Aug 122018
 

ہمارا مقابلہ ’’جنات‘‘ سے تھا، دھاندلی میں ملک بھر کی انتظامیہ اور فوجی اہلکار ملوث ہیں، اسفندیار ولی خان

انڈا چوری ہونے پر سوموٹو ایکشن لینے والے چیف جسٹس فوج کی انتخابات میں مداخلت پر کیوں خاموش ہیں؟

نگران وزیر اعلیٰ کا شفاف انتخابات کا بیان مضحکہ خیز ہے نگران حکومت پہلے اپنا کردار واضح کرے ۔

الیکشن کمیشن نے ایک گھنٹہ کا وقت کس آئین کے تحت دیا ، فارم 45کسی پولنگ ایجنٹ کو نہیں دیا گیا۔

تاریخ کا واحد الیکشن تھا جس میں سب کو وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کے بارے میں پہلے سے پتہ تھا۔

ہمیں پارلیمنٹ سے باہر کرنے والے سیاست سے باہر نہیں کر سکتے ہم نظریاتی سیاست کریں گے۔

بابڑہ کے شہداء کی قربانیاں آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہیں، یوم شہدائے بابڑہ کے موقع پر چارسدہ میں تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی میں نگران حکومت، پورے ملک کی انتظامیہ ، پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود فوجی اور پولنگ کا تمام عملہ دھاندلی میں ملوث تھا ،اس بار بھی ہمارا مقابلہ جنات سے تھا انسانوں سے ہوتا تو اے این پی اکثریت جماعت کو طور پر سامنے آ جاتی،انڈا چوری ہونے پر سوموٹو ایکشن لینے والے چیف جسٹس فوج کی انتخابات میں مداخلت پر کیوں خاموش ہیں ،اب سوموٹو کہاں گئے ؟ عمران خان نے جیت کی تقریر میں ہر حلقہ کھولنے کا کہا جب سعد رفیق نے درخواست دی تو لاڈلے نے بچاؤ کیلئے سپریم کورٹ کا دروزہ کھٹکھٹا دیا ، نگران وزیر اعلیٰ کا شفاف انتخابات کا بیان مضحکہ خیز ہے نگران حکومت پہلے اپنا کردار واضح کرے،دھاندلی میں جو بھی ملوث ہے قوم بخوبی جانتی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہداء بابڑہ کے موقع پر چارسدہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ، اسفندیار ولی خان نے بابڑہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہمارے مستقبل کیلئے اُس وقت کے خدائی خدمت گاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے جن میں بیشتر خواتین بھی شامل تھیں ،انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتی ہیں اور کبھی وقت آیا تو اپنی آنے والی نسلوں کیلئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان آ گیا ہیاور اس میں سب سے پہلے نیکٹا نے میاں افتخار حسین کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ تھرٹ الرٹ میں خودکش حملہ آور کا نام ،عمر اور تاریخ بھی درج ہے ،جب سیکورٹی ایجنسیوں کو اتنا سب کچھ پتہ ہے تو اسے روک کیوں نہیں سکتی، الیکشن کمیشن نے ایک گھنٹہ کا وقت کس آئین کے تحت دیا ، فارم 45کسی پولنگ ایجنٹ کو نہیں دیا گیا ،دھاندلی کیلئے ہر حربہ استعمال کیا گیا،تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا،ایک گھنٹے میں تمام نتائج تبدیل کئے گئے ،انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تھی اور انہیں اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ فوج اگر پولنگ سٹیشن کے اندر داخل ہوئی تو بطور ادارہ فوج متنازعہ ہو جائے گی ، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی،انہوں نے کہا کہ دھاندلی کیلئے بھونڈے طریقے استعمال کئے گئے کراچی میں ایک امیدوار کا کوئی ایک ووٹ تک بکس سے نہ نکلا جبکہ اس کے خاندان والوں نے اور خود اس نے اپنا ووٹ پول کیا،انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا واحد الیکشن تھا جس میں سب کو وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کے بارے میں پہلے سے پتہ تھا ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ سے باہر کرنے والے سیاست سے باہر نہیں کر سکتے ہم نظریاتی سیاست کریں گے اور دنیا کو یہ ثابت کریں گے کہ ہم عدم تشدد کی سوچ اور فکر کی سیاست کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ نئی حکومت نے پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان پر توجہ نہ دی تو حالات مزید خراب ہوتے جائیں گے، پرام اور مترقی افغانستان کے بغیر پرامن اور مترقی پاکستان کا تصور نا ممکن ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی مضبوط سیاسی قوت ہے اور کارکن اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن اور عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار کریں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']