Jul 032018
 

چھوٹے صوبوں کی تباہی کی قیمت پر بڑے بھائی کی غلامی قبول نہیں کریں گے، اسفندیار ولی خان
 چیف جسٹس بھاشا اور منڈا ڈیم پر کام شروع کرائیں تو تمام مسائل ہی ختم ہو جائیں۔
 انتخابات میں ایک جانب نظریہ اور دوسری جانب اقتدار کے پجاری میدان میں ہیں۔
پانچ سال تک اقتدار کے مزے لینے والی جماعتیں اب حکومت پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہیں۔
کپتان نے جنہیں چور اور ڈاکو کے القابات سے نوازا اقتدار کیلئے انہیں الیکٹیبلز کا نام دے دیا۔
*عمران خان کے آنے سے سیاست میں شرافت اور شائستگی ختم ہو چکی ہے۔
اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کیلئے میدان میں نکلیں گے۔آگرہ چارسدہ میں مشترکہ جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ انتخابات میں ایک جانب نظریہ اور دوسری جانب اقتدار کے پجاری ہیں ، کپتان نے 5سال تک جنہیں چور اور ڈاکو کے القابات سے نوازا انہی کو پیراشوٹ کے ذریعے میدان میں اتار کر ٹکٹ جاری کر دیئے اور چوروں اور ڈاکو ؤں کو الیکٹیبلز کا نام دے دیا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل آگرہ میں پانچ یونین کونسلز حصارہ ،یاسین زئی، آگرہ،. ترناب.، دولت پورہ اور بٹگرام کے مشترکہ انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ کپتان کے آنے سے سیاست میں شرافت اور شائستگی ختم ہو چکی ہے ،آج الیکشن کے میدان وہ تمام سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں جو پانچ سال تک حکومت کا حصہ رہیں اور حکومت کے خاتمے کے بعد ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ سراج الحق اور شیرپاؤ صوبائی ھکومت میں شامل رہے جبکہ مولانا فضل الرحمان مرکز میں اقتدار کے مزے لیتے رہے تاہم ان کی کاکردگی صفر رہی اور ھکومتیں ختم ہونے کے بعد انہیں اسلام خطرے میں نظر آنے لگا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس دھرتی کی ترقی و خوشحالی کیلئے قربانیاں دیں ، انہوں نے کہا کہ حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس وراثت کے علاوہ میرے خاندان کے کسی فرد کی کوئی جائیداد یا اثاثے ثابت ہو جائیں تو پھانسی پر چڑھنے کو تیار ہوں،مرکزی صدر نے کہا کہ پاکستان کی70سالہ تاریخ میں صرف اے این پی نے اپنے دور میں چارسدہ میں ترقیاتی کام کئے اور تعلیمی میدان میں جو اصلاحات کیں وہ تاریخ کا روشن باب ہیں،کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے متنبہ کیا کہ کالاباغ ڈیم پر اے این پی کا مؤقف روز اول سے واضح ہے اور اگر کسی نے کالاباغ ڈیم کا مسئلہ چھیڑا توسب سے پہلے میں خود میدان میں نکلوں گا،انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں تین صوبے86میں قرارداد پاس کر چکے ہیں ، پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے تاہم چھوٹے صوبوں کی تباہی کی قیمت پر بڑے بھائی کی غلامی قبول نہیں کی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس بھاشا اور منڈا ڈیم پر کام کیوں نہیں شروع کراتے تاکہ تمام مسائل ہی ختم ہو جائیں ، انہوں نے کہا کہ پختونوں کے صوبے کی شناخت اور این ایف سی ایوارڈ ا ولی خان بابا کی وصیت تھی اور اے این پی نے اپنے دور میں ان کی وصیت کو عملی جامہ پہنایا ، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کریں گے کیونکہ یہ اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے اپنی اس عظیم کامیابی کو کسی کی جھولی میں ڈالیں گے، انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے کی کوشش کی تو اے این پی سڑکوں پر نکلے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ کپتان وزارت عظمی کے چکر میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں البتہ جو خود مستحکم نہ ہووہ قوم کو استحکام کیسے دلا سکتا ہے۔انہوں نے کاکرکنوں پر زور دیا کہ انتخابی مہم میں تیزی لائیں اور پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے بھرپور توانائیاں صرف کریں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']