Sep 222018
 

آرٹیکل 6کی پرواہ کئے بغیر کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرتے رہیں گے، اسفندیار ولی خان

ہم ڈیموں کے مخالف نہیں تاہم ڈیمز اور کالاباغ میں بہت فرق ہے،کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

ملک میں سول ملٹری تعلقات میں موجود تناؤ ختم ہونا چاہئے ۔

ہم انتقال اقتدار کے ساتھ انتقال اختیارات کے حق میں ہیں۔

تین نسلوں سے آباد افغانیوں کو شہریت سے محروم رکھا گیا ، شہریت کا مطالبہ اے این پی کا ہے۔

دھاندلی کے خلاف تحریک چلی تو اے این پی پیش پیش ہو گی۔

بیگم کلثوم نواز نے مشرف کی آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔لاہور میں نواز شریف سے ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پأرٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت آرٹیکل6کے باوجود کرتے رہیں گے ،ہم ڈیموں کے مخالف نہیں تاہم ڈیمز اور کالاباغ میں بہت فرق ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی وفات پر ان سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور ، مرکزی ترجمان زاہد خان اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور احسن اقبال سمیت دیگر قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے، اسفندیار ولی خان نے بیگم کلثوم نواز کی قربانیوں اور آمریت کے خلاف جدوجہد پر انہیں خراج عقیات پیش کیا اور کہا کہ پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح، بیگم نصرت بھٹو،بینظیر بھٹو اور بیگم کلثوم نواز نے جمہوریت کیلئے جو کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے،انہوں نے کہا کہ مرحومہ بیگم کلثوم نے مشرف کی آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن وہ ڈکٹیٹر شپ کے سامنے جھکیں ،میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اپنا مؤقف دہرایا اور کہا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ کرے کہ ملک میں سول ملٹری تعلقات میں موجود تناؤ ختم ہو جائے ،انہوں نے کہا کہ ہم انتقال اقتدار کے ساتھ انتقال اختیارات کے حق میں ہیں ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں کبھی بھی اختیارات کے بغیر وزیر اعظم بننے کو ترجیح نہ دیتا،پاک بھارت مذاکرات منسوخی پر وزیر اعظم کے جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کپتان نے سیاست سے شائستگی ختم کر دی ہے اور ان کا لہجہ ان کے عہدے کے شایان شان نہیں،افغانیوں اور بنگالیوں سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ اے این پی کا سالہا سال سے مطالبہ رہا ہے کہ جن کی تین نسلیں اس ملک میں آباد ہوئیں وہ آج بھی شہریت سے محروم ہیں جبکہ اس کے برعکس مشرقی سرحد سے آنے والے اقتدار میں بھی حصہ دار ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ن لیگ کا کردار انتہائی اہم ہے اور ن لیگ کیلئے نواز شریف کا کردار ضروری ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دھاندلی سے متعلق کمیٹی نے تحریک چلانے کا اعلان کیا تو اے این پی اس میں بھرپور شرکت کرے گی،آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان منتخب نہیں سلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں اور جو انہیں یہاں تک لانا چاہتے تھے انہوں نے اسے مسلط کر دیا ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']