Jul 042018
 

پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والے پانچ سال تک حقوق غصب کرنے میں مصروف رہے، اسفندیار ولی خان
شیرپاؤ اور عمران کے درمیان بچوں کا کھیل جاری رہا ،کبھی صوبے کے حقوق پر بات نہیں کی۔
پی ٹی آئی اب سیاسی یتیموں کا ٹولہ ہے ،ضمیر کا سودا کرنے والے قوم کی خدمت نہیں کر سکتے۔
مرکز اور صوبے میں حکومتوں کا حصہ رہنے والے اسلام کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔
تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے ایم پی ایز نے اپنے وزراء اور وزیر اعلیٰ کو کرپٹ کہا۔
کالاباغ ڈیم دفن ہو چکا ہے ، اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
ہمارے آباؤ اجداد نے اس دھرتی کی ترقی و خوشحالی کیلئے قربانیاں دیں،

تنگی چارسدہ میں جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پانچ سال تک پختونوں کے حقوق غصب کرنے والی جماعت کے اتحادی رہنے والے الیکشن کیلئے پختون ولی کے نام پر میدان میں نکل آئے ہیں ،شیرپاؤ نے کبھی پختونوں کے حقوق کی بات نہیں کی ، سراج الحق صوبے میں اور مولانا صاحب مرکز میں حکومتوں کے مزے لیتے رہے ،آج اقتدار کے خاتمے کے بعدانہیں پھر سے شریعت کا خیال آ گیا ،کپتان نے ان تمام لوٹوں کو الیکٹیبلزکا نام دے دیا جنہیں لوٹا کہنا لوٹے کی توہین ہے ، ضمیر کا سودا کرنے والے قوم کی خدمت نہیں کر سکتے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تنگی چارسدہ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سیاسی یتیم اکٹھے کئے جن کا نظریاتی سیاست سے کوئی واسطہ نہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت میں ایم پی ایز نے اسمبلی میں اپنے وزیر اعلیٰ اور وزراء کو کرپٹ کہا ، انہوں نے کہا کہ کپتان کے آنے سے سیاست میں شرافت اور شائستگی ختم ہو چکی ہے ،آج الیکشن کے میدان وہ تمام سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں جو پانچ سال تک حکومت کا حصہ رہیں اور حکومت کے خاتمے کے بعد ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس دھرتی کی ترقی و خوشحالی کیلئے قربانیاں دیں ، انہوں نے کہا کہ حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس وراثت کے علاوہ میرے خاندان کے کسی فرد کی کوئی جائیداد یا اثاثے ثابت ہو جائیں تو پھانسی پر چڑھنے کو تیار ہوں،مرکزی صدر نے کہا کہ پاکستان کی70سالہ تاریخ میں صرف اے این پی نے اپنے دور میں چارسدہ میں ترقیاتی کام کئے اور تعلیمی میدان میں جو اصلاحات کیں وہ تاریخ کا روشن باب ہیں،کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے متنبہ کیا کہ کالاباغ ڈیم پر اے این پی کا مؤقف روز اول سے واضح ہے اور اگر کسی نے کالاباغ ڈیم کا مسئلہ چھیڑا توسب سے پہلے میں خود میدان میں نکلوں گا،انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں تین صوبے86میں قرارداد پاس کر چکے ہیں ، پنجاب کی خوشحالی کے خلاف نہیں تاہم پختونوں کی تباہی کی قیمت پر ایک صوبے کو خوشحال کرنا زیادتی ہے، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس بھاشا اور منڈا ڈیم پر کام کیوں نہیں شروع کراتے تاکہ تمام مسائل ہی ختم ہو جائیں ، انہوں نے کہا کہ پختونوں کے صوبے کی شناخت اور این ایف سی ایوارڈ ا ولی خان بابا کی وصیت تھی اور اے این پی نے اپنے دور میں ان کی وصیت کو عملی جامہ پہنایا ، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کریں گے کیونکہ یہ اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے اپنی اس عظیم کامیابی کو کسی کی جھولی میں ڈالیں گے، انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے کی کوشش کی تو اے این پی سڑکوں پر نکلے گی ۔انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ انتخابی مہم میں تیزی لائیں اور پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے بھرپور توانائیاں صرف کریں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']