خان عبدالولی خان ۔ ایک جہاندیدہ سیاسی رہبر

 

خان عبدالولی خان ۔ ایک جہاندیدہ سیاسی رہبر
تحریر : میاں افتخار حسین مرکزی سیکرٹری جنرل اے این پی

خان عبدالولی خان خطے کی سیاسی تاریخ کے ایسے رہنما رہے ہیں جن کی جدوجہد جمہوری کردار اور مستقبل بینی نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے اور ان کے مخالفین بھی ان کو ان کے کردار کے حوالے سے اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔
خان عبدالولی خان پاکستانی سیاست کے ایک ایسے کردار رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کے اندر جمہوریت کے فروغ ،آئین کی بالا دستی اور صوبوں کے حقوق کی اپنی جدوجہد کے ذریعے انمٹ نقوش چھوڑ رکھے ہیں اور مستقبل بینی سے متعلق ان کی صلاحیت اب بھی سیاسی ، صحافتی اور عوامی حلقوں میں بحث ہوتی رہتی ہے۔ وہ ایک عملی سیاستدان کے علاوہ معاشرتی مشاہدے اور مطالعے کی بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ایک ایسے رہنما تھے جس کو ملکی سیاست کے علاوہ بین الاقوامی اُمور پر بھی بے پناہ عبور حاصل تھا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے طویل دور سیاست کو ہر دور میں انتہائی اہمیت حاصل رہی ہے۔
جن ادوار میں ولی خان کی سیاست اپنے عروج پر رہی وہ پاکستان اور خطے کی تبدیلیوں پر مشتمل ادوار تھے۔ خان عبدالولی خان نے اپنی بصیرت اور مشاہدے کی بنیاد پر اپن وفات تک انتہائی متحرک کردار ادا کرتے ہوئے مثبت سیاسی تاریخ میں ایک ایسی جگہ بنائی جس کا ہر صفحہ فخر سے بھرا پڑا ہے اور اسی فخر کو باچا خان اور ولی خان کے پیروکار آگے لیکر بڑھ رہے ہیں۔
خان عبدالولی خان کے حصے میں جو تکالیف آئیں ان کی تفصیلات کا احاطہ کرنا کافی مشکل کام ہے تاہم ان کی مستقل مزاجی اور مستقل بینی سے ان کے پیروکاروں کے علاوہ دوسرے متعلقہ حلقے آج بھی مستفید ہو رہے ہیں اور ان کا ذکر ان کی وفات کے کئی سال گزرنے کے باوجود اب بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
ولی خان محض ایک لیڈر نہیں تھے بلکہ وہ ایک اچھے صحافی ، تاریخ دان اور لکھاری بھی تھے ان کا مطالعہ انتہائی وسیع تھا تاہم ان کا انداز بیان انتہائی پر لطف اور عوامی تھا۔ اور اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ سیاسی حلقوں کے علاوہ عوام کے بھی انتہائی محبوب رہے۔ ان کی محبوبیت کا دوسروں کے علاوہ ان کے مد قابل لیڈر بھی کھلے عام اعتراف کیا کرتے تھے اور تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ ہر دور کے قدآور سیاستدان ان کے ساتھ اپنی وابستگی پر نہ صرف یہ کہ فخر کیا کرتے تھے بلکہ ان کو ایک سیاسی اُستاد کی حیثیت بھی حاصل رہی۔ خطے کو آج جن مشکلات اور چیلنیجز کا سامنا ہے ان کی بروقت نشاندہی اور مستقبل کے ممکنہ منظر نامے کے بارے میں ایسی لاتعداد پیشنگوئیاں بھی کیں جو کہ بعد میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئیں اور آج ان کے مخالفین بھی یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ اگر ملک کے حالات اور خطے کی تبدیلیوں اور پالیسیوں کے بارے میں باچا خان اور ولی خان کے افکار اور پیشنگوئیوں پر عمل کیا جاتا تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی اور جن مشکلات کا آج کروڑوں عوام سامنا کر رہے ہیں ان سے بچنا یقینی طور پر ممکن ہو جاتا۔
70 کی دہائی میں ولی خان نے جمہوریت ، انسانی حقوق ، صوبائی خودمختاری اور آئین کی بالا دستی کیلئے اپوزیشن لیڈر کے طور پر جو تاریخی اور متحرک کردار ادا کیا ان کے مثبت اثرات آج بھی ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے جانبدارانہ کردار پر خان عبدالولی خان کا وژن بہت واضح تھا اور وہ اپنی وفات تک ٹھوس دلائل کی بنیاد پر اس کو ہدف تنقید بناتے رہے جس کے بدلے ان پر بے جا الزامات کی بوچھاڑ کی گئی اور ان کے خلاف مسلسل مہمات چلائی گئیں۔
اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ 80 کی دہائی کے دوران افغانستان میں جس کشیدگی کی بنیاد رکھی باچا خان اور ولی خان نے خطے پر اس کے تباہ کن اثرات کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا بعد کے حالات نے ان خدشات کو درست ثابت کیا اور وہی ہوا جس کی نشاندہی ان لیڈروں نے کی تھی۔ عالمی طاقتوں کے مفادات پر مبنی ٹکراؤ کے جو نتائج آج ہم بھگت رہے ہیں باچا خان اور ولی خان برسوں بلکہ دہائیوں قبل ان کی بروقت نشاندہی کر چکے تھے مگر ان کی بات نہیں سنی گئی اور خطہ بدترین حالات سے دوچار ہوتا گیا۔ صوبوں کے تعلقات کار اور وسائل کی تقسیم سے متعلق اثرات اور موجودہ بحرانوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر اے این پی کے ان لیڈروں کی شکایات اورتجاویز کا نوٹس لیا جاتا اور عملی اقدامات کیے جاتے تو صوبوں کے درمیان وقتاً فوقتاً اُٹھنے والے اختلافات کا سلسلہ کب کا ختم ہو چکا ہوگا۔
ولی خان کے کردار اور خدشات کا ذکر اور اعتراف کرنا ، ان میں نئی نسل کو منتقل کرنا انتہائی ناگزیر ہے اس لیے لازمی ہے کہ مختصراً ان کی خدمات پر روشنی ڈالی جائے۔
ان کی زندگی کے کئی برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرے لیکن کبھی بھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی یہی وجہ ہے کہ خان عبدالولی خان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جب بھی ملک میں جمہوریت کی بات ہوتی ہے ولی خان کی خدمات کا اعتراف لازمی ہوتا ہے۔ولی خان 11جنوری1917ء کو اتمانزئی چارسدہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم آزاد اسلامیہ ہائی سکول سے حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد باچا خان نے رکھی تھی ولی خان اس سکول کے پہلے طالب علم تھے وہ یہاں 1922ء میں داخل ہوئے اس کے بعد وہ ڈیرہ دون پبلک سکول چلے گئے 1933ء میں انہوں نے سینئر کیمبرج کیا ان دنوں آنکھ کی تکلیف شروع ہوگئی اور ڈاکٹروں نے مزید پڑھائی سے منع کیا انہوں نے 1942ء میں خدائی خدمتگار تحریک سے سیاست کا آغاز کیا اس تحریک کے دوران پہلی مرتبہ 1943ء میں ایف سی آر کے تحت انہیں جیل ہوئی اس کے بعد انہیں 15جون1948ء کو گرفتار کیا گیا اور ہری پور جیل میں رکھا گیا تو اس دوران بارہ اگست کو بابڑہ کا واقعہ رونما ہوا یہ ایک احتجاجی جلسہ تھا جو باچا خان ٗولی خان اور دیگر خدائی خدمتگار رہنماؤں کی رہائی کے سلسلے میں منعقد ہوا تھا اس جلسہ کے حاضرین پر گولیاں برسائی گئیں جس سے سینکڑوں افراد شہید ہوئے مئی1949ء میں ولی خان کو ہری پور جیل سے مچھ جیل بلوچستان منتقل کیا گیا 1935ء میں فیڈرل کورٹ نے انہیں رہا کیا اس طرح ولی خان مسلسل پانچ سال ٗپانچ مہینے اور پانچ دن جیل میں رہے رہائی کے بعد خدائی خدمتگاروں اور حکومت کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے انہوں نے باچا خان کی اجازت سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے نتیجے میں تمام پابندسلاسل خدائی خدمتگاروں کے لئے عام معافی کا اعلان ہوا اور وہ رہا کردئے گئے جبکہ ضبط شدہ جائیدادیں بھی واپس کردی گئیں 1954میں ون یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ٗ جسے توڑنے کیلئے باچاخان نے سرتوڑ کوششیں کیں ٗولی خان بھی پیش پیش تھے ان کی کوششوں سے ملکی سطح پر ایک نئی پارٹی عمل میں لائی گئی جس کا نام نیشنل عوامی پارٹی )نیپ(رکھا گیا 1954ء میں ولی خان نیپ کے مرکزی صدر بنے 13 نومبر1968ء میں ولی خان کو ایوب خان کے خلاف بیانات دینے کے جرم میں ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور مارچ1969ء کو رہا ہوئے 26 نومبر 1971ء کو یحییٰ خان نے نیپ پر پابندی لگادی بعد میں بھٹو نے پابندی ہٹالی 8فروری 1975ء کو سرحد کے گورنراور پیپلز پارٹی کے رہنما حیات شیرپاؤ ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان کے قتل کا الزام ولی خان پر لگایا اور انہیں اسی رات لاہور سے پشاور آتے ہوئے گجرات کے قریب گرفتار کرلیا گیا اسی طرح نیپ کے تمام سرکردہ رہنما صوبہ سرحد ٗ بلوچستان ٗ پنجاب اور سندھ سے گرفتار ہوئے بھٹو امریکہ کے دورے پر تھے وہ وہاں سے فوراً لوٹ آئے اور 9فروری1975ء کو انہوں نے نیپ ) نیشنل عوامی پارٹی (پرپابندی لگادی اور ولی خان اور ان کے ساتھیو ں پر حیدر آباد سازش کیس کا مقدمہ بنایا گیا ولی خان پر چار مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے دو دفعہ ملاکنڈ ایجنسی میں اور دو حملے پنجاب میں مگر خدانے ان کو بچالیا۔ جنوری1977ء میں بھٹو نے عام انتخابات کا اعلان کیا ٗ مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں توڑدی گئیں اور انتخابات کی تیاریاں شروع ہوئیں اپوزیشن کی تمام پارٹیاں اکٹھی ہوگئیں اور انہوں نے یو ڈی ایف کی بجائے پی این اے )قومی اتحاد(بنایا۔مارچ1977ء میں قومی اسمبلی کے الیکشن ہوئے جن میں سرکاری اعلان کے مطابق پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کرلی پی این اے نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور دس مارچ1977ء کے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اپوزیشن کے منتخب ارکان قومی اسمبلی نے احتجاجاً استعفے دیئے اور تحریک شروع کی ۔ضیاء الحق نے جولائی1977ء میں مارشل لاء لگایا اور بھٹو کوگرفتارتقریباً تین ہفتے بعد ولی خا اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کیلئے ضیاء الحق خودحیدر آباد جیل گئے ان سے مذاکرات کئے اور آخر کار حیدر آباد سازش کیس میں ملوث تمام افراد کو رہا کردیا گیا جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف ایم آر ڈی کی تحری میں خان عبدالولی خان کو ایک اہم حیثیت حاصل تھی اور اس تحریک کے دوران وہ متعدد بار گرفتار بھی ہوئے1958ء کے غیر جماعتی انتخابات میں این ڈی پی نے حصہ نہیں لیا تھا ولی خان غیر جماعتمی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے حق میں تھے ان دنوں سردار شیرباز مزاری این ڈی پی کے مرکزی صدر تھے ۔1986ء میں کراچی میں این ڈی پی کو عوامی نیشنل پارٹی میں تبدیل کردیا گیا جس کے بعد ملک کے کئی نامور قوم پرست رہنماؤں نے خان عبدالولی خان کی قیادت میں اے این پی سے نیا سیاسی سفر شروع کیا 1988ء میں خان عبدالولی خان این اے 5چارسدہ سے ایم این اے منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے اہم رہنما کے طور پر پیش پیش رہے 1993ء میں خان عبدالولی خان نے این اے 5چارسدہ سے الیکشن میں ناکامی کے بعد اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے پارٹی کی صدارت چھوڑ دی جس پر اجمل خٹک ان کی جگہ اے این پی کے صدر منتخب ہوئے اور خان عبدالولی خان نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی خان عبدالولی خان کا یہ کردار پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا خان عبدالولی خان طویل علالت کے بعد 89برس کی عمر میں جمعرات26جنوری 2006ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے آپ کی میت آخری دیدار کیلئے کننگھم پارک میں رکھی گئی۔ جمعہ کے روزتین بجے نمازجنازہ ادا کی گئی اور مرحوم کو وصیت کے مطابق ولی باغ چارسدہ میں سپرد خاک کیا گیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ولی خان اور دیگر اکابرین کے طرز سیاست ، وژن اور جدوجہد کو ایک مثال کے طور پر اپنایا جائے اور جن بدترین حالات کا آج ہم سامنا کر رہے ہیں۔ ان لیڈروں کی تعلیمات کی روشنی میں ان حالات سے نکلا جائے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']