Aug 112018
 

سانحہ بابڑہ کی تحقیقات ہم پر قرض ہے، لاڈلے کی خاطر آئین سے انحراف کیا گیا، میاں افتخار حسین

مخصوص جماعت کو اقتدار کی سیج تک پہنچانے کیلئے کئی اداروں کی عزتیں داؤ پر لگ گئیں۔

انتخابات اور اس کے نتائج مسترد کر چکے ہیں ، کٹھ پتلی وزیر اعظم تسلیم نہیں کریں گے۔

پختون قیادت کے خلاف سازش تیار کی گئی ،ملک میں نئے صاف ،شفاف انتخابات وقت کی ضرورت ہے۔

سانحہ بابڑہ کربلا ثانی تھا،ر آزادی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔

باچا خان کے سپاہی ڈرنے اور جھکنے والے نہیں ہم عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں،12اگست پر خصوصی پیغام

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکر ٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سانحہ بابڑہ ایک عظیم سانحہ ہے اور آزادی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی،جب تک ممکن ہوا ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، 12اگست یوم بابڑہ کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 12اگست انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور شہدائے بابڑہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ سانحہ بابڑہ یزید وقت کے ظلم اور بربریت کا دن اور کسی کربلا سے کم نہیں تھا جب باچا خان بابا، عبدالولی خان ، غنی خان کو تحریک کے دیگر 4ہزار ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تو اس کے خلاف امن کے علمبردارں اور انسانیت کا پرچار کرنے والوں نے پر امن مظاہرہ کیا جس کی قیادت سالار امین جان کر رہے تھے جبکہ سپین ملنگ اس مظاہرے میں پیش پیش تھے ، خدائی خدمت گاروں کی گرفتاری کے خلاف پر امن احتجاج کیلئے ارد گرد کے علاقوں مردان صوابی نوشہرہ اور دیگر علاقوں سے پیدل سفر کے خدائی خدمت گار مقررہ جگہ پہنچے ،جہاں اس وقت کے یزید حکمرانوں نے ان پر گولیوں کی بارش کر دی ،اور اس بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پہلی گولی سپین ملنگ کو لگی جبکہ خواتین اور بچوں سمیت سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 602افراد شہید کر دیئے گئے جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس کربلا ثانی کے پیچھے جو بھی سازش تھی اس کا پتہ چلایا جائے گا کیونکہ یہ ان شہداء اور غازیوں کا ہم پر قرض ہے ،انہوں نے کہا کہ اس وقت کی حکومت خدائی خدمت گار تحریک کی مقبولیت سے خائف ہو چکی تھی اور اسے اپنی کشتی ڈوبتی دکھائی دے رہی تھی،انہوں نے کہا کہ باچا خان کے سپاہی ڈرنے اور جھکنے والے نہیں ہم عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور کبھی کسی فرعون ، یزید ، شمر اور ڈکٹیٹر کے آگے نہ جھکے اور نہ ہی جھکیں گے،انہوں نے کہا کہ جس طرح کربلا کے میدان میں حضرت حسین ؑ نے یزید کے آگے سر نہیں جھکایا اسی طرح سانحہ بابڑہ بھی کربلا ثانی ہے ، انہوں نے کہا کہ جس طرح یزید کا آج کوئی نام لیوا نہیں اسی طرح بابڑہ میں کشت و خون کرنے والے یزیدوں کو بھی یاد نہیں کیا جاتا ، زندہ قومیں اپنے اسلاف، شہداء اور غازیوں کی قربا نیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں اور جب تک ممکن ہوا ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، موجودہ سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں دھاندلی کی جو تاریخ رقم کی گئی ملکی تاریخ میں اس کی مچال نہیں ملتی ، انہوں نے کہا کہ سب کچھ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا اور پختون قیادت کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے کیلئے ؤئین پاکستان سے انحراف کیاگیا ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک مخصوص لاڈلے کو اقتدار کی سیج تک پہنچانے کیلئے کئی اداروں کی عزت داؤ پر لگی اور دنیا بھر میں ان کی جگ ہنسائی ہوئی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے موجودہ انتخابات کو مسترد کر چکی ہے اور دھاندلی زدہ ان انتخابات کے نتیجے میں آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو بھی تسلیم نہیں کریں گے ، انہوں نے کہا کہ آئین کی رو سے ملک میں نئے صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں اور جو بھی کامیاب ہو اقتدار اس کے حوالے کیا جائے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']