Apr 122018
 

صوابی میں جلسہ عام

صوبائی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہے ، آصف زرداری عمران خان پر بھاری ثابت ہوئے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے ،الیکشن کمیشن سابق حکومت کے منصوبوں پر موجودہ حکومت کی تختیاں لگانے پر پابندی لگائے ، حکومت کے خاتمے کے بعد صوبے میں ایک بار پھر باچا خان کے پیروکاروں کی حکومت ہو گی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ملک میں پختونوں کی تقسیم کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں لہٰذا آپس میں اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں کیونکہ اس وقت اختلافات اور نا اتفاقی کی کوئی گنجائش نہیں تاہم ہر قسم کی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا،انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے گند صاف کرنے سے قبل اپنی پارٹی میں کرپشن کا گند صاف کریں سب سے بڑی اور پرانی کرپشن کی فیکٹری آپ کا وزیر اعلیٰ ہے جو پارٹیاں تبدیل کرنے کے ماہر ہیں ، ،تحریک انصاف کے ممبران نے سینیٹ الیکشن میں تین تین بار اپنے ضمیروں کا سودا کیا ، انہوں نے زرداری کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آصف زرداری کسی اور پر ہوں نہ ہوں عمران خان پر ضرور بھاری ثابت ہوئے اور ان کی اصلیت قوم کے سامنے بے نقاب کر دی،انہوں نے کہا کہ کپتان کے ممبران گاجر مولی کی طرح بکتے گئے اور ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تمام پلانٹڈ تھا، انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا پول کھل گیا ہے خزانہ خالی ہو چکا ہے اور صوبہ مالی بد انتظامی کا شکار ہے ،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ملتان میٹرو میں کرپشن کا واویلا کرنے والے بتائیں پشاور کو کھنڈرات میں کیوں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ میٹرو کا کہیں نام و نشان تک نہیں شہری عذاب میں مبتلا ہیں لیکن حکمران اپنی کمیشن اور کرپشن کے چکر میں پڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ پشاور کے شہری350ڈیم شہر کی سڑکوں پر دیکھ سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگر کرپشن ختم کی ہوتی تو آج نیب ان کے خلاف ملم جبہ اراضی سکینڈل، بلین سونامی ٹری اور دیگر منصوبوں میں تحقیقات کیوں کر رہا ہے؟ اپنے احتساب کمیشن کو تالے لگے ہوئے ہیں کیونکہ احتسابی ادارے کو بھی انہوں نے داغدار کر دیا ہے ، انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ نئے منصوبوں کے ساتھ ساتھ پرانے منصوبوں پر بھی کسی اور کے نام کی تختیاں لگانے پر بھی پابندی لگائے ،سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے ہی ملک میں پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے پاکستان ہم سب کا ملک ہے اگر ہم پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کا حق تسلیم کرتے ہیں تو پھر پختونوں کے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں،
، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا لاہور سے ملتان اور کراچی تک موٹر ویز بن سکتی ہیں تو ہمارے صوبے میں پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹر وے کیوں تعمیر نہیں ہو سکتی ، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کوئلے سے مہنگی بجلی پیدا کی جا رہی ہے جس کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں موجود سستی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع استعمال نہیں کئے جا رہے، صوبے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے،انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنا بڑا کچکول نہیں گھمایا جتنا موجودہ حکومت نے گھمایا ہے اور صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر اتنا قرضہ لیا ہے جو آنے والی کو حکومت کو چکانے کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ
اقتدار میں آنے کے بعد تیل اور گیس ذخائر کے ایک ایک قطرے کا حساب کریں گے اور خزانے کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے ہر ممکن کوشیں کریں گے جبکہ تعلیم کے حوالے سے مزید انقلابی اقدامات کئے جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ سال کے دوران ہر ضلع میں یونیورسٹی بنائی جائے گی ،انہوں نے کہا کہ پختون پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں اور آپس میں اتحاد کا مظاہرہ کریں تو ان کے اور صوبے کے حقوق کا تحفظ اے این پی یقینی بنا سکتی ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']