Oct 082018
 

ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، احتساب وزیر اعظم اور ان کی ٹیم سے شروع کیا جائے،میاں افتخار حسین
وزیراعظم کا رویہ قابل افسوس اور عہدے کے شایان شان نہیں تھا ،احتساب نے انتقام کی شکل اختیار کر لی ہے۔
ملکی ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام نہیں کریں گے تو ملک بڑی تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔
وزیر اعظم کو مثبت رویہ اور اخلاق کے حوالے سے ڈکٹیٹ کیا جائے ،مارشل لینگویج سے ملک کا امیج تباہ ہو رہا ہے۔
نیب پشاور بی آر ٹی پر خاموش ہے ، نیب زدہ ٹھیکیدار کو نوازنے کیلئے ٹھیکہ کیوں دیا گیا؟۔
حکومت نے صرف پچاس دن میں ملک کے9ارب ڈالر ڈبو دیئے ہیں۔
داخلہ و خارجہ اور ناکام معاشی پالیسیوں کی بدولت غریب آدمی کی زندگی داؤ پر لگ چکی ہے۔
کشکول توڑنے کے دعوے کرنے والے آئی ایم ایف کی گود میں بیٹھنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا رویہ قابل افسوس اور عہدے کے شایان شان نہیں تھا ،احتساب نے انتقام کی شکل اختیار کر لی ہے ، ملکی ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام نہیں کریں گے تو ملک بڑی تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔وزیر اعظم کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 50روز میں پی ٹی آئی کی حکومت نے ملک کے9ارب روپے ڈبو دیئے ہیں،ملکی زر مبادلہ17ارب ڈالر سے کم ہو کر8ارب تک پہنچ چکا ہے جن میں سے6ارب صرف بیرون ملک پاکستانیوں کے ہیں، انہوں نے کہا کہ 2013میں نواز شریف نے حکومت سنبھالی تو خزانے میں 3ارب ڈالر تھے جو بعد میں حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھ کر24ارب ڈالر تک پہنچے ،جبکہ موجودہ حکومت نے مختصر ترین عرصہ میں ملک کو دیوالیہ کر دیا ، انہوں نے کہا کہ فیصلے کرنے کا اختیار موجودہ وزیر اعظم کے پاس نہیں اور کوئی بھی تقریر ڈکٹیشن کے بغیر نہیں کر سکتے تاہم بریفنگ دینے والے وزیر اعظم کو مثبت رویہ اور اخلاق کے حوالے سے بھی ڈکٹیٹ کریں ،مارشل لینگویج سے ملک کا امیج تباہ ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ نیب وزیر اعظم کے ماتحت ہوتا تو ہی بہتر تھا کیونکہ خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن کی حالت قوم دیکھ چکی ہے جسے کروڑوں روپیہ لگا کر سیاسی انتقام کیلئے بنایا گیا اور بالآخر وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ، نیب ختم ہو جائے تو سیاسی انتقام بھی ختم ہو جائے گا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نواز شریف نے تحقیقات کے بعد جس کمپنی کو بلیک لسٹ کیا ،پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے نیب زدہ شخص کو نوازنے کیلئے اسے بی آرٹی کا ٹھیکہ دے دیا ،انہوں نے کہا کہ ملک میں سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے اور اس کا آغاز خود وزیر اعظم ،وزیر دفاع پرویز خٹک ، علیم خان اور جہانگیر ترین سمیت پی ٹی آئی میں موجود کرپٹ لوگوں سے کیا جانا چاہئے ،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کل تک کشکول توڑنے کے دعوے کرنے والے آج آئی ایم ایف کی گود میں بیٹھنے کیلئے پر تول رہے ہیں اور موجودہ حکومت کی ناتجربہ کاری اور غلط معاشی پالیسیوں سے غریب آدمی کی زندگی داؤ پر لگ چکی ہے،انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات ختم ہو چکے ہیں اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اقتدار میں لانے والے سوچیں کہ اس کیلئے ملک کو کتنی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی،میاں افتخار نے کہا کہ ملک میں دوہرا نظام رائج ہے ، حکومت کی اپنی کرپٹ مافیا کو کلین چٹ دے دی گئی ہے جبکہ مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، نواز شریف کے خلاف کیس پانامہ پر شروع ہوا اور اقامہ پر سزا دی گئی جبکہ شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کر کے کسی اورکیس میں دھر لیا گیا،

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']