Aug 132018
 

فوج میں سیاست پر گرفت رکھنے والا مفاد پرستوں کا ٹولہ موجود ہے، میاں افتخار حسین

ملک میں انجنیئرڈ انتخابات کرائے گئے اور ہمیں جان بوجھ کر سازش کے تحت ہرایا گیا۔

انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کو فوج کی زیر نگرانی انتخابات نہ کرانے کی تجویز خلوص دل سے دی تھی۔

مجھے ہرانے کے بعد تھریٹس کیوں دیئے جا رہے ہیں، دہشت گردوں کا دھاندلی سے کیا لینا دینا؟

فیصلے ملکی مفاد میں نہیں ، تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن مستعفی ہو جائے ، نئے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں فوجی مداخلت سے پاک نئے انتخابات کرائے جائیں۔اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دھاندلی کے نت نئے ثبوت سامنے آتے جا رہے ہیں اور یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملک میں انجنیئرڈ انتخابات کرائے گئے اور ہمیں جان بوجھ کر سازش کے تحت ہرایا گیا، فوج میں دو قسم حلقے موجود ہیں ایک عوام سے محبت اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں مشغول جبکہ دوسرا مفاد پرست ٹولے پر مشتمل ہے جو سیاست میں اپنے پنجے گاڑھنے میں مصروف ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی میں پورے پی کے65کے نمائندہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر پارٹی کے ذمہ دار مشران عہدیداروں اور کارکنوں نے بھرپور شرکت کی، میاں افتخار حسین الیکشن مہم کے دوران اپنی کمپین کیلئے جانی و مالی قربانیاں دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ در حقیقت ہم الیکشن ہارے نہیں جیتے ہیں جبکہ ہمیں سازش کے تحت ہرایا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواستیں بھی اسی لئے مسترد کی گئیں کیونکہ ہارجیت کا پول نہ کھل جائے،انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کو خلوص دل سے یہ تجویز دی تھی کہ فوج اکی زیر نگرانی انتخابات سے گریز کیا جائے تاکہ بطور ادارہ وہ متنازعہ نہ ہو جائے ، اس وقت اس بات سے اتفاق کیا گیا تاہم بعد میں یہ فیصلہ تبدیل کر کے سارا الیکشن ہی فوج کی جھولی میں ڈال دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ در اصل ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی الیکشن کمیشن اور نگران حکومت بے اختیار تھے ،میاں افتخار حسین نے اجلاس میں شریک افسردہ ذمہ داروں کو تسلی دی اور کہا کہ ہم بڑی گیم کا شکار ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ جب مجھے پارلیمنٹ سے باہر کر دیا گیا ہے تو اب تھریٹس کس بات کیلئے دیئے جا رہے ہیں ،کیا دہشت گردوں کو دھاندلی کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں بولنے سے بھی تکلیف ہو رہی ہے،انہوں نے کہا کہ دھنادلی کے خلاف بولنے پر دھمکیاں ملنے سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ اصل دہشت گرد حکومت خود ہے،اور میری آواز سے انہیں خطرہ محسوس ہو رہا ہے ، مجھے سیکورٹی تھیٹس اور دہشت گردوں کے بارے میں تمام تفصیل جانتے ہوئے بھی اگر مجھے شہید کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست خود یہ چاہتی ہے ورنہ دہشتگردوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو سوال ریاست کے کردار پر اٹھے گا،میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ فوج دو حلقوں میں تقسیم ہے ایک معصوم فوج جو عوام سے محبت رکھتی ہے جبکہ دوسرا حلقہ مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے اور سیاست پر اپنی گرفت رکھنے کیلئے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لا نہیں لگ سکتا اس لئے کٹھ پتلی وزیر اعظم بنا کر ڈور اپنے ہاتھ میں رکھی جا رہی ہے،اور یہ فیصلے ملکی مفاد میں نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ سوائے ایک پارٹی کے باقی تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کر دیا ہے ، لہٰذا الیکشن کمیشن مستعفی ہو جائے اور نئے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں فوجی مداخلت سے پاک نئے انتخابات کرائے جائیں ،انہوں نے کہا کہ ہم اس پارلیمنٹ اور اس میں آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈرنے والا نہیں ہوں اور دھمکیوں سے مرعوب ہو کر میدان سے نہیں بھاگوں گا ، باچا خان کا سپاہی ہونے کے ناطے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']