Apr 132018
 

نااہلی بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ سیاسی رہنماؤں کی غلطیوں اور پارلیمنٹ پر عدم اعتمادکا نتیجہ ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ کا یہی فیصلہ متوقع تھا ، پارلیمنٹیرینز سیاسی بصیرت کا مظارہ کرتے تو آج یہ انجام نہ ہوتا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈو کلے یونین کونسل پیرسباق نوشہرہ میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ نوجوان اس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہی میں کل کے سیاسی رہنما ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے ،،میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن انتہائی منظم تنظیم ہے اور اپنی سرگرمیاں مثبت انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اُس وقت بھی اس کی ضرورت محسوس کی اور یوتھ لیگ قائم کی اور این وائی او پارٹی کی ذیلی تنظیم کی حیثیت سے قوم کی خدمت اور سیاسی ونظریاتی تجربہ حاصل کر کے بہترین کام کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہی وہ نوجوان ہیں جن میں سے کل کے رہنما اور سیاسی قائدین نکلیں گے،باچا خان بابا کے فلسفے میں تعلیم کا فروغ اولیں ترجیح تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ امن و محبت کا پرچار اور دشمنیوں کا خاتمہ تھا ، انہوں نے زندگی بھر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کیلئے کوششیں کیں جبکہ خدائی خدمت گاری کو اپناتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ،انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ تعلیم یافتہ ہے لہٰذا دوسروں کو قائل کرنے کیلئے دلیل اور علم کے ذریعے بات کریں، میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی غلطیوں اور پارلیمنٹ پر عدم اعتماد کی وجہ سے یہ سب ہوا ،سیاسی مسائل عدالتوں میں گھسیٹنے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کئے جائیں تو آج یہ انجام نہ ہوتا ، عدالت عظمی اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کے بل کی ایوان بالا سے منظوری کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ فاٹا انضمام کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے تاہم حکومت فاٹا کے صوبے میں جلد انضمام کا اعلان کرے ، 
، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کی شہادت رائیگاں نہیں جائیگی،انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ کی شہادت کے بعد کراچی گیا اور وہاں بھی یہی بات کی کہ ہم پختونوں کے خون کا حساب لیں گے ،انہوں نے کہا کہ راؤ انوار صرف ایک فرد نہیں بلکہ اس سازش کے پیچھے بڑی قوتیں کار فرما ہیں ، انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ پر گرفتاری کے بعد فرار ،عدالت کو خطوظ اور پھر پروٹوکول کے ساتھ پیشی سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ راؤ انوار کے سر پر کسی اور کا ہاتھ ہے، انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ سرکاری پالیسی نہیں ہو سکتی لہٰذا راؤ انوار اور اس کے پیچھے چھپی قوتوں کو گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے،آئی ڈی پیز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھوں آئی ڈی پیز بے گھر کیمپوں میں پڑے ہیں لیکن ان کی واپسی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے بارودی سرنگوں کا صفایا کیا جائے اور تباہ ہونے والے گھر اور سکول دوبارہ تعمیر کر کے ان کی باعزت واپسی یقنی بنائی جائے، انہوں نے کہا کہ پختونوں کے مسائل کے حوالے سے اے این پی کا مؤقف واضح ہے اور جمہوری و پارلیمانی انداز میں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھاتی رہے گی،ٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم ایک انقلاب تھا جس کا سہرا اے این پی کے سر ہے اور 18ویں ترمیم کی بدولت ملک مضبوط ہوا ، انہوں نے کہا کہ جو اٹھارویں ترمیم ختم کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ کم ہونے پر پریشان ہیں لیکن یاد رہے ملک تب ہی مضبوط ہو گا جب صوبے مضبوط ہوں ، انہوں نے کہا کہ چند عناصر ایسے ہیں جن کی آنکھ میں اٹھارویں ترمیم کھٹک رہی ہے ،تاہم اے این پی اپنی فتح کسی کی جھولی میں نہیں ڈالے گی اور اگر اسے رول بیک کیا گیا تو اے این پی میدان میں ہو گی ، حقوق چھیننے کی صورت میں ایک بار پہلے مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا ہے لہٰذا ملک اس بار ایسی کسی پالیسی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں چل سکتا ، انتخابات کا مقررہ وقت پر آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب الیکشن کمیشن آزاد اور با اختیار ہو گا
،انہوں نے سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ بارہا ملاقاتوں میں انہوں نے مغربی اکنامک کوریڈور تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم مرکز میں نواز شریف نے دھوکہ دیا جس کے نتیجے میں انہیں پختونوں کی بد دعائیں لے ڈوبیں، انہوں نے کہا کہ سی پیک میں صوبے کا حق نہ ملا تو یہ پختونوں کا معاشی قتل ہوگا ،انہوں نے کہا کہ احساس محرومی اور بد اعتمادی کے خاتمے کیلئے مغربی اکنامک کوریڈور پر کام شروع کر کے پختونوں اور فاٹا کے عوام کی معاشی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے اسے ترجیح بنایا جائے،

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']