Oct 052018
 

اپوزیشن سے خائف حکومت انتقامی کاروائیوں پر اتر آئی ہے، میاں افتخارحسین
نیب کی جانبداری سے نالاں تحریک انصاف نے پختونخوا میں احتساب کمیشن بنائی ۔
لگتا ہے، سوروزہ پلان میں سیاسی مخالفین کی گرفتاریاں سرفہرست ہیں۔
کمزور حکومتی پوزیشن اور حزب اختلاف کی ہم اہنگی نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
مزید گرفتاریوں کی نوید سے لگتا ہے کہ حکومت پہلے سے اس کیلئے تیاری کرچکی ہے۔
انتقامی کاروائیاں پاکستان اور پاکستانی سیاست کیلئے المیئے سے کم نہیں ہونگے۔
عمران یکطرفہ کاروائیوں سے باز آجائے، نیب کو اپنے مفادات کیلئے استعمال نہ کرے۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری نے حکومت کی یکطرفہ انتقامی کاروائیوں کا پول کھول دیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ موجودہ حکومت کے سو روزہ پلان میں سیاسی مخالفین کی گرفتاریاں سرفہرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں جب نیب کاروائی کرتا تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین الزام لگایا کرتے کہ نیب سے اپنی مرضی کے فیصلے صادر کئے جارہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے ایک الگ احتساب کمیشن تشکیل دیا تھا۔ میاں افتخارحسین نے سوال کیا کہ ماضی میں نیب کی جانبداری سے نالاں عمران خان اب خود یہی کام نیب سے لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ترجمان نے مزید گرفتاریوں کی نوید سناکر بتادیا ہے کہ سیاسی مخالفین سے نبٹنے کیلئے ان کی تیاریاں پہلے سے ہی مکمل ہیں اور اب یہ تاثر پختہ ہوچلا ہے کہ عمران خان انتقامی کاروائیوں پر اتر آئے ہیں جو کسی طرح بھی پاکستان اور پاکستانی سیاست کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیب شفافیت کے ساتھ احتساب کیلئے استعمال ہونا چاہئے اور اس کے اقدامات سے جانبداری کا تاثر نہیں جانا چاہئے۔ انہو ں نے کہا کہ حکومت کے پاس اکثریت بہت کم ہے اور حال ہی میں متحدہ اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے رابطوں سے موجودہ حکومت خائف ہے اور ایک طرف انہوں نے اپنی جولی میں نیب زدہ الیکٹیبلز کو جگہ دی ہے اور دوسری جانب سیاسی مخالفین کو ہراساں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کسی رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل سپیکر قومی اسمبلی سے اجازت لینی پڑتی ہے اور ایسی صورت میں شہباز شریف کو اپنی گرفتاری کا پتہ ہوتا لیکن شائد ایسا نہیں کیا گیا اور ان کے اپنے اسپیکر اب مجبوراً کہہ رہے ہیں کہ انہیں مطلع کیا گیا تھا حالانکہ حقیقت اس کے برعکس لگ رہی ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']