Aug 062018
 

تمباکو کاشتکاروں کو مخصوص کمپنیوں کے تسلط سے نجات دلانا ضروری ہے ، سردار حسین بابک
خیبر پختونخوا دنیا کا بہترین تمباکو پیدا کرنے والا صوبہ ہے ،کاشتکاروں کا جبری استحصال کیا جا رہا ہے۔
فصل اگانے والوں کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں، اوپن مارکیٹ میں اپنی پیداوار فروخت نہیں کر سکتے۔
پنجاب میں گندم اور کپاس کے کاشتکار اپنی پیداوار بین الاقوامی سطح پر فروخت کرنے میں آزاد ہیں۔
پوری پیداوارپر دو کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہے، اے این پی ہر فورم پر اس کے خلاف آواز اٹھائے گی۔
تمباکو کاشتکاروں کو مخصوص لابی کے تسلط سے نجات دلا کر پیداوار اوپن مارکیٹ میں فروخت کی اجازت دی جائے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبے میں تمباکو کے کاشتکاروں کے استحصال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کا بہترین تمباکو پیدا کرنے والے کاشتکاروں کو دو کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جس سے وہ اپنی پیداوار اوپن مارکیٹ میں فروخت نہیں کر سکتے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں دوسرے قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ دنیا کا بہترین ورجینیا تمباکو بھی پیدا ہوتا ہے لیکن بد قسمتی سے تمباکو کاشت کرنے والے کاشتکاروں کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں اور صرف دو کمپنیاں اپنے مقرر کردہ نرخوں انتہائی کم نرخوں پر خرید سکتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ انہی دو کمپنیوں کے باہمی گٹھ جوڑ سے تمباکو کاشتکاروں کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے اور صوبے کے کاشتکاروں کے اس دیرینہ مطالبے اور ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اے این پی ہر فورم پر آواز اٹھائے گی، انہوں نے افسوس کا ظہار کیا اور کہا کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کے نام نہاد دعوؤں کے برعکس دنیا کا بہترین ورجینیا تمباکو پیدا کرنے والے صوبے کے کاشتکاروں کا استحصال بند ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں کپاس اور گندم کی وافر مقدار پیدا ہوتی ہے اور ان کی ملکی و بین الاقوامی سطح پر اوپن مارکیٹ میں بیشتر کمپنیاں خریدار ہیں،اور پنجاب کا کاشتکار اپنی مرضی کے نرخوں پر فروخت کرتا ہے ، انہوں نے کہا کہ تمباکو اس صوبے کی پیداوار ہے تاہم ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے ہیں اور دو کمپنیوں کی پوری کاشت پر اجارہ داری قائم ہے،جبکہ بین الاقوامی سطح پر طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہونے کے باوجود فصل کاشتکاروں سے کم نرخوں میں خرید کر انہیں اپنی پیداوار بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمباکو کاشتکاروں کو مخصوص لابی کے تسلط سے نجات دلا کر فصل کی اوپن مارکیٹ میں فروخت کی اجازت دی جائے تاکہ کاشتکاروں کا بھی نئے مواقع مل سکیں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']