Aug 122018
 

مخصوص جماعت کو تخت اسلام آباد تک پہنچانا جمہوریت دشمن قوتوں کا مقصد تھا، سردار حسین بابک

بادی النظر میں ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء ہے ،تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔

گزشتہ کئی برس سے مخصوص شخص کو ہیرو اور باقی تمام رہنماؤں کو زیرو بنانے کیلئے منظم ذہن سازی کی جاتی رہی۔

ملکی سلامتی و ترقی کی خاطر ملک کے اہم ترین اداروں کو حکوتیں بنانے اور گرانے کے عمل کو ترک کرنا ہو گا۔

نئے پاکستان میں میرٹ سے قطع نظر ناراض ساتھیوں کو منانے کیلئے حکومتی عہدوں کی بندر بانٹ جاری ہے۔

عوام کی حقیقی حکمرانی یقینی بنانا ہو گی،حق رائے دہی اور اظہار رائے پر قدغن جمہوریت کے خلاف سازشیں ہیں۔

آزاد و خود مختار اور ذمہ دار الیکشن کمیشن سمیت شفاف انتخابات کو عملی بنانے کیلئے کام کرنا ہو گا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مخصوص جماعت کو تخت اسلام آباد تک پہنچانا جمہوریت دشمن قوتوں کا مقصد تھا ،ملکی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے مخصوص سیاسی جماعت کو حکمرانی کا تاج پہنانا ملکی مسائل میں اضافے کے علاوہ کچھ نہیں، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء ہے ، گزشتہ کئی برس سے مخصوص شخص کو ہیرو اور باقی تمام رہنماؤں کو زیرو بنانے کیلئے منظم ذہن سازی کی جاتی رہی،اندرونی و بیرونی مسائل و مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو جمہوریت دشمن قوتوں کا راستہ روکنے ،جمہوری اداروں کی مضبوطی اور ان کے استحکام کیلئے آگے بڑھنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں ناراض ساتھیوں کو منانے کیلئے حکومتی عہدوں کی بندر بانٹ جاری ہے،حکومتی امور چلانے کیلئے میرٹ اور تجربے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ایسا عمل شروع کیا گیا ہے جو ملکی مسائل میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بنے گا،خیرات میں ملی حکومت کا ابتداء سے ہی یہ طرز عمل ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر2018کے انتخابات بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں ،تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے اور ملک کے اہم ترین اداروں کو حکوتیں بنانے اور گرانے کے عمل کو ترک کرنا ہو گا، کیونکہ یہی ملکی سلامتی کیلئے ضروری اور ترقی کیلئے ناگزیر ہے، سردار بابک نے کہا کہ میڈیا پر عائد پابندیاں جمہوریت کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش اور حقیقی عوامی حکمرانی یقینی بنانے میں مسلسل رکاوٹیں مسائل میں اضافے کا پیش خیمہ ہونگی،انہوں نے کہا کہ حق رائے دہی اور اظہار رائے پر قدغن جمہوریت کے خلاف سازشیں ہیں جس سے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں میں اشتعال پیدا ہو رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ایک جماعت کے علاوہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں احتجاج پر ہیں،انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم کی خرابی، اکثریتی حلقوں میں پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالنا ،مخصوص جماعت کیلئے میڈیا کو استعمال کرنا اور اس کیلئے سوشل میڈیا پر نئی ’’ایپ‘‘ انسٹال کرنا ، لاکھوں کی تعداد میں ووٹوں کا مسترد ہونا الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں،سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ جمہوریت اور عوام کی حقیقی حکمرانی یقینی بنائے بغیر عوامی مسائل ختم نہیں ہو سکتے ،ووٹ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہونگی اور ایک آزاد و خود مختار اور ذمہ دار الیکشن کمیشن سمیت شفاف انتخابات کو عملی بنانے کیلئے کام کرنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندیاں ختم ہونی چاہئیں،حق حکمرانی عوام کا آئینی حق ہے اور اسے عوام کے پاس ہی رہنا چاہئے۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں اپوزیشن جماعتیں پوری طرح متحد ہیں اور متفقہ طور پر لیڈر آف دی ہاؤس، اپوزیشن لیڈر ،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کیلئے انتخاب کیا جائے گا۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']