Jul 052018
 

اسلام کے نام پر اسلام آباد کی سیاست کی دور گزر چکا ہے، سردار حسین بابک
اقتدار کے خاتمے کے بعد اسلام آباد کے شیدائیوں کو اسلام خطرے میں نظر آنے لگا ہے۔
حکومت میں آنے کے بعد تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔
حکومت میں آنے کے بعد اے این پی دور کے ماڈل پولیس سٹیشن کے قیام کا منصوبہ شروع کریں گے۔
سابق حکومت نے صوبے کو مالی اور انتظامی بدحالی کا شکار کر دیا ہے۔پی کے22میں انتخابی جلسوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ 2018اے این پی کی کامیابی کا سال ہے اورپارٹی کے تمام امیدوار بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں ہیں، پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت نے تبدیلی کی اصلیت واضح کر دی ہے لہٰذا اب عوام کی اے این پی کی جانب رغبت اور تعاون قابل دید ہے ،انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں حکومت میں آنے کے بعد عوام کے اشتراک سے تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 22بونیر میں انتخابی مہم کے دوران مختلف علاقوں می شمولیتی تقاریب اور تنظیمی اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں سے بیشتر اہم سیاسی شخصیات نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، سردار حسین بابک نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ،انہوں نے کہا کہ صوبے کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے مستقل اور ٹھوس بنیادوں پر زمینی حقائق کے مطابق منصوبہ بندی کر لی ہے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے صوبے کو مالی اور انتظامی بدحالی کا شکار کر دیا ہے ، انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نگران حکومت انتہائی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے گی اور اپنے نگران دور حکومت میں قانون ، آئین کے مطابق اور شفافیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اسلام آباد کے شیدائیوں کو اقتدار کے خاتمے کے بعد اسلام خطرے میں نظر آنے لگا ہے اور اسلام کے نام پر اسلام آباد کی سیاست کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ عوام با شعور ہیں اور اب وہ ان کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے،انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد اے این پی دور کے ماڈل پولیس سٹیشن کے قیام کا منصوبہ شروع کریں گے تاکہ اپنے صوبے کی پولیس فورس کی تمام ضروریات و سہولیات کو پورا کیا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی دور میں پولیس کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ، تنخواہیں بڑھانا، لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا، سہولیات اور مراعات دینا تاریخی اقدامات ہیں اور دوبارہ اقتدار میں آ کر محکمہ پولیس کی نچلی سطح کے کانسٹیبلان سے افسران تک مستقل سروس سٹرکچر کو عملی طور پر یقینی بنائیں گے .انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی پولیس فورس پر فخر ہے اور مستقبل میں جرائم کی روک تھام اور امن کی مستقل بحالی کیلئے پولیس فورس کو درپیش تمام رکاوٹیں دور کرکے تمام ضروریات رجیحی بنیادوں پر پوری کریں گے ، جائیں گی ۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']