May 132018
 

انتخابات کے بلاجواز التواء کا نقصان ملک اور جمہوریت کو ہوگا ،میاں افتخار حسین

تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور الیکشن کے بروقت انعقاد کو یقینی بنائیں۔

ملک میں جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں،عمران اور نواز شریف دونوں لاڈلے ہیں۔

وزرت عظمی مذاق نہیں جو عمران کو طشتری میں رکھ کر پیش کر دی جائے۔

حکومتیں ملک میں گٹھ جوڑ میں لگی ہیں اور کرسی گرانے و کرسی بچانے کی لڑائی جاری ہے۔

اے این پی نے ہمیشہ جمہوریت کی بقاء کی جنگ لڑی اور کبھی کسی غیر جمہوری قوت کا ساتھ نہیں دیا ،

 خطے کی موجودہ صورتحال امن کی متقاضی ہے، نظام پور میں شمولیتی جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انتخابات کا بلاجواز التوا ملک دشمنی کے مترادف ہو گا اور اگر ایسا ہوا تو اس کا نقصان ملک کو ہو گا موجودہ دور میں پختونوں کے اتحاد و اتفاق کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ملک کی دیگر اقوام اپنے حقوق کیلئے متحد ہوتی جا رہی ہیں لہٰذا پختونوں کو چاہئے کہ اپنے حقوق اور اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے اے این پی کے پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خوڑہ نظام پور میں بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر سابق ناظم امین اکبر اور نائب ناظمین سید علی شاہ بخاری اور احسان محمد نے اپنے خاندانوں اور درجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی،انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں اور اگر ایسی صورتحال میں الیکشن ملتوی کئے گئے تو ملک خطرات سے دوچار ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ یہ باز گشت جہاں سے بھی اٹھی ہے اسے رد کیا جائے اور انتخابات کا وقت مقررہ پر انعقاد کرنے کیلئے الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے اپنا کردار ادا کریں عمران خان کو سمجھ جانا چاہئے کہ ان کی قسمت میں وزارت عظمیٰ ہے ہی نہیں۔ تمام اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل نواز شریف اور عمران خان دونوں ہی لاڈلے ہیں اب ایک لاڈلا پرانا ہو چکا ہے اس لئے نیا لاڈلا بنا لیا گیا ہے ، تاہم وزرت عظمی مذاق نہیں جو انہیں طشتری میں رکھ کر پیش کر دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ، خیبر پختونخوا میں بھی حکومت ناکام ہو چکی ہے اور عوام بے یارو مددگار ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومتیں ملک میں صرف گٹھ جوڑ میں لگی ہیں اور کرسی گرانے و کرسی بچانے کی لڑائی جاری ہے جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں،میاں افتخار نے کہا کہ اے این پی واحد جماعت ہے جو پختونوں کی بقا اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ سے لڑتی آئی ہے اور مستقبل میں بھی پختونوں کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ جمہوریت کی بقاء کی جنگ لڑی اور کبھی کسی غیر جمہوری قوت کا ساتھ نہیں دیا ، انہوں نے کہا کہ خان عبدالولی خان جمہوریت کے حقیقی علمبردار تھے اور اگر ان کا نام جمہوریت سے نکال دیا جا ئے تو باقی کچھ باقی نہیں رہتا ، جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ملکی حالات کے تناظر میں اس وقت پاکستان کے لیے جمہوریت نہایت ضروری ہے۔ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور کسی غیر جمہوری اقدام کے نتیجے میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اے این پی اس عمل کی بھرپورمزاحمت کرے گی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال امن کی متقاضی ہے لہٰذا پاکستان اور افغانستان کو مل بیٹھ کر غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے اور دونوں ممالک کو چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسی جنگ کی پالیسی ہے اور پاکستان و افغانستان نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو خطے میں تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']