Dec-2015

 

مورخہ : 31.12.2015 بروز جمعرات

* عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان کا نئے سال کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے عوام کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور دُعا کی ہے کہ خدا کرے کہ نیا سال خطے کے عوام کیلئے امن ، خوشحالی اور ترقی کا پیغام لیکر آئے اور ہمارے عوام کیلئے یہ سال مبارک ثابت ہو۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ پیغام میں اُنہوں نے کہا ہے کہ خطے کو گزشتہ برسوں کے دوران جن حالات کا سامنا رہا خدا کرے کہ سال 2016 میں ان حالات سے بچا جائے اور نیا سال ہمارے عوام اور خطے کے علاوہ پوری انسانیت کیلئے امن اور ترقی کا سال ثابت ہو جائے۔
اُنہوں نے اپنے بیان میں تمام لوگوں کو دل کی گہرائیوں نئے سال کی مبارکباد دی اور اُمید ظاہر کی کہ سال 2016 امن ، خوشیوں اور ترقی کا پیغام لیکر آئے۔

مورخہ : 31.12.2015 بروز جمعرات

* امیر حیدر خان ہوتی کا سانحہ مردان کے شہداء کی فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی بیمار پرسی
* صوبے کے عوام اور اے این پی نے دہشتگردی کی بھاری قیمت چکائی ہے ، اے این پی متاثرین کے دُکھ میں برابر شریک ہے۔
* خطے میں امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر بلا امتیاز عمل درآمد لازمی ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی مردان اور آس پاس کے علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے سانحہ مردان کے شہداء کی رہائش گاہوں پر گئے جہاں اُنہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی کی دُعا کی اور لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ اس موقع پر اے این پی مردان کے عہدیداران بھی ان کے ہمراہ رہے۔
وہ زخمیوں کی رہائش گاہوں پر بھی گئے جہاں اُنہوں نے فرداً فرداً زخمیوں کی عیادت کی اس موقع پر اُنہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی دُکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہے اور ان کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی اور صوبے کے عوام نے دہشتگردی کی بھاری قیمت چکائی ہے اور اسی مزاحمت اور قربانی کا نتیجہ ہے کہ آج اکثر سیاسی قوتیں اور عوام انتہا پسندی کے معاملے پر اس نکتے پر متفق ہیں کہ اس کے خاتمے اور روک تھام کیلئے سب کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔
اُنہوں نے اپنی بات چیت میں کہا کہ امن کا قیام خطے کے مستقبل کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے اور اس کیلئے لازمی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات اور فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔ ان سب کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں جو کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی میں ملوث رہے ہیں۔

مورخہ 31دسمبر2015ء بروز جمعرات

پیرا میڈیکس اور نرسنگ سٹاف کو مراعاتی پیکج سے محروم رکھنا نا انصافی ہے ‘ ارباب طاہر
پیرا میڈیکس اور نرسنگ سٹاف کے لئے بھی مراعاتی پیکج کا اعلان کیا جائے
صوبا ئی حکو مت مزدور کش پا لیسی پر عمل پیرا ہے‘ محکمہ صحت میں ان دونوں کا کردار کلیدی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب طاہر نے پیرا میڈیکس اور نرسنگ سٹاف کو مراعاتی پیکج سے محروم رکھنے کے حکومتی اقدام کو ظالمانہ قرار دیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے اس قدام کی سختی سے مذمت کرتے ہو ئے کہا ہے کہ صوبا ئی حکو مت مزدور کش پا لیسی پر عمل پیرا ہے انہوں نے کہا کہ پیرا میڈیکس اور نرسنگ سٹاف محکمہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیرا میڈیکس اور نرسنگ سٹاف صوبے کے دور دراز علاقوں میں دن رات کام کر کے ٖغریب مریضوں کی خدمت کے لئے مصروف عمل ہیں اور ایسے دور دراز علاقوں میں دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں جہا ں تک رسائی انتہائی مشکل ہوتی ہے انہوں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ڈاکٹرز کمیونٹی کے لئے مراعاتی پیکج دیا گیا ہے اسی طرح پیرا میڈیکس اور نرسنگ سٹاف کے لئے بھی مراعاتی پیکج کا اعلان کیا جائے انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں ان دونوں کا کردار کلیدی ہے جس کا اعتراف صوبائی حکومت کو بھی کرنا چاہیے ۔

مورخہ : 31.12.2015 بروز جمعرات

* چائنا اکنامک کاریڈور کو 28 مئی کی اے پی سی کے فیصلوں کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ’ سردار حسین بابک‘
* مغربی روٹ پر کام کا آغاز اور اس کو تمام سہولیات سے آراستہ کرنا اس منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
* فاٹا ، پختونخوا ، بلوچستان اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور امن کیلئے کاریڈور کو ایک بڑا ذریعہ بنانا چاہیے۔
* صوبے کے حقوق اور اختیارات کے حصول کیلئے اے این پی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔
سی ایم ہاؤس میں منعقدہ اجلاس سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ چائنا پاک اکنامک کاریڈور کے بارے میں وزیر اعظم نواز شریف نے 28 مئی کی آل پارٹیز کانفرنس کے دوران جو وعدہ اور اعلان کیا تھا اس پر عمل درآمد یقینی بنانا اس عظیم پراجیکٹ کی کامیابی کے علاوہ پسماندہ اور جنگ زدہ علاقوں کی ترقی اور امن کیلئے بھی ناگزیر ہے تاکہ اس منصوبے کے فوائد سے استفادہ کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں چائنا پاک اکنامک کاریڈور کیلئے سینیٹر مشاہد حسین سید کی سربراہی میں بلائے گئے خصوصی اجلاس کے دوران سردار حسین بابک نے کہا کہ مغربی روٹ پر کام کا آغاز اور اس کو تمام سہولیات سے آراستہ کرنے کے وزیر اعظم کے اعلان اور یقین دہانی پر عمل درآمد انتہائی لازمی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مغربی روٹ میں ریلوے ٹریکس ، انڈسٹریل زونز ، آئل ، گیس پائب لائن ، فائبر کیبلز ، انرجی پراجیکٹس اور ٹرانسمیشن لائنز سمیت تمام وہ منصوبے شامل کیے جائیں جو کہ اس پراجیکٹ کی کامیابی اور خطے کی ترقی کیلئے ضروری ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے فاٹا ، خیبر پختونخوا ، پنجاب کے پسماندہ علاقے اور بلوچستان کو مستفید ہونے کے تمام امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے اسے عملی شکل دی جائے تاکہ ان علاقوں کی ترقی کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور اس حق تلفی کا ازالہ بھی ہو سکے جو کہ ان علاقوں کے ساتھ ماضی میں کی جاتی رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ آج صوبے کے آئینی حقوق اور اختیارات پر تمام اہم سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور سول سوسائیٹی کا مکمل اتفاق ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے سب مشترکہ جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے اور خطے کے حقوق کیلئے اے این پی کا مؤقف اور جدوجہد تاریخ اور ریکارڈ کا حصہ ہے اور آج تمام پارلیمانی اور سیاسی قوتیں اے این پی کے مؤقف اور جدوجہد کا اعتراف بھی کر رہی ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے اے این پی حسب سابق صف اول میں کھڑی نظر آئے گی اور اس مقصد کیلئے سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

مورخہ 31 دسمبر2015ء بروز جمعرات

* فخر افغا ن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی تقریبات کے حوالے سے آہم اجلاس طلب
* 2جنوری کو ہونیوالے اجلاس میں دونوں راہنماؤں کی برسی منا نے کے پروگرام کو حتمی شکل دی جا ئے گی

پشاور ( پ ر ) فخر افغا ن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی تقریبات و اجتماعات کے انعقاد کو حتمی شکل دینے کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے ملا کنڈ ڈویژن ،ہزارہ ڈویژن‘ جنوبی اضلاع سمیت قبائلی علاقہ جات اور ایف آرز کے تمام صدور اور جنرل سیکرٹریز کا ایک آہم اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں طلب کیا ہے ۔
2جنوری بروز ہفتہ کو باچا خان مرکز پشاورمیں سردار حسین بابک کے زیر صدارت اجلاس میں فخر افغا ن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی تقریبات و اجتماعات کے انعقاد کو حتمی شکل دی جا ئے گی اے این پی سیکرٹریٹ سے جا ری اعلامیہ کے مطا بق پا رٹی کے مرکزی سنےئر نائب صدر غلام احمد بلور، مرکزی سیکرٹری جنرل میا ں افتخار حسین ،باز محمد خان اور بشیر احمد مٹہ اس اجلاس میں خصو صی طور پر شرکت کریں گے ۔
پارٹی کے فیصلے کے مطابق فخر افغا ن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی و اجتماعات صو بے بھر میں 20 جنوری سے 26جنوری تک منعقد ہوں گی جبکہ مرکزی اجتماع 26 جنوری کو چارسدہ میں منعقد کیا جائیگا۔

مورخہ : 31.12.2015 بروز جمعرات

* ریتی بازارآتشزدگی ، متاثرہ تاجروں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے ’ ایمل ولی خان ‘
* واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں اور صوبائی حکومت تاجروں کی مالی امدادکرے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے پشاور کے ریتی بازار میں آتشزدگی سے متاثرہ تاجروں اور دُکانداروں کے کروڑوں روپے کے املاک و نقدی کے خاکستر ہونے پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ اپنے بیان میں اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آتشزدگی کی وجہ سے متاثرہ تاجروں اور دُکانداروں کے مالی نقصان کا ازالہ کرتے ہوئے فور طور پر ٹھوس اقدامات اُٹھائے اور ان کو مالی امداد فراہم کرے اُنہوں نے کہا کہ متاثرہ تاجروں کی تمام جمع پونجی آتشزدگی کے باعث خاکستر ہو گئی ہے اُنہیں دوبارہ اپنے کاروبار کو شروع کرنے کیلئے صوبائی حکومت ان کو مالی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ ان کے دُکھوں کا ازالہ ہو سکے۔

مورخہ : 31.12.2015 بروز جمعرات

* ہارون بشیر بلور کا سردار عبدالرب نشتر کے صاحبزادے کی وفات پر اظہار تعزیت۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے تحریک پاکستان کے رہنما اور سابق گورنر سردار عبدالرب نشتر کے صاحبزادے پروفیسر طارق نشتر کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں اُنہوں نے پروفیسر طارق نشتر کی وفات کو سوگوار خاندان کیلئے گہرا صدمہ قرار دیتے ہوئے دلی اظہار تعزیت کیا ہے اور دُعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

مورخہ 31 دسمبر2015ء بروز جمعرات

امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک کی پریس کلب پشاورکی نو منتخب کابینہ کو مبارکباد

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے پشاور پریس کلب کے انتخابات میں سید بخار شاہ کو صدر ،عا لمگیرجنرل سیکرٹری اور دیگر نو منتخب کابینہ کو ان کی کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تہنیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے نو منتخب صدر اور ان کی تمام کابینہ کو عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ نو منتخب صدر اور ان کی کابینہ صحافی برادری کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے ،انہوں نے کہا کہ صحافی برادری نے اپنی مشکلات کے ازالے اور مسائل کے حل کیلئے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے تاہم اب یہ ان کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے کہ صحافیوں کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جائے تاکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ امور پہلے سے بھی بہتر انداز میں انجام دے سکیں ۔

مورخہ 31 دسمبر2015ء بروز جمعرات

*صوبے میں عوامی فلاح کے میگا پراجیکٹس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ، سینیٹر ستارہ ایاز
* تخت بھائی فلائی اوور کی تعمیر میں تاخیربلاجوازہے، عوام کو ریلیف کی فراہمی اولیں ترجیح ہونی چاہئے
2010-11میں شروع کیا جانے والا منصوبہ تا حال مکمل نہیں کیا جا سکا جس سے لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں،
* اے این پی نے اپنے دور حکومت میں ترقیاتی منصوبوں کا جو جال بچھایا وہ اپنی مثال آپ ہے
پشاور ( پ ر ) خیبر پختونخوا میں میگا پراجیکٹس پر کوئی خصوصی توجہ نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے صوبے کے عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں مل رہا ، عوامی نیشنل پارٹی کی سینیٹر ستارہ ایاز نے اس ضمن میں تخت بھائی فلائی اوور کی تعمیر میں بلاجواز تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فلائی اوور کو مکمل کر کے لاکھوں افراد کو پریشانیوں سے نجات دلائی جائے ،اپنے ایک بیان میں سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ یہ منصوبہ2010-11میں اس وقت کے اے این پی کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے شروع کیا تھا جس کیلئے 82.12ملین روپے بھی مختص کئے گئے اور اسے18ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا جانا تھا تاہم جولائی2014میں مجوزہ نقشے کو تبدیل کرکے اس کی لمبائی200میٹر سے بڑھا کر 400میٹر کر دی گئی جبکہ منصوبے کا تخمینہ بھی بڑھا کر 754.60ملین روپے تک پہنچا دیا گیا انہوں نے کہا کہ منصوبے میں کی جانے والی تبدیلیوں کے باعث اس کی مدت تکمیل 28ماہ کر دی گئی ،انہوں نے کہا کہ منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جاتا تو قومی خزانے پر پڑنے والے اربوں روپے کے اضافی بوجھ کو کم کیا جا سکتا تھا ،ستارہ ایاز نے کہا کہ فلائی اوور گیارہ اضلاع کو صوبے سے ملانے والی مین شاہراہ ہے اور اس کی تکمیل سے دیر سوات شانگلہ بونیر اور چترال سمیت دیگر علاقوں کے لاکھوں افراد اس سے مستفید ہو سکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ اڑھائی سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود خیبر پختونخوا میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا جا سکا ، ستارہ ایاز نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں ترقیاتی منصوبوں کا جو جال بچھایا وہ اپنی مثال آپ ہے عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کیلئے پارٹی نے ہر ممکن اقدامات کئے تاہم اب موجودہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کو بھی اے این پی کی پالیسیوں کی تقلید کرتے ہوئے عوام کو ریلیف پہنچانے کیلئے مناسب ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

مورخہ 30 دسمبر2015ء بروز بدھ

* کاریڈور کے مغربی روٹ پر عمل درآمد کیساتھ ملک کی ترقی اور امن کا قیام مشروط ہے ’ میاں افتخار حسین ‘
* اے پی سی کے فیصلوں پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے ، دہشتگردپھر سے نئی صف بندی میں مصروف ہیں۔
* بلوچستان گوادر پورٹ پر بلوچیوں کا حق ہے اور یہی ہماری پالیسی ہے کہ قدرت نے جس جس قوم کو جو وسائل دئیے ہیں اُسی پر اُن کو اختیار ہونا چاہیے۔
* بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی کا افغانستان کا سرکاری دورہ اور پاکستان کا سیاسی دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
* جنرل راحیل شریف کا اس کے فوراً بعد افآانستان کا دورہ اور یہ معاہدہ طے پانا کہ دہشتگردوں میں گڈ اور بیڈ کی تمیز نہیں ہونی چاہیے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاک چائنا اکنامک کاریڈور کی کامیابی سے بلوچستان کی پسماندگی اور فاٹا ، پختونخوا سے دہشتگردی کا خاتمہ مشروط ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اعلانات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے جن پر اے پی سی میں اتفاق رائے ہو گیا ہے اور جن کی وزیر اعظم نے اسفندیار ولی خان کو یقین دہانیاں کرائی تھیں۔
ژوب میں کاریڈور کے مغربی روٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور سے ان علاقوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں جو کہ گزشتہ کئی دھائیوں اور برسوں سے پسماندگی اور دہشتگردی کی زد میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کاریڈور میں ہماری ترقی کا راز پوشیدہ ہے اگر مغربی روٹ اصل روٹ کے مطابق کام نہ کیا گیا تو یہ پختونوں کا معاشی قتل ہے۔
خیبر پختونخوا ، فاٹا اور بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ اس کے نتیجے میں دہشتگردی کا خاتمہ کیا جا سکے اور ان متاثرہ علاقوں کو ترقی اور استحکام سے دوچار کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور سے پاکستان اور بالخصوص اس کے پسماندہ علاقے مستفید ہونے چاہئیں تاکہ خطے کو دہشتگردی اور پسماندگی کی صورتحال اور خطرات سے نکالا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ اے پی سی کے اتفاق رائے اور وزیر اعظم کے اعلانات ، یقین دہانیوں پر عمل کرنے سے ہی کاریڈور کی کامیابی اور مقاصد کا حصول ممکن ہے اور ہمیں توقع ہے کہ حکومت مغربی روٹ ، انڈسٹریل زونز اور دیگر منصوبوں پر جنگ زدہ اور متاثرہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کا راستہ ہموار ہوگا اور حکومت پر عوام کا اعتماد بھی بڑھ جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان گوادر پورٹ پر بلوچیوں کا حق ہے اور یہی ہماری پالیسی ہے کہ قدرت نے جس جس قوم کو جو وسائل دئیے ہیں اُسی پر اُن کو اختیار ہونا چاہیے۔لہذا اس پر بلوچیوں کا حق تسلیم کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ خطے کو اب بھی دہشتگردی کے بدترین خطرات کا سامنا ہے اور مردان کا حالیہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگرد ختم نہیں ہوئے ہیں اور وہ نئی صف بندی میں مصروف ہیں۔ لہٰذا بیس نکاتی متفقہ ایجنڈا نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔جبکہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے نہ صرف کاریڈور جیسے منصوبوں کی ضرورت ہے بلکہ افغانستان ، بھارت اور بعض دیگر ممالک کیساتھ بہتر تعلقات کے آغاز پر بھی توجہ دینی ہوگی تاکہ انتہا پسندی سے نمٹا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی کا افغانستان کا سرکاری دورہ اور پاکستان کا سیاسی دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور جنرل راحیل شریف کا اس کے فوراً بعد افآانستان کا دورہ اور یہ معاہدہ طے پانا کہ دہشتگردوں میں گڈ اور بیڈ کی تمیز نہیں ہونی چاہیے اور افغانستان اور پاکستان مل کر دہشتگردوں کے خلاف جائنٹ کارروائی کرے گا۔ اسی سے امن قائم ہونے کی قوی اُمید ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور کو اگر عوامی خواہشات اور خطے کے مخصوص حالات کے تناظر میں ڈیل کیا گیا تو اس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

 مورخہ 30 دسمبر2015ء بروز بدھ

کاریڈور کے مغربی روٹ پر عمل درآمد کیساتھ ملک کی ترقی اور امن کا قیام مشروط ہے ’ میاں افتخار حسین ‘
اے پی سی کے فیصلوں پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے ، دہشتگردپھر سے نئی صف بندی میں مصروف ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاک چائنا اکنامک کاریڈور کی کامیابی سے بلوچستان کی پسماندگی اور فاٹا ، پختونخوا سے دہشتگردی کا خاتمہ مشروط ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اعلانات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے جن پر اے پی سی میں اتفاق رائے ہو گیا ہے اور جن کی وزیر اعظم نے اسفندیار ولی خان کو یقین دہانیاں کرائی تھیں۔
ژوب میں کاریڈور کے مغربی روٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور سے ان علاقوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں جو کہ گزشتہ کئی دھائیوں اور برسوں سے پسماندگی اور دہشتگردی کی زد میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے اس کے ساتھ ساتھ کاریڈور سے فاٹا اور صوبہ پختونخوا پر بھی فوکس کرنا چاہیے تاکہ اس کے نتیجے میں دہشتگردی کا خاتمہ کیا جا سکے اور ان متاثرہ علاقوں کو ترقی اور استحکام سے دوچار کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور سے پاکستان اور بالخصوص اس کے پسماندہ علاقے مستفید ہونے چاہئیں تاکہ خطے کو دہشتگردی اور پسماندگی کی صورتحال اور خطرات سے نکالا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ اے پی سی کے اتفاق رائے اور وزیر اعظم کے اعلانات ، یقین دہانیوں پر عمل کرنے سے ہی کاریڈور کی کامیابی اور مقاصد کا حصول مشروط ہے اور ہمیں توقع ہے کہ حکومت مغربی روٹ ، انڈسٹریل زونز اور دیگر منصوبوں پر جنگ زدہ اور متاثرہ پسماندگی علاقوں کی ترقی کا راستہ ہموار ہوگا اور حکومت پر عوام کا اعتماد بھی بڑھ جائیگا۔
اُنہوں نے کہا کہ خطے کو اب بھی دہشتگردی کے بدترین خطرات کا سامنا ہے اور مردان کا حالیہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگردی ختم نہیں ہوئے ہیں اور وہ نئی صف بندی میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف خطے میں داعش کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے نہ صرف کاریڈور جیسے منصوبوں کی اشد ضرورت ہے بلکہ افغانستان ، بھارت اور بعض دیگر ممالک کیساتھ بہتر تعلقات کے آغاز پر بھی توجہ دینی ہوگی تاکہ انتہا پسندی سے نمٹا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں قائم ہونے والے رابطے اور اعتماد سازی کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جا سکے اور خطے میں ترقی ، استحکام اور امن کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور کو اگر عوامی خواہشات اور خطے کے مخصوص حالات کے تناظر میں ڈیل کیا گیا تو اس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اُنہوں نے اس موقع پر نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد کو ناگزیر قرار دیا۔

159ورخہ 30دسمبر 2015بروز بدھ

عوام دہشت گر دی کے خلاف قر بانیاں دے کر پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں، سردار حسین بابک
اے این پی دور حکومت میں ہم پرامن و امان کے حوالے سے بے بنیاد الزامات لگائے گئے ، حکومت بتائے کہ اب ہونے والے دھماکوں کے ذمہ دار کون ہیں ؟
نیشنل ایکشن پلان کے بعد دہشت گر دی کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے تاہم اس کے تمام 20نکات پر عمل درآمد ضروری ہے
* ساری قوم کی نظریں دہشت گر دی کے خاتمے پر مر کوز ہیں،حکومت قوم کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے
عوام مر کزی اور صوبائی حکومتوں سے بیزار ہوچکے ہیں، باہمی اختلافات چھوڑ کر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کام کرنا ہوگا
پشاور ( پ ر ) دہشت گر دی نے ملک اورخصوصاٌ صوبے کو تباہ کر دیا ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ان خیالات کا اظہار اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے مردان دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اے این پی عوامی پارٹی ہونے کے ناطے نہ صرف عوامی مسائل سے اگاہ ہے بلکہ مسائل کے حل کے لئے منصوبہ بندی اور عوام دوست پالیساں رکھتی ہے ،سر دار بابک نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے آنے کے بعد دہشت گر دی کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے اور ساری قوم کی نظریں دہشت گر دی کے خاتمے پر مر کوز ہیں تاہم اس نا سور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر من و عن عمل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں بم دھماکوں کے حوالے سے ہم پر بے جا اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور کہا گیا کہ ہم پرائی جنگ اپنے خطے میں لے کر آئے ہیں،لیکن اب جبکہ اے این پی اقتدار میں نہیں ہے تو ان دھماکوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس وقت ہم پر لگائے جانے والے الزامات غلط اور بے بنیاد تھے اور یا پھریہ حکومت بھی امریکہ سے ڈالروں کے عوض دھماکے کرا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گر دی نے ملک اورخصوصاٌ صوبے کو تباہ کر دیا ہے تاہم موجودہ صوبائی حکومت کی نا اہلی اور غیر سنجیدگی کے باعث دہشت گرد اپنی مذموم کاروائیوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں ،پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ عوام مر کزی اور صوبائی حکومتوں سے بیزار ہوچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی نظریں اور توقعات اے این پی سے وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پختون دہشت گر دی کے خلاف بے پناہ قر بانیاں دے کر پاکستان کی سالیمت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔لہذا حکومت کی طرف سے قوم کو تخفظ دینے کے لئے عملی اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان دہشت گر دی کے خلاف لڑی جانیوالی جنگ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر یں اور غیر ضروری سر گر میوں میں وقت ضائع کئے بغیر دہشت گر دی سے نمٹنے کے لئے چوکس ہو جائیں ورنہ آیندہ نسلیں انہیں معاف نہیں کر یں گی۔

مورخہ 30 دسمبر2015ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے بزرگ رہنما اور اے این پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ ولی محمد خان آف مصری بانڈہ اور سابق ایم ڈی پاکستان ٹیلیویژن اسلم اظہر کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے سو گوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اورتعزیت کرتے ہو ئے مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔

159ورخہ 30دسمبر2015ء بروز بدھ

* اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، ایمل ولی خان
* صوبائی حکومت کی غیر واضح پالیسیوں نے صوبے کے عوام کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے
* موجودہ حالات میں پختونوں کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہوگا یہ وقت ان کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے

پشاور ( پ ر ) اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہاہے کہ انگزیروں کو بھگانے میں پختون قوم کا کلیدی کردار ہے ،پختون نہ ہوتے توپاکستان آزاد نہ ہوتا ، عمران خان اورنوازشریف میں اقتدار کی جنگ جاری ہے دونوں سے پختون خوا کے عوام کو خیر کی توقع نہیں ،اے این پی پختونوں کے حقو ق لے کر دم لے گی،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ پختون قوم دنیا کی بہادرترین قوم ہے اورجب یہ قوم متحد ہوجاتی ہے تو انگزیروں جیسی بڑی بڑی طاقتیں پاش پاش ہوجاتی ہیں ،انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی میں پختونوں کی وجہ سے انگریز بھاگنے پر مجبورہوئے اورا س اہم کردار پر پورے پاکستان کو پختون قوم کا شکرگزارہوناچاہئے ایمل ولی خان نے تحریک انصاف پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت کی غیر واضح پالیسیوں نے صوبے کے عوام کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے، انہوں نے کہاکہ عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ اپنے مسائل کے حل کے لئے دیا لیکن کپتان نے خیبر پختونخوا کے عوام کو یکسر فراموش کر دیا ہے ، انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں پختونوں کو ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہونا ہوگا یہ وقت ان کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے، تبدیلی اور سستے انصاف کے دعویدار اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں اورپختون قوم وعدہ شکنوں سے بدلہ لے کر دم لے گی ،انہوں نے کہاکہ اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اوراسے اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے۔

مورخہ30دسمبر 2015ء بروز بدھ

* عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں، ہارون بشیر بلور
* اے این پی نے اپنے دور میں آئی ڈی پیزکی بحالی کیلئے جو کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے
*بدقسمتی سے آئی ڈی پیز کے معاملے پر مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک پیج پر نہیں ہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے نئے پاکستان اور تبدیلی کا جو نعرہ لگایا وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے کافی ہے، اے این پی قبائلی علاقوں کے آئی ڈی پیز کی فوری واپسی اور بحالی چاہتی ہے جو ملک میں امن کے قیام کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے آئی ڈی پیز کے معاملے پر مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک پیج پر نہیں ہیں اور ایک دوسرے کو مورو الزام ٹھرانے کی روش اپنائے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز تو اے این پی کے دور میں بھی آئے تھے لیکن جس عزت و وقار کی ساتھ ان کی واپسی اور بحالی کا کام اے این پی نے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں اے این پی کی پالیسی اپنانی چاہئے، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں جو ترقیاتی کام کئے ان کی مثال ملک کی 68سالہ تاریخ میں نہیں ملتی ،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے نئے پاکستان اور تبدیلی کا جو نعرہ لگایا وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے کافی ہے ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے جبکہ اس جماعت نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تعلیم ، صحت ،روزگار اور صوبہ کے حقوق کے حوالے سے کارکردگی اپنی مثال آپ ہے،اور یہی وجہ ہے کہ آج عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں اور اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن اپنے قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پارٹی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہیں ۔

مورخہ 29 دسمبر2015ء بروز منگل

پارٹی آئین اور ڈسپلن کی خلاف ورزی پر اے این پی کے متعدد عہدیداران کو شوکاز نوٹس جاری
لوئر دیر کے صدر حسین شاہ یوسفزئی سمیت پوری کابینہ کو نوٹس ، تمام عہدیداران کو سات دن کے اندر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت
کرک کے احمد فاروق ، حاجی الیاس ، ضمیر بادشاہ ، ٹانک کے عظمت بیٹنی اور ہنگو کے حسن خان ایڈوکیٹ کو بھی نوٹس جاری
* کوئی بھی عہدیدار یا کارکن پارٹی آئین اور ڈسپلن سے مبراء نہیں ہے۔ ’’ امیر حیدر خان ہوتی ‘‘

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں پارٹی آئین اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے اور پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث عہدیداران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں اور ان کو ہدایت کی ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنی وضاحت پیش کریں۔ پارٹی کی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں ایسے متعدد افراد کی نشاندہی کی گئی جو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کے مطابق جن عہدیداران کو شو کاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں اے این پی دیر لوئر کے صدر حسین شاہ یوسفزئی ، جنرل سیکرٹری عنایت اللہ خان سمیت پوری کابینہ ، کرک کے احمد فاروق خان ، حاجی الیاس اور ضمیر بادشاہ ، ٹانک کے عظمت بیٹنی اور ہنگو کے حسن خان ایڈوکیٹ شامل ہیں۔
تمام عہدیداران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنی اپنی وضاحت پیش کریں ورنہ پارٹی آئین کی رو سے ان کے خلاف درکار کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے اس موقع پر واضح کیا کہ اے این پی نظم و ضبط کی حامل ایک اُصولی جماعت ہے اور ہر عہدیدار اور کارکن اس بات کا پابند ہے کہ وہ آئین اور ڈسپلن کی پابندی کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر سزا اور جزا کا عمل جاری رہے گا اور کسی کو بھی ڈسپلن ، آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کو مزید فعال اور منظم بنانے کیلئے لازمی ہے کہ تمام عہدیداران اور کارکن پارٹی کے نظم و ضبط اور پالیسیوں کا مکمل احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے پارٹی کے فیصلوں اور پالیسیوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔

مورخہ : 29.12.2015 بروز منگل

* نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی مردان بم دھماکے کی شدید مذمت
* واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی رنج و غم کا اظہار
* صوبائی حکومت سے زخمیوں کو تمام تر طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

پشاور (پریس ریلیز )نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خان اورصوبائی صدر سنگین خان ایڈووکیٹ نے اپنے ایک مشترکہ بیان مردان میں ہو نے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعہ کو انتہا ئی بزدلانہ فعل قرار دیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جا ری اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے بننے والے نیشنل ایکشن پلان پر سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد نہ ہو نے کی وجہ سے انتہاپسند مذموم اور انسانیت سوز کا رروائیوں کے ذریعے خطے میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں انہوں نے مردان کے اندوہناک واقعہ میں شہید ہونے والے بے گناہ اور معصوم افراد کے لواحقین سے دلی رنج وغم کااظہارکیا سوگواران سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ متاثرین کے لئے فوری طور پر ما لی امداد اور زخمی ہونے والوں کو خصو صی طور پر علاج معالجے کی فراہمی کو یقینی بنائے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین تر جیحات ہو تی ہیں ۔اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درامد کرتے ہو ئے ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ٹھوس بنیادوں اقدامات اٹھائیں تاکہ عوام مزید مصیبتوں اور خونریزی سے محفوظ رہ سکیں ۔

مورخہ 29 دسمبر2015ء بروز منگل

* باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کی صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس
* فخر افغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی کیلئے خصوصی کمیٹیوں کا قیام۔
* 20سے25 جنوری کے درمیان تمام اضلاع ، فاٹا اور ایف آرز میں برسی کے اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
* مرکزی اجتماع 26 جنوری کو چارسدہ میں منعقد ہو گا جس سے مرکزی اور صوبائی قائدین خطاب کرینگے۔

پشاور ( پ ر ) باچا خان مرکز پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں کابینہ کے ارکان کے علاوہ پشاور کے پارٹی صدور اور جنرل سیکرٹریز نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
اجلاس میں فخر افغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی کے اجتماعات کا جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں طے پایا گیا کہ برسی کے سلسلے میں سے بڑا اجتماع 26 جنوری کو چارسدہ میں منعقد کیا جائیگا جبکہ صوبے کے تمام اضلاع ، فاٹا کی ایجنسیوں اور ایف آرز میں 20 سے 25 جنوری کے دوران برسی کے اجتماعات کا انعقاد کیا جائیگا۔ جن سے مرکزی اور صوبائی قائدین خطاب کریں گے۔ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کے مطابق اجلاس میں برسی کے اجتماعات کے انعقاد اور رابطوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ ملاکنڈ ڈویژن کیلئے قائم کمیٹی میں میاں افتخار حسین ، واجد علی خان اور ایوب اشاڑے شامل ہیں جبکہ جنوبی اضلاع کی کمیٹی حاجی غلام احمد بلور ، سردار حسین بابک اور باز محمد خان پر مشتمل ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ترتیب وار تمام اضلاع ، فاٹا اور ایف آرز میں 20 سے 25 جنوری کے دوران برسی کے اجتماعات کا انعقاد کیا جائیگا جبکہ 26 جنوری کو مرکزی اجتماع چارسدہ میں منعقد ہوگا۔
صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکن اور عہدیداران برسیوں کے سلسلے میں رابطے کر کے بھرپور تیاریاں کریں تاکہ ان دو عظیم لیڈروں کی برسی کو شایان شان طریقے سے منایا جا سکے اور ان کی جدوجہد کو شایان شان طریقے سے خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ اجلاس میں پارٹی کے بعض دیگر معاملات اور اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

مورخہ 29 دسمبر2015ء بروز منگل

* عارضی امن کو دائمی امن میں تبدیل کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد لازمی ہے ’ میاں افتخار حسین ‘
* مردان کے واقعے نے خوف اور تشویش میں پھر سے اضافہ کیا ہے، لگ یہ رہا ہے کہ حملہ آور پھر سے متحد ہو رہے ہیں۔
* اگر حملہ آور دفاتر کے اندر گھسنے میں کامیاب ہو جاتا تو جانی نقصانات کی شرح میں خطرناک اضافہ ہوتا۔ مردان میں بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے سانحہ مردان کے بعد مردان میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا اور وہاں زیر علاج زخمیوں کی عیادت کی اور شہداء کے لواحقین کیساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ میاں افتخار حسین نے لواحقین اور زخمیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کو اے این پی کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ پارٹی صدمے کی اس حالت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے دُکھ درد میں برابر کی شریک ہے۔
دریں اثناء ہسپتال میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر اگر عمل کیا جاتا اوراس کا دائرہ صرف فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا تک محدود کرنے کی بجائے پورے ملک تک پھیلایا جاتا تو اس کے زیادہ مثبت نتائج برآمد ہوتے اور دہشتگردوں کو دوبارہ متحد ہونے کا موقع نہیں مل پاتا۔ تاہم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بوجوہ ایسا نہیں کیا گیا اور مردان کے واقع سمیت بعض دیگر حملوں سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ دہشتگرد پھر سے متحد ہو رہے ہیں اور ان کے رابطے اور صلاحیتیں بھی بحال ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مردان کے واقعے نے عوام کو پھر سے خوف اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور یہ بات اور بھی تشویشناک ہے کہ حملہ آوروں نے ماضی کی طرح پھر سے عوام اور عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر گارڈ نے جان کی بازی لگا کر خودکش کو اندر جانے سے نہیں روکا ہوتا اور وہ اندر پہنچ پاتا تو جانی نقصانات کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہوتی کیونکہ اس وقت دفاتر کے اندر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ عارضی امن کو دائمی اور مستقل امن میں تبدیل کرنے کیلئے لازمی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر پورے ملک کی سطح پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اس کے ساتھ پڑوسی ممالک کیساتھ حال ہی میں جن رابطوں کا آغاز ہوا ہے ان کو نیک نیتی کیساتھ آگے بڑھایا جائے تاکہ مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور ریاستوں کی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کا راستہ ہموار کیا جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ امن کے قیام کو مستقل بنانے کیلئے جو زمین ہموار ہوئی ہے اس سے فوری اور مؤثر فائدہ اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
میاں افتخار حسین نے مردان کے ہسپتالوں میں علاج کی سہولتوں کے فقدان اور ڈاکٹروں کی غیر حاضری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد زخمیوں کو تشویشناک حالت میں پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا اس جانب اشارہ ہے کہ مردان جیسے اہم اور بڑے شہروں میں بھی بنیادی طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زخمیوں کو بہترین علاج مہیا کرتے ہوئے پورے صوبے کی سطح پر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس قسم کے سانحات سے مقامی سطح پر نمٹا جائے۔

مورخہ 29 دسمبر2015ء بروز منگل

* اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور مردان میڈیکل کمپلیکس کا دورہ ’ زخمیوں کی عیادت‘
* صوبے کے غیور پختون ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے مرعوب نہیں ہونگے۔ ’ حیدر خان ‘

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ کیا اور مردان نادرا آفس پر خودکش حملے کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی عیادت اور ان کی خیریت دریافت کی اپنے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے دہشتگردی کے واقعہ کو انسانیت دُشمن عناصر کی انسانیت سوز کارروائی کو انتہائی بزدلانہ فعل قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے دہشتگردی کے اس واقعے میں شہید ہونے والے بے گناہ اور معصوم افراد کے لواحقین سے دلی رنج و غم کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی۔ اُنہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ صوبے کے غیور پختون ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے مرعوب نہیں ہونگے اور نہ ہی ایسی ظالمانہ کارروائیاں ہمارے حوصلے پست کر سکتی ہیں ۔ اُنہوں نے شہداء کے لواحقین کیساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اس موقع پر اے این پی مردان کے جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ، اے این پی پشاور سٹی کے جنرل سیکرٹری سرتاج خان ، اے این پی فاٹا کے نائب صدر عمران آفریدی اور عمر واحد بھی اُن کے ساتھ موجود تھے۔
بعدازاں اُنہوں نے مردان میں ایم ایم سی اور ڈی ایچ کیو میں زخمیوں کی عیادت کے اس موقع پرضلع ناظم مردان حمایت اللہ مایار اور اے این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان بھی موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ نادراآفس میں خودکش حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنانے کی کوئی مذہب اورمعاشرہ اجازت نہیں دیتا انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اوراب وہ پاگل ہوگئے ہیں اور اپنے مذموم عزائم کے لئے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنارہے ہیں تاہم پوری قوم دہشت گردوں کی خلاف متحد ہیں اوران کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور وہ اس قسم کی مذموم کاروائیوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پور ی قوم متحد ہے،اور دہشت گردوں کی ان مذموم کاروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے ، انہوں نے واقعے میں شہید ہونے والوں کیلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

مورخہ 29 دسمبر2015ء بروز منگل

اسفندیار ولی خان کی مردان دھماکے کی مذمت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے مردان میں نادرا دفتر پر بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں 12قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور وہ اس قسم کی مذموم کاروائیوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سیاسی ، مذہبی ،عسکری قیادت اور پور ی قوم متحد ہے،اور دہشت گردوں کی ان مذموم کاروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے ، انہوں نے واقعے میں شہید ہونے والوں کیلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

مورخہ : 23.12.2015 بروز بدھ

عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی کابینہ کا اجلاس(کل) منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوگا۔

* صوبائی صدر امیر حیدرخان ہوتی کی زیر صدارت اجلاس میں باچا خان اور خان عبدالولی خان کی برسی سمیت دیگر اُمور پر اہم فیصلے ہونگے۔

* برسی کے انتظامات کی حکمت عملی سمیت مختلف کمیٹیوں کی رپورٹس کا جائزہ بھی لیا جائیگا ’ سردار حسین بابک ‘

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس(کل) منگل کی صبح ساڑھے دس بجے باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوگا جس کی صدارت پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کرینگے۔
صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کی جانب سے جاریکردہ بیان کے مطابق صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ماہ جنوری کے دوران فخر افغان باچا خان بابا اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی کے حوالے سے مختلف تجاویز کی روشنی میں فیصلے کیے جائیں گے اور اس مقصد کیلئے مربوط حکمت عملی وضع کی جائیگی۔ اس کے علاوہ پارٹی کے دیگر اُمور سے متعلق معاملات پر مختلف کمیٹیوں کی رپورٹس پر تفصیلی بحث کی جائیگی۔ صوبے اور فاٹا کی پارٹی سرگرمیوں اور تنظیمی معاملات سے متعلق مختلف عہدیداروں کی رپورٹس کی روشنی میں اہم فیصلے بھی کیے جائیں گے، ان کے مطابق اجلاس میں صوبائی کابینہ کے تمام عہدیداران شرکت کرینگے۔

مورخہ : 23.12.2015 بروز بدھ

 بعض قوتوں نے اسلامی تعلیمات کے برعکس اسلام کو تشدد اور نفرت کی علامت بنا دیا ہے ’ میاں افتخار حسین ‘
اس رویے کے اثرات نے ہمارے خطے اور معاشرے کو بدترین حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ عدم تشدد ہی مسائل کا واحد حل ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد ناگزیر ہے بلا امتیاز احتساب کے حق میں ہیں مگر انتقامی اقدامات کی اجازت نہیں دینگے۔
پبی میں کرسمس تقریب میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انسانیت کے تحفظ اور امن کے قیام کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا تمام مذاہب کی بنیادی ذمہ داریوں میں آتا ہے تاہم یہ بات باعث تشویش ہے کہ بعض تشدد پسند لوگوں نے اسلام میں اپنے نظریات اور ایجنڈے کے ذریعے تشدد کو فروغ دیا جس کے اثرات نے بعض دیگر علاقوں کے علاوہ ہمارے خطے کو بھی بدترین صورتحال سے دوچار کر دیا۔
وہ پبی میں کرسمس کی تقریب کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس سے دیگر کے علاوہ صدیق مسیح ، ایلس انجم اور ماجد مسیح نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں میاں افتخار حسین اور دیگر نے کرسمس کا کیک کاٹتے ہوئے مسیحی برادری کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے عدم تشدد کے فلسفے کا عملی نمونہ بن کر دُنیا کو تاقیامت امن اور محبت کا درس دیا۔ اسی فلسفے کی تقلید میں باچا خان نے پشتونوں میں مشہور زمانہ فلسفہ عدم تشدد کی بنیاد ڈال کر ایک نئی مثال قائم کی۔ اگر باچا خان کے عدم تشدد کے نظریات پر عمل کیا جاتا تو آج خطے کی صورتحال یکسر مختلف ہوتی اور اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور معاشرتی انحطاط سے بچاجاتا۔ اُنہوں نے کہا کہ مستقل امن اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک دوسرے مذاہب اور نظریات کا انسانی حقوق کی بنیاد پر یکساں احترام نہیں کیا جاتا اور اے این پی اسی فلسفے کو آگے لیکر بڑھتی آئی ہے۔
دریں اثناء مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی بلا امتیاز احتساب کی حامی رہی ہے تاہم نام و نہاد احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ لگ یہ رہا ہے کہ صوبائی حکومت نے نیب کے اقدامات سے خود کو بچانے کیلئے صوبائی احتساب کمیشن تشکیل دے دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی قوتوں کے علاوہ قانونی ماہرین اور دیگر حلقے بھی اس نظام پر تشویش اور خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنا دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے اور اگر ہمارے اداروں اور سیاستدانوں نے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس کی رفتار تیز نہیں کی تو یہ سنہری موقع ضائع ہو جائیگا اور لاتعداد شہداء کی روحوں کے علاوہ ہماری نئی نسل بھی ہمیں معاف نہیں کریگی۔

مورخہ : 23.12.2015 بروز بدھ

* حیدر خان ہوتی کا مولانا طیب کے صاحبزادے کے انتقال پر اظہار افسوس

پشاور(پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ممتاز عالم دین مولانا طیب کے جوان سال بیٹے کی وفات پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کیلئے دُعا کی ہے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء کرنے کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے ان کے صاحبزادے کی وفات کو متاثرہ خاندان کیلئے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی تکلیف کے اس کھٹن وقت میں متاثرہ خاندان کیساتھ برابر کی شریک ہے۔ اُنہوں نے مولانا طیب اور میجر (ر) محمد عامر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور خاندان کے صبر جمیل کیلئے دُعا کی ہے۔

مورخہ 23 دسمبر2015ء بروز بدھ
نئی صنعتی بستیوں کے قیام سے قبل عوام کے تحفظات دور کئے جائیں۔ سید عاقل شاہ
صوبے کو گیس کی خود ساختہ کمی کا سامنا ہے اور گیس کی فراہمی کے بغیر نئی صنعتی بستیوں کا قیام حیرت انگیز ہے
خیبر پختونخوا گیس ضرورت سے زیادہ پیدا کر رہا ہے تاہم اسی صوبے کو گیس سے محروم کر دیا گیا
صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹ پہلے سے موجود ہے جو صرف گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑی ہے
سرپلس گیس کے عدالتی احکامات کے باوجود لوڈ شیڈنگ کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ نے نئی صنعتی بستیوں کے قیام کے اعلانات پر حیرت اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کو گیس کی خود ساختہ کمی کا سامنا ہے اور گیس کی فراہمی کے بغیر نئی صنعتی بستیوں کا قیام حیرت انگیز ہے ، انہوں نے پارٹی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا گیس اور بجلی اپنی ضرورت سے زیادہ پیدا کر رہا ہے تاہم اسی صوبے کو گیس سے محروم کر کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا اور اس پر حکومت نئی صنعتی بستیاں لگانے کے بلند و بانگ نعرے لگا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بو کھلاہٹ کا شکار ہے اور عوام کو ذہنی اذیت سے دوچار کرنے پر تلی ہوئی ہے ، سید عاقل شاہ نے کہا کہ صوبے میں نئی صنعتی بستیوں کے قیام سے قبل عوام کے تحفظات دور کرنا ضروری ہے جبکہ سرپلس گیس کے عدالتی احکامات کے باوجود لوڈ شیڈنگ کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے ، انہوں نے کہا کہ 480ایم ایم سی ایف میں سے صرف 220ایم ایم سی ایف کس کھاتے میں استعمال کئے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی بدقسمتی ہے کہ خیبر پختونخوا سے پورے ملک کو کثیر مقدار میں گیس کی فراہمی جاری ہے لیکن اس صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور یہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹ پہلے سے موجود ہے جو صرف گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑی ہے اور ان میں سے جو کارخانے کام کر رہے ہیں ان کی پیداوار بھی نہ ہونے کے برابر ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نئی صنعتی بستیوں کے قیام کی بجائے موجودہ انڈسٹری پر توجہ دے اور لوگوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے ، انہوں نے کہا کہ حکمران اپنے عزیزوں کو نوازنے میں مصروف ہے اور اقربا پروری کی انتہا کر دی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے اور عوام کے بہتر مفاد کیلئے صوبائی حکومت کو غیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کرنا ہو گا۔

مورخہ 23 دسمبر2015ء بروز بدھ

بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز نہ دینا حکومت کی ناکامی ہے۔ ہارون بشیر بلور
بلدیاتی انتخابات کا سہرا سپریم کورٹ کے سر ہے ، اسی لئے صوبائی حکومت فنڈز دینے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے
صوبہ بھر میں بلدیاتی نمائندے سراپا احتجاج ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
تمام اضلاع میں بلدیاتی نمائندے ٹینٹ دفاتر بنا کر انہیں اپنے خرچ پر چلا رہے ہیں

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز دینے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے جو عوامی مینڈیٹ کی توہین کے برابر ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کو چھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن تاحال ممبران کو فنڈ نہ دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔انہوں نے موجودہ صوبائی حکومت پر تنقید کر تے ہوئے کہا کہ 90روز میں بلدیاتی انتخابات کا و عدہ کر نے اور تبدیلی کے دعوے کرنے والوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات کرائے جبکہ اب حالت یہ ہے کہ صوبائی حکومت ان منتخب بلدیاتی ناظمین کو اختیارات اور فنڈز دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اس سے ان کی بد نیتی صا ف ظاہر ہو گئی ہے، انہوں نے کہا کہ حکمران بلدیاتی انتخابات کے مقاصد اور اہمیت سے بے خبر ہیں۔ ہارون بشیر بلور نے کہا کہ حکمران انتخابات سے پہلے بلند وبانگ دعوے کرتے رہے کہ بلدیاتی الیکشن کے بعد تبدیلی آئے گی لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ حکمران کو خود پتہ نہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے کیونکہ نہ تو وہ عوام کو فنڈ دے رہے ہیں اور نہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عمل پیرا ہیں، انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں بلدیاتی نمائندے سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومت کو کوئی پرواہ نہیں،اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع میں بلدیاتی نمائندے اپنے دفاتر اپنے خرچ سے چلا رہے ہیں اور بیشتر علاقوں میں نمائندے ٹینٹ دفاتر لگا رہے ہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد از جلد تمام بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ کا اجرا یقینی بنائے اور بلدیاتی حکومتیں چلانے اور عوام کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کے حل کیلئے منتخب نمائندوں کومراعات دے۔

مورخہ 23 دسمبر2015ء بروز بدھ
* آئی ڈی پیز کے معاملے پر مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک نکتے پر متفق نہیں، سردار حسین بابک
* اے این پی وزیرستان آپریشن سمیت تمام قبائلی علاقوں کے آئی ڈی پیز کی فوری واپسی اور بحالی چاہتی ہے
*قومی ایکشن پلان سے دہشت گر دی کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے، تاہم اس کے تمام نکات پر من و عن عمل ناگزیر ہے
* عوام مر کزی اور صوبائی حکومتوں سے بیزار ہوچکے ہیں ‘ لوگوں کی نظریں اور توقعات اے این پی سے وابستہ ہیں
*حکمران دہشت گر دی کے خلاف لڑی جا نے والی جنگ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر یں تو ہماری آنے والی نسلوں کو پر امن معاشرہ مل سکتا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی وزیرستان آپریشن سمیت تمام قبائلی علاقوں کے آئی ڈی پیز کی فوری واپسی اور بحالی چاہتی ہے جو ملک میں امن کے قیام کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اس کیلئے تمام ضروری اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتی ہے ، باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے آئی ڈی پیز کے معاملے پر مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک پیج پر متفق نہیں ہیں اور ایک دوسرے کو مورو الزام ٹھہرانے کی روش اپنائے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز تو اے این پی کے دور میں بھی آئے تھے لیکن جس عزت و وقار کی ساتھ ان کی واپسی اور بحالی کا کام اے این پی نے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں اے این پی کی پالیسیوں کی تقلیدکرنی چاہئے، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں جو ترقیاتی کام کئے ان کی مثال ملک کی 68سالہ تاریخ میں نہیں ملتی ،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے نئے پاکستان اور تبدیلی کا جو نعرہ لگایا وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے کافی ہے ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے جبکہ اس جماعت نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تعلیم ، صحت ،روزگار اور صوبہ کے حقوق کے حوالے سے کارکردگی سے کو ئی بھی انکار نہیں کر سکتا اور یہی وجہ ہے کہ آج عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں اور اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن اپنے قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پارٹی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہیں ،سر دار بابک نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے آنے کے بعد دہشت گر دی کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے اور ساری قوم کی نظریں دہشت گر دی کے خاتمے پر مر کوز ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر من و عن عمل کیا جانا بے حد ضروری ہے تا کہ معصوم اور بے گناہ انسانوں کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں،انہوں نے کہا کہ دہشت گر دی نے ملک اورخصوصاٌ صوبے کو تباہ کر دیا ہے۔پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ عوام مر کزی اور صوبائی حکومتوں سے بیزار ہوچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی نظریں اور توقعات اے این پی سے وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پختون دہشت گر دی کے خلاف بے پناہ قر بانیاں دے کر پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔لہذامرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو پختونوں کو تخفظ دینے کے لئے عملی اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان دہشت گر دی کے خلاف لڑی جا نے والی جنگ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر یں اور تمام حکومتیں غیر ضروری سر گر میوں میں وقت ضائع کئے بغیر دہشت گر دی سے نمٹنے کے لئے چوکس ہو جائیں ورنہ آیندہ نسلیں انہیں معاف نہیں کر یں گی۔

مورخہ : 23 دسمبر 2015 بروزبدھ

دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ پشتون بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایمل ولی خان
بین الاقوامی طور پر دہشت گردی کے کسی واقعے میں کوئی بھی پشتون براہ راست ملوث نہیں ہوتا
اے این پی کی وسیع النظر اور بالغ نظر قیادت کے مؤقف اور فیصلے قومی مفاد میں تھے

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خطے کے حالات اطمینان بخش نہیں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سب سے زیادہ پشتون بری طرح متاثر ہوئے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ پا کستان اور افغانستان عالمی برادری کو خطے میں امن کے مستقل قیام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر مائل کریں تاکہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی طور پر دہشت گردی کے کسی واقعے میں کوئی بھی پشتون یا افغان براہ راست ملوث نہیں ہوتا لیکن ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پختونوں کو دہشت گردی کی آڑ میں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا 2013ء کے انتخابات اسی سازش کی ہی ایک کڑی تھی جس میں اے این پی کو کھڈے لائین لگانے میں ان سازشی عنا صر نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ تاہم اس سب کے باوجود اے این پی نے پختونوں کے حقوق کے ہر فورم آواز اٹھائی ۔ اُنہوں نے کہا کہ پشتونوں نے سروں کے نذرانے دئیے اور دہشتگردوں کے ہر ظلم اور بربریت کا جوانمردی سے مقابلہ کیا اور اس ساری صورتحال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے جس بہادری سے وطن دُشمنوں کا مقابلہ کیا اگر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اے این پی کی سیاست اور مؤقف کی بروقت تائید کرتیں تو شاید اتنی بڑی تباہی نہ ہوتی۔۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت ضائع کیے بغیر نیشنل ایکشن پلان کے تمام شقوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اُٹھانے کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ اے این پی کی وسیع النظر اور بالغ نظر قیادت کے مؤقف اور فیصلے قومی مفاد میں تھے اور یہی وجہ ہے کہ بہت بڑی تباہی کے بعد بہت دیر سے پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعتیں اے این پی کے مؤقف کی تائید کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیکیورٹی فورسز کی کوششیں قابل تحسین ہیں تاہم دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر اور تسلسل سے ہی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

مورخہ : 22.12.2015 بروز منگل
* وزیر اعظم اقتصادی راہداری کیلئے قائم کمیٹی کی رپورٹ میں تاخیر کا نوٹس لیں ’ اسفندیارولی خان‘
* وزیر اعظم کی ہدایت کے باوجود مغربی روٹ سے متعلق تشکیل کردہ کمیٹی پندرہ روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی پابند تھی۔
* ایسا نہ ہو کہ کہیں آل پارٹیز کانفرنس کے مغربی روٹ پر کام کا وعدہ عملی ہونے سے رہ جائے ’ اے این پی سربراہ کا بیان‘
پشاور(پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے بارے میں تحفظات و خدشات پر وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کو چھ رویہ کرنے کیلئے زمین حصول کی خاطر خصوصی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کے بعد 15 دنوں میں رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم مغربی روٹ کو متنازعہ ہونے سے بچانے کیلئے ذاتی دلچسپی لے کر وعدے کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ منگوائیں اور کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کی تاخیر کی وجہ سے یہ کہیں آل پارٹیز کانفرنس میں مغربی روٹ پر سب سے پہلے کام شروع کرنے کا وعدہ ہی نہ رہ جائے انہوں نے کہا کہ اے این پی پاک چین اقتصادی راہداری کو ملکی ترقی و قومی خوشحالی کی ضمانت سمجھتی ہے اور اس منصوبے کو سبوتاژ ہونے سے بچانے کیلئے پہلے روز سے ہی آواز بلند کر رہی ہے ۔اسفند یار ولی خان نے کہا کہ وزیراعظم ایک قومی منصوبے کے بارے میں اپنی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کی رپورٹ تاحال نہ پیش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں ۔9 دسمبر 2015 کو وزیراعظم ہاؤس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ڈی آئی خان مغل کوٹ سیکشن کو چار رویہ کرنے ، این ایچ اے کی طرف سے این فائیو کو اپ گریڈ کرنے کیلئے ایشین ڈویلپمنٹ سے مذاکرات اور اگر ایشین ڈویلپمنٹ فنڈز فراہم نہ کر سکے تو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے اضافی فنڈ ز جاری کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا ۔سرمایہ کاری بور ڈکے چیئرمین کی کنوینئر شپ میں چیئرمین این ایچ اے ، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ،وفاقی وزارت خزانہ ،صنعت و پیدوار پانی و بجلی، پیٹرولیم، کے گریڈ 21 کے آفسیرز اور سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ ممبرز مقرر کیے گئے تھے ۔اور فیصلہ ہوا تھا کہ کمیٹی 15 دنوں میں وزارت خزانہ کے ذریعے رپورٹ وزیراعظم کو 15 دنوں میں پیش کرے گی ۔

مورخہ : 22.12.2015 بروز منگل

* ملک اور خطے کا امن دہشتگردی میں ملوث تمام گروپوں کے خلاف بلا امتیاز اور بلاتاخیر کارروائیوں سے مشروط ہے ’ اے این پی ‘
* نیشنل ایکشن پلان اور دیگر اقدامات کا دائرہ محض فاٹا تک محدود رکھنے کی بجائے پنجاب بیسڈ گروپوں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے ’ میاں افتخار حسین ‘
* پشتونوں کو ایک منصوبے اور طرز فکر کے ذریعے دہشتگردی اور انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھایا گیا ’ افراسیاب خٹک ‘
* بشیر احمد بلور اور دیگر شہداء نے جانوں کی قربانیاں نہ دی ہوتیں تو آج حالات خطرناک حد تک خراب ہوتے ’ حیدر خان ہوتی ‘
* دونوں حکومتیں دہشتگردی کے مسئلے پر اب بھی ابہام اور مصلحت کا شکار ہیں ورنہ بشیر بلور کی اونرشپ لی جاتی ’ سردار حسین بابک ‘
* ہم بشیر احمد بلور اور دیگر شہداء کا وژن آگے لیکر جائیں گے’ غلام احمد بلور ‘ پشاور میں شہید لیڈر کی تیسری برسی پر عظیم اجتماع کا انعقاد

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی نے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کو دہشتگردی میں ملوث تمام گروپوں اور تنطیموں کے خلاف بلا امتیاز اور بلا تاخیر کارروائیوں سے مشروط کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ آپریشن اور دیگر اقدامات کا دائرہ صرف وزیرستان یا فاٹا تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے پنجاب کی ان تنظیموں اور ان کے حامیوں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے جن کے ساتھ بوجوہ رعایت برتی جارہی ہے۔
تحصیل گورگٹھڑی ہال پشاور میں شہید امن بشیر احمد بلور کی تیسری برسی کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے لیڈروں میاں افتخار حسین ، حاجی غلام احمد بلور ، افراسیاب خٹک ، امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک نے شہید لیڈر سمیت تمام شہداء کی جدوجہد ، جرأت اور قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کی بے پناہ قربانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج بعض رکاوٹوں کے باوجود تقریباً سبھی سیاسی قوتیں اس بات پر متفق ہو گئی ہیں کہ یہ کسی اور کی بجائے ہماری سلامتی اور بقاء کی جنگ ہے ورنہ اس سے قبل جب اے این پی کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور اے این پی سوات میں آپریشن کر رہی تھی تو ہمیں میدان میں تنہا چھوڑا گیا تھا۔
مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اپنی تقریر میں کہا کہ گڈ اور بیڈ کا خاتمہ کیے بغیر دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں مؤثر ثابت نہیں ہوں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح اور ضرورت کے مطابق عمل نہیں ہو رہا ۔ اگر ہورہا ہوتا تو پنجاب کے درجنوں انتہا پسند گروپوں کے ساتھ رعایت نہیں برتی جاتی۔ اُنہوں نے کہا کہ گڈ اور بیڈ طالبان کا تصور ہی غلط ہے یہ سب درندے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت کا مطلب پاکستان کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ اگر ہم نے ماضی کی مبہم پالیسیوں سے سبق سیکھا ہوتا تو سانحہ پشاور سمیت لاتعداد دیگر سانحات سے بچا جا سکتا تھا۔ اب بھی ملک کو شدید خطرات کا سامنا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این کو بشیر بلور جیسے شہداء پر فخر ہے۔
برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک نے کہا کہ پشتونوں کو ایک منصوبے اور طرز فکر کے ذریعے دہشتگردی کی بھینٹ چڑھایا گیا حالانکہ انتہا پسندی یا دہشتگردی کے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ یا تعلق نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے اس لیے لازمی ہے کہ افغانستان کے امن اور استحکام کیلئے اعلانات اور خواہشات کو عملی اقدامات اور مشترکہ کوششوں کی شکل دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خطے کو درپیش خطرات سے نمٹا جائے اور اس مقصد کیلئے دیگر کے علاوہ عالمی برادری بھی اپنا کردار ادا کرے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اگر اے این پی نے لازوال قربانیاں نہیں دی ہوتیں اور سوات آپریشن جیسے اقدامات نہیں کیے ہوتے تو آج صورتحال مزید گھمبیر ہوتی اور ملک کے حالات پر قابو پانا مشکل ہوجاتا۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور ہم آہنگی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ناگزیر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے کو کسی تاخیر کے بغیر آگے بڑھایا جائے اور ملک کے اندر کسی انتہا پسند قوت کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ بشیر احمد بلور ایک بہادر اور باجرأت لیڈر تھے۔ ان کو اپنے عوام اور مٹی سے بے پناہ محبت تھی اور اسی محبت کا ثبوت اُنہوں نے جان کا نذرانہ دیکر پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ موجودہ حکومت بشیر بلور شہید چلڈرن ہسپتال کی تکمیل میں جان بوجھ کر تاخیر سے کام لے رہی ہے حالانکہ اس منصوبے کیلئے بجٹ بھی مختص کیا گیا تھا اور اس کا آغاز بھی ہوا تھا۔
برسی سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ دونوں حکومتیں تمام تر دعوؤں کے باوجود دہشتگردی کے معاملے پر اب بھی مصلحت اور ابہام کا شکار ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو دونوں حکومتیں بشیر احمد بلور اور ایسے دیگر بے شمار شہداء کی اونر شپ لے لیتی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں ایک ایسی پارٹی کی حکومت برسراقتدار ہے جس کے لیڈر طالبان کیلئے دفاتر کھولنے کی بات کر رہے تھے اور ان کیلئے نرم گوشہ رکھتے آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسی ہی ایک پالیسی کے تحت اے این پی جیسی اس قوت کو پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا جس نے امن کیلئے لازوال قربانیاں دیں۔
اس موقع پر مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلور ایم این اے نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ بشیر بلور جیسے شہید کے بھائی ہیں۔ ہم ان کے وژن ، جدوجہد اور جرأت کو آگے لیکر چلیں گے اور اے این پی کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے کیونکہ اس مٹی میں امن لانا ہماری نئی نسلوں کیلئے ناگزیر ہے اور ہم یہ ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔

مورخہ : 21.12.2015 بروز پیر

* جرأت اور جدوجہد کی لازوال مثال شہید بشیر احمد بلور کی تیسری برسی آج منائی جائیگی۔
* شہید لیڈر پانچ بار رکن اسمبلی اور متعدد بار وزیر رہے، کئی بار اے این پی کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے۔
* 2008 کے بعد جرأت اور بہادری کا سیمبل بن گئے، کئی حملوں کی ناکامی کے بعد 22 دسمبر2012 کو شہید کیے گئے۔
* ان کی شہادت نے ملک کے علاوہ پوری دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا، جرأت اور جدوجہد پر طمغۂ شجاعت سے نوازے گئے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے ممتاز رہنما اور سابق صوبائی وزیر شہید بشیر احمد بلور کی تیسری برسی آج انتہائی عقیدت و احترام کیساتھ منائی جائیگی۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق ان کی تیسری برسی کی مناسبت سے آج بروز منگل تحصیل گورگٹھڑی ہال پشاور میں ایک بڑے اجتماع کا انعقاد کیا جائیگا جس سے دوسروں کے علاوہ اے این پی کے مرکزی اور صوبائی قائدین خطاب کرینگے جبکہ بعض دیگر اضلاع اور صوبوں میں بھی شہید لیڈر کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اجتماعات کا انعقاد کیا جائیگا۔
شہید بشیر احمد بلور یکم اگست 1943 کو پیدا ہوئے تھے وہ 70 کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی ، این ڈی پی اور پھر اے این پی کی سیاسی جدوجہد کے ساتھ وابستہ ہوئے اور اپنی شہادت تک نہ صرف یہ کہ انتہائی متحرک رہے بلکہ کئی وزارتوں پر متمکن رہنے کے علاوہ اپنی پارٹی کے اہم ترین عہدوں پر بھی فائز رہے۔ ان کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ وہ پانچ بار پشاور سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور متعدد بار اہم وزارتوں پر فائز رہ کر خدمات سر انجام دیں۔
سال 2008 کے الیکشن کے بعد اُنہوں نے سینئر صوبائی وزیر کی حیثیت سے متحرک اور نمایاں ترین کردار اداکیا ۔ اُنہوں نے انتہا پسند قوتوں کا ہر فورم پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جرأت کی مثال بن کر اُبھرے۔ بشیر بلور شہید پر اُن کی شہادت سے قبل بھی متعدد حملے ہوئے تاہم وہ معجزانہ طور پر بچتے رہے۔ اُنہوں نے اس کے باوجود اپنی سرگرمیاں اور جدوجہد جاری رکھی جبکہ ان کو سنگین ترین خطرات کا سامنا تھا اور نہ صرف دھمکیوں بلکہ مسلسل حملوں کی زد میں بھی تھے۔
22 دسمبر2012 ء کے روز وہ پشاور کے ایک اجتماع میں شرکت کر رہے تھے کہ ایک خودکش حملہ آور نے ان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ دوسروں سمیت شدید زخمی ہوئے۔ اُن کو ساتھیوں کے ہمراہ ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اُن کی شہادت نے صوبے اور ملک کے علاوہ پوری دُنیا کے امن پسند حلقوں کو افسردہ کرنے کے علاوہ وہ جذباتی طور پر ہلا کر رکھ دیا اسی کا نتیجہ تھا کہ قومی سطح پر ان کی یاد میں سوگ کا اعلان کیا گیا اور کئی روز تک ماحول سوگوار رہا۔ شہید بشیر احمد بلور کو ان کی خدمات ، جدوجہد اور جرأت کے باعث دیگر اعزازات کے علاوہ طمغۂ شجاعت سے بھی نوازا گیا۔

مورخہ 21 دسمبر2015ء بروز منگل

* امیر حیدر خان ہو تی اور سردار حسین با بک کی خوشدل خان ایڈووکیٹ اور شیر محمد خان ایڈووکیٹ کو مبارکباد
* خوشدل خان ایڈووکیٹ نے پاکستان بار کو نسل کے الیکشن میں ریکارڈ ووٹ لے کر کا میابی حاصل کی ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری مالیات اور سابق ڈپٹی سیکرٹری خوشدل خان ایڈووکیٹ پاکستان بار کو نسل کے حالیہ الیکشن میں ریکارڈ ووٹ لے کر کا میاب ہو گئے ہیں جبکہ سوات کے شیر محمد خان ایڈووکیٹ بھی ریکارڈ ووٹ حاصل کرنے میں کا میاب رہے ہیں خوشدل خان ایڈووکیٹ نے کل چودہ کا میاب امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ سکور کئے اور کونسل کے ممبر بن گئے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے اپنے تمام ووٹرز اور اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کا میا بی وکلاء برادری کی کا میا بی کی ضمانت ہے انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر انسانی حقوق اور انصاف کی فراہمی اور دفاع کی اپنی جدوجہد جا ری رکھیں گے ۔اور اپنی برادری کو مایوس نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت شخصی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے وہ اپنے ساتھیوں اور وکلاء کیساتھ کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے دریں اثناء اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہو تی اور جنرل سیکرٹری سردار حسین با بک نے خوشدل خان ایڈووکیٹ اور شیر محمد خان ایڈووکیٹ سمیت دیگر ہم خیال اور جمہوریت پسند امیدواروں کو ان کی کا میابی پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے جمہوری اقدار اورانسانی حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی کوششیں جا ری رکھیں گے ۔

مورخہ : 21.12.2015 بروز پیر

* اے این پی کو دہشتگردی کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد پر پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا ’ سردار حسین بابک ‘
* ہم نے سوات میں آپریشن نہیں کرایا ہوتا تو انتہا پسندی پورے صوبے اور ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔
* جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی جیسی پارٹیاں دہشتگردی کے واقعات کی کھلی مذمت کی تکلیف بھی گوارا نہیں کرتیں۔
* غیر جمہوری رویوں کے باعث انتہا پسندی کو فروغ ملتا رہا، باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کی ورکشاپ سے خطاب‘

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر آواز اُٹھانے پر نہ صرف یہ کہ اے این پی کو کئی برسوں تک مسلسل حملوں ، دھمکیوں اور دباؤ کا نشانہ بنایا گیا بلکہ 2013 کے الیکشن میں ہمارا محاصرہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک منصوبے کے تحت ہمیں عوام کی پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا تاہم ان تمام مساعد حالات کے باوجود اے این پی میدان میں ڈٹی رہی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام پھر سے اے این پی کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
باچا خان مرکز پشاور میں باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کو محض اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ یہ امن ، ترقی اور استحکام کیلئے جدوجہد کرتی رہی۔ اے این پی ہی نے سوات آپریشن کو کامیاب بنایا۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو صوبے کے حالات کنٹرول سے باہر ہو جاتے اور انتہا پسندی نے پورے صوبے اور ملک کو لپیٹ میں لیا ہوتا۔ تاہم اس کا صلہ ہمیں مسلسل حملوں اور الیکشن کے پورے عمل سے باہر رکھنے کی صورت میں مل گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ آج جو لوگ آپریشن ضرب عضب کی حمایت کر رہے ہیں سوات آپریشن کے دوران اُنہوں نے اے این پی کو تنہا چھوڑ رکھا تھا بلکہ یہ لوگ ہماری قربانیوں ، جدوجہد اور پالیسیوں کی مخالفت کر رہے تھے۔ اگر اس وقت انتہا پسندی پر قومی اتفاق رائے کا اظہار کیا جاتا اور پورے ملک کی سطح پر مؤثر اور بلا امتیاز کارروائیوں کا آغاز کیا جاتا تو پاکستان بدترین حالات کا شکار ہونے سے بچ جاتا اور ہم کئی بڑے سانحات سے بھی بچ جاتے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی دُنیا کے ہر اس ایشو پر ریلیاں نکالنے میں دیر نہیں لگاتی جو کہ ان کے نظریات سے مطابقت رکھتا ہو۔ تاہم یہ پارٹی پاکستان کے لوگوں پر کرائے گئے حملوں پر مذمتی بیان جاری کرنے کی جرأت نہیں کرتی اور یہی حال تحریک انصاف اور بعض دیگر کا بھی ہے۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ ایسے ہی عناصر نے بعض طاقتور اداروں کی پشت پناہی سے بار بار جمہوریت کو ڈی ریل کرایا جس کے باعث ملک عدم استحکام سے دوچار رہا اور جمہوری رویوں کی بجائے انتہا پسندانہ رویے جنم لیتے رہے۔ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ ختم ہو کر رہ گیا ہے اور بے چینی اور خوف میں کمی نہیں آ رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ جن الزامات کا باچا خان اور خان عبدالولی خان نے برسوں تک سامنا کیا آج وہی الزامات اسفندیار ولی خان پر بھی لگائے جا رہے ہیں تاہم مخالفین کو معلوم ہونا چاہیے کہ فتوؤں اور غداری کے الزامات کا دور گزر چکا ہے اور عوام کو ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے حقیقی قیادت سے متنفر نہیں کیا جاسکتا۔

مورخہ : 21.12.2015 بروز پیر

پشاور(پریس ریلیز)ء عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے میانوالی میں نمل یونیورسٹی کیلئے مالکان سے زمین حاصل کرنے کے بارے میں عمران خان کی طرف سے استعمال کیے گئے الفاظ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے ثابت کر دیا ہے وہ رنجیت سنگھ طرز کے لیڈر ہیں شہریوں کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرنے کے بیان سے عمران خان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آیا ہے عمران خان کا لہجہ سیاسی رہنما کی بجائے گلی محلے کے کھلنڈے پن کا عکاس ہے سیاسی جماعت کے سربراہ کا دھمکی آمیز بیان ثابت کرتا ہے کہ عمران خان کی بڑھاپے میں بھی بچوں جیسی تربیت کی ضرورت ہے ۔زاہد خان نے عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے کر پوری قوم سے معافی مانگے ۔

مورخہ 21 دسمبر2015ء بروز پیر

شہید بشیر احمد بلور کی امن کیلئے قربانی رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی، ملک نسیم خان
برسی آج منائی جائے گی ، اور بشیر احمد بلور کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان نے کہا ہے کہ شہید بشیر احمد بلور کی امن کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف قربانی رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی اور ان کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ، اپنے ایک بیان میں ملک نسیم نے کہا کہ بشیر احمد بلور نے زندگی بھر عوام کے حقوق کی جنگ لڑی اور آخر کار اسی جنگ میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا ، انہوں نے شہید بشیر احمد بلور کی ہمت بہادری اور شجاعت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور پارٹی کیلئے ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کاوائیوں سے اے این پی کے ہر کارکن کا عزم اور حوصلہ دن بدن جوان ہوتا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے مذموم مقاصد سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہو سکتے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں اے این پی نے دی ہیں تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی ،ملک نسیم نے کہا کہ شہید بشیر احمد بلور کی تیسری برسی آج تحصیل گورگٹھڑی میں منعقد کی جا رہی ہے اور اس تقریب میں شہید کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

مورخہ:20-12-2015 بروزاتوار

شہید امن بشیر احمد بلور کی تیسری برسی 22دسمبربروزمنگل کو منائی جا ئے گی
تحصیل گورگٹھڑی میں منعقدہ تقریب میں صوبائی اور مرکزی قائدین شرکت کریں گے
پارٹی کیتمام کارکنوں کو برسی کی تقریب میں اپنی شرکت کو یقینی بنا نے ہدایت

پشاور(پریس ریلیز) شہید امن بشیر احمد بلور کی تیسری برسی مورخہ:22دسمبر2015 بروز منگل انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ تحصیل گورگٹھڑی میں منائی جا ئے گی ۔برسی کی تقریب میں پارٹی کے صوبائی اور مرکزی قائدین شرکت کریں گے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق پارٹی کے صوبائی اور مرکزی قائدین اور دیگر شخصیات خطاب کریں گے اور شہید امن بشیر احمد بلورکی سیاسی خدمات اور خطے میں امن کے قیام کے لئے انکی جدوجہدپر تفصیلی روشنی ڈالیں گے ۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردا ر حسین با بک نے تمام کارکنوں کو برسی کی تقریب میں اپنی شرکت کو یقینی بنا نے ہدایت کی ہے

مورخہ:20-12-2015 بروزاتوار

امیر حیدر خان ہو تی نے پا رٹی کی صوبا ئی کا بینہ کا اجلاس29 دسمبر کو طلب کر لیا
صوبائی کا بینہ کے تمام ارکان کو بروقت اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنا نے کی ہدایت کی

پشاور(پریس ریلیز) اے این پی کے صو بائی صدر امیر حیدر خان ہو تی نے پا رٹی کی صوبا ئی کا بینہ کا ایک آہم اجلاس29 دسمبر بروز منگل بوقت صبح دس بجے باچا خان مرکز پشاور میں طلب کیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جا ری اعلامیہ کے مطا بق اس اجلاس میں فخر افغان با چا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسیوں کے منا نے کے حوالے اور صوبائی کا بینہ کی ارکان پر مشتمل کمیٹیوں کی رپورٹس پر تفصیلی بحث اور غور خوص کیا جا ئے گا مزید براں اجلاس میں دونوں رہنماؤں کی برسیوں کے انعقاد و اختتامی پروگرام کے بارے میں لا نئحہ عمل مرتب کیا جا ئے گا ۔ صو بائی صدر نے صوبائی کا بینہ کے تمام ارکان کو بروقت اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنا نے کی ہدایت کی ہے ۔

مورخہ : 20.12.2015 بروزاتوار

* زلزلہ زدگان سرد موسم میں کھلے اسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ایمل ولی خان
*وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے حسب روایت ان سے غفلت اور لاپرواہی پر مبنی رویہ اختیار کر رکھا ہے
* ہزاروں متاثرین اڑہائی ماہ گزرنے کے باوجود بحالی تو درکنار بنیادی امداد سے بھی محروم ہیں
* حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا، حکومت آئی ڈی پیز اور زلزلہ زدگا ن کی حالت زار پر رحم کرے

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے اڑھا ئی ماہ گزرنے کے باوجود بھی زلزلہ زدگان متا ثرین فا ٹا مختلف علاقوں میں اس سرد موسم میں کھلے اسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے حسب روایت ان سے غفلت اور لاپرواہی پر مبنی رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ ہزاروں متاثرین کئی دن گزرنے کے باوجود بحالی تو درکنار بنیادی امداد سے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی اعلانات صرف اخباری بیانات کی حد تک ہی ہیں جبکہ عملی طور پر حکومتی کارکردگی با لکل صفر ہے ۔ امدادی کاموں کی فراہمی کا سلسلہ بھی سست ہے اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کاہلی سے نہ صرف یہ کہ متاثرین کی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے بلکہ محفوظ ٹھکانہ میسر نہ ہونے کے باعث لاکھوں خواتین ‘بچوں ‘نوجوانوں اور بوڑھوں کی زندگیو ں کو بھی سرد موسم سے خطرات لا حق ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ لوگ اب بھی بحالی اور امداد کے منتظر ہیں۔ صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نے اس امر پر نہایت افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا اور فاٹا ، پختونخوا کے عوام کو پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے سرے سے شہری ہی نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کارکردگی پر نظر ثانی کرتے ہو ئے آئی ڈی پیز اور زلزلہ زدگا ن کی حالت زار پر رحم کرے اور ان کی بحالی کے لئے سنجیدگی سے ایسے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جس سے ان کی مشکلات میں کمی آسکے ۔

مورخہ 20 دسمبر2015ء بروز اتوار
*آئی ایم ایف کی خوشنودی کیلئے عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے ، سردار حسین بابک
* مہنگائی کے سیلاب نے عوام کا جینا دبھر کر دیا ہے لیکن حکمران آئی ایم ایف کو خوش کرنے میں لگے ہیں
*گیس کی قیمتوں میں 38فیصد اضافے کا بوجھ عوام پر پڑے گا جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا
*وفاق میں جب بھی نواز حکومت آئی عوام کو بنیادی اشیائے ضرورت سے محروم کر دیا گیا
*خیبر پختونخوا میں انتظامیہ گراں فروشوں کے سامنے بے بس ہے ، اور غیر معیاری اشیاء کی چیکنگ کا کوئی انتظام نہیں
* حکومت خیالی دنیا سے نکل کر اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائے تا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے گیس کی قیمتوں میں مزید 38فیصد اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت آئی ایم ایف کی خوشنودی کیلئے عوام کو قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کرے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے سیلاب نے عوام کا جینا دبھر کر دیا ہے لیکن نواز حکومت آئی ایم ایف کو خوش کرنے میں لگی ہوئی ہے جس کی بھاری قیمت غریب عوام ادا کر رہے ہیں ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گیس پریشر کی کمی کے باعث لوگ لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں اور انہیں پتھروں کے دور میں دھکیل دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وزراء صرف اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں اور انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں جبکہ نواز شریف ووٹ لینے کے بعد اب لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ خیبر پختونخوا گیس اور بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہے اور صوبے کے عوام پر ہی گیس اور بجلی بند کر دی گئی ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ، انہوں نے کہا کہ عوام ذہنی کرب میں مبتلا ہیں اور شدید سردی کے موسم میں گیس کی کمی کے باعث لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے،جبکہ قیمتوں میں اضافے کے باعث اب بھاری بھر کم بل بھی ادا کرنا پڑیں گے، انہوں نے صوبے کی مجموعی صورتحال پر بھی ا فسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت روز مرہ اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں ناکام ہو چکی ہے اور منافع خوروں کی چاندی ہو رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک طرف گیس و بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے تو دوسری طرف ہوشربا مہنگائی اور روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی کمرتوڑ کر رکھ دی ہے ،جبکہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں آرہی ،عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور صوبائی حکومت جھوٹے دعووں اور فریبی نعروں سے ہی فرصت نہیں ملتی ، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ گراں فروشوں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے جس کے بعد منافع خور من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ، انہوں نے کہا کہ تبدیلی والوں نے صوبے کے عوام کو مہنگائی کے تحفے دیئے اور غیر معیاری اشیاء کی چیکنگ کا کوئی انتظام نہیں جس کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت خیالی دنیا سے نکل کر اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائے تا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔

مورخہ 20 دسمبر2015ء بروز اتوار
پنجاب سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈآپریشن ہونا چاہئے، میاں افتخار حسین
اچھے اور برے دہشتگرد کا فرق دراصل دہشتگردی کو دوام بخشتی رہا ہے اور ملک مزید ایسی غیر منطقی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا
سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ادھر ادھر کی باتیں چھوڑ کر دہشت گردی کے خلاف ایک نکتے پر متفق ہو نا پڑے گا
داعش ایک حقیقت ہے جو القاعدہ کی ناکامی اور بدنامی کے بعد اسرائیل نے قائم کی،دنیا کے40ممالک اس کو فنڈنگ کر رہے ہیں
پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر من و عم عمل کیا جانا چاہئے تاکہ ملک میں امن کا قیام یقینی بنایا جا سکے اور نیشنل ایکشن پلان کے مطابق تمام وہ اقدامات اُٹھانے ہونگے جس سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جا سکے ،ودودیہ ہال منگورہ میں افضل خان لالہ کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مرحوم افضل خان لالہ زندگی بھر امن کی خاطر ثابت قدم رہے اور آخری دم تک دہشت گردی کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے، انہوں نے مرحوم کی قربانیوں اور خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل خان لالہ نے سوات میں امن کے قیام کیلئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں جو تاریخ کا ایک روشن باب ہیں،انہوں نے کہا کہ اچھے اور برے دہشتگرد کا فرق دراصل دہشتگردی کو دوام بخشتی رہی ہے اور ملک مزید ایسی غیر منطقی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہی ہوتا ہے اور کوئی بھی سابقہ یا لاحقہ اس کے معنی تبدیل نہیں کرسکتے اور اگر ریاستی اور حکومتی سطح پر اس سوچ میں تبدیلی آ چکی ہے کہ اچھے اور برے طالب یا دہشتگرد کی تفریق کے بغیر ایک جامع کارروائی ہونی چاہیے تو یہ نہایت خوش آئند ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی صرف فاٹا یا پختونخوا کے کچھ حصوں میں آپریشنز سے ختم نہیں ہو گی بلکہ پورے ملک میں اور بالخصوص پنجاب میں دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورکس ، اُن کے رابطہ کاروں اور سہولت کاروں کو ایک جامع آپریشن سے ایک ساتھ ٹارگٹ کرنا ہوگا۔تاکہ دہشتگردوں کی قوت اور نظم ٹوٹ سکے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان اور خطے کو پر امن اور مستحکم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیاں دہرانے کی بجائے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور افغانستان سمیت دیگر پڑوسیوں کیساتھ برادرانہ تعلقات کا آغاز کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے اے این پی نے اہم لیڈروں سمیت بے شمار کارکنوں اور عہدیداروں نے لازوال قربانیاں دیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبے کے عوام سونامی کی لہروں میں بہہ گئے اور اب اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اور ان پر واضح ہو گیا ہے کہ اے این پی ہی اس خطے اور پشتونوں کی نمائندہ سیاسی قوت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی عوامی حیثیت اور اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس بات کا دوسروں کے علاوہ ہمارے مخالفین کو بھی ادراک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے صوبائی حکمران منفی ہتھکنڈوں پر اُتر آئے ہیں اور وہ غلط بیانی کے علاوہ بعض انتقامی کارروائیوں میں بھی مصروف عمل ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ امن اور علم کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوں کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ آرمی بپلک سکول پشاور کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کی جو فضا قائم ہو چکی ہے اگر اس وقت پس و پیش سے کام لے کر دہشتگردی کے خاتمے میں ناکام رہے تو قومی تاریخ کے کٹہرے میں ہم مجرم ٹھہریں گے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ادھر ادھر کی باتیں چھوڑ کر دہشت گردی کے خلاف ایک نکتے پر متفق ہو نا پڑے گا کیونکہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ، اور اس ناسور کے خاتمے کیلئے ایکشن کا وقت آ چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ داعش ایک حقیقت ہے جو القاعدہ کی ناکامی اور بدنامی کے بعد اسرائیل نے قائم کی ، اور پیسے کی خاطر دہشت گرد اب داعش میں شامل ہو رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر کاروائیاں کر رہی ہیں جبکہ فلاحی سرگرمیوں کے نام پر بھی کئی کالعدم تنظیمیں میدان عمل میں ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی تنطیموں کے خلاف فوری طور پر کاروائی کر کے ان کی بیخ کنی کی جائے ، میاں افتخار حسین نے امید ظاہر کی کہ دہشت گردی کے خلاف بننے والی یکجہتی کی فضا خراب نہیں ہو گی انہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے،

مورخہ:19-12-2015 بروز ہفتہ

موجودہ حکومت منصوبوں کی آڑ میں منظور نظر افراد کونواز رہی ہے ‘ہارون بشیر بلور
صوبے کو نازک صورتحال سے نکالنے کیلئے پختون اسفندیارولی خان کے ہاتھ مضبوط کریں
موجودہ حکومت کی بے حسی نے صوبے کے عوام میں شدید بے چینی اور مایوسی پیدا کردی ہے ۔
اغواہ برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری نے صوبے کی بزنس کیمیونٹی ملک چھوڑنے پر مجبورہے

پشاور(پریس ریلیز)نیا پاکستان اورتبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والی صوبائی حکومت نے صوبے کی عوام کو بے آسرا چھوڑا ہواہے اور عوام صوبے کی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے ذہنی مریض بن گئے ۔ ان خیالات کا اظہا ر اے این پی کے صو بائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے آج با چا خان مرکز میں صوبے سے آئے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صوبے کو بے روزگاری ‘ لاقانونیت اور غریب عوام کو مایو سیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اور۔ اغواء برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری نے صوبے کے کاور باری طبقے کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے اور دوسری طرف خو ش فہمی کی شکار صوبائی حکومت بنی گالا سے ملنے والی ڈکٹیشن پر اپنے منظور افراد کو مختلف منصوبوں کی آڑ میں اپنے چہیتوں اور منظور نظر افراد کو نوازنے کی پا لیسی پر عمل پیرا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر صوبے میں بے گناہ لوگوں کی لاشیں گر رہی ہیں، انہوں نے کہا پورا صوبہ بد امنی کی لپیٹ میں ہے اور یہاں حکومت نام کی چیز صرف اخباری خبروں میں ہی نظرآرہی ہے انہوں نے کہا اے این پی کے دورحکومت کے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر اپنے نام کی تختیاں لگا نے کو تبدیلی کا نام دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ صوبے کے عوام موجودہ حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور صوبے کے اس نازک صورتحال سے نکالنے کیلئے پختونوں کے قائد اسفندیارولی خان کے ہاتھ مضبوط کریں۔ اور اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے جمع ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا جوق درجوق اے این پی میں شمولیت کرلینا اس بات کی دلیل ہے کہ عوام موجودہ حکومت سے تنگ آچکے ہیں انہوں کہا کہ موجودہ حکومت کی بے حسی نے صوبے کے عوام میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے ۔

مورخہ 18 دسمبر2015ء بروز جمعہ

* بشیر بلور سمیت ہمارے لیڈروں اور کارکنوں کو اس لیے شہید کیا گیا کہ ہم انتہا پسندی کے خلاف ڈٹے ہوئے تھے ’ میاں افتخار حسین ‘
* ہم نے صوبے پر انتہا پسندوں کے قبضے کو اپنے خون سے ناکام بنایا اس کا صلہ ہمیں یہ ملا کہ ان کے ہمدردوں کو حکومت میں لایا گیا۔
* اگرملک کی پالیسیاں درست ہوتیں اور باجرأت قیادت میدان میں موجود ہوتی تو غالب امکان تھا کہ سانحہ پشاور سے بچا جاتا۔
* یہ ماننا پڑے گا کہ ہم بچوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہے، اس پر ہم ان کی روحوں کے سامنے شرمندہ بھی ہیں اور جوابدہ بھی۔
* اب بھی اگر پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی گئی تو نتائج خوفناک ہوں گے، بشیر بلور کی برسی شایان شان طریقے سے منائیں گے ، پشاور میں اجتماع سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہیکہ اگر بشیر بلور شہید جیسے نڈر ، باجرأت اور دور اندیش لیڈر موجود ہوتے تو شاید 16 دسمبر کا افسوسناک سانحہ رونما نہ ہوتا ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری بعض غلط پالیسیوں اور قیادت کے مبہم رویوں نے معصوم بچوں کی شہادت کا راستہ ہموار کیا اور ہم بوجوہ ان بچوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بحثیت قوم ان معصوم بچوں کی روحوں کے سامنے شرمندہ بھی ہیں اور جوابدہ بھی اے این پی، پی کے تھری پشاور کے زیر اہتمام شہید بشیر احمد بلور کی برسی سے متعلق ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بشیر احمد بلور جیسے نڈر ، جہاندیدہ اور بہادر لیڈروں اور کارکنوں کی قربانیوں اور جرأت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج دہشتگردی کے خلاف آوازیں اُٹھنی شروع ہو گئی ہیں اور روایتی ریاستی پالیسیوں کا رخ تبدیل ہونے کی بات بھی ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ پشتونوں کا مزاج رہا ہے کہ وہ بالغ نظر اور باجرأت قیادت کو پسند کرتی ہے اور شہید لیڈر سمیت اے این پی کے سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں نے امن کیلئے سینے پر گولیاں کھا کر اس روایت کو زندہ رکھا۔اُنہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت سے پہلے اور اس کے بعد اس لیے مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا گیا کہ ہم انتہا پسندوں کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے اور اپنی مٹی کا دفاع کر رہے تھے ہم ہی نے صوبے پر انتہا پسندوں کے قبضے کی کوششوں کو ناکام بنایا اور اس کے بدلے نہ صرف یہ کہ سینکڑوں جانوں کی قربانیاں دیں بلکہ اس کا ایک صلہ ہمیں یہ بھی ملا کہ ایک منصوبے کے تحت ایسے لوگوں کو حکومت میں لایا گیا جو کہ انتہا پسندوں کے ہمدرد تھے اور ان کے نظریات کا دفاع کرتے تھے۔
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اگر ملک کی پالیسیاں درست ہوتیں اور ان میں ابہام نہ ہوتا اور اس کے ساتھ حکومت کا اختیار بالغ نظر اور باجرأت قیادت کے ہاتھ میں ہوتا تو اس بات کا غالب امکان تھا کہ صورتحال کافی مختلف ہوتی اور ہمیں سانحہ پشاور کا زخم سہنا نہیں پڑتا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم بحثیت قوم ان بچوں سمیت سینکڑوں دیگر معصوموں کی روحوں اور ان کے لواحقین کے سامنے شرمندہ بھی ہیں اور ان کو جوابدہ بھی۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت نے 16دسمبر کے روز صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کرنے سے بھی گریز کیا حالانکہ باقی تین صوبوں میں اس روز سانحہ پشاور کی یاد میں تعطیل کا اعلان کیا گیا۔
اُنہوں نے کہا کہ بشیر بلور شہید کو تمام آسائشیں اور سہولیتیں میسر تھیں ان کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جائیگی مگر ان تمام عوامل کے باوجود اُنہوں نے جام شہادت اس لیے نوش کیا کہ وہ اس مٹی کے وارث ، نگہبان اور رہنما تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب تک ریاست ، اہل سیاست اور عوام دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے پر متفق نہیں ہوجاتے اور سابقہ پالیسیوں کے رُخ اور سمت کو تبدیل کرنے سمیت نئے خطرات کے تناظر میں حقیقت پسندانہ اور باجرأت پالیسیاں اختیار نہیں کی جاتیں تب تک ہم ایسے ہی سانحات کا سامنا کرتے رہیں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 22 دسمبر کو شہید بشیر احمد بلور کی برسی شایان شان طریقے سے منائی جائیگی کیونکہ شہید لیڈر کے اس خطے اور عوام پر بے پناہ احسانات ہیں اور 22 دسمبر کے دن ان کو شاندار طریقے سے خراج عقیدت پیش کی جائیگی۔ اجتماع سے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی اور جنرل سیکرٹری سرتاج خان نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ:19-12-2015 بروز ہفتہ

* اگر اے این پی میدان میں نہ ہوتی تو آج صوبے کی صورتحال فاٹا سے مختلف نہ ہوتی ’ سردار حسین بابک‘
* ہم نے نہ صرف کامیاب آپریشن کرایا بلکہ ریکارڈ وقت میں متاثرین کی واپسی کو بھی یقین بنایا۔
* امن کیلئے لازوال قربانیاں دے چکے ہیں۔ پارٹی فیصلوں میں کارکنوں کی رائے کا احترام کیا جائیگا ’ لوئر دیر کے دورہ کے موقع پر خطاب ‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اگر اے این پی نے لاتعداد شہداء کی قربانیاں نہیں دی ہوتیں اور انتہا پسندی پر جرأتنمندانہ مؤقف اختیار نہیں کیا ہوتا تو آج صوبے کی صورتحال خطرناک حد تک یکسر مختلف ہوتی اور فاٹا کی طرح صوبہ بھی بدترین اور مسلسل بدامنی کی لپیٹ میں آجاتا۔
جندول لوئر دیر کے دورہ کے موقع پر پارٹی اجلاسوں اور وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں ملاکنڈ ڈویژن کے اکثر علاقے عملاً طالبان کے قبضے میں چلے گئے تھے اور قبضے کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا تھا ۔تاہم اے این پی کی حکومت نے تمام تر دباؤ اور مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کارروائیوں کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں علاقے کے امن کو ممکن بنایا گیا اور ریکارڈ عرصہ میں آئی ڈی پیز کی واپسی کو بھی یقینی بنایا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری قربانیوں اور پالیسیوں ہی کا نتیجہ تھا کہ اس علاقے کو محفوط بنایا گیا ورنہ صورتحال فاٹا سے مختلف نہ ہوتی اور یہ حسین علاقہ اب بھی خوف ، بدامنی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہوتا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اور خطے کو پر امن اور مستحکم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیاں دہرانے کی بجائے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور افغانستان سمیت دیگر پڑوسیوں کیساتھ برادرانہ تعلقات کا آغاز کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے اے این پی نے اہم لیڈروں سمیت بے شمار کارکنوں اور عہدیداروں نے لازوال قربانیاں دیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبے کے عوام سونامی کی لہروں میں بہہ گئے اور اب اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اور ان پر واضح ہو گیا ہے کہ اے این پی ہی اس خطے اور پشتونوں کی نمائندہ سیاسی قوت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی عوامی حیثیت اور اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس بات کا دوسروں کے علاوہ ہمارے مخالفین کو بھی ادراک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے صوبائی حکمران منفی ہتھکنڈوں پر اُتر آئے ہیں اور وہ غلط بیانی کے علاوہ بعض انتقامی کارروائیوں میں بھی مصروف عمل ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کی قیادت اس کو مزید فعال بنانے کیلئے میدان میں نکل آئی ہے۔ ناراض ساتھیوں کو منانے اور تنظیمی ڈسپلن کو قائم رکھنے کے اقدامات کے علاوہ اس بات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے کہ اضلاع کی سطح پر پارٹی کو مضبوط اور فعال بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام فیصلوں میں کارکنوں کی رائے اور مشاورت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور ان کی رائے کا ہر فورم پر احترام کیا جائے گا۔

مورخہ 26.10.2014 بروز اتوار
اے این پی نے ہمیشہ عوامی مفادات کو مقدم رکھا ہے، ہارون بشیر بلور
ہمیں اپنے اکابرین کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے قائد اسفندیار ولی خان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے
عمران خان کو پختون مینڈیٹ کی کوئی پرواہ نہیں وہ وزیراعظم بننے کے کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں
اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، اور یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے
پختون مسائل اورمصائب کا شکارہیں اوراس مشکل سے نکلنے کے لئے پختونوں کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہوناہوگا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے سابق دور حکومت میں عوام سے کئے گئے تمام وعدے پورے کر دکھائے ہیں اور پختون قوم نے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اپنے بیشتر مفادات کا تحفظ کر کے انہیں حاصل بھی کر لیا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، ہارون بشیر بلور نے مزید کہا کہ خدائی خدمت گار اس جماعت کا ماضی و حال سب کے سامنے ہے جس نے صوبے اور عوام کی خدمت کی ایسی مثال قائم کی ہے جس سے مخالفین بوکھلا گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی فخر افغان باچا خان ؒ کی خدائی خدمتگار تحریک کی تسلسل جماعت ہے اور اس جماعت نے ہمیشہ عوامی مفادات کو مقدم رکھا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اکابرین کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے قائد اسفندیار ولی خان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے ۔،انہوں نے کہاکہ عمران خان کو پختون مینڈیٹ کی کوئی پرواہ نہیں وہ وزیراعظم بننے کے کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں اوران کی نظریں پنجاب پر ہیں جہاں سے اکثریت حاصل کرنے کے چکر میں ہیں انہوں نے مرکزی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اورکہاکہ میاں نوازشریف کو یہاں سے مینڈیٹ نہ ملا تو انہوں نے بھی اس کی سزا پختونوں کو دی اور یہاں کے عوام کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی سے بھی منہ موڑ لیاہے، ہارون بلور نے کہاکہ اے این پی اقتدار کے بغیر پختونوں کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، اور یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کی شکارہے اوراس مشکل سے نکلنے کے لئے پختون قوم کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھا ہوناہوگا۔

مورخہ 17دسمبر2015ء بروز جمعرات
صوبے میں ٹارگٹ کلنگ نے کاروبار کی شکل اختیارکر لی ہے، ایمل ولی خان
اے این پی پر کر پشن کے جھوٹے الزامات لگانے والے کرپشن ثابت کریں ، اجلاس سے خطاب

پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے عوام کو کرپشن،مہنگائی،بدامنی ،ٹارگٹ کلنگ اور بے روزگاری کے خاتمے کے سبز باغ دکھانے والے آج عوام کے منہ سے نوالہ چھینے کی کو شش کر رہے ہیں ۔ہمارے دور اقتدار کے ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے والے شرم کر یں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،
ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبہ بد امنی کی لپیٹ میں ہے اور پورے صوبے میں ٹارگٹ کلنگ نے کاروبار کی شکل اختیار کی ہے لیکن صوبائی حکومت نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری سے خود کو مستثنٰی کر رکھا ہے ،انہوں نے کہا کہ 11مئی 2013کے الیکشن میں ہمیں اس بات کی سزا دی گئی کہ ہم نے مساجد ،مدارس،حجروں ،بازاروں اور تعلیمی درسگاہوں کو تباہ کر نے والوں کو دشمن کہا جس کی پاداش میں ہمارے کارکنوں اور قائدین پر ائے روز حملے ہورہے ہیں لیکن فخر افغان باچا خان کے سپاہی کل بھی اس مٹی پر امن کے قیام کے لئے کمر بستہ تھے اور آج بھی ہیں کیونکہ اس کی حفاظت کے لئے جان کے نذرانے پیش کر نا اے این پی کا وطیرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے این پی پر کر پشن کے جھوٹے الزام لگانے والے ہم پر کر پشن ثابت کر یں ہم نے کر پشن نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں پختون قوم کی خدمت کی ہے اور اگر یہ کر پشن ہے تو ہم بار بار کر ینگے ، انہوں نے کہا کہ ہم عملی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور تبدیلی کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی طرح عوام کو صرف نعروں پر دھوکہ نہیں دے سکتے ۔

مورخہ 17 دسمبر2015ء بروز جمعرات

* قومی ایکشن پلان کے باوجود پنجاب میں درجنوں کالعدم تنظیمیں آزادانہ طور پر کام کررہی ہیں ’ میاں افتخار حسین‘
* لگ یہ رہا ہے کہ پلان کا دائرہ کار محض وزیرستان یا فاٹا تک محدود ہے اور پنجاب اس سے مبراء ہے۔
* اگر ہم نے سانحہ پشاور سے سبق سیکھا ہوتا تو تمام نکات پر عمل کیا جاتا اور مزید واقعات رونما نہ ہوتے۔
باچا خان سکول چارسدہ میں شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے قیام اور اس سے متعلق دعوؤں کے باوجود پنجاب میں کالعدم تنظیمیں اب بھی آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے 20 میں سے چند ہی نکات پر عمل درآمد ہو رہا ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ اس کا اطلاق فوجی کارروائیوں کی حد تک صرف وزیرستان تک محدود ہے۔ اسی طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے دعوؤں اور اقدامات پر شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں اور حالات بے یقینی کا شکار ہیں۔
وہ باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن سکول چارسدہ کے زیر اہتمام شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس سے دوسروں کے علاوہ پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خادم حسین نے بھی خطاب کیا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے اقدامات پر عمل نہیں ہو رہا اور اس کا دائرہ کار محض وزیرستان کے آپریشن تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ دہشتگرد یا دہشتگردی محض وزیرستان یا فاٹا تک محدود ہے یا پورا ملک اس کی لپیٹ میں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 60 سے زائد کالعدم تنظیمیں اب بھی ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سرگرم عمل اور متحرک ہیں اور ان پر بوجوہ ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا جا رہا ہے جو کہ تشویشناک بات ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائیگی اور نام بدلنے والی تنظیموں کو بھی گرفت میں لایا جائیگا تاہم اس نکتے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم نے 16 دسمبر کے سانحہ پشاور سے واقعتاً سبق سیکھا ہوتا اور پلان پر من و عن عمل کیا جاتا تو مزید واقعات نہ ہوئے ہوتے اور پلان پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات نہیں اُٹھائے جاتے۔ پاڑا چنار اور دیگر مقامات پر حملے اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگرد اور ان کے نیٹ ورک اب بھی موجود ہیں ، اگر ہم نے پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بنایا اور وسیع تر پیمانے پر تعلیمی ، معاشرتی اور سیاسی اصلاحات سے کام نہیں لیا گیا تو مسئلہ جوں کا توں ہی رہے گا اور ہم شہداء پشاور سمیت دیگر ہزاروں شہداء کی روحوں کے سامنے شرمندہ ہوں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ باچا خان کا فلسفہ عدم تشدد ہی ہمارے سیاسی اور معاشرتی مسائل کا حل ہے اور اے این پی اپنے عمل کے ذریعے اسی فلسفے کو اپنا کر سیاست کر رہی ہے۔ تقریب میں پارٹی کے دیگر عہدیداران اور رہنماؤں بشیر خان مٹہ ، ارباب محمد طاہر خلیل ، بشریٰ گوہر ، جمیلہ گیلانی ، مختیار خان اور بیرسٹر ارشد عبداللہ بھی شریک ہوئے۔

مورخہ 16 دسمبر2015ء بروز بدھ

* نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات پر من و عن عمل کیا جائے،کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کی جائے ’ میاں افتخار حسین‘
* ہم نے دہشتگردی کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے، کاش اس کی نوبت نہیں آئی ہوتی۔
* دوسرے صوبوں اور فاٹا کے برعکس پنجاب کے دہشتگرد گروپوں کیساتھ نمٹنے سے گریز تشویشناک ہے۔
* اگر نیشنل ایکشن پلان کے تحت بلا امتیاز کارروائیاں نہ ہوئیں تو داعش کا خطرہ عملی شکل اختیار کر جائیگا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے ایک بار پھر سانحہ آرمی پبلک سکول کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ کے اصل محرکات قوم کے سامنے لائے جائیں اور نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات پر من و عن عمل کیا جائے ، ان خیا لات کا اظہار اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے باچا خان مرکز میں شہداء اے پی ایس کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کی گئی اور انہیں ان کی ناقابل فراموش قربانیوں پرشہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، اس موقع پر شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں،میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے بھاری قیمت ادا کی ہے کاش ہم نے یہ قیمت ادا نہ کی ہوتی تاہم اب ان قربانیوں کے نتیجے میں سیاسی ، عسکری ، مذہبی قیادت سول سوسائٹی اور دیگر دہشت گردی کے خلاف 20نکات پر متفق ہوئے ، قبل ازیں ملک کی بہت سی جماعتیں دہشت گردوں کا ساتھ دے رہی تھیں لیکن افغانستان میں ایک فضا پیدا ہوئی اور امریکہ وہاں پر محدود ہو گیا ، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے اعلان کے بعد وزیر اعظم ، آرمی چیف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ہونے والی ملاقات اور رابطوں کے بعد مذاکرات کی راہ ہموار ہونے لگی لیکن دو سال بعد ملا عمر کی یاد کسی کو ستانے لگی اور مذاکرات کا عمل شبوتاژ کیا گیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسفندیار ولی خان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے حالیہ دورہ کابل کے بعد اب مذاکرات کا عمل شروع کرنے پر اتفاق پیدا ہو گیا ہے جو کہ خوش آئند ہے ، انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ دہشت گردی کی اپنی بنیادیں ہوتی ہیں تاہم کسی بھی مستحکم حکومت کو بزور طاقت غیر مستحکم کرنے سے بھی دہشت گردی جنم لیتی ہے، مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اب اعتماد کی فضا بن رہی ہے اور اگر اس عارضی امن سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ داعش کی صورت میں سامنے بیٹھا ہے جسے دنیا کے 40ممالک فنڈنگ کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے باچا خان بابا کی سوچ و فکر کی ساری دنیا کو ضرورت ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بڑے دہشت گرد گروپ موجود ہیں اور کالعدم تنظیموں کی صورت میں چندہ اکٹھا کر کے دہشت گردی کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک پر اب بھی سوالات موجود ہیں اور حکمرانوں کو پوزیشن واضح کرنی چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعض نکات پر عمل درآمد ہوا تاہم اب بھی بیشتر نکات پر عمل ہونا باقی ہے ، انہوں نے تجویز پیش کی کہ افغانستان میں پاکستان اور پاکستان میں افغانستان کی مداخلت کا سلسلہ بند ہو جائے تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس کیلئے مرکزی حکومت کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنا ہونگی ۔ اس موقع پر پارٹی کے قائدین سردار حسین بابک ، بشریٰ گوہر ، بشیر خان مٹہ اور واجد علی خان نے بھی خطاب کیا جبکہ صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ نے دُعائیہ تقریب کی صدارت کی۔ اس موقع پر مقررین نے سانحہ پشاور کے شہداء کے علاوہ اے این پی کے شہید کارکنوں اور دیگر تمام شہداء کو بھی شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کی۔

مورخہ 16 دسمبر2015ء بروز بدھ

لازمی تھا کہ 16دسمبرکے روز دہشت گردی کیخلاف اے این پی کی قربانیوں کو بھی یاد کیا جاتا‘ سردار حسین بابک
آپریشن ضرب عضب کے باوجود لاکھوں قبائلی عوام اب بھی کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اے این پی نے ہر فورم پرکہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے
بدقسمتی سے ہماری بات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا شہداء اے پی ایس کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمای لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ 16دسمبر ہماری تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے اور اس دن شہید ہونے والے بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہو گئی ہے ۔باچا خان مرکز میں سانحہ اے پی ایس کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے پانچ سالہ دور میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی اور ہر فورم پر آواز اٹھائی کہ دہشت گرد ہمارے دشمن ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے لیکن اس وقت ہماری بات تسلیم نہیں کی گئی اور اسے امریکہ کی جنگ کہا گیا تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ بعد ازاں انہی سیاسی جماعتوں نے اے این پی کی پالیسیوں کی تائید کی انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو چاہئے تھا کہ آج کے دن دہشت گردی کے خلاف اے این پی کے ان شہداء کی قربانیوں کو بھی یاد رکھا جاتاجنہوں اپنی جا نیں امن کے قیا م کے لئے نچھاور کیں ، انہوں نے کہا کہ ہم امن کے پیامبر ہیں انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر من و عن عمل کیا جائے انہوں نے کہا کہ ضرب عضب آپریشن کی کامیابی سے قبائلی علاقوں میں قدرے امن قائم ہو چکا ہے تاہم امن کے قیام کی خاطر گھر بار چھوڑنے و الے طویل عرصہ سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ دہشت گردی کا ہر صورت میں خاتمہ ہونا چاہئے انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک سال بعد بھی شہید ہونے والے کئی بچوں کے والدین سانحے کی جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں جبکہ قوم اس وقت دہشت گردی کے خلاف ہر ریاستی ادارے کے ساتھ کھڑی ہے ۔

مورخہ 15 دسمبر2015ء بروز منگل
*بلدیاتی نمائندوں کے ٹینٹ دفاتر صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، سردار حسین بابک
* تبدیلی کے دعویداروں نے صوبے کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا اورمنتخب عوامی نمائندوں کو تاحال دفاتر الاٹ نہیں کئے گئے
*بلدیاتی نمائندوں کی مثال ہینگنگ کابینہ جیسی ہے، حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو اپنا کارنامہ سمجھ کر بغلیں بجا رہی ہے
*انتخابات کو 6ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال منتخب نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز تفویض نہیں کئے گئے
* عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے عوام سے ہی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں،ان کے پاس بیٹھنے کیلئے کوئی جگہ نہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو دفاتر کی الاٹمنٹ نہ کرنے پر حکمرانوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی ناا ہلی اور کاہلی قرار دیا ہے ، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ تبدیلی کے دعویداروں نے صوبے کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا اور الیکشن میں کامیاب ہونے والوں کو تاحال دفاتر الاٹ نہیں کئے گئے ، انہوں نے کہا کہ حکومت بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز اور اختیارات تفویض کرنے میں لیت و لعل سے کام لینا چھوڑ دے حکومت کی اس سستی اور کاہلی کی وجہ سے ترقیاتی کام ٹھپ ہو کر رہ گئے اور عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے عوام سے ہی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں جبکہ اب ان کے پاس عوامی مسائل سننے کیلئے کوئی جگہ ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ بیشتر نمائندے اپنی مدد آپ کے تحت ٹینٹ لگا کر فرائض انجام دینے میں مصروف ہیں جو صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت بلدیاتی نمائندوں کو دفاتر کی الاٹمنٹ اور اختیارات دینے میں بد نیتی کا مظاہرہ کر رہی ہے جو نہایت افسوسناک امر ہے ،انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کی مثال ہینگنگ کابینہ جیسی ہو چکی ہے جبکہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ہی اپنا کارنامہ سمجھتے ہوئے بغلیں بجا رہی ہے جبکہ ان بلدیاتی انتخابات کا سہرا بھی سپریم کورٹ کو جاتا ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت موروثی سیاست کا رونا تو روتی ہے لیکن اب بھی وہ اقربا پروری اور منظور نظر افراد کو ہی نوازنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کی واضح مثال ایک صوبائی وزیر کا قریبی رشتہ دار ہے جو مختلف محکموں میں بیک وقت کئی عہدوں پر تعینات ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹینٹ دفاتر کی روایت ڈالنے سے گریز کیا جائے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو دفاتر فوری طور پر الاٹ کر کے ان میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ وہ عوامی مسائل پر توجہ دے سکیں،

مورخہ 15 دسمبر2015ء بروز منگل

* لاشوں پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں کے قول و فعل میں تضاد ہے، زاہد خان
* اے این پی شروع دن سے ہی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی معاملات کو حل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اے این پی شروع دن سے ہی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی معاملات کو حل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔اے این پی کے قائدین کے افکار کامیاب اور جمہوریت دشمن ناکام ہو رہے ہیں ، اپنے ایک بیان میں زاہد خان نے کہا کہ سرکاری چھتری کے سائے میں اور لاشوں پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں کے قول و فعل میں تضاد ہے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد صرف اقتدار کے گرد گھومتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی طرف سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی وزیر اعظم ہندوستان سے ملاقات پر اعتراض سمجھ سے بالاتر ہے۔جس طرح شیو سینا نے ہندوستان کا چہرہ داغدار کیا اسی طرح پاکستان کے بنیاد پرستوں سے جان چھڑانی ہو گی۔زاہد خان نے مزید کہا کہ مذاکرات ،دلائل کے ذریعے ہی ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔

مورخہ : 15.12.2015 بروز منگل
امیر حیدر خان ہو تی کاشبقدر ٹریفک حا دثے پر اظہا ر افسوس

پشاور ( پریس ریلیز )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہو تی نے شبقدر ٹریفک حا دثے میں کانکڑہ کے
ا یک ہی خاندان کے تین افرادکی ہلاکت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے
تعزیتی پیغام میں انہوں نے سو گوار خاندان سے دلی تعزیت کرتے ہو ئے مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے
لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔

مورخہ 15 دسمبر2015ء بروز منگل

*سانحہ پشاور کی یاد میں مرکزی تقریب باچا خان مرکز میں منعقد ہوگی
* شہدا ء کے ایصال ثواب کیلئے ختم القرآن اور فاتحہ خوانی کا اہتمام ، شمعیں بھی روشن کی جائیں گی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام صوبے کی سطح پر آرمی پبلک سکول کے شہداء کی یاد میں ایک خصوصی مرکزی دعائیہ تقریب کل بروز بدھ 16دسمبر دوپہر دو بجے باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہو گی ،جس میں پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین بھی شرکت کریں گے،تقریب کے دوران اے پی ایس کے شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا اور ان کے ایصال ثواب کیلئے ختم القرآن اور فاتحہ خوانی کا اہتمام بھی کیا جائے گا ، جبکہ اس موقع پر شہداء کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی جائیں گی۔پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی ہدایت پر تمام صوبوں میں اس طرح کی تقریبات منعقد ہو نگی ، دریں اثناء خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع اور قبائلی علاقوں میں مقامی سطح پر دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جائیگا۔

مورخہ 15 دسمبر2015ء بروز منگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان علیل ہو گئے ، مرکزی صدر کی طبیعت ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے خراب ہوئی جس کی بنا پر ڈاکٹروں نے انہیں ایک ہفتے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے ،

مورخہ 14 دسمبر2015ء بروز پیر
سانحہ پشاور کے اصل حقائق ایک سال بعد بھی سامنے نہ لائے جا سکے ، اسفندیار ولی خان
دہشت گردی کے خلاف بہنے والا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔ قوم ننھے شہداء کی قربانیوں کو تا قیامت فراموش نہیں کرے گی
نیشنل ایکشن پلان کی نگرانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کے دعوے پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا،عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا
دہشت گردوں کی فیکڑیاں اب بھی پیداوار میں مصروف ہیں ۔جس کی بنیادی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا فقدان ہے
عوامی نیشنل پارٹی اے پی ایس کے شہداء کی پہلی برسی پر شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی پہلی برسی کے موقع پر شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بہنے والے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا۔ ملک بھر کے عوام اپنے پھولوں جیسے ننھے شہداء کی قربانیوں کو تا قیامت فراموش نہیں کریں گے اسفند یار ولی خان نے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ اس قومی سانحہ کے ایک سال پورے ہونے کے بعد بھی نہ عدالتی تحقیقات ہوئیں ہیں نہ ہی اصل حقائق قوم کے سامنے لائے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہداء کے لواحقین کی شکایتوں ، گلوں اور مطالبات کا ازالہ نہیں ہو سکا۔ کبھی نہ بھولنے والے سانحہ پشاور پر پاکستان کے عوام کے بھر پور احتجاج اور مطالبے کے بعد آل پارٹی کانفرنس میں نیشنل ایکشن پلان کی متفقہ منظوری دی گئی ، توقع تھی کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف قومی منصوبے پر جلد از جلد عمل درآمد کرائے گی ۔اسفند یار ولی خان نے نیشنل ایکشن پلان کے 21نکا ت میں سے اکثر پر عمل درآمد نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی نگرانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کے دعوے پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ ہی عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے ۔ اسفند یار ولی خان نے مزید کہا کہ پارا چنار میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گردوں کی فیکڑیاں اب بھی پیداوار میں مصروف ہیں ۔جس کی بنیادی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا فقدان ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی APSکے شہداء کی پہلی برسی پر شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور لواحقین کے مطالبات کی بھر پور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے پارٹی لواحقین کے دکھ درد میں شریک ہے اور انکی جدو جہد میں ساتھ دیتی رہے گی ۔اسفند یار ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی قوم کے کل کو محفوظ بنانے کیلئے 1ہزار سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کی قر بانیاں پیش کی ہیں اپنے پیاروں کو کھونے والے ہی دوسروں کے دکھ درد کو سمجھ سکتے ہیں ۔

مورخہ 14دسمبر2015ء بروز پیر
صوبے کے عوام حکمرانوں کی کارکردگی سے مایوس ہو چکے ہیں ، سردار حسین بابک
اے این پی نے ہمیشہ پختونوں کے مفادات کا تحفظ کیا اور ان کے مسائل کے حل سمیت پختونوں کی ترقی کے لئے مصروف عمل رہی
مہنگائی بے روزگاری اور بدامنی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے جبکہ صوبے کے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی
عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں اور اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی سارے پختو نو ں کے دلو ں کی آواز بن چکی ہے اورا سکی مقبولیت کا یہ عا لم ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے سرکردہ افرادسمیت بشمول عوام جوق در جوق اس میں شامل ہو رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہارعوامی نیشنل پارٹی کے صوبا ئی جنر ل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈ ر سردارحسین با بک نے با چا خا ن مرکز پشاور میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جسمیں پیپلز پارٹی یو سی تھل اپر دیر تعلق رکھنے والے شاہ روم خان نے اپنے ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی سے مستعفی ہو کر عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہو نے کا اعلان کیا اور اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ عوامی نیشنل پا رٹی کے لئے کسی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے ۔سردار حسین با بک نے پارٹی میں نئے شامل ہو نیوالوں کے عزم کو سراہتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں ۔اپنے خطاب میں پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ پختونوں کے امنگوں کی ترجمانی کی ہے اور ان کے مسائل کے حل سمیت پختونوں کی ترقی کے لئے مصروف عمل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کبھی بھی اتنے مایوس نہیں ہو ئے تھے جتنے اس دور میں نظر آرہے ہیں اور موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں سے نالاں عوام اب اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مہنگائی بے روزگاری اور بدامنی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے جبکہ صوبے کے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے انقلابی اقدامات کئے ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت کو اڑھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک صوبے میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ عوام با شعور ہیں اور انہوں نے دیگر سیا سی جماعتوں اورحکمران پارٹی کو رد کر کے اے این پی کو اپنا مطمع نظر بنا لیا ہے، سردار بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے جبکہ اس جماعت نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تعلیم ، صحت ،روزگار اور صوبہ کے حقوق کے حوالے سے کارکردگی اپنی مثال آپ ہے،اور یہی وجہ ہے کہ آج عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں اور اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن اپنے قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پارٹی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہیں۔

مورخہ 14دسمبر2015ء بروز پیر
عوامی نیشنل پارٹی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے، خوشدل خان ایڈوکیٹ
عوامی نیشنل پارٹی پختون قوم کو ترقی اور خوشحالی کی اعلیٰ منازل سے ہمکنار کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی، ملک نسیم خان
صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث عوام جوق در جوق اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، اجتماع سے خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ اے این پی صوبے کی سب سے بڑی جماعت ہے اور ہر وقت ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے کیونکہ ہمارے کارکن تنظیموں سے برانچ ،برانچ سے ضلع اور ضلع سے مرکز تک فعال ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاسینی مریم زئی کوہاٹ روڈ پر ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر غلام شیر ، شمشیر ، فرہاد اور قاری اکرام نے اپنے درجنوں ساتھیوں اور خاندانوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کو خیر باد کہہ کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا اے این پی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دی ،خوشدل خان ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ تبدیلی کے دعویداروں نے خیبر پختونخوا کے عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کے علاوہ کچھ نہیں دیا اور ان کی ناقص پالیسیوں کے باعث اب عوام اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اڑہائی سال میں بھی عوام کو ریلیف فراہم نہیں کر سکی اس کے برعکس لوگوں کو بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کئے جائیں گے ،اس موقع پر اے این پی ڈسٹرکٹ پشاور کے جنرل سیکرٹری گلزار حسین ، سردار زیب ، عبدالباقی اور نورقدیم شاہ بھی موجود تھے اے این پی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شمولیت اختیار کرنے والے پارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں باچا خان بابا کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کیلئے دن رات کام کر نا ہو گا، ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پار ٹی پختونوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے جس نے فخر افغان باچاخان ؒ اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی عظیم قربانیوں ،قائد اسفندیار ولی خان کی مدبرانہ سیاست اوراپنی پختون دوست پالیسیوں سے آج پوری پختون قوم کو سرخ جھنڈے تلے متحد کر رکھا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پختون سرزمین پر امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہو گا ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختو نخوا میں جتنے ترقیاتی کام اے این پی کے دور حکومت میں ہوئے تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی پختون قوم کو ترقی اور خوشحالی کی اعلیٰ منازل سے ہمکنار کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔

مورخہ : 14.12.2015 بروز پیر

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پا رٹی سٹی ڈسٹرکٹ کے زیر اہتمام شہدا ء آرمی پبلک سکول کی یاد میں ایک تقریب 16دسمبر2015ء کو گلبہار پشاور میں منعقد ہو گی جس میں ان تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا ئے گا جنہوں نے اپنی اپنی جا نوں کانذرانہ دیکر قربانیوں کی نئی تا ریخ رقم کی تقریب میں پارٹی کے قائدین خطا ب کریں گے ۔اے این پی پشاور سٹی کے صدر ملک غلام مصطفیٰ نے 16دسمبر کے حوالے سے اپنے بیان کہا ہے دہشت گردوں نے ایک سال قبل ظلم ‘بر بریت ‘اور سفاکی کا جو مظاہرہ کیا دنیا کی تا ریخ میں اس کی کو ئی مثال نہیں ملتی لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اس خونی ڈرامے کے مرکزی کردار ایک سا ل کا عرصہ گز ر جا نے کے باوجود بے نقاب نہیں ہو سکے ۔اس بات کی جتنی مذمت کی جا ئے کم ہے انہوں نے اپنے بیا ن میں کہا کہ اس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتیں ذمہ دار ہیں ۔عوام کی جان ومال کی حفاظت کرنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن حکمرانوں نے ابھی تک اپنی ذمہ داریوں کو محسوس ہی نہیں کیا ہے انہوں نے نہایت افسوس ظاہر کرتے ہو ئے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو الزام دیتی رہی ہیں مگر معصوم شہداء کے والدین کو ابھی تک بے چین وبے قرار چھوڑا ہوا ہے حالانکہ ساری دنیا میں اس واقعے کی مذمت کی گئی ان تما م باتوں کے باوجود تحقیقات میں ایسے سفاک ظالم لو گوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں موجودہ حکمران ناکام رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ہماری پارٹی کسی بھی صورت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی ۔

مورخہ 13 دسمبر2015ء بروز اتوار

دہشت گرد قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، اسفندیار ولی خان
دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سیاسی ، مذہبی عسکری قیادت اور قوم پوری طرح متحد ہے
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پارا چنار بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں 15بے گناہ افراد کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری مذمتی بیان میں پارٹی صدر نے کہا کہ دہشت گرد انسانیت سوز کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے ، انہوں نے کہا کہ دھماکہ آپریشن ضرب عضب کا رد عمل ہو سکتا ہے تاہم پاک فوج کی جانب سے کامیاب آپریشن کے بعد دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور اب وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سیاسی ، مذہبی عسکری قیادت اور قوم پوری طرح متحد ہے ، اور وہ دن دور نہیں جب دھرتی سے اس ناسور کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائیگا ، پارٹی رہنماؤں نے واقعے میں شہید ہونے والوں کیلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔

مورخہ 13دسمبر 2015ء بروز اتوار

قوم مینڈیٹ کی توہین پرپی ٹی آئی کو کبھی معاف نہیں کرے گی، ہارون بشیر بلور
چوری، ڈکیتی ، ٹارگٹ کلنگ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں ،وفود سے بات چیت
پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے ترجمان ہارون بشیر بلورنے کہا ہے کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو قوم کو موجودہ بحرانوں سے چھٹکارا دلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔صوبائی حکومت امن کی بحالی ، لوگوں کو روزگار دینے ، تعلیمی اصلاحات لانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے با چا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دورحکومت میں جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ گزشتہ 65 سال میں کسی حکومت نے بھی نہیں کیے اور نہ ہی کوئی آئندہ مزید 65 سالوں تک انجام دے سکے گا۔ ہم نے اپنے دورحکومت میں صوبے میں آٹھ نئی یونیورسٹیاں تعمیر کیں ، 47 نئے ڈگری کالجز بنائے ، پختونوں کو اپنے نام کی شناخت خیبر پختونخوا دیا، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے تمام حقوق مرکز سے منتقل کیے۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ اللہ کے فضل سے ہم نے پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت میں ایک ایک کر کے سارے پورے کر دکھائے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مفلوج ہے اور عوام کیلئے کچھ نہیں کر سکتی۔ عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری ، امن و امان کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا۔ قوم اور تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں ہر گھر سے رونے کی آواز آرہی ہے ہر گھر میں ماتم ہے چوری، ڈکیتی ، ٹارگٹ کلنگ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا وہ لوگوں کی آنکھوں میں محض دھول جھونکنا تھا۔ عوام اب بیدار ہو چکی ہے اور اُن کے خالی ہولی نعروں پر یقین نہیں کرینگے۔

مورخہ : 13.12.2015 بروز اتوار
*اے این پی نے ایوان بالا سمیت ہر پلیٹ فارم پرغریب عوام کے حقوق کی بات کی ہے، سردار حسین بابک
* صوبائی حکومت منتخب بلدیاتی ناظمین کو اختیارات اور فنڈز دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے جس سے بد نیتی ظاہر ہو گئی ہے
* موجودہ صوبائی حکومت نے پونے تین سال کا عرصہ گز رنے کے با وجو د بھی صوبے میں کوئی بھی ایسا ترقیا تی منصوبہ شروع نہیں کیا
* مدارس اسلام کے قلعے ہیں لیکن بعض لوگ اسے اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں
*عوام کی اے این پی میں جوق در جوق سمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لوگ تحریک انصاف کی پالیسیوں سے نالاں ہیں
پشاور ( پریس ریلیز )بونیرمیں جماعت اسلامی کوزبردست دھچکا‘ ویلج کونسل کوریا کے نائب ناظم مکمل خان نے اپنے خاندان اورسینکڑوں دوستوں کے ہمراہ جماعت اسلامی کو خیر باد کہہ کر اے این پی میں شمولیت اختیار کر لی۔اس موقع پر اے این پی کے صوبائی جنر ل سیکرٹری اور پارلیما نی لیڈر سردار حسین بابک ، حاجی رؤف خان،تحصیل مندنڑ کے ناظم عمر حیات خان،نائب ناظم اشتر خان،کسان کونسلر فرید الحق اور ویلج کونسل کوریا کے ناظم بشیر احمدبھی موجود تھے ۔ شمولیتی اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے اے این پی کے صوبائی جنر ل سیکرٹری سردار حسین بابک نے پا رٹی میں نئے شا مل ہو نے والے افراد کو خوش آمدید کہتے ہو ئے کہا کہ جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں سے لوگوں کا جوق در جوق اے این پی میں شا مل ہو نا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری پا ر ٹی ہمیشہ عوام کے اعتما د پر پورااتری ہے اور اس پارٹی نے ایوان بالا سمیت ہر پلیٹ فارم پرغریب عوام کے حقوق کی بات کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی نے پختونوں کی بقاء اور سالمیت کے لئے اپنے ہزاروں کارکنوں کی قر بانی دی ہے اور ہر قسم کی قدرتی اور زمینی ناگہانی آفات کے باوجود عوام اور صوبے کی پسماندگی دور کر نے لئے کے پی کے میں بے شمار ترقیاتی کام مکمل کر کے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر کسی اور پارٹی میں ملنا نا ممکن ہے ۔انہوں نے موجودہ صوبائی حکومت پر تنقید کر تے ہوئے کہا کہ 90روز میں بلدیاتی انتخابات کا و عدہ کر نے اور تبدیلی کے دعوے کرنے والوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات کرائے جبکہ اب حالت یہ ہے کہ صوبائی حکومت ان منتخب بلدیاتی ناظمین کو اختیارات اور فنڈز دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اس سے ان کی بد نیتی صا ف ظاہر ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں لیکن بعض لوگ اسے اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے نام پر ووٹ لینے والے عوام کے مسائل پر بھی توجہ دیں۔، حاجی رؤف خان،تحصیل مندنڑ کے ناظم عمر حیات خان،نائب ناظم اشتر خان،کسان کونسلر فرید الحق اور ویلج کونسل کوریا کے ناظم بشیر احمد نے بھی شمولیتی تقریب سے خطا ب کیا ۔ویلج کونسل کوریا کے ناظم بشیر احمدنے اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار کے دوران پورے صوبے میں تعلیمی انقلاب بر پا کیا تھااور صوبہ خیبر پختو نخو ا میں ترقیا تی منصوبو ں ایسا جا ل بچھا یا جس پر موجودہ حکو مت کے حواری اپنے اپنے نا موں کی تختیا ں لگا کر اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ انہوں نے شاید بہت بڑا تیر ما رلیا ہے لیکن وہ نہیں جا نتے کہ عوام اب ان کے دھوکے میں آنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے پونے تین سال کا عرصہ گز رنے کے با وجو د بھی صوبے میں کوئی بھی ایسا ترقیا تی منصوبہ شروع نہیں کیا جس میں صوبائی حکومت کی کا رکر دگی عوام کو نظر آئے ۔

مورخہ 13 دسمبر2015ء بروز اتوار

دہشت گرد بوکھلاہٹ میں بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ امیر حیدر خان ہوتی
پارا چنار دھماکہ آپریشن ضرب عضب کا رد عمل ہو سکتا ہے ،تاہم یہ سلسلہ اب زیادہ دیر تک نہیں چلے گا
دہشت گرد ہر محاذ پر ناکامی کے بعد معصوم اور بے گناہ لوگوں کی جانیں لینے کے درپے ہیں، صوبائی صدر کی دھماکے کی مذمت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پاراچنار میں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ فعل قراردیا ہے اور واقعے میں درجنوں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہر محاذ پر ناکامی کے بعد معصوم اور بے گناہ لوگوں کی جانیں لینے کے درپے ہیں انہوں نے کہا کہ پاراچنار دھماکہ غیر انسانی فعل ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ،انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد دہشت گرد بوکھلاہٹ کے عالم میں بے گناہ عوام پر حملے کر رہے ہیں اور اس ملک کے عوام کو یرغمال بنانے کے لئے انسانیت سوز کارروائیوں میں مصروف ہیں تاہم یہ سلسلہ اب زیادہ دیر تک نہیں چلے گا اور ایسی مذموم کارروائیوں سے عوام کے حوصلے پست نہیں ہونگے انہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والے افرادکی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔

مورخہ 13 دسمبر2015ء بروز اتوار

امیر حیدر خان ہوتی کا سید فاروق شاہ گل جی کے انتقال پر اظہار تعزیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی کے سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ کے چچا زاد سید فاروق شاہ ( گل جی ) کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری تعزیتی بیان میں امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ مرحوم کی وفات ان کے اہل خانہ کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے ،انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کیلئے بھی دعا کی۔

مورخہ 13 دسمبر2015ء بروز اتوار
* دہشت گردوں کے خلاف ملکی سطح پر کارروائی، ٹارگٹڈ اور سرچ آپریشن ہونا چاہئے، میاں افتخار حسین
* 16دسمبر سانحہ پشاور تاریخ کا افسوسناک واقعہ ہے،شہید بچوں کی روحیں ہمیں وقتاً فوقتاًاپنی ذمہ داریوں کاا احساس دلاتی رہیں گی
* شہید بچوں کی چیخ و پکار اور والدین کا درد میرے لئے نا قابل برداشت ہے تاہم ایک سال بعد بھی اس درد میں کوئی کمی نہیں آئی
*ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی وجہ سے امن کے قیام کے امکانات روشن ہو گئے ہیں،
*دہشت گردی کے خاتمے کیلئے موجودہ حالات میں ملنے والے موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو مستقبل میں بھی بڑے خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے آرمی پبلک سکول کے دورے کے موقع پر 16دسمبر کے سانحہ پشاور کو تاریخ کا افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ملکی سطح پر کارروائی، ٹارگٹڈ اور سرچ آپریشن ہونا چاہئے تاکہ کسی بھی کونے میں انہیں پناہ نہ مل سکے ، اس موقع پر نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پشتون تاریخ میں اس واقعے کو کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا اور شہید بچوں کی روحیں ہمیں وقتاً فوقتاًاپنی ذمہ داریوں کاا احساس دلاتی رہیں گی،انہوں نے کہا کہ سانحے کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی یہاں بچوں کے درمیان بیٹھ کر ایسا محسوس ہوا کہ شہید ہونے والے بھی کبھی یہاں بیٹھتے تھے ، تاہم چونکہ میں خود اس درد سے گزر چکا ہوں اس لئے میں والدین کے دکھ کو محسوس بھی کر سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ شہید بچوں کی چیخ و پکار اور والدین کا درد میرے لئے نا قابل برداشت ہے میں سانحے کے بعد بھی یہاں آیا اور جہاں کہیں موصوم بچوں کی لاشیں پھینکی گئیں وہ تما م جگہیں میں نے دیکھیں تاہم ایک سال بعد بھی اس درد میں کوئی کمی نہیں آئی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کاش ہم نے اتنی بڑی قیمت ادا نہ کی ہوتی تو آج وہ بچے بھی یہاں موجود ہوتے اور ان کے والدین بھی تکلیف اور درد میں نہ ہوتے تاہم جب اس قسم کی مصیبت آئے تو حوصلہ بلند رکھنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے بعد قوم میں ایک احساس پیدا ہوا ، سیاسی ، عسکری ،مذہبی قیادت اور عوام متحد ہوئے اور 20نکاتی ایجنڈے پر متفق ہو گئے ، مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب شروع ہوا اور اس کی کامیابی کے نتیجے میں کسی حد تک امن قائم ہو گیا تاہم دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق اور ملکی سطح پر کارروائی ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ جب تک دہشت گرد ہے دہشت گردی ہوتی رہے گی، انہوں نے کہا کہ آج بھی شہید بچوں کا لہو ہم سے پوچھ رہا ہے کہ پاکستان میں امن کب آئے گا اور قوم کب محفوظ ہو گی لہٰذا ہم سب کو سیاست سے بالاتر ایک قوم کی حیثیت سے دہشت گردی کے خلاف منظم اور جامع پالیسی کے تحت اقدامات کریں تو امن کے قیام کے امکانات پیدا ہو جائیں گے ، انہوں نے مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء اورچین کی جانب سے ثالث کا کردار ادا کرنے جیسے اقدامات اور افغانستان ، طالبان مذاکرات خوش آئند ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملا عمر کی ہلاکت کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا تھا اب ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی وجہ سے اس کے امکانات روشن ہو گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ امریکہ ، افغانستان ، پاکستان اور بھارت نے کانفرنس کے علاوہ بھی ملاقاتیں کیں اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق آپریشن ہونا چاہئے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ القاعدہ اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے تاہم اس کی نئی شکل داعش ہے جو زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اسے40مما لک فنڈنگ کر رہے ہیں ، تاہم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے موجودہ حالات میں ملنے والے موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو مستقبل میں بھی بڑے خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں جبکہ اے پی ایس کے شہید بچوں اور ان کے والدیں کے سامنے بھی شرمندہ ہونگے ، انہوں نے کہا کہ سانحے کی یاد میں اے این پی کے زیر اہتمام 16دسمبر کے روز دعائیہ اجتماعات ملکی سطح پر منعقد ہونگے اور ان اجتماعات میں شہداء کیلئے قرآن خوانی اور ان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی جائے گی،

مورخہ : 12.12.2015 بروز ہفتہ
تصحیح شدہ پریس ریلیز
* اسفندیار ولی خان کی ہدایت پر 16 دسمبر کے روز پورے ملک میں قرآن خوانی اور دُعائیہ اجتماعات کا فیصلہ
* اے این پی کے زیر اہتمام اے پی ایس کے شہداء سمیت قربانیاں دینے والے ہزاروں شہیدوں کو اس روز خراج عقیدت پیش کیا جائیگا۔
* 16 دسمبر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انتہا پسندی کی کھلی مخالفت کی جائے ’ اسفندیار ولی خان‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام 16 دسمبر کے سانحہ پشاور کی یاد اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پورے ملک میں 16 دسمبر کے روز قرآن خوانی اور دُعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا جائیگا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے پارٹی کی تمام تنظیموں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 16 دسمبر کو قرآن خوانی کا اہتمام کر کے اے پی ایس کے شہداء سمیت ان تمام شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کریں جنہوں نے امن کے قیام کیلئے جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
اسفندیار ولی خان کی ہدایت کی روشنی میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے تمام صوبوں کی تنظیموں سے رابطے کر کے اُنہیں پارٹی کے اس فیصلے سے آگاہ کیا اور اُنہیں ہدایات دیں کہ اس موقع کی مناسبت سے خصوصی دُعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا جائے اور قرآن خوانی کی جائے۔
دریں اثناء اسفندیار ولی خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں ، اساتذہ اور سٹاف ممبران کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانا چاہیے اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان قوتوں کی کھلی مخالفت اور مزاحمت کی جائے جنہوں نے ان معصوموں سمیت ہزاروں دیگر پاکستانیوں کو اپنے پرتشدد اور غیر انسانی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کی تلخ یادیں ہمارے ذہنوں پر مدتوں نقش رہیں گی اور یہ یادیں ہمیں ہماری ذمہ داریوں کا احساس دلاتی رہیں گی کہ ہم نے ہر صورت اس مٹی سے دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے قیام اور متعدد کارروائیوں کے باوجود حالات کو اب بھی تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا اور ہمارا خطہ اب بھی خطرات کی زد میں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ 16 دسمبر کے سانحے کے بعد قومی سطح پر جس اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا ہے اس کو اس وقت تک قائم رکھا جائے جب تک ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا اور ہم اپنے معصوم شہیدوں کی جانوں کا قرض نہیں اُتار لیتے۔

مورخہ : 12.12.2015 بروز ہفتہ

* توانائی بحران اقتصادی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے‘یو ایس ایڈمیں اضافہ نا گزیر ہے ‘حاجی محمد عدیل
* ملکی و بین الاقوامی سیاسی و سماجی اُمور پر بات چیت، دونوں ملکوں میں قیام امن اور تعلقات کیلئے اہم اُمور زیر گفتگو
* توانائی بحران پر قابو پانے میں امریکہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ۔ملکی معیشت کی بحالی کے لئے امریکی امداد نا کا فی ہے
* امریکی قونصل جنرل ویلیم جے مارٹن و دیگر حکام کی اے این پی کے مرکزی رہنما ء سے ملاقات

پشاور (پریس ریلیز) امریکی قونصل جنرل ولیم جے مارٹن نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء اور بزرگ قوم پرست لیڈر حاجی محمدعدیل سے ان کی رہائش گا ہ میں ملاقات کی اور ان سے خیریت دریافت کی اس موقع پر امریکن قونصلیٹ کے دیگر حکام و افسران اور حاجی محمدعدیل کے صاحبزادے محمد عدنان جلیل(سابق نائب صدر وفاقی ایوان صنعت تجارت ) بھی موجود تھے ۔ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں ملکی و بین الاقوامی سیاسی و سماجی اُمور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اور علاوہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار جیسے اہم اُمور زیر گفتگو رہے ۔ حاجی محمد عدیل نے پاکستان میں رفاعی و فلاحی کاموں کیلئے امریکہ کی جانب دی جانے والی یو ایس ایڈ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے امریکی قونصل جنرل پر واضح کیا کہ اس امداد سے پاکستان کے بعض علاقوں میں تو چھوٹے بڑے مسائل کے حل میں تھوڑی بہت مدد تو مل رہی ہے لیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ملک میں توانائی بحران کا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ کے ذریعے تربیلا ڈیم کی توسیع میں مدد ملی ہے لیکن جب تک توانائی بحران پر مکمل طور پر قابو پانے میں امریکہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتا تب تک ہماری معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہماری اقتصادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ توانائی بحران ہے اُنہوں واضح کیا کہ خیبر پختونخوا بالخصوص فاٹا کے نوجوانوں کو اس وقت روزگار کی ضرورت ہے جو اس صورت میں پوری ہو سکتی ہے کہ امریکہ توانائی منصوبوں کی تکمیل میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرے لہٰذا کے پی کے اور فاٹا کے نوجوانوں کو عسکریت پسندی سے دور رکھنے کیلئے یہاں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھانا نہایت ضروری ہے۔ اُنہوں نے امریکی قونصل جنرل اور ان کے افسران کو یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ منڈا ڈیم کی تکمیل میں یو ایس ایڈ بروقت مہیا کردیتا تو منڈا ڈیم کی تکمیل سے نہ صرف ملک کو 900 سو میگا واٹ بجلی میسر آتی بلکہ ملک کے دیگر صوبے بھی اس کے ثمرات سے مستفید ہوتے اور قدرتی آفات جیسے سیلاب کی تباہ کاریوں سے کافی حد تک ملک اور عوام کو محفوظ رکھنے میں مدد مل جاتی اُنہوں نے امریکن قونصل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا وہ اپنی حکومت کو ہمارے ان مسائل اور مشکلات سے آگاہ کریں گے۔

مورخہ : 11.12.2015 بروز جمعہ

* صوبائی حکومت عظیم فنکار دلیپ کمار کے گھر کو محفوظ اور اثاثہ قرار دینے کیلئے فوری اقدامات کرے ’ میاں افتخار حسین‘
* ہماری حکومت نے گھر خریدنے کیلئے رقم بھی مختص کی تھی تاہم عدالتی احکامات اور دیگر رکاوٹوں کے باعث پیشرفت نہ ہو سکی۔
* دلیپ صاحب کا گھر انتہائی بوسیدہ ہو چکا ہے اگر یہ گر گیا تو ہم ایک عظیم اثاثے سے محروم ہو جائیں گے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اورسابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پشاور سے تعلق رکھنے والے برصغیر کے عظیم اداکار دلیپ کمار (یوسف خان) کے گھر کو قومی ورثہ قرار دینے اور اُسے محفوظ کرنے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے اور اس سلسلے میں مزید تاخیر سے کام نہ لیا جائے
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں میاں افتخار حسین نے عظیم فنکار کو ان کی 92 ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے اپنے دور حکومت میں دلیپ کمار کے گھر کو قومی اور ثقافتی ورثہ قرار دینے کی جو عملی کوششیں کی تھیں وہ عدالتی احکامات ، بیورو کریسی کے عدم تعاون اور بعض دیگر رکاوٹوں کے باعث کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں حالانکہ اُنہوں نے وزیر کی حیثیت سے گھر خریدنے کیلئے تین کروڑ سے زائد کی رقم مختص کی تھی اور گھر کے مالکان کے علاوہ متعدد دیگر متعلقہ لوگوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر اس گھر کو قومی ورثہ قراردیا جاتا تو اس سے پشاور کی عظمت میں اضافہ ہوتا اور محکمہ ثقافت کی آمدنی اور شہرت بھی بڑھ جاتی تاہم مذکورہ رکاوٹوں اور وقت کی کمی کے باعث یہ فیصلہ عملی نہ ہو سکا جس کا ان کو بہت افسوس اور دُکھ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ مذکورہ گھر انتہائی حد تک بوسیدہ ہو چکا ہے اور گرنے کو ہے اگر یہ گھر گر گیا تو ہم ایک بڑے اثاثے سے محروم ہو جائیں گے اور یہ ایک المیے سے کم نہیں ہو گا۔ کیونکہ اصل قیمت اس گھر کی ہے جہاں عظیم فنکار نے جنم لیا نہ کہ زمین کی۔
میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ اس گھر کے گرنے سے قبل اس کو قومی اثاثہ بنانے میں مزید کوئی تاخیر یا غفلت ایک عظیم اثاثے کو اپنے ہی ہاتھوں دفن کرنے کے مترادف ہو گا اس لیے حکومت فوری طور پر اس کو خریدنے اور اس کو اثاثہ قرار دینے کا عملی اقدام اُٹھائے اور اس کے ساتھ پرتھوی راج کپور کے گھر کو بھی قومی ورثہ قراردیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ دونوں عظیم فنکاروں نے ہندوستان کی فلم انڈسٹری کو فتح کیا اور ہندوستان سمیت پوری دُنیا میں ان کو بے پناہ شہرت اور عزت حاصل ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ اُنہوں نے پارٹی کے بعض لیڈروں کے ہمراہ ممبئی کا دورہ کرتے ہوئے دلیپ کمار سے ملنے کی کوشش کی اور اس مقصد کیلئے سائرہ بانو سے رابطہ بھی ہوا تھا تاہم خرابی صحت کے باعث ان سے ملاقات نہ ہو سکی جس کا اُنہیں ہمیشہ دُکھ رہے گا۔
اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت اس عظیم فنکار کے گھر کو ہر صورت میں گرنے سے بچانے اور محفوظ کرنے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے گی تاکہ پشاور کی شان میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔

مورخہ 11دسمبر2015ء بروز جمعہ

* عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری اور دہشت گردی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے، ہارون بشیر بلور
*سیاسی مفادات کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کی وجہ سے عوام اب پی ٹی آئی سے نالاں ہیں
* صوبے کے عوام اب پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیوں سے بیزار ہوچکے ہیں، لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ عمران خان وزیر اعظم بننے کیلئے ہر پل بیتاب ہیں تاہم انہیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کپتان چور دروازے سے وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور ان پر اس کا بھوت سوار ہے لیکن عوام اب پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیوں سے بیزار ہوچکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی ناکام حکومت اس بات کا واضح ثبوت ہے ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ عمران خان پنجاب میں اقتدار کے حصول کی خاطر عوام میں نفرت پھیلا رہے ہیں ، اور اس نشے میں وہ خیبر پختونخوا کو ہی بھلا بیٹھے ہیں جہاں عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ پختون قوم باشعور ہے اور وہ اب اپنے فیصلے پر پشیمان ہیں لہٰذاآئندہ الیکشن میں وہ ایسی غلطی نہیں دہرائیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو یرغمال بنانے صوبے کے فیصلے بنی گالہ میں کرنے اور سیاسی مفادات کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کی وجہ سے عوام اب پی ٹی آئی سے نالاں ہیں جبکہ صوبے کی صورتحال بھی بگڑتی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری اور دہشت گردی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی حالت زار پر توجہ دے اور خیبر پختونخوا کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرے ورنہ عوام ان کا بوریا بستر جلد گول کر دیں گے۔

مورخہ 11 دسمبر2015ء بروز جمعہ

وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے،ایمل ولی خان
عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں اس کے فوائد عوام تک پہنچائے جائیں
پہلے 40ارب روپے کے نئے ٹیکس اور اب تیل کی قیمتوں میں کمی نہ کر کے عوام کوووٹ دینے کی سزا دی جا رہی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں اس کے فوائد عوام تک پہنچائے جائیں ، اپنے ایک بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ تیل کی قیمتیں اس وقت سات سال کی کم ترین سطح پر آ چکی ہیں جبکہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کر رہی اور مسلسل عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے میں مصروف ہے ، انہوں نے کہا کہ اوگرا کی جانب سے وزارت خزانہ کو ایک سمری ارسال کی گئی تھی جس میں پٹرول کی قمیت میں کمی اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے وزارت خزانہ کو بھیجی گئی سمری کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ایک روپے 5 پیسے فی لٹر، لائٹ سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 36 پیسے فی لٹر، مٹی کے تیل کی قیمت 79 پیسے فی لٹر کمی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 42 پیسے اور ہائی اوکٹین کی قیمت میں بھی 87 پیسے فی لٹر اضافے کی سفارش کی گئی تھی تاہم وفاقی حکومت نے ان سفارشات کو رد کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جو عوام دشمنی کی ایک اعلیٰ مثال ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام نے پانچ سال کیلئے مینڈیٹ دیا لیکن انہوں نے اس مینڈیٹ کی توہین میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور پہلے 40ارب روپے کے نئے ٹیکس اور اب قیمتوں میں کمی نہ کر کے عوام کو ان کے کئے کی سزا دے رہے ہیں ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے ثمرات عوام تک پہنجائے جائیں اور عوام دشمن پالیسی ترک کر کے انہیں ریلیف دیا جائے ۔

مورخہ 11 دسمبر2015ء بروز جمعہ
*پائیدار قیام امن کیلئے وزیرستان کے آئی ڈی پیز کا بھرپور خیال رکھنا ہو گا ،سردار حسین بابک
* وزیرستان کے باشندوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، جو قربانی اُنہوں نے دی ہے اُس کا بھرپور صلہ دیا جائے
* بدقسمتی سے مرکزی اور صوبائی حکومت قیام امن اور آئی ڈی پیز کی بحالی پر کوئی توجہ نہیں دے پا رہیں
* سیاسی پارٹیاں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگ اپنے نظریات سے بالا تر ہو کر امن کے قیام کیلئے جدوجہد کریں
* ملک کسی بھی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، موجودہ صورتحال میں جرأت اور بہادری کیساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ جب تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک مکمل امن کا قیام نا ممکن ہے،اور امن کیلئے لازمی ہے کہ وزیرستان کے آئی ڈی پیز کا ہر صورت خیال رکھا جائے،اپنے ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں بدقسمتی سے امن کے قیام کیلئے کوششیں کرنے میں بالکل ناکام رہیں اور اُنہوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ لہٰذا آج وزیرستان میں کارروائی جاری ہے،اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو شایدپھر دہشتگردی کے خاتمے کا یہ موقع ہاتھ نہ آئے ۔انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے باشندوں نے کارروائی کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے گھر بار چھوڑے اور آئی ڈی پیز کی صورت میں ملک کے کئی مقامات میں بسے ہوئے ہیں جو قربانی اُنہوں دی ہے اُس کا بھرپور صلہ دیا جائے۔ بصورت دیگر اگر ہمارے رویوں سے وہ مایوس ہوئے تو دہشتگردی میں اضافے کا خطرہ بڑھ جائیگا۔صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جاری کرسی کی جنگ کی وجہ سے مرکزی اور صوبائی حکومتیں قیام امن اور آئی ڈی پیز کی بحالی پر کوئی توجہ نہیں دے پا رہیں جو نہایت تشویشناک ہے۔ ہمارے خطے میں طویل عرصے سے امن ناپید ہے لہٰذا اسے سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ سمجھ کر تمام سیاسی پارٹیاں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگ اپنے نظریات سے بالا تر ہو کر امن کے قیام کیلئے جدوجہد کریں۔ اس موقع پر ملک کسی بھی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا حکومت پاکستان اور دھرنوں والے وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے کرسی کی لڑائی کو ترک کر دیں اور امن کے قیام پر توجہ دیں،ا نہوں نے مزید کہا کہ سیاسی لیڈر شپ اور سول سوسائیٹی کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ موجودہ صورتحال میں جرأت اور بہادری کیساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے کیونکہ ڈرنے یا خوف زدہ ہونے سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کی یہ بلا نہیں ٹل سکتی۔موجودہ وقت صرف ہم سے جرأت اور بہادری کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اپنے معاشرے اور آئندہ نسل کو ایک پر امن اعتدال پسند مستقبل دینے میں کامیاب ہو سکیں۔

10.12.2015.بروز جمعرات

تعلیم کے فرو غ اور روزگار کی فراہمی کی کوئی کوشش یا پالیسی نظر نہیں آرہی ‘ محسن داوڑ
فا ٹا اور پختونخوا میں سینکڑوں سکولو ں کی بندش قا بل افسوس ہے‘ طلباء اور نوجوانوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے

پشاور (پ ر ) نیشنل یو تھ آرگنا ئزیشن کے تر جمان محسن داوڑ نے صوبے اور فا ٹا میں تعلیم کی مخدوش صورتحال اور لا تعداد سکولوں کی بندش کی رپورٹس پراظہار تشویش کرتے ہو ئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے تعلیم ‘صحت ‘ اور دیگر شعبوں میں تبدیلیاں لا نے کے جووعدے کئے تھے اب تک ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل درآمدنہیں ہو سکا ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطا بق فا ٹا اور صوبے میں آٹھ سو سے زائد سکول یا تو مکمل طور پر بند پڑے ہیں یا بنیا دی ضروریات سے بالکل محروم ہیں ۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ نئے تعلیمی اداروں کی تعمیر تو ایک طرف بلکہ پرانے سکولوں اور دیگر اداروں کی بحالی پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے نے پندرہ سال تک جن حالات کا سامنا کیا اس کے نتیجے میں طلباء ‘ نوجوانوں اور عام لوگوں کو بدترین مشکلات کا سا منا کرنا پڑا ۔ضرورت اس بات کی تھی کہ تعلیم کے فروغ کے لئے خصوصی اقدامات کئے جا تے اور فا ٹا ‘ پختونخوا کے طلباء و طا لبات کو خصوصی مراعات فراہم کی جا تیں تا ہم ہمیں ایسی کو ئی کو شش نظر نہیں آرہی ۔اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے طلباء اور نو جوان اس روئیے کے با عث عدم تحفظ کے علا وہ شدیدذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اگر حکمرا نوں نے ان کی اس بے چینی کا نو ٹس لے کر تعلیم ‘ روزگار ‘امن کی فراہمی جیسی ضرورتوں پر تو جہ نہیں دی تو اس کے انتہا ئی منفی نتائج برآمد ہوں گے ۔

مورخہ : 10.12.2015 بروز جمعرات

* اکیسویں صدی کے دوران بھی پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اطمینان بخش نہیں رہی ’ میاں افتخار حسین‘
* اے این پی کسی قسم کے مذہبی ، لسانی یا علاقائی امتیاز پر یقین نہیں رکھتی اور یہی باچا خان کی تعلیمات ہیں۔
* تشدد پر مبنی رویوں نے معاشرے کو بگاڑ دیا ہے، انسانی حقوق کے عالمی دن پر مرسی انٹر نیشنل سکول کا دورہ اور وفود سے گفتگو۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر اکیسویں صدی کے باوجود انسانی حقوق کی صورتحال کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ ملک کے دوسرے حصوں کے برعکس صوبہ پختونخوا کی روایات اور مثبت معاشرت کے باعث حالات کافی بہتر ہیں اور یہاں کے عوام دوسروں کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق ، خیالات اور سرگرمیوں کا بہت خیال رکھتے آئے ہیں۔
انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر مرسی انٹرنیشنل سکول کے دورے اور باچا خان مرکز میں وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پشتون روایات اور سیاسی شعور کے باعث ہمارا خطہ مجموعی طور پر انسانی حقوق خصوصاً اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے مثالی رویے کا عکاس رہا ہے اور باچا خان کی تعلیمات کی وجہ سے 1947 کے واقعات سمیت دوسرے مواقع پر بھی اقلیتوں اور دیگر طبقوں کو ہر دور میں تحفظ اور احترام حاصل رہا۔ تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کی صورتحال اکیسویں صدی کے دوران بھی قابل اطمینان نہیں ہے اور پاکستان کا شمار چند ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کسی قسم کے مذہبی ، نسلی اور علاقائی امتیاز پر یقین نہیں رکھتی اور اس کا نتیجہ ہے کہ ہم نے تمام تر مساعد حالات کے باوجود صرف انسانیت کے احترام کی وکالت اور سیاست کی۔
اُنہوں نے کہا کہ غیر معیاری نصاب تعلیم اور بعض مذہبی رویوں نے ہمارے معاشرے کو تشدد زدہ کرکے رکھ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں برداشت اور دوسروں کے جذبات ، احساسات کے احترام جیسے رویے بری طرح متاثر ہو گئے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں رواداری ، برداشت اور عدم تشدد پر مبنی رویوں کو فروغ دیا جائے تاکہ آئندہ کی اپنی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ اور پر امن بنایا جا سکے۔
قبل ازیں میاں افتخار حسین نے دوسرے ساتھیوں سمیت مرسی انٹر نیشنل سکول ناصر پور کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے سکول کی مختلف برانچوں کا معائنہ کیا اور سکول کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر اے این پی اور این وائی او اور راشدشہید فاؤنڈیشن کے دیگر رہنما شگفتہ ملک ، یاسمین ضیاء ، طارق افغان ، سنگین خان ایڈوکیٹ ، میاں زبیر ، محسن داوڑ ، سلیمان یوسفزئی، تیمور کمال اور قمر نسیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔

مورخہ : 10.12.2015 بروز جمعرات

* شہید بشیر احمد بلور کی برسی 22 دسمبر کو منائی جائیگی ’’ پارٹی اجلاس کا فیصلہ ‘‘
* باچا خان مرکز میں منعقدہ اجلاس میں برسی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
* برسی سے پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قائدین خطاب کرینگے ’’ ملک غلام مصطفی ‘‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ کی کابینہ کا ایک اہم اجلاس سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں جنرل سیکرٹری سرتاج خان ، نائب صدر غلام حسن ، ملک طارق ، ارباب واجد ، جائنٹ سیکرٹری انجینئر عقیل ممتاز خان ، عرم واحد ، سیکرٹری مالیات عنایت اللہ ، اقلیتی اُمور آکسٹن جیکب اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔
اجلاس میں شہید بشیر احمد بلور کی تیسری برسی کے سلسلے میں اہم فیصلے کیے گئے اور فیصلہ کیا گیا کہ شہید بشیر احمد بلور کی برسی 22 دسمبر کو نہایت عقیدت و احترام سے منائی جائے گی جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قائدین شرکت کرینگے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا کہ بشیر احمد بلور دہشت ، بربریت اور ظلم کے خلاف ایک مؤثر آواز تھے۔ 22 دسمبر2012 کو دہشتگردوں نے اس آواز کو خاموش کر دیا۔ لیکن دہشتگرد یہ نہیں جانتے تھے کہ بشیر احمد بلور کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی، جو لوگ اپنی دھرتی سے پیار کرتے ہیں اور دھرتی میں امن قائم کرنے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ، ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں وہ مرتے نہیں ہیں وہ دُنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں لیکن رہتی دُنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں، اس سلسلے میں 22 دسمبر کو بشیر احمد بلور کی برسی عقیدت و احترام سے منائی جائیگی۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور نے پی کے کی سطح پر چار اجلاسوں کا اعلان کیا ۔ پی کے( ون) کا اجلاس ملک طارق کے حجرے میں 11 دسمبر بروز جمعہ بوقت دو بجے ہو گا، جس میں حاجی غلام احمد بلور ، ہارون بشیر بلور، سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفی اور دیگر عہدیدار شرکت کرینگے۔ جبکہ پی کے (فور) اجلاس 13 دسمبر بروز اتوار بوقت دو بجے ارباب واجد کے حجرے میں منعقد کیا جائیگا۔ پی کے (ٹو) کا اجلاس عنایت خان کے حجرے شیخ آباد میں 16 دسمبر بروز بدھ منعقد کیا جارہا ہے اور چوتھا پروگرام 18 دسمبر بروزجمعہ بوقت دو بجے پی کے تھری میں منعقد کیا جائیگا۔

مورخہ 10 دسمبر2015ء بروز جمعرات

امیر حیدر خان ہوتی کا سردار حسین بابک سے اظہار تعزیت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کے چچااور سابق صوبائی وزیر و ضلعی صدر اے این پی کریم بابک کے چچا زاد حاجی صلاح الدین کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں صوبائی صدر نے سردار حسین بابک سے تعزیت کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ مرحوم کی وفات پسماندگان کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے ، انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔

مورخہ 10 دسمبر2015ء بروز جمعرات

آئی ڈی پیز کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز صرف کاغذوں تک محدود رہے، ہارون بشیر بلور
متاثرین شمالی وزیرستان کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کر کے ان میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے متاثرین شمالی وزیرستان کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کے مطالبات جلد تسلیم کئے جائیں، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں ہارون بشیر بلور نے کہا کہ وزیر ستان کے آئی ڈی پیز ملک میں قیام امن کیلئے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں اور ایک طویل عرصہ سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ان کو کسی قسم کا ریلیف تک فراہم نہیں کیا گیا بلکہ ایک دوسرے پر الزامات اور اپنی ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈالنے میں مصروف رہیں ، انہوں نے کہا کہ متاثرین کیلئے اعلان کردہ کروڑوں روپے کے فنڈزکے اعلانات صرف کاغذوں تک محدود رہے اور متاثرین کو کچھ بھی نہیں دیا گیا ہارون بشیر بلور نے کہا کہ وزارت سیفران کے احکامات کے باوجود وزیرستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھرتی کیلئے ایک فیصد کوٹہ بھی مختص نہیں کیا گیا جو بنیادی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین شمالی وزیرستان کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کر کے ان میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے ۔

مورخہ : 09.12.2015 بروز بدھ
ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے خطے کے اہم ممالک کی آپس کی بداعتمادی دور ہونے میں مدد ملے گی ’میاں افتخار حسین‘
فریقین کو اپنی اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔
افغانستان کا امن اور استحکام علاقائی ایشو نہیں ہے، پڑوسیوں اور عالمی قوتوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
عملی اقدامات نہیں کیے گئے تو انتہا پسندی ، دہشتگردی اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کا راستہ ہموار ہوگا۔

پشاور (پریس ریلیز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میا ں افتخار حسین نے پانچویں علاقائی کانفرنس کے انعقاد کو خطے میں مستقل قیام امن کیلئے دوررس نتائج کا حامل قرار دیا ہے۔، اے این پی سیکرٹریٹ سے جا ری اپنے بیان میں افتخار حسین نے آہم معاملات کو حل کرنے کیلے مثبت سوچ اور فکر کے ذریعے مذاکرات کے جاری رکھنے کے عمل کوانتہائی خوش آئند قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ افغان صدر کی بذات خود آمد ، بھارتی وزیر خارجہ کے مثبت اشارے اور پاکستانی قیادت کی جانب سے دونوں رہنماؤں کاخیر مقدم قابل ستائش ہونے کے علاوہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ خطے کے ان تین اہم ممالک کو اپنی ذمہ داریوں اور حالات کا ادراک اور احساس ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کی غلط فہمیوں کے مستقل خاتمے کیلئے خطے کے ممالک کی اعلی قیادتوں کے باہمی روابط کو مضبوطی سے استوار کیا جانابے حد ضروری ہے ا وربین الاقوامی معاملات میں اپنے اپنے ممالک کے مفادات کو اولین ترجیح رکھ کر آزاداد اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کی خود مختاری کے تحفظ کو یقینی بنانا اور اپنی اپنی سر زمین کو ایک دوسرے کے خلا ف استعمال نہ ہونے دینے کا حتمی فیصلہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ باچا خان مرحو م کی عدم تشدد کی تحریک کی کامیابی کی دلیل ہے کہ خطے کے ممالک کی غلط فہمیاں ختم ہو رہی ہیں اور بین الا قوامی ایجنڈے کے تحت قائم ہونے والی دشمنیاں دوستی میں بدل رہی ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے ٹھوس اقداما ت اٹھائے جائیں کہ خطے میں بسنے والے کروڑوں شہری بغیر خوف و خطر اپنے اپنے ممالک کی ترقی اور عوامی خوشحالی میں کردار ادا کرسکیں۔خطے سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے محبت،اخوت،ملاقاتوں اور مفاہمتی عمل کا تسلسل جاری رہنا بھی ناگزیر ہے۔بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان صدیوں سے قائم خونی ،تہذیبی اور تمدنی رشتوں کو مزید مضبوط اور دونوں ممالک کی ترقی و سا لمیت کیلئے امن نا گزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے نہ صرف خطے کے اہم ممالک کی آپس کی بداعتمادی دور ہو نے میں ملے گی بلکہ خطے کی سیکیورٹی کولا حق شدید خطرات سے نمٹنے میں بھی اسانی پید ا ہونا بھی یقینی ہوجائے گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کا امن اور استحکام علاقائی ایشو نہیں بلکہ اس کے لیے پڑوسی ممالک اور عالمی طاقتوں کو بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دہشتگردی ، انتہا پسندی اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کا راستہ ہموار ہو گا اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوگا۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس اہم کانفرنس میں افغانستان کے معاملات کو ٹاپ ایجنڈے پر رکھا گیا ہے اور تمام ممالک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کوششوں کا آغاز کیا جائیگا۔

مورخہ 09.12.2015بروز بدھ

ہارون بشیر بلور کا ڈاکٹر حامد بنگش سے ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

پشاور( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبا ئی سیکرٹری اطلاعا ت ہارون بشیر بلور نے ملگری ڈاکٹران خیبر پختونخوا کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حامد بنگش سے ان کی و الدہ کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہا ر کیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان مرکزسے جا ری کردہ اپنے ایک تعزیتی بیا ن میں انہوں نے مرحومہ کی مغفرت و درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کے لئے صبر جمیل کی ہے۔

مورخہ : 8.12.2015 بروز منگل
افغانستان کے بارے میں پانچویں علاقائی کانفرنس دو ررس نتائج کی حامل ہے ۔’ اسفندیار ولی خان‘
ہمسائے تبدیل نہیں کیے جا سکتے اپنی اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے کا حتمی فیصلہ ناگزیرہو چکا ہے۔
ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرنا لازمی ہے ’ امن کیلئے مشترکہ کوششیں وقت کی ضرورت ہے۔

پشاور (پریس ریلیز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان کی طرف سے پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کے جارہ کردہ بیان میں افغانستان کے بارے میں پانچویں علاقائی کانفرنس کے انعقاد کو خطے کے مستقل امن کیلئے دوررس نتائج کا حامل قرار دیا گیا ہے۔اسفند یا ر ولی خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمسایے کبھی تبدیل نہیں کئے جا سکتے معاملات کو حل کرنے کیلے مثبت سوچ اور فکر کے ذریعے مذاکرات جاری رکھنا خوش آئند ہے۔غلط فہمیوں کے مستقل خاتمے کیلئے خطے کے ممالک کی اعلی قیادتوں کے باہمی روابط کو مضبوطی سے استوار کیا جاناچاہئے۔ بین الاقوامی معاملات میں اپنے اپنے ممالک کے مفادات کو پہلی ترجیح رکھ کر آذاد اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کی خود مختاری کے تحفظ کا یقینی بنانا اور اپنی اپنی سر زمین کو ایک دوسرے کے خلا ف استعمال نہ ہونے دینے کا حتمی فیصلہ کرنا ہو گا۔اسفند یا ر ولی خان نے مزید کہا کہ باچا خان مرحو م کی عدم تشدد کی تحریک کی کامیابی کی دلیل ہے کہ خطے کے ممالک کی غلط فہمیاں ختم ہو رہی ہیں اور بین الا قوامی ایجنڈے کے تحت قائم ہونے والی دشمنیاں دوستی میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کانفرنس کے خاتمے پر ایسے ٹھوس اقداما ت اٹھائے جائیں کہ خطے میں بسنے والے کروڑوں شہری بغیر خوف و خطر اپنے اپنے ممالک کی ترقی اور عوامی خوشحالی میں کردار ادا کریں ۔اسفند یا ر ولی خان نے کہا کہ خطے کے تمام ہمسایہ ممالک باہمی احترام،اور عدم مداخلت پر سختی سے کاربند ہوں۔خطے سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے محبت،اخوت،ملاقاتوں اور مفاہمتی عمل کو جاری رہنا چاہئے۔بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان صدیوں سے قائم خونی ،تہذیبی اور تمدنی رشتوں کو مضبوط بنانے کیلئے امن نا گزیر ہے۔ امن کیلئے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں مکمل امن کے قیام سے ہی خطے کی خوشحالی ممکن ہے۔خوشحالی سے دوستی اور بھائی چارے کے رشتے مضبوط سے مضبوط تر ہوں گے۔

مورخہ : 8.12.2015 بروز منگل

* افغانستان کے امن اور استحکام کیلئے پڑوسی ممالک اور عالمی برادری کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہو چکی ہیں ’’میاں افتخار حسین ‘‘
* پڑوسی ممالک کی بداعتمادی اور غلط فہمیوں کے باعث دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں متاثر ہوئیں۔
* نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ’ باچا خان مرکز میں وفود سے بات چیت‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کا انعقاد اور اس میں افغانستان اور بھارتی وفود کی شمولیت ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کا جائزہ لیا جائے اور اس بات پر زور دیا جائے کہ خطے خصوصاً افغانستان کے امن اور استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں اور اعتماد سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔
باچا خان مرکز میں وفود سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ خطے کے اہم ممالک کی باہمی بداعتمادی سے جہاں سیاسی اور ریاستی تعلقات میں تلخی پیدا ہوتی آئی ہے وہاں خطے کی سیکیورٹی بھی شدید خطرات کی زد میں رہی ۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کا امن اور استحکام علاقائی ایشو نہیں ہے بلکہ اس کے لیے پڑوسی ممالک اور عالمی طاقتوں کو بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دہشتگردی ، انتہا پسندی اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کا راستہ ہموار ہو گا اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوگا۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس اہم کانفرنس میں افغانستان کے معاملات کو ٹاپ ایجنڈے پر رکھا گیا ہے اور تمام ممالک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کوششوں کا آغاز کیا جائیگا۔
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران سانحہ پشاور کے بعد پاکستان کی عسکری ، حکومتی اور سیاسی قیادت دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہوئی جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا تاہم متعدد تنظیموں نے نام بدل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں جس کے باعث وہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے جس کی ضرورت تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور سمیت بعض دیگر واقعات اور ان کے اثرات بھلائے نہیں جا سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شہداء کے خون اور قربانیوں کا ادراک اور احترام کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ، آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی کا عمل تیز کیا جائے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے تاکہ ان خطرات کا راستہ روکا جا سکے جو کہ اب بھی خطے پر منڈلا رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کو قریب لانے میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور جرگہ میں شامل ان لیڈروں کا بھی بڑا کردار رہا ہے جنہوں نے دورہ کابل کے دوران مصالحتی کوششیں کیں اور دونوں ممالک نے ان کوششوں کا احترام کیا۔

مورخہ 8 دسمبر2015ء بروز منگل
دہشتگردوں کو بھائی کا درجہ دینے والے دوبارہ اقتدار میں نہیں آ سکتے ، سردار حسین بابک
پرویز خٹک دوسروں کی اہمیت کا اندازہ کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں تو انہیں اپنی سیاسی کردار کا اندازہ ہو جائے گا
مستقبل میں پی ٹی آئی کا صفایا ہونے والا ہے، صوبے کے عوام اب پی ٹی آئی کو ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں
تحریک انصاف کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے اور پرویز خٹک آئندہ الیکشن کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعت کا حصہ ہونگے
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی جانب سے اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز خٹک دوسروں کی اہمیت کا اندازہ کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں تو انہیں اپنی سیاسی کردار کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک کا ماضی گواہ ہے کہ وہ کبھی کسی ایک پارٹی میں نہیں رہے بلکہ اقتدار کی خاطر وہ پہلے آزاد حیثیت سے ،بعد ازاں پیپلز پارٹی ، قومی وطن پارٹی ، اے این پی حکومت کا بھی حصہ رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کل کی پیداوار جماعت ہے جس کا کوئی مستقبل نہیں بلکہ وہ اس خوش فہمی میں ہیں کہ آنے والا دور بھی تحریک انصاف کا ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی کو طعنہ دینا درست نہیں کیونکہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو قربانیاں اے این پی نے دی ہیں وہ کسی اور سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں ،بلکہ وزیر اعلیٰ کی جماعت دہشتگردوں کو اپنا بھائی اور ان کیلئے دفتر کھولنے کا مطالبہ کرتی رہی ، سردار حسین بابک نے کہا کہ عوام ان کے عزائم جان چکے ہیں اور مستقبل میں پی ٹی آئی کا صفایا ہونے والا ہے ،انہوں نے کہا کہ اسی طرح صوبائی خود مختاری اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق کا حصول بھی اے این پی ہی کا کارنامہ ہے ، جو یقیناًپرویز خٹک کی سمجھ سے بالاتر ہو گا، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اے این پی کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ نظر نہیں آتی جو ان کی حکومت میں ریکارڈ توڑ چکی ہے انہوں نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ تحریک انصاف کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے اور پرویز خٹک آئندہ الیکشن کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعت کا حصہ ہونگے اورحسب روایت تحریک انصاف کو چھوڑ کر کسی اور پارٹی میں شامل ہو جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اپنے خلاف ہرزہ سرائی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور امید ہے کہ وزیر اعلیٰ آئندہ اپنے رویے میں تبدیلی ضرور لائیں گے۔سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے کے عوام اب پی ٹی آئی کو ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی کارکردگی صفر ہے اور صوبے میں جنگل کا قانون رائج ہے جبکہ حکومت نام کی کوئی چیز نظر آ رہی ،انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے وزیراعلیٰ ایک بے اختیار وزیراعلیٰ ہیں اور ان کی چابی بنی گالہ سے گھمائی جاتی ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ امید ہے کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے وہ اپنی پوزیشن کا خیال رکھیں گے اور اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی سے گریز کریں گے ۔

مورخہ : 7.12.2015 بروز پیر

* پشتون معاشرے اور سیاست میں پشتون خواتین کی اہمیت اور کردار کو فراموش اور نظر انداز نہیں کیاجا سکتا۔ ’ اسفندیار ولی خان ‘
* فاٹا کی خواتین خوب سمجھتی ہیں کہ انتہا پسندی ، گھر بدری ، معاشرتی استحصال اور تعلیم سے محرومی کے اثرات کیا ہوتے ہیں۔
* تمام پشتون خواتین باالخصوص فاٹا کی ماؤں اور بہنوں نے مشکل حالات اور انتہا پسندی کا بہادری اور ہمت کیساتھ مقابلہ کیا۔
* باچا خان نے پشتونوں میں تعلیم کا آغاز اپنے سکولوں سے کیا اور بیٹے کے ساتھ اپنی بیٹی کو بھی سکول میں داخل کرایا۔
* فاٹا میں دیگر کے علاوہ قبائلی خواتین اور بچوں کو شدید ترین معاشرتی اور ثقافتی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔
* یہ بات خوش آئند ہے کہ مرد حضرات کے علاوہ اب فاٹا کی خواتین بھی اپنے حقوق کیلئے میدان عمل میں نکل آئی ہیں۔
* اُمید ہے کہ فاٹا کی خواتین کے ایسے جرگوں سے خطے میں خواتین کی سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں تیزی واقع ہو گی۔
باچا خان مرکز میں فاٹا کی خواتین نمائندہ جرگہ کے موقع پر تحریری پیغام
* فاٹا کے مستقبل کیلئے خواتین کی رائے، تجاویز کو بھی اہمیت دی جائے۔ ’خواتین کے نمائندہ جرگہ سے بشریٰ گوہر ، شگفتہ ملک اور ناہید رحمان آفریدی کا خطاب

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پشتون خواتین کی اہمیت ، جدوجہد اور فعال کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ مرد حضرات کے علاوہ اب فاٹا کی خواتین بھی اپنے سیاسی ، سماجی اور ثقافتی حقوق کیلئے میدان عمل میں نکل آئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچا خان مرکز میں فاٹا سے تعلق رکھنے والی نمائندہ خواتین کے ایک جرگہ سے اپنے تحریری پیغام میں کیا۔ جرگہ سے دوسروں کے علاوہ اے این پی کی مرکزی رہنما بشریٰ گوہر ، صوبائی نائب صدر ناہید رحمان اور صوبائی جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک نے بھی خطاب کیا جبکہ ممتاز سماجی کارکن رخشندہ ناز نے جرگے میں خصوصی طور پر شرکت کی۔
اسفند یار ولی خان نے کہا کہ جرگہ کے ذریعے اپنے مسائل پر مشاورت کرنا ہماری تاریخ اور آباؤاجداد کا وطیرہ رہا ہے اور یہ بات قابل اطمینان ہے کہ معاشرے کے دوسرے طبقوں کی طرح اب فاٹا کی ہماری خواتین نے بھی ایسے جرگوں کا آغاز کیا ہے تاکہ ان کے مسائل ، ایشوز اور دیگر معاملات پر اجتماعی طور پر تبادلہ خیال ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ فاٹا کی خواتین شدید مشکلات سے گزری ہیں اور وہ خوب سمجھتی ہیں کہ انتہا پسندی ، گھر بدری ، معاشرتی استحصال اور تعلیم سے محرومی جیسے عوامل کے اثرات کیا ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام پشتون خواتین خصوصاً فاٹا کی ماؤں ، بنہوں اور بیٹیوں نے انتہا پسندی کے اثرات اور مشکل صورتحال کا جس بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا وہ قابل ستائش ہے اور یہ بات مزید قابل تعریف ہے کہ ایسے جرگوں اور اجتماعات کے ذریعے اب فاٹا کی خواتین بھی اپنے حقوق اور اجتماعی مسائل کے حل کیلئے میدان عمل میں نکل آئی ہیں۔ اُمید ہے کہ ایسے جرگوں کے ذریعے خطے کی خواتین کی سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں مزید تیزی واقع ہو گی اور پشتون سرزمین پر امن کے قیام ، ترقی اور استحکام کیلئے کی جانے والی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہو سکے گی۔ اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ باچا خان نے جب 20 ویں صدی میں اپنی تحریک کی بنیاد رکھ لی تو اُنہوں نے دیگر طبقات کے علاوہ خواتین کے حقوق اور تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی اور آزاد سکولوں کے جس سلسلے کا اُنہوں نے آغاز کیا ان میں اپنے بیٹوں کے علاوہ بیٹی کو بھی داخل کرایا۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی باچا خان کی جدوجہد کے تسلسل کے طور پر خواتین کے کردار کو بہت زیادہ اہمیت دیتی آئی ہے اور ہم ان کے کردار کو انتہائی قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ فاٹا میں پچھلے ایک کم عرصے سے جو تباہی ہوئی ہے اس سے دوسروں سے زیادہ خواتین نے بھی بہت بڑا نقصان اُٹھایا اور شاید یہی وجہ ہے کہ فاٹا کی خواتین اپنے کردار کے تعین کیلئے خود بھی میدان میں نکل آئی ہیں۔
قبل ازیں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے بشریٰ گوہر ، ناہید رحمان آفریدی ، شگفتہ ملک اور متعدد دیگر صاحب الرائے خواتین نے خطاب کرتے ہوئے آئی ڈی پیز کی فوری واپسی اور مؤثر بحالی کی ضرورت پر زور دیا اور مشترکہ مؤقف اختیار کیا کہ فاٹا میں تعلیم ، روزگار ، بنیادی حقوق کے تحفظ اور پائیدار امن کیلئے مزید کوتاہی یا تاخیر سے گریز کرکے عملی اقدامات کیے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جاری تشدد اور جنگ نے اس خطے کے جو نقصان پہنچایا ہے اس کا ازالہ کرکے دوسروں کے علاوہ خواتین کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ خواتین رہنماؤں نے اس موقع پر مطالبہ کیا تمام اہم فیصلوں اور قانون سازی میں خواتین کی رائے اور تجاویز کو بھی اہمیت دی جائے تاکہ خطے کو تعلیم ، امن اور استحکام سے ہمکنار کیا جا سکے۔

مورخہ 7 دسمبر2015ء بروز پیر
*اے این پی الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی ، ہارون بشیر بلور
* پارٹی پالیسیوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی پرعبدالتواب خٹک کی رکنیت معطل کی گئی ہے
* الیکشن کمیشن اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے اور غیر جانبدار رہنے کی بجائے کیس میں فریق بن رہا ہے
* پارٹی آئین اور پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
*پارٹی میں سزا اور جزا کا عمل ایک تاریخی تسلسل ہے اور اس کو بہر صورت جاری رکھا جائے گا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ضلع کونسل کرک کے ممبر عبد التواب خٹک کی رکنیت بحال کرنے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے الیکشن کمیشن کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں ہارون بشیر بلور نے کہا کہ اے این پی نے مذکورہ ممبر کی جانب سے پارٹی پالیسیوں اور اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں پر اس کی رکنیت معطل کی ہے اور الیکشن کمیشن کے قانون اور پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں یہ بات موجود ہے کہ اس قسم کے فعل میں ملوث ممبران کی پارٹی رکنیت معطل کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ پارٹی کے صوبائی صدر کی جانب سے عبدالتواب خٹک کو پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تاہم اس کی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب نہ آنے کی صورت میں ؂ اس کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی،جبکہ کیس کے دوران الیکشن کمیشن کے تمام قانونی تقاضے بھی پورے کئے گئے، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے اور غیر جانبدار رہنے کی بجائے کیس میں فریق بن رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حیران کن اور تشویشناک فیصلے سے پارٹی کارکنوں میں بے چینی پھیل گئی ہے اور جانبدارانہ فیصلے کے خلاف پارٹی ہر سطح پر احتجاج کرے گی ، انہوں نے کہا کہ پارٹی آئین اور پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ،جبکہ پارٹی میں سزا اور جزا کا عمل ایک تاریخی تسلسل ہے اور اس کو بہر صورت جاری رکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ پارٹی آئین اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کیلئے سخت فیصلوں سے دریغ نہیں کریں گے ، انہوں نے کہا کہ مذکورہ ممبر کونسل نے پارٹی سے بغاوت کی ہے لہذٰا ان کا پارٹی میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ۔

مورخہ 7 دسمبر2015ء بروز پیر
*خیبر پختونخوا میں بھتہ خوروں کا راج ہے، حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ،سردار حسین بابک
*شہریوں کو ٹارگٹ کلرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، حکومت کی عدم دلچسپی سے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں
* بدامنی نے صوبے کے معاشی حالت کو کمزور بنا دیا ہے، موجودہ صورتحال کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ پالیسی اپنا نا ہو گی
* عوام کبھی بھی اتنے مایوس نہیں ہو ئے جتنے اس دور میں ہیں، حکومت کو لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ذمہ داری قبول کرنا ہوگی
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبے میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری روک تھام کیلئے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ، با چا خان مرکز میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے بالخصوص پشاور میں بھتہ خوروں کا راج ہے اورحکومت نام کی کوئی چیز نہیں شہریوں کو ٹارگٹ کلرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، انہوں نے گزشتہ روز سرکی گیٹ میں ہونے والے بم حملے اور اس طرح کے دیگر واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ہے ،اے این پی کے رہنما نے کہا کہ بھتہ ادا نہ کرنے کی صورت میں بم حملے ، اغواء برائے تاوان ، رہزنی ، ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سے صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ صوبے میں خوف و ہراس پھیلتا جا رہا ہے اور عوام عدم تحفظ کے شکار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدامنی اور عدم تحفظ کے ماحول پرصوبائی حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کے معاشی حالت کو کمزور بنا دیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو بدامنی پرکنٹرول کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اور پالیسی اپنا نا ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور پر امن ماحول فرہم کرنے کیلئے زبانی جمع خرچ سے نکلنا ہوگا۔
اپنے خطاب میں پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ پختونوں کے امنگوں کی ترجمانی کی ہے اور ان کے مسائل کے حل سمیت پختونوں کی ترقی کے لئے مصروف عمل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کبھی بھی اتنے مایوس نہیں ہو ئے تھے جتنے اس دور میں نظر آرہے ہیں اور موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں سے نالاں عوام اب اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں سردار حسین بابک نے کہا کہ موجودہ حکومت کو لوگوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ذمہ داری قبول کرنا ہوگی اور موجودہ حکومت کو بدامنی ختم کرنے اور بدامنی کے خلاف لڑنے کیلئے اے این پی کی پالیسی اور ذمہ داری کی تقلید کرنا ہوگی۔

مورخہ 06دسمبر2015ء بروز اتوار

دہشتگردی کے خا تمے اور قیام امن کے لئے پاکستان اور افغانستان کی باہمی تعاون لا زمی ہے ‘ میا ں افتخار حسین
شہداء کی قربانی کو کسی صورت رائیگاں نہیں جا نے دیں گے اور قبائلی علاقے اور پختون سر زمین پر امن کے قیام کے لئے جدو جہد جا ری رکھیں گے
قبائلی عوام اور پختون قوم مزید خون ریزی اور بد امنی کی متحمل نہیں ہو سکتی سردا ر حسین با بک ‘
غلنئی میں منعقدہ یوم شہداء کی تقریب سے اے این پی کے قائدین کا خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے اے این پی کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے غلنئی مہمند ایجنسی میں اے این پی کے زیر اہتمام منعقدہ یوم شہداء کی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مہمند ایجنسی میں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہو نے وا لے آٹھ سو معصوم اور بے گنا ہ افراد اور دو سو سے زائد سیکور ٹی اہل کارو ں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کہ ان شپداء کی قربانی کو کسی صورت رائیگاں نہیں جا نے دیں گے اور قبائلی علاقے اور پختون سر زمین پر امن کے قیام کے لئے جدو جہد جا ری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جن حا لات اور محرکات کی وجہ سے یہ قیمتی جا نیں ضائع ہوئی اور ملک کے ہزاروں شہری اپنی زندگی کا حق کھو بیٹھے یہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آئندہ کے لئے ایسی مر بوط پالیسی مرتب کی جا ئے کہ ہما ری عوام اور آنے والی نسل اس دھرتی پر پرامن زندگیاں گزارنے کی ضامن ہو ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور بد امنی کا شکار پختونوں کو مصائب سے نجات دلانے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود غلط فہمیوں اور فاصلوں کے خاتمے کیلئے افغانستان کا دورہ کرنے والے وفد کے روابط اور تجاویز سے فائدہ اُٹھانا نا گزیر ہو گیا ہے انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ خطے میں امن کے قیا م کے لئے مذاکرات کا جو سنہری موقع میسر آیا ہے اس کے لئے ہمیں بھت قربا نیا ں دینی پڑ ی ہیں انہوں نے کہ کہ اگر ہم نے اب بھی اپنی درست سمت کا تعین نہ کیا توحالات کی سنگینی اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ خطہ ایک اور ایسی جنگ کی لپیٹ میں آجائیگاکہ لوگ گزشتہ دور کے مظالم اور بھول جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کا ش ہم آرمی پبلک سکول کے سا نحہ کی صورت میں اتنی بڑی قیمت ادا نہ کرتے اس واقعہ کے بعد سیاسی و عسکری قیاد ت سمیت مذہبی قیادت اور عوام دہشت گردی کے عفریت کی جڑیں کا ٹنے کے لئے بیس نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوتے ہو ئے گڈ اور بیڈ کا چکر چھوڑ کر دہشت گردوں کے خلا ف بلا تفریق و بلا امتیاز کا ر وا ئی کرنے کی فضا قائم ہو سکی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ افغانستان میں محدود ٹھکانوں تک چلا گیا اور نیٹو فوج افغانستان سے نکل گئی انہوں نے کہا کہ چین جب افغانستان ‘پاکستان اور طا لبان کے درمیان ثالث بننے کے لئے تیا ر ہوا اور مذاکرات کا آغاز ہو ا تو مذاکرات مخالف عنا صر نے ایک سا ل قبل مرنے والے ملا عمر کا ایشو کیو نکر نکا ل دیا جس سے مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار اہو حالا نکہ اس وقت خطے میں امن کے قیام کے لئے ان مذاکرات کا جا ری رہنا اشد ضروری تھا ۔انہوں کہا کہ جب بڑی قوتیں اپنے مفادات کی خا طر دیگر ممالک کی حکومتوں کو غیر مستحکم کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں القاعدہ اور داعش جیسی قو تو ں کو پنپنے کا موقع مل جا تا ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ القاعدہ کے سربراہ کی ہلا کت کے بعداس کی اہمیت ختم ہو گئی تھی امن کی دشمن قوتوں کو اپنی بر بر یت دکھا نے کے لئے اس کے متبادل تحر یبی عنا صر کا سہارالیتے ہوئے اب عراق ‘لیبیا ‘ اور شا م کو بھی ایسے حالات سے دوچار کر دیا ہے ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم غیر جمہوری بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں اور کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ طا قت کے زعم میں دوسرے ملک کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچائے انہوں نے کہا کہ اچھا ہو ا کہ اے این پی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان اور پختون قیادت نے مل کر افغانستان میں اشرف غنی اور انکی حکومت کو دوبارہ امن مذاکرات کاسلسلہ شروع کرنے پر آما دہ کیا ورنہ مذاکرات سے قبل عبداللہ عبداللہ پیرس میں افغانستا ن کی نمائند گی کرنے کے لئے جا نے والے تھے مگر پختون قیادت کے کہنے پر افغان صدر اشرف غنی نے پیرس جا نے کی حا می بھر لی اور وزیر اعظم میاں نواز شریف اور اشرف غنی کی ملا قات ممکن ہو سکی اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں افغان صدر کا مستقبل قریب میں دورہ پاکستان کا امکان پیدا ہو ا جس دونوں ممالک کے درمیاں اعتماد سا زی اور دہشت گردی کے خلا ف مو ثر اقدامات اٹھا نے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغان صدرکا مستقبل قریب میں پا کستان کا دور ہ کرنے کا امکا ن بھی ہے ۔ یوم شہدا کی تقریب سے اے این پی کے صوبائی سیکرٹری جنرل سردار حسین بابک نے دہشت گردی میں شہید ہو نے وا لوں بے گنا ہوں کو شا ندار الفاظ میں خراج عقیدت کرتے ہو ئے کہا کہ قبائلی عوام اور پختون قوم مزید خون ریزی اور بد امنی کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اس مٹی کی حقیقی ستاسی نمائندہ قوت کی حیثیت سے ہم کسی بھی صورت مزید ظلم کی اجازت نہیں دینگے انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں صورتوں میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ فا ٹا میں سٹیسکو مزید قائم نہیں رہ سکتا اور قبائلی عوام کے فیصلے کے مطا بق پختو نخوا کا حصہ بنا نے اور یہاں سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے لئے اپنی جدو جہد جا ری رکھیں گے دریں اثناء تقریب سے اے این پی کے صو بائی نائب صدر عمران آفریدی ‘این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان اور اور اے این پی مہمند ایجنسی کے صدر نثا ر مہمند نے بھی خطا ب کیا ۔

مورخہ 6 دسمبر2015ء بروز اتوار

سردار حسین بابک کا بختیار علی کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اے این پی منگاہ کے صدر بختیار علی کی والدہ کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مرحومہ کا انتقال ان کے خاندان کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے تاہم اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے پسماندگان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل کیلئے دعا کی۔

مورخہ 6 دسمبر2015ء بروز اتوار

گیس کی قیمتوں میں اضافے سے غریب آدمی کیلئے جینا دشوار ہو جائے گا ، امیر حیدر خان ہوتی
وفاقی حکومت نے اڑھائی سال میں عوام دشمنی کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے ، لوگوں سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے مرکز میں جب بھی نواز شریف کی حکومت آئی مہنگائی کو طوفان برپا کیا گیا اور عوام دشمنی میں ہمیشہ پہلے نمبر پر رہے
اوگرا کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ، ریلیف کی بجائے سرکاری لونڈی بن کر عوام کے حقوق غصب کرنے میں مصروف ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غریب عوام کے خلاف سازش قرار دیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ضمنی بجٹ کے بعد اب گھریلو صارفین پر گیس بم بھی گرا دیا گیا ہے جو وفاقی حکومت کی عوام دشمنی کا واضح ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا گیس کے وسائل سے مالا مال ہے اور صوبے کی گیس یہاں کے عوام پر مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہے، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں 2.5سے 7فیصد تک اضافہ غریب عوام پر ظلم ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے طوفان کے باعث خودکشیوں پر مجبور ہیں ، انہوں نے کہا کہ وفاق میں جب بھی نواز شریف کی حکومت آئی غریب عوام سے جینے کا حق چھینا گیا اور مہنگائی کی نہ ختم ہونے والی لہر سے لوگوں کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ تک چھین لیا گیا ، انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں 15ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا کر اب مرکزی حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ اسے عوام کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں انہوں نے اوگرا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوگرا کی اپنی کوئی حیثیت نہیں اور ریگولیٹری اتھارٹی ہونے کے باوجود وہ وفاقی حکومت کی کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے ،انہوں نے کہا کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گیس کا بحران پیدا کر دیا گیا ہے اور صوبے میں گیس کی مصنوعی قلت پیدا کر دی گئی ہے جبکہ گیس نہ ہونے کے باوجود بھاری بھر کم بل غرینب کی کمر توڑنے کیلئے کافی ہیں، صوبائی صدر نے مطالبہ کیا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لیا جائے تا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کسی طور سکھ کا سانس لے سکیں ۔

مورخہ 6 دسمبر2015ء بروز اتوار

قوم مینڈیٹ کی توہین پرپی ٹی آئی کو کبھی معاف نہیں کرے گی، ہارون بشیر بلور
چوری، ڈکیتی ، ٹارگٹ کلنگ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں ،وفود سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو قوم کو موجودہ بحرانوں سے چھٹکارا دلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔صوبائی حکومت امن کی بحالی ، لوگوں کو روزگار دینے ، تعلیمی اصلاحات لانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دورحکومت میں جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ گزشتہ 65 سال میں کسی حکومت نے بھی نہیں کیے اور نہ ہی کوئی مائی کا لعل آئندہ مزید 65 سالوں تک انجام دے سکے گا۔ ہم نے اپنے دورحکومت میں صوبے میں آٹھ نئی یونیورسٹیاں تعمیر کیں ، 47 نئے ڈگری کالجز بنائے ، پختونوں کو اپنے نام کی شناخت خیبر پختونخوا دیا، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے تمام حقوق مرکز سے منتقل کیے۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے2008ء کے الیکشن میں عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ اللہ کے فضل سے ہم نے پارٹی قائد اسفندیار ولی خان کی قیادت میں ایک ایک کر کے پورے کر دکھائے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مفلوج ہے اور عوام کیلئے کچھ نہیں کر سکتی۔ عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری ، امن و امان کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا۔ قوم اور تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں ہر گھر سے رونے کی آواز آرہی ہے ہر گھر میں ماتم ہے چوری، ڈکیتی ، ٹارگٹ کلنگ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں اور وزیر اعلیٰ اور اُن کی کابینہ کے دیگر وزراء’’ سب اچھا‘‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں جو کہ صوبے کی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا وہ لوگوں کی آنکھوں میں محض دھول جھونکنا تھا۔ عوام اب بیدار ہو چکی ہے اور اُن کے خالی ہولی نعروں پر یقین نہیں کرینگے۔

مورخہ : 5.12.2015 بروز ہفتہ

* امیر حیدر خان ہوتی کا اے این پی کے رشید احمد کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے اے این پی کے رہنما رشید احمد کی والدہ کے انتقال پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں اُنہوں نے سوگواران خاندان سے گہری ہمدردی ظاہر کی اُنہوں نے سوگوار خاندان کیلئے صبرو جمیل اور مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کع دُعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ اُنہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اُن کے درجات بلند کرے۔

مورخہ : 5.12.2015 بروز ہفتہ

* اے این پی غلنئی کے زیر اہتمام یوم شہداء آج منایا جائیگا۔
* جرگہ ہال غلنئی میں منعقدہ تقریب سے اے این پی کے قائدین خطاب کرینگے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی غلنئی کے زیر اہتمام مہمند ایجنسی میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے آج بروز اتوار 6 دسمبر کو غلنئی میں یوم شہداء منایا جائیگا ۔ دن کی مناسبت سے بڑی تقریب جرگہ ہال غلنئی میں منعقد ہو گی ۔ عوامی نیشنل پارٹی مہمند ایجنسی کے صدر اور سابق اُمیدوار این اے 36 نے کہا ہے کہ یوم شہداء منانے کیلئے تمام تر تیاری مکمل کر لی گئی ہیں۔ یوم شہداء کی تقریب میں اے این پی کے قائدین اور پولیٹیکل ایجنٹ سمیت عمائدین علاقہ اور مشران کثیر تعداد میں شرکت کریں گے تقریب سے اے این پی کے قائدین اور پولیٹیکل ایجنٹ خطاب کرینگے اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

مورخہ : 3.12.2015 بروز جمعرات

اے این پی ہی عوام اور صوبے کے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے ’ امیر حیدر خان ہوتی ‘
عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے دعوؤں اور نعروں میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔
سن2018 ء کے انتخابی نتائج بالکل مختلف ہوں گے۔ عمر زئی چارسدہ میں کنونشن سے حیدر ہوتی ، ایمل ولی خان اور بیرسٹر ارشد عبداللہ کا خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی اس صوبے اور خطے کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہونے کے ناطے امن ، خوشحالی اور علاقائی استحکام کیلئے حسب روایت اپنا فعال کردار ادا کر تی رہے گی اور 2018 کے الیکشن میں ثابت ہو جائیگا کہ عوام اے این پی ہی کو اپنے حقوق اور مفادات کا محافظ سمجھتے ہیں۔
وہ عمرزئی چارسدہ میں ورکرز کنونشن کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے جس سے دوسروں کے علاوہ صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، ضلع صدر ارشد عبداللہ اور سابق ایم پی اے شکیل عمر زئی نے بھی خطاب کیا۔
حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ عوام گزشتہ الیکشن میں تحریک انصاف اور دیگر کو ووٹ دینے کے اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں تبدیلی کے نعروں میں کوئی حقیقت اور سچائی نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ صوبے کے حالات بدتر ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم سمیت صوبے کی تعلیمی ، معاشی اور ادارہ جاتی ترقی اور استحکام کیلئے اے این پی نے جو کام کیے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بحالی ، کاریڈور پراجیکٹ میں صوبے اور فاٹا کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے ، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات میں اضافے اور دہشتگردی کے خلاف مزاحمت جیسے معاملات میں اے این پی کا کردار سب سے فعال اور نمایاں رہا ہے اور عوام یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ اے این پی ہی ان کے مفادات اور حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی ، بدامنی اور تصادم پر مبنی رویوں نے صوبے کو سیاسی ، معاشی اور معاشرتی سطح پر بہت نقصان پہنچایا ہے تاہم اس کے ازالے کیلئے وہ اقدامات نظر نہیں آ رہے جن کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں صوبے کے نام نہاد حکمرانوں کے احتساب کا عمل ثابت ہو گا اور اے این پی حسب توقع اس صوبے کی سب سے بڑی نمائندہ قوت بن کر اُبھرے گی۔

مورخہ : 3.12.2015 بروز جمعرات

* بلدیاتی الیکشن میں پنجاب اور سندھ نے تحریک انصاف کو جو جواب دیا ہے 2018 کے الیکشن میں پختونخوا کے عوام اس سے بھی سخت جواب دینے کے انتظار میں ہیں۔
* صوبائی حکومت ڈھائی سال میں بھی اپنی سمت اور اہداف کا تعین نہ کر سکی صوبے میں لاقانونیت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔
* ڈھائی سالہ دور حکومت میں صوبائی حکومت اپنا کوئی بھی وعدہ پورا نہ کر سکی ان کی تمام تر توجہ اسلام آباد فتح کرنے پر مرکوز ہے۔
* آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ پارٹی تنظیموں اور صاحب الرائے مشران کی مشاورت سے دئیے جائیں گے ’ اے این پی یوسی ہزار خوانی میں تنظیمی اجلاس سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ڈھائی سالہ دور حکومت میں اپنا کوئی بھی وعدہ پورا نہ کر سکی بلکہ اس کی قیادت کی تمام توجہ اسلام آباد کو فتح کرنے اور تصادم کی سیاست پر مرکوز رہی جس کے باعث صوبے میں لاقانونیت ادارہ جاتی نا اہلی اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا اور عوام اب اس انتظار میں ہے کہ وہ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کا محاسبہ کریں۔
یوسی ہزار خوانی پشاور میں پارٹی کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ڈھائی سال میں صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت عملی اقدامات تو درکنار اپنی سمت اور اہداف کا تعین بھی نہ کر سکی ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام تبدیلی کے نام و نہاد نعروں کی حقیقت جان چکی ہے اور وہ اس طرز عمل کا 2018 کے الیکشن میں محاسبے کی شکل میں جواب دینے کے منتظر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی تمام توجہ اسلام آباد کو فتح کرنے کی تصادم پر مبنی پالیسی پر مرکوز رہی جس کے باعث صوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور لاقانونیت بیروزگاری ، بے چینی اور مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کو ایسے ہی جواب کے منتظر ہیں جو کہ سندھ اور پنجاب کے عوام حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ان کو دے چکے ہیں۔
سردار حسین بابک نے تنظیمی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ایک جمہوری اور عوامی پارٹی ہے اور اس کے تمام فیصلے عوامی رائے اور زمینی حقائق پر مبنی ہوا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان اور تنظیمیں ہماری تحریک اور پارٹی کا سرمایہ ہیں اور ان کی رائے کو تمام اہم فیصلوں اور پالیسیوں میں شریک کیا جائیگا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ آئندہ الیکشن کیلئے اُمیدواروں کو ٹیکس پارٹی تنظیموں اور صاحب الرائے مشران کی مشاورت اور مرضی سے دئیے جائیں گے اور ان کی رائے کو انتہائی اہمیت دی جائیگی۔ تنظیمی اجلاس سے ان کے علاوہ اے این پی ضلعی صدر ملک نسیم نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ : 3.12.2015 بروز جمعرات

* تاریخی اور سیاسی طور پر پشتون کبھی بھی انتہا پسند یا دہشتگرد نہیں ہے یہ رویے ہم پر مسلط کیے گئے ’ میاں افتخار حسین کا سرحد یونیوسٹی میں خطاب۔
* ایک منصوبے کے تحت ہماری معاشرت ، نظام تعلیم ، ثقافت اور رویوں کو تشدد زدہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
* عدم تشدد کے پیروکار گزشتہ چالیس سال سے مسلسل تشدد ، جنگ اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں، ہمارے فنکار بدترین عدم تحفظ سے دوچار ہیں
* ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں انتہا پسندی ، تشدد اور جہالت کا راستہ روکنے کا بہترین ہتھیار ہیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پشتونوں کا دہشتگردی اور انتہا پسندی کے ساتھ کبھی کوئی تعلق یا واسطہ نہیں رہا بلکہ ایک منصوبے کے تحت پشتونوں کی معاشرت ، ساکھ اور شناخت کو ہائی جیک کر کے کے اُنہیں نہ صرف یہ کہ عالمی سطح پر بدنام کیا گیا بلکہ ان کو بدترین تشدد ، دہشتگردی اور انتہا پسندی کا نشانہ بھی بنایا گیا جس کا ہم گزشتہ چالیس برس سے سامنا کرتے آ رہے ہیں۔
وہ سرحد یونیورسٹی پشاور کے زیر اہتمام کلچر پروگرام کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس سے پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور وائس چانسلر سلیم خان نے بھی خطاب کیا جبکہ ممتاز شعراء رحمت شاہ سائل ، اباسین یوسفزئی ، اسرار اتل اور ظفر اللہ خان خطر سمیت متعدد شعراء نے اپنے کلام پیش کیے۔
میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد کی تعلیمات کے باعث پشتون امن ، تعلیم ، ثقافت اور معاشرتی برابری کے رویوں پر کاربند رہے اور اس تحریک سے وابستہ لاکھوں لوگ فساد ، تشدد اور جنگ کا مقابلہ امن ، محبت اور تعلیم سے کرتے رہے تاہم ایک سازش کے ذریعے نہ صرف یہ کہ ہماری سیاست اور معاشرت کو تشدد زدہ کر دیا گیا بلکہ ہماری روایات ، ثقافت اور نصاب کی شکل تبدیل کر دی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری مساجد ، حجروں ، مزاروں ، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ پہلی بار ہماری روایات کے برعکس خواتین ، بچوں اور بوڑھوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے نصاب کو بھی تشدد پر مبنی مواد کی بھینٹ چڑھایا گیا اور اس میں امن ، تعلیم ، محبت اور رواداری کی تعلیمات نکال دی گئیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم چالیس برسوں سے جنگ اور تشدد کی لپیٹ میں ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کو اس کی شناخت سے محروم کرنے کیلئے ثقافت پر وار کرنے کا طریقہ ہر دور میں استعمال ہوتا آیا ہے۔ ہماری ثقافت ، فنکاروں ، گلوکاروں اور شعراء کو بھی کئی برسوں سے ایسے ہی ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔ متعدد باہر جانے پر تو لاتعداد گوشہ نشینی پر مجبور پرہوئے جبکہ ثقافتی سرگرمیوں کو غیر اعلانیہ طور پر ریاستی پابندیوں کا سامنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ادبی ، ثقافتی اور علمی سرگرمیاں معاشرے میں انتہا پسندی ، تشدد اور جہالت کا راستہ روکنے کا بہترین ہتھیار ہیں اور ہم اپنی ثقافت ، روایات اور تاریخ کا ہر صورت میں دفاع کرتے رہیں گے۔
دریں اثناء باچا خان مرکز میں پارٹی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے امیر جماعت اسلامی کے ایک حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی پارٹی کی جن ترجیحات یا اقدامات کا اُنہوں نے ذکر کیا ہے ہم ان کی تائید کرتے ہیں تاہم لگ یہ رہا ہے کہ جن ترجیحات کا اُنہوں نے اعلان کیا ہے ان پر عمل درآمد کیلئے وہ وزارت عظمیٰ کے منتظر ہیں ۔ حالانکہ ہم ان کی پالیسیاں ایم ایم اے کی پانچ سالہ دور حکومت میں دیکھ چکے ہیں اور اب بھی صوبے میں ان کی پارٹی حکومت کا حصہ ہے۔ میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بہت سے اقدامات صوبے اٹھا سکتے ہیں اس لیے وہ مستقبل کا انتظار کیے بغیر ان اعلانات کو عملی جامہ پہنائیں جن کا اُنہوں نے حال ہی میں اظہار کیا ہے۔

مورخہ 3 دسمبر2015ء بروز جمعرات
تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے صوبے کا نظام مفلوج کر دیاہے، ایمل ولی خان
صوبہ مسائل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے جبکہ حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی۔
پختون قوم کوترقی کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکھٹاہوناہوگا ، تحریک انصاف بند گلی میں داخل ہوچکی ہے
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے ڈپٹی صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں تعلیمی اصلاحات اور صوبے میں ترقی و خوشحالی کیلئے تاریخی اقدامات اٹھائے اور ہزاروں لوگوں کو روز گار کے مواقع فراہم کئے ، جبکہ موجودہ حکومت نے عوام کو بے روزگاری کے سوا کچھ نہیں دیا ، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی اے این پی میں جوق در جوق شمولیت پارٹی کی پالیسیوں پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے ،انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے صوبے کے تمام نظام کو مفلوج کر رکھا ہے اور عوام صوبائی حکومت سے بے زار ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے عمل کا جو آغاز کیا تھا اس کو جاری رکھنے کیلئے نئی حکمت عملی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ پختون قوم کو اپنی بقا اورترقی کے لئے سرخ جھنڈے تلے اکھٹاہوناہوگا ، تحریک انصاف بند گلی میں داخل ہوچکی ہے،اور اب اس کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ عوام تحریک انصاف کو ووٹ دے کر پچھتا رہے ہیں اور انشاء اللہ آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا،انہوں نے کہا کہ اے این پی کو طعنے دینے والے لوگوں کو علم ہونا چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اور اپنی مٹی اور عوام کو تحفظ دینے کی اے این پی کی حکومت اور وزراء کے کردار کو پورا پاکستان اور عالمی دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنی مٹی اور عوام کے تحفظ کی خاطر اپنے رہنماؤں اور ہزاروں کارکنوں کی قربانی دی ہے اور صوبے اور ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے تدارک کیلئے ہمیشہ ایک واضح دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے اور کبھی بھی کسی قسم کی قربانی دینے سے نہیں کترائی، ایمل ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر عوام کو ورغلا یا ہے اورگذشتہ اڑہائی سال میں ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا یہ وقت پختون قوم کے باہمی اتحاداوراتفاق کاہے کیونکہ پوری دنیا میں پختون قوم مسائل اورمصائب کا شکارہے اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نے کہاکہ باچاخان نے اس دھرتی اورپختون قوم کو مسائل سے نکالنے کے لئے جس تحریک کا آغازکیا وہ منزل بھی اب دور نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ ہماری منزل اقتدار اوراسمبلیوں کی سیٹوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا مقصود ہے

مورخہ 3 دسمبر2015ء بروز جمعرات

اے این پی کا بنوں کے قریب ٹریفک حادثے پر اظہار افسوس
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے بنوں کے قریب ٹریفک حادثے اور اس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی رہنماؤں نے غمزدہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ،انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کیلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ،انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔

مورخہ 3 دسمبر2015ء بروز جمعرات

*ملک کی معاشی پالیسی آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنائی جارہی ہے۔ ہارون بشیر بلور
*وفاق کی جانب سے ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال کر غریب عوام کی کمر توڑ دی گئی ،حکومت فیصلہ واپس لے
*مرکزی حکومت کے اس قسم کے اقدامات سے عوام کی مشکلات اور مصائب میں مزید اضافہ ہو گا،

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے صوبے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر فوری قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ وفاق نے جس طرح آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر مہنگائی کا طوفان برپا کیا ہے وہ قابل مذمت ہے اور اس کی وجہ سے صوبے میں مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پریشان حال تھے اس پر وفاق کی جانب سے ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال کر غریب عوام کی کمر توڑ دی گئی ہے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کی معاشی پالیسیاں بیرون ملک سے بن کر آتی ہیں اور حکومت اپنے تئیں کچھ بھی کرنے کی اہل نہیں ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ 40ارب روپے کے ٹیکس لگا کر عوام دشمنی کا ثبوت دیا گیا ہے جبکہ اس کا فائدہ ذخیرہ اندوزوں کو ہو گا انہوں نے کہا کہ گرانفروشوں کو صوبے میں کھلی چھٹی ہے اور صوبے میں ان پر ہاتھ ڈالنے والا نہیں،انہوں نے کہا کہ پورا ملک بالعموم اور خیبر پختونخوا بالخصوص معاشی مشکلات سے دوچار ہے جس پر وفاقی حکومت کے اس قسم کے اقدامات سے عوام کی مشکلات اور مصائب میں مزید اضافہ ہو گا ،صوبائی ترجمان نے کہا کہ ہمارا صوبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نا مساعد حالات سے گزر رہا ہے اور اسے معاشی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اوپر سے نئے ٹیکس لگا کر عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر اس کا نوٹس لے اور ٹیکسوں کی بڑھائی جانے والی شرح ختم کرے تا کہ مصیبت زدہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

مورخہ 2 دسمبر2015ء بروزبدھ

کوئیٹہ میں عزیز اللہ ماما کی چھٹی برسی پر اے این پی بلوچستان کی تقریب، صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی سمیت صوبائی قائدین کی شرکت

کوئٹہ، اے این پی کے کارکن وطن کو بچانے کیلئے قومی جذبے کے ساتھ میدان عمل میں ہمیشہ موجود رہینگے، پشتون قوم کو مزید ڈرامے بازی کرکے تقاریر اور شعبدہ بازی کی سیاست سے نہیں ورغلایا جاسکتا ۔عزیز ماما کے نقش قدم پر چل کر پشتون افغان وطن کو مزید تقسیم کرنے والوں کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے۔ ان خیالات کا اظہارعوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے زیر اہتمام ممتاز پشتون قوم پرست رہنما و ادیب عزیز اللہ ماما کی چھٹی برسی کے موقع پر پارٹی راہنماوں نے ایک تقریب میں کیا۔

سائنس کالج کے ظریف شہید آدیٹوریم میں منعقدہ جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، بزرگ رہنماء ڈاکٹر عنایت اللہ خان، صوبائی پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، صوبائی جنرل سیکریٹری حاجی نظام الدین کاکڑ،مرکزی جوائنٹ سیکریٹری عبدالمالک پانیزئی ، ڈاکٹر عبداللہ خان، ملک ابراہیم کاسی اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات مابت کاکا نے خطاب کیا۔

مقررین نے عزیز ماما کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزیز ماما جیسی شخصیات نے سماج میں تبدیلی اور قومی نجات کیلئے جو کوششیں کیں وہ قابل تقلید ہیں۔ وہ ایک انقلابی اور باعمل سیاسی رہنما تھے انہوں نے ہمیشہ رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا ۔ وہ پشتون نوجوانوں کے لئے ایک آئیڈیل راہنما تھے۔

انہوں نے کہا کہ فخر افغان باچاخان اور اور ان کے پیروکاروں اور اے این پی کی پشتون قوم کیلئے جدوجہد اور قربانیاں سب کے سامنے ہیں ہم اور ہمارے اکابرین نے ایک دن بھی پشتون قوم کے ساتھ بے وفائی اور خیانت نہیں کی برصغیر کی آزادی کی جدوجہد میں بھی ہمارے ہی اکابرین سرخرو ہوئے اور آج بھی پشتون وطن کے دفاع اور بقاء کی جنگ میں ہمارے قائد اسفند یارولی خان اور اے این پی کے سرخ پوش کارکن سرخرو ہیں۔ پشتون قوم ووطن کیلئے ہر جدوجہد میں باچاخان کے پیر وکاروں اور اے این پی کے کارکنوں نے جو قربانیاں دی ہیں اس کی مثال کسی دوسری سیاسی پارٹی میں نہیں ملتی۔

گزشتہ روز ایک برسی کے جلسے میں خود کو قد آور سمجھنے والوں نے سرکاری خرچے پر لوگوں کو جمع کر کے جلسے میں ہمارے اکابرین کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ ان کی اصل ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ کم سے کم ہمارے اکابرین نے ہمیں اس طر ح کی زبان کا استعمال نہیں سکھایا ہے۔ مقررین نے کہا کہ خطے میں جو حالات ہیں اور جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اس کے اثرات ایک بارپھر پشتون افغان وطن باالخصوص بلوچستان میں پشتونوں اور بلوچوں کی سرزمین پر مرتب ہونگے، ایسے میں اے این پی کے کارکنوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ حالات پر گہری نظر رکھیں اور اس نئی گریٹ گیم میں پشتون وطن کو تباہی وبربادی سے بچانے میں اپنا قومی کردار ادا کریں اور ملی سالار قائد اسفندیار ولی خان کے ہر حکم پر میدان عمل میں نکلنے کیلئے قومی جذبے کے ساتھ تیار رہیں۔

مورخہ 2 دسمبر2015ء بروزبدھ

تعلیم کیلئے طلباء کو بیرون ملک بھجوانے والی
اے این پی کی ایڈمیشن کمیٹی کا خصوصی اجلاس

پشاور ( پ ر) اعلیٰ تعلیم کیلئے طلباء کو بیرون ملک بھجوانے والی اے این پی کی ایڈمیشن کمیٹی کا خصوصی اجلاس زیر صدارت بشیر خان مٹہ باچا خان مرکز میں منعقد ہوا ، اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ارباب محمد طاہر خان خلیل ، سردار حسین بابک،عمران آفریدی اور شگفتہ ملک نے شرکت کی ، اجلاس میں طلبا کو اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک بھجوانے سے متعلقمختلف طریقہ کار زیر بحث آئے اور اس حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،کمیٹی کے چیئرمین بشیر خان مٹہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون قوم کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی غرض سے انرون و بیرون ملک تعلیم کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کوشاں ہے ، انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کو مہذب بنانے میں تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے بھی تعلیم کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مورخہ 2 دسمبر2015ء بروزبدھ
پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا،زاہد خان
وزیرا عظم مغربی روٹ پربروقت کام شروع کر وا کر موجود خدشات کا ازالہ کریں
نواز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی ملاقات کے بعد خصوصی کمیٹی کا قیام خوش آئندہے

اسلام آباد(پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے اے این پی کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری پر تحفظات کے خاتمے کے لئے وزیراعظم میاں نواز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی ملاقات کے بعد خصوصی کمیٹی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کو عوامی نیشنل پارٹی سابق عوامی جمہوری حکومت کے دور 2012 میں کیے گئے معاہدے کے وقت سے ہی پاکستان کے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کا ضامن سمجھتی تھی عوامی نیشنل پارٹی کو پورا یقین ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل سے چار صوبوں کے پسماندہ اضلاع میں معاشی کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ صنعتوں کے قیام سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔چھوٹے صوبوں میں موجود احساس محرومی میں کمی آئے گی پاکستان کے ہر شہری کو صحت ، تعلیم ، روزگار کے برابر مواقع ملیں گے ۔زاہد خان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں ، پارلیمنٹ کے اجلاسوں صوبائی و قومی کانفرنسوں میں بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے حوالے سے لگاتار خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا جسے میاں نواز شریف نے بروقت تسلیم کر کے قومی مفاد میں درستگی کیلئے اہم ترین کمیٹی قائم کر دی ہے ۔انہوں نے میاں نواز شریف کو تجویز دی کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کو جس طرح موٹر وے کی طرز کا منصوبہ قرار دیا گیا ہے بروقت کام شروع کر وا کر موجود خدشات کا ازالہ کریں ۔تاکہ قومی اتفاق ، اتحاد مزید مضبوط ہو۔

مورخہ : 01.12.2015 بروز منگل

 اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی کراچی میں ملٹری پولیس کے اہلکاروں پر حملے کی مذمت
ایسی کارروائیوں کے ذریعے فورسز اور دیگر کو امن کے قیام کی کوششوں اور فرائض کی ادائیگی سے نہیں روکا جا سکتا

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کراچی میں ملٹری پولیس اہلکاروں پر کرائے گئے حملے اور اس میں دو افراد کی شہادت پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ مذمتی بیان میں اے این پی کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے فورسز کے مورال اور کارکردگی کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم ہماری فورسز ، سیاسی قائدین اور سیاسی کارکنوں کو ایسے حملوں کے ذریعے امن کی کوششوں اور اپنے فرائض سے روکا نہیں جا سکتا۔
اُنہوں نے کہا کہ کراچی سمیت پورے ملک میں امن کے قیام کیلئے ہزاروں افراد نے قربانیاں دی ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب حالات نسبتاً کافی بہتر ہیں اور کراچی کی صورتحال میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ اُنہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے شہداء کے بلند درجات کیلئے دُعا کی ہے اور کہا کہ اے این پی دُکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے دُکھ میں برابر کی شریک ہے۔

مورخہ : 01.12.2015 بروز منگل

* پاک چائنا کاریڈور کے ذریعے فاٹا اور پختونخوا کے مستفید ہونے کے مواقع سے بد امنی میں کمی واقع ہو گی ’ حیدر ہوتی ‘
* دہشتگردی اور بدامنی نے اس خطے کو سیاسی ، معاشی اور معاشرتی سطح پر سخت نقصان پہنچایا ہے۔
* کاریڈور کے بارے میں لندن میں وزیر اعظم کا بیان خوش آئند ہے۔ یقین دہانیوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پاک چائنا کاریڈور کے مغربی روٹ پر کام کا آغاز اس منصوبے کے مقاصد کے حصول اور کامیابی کیلئے ناگزیر ہے ہمیں اُمید ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اپنے حالیہ اعلان اور یقین دہانی کو عملی بنانے میں مزید کسی تاخیر سے کام نہیں لیں گے اور ان تجاویز پر عمل درآمد ممکن بنائیں گے جو کہ اُنہیں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے اے پی سی اور ایک حالیہ ملاقات کے دوران پیش کی تھیں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے گزشتہ روز لندن میں وزیر اعظم کے اُس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ کاریڈور کے مغربی روٹ اور دیگر سہولیات کے بارے میں اُنہوں نے اسفندیار ولی خان کو جو یقین دہانی کرائی ہے وہ اس پر عمل درآمد کو ممکن بنائیں گے۔
حیدر خان ہوتی نے مزید کہا ہے کہ اکنامک کاریڈور کے مقاصد کے حصول کیلئے اے این پی کی تجاویز اس منصوبے کی کامیابی کیلئے فائدہ مند ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس منصوبے سے تمام صوبے اورعلاقے خصوصاً صوبہ پختونخوا اور فاٹا زیادہ مستفید ہو کیونکہ یہ علاقے دہشتگردی کے باعث سیاسی ، معاشی اور معاشرتی طور پر بری طرح متاثر ہو گئے ہیں اور یہاں پر معاشی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ معاشی ترقی کے ذریعے خطے کو حالت جنگ اور بد امنی کی صورتحال اور اثرات سے نکالا جا سکے۔
اُنہوں نے اپنے بیان میں وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی پیرس میں ہونے والی ملاقات کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں اور دوریاں ختم ہونے میں مدد ملے گی۔

مورخہ : یکم دسمبر 2015 بروز منگل

* پیرس میں وزیر اعظم نواز شریف اور ڈاکٹر اشرف غنی کی ملاقات خوش آئند ہے ’ زاہد خان‘
* ملاقات سے دونوں ممالک کی کشیدگی اور بداعتمادی ختم ہونے میں مدد ملے گی۔
* یہ آمر انتہائی باعث مسرت ہے کہ دونوں ممالک کو قریب لانے میں اے این پی کی قیادت اور دیگر رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا۔
* دہشتگردوں کے خاتمے اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے لازمی ہے کہ دونوں ممالک خلوص دل سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے پیرس میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کی ملاقات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں سیاسی ، معاشی استحکام لانے کیلئے خلوص نیت سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ علاقائی کشیدگی اور بداعتمادی کا خاتمہ کیا جاسکے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ آمر باعث اطمینان ہے کہ دونوں لیڈروں کی ملاقات کو ممکن بنایا گیا اور دونوں ممالک کو قریب لانے اور ان کے درمیان بداعتمادی ختم کرنے میں اے این پی کی قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں دوطرفہ بداعتمادی کے خاتمے اور برف پگھلنے میں یقیناً بہت مدد ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان جو کشیدگی اور دوری پیدا ہو گئی تھی اس کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششیں اور ہم آہنگی خطے میں امن کے قیام، ترقی اور سیاسی استحکام کیلئے ناگزیر ہے کیونکہ باہمی چپقلش انتہا پسند گروپوں کی قوت میں اضافے کی وجہ بنتی آرہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم افغان صدر اور پاکستانی وزیر اعظم دونوں کے مشکور ہیں۔ جنہوں نے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور بعض دیگر قوم پرست رہنماؤں کی کوششوں کے باعث ملاقات اور مفاہمت کی کوششوں پر آمادگی ظاہر کی اور ان کوششوں کے نتیجے میں دونوں لیڈر پیرس میں اکٹھے بیٹھ گئے۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان موجود فاصلوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گی اور دونوں ممالک بعض مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے ایک پیج پر آجائیں گے۔

مورخہ یکم دسمبر2015ء بروزمنگل
* امن کے قیام کیلئے افضل خان لالا کا کردار اور قربانیاں قابل تقلید ہیں ’ سردار حسین بابک ‘
* مرحوم لیڈر کئی جان لیوا حملوں کے باوجود بدترین حالات کا مقابلہ کرتے رہے۔
* خان لالا کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، خان لالا کی یاد میں منعقدہ مشاعرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے اے این پی کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے جبکہ مرحوم افضل خان لالہ نے سوات میں قیام امن کیلئے جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ‘ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین با بک نے اے این پی ڈسٹرکٹ پشاورکے زیر اہتمام مرحوم بزرگ لیڈر افضل خان لالا کی یاد میں انصاراللہ خلیل کے حجرے میں منعقدہ ایک مشاعرہ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ، اپنے خطاب میں سردار حسین بابک نے مرحوم افضل خان لالہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور بد امنی کے شکار پختونوں کو مصائب سے نجات دلانے کیلئے ان کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کی قربانیاں اور خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے کئی بار افضل خان لالہ پر جان لیوا حملے بھی کئے تاہم وہ اپنی قوم کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کے خلاف ڈٹے رہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم باچا خان بابا کے فلسفہ امن کے پیروکار اور عوام کے بنیادی و انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے تاریخی جدوجہد کے وارث اور امین ہیں جبکہ اس جدوجہد میں بھی افضل خان لالہ کا سیاسی کردار بہت نمایاں رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی وفات پارٹی کیلئے ایک ایسا خلاء ہے جو شاید ہی کبھی پر ہو سکے گا۔
مشاعرے میں اے این پی ضلع پشاورکے صدر ملک نسیم سمیت دیگر پارٹی عہدیداروں نے بھی شرکت کی مشاعرے کی میزبانی کے فرائض معروف ا دیب وشاعر رحمت شا ہ سائل نے سر انجام دئیے مشاعرہ میں پشتو کے نا می گرامی شعراء کرام نے مرحوم افضل خان لالاکو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔

مورخہ : 01.12.2015 بروز منگل

* آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر ٹیکسز لگا کر غریب عوام پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے ، میاں افتخار حسین
* ضمنی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے ،اضافی ٹیکس لگا کر ثابت کر دیاگیا ہے کہ حکومت کو عام آدمی کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے
* عوام کو ضروریات زندگی سے محروم کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے،جاگیر دار اور سرمایہ داروں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے
* عام آدمی کے استعمال کی چیزوں پر دس فیصد ٹیکس لگانا عوام سے جینے کا حق چھیننے کے مترادف ہے

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وفاق کی جانب سے پیش کئے جانے والے ضمنی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے غریب عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے ، باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ضمنی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے اور غریب عوام کے استعمال کی اشیاء پھل ، دودھ و دیگر پر اضافی ٹیکس لگا کر یہ ثابت کر دیاگیا ہے کہ حکومت کو عام آدمی کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ اسحٰق ڈاربار ہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان ٹیکسز کا اثر غریب آدمی پر نہیں پڑے گا جبکہ دودھ اور پھل بھی غریب آدمی کی دسترس سے باہر کر دیئے گئے ہیں ، مرکزی جنرل سیکرٹری نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عام آدمی کے استعمال کی چیزوں پر دس فیصد ٹیکس لگانا عوام سے جینے کا حق چھیننے کے مترادف ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ضمنی بجٹ میں جن 350 درآمدی اشیاء پر دس فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے ان میں سے بیشتر غریب اور عام آدمی کے استعمال کی ہیں جو شاید اب اس ضمنی بجٹ کے بعد ان کی دسترس میں نہیں آئیں گی ،اُنہوں نے کہا کہ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے پہلے سادہ بجٹ بنایا جاتا ہے اور الفاظ کے ہیر پھیر میں عوام کو اُلجھایا جاتا ہے جس میں بظاہر ٹیکسز کا تاثر تو عام آدمی کو نظر نہیں آتا بعد ازاں اتنے ٹیکسز لگا دئیے جاتے ہیں کہ عوام کو دو وقت کی روٹی کے حصول میں بھی مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پھل و دیگر اشیاء جو کہ عام آدمی کی بنیادی ضرورت ہے یہ تمام عوام کی دسترس سے دور کی جا رہی ہیں ۔ موجودہ وفاقی ضمنی بجٹ میں امیروں کے استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں کوئی خاص فرق یا کمی نہیں لائی گئی ہے یہ صرف اور صرف عوام کو ضروریات زندگی سے محروم کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ وی آئی پیز اور سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقے کے استعمال کی چیزوں پر ٹیکس لگائے جس سے خاطر خواہ ریکوری ہو سکے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ، گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے جو غریب عوام کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں لیکن ان ذخیرہ اندوزوں پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ، انہوں نے کہا کہ اس پر نئے ٹیکسز سے عوام کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر ٹیکسز لگانا کسی صورت درست نہیں اور وفاقی حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

مورخہ یکم دسمبر2015ء بروزمنگل

امیر حیدر خان ہوتی کا نوشیروان قلندر کے والد کے انتقال پر اظہار تعزیت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے صحافی نوشیروان قلندر،عبدالبصیر قلندر اور مرحوم صحافی سہیل قلندر کے والد عبدالصمد قلندر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ مرحوم کی وفات ان کے خاندان کیلئے نا قابل تلافی نقصان ہے ، انہوں نے غمزدہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کیلئے دعا کی ۔

مورخہ یکم دسمبر2015ء بروزمنگل

* میرٹ اور انصاف کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ، ہارون بشیر بلور
* صوابی اور ڈی آئی خان میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے فوت شدہ ملازمین کے بچوں کو نظر انداز کر کے بھرتیاں کی گئی ہیں
* محکموں میں سیاسی مداخلت کے خلاف نعرے لگانے والے خود نا انصافی کے مرتکب ہو رہے ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ انصاف اور میرٹ کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور صوابی اور ڈی آئی خان میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے فوت شدہ ملازمین کے بچوں کی جگہ دیگر لوگوں کو بھرتی کر کے ناانصافی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ قانوناً فوت شدہ سرکاری ملازمین کے بچوں کا سو فیصد کوٹہ یکسرمسترد کرتے ہوئے صوابی میں چار اور ڈی آئی خان میں گیارہ فوت شدہ ملازمین کی حق تلفی کی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ میرٹ اور شفافیت کے نعرے لگانے والے انصاف اور میرٹ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ غریب فوت شدہ ملازمین کے بچوں کی حق تلفی اور ان کے ساتھ نا انصافی کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہئیں تا کہ انہیں ان کا قانونی حق مل سکے ، صوبائی ترجمان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سرکاری محکموں میں سیاسی مداخلت کے خلاف نعرے لگانے والے اب خود ایسی نا انصافی کے مرتکب ہو رہے ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی اینڈ ڈبلیو کے فوت شدہ ملازمین میں ایک ملازم ایسا بھی تھا جو کینسر کے مرض میں مبتلا تھا اور اس موذی مرض کے باعث دوران ملازمت انتقال کر گیا تاہم اس کے بچوں کی داد رسی اور انہیں ملازمت دینے کی بجائے اقربا پروری اور اپنے پیاروں کو نوازنے کی پالیسی کے تحت کسی دوسرے شخص کو اس سیٹ پر بھرتی کر لیا گیا جبکہ غریب خاندان کی مجبوری اور تنگدستی کو بھی نظر انداز کر دیا گیا جس کا انہیں بہر صورت حساب دینا پڑے گا ، انہوں نے کہا کہ محکموں میں موجود سرکاری افسران بھی موجودہ حکومتی وزراء اور حکومتی پارٹی کے آگے اتنے بے بس ہیں کہ میرٹ کے خلاف کام کرنے پر مجبور ہیں اور نا انصافی کی مثالیں قائم کئے جا رہے ہیں ،

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']