Sep 062018
 

صوبائی حکومت احتساب کمیشن کے خاتمے کی وجوہات بیان کرے، سردارحسین بابک
احتساب کمیشن پر ایک ارب روپے سے زائد کے اخراجات ہوئے ہیں، نیب اس کی تحقیقات کرے
صوبائی حکومت کی اپنی کوئی منصوبہ بندی نہیں اس لئے محکموں سے سو روزہ پلان مانگا جارہا ہے۔
مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا نفاذ عوام کے ساتھ زیادتی ہے
حکومت اپنے ہی بلدیاتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کررہی ہے، غیر جماعتی انتخابات عوام کو غیر سیاسی کرنے کی کوشش ہے۔
وفاقی کابینہ کی طرف سے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کا شوشہ اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی سازش ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت احتساب کمیشن کے خاتمے کی وجوہات بیان کرے، احتساب کمیشن پر ایک ارب روپے سے زائد کے اخراجات ہوئے ہیں، نیب اس کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے احتساب کمیشن کے ذریعے لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا جواب دے اور صوبائی اسمبلی میں کمیشن کے خاتمے کی تفصیلی وجوہات بیان کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا جیسے غریب صوبے کے ایک ارب روپے سے زائد اخراجات کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ 
سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ صوبے کے محکمہ انٹی کرپشن کے مستقبل کاکیا ہوگا، صوبائی حکومت اپنا سو روزرہ پلان کب واضح کریگا؟ محکموں سے 100 روزہ پلان لیا جارہا ہے جوکہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صوبائی حکومت کی اپنی کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا نفاذ عوام کے ساتھ زیادتی ہے جب کہ دوسری طرف حکومت اپنے ہی بلدیاتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کررہی ہے۔ ملک میں مثالی بلدیاتی نظام کی مثالیں دینے والی حکومت خود اسے ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جمہوری اور سیاسی لوگ کس طرح غیرجماعتی الیکشن کروانے کی حمایت کرسکتے ہیں؟ غیر جماعتی انتخابات عوام کو غیر سیاسی کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وفاقی کابینہ کی طرف سے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کا شوشہ اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی سازش ہے جسے ناکام بنائیں گے۔ تعلیم صوبائی محکمہ ہے جس پر صوبے کا اختیار ہے، انہیں دوبارہ مرکز کے پاس نہیں جانے دینگے۔ صوبائی محکمہ ہونے کے ناطے مرکز میں وزارت تعلیم کی کیا تک بنتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن میں غیر قانونی بھرتیاں اور بے پناہ اخراجات کا نیب سختی سے نوٹس لے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']