پارٹی پرامن ، ترقی پسند اور ایک
آزاد  معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد کرے گی۔

·          اے این پی  متعصبانہ قومیت ، گروہ، جنس، مذہب، نسل، طبقہ اور عقیدہ  سےبالاتر تمام شہریوں کے لئے مساویانہ حقوق اور مواقع کی فراہمی پر کامل یقین رکھتے ہوئے  تمام خود ساختہ امتیازی قوانین اور متنازعہ  اصولوں کی نفی کرے گی۔ خواتین،ضعیف العمر اور معذور افراد، مُخنث افراد، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت فراہم کرے گی۔

·          اے این پی مذہب، روایات اور رواج کی غلط  تشریح کی مخالفت کرتی ہے اورغیروں سےنفرت، مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسے مہلک رویوں کا سدّباب کرے گی جو  نہ صرف معاشرہ میں گھٹن کا باعث بنتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر کسی ملک کو تنہائی کا شکار کردیتی ہے۔  اے این پی باچا خان کے انسانی وقار کے نظرئیے اور اقدار کی عظمت ، پلورالیزم ، مقامی اور قومی دانش و  شناخت کے فلسفے کو مشعلِ راہ  بنا کر رکھے گی۔

·          اے این پی کا  عقیدہ ہے کہ ہر شہری کو  تمام پبلک آفسزبشمول وزیراعظم و صدر  مملکت کے عہدے پر فائز ہونے کا حق حاصل ہے۔ بالکل اسی طرح سیاسی، معاشی اور معاشرتی میدان میں پاکستان کے ہرشہری  کومساوی حقوق اور مواقع  ملنا  ان کا حق ہے۔

·          اےا ین پی دفاع، امورِ خارجہ، کرنسی، مواصلات اور مشترکہ مفادات کونسل کے واضح کردہمحکموں اور اداروں کا مرکز کے ساتھ ہونے کے علاوہ مکمل صوبائی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے ۔ پارٹی اٹھارویں آئینی ترمیم کے اطلاق کو یقینی بنائے گی بالخصوص معدنیات، تیل، گیس، پانی وبجلی، توانائی کے مختلف ذرائع اور صحت و تعلیم کے سلسلے میں مستعد  اور سرگرمِ عمل رہے گی۔

·          اے این پی صوبوں اور اضلاع کو متعلقہ امور میں با اختیار بنانے کے لئے منصوبہ بندی اور متعلقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے سرگرم رہے گی۔ اے این پی  اعلیٰ تعلیم اور
مالیاتی امور دونوں کے لئے صوبائی کمیشن کے قیام کو ہر ممکن طریقہ سے یقینی بنائے گی۔

·          اے این پی تمام وفاقی اکائیوں اور قوتوں کی مکمل سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق کو بطور مساوی شراکت دار کے تحفظ دے گی اور اجتماعی  ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرنے کا بھرپور ساتھ دےگی۔ اے این پی چاروں صوبوں ،سرائیکی  اور  گلگت بلتستان کے لوگوں کے انفرادی و اجتماعی حقوق اور شناخت کی حفاظت کو یقینی بنانے،  آزادانہ طور پر ان کی ثقافتی اور لسانی نشوونما  اور ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔

·          اے این پی پاکستان کے اندر پختونوں کو متحد کرنے اور قومی دھارے میں لانے کے لئےنو آبادیاتی استعماری تقسیم کو آئینی  ترامیم کے ذریعے ختم کرے گی۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ قبائیلی علاقہ جات کے ادغام کے لئے طویل تاریخی جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے کے بعد اب اے این پی خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پختونوں کے درمیان غیر فطریجغرافیائی تقسیم کو ختم کرکے پاکستان میں پختونوں کی ایک وحدت بنانے کے لئے ہرممکنہ سیاسی و آئینی جدوجہد کرے گی۔

·          پارٹی ایسی تمام وفاقی اکائیوں کے ساتھ اخلاقی و سیاسی تعاون کرے گی جو تاریخی، ثقافتی، لسانی اور جغرافیائی مماثلتوں کے مطابق آئینی طور پر آپس میں از سرِ نوتشکیل چاہتے ہوں۔

·          اے این پی آبی وسائل کی مساویانہ تقسیم پر یقین رکھتی ہے اور خصوصاً دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے صوبوں کے درمیان غیر منصفانہ تقسیم کی سخت مخالفت کرتی ہے اور اس سلسلے میں بنیادی اقدامات کرے گی۔

·          اے این پی مقامی حکومتی نظام کو جمہوریت کا ایک بہترین وسیلہ اور   عوام کی دہلیز تک خدمات و سہولیات کو پہنچانے کا اعلیٰ ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس ضمن میں اے این پی
مقامی حکومتی نظام کی بہتری کے لئے نئے قوانین متعارف کرانے، پرانے قوانین کی بہتری کے لئے ترامیم لانے اور اس نظام میں خواتین، مزارعین، مزدور وں، معذوروں  اوراقلیتوں کا حصہ بڑھانے کے لئے کام کرے گی۔

·          اے این پی  عوامی رائے قائم کرنے، اظہارِ خیال کی آزادی  اور تنظیمی وابستگی کیآزادی پر یقین رکھتی ہے اور معلومات تک تقریری و دستاویزی رسائی ممکن بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

·          اے این پی عدالتی نظام کے ساتھ کسی بھی متوازی اور نیم قانونی سسٹم کے خاتمے اور بیخ کنی کے لئے جدوجہد کرے گی تاکہ ایک صاف و شفاف اور مربوط عدالتی نظام کے قیامکو ملک میں یقینی بنایا جاسکے۔

·          اے این پی بہترین نظام حکمرانی، شفافیت اور بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے۔ اے این پی سیاست، بیورو کریسی، سول، فوج اور عدلیہ سمیت تمام اداروں اور محکموں میں ہرسطح پر رشوت ستانی اور بدعنوانی کی بیخ کنی کے لئے جدوجہد کرے گی اور احتساب کے لئےآئینی تحفظ کے ساتھ ایک خودمختار کمیشن کے قیام کو یقینی بنائے گی۔

·          اےا ین پی ملکی اخراجات کو متوازن بنانے کی کوشش کرے گی تاکہ عوام کی معاشی  و سماجی  فلاح و بہبود اور ترقی ان سے متاثر نہ ہوں۔

·          اے این پی سیاست میں افسر شاہی  اور فوجی اشرافیہ کی کسی بھی قسم کی مداخلت کیمخالفت کرتی ہے۔ اے این پی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئینی و قانونی حدبندیوں میں کام کرنا چاہیئے۔

·          اے این پی معذور افراد کے حقوق کے تحفظ، ترقی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائے گی۔ اے این پی فیصلہ سازی میں ان معذور افراد کی حصہ داری کے لئے ہر سطح پر کوشش کرے گی اور ان کے تحفظ، پبلک مقامات پر ان کے نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرنے اور اداروں میں ان کے موجودہ کوٹہ پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

ان اُصولوں اور مقاصد کےتناظر میں اے این پی پاکستان میں تمام ہم خیال جماعتوں اور اداروں  کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے اور دنیا کے تمام امن پسند بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے اور ان سے تعلقات بنانے کے لئےاپنے دروازے کھلے رکھی گی۔



I.                 
اُمور داخلہ:



1.   
امن عامہ وسلامتی


ریاست حکمران طبقے اورشہریوں کے درمیان ایک ایسے  عمرانی معاہدے کے طور پر وجود میں آتی ہے جس کی رو سے ریاست شہریوں کو  تحفظ اور خدمات و سہولیات دینے کی حلفاًپابند ہوتی ہے اور بدلے میں ریاست کی سالمیت کی ضمانت لی جاتی ہے۔ پاکستان بالعموم اور خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور فاٹا بالخصوص تاریخ کے خطرناک دور سے گزر رہے ہیں،  کیونکہ انتہاپسندی اور دہشتگردی نے لوگوں کی زندگی، رہن سہن  اور طرز معاشرت کو تباہ کررکھا ہے اور ان کے وجود اور سالمیت کی بقاء کو خطرات سے دوچارکردیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ شدت پسندی اور عسکریت پسندی جیسے مسائل کسی بیرونی قوت کی پیداوار نہیں بلکہ یہ ریاست کی اپنی غیر دانشمندانہ پالیسیوں اور غلط طرزِحکمرانی کے باعث پیدا  ہوئے ہیں۔ اس شدت پسندی اور عسکریت پسندی کی جڑیں ۸۰ کی دہائی میں افغانستان میں پراکسی وار )فساد)   میں پاکستان کی عملاًشمولیت سے ملتی ہیں۔ اے این پی کی قیادت نے بر وقت اس فساد کے بھیانک اور بہیمانہ نتائج اور ان کے ملکی ،علاقائی اور عالمی اثرات سے  قوم اور ریاست کو  آگاہ کیا تھا  لیکن یہ باتیں سنی ان سنی کردی گئی تھیں۔ آج پوری دنیا اس فساد کے متعلق اے این پی  کی ماضی کے اس موقف کی تائید کرتی ہے۔ ضربِ عضب اور ردّ الفساد جیسی اصطلاحات ریاست  کی طرف سے اے این پی کے اس موقف کا غیر اعلانیہ عملی اعتراف ہے۔


اے این پی انتہا پسندی اور دہشت گردی ملک کی بقاء کے لئے ایک سنگین خطرہ تصور کرتی ہے اور پچھلے عشرہ کے دوران امن  و سلامتی کے لئے جدوجہد میں ہزار سے زیادہ کارکنان، عہدیداران اور صوبائی و مرکزی قیادت کے اراکین کے بیش قیمت جانوں کی قربانیاں اس بات کا تاریخی اور عملی ثبوت ہیں۔


پارٹی قیامِ امن کے لئے کوشاں رہے گی اور کسی بھی قیمت پر  عوام، امنیتی اداروں اورخصوصاًاے این پی کے ممبران کی لازوال قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دے گی۔  اے این پی کا عقیدہ ہے کہ کوئی بھی حفاظتی اقدام یا آپریشن اس وقت تک کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت نہیں  ہوسکتا جب تک انسانی زندگیوں کا تحفظ اولین ترجیح نہ ہو۔ امن و سلامتی کا حصول تب ہی ممکن ہوگا جب ریاست آئین کے احترام، قانون کی عملداری اور جمہوری رویوں کی پاسداری کو پنپنے دے گی۔



1.    
اے این پی ملک کی خودمختاری اور حاکمیت کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی شدید مخالفت کرے گی۔

2.     
اے این پی جمہوری اور فلاحی ریاست کے تصور کو قائم کرنے کے لئے رائے عامہ ہموار کرےگی۔

3.     
اے این پی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی معقول بنیادوں پر رہنمائی کو عوامی نمائندوںکی بنیادی اور اولین ذمہ داری سجھتی ہے۔ سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اےاین پی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ریاست کے موجودہ تصورکو تبدیل کیا جاسکے۔

4.     
ا ے این پی تکنیکی بنیادوں پر ایک ایسی جامع سیکیورٹی پلان کے تصور پر یقین رکھتی ہے جس میں جدید خطوط پر استوار پیشہ ورانہ اور منظم طریقہ سے انتہاپسندی، فرقہ پرستی اور دہشت گردی جیسے عوامل کی بنیادی وجوہات پر توجہ دی جاسکے۔ اے این پی موجودہ سیکیورٹی پالیسی اور حکمت عملی پر نظرثانی کر کے اصلاحات نافذ کرے گی تاکہ اسے جدید دور کے مطلوبہ معیار سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ان اصلاحات کو طویل  عرصہ تکمؤثر بنانے کے لئے اے این پی شہریوں کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہمیت دے گی ۔

5.     
اے این پی نیشنل ایکشن پلان کے اطلاق کو مؤثر بنانے کے لئے اس کی پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنائے گی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے ملکی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے قومی ادارہ (NACTA)  کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔

6.      اے این پی تشدد، فرقہ واریت اور دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی تلافی و بحالی کے لئے معاشرتی حقوق کی بنیاد پر قانون اورایک جامع انشورنس پالیسی مرتب کرے گی اور اس کا دائرہ کار حالاًادغام شدہ فاٹا تک ہنگامی بنیادوں پر بڑھائے گی کیونکہ ان علاقہ جات کے لوگ بری طرح سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے شکار ہیں۔ اس ضمن میں اے این پی صوبوں اور ادغام شدہ فاٹا میں شہداء سیل کا قیام عمل میں لائے گی تاکہ انتہاپسندی اور دہشتگردی سے متاثرہ افراد اور شہداء کے ورثاء اور لواحقین کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکے۔
7.     
اے این پی صوبہ بھر میں غیر ضروری چیک پوسٹیں ہٹائے گی اور ضروری چیک پوسٹیں متعلقہمقامی تھانہ کے سپرد کرے گی۔

8.     
ا ے این پی شورش شدہ اور عسکریت زدہ علاقوں میں آبادی کے گرد بچھے ہوئے بارودی مواد ہٹانے کی بابت اقدامات اٹھائے گی۔
 


2.               
عدالتی نظام اور محکمہ پولیس میں اصلاحات:


پاکستان میں شہری تحفظ کا مسئلہ لا تعدادمشکلات سے دوچار ہے جیسے آئینی اور انتظامی مشکلات جو قانون کی بالادستی کے حوالہ سے  عدم توجہ، فوجداری مقدمات میں عدالتی نظام کی کمزوری، انتہا پسندی کے لئے مسلح ریاستی عناصر کی پشت پناہی، جرائم کے تدارک کے نظام کے عملے کی کمزور کارکردگی، عوام کو خدمات کی دستیابی میں ناکامی،حادثات کی اطلاع کے وقت متعلقہ اداروں کا غیر سنجیدہ رویہ، ایف آئی آر کا اندراج نہکرنا، تحقیق و تفتیش اور استغاثہ کا غیر مربوط طریقہ کار اور امن عامہ برقرار رکھنےاور فسادات کی روک تھام کے لئے غیر تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی اوراستعمال ایسی وجوہات ہیں جن سے ہمارا سامنا ہے۔

‘‘انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے’’ کے مصداق 
 پاکستان کے عدالتی نظام میں غیر معمولی اور خلافِ دستور تاخیری حربوں نے عدالتی نظام سے شہریوں کو  بدظن کردیا ہے جہاں پولیس اور عدالتی عملہ کی بے حسی اور لاپرواہیشہریوں کوانصاف کی فراہمی جیسےضروریات پورے کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔

اے این پی شہریوں کے ان حقوق و ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ سول اور فوجداری عدالتی  نظام کی دوبارہ تشکیل کے لئے آئین میں ضروری مثبت اصلاحات کا مطالبہ کرتیہے  اور  اس سلسلہ میں اے این پی ایسے اصلاحاتی اقدامات کرے گی جن سے آئین اورعدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد بحال کیا جاسکے۔


2.1
   عدالتی اصلاحات:


1.    
اے این پی یقین رکھتی ہے کہ ملک میں سپریم کورٹ جو  اپیل سننے کی اعلیٰ ترین عدالتہے، کو محض آئینی مسائل میں الجھانا نہیں چاہئیے؛ اے این پی اس کی بجائے ایکعلیٰحدہ آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرے گی۔

2.     
اے این پی عدالتی اصلاحات کے نفاذ اور اس کے استحکام کے لئے بھرپور کوشش کرے گی اور زیریں عدالتوں کی عماراتی بہتری اور ذہنی استعداد بڑھانے کے لئے بنیادی ڈھانچہفراہم کرے گی تاکہ شہریوں کو فوری،  شفاف اور کم خرچ انصاف مہیا ہوسکے ۔ اس مقصد کےحصول کے لئے اضلاع میں عدالتیں  )جوڈیشلکمپلکسزقائم کئے جائیں گے۔

3.     
اے این پی قانونی اور عدالتی نظام کومستحکم کرنے اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات اور استغاثہ جات کی شنوائی کے لئے ججوں اور گواہوں کو تحفظ دینے کے لئے مؤثر طریقہ کار وضع اور واضح کرے گی۔

4.     
اے این پی دیوانی اور فوجداری مقدمات کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرکے قانونی چارہ جوئی اور شفافیت کو متاثر کئے بغیر شہریوں کو فوری انصاف فراہم کرنے کے لئے اصلاحات کرے گی۔

5.     
اے این پی دور دراز علاقوں میں شہریوں کو سہولت دینے کے لئے موبائیل کورٹس کے لئے اقدامات کو عملی کرے گی۔


2.2
    پولیس اصلاحات:


1.    
اے این پی قانون کی بالادستی کے لئے اصولوں سے گہری وابستگی رکھے گی تاکہ کوئی بھیعمل قانون کی کسی شق یا اصول کے منافی نہ ہو۔

2.     


اے این پی پولیس کی خودمختاری کو یقینی بنائے گی اور اسے قانون اور جمہوری اقدار کےتابع بنائے گی۔

3.     
اے این پی پولیس کے تمام شعبوں کو اعلیٰ معیار،  فنی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی و اسلحہ سے لیس کرے گی۔

4.     
اے این پی تفتیشی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے جدید تکنیکی مہارت منتقل کرنے اورفارنزک سائنسی تجربہ گاہوں کے قیام میں سرمایہ کاری کرے گی اور ان کو بین الاقوامیمعیار پر لانے کے لئے پولیس کی صوبہ اور مرکز میں اکیڈمیوں کو بہتر بنانے کے لئےسرمایہ کاری کرے گی اور اس مد میں ماہرین کی خدمات سے استفادہ کیا جائے گا۔

5.     
اے این پی پولیس اور عدلیہ کے درمیان روابط کو بڑھانے کے لئے مؤثر اقدامات کرے گیتاکہ تحقیقات، سماعت اور اپیلوں میں غیر ضروری تاخیر کو ختم کیا جا سکے۔

6.     
اے این پی وفاق  اور صوبائی وحدتوں میں سول انٹیلی جنس اور حفاظتی اداروں کے درمیان روابط کی بہتری کو میسر بنائے گی۔

7.     
ملک کے آئین میں دئیے گئے تناسب اور گنجائش کے مطابق صوبائی اور مرکزی پولیس کو کوٹہ دیا جائے گا اور پولیس میں تمام تقرریاں اور ترقیاں صوبائی حکومت کے ذمہ ہوںگی۔

8.     
پولیس اسٹیشنوں/پولیس پوسٹ کے معیار اور استعداد کو بڑھایا جائے گا۔ انتظامی اور مالیاتی اختیاراتکو علاقائی، ضلعی اور تھانوں کی سطح پر متقسم کیا جائے گا۔

9.     
اے این پی پولیس کے ہر کیڈر  کی تنخواہوں، رہائشی سہولیات، مراعات اور آمد و رفت کےذرائع اور وسائل میں اضافہ کرے گا۔


2.3
   استغاثہ:


1.    
اے این پی قانونی امکانات کے اندر استغاثہ نظام کی خود مختاری کو یقینی بنائے گا۔ استغاثہ کا اپنا  انتظامی اور خدماتی  ڈھانچہ ہوگا اور اسی کے مطابق ترقیاں دی جائیں گی۔

2.     
اے این پی استغاثہ کو ترقی دے کر ایک  باقاعدہ  انتظامی محکمہ میں تبدیل کرے گی۔

3.     
استغاثہ وکیلوں کے تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور پیشہ ورانہ ذمہ واریوں کے احساس کو اجاگر کرنے کے لئے تربیتی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔


2.4
   اصلاحی مراکز اور   انتظام:


1.    
اے این پی جیل میں انتظامی خدمات کے تصور کے ساتھ ساتھ اصلاحی مراکز اور انتظام کےتصور کو فروغ دے گی۔

2.     
جیل خانہ جات کے انسپکٹوریٹ کو انتظامی اور مالی خود مختاری دی جائے گی۔

3.     
زیرِ سماعت مجرموں، عورتوں اور بچوں کو علیٰحدہ علیٰحدہ رکھنے کے لئے جامع انتظامکیا جائے گا۔

4.     
اے این پی دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے لئے ہائی سیکیورٹی جیلوں کی تعمیر کو یقینی بنائے گی۔

5.     
اے این پی پولیس میں ہر قسم کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور تبادلوں میں شفافیت اور اہلیت کو مدِنظر رکھے گی۔
 


3.              
انسانی حقوق:


أ
.  خواتین کے حقوق اور انہیں بااختیار بنانا:


پاکستان کی خواتین اپنی کم تر سیاسی، سماجی اور معاشی اثر کی وجہ سے انحصار اور ماتحتی کے جال میں پھنسی ہوئی ہیں۔ خواتین کی اکثریت ہر قسم کی نا انصافیوں اور تشدد کا شکار ہیں، متذکرہ موروثی نظام جو انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہونے سے روکتا ہے، ان کی اس موجودہ صورت حال کی ذمہ دار ہے۔ اگرچہ پاکستان قومی و بینالاقوامی سطح پر خواتین کے مقام کے حوالے سے کئی معاہدوں کی پاسداری کا اعلان کرچکا ہے لیکن اس اعلان اور حقیقتِ حال میں حائل خلیج کافی وسیع ہے۔


عوامی نیشنل پارٹی صنفی برابری پر یقین رکھتی ہے؛ اس سوچ کی روشنی میں پارٹی اپنے آئین اور طریقہ کار کے مطابق جدوجہد جاری رکھے گی
:


1.          
اے این پی فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے اوراسے کم از کم 33فی صد کرنے کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی ۔ فیصلہ سازی کے یہ ادارے مثلاً پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیاں، بلدیاتی نظام، اعلیٰ عدلیہ، حکومتی ادارے اور بورڈ وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

2.           
عوامی نیشنل پارٹی خواتین کے لئے مختص نشستوں/کوٹہ پر بھی ان کے براہِ راست طریقہ انتخابات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرےگی کیونکہ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ براہ راست انتخابات کے سوا کوئی متبادلنہیں۔

3.           
اے این پی زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے ان کو معنیخیز، تکنیکی اور معاشی معاونت فراہم کرے گی۔

4.           
اے این پی یہ عہد کرتی ہے کہ وہ عورتوں کے لئے ملازمت کے یکساں مواقع فراہم کرے گی۔اس کے علاوہ عورتوں کے لئے موجودہ 10فیصد کوٹے کو یقینی بنانے کے لئے ضروری انتظامی اقدامات کرے گی۔

5.           
عورتوں کو ان کے حقوق دلوانے اور ان کو با اختیار بنانے کے لئے مؤثر اقدامات اورقانون سازی کرے گی۔

6.           
عورتوں کے خلاف ایسے قوانین اور اقدامات کی حوصلہ شکنی کرے گی جو تفریق، ذاتی امتیاز پر مبنی ہوں  اور  ان کو برابر کے حقوق دلوانے، ریاست، خاندان اور معاشرےمیں فیصلوں کے طریقہ کار شرکت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

7.           
ایسے تمام قوانین جو گھریلو تشدد اور عورتوں کی خرید و فروخت کے خلاف بنے ہیں، کو لاگو کیا جائے گا۔

8.           
اے این پی ریاست کی طرف سے کسی بھی ایسے قانون، قاعدے، شق اور پالیسی کو منظور کرنے کی مزاحمت کرے گی جس میں خواتین کے  ناجائز استحصال کے امکانات کا اندیشہ ہو۔

9.           
اے این پی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات کے لئے وضع کردہ طریقہ کار پر نظر ثانی اور اس میں ترامیم کرے گی تاکہ شہریوں کی شناخت کے لئے ان کی ولدیتپر اکتفا کیا جائے اور شادی کی صورت میں شناختی کارڈ میں تبدیلی کی ضرورت نہ رہے۔ شناختی کارڈ کے حصول کے عمل میں بالغ خواتین کے لئے محرم
/مرد سربراہ کی موجودگی کے شرط کو بھی ختم کیا جائے گا ۔

10.      
میڈیا اور تعلیم کے ذریعے صنفی برابری کی ضرورت کا شعور اجاگر کیا جائے گا۔

11.      
اے این پی صنف کی بنیاد پر ہونے والی نا انصافیوں اور تشدد کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کا عزم رکھتی ہے، اس حوالے سے حکومتی اداروں کا افقی رابطہ، قوانین و ضوابط کیکجیوں اور رکاوٹوں کی تصحیح بھی پارٹی کا عزم ہے۔

12.      
اے این پی صنفی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کی بہتری کے لئے اصلاحی اداروں کا قیام عمل میں لائے گی۔

13.      
خیبرپختونخوا میں اے این پی کی حکومت نے خواتین کے لئے ایک صوبائی کمیشن بناکر دوسرے صوبوں کے لئے مثال قائم کی تھی اور پھر وہاں بھی ایسے کمیشن بنائے گئے تھے۔  اے این پی انہی صوبائی کمیشنوں (PCSWاور ملکی کمیشن (NCSW) کو مالی اور انتظامی طور پر خود مختار بنائے گی تاکہ خواتین کے حوالے سے مسائل حلکرنے اور امور سر انجام دینے میں یہ کمیشن خود کفیل ہو کر آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرسکیں۔

14.      
سیاسی جماعتوں اور مقامی لوگوں کے درمیان ان معاہدوں کی روک تھام کی جائے گی جن میںعورتوں کے ووٹ ڈالنے کے حق یا انتخابات میں حصہ لینے سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتیہے۔

15.      
عدالتوں، پولیس اور دوسرے اداروں میں عورتوں کے وراثتی حقوق کے حوالے سے قوانین، کمعمری میں شادی کے حوالے سے ونی، وٹہ سٹہ، سورہ اور     غگ وغیرہ کے خلاف انتظامی اصلاحات کو مؤثر بنایا جائے گا۔ ان کے علاوہ عورتوں کو عدالتی نظام کا ایسا حصہ بنایا جائے گا کہ محرر  اور   ریڈر کی آسامیوں پر بھی ان کا تقرر ہوسکے۔ مزید بر آں،اعلیٰ عدالتوں میں اہم مناصب پر بھی ان کی تقرری کی ضرورت ہے۔

16.      
اے این پی سول سوسائٹی، سی ای اوز کے اس کردار کی بھی معترف ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی ترقی کے لئے کردار ادا کر رہی ہیں اور جن میں خواتین کے بارےمیں قانون سازی، سیاسی تعلیم و شراکت اور انسداد غربت شامل ہیں۔

17.      
اے این پی خواتین کی مختلف شعبوں اور ملازمتوں کے حوالے سے روایتی تاثر کو زائل کرنے کے لئے نئے نئے عہدوں پر ان کی تقرری اور ترقی کی سفارش کرے گی۔ خواتین کو انکی پسندیدہ شعبہ جات میں تعلیم اور  ملازمت کے لئے یکساں مواقع دئیے جائیں گے۔

18.      
اے این پی تمام اضلاع میں عوامی آمدو رفت اور مواصلات پر مبنی شعبہ جات اور ذرائع میں خواتین اور معذور افراد کے لئے خصوصی سہولیات فراہم کرےگی ۔

19.      
اے این پی تمام سرکاری دفاتر، صنعتی یونٹس، یونیورسٹیوں اور کارپوریشنز میں ڈے کئیرمراکز کے قیام کی حکمت عملی وضع کرکےاسے لازم قرار دے گی تاکہ خواتین کے لئے پُرسکون ماحول مہیا ہو سکے۔

20.       
اے این پی تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر، مارکیٹوں اور تجارتی مراکز میں خواتین کے لئے علیٰحدہ، فعال اور صاف ستھری ٹوائلٹس کی موجودگی کو  یقینی بنائے گی۔

21.      
اے این پی ہنرمند اور کاروبار کرنے والی خواتین کے ساتھ مالی تعاون اور آسان قرضہجات فراہم کرے گی۔

22.       
اے این پی سرکاری و غیر سرکاری سیکٹر میں زچگی کے باعث ماں باپ کے لئے  خصوصی رخصتکی سہولت کو فروغ دے گی۔

23.       
اے این پی ابتدائی تعلیم میں ایسی نصاب متعارف کرائے گی جس میں صنفی مساوات اورخواتین اور بچیوں کے حقوق سے متعلق مضامین اور مواد شامل ہوں ۔

24.       
اے این پی خیبر پختونخوا میں ادغام شدہ نئے اضلاع  کی خواتین کو با اختیار  بنانےکے لئے خصوصی اور حقیقی لائحہ عمل مرتب کرے گی اور مختلف محکموں میں  ان خواتین کےلئے مناسب کوٹہ مختص کرے گی۔

25.       
اے این پی ایسی کسی بھی رسم، رواج، ریت و روایت، شق یا قانون کی حمایت نہیں کرتی جسسے عورتوں کی حق تلفی یا استحصال کا پہلو نکلتا ہو۔ اے این پی مرجر کے بعد بھی سابقہ  فاٹا میں رواج ایکٹ کے نام سے جدید  ایف سی آر کی برملا   مخالفت کرتی آرہی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کی مزاحمت کرتے ہوئے آئین اور قانون کو شفاف بنانے میں کردار ادا کرتی رہے گی۔

26.       
اے این پی ایسی کسی بھی ماورائے آئین عدالتی نظام مثلاًروایتی پنچایت یا جرگہ کی حمایت نہیں کرتی جو خود کو آئین اور قانون کا نعم البدل تصور کرے اور  ایسے خود ساختہ عدالتی نظام اور اس کے فیصلوں کو غیر قانونی قرار دینے کے لئے قانون سازی کرے گی۔

27.       
اے این پی شہداء کی بیواؤں کو سہارا  اور تحفظ دینے کے لئے  مالی معاونت کی خاطرخصوصی فنڈز کے قیام و اجراء کو ممکن بنائے گی۔

28.       
اے این پی خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے تحفظ کے لئے قانون سازی کرے گی اور  سیاسی تعلیم دینے اور زندگی کے ہرشعبہ میں ان کے حصہ داری کو یقینی بنانے کی مد میں سول سوسائٹی اور اداروں کے تجاویز اور سفارشات کی حوصلہ افزائی کرے گی۔


ب
.     بچوں کے حقوق:


پاکستان کی کل آبادی کا  50 فی صد اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کا  ہے۔ اپریل  2010ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی شق
A-25میں اس بات کا وعدہ کیا گیا ہے کہ اس ملک میں پانچ سے سولہ سال کےعمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم ان تجاویز کی روشنی میں دی جائے گی:


1.          
اٹھارویں ترمیم کے بعد پاکستان میں تعلیم ہر بچے کا ایسا بنیادی حق ہے جس کا تحفظ اور انتظام ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اے این پی تعلیم کے حوالے سے اس شق 25-Aکی نفاذ اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے ہر حال میں امکانات پیدا کرے گی۔ اے این پی اس شق کے لئے قانون سازی کرکے اس کو دستاویزی شکل دے کر عملی طور پر لاگو کرے گی۔

2.           
اے این پی ان تمام قوانین کو دوبارہ بنائے گییا  موجودہ پر نظر ثانی کرے گی جو 16 سالسے کم عمر بچوں کی مشقت سے متعلق ہے؛ خواہ وہ گھریلوہو،  رسمی یا
 غیررسمی  ہو، ان پر ممانعت ہوگی۔

3.           
اے این پی سنِ بلوغ تک نہ پہنچے ہوئے بچوں کے لئے عدالتی نظام، ان کے لئے مخصوص عدالتیں اور اصلاحی مراکز بنانے کے عمل کو یقینی بنائے گی جس میں بچوں کی بحالی اور ذہنی نشونما پر کام کیا جاسکے۔

4.           
اے این پی بچوں کے خلاف ہر طرح کے تشدد خوا ہ وہ جسمانی ہو، جنسی ہراسانی ہو یا کوئی اور تشدد، کو روکنے کی بھرپور کوشش کرے گی اور ان کے اغواء کے لئے بنائے گئے قوانین کے مطابق مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

5.           
اے این پی نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو صوبائی اور ضلعی شاخوں کو صوبائی حکومت کے تعاون سے مضبوط بنائے گی تاکہ ملک میں بچوں پر جبری مشقت کو درست طریقے سے مانیٹر کیا جاسکے۔


ج
.      مذہبی اقلیتوں کے حقوق:


1.          
سیاست میں مذاہب کے غلط استعمال و تشریح نے تشدد کو فروغ دیا ہے۔ اے این پی پاکستان کو ایک روادار، سیکولر اور جمہوری ملک بنانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی جہاں پر تمام شہریوں کو برابر حقوق اور مواقع فراہم کئے جائیں ۔

2.           
اے این پی  1973 ء کے آئین میں اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بناکر رکھ دینے والی ترامیم میں انسانی بنیادوں پر اصلاح کرے گی جو کہ آمروں نے کی تھیں۔

3.           
اے این پی آئین میں اقلیتوں کے خلاف تفریق اور امتیاز پر مبنی تمام قوانین پر نظر ثانی کرکے ان کو بہتر بنائے گی تاکہ ان کو تمام شہریوں کی طرح برابر حقوق دئیے جائیں۔

4.           
دوسرے مذاہب، فرقوں، طبقوں، گروہوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لئے قانون سازی اور عملی اقدامات اٹھائے گی۔۔

5.           
اے این پی مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے کے لئے مؤثر آئین سازی کرکےپھر اس کےاطلاق کو یقینی بنائے گی۔

6.           
اے این پی اقلیتوں کے حقوق کی تحفظ کے لئے ایک خودمختار کمیشن قائم کرے گی۔

7.           
اے این پی مقامی حکومتوں، صوبائی و  مرکزی اسمبلیوں میں مذہبی اقلیتوں کے لئےنشستوں میں اضافہ کرنے کے لئے اقدامات کرے گی۔

8.           
اے این پی جنرل نشستوں پر کم از کم پانچ فیصد نمائندگی غیرمسلم اقلیتی ممبران کےلئے مختص کرنے کی کوشش کرےگی۔

9.           
اے این پی مندروں، گوردواروں، گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں کے تحفظ اور بحالیکے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے گی۔

10.      
اے این پی اقلیتوں کے لئے ملازمتوں کے مخصوص کوٹہ میں اضافہ اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

11.      
اے این پی مختلف اقلیتوں کی بڑی مذہبی تہواروں کے دنوں پر ان کے لئے سرکاری تعطیلکو لاگو کرے گی۔

12.      
اے این پی نصابی کتب میں اقلیتوں کے حوالہ سے متعصبانہ اور نفرت انگیز مواد کا خاتمہ کرے گی۔


.4
       صوبائی خودمختاری: اٹھارویں آئینی ترمیم کے نفاذ اور استحکام کے لئے اقدامات:


اے این پی نے کئی دہائیوں تک مرکز سے صوبوں کو اختیارات کی  منتقلی اور اپنے وسائل پر اپنے حق کو منوانے کے لئے جدوجہد کی  ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کی جانب ایک بنیادی پیش رفت ہے۔ اے این پی اٹھارویں آئینی ترمیم کےمؤثر نفاذ کے لئے جامع عملی  اقدامات کرے گی اور  مذکورہ آئینی ترمیم کو واپس کرنے یا غیر مؤثر بنانے کے لئے؛ یا  اس آئینی ترمیم کی رو سےصوبے کو دئیے گئے شعبہ جاتمثلاًتعلیم اور صحت اور دیگر شعبوں میں اپنے دائرہ کار سے وفاق کے تجاوز  کرنے یا صوبے کی عملداری میں مداخلت کی ہر محاذ اور فورم پر بھرپور مزاحمت کرے گی۔ بایںہمہ، اس انقلابی آئینی ترمیم میں مزید بہتری کے لئے اے این پی مختلف تجاویز زیرغور لائے گی اور باقاعدگی کے ساتھ دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کوجاری رکھے گی۔


أ)   
تعلیم:


پاکستان کا تعلیمی نظام رسائی اور معیار دونوں حوالوں سے بحران کا شکار ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ریاست 16  سال تک کے لڑکوں لڑکیوں کے لئے مفت تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے۔ اےاین پی اس پر یقین رکھتی ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد وسیلہ ہے جو دہشت گردی، شدت پسندی اور اس طرح کے خطرات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ اے این پی نے اپنے پچھلے دورِ حکومت میںزیادہ تر زور تعلیم کے معیار و رسائی کو بہتر بنانے پر صرف کیا۔

اے این پی ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور معیار دونوں کو بہتر بنانےکے ساتھ ساتھ خصوصی حکمت عملی ترتیب دے گی تاکہ ان تعلیمی اداروں کے ذریعے رواداری،
وسعت نظری، وسیع القلبی، تحمل، روشن فکر ی، آزادی  اظہار رائے اور قانون کا احترام کرنے والی ذہنیتوں کو پروان چڑھا یا جاسکے۔

اے این پی ثانوی تعلیم کے دوران ہی سےتکنیکی مہارت کو بڑھوتری دینے اور پیشہ ورانہمشاورت )کیرئیرکونسلنگ)کےلئے اقدامات پر توجہ دے گی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنےکے لئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی۔


1.       
اے این پی صوبوں میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرے گی اور تعلیمکے لئے مختص فنڈ کو ملک کے کل پیداوار کے 6 فی صد تک بڑھائے گی۔

2.          
جدیدتحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بچوں کی تحقیقی، تنقیدی، وجدانی  اور تخلیقی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں اور بچوں کو  سیکھنے کے عمل میں آسانی ہوتی ہے۔ اے این پی اس حکمت عملی کے ذریعے ابتدائی تعلیم مادری زبان میں لازمی کرکے بچوں کی صلاحیتوں اور تعلیمی استعداد میں اضافہ کرےگی۔ انگریزی اوراُردو کو مضمون کے بجائے زبان کے طور پر پڑھایا جائےگا۔ دیگر زبانوں  جیسے چینی زبان کو بھی ثانوی تعلیم کے دوران سکھانے کے لئے تعلیمی حکمت عملی بنائی جائے گی۔

3.        
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیمی شعبہ بھی صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے؛  اےاین پی اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ایک خود مختار  صوبائی کمیشن برائے اعلیٰ
تعلیم  
(PHEC)قائم کرے گی اور یہ کمیشن صوبائی حکومت کو جواب دہ ہو گی۔

4.        
اٹھارویں آئینی ترمیم کی شق A-25  کی رو  سے  آئینی طور پر مفت اور لازمی ابتدائی تعلیم ریاست کی ذمہ واری ہے۔ بدقسمتی سے صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں اس شق کے لئے ابھی تک قانون سازی نہیں کی گئیہے۔ اے این پی اس حوالہ سے قانون سازی کرے گی ۔

5.        
ایکضلع ایک یونیورسٹیکے نعرے کو حقیقی صورت دی جائے گی اور اے این پی اپنی حکومت کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا میں ادغام شدہ نئے اضلاع کے ساتھ پہلے سے ہی موجود ان اضلاع میںیونیورسٹیاں بنائے گی جہاں کوئی یونیورسٹی نہیں۔

6.        
اے این پی  صنعتی علاقوں میں ٹیکنیکل یونیورسٹیاں بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے گی۔

7.        
یونیورسٹیوں کو اعلیٰ ترین معیاری تعلیم کے مراکز قرار دے کر یہاں کی جانے والی  ایم فل/ایم
ایس اور پی ایچ ڈی کی سطح پر  اکادمیک تحقیقی مقالوں کو مقامی، ملکی  اور عالمی اداروں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

8.        
اے این پی صوبائی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کےتبادلے کے مخصوص منصوبوں کے لئے لائحہ عمل متعارف کرائے گی۔

9.        
اے این پی پرائمری سکولوں کی مالی اور انتظامی ذمہ واریاں مقامی/ضلعیحکومتوں کو تفویض کرے گی؛ تعلیمی معاملات میں بارسوخ اشرافیہ کے کردار اور سیاسی مداخلتوں کو ختم کرے گی۔

10.   
اے این پی پرائمری سکولوں کی سطح پر ایکاستاد :ایک کلاسکی حکمت عملی متعارف کرائے گی۔ پرائمری سطح پر ہر تیس  طلباء/طالبات کی کلاس کے لئے ایک استاد/استانیمقرر ہوگا/ہوگی۔

11.   
سکولوں کے تعمیری اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کے لئے اساتذہ اور والدین کےایسوسی ایشن کو مزید مالی اور انتظامی اختیارات دئیے جائیں گے۔

12.   
اے این پی پرائمری سطح پر اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین اساتذہ کی بھرتی کو ترجیح دےگی۔

13.   
اے این پی ایک تعلیمیٹاسک فورس” قائم کرے گی جس کا ہدف موجودہ نصاب پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ یہ ٹاسک فورس موجودہ نصاب میں تعصب آمیز، نفرت انگیز اور جنگجویانہ متن پر مبنی اسباق کی نشاندہی  کرے گی اور اس کی جگہ ایسے مواد کو نصاب میں شامل کرے گی جو مذہبی برداشت، صنفی مساوات، سیاسی رواداری  اور شہری حقوق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے اور  اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں مددگار ہوں۔

14.   
تعلیم کے تمام مراحل کے لئے ایسے نصاب کی تشکیل کی جائے گی جو شہری حقوق اور ذمہواریوں، ثقافتی ورثوں کے تحفظ اور قانون کا احترام کرنے کے حوالے سے بچوں کی تربیتمیں کردار ادا کرے۔ اے این پی نصاب میں ایسے مضامین کو شامل کرے گی جن میں مقامیتاریخ و ثقافت اور سیاسی، سماجی، ادبی و ثقافتی شخصیات کا تذکرہ موجود ہو۔ اس ضمنمیں اخلاقیات، تقابلی ادیان، مطالعہ پشتو‘ اور  ‘روہالوجی‘ کو شامل کیا جائے گا اور روہالوجیٹیچر کی نئی پوسٹ متعارف کرائے گی۔

15.   
صنفی منافرت کی نفی پر مبنی اور مساوات کے اصول پر قائم تعلیمی نصاب مرتب کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ کمزور و لاچار  اور معذور افراد کو ہر سطح پر تعلیم کے مساوی مواقعفراہم کئے جائیں گے۔

16.   
اے این پی پرائمری اور ثانوی سکولوں کی سطح پر اساتذہ اور سٹاف حاضری اور کارکردگیکی نگرانی کے لئے ایک جامع اور مؤثر نظام پر عمل درآمد  کرے گی۔

17.   
اے این پی پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کی سطح پر لسانیات، ادبیات، سائنس اور ریاضیکے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ اساتذہ کو پڑھانے کا خصوصی موقع دے گی  تاکہطلباء جدید علوم سے آشنا ہوسکیں۔

18.   
اے این پی سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے چار دیواری، لیٹرین، اضافی کمروں،آفس، پینے کے صاف پانی، بجلی، فرنیچر اور سٹیشنری کی دستیابی کو ممکن بنائے گی۔سکولوں میں کتب خانوں، کھیل کے میدان ، کمپیوٹر لیبارٹریوں اور سائنس کی تجربہگاہوں کو قائم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ان اہداف کے حصول کے لئے اساتذہ والدین ایسوسی ایشن” کو مضبوط اور فعال بنایا جائے گا اور سرکاری سکولوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان رابطوں کو منظم کیا جائے گا۔

19.   
اے این پی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے اساتذہ کی کارکردگی نکھارنے کی غرض سے تسلسل کے ساتھ تربیت کا اہتمام کرے گی تاکہ طلباء کے رویوں میں مثبت تبدیلی لائی جاسکے۔  اساتذہ کی ترقیوں کو تربیتی ورکشاپس اور پروگراموں میں کامیابی سے مشروط کیا جائے گا۔ اے این پی اساتذہ کی لسانی استعداد بڑھانے کے لئے خصوصی طور پر مادری زبانوں میں خصوصی ڈپلومہ کورسز کرائے گی۔

20.    
اے این پی تعلیمی شعبہ میں اہلیت کی بنیاد پر اساتذہ اور سٹاف کی بھرتی کو یقینیبنائے گی اور اساتذہ اور سٹاف کی تقرری، تبادلہ اور ترقی کے حوالے سے سیاسی مداخلتکو ختم کرے گی۔

21.   
اے این پی اساتذہ کی فلاح وبہبود، صحت ، رہائش اوربڑھاپے کی سہولیات بڑھانے کے لئےایلیمنٹری فنڈ قائم کرے گی۔

22.    
اے این پی اساتذہ کے سروسز سٹرکچر اور قوانین پر ضرورت کے مطابق نظر ثانی کرکے اس میں اصلاحات کرے گی اور تعلیمی شعبہ کے سروسز سٹرکچر سے ایڈہاکزم کو ختم کرے گی۔

23.    
اے این پی  کمخواندگی والے علاقوں خصوصاًجہاں بچیوں کی تعلیم کم ہو، میں خواندگی بڑھانے کے لئے ہنگامی اقدامات کرکے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے گی۔ یہ ٹیمیں تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کی نشاندہی کریں گی اور حکومت ان علاقوں میں خصوصی منصوبے شروع کرے گی تاکہ یہاں تعلیمی شرح کو نسبتاًتعلیم یافتہ علاقوں کے معیار تک پہنچایا جاسکے۔

24.    
تحقیق کے مطابق پانچویں، آٹھویں اور دسویں جماعت میں سکول چھوڑنے کی شرح افسوس ناک ہے جس کی ایک بنیادی وجہ سکولوں کی عدم موجودگی بھی ہے۔  اے این پی اپنی قومی اورآئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے کم از کم فاصلے پر سکولوں کا قیام عمل میں لانے کیکوشش کرے گی۔ جن علاقوں میں آمدورفت کی سہولیات موجود نہ ہوں، حکومت وہاں طلباء و طالبات کو آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

25.    
اے این پی قدرتی آفات اور  دہشت گردی یا دوسرے وجوہات کے باعث تباہ حال سکولوں کی بحالی اور تعمیرِ نو پر خصوصی توجہ دے گی۔

26.    
اے این پی اساتذہ والدین ایسوسی ایشن کی موجودہ تصور کو بروئے کار لاتے ہوئے سکولوں
کی تعلیمی اور عمارتی حالت کو بہتر بنانے کے لئے وسائل فراہم کرے گی تاکہ صوبوں میں
اعلیٰ تعلیمی معیار کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔

27.    
اے این پی ہائیر سیکنڈری سکول کی سطح سے طلباء و طالبات کی سماجی نفسیات، تعلیمی اور پیشہ ورانہ مشاورت کے حوالہ سے تربیت کا آغاز کرے گی۔

28.    
اے این پی کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر طلباء کی یونین سازی کی روایت کی تجدید اور حوصلہ افزائی کرے گی۔

29.    
اے این پی تمام ہنری شعبہ جات اور مقامی صنعتوں کے مطابق سند یافتہ سٹاف کی موجودگی میں ہنری تعلیم کے مراکز کھولے گی تاکہ جو طلباء و طالبات اپنی تعلیمی ڈگری مکملکرنے سے قاصر ہوں، ان مراکز میں ان کی تربیت کرکے انہیں مناسب روزگار کے مواقع دئیے جا سکیں۔

30.    
نصابی کتب کی چھپائی میں اجارہ داری کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور مقامی پبلشروں کو ترجیح دی جائے گی۔

31.   
سکولز اور کالجز/یونیورسٹیز میں ہم نصابی سرگرمیوں میں جرائد کے اجراء اور بزمِ ادب کی روایت کو پھر سے عملی کیا جائے گا۔

32.    
ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں پشتو اور دیگر زبانوں ہندکو، کہوار، سرائیکی، کوہستانی کے لئے سبجیکٹ سپیشلسٹ کی آسامی تخلیق کرنا۔

33.    
اے این پی ہر صوبائی حلقہ میں کالج کا قیام عمل میں لائے گی۔

34.    
اے این پی پختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیرٹی اتھارٹی ایکٹ‘ کے نفاذ کے لئے عملی اقدامات کرے گی۔

35.    
اے این پی پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں صوبائی حکومتی پالیسی کے مطابق برابر کرنے کو یقینی بنائے گی۔


ب)   
صحت عامہ:


اے این پی تمام شہریوں کے لئے یکساں معیاری صحت کی سہولیات کے فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ اس سلسلے میں مختلف آپشنز جیسے کہ انشورنس سکیم، صحت کے پرائیویٹ اداروں
کے لئے قوانین اور ان کی سپورٹ جیسے سکیموں کو زیرِ غور لایا جائے گا۔


1.       
اے این پی GDP   سے صحت کے لئے 6  فی صد حصہ مختص کرے گی۔

2.        
اے این پی صحت کی سہولتوں کی لامرکزیت پر یقین رکھتی ہے اور اس بات کے لئے کوشاں ہےکہ صحت کی سہولتیں لوگوں کو اپنے گھروں کی دہلیز پر مہیا ہوں اور یہ کہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات پر خاص توجہ ہونی چاہئے۔

3.        
اے این پی ماں اور بچے کی صحت، صاف پینے کا پانی اور جان بچانے والی ادویات پر زیادہ زور دے گی۔

4.        
زچہ و بچہ کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے اے این پی BHU   اورRHC کو ضروری سامان سے آراستہ کرنے کے عمل کو یقینی بنائے گی۔

5.        
عام بیماریوں کی شرح اور ان بیماریوں میں شرح اموات کے انسداد کے لئے پرائمری ہیلتھ کئیر لیول پر ضروری اشیاء مہیا کی جائے گی۔

6.        
BHUاور RHC   میں خاندانی میڈیکل رجسٹریشن فارم اور ریکارڈ رکھنے کے نظام کو متعارف کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مختلف میڈیکل کیسز میں مکمل ریفرل سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کا نظام نہ نفع نہ نقصان کی بنیاد پر متعارف کیا جائےگا۔

7.        
اے این پی ہر ضلع میں تمام آلات سے آراستہ، جدید ترین اور فعال ایمرجنسی سہولیاتفراہم کرے گی۔

8.        
اے این پی اضلاع کی سطح پر تخصصی (Specialized) ہسپتالوں کو متعارف کرائے گی۔

9.        
اے این پی ہر ڈویژن میں ایک فعال برن یونٹ اور ٹراما سنٹر کو قائم کرےگی۔

10.   
اے این پی ماں اور بچے کی صحت، مؤثر ادویات اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کویقینی بنائے گی۔

11.   
اے این پی پرائمری ہیلتھ کئیر  (PHC)پر خصوصی توجہ مرکوز کرے گی اور ثانوی ہیلتھ کئیر کے لئے مضبوط اور دیرپا بنیادیں فراہم کرے گی۔

12.   
اے این پی باچا خان ہیلتھ کئیر پیکیج” اور خواتین، مزدوروں اور معمر افراد کے لئے انسنٹیو/ترغیبات متعارف کرائے گی۔ اے این پی رسمی و غیر رسمی شعبہ جات میں لازمی حفاظتی و طبی  سہولیات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔

13.   
اے این پی پرائمری صحت مراکز میں کمیونٹی کی حصہ داری کو یقینی بنائے گی اور تمام عملہ، خصوصاًجو لوگ دور دراز  علاقوں میں کام کرتے ہیں، کو ترغیب دی جائے گی تاکہوہ کام کے لئے آمادہ ہوں۔

14.   
اے این پی صحت کے حوالے سے بہترین خدمات مہیا کرنے کی غرض سے BHUاور RHCکو جدید آلات اور سہولیات سے آراستہ کرے گی اور ان کو بتدریج ترقیدے گی۔ کمیونٹی کی مدد سے ہیپاٹائٹس، ڈینگی اور کانگو، چکن گونیہ اور دیگر متعدی امراض کی روک تھام اور حفاظتی ٹیکوں کا سلسلہ جاری کیا جائے گا۔

15.   
اے این پی بنیادی صحت مراکز میں حفاظتی اور طبی سہولیات کی فراہمی کی مدد سے متعدی امراض کے باعث وباؤں کے پھیلاؤ اور اموات کی شرح کم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گی۔

16.   
اے این پی ضلعی ہسپتالوں سے الحاق شدہ صحت سے متعلق تربیتی مراکز قائم کرے گی اور ان مراکز میں ڈاکٹروں، نرسوں ، پیرامیڈکس اور ہیلتھ ٹیکنیشنز کی تربیت کوجاری رکھےگی۔

17.   
اے این پی پبلک ہیلتھ سیکٹرز جیسے کہ محکمۂ صحت، پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ اور صنعتی و ماحولیاتی اداروں کے درمیان روابط، توازن اور نگرانی  کو یقینی بنائے گی۔

18.   
اے این پی نجی طبی اداروں میں معیار اور خدمات سے متعلقہ قواعد کی نگرانی کو یقینی بنائے گی اور صوبوں میں نجی طبی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

19.   
اے این پی دوائیوں کی رسد و ترسیل کو مطلوبہ معیار کے مطابق باقاعدہ بنائے گی۔ اس کے ساتھ طبی سکولوں اور ہسپتالوں کی رجسٹریشن، جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات کےمراکز اور ماہرین کی نگرانی و تربیت پر خصوصی توجہ دے گی۔

20.    
اے این پی صحت کے بارے میں خصوصی حفاظتی تدابیر کے بارے میں شعور اُجاگر کرنے کےلئے میڈیا/ذرائع ابلاغ پر تشہیری مہم چلائے گی۔

21.   
اے این پی منشیات کے عادی افراد کی بحالی صحت کے سلسلے میں معالجاتی ادارے قائم کرےگی۔


ج)  
آبادی کی منصوبہ بندی اور فلاح و بہبود:


اے این پی تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے گی اور روز بروز آبادی کی بڑھتی ہوئی تشویشناک اور زندگی پر اس کی غیر معیاری اثرات سے نمٹنے کے لئے ٹھوس پالیسی مرتب کرے گی۔ پختونخوا میں حکومت کے دوران اے این پی نے عورتوں اور بچوں کےحقوق محفوظ بنانے کے لئے بہت سے قوانین بنائے ہیں۔ اے این پی ان تجاویز پر عمل کےلئے اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتی ہے۔


1.       
اے این پی آبادی کی منصوبہ بندی اور فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک مربوط اور مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے کو یقینی بنائے گی۔ ان اقدامات اور پروگراموں کو صحت، تعلیم، پرورش، ماحولیات، پیشہ ور، غربت مٹاؤ وغیرہ کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

2.        
حکومت اور پرائیویٹ اداروں کے پروگراموں میں زچہ بچہ کی صحت، فلاح و بہبود کو اولین ترجیح سمجھ کر یقینی بنایا جائے گا۔۔۔

3.        
آبادی کو کنٹرول کرنے   کے لئے اور اس میں استحکام پیدا کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔2025ء تک آبادی کی نشو نما کو ایک فی صد تک لایا جائے گا۔

4.        
فی کس آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔

5.        
دور دراز علاقوں میں زچگی کے لئے سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا۔

6.        
زنانہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور دائیوں کی تربیت کو اداروں میں یقینی بنایا جائے گا اور ان کی خدمات کو BHU  کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

7.        
کمیونٹی کو سہارا دینے کے پروگرامز کی مانیٹرنگ اور ان کو لاگو کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔

8.        
صوبائی سطح پر ریسرچ اور مانیٹرنگ کے قابلِ عمل اور قابلِ اعتبارمیکینزم کو یقینی بنایا جائے گا۔

9.        
زچہ اور بچہ کی صحت اور فلاح و بہبود کے لئے مرد، عورتوں، خاندانوں اور کمیونٹی کے دیگر افراد کی آگاہی کے لئے ایک منظم مہم چلائی جائے گی۔

10.   
ریٹائرمنٹ کے فوائد اور سوشل سیکیورٹی کی مراعات معمر افراد کو دی جائیں گی۔

11.   
نوجوان طبقے کے لئے ملازمت کے مواقع فراہم کرنے، پیشہ ور بنانے اور ان کو تفریح کےمواقع دینے کے لئے رقوم مختص کی جائیں گی۔

12.   
اے این پی مردم شماری کے موجودہ طریقہ کار پر تحفظات رکھتی ہے اور موجودہ میکینزمکو شفاف اور حقیقی بنانے کے لئے قوانین بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گی اور مقررہآئینی مدت کے اندر مردم شماری کو یقینی بنایا جائے گا۔


د)   
نوجوانوں کی فلاح اور روزگا ر کے لئے اقدامات:


1.       
اے این پی نوجوان طبقے کے لئے موزوں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور تعمیر و ترقی کے عمل کو یقینی بنائے گی۔

2.        
اے این پی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے خصوصی معاونت کرےگی۔ اس سلسلے میں وہ طلباء کو درسی سکالرشپس، اندرون وبیرون ملک ٹریننگ اور درسی ٹوور کا انتظام کرے گی۔

3.        
ابتدائی دور میں نوجوانوں کی پیشہ ور مہارت اور ووکیشنل ٹریننگ کے لئے اے این پی ان پر نظر مرتکز کرے گی اور کوشش کرے گی کہ ضلع کی سطح پر موجود ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز کو بہتر بنایا جائے اور مزید سنٹرز قائم کئے جائیں۔

4.        
اے این پی نوجوانوں کے تخلیقی مطالعہ، آرٹ، کلچر اور کھیل کود کے مواقع فراہم کرنے کے لئے خصوصی زور دے گی۔

5.        
تعلیم سے فارغ افراد میں بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئےخصوصی توجہ دی جائے گی۔ انٹرن شپ اور ایڈوائزی اداروں کی سہولیات میسر کی جائے گی تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ کرنے اور ملازمت ڈھونڈنے میں ان کی مدد کی جائے، اپنے لئےخود کام ڈھونڈنے کے لئے وہ وسیع پراجیکٹ کو بھی ترجیح دی جائے گی۔

6.        
اے این پی ہر ضلع میں نوجوان رضاکاروں کی ایسی کھیپ تیار کرےگی جو ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور اس طرح کے مشکل حالات سے نمٹنا جانتے ہوں۔

7.        
اے این پی بے روزگار نوجوانوں کو خود روزگار سکیمیں شروع کرنے کے لئے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرے گی۔

8.        
اے این پی ہنرمند طلباء کو روزگار فراہم کرنے کے لئے آغازِ روزگار سے پہلے یا بعد میں بھی باچاخان خود روزگار سکیم کے ذریعے مالی امداد اور قرضے فراہم کرے گی۔


ه)   
مزدوروں کے حقوق اور ان کے بہبود کے لئے اقدامات:


اے این پی غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کےحقوق کی تحفظ  پر یقین رکھتی ہے اور  ایک محفوظ کار ماحول کی فراہمی، روزگار اور بڑھاپے میں ان کے خدمات کے عوض پنشن کو ان کا حق سمجھتی ہے۔


1.       
اے این پی ٹریڈ یونینز کی موجودگی کو مزدوروں کے حقوق، ان کے تحفظ اور بہتر زندگی گزارنے کے لئے ایک اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔ اے این پی ٹریڈ یونینوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی ایسے قانون کو، جو  ٹریڈ  یونینز  بنانے یا ان کی کارکردگی کو متاثر کرنے کے بارے میں ہو، نظرثانی یا ترمیم کی مخالفت کرے گی۔

2.        
اے این پی مزدوروں کی صحت، تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت اورچھٹیوں/تعطیلاتکے بارے میں رسائی کو بہتر بنائے گی۔

3.        
اے این پی سرکاری اور غیر سرکاری مد میں مزدوروں کے لئے ایک محفوظ اور بہتر  ماحول کے بارے میں لیبر قوانین کے نفاذ کا از سرِ نو جائزہ لے گی اور اس کو سادہ و آسان  بنائے گی۔

4.        
اے این پی مہنگائی اور کساد بازاری کو مدنظر رکھتے ہوئے مزدوروں کے فائدے کے لئے زیادہ سے زیادہ اجرت کا تقرر کرے گی اور موجودہ اجرت کو کم از کم   25000 روپے تک بڑھانے کی کوشش کرے گی۔

5.        
اے این پی موجودہ ماہانہ شرح آمدن کو کم از کم 25ہزار روپے تک بڑھانے کی کوشش کرے گی۔


و)  
زراعت، مویشی پروری اور مرغبانی کا فروغ:


پاکستان کی معیشت میں زراعت کو کلیدی حیثیت حاصلہے جو مجموعی پیداوار (GDP)کا 19.50فی صد ہے اور 42.30 فی صد لیبر فورس کو روزگار فراہم کرتا ہے اور کئی اہم صنعتوں کو خام مواد فراہمکرتا ہے۔ اے این پی زراعت کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کی خواہش مند ہے اور اسکے لئے ترقیاتی بجٹ کو دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتی  ہے؛ تاکہ وہ ترقی، خوراک کی تحفظاور غربت کی کمی میں مرکزی کردار ادا کرسکے۔ اے این پی کی زرعی پالیسی درج ذیل نکاتپر مشتمل ہوگی:


1.       
اے این پی ایک فعال آبپاشی کا نظام بنائے گی جو نہ صرف موجودہ پانی کی دستیابیکو بلکہ پانی کی طلب کو بھی منظم انداز میں بڑھائے گی۔

2.        
فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور  بنجر زمینوں کو پانی کی فراہمیکے لئے چشمہ رائٹ بینک کینال جیسے منصوبوں کی تکمیل کی غرض سے ملکی اور عالمی سرمایہ کاری کو ترغیب دی جائے گی۔ ایسے چھوٹے اور بڑے آبپاشی منصوبوں کو سارے ملک میں فروغ دیا جائے گا ؛ بطورِ خاص خیبر پختونخوا،  بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ کے پسماندہ دیہی علاقوں کو توجہ دی جائے گی۔موجودہ نہری نظام کا بھی بغور جائزہ لیا جائے گا اور اس کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

3.        
چشمہ بیراج سے ڈیرہ اسماعیل خان اور ژوب تک پانچ سو کلو واٹ ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی تاکہ بلوچستان کے زرعی پیداوار کو بحال کیا جا سکے۔

4.        
اے این پی پانی کی تقسیم کے بارے میں 1991ء میں انڈس ریور سسٹم سے منسوب فارمولے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی جو تمام صوبوں کے اندر طے پا چکا ہے۔ اے این پی خیبر پختونخوا میں ادغام شدہ نئے اضلاع جو کہ پہلےاس فارمولے میں موجود نہیں تھے، کو اس میں شامل کرنے اور مستفید ہونے کے لئے قانون سازی اور عملی اقدامات اٹھائے گی۔

5.        
خیبر پختونخوا میں ادغام شدہ نئے اضلاع کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا جائے گا۔ملک کےاندر سٹیٹ بینک کے تعاون سے کمرشل بینکوں کے ذریعے تمام زمینداروں کے لئے قرضہ جات بڑھائے جائیں گے۔

6.        
اے این پی تمام ضلعوں میں فارم سے منڈی تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے دیہی علاقوںمیں سڑکوں کا جال بچھائے گی تاکہ زرعی پیداوار   منڈیوں تک بروقت پہنچ سکے۔ اے اینپی تمام تحصیلوں کی سطح پر کولڈ سٹوریجز بنائے گی تاکہ تمام سال خوردنی اشیاء دستیاب ہوں۔ اے این پی خیبر پختونخوا میں ادغام شدہ نئے اضلاع کے اندر مواصلاتیضروریات پورا کرنے کے لئے خصوصی فنڈز قائم کرے گی۔

7.        
اے این پی تمام اہم فصلوں ، جن میں گندم، چاول، کپاس، گنا اور تمباکو شامل ہیں؛ کےلئے اضافی قیمتوں کا اعلان کرے گی تاکہ چھوٹے کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل ہو۔

8.        
اے این پی چھوٹے کاشتکاروں کے لئے کھاد کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کی غرض سے امدادی رقوم دے گی تاکہ چھوٹے کاشتکار اپنے فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے استعمال کرسکیں۔

9.        
اے این پی بیجوں کی بہتری کے لئے سائنسی بنیادوں پر تحقیقی مراکز کھولے گی جو پیداوار کو بڑھانے کے لئے موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کرسکے۔ پیداوار کو بڑھانے کے
لئے صوبے کے اندر تحقیقی اداروں اور زرعی یونیورسٹیوں کے اندر تعاون کو بڑھایا جائےگا۔

10.   
اے این پی صوبوں میں نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کی طرز پر صوبائی فرٹیلائزر کارپویشنز کو قائم کرے گی۔

11.   
اے این پی زراعت میں زیادہ سے زیادہ تربیت یافتہ لوگوں کی شمولیت سے زرعی توسیعی منصوبوں کو فروغ دے گی۔

12.   
اے این پی فی ایکڑ اوسط پیداوار بڑھانے کے لئے جدید کاشتکاری کے اصولوں اور لوازمات کو بروئے کار لائے گی۔

13.   
مقامی پیداوار سے مشروبات بنانے کے لئے خصوصی بندوبست کیا جائے گا۔

14.   
اے این پی پانی کے بہاؤ اور اس میں موجود مضرِصحت اجزاء کی تطہیر اور قابلِ آبپاشی بنانے کے لئے نئے منصوبوں کا آغاز کرے گی۔موجودہ زرعی صنعت کی مضبوطی کے ساتھ نئے زرعی صنعت کی روایت کو بھی رواج دیا جائےگا۔اس سلسلے میں دیہی سطح پر مائیکرو ڈیم پروجیکٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

15.   
اے این پی زراعت میں پانی کے استعمال کو مؤثر بنانے کے لئے نئے طریقوں کو ترجیح دے گی اور حوصلہ افزائی کرے گی۔ اے این پی ترناب میں نرسری فارم کو زائل ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ اس کیی طرز پر  ہر ضلع میںنرسری فارموں کا قیام عمل میں لائے گی۔

16.   
اے این پی دیہاتی علاقوں میں معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لئے مویشی پالنے، مرغبانی اور ڈیری مصنوعات میں سرمایہ کاری کرے گی۔ اس عمل سے نہ صرف دیہات میں رہنے والوںکی زندگی کا معیار بہتر ہوگا بلکہ دیہات سے شہروں کی طرف روزگار کے لئے آنے والوںکی شرح میں بھی کمی واقع ہوگی۔

17.   
اے این پی چھوٹے اور درمیانی ڈیم، چھوٹی اور بڑی نہریں، فصلوں پر تحقیق کے لئے لیبارٹریاں، جنگلات میں اضافہ اور زرعی اجناس ومصنوعات کے لئے منڈیوں کی تعمیر کرے گی۔

18.   

اے این پی غربت کم کرنے، خوراک کی بہم رسائی یقینی بنانے اور اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لئے لائیو سٹاک کے شعبہ پرخصوصی توجہ دے گی۔

19.   
چونکہ خیبر پختونخوا میں عوام کی بڑی تعداد مویشی پروری سے بھی منسلک ہے، لہٰذا ڈیری فارم مصنوعات کی پروڈکشن اور تجارت کے لئے جدید سائنسی خطوط پر اقدامات کئےجائیں گے۔


ز)   
ماحول اور ماحولیات:



نیو اکنامک سروے پاکستان ۱۴۔۲۰۱۳ء کے مطابق پاکستان کو ہر سال ماحول کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے سالانہ ۳۶۵ بلین اضافی اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اس میں پانی کی
مطلوبہ مقدار میں فراہمی کی کمی، نکاسئ آب اور حفظانِ صحت کی مد میں ۱۱۲ بلین، زرعی زمین کی غیر معیاریت پر ۷۰ بلین، اندرونی آلودگی پر ۶۷ بلین، اربن ائیر پالوشن پر ۶۵ بلین، سیڈ ایسکپوژر پر ۴۵ بلین، زمینی کٹاؤ اور جنگلات کی کمی پر ۶ بلین کے اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔



1.       
اے این پی قدرتی ماحول کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے گی اور تنوعِ حیات کی افزائش و ترویج کے لئے کام کرے گی۔

2.        
   اے این پی دیہی منصوبہ بندی اور انتظام کی پالیسی پر نظرثانی کرے گی۔

3.        
   صاف ہوا، صاف پینے کا پانی، نکاسیٔ آب کا نظام اور کھلی جگہوں (پرفضا مقاماتکا قیام عمل میں لائے گی۔

4.        
   اے این پی ہسپتالوں، صنعتی کارخانوں اور   دیگر اداروں کے فاضل  مواد کو ٹھکانے لگانے کے لئے ضروری اور حتمی اقدامات اٹھائے گی۔

5.        
   اے این پی شہروں میں فضلات کو ٹھکانے لگانے کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرے گی۔

6.        
صاف پانی کو وافر مقدار میں مہیا کیا جائے گا۔ نہروں، دریاؤں اور بھل صفائی مہم جیسے اقدامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

7.        
 وائلڈ لائف کی ترقی کے لئے محفوظ مقامات کے حدود کو بڑھایا جائے گا۔اس مد میں دریاؤں کے کنارے مقامات کو خصوصی توجہ دی جائے گی جو ایکالوجی متوازن رکھنے میں بھرپور معاونت کے ضامن ہوتے ہیں۔

8.        
 تمام رقبے کے تناسب کے حساب سے ریاست کے زیر انتظام، ذاتی اور باغات کے ذریعے جنگلات کی بڑھوتری میں معقول اضافہ کیا جائے گا اور ترغیبات کی مدد سے جنگلات میں اضافے کو ہدف بنا کر پروگرام ترتیب دیاجائے گا اور جنگلات کی غیر قانونی کٹائی پر جرمانوں کو بڑھایا جائے گا۔

9.        
   سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں ماحول کی صفائی اور تحفظ کے بارےمیں مضامین شامل کئے جائیں گے۔

10.   
    اے این پی آرام دہ، کم خرچ اور خوبصورت ماس ٹرانسپورٹ نظام کو متعارف کرائے گی جو کہ شہروں کے اندر اور شہروں سے باہربھی سفر کی اعلیٰ سہولیات فراہم کرے گی۔ اس طرح ذاتی گاڑیوں کے استعمال کو کم سے کم کیا  جا سکے گا۔ اے این پی پرانی اور بے کار گاڑیوں کے بارے میں بھی ایک پالیسی بنائے گی جو کہ سہولت کم اور فضا میں آلودگی اور نقصان زیادہ پہنچاتی ہیں۔

11.   
پانی کو محفوظ کرنے کے لئے وسائل اور ذرائع پیدا کئے جائیں گے)کیونکہہر سال اربوں روپے کا پانی ضائع کیا جاتا ہے(۔لہٰذابارانی ڈیموں اور تالابوں کے سلسلے میں حکمت عملی بنائی جائے گی۔

12.   
    صوبائی ماحولیاتی تحفظ کے اداروں اور ا ن کے اہلکاروں کو فعال بنائیں گے تاکہوہ ماحولیاتی تحفظ کے خلاف اقدامات سے اچھی طریقے پر نمٹ سکیں۔

13.   
    اے این پی انرجی کے مزید وسائل خصوصاًبائیو،شمسی اور ریور انرجی کو دریافت کرنے اور سپورٹ کرنے میں مدد دے گی۔

14.   
اے این پی ماحول سے متعلق پیرس ۲۰۱۵ء معاہدے کی توثیق کرتی ہے اور اس بارے میںضروری قانون سازی اور نفاذ کے لئے عملی اقدامات اٹھائے گی۔چونکہ دنیا میں بڑی تیزیسے ماحولیاتی تبدیلی رونما ہو رہی ہے، پاکستان اس تبدیلی سے متاثر ہونے والا چھٹا ملک ہے، اس لئے اس متاثرگی سے بچنے کے لئے شجر کاری کے حقیقی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

15.   
متمدن دنیا میں نکاسئ آب کے سلسلے میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے کیونکہ نکاسئ آب کی پیچیدگی سے کئی ایک سماجی و جسمانی مسائل وابستہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اے این پی نکاسئ آب کے لئے خصوصی اقدامات پیشِ نظر رکھے گی۔


ح)  
توانائی، تیل، بجلی،قدرتی گیس اور معدنی وسائل:



1.       
اے این پی ہائیڈل جنریشن سے پیدا ہونے والی خیبرپختونخوا کی رائلٹی کو مرکز سے صوبے میں لانے کے لئے جدوجہد کرے گی۔

2.        
اے این پی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام صوبوں میں
تقسیم کرے گی اور  اس ضمن میں واپڈا محض ایک باہمی رابطہ کار کی حیثیت میں رہے گا۔ واپڈا کے ہیڈ کوارٹر  کو بھی لاہور سے اسلام آباد منتقل کیا جائےگا۔

3.          
اے این پی بجلی/توانائی کی پیداوار  و ترسیل کے درمیانی عرصے میں صارف کےلئے قیمتوں کا تعین کرنے کے لئے مختلف پیداواری وسائل پر مجموعی خرچ کی مقرر کردہ نرخوں کے مطابق نہیں بلکہ اس صوبہ کی پیداواری شرح کی مناسبت سے طے کرے گی جس صوبہ میں بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

4.        
اے این پی توانائی کے انفراسٹرکچر کو فروغ دینے اور خصوصاًترسیلی نظام بہتر بنانے میں سرمایہ کاری کرے گی۔

5.        
آئین کی آرٹیکل 172 (3) کی رو سے تیل، قدرتی گیس اور معدنیات کے وسائل کے انتظامی تقسیم میں متعلقہ صوبوں کی نمائندگی موجود ہونی چاہئیے۔ اے این پی نئے ذخائر کی دریافت کے پیش نظر رائیلٹی کی نئی قیمتوں کا مطالبہ کرے گی تاکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی مد میں صوبہ میں موجودہ وسائل کے فروغ اور نئے ذخائر کے دریافت کو آگے بڑھا سکے۔

6.        
خیبرپختونخوا گیس اینڈ آئل کمپنی کا منصوبہ جو کہ اے این پیکی گزشتہ حکومت کا کارنامہ ہے، کو اس کے تصور کے مطابق عملی جامہ پہنایاجائے گا اوراس کے طرز پر  دیگر صوبوں میں بھی کمپنیوں کی سفارش کرے گی۔

7.        
توانانی کے دیگر متبادل ذرائع مثلاًکوئلہ، دریائی لہروں ، بائیو فیول اور شمسی توانائی کو بھی بروئے کار  لایا جائے گا۔

8.        
انتہاپسندی اور دہشتگردی نے  ملکی  وسائل اور انفراسٹرکچر کو بالعموم اور فاٹا اور خیبر پختونخوا میں بالخصوص تباہ کرکے رکھ دیا ہے؛ اے این پی ان قدرتی وسائل اور بنیادی ڈھانچوں کی دوبارہ تعمیر کو اولین ترجیح دے گی۔


ط)  
صنعتی اور تکنیکی ترقی کا فروغ:


1.       
اے این پی بڑے پیمانے پر صنعتوں کو فروغ دے گی۔ اس ضمن میںتیل ، گیس، آبی اور توانائی کے دیگر متبادل ذرائع میں سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جائے گی اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

2.        
ماربل، قیمتی پتھروں اورمعدنیات کی تراش خراش اور تجارت کیصنعتوں میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں؛ اے این پی اس مد میں سرمایہ کاری کی
حوصلہ افزائی کرے گی۔

3.        
خوردنی اشیاء کو محفوظ بنانے اور اس کی پراسیسنگ کی صنعت پر توجہ دی جائے گی تاکہ سبزیوں اور میوہ جات کے فارموں کو زیادہ سے زیادہ منافع بخش
بنایا جا سکے۔

4.        
اے این پی پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی راہداری اور کاروباریتعلقات کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دے گی۔

5.        
اے این پی روزمرہ استعمال کی عام چیزیں جن کی فراہمی اورتعین قیمت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے، کی واگزاری کے لئے مقامی صنعت و حرفت کی باضابطہ حوصلہ افزائی کے لئے اقدامات اٹھائے گی۔

6.        
مقامی پیداوار اور مصنوعات کی ملکی و عالمی سطح پر مارکیٹنگکے لئے باضابطہ ادارہ قائم کیا جائے گا۔

7.        
طبی مراکز میں ادویات سازی اور جراحی آلات کے صنعتی یونٹوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

8.        
اے این پی سی پیک انڈسٹریل زونز کے قیام کو یقینی بنانے کےلئے وفاق کے ساتھ باضابطہ صوبائی مقدمہ کو نتیجہ خیز بنائے گی۔

9.        
اے این پی صنعتی، تجارتی اور اقتصادی فیصلوں میں اقتصادی چیمبرز کو نمائندگی دے گی۔


ی)  
ادب ، فن اور ثقافت:


1.       
اے این پی جامع منصوبہ بندی کے تحت ثقافتی ورثے کو تحفظ اور فروغ دینے کا لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

2.        
ادبی  و ثقافتی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تخلیقی وتفریحی ثقافتی سرگرمیوں کو وسعت دی جائے گی۔

3.        
علاقائی کھیلوں، فوک لور اور مقامی زبانوں کو فروغ دینے کےلئے آرٹ کونسلز ( کلچر اکیڈمی، آرٹ اکیڈمی جیسے ادارے) اور کمیونٹی ثقافتی تنظیموں کو قائم کیا جائے گا۔

4.        
سرکاری تعلیمی نصاب میں ثقافتی و تہذیبی تعلیم کو باقاعدہطریقے سے متعارف کیا جائے گا۔

5.        
فنکاروں کے لئے رہائشی  منصوبہ اور صحت بیمہ پالیسی کے ساتھاولڈ ایج بینیفٹ کی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔

6.        
اے این پی نہ صرف تاریخی تناظر میں بلکہ عصرِ حاضر کی ضرورتکے طور پر بھی فائن آرٹس ، پرفارمنگ آرٹس اور  ویژول میڈیا کی حوصلہ افزائی اور ترویج کے لئے اقدامات کرے گی۔

7.        
اے این پی متعلقہ شعبوں کے حوالے سے قلم کاروں، فن کاروں، ہنرمندوں ، ماہر ینِ تعمیرات اور دانشوروں کی قیمتی آراء کی قد ر کرتی ہے اور صوبوں
کے مختلف حصوں میں ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنے کے لئے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

8.        
اے این پی تاریخی علاقائی ثقافت پر انتہاپسندی اور دہشت گردیکے مرتب کردہ منفی اثرات کا جائزہ لے کر اس کی بحالی کے لئے اقدامات اٹھائے گی۔

9.        
اے این پی تمام مذاہب ، عقائد اور مسالک کی عبادت گاہوں اور روحانی و مقدس مقامات کی حفاظت اور بحالی کےلئے  اقدامات کرے گی۔

10.   
اے این پی فنون و ثقافت کی ترویج اور فروغ کےلئے سول سوسائٹی کی طرف سے ثقافتی پروگراموں کے تبادلہ، کلتوری نمائشوں اور پبلک و پرائیویٹ شراکت داری کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

11.   
اے این پی مقامی ثقافت، اقدار اور فنون کو عالمیسطح پر تقابلی رجحانات کے قابل بنانے کے لئے آسامیاں پیدا کرنے اور دیگر وسائلفراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کاپی رائٹ  کی حمایت اور جعلسازی کی حوصلہ شکنی کرے گی۔

12.   
اے این پی اٹھارویں آئینی ترمیم کے ضمن میںضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ثقافتی پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ اس مدمیں سالانہ منصوبہ بندی کے تحت فنڈز کا  اجراء کرے گی اور انتظامی مشینری کیفراہمی  کو یقینی بنائے گی۔

13.   
اے این پی فنکاروں کی فلاح، صحت، رہائش اور ضعیف العمری میں معاونت کے لئے خصوصی فنڈز قائم کرے گی۔

14.   
اے این پی ہر سال بہترین ادیب، محقق، نقاد، شاعر اور فنکار کے لئے صوبائی سطح پر ایوارڈ و اسناد کا اجراءکرے گی۔

15.   
فلم اور ڈرامہ کے لئے قومی تہذیب و تمدن و ثقافت کی آئینہ دار پالیسی بروئے کار لائی جائے گی۔ اس ضمن میں باقاعدہ سٹوڈیو کا قیام اور سنسرشپ ادارے کی تشکیل نو کی جائے گی۔

16.   
اے این پی پہلے مرحلہ میں ڈویژنز اور پھر اضلاع کی سطح پر آڈیٹوریمز کا قیام عمل میں لائے گی۔

17.   
میڈیا کالونی کے طرز پر فنکاروں اور قلم کاروں کے لئے رہائشی کالونیاں بنائی جائیںگی۔

18.   
اے این پی  نیشنل کالج آف آرٹس کی طرح ڈویژنل سطح پر آرٹ کالج متعارف کرائے گی۔

19.   
اے این پی صوبائی سطح پر نیشنل ٹی وی قائم کرنے کے لئے نجی شراکت داری کے لئےاقدامات اٹھائے گی۔


ک)  
کھیل :


1.       
سکولوں اور کالجوں میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لئے کھیل کود کی سہولیات مثلاً محفوظ گراونڈ، آلات/اوزار، ٹریننگ اور عملیات کو لازمی بنایا جائے گا۔

2.        
    صوبائی، ملکی اور بین الاقوامی سپورٹس مقابلوں کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں گی، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔

3.        
   کھیل کود کے لئے تمام اضلاع میں عبد الولی خان سپورٹس کمپلکس چارسدہ کے طرز پرسپورٹس کمپلکس بنائے جائیں گے۔ اس ضمن میں عورتوں کو بھی خصوصی سہولیات فراہم کیجائیں گی۔

4.        
    روایتی اور علاقائی کھیلوں کبڈی، موخہ، چیندرو، میرگاٹی، بزکشی، گلی ڈنڈا اور دیگر کے فروغ اور ترویج کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

5.        
     اے این پی اضلاع کی سطح پر سپورٹس اور تفریحی پارکوں کا قیام بھی عمل میں لائے گی۔



ل
)سیاحت کا فروغ:


1.          
اے این پی سیاحتی ماہرین کی مشاورت سے  سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی لحاظ سے مربوط اور مضبوط سیاحتی پالیسی وضع کرنے کے لئے کام کرے گی۔

2.           
اے این پی سیاحت کو ہر شہری کے بنیادی حق کے طور پر متعارف کرائے گی، سیاحتی صنعت کے فروغ کے لئے  پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکاری سرپرستی میں اقدامات اٹھائے گی اور صوبہ کی سطح پر، بین الصوبائی اور خارجی سیاحوں کے لئے محفوظ، ترقی یافتہ اور کم خرچ سیاحت کے مواقع فراہم کرے گی۔

3.           
اے این پی زرمبادلہ میں اضافہ کے لئے خارجی سیاحوں کو سہولیات دینے کی غرض سے سیاحت کے خصوصی ویزوں کے اجراء کے لئے موجودہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرے گی۔ اس ضمن میں خارجی سیاحوں اورخصوصاًپڑوسی ممالک کے سیاحوں کے لئے پہنچنے پر ویزہ اجراء کی پالیسی متعارف کرائے گی۔

4.           
اے این پی سیاحت کے لئے معروف مقامات میں انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات فراہم کرےگی۔

5.           
اے این پی مزید سیاحتی مقامات متعارف کرانے اور کھولنے کے لئےمتعلقہ شعبہ کے ماہرینکی سفارشات مدنظر رکھے گی۔

6.           
اے این پی سیاحت کے متنوع تصور کو اجاگر کرنے اور اس کو فروغ دینے کے لئے ورثہ، فنون، ثقافتی و مذہبی مقامات، سائیکلنگ اور ٹریکنگ، فطری جاداؤں، روایتی کھیلوں، تہواروں، روایتی کھانوں، کوہ پیمائی، سکائی ریزارٹس اور جیپ ریلیوں کا اہتمام کرے گی۔

7.           
اے این پی سیاحت کی مد میں مقامی سطح پر تکنیکی تربیت کے ادارے، تربیت یافتہ مقامی گائیڈز کے لئے مراکز، زبان سیکھنے کے کورس اور دیگر سہولیات کے لئے علاقائی سیاحتی ادارے قائم کرے گی اور انہیں مطلوبہ سہولیات دے گی۔

8.           
اے این پی سیاحت کے شعبہ میں شفاف خدمات مہیا کرنے کے لئے  بلا تفریق  طویل مدتی ملازمتوں کے مواقع فراہم کرے گی۔

9.           
اے این پی علاقائی ثقافت، فنون اور مقامی ہنروں کے تحفظ، حوصلہ افزائی اور فروغ کے لئے موسمی تہواروں کا انعقاد کرے گی۔

10.      
اے این پی سیاحتی خدمات کو معیاری بنانے کے لئے مراکز، مہمان خانوں، ہوٹلوں اورریسٹورنٹوں کے ساتھ سیاحتی مقامات تک جانے والی شاہراہوں پر مواصلاتی سہولیاتمثلاًانٹرنیٹ و ٹیلی کمیونیکیشن کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دے گی۔


م
)   اطلاعات و ابلاغات:


1.          
اے این پی آزادئ اظہار رائے اور تشہیر کے حقوق پر یقین رکھتی ہے۔

2.           
     اے این پی سنسرشپ پالیسیوں میں شفافیت لائے گی اور اس سلسلہ میں غیر آئینی و غیر قانونی مداخلت کی روک تھام کرے گی۔

3.           
اے این پی      اطلاعات و معلومات کے حق تک رسائی کو آسان اور سادہ بنائے گی۔

4.          
اے این پی صوبائی حکومت کو صوبائی ٹیلی ویژن اور ریڈیو چینلز آزادانہ طور پر چلانے میں معاونت کرے گی۔اس ضمن میں صوبائی حکومت اجازت ناموںلائسنسز کا اجراء کرے گی۔

5.           
اے این پی صحافیوں کےتحفظ کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے گی۔
 

.5 خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع:


اے ین پی صوبہ خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع
(باجوڑ،مومند، خیبر ، کرم، اورکزئ، شمالی و جنوبی وزیرستاناور نئے سب ڈویژنز کے لئے صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں میں آبادی کی بنیاد پر نمائندگی کو یقینی بنائے گی تاکہ قانون سازی اور فیصلہ سازی میں وہ اپنے کردار کی موجودگی سے مطمئن ہوں۔اے این پی  ان نئے اضلاع کے لئے مختص کردہ ترقیاتی فنڈ کوانہی علاقوں پر خرچ کرنے کو یقینی بنانے کے ساتھ یہ بھی کوشش کرےگی کہ ان نئے اضلاعکو  سماجی بہبود و اقتصادی ترقی کے لحاظ سے باقی صوبے کے مساوی لانے کے لئے مزید فنڈز حاصل کر سکے۔ اس مد میں ہم مغربی جرمنی کی تقلید کریں گے جس نے ایک ہونے کے بعد مشرقی جرمنی کی ترقی، سماجی اتصال اور تکمیلِ انضمام کے لئے اپنے مالی حصے سے بھی معاونت کی تھی۔


اے این پی ان علاقوں میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی طرف سے توثیق کردہ ا نضمام اور اصلاحات کے منصوبہ پر عمل درآمد کو یقینی بنائےگی  اور باریک بینی و بیداری کے ساتھ اس کی نگرانی کرتے ہوئے کسی بھی مخصوص مفاد کی وجہ سے انضمام و اصلاحات کے نفاذ  میں تاخیری حربوں کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔اے این پی ایف سی آر کی کسی بھی
نئے روپ میں یا نئے نام کے ساتھ عملداری کو تسلیم نہیں کرے گی، مقامی لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے  انضمام اور اصلاحاتی منصوبہ پر عمل درآمد کے لئے
مقررہ مدت اور اہداف کا تعین کرے   گی۔


اے این پی ان نئے اضلاع میں ابھرنے والی سول سوسائٹی کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھےگی اور مضبوط بنانے کے لئے اس کی مدد کرے گی۔ ان اضلاع میں صنعتی و کاروباری
سرگرمیوں کے لئے چیمبرز کی تعمیر، توسیع اور پائیداری کے لئے مستقل کام کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں صنعت سازی، پریس کلبز، بار ایسوسی ایشنز، عورتوں کے حقوق کے لئے
تنظیموں، علمی و تعلیمی اداروں، طلبا
ء تنظیموں اور این جی اوز کے قیام کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔


اے این پی ان نئے اضلاع میں لوگوں کی فکری ،طبعی اور مادی تعمیر و بہبود کے لئے ترجیحاتی بنیادوں پر کام کرے گی تاکہ دوسرے علاقوں کے لوگوں کے ساتھ مساوی سطح پر
لانے کے لئے ان کی سماجی و اقتصادی ارتقا
ء کے لئے پائیدار بنیادیں فراہم ہو سکیں۔


ان اہداف کے حصول کے لئے اقدامات کی تفصیل یوں ہے
:



أ
۔تعلیم:


1.    
اے این پی جتنا بھی ممکن ہو، ان علاقوں میں پرائمری سکول تعمیر کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کے داخلے ممکن ہو سکیں۔اس ضمن میں بچیوں کے لئے سکولوں کی تعمیر کو خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ ہماری بیٹیاں اپنے گھروں کے قریب علم حاصل کرسکیں۔ علاقہ کے ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مڈل اور ہائی سکول بھی تعمیر کئے جائیں گے اور ان علاقوں کو خصوصی ترجیح دی جائے گی جہاں پہلے سے سکول موجود نہ ہوں۔

2.     
اے این پی ہر ضلع اور سب ڈویژن میں نوجوانوں کو ان کے فن، ہنر اور دستکاری میں مہارت اور نکھار لانے کی غرض سے مواقع پیدا کرنے کے لئے پولی ٹیکنیک مراکز اور ہنرمندانہ و  پیشہ وارانہ تربیتی ادارے قائم  کرے گی۔

3.     
اے این پی انٹر اور ڈگری کالجوں کا ایک جال ان علاقوں میں بچھائے گی تاکہ طلباء  کو سکولوں میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کے اپنے علاقے میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے مواقع اور سہولیات دستیاب ہوں۔ طالبات کے لئے کالجوں کی تعمیر کو خصوصی توجہ دی
جائے گی۔ طلبا
ء و طالبات کے لئے اقتصادی علوم میں تخصیص کا دروازہ کھولنے کے لئے کامرس کالج بھیتعمیر کئے جائیں گے۔

4.     
اے این پی صوبہ اور ملک کے دیگر علاقوں میں ان نئے اضلاع کے طلباءو طالبات کے لئے مخصوص کوٹہ اور سکالر شپس کو تب تک برقرار رکھے گی، جب تک یہ نئے اضلاع ترقی اور سہولیات میں مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچتے۔

5.     
اے این پی طلباء  و طالبات کے لئے اپنے اضلاع میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع مہیا کرنے کے لئے ہر نئے ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی قائم کرے گی۔



ب۔صحت:


1.    
اے این پی ان نئے اضلاع میں موجود صحت سہولیات کی صورتحال اور اس میں موجود گنجائش جانچنے کے لئے فی الفور سروے کرائے گی۔ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی موجودگی، آپریشنتھیٹرز، مریضوں کے لئے بستر اور بچوں اور ماؤں کے لئے طبی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اے این پی سٹاف، آلات و
اوزار، متنوع ڈیپارٹمنٹس، لیبارٹریوں، ایمبولنسوں اور دوائیوں کی فراہمی کے لحاظ سےضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو مستحکم بنائے گی۔

2.     
اے این پی لوگوں کو ان کے گھروں کے قریب صحت اور علاج کی سہولیات تک رسائی کے لئے سب ڈویژن سطح پر ہسپتالوں اور یونین کونسل سطح پر بنیادی طبی مراکز تعمیر اور قائم کرے گی۔

3.     
جن دور دراز علاقوں میں ابھی تک بنیادی صحت کی سہولیات تعمیر نہیں ہوئے ہوں، اے این پی وہاں طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے موبائلہیلتھ یونٹس‘ قائم کرے گی۔


ج۔ زمین اور قدرتی وسائل کی ملکیت:



1.    
پختونخوا کے تقریباًتمام نئے اضلاع پہاڑی سلسلے ہیں اور وہاں زراعت اور آبادکاریکے لئے زیادہ زمین دستیاب نہیں ہے۔ مگر ظاہر ہے یہ زمینیں بشمول پہاڑیوں کے مقامی لوگوں کی ملکیت ہیں۔


اے این پی میدانی علاقوں، پہاڑوں اور جنگلات پر مقامی لوگوں کی فطری ملکیت کا حقتسلیم کرتی ہے اور اسے تحفظ دیتی ہے۔ ان علاقوں میں زمینوں کی بندوبست؛ ترقیاتی کام، رہائشی منصوبے، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ہر کام جو زمینوں سے متعلق ہو،  ان زمینوں کے فطری مالکان (مقامیآبادی) کی رضامندی سے کیا جائے گا۔

2.     
اے این پی زمینوں  کی ملکیت کے حق کی طرح یہاں موجود قدرتی وسائل مثلاًگیس، تیل اورمعدنیات وغیرہ پر بھی مقامی آبادی کی ملکیت کا حق تسلیم کرتی ہےاور ان قدرتی وسائلکے استعمال کی مد میں متعلقہ مالکوں کو رائیلٹی کے حصول کی حقدار سمجھتی ہے۔

3.     
اے این پی مقامی لوگوں کے اشتراک اور تعاون سے نئے اضلاع میں ہنگامی بنیادوں پر نئی قصباتی آبادکاری کے لئے منصوبہ بندی (Town Planning)  متعارف کرائے گی اور یہاں پہلے سے موجود شہروں، قصبوں اور دیہات کو مدنی سہولیات دے گی۔



د۔اقتصادی ترقی
(صنعتو حرفت، تجارت، زراعت اور سیاحت):



1.    
خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع میں قدرتی وسائل کی فراوانی، افرادی قوت اورخصوصاًتعلیم یافتہ نوجوانوں کی کثرت سے موجودگی، حسین مناظر ومقامات اور تجارتیراہداریاں ہیں جو ان اضلاع کے اقتصادی ترقی کے لئے بڑے مواقع فراہم کرتے ہیں۔


اے این پی صوبائی ترقیاتی منصوبہ میں ان اضلاع کی ترقی کے لئے خصوصی منصوبہ بندی کرے گی اور اس ترقیاتی عمل میں واجب الذمہ معاونت دینے اور کردار ادا کرنے کے لئے وفاقی حکومت کے اشتراک کے لئے بھی کوشش کرے گی۔ اس منصوبہ بندی میں قدرتی وسائل کےاستعمال، صنعتی فروغ کے لئے علاقوں کی نشاندہی،  انفراسٹرکچر کی تعمیر اور اتصال و ارتباط کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

2.        
اے این پی خیبر،  مومند اور دیگر نئے اضلاع میں ماربل  کان کنی اور تیاری کی صنعتکی بنیاد رکھنے اور اس کے فروغ کے لئے ماربلسِٹی بنائے گی اور اس قیمتی قدرتی معدن کے مناسب اور منافع بخش استعمال کے لئے خصوصی تربیت اور جدید مشینری کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

3.        
اے این پی میوہ جات اور سبزیاں پیدا کرنے والے علاقوں میں سرد گودام (Cold Storages) بنائے گی تا کہ مقامی کاشتکار انہیں موسمی اثرات سے محفوظ بنانے کے قابل ہوں۔

4.        
اے این پی محکمہ زراعت کے ذریعے باغات، سبزیوں کے فارم اور دیگر زرعی پیداوار کےلئے پیداواری صلاحیت بڑھانے کی غرض سے  مقامی کاشتکاروں کی رہنمائی کرے گی۔

5.        
اے این پی مویشیوں اور ڈیری فارمز کے کار آمد استعمال کی غرض سے ان علاقوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کے لئے  صوبائی حکومت کے وسائل بروئے کار لائے گی۔ اس ضمن میںمروجہ روایتی طریقوں کے بجائے  جدید طریقہ کار اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

6.        
تقریباًتمام نئے اضلاع خوبصورت اور دلکش قدرتی مناظر سے مزین ہیں۔ ان علاقوں میں جامع، مستقل اور منافع بخش سیاحتی صنعت کے قیام کے لئے وافر امکانات موجود ہیں۔اے
این پی پہلی ہی فرصت میں سیاحتی مقامات کے فروغ کے لئے منصوبہ بندی کرے گی اور اس کو کامیاب بنانے کے لئے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرے گی۔

7.        
اورکزئ ایجنسی کے علاوہ باقی تمام چھ نئے اضلاع  ڈیورنڈ لائن کے ذریعے افغانستان سےملے ہیں اور یہ ملاپ علاقائی تجارت کے ذریعے مقامی لوگوں کی معیشت اور اقتصاد میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اے این پی ہر ممکن کوشش کرے گی کہ طورخم، غلام خان، انگور اڈہ، خرلاچی، ارنڈو اور
گرم چشمہ پر تجارت کو وسعت اور فروغ  دے اور اس مقصد کے لئے نئی راہداریاں کھولسکے۔

8.        
اے این پی شمالمغربی شاہراہ(NorthWestren Highway)  کی تعمیری منصوبہ کو عملی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کرے گی جس کے ذریعے باجوڑ سے شروع ہو کر، تمام نئے اضلاع سے گزرتے ہوئے یہ شاہراہ وزیرستان اور ژوب کے راستے  سی پیکسے منسلک ہوگی۔اس شاہراہ کی تعمیرسی پیک سے منسلک ہونے کے  بعد پورے علاقے کو تجارتی و اقتصادی سرگرمیوں کے لئے  مکمل طور پر کھولنے کی طرف سنگِ میل ہوگی۔
                     


.6       
سماجی، اقتصادی اور معاشی اصلاحات



لوگوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ واریوں میں سے ایکہے۔ سیاسی حقوق اور آزادی کا حصول، سماجی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی کے ساتھ
مشروط ہے۔ غربت، جہالت اور بیماریوں کو ختم کرنا اور سماجی انصاف کو رائج کرنا بھی ایک ذمہ واری ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غیر ترقیاتی اور کثیر دفاعی اخراجات
اور اندرونی و بیرونی قرضہ جات کا بڑھتا ہوا  دباؤ سماجی، اقتصادی اور معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔


1.          


  اے این پی قومی شناختی کارڈ کے حصول کے طریقہ کار کو آسان، شفاف اور فعال بنائے گی اور نسلی یا صنفی امتیاز کی بنیاد اور مذہبی یا علاقائی نسبتوں پر روا رکھنے والی غیر مناسب رویوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

2.           
اے این پی سمجھتی ہے کہ مکان انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ اے این پی بے گھر افراد کو مالکانہ حقوق پر مکانات دینے کے لئے مؤثر حکمت عملی تشکیل دے گی۔

3.           
اے این پی بے گھر افراد کے لئے  کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق پر دینے اور کم قیمت مکانات کی تعمیر کے لئے لائحہ عمل وضع کرے گی۔

4.           
   اے این پی اعلیٰ عہدیداروں جیسے سفارتکار،  عدلیہ کے ججز، چئیرپرسنز اور کمیشن کے ممبران کی پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے کڑے احتساب کو یقینی بنائے گی۔

5.           
   اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اے این پی صوبائی پبلک سروسز کو وفاق کی سول سروسز کی سطح پر لائے گی اور اپنے ماتحت تمام افسران پر انتظامی اختیار کو یقینی بنانے کے لئے وفاق کی طرف سے اعلیٰ افسران کی تعیناتی کو صوبائی حکومت کی مشاورت اور رضامندی سے مشروط کرے گی۔

6.           
اے این پی وفاقی سطح پر ملازمتوں میں تمام صوبوں کے حقوق کو یقینی بنائے گی۔

7.           
مزدوروں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ایک جامع معاشی، سماجی اور قانونی لائحہعمل مرتب کیا جائے گا۔

8.           
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں فرق کو کم سے کم سطح پر لانے کے لئے کوشش کی جائے گی اور معیارِ زندگی کو بڑھانے کے لئے تنخواہوں کی سطح کو بلند کیا جائے گا۔

9.           
سابقہ ریاستی حکمرانوں، ان کے زیرِ کفالت افراد اور دیگر شخصیات کو دئیے جانے والےسبسڈی، مفادات اور تمام خصوصی مراعات ختم کئے جائیں گے۔

10.      
   کرپشن کے خاتمہ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر مستقل، خود مختار  اور شفاف احتساب پرمؤثرعمل درآمدکیا جائے گا۔

11.      
  شہریوں کے نجی معاملات میں مداخلت کو روکاجائے گا۔ ٹیپ ریکارڈنگ، سنسر شپ اورپرائیویٹ حدود میں بغیر اجازت کے داخلے جیسے امور کی قانونی ضابطوں کے ذریعے روک تھام کی جائے گی۔

12.      
ملک کو اقتصادی ، آئینی اور قانونی بحرانوں سے نکالنے کے لئے سیاسی مفاہمت و مکالمے کے ذریعے ادارہ جاتی اصلاحات کو رواج دیا جائے گا۔

13.      
اے این پی مختلف طبقات ،صنفوں، علاقائی، شہری اور بین الصوبائی سطحات پر مساویانہ
ترقی کو معاشی ترقی کے لئے ایک معیار سمجھتی ہے تا کہ غربت کو درست طریقہ سے ختمکیا جا سکے اور ترقیاتی عوامل کو فروغ دیا جاسکے۔

14.      
  اے این پی پبلک سیکٹر کی ترقیاتی پیکج کو تقویت فراہم کرے گی؛ تاہم جہاں کہیں مقدار و معیار کی بہتری ممکن ہو، وہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو بھی سپورٹ کرے گی۔

15.      
اے این پی   بیرونی سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہوئے  اس کی حوصلہ افزائی کرے گی اور اس ضمن میں زیادہ سہولیات فراہم کرے گی۔

16.      
   باچاخان روزگار سکیم کے تحت مزید فعالیت اور نیٹ ورکنگ کی جائے گی۔ اس ضمن میں ٹیکنیکل ٹریننگ اور رورل ترقیاتی سکیموں کا سلسلہ جو اے این پی حکومت نے شروع کیا تھا، کو دیگر صوبوں اور علاقوں  تک وسعت دی جائے گی۔

17.      
 اے این پی صنعتی اور زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لئے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائے گی۔ پیداوار بڑھانے کے لئے زیادہ مناسب تکنیک کا کم لاگت میں استعمال کرے گی اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دے گی۔

18.        انتہاپسندی، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے عوامل ملکی اقتصاد کے لئے خطرہ ہوتے ہیں۔ اے این پی اس ضمن میں تشدد، دہشت گردی اور قتل و غارت کی بنیادی وجوہات پر توجہ دے گی تاکہملکی اقتصاد کو بہتر بنایا جاسکے۔

19.      
اے این پی سابقہ فاٹا کے مختلف اضلاع سے امن و امان کے لئے کام کرنے والی ملیشا فورسز کو پولیس میں ضم کرنے کے لئے قانون سازی کرے گی تاکہ امن و امان برقرار رکھنےکے حوالے سے ان کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔ ان کی جدید خطوطو پر تربیت کے لئے اقدامات اٹھانے کے ساتھ ان کو جدید اوزار  اور اسلحہ سے لیس کیا جائے گا۔

20.       
   گوادر، بلوچستان، کراچی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں قبضہ مافیا کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس ضمن میں آئین و قانون کے مطابق مفادِ عامہ کے لئے صوبائی وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

21.      
اے این پی زمین کی خرید کے لئے پاکستانی ڈومیسائل کی موجودگی کا شرط عائد کرے گی۔


.7
       محصولاتی اور مالیاتی اصلاحات:


‌أ.         
اے این پی ٹیکس کی حد کو جی ڈی پی کے تناسب سے بڑھائے گا۔ موجودہ کم سطح سے کم ازکم پندرہ فیصد تک یہ شرح لانے کی کوشش کی جائے گی۔


‌ب.      
ٹیکس وصولی میں اضافہ کے لئے عوامی نیشنل پارٹی ایسی پالیسی وضع کرے گی جس کی رو سےزیادہ اثاثے، دولت اور آمدنی رکھنے والے ٹیکس دہندہ بن جائیں، نہ کہ کم آمدنی والوں پر اضافی بوجھ ہو۔ نیٹ براہ راست ٹیکس  کو ۷۰فیصد تک بڑھانے اور ٹیکس کی وصولی میں اضافہ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے گا۔


‌ج.       
   اے این پی آمدن کے تمام ذرائع پر ٹیکس لاگو کرنے کے حق میں ہے۔ اس ضمن میں  کسی بھی استثنیٰ کو ختم کیا جائےگا۔ تمام آمدن جو زراعت، رئیل اسٹیٹ بزنس، دفاعی امور سے وابستہ کاروبار، دفاعی کارندو کی کنٹونمنٹ علاقوں میں پراپرٹی اور مارکیٹوں سےآنے والی آمدن وغیرہ کو ٹیکس کے زمرہ میں لایا جائے گا۔


‌د.          
  اے این پی حکومتی اخراجات  کو کم کرنے کے لئے اس پر نظر ثانی کرکے سفارشات مرتبکرے گی اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔


‌ه.          
قرض کی بوجھ نے معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ حکومتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرض کی ادائیگی کی نذر ہوجاتا ہے جو کہ اندرونی اور بیرونی قرضہ جات کے بوجھ کے اثرات، اندرونی شرحِ قرض میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کا عکاس ہے۔ قرض کی ادائیگی کی حکمت عملی نے فنڈز کے مؤثر استعمال کو متاثر کیا ہے۔ اس کی وجوہات میں کرپشن، بدعنوانی، ڈومیسٹک قرضوں پر منفی اثرات اور سرمایہ کاری کے بجائے پرتعیش اشیاء پر  صرف کرنا شامل ہیں۔

)
۲۰۱۳سے ۲۰۱۸ تک اس صوبہ کو تاریخ میں پہلی مرتبہ تین سو پینسٹھ ارب روپے کا مقروض چھوڑا جا رہا ہے(اے این پی ان امور سے مندرجہ ذیل طریقوں پر نپٹےگی؛


1.        
تحدید قرض ایکٹ اور مالیاتی ذمہ داریوں پر عمل پیرا ہونا۔


2.         
مہنگے قرضوں کی ادائیگی کو پہلی ترجیح دی جائے گی تا کہ قرضہ جات کے مجموعی بوجھ کوکم کیا جا سکے۔


3.         
  قرض کی ادائیگی  کو بہتر بنانے کے لئے طریقہ کار پر نظر ثانی کرنا۔


4.         
ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا۔


5.         
قرضہ حصولی اور وصولی کو قابلِ عمل بنانا۔


6.         
قلیل المیعاد اور طویل المیعاد بچتوں میں سرمایہ کاری کے لئے قرضوں کو پھیلانا۔


7.         
ملک کی برآمدات اور زرِ مبادلہ میں اضافہ کے لئے خصوصی کوششیں کرنا۔


8.         
ایک زرعی معیشت ہونے کے ناطے زرعی ترقی اور زرعی تجارتی پالیسی مرکزی نکتے ہوں گے۔


9.         
تجارتی خسارے میں اعتماد کے موجودہ فقدان کو کم کرکے معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔


10.     
پڑوسی ممالک عموماً اور خصوصاًافغانستانکے ساتھ علاقائی تجارت کو توسیع دی جائے گی ۔ موجودہ  دو  راہداریاں (طورخم اور سپین بولدکدونوں ممالک کی تجارتی بڑھوتری کے لئے ناکافی ہیں۔ کم از کم دس مزید راہداریاں ہونی چاہئے تاکہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت کو فروغ و ترقی مل سکے۔


11.    
غیر ترقی یافتہ علاقوں میں وہاں کی روایتی ہنر مندی، دستکاری  (سلائیکڑھائی وغیرہمیں سرمایہ کاری کی جائے گی  تاکہ وہ اپنے روزگار سے بہتر فائدہ اٹھا سکیں۔


12.     
صنعت و حرفت کی پیداواری شرح  کو جی ڈی پی کے موجودہ ۱۹ فیصد  حد سے اگلے دس سالوں میں ۳۰ فیصد تک بڑھایا جائے گا۔


13.     
 سٹیٹ کارپوریشنز کو مزید فعال بنایا جائے گا اور ان اداروں میں کرپشن کے معاملات کے ساتھ  وضع کردہ قوانین کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔


14.     
صنعتی سیکٹر کو جدید بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے تا کہ پیداوار پر اٹھنے والی اخراجات کو کم کیا جاسکے۔ برآمداتی محصولات کو کم کیا جائے گا اور سٹہ بازی کے کاروبار کی حوصلہ شکنی کی جائے گی تاکہ معیشت کو درست سمت دیا  جاسکے۔


15.     
  صنعتی تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے گا تا کہ انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے بہتر سے بہتر معیار تک پہنچایا جا سکے۔


16.     
اےاین پی صوبہ کے اقتصادی پوٹنشل کو دیکھتے ہوئے پشاور میں پختونخواسٹاک ایکسچینج‘ کے قیام کی کوشش کرے گی تاکہ صنعتی، تجارتی اور اقتصادی ترقی کے لئے ایک سائنسی بنیاد فراہم کیا جا سکے۔ سٹاک ایکسچینج کے قیام کے ذریعہ مقامی لوگوں میں شئیرز کی خرید و فروخت کا رجحان بڑھنے کے ساتھ مارکیٹ میں مقامی  سرمایہ کاری بڑھے گی۔

چونکہ معدنی و قدرتی وسائل زمین میں ایک مقررہ پیمانے پر موجود ہوتے ہیں، صَرف ہونے پر یہ دوبارہ حاصل نہیں کئے جا سکتے، اس لئے اے این پی توانائی کے ایسے متبادل ذرائع کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن بنائے گی جن کی وجہ سے قدرتی و معدنی ذخائر کا استعمال کم سے کم ہو سکے۔ خیبر پختونخوا میں اگرچہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے فطری مواقع موجود ہیں، یہاں ہائیڈرل پراجیکٹس کو ترجیح دی جائے گی جبکہ دیگر صوبوں میں وہاں موجود امکانات کو نظر میں رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے گی۔


.8
       چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری  (CPEC):


سی پیک
(چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور۴۵ بلین ڈالرز کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ایک ایسا منصوبہ ہے جو  پاکستان میں موجودہ انفراسٹرکچر کو ترقی اور وسعت دے گا۔ اے این پی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہاصل معاہدہ جو کاشغر گوادر روٹسےموسوم تھا،  بلوچستان اور پختونخوا کی دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع اور نسبتاؐ کم
ترقی یافتہ علاقہ جات کو مستفید کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ مغربی روٹ سے معاہدے کو مشرقی روٹ پر لانے کے بعد سب سے پہلے اے این پی نے تحفظات  اور خدشات کا
اظہار کیا تھا احتجاج کرتے ہوئے سب سے پہلے دو مرتبہ آل پارٹیز کانفرنسیں  بلائیں تا کہ سیاسی مفاہمت کے ذریعے اس کا حل نکالا جائے اور پہلے سے منظور شدہ مغربی روٹ
کو بحا ل کیا جائے۔

اے این پی نے وزیر اعظم کے مغربی روٹ بحالی کے وعدے سے روگردانی پر حکومت سے شدیدتحفظات کا اظہار کیا اور اس پر زور دیا کہ مغربی راہداری کو اولین ترجیح دی جائے۔


سی پیک جو  ایک ملٹی بلین ڈالرز کا منصوبہ  ہے، جس کو ماہرین اس خطے کا
گیمچینجر منصوبہ  قرار دے چکے ہیں، لیکن اس معاہدے کی اصل شکل کو بدلنے کی وجہ سے اس میں پختونخوا اور  بلوچستان کے لئے کچھ بھی نہیں رہا۔ اے این پی اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کوشش کرے گی کہ اس مہا پراجیکٹ سے نسبتاََ کم ترقی یافتہ علاقے، دہشت گردی سے متاثر علاقے اورسابقہ  فاٹا کے بشمول پختونخوا اور  بلوچستان کے دیگر اضلاع زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں اور  اے این پی اس سلسلے میں پختونخوا  اور بلوچستان کے لوگوں کےحقوق کو تحفظ فراہم کرے گی۔


عوامی نیشنل پارٹی مندرجہ ذیل مغربی روٹس کو جلد از جلد تعمیر کرےگی جس سے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی یقینی ہو جائے گی؛

             1.          


       الف
)       گلگت، شندور، چترال، چکدرہ، پشاور، کوہاٹ، ڈی آئی خان، ژوب، کوئٹہ، گوادر (۲۵۶۱ کلومیٹر)

        ب
)    گلگت،بشام، شانگلہ، خوازہ خیلہ، سوات، چکدرہ، پشاور، کوہاٹ، ڈی آئی خان،  ژوب، کوئٹہ،گوادر (۲۶۱۴کلومیٹر)

          ج)     گلگت،بشام، شانگلہ، کاٹلنگ، مردان، صوابی، پشاور، کوہاٹ، ڈی آئی خان، ژوب، کوئٹہ، گوادر(۲۶۵۵کلومیٹر)



2.           
ریلوے ٹریک کا متبادل راستے پر جو کہ گلگت، شندور، سوات اور درگئی کو ملاتا ہے، پر
کام شروع کیا جائے گا۔ اگر کسی صورتحال میں قراقرم ہائی وے پر لینڈسلائیڈنگ یا کوئی اور موسمیاتی بدلاو واقع ہوتا ہے تو اس متبادل ریلوے ٹریک کی وجہ سے پاک چائنہ روابط و ابلاغ بھی متاثر نہیں ہوں گے۔

3.             کوئلہ
/تھرمل پراجیکٹس کے ساتھ خیبر پختونخوا کے سستے ہائیڈل پروجیکٹس کو بھی سی پیک میں شاملکرنا ۔

4.           
 آئل اور گیس کو دریافت کرنے والی پروجیکٹس کو بھی سی پیک میں شامل کیا جائے گا تاکہ نئے سہولتوں اور ذرائع پیداوار کو مزید بڑھایا جاسکے۔

5.           
 ڈی آئی خان ، کھنڈ، ژوب، کوئٹہ، رشکئ، بنوں، مومند، باجوڑ، کوہستان اور چکدرہ سمیت دیگر علاقوں  میں صنعتی پارکوں کا قیام۔

6.           
ریلوے کی بحالی اور توسیعی منصوبوں کا آغاز ۔  پشاور، کوہاٹ، کرک، ڈی آئی خان سیکشن
کو چار لین تک بڑھانا۔ برہان
/ہکلہ اور ڈی آئی خان کے درمیان لنک روڈ بنانا ،  جنڈ اور پنڈی گھیب کے درمیان نئے ہائی
ویز بنانا اور موجودہ 
(این ۔ ۸۰جو جھنڈ سے کوہاٹ کے لئے جاتا ہے، کو بحال کیا جائے گا۔

7.           
       فاٹا کو سی پیک کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے کاشغر گوادر روٹ کے حوالہ سے ایک
اجلاس میں ملی مشر اسفندیار ولی خان نے سابقہ فاٹا
)جو اب خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکا ہے(، کو سی پیک سے مربوط کرنے کے لئے باجوڑ سے تمام سابقہ ایجنسیوں کو آپس میں لنک کرتے ہوئے جنڈولہ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ایک تجارتی شاہراہ کا مطالبہ کیا تھا۔ اے این پی شمال میں باجوڑ سے شروع ہونے والے اور جنوب میں  ڈیرہ اسماعیل خان کے راستے سی پیک سے منسلک ہونے والے اس شاہراہ کو سی پیک میں شامل کروانے کے لئے پر زور سفارش
اور جدوجہد کرے گی۔

8.             خیبرپختونخوا میں ادغام شدہ قبائیلی علاقوں میں صنعتی زونز کا قیام

9.           
   علاقائی اتصال کے لئے وا خان کاریڈور کی فیزیبلٹی  رپورٹ بنانا۔
 


II.                       
خارجہ امور:


پاکستان متعدد امور کی وجہ سے دنیا میں اپنی اہمیت کا حامل ہے۔ ان تمام امور میں اس کی اپنی پیدا کردہ انفرادیت نہیں ہے۔ اس ضمن میں پہلا رکن پاکستان کی جیو سٹریٹجک پوزیشن بیان کی جاتی ہے۔ در حقیقت یہ ایک رحمتِ خداوندی ہے۔ پاکستان چار ممالک کے ساتھ سرحدات رکھنے کی وجہ سے چار جہات میں بین الاقوامی سیاست سے منسلک ہو جاتا ہے اور سب اپنا اپنا کردار آگے بڑھاتے ہیں۔ ان ممالک میں چین، ہندوستان، ایران اور افغانستان شامل ہیں۔ پاکستان کی ان ممالک کے ساتھ قربت کی وجہ سے ترقی یافتہ اور طاقت ور ممالک کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر بہت مفید ہوجاتا ہے اور پھر بین الاقوامی مفادات کے لئے اس کا استحصال بھی آسان ہو جاتا ہے۔ دوسرے نکتۂ نظر سے یہ تمام امور ایک مفید حوالہ بھی ہے


)
ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ باہمی متعاون ہونے کی صورت میں(۔ بعض امور کی انجام دہی میں ایک ملک دوسرے ملک کی خود مختارانہ حیثیت اور آزادئ عمل کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے اور اس لئے ملک کی خارجہ پالیسی بناتے وقت ان تمام خطرات کو درست طریقے سے نمٹانے کے ساتھ ساتھ قومی وقار، اقتصادی سفر اور معیشت کی
بہتری کو بھی ضرور مدِنظر ہونا چاہئے۔

پُر
امن اور معتدل دنیا کے تصور کے لئے ہمیں جمہوری اقدار کے اصولوں اور مساویانہتعلقات کو بنیاد بنانا پڑے گا اور کسی ملک کی طرف سے دوسرے ملک کو بزورِ طاقت تابع
فرمان بنانے کے اقدامات کی مخالفت ہونی چاہئے۔ یہ جمہوری رویہ دنیا کو طاقتور ممالکمیں تقسیم کرنے کے عمل کو روک سکتا ہے۔  ان تمام امور کو دیکھتے ہوئے، اے این پی
خود مختار خارجہ پالیسی بنانے کے لئے کام کرے گی، جس میں مندرجہ ذیل عناصر زیرِ غور لائے جائیں گے؛



1.       
تمام ممالک کے ساتھ عمومی طور پر اور پڑوسی ممالک کے ساتھ خصوصی طور پر دوستانہ اور پر امن تعلقات کا قیام۔


2.        
ملک  اقوام متحد ہ کے چارٹر کی تعمیل کرتے ہوئے ان کے تمام مترقی اور امن کے لئے اٹھنے والے اقدامات میں شرکت کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بطور رکن ملک دیگر بینالاقوامی تنظیموں کے کام میں اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرےگا، خصوصی طور پربین الاقوامی سطح پر ممالک کی آزاد حیثیتوں کے لئے ایک مساویانہ معیار مقرر کرنے کےلئے ملک فعال کردار ادا کرے گا۔ ملک بین الاقومی سطح پر اسلحے کی اتلاف اورنیوکلئیر ہتھیاروں کے خاتمہ میں جامع اور غیرجانبدارانہ عملی حصہ لے گا۔

3.        
دنیا کی کثیر قطبی تصور کو سپورٹ کرنا جس سے ایک یا دو طاقتور ممالک کی عالمگیر اجارہ داری کا تدارک ہوجائےگا۔

4.        
ملکی تجارت و اقتصاد کی بڑھوتری ، اس کی بازاری تنوع اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو قابل ترجیح بنانے کے لئے سیاسیات و سفارت کاری کو ایک وسیلے کے طور پر استعمالکرنا۔

5.        
افغانستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی ترجیح دینا، خصوصا ً پاکستان کے پختونخوا اور بلوچستان اور افغانستان کے لوگوں کے درمیان مذہب، تہذیب و ثقافت، زبان اور تاریخ کیمشترکات کے بنیاد پر تعلیمی، ثقافتی و اقتصادی نیزتمام شعبہ جات میں باہمی تعاون کےلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔دونوں ممالک کی خود ارادیت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہنہیں کیا جائے گا اور دونوں ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے احتراز کیا جائے گا۔

6.        
ہندوستان کے ساتھ پر امن اور باہمی طور پر دوستانہ پڑوسی تعلقات کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔ جموں کشمیر سمیت تمام عمومی اور ضروری مسائل کو پر امن اقدامات اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت کو دونوں ممالک کے تعلقات کا مرکزی نکتہ بنایا جائے گا۔
اس سلسلہ میں بہت پہلے باچاخان نے کشمیر کا تنازعہ شروع ہوتے ہی جیل سے اس وقت کے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو خط لکھا تھا کہ وہ اس تنازعہ میں اپنا کردار
ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی بات کو در خورداعتنا
ء   نہ سمجھا گیا جس کی وجہ سے اب تک یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگوں کا باعث
بن چکا ہے۔

7.        
ایران، روس اور وسطی ایشیاء کی تمام ریاستوں کے مساوی خود مختارانہ حیثیت کا احترامکرتے ہوئے ان کے ساتھ فعال تعلقات کو جاری رکھیں گے اور اس ضمن میں ہر ملک کی داخلی امور میں دخل اندازی سے احتراز کیا جائے گا۔

8.        
چین کے ساتھ موجودہ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی مزید فعالیت اور بہتری کےلئے کوشش کی جائے گی۔

9.        
 اے این پی امریکہ کے ساتھ مساویانہ تعلقات کو پروان چڑھانے کی حتی الوسع کوشش کرےگی تاکہ باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی خود مختارانہ حیثیت بھی مجروح نہ ہو اورتعلقات میں پائیداری بھی برقرار ہو۔ ایسی پالیسیوں سے اجتناب کیا جائے گا جن کانتیجہ شدید رد عمل اور مسلح تصادم کی صورت میں نکلتا ہے۔

10.   
اے این پی کی خواہش ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو مزید بڑھایا اور مضبوط کیاجائے ۔

11.   
سارک  شنگھائی تعاون تنظیم، او آئی سی اور ای سی او کی تنظیموں میں پاکستان کوتعمیری اور فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔

12.   
 ہمارے سفارت خانے غیر ملکوں میں مقیم پاکستانیوں پر خصوصی توجہ دیں گے؛ خصوصاًملائشیا،سعودی عرب  اور خلیجی ممالک میں مقیم بہت سارے پختونوں کے مسائل پر توجہ مرکوز رکھیجائے گی۔

13.   
پاکستان سیاسی مسائل کے حل کے لئے سیاسی اقدامات کو طاقت کے استعمال پر ترجیح دےگا۔

14.   
پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں علاقائی دوغلےپن، گریٹ گیم یا ڈبل گیم کے بجائے آزاد خودمختارانہ اصول پر عمل پیرا ہوگا۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']