Aug 312018
 

قبائلی اضلاع کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی آباد کاری وفاق کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے، سردار حسین بابک
مرکزی حکومت 50لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کے ساتھ دہشت گردی کے نتیجے میں تباہ ہونے والی املاک کی آباد کاری کا اعلان کرے۔
قبائلی اضلاع میں انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہے تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور معمولات زندگی رک چکے ہیں۔
ہزاروں گھرانے ملک کے دوسرے علاقوں کو نقل مکانی کر چکے ہیں، مزید تاخیر ناانصافی ہو گی۔
وزیر اعظم تباہ حال املاک کا تخمینہ لگانے کے احکامات جاری کر کے وہاں کے عوام کی مالی معاونت یقینی بنائیں۔
دہشت گردی کے خلاف ملاکنڈ کے عوام کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی بجائے ٹیکسز نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت 50لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ قبائلی اضلاع میں دہشت گردی اور مختلف آپریشنز کے نتیجے میں تباہ ہونے والے ہزاروں گھروں ،مارکیٹوں اور دکانوں کی دوبارہ آباد کاری کا اعلان کرے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں عوام کے گھر اور کاروبار دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں جس سے وہاں کے پختونوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے، انہوں نے کہا کہ نئی حکومت نے اقتدار میں آ کر قبائلی عوام کی دوبارہ آباد کاری اور نقصانات کے ازالے کیلئے تاحال کوئی اعلان نہیں کیا،سردار حسین بابک نے کہا قبائلی اضلاع میں انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہے تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور معمولات زندگی رک چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نئی وفاقی حکومت کو اس حوالے سے فوری اور عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں،انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی اور بد امنی کی صورتحال نے قبائلی اضلاع کے ہزاروں گھرانے ملک کے دوسرے علاقوں کو نقل مکانی کر چکے ہیں،لہٰذا وہاں کی تباہ حال معیشت کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی دوبارہ آبادکاری میں تاخیر ناانصافی ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی ہر فورم پر قبائلی عوام کے حقوق کی آواز اٹھاتی رہے گی،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم قبائلی اضلاع میں لوگوں کے تباہ حال گھروں ، دکانوں ،مارکیٹوں اور ذاتی املاک کی تخمینہ لگانے کے احکامات جاری کریں اور وہاں کے عوام کی مالی معاونت یقینی بنائیں۔سردار بابک نے وفاق کی جانب سے ملاکنڈ میں ٹیکس کے نفاذ کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں انہیں یاد رکھا جائے اور انہی قربانیوں کے صلے میں گزشتہ حکومت نے ملاکنڈ کو پانچ سال کیلئے ٹیکس سے مستثنی قرار دیا تھا جس میں مزید توسیع رکھی گئی تھی ، انہوں نے کہا کہ ٹیکسز اطلاق کا فیصلہ واپس لے کر ملاکنڈ کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ 

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']