Sep 102018
 

سیاسی جماعتوں کی مصلحت بھی انتخابات میں شکست کی ایک وجہ تھی، سردار حسین بابک

مخصوص شخص کو اقتدار میں لانا ریاست کی خواہش تھی اور اس کیلئے تمام حربے استعمال کئے گئے۔

جمہوریت دشمن قوتیں ملک میں جمہوری نظام کے خلاف ہیں اور اس مقصد کیلئے عمران کو استعمال کیاگیا۔

تحریک انصاف کے126دن کا دھرنا چند مخصوص قوتیں سپورٹ کرتی رہیں۔

نیب کو احتساب کی بجائے انتقام کیلئے استعمال کیا گیا، ملک میں سب کا بلاامتیاز احتساب ہونا چاہئے۔

چندہ مہم کی ٹائمنگ درست نہیں، عاطف میاں کے ایشو کو چندہ مہم اعلان کے ذریعے ہوشیاری سے دبا دیا گیا۔

طلبا اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ مرکوز رکھیں، باچا خان مرکز میں پختون ایس ایف کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پختون ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ25جولائی کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی شکست میں ان کی اپنی غلطیاں بھی کارفرما ہیں، مخصوص شخص کو اقتدار میں لانا ریاست کی خواہش تھی اور اس کیلئے تمام حربے استعمال کئے گئے ، رات کو عدالتیں لگا کر عمران کیلئے راستہ صاف کیا گیاجبکہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام کی ذہم سازی کی گئی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اجلاس صوبائی صدر وسیم خٹک کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پختون ایس ایف کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین حق نواز خٹک اور جنرل سیکرٹری عمران مومند نے بھی خصوصی شرکت کی، سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت دشمن قوتیں ملک میں جمہوری نظام کے خلاف ہیں اور اس مقصد کیلئے ان قوتوں نے عمران کو استعمال کیا، انہوں نے کہا کہ احتسابی اداروں کے کردار پر بھی سوالیہ نشان ہیں ، نیب کو احتساب کی بجائے انتقام کیلئے استعمال کیا گیا ، ہم نواز شریف کے ہمدرد نہیں تاہم پانامہ میں جن باقی لوگوں کا نام ہے ان کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی ملک میں بلا امتیاز احتساب چاہتی ہے اور عہدوں سے قطع نظر سب کے خلاف تحقیقات کی جائیں ، انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ گزشتہ پانچ سال سے جاری ہے جب تحریک انصاف کی جانب سے 126دن کا دھرنا دیا گیا وہ اتنا آسان نہیں تھا البتہ اس کی پیچھے ایسی قوتیں تھیں جو انہیں نہ صرف سپورٹ کرتی رہیں بلکہ اس کی تیاری بھی کی جاتی رہی، سردار حسین بابک نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے ایک جماعت کو ہیرو اور باقی تمام سیاسی جماعتوں کو زیرو بنا کر پیش کیا گیا حتی کہ پختون قیادت کو بھی پارلیمنٹ سے باہر کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ انتہائی نازک موقع پر سیاسی جماعتیں مصلحت کا شکار ہوئیں جس کی وجہ سے مینڈیٹ چوری کرنے اور ریاست کو اپنی خواہش پوری کرنے میں مشکلات پیش نہیں آئیں،ڈیم چندہ مہم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چندہ مہم ٹھیک ہے البتہ اس کی ٹائمنگ درست نہیں درحقیقت عاطف میاں کے ایشو کو چندہ مہم اعلان کے ذریعے ہوشیاری سے دبا دیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم احتاساب کا قانون مکمل کریں ،کھربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں پر ہاتھ ڈالا جائے ،انہوں نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے ملکی اداروں کا مستقبل کیا ہوگا؟ملک کی اقتصادیات بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ، انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ مرکوز رکھیں اور عوام میں شعور اور آگاہی کیلئے تعلیمی اداروں میں سیمینارز و مشاعروں کا نعقاد بھی کریں ، انہوں نے کہا کہ پختون ایس ایف اے این پی کی نرسری ہے انہوں نے کہا کہ تنظیم تعلیمی اداروں میں اپنی تاریخ اور نظریے کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتی ہے اور اسی میں کل کے عطیم رہنما میدان میں نکلیں گے۔ 
قبل ازیں صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں مختلف تنظیمی امور اور پختون ایس ایف کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا اور تنظیم کو ازسر نو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں بھی شروععع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ نئے آنے والے طلباء کیلئے ممبرسازی مہم شروع کی جائے گی ،اس موقع پر شہید ہارون بشیر بلور ، ،ابرار خلیل اور پختون ایس ایف کے شاہ حسین سنگین اور فیصل سردار کی مغفرت کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ، اجلاس میں اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کو ملنے والی دھمکیوں کے خلاف 12ستمبر کو متعلقہ اضلاع میں احتجاج کی کال بھی دے دی گئی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']