Nov-2015

 

مورخہ : 27.11.2015 بروز جمعہ

* خطے میں امن کے قیام اور درپیش چیلینجز سے نمٹنے کیلئے کابل جانے والے رہنماؤں کے روابط سے فائدہ اُٹھایا جائے’ میاں افتخار حسین‘
* افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکراتی تعطل ختم کرنے اور برف پگھلنے کیلئے وفد کا دورہ کابل سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
* داعش نے قوت پکڑ لی تو سنگین صورتحال پیدا ہو جائیگی اور حالات پر قابو پانا مشکل ہو جائیگا۔
* اے این پی نے دہشتگردی کے مقابلہ نہ کیا ہوتا تو آج حالات انتہائی گھمبیر ہوتے ’ ڈاگ اسماعیل خان میں اجتماع سے خطاب‘

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود غلط فہمیوں اور فاصلوں کے خاتمے کیلئے اگر افغانستان کا دورہ کرنے والے وفد کے روابط اور تجاویز سے فائدہ اُٹھایا جائے تو اس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
ضلع نوشہرہ کے علاقے ڈاک اسماعیل خیل میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمتی عمل کے تعطل کو ختم کرنے اور برف پگھلنے کیلئے وفد کا دورہ کابل اہم اور مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اور ہمیں اُمید ہے کہ دونوں ممالک کے پالیسی ساز ادارے اس وفد کی کوششوں ، رابطوں اور تجاویز سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں گے تاکہ خطے کے امن کو درپیش خطرات سے نمٹا جائے اور دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو بھی کم یا ختم کیا جا سکے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر اے این پی نے بے پناہ قربانیوں کے ذریعے دہشتگردی کا مقابلہ نہیں کیا ہوتا تو آج صورتحال بہت گھمبیر ہوتی۔ یہ کریڈٹ اے این پی ہی کو جاتا ہے کہ اس کے لیڈروں اور کارکنوں نے تمام تر بدترین حالات کے باوجود اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر امن کے قیام کیلئے جدوجہد اور مزاحمت کی نئی مثالیں قائم کیں۔
اُنہوں نے کہا کہ داعش کا خطرہ سنگین صورتحال کا اشارہ دے رہا ہے۔ اگر اس کا راستہ نہیں روکا گیا تو خطہ ایک اور جنگ کی لپیٹ میں آجائیگا اور لوگ گزشتہ دور کے مظالم اوررویے بھی بھول جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خطرے کا احساس کرتے ہوئے پیشگی صف بندی کی جائے اور متعلقہ ریاستیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے خطے خصوصاً پشتونوں کی مزید تباہی کا راستہ روکنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔
اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موصوف پارٹیاں بدلنے کے ماہر ہیں ان کو اے این پی کے خلاف بیانات سے قبل یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ ایسی کوئی بات نہ کہیں جس کے باعث کل بوقت ضرورت ان کو اے این پی میں شمولیت اختیار کرنے کی ضرورت پڑے کیونکہ نہ تو ایسے لوگوں کی فطرت بدلتی ہے اور نہ ہی حالات بدلنے میں دیر لگی

مورخہ : 27.11.2015 بروز جمعہ

* فطری اور سیاسی طور پر افغانستان کے معاملات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتے ’ اسفندیار ولی خان ‘
* خطے میں امن کے قیام اور سیاسی استحکام کیلئے سب کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔
* علاقائی امن افغانستان کے امن اور استحکام سے مشروط ہے اور اس کیلئے پڑوسیوں اور عالمی برادری کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
* وفد کے دورے کا مقصد ایک مسلسل اور دوطرفہ مشاورتی عمل کے ذریعے تعلقات کو بہتر بنانا ہے ’ افراسیاب خٹک‘
* اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کا کابل میں دیگر قائدین کے ہمراہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور سابق صدر حامد کرزئی کیساتھ ملاقاتیں اور تبادلہ خیال

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ہم فطری اور سیاسی طور پر افغانستان کے معاملات سے خود کو لاتعلق نہیں رکھ سکتے اور ہماری کوشش رہی ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام ، سیاسی اور معاشرتی استحکام کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ تفصیلات کے مطابق اسفندیار ولی خان نے کابل میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور ان کی ٹیم اور بعد ازاں سابق صدر حامد کرزئی کے ساتھ ہونے والی الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام اور سیاسی استحکام کیلئے دونوں ممالک سمیت پوری دُنیا کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقائی امن افغانستان کے استحکام اور امن سے مشروط ہے اس لیے ضروری ہے کہ تمام پڑوسی ممالک اور عالمی برادری اس مقصد کے حصول کیلئے مثبت کردار ادا کریں تاکہ درپیش چیلینجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اس موقع پر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے باچا خان اور عبدالصمد خان اچکزئی کی خدمات ، جدوجہد اور کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وفد کی کابل آمد کو انتہائی اہم اور خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ وفد کی آمد سے دونوں ممالک اور قوموں کے درمیان بہتر اور برادرانہ تعلقات کے قیام اور فروغ میں مدد ملے گی۔ اُنہوں نے مرحوم لیڈر افضل خان لالا کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے انتقال پر افسوس اور دُکھ کا اظہار کیا۔
دریں اثناء کابل پہنچنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک نے کہا کہ وہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی خصوصی دعوت پر کابل آئے ہوئے ہیں اور یہ اس سلسلے کی کڑی ہے جو کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو قریب لانے اور ان کو درپیش معاملات پر تبادلہ خیال کیلئے شروع کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ایسے رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تبادلہ خیال کو یقینی بنایا جائے اور ایک مسلسل اور دوطرفہ مشاورتی عمل کے ذریعے تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو امن ، معاشی ترقی اور علاقائی استحکام جیسے معاملات میں کئی چیلینجز درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اور مثبت کوششیں جاری رہنی چاہیءں۔ قبل ازیں اے این پی کے رہنما اور وفد میں شامل دیگر رہنما افغان صدر کی خصوصی دعوت پر کابل گئے تو ائیر پورٹ پر ان کا شاندار سرکاری استقبال کیا گیا جس کے بعد وفد نے افغان صدر اور ان کی ٹیم کے ساتھ خصوصی ملاقات کی جہاں مختلف اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ جمعہ کے روز وفد کے اعزاز میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک خصوصی استقبالیہ دیا۔
وفد کے ارکان آج بروز ہفتہ کابل میں اے این پی کے مرحوم رہنما محمد افضل خان لالا کی یاد میں ایک اہم تعزیتی ریفرنس میں بھی شرکت کرینگے۔

مورخہ 27نومبر 2015ء بروز جمعہ

 عوام کو لوٹنے والوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ، ایمل ولی خان
گرانفروش من پسند قیمتیں وصول کر رہے ہیں ، تاہم ان کو پو چھنے والا کوئی انتظامیہ ہر چیز سے بے خبر ہے
ہر چیز غریب کی دسترس سے باہر ہے سبزی اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ رونگٹے کھڑے کر دینے کیلئے کافی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے پشاور اور صوبے کے دیگر علاقوں میں اشیا ء خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انتظامیہ ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کرے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گرانفروشوں کی من مانی قیمتوں کے باعث ہر چیز غریب کی دسترس سے باہر ہو چکی ہے سبزی اور پھلوں کی قیمتوں میں بلا جواز اور خود ساختہ اضافہ رونگٹے کھڑے کر دینے کیلئے کافی ہے ،انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ شہر بھر میں عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف آپریشن کرے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کی جانب سے اپنی آنکھیں موند رکھی ہیں اور عوام کو لوٹنے والوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ضمن میں انتظامیہ کو ہدایات جاری کرے کہ وہ عام آدمی کی زندگی آسان بنانے اور انہیں روز مرہ استعمال کی اشیاء سستے داموں مہیا کرنے کیلئے اقدامات کرے ، انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی گرفتاریوں کی خبریں سامنے آنے کے باوجود شہر میں گراں فروشوں کی یلغار لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرے ۔تا کہ صوبے کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں ،

مورخہ 27نومبر2015ء بروزجمعہ

امیر حیدر خان ہوتی کا دیر میں ٹریفک حادثے پر اظہار افسوس
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے دیر میں افسوسناک ٹریفک حادثے اور اس میں پشاور کے5دوستوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی اس اندوہناک سانحے پر دلی رنج میں مبتلا ہے اور غمزدہ خاندان کے ساتھ ان کے دکھ میں شریک ہے ،صوبائی صدر نے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت کیلئے دعا کی ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔

مورخہ 27نومبر 2015ء بروز جمعہ
صوبائی حکومت نان ایشوز پرچمپیئن بننے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، سردار حسین بابک
دہشت گردی سے نجات کیلئے پوری قوم دست بدعا ہے ، تاہم ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات افسوس ناک اور مایوس کن ہیں
ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات نے قوم کو مایوس کر دیا ہے ، عمران خان بتائیں ان کی حکومتی رٹ کہاں ہے
سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تحریک انصاف بڑے مہذب طریقے سے صوبے کے وسائل لوٹ رہی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ہم آپریشن ضرب عضب کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور دہشت گردی سے نجات کیلئے پوری قوم دست بدعا ہے ،تاہم صوبہ بھر میں روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات افسوس ناک اور مایوس کن ہیں ،باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے نے قوم کو نہ صرف مایوس کر دیا ہے بلکہ شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت لاء اینڈ آرڈر کو کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتی اور نہ ہی ان لوگوں میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ ان واقعات سے متاثر ہونے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار اور ان کی داد رسی کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام تاجر پیشہ اور سفید پوش لوگوں کو روزانہ دھمکی آمیز ٹیلی فون کالز موصول ہو رہی ہیں اور ان سے کروڑوں روپے بھتہ طلب کیا جا رہا ہے جبکہ رقم نہ دینے کی صورت میں انہیں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیا جا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں جنگل کا قانون ہے اور عوام کی جان و مال کسی صورت محفوظ نہیں ہے ،انہوں نے عمران خان سے سوال کیا کہ ان کی حکومتی رٹ کہاں ہے اور ان کے جھوٹے وعدے اور دعووں کا کیا ہوا ،سردار حسین بابک نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ عمران خان قوم کے قاتلوں کو بھائی کا درجہ دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے عوام عمران سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے بھائیوں کو سمجھائیں اور انہیں مزید بے گناہ لوگوں کے قتل عام سے روکیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے سے صاحب استطاعت اور کاروباری طبقے کا بہت زیادہ حصہ دہشت گردی بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے ہجرت کر چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نان ایشوز پر اپنے آپ کو چمپیئن بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے لیکن غریب اور معصوم پختونوں کی زندگی اور موت سے انہیں کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے دیگر حصوں میں اپنی حکومت کی مثالیں دے رہے ہیں تاہم دہشت گردی کے مسئلے پر ان کی خاموشی ہزاروں شہداء کے لواحقین اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ،انہوں نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تحریک انصاف بڑے مہذب طریقے سے صوبے کے وسائل لوٹ رہی ہے اور دوسری طرف ان کے بھائی بندوق کی نوک پر پختونوں کو یرغمال بنانے کے درپے ہیں۔

مورخہ : 26.11.2015 بروز جمعرات

 اسفندیار ولی خان کا اکرم خان دُرانی پر کرائے گئے حملے کی مذمت اور اظہار افسوس
سیاسی قائدین ، کارکنوں اور عام لوگوں کو تحفظ دینا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے سابق وزیر اعلیٰ اور جے یو آئی کے رہنما اکرم خان دُرانی پر کرائے گئے ریموٹ کنٹرول بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے اظہار ہمدردی کیا ہے اور حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واقعے کی فوری تحقیقات کرتے ہوئے ان سمیت تمام لیڈروں اور لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسفندیار ولی خان نے حملے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے دو افراد کی شہادت اور متعدد دیگر کے زخمی ہونے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور مرحومین کی مغفرت اور خاندانوں کے صبر جمیل کی دُعا کی ہے۔ اُنہوں نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ سیاسی قائدین ، کارکنوں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے اس لیے متعلقہ ادارے اس واقعے کی تحقیقات کر کے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کریں۔

مورخہ : 26.11.2015 بروز جمعرات
وزیر اعظم نے کاریڈور پر اسفندیار ولی خان کو جو یقین دہانیاں کرائی ہیں ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے ہم عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔
داعش نے قوت پکڑ لی تو خطہ بدترین بدامنی کا شکار ہو جائیگا اور صورتحال پر قابو پانا مشکل ہو جائیگا ’ میاں افتخار حسین کا پبی میں اجلاس سے خطاب
* ریاستوں نے ابتداء میں القاعدہ کی بیخ کنی کی ہوتی تو خطے کے حالات بالکل مختلف ہوتے۔
دہشتگردی کے خاتمے اور داعش کا راستہ روکنے کیلئے اعلیٰ ترین پاکستانی اور افغان قیادت کو فی الفور آپس میں بیٹھنا چاہیے۔
سابق صوبائی وزیر اقبال حسین خٹک 4 دسمبر کو ایک بڑے جلسہ عام کے دوران اے این پی میں شمولیت کا اعلان کریں گے جس سے اسفندیار ولی خان بھی خطاب کریں گے۔
ٹکٹ اور عہدوں کیلئے دولت کا سہارا لینے والا پرویز خٹک کسی بھی نظریے یا پارٹی سے وابستہ یا مخلص نہیں۔
متعدد حملوں اور بیٹے ، ساتھیوں کی شہادتوں کے باوجود میدان میں ڈٹا رہا ہوں جھکنے اور بھاگنے والا نہیں ہوں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاک چائنا کاریڈور کے روٹ اور سہولیات کے بارے میں وزیر اعظم نواز شریف نے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کو حالیہ ملاقات کے دوران جو یقین دہانیاں کرائی ہیں ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ناگزیر ہے ۔ اس منصوبے سے پشتونوں اور بلوچوں کے علاوہ پورے ملک اور خطے کا امن ، استحکام اور مستقبل وابستہ ہے اور اگر اسفندیار ولی خان کی تجاویز اور مطالبات پر نواز شریف کی یقین دہانی کے مطابق عملی اقدامات کیے گئے تو یہ پاکستان اور اس کے تمام صوبوں کے مفاد میں ہوگا۔ پبی میں پارٹی کے ایک تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ وزیر اعظم نے اسفندیار ولی خان کی تجاویز اور مطالبات کے جواب میں جن اقدامات کی یقین دہانیاں کرائی ہیں وہ اُنہیں عملی جامہ پہنانے میں دیر نہیں لگائیں گے اور عملی اقدامات اُٹھائیں گے تاکہ صوبوں کے خدشات کا خاتمہ کیا جاسکے اور اس منصوبے کے مقاصد کو خطے کے حالات اور ضروریات کے مطابق حاصل کیا جاسکے۔
میاں افتخار حسین نے داعش کو خطے کیلئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض ریاستی مبہم پالیسیوں کے باعث القاعدہ کی طرح اب داعش بھی اس علاقے اور پوری دُنیا کیلئے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے اور اگر عالمی برادری اور پاکستان ، افغانستان کی حکومتوں نے باہمی مشاورت ، اعتماد سازی اور دیگر درکار اقدامات کے ذریعے اس کا راستہ نہیں روکا تو خطہ بد ترین حالات کی زد میں آجائیگا اور اس پر قابو پانا پھر کسی کیلئے بھی ممکن نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور بعض دیگر ممالک نے ابتداء میں القاعدہ کا راستہ روکا ہوتا اور نائن الیون جیسے واقعات کا انتظار نہیں کیا ہوتا تو آج خطے اور دُنیا کی صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ دہشتگردی کا خاتمہ عملی اقدامات ، جمہوری طریقوں سے آمروں یا بادشاہوں کو ہٹانے یا ریاستوں کو مستحکم کرنے جیسے عوامل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ دیگر طریقوں سے اس کے خاتمے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں جس کی مثال عراق ، لیبیا اور شام کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔
اُنہوں نے افغانستان اور پاکستان کی اعلیٰ ریاستی شخصیات پر زور دیا کہ وہ مفاہمت اور اعتماد سازی کا ماحول بنانے اور غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے آپس میں بیٹھ کر مذاکراتی عمل کا دوبارہ آغاز کرے تاکہ درپیش خطرات کا راستہ روکا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر تنقید کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ان کا کوئی نظریہ یا پارٹی نہیں ہے ۔ دولت کے ذریعے ٹکٹ اور عہدے حاصل کرنا ان کا وطیرہ رہا ہے اور وہ اس رویے کے ذریعے کل کو کسی بھی دوسری پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ بیٹے اور ساتھیوں کی شہادتوں اور متعدد حملوں کے باوجود میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں اور بھاگنے ، ڈرنے یا جھکنے والوں میں نہیں ہیں۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ سابق صوبائی وزیر اقبال حسین کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر 4 دسمبر کو ایک برے اجتماع کا انعقاد کیا جائیگا جس سے دوسروں کے علاوہ اے این پی کے مرکزی سربراہ اسفند یار ولی خان بھی خطاب کرینگے۔

مورخہ 26نومبر2015ء بروزجمعرات

* اے این پی کی سیاست دفن کرنے کا خواب دیکھنے والے ہوش کے ناخن لیں، ہارون بشیر بلور
* پی ٹی آئی کا اپنا کوئی منشور نہیں ، اور تبدیلی کے نام پر پختونوں کو دھوکہ دینے والوں نے صوبے کا حلیہ بگاڑ دیا ہے
* تحریک انصاف کی حکومت نے لوگوں کا استحصال کیا اور مختلف محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں کی بندش اس کا ثبوت ہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے تحریک انصاف کے ایک نام نہاد رہنما کی جانب سے بعض اخبارا ت میں اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے دیوانے کا خواب قرار دیا ہے ،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں ہارون بشیر بلور نے کہا کہ صوابی میں اے این پی کی سیاست دفن کرنے کا خواب دیکھنے والے ہوش کے ناخن لیں اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صوابی کے نتائج ذہن میں رکھیں ، کہ وہاں ضلع ناظم اور دیگر کونسلرز بھی اے این پی کے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا کوئی منشور نہیں ، اور تبدیلی کے نام پر پختونوں کو دھوکہ دینے والوں نے صوبے کا حلیہ بگاڑ دیا ہے جبکہ نئے پاکستان کے دعوے بھی ہوا ہو گئے ،ہارون بشیر بلور نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اے این پی کے خلاف زہر اگلنے کی بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں اور اے این پی کے پانچ سالہ دور میں کئے جانے والے اقدامات کی تقلید کرتے ہوئے صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے اقدامات کریں ، انہوں نے کہا کہ جس طرح عمران خان غیر سیاسی انسان ہیں اسی طرح ان کے کارکن بھی سیاست سے نا بلد ہیں ،ترجمان نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کا بری طرح استحصال کیا ہے اور مختلف محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں کی بندش اور برطرفیاں اس کا واضح ثبوت ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے غریب عوام سڑکوں پر ہیں کیونکہ ان کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ تک چھین لیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے لیکن حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کے نام نہاد رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ دوسروں پر الزامات لگانے اور ان کو دیوار سے لگانے کا بھونڈا خواب دیکھنے کی بجائے اپنے کپتان کو مشورے دیں تا کہ وہ پختونوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے سکیں۔

26 نومبر 2015ء بروز جمعرات

* عمران خان نے پختونخوا حکومت کو یرغمال بنا رکھا ہے، ایمل ولی خان
* صوبائی حکومت کی کارکردگی صرف اخباری بیانات کے حد تک ہی محدود ہے
* اخباری بیانات کا سہارا لے کر صوبے کی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے

پشاور (پریس ریلیز )عوامی نیشنل پا رٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکر ٹری ایمل ولی خان نے حکومتی سطح پر زلزلہ زدگان کی مناسب داد رسی نہ ہونے پر انتہا ئی افسوس کا اظہار کرتے ہو ئے کہا ہے کہ تبدیلی اور نیا پاکستان بنا نے والوں نے اپنے صوبے کے عوام کو اس سرد موسم میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے ۔اے این پی سیکرٹر یٹ سے جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں عوامی نیشنل پارٹی اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑے گی اوراپنی طرف سے ان کی تکالیف ومشکلات کاازالہ کرنے کے لئے اپنا کلیدی کردار اداکرنے میں کو ئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی انہوں نے کہا شدید سردی میں زلزلہ زدگا ن بھائیوں کو کھلے آسمان کے نیچے چھوڑنا اوران کی خبر تک نہ لینا صوبائی حکومت اوراس کے اداروں کی بے حسی کی بدترین مثال ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پختونخوا حکومت کو یرغمال بنا رکھا ہے اور پختونخوا کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ پختون خوا کے عوام کے مسائل سے مکمل طور پر غافل ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بے بس اور لا چار ہے اور اس کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے ،ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ پختونخوا کے لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے بنی گالہ اسلام آباد کا رخ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے قائد نے رنجیت سنگھ کی یاد تازہ کر دی ہے جو تخت لاہور سے حکومت چلاتا تھا جبکہ عمران خان بنی گالہ سے پختونخوا کی حکومت چلا رہے ہیں ،انہوں نے پختونوں کے نام ایک پیغام میں کہا کہ پختونوں کی ایک تاریخ ہے اورانہیں اپنے آپ کو پہچاننا ہو گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی صرف اخباری بیانات کے حد تک ہی محدود ہے اور زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے بھی اخباری بیانات کا سہارا لے کر وہ صوبے کی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے ۔انہوں نے کہا صوبائی حکومت اور ان کی پارٹی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک اورصوبے میں مغربی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ غیورپختون انکے مذموم عزائم خا ک میں ملا کر دم لیں گے ۔

مورخہ 26نومبر2015ء بروزجمعرات
اکنامک کاریڈور کے حوالے سے اعتراضات اور خدشات دورکرنے کی یقین دہانی خوش آئند ہے’ امیر حیدر خان ہوتی‘
قبائلی پختونوں کی ترقی اوریکجہتی کے لئے باجوڑ سے وزیرستان اور ڈیر ہ اسماعیل خان تک سڑک تعمیر کی جائے
اسفندیارولی خان کی قیادت میں پختون لیڈروں کا دورہ کابل خطے میں امن کے قیام کے لئے مثبت قدم ثابت ہوگا
پختونوں کو مسائل اور مصائب سے نکالنا اوران کی ترقی کے لئے کوششیں کرنا ہماری پارٹی کا منشور ہے
پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف اور اسفندیارولی خان کے درمیان ملاقات میں وزیراعظم کی یقین دہانی کے بعد اکنامک کاریڈور کے حوالے سے پائے جانے والے اعتراضات اور خدشات دورکرنے کی یقین دہانی پر ہم وزیراعظم کے شکرگزار ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں لیڈروں کے درمیان جن نکات پر اتفاق ہواہے انہیں من وعن عملی جامہ پہنایاجائے ،قبائلی پختونوں کی ترقی اوریکجہتی کے لئے باجوڑ سے وزیرستان اور ڈیر ہ اسماعیل خان تک سڑک تعمیر کی جائے ،اسفندیارولی خان کی قیادت میں پختون لیڈروں کا دورہ کابل خطے میں امن کے قیام کے لئے مثبت قدم اور سنگ میل ثابت ہوگا، صوبائی حکومت کی طرف سے عبدالولی خان یونیورسٹی کے فیز ٹو کے لئے فنڈز کی بندش قابل افسوس ہے وزیراعظم کو مردان دورے کی دعوت دی ہے جس میں یونیورسٹی کی مالی مشکلات دور کی جائیں گی، امیرحیدرخان ہوتی گردوں میں تکلیف سے شفایاب ہونے کے بعدہوتی ہاؤس مردان میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے جو مختلف علاقوں سے ان کی عیادت کے لئے آئے ہوئے تھے اس موقع پر کارکنوں نے اپنے لیڈر کو پھولوں کے گلدستے پیش کئے اراکین اسمبلی گوہر باچا،احمد بہادرخان ، پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ، صوبائی نائب صدر محمد جاوید یوسفزئی، ضلعی نائب صدرایوب خان ،جائنٹ سیکرٹری پیر جبار شاہ ،ضلعی سالار ملک امان اورخدائی خدمت گار ڈاکٹر محمد یوسف یوسفزئی سمیت دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی پختون قوم کی ترقی کے خلاف ہر ساز ش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ہم نے اکنامک کاریڈور میں تبدیلوں کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی آج ہمیں خوشی ہے کہ وزیراعظم نے ہمارے اعتراضات کو دور کرنے کا وعدہ کیا انہوں نے کہاکہ ،پختونوں کو مسائل اور مصائب سے نکالنا اوران کی ترقی کے لئے کوششیں کرنا ہماری پارٹی کا منشور ہے انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے انہوں نے کمیٹی اجلاس میں پاک چائنا راہداری میں خیبرپختون خوا کو شامل کرنے کے لئے مختلف تجاویز دی جس کی کمیٹی نے متفقہ طورپر منظوری دی انہوں نے کہاکہ پارٹی سربراہ اسفندیار ولی خان اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات کے حوالے سے بعض لوگوں کا خیال تھاکہ گویا اے این پی حکومت میں شامل ہورہی ہے یاپھر اپنے لئے مراعات مانگ رہی ہے تاہم دونوں لیڈروں کی اہم ملاقات میں پختونوں کے مسائل اوران کے حقوق کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے جس میں وزیراعظم نے پاک چین راہداری کے حوالے سے خیبرپختون خوا کے عوام کے تمام خدشات اور اعتراضات کو ختم کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اورساتھ ہی گوادر سے ڈیرہ اسماعیل خان تک سنگل کیرج کی بجائے دوطرفہ سڑک بنانے اوردوسرے مرحلے میں اسے موٹروے بنانے پر اتفاق ہواہے انہوں نے کہاکہ اس شاہراہ پر صنعتی زون بنایاجائے گاجس سے پختون بیلٹ میں خوشحالی اور ترقی آئے گی انہوں نے وزیراعظم میاں نوازشریف کا شکریہ اداکیا اورکہاکہ جو فیصلے دونوں لیڈروں کے درمیان ون ٹوون ملاقات میں ہوئے ہیں ان پر من وعن عمل درآمد کیاجائے سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن کا قیام ضروری ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ سفندیار ولی خان کی قیادت میں جانے والے وفد کا دورہ کابل اس جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا جس سے دونوں ممالک کی کشیدگی اور تناؤ ختم کرنے اور اعتماد سازی کی بحالی میں مدد ملے گی اوردونوں برادر پڑوس ممالک کے تعلقات بہتری آئے گی انہوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے فیز ٹو کے لئے فنڈز جاری نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ رہبر تحریک خان عبدالولی خان ایک عظیم مدبر سیاستدان تھے اوران کا نام تاریخ کے صفحات میں قیامت تک زندہ رہے گا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ انہوں نے وزیراعظم میاں نوازشریف کو مردان دورے کی دعوت دے دی ہے اوراپنے دورے میں وزیراعظم یونیورسٹی کے مالی مشکلات دورکریں گے قبل ازیں امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی کارکنوں ،شہریوں ،دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں ،اندرون ملک اور بیرون ملک مقیم پختونوں کا شکریہ اداکیا جنہوں نے ان کی صحت یابی کے لئے دعائیں مانگی ا نہوں نے کہاکہ صحت ایک تحفہ ہے اوران کی صحت یابی اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور لوگوں کی دعاؤں کانتیجہ ہے

مورخہ : 25.11.2015 بروز بدھ

* اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان آج (جمعرات) اہم دورے پر کابل کیلئے روانہ ہوں گے۔
* پارٹی کے سینئر رہنما افراسیاب خٹک بھی اُن کے ہمراہ ہوں گے وہ کابل میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ سفندیار ولی خان افغان حکومت کی خصوصی دعوت پر آج بروز جمعرات کابل پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اعلیٰ حکومتی شخصیات اور سیاسی قائدین سے خصوصی ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کریں گے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک بھی اُن کے ہمراہ ہوں گے۔
دریں اثناء اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بات چیت میں اُنہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورہ کابل کے دوران دونوں ممالک کی کشیدگی اور تناؤ ختم کرنے اور اعتماد سازی کی بحالی کیلئے اپنی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔

مورخہ : 25.11.2015 بروز بدھ

* 2013 کے الیکشن میں ہمیں بندوق کی نوک پر پارلیمانی نمائندگی سے دور رکھا گیا ’ سردار حسین بابک‘
* اب ایک سازش کے تحت اے این پی پر کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں تاکہ ہماری خدمات کو مشکوک بنایا جائے۔
* اپنے عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنا غداری نہیں بلکہ حب الوطنی ہے ’ بونیر میں اجتماع سے خطاب‘

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ کرپشن کے بے بنیاد الزامات اور دیگر منفی ہتھکنڈوں کے ذریعے اے این پی کی جدوجہد ، خدمات اور کردار کا راستہ نہیں روکا جا سکتا ہم نے ماضی میں بڑے جابروں اور آمروں کے سامنے سر نہیں جھکایا تو موجودہ حکمرانوں کی کیا اوقات ہیں۔
پی کے 77 بونیر کے تنظیمی عہدیداران ، منتخب بلدیاتی نمائندوں ، صاحب الرائے مشران اور پارٹی کارکنان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام حلقوں میں پارٹی کو مضبوط اور فعال بنانے ، اس کی تنظیمی سرگرمیاں تیز کرنے اور رابطہ عوام مہم کو مزید مؤثر بنانے کیلئے دورے کیے جائیں گے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات یا ناراضگیوں کو دور کرنے کے علاوہ نئے لوگوں کو شامل کرنے کیلئے بھرپور منصوبہ بندی کی جائیگی اور پارٹی کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کیلئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
اُنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ 2013 کے الیکشن میں بندوق کی نوک پر پارلیمانی سیاست سے اے این پی کو باہر رکھنے کی منظم سازش اور مربوط کوششیں کی گئیں اور اب عوام میں پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کیلئے اس پر کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ہمارے پانچ سالہ دور حکومت کے عوامی خدمات اور منصوبوں کو کرپشن کا رنگ دیا جائے ۔ دوسری طرف ملک اور قوم کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کو امریکہ یا دیگر کی جنگ قرار دینے کا پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنے مؤقف اور باچا خان بابا کے فلسفہ سیاست پر ہم ڈٹے رہیں گے اور کسی دباؤ یا مصلحت کے کبھی شکار نہیں ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم کسی کے دبانے کی کوشش کو خاطر میں لانے والے نہیں ہیں کیونکہ ہماری تاریخ جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی عوام کے دلوں میں رہنے والی جماعت ہے اس لیے مخالف قوتیں اس کو کمزور کرنے کی ناکام کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ تاہم ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنی سوسالہ تاریخی جدوجہد میں انگریزون کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پاکستان بننے کے بعد ہر آمر اور جابر حکمران کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے ہیں۔ ایسے میں موجودہ حکمرانوں کی کیا اوقات کہ ہم ان کے دباؤ میں آجائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کو کمزور کرنے والے اپنی پالیسیوں اور ارادوں پر نظر ثانی کر لیں تو اس میں ان کی اپنی بھلائی ہے ہماری سیاست پر شک کرنے والے اور الزامات لگانے والے پاکستان اور عوام کے حقیقی دُشمن ہیں اپنی قوم کے حقوق کیلئے آواز اُٹھانا اور ان کے مفادات کی جنگ لڑنا غداری نہیں بلکہ حب الوطنی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ مخالفین کی ناسمجھی نے اس ملک کو کمزور اور اندرونی ، بیرونی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ملک کا استحکام اس میں ہے کہ غلط فہمیوں کو ختم کیا جائے اور ملک کے تمام شہریوں کو آئینی ، انسانی اور بنیادی حقوق دینے کی ضرورت کو یقینی بنایا جائے جو کہ ریاست اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور ان ذمہ داریوں سے غفلت ملک و قوم کو مزید عدم استحکام اور مشکلات میں اضافے کی وجہ بنے گی۔
اس موقع پر اے این پی کے صوبائی نائب صدر جاوید یوسفزئی ، صوبائی جائنٹ سیکرٹری محمد نثار خان اور ضلعی صدر محمد کریم بابک نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ : 25.11.2015 بروز بدھ

* وزیر اعظم سے ملاقات میں پاک افغان تعلقات ، اکنامک کاریڈور اور فاٹا کے ایشوز پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ’ اسفندیار ولی خان کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس‘
* افغان حکومت کی خصوصی دعوت پر کل کابل جا رہا ہوں ، پاک افغان تعلقات کی بحالی ناگزیر ہے۔
* وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ اکنامک کاریڈور کا مغربی روٹ اور انڈسٹریل زونز کا قیام سودمند اور لازمی ہے۔
* چین کو جو مسئلہ سنکیانگ اور تربت میں درپیش ہے اُس مسئلے کا ہم فاٹا اور بلوچستان میں سامنا کر رہے ہیں۔
* وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ ہم آئی ڈی پیز کی بحالی اور واپسی کی رفتار سے قطعاً مطمئن نہیں ہیں۔
* اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرنے کا جواب غداری کے فتوے کی شکل میں آجاتا ہے یہ ہماری روایت رہی ہے۔
* غداری کے الزامات یا دبانے سے اپنی سیاست اور مؤقف تبدیل نہیں کروں گا۔
* دورہ افغانستان کے دوران کوشش ہو گی کہ دونوں ممالک کا تناؤ کم ہو۔افغان حکومت یہ ضروری پوچھے گی کہ دیر کی جو لاشیں گئی ہیں وہ لوگ کیا کرنے آئے تھے۔
* سینیٹر ستارہ ایاز پر جتنی رقم کے کرپشن کے الزام لگایا گیا ہے اُتنا اس کی وزارت کا بجٹ نہیں تھا۔
* نیشنل ایکشن پلان پر اس کے اعلان اور ہماری توقعات کے مطابق عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اُنہوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات کے دوران پاک افغان تعلقات ، دہشتگردی ، اکنامک کاریڈور ، فاٹا کے مسائل اور نیشنل ایکشن پلان سمیت متعدد دیگر ایشوز پر تفصیلی تبادلہ خیال کر کے ان کو اپنے خدشات اور تجاویز سے آگاہ کیا اور ان پر واضح کیا کہ ملک کو درپیش سنگین چیلینجز سے نمٹنے کیلئے فوری اور یقینی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اور اعتماد سازی کی بحالی کے بغیر خطے اور دونوں ممالک میں امن ناممکن ہے اس لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت کو بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے بعض دیگر رہنماؤں کے ساتھ افغان حکومت کی خصوصی دعوت پر کل کابل جا رہے ہیں جہاں ان کی کوشش ہوگی کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود فاصلوں ، کشیدگی اور تناؤ کو کم کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ افغان قیادت اس دورہ کے دوران یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ جن درجنوں پاکستانیوں کی لاشیں حال ہی میں پاکستان کے ضلع دیر پہنچائی گئی ہیں وہ لوگ کیا کرنے افغانستان آئے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے نیشنل ایکشن پلان پر اس کے فیصلوں اور ہماری توقعات کے مطابق عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اگر عمل کیا جاتا تو صورتحال کافی بہتر اورمختلف ہوتی۔ اُنہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم کو بھی اس ضمن میں اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔
فاٹا کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اُنہوں نے وزیر اعظم کو صاف بتا دیا ہے کہ متعدد دیگر کی طرح وہ بھی آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کے کاموں کی رفتار سے مطمئن نہیں ہیں ۔ اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ میرانشاہ سمیت متعدد دیگر علاقوں میں نہ تو کوئی دُکان بچی ہے نہ کوئی مارکیٹ اور نہ ہی کوئی کاروبار ، اگر آئی ڈی پیز کی واپسی اور باعزت بحالی کے کام پر توجہ نہیں دی گئی تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے وزیر اعظم سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ فاٹا کے عوام کو سود سے پاک قرضے دئیے جائیں اور ان کی دیگر معاشی ضروریات کا بھی خیال رکھا جائے۔ اُنہوں نے تجویز دی کہ فاٹا ریفارمز کمیٹی میں سیاسی اور مقامی نمائندوں کی رائے اور شرکت کو ممکن بنایا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ فاٹا میں ملک کے 80 فیصد معدنیات پائی جاتی ہیں اگر اسی صنعت کی بحالی اور فعالیت کیلئے سہولیات دی جائیں تو اس کی آمدن پورے ملک کی اکانومی چلانے کیلئے کافی ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ باجوڑ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر خار سے ایک سڑک اس طریقے سے شروع کی جائے جو کہ تمام ایجنسی ہیڈ کوارٹرز سے گزرتے ہوئے ژوب ، دیگر اضلاع کو لنک کریں اور آخر میں گوادر جانے والی موٹر وے سے ملائی جائے تو اس سے فاٹا مین سٹریم میں آجائیگا اور یہ وسطی ایشیاء کے ساتھ تجارت کا آسان اور مختصر راستہ بھی ثابت ہوگا۔ اسی تناظر میں ملاقات کے دوران میں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ مغربی روٹ اور فاٹا میں انڈسٹریل زونز کے قیام کو یقینی بنائیں اور قوم کو تفصیلات بتائی جائیں تاکہ پاک چائنا کاریڈور کے بارے میں پائے جانے والے تحفظات کا خاتمہ کیا جائے۔اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین کو جو مسئلہ سنکیانگ اور تربت میں درپیش ہے اس کا ہم فاٹا اور بلوچستان میں سامنا کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کاریڈور سے ان علاقوں کو ٹھوس فائدہ پہنچایا جائے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ اہم ایشوز پر اپنے سیاسی مؤقف سے کسی بھی قیمت پر دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں ۔ ہمارے ملک کی روایت رہی ہے کہ اگر اسٹیبلیشمنٹ کی پالیسیوں پر تنقید کی جائے تو غداری کے فتوے لگانے شروع ہو جاتے ہیں تاہم میں غداری کے الزامات یا دباؤ کے باعث اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ احتساب کے لیے جو طریقہ کار بنایا گیا ہے وہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر لوگوں کو ثبوتوں کی عدم موجودگی کے بعد بری کیا جاتا ہے حالانکہ ایسے کیسیز پر قوم کے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ لوگوں کا اس طریقہ کار پر اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ سینیٹر ستارہ ایاز پر جتنی رقم کے کرپشن کا الزام لگایا ہے اتنا ان کی پوری وزارت کا مجموعی بجٹ بھی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے ملاقات کے دوران ان کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے تحفظات ، خدشات اور تجاویز کی روشنی میں اہم اقدامات اُٹھائیں گے اور ان معاملات پر متعلقہ حکومتی حکام اور اداروں سے بات کریں گے۔
پریس کانفرنس میں اے این پی کے اہم قائدین حاجی غلام احمد بلور ، میاں افتخار حسین ، شاہی سید ، زاہد خان ، بشریٰ گوہر ، سینیٹر ستارہ ایاز ، اصغر خان اچکزئی اور باز محمد خان بھی موجود تھے۔

خالد جاوید ایڈووکیٹ کو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔سینیٹر شاہی سید
خالد جاوید ایڈووکیٹ ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے
بروقت اور سستاانصاف مہیا کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں کمی کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
کراچی ۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے انتخابات میں خالد جاوید ایڈووکیٹ کو صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساتھی وکلاء نے آپ پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ آپ کے لیے لائق تحسین ہے ہم خالد جاوید اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں خالد جاوید ایڈووکیٹ ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے اور بروقت اور سستاانصاف مہیا کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں کمی کی کوششیں جاری رکھیں گے امید کرتے ہیں کہ خالد جاوید بار اور بینچ کے درمیان روابط میں بہتری لائیں گے دریں اثناء عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک نے بھی خالد جاوید ایڈووکیٹ کو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر منتخب ہونے پر مبارک دی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے مسلسل سنگین تنظیمی خلاف کرنے پر ضلع غربی اتحاد ٹاؤن یونین کونسل نمبر 36 وارڈ کے کارکن افتخار محمد کی پارٹی رکنیت معطل کردی
پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔سینیٹر شاہی سید

کراچی.عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ضلع غربی اتحاد ٹاؤن یونین کونسل نمبر 36 کے وارڈ صدر گل رسول اور ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین عثمان غنی کی سفارشات کی روشنی میں اے این پی کے صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید نے مسلسل سنگین تنظیمی خلاف کرنے پر ضلع غربی اتحاد ٹاؤن یونین کونسل نمبر 36 وارڈ کے کارکن افتخار محمد کی پارٹی رکنیت معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ذمہ داران کو افتخار محمد سے کسی قسم کا رابطہ نا ر کھیں انہوں نے مذید کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مورخہ 25نومبر2015ء بروزبدھ
* سینکڑوں ملازمین کی جبری برطرفی عوام دشمن پالیسی کا حصہ ہے، سردار حسین بابک
* مہنگائی بے روزگاری اور بدامنی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔عوام تحریک انصاف کو ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں ،
* گزشتہ اڑھائی سال سے مختلف محکموں کے ملازمین سڑکوں پر ہیں اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی
* نادرا کے برطرف کئے جانے والے ملازمین کو ملازمتوں پر بحال کیا جائے اور ان کی مستقلی کے احکامات جاری کئے جائیں ۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے نادرا کے450سے زائد کنٹر یکٹ ملازمین کو فارغ کئے جانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھیننے کی بجائے انہیں روزگار کی فراہمی کیلئے اقدامات کرے ، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت اقتدار میں آئی ہے مختلف محکموں سے ملازمین کو نکالنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور انہیں زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی بجائے بے روزگار کئے جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ ملازم کش پالیسی سے عوام میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور اب وہ تحریک انصاف کو ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ گزشتہ اڑھائی سال سے مختلف محکموں کے ملازمین سڑکوں پر ہیں اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی بلکہ مزید محکموں سے ملازمین کو فارغ کرنا اس نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے جس کے انتہائی سنگین نتائج بر آمد ہونگے اور بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ جرائم کی شرح میں بھی خطرناک اضافہ ہو گا ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ نادرا کے برطرف کئے جانے والے ملازمین کو ملازمتوں پر بحال کیا جائے اور ان کو مستقل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ پختونوں کے امنگوں کی ترجمانی کی ہے اور ان کے مسائل کے حل سمیت پختونوں کی ترقی کے لئے مصروف عمل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کبھی بھی اتنے مایوس نہیں ہو ئے تھے جتنے اس دور میں نظر آرہے ہیں اور موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں سے نالاں عوام اب اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مہنگائی بے روزگاری اور بدامنی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے جبکہ صوبے کے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے انقلابی اقدامات کئے ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت کو اڑھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک صوبے میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا گیااور نہ ہی لوگوں کو روزگار دینے کے وعدے پر عمل ہوتا ہوا کہیں نظر آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام با شعور ہیں اور انہوں نے دیگر سیا سی جماعتوں اورحکمران پارٹی کو رد کر کے اے این پی کو اپنا مطمع نظر بنا لیا ہے، سردار بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے جبکہ اس جماعت نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بے روزگاری میں اضافے کی پالیسی سے تحریک انصاف عوامی اعتماد کھو چکی ہے اور انشاء اللہ صوبے کے عوام ان کا بوریا بستر ہمیشہ کیلئے گول کر دیں گے۔

مورخہ 25نومبر2015ء بروزبدھ

مقتول طارق کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے ، امیر حیدر خان ہوتی
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس طارق خان کے اغواء کے بعد قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبے میں جنگل کا راج ہے اور شہریوں کی جان و مال کا کوئی تحفظ نہیں ہے ، انہوں نے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے ، امیر حیدر خان ہوتی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقتول طارق کے قاتلوں کو فوری طو پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

مورخہ : 24.11.2015 بروز منگل

ا سفندیار ولی خان آج بدھ کو اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد خان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان آج 25نومبر 2015 کو اپنی ہائش گاہ اسلام آباد میں شام چار بجے ملکی و بین الاقوامی معاملات ، خطے کی صورت حال کے علاوہ سیاسی حالات کے بارے میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

مورخہ : 24 نومبر 2015 بروز منگل

فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا موجودہ حکمرانوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے‘ہارون بشیر بلور
قبائلیوں کے نام پر ذاتی مفادات کے حصول کا دورگزرچکاہے فا ٹا کو صوبے میں ضم کیا جائے
جب تکفاٹاکو صوبے میں ضم نہیں کردیاجاتاتب تک قبائل اپنی جد وجہدجاری رکھیں گے

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ پارلیمینٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے فاٹاسیاسی اتحادکے جلسے کے کامیاب احتجاجی مظاہرے سے ثابت ہوگیا ہے کہ قبائلی عوام باشعور ہیں اوراپنا اچھابرا خوب سمجھتے ہیں اور اپنے حقوق کیلئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جب تک فاٹا سے چالیس ایف سی آرجیسے کالے قانون کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا اورفاٹاکو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم نہیں کردیاجاتاتب تک قبائل اپنے حقوق کے حصول کے لئے جد وجہدجاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ قبائلیوں کے نام پراپنی سیاسی دکانیں چمکانے اور ذاتی مفادات حاصل کرنے والوں کا دور اب گزرچکاہے انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا اگر پاکستان کا حصہ ہے توقبائلیوں کے حقوق کو تسلیم کرنا اور فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا موجودہ حکمرانوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اس لئے وقت کا تقا ضا ہے کہ جتنا جلد ہو سکے فا ٹاکو صوبہ خیبر پختو نخوا میں ضم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی ملکان اور مشران بھی چالیس ایف سی آرجیسے کالے قانون کے خلاف ہیں اس لئے اس کالے قانون کا خاتمہ اورفاٹا کو صوبے میں ضم کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔انہوں وفاقی وصوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فا ٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے حوالے جو قانونی وآئینی مو شگافیا ں ہیں اسے فی الفور دور کی جائیں ۔
مورخہ : 24 نومبر 2015 بروز منگل

 سردار حسین بابک کی مقامی صحافی کے قتل پر مذمت اور اظہار افسوس
صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ، مستعفی ہو جائے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کوہاٹ میں صحافی حفیظ کے بہیمانہ قتل کی پر زور مذمت کرتے ہوئے مرحوم کے پسماندگان کے ساتھ گہری ہمدردی افسوس کا اظہار کیا ہے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے صوبے میں کسی کی بھی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ، بدامنی کا یہ عالم ہے کہ عام شہریوں سمیت صحافیوں و دیگر مقتدر لوگوں کا قتل روز کا معمول بن چکا ہے جب کہ حکومتی ادارے اپنے فرائض سے مجرمانہ حد تک غفلت برتتے ہوئے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں آئے روز جرائم کی بڑھتی شرح صوبائی ھکومت کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی صحافی کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے اُنہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو اُسے صوبے میں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

مورخہ : 24 نومبر 2015 بروز منگل

پاکستانی شہریوں کی افغانستان میں ہلاکت نے نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ’ زاہد خان‘
اس طرح کے واقعات سے دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
جو بھی تنظیم یا گروپ اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کا نوٹس لیا جائے۔
نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانا پاکستان کی سلامتی اور سیکیورٹی کیلئے لازمی ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہدخان نے کہا ہے کہ کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانا بھی انتہائی لازمی ہے کیونکہ خطے کے حالات باالخصوص سیکیورٹی کو کئی چیلینجز کا سامنا ہے اور ان سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور ریاستی اداروں کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔
افغانستان میں ڈرون حملے کے نتیجے میں دیر اور بعض دیگر علاقوں کے درجنوں افراد کی ہلاکت کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں زاہد خان نے کہا کہ اتنے جنگجوؤں کی ہلاکت سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اب بھی بعض قوتیں افغانستان میں کھلی مداخلت کا ارتکاب کر رہی ہیں جس کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کی کھلی مداخلت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات کا بحال ہونا یا اعتماد سازی کا ماحول بننا ایک بڑا سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے نے نیشنل ایکشن پلان کے فیصلوں اور اقدامات کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے کیونکہ پلان میں کراس بارڈر ٹیررازم اور ایسی تنظیموں کے خاتمے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد یقینی بنانا دونوں ممالک کے بہتر تعلقات کے علاوہ پاکستان کی سلامتی کیلئے بھی ناگزیر ہے۔
اُنہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی تنظیم یا گروپ اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اس کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت ضروری کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کو استعمال ہونے دیں تاکہ اعتماد سازی کے ماحول کو ممکن بنایا جا سکے۔

مورخہ : 24 نومبر 2015 بروز منگل

امیر حیدر خان ہوتی کا جمیل الدین عالی اور صحافی رفعت اللہ اورکزئی کے بھائی کے انتقال پر اظہار افسوس
مرحوم کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ، پسماندگان سے تعزیت

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اممیر حیدر خان ہوتی نے ملک کے ممتاز دانشور جمیل الدین عالی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان سے دلی تعزیت کی ہے ۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری تعزیتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ جمیل الدین عالی جیسی تاریخ ساز شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ فنون لطیفہ اور ادب میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا اور ان کی موت سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔
صوبائی صدر نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے بھائی کے انتقال پر بھی افسوس اور دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر کی دُعا کی ہے۔

امیر حیدر خان ہوتی کا جمیل الدین عالی اور صحافی رفعت اللہ اورکزئی کے بھائی کے انتقال پر اظہار افسوس
* مرحوم کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ، پسماندگان سے تعزیت

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اممیر حیدر خان ہوتی نے ملک کے ممتاز دانشور جمیل الدین عالی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان سے دلی تعزیت کی ہے ۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری تعزیتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ جمیل الدین عالی جیسی تاریخ ساز شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ فنون لطیفہ اور ادب میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا اور ان کی موت سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔
صوبائی صدر نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے بھائی کے انتقال پر بھی افسوس اور دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر کی دُعا کی ہے۔

مورخہ : 24 نومبر 2015 بروز منگل

آئی ڈی پیز پر راشن کی بندش ظالمانہ اقدام ہے ’’ ارباب محمد طاہر ‘‘
* گورنر سیکرٹریٹ کی جانب سے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جبکہ فاٹا سیکرٹریٹ نے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل نے شمالی وزیرستان کی پانچ تحصیلوں کے آئی ڈی پیز پر راشن کی بندش کو ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے آئی ڈی پیز کو زندہ رہنے کے حق سے بھی محروم رکھنا چاہتی ہے ۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے بیان میں اُنہوں نے کہا کہ گورنر سیکرٹریٹ کی جانب سے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جبکہ فاٹا سیکرٹریٹ نے بھی اس المیے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز جو کہ پہلے سے ہی اپنا گھر بار لٹا چکے ہیں اور اس سرد موسم میں وہ کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اور اب انہیں خوراک سے محروم رکھ کر زندہ درگور کرنے کی ظالمانہ روش اپنا لی گئی ہے جو کہ ظلم کی انتہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو اس سنگین مسئلے کے حل کیلئے ہنگامی اور ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز کی بروقت واپسی اور اُن کی بحالی دونوں حکومتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ آپس کی چپقلش اور ایک دوسرے پر الزامات کے آئی ڈی پیز پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ لہٰذا دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ آئی ڈی پیز کے مسائل حل کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔

مورخہ 24نومبر2015ء بروزمنگل
* پرویز خٹک اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی کی بجائے اپنی اوقات اور زمینی حقائق کا ادراک کریں ’ میاں افتخار حسین ‘
* وہ اس حکومت کے خلاف بے سروپا الزامات لگارہے ہیں جس میں وہ خود بھی وزیر رہ چکے ہیں۔
* محض اسمبلی ارکان کے اعدادو شمار کو سیاست یا عوامی مقبولیت کا پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
* اے این پی جیسی صورتحال موجودہ حکومت کو پیش آئی تو یہ ایک دن بھی میدان میں نہیں ٹھہر پائے گی۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ چونکہ غیر سیاسی ہیں اس لئے ان کا اپنے لب و لہجہ پر کنٹرول نہیں رہا ،پرویز خٹک کی جانب سے اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو اس طرح کا لہجہ زیب نہیں دیتا اور اے این پی کو طعنہ دینے سے پہلے وہ اپنے گریبان میں ضرور جھانکیں ، انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک کا ماضی گواہ ہے کہ وہ کبھی کسی ایک پارٹی میں نہیں رہے بلکہ کرسی کی خاطر وہ پہلے آزاد حیثیت سے اقتدار میں رہے ،بعد ازاں پیپلز پارٹی ، قومی وطن پارٹی ، اے این پی حکومت کا بھی حصہ رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک تحریک کا نام ہے جس نے اپنی100سالہ تاریخ میں فرنگیوں کے خلاف جدوجہد کی اور انہیں اپنی دھرتی سے بے دخل کیا جبکہ جمہوریت کی خاطر ہر آمر سے ٹکر لی۔ انہوں نے کہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا اور جائیدادیں ضبط کرانے کا سہرا بھی اے این پی کے سر ہے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم باچا خان بابا سے لے کر آج تک اپنی مستقل مزاجی کے باعث سے ہی قائم و دائم ہیں۔ محض اسمبلی کے اعداد و شمار کو سیاست اور مقبولیت کا پیمانہ قرار دنہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کو طعنہ دینا درست نہیں کیونکہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو قربانیاں اے این پی نے دی ہیں وہ کسی اور سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں ، انہوں نے کہا کہ اسی طرح صوبائی خود مختاری اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق کا حصول بھی اے این پی ہی کا کارنامہ ہے ، جو یقیناًپرویز خٹک کی سمجھ سے بالاتر ہو گا، مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اے این پی کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ نظر نہیں آتی جو ان کی حکومت میں ریکارڈ توڑ چکی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اے این پی کے کارکن کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد لواحقین نے چار گھنٹوں تک روڈ بلاک رکھا تاہم کسی حکومتی عہدیدار نے ان کی داد رسی نہ کی اور نہ ہی ان سے رابطہ کرنے کی زحمت گوارا کی ، انہوں نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ تحریک انصاف کو کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے اور پرویز خٹک کو جب بھی موقع ملا وہ حسب روایت تحریک انصاف کو چھوڑ کر کسی اور پارٹی میں شامل ہو جائیں گے ،انہوں نے احتساب کمیشن کے حوالے سے زہر فشانی کرنے پر مزید کہا کہ احتساب کمیشن دراصل پرویز کمیشن ہے جس کا نوٹی فیکیشن ہی اس کے قیام کے ایک سال بعد جاری کیا گیا ، لہٰذا اس کمیشن کو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ اے این پی اپنے خلاف ہرزہ سرائی کا جواب دینے کا حق مھفوظ رکھتی ہے ۔
اُنہوں نے کہا کہ موصوف اے این پی کی جس حکومت کے خلاف باتیں کر رہے ہیں وہ اس حکومت میں خود بھی وزیر رہ چکے ہیں۔ اے این پی نے جن حالات میں حکومت کی اگر وہ صورتحال موجودہ حکومت کو پیش آئی تو یہ دو دن بھی اس کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے اس لیے پرویز خٹک کو مشورہ ہے کہ وہ الزامات کی بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرے اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔

مورخہ : 24 نومبر 2015 بروز منگل

کپتان کی ماڈل پولیس طلبہ تشدد پر اُتر آئی ہے ’’ سردار فخرعالم خان ‘‘

پشاور (پریس ریلیز) بنوں پولیس کا طلباء پر تشدد مذموم فعل ہے اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سردار فخر عالم خان اور یاسر یوسفزئی نے کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ پچھلے دنوں بنوں میں پر امن طلبہ پر تشدد اور بعد میں اُن کو حوالات میں بند کرنا ضلعی پولیس کی غنڈہ گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کپتان دن رات پختونخوا پولیس کی تعریف کرنے پر نہیں تھکتے اور حقیقت یہ ہے کہ یہاں پولیس حکومتی جماعت کا ایک عسکری ونگ بنا ہوا ہے۔ ہم آئی جی پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد واقعے کی تحقیقات کر کے ضلعی پولیس آفیسر سمیت ملوث عملہ کو قرار واقعی سزا دی جائے بصورت دیگر پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کسی بھی راست قدم اُٹھانے پر مجبور ہو جائیگا۔

مورخہ 24نومبر2015ء بروزمنگل
اے این پی پرنٹرز اور پبلشرز کے حقوق کی جنگ میں ان کے ساتھ ہے، حاجی غلام احمد بلور
سن۲۰۱۳ ء میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کی وزارت بھی صوبوں کو منتقل کی گئی
نا اہل اور اٹھار ویں ترمیم سے بے خبر حکمرانوں نے پرنتنگ کا کام اوپن ٹینڈر کے ذریعے پنجاب کے حوالے کر دیا ہے
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور ممبر قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ پرنٹرز اور پبلشرز کے مطالبات جلد تسلیم کئے جائیں اور اے این پی ان کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ اے این پی نے صوبائی حقوق کے حصول کیلئے طویل جدوجہد کی اور صوبائی خود مختاری کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ،2013ء میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کی وزارت بھی صوبوں کو منتقل کی گئی ہر صوبہ اپنی ٹیکسٹ بک خود پرنٹ کرتا ہے اور کسی دوسرے صوبے کے لوگ دوسرے صوبے میں پرنٹنگ کا کام حاصل نہیں کر سکتے تاہم موجودہ نا اہل اور اٹھار ویں ترمیم سے بے خبر حکمرانوں نے پرنتنگ کا کام اوپن ٹینڈر کے ذریعے پنجاب کے حوالے کر دیا ہے جو خیبر پختونخوا کے پرنٹرز کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور پرنٹرز کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب کے پرنٹرز کو دیا جانے والا کام ان سے واپس لے کر پختونخوا کے پرنٹرز کو دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی پرنٹنگ پر 17.5فیصد سیلز ٹیکس واپس لیا جائے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دیگر صوبوں میں پرنٹنگ کے کام پر کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہاجبکہ خیبر پختونخوا کے پرنٹرز سے یہ ٹیکس وصول کرنا ان کے حقوق غصب کرنے کی سازش ہے ،انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ حکومت صوبے میں انقلاب برپا کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب صوبے میں بے روزگاری بڑھائی جا رہی ہے، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی قسمت کے فیصلے بنی گالہ میں کچن کیبنٹ کے لوگ کر رہے ہیں ، صوبائی وزیر اعلیٰ اور وزراء پرنٹرز کے مسائل سننے کے روادار نہیں جبکہ امن و امان کے حوالے سے صوبے کی صورتحال خراب ہے ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور جب لوگ احتجاجاًسڑکوں پر آتے ہیں تو حکمران چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں انہیں اتنی بھی توفیق نہیں کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کریں اور ان کی داد رسی کریں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جب آواز اٹھاتی ہے تو حکمران سیخ پا ہو جاتے ہیں ،موجودہ صوبائی حکمرانوں نے تمام صوبے کے لوگوں کے ساتھ اور ہر طبقے کے ساتھ جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس میں غریب عوام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں لیکن حکمران پارٹی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ آنے والا دور بھی ان کا ہو گا ان عقل کے اندھے حکمرانوں کو عوام مسائل پر توجہ دینی چاہئے ،انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے بدقسمت عوام نے جس طرح ووٹوں سے ان کو نوازا ہے اس عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہو رہی ہے انہیں کوئی ریلیف نہیں مل رہا جو موجودہ نا اہل حکمرانوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،۔

مورخہ 24نومبر2015ء بروزمنگل

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پشاور سٹی کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرے اپوزیشن کا کام حکومت کا قبلہ درست کرنا ہوتا ہے، جمہوریت میں حکمرانوں کے غلط کاموں پر اپوزیشن کی تنقید جائز ہے اور کسی کو بھی اس پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف زبان درازی کرتی ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں اسے برداشت کرتی ہیں ،حالانکہ تحریک انصاف کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں سے حکمران خوفزدہ ہیں،انہوں نے کہا کہ ایک طرف بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ ہم نے اپنے وزیر کو اپنے دور میں گرفتار کیا ہے اب تو صاف نظر آرہا ہے کہ اس وزیر نے اسمبلی فلور پر کہا تھا عوام کی نظروں میں وہ سچ تھا جس کا حالیہ ثبوت پرنٹرز اور پلشرز کی جانب سے کیا جانے والا احتجاج ہے ،جبکہ اس وزیر نے بھی یہی کہا تھا کہ اصل اور بڑا مجرم صوبائی وزیر اعلیٰ ہے اور اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کسی وزیر اور مشیر نے اور نہ ہی سپیکر نے اسے یہ کہنے سے روکا اور نہ ہی جواب دیا انہوں نے کہا کہ اگر سابقہ صوبائی وزیر کے الزامات بے بنیاد ہیں تو صوبائی کابینہ کے ممبر اس کی وضاحت کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ باتیں بھی خیبر پختونخوا کے عوام پر عیاں ہیں کہ اس سے پہلے ایک نام نہاد قوم پرست جماعت قومی وطن پارٹی کے دو وزراء پر الزامات لگا کر وزارت سے برطرف کیا گیا جو آج تک موجودہ حکمران کرپشن ثابت کرنے میں ناکام رہے اور ایک بار پھر ان چوروں اور لٹیروں کو حکومت میں شامل کر کے تحریک انصاف نے اپنی منجدھار میں پھنسی ناؤ کو بچانے کی کوشش کی تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کرپشن زدہ پارٹی کو حکومت میں شامل کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے بھی کرپٹ ممبروں کو وزارتوں سے برطرف کر کے کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی، انہوں نے کہا کہ اس وقت کے ایک مشیر یاسین خلیل نے بھی وزیر اعلیٰ سے اسمبلی فلور پر حساب کتاب چکتا کیا تھا اور پھر یہ کہنا کہ وزیر کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کرے، حکومت کے پاس احتساب کمیشن کے حوالے سے جتنے لوگوں کے خلاف کاروائی کی ہے ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ خالی نعروں اور اشتہارات سے حکومتیں نہیں چلتیں حکمرانوں کو حقیقی انصاف کرناچاہئے اور تبدیلی ہوتی ہوئی نظر آنی چاہئے موجودہ حکمرانوں کے تین سال ہونے کے باوجود ہسپتالوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے ڈاکٹر ناراض ہیں اور ہسپتالوں کے بارے میں کوئی جامع پالیسی نہیں،انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن کے حوالے بہت سی خالی اسامیاں پر نہیں کی گئیں لمبے عرصے تک ایڈہاک بنیاد پر حکومت نہیں چل سکتی دس ہزار اسامیوں پر تعیناتیاں نہیں کی گئیں جبکہ ایک لاکھ ستر ہزار لوگوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں زلزلہ زدگان کے ساتھ کوئی انصاف نہیں ہو رہا اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے یہ تنقید اور جائز تنقید اے این پی حکمرانوں پر کرتی رہے گی اور کسی کو اس پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

مورخہ : 23 نومبر 2015 بروز پیر

* تحصیل تیار زہ میں سیکورٹی فو رسز کی گا ڑی پر دہشت گردوں کا حملہ بزدلانہ فعل ہے ’سردار حسین با بک‘
* اے این پی کے صوبائی سیکر ٹری جنرل کا حملے میں سیکورٹی فو رسز کے اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے جنوبی وزیر ستان کی تحصیل تیار زہ میں سیکورٹی فو رسز کی گا ڑی پر دہشت گردوں کے حملے میں سیکورٹی فو رسز کے تین اہلکاروں کی شہادت پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کو بزدلانہ فعل قرار دیا ہے اور اُنہوں نے شہید اہلکاروں کے پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دُعا کرتے ہو ئے کہا ہے کہ شہید وں کا خون رائیگا ں نہیں جائے گا دہشت گرداپنے بزدلانہ حملوں سے قوم اور سیکورٹی فورسز کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیا ن میں اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ دہشت گردی کا ڈٹ کر مقا بلہ کیا ہے اور دہشت گردی کا راستہ روکنے کے لئے جا نی و مالی قربانیوں سے بھی دریغ نہیں کیا۔

مورخہ 23نومبر2015ء بروزپیر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پارٹی کی جانب سے سکالر شپ کی بنیاد پر طلباء کو بیرون ملک بھجوانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ، کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد مٹہ جبکہ دیگر ممبران میں ارباب محمد طاہر خان خلیل، ایمل ولی خان ،شگفتہ ملک اور عمران آفریدی شامل ہیں ، جبکہ اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

مورخہ 22نومبر 2015ء بروز اتوار

خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ایمل ولی خان
بھتہ خور وں کی دھمکیوں سے ہر آدمی خصوصاً تاجر اور کاروباری طبقہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہے
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے پشاور سمیت خیبر پختونوا میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے ، اپنے ایک بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبے میں بھتہ خوروں کی دھمکیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے سراسیمگی کی صورتحال ہے اور تاجر و کاروباری طبقہ ان دھمکیوں کے باعث سخت پریشان ہے ،انہوں نے کہا کہ عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں جس کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دکھائی جانے والی سرد مہری ہے ، انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے دعویدار اپناکوئی وعدہ بھی پورا نہ کر سکے اور اڑہائی سال کے عرصہ میں عوام مزید عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کے دعویدار اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے وعدے ہوا ہو چکے ہیں اور اب پی ٹی آئی کی حکومت روزانہ کی بنیاد پر عوام سے روزگار چھیننے کے درپے ہے ، ایمل ولی خان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھتہ خوروں کو نکیل ڈالی جائے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے عوام کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جائے ، انہوں نے کہا کہ بھتہ خوری کی وارداتوں میں اضافے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اب خیبر پختونخوا پولیس بھی بھتہ خوروں کے سامنے بے بس نظر آنے لگی ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے ورنہ خیبر پختو نخوا کے عوام ان کا بوریا بستر جلد گول کر دیں گے ۔

مورخہ 22نومبر2015ء بروزاتوار

امیر حیدر خان ہوتی کا باجوڑ اور صوابی واقعات پراظہار افسوس

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے باجوڑ میں بارش کے باعث چھت گرنے اور اس واقعے میں دو کمسن بچوں کی ہلاکت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان کیلئے امتحان ہیں تاہم انسان مشیت ایزدی کے سامنے بے بس ہے ، صوبائی صدر نے کہا کہ غمزدہ خاندان صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ، امیر حیدر ہوتی نے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کی مغفرت کیلئے دعا کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ غمزدہ خاندان کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ ان کی دادرسی کی جائے۔
دریں اثناء صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے صوابی مین بارات کی گاڑیون کے حادثے میں 2افراد کے جاں بحق ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ،انہون نے مرنے والے کیلئے دعائے مغفرت اور حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ، انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

مورخہ 22نومبر2015ء بروزاتوار
متاثرین کی امداد میں گھپلے ان کے زخموں پر نمک پاشی کی مترادف ہے، ہارون بشیر بلور
تین ہزار کے قریب گھر تباہ ہوئے لیکن وہاں صرف 11خاندانوں کو امدادی چیک دیئے گئے جو اقربا پروری کا واضح ثبوت ہے
عوام حکومت کی عدم توجہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث غذائی اجناس اور امدادی اشیاء سمیت دیگر ضروریات کیلئے ترس رہے ہیں
سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں سے متاثرہ چترالی عوام حکومتی امداد کا راستہ دیکھتے مایوس اور نااُمید ہو چکے ہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلورنے چترال میں زلزلے متاثرین کو ملنے والے چیکوں میں گھپلوں کے انکشاف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کرپٹ عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ زلزلہ متاثرین پہلے ہی قدرتی آفات کا شکار گھر بار اور اپنے عزیزوں سے محروم ہو چکے ہیں اور اس پر ان کے ساتھ امداد میں فراڈ ان کے زخموں پر نمک پاشی کی مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ زلزلہ سے چترال کے علاقے مستوج میں تین ہزار کے قریب گھر تباہ ہوئے لیکن وہاں صرف 11خاندانوں کو امدادی چیک دیئے گئے جو اقربا پروری کا واضح ثبوت ہے ، انہوں نے کہا کہ متاثرین کی داد رسی اور انہیں امداد دینے کی بجائے صوبائی حکومت نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سیلاب اور حالیہ زلزلے سے صوبے کے سب سے بڑے اور پسماندہ ضلع چترال کا 70 فیصد انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور بے بس عوام حکومتوں کی عدم توجہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث نہ صرف غذائی اجناس اور دیگر ضروریات کیلئے ترس رہے ہیں بلکہ وہ گزشتہ کئی روز سے بدترین سردی کی لپیٹ میں بھی ہیں تاہم حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی اور ان کے رویے سے لگ یہ رہا ہے جیسے متاثرین ملک کے باشندے ہی نہیں ہوں۔
اُنہوں نے کہا کہ سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں سے متاثرہ چترالی عوام حکومتی امداد کا راستہ دیکھتے مایوس اور نااُمید ہو چکے ہیں، وہ فاقوں پر مجبور ہیں اور ہزاروں افراد چھتوں سے محروم ہونے کے باعث شدید سردی کا سامنا کر رہے ہیں، 70 فیصد انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے مگر حکمران اور ان کے ادارے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے عملاً کچھ بھی نہیں کر رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دور افتادہ علاقہ ہونے کے باعث چترال میڈیا کی توجہ سے بھی محروم ہے اوریہی وجہ ہے کہ عوام بدترین حالات کا سامنا کرنے کی وجہ سے مایوس ہو گئے ہیں۔انہوں نے صوبائی حکومت کی توجہ اس جانب دلاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ زلزلہ متاثرین میں برابری کی بنیاد پر امداد تقسیم کی جائے اور اقربا پروری جیسے ناسور کی حوصلہ شکنی کی جائے ، انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ زلزلہ متاثرین کو ملنے والی امداد میں گھپلے کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کر کے کاروائی کی جائے تا کہ حقداروں کو ان کا حق مل سکے ،

مورخہ 22نومبر2015ء بروزاتوار
* عوامی مقبولیت کھونے کے بعد تبدیلی کے دعویدار بو کھلا چکے ہیں۔سردار حسین بابک
*ایڈہاک بنیاد پر کیڈر کے 7ہزار بھرتی اساتذہ کی تنخواہیں بند کر کے بے روزگاری کے سلسلے کو صوبے کی سطح تک پھیلا دیا گیاہے ،
* بر سر وزگار افراد سے بھی جینے کا حق چھینا جا رہا ہے، استاد دشمن اقدام سے ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے
*مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے کے سرکاری سکولوں میں بھرتی ہزاروں ایڈہاک اساتذہ کی تنخواہوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے استاد دشمن پالیسی قرار دیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ عوامی مقبولیت کھونے کے بعد تبدیلی کے دعویدار بو کھلا چکے ہیں اور اسی بوکھلاہٹ میں وہ الٹے سیدھے فیصلے کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ غربت کی بجائے غریب کم کرنے کی پالیسی حکمرانوں کو مہنگی پڑے گی جبکہ عوام پہلے ہی ان کے دعوؤں اور وعدوں سے متنفر ہو چکے ہیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ پشاور سمیت صوبہ بھر میں ایڈہاک بنیاد پر کیڈر کے 7ہزار بھرتی اساتذہ کی تں خواہیں بند کر کے بے روزگاری کے سلسلے کو صوبے کی سطح تک پھیلا دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن سے قبل اور دھرنے کے دوران کئی بار یہ وعدہ کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے عوام کو روزگار دیں گے تاہم اب وہ اپنے ہی وعدوں کے خلاف چل رہے ہیں اور بر سر وزگار افراد سے بھی جینے کا حق چھیننے کے درپے ہیں ، انہوں نے کہا کہ استاد دشمن اقدام سے ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے جس سے بے روزگاری اور جرائم کے بڑھنے کا بھی خدشہ ہے ،انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے ساتھ امتیاز ی سلوک کسی معاشرے کو زیب نہیں دیتا لیکن اپنی نا اہلی اور نا تجربہ کاری کے باعث حکومت عوام کو سہولیات دینے کی بجائے ان کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہو ں گے۔سردار حسین بابک نے کہا کہ تبدیلی کے جھوٹے دعویداروں کی یہ حالت ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم نے گذشتہ تین سال میں ایک پرائمری سکول میں کمرہ تک تعمیر نہیں کیا ہم نے اقتدار کے پہلے سال مردان میں یونیورسٹی قائم کی اورعوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا، سردار حسین بابک نے کہا کہ قیام پاکستان لے کر 2008تک خیبرپختون خوا میں صرف نو یونیورسٹیاں تھی اے این پی کے دور اقتدار کے پانچ سال میں ہم نے9 یونیورسٹیاں ،سینکڑوں سکول ، کالجز،ہسپتال ،پارک اور ون ون ٹوٹو جیسے ادارے قائم کئے ، انہوں نے کہاکہ مسائل کاحل صرف اے این پی کے پاس ہے اور پختون قوم کو مسائل کے دلدل سے اے این پی ہی نکال سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اقتدار اے این پی کی منزل نہیں ہم کرسی کے بغیر پختونوں کی خدمت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔

مورخہ 21نومبر2015ء بروزہفتہ

* ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی تشویشناک ہے ’ سردار حسین بابک‘
* تحفظ دینا تو درکنار حکمران متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کی ضرورت بھی محسوس نہیں کر رہے۔
* اگر حکومت غفلت پر مبنی رویے پر قائم رہی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے چارسدہ میں دہشتگردوں کے ہاتھوں دو ٹریفک اہلکاروں کی شہادت پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کے علاوہ فورسز اور سیاسی کارکنوں کو تحفظ دے کر اپنی ذمہ داری سے لاتعلقی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے باعث عوام اور متعلقہ حلقوں میں سخت تشویش پھیل گئی ہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ایک ہی دن کے دوران اے این پی کے مقامی عہدیدار اور دوسرکاری اہلکاروں کو ٹارگٹ بنانے کے واقعات اس جانب اشارہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطر ناک اضافہ ہو گیا ہے تاہم صوبائی حکومت نے اس سلسلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحفظ فراہم کرنا اور مجرموں کو پکڑ کر سزائیں دینا تو درکنار صوبائی حکمران متاثرہ خاندانوں کیساتھ اظہار ہمدردی کی ضرورت بھی محسوس نہیں کر رہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ امن و امان سے متعلق سیاسی قوتوں اور عوام کی تشویش میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے لگا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پے درپے واقعات سے ثابت ہو چکا ہے کہ حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے جبکہ اس رویے سے فورسز کا مورال بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس رویے پر قائم رہی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اُنہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی اس تکلیف میں اُن کے ساتھ کھڑی ہے۔

مورخہ 21نومبر2015ء بروزہفتہ

* جمہوریت کیلئے مخدوم امین فہیم کی خدمات مدتوں یاد رکھی جائیں گی ’ اسفندیار ولی خان‘
* مخدوم امین فہیم کی موت تمام جمہوریت پسند قوتوں اور ملک کیلئے بڑا نقصان ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خاندان اور پارٹی لیڈر شپ کیساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے اور مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دُعا کی ہے۔
اے این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان کی طرف سے جاریکردہ بیان کے مطابق اسفندیار ولی خان نے مرحوم لیڈر مخدوم امین فہیم کی سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کے فروغ اور اپنی پارٹی کی ترقی کیلئے مرحوم نے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں ان کی موت نہ صرف ان کی پارٹی بلکہ تمام جمہوریت پسند قوتوں کیلئے بڑا نقصان ہے اور ان کی خدمات اور کمی کو مدتوں یاد رکھا جائیگا۔
اسفندیارولی خان نے مزیدکہاہے کہ وہ تمام قوتیں اور لیڈرز قابل احترام اور قابل ستائش ہیں جنہوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے عوام کے حقوق اور جمہوریت کے استحکام کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے اور مرحوم مخدوم امین فہیم ایسے ہی لیڈروں میں شامل تھے۔

مورخہ 21نومبر2015ء بروزہفتہ

* ایک منظم منصوبے کے تحت اے این پی کو پشتونوں اور خطے کی پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا ’میاں افتخار حسین‘
* عوام جان چکے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی ہی کر سکتی ہے
* سابق صوبائی وزیر اقبال حسین خٹک 4 دسمبر کو اے این پی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کرینگے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسمبلیوں کے اندر پشتونوں اورخطے کی پارلیمانی نماندگی سے محروم رکھا گیا تاہم پارٹی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود امن ، ترقی اور استحکام کیلئے اپنی جدو جہد جاری رکھے گی اور اسی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ متعدد اہم شخصیات پارٹی میں شامل ہو رہی ہیں اور عوام یہ جان چکے ہیں کہ خطے اور عوام کے مفادات کا تحفظ اے این پی ہی کر سکتی ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق تپہ خٹک نامہ ڈاک اسماعیل خیل میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ متعدد دیگر شخصیات سمیت سابق صوبائی وزیر اقبال حسین خٹک 4 دسمبر کو ایک بڑے جلسہ عام میں اے این پی میں شمولیت کا اعلان کرینگے جس سے دوسروں کے علاوہ پارٹی کے مرکزی ، صوبائی قائدین بھی خطاب کرینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ سابق صوبائی وزیر اقبال حسین خٹک کا عوامی نیشنل پارٹی میں باضابطہ شمولیت کے اعلان سے صوبے کی سیاست پر انتہائی مثبت اثر ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ 4 تاریخ کو سابق صوبائی وزیر اقبال خٹک ایک بڑے جلسہ عام میں اے این پی میں اپنی شمولیت کا اعلان کرینگے ۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی قائدین خطاب کرینگے۔ میاں افتخار حسین نے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ لوکل باڈی الیکشن کے بعد ایک بہت بڑا اجتماع ہوگا جس میں عوامی نیشنل پارٹی اپنی سیاسی و عوامی قوت کا بھرپور مظاہرہ کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسمبلی میں خطے کے پختونوں کی نمائندگی کرنے سے محروم رکھا گیا ہے۔ تاہم باشعور عوام اس سازش کو اچھی طرح جان چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ اے این پی میں عوام سمیت دیگر پارٹی کے افراد کی جوق در جوق شرکت سے پارٹی کی روز بروز بڑھتی مقبولیت مخالفین کیلئے نوشتہ دیوار ہے ۔ اُنہوں نے اپنے خطاب میں مخالفین کو دو ٹوک الفاظ میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی تاریخی اور پختونوں کے دلوں کی ترجمانی پارٹی اے این پی کو جتنی بھی سازشوں سے دبانے کی کوشش کی جائیگی یہ پارٹی اتنی ہی تیزی سے میدان میں اُبھر کر سامنے آئے گی۔ اُنہوں نے موجودہ صوبائی حکومت کی نا اہلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی غلط پالیسی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے اس کی مقبولیت کا گراف عوام میں گرتا جا رہا ہے۔
اُنہوں نے تمام ساتھیوں سے کہا کہ یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ پارٹی کی فعالیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس جلسے کو تاریخی اور یادگار بنانے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں۔

مورخہ 21نومبر2015ء بروزہفتہ

* آصف علی زرداری ، آفتاب احمد خان شیر پاؤ سمیت مختلف ممالک کے سفیروں کی حاجی محمد عدیل کی بیمار پرسی
* افغانستان ، ایران اور تاجکستان کے سفیروں نے اے این پی کے علیل رہنما کی صحت یابی کی دُعا کی۔

پشاور ( پ ر ) سابق صدرپاکستان آصف علی زرداری سمیت متعدد دیگر اعلیٰ سیاسی اور سفارتی شخصیات نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حاجی محمد عدیل کی بیمار پرسی کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
حاجی محمد عدیل چند دنوں سے علیل اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں اس سلسلے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے ان کو فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور اُن کی خدمات کا اعتراف کر کے ان کی جلد صحت یابی کی دُعا کی۔
قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بھی علیل رہنما کی بیمار پرسی کیلئے ٹیلیفون کیا جبکہ تاجکستان اور افغانستان کے سفیروں نے بھی ان سے رابطہ کر کے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثناء ایران قونصلر جنرل نے حاجی محمد عدیل سے ملاقات کر کے ان کی بیمار پرسی کی جبکہ پارٹی کے اہم رہنما ، عہدیداران اور کارکن بھی وقتاً فوقتاً علیل رہنما کی عیادت کرتے آ رہے ہیں۔
حاجی محمد عدیل نے مذکورہ شخصیات سمیت تمام دیگر شخصیات اور افراد کے علاوہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کریں۔

مورخہ21 نومبر 2015 بروز ہفتہ

* صوبے میں قتل وغارت ‘ راہزنی اور لا قانونیت کا با زار گرم ہے‘حاجی غلام احمد بلور‘
* عوام کے حقوق کی بات کرنے والوں کو سرعا م گو لیوں کا نشانہ بنا یا جا رہاہے کوئی پو چھنے والا نہیں ہے
* عوامی نیشنل پا رٹی کو انتقام کا نشانہ بنا ناترک نہ کیا گیاتوہم بھی انتقامی اقدام اٹھائیں گے۔

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور ممبر قو می اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے اے این پی کے سا بق نا ظم و شیعہ رہنما امداد حسین شاہ جعفری کے بہیمانہ قتل پر دلی غم و غصے کا اظہارکرتے ہوئے واقعہ کو قا نون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت اور صوبا ئی حکومت کی نا اہلی قرار دیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جا ری اپنے بیان میں ممبر قو می اسمبلی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی نا اہلی کے با عث چند روز قبل بھی اے این پی کے عابد علی قزلباش سمیت ہما رے متعدد سا تھیوں کو دن دھا ڑے بھرے بازار میں قانون نا فذ کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے شہید کر دیا گیا تھا اور قاتل با آسانی فرار ہو گئے تھے جن کو تا حا ل گرفتار نہیں کیا جا سکا ۔انہوں نے صوبائی حکومت کی نا قص پا لیسیوں کے وجہ سے صوبے میں پھیلی بدامنی اور انا رکی پر انتہا ئی تشو یش کا اظہا ر کرتے ہو ئے کہا کہ صوبے میں قتل وغارت ‘ راہزنی اور دن دیہاڑے ڈکیتیوں کا با زار گرم ہے اور پرویز خٹک عمرا ن کو ملک کا وزیر اعظم بنا نے کا خواب دیکھنے میں مصروف ہیں ۔انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے دعویدار اگر عوام کے جا ن و ما ل کا تحفظ نہیں کر سکتے تو انہیں خیبرپختونخو ا میں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے صوبے میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہر جا نب لاقانونیت کا دور دورہ ہے عوام کے حقوق کی بات کرنے والوں کو سرعا م گو لیوں کا نشانہ بنا یا جا رہاہے ا ور عوام کے جان ومال کی حفا ظت کرنے والے اداروں میں موجود حکومتی حواریوں نے اپنے آقاؤ ں کے اشارے پر خاموشی اختیار کر کے انسانیت کے قاتلوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔حاجی غلام احمد بلورنے صوبائی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے سا تھیوں کی ٹار گٹ کلنگ کا سلسلہ فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو ہم براہ راست وزیر اعلی پر ویز خٹک اور عمرا ن خان پرقتل کی ایف آئی آر در ج کرا ئیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکو مت پہلے اے این پی کے کا رکنوں اور ورکروں پر من گھڑت الزامات لگا کر انہیں احتساب کمیشن کے ذریعے ہرا ساں کرتی رہی جب اس میں انہوں نے منہ کی کھا ئی تواب صوبائی حکو مت نے اے این پی کے ورکروں کو ٹا رگٹ کلنگ کو نشانہ بنا کر انسانیت کا قتل عام شروع کر دیا ہے انہوں کہا کہ اگرصوبائی حکومت نے اے این پی کو انتقامی سیاست کا نشانہ بنا نے کی پالیسی ترک نہ کی تو اے این پی ان کے خلاف انتہا ئی اقدام اٹھائیگی اور حالات کی ذمہ داری پرویز خٹک اور عمران خان پر ہو گی ۔

مورخہ 20نومبر2015ء بروزجمعہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما اور سابق ایم پی اے یاسمین ضیاء نے کہا ہے کہ اے این پی پاک چائنہ اکنامک کاریڈور منصوبے کو پاکستان کی خوشحالی اور استحکام کے علاوہ فاٹا ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی جنگ زدہ عوام کی بہتری اور خوشحالی کا ایک بڑا ذریعہ سمجھتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مغربی روٹ کے جس فارمولے اور پلان پر ماضی میں فریقین کا اتفاق رائے ہو چکا تھا اس کو تکمیل کے مراحل سے گزارا جائے۔اور وزیر اعطم نے قوم کے سامنے مغربی روٹ کے حوالے سے جو وعدہ کیا تھا اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔ اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور کی روٹ کی تبدیلی کے معاملے پر اے این پی کا عوامی سیاسی اور پارلیمانی کردار بالکل واضح رہا ہے اور اس سلسلے میں اس ایشو پر مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور پارٹی کے دوسرے لیڈروں نے ہمیشہ مؤقف اپنایا کہ ردو بدل کے تنازعے سے اس بڑے منصوبے کے مقاصد اور نتائج مشکوک ہو کر رہ جائیں گے۔ اے این پی نے اس ضمن میں پارلیمنٹ ، عوام اور دیگر فورمز پر بھرپور آواز اُٹھائی ،اور مغربی کاریڈور میں کسی قسم کا ردوبدل اس منصوبے کے مستقبل اور اثرات کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔
اُنہوں نے کہا کہ دوسری اے پی سی میں وزیر اعظم کے مغربی روٹ سے متعلق واضح اعلان کے باوجود بعض خدشات اور اطلاعات کو کسی صورت مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس قسم کے رویے سے نہ صرف یہ کہ اس عظیم منصوبے کی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے بلکہ فاٹا اور دو صوبوں کے خدشات بھی خطرناک صورت اختیار کر رہے ہیں جو کہ پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کیلئے قطعاً درست اور مناسب نہیں ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ خدشات کا خاتمہ کر کے ملک کے مفاد میں فوری طور پر مغربی روٹ کی تعمیراور تکمیل کا آغاز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ کاریڈور منصوبہ دراصل پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانا تھا اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کرنے کی غرض سے صنعتی زونز کا قیام اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ مغربی روٹ پر صنعتی زونز کے قیام کیلئے اقدامات کئے جائیں تا کہ متاثرہ علاقوں کے عوام میں پایا جانے والا احساس محرومی کا خاتمہ ہو سکے ۔

مورخہ 20نومبر2015ء بروزجمعہ

خیبر پختونخوا کی پولیس کو مثالی بنانے کا عمران خان کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا، ’میاں افتخار حسین ‘
شہید سیدامداد علی شاہ کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار نہ کیا گیاتواے این پی اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی
جب سے پی ٹی آئی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پشاور میں اے این پی کے کارکن سیدامداد علی شاہ کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ جی ٹی روڈ پر شہید سید امداد علی شاہ کے قتل کے خلاف کرائے گئے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہاہے کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے اور خیبر پختونخوا کی پولیس کو مثالی پولیس بنانے کا عمران خان کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہو گیا ہے ،اُنہوں نے مزید کہا کہ جب سے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اے این پی کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن گئی ہے لیکن ان تمام واقعات کے باوجود آج تک کسی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شہید سیدامداد علی شاہ کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے ورنہ اے این پی اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی اور عوام اپنے حقوق اور جان و مال کے تحفظ کیلئے خود میدان میں نکلیں گے ۔
دریں اثناء شہید کے لواحقین اور پارٹی کارکنوں نے واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے لاش جی ٹی روڈ پر رکھ کر ایک مظاہرہ کیا جس کے دوران لواحقین کارکن اس موقع پر حکومت کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔

مورخہ 20نومبر2015ء بروزجمعہ

تیز رفتار ڈیجیٹل میٹرز عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش ہے ۔ ایمل ولی خان
خیبر پختونخوا سستی بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے ، تاہم بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ عوام پر بجلی بن کر گر رہا ہے
بجلی کی تمام مین لائنیں بوسیدہ ہو چکی ہیں جو کسی بھی نا کوشگوار واقعے کا سبب بن سکتی ہیں۔ حکومت فوری اقدامات کرے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ بجلی کے تیز رفتار ڈیجیٹل میٹرز لگا کر عوام کی جیبوں پر ایک بار پھر ڈاکہ ڈالنے کی سازش کی گئی ہے جس کے خلاف صوبے کے عوام بھرپور مزاحمت کرینگے ۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نئے ڈیجیٹل میٹرز کی رفتار پرانے میٹرز سے 40فیصد زیادہ ہے اور زبر دستی ان میٹرز کی تنصیب سے عوام ذہنی کوفت کا شکار ہیں اور اب وہ انہیں لوٹنے والوں سے جان چھڑانے کے درپے ہیں ، انہوں نے صوبہ بھر میں جاری لوڈ شیڈنگ پر بھی انتہائی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبے میں پانی سے انتہائی سستی بجلی پیدا کی جارہی ہے لیکن وہی بجلی خیبر پختونخواکے عوام پر مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ عروج پر ہے جبکہ خیبر پختونخوا سب سے سستی بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ عوام پر بجلی بن کر گر رہا ہے ، جس کی وجہ غریب خودکشیوں پر مجبور ہیں ، انہوں نے کہا کہ کسان طبقہ مہنگی بجلی کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہا ہے اور زراعت کا شعبہ تباہی کی جانب سے گامزن ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس جانب بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے ، کیونکہ اس سنگین مسئلے کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی مشکلات میں کمی کیلئے فوری اقدامات کرے ، ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ بجلی کی تمام مین لائنیں بوسیدہ ہو چکی ہیں جو کسی بھی نا کوشگوار واقعے کا سبب بن سکتی ہیں،لہٰذا اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ مستقبل میں کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

مورخہ 20نومبر2015ء بروزجمعہ
* نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر من و عن عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے ’ اسفندیار ولی خان‘
* پشتون دہشتگرد نہیں ہیں زیادہ تر دہشتگرد دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب سے گرفتار ہو رہے ہیں۔
* ملک و قوم کے مفاد کی خاطر قربانی دینے والے آئی ڈی پیزکے گھر بار اور کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔
* حکومت ان کی دوبارہ بحالی اور باعزت واپسی کو فوری طور پر یقینی بنائے۔
* وزیر اعظم کی کھانے اور ملاقات کی دعوت اس شرط پر قبول کی ہے کہ وہ پشتون علاقوں میں صنعتی بستیوں کے قیام کا اعلان کرینگے۔
* احتساب کے کبھی مخالف نہیں رہے لیکن احتسابی اداروں کو غیر جانبداری اور شفافیت کو یقینی بنانا ہو گا۔
* احتسابی اداروں کے ذمہ داران اگر حکومتی پارٹیوں کے کارکن بن کر مخالفین کی پگڑیاں اُچھالیں گے تو پھر اے این پی اسی طرح جواب دے گی۔
* اے این پی کے پرانے اور نظریاتی ناراض کارکنوں کو ہر صورت منا کر فعال کریں گے۔
* ضیا ء اللہ آفریدی کو مانسہرہ اور تنگی میں معدنیات کی قیمتی کانیں جہانگیر ترین کو نہ دینے پر گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی ، صوبوں کے ساتھ امتیازی سلوک ، آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی اور کاریڈور کا معاملہ ملک کے سنگین مسائل ہیں جن کے حل سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام مشروط ہے اور اگر حکمرانوں نے ان مسائل پر توجہ نہیں دی تو حالات مزید ابتر اور تشویشناک ہو جائیں گے۔ یوسی خانمائی ضلع چارسدہ میں ممتاز سیاسی ، سماجی شخصیت حاجی ہدایت اللہ خان آف گل آباد اور ان کے سینکڑوں ساتھیوں کی اے این پی میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پشتونوں کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کی آڑ میں بدنام کرنے کا وہ رویہ اپنایا گیا ہے وہ نامناسب ہے حالانکہ جتنے بھی دہشتگرد گرفتار ہو رہے ہیں اکثریت کا تعلق دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب سے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیاجائے اور اس کے تمام نکات پر عمل درآمد کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ لاکھوں آئی ڈی پیز اب بھی بدترین حالات سے دو چار ہیں ان کا کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور ان کی بحالی ، واپسی کے اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ پشتون خواتین کو قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے اور واپسی ، بحالی میں تاخیر نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اور بحالی کو اس طریقے سے یقینی بنایا جائے جس طرح ہم نے ملاکنڈ ڈویژن کے متاثرین کو بھجوا دیا تھا۔
اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے وزیر اعظم کی جانب سے ان سے کیے گئے رابطے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے ملاقات اور کھانے کی د عوت میں شرکت کو اس بات سے مشروط کر دیا ہے کہ وزیر اعظم پشتون علاقوں میں صنعتی بستیوں کے قیام کا باقاعدہ اعلان کریں گے اور اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ جو فیصلے اے پی سی میں کیے گئے تھے ان پر پوری طرح عمل ہوگا۔
احتساب کے عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن غیر جانبداری اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا شبہ احتساب کا عمل جاری رکھے کیونکہ بلا امتیاز احتساب کے حامی ہے ۔ تاہم اگر احتسابی ادارے حکومتی پارٹی یا کارکنوں کی حیثیت سے انتقامی کارروائیاں کرے گا یا دبانے اور پگڑیاں اُچھالنے کی روش پر عمل پیرا رہے تو پھر ہم بھی سیاسی ورکروں کی حیثیت سے جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ضیاء اللہ آفریدی کو محض اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ اُنہوں نے پی ٹی آئی کے مرکزی لیڈر جہانگیر ترین اور اس کے گروپ کو مانسہرہ ، تنگی اور بعض دیگر علاقوں میں معدنیات کے ٹھیکے اور لیز دینے سے انکار کیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ نے چارسدہ آ کر کونسے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس سے علاقے کی ترقی یا خوشحالی میں مدد ملے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ موجودہ حکومت نئے منصوبوں کی بجائے ان منصوبوں پر تختیاں لگانے میں مصروف ہے جن کا آغاز اے این پی نے کیا تھا۔
اے این پی کے مرکزی سربراہ نے اس موقع پر مزید کہا کہ تحریک کے دیرینہ ، نظریاتی اور ناراض کارکنوں کو ہر صورت میں منا کر ان کی فعالیت کو یقینی بنانے کیلئے وہ خود اپنا کردار ادا کرینگے اور پارٹی کو مزید فعال بنانے کیلئے تمام اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بدلتے اور نازک حالات میں قوم اور خطے کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر اے این پی چارسدہ کے صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ اور ہدایت اللہ خان نے بھی خطاب کیا جبکہ پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

مورخہ : 19 نومبر 2015 بروز جمعرات

* دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے مستقل قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے ’’ سردار حسین بابک‘‘
* قوم کو بتایا جائے کہ 20 نکاتی پلان کے جن نکات پر عمل نہیں ہوا ان کی راہ میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں۔
* تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود بعض نکات تاحال اقدامات کے منتظر ہیں۔
* مرکزی و صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ادارے پلان کے اقدامات اور نتائج سے قوم کو آگاہ کریں۔
* عوام مزید بدامنی یا دہشتگردی کی بوجھ، اثرات کو برداشت کرنے کے مزید متحمل نہیں رہے۔
* حکومتیں اور ادارے دہشتگردی کے خلاف قوم کی یکسوئی اور اتفاق رائے سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ضائع نہ کریں۔
* ملکی تاریخ میں پہلی بار عوام ، ان کی قیادت اور ادارے دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں اس سے فائدہ اُٹھایا جائے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح اور ضرورت کے مطابق عمل درآمد کو دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے مستقل قیام کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پلان پر قومی اتفاق رائے کے تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود بہت سے نکات ایسے ہیں جن پر عمل ہونا تاحال باقی ہے اور قوم اب بھی تشویش اور عدم تحفظ کی صورتحال سے دوچار ہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ امن کے مستقل قیام اور دہشتگردی کی جڑیں ختم کرنے کیلئے مؤثر اور تیز ترین اقدامات سے پاکستان کی سلامتی اور عوام کا مستقبل وابستہ ہے تاہم مشاہدے میں آرہا ہے کہ 20 نکاتی پلان کے تقریباً نصف نکات ایسے ہیں جن پر یا تو عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے یا ان پر اقدامات کی رفتار سست یامبہم ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں سمیت دیگر متعلقہ ریاستی ادارے قوم کو بتائیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر ابھی تک کتنا عمل ہوا ہے اور اس کے کیا نتائج اور اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ بھی بتایا جائے کہ جن نکات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ان کی راہ میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں اور ایسے اقدامات کیونکر نہٰں اُٹھائے جا رہے جن کے باعث ملک سے دہشتگردی اور اس کے کوف کو ختم کیا جائے۔
اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے اقدامات کی رفتار تیز کرنے کیلئے لازمی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر ، مشترکہ طور پر کارروائیوں کا جائزہ لیا کریں اور پڑتال ، مانیٹرنگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ قوم کو دہشتگردی سمیت دیگر بے پناہ مشکلات نے کئی برسوں سے بری طرح جکڑ ا ہوا ہے اور عوام ہر صورت میں امن کا قیام اور دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں کیونکہ ان کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے۔ اور وہ نیشنل ایکشن پلان کے نتائج اور اثرات کے منتظر ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی اور ریاستی اتفاق رائے کے ذریعے پلان پر سنجیدگی اور تیز رفتاری کے ساتھ عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ہونیوالی پیش رفت سے سیاسی قوتوں اور عوام کو آگاہ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومتوں اور اداروں کیلئے لازمی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف قوم کی یکسوئی اور اتفاق رائے سے فائدہ اُٹھانے کا وقت ضائع نہ کیا جائے کیونکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عوام ، ان کی قیادت اور ادارے دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں اس لیے اس سے فائدہ اُٹھایا جائے۔

مورخہ : 19 نومبر 2015 بروز جمعرات

عمران خان کے جلسے کیلئے سکولوں کی بندش قابل مذمت رویہ ہے ’’بیرسٹر ارشد عبداللہ ‘‘ صدر اے این پی ضلع چارسدہ
سیاسی روایات سے نابلد پی ٹی آئی بدترین مثالیں قائم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
سکولوں سے لوگوں ، طلباء کو زبردستی نکالنے سے ثابت ہوا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی مقبولیت کھو چکی ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) اے این پی کے ضلع چارسدہ کے صدر اور سابق صوبائی وزیر بیرسٹر ارشد عبداللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کے چارسدہ جلسے کیلئے سکولوں کی زبردستی بندش اور بچوں کو سکولوں سے نکالنے کا شرمناک اقدام اٹھا کر نئے پاکستان کے عمران خان کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے اور عوام جان چکے ہیں کہ پی ٹی آئی نہ صرف سیاسی روایات سے نابلد ہے بلکہ اس کی قیادت بدترین مثالیں قائم کرنے پر بھی تلی ہوئی ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق ارشد عبداللہ نے کہا ہے کہ مسلح اور ڈنڈا بردار پی ٹی آئی کارکنوں نے جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے سکولوں پر چڑھائی کر کے ایک شرمناک روایت کی بنیاد رکھ دی ہے اور یہ طریقہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نام نہاد تبدیلی کے دعویدار عوام میں اپنی ساکھ اور مقبولیت کھو چکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سکولوں کے اساتذہ ، سٹاف اور طلباء کے ساتھ چارسدہ میں جو سلوک کیا گیا ماضی کی ہماری سیاسی تاریخ میں اُس کی مثال نہیں ملتی ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اپنے دعوؤں کے مطابق تعلیم کے فروغ کیلئے مزید مثبت اقدامات اُٹھاتی اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا مگر تبدیلی کے دعویداروں نے جلسے کی کامیابی کیلئے سکولوں اور دیگر سرکاری اداروں پر ہلہ بول کر سیاست سے لوگوں کو متنفر کرنے کا اقدام اُٹھایا جس کی شدید مذمت کی جانی چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر ڈنڈابردار کارکن یونہی سرکاری اور تعلیمی اداروں سے لوگوں ، طلباء کو نکالتے رہے تو اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہونگے اور اس کی ذمہ داری یقیناً پی ٹی آئی اور اس کی حکومت پر عائد ہوگی۔

مورخہ : 19 نومبر 2015 بروز جمعرات

صوبائی حکومت نظام چلانے میں نا اہل ثابت ہو چکی ہے ’’ ہارون بشیر بلور ‘‘
نادار مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی روکنا حکومت کی غریب کش پالیسی کا حصہ ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ تبدیلی کے دعویدار صوبائی حکومت نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک اخباری بیان میں اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے تینوں بڑے ہسپتالوں میں غریب اور نادار مریضوں کی مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ بند کر کے موجودہ حکومت نے اپنی نا اہلی ثابت کر دی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے میں صوبائی حکومت نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں جبکہ متاثرین زلزلہ اس سردی میں کھلے آسمان کے نیچے سسک سسک کر جی رہے ہیں، اُن سے جینے کا حق بھی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے تینوں بڑے ہسپتالوں کو زندگی بچانے والی ادویات کی فراہمی ٹاسک اگر اہل افراد کو دیا جاتا تو آج ہسپتالوں کی حالت اتنی ابتر نہ ہوتی، محکمہ صحت کی حکومتی پالیسی کو انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت میں نظام چلانے کی قابلیت سرے سے ہے ہی نہیں اور بوکھلاہٹ میں عوامی مسائل کے حل کے بجائے عوام کو ذلیل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

مورخہ : 19.11.2015 بروز جمعرات

جلسے میں سکول کے بچوں کو زبردستی بٹھانا پی ٹی آئی کی عدم مقبولیت کا ثبوت ہے ’’ سنگین خان ایڈوکیٹ ‘‘
پی ٹی آئی اور اس کی حکومت نے صوبے کی روایات اور سیاسی کلچر کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے چارسدہ میں عمران خان کے جلسے کیلئے سکولوں سے زبردستی بچوں کے نکالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تبدیلی کے دعویدار سیاسی مداری روایات اور اخلاقیات کو پاؤں تلے روند رہے ہیں جس سے صوبے کی سیاسی کلچر کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے باوجود بھی جلسوں کیلئے بچوں کو زبردستی سکولوں سے نکالنا عمران خان اور صوبائی حکومت کی غیر مقبولیت کی واضح مثال ہے اور یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئی ہے۔
اُنہوں نے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں اور منفی طرز عمل نے نہ صرف یہ کہ صوبے کے سیاسی کلچر اور روایات کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ اس سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی اور ان کی حکومت عوام میں اپنی مقبولیت اور ساکھ کھو چکی ہے۔

مورخہ 19نومبر2015ء بروزجمعرات
حکومت نے ڈینگی کا سدباب اور مریضوں کا علاج نہ کیا تو مزاحمت کریں گے، ارباب طاہر خان
9اموات سمیت 350افراد ڈینگی کا شکار ہوئے مگر حکومت کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہی
پشاور کے درجن شہریوں کا پشاور میں حکومت کے خلاف مظاہرہ، ارباب طاہر خان کی حکومت کو دھمکی
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے میں بڑھتے ہوئے ڈینگی کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی نا اہلی قرار دیا ہے اور صوبائی حکومت کو دو دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈینگی پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات نہ کئے گئے تو اے این پی اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل نے پریس کلب کے سامنے ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے خلاف ایک مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر ارباب داؤد خان ، انور خان ، اجمل خان ،اسرار خان سمیت پارٹی کے سینکڑوں کارکن بھی موجود تھے ،مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈینگی کے خاتمے اور صوبائی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے ، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ارباب محمد طاہر خان خلیل نے کہاکہ ہمارے صوبے کو بالعموم اور پشاور کو بالخصوص ڈینگی وائرس نے گزشتہ کئی ماہ سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اب تک سینکڑوں افراد اس خطرناک اور جان لیوا مرض کا شکار ہو چکے ہیں ، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ میڈیا کی مسلسل رپورٹس اور مریضوں ، اموات کی خبروں کے باوجود صوبائی حکومت نے مکمل لاتعلقی اور خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور اس موذی مرض کے سدباب کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جا رہے اسی غفلت کا نتیجہ ہے کہ یہ خطرہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور اموات اور مریضوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 2ماہ کے عرصے میں 350سے زائد شہری اس وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ صرف پشاور کی سطح پر 9اموات بھی ہوئی ہیں جن میں 4افراد تہکال کے شامل ہیں ، پشاور کے علاقے تہکال اور تپہ خلیل کے مریضوں کی تعداد200 کے لگ بھگ ہے۔ہمارے مسلسل رابطوں اور مطالبات کے باوجود صوبائی حکمران اور ان کے متعلقہ ادارے مریضوں کی صحت یابی علاج ،امداد اور وائرس کے سدباب کیلئے عملاً کوئی اقدام نہیں اٹھا رہے اور اب بھی سینکڑوں افراد بہتر علاج اور امداد کے منتظر ہسپتالوں میں بے سرو سامانی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں ، اسی طرح کانگو وائرس سے بھی متعدد بری طرح متاثر ہوئے ہیں ، حالت یہ ہوگئی ہے کہ حکمران جماعت کے بعض عہدیدداران نے اپنی ہی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رکھی ہے ،انہوں نے مطابہ کیا کہ حکومت ڈینگی کی پیشگی روک تھام میں اپنی نااہلی کا اعتراف کر کے متاثرین سے معافی مانگے ۔اور ایمرجنسی نافذ کر کے فوری اور ہنگامی اقدامات کر کے متاثرین کی داد رسی کرے ، ان کو مفت اور بہتر علاج مہیا کرے تا کہ مزید جانی نقصان سے علاقے اور پورے صوبے کو بچایا جا سکے ساتھ میں اس کے مکمل سدباب کا بھی انتظام کیا جائے ۔اس کے ساتھ ساتھ جن لوگوں کی ڈینگی کے باعث اموات ہوئی ہیں ان کے ورثاء کو کم از کم 20لاکھ روپے امداد دی جائے کیونکہ یہ اموات حکومتی نا اہلی سے واقع ہوئی ہیں ۔ مریضوں اور متاثرین کو فوری طور پر کم از کم 50 ہزار روپے ادا کئے جائیں تا کہ وہ اپنا علاج کرا سکیں اور حکومتی سہولیات کی عدم فراہمی سے ان پر جو مالی بوجھ آن پڑا ہے اس کی تلافی کی جا سکے ۔

مورخہ19نومبر 2015ء بروز جمعرات

مکتب سکولوں کی بندش صوبائی حکومت کا تعلیم کش اقدام ہے۔ امتیاز وزیر

پشاور ( پ ر )پختون ایس ایف کے مرکزی چیئرمین امتیاز وزیر نے صوبائی حکومت کی طرف سے مکتب سکولوں کی بندش کو طلبہ دشمن اور تعلیم کُش اقدام قرر دیتے ہوئے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ امتیاز وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت نئے تعلیمی اداروں کے قیام میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی جبکہ پُرانے تعلیمی اداروں کو بند اور ناکام بنانے پر تُلی ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت کے تعلیمی ایمرجنسی کا مطلب خیبر پختونخوا اور فاٹا کے غریب طلبہ پر تعلیم کے دروازے بند کرنا نہیں ہونا چاہیئے۔ صوبائی حکومت بتائے کہ تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد صوبہ میں کتنے نئے سکول، کالجز اور یونیورسٹیز بنائے گئے۔
امتیاز وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ناکام تجربات اور تعلیم کُش اقدامات کے ملبے تلے خیبر پختونخوا اور فاٹا کے غریب طلبہ دب گئے ہیں۔ لہٰذا حکومت کے خلاف منظم احتجاجی تحریک کو چلانا نا گزیر ہو گیا ہے تاکہ غریب طلبہ اور تعلیمی اداروں کو بچایا جا سکے۔

مورخہ 19نومبر2015ء بروزجمعرات

وزیر اعظم اکنامک کوریڈور کو متنازعہ بنانے والے وزراء کو لگام دیں، زاہد خان
اے این پی مغربی روٹ پر صنعتی زونز کے آغاز تک کسی حکومتی وعدے پر یقین نہیں کرے گی
پارٹی کا مغربی روٹ پر کام شروع کرنے کے وعدے پر عمل نہ کرنے تک کسی بھی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری مرکزی اطلاعات سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ اے این پی نے آل پارٹیز کانفرنس میں وزیر اعظم کی طرف سے مغربی روٹ پر کام شروع کرنے کے وعدے پر عمل نہ کرنے تک پاک چین اقتصادی راہداری پر بریفنگ اور کسی بھی اجلاس میں شرکت سے مشروط کر دیا ہے ، یہ بات انہوں نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی ورٹ پر بریفنگ کیلئے عوامی نیشنل پارٹی سے رابطہ کرنے پر کہی ۔ زاہد خان نے پا رٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی طرف سے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے ملک بھر کے پسماندہ علاقوں کو فوائد حاصل ہوں گے۔لیکن قوم کا یہ سوال اپنی جگہ سچا اور درست ہے کہ مشرقی روٹ پر کئی منصوبوں کا افتتاح کیا جا رہا ہے ۔جب تک مغربی روٹ پر توانائی منصوبوں اور صنعتی زونوں کے منصوبوں کے کام کا آغا ز نہیں کیا جاتا اسوقت تک عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی حکومتی وعدے پر یقین نہیں کر سکتی۔زاہد خان نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ قوم کو تقسیم کرنے ،حکومت کو بدنام کرنے اور پاک چین اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنانے والے وزراء کی زبان بندی کرائیں۔وفاقی وزیر احسن اقبال کے بیانات ،غلط فہمیاں پھیلانے والے ہیں۔زاہد خان نے مزید کہا ہے کہ انگریز کے خلاف عملی جدوجہد کرنے اور پاکستان کی حفاظت کیلئے کردار ادا کرنے والوں کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

مورخہ 19نومبر2015ء بروزجمعرات

امیر حیدر خان ہوتی کا مردان کے قریب ٹریفک حادثے پر اظہار افسوس
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے مردان کے قریب ٹریفک حادثے میں تین طلباء کی ہلاکت پر گہرے رنج وغم اورلواحقین سے دلی ہمدر دی کا اظہار کیا ہے،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی غمزدہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے صوبائی ھکومت سے مطالبہ کیا کہ غمزدہ خاندان کے ساتھ مالی امدادکے ساتھ ساتھ ان کی داد رسی بھی کی جائے ، امیر حیدر خان ہوتی نے جاں بحق ہونے والے طلباء کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی ۔

مورخہ 18نومبر2015ء بروز بدھ

صوبائی حکومت نے قانون سازی کو سیاسی مقاصد کے حصول کی مشین بنائی ہوئی ہے ’’ سردار حسین بابک ‘‘
لوکل باڈیز ایکٹ اور احتساب کمیشن کے قوانین میں مسلسل ترامیم لانا منفی حکومتی ہتھکنڈوں کا اظہار ہے۔
صوبائی حکومت ترامیم اور قوانین کے ذریعے اپنی ناکامیوں اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کی روش پر عمل پیرا ہے۔
قوانین اور ترامیم کے ذریعے صوبے کے مفادات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا تو منفی نتائج برآمد ہونگے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت لوکل گورنمنٹ بل سمیت پچھلے ڈھائی سال میں تمام قوانین اور اصلاحات میں روزانہ کی بنیاد پر ترامیم لا کر صوبے میں قانون سازی کے طریقہ کار کو مذاق بنا کر اپنی نا اہلی اور نامناسب رویے کی گواہی دے رہی ہے اور اُنہوں نے صوبے کو تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنی نام نہاد عددی اکثریت کی بنیاد پر اسمبلی سے قوانین پاس کرنے کی مشین بنی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً اے این پی نے صوبائی اسمبلی اور اس کے باہر قوانین کے اس طریقہ کار اور روش کو صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی اور روایات کے برعکس قرار دیکر اس کی مزاحمت کی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر صوبائی حکومت قوانین میں ترامیم لا کر ان کو نہ صرف اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش پر عمل پیرا ہے بلکہ قوانین کو صوبے کے عظیم تر مفاد کی بجائے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے درپے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے تقریباً تمام قوانین ابتداء ہی میں ماہرین اور سول سوسائیٹی کی جانب سے عدالتوں میں چیلنج کیے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو زیادہ سے زیادہ اور من پسند قوانین پاس کرنے کی بجائے پارلیمانی روایات ‘ مشاورت اور مجوزہ طریقہ کار کے تحت اسمبلی سے پاس کرنے کی روش اپنانا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ قوانین صوبائی اسمبلی ضرور بناتی ہے تاہم اس کیلئے صوبے کے مفاد کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے موجودہ حکومت قوانین کو اپنا اختیار سمجھ کر ان کا حلیہ بگاڑ نے پر تلی ہوئی ہے جس کے نقصانات اور منفی نتائج مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ قوانین میں ترامیم کی گنجائش اور ضرورت ہر وقت رہتی ہے۔ مگر ابتدائی مرحلوں میں ترامیم لانا اور پھر عدالتوں میں ان کا چیلنج ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ طریقہ کار میں کمزوریاں اور نقائص ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ لوکل باڈیز ایکٹ اور احتساب کمیشن کے طریقہ کار میں روزانہ کی بنیاد پر ترامیم لانا حکومتی بدنیتی اور سیاسی مقاصد کے منفی ہتھکنڈوں کا کھلا اظہار ہے جس کیلئے عوام ان کو معاف نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صوبائی اسمبلی جیسے منتخب جرگے کو پرائمری سکول کی حیثیت دے رکھی ہے جس سے نہ صرف ممبران اسمبلی کا استحقاق مجروح ہو رہا ہے بلکہ اس سے عوام کی نظروں میں اسمبلی کی وقعت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور عوام کا اسمبلی پر اعتماد اُٹھنے لگا ہے۔

مورخہ 18نومبر2015ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مرحوم ارباب ایوب جان پارٹی اورصوبے کے عوام کا قیمتی سرمایہ تھے اور ان کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرحوم ارباب محمد ایوب جان کی رہائش گاہ پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر اے این پی ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم خان اور ارباب سعد اللہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے ،انہوں نے کہا کہمرحوم ایک اعلیٰ پایۂ کے سیاستدان تھے اُن کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں مرحوم پارٹی کیلئے قومی سرمایہ تھے اوراُن کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء شاید ہی کبھی پر ہو سکے گا ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرحوم کے بیٹے ارباب عثمان اور ان کے خاندان کے دیگر افراد مرحوم ارباب ایوب جان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اے این پی کیلئے اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ مرحوم نہ صرف ایک منجھے ہوئے تجربہ کار اور قابل سیاستدان تھے بلکہ عوامی سطح پر بھی لوگ ان کی خدمات کے معترف ہیں ، انہوں نے مرحوم کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کرتے ہوئے ان کی مغفرت کیلئے دعا کی۔

مورخہ 18نومبر2015ء بروز بدھ

تمام ریاستوں کو دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا، اسفندیار ولی خان
اے این پی دہشتگردی میں ہلاک فرانس کے عوام کے دکھ کو سمجھتی ہے، ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے
پارٹی رہنماؤں کا فرانسیسی سفارتخانے کا دورہ ، اے این پی اور اسفندیار ولی خان کی جانب سے تعزیتی کلمات تحریر کئے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر ،مرکزی مجلس عاملہ کے رکن افراسیاب خٹک اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خان فرانسیسی سفارتخانے گئے اور وہاں تعزیتی کتاب میں پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور اے این پی کی جانب سے فرانس کے عوام اور وہاں کی حکومت کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے تعزیتی کلمات تحریر کئے ، اے این پی کے وفد نے فرانسیسی سفارتکاروں کو بتایا کہ اے این پی دہشتگردی میں مارے جانے والے فرانس کے عوام کے دکھ کو سمجھتی ہے کیونکہ اے این پی کے لاتعداد لیڈرز اور کارکن دہشتگردوں کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ تمام ریاستوں کو دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے، اے این پی کے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف ممالک کے عوام کے بیچ یکجہتی اور دوستی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے کیونکہ دہشتگرد یہی چاہتے ہیں اور دنیا کے ممالک اور عوام کے درمیان نفرت کے بیج بونا ہی ان کا ایجنڈا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان ، افغانستان ، فرانس اور دنیا کے دیگر ممالک کے عوام اور حکومتیں دہشتگردی کے عفریت کو ختم کرنے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف عزم مصمم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

مورخہ 18نومبر2015ء بروز بدھ

تمام ریاستوں کو دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا، اسفندیار ولی خان
اے این پی دہشتگردی میں ہلاک فرانس کے عوام کے دکھ کو سمجھتی ہے، ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے
پارٹی رہنماؤں کا فرانسیسی سفارتخانے کا دورہ ، اے این پی اور اسفندیار ولی خان کی جانب سے تعزیتی کلمات تحریر کئے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر ،مرکزی مجلس عاملہ کے رکن افراسیاب خٹک اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے مرکزی صدر خوشحال خان فرانسیسی سفارتخانے گئے اور وہاں تعزیتی کتاب میں پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور اے این پی کی جانب سے فرانس کے عوام اور وہاں کی حکومت کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے تعزیتی کلمات تحریر کئے ، اے این پی کے وفد نے فرانسیسی سفارتکاروں کو بتایا کہ اے این پی دہشتگردی میں مارے جانے والے فرانس کے عوام کے دکھ کو سمجھتی ہے کیونکہ اے این پی کے لاتعداد لیڈرز اور کارکن دہشتگردوں کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ تمام ریاستوں کو دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے، اے این پی کے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف ممالک کے عوام کے بیچ یکجہتی اور دوستی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے کیونکہ دہشتگرد یہی چاہتے ہیں اور دنیا کے ممالک اور عوام کے درمیان نفرت کے بیج بونا ہی ان کا ایجنڈا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان ، افغانستان ، فرانس اور دنیا کے دیگر ممالک کے عوام اور حکومتیں دہشتگردی کے عفریت کو ختم کرنے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف عزم مصمم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

مورخہ 18نومبر2015ء بروز بدھ

ٹرین حادثے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں ، اسفندیار ولی خان
حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی صدمہ ہے ، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کوئٹہ سے راولپنڈی آنے والی جعفر ایکسپریس کے المناک حادثے پر دکھ اور افسوس اور واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے ،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی ، اسفندیار ولی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حادثے کی جلد از جلد تحقیقات کرائی جائیں اور محرکات کو عوام کے سامنے لایا جائے ، انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا اور ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔

مورخہ : 16 نومبر2015 بروز پیر

 حکومت قبائلی طلباء و طالبات کے تعلیمی کیرئیر کو داؤ پر نہ لگائے ’’ ایمل ولی خان ‘‘
ایچ ای سی کے قوانین کے مطابق حکومت آئی ڈی پیز طلباء کو مفت تعلیم کی فراہمی اور کوٹے میں مزید اضافہ کرے
اے این پی قبائلی طلباء کے حقوق کے حصول کی جنگ میں شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور پختون ایس ایف کے ایڈوائزر ایمل ولی خان نے وزیرستان کے ہزاروں طلباء طالبات کا ماہانہ وظیفہ بند کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت وزیرستان بشمول تمام قبائلی علاقہ جات کے طلباء و طالبات پر تعلیم کے دروازے بند کرنے سے گریز کرے۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی قوانین پر عمل پیرا ہو کر ملک کی تمام جامعات میں قبائلی علاقہ جات بالخصوص آئی ڈی پیز طلباء و طالبات کو مفت تعلیم کی فراہمی کا جو کوٹہ مقرر کیا ہے اُس پر عمل کیا جائے۔
اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی طلباء کے ساتھ یہ ناروا سلوک ختم کیا جائے اور ملک کی تمام درسگاہوں اور جامعات سمیت میڈیکل یونیورسٹیوں اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں ان کیلئے تعلیمی کوٹہ میں خاطر خواہ اضافہ کر کے ان کو مفت تعلیم فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی قبائلی طلباء کے ساتھ اس ظالمانہ اور ناروا سلوک پر خاموش نہیں رہے گی اور ان کے حقوق کے حصول کیلئے کسی بھی اقدام سے پیچھے نہیں ہٹے گی ۔ اُنہوں نے اس امر پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے قبائلی علاقہ جات کے غریب عوام ابھی تک انگریز جیسی غاصب قوت کے نافذ کردہ ایف سی آر جیسے کالے قانون کے ماتحت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقہ جات کے لاکھوں افراد سراپااحتجاج ہیں اور پاکستان میں اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ حقوق کے حصول کی جنگ میں عوامی نیشنل پارٹی ان کے شانہ بہ شانہ ہو گی۔

مورخہ : 16 نومبر2015 بروز پیر
فاٹا کا صوبے میں ادغام نہ صرف قبائل بلکہ پاکستان کے مستقبل کیلئے بھی ناگزیر ہے ’ میاں افتخار حسین ‘
* پشتونوں کے درمیان کھینچی گئی لکیروں میں سے ایک کے مٹانے کا مناسب وقت آ پہنچا ہے۔
جو عناصر قبائل کی حالیہ جدوجہد کی مخالفت کر رہے ہیں وہ فاٹا اور پشتونوں کے ساتھ دُشمنی کر رہے ہیں۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ تمام سیاسی قوتیں فاٹا کے حوالے سے اے این پی کی پالیسیوں کی تقلید کرنے لگی ہیں
جنگ زدہ فاٹا کو ایف سی آر اور سٹیٹسکو کے ذریعے چلانا اب ممکن نہیں رہا اسلام آباد کی فاٹا ریلی سے خطاب
* اے این پی کے اہم لیڈروں حاجی محمد عدیل ، افراسیاب خٹک ، عمران آفریدی ، عبدالنبی بنگش ، ستارہ ایاز، جمیلہ گیلانی ، بشریٰ گوہر ، شازیہ اورنگزیب ، عطاء اللہ خان ، ارم فاطمہ ، یاسمین ضیاء ، شہناز راجہ ، صدرالدین مروت اور متعدد دیگر کی شرکت۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ فاٹا کا صوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام نہ صرف یہاں کے عوام اور پشتونوں کے اتحاد اور امن کیلئے ضروری ہے بلکہ اس میں پاکستان اور خطے کا مفاد بھی پوشیدہ ہے تاکہ قبائلی کو مین سٹریم پالیٹکس اور قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے اور یہاں کے جنگ زدہ عوام کو وہ تمام حقوق اور اختیارات دئیے جائیں جو کہ دوسرے شہریوں کو حاصل ہے۔
اسلام آباد میں فاٹا سیاسی اتحاد کی عظیم الشان ریلی سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کے بارے میں اے این پی ابتداء ہی سے جس پالیسی اور موقف پر قائم رہی ہے یہ بات خوش آئند ہے کہ آج نہ صرف فاٹا کے عوام اور عوامی نمائندے بلکہ تمام جمہوریت پسند قوتیں ہماری ہم آواز بن گئی ہیں اور وہ اس جدوجہد میں اکھٹے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ فاٹا میں وسیع تر اور بنیادی اصلاحات نہ صرف یہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے بلکہ یہ پاکستان اور خطے کو پر امن اور مستحکم بنانے کیلئے بھی ناگزیر ہیں کیونکہ اس اہم علاقے کو فرسودہ قوانین اور سٹیٹسکو کے ذریعے مزید چلانا ممکن نہیں ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ جو عناصر اس جدوجہد کی مخالفت کر رہے ہیں وہ فاٹا کے عوام کیساتھ زیادتی اور ظلم کا مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ وہ قبائلی عوام اور پشتونوں کے اتحاد اور پاکستان کے مفادات کے بھی مخالف ہیں۔
اے این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم انگریزوں کھینچی گئی ان تمام لکیروں کے مخالف ہیں جو کہ اُنہوں نے اپنے مفاد کیلئے پشتونوں کو تقسیم کیلئے کھینچی تھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی فاٹا کے عوام کی اس جمہوری جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گی اور اس صبر آزما سفر میں کسی قسم کی قربانی ، جدوجہد سے گریز نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ آج فاٹا کے عوام اور ان کے نمائندوں کی پشت پر تقریباً تمام جمہوریت پسند قوتیں کھڑی ہیں اور اب قبائلی عوام اکیلئے نہیں ہے۔
دریں اثناء فاٹا ریلی میں اے این پی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ہزاروں کارکنوں کے علاوہ پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قائدین حاجی محمد عدیل ، افراسیاب خٹک ، عبدالنبی بنگش ، عمران آفریدی ، صدر الدین مروت ،نثار مہمند ، گل افضل خان ، عطاء اللہ خان ، بشریٰ گوہر ، شاہ حسین شنواری ، شگفتہ ملک ، یاسمین ضیاء ، جمیلہ گیلانی ، شازیہ اورنگزیب ، ستارہ ایاز ، ارم طاہر ، شہناز راجہ اور متعدد و دیگر بھی شریک ہوئے۔

مورخہ 16نومبر2015ء بروز پیر
صوبے کے وسائل سیاسی رشوت اور اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم کئے جا رہے ہیں ، ہارون بشیر بلور
حکومت کی پالیسیوں سے صوبے کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور غربت میں کسی صورت کمی نہیں آئے گی۔
ملازم پیشہ افراد حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی،
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے وسائل کو صوبے کے مختلف اضلاع اور حصوں میں ضرورت اورغربت کی شرح کو دیکھتے ہوئے تقسیم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان مین پارٹی کے صوبائی ترجمان نے صوبے کے وسائل کو صوبائی حکومت کیجانب سے سیاسی رشوت اور حکومتی ممبران اسمبلی میں اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی اس پالیسی سے صوبے کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور غربت میں کمی نہیں آئے گی ، انہوں نے کہا کہ صوبائی ھکومت کو صوبے کے تمام اضلاع کو مشکلات اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے وسائل کی تقسیم کو یقینی بنانا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی حکومت کو بچانے کیلئے صوبے کے وسائل کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کر کے نا انصافی کر رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ صوبے میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے تمام ارکان ، وزیر مشیر اور پارلیمانی سیکرٹریز کی فوج ظفر موج بھرتی کر لی گئی ہے جس کا بوجھ صوبے کے مالی وسائل پر پڑ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن سے قبل یہ وعدہ کیا تھا کہ ہماری اپنی تعداد برابر نہ ہوئی تو اپوزیشن میں رہیں گے اور حکومت کیلئے کسی جما عت سے اتحاد نہیں کریں گے ، لیکن بعد ازاں معلوم ہوا کہ عمران خان ہر صورت اقتدار پر قبضہ کرنے اور اس کے لئے ہر حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے ، انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور زلزلے سے صوبے کے دور دراز علاقوں میں جو تباہی مچی ہے اس کیلئے حکومت نے ایک دن بھی اپنی کاروائی نہ روکی اور متاثرین کے دکھ درد میں شریک نہ ہو کر ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کیلئے حکومت کی جانب سے جزوی تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر کیلئے ایک لاکھ اور مکمل تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر کیلئے دو لاکھ روپے کی امداد انتہائی کم ہیں ، انہوں نے یاد دلایا کہ اے این پی کے دور حکومت میں 2010ء میں مکمل تباہ ہونے والے گھروں کا معاوضہ 6 ,6لاکھ روپے دیا گیا ،لہٰذا حکومت متاثرین کی امداد میں اضافہ کر کے ان کی داد رسی کرے اور اپنی ذمہ داری نبھائے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو خالی نعروں اور دعوؤں سے نکلنا ہو گا ، انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبے کے وسائل ، سیاسی رشوت اور اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے تو دوسری طرف فنڈز کا استعمال نہ کر کے بے روزگاری میں اضافہ کر دیا گیا ہے ، روزانہ کی بنیاد پر صوبے کے ملازم پیشہ افراد حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ،روزگار کی فراہمی کا وعدہ کرنے والی حکومت ملازم پیشہ افراد سے بھی روزگار چھین رہی ہے بلکہ صوبے کے تمام بڑے بڑے اثاثے اپنی پارٹی کے سرمایہ دار ٹولے کو اونے پونے بیچ رہے ہیں ، اے این پی کے رہنما نے کہا کہ صوبے کے عوام عمران خان اور اس کی صوبئی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور دن بدن لوگوں کو عمران خان اور ان کی پارٹی کے جھوٹے وعدے اور دعوے عوام پر آشکارا ہو رہے ہیں اور اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

مورخہ : 16 نومبر2015 بروز پیر

حکومت بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز کی عدم فراہمی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ’’ سردار حسین بابک ‘‘
طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بلدیاتی حکومتیں اور نمائندگان فنڈز کے حصول اور سکیموں سے محروم ہیں۔
حکومت نے اقرباء پروری ، مداخلت اور سیاسی وابستگی سے باز نہ آئی تو یہ نظام ناکامی سے دوچار ہو جائیگا۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں اور ان کے نمائندوں کیساتھ روا رکھے گئے سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی حکومتوں کو فوری طور پر ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائیں اور اس کام میں مزید تاخیر اور ٹال مٹول سے گریز کیا جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلدیاتی نمائندوں اور متعلقہ اداروں کو فنڈز کی فراہمی میں مسلسل تاخیر اور لیت و لعل سے کام لینے کی پالیسی پر گامزن ہے اور طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بلدیاتی ادارے اپنے متعین کردہ اختیارات اور فنڈز سے محروم ہیں جس کے باعث بلدیاتی نمائندے بے چینی کے علاوہ عوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور جس مقصد کیلئے یہ نظام متعارف کرایا گیا ہے اس کا حصول ممکن نہیں آ رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی نمائندے اپنے اپنے علاقوں کی ضروریات کے مطابق مسائل اور سکیموں کی نشاندہی کر کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کریں اور حکومت ان کو قانون کے مطابق فنڈز فراہم کرے تاکہ بلدیاتی نظام کے فوائد کو عوام تک پہنچایا جائے۔
اُنہوں نے مزید کہا ہے اگر حکومت فنڈز کی فراہمی میں مسلسل تعطل اور سیاسی وابستگی اقرباء پروری کی بنیاد پر اس کی فراہمی کی پالیسی پر عمل پیرا رہی تو اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے اور بلدیاتی نمائندے مزاحمت کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوں گے جس کے نتیجے میں پورا نظام ناکامی سے دوچار ہو جائیگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوگی۔ اُنہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ بلدیاتی اداروں میں سیاسی مداخلت سے گریز کر کے ان کو اپنا کام کرنے دیں۔

مورخہ 15نومبر2015ء بروز اتوار

قیام امن کیلئے اے این پی کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے، میاں افتخار حسین
مرحوم افضل خان لالہ نے سوات میں قیام امن کیلئے جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی
افضل خان لالہ پر جان لیوا حملے ہوئے تاہم وہ اپنی قوم کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کے خلاف ڈٹے رہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے اے این پی کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے جبکہ مرحوم افضل خان لالہ نے سوات میں قیام امن کیلئے جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں مرحوم افضل خان لالہ کی رہائش گاہ پر ان کے انتقال پر تعزیت کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر انہوں نے مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی اور ان کی قبر پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں ، میاں افتخار حسین نے مرحوم افضل خان لالہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور بد امنی کا شکار پختونوں کو مصائب سے نجات دلانے کیلئے ان کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کی قربانیاں اور خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے کئی بار افضل خان لالہ پر جان لیوا حملے بھی کئے تاہم وہ اپنی قوم کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کے خلاف ڈٹے رہے ،میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ہم باچا خان بابا کے فلسفہ امن کے پیروکار اور عوام کے بنیادی و انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے تاریخی جدوجہد کے وارث اور امین ہیں جبکہ اس جدوجہد میں بھی افضل خان لالہ کا سیاسی کردار اور قربانی شامل رہی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرحوم کی وفات پارٹی کیلئے ایک ایسا خلاء ہے جو شاید ہی کبھی پر ہو سکے گا ، انہوں نے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی ، اس موقع پر اے این پی سوات کے جنرل سیکرٹری رحمت علی خان ، بریگیڈیئر سلیم ، کرنل غفار اور عبدالجبار خان بھی موجود تھے

مورخہ 15نومبر2015ء بروز اتوار

امیر حیدر خان ہوتی کا یوسف جان اتمانزئی کے والد کے انتقال پر اظہارا فسوس
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے معروف صحافی یوسف جان اتمانزئی کے والد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ مرحوم کی وفات ان کے خاندان کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے ، انہوں نے غمزدہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے صبرجمیل کیلئے بھی دعا کی ۔

مورخہ : 15.11.2015 بروز اتوار
غریب عوام کو منا فع خوروں کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا گیاہے، سردار حسین بابک
صوبے میں مہنگا ئی کے عفریت نے پنجے گاڑھے ہو ئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت سب اچھا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہے
پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کا رکردگی عملی طور پرصفر ہے،اشیائے صرف دن بہ دن غریب عوام کی دسترس سے دور ہوتی جا رہی ہیں

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل وپا رلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبے میں بڑھتی مہنگائی پر تشوتش کا اظہارکرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی نا اہلی قرار دیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے صوبائی حکومت کی ناقص کار کردگی اور غریب کش پا لیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریب عوام نے حکمرانوں کو اس لئے مینڈیٹ نہیں دیا تھا کہ وہ ان کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ تک چھین لیں ؟انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے دعویدار اور ان کے حواری بنی گا لہ میں عیش و عشرت میں مصروف ہیں اور غریب عوام کو منا فع خوروں کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا گیاہے جو دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں۔مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں جنگل کا قانون رائج ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ حکومت کی قائم کردہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کا رکردگی عملی طور پرصفر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اب احمقو ں کی جنت سے نکل کر یہ حقیقت مان لینی چا ہئے کہ وہ عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور صوبہ میں اپنی نااہلی کے باعث بری طرح ناکا م ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں مہنگا ئی کے عفریت نے پنجے گاڑھے ہو ئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت سب اچھا ہے کی رٹ لگائے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی اپنے منافع خور چہیتوں کے ذریعے دونوں ہا تھوں سے لوٹنے کے در پے ہے ۔انہوں نے اس امر پر نہایت افسوس کا اظہا ر کرتے ہو ئے کہا کہ حکومت کی نا اہلی ونا تجربہ کا ری کے باعث روز مرہ کی اشیائے صرف دن بہ دن غریب عوام کی دسترس سے دور ہوتی جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں سبزیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ جا ری ہے ایسے لگتا ہے کہ حکمران غربت کی بجائے غریب کو ختم کرنے کے درپے ہیں ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے فیصلے جب تک بنی گالہ میں ہوتے رہیں گے حالات میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہنگائی پر قابو بانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں تا کہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں ،

مورخہ15نومبر 2015ء بروز اتوار

حکومت تعلیم دشمنی سے باز رہے ، ایک ہزارمکتب سکولوں کی بندش تعلیم پر وار ہے ، شازیہ اورنگزیب
تین سالہ دور میں حکومت کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہ کر سکی اور تعلیم عام کرنے کے دعوؤں اور وعدوں کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے
تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے اے این پی نے جو تاریخی کارنامہ سرانجام دیا حکومت کو اس کی تقلید کرنی چاہئے
تعلیم کے دروازے طلباء پر بند کرنا کسی مہذب قوم کو زیب نہیں دیتا تاہم اس سلسلے میں کام کرنے کی ضرورت ہے
اقدام سے نہ صرف ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا بلکہ شرح نا خواندگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گا
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی حکومت کی جانب سے ایک ہزار سے زائد مکتب سکولوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیم پر وار قرار دیا ہے ، اے این پی کے صوبائی رہنما اور سابق ایم پی اے شازیہ اورنگزیب نے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم دشمنی پر اتر آئی ہے اور اپنے تمام وعدوں سے انحراف کر رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ تین سالہ دور میں حکومت تعلیم کے حوالے سے کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہ کر سکی اور تعلیم عام کرنے کے دعوؤں اور وعدوں کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے،انہوں نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے اے این پی نے جو تاریخی کارنامہ سرانجام دیا حکومت کو اس کی تقلید کرنی چاہئے اور ہزاروں کی تعداد میں مکتب سکولوں کی بندش کی بجائے ان میں اصلاحات کیلئے کام کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کے دروازے طلباء پر بند کرنا کسی مہذب قوم کو زیب نہیں دیتا تاہم اس سلسلے میں کام کرنے کی ضرورت ہے،شازیہ اورنگزیب نے کہا کہ نوجوان نسل کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے،اور اس مقصد کیلئے اجتماعی سوچ اپنانا ہو گی ، انہوں نے کہا کہ ان حالات میں حقائق چھپانے سے معاملات خراب ہوں گے ، جبکہ طلباء پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مکتب سکولوں کی بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور طلباء پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی بجائے انہیں بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کیلئے مؤثر اور جامع پالیسی بنائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا بلکہ شرح نا خواندگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ مکتب سکولوں کا مقصد صرف تعلیم عام کرنا تھا تا کہ صوبے کا ہر بچہ علم حاصل کر سکے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے مکتب سکولوں کی بحالی کیلئے اقدامات کرے۔

مورخہ : 15.11.2015 بروز اتوار

باب خیبر فلائی اوور کی تعمیر میں مبینہ کرپشن کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں ’’ ستارہ ایاز ‘‘
منصوبے میں منظور نظر افراد کو نوازاگیا ہے مختص بجٹ سے تخمینہ کا تجاوز کرنا صوبائی حکومت کی بدنیتی ہے۔
حکومت کی نا اہلی کا پول کھل چکا ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والے گھپلوں کی باز گشت عوام تک پہنچ چکی ہے
منصوبے کی تکمیل میں مصروف فرم کو بھی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ، عوام کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹی جا رہی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے باب خیبر فلائی اوور کی تعمیر میں کئے جانے والے گھپلوں پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف تحقیقات کر کے انہیں سخت سزا دی جائے ، اے این پی سیکرٹر یٹ سے جاری ایک بیان میں پارٹی کی سینیٹر اور سابق صوبائی وزیر ستارہ ایاز نے کہا کہ صوبے میں واحد شروع کئے جانے والے میگا پراجیکٹ کا کل تخمینہ 1.5ارب روپے تھا تاہم اسے مقررہ وقت میں مکمل نہ کیا جاسکا اور اب اس منصوبے کا تخمینہ بڑھ کر 4ارب سے تجاوز کر گیا ہے جس کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ پختونخواپر عائد ہوتی ہے ، انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں مصروف فرم کو بھی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے کے واحد میگا پراجیکٹ میں بھی چہیتوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے ،ستارہ ایاز نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کی نا اہلی اور ناکامی کا پول کھل چکا ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والے گھپلوں کی باز گشت عوام تک پہنچ چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ منصوبے کو بغیر ٹینڈر کے مذکور فرم کو جاری کرکے کیپرا اور پیپرا قوانین کی دھجیاں اڑا ئی گئی ہیں جس سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صوبائی حکومت جنگل کے قانون پر عمل پیرا ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اُنہوں نے کہا کہ اس اضافی رقم سے اس طرح کے مزید دو فلائی اوورز بن سکتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مقررہ مدت میں فلائی اوور کو مکمل ہو جانا چاہیے تھا لیکن وزیر اعلیٰ نے اپنے صوابدیدی اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے عوام کے خون پسینے کی کمائی کوپانی کی طرح بہا دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ احتسابی ادارے اس مبینہ کرپشن کی فوری طور پرتحقیقات کرا ئیں اور اس میں ملوث کرپٹ عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

مورخہ : 15.11.2015 بروز اتوار
غریب عوام کو منا فع خوروں کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا گیاہے، سردار حسین بابک
صوبے میں مہنگا ئی کے عفریت نے پنجے گاڑھے ہو ئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت سب اچھا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہے
پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کا رکردگی عملی طور پرصفر ہے،اشیائے صرف دن بہ دن غریب عوام کی دسترس سے دور ہوتی جا رہی ہیں

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل وپا رلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبے میں بڑھتی مہنگائی پر تشوتش کا اظہارکرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی نا اہلی قرار دیا ہے ۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے صوبائی حکومت کی ناقص کار کردگی اور غریب کش پا لیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریب عوام نے حکمرانوں کو اس لئے مینڈیٹ نہیں دیا تھا کہ وہ ان کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ تک چھین لیں ؟انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے دعویدار اور ان کے حواری بنی گا لہ میں عیش و عشرت میں مصروف ہیں اور غریب عوام کو منا فع خوروں کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا گیاہے جو دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں۔مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں جنگل کا قانون رائج ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ حکومت کی قائم کردہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کا رکردگی عملی طور پرصفر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اب احمقو ں کی جنت سے نکل کر یہ حقیقت مان لینی چا ہئے کہ وہ عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور صوبہ میں اپنی نااہلی کے باعث بری طرح ناکا م ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں مہنگا ئی کے عفریت نے پنجے گاڑھے ہو ئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت سب اچھا ہے کی رٹ لگائے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی اپنے منافع خور چہیتوں کے ذریعے دونوں ہا تھوں سے لوٹنے کے در پے ہے ۔انہوں نے اس امر پر نہایت افسوس کا اظہا ر کرتے ہو ئے کہا کہ حکومت کی نا اہلی ونا تجربہ کا ری کے باعث روز مرہ کی اشیائے صرف دن بہ دن غریب عوام کی دسترس سے دور ہوتی جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں سبزیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ جا ری ہے ایسے لگتا ہے کہ حکمران غربت کی بجائے غریب کو ختم کرنے کے درپے ہیں ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے فیصلے جب تک بنی گالہ میں ہوتے رہیں گے حالات میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہنگائی پر قابو بانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں تا کہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں ،

مورخہ : 14.11.2015 بروز ہفتہ

سرکاری ملازمین اور اداروں کے ساتھ حکومت کا رویہ انتقام پر مبنی ہے ’’ ہارون بلور ‘‘
تعلیم اور صحت جیسے شعبے بدترین بدانتظامی اور عدم توجہی کا شکار ہیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے کہا ہے روزگار ،تعلیم اور صحت کو عام کرنے کا دعویٰ کرنے والی صوبائی حکومت ان شعبوں کی تباہی پر تلی ہوئی ہے اور حکومتی پالیسیوں سے لگ یہ رہا ہے کہ حکمران صوبے کے عوام سے انتقام لینے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ورکرز ویلفئیر بورڈ ، فرنٹیئر ایجوکیشن ، فاؤنڈیشن اور متعدد دیگر تعلیمی اداروں اور ان کے ملازمین کے ساتھ حکومت کا رویہ مجرمانہ اور انتقام پر مبنی ہے اور محسوس یہ ہو رہا ہے جیسے صوبائی حکمران جنگ زدہ صوبے کو اپنی نا اہلی کے ذریعے مزید پسماندگی کی طرف دھکیلنے کے درپے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ پختونخوا کو دیگر صوبوں کے برعکس کئی گنا زیادہ مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے تاہم موجودہ حکومت اپنے نام و نہاد دعوؤں کے برعکس عملی اقدامات کی بجائے اداروں کی مزید بربادی پر تلی ہوئی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ سرکاری ملازمین ، اداروں اور عوام کی شکایات اور بے چینی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے بدترین بدحالی اور عدم توجہی کا شکار ہیں اور حکومت وہ سہولیات بھی چھیننے میں مصروف ہیں جو کہ ان شعبوں کواے این پی کی حکومت دے چکی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے اور ملازمین جس عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں اس کے باعث صوبے کا سرکاری سسٹم ناکارہ ہو کر رہ گیا ہے جبکہ حکمرانوں کو ’’ اُٹھاؤ بٹھاؤ ‘‘ کی اپنی سرگرمیوں سے فرصت نہیں ہے۔
اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دیکر عوام کے علاوہ ملازمین میں پائی جانے والی بے چینی کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔

مورخہ : 14.11.2015 بروز ہفتہ

فرانس میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں’’ میاں افتخار حسین ‘‘
میاں افتخار حسین امریکہ اور انگلینڈ کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے
پشاور پہنچنے پر شاندار استقبال ، این وائی او اور پختون ایس ایف کے ورکرز نے گلدستے اور پھولوں کے ہار پہنائے
صوبہ بھر سے آئے ہوئے پارٹی اور ذیلی تنظیموں اور دیگر مختلف وفودسے باچا خان مرکز میں ملاقات کی۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین امریکہ اور انگلینڈ کے ڈھائی ماہ کے کامیاب دورے کے بعد گزشتہ روز وطن واپس پہنچ گئے۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک ‘ صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور خو شدل خان ‘سمیت صوبے بھر سے آئے اے این پی کی صوبائی ، ضلعی اورذیلی تنظیموں کے صوبائی اور ضلعی عہدیداروں و کارکنان اور پارٹی سیکرٹریٹ کے اہلکاروں اور دیگر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ این وائی او اور پختون ایس ایف کے کارکنان نے میاں افتخار حسین کو پھولوں کے گلدستے پیش کئے اور ہار پہنائے۔ اس موقع پر صدرالدین مروت ، یاسمین ضیاء ، منور سلطانہ ، ملک غلام مصطفی، سنگین خان ایڈوکیٹ اور دیگر صوبائی و مرکزی عہدیدار بھی موجود تھے۔ باچا خان مرکز میں آئے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اُن کا امریکہ اور برطانیہ کا دورہ خطے میں پختونوں کی سیاست اور فلاح و بہبود کے حوالے سے نہایت کامیاب رہا ۔ اُنہوں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ میں پارٹی تنظیموں اور پختون ڈیاسپورا کے تعاون سے اے این پی کے تنظیمی اُمور اور سیاسی فعالیت کیلئے اچھی سرگرمیاں ہوئیں اور دُکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اُنہوں نے راشد شہید فاؤنڈیشن کا دائرہ کار امریکہ اور برطانیہ تک بڑھایا ، اور امریکہ کے شہروں نیویارک ، واشنگٹن ، کیلیفورنیا سمیت لاس اینجلس اور برطانیہ میں برمنگھم ، نا ٹینگھم اور ساؤتھ ایمپٹن میں پارٹی کے تنظیمی اور سیاسی اُموربارے کافی سرگرمیاں کیں۔
اُنہوں نے فرانس میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی شدید مذمت کی، اُنہوں نے کہا کہ ہم امن کے داعی ہیں اور باچا خان بابا کے فلسفہ عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں لہٰذا بلاتفریق رنگ و نسل و مذہب بے گناہ انسانوں کے قتل ، بدامنی اور لاقانونیت کی پر زورمذمت کرتے ہیں۔اُنہوں نے امریکہ اور برطانیہ میں اے این پی کے عہدیداروں ، کارکنوں اور عام پختونوں اور پاکستانیوں کی طرف سے دی جانے والی بے پناہ محبت اور عزت افزائی پر اُن کادلی شکریہ ادا کیا۔

مورخہ 13نومبر2015ء بروز جمعہ
* پہلے ڈومورکی آوازیں باہر سے آ رہی تھیں اب ایسے مطالبات اندر سے بھی آنے لگے ہیں۔
* دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات نہیں کیے گئے تو خطہ بدترین جنگ کی لپیٹ میں آجائیگا۔
* کپتان حکومتی مک مکا اور یوٹرن کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں جس کی تازہ مثال کیو ڈبلیو پی کو دوبارہ شریک اقتدار بناناہے۔
* احتساب کے نام پر کسی کو بھی کردار کشی یا انتقامی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائیگی’شیخ کلے چارسدہ میں خطاب‘

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ملکی حالات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ڈو مور ‘‘ کی آوازیں پہلے باہر سے آرہی تھیں تاہم اب اس قسم کا مطالبہ ملک کے اندر سے بھی ہونے لگا ہے جو کہ اس جانب اشارہ ہے کہ پاکستان کو بیرونی چیلنجز کے علاوہ اندرونی عدم استحکام اور محاذ آرائی کا بھی سامنا ہے۔
چارسدہ کے علاقے شیخ کلے میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی اور ریاستی حالات د گردوں ہیں اور اب تو حالت یہ ہے کہ ڈومور کی جو آوازیں پہلے باہر سے آرہی تھیں اب وہ ملک کے اندر سے بھی آنے لگی ہیں جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک افغانستان میں استحکام اور امن نہیں آتا اور اس کے لیے لازمی ہے کہ دونوں ممالک اپنے اتحادیوں کے ہمراہ دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی مفاہمت کیلئے باہمی روابط اور اعتماد سازی پر فوری توجہ دیں ورنہ خطہ ایک بد ترین جنگ کی لپیٹ میں آ جائیگا جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان بھی بری طرح متاثر ہو گااور اس پس منظر میں فاٹا کے معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے حالات د گردوں ہیں اور اصلاح احوال کی کوئی مستقل یا سنجیدہ صورت نظر نہیں آرہی اس کو سنگین نوعیت کے اندرونی اور بیرونی چیلینجز کا سامنا ہے تاہم بحرانوں سے نکلنے کے اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خطے کے حالات اور متوقع علاقائی خطرات سے نکلنے کیلئے ٹھوس سیاسی اور ریاستی پالیسیاں اور اقدامات ناگزیر ہیں اور اس کے لیے سنجیدہ پالیسیوں ، بہتر سفارتکاری اور سیاسی مشاورت کی اشد ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور کے ایشو پر حکومت کی مہم اور غیر ذمہ دارانہ رویے سے فاٹا اور پختونخوا کے عوام تشویش میں مبتلا ہیں۔ تحریک انصاف کی پالیسیوں اور طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمارا صوبہ بدقسمتی سے ایک ایسی لیڈر شپ کے ہاتھ میں ہے جن کو نہ تو عوامی خواہشات ، درپیش چیلینجز اور روایات کا کوئی ادراک ہے اور نہ ہی ان میں معاملات چلانے کی صلاحیت موجود ہے اس کی تازہ مثال صوبائی حکومت کا وہ افسوسناک رویہ ہے جو کہ افغانستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کیساتھ اپنایا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کپتان مک مکا اور یوٹرن کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور قومی وطن پارٹی کو حکومت سے نکالنے اور اب دوبارہ شامل کرنے کا اقدام اس یوٹرن کی نئی مثال ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر کردار کشی اور انتقامی کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں اور کسی قیمت پر اس کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ان کے اپنے وزراء ، ممبران اسمبلی اور پارٹی لیڈر شپ کی جانب سے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا سامنا ہے تاہم عمران خان نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ دوسروں کے علاوہ اپنے وزراء اور ممبران کو بھی انتقام کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ سیاست اور صوبے کے مفادات کو انتقام کی بھینٹ چڑھائیں۔ جلسہ عام سے اے این پی چارسدہ کے صدر اور سابق صوبائی وزیر بیرسٹر ارشد عبداللہ نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ 13نومبر2015ء بروز جمعہ
* صوبائی حکومت اپنے دعوؤں کے برعکس صوبے میں تعلیم دُشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ’’ سردار حسین بابک ‘‘
* فرنٹئیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے طالبات کے 15 کالجز کی بندش قابل مذمت ہے۔
* فیصلے سے دس ہزار طالبات تعلیم جبکہ پانچ سو خواتین اساتذہ روزگار سے محروم ہو جائیں گی۔
* اے این پی نے اپنے دور حکومت میں طالبات کی تعلیم کیلئے 70 فیصد تعلیمی بجٹ مختص کر رکھا تھا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے فرنتیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر انتظام چلنے والے 15گرلز کالجز کی بندش کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیم دشمنی قرار دیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو صوبائی حکومت صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی لگا رکھی ہے جبکہ دوسری جانب اتنی بڑی تعداد میں کالجز کی بندش سمجھ سے بالاتر ہے ، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف 10ہزار سے زائد طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے بلکہ 500سے زائد کالج ٹیچرز بے روزگار ہو جائیں گی ، سردار حسین بابک نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر تعلیم کے شعبے کو فروغ دینے اور صوبے میں مزید سکول اور کالجز قائم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ صوبائی حکومت اس کے برعکس طالبات پر تعلیم کے دروازے بند کرنے پر تلی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں خواتین کی تعلیم کیلئے 70فیصد بجٹ مختص کر رکھا تھا جبکہ موجودہ دور میں اس شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی انہوں نے کہا کہ ہایئر ایجوکیشن کو مزید فعال بنا کر اس پر خصوصی توجہ دی جائے اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے مناسب اور ہنگامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ عدالت فرنتیئر ایجوکیشن کے کالجز کے حق میں اپنا فیصلہ دے چکی ہے اس کے باوجود پخہ غلام ، ہری پور اور زیدہ صوابی میں تین کالجز بند کیے گئے ہیں اور مزید کی بندش کی اطلاعات ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس رویے سے نہ صرف طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ سینکڑوں اساتذہ کی بیروزگاری بھی یقینی ہے حالانکہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ تعلیم کی ترقی اور روزگار کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں طالبات کی تعلیم کیلئے 70 فیصد تعلیمی بجٹ مختص کر رکھا تھا کیونکہ پارٹی کو طالبات کی تعلیم کی اہمیت کا احساس ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ان کی سرپرستی کر ے اور انہیں مزید مراعات دے کر انہیں گورنمنٹ کالجز کا درجہ دیا جائے اور ان کالجز میں فرائض انجام دینے والے اساتذہ کو مستقل کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں خواندگی کا تناسب تشویشناک حد تک کم ہے اور لازمی پرائمری تعلیم بدستور خواب بنی ہوئی ہے‘ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 5 سال سے 19 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد 7 کروڑ ہے جن میں صرف 27 فیصد اسکول یا کالج جاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کروڑوں بچے خصوصاً لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں ایک جانب اسکول جانے والے بچوں کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہے تو دوسری جانب تعلیم ادھوری چھوڑنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ لازمی پرائمری تعلیم کے مقاصد آج تک حاصل نہیں ہو سکے حالانکہ پہلی جماعت سے میٹرک تک تعلیم کی ذمہ داری ریاست کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے تعلیم کا شعبہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے عوام کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب اپنے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے 15سال سے چلنے والے ان کالجز کو بند کر کے بے روزگاری میں اضافہ کر رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جنگ زدہ صوبے کو تیز رفتار تعلیمی ترقی کی اشد ضرورت ہے خاص کر طالبات کی تعلیم معاشرے میں امن ، ترقی اور استحکام کیلئے ناگزیر ہے تاہم موجودہ حکومت اپنے دوعآں کے برعکس تعلیم دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے اگر حکومت ایسے اقدامات سے باز نہیں آئی تو اسکی شدید مخالفت اور مزاحمت کی جائے گی۔

مورخہ: 13.11.2015 بروز جمعہ

فاٹا کے متاثرین گھروں کی واپسی کو ترس رہے ہیں مگر حکومتیں خاموش ہیں
عوام کوزبانی جمع خرچ کی بجائے کسی قسم کا ریلیف نہیں ملا ’’ ملک مصطفی ‘‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں ، ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہو چکا ہے ، گرمیوں میں بجلی اور سردیوں کی لوڈ شیڈنگ سے عوام عاجز آچکے ہیں، ادارے مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور پشاور شہر میں ٹریفک کنٹرول بری طرح متاثر ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پی کے 4 کے منتخب ڈسٹرکٹ ٹاؤن جنرل کونسلروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ زبانی جمع خرچ اور بلند و بانگ دعوؤں کے علاوہ عوام کو کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف نہیں ملا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی آپس میں جنگ کی وجہ سے پختونخوا کے عوام کو جو نقصانات اُٹھانے پڑے ہیں اُن کی دونوں حکومتیں ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بلدیاتی الیکشن کے بعد منتخب نمائندوں کو ابھی تک یہ پتہ نہیں کہ ان لوگوں کے اختیارات کیا ہیں، عوامی مسائل حل کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ آئی ڈی پی کے بوجھ کی وجہ پشاور شہر بہت سے مسائل کا شکار ہے جبکہ صوبائی حکمران خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہی۔ تحریک انصاف کے اندر گروپ بندی کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں بہت زیادہ مشکلات کا عوام کو سامنا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومت ابھی تک آئی ڈی پی کے حوالے سے کوئی قابل ذکر فارمولا نہیں بنا سکے۔ جن لوگوں نے ملک کی سالمیت اور بقاء کی خاطر اور دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے اپنے گھر بار چھوڑ کر حکومتوں کی مدد، آج وہ اپنے گھروں کو واپسی کو ترس رہے ہیں۔

13-11-2015

پہلے ڈومورکی آوازیں باہر سے آ رہی تھیں اب ایسے مطالبات اندر سے بھی آنے لگے ہیں۔

* دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات نہیں کیے گئے تو خطہ بدترین جنگ کی لپیٹ میں آجائیگا۔

* کپتان حکومتی مک مکا اور یوٹرن کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں جس کی تازہ مثال کیو ڈبلیو پی کو دوبارہ شریک اقتدار بناناہے۔

* احتساب کے نام پر کسی کو بھی کردار کشی یا انتقامی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائیگی’شیخ کلے چارسدہ میں خطاب‘

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ملکی حالات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ڈو مور ‘‘ کی آوازیں پہلے باہر سے آرہی تھیں تاہم اب اس قسم کا مطالبہ ملک کے اندر سے بھی ہونے لگا ہے جو کہ اس جانب اشارہ ہے کہ پاکستان کو بیرونی چیلنجز کے علاوہ اندرونی عدم استحکام اور محاذ آرائی کا بھی سامنا ہے۔
چارسدہ کے علاقے شیخ کلے میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی اور ریاستی حالات د گردوں ہیں اور اب تو حالت یہ ہے کہ ڈومور کی جو آوازیں پہلے باہر سے آرہی تھیں اب وہ ملک کے اندر سے بھی آنے لگی ہیں جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک افغانستان میں استحکام اور امن نہیں آتا اور اس کے لیے لازمی ہے کہ دونوں ممالک اپنے اتحادیوں کے ہمراہ دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی مفاہمت کیلئے باہمی روابط اور اعتماد سازی پر فوری توجہ دیں ورنہ خطہ ایک بد ترین جنگ کی لپیٹ میں آ جائیگا جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان بھی بری طرح متاثر ہو گااور اس پس منظر میں فاٹا کے معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے حالات د گردوں ہیں اور اصلاح احوال کی کوئی مستقل یا سنجیدہ صورت نظر نہیں آرہی اس کو سنگین نوعیت کے اندرونی اور بیرونی چیلینجز کا سامنا ہے تاہم بحرانوں سے نکلنے کے اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خطے کے حالات اور متوقع علاقائی خطرات سے نکلنے کیلئے ٹھوس سیاسی اور ریاستی پالیسیاں اور اقدامات ناگزیر ہیں اور اس کے لیے سنجیدہ پالیسیوں ، بہتر سفارتکاری اور سیاسی مشاورت کی اشد ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور کے ایشو پر حکومت کی مہم اور غیر ذمہ دارانہ رویے سے فاٹا اور پختونخوا کے عوام تشویش میں مبتلا ہیں۔ تحریک انصاف کی پالیسیوں اور طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمارا صوبہ بدقسمتی سے ایک ایسی لیڈر شپ کے ہاتھ میں ہے جن کو نہ تو عوامی خواہشات ، درپیش چیلینجز اور روایات کا کوئی ادراک ہے اور نہ ہی ان میں معاملات چلانے کی صلاحیت موجود ہے اس کی تازہ مثال صوبائی حکومت کا وہ افسوسناک رویہ ہے جو کہ افغانستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کیساتھ اپنایا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کپتان مک مکا اور یوٹرن کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور قومی وطن پارٹی کو حکومت سے نکالنے اور اب دوبارہ شامل کرنے کا اقدام اس یوٹرن کی نئی مثال ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر کردار کشی اور انتقامی کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں اور کسی قیمت پر اس کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ان کے اپنے وزراء ، ممبران اسمبلی اور پارٹی لیڈر شپ کی جانب سے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا سامنا ہے تاہم عمران خان نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ دوسروں کے علاوہ اپنے وزراء اور ممبران کو بھی انتقام کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ سیاست اور صوبے کے مفادات کو انتقام کی بھینٹ چڑھائیں۔ جلسہ عام سے اے این پی چارسدہ کے صدر اور سابق صوبائی وزیر بیرسٹر ارشد عبداللہ نے بھی خطاب کیا۔

13-11-2015

صوبائی حکومت اپنے دعوؤں کے برعکس صوبے میں تعلیم دُشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ’’ سردار حسین بابک ‘‘

* فرنٹئیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے طالبات کے 15 کالجز کی بندش قابل مذمت ہے۔

* فیصلے سے دس ہزار طالبات تعلیم جبکہ پانچ سو خواتین اساتذہ روزگار سے محروم ہو جائیں گی۔

* اے این پی نے اپنے دور حکومت میں طالبات کی تعلیم کیلئے 70 فیصد تعلیمی بجٹ مختص کر رکھا تھا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے فرنتیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر انتظام چلنے والے 15گرلز کالجز کی بندش کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیم دشمنی قرار دیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو صوبائی حکومت صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی لگا رکھی ہے جبکہ دوسری جانب اتنی بڑی تعداد میں کالجز کی بندش سمجھ سے بالاتر ہے ، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف 10ہزار سے زائد طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے بلکہ 500سے زائد کالج ٹیچرز بے روزگار ہو جائیں گی ، سردار حسین بابک نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر تعلیم کے شعبے کو فروغ دینے اور صوبے میں مزید سکول اور کالجز قائم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ صوبائی حکومت اس کے برعکس طالبات پر تعلیم کے دروازے بند کرنے پر تلی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں خواتین کی تعلیم کیلئے 70فیصد بجٹ مختص کر رکھا تھا جبکہ موجودہ دور میں اس شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی انہوں نے کہا کہ ہایئر ایجوکیشن کو مزید فعال بنا کر اس پر خصوصی توجہ دی جائے اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے مناسب اور ہنگامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ عدالت فرنتیئر ایجوکیشن کے کالجز کے حق میں اپنا فیصلہ دے چکی ہے اس کے باوجود پخہ غلام ، ہری پور اور زیدہ صوابی میں تین کالجز بند کیے گئے ہیں اور مزید کی بندش کی اطلاعات ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس رویے سے نہ صرف طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ سینکڑوں اساتذہ کی بیروزگاری بھی یقینی ہے حالانکہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ تعلیم کی ترقی اور روزگار کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں طالبات کی تعلیم کیلئے 70 فیصد تعلیمی بجٹ مختص کر رکھا تھا کیونکہ پارٹی کو طالبات کی تعلیم کی اہمیت کا احساس ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ان کی سرپرستی کر ے اور انہیں مزید مراعات دے کر انہیں گورنمنٹ کالجز کا درجہ دیا جائے اور ان کالجز میں فرائض انجام دینے والے اساتذہ کو مستقل کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں خواندگی کا تناسب تشویشناک حد تک کم ہے اور لازمی پرائمری تعلیم بدستور خواب بنی ہوئی ہے‘ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 5 سال سے 19 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد 7 کروڑ ہے جن میں صرف 27 فیصد اسکول یا کالج جاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کروڑوں بچے خصوصاً لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں ایک جانب اسکول جانے والے بچوں کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہے تو دوسری جانب تعلیم ادھوری چھوڑنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ لازمی پرائمری تعلیم کے مقاصد آج تک حاصل نہیں ہو سکے حالانکہ پہلی جماعت سے میٹرک تک تعلیم کی ذمہ داری ریاست کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے تعلیم کا شعبہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے عوام کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب اپنے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے 15سال سے چلنے والے ان کالجز کو بند کر کے بے روزگاری میں اضافہ کر رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جنگ زدہ صوبے کو تیز رفتار تعلیمی ترقی کی اشد ضرورت ہے خاص کر طالبات کی تعلیم معاشرے میں امن ، ترقی اور استحکام کیلئے ناگزیر ہے تاہم موجودہ حکومت اپنے دوعآں کے برعکس تعلیم دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے اگر حکومت ایسے اقدامات سے باز نہیں آئی تو اسکی شدید مخالفت اور مزاحمت کی جائے گی۔

13-11-2015

چمن، پشتونوں کو ظلم اور جبر کے ذریعے مزید زیردست نہیں رکھا جاسکتا، اصغرخان اچکزئی

پنجاب وفاق کے نام پر کئی دہائیوں سےہمارے وسائل پر قابض ہے۔ جیلانی خان اچکزئی کی برسی پر خطاب

پشاور (نامہ نگار): عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم افغان تھے ،افغان ہیں اور افغان رہینگے، پشتونوں کو مزید ظلم ،جبر و استبداد کے ذریعے زیر دست نہیں رکھا جا سکتا اگر حالات کا ادراک نہ کیا گیا اور پشتونوں کو دیوار کیساتھ لگانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی ، پشتون افغان ایک تاریخ کا نام ہے انہیں نادرا، پاسپورٹ اور دیگر کلریکل بہانوں اور رویوں سے جوڑنا ذیادتی ہے، گوادر کاشغر اقتصادی راہداری مغربی روٹ میں خلل ڈالنے کو پنجاب کی پُرانی متعصب اور تنگ نظر پالیسی کا عکاس قرار دیا اور کالا باغ ڈیم جیسے پشتون دُشمن منصوبے میں دوبارہ جان ڈالنا تین اکائیوں کے متفقہ قراردادوں کی توہین ہے، ان خیالات کا اظہار اصغر خان اچکزئی صوبائی پارلیمانی لیڈر انجنےئر زمرک خان اچکزئی ، صوبائی جنرل سیکریٹری نظام الدین کاکڑ ، ضلعی صدر اسد خان اچکزئی، ضلع قلعہ عبداللہ ڈسٹرکٹ چےئر مین ملک عثمان اچکزئی، پشتون ایس ایف کے صوبائی سیکریٹری اخلاق احمد بازئی اور تحصیل صدر گل باران افغان نے شہید خان حاجی جیلانی خان اچکزئی کے پانچویں برسی کے موقع پر چمن میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا ، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ، اس موقع پر عبدالمالک ملیزئی اور محمد ہاشم کی قیادت میں جمعیت نظریاتی جبکہ حاجی شاہ ولی خواجہ زئی کی قیادت میں متعدد افراد نے پشتونخوا میپ سے مستعفی ہوکر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، مقررین نے کہا کہ شہید حاجی جیلانی خان اچکزئی نے باچا خان بابا کے سچے پیروکار کی حیثیت سے جدوجہد کا آغاز کیا اور شہادت کا رُتبہ پانے تک اس پر کاربند رہے۔ مقررین نے کہا کہ شہید خان حاجی جیلانی خان اچکزئی نے جس مقصد کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا وہ آج بھی حل طلب ہے ، پشتون قوم آج بھی مختلف مشکلات کا شکار ہے، ہمیں تین حصوں میں منقسم رکھ کر انگریزوں کی پالیسی کو برقرار رکھا گیا، جنت نظیر وطن کے مالک ہونے کے باوجود انسانی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ نعمتوں سے وفاق کے نام پر بڑا بدمعاش پنجاب مستفید ہورہا ہے، اور گزشتہ 68سالوں سے وہ ہمارے وسائل پر قابض ہے آج بھی پشتونخوا وطن پر رجعت پسند، آمرانہ سوچ اور پرسودہ قبائلی رسوم مسلط کئے گئے ہیں اور فاٹا کے پشتونوں کو آج کے مترقی دور میں بھی غلام رکھا گیا ہے،وہ FCRجیسے ظالمانہ قانون اور فرد واحد کے تابع ہو کر اُنہیں حقوق سے بے خبر اور لاعلم رکھتے ہوئے تمام تر آسائشوں سے محروم ہے ، مقررین نے کہا کہ آج صوبے میں قائم حکومت میں پشتونوں کیساتھ سب سے زیادہ ذیادتیاں ہورہی ہے، نہ تو شناختی کارڈ ، پاسپورٹ، لوکل سر ٹیفکیٹ بنوائے جارہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پشتونوں کیساتھ تضحیک اور توہین امیز رویہ رکھا گیا ہے، محض پگڑی اور داڑھی کی بنیاد پر ہماری تذلیل کی جارہی ہے، پشتون بیلٹ میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا جاسکا، واپڈا کی ناروا اور ظالمانہ لوڈشیڈنگ سے ہماری واحد ذریعہ معاش زراعت کو منظم سازش کے تحت تباہی سے دوچار کیا گیا، ان تمام تر عملیات میں وفاقی حکومت کیساتھ ساتھ صوبائی حکومت برابر کی شریک ہے، لہٰذا ان تمام تر صورتحال کا تدارک کرتے ہوئے آپ کو جاگنا ہوگا اور ان پیٹ پرستوں کے خلاف صف اراء ہونا ہوگا، آج چمن شہر میں سرعام ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، رہزنی، چوری، ڈکیتی کی وارداتیں سرزد ہورہی ہیں، عزت دار اور شریف النفس عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، کوئٹہ چمن شاہراہ پر حکومتی سرپرستی میں بھتہ وصول کی جارہی ہے، اور باقاعدگی سے توبہ اچکزئی کے راستے نجی چیک پوسٹیں قائم کرکے چمن کے غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے، لہٰذا اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا ، اپنے علاقے کو سماج دشمن عناصر ، منشیات فروشوں، نااہل انتظامیہ اور کرپٹ حکمرانوں کے خلاف ایک آواز ہوکر صف اراء ہوناہوگا، جلسہ عام سے حاجی محمد صادق صدا، عبدالرزاق بابو، نصیب اللہ لالئی ماما اور محمد داؤدنے بھی خطاب کیا، اس سے پہلے شہید خان حاجی جیلانی خان اچکزئی اور پشتون قومی تحریک کے ہزاروں شہداء اور پارٹی کے مرکزی رہنماء افضل خان لالا کے روح کے ایصال کے لئے قرآن خوانی اور دُعا کی گئی اور غرباء میں لنگر تقسیم کیا گیا۔

13-11-2015

سینیٹر شاہی سید کا شہر کے بعض حلقوں میں نام بدل کر کا م کرنے والی کالعدم مذہبی جماعت اور انتہاء پسند وں کی ہمدر جماعتوں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سے انتخابی الائنس کی خبروں کا سخت نوٹس۔
طالبان کے دفاتر کھولنے والے ،قتال کا حکم دینے والے دہشت گردی کے خلاف شہید ہونے والے فورسز کے جوانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں سے مٹھی بھر سیٹوں کے لیے اتحاد کسی صورت طور برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ اتحاد فی الفور ختم تصور کیے جائیں ان جماعتوں سے اتحاد کرنے والوں کے خلاف بھر پور تنظیمی کاروائی بھی کی جائے گی ۔صدر اے این پی سندھ

کراچی۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدرسینیٹر شاہی سید کا شہر کے بعض حلقوں میں نام بدل کر کا م کرنے والی کالعدم مذہبی جماعت اور انتہاء پسند وں کی ہمدر جماعتوں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سے انتخابی الائنس کی خبروں کا سخت نوٹس سے انتخابی الائنس کی خبروں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں خون میں نہلانے والوں اور ان کے ہمدردوں سے سے اتحاد کسی صورت قابل قبول نہیں ہے طالبان کے دفاتر کھولنے والے ،قتال کا حکم دینے والے دہشت گردی کے خلاف شہید ہونے والے فورسز کے جوانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں سے مٹھی بھر سیٹوں کے لیے اتحاد کسی صورت طور برداشت نہیں کیا جائے گا، نئے نام سے کام کرنے والی کالعدم جماعت اور طالبا ن کئے سیاسی ونگ سے انتخابی اتحاد کسی طور قابل قبول نہیں ہے یہ اتحاد فی الفور ختم تصور کیے جائیں ان جماعتوں سے اتحاد کرنے والوں کے خلاف بھر پور تنظیمی کاروائی بھی کی جائے گی باچا خا ن مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک فکری اور نظریاتی جدوجہد کا تسلسل ہے ہمارے اسلاف نے سخت ترین حالات کے باوجود کبھی بھی نظریات پر سودے بازی نہیں کی ہے ہمارے اکابرین کی اپنے اصول موقف پر ڈٹ جانے کی مثالیں آج بھی ملک کے قد آور سیاست دان بھی دے رہے ہیں صوبہ خیبر پختون خوا میں بننے والے سہ فریقی اتحاد کی طرح کراچی میں بھی اکثر علاقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت علماء اسلام سے انتخابی اتحاد کیا گیا ہے مگر چند روز کے دوران چند علاقوں میں پرو طالبان قوتوں سے کی جانے والی سیٹ ایڈ جسمنٹ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اپنے عظیم قائدین کی طرح ہم اقتدار کے بجائے اقدار کی سیاست کو تر جیح دیں گے ۔

اسفندیار ولی خان کا نیشنل پارٹی کے جی ایس یاسین بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس

اپنی پارٹی ، صوبے اور عوام کیلئے مرحوم لیڈر کی خدمات قابل قدر ہیں۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیارولی خان نے نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یاسین بلوچ کے ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونے کے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پارٹی کی لیڈر شپ، کارکنوں اور مرحوم کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے ڈاکٹر یاسین بلوچ کی نا گہانی موت کو ان کی پارٹی اور خاندان کیلئے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے عوام اور صوبے کیلئے مرحوم لیڈر کی خدمات قابل قدر رہی ہیں اور ان کی جدوجہد یاد رکھی جائے گی۔ اے این پی کے سربراہ نے اپنے بیان میں مرحوم کی بلندی درجات اور لواحقین کے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔

مورخہ: 12.11.2015 بروز جمعرات

اے این پی 16 نومبر کی فاٹا ریلی میں بھرپور شرکت کرے گی ’ عمران آفریدی‘
پارٹی فیصلے کے مطابق پشتونوں کے اتحاد اور حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اُٹھائی جائیگی
اصلاحات کمیٹی میں فاٹا کی نمائندگی نہ ہونے سے حکومت کی غیر سنجیدگی ثابت ہوتی ہے

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب قبائلی اُمور عمران آفریدی نے کہا ہے کہ اے این پی کے عہدیداران اور کارکن 16 نومبر کو قبائلی ریلی میں بھرپور شرکت کرینگے اور قبائل ، پشتونوں کے اجتماعی حقوق اور مفادات کے حصول کیلئے پارٹی قیادت کے فیصلے کے مطابق کسی قسم کی جدوجہد اور قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق اُنہوں نے کہا ہے کہ فاٹا اور پشتونوں کے اتحاد کے ایشوز پر اے این پی کی جدوجہد سب پر عیاں ہے اور ییہ ہمارا واضح مؤقف رہا ہے کہ ہم پشتونوں کے اتحاد اور حقوق کیلئے ہر فورم پر اپنی آواز اُٹھاتے رہیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم اس بل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جو کہ عوامی نمائندوں نے عوامی نمائندگی کی بنیاد پر پیش کیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ فاٹا کے معاملات سے اے این پی الگ نہیں رہ سکتی اور ہم پارٹی سربراہ اسفندیار ولی خان کی ہدایت پر 16 نومبر کی فاٹا ریلی میں عہدیداروں اور کارکنوں کے ہمراہ بھرپور شرکت کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی نے ریلی کیلئے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اس مقصد کیلئے فاٹا کی تمام تنظیموں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
عمران آفریدی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے اصلاحات کیلئے جو کمیٹی قائم کی ہے اس میں فاٹا کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے ککہ حکومت کو زمینی حقائق اور ضروریات کا کوئی ادراک نہیں ہے اور وہ اب بھی غیر سنجیدہ رویے پر عمل پیرا ہے۔

مورخہ: 12.11.2015 بروز جمعرات

فاٹا کے متاثرین گھروں کی واپسی کو ترس رہے ہیں مگر حکومتیں خاموش ہیں
عوام کوزبانی جمع خرچ کی بجائے کسی قسم کا ریلیف نہیں ملا ’’ ملک مصطفی ‘‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی نے کہا ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں ، ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہو چکا ہے ، گرمیوں میں بجلی اور سردیوں کی لوڈ شیڈنگ سے عوام عاجز آچکے ہیں، ادارے مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور پشاور شہر میں ٹریفک کنٹرول بری طرح متاثر ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پی کے 4 کے منتخب ڈسٹرکٹ ٹاؤن جنرل کونسلروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ زبانی جمع خرچ اور بلند و بانگ دعوؤں کے علاوہ عوام کو کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف نہیں ملا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی آپس میں جنگ کی وجہ سے پختونخوا کے عوام کو جو نقصانات اُٹھانے پڑے ہیں اُن کی دونوں حکومتیں ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بلدیاتی الیکشن کے بعد منتخب نمائندوں کو ابھی تک یہ پتہ نہیں کہ ان لوگوں کے اختیارات کیا ہیں، عوامی مسائل حل کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ آئی ڈی پی کے بوجھ کی وجہ پشاور شہر بہت سے مسائل کا شکار ہے جبکہ صوبائی حکمران خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہی۔ تحریک انصاف کے اندر گروپ بندی کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں بہت زیادہ مشکلات کا عوام کو سامنا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومت ابھی تک آئی ڈی پی کے حوالے سے کوئی قابل ذکر فارمولا نہیں بنا سکے۔ جن لوگوں نے ملک کی سالمیت اور بقاء کی خاطر اور دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے اپنے گھر بار چھوڑ کر حکومتوں کی مدد، آج وہ اپنے گھروں کو واپسی کو ترس رہے ہیں۔

مورخہ: 12.11.2015 بروز جمعرات

اسفندیار ولی خان کا نیشنل پارٹی کے جی ایس یاسین بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس
اپنی پارٹی ، صوبے اور عوام کیلئے مرحوم لیڈر کی خدمات قابل قدر ہیں۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیارولی خان نے نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یاسین بلوچ کے ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونے کے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پارٹی کی لیڈر شپ، کارکنوں اور مرحوم کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے ڈاکٹر یاسین بلوچ کی نا گہانی موت کو ان کی پارٹی اور خاندان کیلئے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے عوام اور صوبے کیلئے مرحوم لیڈر کی خدمات قابل قدر رہی ہیں اور ان کی جدوجہد یاد رکھی جائے گی۔ اے این پی کے سربراہ نے اپنے بیان میں مرحوم کی بلندی درجات اور لواحقین کے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ہے۔

مورخہ 12نومبر2015ء بروز جمعرات
*زلزلہ متاثرین کیلئے امداد کا اعلان اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، سردار حسین بابک
* امدادی چیک اقربا پروری کی بنیاد پرصرف چند افراد میں تقسیم کئے گئے جبکہ بیشتر متاثرین منہ تکتے رہ گئے
*زلزلے سے جن گھروں میں دراڑیں پڑیں انہیں سروے میں شامل ہی نہیں کیا گیاجو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سب بن سکتے ہیں
* ذاتی پسند و نا پسند سے بالاتر متاثرین میں برابری کی بنیاد پر امداد تقسیم کی جانی چاہئے اور اقربا پروری کی حوصلہ شکنی کی جائے
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی حالت زار پر دل خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ شدید سردی میں بھی وہ کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور ہیں ، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے امداد کا اعلان اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے ، انہوں نے کہا کہ زلزلہ متاثرین اقربا پروی کی بنیاد پر امدادی چیک بھی صرف چند افراد میں تقسیم کئے گئے جبکہ بیشتر متاثرین منہ تکتے رہ گئے جو کسی صورت انصاف پر مبنی نہیں ،انہوں نے کہا کہ قدرتی آفت سے متاثرہ ان متاثرین کی امداد میں ذاتی پسند و ناپسند کو پس پشت ڈال کر برابری کی بنیاد پر امداد تقسیم کی جائے اور اقربا پروری کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ زلزلے سے صوبے کے دیگر اضلاع ملاکنڈ اور خصوصاً چترال بری طرح متاثر ہوا ہے اور اس قیامت صغریٰ کے بعد سے اب تک لوگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ، انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امدادی رقوم میں اضافہ کیا جائے تا کہ متاثرین رہنے کیلئے چھت کا بندوبست کر سکیں، انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز بارش اور برف باری کے باعث بھیگے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ منفی درجہ حرارت نے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ، انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بچے اور بوڑھے و خواتین سانس کے امراض اور جلدی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ ان علاقوں میں صحت کی سہولیات بھی ناکافی ہیں،انہوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ زلزلے سے جن گھروں میں دراڑیں پڑیں انہیں سروے میں شامل ہی نہیں کیا گیا حالانکہ ایسے ہزاروں مکانات اب رہنے کے قابل نہیں اور وہ کسی بھی ناگہانی کی صورت میں مکمل تباہ ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بڑے نقصان کا اندیشہ ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ابھی تک لاتعلق ہے اور وہ صرف فوٹو سیشن تک محدود ہے ، سردار حسین بابک نے کہاکہ جزوی نقصان پہنچنے والے گھروں کو بھی سروے میں شامل کیا جائے اور غریب متاثرین کیلئے امداد میں اضافہ کیا جائے تا کہ وہ اپنی باعزت زندگی پھر سے شروع کر سکیں اور اپنے لئے گھروں کی تعمیر جلد از جلد ممکن بنائیں تاکہ مزید جانی نقصانات سے بچا جا سکے۔مرکزی و صوبائی حکومتوں کو متعلقہ محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کاموں کیلئے دن رات کام کرنا ہو گا ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو محکمہ موسمیات کی طرف سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر فوری تیاری کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں امدادی کاموں کیلئے حکومت کو مناسب فنڈز ریلیز کرنے چاہئیں ،کیونکہ عوام کے معمولات زندگی بحال کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

مورخہ 10نومبر2015ء بروز منگل

اے این پی عوام کے حقوق اور ڈاکٹر برادری کے مفادات کے تحفظ کیلئے ان کے ساتھ کھڑی ہے، سردار حسین بابک
ڈاکٹر برادری کو درپیش مسائل کا مردانہ وارمقابلہ اور صوبے سے برین ڈرین کے مسئلے پر موجودہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے گا
عمران خان اور جہانگیر ترین خیبر پختونخوا کے مریضوں اور عوام کو الفاظ کی جادو گری سے مزید دھوکہ نہیں دے سکتے
کپتان انا اور ضد کی سیاست چھوڑ دیں اور صوبے کی بہتری اور عوام کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ڈاکٹر برادری کو درپیش مسائل کا مردانہ وارمقابلہ کیا جائے گا اور صوبے سے برین ڈرین کے مسئلے پر موجودہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے گا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں آل ایمپلائز کو آرڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے ڈاکٹر موسیٰ کلیم کی قیادت میں ان سے ملاقات کی ، اے این پی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور بھی اس موقع پر موجود تھے ، وفد کے ارکان میں آل پاکستان پیرا میڈیکس یونین کے صدر سراج الدین برکی ، صوبائی جنرل سیکرٹری اسلم گل،لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے صدر روئیداد شاہ ،ملگری ڈاکٹران کے صدر ڈاکٹر سعید الرحٰمن اور سینئر رہنما ڈاکٹر شمس ،مرکزی سیکرٹری مالیات شمس تاج اورکلاس فور کے صدر بنی امین شامل تھے،سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین خیبر پختونخوا کے مریضوں اور عوام کو الفاظ کی جادو گری سے مزید دھوکہ نہیں دے سکتے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جبکہ صوبے کے ڈاکٹروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم اصلاحات کے خلاف نہیں تاہم اگر ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی اور نظام کی بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے تو وہ ڈاکٹر برادری کو ساتھ ملائے بغیر کسی صورت ممکن نہیں ،انہوں نے کہا کہ کپتان انا اور ضد کی سیاست چھوڑ دیں اور صوبے کی بہتری اور عوام کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں ،سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی عوام کے حقوق اور ڈاکٹر برادری کے مفادات کے تحفظ کیلئے ان کے ساتھ کھڑی ہے ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے وفد کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ وہ مریضوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے اور انسانیت کی خدمت کوفرض اولیں سمجھ کر اپنا شعار بنائیں گے ،
قبل ازیں وفد کے ارکان نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی طرف سے محکمہ صحت کے تمام ملازمین اور بالخصوص ڈاکٹر کمیونٹی کی حمایت پر اے این پی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا ،

مورخہ : 9.11.2015 بروز پیر

عمران خان اور اُن کے وزیر اعلیٰ نے افغان وفد کی میزبانی کے معاملے پر کم ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے ’’ زاہد خان ‘‘
فاٹا اصلاحات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ فاٹا کے منتخب نمائندوں سے مشاورت کے بعد کیا جائیگا۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری طلاعات زاہد خان نے کہا ہے کہ پختون روایات اور سفارتی آداب سے نابلد پرویز خٹک نے محمد افضل خان لالا مرحوم کی تعزیت کیلئے آنے والے اعلیٰ سطحی افغان وفد کی میزبانی اور درکار سہولیات کی فراہمی سے انکار کر کے کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پشتون روایات کو پامال کر دیا ہے اور اس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ عمران خان اور ان کے وزیر اعلیٰ کو سیاسی سمجھ بوچھ ، روایات اور مہمان نوازی جیسی چیزوں کا سرے سے علم ہی نہیں ہے۔ اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام بالخصوص پشتون صدیوں سے ایک مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں جبکہ ہمارے لیے یہ خونی رشتوں کا بھی معاملہ ہے۔ افغان وفد میں قومی مشران کے علاوہ اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات بھی شامل تھیں تاہم صوبائی حکومت نے ان کو سرکاری میس فراہم کرنے سے انکار کر کے اپنی اوقات سب پر عیاں کر دی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بلاشبہ علامہ محمد اقبال پوری قوم کے شاعر ہیں مگر وزیر اعلیٰ نے عمران خان کو خوش کرنے کیلئے دوسرے اداروں کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں کو بھی چھٹی دے دی جس سے غریب مریضوں کو شدید تکلیف پہنچی اور وہ آپریشن سمیت دیگر سہولیات سے محروم رہ گئے۔
اے این پی کے ترجمان نے فاٹا اصلاحات کے بارے میں حکومتی کمیٹی کے حوالے سے میڈیا کی بعض رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر اے این پی فاٹا کے منتخب نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کرے گی اور وہی راستہ اپنائے گی جس میں فاٹا کے عوام اور ان کے نمائندوں کی رائے شامل ہو۔

مورخہ 9نومبر2015ء بروز پیر

فاٹا میں سروس رولز اور اپ گریڈیشن کا عمل جلد مکمل کیا جائے ، سردار حسین بابک
صوبائی حکومت اساتذہ کے مسائل پر خصوصی توجہ دے تا کہ ان میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے
اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں تعلیم کے شعبہ میں جو اصلاحات کی ہیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں تعلیم کے شعبہ میں جو اصلاحات کی ہیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور صوبے میں قائم کئے جانے والے سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں اس بات کا بین ثبوت ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں ملگری استاذان کی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو تنظیم کے صوبائی صدر امجد علی ترکئی کی زیر صدارت منعقد ہوا ، اس موقع پر سرپرست اعلیٰ اسلام الدین خان ، جنرل سیکرٹری وارث خان خلیل ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبدالقیوم خان ،جائنٹ سیکرٹری عثمان سمیت گل ولی خان ، سرفراز خان ،امام حسین ،اختر نواز خان اور آئینی کمیٹی کے چیئر مین قدرت علی بھی موجود تھے ، اجلاس میں اساتذہ برادری کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ اس موقع پر حاجی نوشاد خان کو متفقہ طور پر صوبائی سیکرٹری اطلاعات منتخب کر لیا گیا ۔ملگری استاذان کے صوبائی کوآرڈینیٹر سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ ملک میں ایسا نظام تعلیم ہونا چاہئے جس سے تحقیقی کام کو فروغ مل سکے۔ اب دنیا تعلیم کی اہمیت کو سمجھ چکی ہے جن ممالک نے تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے وہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کے بعد اب صوبوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں، انہوں نے اساتذہ کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت ان مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دے تا کہ اساتذہ میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے اور وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے سکیں ، سردار حسین بابک نے مرکزی و صوبائی حکومتوں سے بھی مطالبہ کیا کہ فاٹا میں سروس رولز اور اپ گریڈیشن کا عمل جلد مکمل کیا جائے تا کہ فاٹا کے اساتذہ بھی ملک کے دیگر اساتذہ کی طرح اپنے حقوق حاصل کر سکیں ، ملگری استاذان کے صدر نے صوبائی کوآرڈینیٹر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مانیٹرنگ سیل کا قیام سردار حسین بابک کی سوچ و فکر کا عکاس ہے جس سے سکولوں کی حالت بہتر ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی اپ گریڈیشن کا سہرا بھی سابق صوبائی وزیر تعلیم کے سر جاتا ہے جنہوں نے اساتذہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اپنے دور وزارت میں ہر ممکن اقدامات کئے ۔

مورخہ 8نومبر2015ء بروز اتوار

افغانستان کی تقسیم اور عدم استحکام کی صورت میں پاکستان بھی تقسیم ہو جائے گا ، اسفندیار ولی خان کا این وائی او کنونشن سے خطاب
اگر افغانستان ،فاٹا ، امن اور پختونوں کی بات کرنا غداری ہے تو اسفندیار ولی خان سب سے بڑا غدار ہے ، اسفندیار ولی خان
آئی ڈی پیز اور زلزلہ متاثرین کی امداد کے نام پر ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے سربراہ اے این پی
عمران خان عملی اقدامات کی بجائے انتقام اور دھمکیوں پر اتر آئے ہیں اے این پی ڈاکٹروں کا ساتھ دے گی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے عدم استحکام یا تقسیم کی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں پاکستان بھی تقسیم در تقسیم اور شدیدبحران سے دوچار ہوگا،کیونکہ افغانستان کے معاملات براہ راست پاکستان کے حالات پر اثر انداز ہوتے آئے ہیں اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششین تیز کر کے مفاہمتی عمل کو تیزی سے آگے بڑھائیں تا کہ خطے کو آنے والی تباہی اور کشیدہ صورتحال سے بچایا اور نکالا جا سکے ۔ باچا خان مرکز میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ایک بڑے کنونشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کا امن نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے اور دنیا کے امن کیلئے بھی ناگزیر ہے اس کے ساتھ ہمارے بچوں اور نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک اور عالمی برادری نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے اور افغانستان کے امن کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے تو پورا خطہ بد ترین تباہی کی لپیٹ میں آ جائے گا اور اگر افغانستان کی تقسیم کی کوشش کی گئی تو پاکستان بھی محفوظ اور قائم نہیں رہے گا ، انہوں نے خبردار کیا کہ جس روز افغانستان کے ٹکڑے کئے گئے اسی روز پاکستان کے بھی کئی ٹکڑے ہو جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے امن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس مقصد کیلئے ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان ، فاٹا کاریڈور اور پختونوں کے حق کی بات کرنا غداری ہے تو میں سب سے بڑا غدار ہوں اور یہ غداری نتائج کی پرواہ کئے بغیر کرتا رہوں گا انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کو اس سلسلے کو پھر سے جوڑنا چاہئے جو کہ کچھ عرصہ قبل ٹوٹ چکا ہے اور اس کی بنیاد اس بات پر ہونی چاہئے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے میں مداخلت کی بجائے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں کریں اور دشمن سے مل کر لڑیں ورنہ حالات مزید کشیدہ ہو جائیں گے اور خطہ بدترین تباہی سے دوچار ہو جائے گا،انہوں نے فاٹا کی صورتحال پر پارٹی پالیسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم انگریز دور کی کھینچی گئی لکیریں نہیں مانتے اگر فاٹا کی شکل میں تقسیم کردہ پشتون علاقوں کا ایک خطہ ہمارے ساتھ شامل ہو رہا ہے تو اس سے بہتر بات اور کیا ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی 16نومبر کی اسلام آباد ریلی اور ایونٹ میں بھرپور شرکت کرے گی تا کہ فاٹا کے مستقبل کا تعین ہو سکے انہوں نے آئی ڈی پیز اور زلزلہ متاثرین کی حالت زار پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ باعزت اور حیا دار خواتین بچوں اور بزرگوں کو گھروں کی بجائے خیموں مین رکھا گیا ہے اور وہ بنیادی ضرورتوں کو بھی ترس رہے ہیں جبکہ حکومتیں امداد کے نام پر کچھ رقم دینے کے اعلانات کر کے ان کے دکھوں اور تکالیف کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر کاریڈور کے معاملے پر حکومت کا رویہ اس طرح جانبدارانہ اور منافقانہ رہا تو اسکی شدید مزاحمت کی جائے گی اور خطے کے مفادات پر کسی کو کوئی سمجھوتہ یا سودے بازی نہیں کرنے دیں گے،اے این پی کے سربراہ نے عمران خان اور ان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عملی کام کی بجائے احتساب کے نام پر انتقامی سیاست شروع کر رکھی ہے اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ موصوف ڈاکٹروں کے مسائل حل کرنے ک بجائے ان کے گھیراؤکی دھمکیوں پر اتر آئے ہیں تاہم اے این پی ڈاکٹروں کے حقوق کی جنگ میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی ، انہوں نے کہا کہصوبائی حکومت نے پشتون روایات کا مذاق اڑاتے ہوئے افغانستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی آمد کے موقع پر منفی رویہ اختیار کر کے عملاً چابت کریں کہ ان کو نہ تو اپنی روایات کا کوئی احساس ہے اور نہ ہی یہ لوگ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں پنجاب کے عوام نے جس طرح تحریک انصاف کا بلدیاتی الیکشن میں حشر کیا ہے آ ئندہ الیکشن میں خیبر پختونخوا میں ان کا اس سے بدتر حشر ہوگا۔ کنونشن سے این وائی او کے مرکزی صدر خوشحال خٹک اور صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

07 نومبر 2015 ء بروز ہفتہ

اعلیٰ ترین افغان وفد کی افضل خان لالا کی فاتحہ خوانی کیلئے پشاور آمد
اے این پی کے مرکزی قائدین نے وزراء ، مشیروں ، قبائلی مشران ، ممبران اسمبلی اور دیگر کا ائیر پورٹ پراستقبال کیا

پشاور (پریس ریلیز ) افغانستان کی حکومت ، ملت ، سیاسی قوتوں اور اعلیٰ شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد اے این پی کے بزرگ رہنما محمد افضل خان لالا کی فاتحہ خوانی اور اُن کے خاندان ، اے این پی کی لیڈر شپ سے اظہار یکجہتی کرنے ہفتہ کے روز پشاور آیا جہاں پر اے این پی کے قائدین نے ان کا پرتباک استقبال کیا۔ ہفتہ کے روز جب وفد ایک خصوصی طیارے میں پشاور پہنچ گیا تو اے این پی کے لیڈروں ، غلام احمد بلور ، لطیف آفریدی ایڈوکیٹ ، افراسیاب خٹک ، سردار حسین بابک ، سید عاقل شاہ ، واجد علی خان ، اوباب محمد طاہر خان اور ایمل ولی خان نے مہمانوں کا شاندار استقبال کیا۔ اس کے بعد اُن کو فاتحہ خوانی کیلئے بلور ہاؤس لے جایا گیا جہاں پر اسفند یار ولی خان اور پارٹی کے متعدد دیگر لیڈروں نے فرداً فرداً اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔
افغان وفد 40 سے زائد شخصیات پر مشتمل تھا جن میں معاشرے کے مختلف نمائندوں کے علاوہ متعدد وزراء ، مشیر ، اعلیٰ سرکاری حکام ، سابق وزراء ، مشیر ، قبائلی مشران ، ممبران پارلیمنٹ اور میڈیا کے سربراہان شامل تھے۔
وفد کی قیادت ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو انجینئر محمد خان کر رہے تھے جبکہ اس میں دوسری شخصیات کے علاوہ نائب وزیر خارجہ حکمت کرزئی ، امن کمیٹی کے سربراہ عبدالحکیم مجاہد ، وزیر اطلاعات عبدالباری جہانی ، سرحدات ، قبائل کے وزیر گلاب مینگل ، پارلیمانی اُمور کے وزیر عبدالنبی فراحی ، نیشنل کمیٹی کے سربراہ ضیاء الحق امر خیل، مشیر خاص حاجی دین محمد اور متعدد مشیروں سمیت سابق وزراء اور مشیروں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

07 نومبر 2015 ء بروز ہفتہ

بلور ہاؤس پہنچنے پر اسفندیار ولی خان نے افغان وفد کا فرداً فرداً استقبال کیا۔
افغان سفیر جانان موسیٰ زئی نے افغان وفد کا جبکہ سردار حسین بابک نے اے این پی لیڈر شپ کا تعارف کرایا

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما مرحوم افضل خان لالا کی فاتحہ خوانی کیلئے افغانستان سے آنے والے اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد کے بلور ہاؤس پہنچنے پر اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور دیگر لیڈروں نے شاندار استقبال کیا۔ اسفند یار ولی خان ایک ایک مہمان سے فرداً فرداً مل کر اُن کو خوش آمدید کہتے اور ان کی خیریت دریافت کرتے۔
دریں اثناء جب فاتحہ خوانی کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تو پاکستان میں افغانستان کے سفیر جانان موسیٰ زئی نے کابل سے آنے والے قائدین اور حکومتی شخصیات کا مکمل تعارف کروایا جس کے دوران ہر مہمان اپنا نام پکارنے پر کھڑا ہو جاتا۔
سٹیج سیکرٹری کے فرائض اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے ادا کیے اُنہوں نے بھی جانان موسیٰ زئی کی طرح ترتیب وار اپنی پارٹی کے لیڈروں اور عہدیداران کا تعارف کرایا جبکہ پنڈال میں موجود افضل خان لالاکے لواحقین سے بھی مہمانوں کا تعارف کرایا گیا۔ اس موقع پر خان لالا کی فیملی کی جانب سے کرنل (ر) عبدالغفار خان نے بھی افغان وفد کا شکریہ ادا کیا۔

07 نومبر 2015 ء بروز ہفتہ

افغانستان کسی سے بھی محاذ آرائی یا دُشمنی نہیں چاہتا اور یہی توقع دوسروں سے بھی کرتے ہیں ’ انجینئر محمد خان ‘
دونوں اطراف پشتون ایک دوسرے کے معاملات میں الگ نہیں رہ سکتے ’ افضل خان لالا ایک قومی شخصیت تھے ‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما مرحوم محمد افضل خان لالا کی فاتحہ خوانی کیلئے آنے والے اعلیٰ سطحی افغان وفد کے سربراہ اور افغانستان کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو انجینئر محمد خان نے کہا ہے کہ افغان عوام کسی کے ساتھ بھی محاذ آرائی اور دُشمنی نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی کو یہ اجازت دینگے کہ وہ ہمارے معاملات میں مداخلت کریں یا ہمیں مغلوب کرنے کی کوشش کریں۔
فاتحہ خوانی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پشتون بحثیت قوم کبھی بھی انتہا پسند یا دہشتگرد نہیں ہیں ہم عدم تشدد کے علمبردار ہیں اور دوسروں کے معاملات میں دخل نہیں دیتے تاہم اسی جذبہ کے تحت ہم بھی توقع رکھتے ہیں کہ دوسرے بھی ہمارے ساتھ یہی رویہ اختیار کریں۔
افغان حکومت اور عوام کی نمائندگی پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے مرحوم لیڈر کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ محمد افضل خان لالا دونوں اطراف کے محبوب اور غیر متنازعہ لیڈر تھے اوریہی وجہ ہے کہ ان کی موت نے افغانستان کو بھی سوگوار کر کے رکھ دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ افضل خان لالا صحیح معنوں میں ایک قومی شخصیت تھے اور اُنہوں نے خطے کی سیاست میں قابل فخر کردار ادا کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغان وفد میں ہر فکر ، ہر طبقے اور ہر عہدے اور علاقے کے نمائندگان شامل ہیں جو کہ خان لالا کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کے خاندان ، عوامی نیشنل پارٹی سے دُکھ شریک کرنے پشاورآیا۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں اطراف کے رہنما اورعوام ایک دوسرے کے معاملات اور دُکھ درد سے الگ نہیں رہ سکتے اور ہم امن کیلئے بھی مشترکہ طور پر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

مورخہ : 7.11.2015 بروز ہفتہ

مرحوم محمد افضل خان لا لانے اپنی زندگی اپنی قوم اورمٹی کے لئے وقف کر رکھی تھی

پشاور (پریس ریلیز )افغانستا ن کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا کہ مرحوم محمد افضل خان لا لاکی خدمات واقعتا بھلائی نہیں جا سکیں گی ۔وہ تمام پشتونوں اور افغانوں کی ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی قوم ‘مٹی اور عوام پر امن خوشحال اور مستحکم حال ‘مستقبل کے لئے گرانقدر خدمات سر انجام دیں اور مرتے دم تک اپنی جدو جہد کو جاری رکھا ۔ مرحوم محمد افضل خان لا لاکی فاتحہ خوانی کے لئے پشاور آنیوالے اعلی سطحی افغان وفد کے رکن حاجی دین محمد نے حامد کرزئی کا ایک تعزیتی پیغام پڑھ کر سنایا جس میں سابق افغان صدر نے کہا کہ خان لا لا نے اپنی زندگی اپنی قوم اوروطن کے لئے وقف کر رکھی تھی اور اس جدوجہد کے دوران انہوں نے تاریخی خدمات سر انجام دیں انہوں نے کہا کہ خان لا لا کی موت سے پوری افغان ملت اور خود ان کو دلی دکھ پہنچا ہے اور ان کی خدمات اور کردار کو بھلایا نہیں جا سکے گا ۔

07 نومبر 2015 ء بروز ہفتہ

افضل خان لالا کی موت سے پشتون قومی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ’ اسفندیار ولی خان‘
کابل میں فاتحہ خوانی اور اعلیٰ سطحی وفد کی پشاور آمد سے ثابت ہوا کہ ہم اس دُکھ میں اکیلئے نہیں ہیں
ایک پر امن اور مشرقی افغانستان کے بغیر پر امن پاکستان کا تصور خام خیالی ہے ’ افغان وفد سے خطاب‘

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات مفاہمت اور اعتماد سازی کے بغیر نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی خطے کے استحکام اور ترقی کی خواہش کو پورا کرنا ممکن ہے ۔ ایک پر امن اور مشرقی افغانستان کے بغیر ایک مستحکم اور پر امن پاکستان کا تصور محض خام خیالی ہے اس لیے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ مذاکرات ، رابطوں اور اعتماد سازی کے اس سلسلے کو وہیں سے جوڑیں جہاں سے یہ سلسلہ بوجوہ کچھ عرصہ سے ٹوٹ چکا ہے۔
بلور ہائس پشاور میں محمد افضل خان لالا کی فاتحہ خوانی کیلئے آئے ہوئے وفد کی موجودگی میں اپنے خطاب کے دوران اُنہوں نے کہا کہ امن پورے خطے کیلئے لازمی ہے تاہم اس کیلئے مذاکرات مفاہمت اور باہمی اعتماد سازی ناگزیر ہے۔ نواز شریف اور ڈاکٹر اشرت غنی کے درمیان کچھ عرصہ قبل خطے کے امن کے بارے میں جن نکات اور طریقہ کار پر اتفاق رائے ہوا تھا اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے جو کہ بوجوہ حائل ہو گئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان ملت نے تمام تر کشیدہ حالات کے باوجود خود کو قائم اور سنبھال رکھا ہے تاہم میں واضح انداز میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر امن کی کوششوں کو کامیاب نہیں بنایا گیا تو پاکستان کے حالات کئی گنا زیادہ ابتر ہو جائیں گے اور اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہے گا۔
وفد کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ کابل دیگر شہروں میں مرحوم لیڈر کیلئے کی جانے والی فاتحہ خوانی اور طبقہ فکر پر مشتمل اس اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد کی آمد سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ہم اس دُکھ میں اکیلے نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مرحوم افضل خان لالا صرف اے این پی کے لیڈر نہیں تھے بلکہ وہ ایک عظیم کردار تھے اور ان کی موت سے صرف کوئی ایک پارٹی یا علاقہ متاثر نہیں ہوا بلکہ ان کی موت سے پشتون قومی تحریک کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے، قبل ازیں اُنہوں نے ڈاکٹر اشرف غنی ، حامد کرزئی اور وفد کے تمام ارکان سمیت افغانستان کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے افضل خان لالا کی موت پر ان سے اظہار تعزیت کیا۔

07 نومبر 2015 ء بروز ہفتہ

خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو یقینی بنایا جائیگا’ڈاکٹر اشرف غنی‘
محمد افضل خان لالا قومی وحدت کے بڑے علمبردار اور ایک مدبر کے علاوہ حقیقی معنوں میں ملی مشر تھے
موت سے ایک دن قبل جب افضل خان لالا سے فون پر بات ہوئی تو بھی اُن کو قوم کیلئے فکر مند پایا

پشاور (پریس ریلیز ) افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ اے این پی کے بزرگ رہنما مرحوم محمد افضل خان لالا نہ صرف یہ کہ خطے میں امن اور خوشحالی کے بہت بڑے علمبردار تھے بلکہ وہ پشتون قومی وحدت کی بڑی علامت اور مبلغ بھی تھے۔ مرحوم لیڈر کی تعزیت کے لئے پشاور آنے والے وفد کے ہاتھ بھیجے گئے ایک تحریری پیغام میں اُنہوں نے کہا کہ افضل خان لالا بلاشبہ بہت بڑے لیڈر ، مدبر اور عظیم رہنما تھے۔ صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جب کابل میں میری اُن سے ملاقات ہوئی تو میں نے پشتونوں ، افغانستان اور خطے کے امن اور استحکام کیلئے ان کے دل میں بہت درد اور خواہش پایا تاہم میں نے ان کو مستقبل کے حوالے سے کافی پر اُمید بھی پایا ۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک ملی مشر تھے۔
ڈاکٹر اشرف غنی نے مزید کہا ہے کہ موت سے ایک روز قبل میری مرحوم لیڈر سے ٹیلیفون پر بات ہوئی تو اس تکلیف کے مرحلے میں بھی اُنہوں نے امن ، استحکام اور خوشحالی کیلئے اپنی خواہشات کا اظہار کر کے کئی تجاویز دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ میں افغان حکومت اور عوام کی جانب سے یقین دہانی کرتا ہوں کہ ہم افضل خان لالا اور ایسے دیگر بزرگوں کی امن کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور ہر قدم پر ان کے افکار اور جدوجہد کی تقلید کی جائیگی۔ افغان صدر نے کہا ہے کہ وہ باچا خان ، خان شہید ، افضل خان لالا اور ہمارے دیگر اکابرین کے کردار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی خواہش پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ امن ہم سب کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے پڑوسیوں اور عالمی دوستوں ، ہمدردوں کیساتھ مل کر جدوجہد کریں گے تاکہ خطے میں امن کے قیام کی خواہشوں اور کوششوں کو یقینی بنایا جائے۔

06 نومبر 2015 ء بروز جمعہ

افغانستان کے 46رکنی اعلیٰ سطحی وفد کی افضل خان لالا کی فاتحہ خوانی کیلئے کل پشاور آمد
ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو انجنیئر محمد خان ، نائب وزیرخارجہ حکمت کرزئی ، امن کمیٹی کے سربراہ عبدالحکیم مجاہد ، وزیر اطلاعات عبدالباری جہانی ، حامد کرزئی کے مشیر عبدالکریم خرم اور حزب اسلامی کے یونٹی کمیٹی کے سربراہ قاضی محمدامین وقار بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
وفد میں چھ وزراء ، سات مشیر ، چھ سابق وزراء اور افغان قومی جرگہ کے 18 ارکان بھی شامل
آٹھ سے زائد حکومتی اداروں کے سربراہان ، ڈپٹی منسٹرز ، دانشور اور میڈیا کے سربراہان بھی وفد کاحصہ ہوں گے۔
ائیرپورٹ پر اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور دیگر اہم عہدیدار افغان وفد کا استقبال کرینگے۔

پشاور (پریس ریلیز ) افغانستان کا 46 رکنی اعلیٰ سطحی وفد اے این پی کے مرحوم رہنما محمد افضل خان لالا کی فاتحہ خوانی کیلئے کل ایک خصوصی طیارے کے ذریعے کابل سے پشاور پہنچ رہا ہے۔ اعلیٰ سطحی وفد افغانستان کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو انجینئر محمد خان کی سربراہی میں اعلیٰ ترین سیاستدانوں ، سابق وزراء ، موجودہ وزراء ، مشیروں ، سفارتکاروں اور دانشوروں پر مشتمل ہے۔ پشاور پہنچنے پر عوامی نیشنل پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور عہدیدار ،امیر حیدر خان ہوتی ، غلام احمد بلور ، لطیف آفریدی ، ایمل ولی خان ، افراسیاب خٹک ، سردار حسین بابک ، زاہد خان ، سید عاقل شاہ اور دیگرپشاور ائیر پورٹ پر وفد کا استقبال کریں گے جہاں سے ان کو بلور ہاؤس پشاور لایا جائیگا جہاں مرحوم لیڈر کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی جائیگی اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کی جائیگی۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 46 رکنی وفد جن اہم افغان شخصیات پر مشتمل ہے ان میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو انجینئر محمد خان، منسٹر فار کلچراینڈ انفارمیشن عبدالباری جہانی ، منسٹر فار فرنٹئیر اینڈ ٹرائبل افئیرز محمد گلاب منگل ،وزیر برائے پارلمینٹرین افیئرز عبدالنبی فراحی، وزیر برائے بحال حسین علیمی بلخی، ڈپٹی منسٹر فار فارن افئیرز حکمت کرزئی ، صدارتی مشیر محمد علیم راسخ، صدارتی مشیر اسداللہ وفا ، صدر کے مشیر محمد اکرم خپلواک ،صدارتی مشیر مولوی جورا ، صدارتی مشیر محمد عثمان سالک زادہ ، نائب وزیر برائے انفارمیشن اینڈ کلچر افئیرز زرتش شمس، امن کمیٹی کے سربراہ عبدالحکیم مجاہد، امن کمیٹی کے سیکرٹری امین الدین مظفری ، افغان صدر کے مشیر خیال محمد حسینی ، سابق وزیر عارف نورزی ، سابق وزیر غلام فاروق وردگ ، سابق وزیر فاروق اعظم ، قومی جرگہ کے نائب صدر حاجی نذیر احمد زئی ، افغان نیشنل کمیٹی کے سربراہ ستانہ گل شیر زاد، اکنامک افئیرز کے مشیر حضرت عمر ذاخیلوال ، صدارتی مشیرقطب الدین ہلال ، صدارتی مشیر حاجی دین محمد، امن کمیٹی کے ممبر اسماعیل قاسم یار ، حزب اسلامی کے ہیڈ آف یونیٹی قاضی محمد امین وقار ، قندھار کمیٹی کے سربراہ محمد ایوب رفیقی، رکن قومی جرگہ محمد خان سلیمان خیل، ایجوکیشن اکیڈمیز کے عبدالواحد واحد،افغان قومی جرگہ کے رکن عبدالخالق بالکزئی ، نیشنل ٹیلیویژن کے سربراہ زرین انأور ، سابق وزیر عبدالکریم براہوی، نامور دانشور حبیب اللہ رافع ، مشہور رائیٹر شاہ محمود ، کابل نیوز ٹیلیویژن کے سربراہ غلام جیلانی زواک ، افغان نیشنل موومنٹ کے سربراہ خوشحال روہی ، نیشنل کمیٹی کے سربراہ ضیاء الحق امیر خیل، بلیک ڈیپارٹمنٹ کے وائس پروٹوکول بلال احمد زئی ، صدر ایگزیکٹیو ڈیپارٹمنٹ اسداللہ رحمانی ، گل حسن طوطا خیل ، شہریار مہمند ، جمال الدین خان کنڑوال، محمد نثار احمدی اور سابق صدر حامد کرزئی کے مشیر عبدالکریم خرم شامل ہیں۔
بلور ہاؤس میں اے این پی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان پارٹی کے مرکزی اور صوبائی ممبران اور سابق وزراء اور ممبران اسمبلی موجود ہونگے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے حوالے سے اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرا دی
تحریک التوا اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سید جعفر شاہ نے جمع کرائی
اسمبلی کا اجلاس بلاکر زلزلہ اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کے حوالے سے بحث کی جائے۔
بعض علاقوں میں شدید سردی کے باعث متاثرین کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں، حکومت کو ترجیحات تبدیل کرنا ہونگی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سید جعفر شاہ نے صوبے میں زلزلے اور حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی سے متعلق صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی ہے تحریک التوا میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر اسمبلی کا اجلاس بلا کراس اہم معاملے پر بحث کی جائے جبکہ صوبے میں زلزلے سے تقریباً ایک لاکھ سے زائد گھروں کی مکمل اور جزوی طور پر تباہی ،بارشوں سے قومی و ذاتی املاک کو نقصان پہنچنے اور ان کا تخمینہ لگانے کے حوالے سے حکومتی سست روی اور متاثرین کی دادرسی میں غفلت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں شدید سردی کے باعث متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہونگی ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے حکومت کو فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے ،انہوں نے حکومتی عدم توجہی اور غیر ذمہ دارانہ رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومتی عدم دلچسپی متاثرین قدرتی آفات کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت کو زبانی جمع خرچ سے نکلنا ہو گا اور صرف فوٹو سیشن کے علاوہ زمینی حقائق کے مطابق ریلیف اور امدادی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دینا ہو گی،انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرین کو چھوڑ کر معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہے جو انتہائی قابل افسوس اور ناانصافی ہے۔سید جعفر شاہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ امدادی پیکج بہت کم ہے لہٰذا اس میں اضافہ کیا جائے اور جو مکانات رہائش کے قابل ہی نہیں ان کا معاوضہ بھی بڑھایا جائے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی امدادی اداروں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی کی اجازت دی جائے اور بحالی کے کاموں میں تیزی لائی جائے۔

مورخہ : 5.11.2015 بروز جمعرات

حکو مت صوبے میں بارشوں اور زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی امداد اور بحالی کو یقینی بنائے‘ ایمل و لی خان
عوامی نیشنل پارٹی آزمائش کی اس گھڑی میں متاثرین کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے

پشا ور (پریس ریلیز )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل و لی خان نے حالیہ بارشوں سے سوات دیر بونیر اور نوشہرہ چترال پاڑا چنا ر سمیت دیگر علاقوں میں ہونے والے جا نی اور مالی نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے باچا خان مرکز سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے حالیہ بارشوں سے مختلف علاقوں میں جان بحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ دکھ کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی آزمائش کی اس گھڑی نیمیں متاثرین کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ مسلسل آفات اور آزمائشوں کی زد میں ہے تا ہم حکومت اس کارکردگی اور فعالیت کامظاہرہ نہیں کر رہی جس کی اس وقت ضرورت ہے اس لئے حکومتی ادارے اپنے فرائض کا ادراک کرتے ہوئے متاثرین کی امداد اور بحالی کو یقینی بنائے ۔

مورخہ : 5.11.2015 بروز جمعرات
گذشتہ الیکشن میں کپتان کو صوبے کے عوام نے نہیں ’’فرشتوں‘‘ نے ووٹ ڈال دئیے تھے- اسفندیارولی خان
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پنجاب اور سندھ کے عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر کے ہمارے صوبے کے عوام کو بھی پیغام دیا ہے۔
کسی بھی لیڈر کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی وہ ہر سوال کا جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ہے ، عمران خان بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔
کارویڈور اور کالاباغ ڈیم پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا، فاٹا کی صوبہ پختونخوا میں شمولیت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان کا امن افغانستان کے امن ، استحکام سے مشروط ہے ’’ چارسدہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب ‘‘

پشاور( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے عوام نے عام الیکشن کے بعد حالیہ بلدیاتی الیکشن کے دوران تحریک انصاف اور عمران خان کی تبدیلی اور نئے پاکستان کے دعوؤں ، وعدوں اور اعلانات پر کلی طور پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے صوبہ خیبر پختونخوا کو سادہ لوح عوام کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ تبدیلی کے دعوؤں پر اعتبار نہ کریں۔ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں نہ صرف یہ کہ دہشتگردی اور دیگر چیلینجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ صوبے کی تاریخ میں ریکارڈ ترقیاتی کام بھی کیے۔ جمعرات کے روز چارسدہ کے علاقے نیستہ میں پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں صوبے کے عوام نے نہیں بلکہ ’’ فرشتوں ‘‘ نے کپتان کے حق میں ووٹ ڈال دئیے تھے ہم تمام تر پس منظر اور مقاصد سے آگاہ تھے مگر ہم نے جمہوریت کی خاطر خاموشی اختیار کی تاہم بعد کی حکومتی کارکردگی نے ثابت کیا کہ کپتان کے تمام وعدے اور دعوے غلط تھے اور وہ حکمرانی اور گڈ گورننس کے قابل نہیں ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ تخت لاہور کے باسیوں اور پنجاب کے عوام نے حالیہ الیکشن میں عمران خان کو ان کی اوقات دکھا کر پچھاڑ دیا ہے اوراُنہوں نے ہمارے صوبے کے عوام کیلئے عبرت پکڑنے اور سوچنے کا ایک اور موقع فراہم کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام پیپلز پارٹی اور پنجاب کے لوگ مسلم لیگ (ن) کے پیچھے کھڑے ہوئے جبکہ ہمارے صوبے کو بعض قوتوں اور لوگوں نے تجربہ گاہ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان احتساب کے نام پر مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کی جس روش پر گامزن ہے اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔ اُن کی اخلاقیات کا عالم یہ ہے کہ اُنہوں نے ایک خاتون کے وقار اور احترام کا بھی خیال نہیں رکھا۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ جس ’’چراغ ‘‘ کو عمران خان کرپٹ قرار دیکر سی ایم ہاؤس سے پھینک چکے تھے آج اُسی چراغ کی روشنی سے اپنی ناکام حکومت کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ چراغ والوں نے حکومت میں دوبارہ شمولیت اختیار کر کے ثابت کیا کہ اقتدار ہی ان کا مقصد ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ زلزلہ زدگان کی امداد اور بحالی میں حکومت پسند ، ناپسند کا مظاہرہ کر رہی ہے اور صرف ان لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے جن کی پی ٹی آئی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ وابستگی ہو۔
اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ عمران خان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں اور اب وہ دوسروں کو بے عزت کرنے اوردھمکیوں پر اُتر آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کی ذاتی زندگی کوئی نہیں ہوتی۔ ہر لیڈر پابند ہوتا ہے کہ میڈیا اور عوام کے سوالات کا جواب دیں تاہم موصوف نے ایک سوال کے جواب میں جس رویے کا مظاہرہ کیا وہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے ککہا کہ میں پہلے بھی افغان تھا ، اب بھی ہوں اور آئندہ بھی افغان ہی رہوں گا اس لیے افغانستان کے معاملات سے خود کو لا تعلق نہیں رکھ سکتا۔ دونوں ممالک کی حکومتیں عوام کو بتائیں کہ ڈاکٹر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے بعد جس ہم آہنگی کی ابتداء کی گئی تھی وہ رک کیوں گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن اور استحکام سے مشروط ہے، پاکستان کو کئی محاذوں پر سنگین صورتحال کا سامنا ہے اس لیے حکمران اور ادارے افغانستان اور اپنی قومیتوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائیں۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ انگریزوں نے پشتونوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا اب اگر ایک حصے یعنی فاٹاکو پختونخوا میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ انگریز کی کھینچی گئی لکیروں میں سے ایک لکیر کا خاتمہ ہے اور اے این پی اس عمل کی بھرپور حمایت کرے گی۔
کاریڈور پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مغربی روٹ سے متعتلق اے پی سی کے فیصلے اور اپنے اعلان سے نواز شریف منحرف ہو گئے ہیں تاہم ان کو فاٹا اور پختونخوا کے عوام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔ اسی طرح کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر بھی کسی قسم کی بات یا سودے بازی نہیں کی جائیگی۔
قبل ازیں کنونشن میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور اُنہوں نے شاندار طریقے سے اسفندیار ولی خان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے دوسرے رہنما ایمل ولی خان ، بیرسٹر ارشد عبداللہ ، شکیل بشیر عمر زئی اور کئی دیگر بھی موجود تھے۔

————————–

05 نومبر 2015 ء بروز جمعرات

اے این پی کے مرکزی رہنما سابقہ سینیٹر حاجی محمد عدیل علاج کے لئے پشاور سے اسلام آباد منتقل
حاجی محمد عدیل کی پارٹی رہنماوں سمیت تمام مکاتب فکر سے اپنی جلد صحت یا بی کے لئے دعا کی ا پیل

پشاور (پریس ریلیز )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر حاجی محمد عدیل جو گذشتہ کئی روز سے صاحب فراش ہیں اور سی ایم ایچ پشاور میں زیر علاج تھے ان کو علاج کے لئے پشاور سے کبیر خان ریسرچ ہسپتال اسلام آباد منتقل کر دیاگیا ہے ۔اے این پی کے مرکزی رہنماحاجی محمد عدیل نے تمام پارٹی رہنماوں اور ورکروں سمیت تمام مکاتب فکر سے اپنی جلد صحت یا بی کے لئے دعا کرنے کی ا پیل کی ہے ۔

مورخہ 5نومبر2015ء بروز جمعرات
سادہ لوح عوام کو ورغلاء کر تبدیلی کا نعرہ لگانے والے حواس باختہ ہو چکے ہیں، سردار حسین بابک
نوے دن میں تبدیلی کے دعویداروں نے نیا پاکستان تو دور کی بات پرانے پاکستان اور صوبے کا حلیہ بھی بگاڑ کے رکھ دیا ہے
تبدیلی اور اصلاحات کا نعرہ لگا کر خالی وعدوں کے سہارے حکومت اپنی گرتی ساکھ کو سہارا نہیں دے سکتی،
عمران خان کے دعوؤں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، ڈینگی کی شرح میں اضافے کی رپورٹس پر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی
عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے دعویداروں نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا ہے، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے میں ڈینگی جیسے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں مگر حکومت کو کوئی احساس نہیں اپنی ناقص کارکردگی اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل حکومتی عہدیدار حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ نوے دن میں تبدیلی کے دعویداروں نے نیا پاکستان تو دور کی بات پرانے پاکستان اور صوبے کا حلیہ بھی بگاڑ کے رکھ دیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے کے ہر حصے سے ڈینگی کی شرح میں اضافے کی رپورٹس پر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی اور ہسپتالوں میں ڈینگی جیسے مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے لوگ پرانے پختونخوا کی حکومت کو ترسنے لگے ہیں اور پی ٹی آئی اور عمران خان کو ووٹ دینے پر اب پچھتا رہے ہیں ،اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے سادہ لوح عوام کو ورغلاء کر تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اپنے حواس سے بیگانے ہو چکے ہیں۔ ان اپنا زیادہ وقت غیر ضروری سرگرمیوں اور الزامات میں ضائع کر کے صوبے کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی جا رہی ہے اور صوبے کے عوام کو اب مسلسل انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تبدیلی اور اصلاحات کا نعرہ لگا کر خالی وعدوں کے سہارے حکومت اپنی گرتی ساکھ کو سہارا نہیں دے سکتی اور یہ بات اب نوشتہ دیوار بن کر زبان زدعام ہے کہ عمران خان کے دعوؤں اور نعروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، سردار حسین بابک نے عمران خان کی جانب سے ڈاکٹروں اور میڈیا کے ساتھ ہتک آمیز رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی لیڈر کو اس قسم کا رویہ زیب نہیں دیتا انہوں نے کہا کہ کپتان چونکہ سیاسی طور پر نابالغ ہیں اس لئے وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے دوسروں پر الزامات لگا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں تاہم اب عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے دعویداروں نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا ہے ،صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم موجودگی اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف امراض میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ادویات کے فقدان اور دیگر متعلقہ سہولیات کی عدم فراہمی سے ایسالگ رہا ہے کہ صوبے کے ہسپتال کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے صحت کے اداروں کو ایک این جی او کودینے اور پارٹی کے سینئر رہنما کو مالی فوائد دینے اور دوسروں پر برسنے کی بجائے اگر عمران خان خود احتسابی کا مظاہرہ کرکے صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور وسائل کو اپنی پارٹی ، دوستوں اور تخت اسلام آباد کیلئے استعمال کرنے سے گریز کا راستہ اپنائیں تو بہتر ہوگا۔

مورخہ 4 نومبر2015ء بروز بدھ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ضلع شانگلہ کے فیصل زیب خان کو پارٹی کی صوبائی کونسل کا رکن نامزد کر دیا ہے ،اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کی ہدایت پر ان کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے جاری کر دیا گیا ہے۔

مورخہ : 4.11.2015 بروز بدھ

عوام صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث پرانے پاکستان اور پختونخوا کیلئے ترسنے لگے ہیں’سردار حسین بابک ‘
90 دن میں تبدیلی لانے کے دعویداروں نے پرانے پاکستان اور صوبے کا حلیہ بگاڑکے رکھ دیا ہے
عمران خان دوسروں پر برسنے اور اپنے لوگوں کو نوازنے کی بجائے صوبے کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلمانی لیڈر اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا ڈاکٹروں اور دیگر کے حوالے سے ہتک آمیز رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دیگر شعبوں کی طرح صحت کی ناقص کارکردگی کو چھپانے اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کی جگہ وہ اگر الزامات کی بجائے اپنی اصلاح کرے تو بہتر ہوگا۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ناقص کارکردگی کی وجہ سے صوبائی حکومت کا ہر شعبہ روبہ زوال ہو چکا ہے اور شعبہ صحت کی انتہائی اور مسلسل ناقص کارکردگی کی وجہ سے صوبے کے مریض روزانہ کی بنیاد پر رُل رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم موجودگی اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف امراض میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ادویات کے فقدان اور دیگر متعلقہ سہولیات کی عدم فراہمی سے ایسا اندازہ ہو رہا ہے کہ جیسے صوبے کے ہسپتال کھنڈرات کی شکل میں بدل رہے ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے صحت کے اداروں کو ایک این جی او کودینے اور پارٹی کے سینئر رہنما کو مالی فوائد دینے اور دوسروں پر برسنے کی بجائے اگر عمران خان خود احتسابی کا مظاہرہ کرکے صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور وسائل کو اپنی پارٹی ، دوستوں اور تخت اسلام آباد کیلئے استعمال کرنے سے گریز کا راستہ اپنائے تو بہتر ہوگا۔
اُنہوں نے کہا کہ ڈینگی جیسے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں مگر حکومت کو کوئی احساس نہیں ہو رہا۔صوبے کے ہر حصے سے ڈینگی کی شرح میں اضافے کی رپورٹس پر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنی ناقص کارکردگی اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل حکومتی عہدیدار حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ نوے دن میں تبدیلی لانے والے کے دعویداروں نے نیا پاکستان تو دور کی بات پرانے پاکستان اور صوبے کا حلیہ بھی بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے لوگ پرانے پختونخوا کی حکومت کو ترسنے لگے ہیں اور اپنے کیے پر پچھتا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ووٹ کیوں دیا۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے سادہ لوح عوام کو ورغلاء کر تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اپنے حواس سے بیگانے ہو چکے ہیں۔ ان اپنا زیادہ وقت غیر ضروری سرگرمیوں اور الزامات میں ضائع کر کے صوبے کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی جا رہی ہے اور صوبے کے عوام کو اب مسلسل انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تبدیلی اور اصلاحات کا نعرہ لگا کر خالی وعدوں کے سہارے حکومت اپنی گرتی ساکھ کو سہارا نہیں دے سکتی اور یہ بات اب نوشتہ دیوار بن کر زبان زدوعام ہے کہ عمران خان کے دعوؤں اور نعروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مورخہ : 4.11.2015 بروز بدھ

ایمل ولی خان نے پختون ایس ایف کی تنظیمیں تحلیل کر دیں، آرگنائزنگ کمیٹی کے قیام کیلئے اجلاس طلب
پختون ایس ایف نے طلباء میں سیاسی شعور پھیلانے کیلئے ہر دور میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ایمل ولی خان

پشاور ( پریس ریلیز) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان نے تنظیم کی صوبائی اور ضلعی تنظیموں کو تحلیل کرتے ہوئے 11 نومبر2015 کو آرگنائزنگ کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے تاکہ پختون ایس ایف کی تنظیمی ضروریات کے مطابق تنظیم کو مزید فعال اور متحرک بنایا جائے۔
اس بات کا فیصلہ اُنہوں نے باچا خان مرکز میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران کیا جس میں صوبے بھر سے تنظیم کے عہدیداروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اجلاس کی صدارت پی ایس ایف کے صوبائی صدر سردار فخر عالم نے کی۔
ایمل ولی خان نے اس موقع پر نئی تنظیموں کے قیام کیلئے 11 نومبر کو باچا خان مرکز پشاور میں ایک اور اجلاس طلب کیا جس کے دوران آرگنائزنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔ ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے طلباء اور نوجوانوں میں سیاسی شعور کی آگاہی میں ہر دور میں نمایاں اور قابل فخر کردار ادا کیا ہے اور اس کی فعالیت کو مزید یقینی بنانے کیلئے تمام اقدامات کیے جائینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کی فعالیت وقت کا تقاضا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس اہم تنظیم سے متعلق اُمور پر خصوصی توجہ دیتی آئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نئی نسل کو جاری حالات کے باعث کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور ان چیلنجز سے نئی نسل اور پوری قوم کو نکالنے کی کوششوں میں پختون ایس ایف اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔

مورخہ : 4.11.2015 بروز بدھ

عوام صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث پرانے پاکستان اور پختونخوا کیلئے ترسنے لگے ہیں،سردار حسین بابک

نوے دن میں تبدیلی لانے کے دعویداروں نے پرانے پاکستان اور صوبے کا حلیہ بگاڑکے رکھ دیا ہے

عمران خان دوسروں پر برسنے اور اپنے لوگوں کو نوازنے کی بجائے صوبے کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلمانی لیڈر اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا ڈاکٹروں اور دیگر کے حوالے سے ہتک آمیز رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دیگر شعبوں کی طرح صحت کی ناقص کارکردگی کو چھپانے اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کی جگہ وہ اگر الزامات کی بجائے اپنی اصلاح کرے تو بہتر ہوگا۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ناقص کارکردگی کی وجہ سے صوبائی حکومت کا ہر شعبہ روبہ زوال ہو چکا ہے اور شعبہ صحت کی انتہائی اور مسلسل ناقص کارکردگی کی وجہ سے صوبے کے مریض روزانہ کی بنیاد پر رُل رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم موجودگی اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف امراض میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ادویات کے فقدان اور دیگر متعلقہ سہولیات کی عدم فراہمی سے ایسا اندازہ ہو رہا ہے کہ جیسے صوبے کے ہسپتال کھنڈرات کی شکل میں بدل رہے ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے صحت کے اداروں کو ایک این جی او کودینے اور پارٹی کے سینئر رہنما کو مالی فوائد دینے اور دوسروں پر برسنے کی بجائے اگر عمران خان خود احتسابی کا مظاہرہ کرکے صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور وسائل کو اپنی پارٹی ، دوستوں اور تخت اسلام آباد کیلئے استعمال کرنے سے گریز کا راستہ اپنائے تو بہتر ہوگا۔
اُنہوں نے کہا کہ ڈینگی جیسے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں مگر حکومت کو کوئی احساس نہیں ہو رہا۔صوبے کے ہر حصے سے ڈینگی کی شرح میں اضافے کی رپورٹس پر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنی ناقص کارکردگی اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل حکومتی عہدیدار حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ نوے دن میں تبدیلی لانے والے کے دعویداروں نے نیا پاکستان تو دور کی بات پرانے پاکستان اور صوبے کا حلیہ بھی بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے لوگ پرانے پختونخوا کی حکومت کو ترسنے لگے ہیں اور اپنے کیے پر پچھتا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ووٹ کیوں دیا۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے سادہ لوح عوام کو ورغلاء کر تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اپنے حواس سے بیگانے ہو چکے ہیں۔ ان اپنا زیادہ وقت غیر ضروری سرگرمیوں اور الزامات میں ضائع کر کے صوبے کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی جا رہی ہے اور صوبے کے عوام کو اب مسلسل انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تبدیلی اور اصلاحات کا نعرہ لگا کر خالی وعدوں کے سہارے حکومت اپنی گرتی ساکھ کو سہارا نہیں دے سکتی اور یہ بات اب نوشتہ دیوار بن کر زبان زدوعام ہے کہ عمران خان کے دعوؤں اور نعروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مورخہ : 3.11.2015 بروز منگل

عمران خان اور اُن کی حکومت نے صوبے کو وبائی امراض کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے ’ ایمل ولی خان ‘
حکومت نے دوسرے شعبوں کی طرح صحت کے شعبے کو بھی روایتی سستی اور نااہلی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
ڈینگی وائرس پر قابو نہیں پایا گیا تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے صوبے میں صحت کی ناگفتہ بہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کی حکومت نے جنگ زدہ اور آفت زدہ صوبے کو وبائی امراض کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے اور ان کے اعلانات کہیں پر بھی عملی اقدامات میں تبدیل ہوتے نظر نہیں آرہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ صوبے کے بہت سے اضلاع میں حال ہی میں ہزاروں لوگ ڈینگی وائرس کے باعث شدید متاثر ہوئے، مریضوں کی تعداد ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق تین ہزار سے بڑھ گئی ہے تاہم حکومت مریضوں کی سہولیات کی فراہمی اور وائرس کے تدراک میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈینگی ، پولیو اور دیگر خطر ناک امراض نے صوبے اور فاٹا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جبکہ عمران خان خود اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ہسپتالوں اور علاج معالجے کی سہولیات اور اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی حکومت نے شوکت خانم ہسپتال کے قیام کیلئے زمین فراہم کی تھی اور دیگر معاملات میں بھی ہر ممکنہ مدد فراہم کی تھی، اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ صوبے میں علاج کی سہولیات کو بڑھایا جائے اور سیاسی اختلافات کو رکاوٹ بننے نہیں دیا جائے۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے دوسرے شعبوں کی طرح صحت کو بھی اپنی روایتی تنگ نظر کے باعث سست روی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور ڈینگی کے ایشو پر حکومت کی خاموشی اور غفلت سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صوبائی حکومت کو صوبے کے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ محکمہ صحت کی خود مانیٹرنگ کرینگے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی حکومت اس شعبے کی بہتری میں ناکام ہو چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طورپر ڈینگی کے روک تھام کیلئے اقدمات نہیں کیے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے اور حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

مورخہ : 03.11.2015 بروز منگل

ہارون بلور کی ملک یعقوب اور صحافی زمان محسود پر کرائے گئے حملوں کی مذمت
صوبے اور فاٹا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے ’ ہارون بلور‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے باجوڑ کے مقامی رہنما ملک اورنگزیب اور ٹانک کے صحافی زمان محسود پر کرائے گئے قاتلانہ حملوں اور جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور قاتلوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔
اپنے ایک مذمتی بیان میں اُنہوں نے دونوں واقعات پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے تاہم یہ بات قابل تشویش ہے کہ صوبے اور فاٹا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے اور عوام کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
اُنہوں نے ملک اورنگزیب کے جلوس پر دہشتگردی کی کارروائی کے دوران شہید ہونے والے ملک یعقوب اور ٹانک کے صحافی زمان محسود کے ایصال ثواب کیلئے دُعا کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

مورخہ : 2.11.2015 بروز پیر

متاثرین زلزلہ سے متعلق حکومتی رویہ لاپرواہی اور کام سست روی پر مبنی ہے ’’ سردار حسین بابک ‘‘
حکومتی سستی لاکھوں متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
فاٹا اور صوبے کے عوام کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ تیسرے درجے کے شہری ہیں ’’ ورکرز کنونشن سے خطاب ‘‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ زلزلہ زدگان کی ابتدائی مدد اور بحالی پر حکومتی رفتار انتہائی سست ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 2005 کے زلزلہ کی طرح روایتی غفلت اور لاپرواہی پر مبنی رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
کوہ دامان پشاور میں پارٹی اور این وائی اوکے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہزاروں متاثرین کئی دن گزرنے کے باوجود بحالی کی کوششیں تو درکنار بنیادی امداد سے بھی محروم ہیں اور وہ شدید سردی کی حالت میں اب بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور لاکھوں کی آبادی کو شدید سردی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی اعلانات تاحال عملی ہوتے دکھائی نہیں دے رہے اور متاثرین میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی امداد اور بحالی کیلئے حکومتی اپروچ، پالیسی اور اقدامات قابل گرفت حد تک انتہائی کمزور اور لاپرواہی پر مبنی ہیں۔ امدادی کاموں کی فراہمی کا سلسلہ بھی سست ہے جبکہ سروے کا عمل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس قسم کے رویوں سے نہ صرف یہ کہ متاثرین کی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے بلکہ یہ ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی رویہ ہے جو کہ ریاستی ادارورں اور حکمرانوں نے 2005 کے زلزلے اور اس کے بعد آئی ڈی پیز کے معاملے میں اختیار کیا ہوا تھا اور لاکھوں لوگ اب بھی بحالی اور امداد کے منتظر ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا اور فاٹا ، پختونخوا کے عوام کو پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی زلزلہ زدگان اور آئی ڈی پیز کے ساتھ کھڑی ہے اور ان سے قریبی رابطے میں ہے تاہم حکومت اپنے رویے پر نظر ثانی کرتے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں ورنہ عوام مزاحمت پر مجبور ہوں گے اور ایسی صورت میں اے این پی حسب سابق اپنے عوام کیساتھ کھڑی نظر آئے گی۔ ورکرز کنونشن سے ان کے علاوہ خوشدل خان ، ملک نسیم خان اور سنگین خان ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ 3 نومبر2015ء بروز منگل

افضل خان لالہ ایک نڈر اور بے باک لیڈر تھے ، سردار حسین بابک
باچا خان مرکز میں مرحوم لیڈر کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کا اہتمام، پارٹی لیڈروں و کارکنوں کی شرکت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور امن کے داعی مرحوم افضل خان لالہ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے باچا خان مرکز پشاور میں ختم القرآن کا اہتمام کیا گیا ، اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک سمیت شگفتہ ملک ، منور فرمان این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ ، پختون ایس ایف کے کارکن پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،اس موقع پر مرحوم کیلئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت بھی کی گئی ۔ سردار حسین بابک نے مرحوم کی قوم ، اور پارٹی کیلئے گرانقدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل خان لالہ قومی وحدت کے ترجمان اور ایک نڈر بیباک سیاستدان تھے اور امن کے قیام کیلئے ان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ، انہوں نے کہا کہ سوات میں امن کے قیام کیلئے افضل خان لالہ نے جو خدمات انجام دیں انہیں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ امن کے دشمنوں نے کئی بار مرحوم افضل خان لالہ پر حملے کئے لیکن اللہ نے انہیں اپنی امان میں رکھا تاہم انہوں نے امن کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں اور دشمنوں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ دھرتی پر امن کے قیام کیلئے قربانیاں دینا اے این پی کا وطیرہ رہا ہے ، اور ماضی کی طرح مستقبل میں اے این پی اپنی کاوشیں جاری رکھے گی ۔

مورخہ : 03.11.2015 بروز منگل

افغان صدر اشرف غنی و اعلیٰ حکام کے اسفندیار ولی خان کے نام تعزیتی پیغامات
افغانستان کے سفیر جانان موسیٰ زئی نے تعزیتی پیغامات اے این پی کے مرکزی قائد کو پہنچائے۔

پشاور (پریس ریلیز) پاکستان میں مقیم افغانستان کے سفیر جا نا ن موسیٰ زئی نے اے این پی کے مرحوم رہنما ء بزرگ سیا ستدان اور قوم پرست خدائی خدمت گار محمد افضل خان لا لا کے انتقال پر عوامی نیشنل پا ر ٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ افغان سفیر نے اے این پی کے مرکزی صدر کو افغان صدر اشرف غنی ،سابق صدر حامد کرزئی اور افغانستان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اتمر کے تعزیتی پیغامات بھی پہنچائے جن میں اُنہوں نے اے این پی کی قیادت اور مرحوم افضل خان لالا کی سوگوار فیملی سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے اس موقع پر افغانستان قونصل خانے کے کونسل جنرل سید محمد ابراہیم خلیل نے بھی مرحوم افضل خان لا لا کی وفات پر اے این پی کے مرکزی قائد اسفندیار ولی خان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افضل خان لالا کی وفات پختون قوم کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے اور پختون قوم ایک نڈر اور بہادر رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔

مورخہ03نومبر2015ء بروز منگل

افضل خان لالہ کی موت اے این پی اور تمام قوم پرست جمہوریت قوتوں کیلئے عظیم سانحہ ہے، سنگین خان ایڈوکیٹ
پشتون قوم اور اے این پی امن کے عظیم داعی سے محروم ہو گئی ہیں ان کا انتقال بڑا نقصان ہے،

پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ ، جنرل سیکرٹری حسن بونیری، صوبائی ترجمان بہرام خان ایڈوکیٹ نے پارٹی کے سینئر رہنما اور امن کے داعی افضل خان لالہ کے انتقال پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں سنگین خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ مرحوم افضل خان لالہ ایک مدبر سیاستدان اور امن کے اصل داعی تھے اور پختون قوم ایک نڈر سپاہی سے محروم ہو گئی ہے ، انہوں نے مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل خان لالہ وہ نڈر انسان ہیں جنہوں نے سوات میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور امن کیلئے ان کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ امن کے دشمنوں نے مرحوم پر کئی بار حملے کئے تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ رہے اس کے باوجود وہ ثابت قدم رہے اور سوات میں امن کے قیام کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر کوششیں جاری رکھیں، انہوں نے کہا کہ بزرگ رہنماء اور عظیم پشتون قوم پرست رہنماء افضل خان لالہ کی وفات صرف عوامی نیشنل پارٹی کا نہیں بلکہ پشتون قوم پرستوں کا نقصان ہے افضل خان لالہ پوری زندگی جمہوریت کی بالا دستی کے لیے جدوجہد کرتے رہے ان کی وفات سے پارٹی ایک عظیم رہنماء سے محروم ہوگئی ہے ،صوبائی صدر نے ان کی گرانقدر خدمات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل خان لالہ مرحوم انتہاء پسندی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے بد ترین حالات میں بھی وہ میدان عمل میں سرگرم رہے ،انہوں نے کہا کہ افضل خان لالہ کی وفات جمہوریت پسند اور ترقی پسند قوتوں کے لیے کسی عظیم سانحہ سے کم نہیں ہے وہ آخری سانس تک پشتون قومی تحریک اور پشتون قومی وحدت کے علمبردار رہے، انہوں نے کہا کہ افضل خان لالہ کی پارٹی اور پشتون قوم کیلئے خدمات اور امن کیلئے قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی ، انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل کی دعا بھی ۔

مورخہ : 2.11.2015 بروز پیر

باچا خان مرکز میں محمد افضل خان لالہ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا اہتمام
اپنی مٹی اور قوم کیلئے خان لالہ کی خدمات اور کردار کو مدتوں یاد رکھا جائے گا ’’ سردار حسین بابک ‘‘

پشاور (پریس ریلیز) باچا خان مرکز پشاور میں منگل کی صبح گیارہ بجے عوامی نیشنل پارٹی کے مرحوم رہنما ، بزرگ سیاستدان اور خدائی خدمتگار محمد افضل خان لالہ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا جائیگا جس میں کارکنوں کے علاوہ پارٹی کے اہم رہنما اور عہدیدار بھی شریک ہونگے۔
پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کارکنوں اور عہدیداروں کو تاکید کی ہے کہ وہ قرآن خوانی میں بھرپور شرکت کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ محمد افضل خان لالہ کی اس مٹی ، قوم اور پارٹی کیلئے خدمات تاریخ کاحصہ ہیں اور عوام ان کو مدتوں یاد رکھیں گے۔

مورخہ : 2.11.2015 بروز پیر

متاثرین زلزلہ سے متعلق حکومتی رویہ لاپرواہی اور کام سست روی پر مبنی ہے ’’ سردار حسین بابک ‘‘
حکومتی سستی لاکھوں متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
فاٹا اور صوبے کے عوام کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ تیسرے درجے کے شہری ہیں ’’ ورکرز کنونشن سے خطاب ‘‘

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ زلزلہ زدگان کی ابتدائی مدد اور بحالی پر حکومتی رفتار انتہائی سست ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 2005 کے زلزلہ کی طرح روایتی غفلت اور لاپرواہی پر مبنی رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
کوہ دامان پشاور میں پارٹی اور این وائی اوکے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہزاروں متاثرین کئی دن گزرنے کے باوجود بحالی کی کوششیں تو درکنار بنیادی امداد سے بھی محروم ہیں اور وہ شدید سردی کی حالت میں اب بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور لاکھوں کی آبادی کو شدید سردی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی اعلانات تاحال عملی ہوتے دکھائی نہیں دے رہے اور متاثرین میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی امداد اور بحالی کیلئے حکومتی اپروچ، پالیسی اور اقدامات قابل گرفت حد تک انتہائی کمزور اور لاپرواہی پر مبنی ہیں۔ امدادی کاموں کی فراہمی کا سلسلہ بھی سست ہے جبکہ سروے کا عمل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس قسم کے رویوں سے نہ صرف یہ کہ متاثرین کی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے بلکہ یہ ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی رویہ ہے جو کہ ریاستی ادارورں اور حکمرانوں نے 2005 کے زلزلے اور اس کے بعد آئی ڈی پیز کے معاملے میں اختیار کیا ہوا تھا اور لاکھوں لوگ اب بھی بحالی اور امداد کے منتظر ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا اور فاٹا ، پختونخوا کے عوام کو پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی زلزلہ زدگان اور آئی ڈی پیز کے ساتھ کھڑی ہے اور ان سے قریبی رابطے میں ہے تاہم حکومت اپنے رویے پر نظر ثانی کرتے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں ورنہ عوام مزاحمت پر مجبور ہوں گے اور ایسی صورت میں اے این پی حسب سابق اپنے عوام کیساتھ کھڑی نظر آئے گی۔ ورکرز کنونشن سے ان کے علاوہ خوشدل خان ، ملک نسیم خان اور سنگین خان ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔

مورخہ یکم نومبر2015ء بروز اتوار
اے این پی کے بزرگ رہنماء اور ممتاز قوم پرست محمد افضل خان لا لا انتقال کر گئے
درشخیلہ سوات میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں سپرد خاک ‘جنازے میں اسفندیا رولی‘کور کمانڈر پشاور اور اعلی سیاسی وحکومتی کی شرکت
وزیر اعظم نواز شریف‘آصف علی زرداری ‘کور کمانڈر ‘گورنر ‘وزیر اعلی خیبر پختونخوا ‘حامد کرزئی اور متعدد دیگر لیڈروں کا شاندار الفاظ میں خراج عقیدت1970ء میں صوبائی وزیر جبکہ 1993ء اور1996ء میں وفاقی وزیر رہے ۔2007ء میں طالبان کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کیبزرگ رہنما ممتاز قوم پرست لیڈر اور سابق صوبائی ، وفاقی وزیر محمد افضل خان ( خان لالہ) اتوار کی صبح راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں علالت کے باعث 89سال کی عمر میں انتقال کر گئے ان کے جسد خاکی کو بعد میں بعد ازاں ان کے آبائی رہائش گاہ درشخیلہ ضلع سوات منتقل کیا گیا جہاں ہزاروں افراد کی موجودگی میں سپر دخاک کر دیا گیا ، وزیر اعظم نواز شریف ، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان ، افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی ،مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، مرکزی رہنما افراسیاب خٹک ، صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ،کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان ، گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ،پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری ان کی صاحبزادی بختاور زرداری ، ملالہ یوسفزئی اور سمیت متعدد دیگر سیاسی شخصیات نے محمد افضل خان لالہ کے سیاسی خدمات اور دہشتگردی کے خلاف عملی جدوجہد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے الگ الگ تعزیتی بیانات میں ان کی موت کو عظیم سانحہ قرار دیا ،اور ان کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر کی دعا کی ہے ، دریں اثنا اتوار کی سہ پہر درشخیلہ سوات میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں مرحوم کی نماز جنازہ ادا ک گئی جس میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین دیگر رہنماؤں اور اعلیٰ ترین حکومتی حکام کی بڑی تعداد شریک ہوئی ،جبکہ کور کمانڈر پشاور بھی جنازہ میں شریک ہوئے ،مرحوم افضل خان لالہ 1931ء کو سوات میں پیدا ہوئے زمانہ طالبعلمی میں انہوں نے ایک قوم پرست کے طور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور بہت متحرک رہے انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور گورنمنٹ کالج لاہور اور لاء کالج پشاور سے تعلیم حاصل کی ، وہ سوات بار ایسوسی ایشن کے بانی صدر بھی رہے،بعد ازاں وہ ان کا شمار خان عبدالولی خان کے قریبی ساتھیوں میں ہونے لگا وہ1970میں پہلی دفعہ صوبائی اسمبلی ممبر منتخب ہوئے اور نیشنل عوامی پارٹی کی نمائندگی میں صوبائی کابینہ میں زراعت اور بلدیات کے وزیر بھی رہے مختلف ادوار میں این ڈی پی اور نیشنل پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہے وہ متعدد باراے این پی کے صوبائی صدر بھی رہے سال 1990ء کو وہ اے این پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے جبکہ 1992میں بھی وہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ1993اور 1996کے دوران وہ وفاقی وزیر بھی رہیبعد ازاں افضل خان لالہ سے پارٹی کے اندر اور اس کے باہر عوامی سطح پر سیاسی شعور اجاگر کی جدوجہد کیلئے خود کو وقف کیا اور پوری دنیا میں ان کو ایک مستقل مزاج اور سنجیدہ سیاستدان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، محمد افضل خان لالہ پانچ کتابوں کے مصنف بھی رہیجبکہ انہوں نے مختلف ادوار میں پشتونوں کے مختلف ایشوز پر سیمینار بھی منعقد کرائے وہ قوم پرستوں کے اتحاد ’’ پونم ‘‘ کے مرکزی سربراہ بھی رہے ، محمد افضل خان لالہ کو 2007-8ء کے دوران اس وقت ملکی اور عالمی شہرت حاصل ہوئی جب وہ ملاکنڈ ڈویژن میں طالبان کے ظہور کے بعد سیاسی میدان میں ان کے خلاف ڈٹ گئے اور انہوں نے دوسرون کی طرھ علاقہ چھوڑنے سے انکار کیا اسی مزاحمت پر 2007میں ان پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوئے جبکہ ان کے دو ساتھی شہید ہو گئے ، سال2008-9ء کے دوران ان کے گھر پر ایک درجن سے زائد حملے کئے گئے جبکہ ان کے کئی رشتہ داروں اور ساتھیوں کو شہید کیا گیا مگر وہ اپنے عوام کے ساتھ رہے ، بعد ازاں حکومت پاکستان نے ان کو متعدد سرکاری اعزازات سے بھی نوازا ، گزشتہ کئی ہفتوں سے ان کی طبیعت خراب تھی

مورخہ یکم نومبر2015ء بروز اتوار

افضل خان لالہ کی موت اے این پی اور تمام قوم پرست جمہوریت قوتوں کیلئے عظیم سانحہ ہے، اسفندیار ولی خان
پشتون قوم اور اے این پی امن کے عظیم داعی سے محروم ہو گئی ہیں ان کا انتقال بڑا نقصان ہے،

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پارٹی کے سینئر رہنما کہنہ مشق سیاستدان اور امن کے داعی افضل خان لالہ کے انتقال پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مرحوم افضل خان لالہ ایک مدبر سیاستدان اور امن کے اصل داعی تھے اور پختون قوم ایک نڈر سپاہی سے محروم ہو گئی ہے ، انہوں نے مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل خان لالہ وہ نڈر انسان ہیں جنہوں نے سوات میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور امن کیلئے ان کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ امن کے دشمنوں نے مرحوم پر کئی بار حملے کئے تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ رہے اس کے باوجود وہ ثابت قدم رہے اور سوات میں امن کے قیام کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر کوششیں جاری رکھیں، انہوں نے کہا کہ بزرگ رہنماء اور عظیم پشتون قوم پرست رہنماء افضل خان لالہ کی وفات صرف عوامی نیشنل پارٹی کا نہیں بلکہ پشتون قوم پرستوں کا نقصان ہے افضل خان لالہ پوری زندگی جمہوریت کی بالا دستی کے لیے جدوجہد کرتے رہے ان کی وفات سے پارٹی ایک عظیم رہنماء سے محروم ہوگئی ہے ، مرکزی صدر نے ان کی گرانقدر خدمات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل خان لالہ مرحوم انتہاء پسندی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے بد ترین حالات میں بھی وہ میدان عمل میں سرگرم رہے ،انہوں نے کہا کہ افضل خان لالہ کی وفات جمہوریت پسند اور ترقی پسند قوتوں کے لیے کسی عظیم سانحہ سے کم نہیں ہے وہ آخری سانس تک پشتون قومی تحریک اور پشتون قومی وحدت کے علمبردار رہے، مرکزی صدر نے کہا کہ افضل خان لالہ کی پارٹی اور پشتون قوم کیلئے خدمات اور امن کیلئے قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی ، انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل کی دعا بھی ۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']