Sep 242018
 

پریس کانفرنس

اعتدال پسند طبقات پر جبری فیصلے مسلط کرنے کے نتائج بھیانک ہونگے، اسفندیار ولی خان 
ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
مسائل جنگ سے نہیں بلکہ مذاکرات اور بات چیت سے حل کئے جا سکتے ہیں۔
بھارت نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو اے این پی قوم کے شانہ بشانہ میدان میں ہوگی۔
ملک میں تین نسلوں سے آباد افغان باشندوں کو پاکستانی شہریت ان کا بنیادی حق ہے۔
انسانی مسئلہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کیا جائے۔
متنازعہ معاملات کو چھیڑنے اور صرف پنجاب کو پاکستان تصور کرنے سے گریز کیا جائے۔
آرٹیکل6کیلئے تیار ہیں لیکن کالاباغ ڈیم کی حمایت کسی صورت نہیں کر سکتے۔
اے این پی ضمنی الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اور کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑے گی ۔
دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جو بھی فیصلہ کرے گی اے این پی اس کا ساتھ دے گی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کیلئے بارڈر کھولا جانا چاہئے۔باچا خان مرکز میں پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہیں ، مسائل جنگ سے نہیں بلکہ مذاکرات اور بات چیت سے حل کئے جا سکتے ہیں، بھارت نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو اے این پی قوم کے شانہ بشانہ میدان میں ہوگی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کی مذمت کی تاہم انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم کو نازیبا الفاظ زیب نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خطے میں ماسوائے چین کے کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں اور یہ خطے کے امن کی راہ میں رکاوٹ ہے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پرامن اور مترقی افغانستان کے بغیر پرامن اور مترقی پاکستان کا تصور پاگل پن ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کاروبار کیلئے بارڈر کھولا جانا چاہئے ،ویزے کی سہولت دی جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں آسانی ہو ،اس سے افغانستان کو بھی فائدہ ہو گا اور پاکستان کے ہاتھ مضبوط تجارتی منڈی بھی آ جائے گی،دونوں ممالک میں رشتے مزید مضبوط ہو نگے اور امن کے قیام میں مدد ملے گی جو دونوں ملکوں کی ترقی کیلئے اشد ضروری ہے۔ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی شہریت سے متعلق انہوں نے کہا کہ تین نسلوں سے آباد افغان باشندوں کو پاکستانی شہریت ان کا بنیادی حق ہے ، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی مسئلہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کیا جائے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مشرقی سرحد سے آنے والوں کو شہریت کے ساتھ اقتدار میں بھی حصہ دیا گیا لیکن مغربی سرحد والوں کے ساتھ نسل در نسل امتیازی سلوک روا رکھا گیا اور جہاد افغانستان کیلئے انہیں استعمال کرنے کے بعد لاوارث سمجھ لیا گیا، کالاباغ ڈیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ متنازعہ معاملات کو چھیڑنے اور صرف پنجاب کو پاکستان تصور کرنے سے گریز کیا جائے،انہوں نے کہا کہ پختون لیڈرشپ کو پالیمنٹ سے باہر رکھنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل6کیلئے تیار ہیں لیکن کالاباغ ڈیم کی حمایت کسی صورت نہیں کر سکتے ،انہوں نے حکمران طبقہ کو متنبہ کیا کہ اعتدال پسند طبقات پر جبری فیصلے مسلط کرنے کے نتائج بھیانک ہونگے،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی ضمنی الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اور کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑے گی ، انہوں نے کہا کہ 25جولائی کو فوج کو جتنا متنازعہ بنایا گیا وہ کافی ہے اور ضمنی الیکشن میں وہ تجربہ دہرانا ادارے کی ساکھ کیلئے بہتر نہیں ہوگا،انہوں نے کہا کہ انتخابات میں 6بجے تک پولنگ ٹھیک ہوئی تاہم بعد میں ایک گھنٹہ کے اندر پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر من مانیاں کی گئیں،انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کا حصہ ہیں اور دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جو بھی فیصلہ کرے گی اے این پی اس کا ساتھ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم تاحال یوٹرن لے رہے ہیں ، انہیں چاہئے کہ جو انہیں لے کر آئے ہیں ان سے پوچھ کر پالیسی بیان جاری کیا کریں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن میں شامل کسی ایک سیاسی جماعت کی مجبور ی باقی اپوزیشن پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور اگر تحریک چلانے کا فیصلہ ہوا تو اے این پی اس میں ساتھ دے گی۔ 

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']