Aug 082018
 

انگوٹھا چھاپ الیکشن کمیشن استعفے دے ، ملک میں مداخلت سے پاک نئے انتخابات کرائے جائیں، میاں افتخار حسین

ربر سٹیمپ ادارہ اپنی ذمہ داریوں میں ناکام رہا ،نگران حکومت کا کردار پورے عمل میں قابل مذمت ہے۔

الیکشن کمیشن کے ساتھ ملاقات میں فوج کی زیر نگرانی الیکشن نہ کرانے کی تجویز خلوس دل اور نیک نیتی سے دی تھی۔

ماضی میں فوجی اہلکار پولنگ سٹیشنز سے باہر تھے تو لاڈلے کو37 اس بار اہلکاروں نے اُسے66سیٹیں دلوا دیں۔

دھاندلی زدہ انتخابات مسترد کرتے ہیں ، آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ، ڈیوٹی دینے والے فوجی اہلکاروں سے احکامات دینے والوں بارے استفسار کیا جائے۔

فارم 45کی ویب سائٹ پر تشہیر مذاق سے کم نہیں ،قوم کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا،

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے دھاندلی کے خلاف مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے الیکشن کمیشن کو جانبدار اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کی بی ٹیم قرار دیتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ لاڈلے کے سوا تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسترد کردہ نتائج کے بعد از سر نو انتخابات کرائے جائیں، ربر سٹیمپ اور انگوٹھا چھاپ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریوں میں ناکام ہو چکا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گرینڈ الائنس فار فری اینڈ فیئر الیکشن کے زیر اہتمام دھاندلی کے خلاف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے ہونے والے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ھاجی غلام احمد بلور، افراسیاب خٹک ،صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور پارٹی کے دیگر مرکزی و صوبائی قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے ، انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں فوجی اہلکار پولنگ سٹیشنوں کے باہر موجود تھے تو پی ٹی آئی کو37سیٹیں ملیں اس بار پورا الیکشن فوجیوں کے قبضے میں گیا تو سیاسی گراف گرنے کے باوجود اسے 66سیٹیں کیسے مل گئیں؟، دھاندلی زدہ انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے اور اے این پی غیر متعلقہ اداروں کی مداخلت کے بغیر فری اینڈ فیئر الیکشن کا مطالبہ کرتی ہے ، 2013کے انتخابی نتائج ہم نے تحفظات کے باوجود قبول کئے لیکن اس بار اگر ہم میدان میں اس لئے آئے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دھاندلی ہوتے دیکھی ہے ، انتخابی نتائج کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کے نتیجے میں آنے والا کٹھ پتلی وزیر اعظم تسلیم کریں گے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ الیکشن سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی تھی جس میں اے این نے خلوص دل اور نیک نیتی سے الیکشن فوج کی نگرانی میں کرانے کی مخالفت اس لئے کی تھی کہ اگر انتخابات متنازعہ ہوئے تو فوج بطور ادارہ متنازعہ نہ ہو جائے ، انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ یہ تجویز بھی دی گئی تھی کہ اگر الیکشن فوج کی نگرانی میں کرانے ہی مقصود ہیں تو پھر اس کیلئے ٹی او آرز بنائے جائیں ، لیکن الیکشن کمیشن نے اس کی نفی کی اور کہا کہ الیکشن فوج کی نگرانی میں نہیں کرائے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے پورا الیکشن یرغمال بنائے رکھا جس نے اس ادارے کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے ایک مخصوص پارٹی کو دیا گیا جس پر الیکشن کمیشن فوراً مستعفی ہو جائے اور نئے انتخابات نئے الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی کرائے جائیں،انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں اتنی غافل اور جانبدار نگران حکومت کبھی نہیں آئی جو عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کیلئے پری پول رگنگ میں شریک ہو، ہم دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو بھی تسلیم نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہے لہٰذا ہم پر امن احتجاج کیلئے نکلے ہیں ،انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکار الیکشن عمل اور نتائج پر اثر انداز ہوئے اور ان کی وجہ سے پاک فوج کا ملکی ادارہ بین الاقوامی سطح پر متنازعہ بن گیا ،خیبر سے کراچی تک فوجی اہلکاروں کے خلاف لاکھوں شکایات سامنے آ ئیں ،انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی دینے والوں سے استفسار کیا جائے کہ انہیں احکامات کہاں سے ملتے رہےْ ، الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم 45مشتہر کرنے کے بیان پر رد عمل کا اظہار انہوں نے کہا کہ ایسے فارم45کی کوئی اہمیت نہیں جو دستخطوں کے بعد پولنگ ایجنٹس کے حوالے نہ کئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ قوم کو گمراہ کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے نئی کہانی گھڑی ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں الیکشن نتائج تبدیل کرنے والے کیا فارم45تبدیل نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور پلان ترتیب دے کر نئے انتخابات کرائے جائیں، ملک میں صاف شفاف الیکشن ہوئے تو صورتحال موجودہ حالات کے برعکس سامنے آئے گی،

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']