Jul 052018
 

مقبولیت کیلئےخودساختہ سروے پری پول رگنگ کی بھونڈی کوشش ہے، میاں افتخار حسین
اے این پی عوامی رائے پر اثر انداز ہونے والے ہتھکنڈوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
انتہائی مخصوص وقت میں اس قسم کے سرویز الیکشن کی فضا کو نقصان پہنچانے کیلئے جاری کئے جا رہے ہیں۔
بعض عناصر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں،چمک کے بل بوتے پر سروے تیار کئے گئے۔
خیبر پختونخوا کی تباہی کے ذمہ داروں کو عوام اپنی دہلیز پر قدم نہیں رکھنے دیتے ۔
مختلف محکموں میں بد عنوانیوں پر ’’نیب‘‘ میں فائلیں کھل چکی ہیں ۔
اے این پی ایسے ہتھکنڈوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے آئندہ انتخابات سے قبل جاری ہونے والے سروے کو مسترد کرتے ہوئے اسے پری پول رگنگ کی بھونڈی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اے این پی عوامی رائے پر اثر انداز ہونے والے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے، پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے میڈیا پر جاری ہونے والے بعض سرویز پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتہائی مخصوص وقت میں اس قسم کے سرویز الیکشن کی فضا کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے اور بادی النظر میں اس کام کیلئے چمک کا سہارا دکھائی دے رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بعض عناصر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کر رہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی گری ہوئی ساکھ بحال کرنے کیلئے ایسے من گھڑت سرویز پری پول ریگنگ کیلئے کئے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کھنڈرات کا منظر پیش کرتی وادی پشاور، 370 ارب روپے کے داخلی اور خارجی قرضے، صوبہ میں تعلیم و صحت کی تباہ صورتحال، انتظامی و مالی بدعنوانیوں بشمول بی آر ٹی میں ہونے والی کرپشن پر نیب کی طرف سے انکوائری کا آغاز اور مرکز سے صوبہ کے حقوق کی جنگ سے کنارہ کشی کے بعدعوام اب پی ٹی آئی والوں کو اپنی دہلیز پرقدم نہیں رکھنے دیتے لہٰذا ایسے وقت میں پارٹی پاپولیرٹی کے حوالے سے من گھڑت اور خود ساختہ سروے اس جانب واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ عوام کی رائے تبدیل کرنے کی خاطر کیا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہے ، انہوں نے کہا کہ جن کے پاس عوام کو دینے کیلئے کچھ نہیں اب وہ اقتدار کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں تاہم پی ٹی آئی کے جعلی رپورٹرز کے ذریعے سوشل میڈیا کی جعلی رپورٹس پر ایسے سروے سے عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہو سکتی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']