Jul 072018
 

چارسدہ جلسہ

جھوٹ کی سیاست کو پروان چڑھانے سے کوئی بڑا لیڈر نہیں بن سکتا ، اسفندیار ولی خان

سیاسی شائستگی سے دوری کی وجہ سے کپتان نے سیاست سے شرافت ختم کر کے گالم گلوچ کو فروغ دیا ،

عمران خان کی پوری سیاست صرف سوشل میڈیا تک ہے ،وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنا چھوڑدیں ۔

نیب نے تحقیقات شروع کر دی ہیں،عوام انتظار کریں بہت کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا۔

وراثت کے علاوہ میری کوئی جائیداد ثابت ہو جائے تو پھانسی چڑھنے کو تیار ہوں۔

پی ٹی آئی نے ملک بھر کے سیاسی یتیم اکٹھے کر کے انہیں ٹکٹ جاری کئے ، ضمیر فروشی کو فروغ دیا گیا۔

کالاباغ ڈیم 1986میں مردہ قرار دے کر دفن کر دیا گیا تھا، واپڈا سے 32سال کی خاموشی کی وجہ پوچھی جائے ۔

نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے میں عجلت سے کام لیا گیا ۔ چارسدہ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ زیادہ جھوٹ بولنے سے کوئی بڑا لیڈر نہیں بنتا ،کپتان کی سیاست صرف جھوٹ پر مبنی ہے اور سیاسی شائستگی سے دوری کی وجہ سے ان کاجلسوں میں بنوں اور کراچی جیسا حال ہوتا ہے، نواز شریف کے خلاف فیصلہ جلد بازی میں دیا گیا ،جس سے جانبداری اور کسی ایک جماعت کو فیور پہنچانے کا تاثر ملتا ہے ،عدالت کو فیصلہ الیکشن کے بعد دینا چاہئے تھا،ہر جگہ پختونوں کا خون بہایا گیا ،اب وقت آ گیا ہے کہ پختون قوم آپس میں اتحاو اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے58 چارسدہ قاسم علی خان کے حجرے میں بڑے انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے بھی خطاب کیا ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کپتان نے سیاست سے شرافت ختم کر کے گالم گلوچ کو فروغ دیا ، ایمل ولی کو چارسدہ کے عوام چاہتے ہیں جس پر کپتان کو اعتراض ہے ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پوری سیاست صرف سوشل میڈیا تک ہے ،وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنا چھوڑدیں ، پانچ سال تک صوبائی حکومت نے اے این پی پر الزامات لگائے لیکن کسی ایم پی اے ،ایم این اے اور وزیر پر کرپشن کا کیس ثابت نہ کر سکی ، اس کے برعکس سابق حکومت کے اپنے وزراء کرپٹ نکلے ، نیب نے بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں،عوام ذرا انتظار کریں بہت کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا ، انہوں نے کہا کہ سیاست سے گند ختم کرنے کے دعوے کرنے والوں نے ملک بھر کے سیاسی یتیم اکٹھے کر کے انہیں ٹکٹ جاری کر دیئے ، ضمیر فروشی کو فروغ دیا گیا،انہوں نے کہا کہ عمران خان جس تعلیمی نظام میں بہتری کی بات کرتے ہیں اس کا پول میٹرک کے نتائج سے کھل چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ مجھ پر ملائشیا اور دبئی میں ہوٹل کے غلط الزامات لگائے گئے ،میرے یا میرے خاندان کے کسی فرد کے خلاف باچا خان یا ولی خان کی وراثت کے علاوہ کوئی اثاثہ ثابت ہو جائے تو مجھے پھانسی پر چڑھا دیں لیکن عمران خان بھی اپنے اثاثوں کی تفصیلات بتائے کہ انہیں اپنے والد سے کیا ملا اور آج ان کے پاس کیا کچھ ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ یونیورسٹیاں بنانے کے جھوٹے دعوے کئے گئے اگر حقیقت ہے تو نقشہ میں بھی بتائیں ، 350ڈیم پشاور کی سڑکوں پر قوم دیکھ سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلے میں عجلت سے کام لیا گیا الیکشن تک انتظار کر لیا جاتا تو بہتر ہوتا، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج الیکشن کے میدان وہ تمام سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں جو پانچ سال تک حکومت کا حصہ رہیں اور حکومت کے خاتمے کے بعد ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ سراج الحق اور شیرپاؤ صوبائی ھکومت میں شامل رہے جبکہ مولانا فضل الرحمان مرکز میں اقتدار کے مزے لیتے رہے تاہم ان کی کاکردگی صفر رہی اور ھکومتیں ختم ہونے کے بعد انہیں اسلام خطرے میں نظر آنے لگا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس دھرتی کی ترقی و خوشحالی کیلئے قربانیاں دیں ،مرکزی صدر نے کہا کہ پاکستان کی70سالہ تاریخ میں صرف اے این پی نے اپنے دور میں چارسدہ میں ترقیاتی کام کئے اور تعلیمی میدان میں جو اصلاحات کیں وہ تاریخ کا روشن باب ہیں،کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے متنبہ کیا کہ کالاباغ ڈیم پر اے این پی کا مؤقف روز اول سے واضح ہے اور اگر کسی نے کالاباغ ڈیم کا مسئلہ چھیڑا توسب سے پہلے میں خود میدان میں نکلوں گا،انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں تین صوبے86میں قرارداد پاس کر چکے ہیں اور یہ منصوبہ مردہ ہونے کی وجہ سے دفن ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ واپڈا سے استفسار کیا جائے کہ کالاباغ ڈیم متنازعہ ہونے کے باوجود اس نے 32سال تک کوئی اور ڈیم کیوں نہیں بنایا ، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس بھاشا اور منڈا ڈیم پر کام کیوں نہیں شروع کراتے تاکہ تمام مسائل ہی ختم ہو جائیں ، انہوں نے کہا کہ پختونوں کے صوبے کی شناخت اور این ایف سی ایوارڈ ا ولی خان بابا کی وصیت تھی اور اے این پی نے اپنے دور میں ان کی وصیت کو عملی جامہ پہنایا ، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کریں گے کیونکہ یہ اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے اپنی اس عظیم کامیابی کو کسی کی جھولی میں ڈالیں گے، انہوں نے کہا کہ کارکن اپنے اندر جوش و جذبہ برقرار رکھیں اور عوام25جولائی کو استحصالی قوتوں کا احتساب اپنے ووٹ کے ذریعے کریں

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']