Jul 062018
 

پڑانگ باباخیل جلسہ

صورتحال نازک ہے، نواز شریف کے خلاف فیصلے کی ٹائمنگ درست نہیں، اسفندیار ولی خان

الیکشن سے قبل اس فیصلے سے کسی مخصوص سیاسی جماعت کو سپورٹ کرنے کا تاثر پیدا ہوگا۔

نگران صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے الیکشن مہم میں سرکاری وسائل استعمال ہو رہے ہیں۔

الیکشن متنازعہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، الیکشن کمیشن فوری طور پر نوٹس لے۔

عمران خان ملک کی سیاست میں بد قسمت اضافہ ہے ، سیاست سے شائستگی اور شرافت ختم کر دی۔

اسلام آباد کے شیدائی پانچ سال چُپ رہے آج پھر انہیں اسلام خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

واپڈا سے32سال ضائع کئے جانے کے حوالے سے استفسار کیا جائے۔

الیکشن میں اے این پی کی کامیابی یقینی ہے، پڑانگ بابا خیل میں جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف حالیہ فیصلے کی ٹائمنگ درست نہیں ہے ،بہتر ہوتا اگر چند روز انتظار کر لیا جاتا،الیکشن سے قبل اس فیصلے سے کسی مخصوص سیاسی جماعت کو سپورٹ کرنے کا تاثر پیدا ہوگا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پڑانگ بابا خیل چارسدہ میں ایم سی ٹو اور ایم سی تھری کے انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ آج صورتحال پہلے سے زیادہ کٹھن ہے اور ملک نازک موڑ پر کھڑا ہے اور الیکشن متنازعہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے الیکشن مہم میں سرکاری وسائل استعمال ہو رہے ہیں اور مختلف حلقوں میں ترقیاتی کام بھی جاری ہیں ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر نوٹس لے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عمران خان اپنے جلسوں میں عوام کی بھلائی اور فلاح کی بجائے مخالفین کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنا گھر نہیں سنبھال سکتا وہ ملک کیسے چلائے گا،انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنی بیٹی قبول کرنے سے انکاری ہو وہ صادق اور امین کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کی سیاست میں بد قسمت اضافہ ہے جس نے سیاست سے شائستگی اور شرافت ختم کر کے گالم غلوچ کو فروغ دیا ، مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوام کو ورغلانے کیلئے جھوٹ بولا جا رہا ہے ، سراج الحق پانچ سال صوبائی حکومت میں شامل رہے لیکن آج وہ عمران خان کے خلاف ہیں اور اسلام کے نام پر میدان میں ہیں ، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مرکزی حکومت کی گود میں بیٹھے رہے لیکن پانچ سال انہیں اسلام یاد نہ آیا ،آج اقتدار کیلئے اسلام آباد کے شیدائیوں کو اسلام خطرے میں نظر آنے لگا ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کسی صورت تعمیر نہیں ہو سکتا ایک صوبے کی خوشحالی کیلئے چھوٹے صوبوں کی قربانی نہیں دی جا سکتی ، انہوں نے کہا کہ ملک کے تین صوبے 1986میں اس کے خلاف قرارداد پاس کر چکے ہیں لہٰذا واپڈا سے پوچھا جائے کہ32سال میں اس نے کوئی اور ڈیم کیوں نہیں بنایا ؟ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکنوں میں جوش و جذبے کی کمی نہیں اور 25جولائی کو کارکنوں کی محنت ضرور رنگ لائے گی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اقتدار میں آ کر تمام قومی ایشوز حل کرے گی اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کو اولیں ترجیح دی جائے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']