Jul 112018
 

پریس کانفرنس

دشمن کچھ بھی کر لے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، امیر حیدر خان ہوتی

دہشت گردوں کا ٹارگٹ اے این پی نہیں بلکہ وہ مینڈیٹ ہے جو 25جولائی کو ہمیں ملنے والا ہے۔

میڈیا سے پتہ چلا کہ ہمیں خطرہ ہے حکومت اور ریاستی ادارے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

بعض قوتیں کسی مخصوص سیاسی جماعت پر مہربانی کی غرض سے اے این پی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ہارون بشیر بلور کی شہادت سے کارکنوں کو نیا حوصلہ ملا ہے،کارکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

تین روزہ سوگ کے بعد انتخابی مہم شروع کی جائے گی، مردان میں پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ہارون بشیر بلور پر حملے کو بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دشمن چاہے کچھ بھی کر لے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے ، مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمیں میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ ہمیں خطرہ ہے ، حکومت اور ریاستی ادارے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ درحقیقت دہشت گردوں کا ٹارگٹ اے این پی نہیں بلکہ اے این پی کو ملنے والاوہ مینڈیٹ ہے جو 25جولائی کو ہمیں ملنے والا ہے ، انہوں نے کارکنوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور شہید ہارون بلور کے سوئم کے بعد انتخابی سرگرمیاں دوبارہ شروع کریں،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ بعض قوتیں اے این پی کو میدان سے آؤٹ کرنا چاہتی ہیں اور وہی قوتیں کسی مخصوص سیاسی جماعت پر مہربانی کی غرض سے اے این پی کو نشانہ بنا رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ ہارون بلور کو پارٹی کیلئے ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہیدپارٹی کا قیمتی سرمایہ تھے جو دہشت گردوں نے چھین لیا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت سے کارکنوں کو نیا حوصلہ ملا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ بھرپور انداز میں میدان میں نکلیں گے ،انہوں نے کہا کہ میدان خالی نہیں چھوڑیں گے اور انتخابات مؤخر کرنے یا اے این پی کو میدان سے آؤٹ کرنے کی ہر سازش کا مقابلہ کریں گے،امیر حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ 2013سے لے کر اب تک اے این پی کے خون کی دہشت گردوں کی پیاس تاحال نہیں بجھی،لیکن ہم ڈٹ کر کھڑے رہیں گے اور کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔اے این پی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ، ضلعی جنرل سیکرتری حاجی لطیف الرحمان اور احمد بہادر خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']