Aug 042018
 

کٹھ پتلی وزیر اعظم منظور نہیں،نئی اسمبلی کا استقبال بھرپور احتجاج سے کیا جائے گا، میاں افتخار حسین

دھاندلی زدہ الیکشن کے نتائج قبول نہیں کئے ،پہلے مرحلے میں احتجاج کا سلسلہ8اگست کو شروع ہو گا۔

الیکشن کمیشن کے باہر تمام سیاسی جماعتیں احتجاج کریں گی ، پارٹی کے قائدین بھرپور شرکت کریں گے۔

چاروں صوبوں میں احتجاج ہو گا ،تاریخی دھاندلی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔

وزیر اعظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے نام فائنل ہیں ، متعلقہ جماعتوں سے فورم سے اعلان ہو گا۔

شیڈول جلد پیش کریں گے ، پی کے65میں دوبارہ گنتی کی درخواست جان بوجھ کر مسترد کی گئی۔

اپنے حق کیلئے ہر فورم پر دروازہ کھٹکھٹاؤں گا، اسلام آباد سے واپسی پر بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نئی اسمبلی کا استقبال بھرپور احتجاج سے کیا جائے گا دھاندلی زدہ الیکشن کے نتائج تسلیم کئے نہ ہی ھ پتلی وزیر اعظم تسلیم کیا جائے گا۔اسلام آباد میں گرینڈ الائنس فار فری اینڈ فیئر الیکشن کے اجلاس کے بعد اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں اس بات پر مکمل اتفاق ہو چکا ہے کہ وزیر اعظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے نام فائنل ہیں جن کا اعلان پارٹیوں کے فورم سے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کیلئے حکمت عمل تیار ہے اور جس دن اسمبلی کاروائی کا آغاز کرے گی ہمارا مشترکہ احتجاج بھی شروع ہو گا ، اسی طرح اسمبلی کے باہر بھی بھرپور احتجاج ہو گا ،اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں8اگست کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج ہو گا جس میں ہار جیت سے قطر نظر ملک کی تمام سیاسی جماعتیں شرکت کریں گی اور انتخابات میں تاریخی دھاندلی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس میں پارٹی تنظیموں کے ذمہ دار ساتھی اور قائدین بھی موجود ہونگے جبکہ مظاہرین پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج کریں گے،اسی طرح صوبوں کی سطح پر بھی الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج ہو گا ، انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ حلف برداری کے بعد چاروں صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز اور اسلام آباد میں احتجاجی جلسے منعقد کئے جائیں گے جن کا شیڈول آئندہ چند روز میں پیش کر دیا جائے گا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ احتجاجی تحریک میں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ہیں اور اب فیصلوں کی کامیابی کا دارومدار بھی ان کے رویوں پر ہے،انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں جماعتیں اس نازک موقع پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں گی اور دھاندلی کے خلاف بننے والے گرینڈ الائنس کی تحریک کو کامیاب کریں گی، انہوں نے کہا کہ اے این پی الائنس کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے اور ارکان کی تعداد کم ہونے کے باوجود ہم الائنس کے فیصلوں کے پابند ہیں اور ان کی وکالت بھی کریں گے ، انہوں نے کہا کہ دونوں بڑی جماعتیں جتنا جلدی احتجاجی تحریک میں فعال کردار ادا کریں گی اتنا ہی اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہونگے انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں اتنی بد ترین دھاندلی کبھی نہیں ہوئی اور دھاندلی زدہ اس الیکشن کے خلاف تمام جماعتیں متفق ہیں ،انہوں نے کہا کہ نادرا کے ھالیہ بیان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا، انہوں نے کہا لیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریوں میں بری طرح ناکام رہا ، جبکہ میرے حلقے میں دوبارہ گنتی کی میری درخواست بھی مسترد کر دی ، اس سے قبل میں نے آر او کو درخواست دی اور وہاں سے بھی ری کاؤنٹنگ کی درخواست مسترد ہوئی انہوں نے کہا کہ اپنے حق کیلئے ہر فورم تک جاؤں گا ،انصاف کی بنیاد پر اقدام چاہتے ہیں اور آئین و قانوں کے دائرے میں رہتے ہوئے دوبارہ گنتی کیلئے درخواست دی جائے گی۔
اس موقع پر انہوں نے یوم شہدائے پولیس کے حوالے سے کہا کہ امن کے داعی یہ اہلکار شہید ہیں اور شہید کبھی مرا نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، انہوں نے پولیس شہداء کی لازوال قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ جس منظم انداز میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات پاکستان میں ہو رہے ہیں لیکن پاکستانی قوم اور پولیس کے جوانمرد وں کے بلند حوصلوں کے باعث ملک قائم ودائم ہے اور وہ دن دور نہیں جب ملک امن کا گہوارہ بن جائے گا،انہوں نے تمام پولیس شہداء اور ان کے لواحقین کے حوصلوں کو بھی سلام پیش کیا اور کہا کہ دھرتی پر امن کے قیام کیلئے جانیں قربان کرنے والے انسانیت کے محسن ہیں ،۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']