Aug 142018
 

پشتون قیادت دو طاقتوں میں اقتدار کی رسہ کشی کیلئے ’’گریٹ گیم‘‘ کا شکا ہوئی، امیر حیدر خان ہوتی
اتنی بڑی گیم ایک دن میں نہیں بلکہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔
ہمارا مقابلہ بظاہر انسانوں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے تھا لیکن پس پردہ جنات تھے ۔
صحیح گنتی کی جاتی تو صوبے میں اے این پی کی حکومت اور قومی اسمبلی میں ہماری 10سے زائد نشستیں ہوتیں ۔
نئے پاکستان کے عوام نے جس سے توقعات رکھی ہیں اس کی توقعات کسی اور سے وابستہ ہیں، کارکنوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پختون قیادت کے ساتھ کھیلی گئی گیم ایک دن کی پیداوار نہیں بلکہ اس کا آغاز اس وقت کر دیا گیا تھا جب نواز شریف بیرون ملک اپنی اہلیہ سے ملنے گئے تھے ، نواز شریف کو بیرون ملک رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی گئی لیکن جب وہ ملک میں واپس آ کر جیل چلے گئے تو گیم کا رخ پشتون قیادت کی جانب موڑ دیا گیا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہو ڈھیرئی، خزانہ ڈھیرئی اور منگاہ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر الیکشن مہم کے دوران دن رات کاوشیں اور محنت کرنے والے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے حلقے میں کارکنوں کی کوششوں سے جنات کے اندازے بھی غلط ثابت ہوئے ، ہمارا مقابلہ بظاہر تو انسانوں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے تھا لیکن پس پردہ جنات ہمارے مقابلے میں تھے جنہوں نے پولنگ کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر سارے نتائج تبدیل کر دیئے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کے اکثریتی امیدوار رات کو جیت گئے تھے تاہم صبح انہیں بتایا گیا کہ وہ ہار گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ در اصل یہ کسی پارٹی یا امیدوار کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ عوامی رائے کی تذلیل ہے،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ میرے دونوں حلقوں پر نادیدہ قوتوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے اس لئے دونوں حلقوں پر میں کامیاب ہو گیا،انہوں نے کہا کہ6بجے جتنے ووٹ پول ہوئے اگر ان کی صحیح گنتی کر لی جاتی تو صوبے میں اے این پی کی حکومت اور قومی اسمبلی میں ہماری 10سے زائد نشستیں ہوتیں،انہوں نے کہا کہ پختون قیادت دو بڑی طاقتوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کا شکار ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا ہے کہ نئے پاکستان میں نیا وزیر اعظم عوام کے کتنے کام آتا ہے ، بلند و بانگ دعوؤں پر قوم نئے وزیر اعظم سے توقعات وابستہ کئے بیٹھی ہے جبکہ وزیر اعظم کسی اور سے توقعات لگائے بیٹھا ہو گا، انہوں نے حلقے کے عوام کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عوامی خدمت ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جاری رکھوں گا۔ 

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']