Nov 072018
 

نوجوان نسل غنی خان کی سوچ و فکرعام کرنے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرے، اسفندیار ولی خان
بدقسمتی سے نصف سے زیادہ پختون پشتو کے نامور شاعر محقق ،لکھاری اور مجسمہ ساز غنی خان کی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ 
دنیا میں ترقی کیلئے اپنے اسلاف کی قربانیوں اور خدمات سے استفادہ ضروری ہے۔
حکومت روس نے یادگار تعمیر کر کے غنی خان کو جو عزت دی ہے وہ تمام افغانوں کیلئے قابل فخر ہے۔
پختون قومی تحریک سے وابستگی کی وجہ سے غنی خان کو وہ سرکاری اعزازات نہیں ملے جس کے وہ حقدار تھے۔
غنی خان پشتو شاعری کے جدیدیت کے بانی ہیں،یونیورسٹی آف ورونس روس میں غنی خان کی یادگار کے افتتاح کے موقع پر خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے نصف سے زیادہ پختون پشتو کے نامور شاعر محقق ،لکھاری اور مجسمہ ساز غنی خان کی تعلیمات سے ناواقف ہیں اور اس کی بنیادی وجہ پشتو زبان سے ان کی دوری ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف ورونس روس میں غنی خان کی یادگار کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ دنیا میں ترقی کیلئے اپنے اسلاف کی قربانیوں اور خدمات سے استفادہ ضروری ہے اور جو قومیں اپنے اسلاف اور اپنی زبان رد کر دیتی ہیں وہ قوم ختم ہو جاتی ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ حکومت روس نے یادگار تعمیر کر کے غنی خان کو جو عزت دی ہے وہ تمام افغانوں کیلئے قابل فخر ہے،انہوں نے کہا کہ قومی تحاریک میں شعراء کا کردار کلیدی ہوتا ہے ،انقاب فرانس سے لے کر انقلاب روس اور خدائی خدمتگاری تک کئی تحریک میں شعراء نے اہم کردار ادا کیا ہے ،اور اقوام کی ذہنی ترقی اور اتحاد کی وجہ غنی خان جیسے شعراء ہوتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پختون قومی تحریک سے وابستگی کی وجہ سے غنی خان کو وہ سرکاری اعزازات نہیں ملے جس کے وہ حقدار تھے تاہم پختون من حیث القوم آج بھی ان پر فخر کرتے ہیں اور میرے لئے یہ انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ روس میں غنی خان کی یادگار کا افتتاح کر رہا ہوں ، انہوں نے کہا کہ دنیا اس بات کی قائل ہے کہ غنی خان صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی بھی تھے ،انہوں نے کہا کہ پختون قومی تحریک کو غنی خان کی شاعری سے استفادہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ غنی خان طبقاتی نظام کے خلاف تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنی شاعری میں کیا ہے غنی خان پشتو شاعری کے جدیدیت کے بانی ہیں غنی خان کا مختلف انداز شاعری انہیں باقی شاعروں سے ممتاز کرتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں جدت میں انتہاؤں کو عبور کیا ہے، قوم کے نوجوانوں کو غنی خان کی سوچ و فکر کو پھیلانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنا ہوں گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']