Oct 082018
 

مہذب معاشروں میں طلباء پر تشدد کے واقعات کی مثال نہیں ملتی،سردار حسین بابک
پشاور یونیورسٹی میں طلباء پر تشدد اور لاٹھی چارج صوبے کی تاریخ کا بدترن واقعہ ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ جامعہ میں تین ماہ قبل سے دفعہ144کے نفاذ کی وضاحت کرے ۔
غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ اور اپنے جائز حقوق کیلئے پرامن احتجاج کرنا طلبا کا بنیادی حق ہے۔
پختون ایس ایف اے این پی کا ہراول دستہ ہے،ایمل ولی خان
اے این پی پشاور یونیورسٹی میں طلباء پر ہونے والے تشدد پر خاموش نہیں رہے گی۔
نوجوان اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے رہیں۔
فاٹا انضمام کے حوالے سے بہت کام باقی ہے، باچا خان مرکز میں پختون ایس ایف کی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی ایڈوائزر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مہذب معاشروں میں طلباء پر تشدد کے واقعات کی مثال نہیں ملتی اور پشاور یونیورسٹی کا واقعہ صوبے کی تاریخ کا بدترن واقعہ ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پختون ایس ایف کی صوبائی کابینہ اورپشاور یونیورسٹی کیمپس کی جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ، پختون ایس ایف کے صوبائی صدر وسیم خٹک نے اجلاس کی صدارت کی ، اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ پختون ایس ایف کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین حق نواز خٹک اور سیکرٹری عمران مومند صوبائی جنرل سیکرٹری عثمان شاہ بھی موجود تھے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ جامعہ میں تین ماہ قبل سے دفعہ144کے نفاذ کی وضاحت کرے ، انہوں نے کہا کہ نصاب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور اپنے جائز حقوق کیلئے پرامن احتجاج کرنا طلبا کا بنیادی حق ہے اور ان کے حقوق پر قدغن لگانا انتظامیہ کو زیب نہیں دیتا ، انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ علم اور شعور کی آگاہی کیلئے مختلف تقاریب کا انعقاد کریں اور طلباء کے حقوق کیلئے اپنی آواز بلند کرتے رہیں ،
اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون ایس ایف اے این پی کا ہراول دستہ ہے اور طلباء پر ہونے والے تشدد پر اے این پی خاموش نہیں رہے گی، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کے پیروکار عدم تشدد کے فلسفے پر کاربند ہیں تاہم یونیورسٹی میں ہونے والے واقعہ کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے طویل عرصہ قبل فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حوالے سے کوششیں شروع کیں اور سب سے پہلے اس اہم ایشو پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کی اور ان کوششوں کے نتیجے میں آج بڑی حد تک کامیابی سامنے آئی ہے البتہ اس حوالے سے ابھی بہت سا کام باقی ہے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ نوجوان اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ مرکوز رکھیں اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے رہیں ، انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنے اسلاف کو فراموش کردیں وہ ترقی کی منازل کبھی طے نہیں کر سکتیں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']