Nov 022018
 

اسفندیارولی خان کی مولانا سمیع الحق کے قتل کی مذمت
جید عالم د ین کو اس طرح قتل کرنا کھلے عام دہشت گردی ہے۔
اس واقعے کا اثر براہ راست پاکستان کے امنیت پر پڑے گا۔
مولانا کے پیروکار مشکل کی اس گھڑی میں صبر کا دامن تھامے رکھیں۔
جہاں جید عالم اور سیاسی راہنما محفوظ نہ ہوں، وہاں عام شہری کیا محسوس کرے گا؟
پاکستان کی موجودہ صورتحال سے باچا خان کے تعلیمات پر عمل کرکے نکلا جاسکتا ہے۔
ریاست پاکستان بلاتفریق دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی کرے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ روس کے دارالخلافہ ماسکو سے جاری کردہ اپنے ٹیلی فونک بیان میں اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کا سن کر ان کو بہت دکھ ہوا۔ نظریاتی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ملک کے ایک جید عالم کو اس طرح قتل کرنا کھلے عام دہشت گردی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی نے ہر محاذ پر نہ صرف دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے بلکہ دہشت گرد کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی ہے۔
اسفندیارولی خان نے کہا کہ مولانا سمیع الحق پر ایسے وقت میں حملہ کیا گیا ہے جس کا اثر براہ راست پاکستان کے امن وامان کی صورتحال پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کے کارکنان اور طلباء کو مشکل کی اس گھڑی میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ انہوں نے حکومت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پر جید علماء و سیاسی راہنما محفوظ نہ ہوں، وہاں پر عام شہری کو کس طرح یہ احساس ہوسکتا ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال سے باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے ہی نکلا جاسکتا ہے کیونکہ دہشت گرد کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ کوئی شناخت۔انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ پاکستان کے موجودہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے ریاست کو بلاتفریق دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی، کیونکہ دہشت گرد کبھی ایک شکل میں اور کبھی دوسری شکل میں ملک کے امن سے کھواڑ کھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قوم کو کھوکھلے نعروں میں مصروف کررکھا ہے۔ 
اسفندیارولی خان نے مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مولانا مرحوم کی معفرت کی لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']